2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 2:131–132

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب ان کو ان کے رب نے کہا فرمانبردار ہوجاؤ (تو ابراہیم نے) عرض کیا کہ میں تمام جہان کے پروردگار کے آگے سر نیاز خم کرچکا

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور اسی کی ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو وصیت بھی کی تھی کہ اللہ نے تمہارے لیے اے لڑکو یہ دین پسند کرلیا پھر تم مرو تو مسلمان ہو کر مرنا

ترکیب : ومن استفہام انکاری مبتداء یرغب عن ملۃ ابراھیم جملہ اس کی خبر الامن میں من محلاً منصوب ہے بجہت استثناء کے اور ممکن ہے کہ مرفوع ہو ضمیر یرغب سے بدل ہو کر پس یہ موصولہ ہے اور سفہ فعل ضمیر ہو مستتر اس کا فاعل نفسہ مفعول یہ جملہ صلہ فی الآخرۃ متعلق ہے صالحین سے اذظرف ہے اصطفینا کا اور اس کی علت ہے یا منصوب ہے با ضمارا ذکر وصی فعل بہا ای بالملۃ ابراہیم فاعل بنیہ مفعول ویعقوب معطوف ہے ابراہیم پر ای و وصی یعقوب بنیہ یا بنی الخ یہ جملہ بیان ہے اس وصیت کا وانتم مسلمون حال ہے فلا تموتن سے والتقدیر لا تفارقو الاسلام حتی تموتو او انتم مسلمون۔ تفسیر : یعنی تم جو امور مذکورئہ بالا کا انکار کرتے ہو تو درحقیقت ملت ابراہیمیہ کا انکار کرتے ہو (کس لیے کہ یہ امور جو اسلام کے اصول قرار دیے گئے ہیں ملت ابراہیمیہ کی اصل ہیں) اور ملت ابراہیم کا بجز اس شخص کے کہ جو از خود نادان اور احمق ہوجائے کون انکار کرسکتا ہے۔ کس لیے کہ ابراہیم وہ شخص ہیں کہ جن کو خدا نے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا ہے۔ سب موحدین ان کو پیشوا جانتے ہیں اور ہر جگہ ذکر خیر ان کا جاری ہے اور آخرت میں بھی خدائے تعالیٰ کے پاس ان کے مراتب بلند ہیں اور ان کی یہ بزرگی اس لیے ہے کہ جب خدا نے ان سے یہ فرمایا کہ ہمارے حکم بردار ہوجائو تو انہوں نے فوراً عرض کیا کہ میں اپنے جان اور دل سے تابعدار ہوں۔ پھر اے یہود اور اے عرب اور اے نصاریٰ تم کیوں ملت ابراہیمیہ سے انکار کرتے ہو، حالانکہ خود ابراہیم نے پھر ان کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے بھی بوقت وفات اپنی اولاد کو یہ وصیت کی تھی کہ ہمیشہ اس دین پر قائم رہنا، ایسا نہ ہو کہ اس کے برخلاف ہو کر مرو۔ (1) رغب کے بعد جب لفظ عن آتا ہے تو اس کے معنی نفرت اور کراہت کے ہوجاتے ہیں اور جب اس کے بعد فی یا الی آتا ہے تو اس کے معنی رغبت کے ہوتے ہیں۔ (2) سفہ کہ جس کو سفاہت بھی کہتے ہیں لغت میں ہلکا پن اور خفت کا نام ہے چونکہ احمق خفیف الحرکات ہوتا ہے اس لیے اس کو سفیہ کہتے ہیں۔ یہ لفظ لازمی اور متعدی دونوں طرح سے مستعمل ہوتا ہے اور از خود بیوقوف ہونے سے یہ مراد ہے کہ سب باتیں جان کر پھر غور نہ کرے اور عقل سلیم کے برخلاف عمل میں لاوے۔ عقل سلیم حکم کرتی ہے کہ ضرور اس گونا گوں عالم کا کوئی خالق ومالک ہے اور اسی لیے جہاں بھر کے شائستہ اور غیر شائستہ انسان خدا تعالیٰ کے وجود کو بغیر آنکھ کے دیکھے تسلیم کرتے ہیں اور یہ بھی عقل کا فتویٰ ہے کہ خدا نے جس طرح انسان کو امور دنیا میں سب حیوانات سے اشرف پیدا کیا اور اس کے تمام مہمات دنیویہ کا سرانجام فرمایا اسی طرح اس نے ان کے لیے آخرت کے رہنما بھی بھیجے ہیں کہ جنہوں نے دنیا کے وہ عقائد اور وہ اعمال جو مرنے کے بعد نفع دیتے ہیں یا ضرر پہنچاتے ہیں بیان کردیے اور اس کے لیے ایک دستور العمل دے گئے جس کو ملت کہتے ہیں اس کے بعد جب عقل چاروں طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتی ہے کہ وہ کون کون سے لوگ ہیں جن کی معرفت خدا نے اس مہم کا اہتمام کیا ہے تو ان سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نظر پڑتی ہے۔ کس لیے کہ باستثنائے چند اقوام غیر مہذب تمام روئے زمین کے خدا پرست ان کو دینی بزرگ بلکہ تمام دینی بزرگوں اور مقدسوں کا جدِّ امجد جانتے ہیں ولقد اصطفیناہ فی الدنیا کا یہ محصل ہے) اور ان کو عالم آخرت میں ہر طرح سے فائز المرام بھی مانتے ہیں (وانہ فی الآخرۃ لمن الصالحین کا یہی مطلب ہے) پس جو شخص باوجود علم ان امور کے پھر بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے سے روگردانی کرتا ہے تو از خود احمق بنتا ہے اور یہ بات بیشتر بیان ہوچکی ہے کہ اس نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے کی اور ملت ابراہیم کے مہتمم ہونے کی خود ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ جس کے ظہور کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی تورات میں خبر دی ہے پھر جو ان کا انکار کرتا ہے وہ ملت ابراہیمیہ کا منکر ہے۔ (3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آٹھ بیٹے تھے۔ بڑے اسماعیل (علیہ السلام) ، ان سے چھوٹے اسحاق (علیہ السلام) ، یہ نبی ہیں اور قتورہ کنعانیہ کے پیٹ سے زمران، یقان، مدان، مدیان، اسباق، سوخ پیدا ہوئے۔ مدیان کی اولاد میں سے حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے اور یقان سے صبا اور دوان پیدا ہوئے تھے۔ اسماعیل (علیہ السلام) مکہ میں اور اسحاق (علیہ السلام) شام میں رہے اور بیٹے دیگر اطراف و جوانب میں آباد ہوئے پھر اسماعیل (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے جن میں سے بڑے سے چھوٹے قیدار تھے کہ جن کی نسل سے جناب سید المرسلین ﷺ پیدا ہوئے۔ اسحاق (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے عیص اور جو ان کے عقب میں پیدا ہوئے یعقوب (علیہ السلام) ہیں ان کو اسرائیل بھی کہتے ہیں یہ تمام انبیائِ بنی اسرائیل کے جد امجد ہیں ان کے بارہ بیٹے تھے لیاہ کے پیٹ سے روبن، سمعون، لاوی، یہودا پیدا ہوئے اس کے بعد اشکار اور زبلون پیدا ہوئے پھر بلہ راحیل کی لونڈی سے دان، نفتالی ہوئے پھر لیاہ کی لونڈی زلفہ سے جد، اشر پیدا ہوئے پھر خود راحیل کے پیٹ سے جو لیاہ کی چھوٹی بہن تھی، یوسف (علیہ السلام) ، بنیامین پیدا ہوئے۔ خاتمہ کلام میں خدا تعالیٰ عرب اور تمام اہل کتاب کو فرماتا ہے کہ اگر تم ابراہیم اور یعقوب ( علیہ السلام) کو مانتے ہو تو انہوں نے مرنے کے قریب بڑی تاکید سے اس ملت پر قائم رہنے کی اپنی اولاد کو وصیت کی تھی اب تم ان کی وصیت سے کیوں اعراض کرتے ہو ؟
Ayahs 2:133–134

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

( بنی اسرائیل) کیا تم اس وقت موجود تھے کہ جب یعقوب کا اخیر آیا جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے انہوں نے عرض کیا ہم خدا کی عبادت کریں گے جو آپ کا خدا اور آپ کے بزرگوں اور اسحاق کا خدائے واحد ہے اور ہم تو اسی کے فرمانبردار ہیں

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

اور یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی وہ جو کچھ کر گئے تو اپنے لیے اور ان کی تم سے کچھ پرسش نہ ہوگی۔

ترکیب : ام منقطعہ ای بل اکنتم علی جہتہ التوبیخ شہداء خبرکان اذظرف شہداء کا حضر فعل یعقوب مفعول الموت فاعل و قریٔ بالعکس اذ بدل ہے اذ سابق سے قال فعل ضمیر ہو راجع یعقوب کی طرف فاعل لبنیہ متعلق قال سے ما بمعنی من استفہامیہ معمول تعبدون قالو اکافاعل بنین الہک والہ ابآئک مفعول، ابراھیم الخ بدل آباء سے الہا واحدا صفت و موصوف بدل ہے الٰہ اول سے اور ممکن ہے کہ حال مؤطیہ ہو کقولک رأیت زیداً رجلاً صالحاً یہ سب جملہ جواب ہوا اذقال لبنیہ کا یہ اذا اپنے جواب سے مل کر بدل ہوا اذا اول کا اور پھر تمام جملہ استفہام توبیخی ہوا و نحن لہ مسلمون جملہ حال ہے فاعل نعبد سے یا معطوف ہے نعبد پر تلک مبتدا امۃً موصوف قدخلت صفت لھا ما کسبت صفت ثانیہ مجموعہ خبر ولا تسئلون الخ جملہ مستانفہ۔ تفسیر : پہلی آیت میں ذکر تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) نے اس ملت پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی اس پر یہود نے یہ کہا کہ ہرگز یعقوب نے یہ وصیت نہ کی تھی بلکہ یہودیت پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی اس پر خدا تعالیٰ ان سے بطور توبیخ کے پوچھتا ہے کہ تم یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہو، کیا وصیت کے وقت کہ موت کا قریب زمانہ ہوتا ہے تم حاضر تھے جبکہ یعقوب (علیہ السلام) نے مصر میں جا کر لوگوں کو بت اور ستارے اور بیل اور بلی وغیرہ کو پوجتے دیکھا اور اس کا خوف پیدا ہوا کہ مبادا میرے بعد یہ بھی کہیں ان کی صحبت میں بت پرست نہ ہوجائیں تو سب اولاد کو بلا کر پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے خدا کی جو آپ کے باپ دادا ابراہیم و اسماعیل و اسحاق کا خدائے واحد ہے اور ہم تو ہمیشہ سے اسی کے فرمانبردار ہیں اور رہیں گے۔ یہ ظاہر ہے کہ تم اس وقت موجود نہ تھے پھر کس لیے انکار کرتے ہو ؟ اور اس بات پر ناحق مغرور ہو کہ ہم ان بزرگوں کی اولاد ہیں۔ ہم پورے پورے ان کے متبع ہیں ‘ ہمارے اعمال سے باز پرس ہوگی تو ہم ان کے اعمال کو پیش کردیں گے۔ اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم کو ان سے کیا علاقہ وہ پاکباز لوگ تھے، گزر گئے ان کے اعمال سے ان کو نفع ہوگا اور تم کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔ ان کے اعمال کے تم جواب دہ نہ ہو گے۔ فوائد : ثبوت تقلید : (1) اس مقام پر بعض ناسمجھ ایک سوال کیا کرتے ہیں، وہ یہ کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا وقت موت آیاتو اس وقت وہ ملک کنعان میں تھے کیونکہ مرنے سے پیشتر ان کو حکم ہوا تھا کہ تو اس ناپاک جگہ سے چل دے اور تیری وفات کا وقت قریب آگیا ہے تو اپنے باپ دادا کے ملک میں جا اور ان میں جا کر مل جانا چناچہ وہ تمام اولاد سے رخصت ہو کر ملک کنعان میں آئے اور وہیں جاں بحق ہوگئے۔ پس وہاں اولاد کہاں تھی کہ جو ان سے وصیت کرتے وہ تو ملک مصر میں تھی، اس کا جواب بہت آسان ہے وہ یہ کہ جب فرشتے نے مصر میں ان سے پیام موت دیا تھا جب ہی موت کے حاضر ہونے کا زمانہ سمجھا گیا، سو اس وقت ان کی تمام اولاد موجود تھی ان سے وصیت کی اور ممکن ہے کہ کچھ لوگ ان کے ساتھ بھی آئے ہوں۔ (2) جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو ان کو مناسب تھا کہ یوں کہتے اللہ کی یا جس نے آسمان و زمین پیدا کیا ہے اس کی، کیوں کہا کہ تیرے خدا اور تیرے بزرگوں ابراہیم و اسماعیل و اسحاق کے خدا کی عبادت کریں گے۔ اس میں یہ نکتہ ہے : یہ کہ وہاں کے لوگ عناصر اور ستاروں کو خالق جانتے اور ان کو الٰہ کہتے تھے اگر یہ بھی الٰہ یا آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا کہتے تو صاف معلوم نہ ہوتا کہ ان کی اس سے کون شخص مراد ہے جب کہا تیرا اور تیرے باپ دادوں کا خدا تو وہ احتمال جاتا رہا۔ (3) اس سے دینی بزرگوں کی پیروی اور ان کی تقلید کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہم بےچون و چرا ان بزرگوں کے طریقہ پر چلیں گے بلاشک از خود ٹکریں مارنے سے کسی کامل اور رسیدہ کا دامن پکڑ لینا اور اس کی تقلید کرنا باعث امن ہے۔ اسی طرح جزئیات مسائل میں آئمہ مجتہدین کی پیروی اور تقلید کرنا اور خودشتر بےمہار ہونے سے بہتر ہے۔ تقلید مشرکین و جاہلین پر (کہ جس کی مذمت قرآن و حدیث میں ہے) اس تقلید کو محمول کرنا سخت بےانصافی ہے۔ (4) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) گو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے باپ نہ تھے مگر چونکہ حقیقی چچا تھے اور اس کو عرف میں باپ کہتے ہیں، اس لیے آباء میں ان کا بھی ذکر کیا یا یوں کہو کہ آباء کے معنی حقیقی مراد نہیں بلکہ بزرگ سو اس میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بدرجہ اولیٰ ہیں۔
Ayahs 2:135–136

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں یہودی یا نصاریٰ ہوجاؤتب راہ پاؤگے کہہ دو نہیں بلکہ ہم ملت ابراہیم کے پابند ہیں جو خالص اللہ کے ہو رہے تھے اور وہ مشرک نہ تھے

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

کہہ دو ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا (قرآن) اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل ہوا اور جو کچھ موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو کچھ دوسرے نبیوں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا، سب پر ایمان لائے ہم ان میں سے کسی میں بھی کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔

ترکیب : قالوا فعل ضمیر ھم راجع یہود و نصاریٰ کی طرف فاعل کونوا فعل انتم فاعل ھودا او نصارٰی خبر جملہ مفعول قالوا ای قال الیہود کونوا ہوداً وقالت النصارٰی کونوا انصاری تہتدوا جواب امر ملت منصوب ہے۔ بتقدیر نتبع حنیفا حال ہے ابراہیم سے اور ممکن ہے کہ فاعل نتبع سے ہو وماکان من المشرکین جملہ مستانفہ قولوا فعل بافاعل آمنا باللہ الخ جملہ مفعول وما انزل معطوف ہے اللہ پر وقس علیہ احد چونکہ حیز نفی میں ہے اس لیے جمع کے معنی دیتا ہے اس لیے لفظ بین کی اضافت احد کی طرف درست ہوئی اور بعض کہتے ہیں احد بمعنی فریق ہے اور بین ہمیشہ غیر واحد کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ تفسیر : پہلے انبیاء کا طریق ہدایت چھوڑ کر یہود و نصارٰی نے نیا مذہب بنا رکھا تھا اس پر ان کو بڑا ناز تھا اسی کو نجات کا رستہ جان کر یہودی کہتے تھے قدیم مذہب ہمارا ہے بے اس کے ہدایت ممکن نہیں، اسی طرح عیسائی کہتے تھے نجات ہمارے مذہب بغیر ممکن نہیں۔ خدا تعالیٰ ان کے جواب میں تعلیم فرماتا ہے کہ ان بزرگوں میں سب کے پیشرو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، کہہ دو بلکہ ہم خالص ملت ابراہیم پر ہیں اور وہ مشرک نہ تھے تمہارے مذاہب میں شرک کی آلائش ہے اور اس بزرگ کا طریقہ اسلام کا تھا اسلمت لرب العالمین ان کا شیوہ تھا۔ اس سے قطع نظر صحیح اور ٹھیک راستہ ہدایت کا یہ ہے کہ انسان خدا پر بلا تفریقِ سب انبیاء پر ایمان لاوے۔ یہی اسلام ہے جس میں بنی اسرائیل اور غیر بنی اسرائیل کی کوئی بھی تفریق نہیں۔ برخلاف ملت یہود و نصاریٰ و دیگر مذاہب کے وہ اور انبیاء کو نہیں مانتے پھر بتائو کہ قدیم اور حق مذہب اسلام ہے یا کہ تمہارے مذاہب جن پر نجات و ہدایت کا تم انحصار کرتے ہو اور لوگوں کو ان پر چلنے کا حکم دیتے ہو۔ متعلقات : حنیفاً حنیف بمعنی مستقیم اس لیے جس طرح تفاولاً اندھے کو بصیر اور سانپ بچھو کے ڈسے کو سلیم کہتے ہیں اسی طرح لنگڑے کو حنیف کہتے ہیں لہٰذا جو خدا کی فرمانبرداری میں مستقیم ہو ادھر ادھر نہ بھٹکے وہ حنیف ہے۔ بعض کہتے ہیں حنیف لغت میں میلان کرنے والے کو کہتے ہیں اور چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جمیع ادیان سے خدا کی طرف میلان کیا تھا اس لیے ان کا لقب حنیف ہوا اور اسی لیے ہر موحد کا یہ لقب ہے (تفسیر کبیر) (الاسباط) سبط کی جمع ہے لغت میں سبط شاخدار درخت کو کہتے ہیں۔ اس مناسبت سے اس کا اطلاق خاندان اور قبیلہ پر ہوا (سبط پوتے اور اس کی اولاد کو کہتے ہیں اور چونکہ امام حسن و حسین ؓ قبیلہ سادات حسنی و حسینی کا سرمنشاء ہیں اس لیے ان کو سبط رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ کبیر) پس جس طرح عرب میں لفظ قبیلہ کا استعمال تھا اسی طرح بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو اسباط کہتے تھے۔ سبط فلاں سبط فلاں۔ اس جگہ مراد وہ انبیا ہیں کہ جو ان بارہ قبیلوں میں گزرے ہیں جیسا کہ عزیر اور شعیاہ اور یرمیا اور سموئیل علیہم السلام۔ واضح ہو : کہ ہر دین میں تین باتیں ہوتی ہیں اول اصول عقائد جیسا کہ خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک جاننا اور اس کی تمام صفات کمالیہ پر ایمان لانا اس کے انبیاء کو برحق سمجھنا قیامت کا اعتقاد کرنا وغیرہ۔ دوم قواعد کلیہ شریعت کہ جن کی طرف جزئیات احکام اور فروع مسائل رجوع کرتے ہیں اور ہر حکم میں ان کلیات کا ضرور لحاظ ہوتا ہے گویا کہ وہ کلیات مقصود اصلی ہوتے ہیں اور یہ فرعیات اس کے محافظ۔ مثلاً نماز اور زکوٰۃ ایک حکم اصلی ہے کیونکہ یہ بدنی اور مالی عبادت ہے مگر نماز کی یہ صورت کہ پہلے اس سے وضو کرے اور اتنی رکعت پڑھے اور ان میں یہ اذکار ہوں۔ یہ سب باتیں اس حکم اصلی کی محافظ ہیں اس پر اور سب باتوں کو قیاس کرلیجئے۔ اگرچہ شارع کا حکم دونوں کے بجا لانے کا برابر ہے مگر اصل شریعت انہیں قواعد اصلیہ کا نام ہے اور ان کے محافظات کے تغیر کا بھی نبی کے سوا اور کسی کو اختیار نہیں۔ سوم یہ احکامِ جزئیہ کہ جن کو محافظ شریعت کہتے ہیں۔ اول قسم میں تمام انبیاء (علیہم السلام) اور کل خدا کے برگزیدہ متفق ہیں بلکہ جس قدر مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں اگرچہ ان کے بانی انبیاء تھے۔ لوگوں کی افراط وتفریط سے اس دین کی شکل بالکل بگڑ گئی ہے اس میں اگر اس افراط وتفریط کے تودے کو کھود کو دیکھو گے تو بلاشک اس کے نیچے سے بھی وہ جواہرات دبے ہوئے ملیں گے۔ یہ احکام نہ کبھی منسوخ ہوتے ہیں نہ زمانے کی رفتار سے بدلتے ہیں۔ ان میں ایک پچھلا نبی پہلے انبیاء کا متبع کہا جاوے گا، اسی لیے نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فبھداھم اقتدہ۔ کہ اگلے انبیاء کی ہدایت کا اقتدا کرو اور اسی لیے فرمایا قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الٰی ابراھیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب والاسباط الخ تمام برگزیدوں کا ماننا دین اسلام میں فرض ہے یہ اس کی صداقت کی دلیل ہے قسم دوم کو ملت کہتے ہیں ان میں بھی تفاوت اور اختلاف بہت کم ہوتا ہے مگر بعض امور کسی قوم اور کسی زمانے کے لائق نہیں ہوتے ان میں تغیر و تبدل ہوتا ہے مثلاً حج کہ شریعت موسوی میں فرض نہ تھا، کس لیے کہ یہود کی استعداد میں قصور تھا وہ صرف اہل ظاہر تھے اسرار باطنیہ سے بےبہرہ بالخصوص محبت و فنا کے رستے سے ناواقف تھے۔ سوا خوف و طمع کے اور کچھ نہ جانتے تھے اس لیے ان کے لیے اسی قسم کے احکام صادر ہوئے۔ پھر جب اہل کمال پیدا ہوئے کہ جو ظاہر و باطن میں منور تھے اور ان کے قلوب میں محبت و وجد و شوق کی استعداد تھی تو پھر وہی احکام کہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں تھے، قائم ہوئے۔ منجملہ ان کے حج ہے چونکہ ان امور میں حضرت ابراہیم اور جناب خاتم النبین ﷺ نہایت متشابہ ہیں اس لیے حضرت کو حکم ہوا ملۃ ابراھیم حنیفا کہ ملۃ ابراہیم (علیہ السلام) کا اتباع کرو۔ قسم سوم ہر زمانے میں یکساں نہیں رہتی ان کو ہمیشہ قائم رکھنا حکیم مطلق کی شان سے نہایت بعید ہے۔ اس قسم کو شریعت کہتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جس قدر انبیائِ بنی اسرائیل تھے شریعت موسیٰ (علیہ السلام) کے تابع تھے مگر جناب خاتم النبین اس امر میں کسی شریعت کے متبع نہ تھے بلکہ آپ کی شریعت اس جلوئہ کمال کے زمانے میں مستقل تھی فاحفظ ھذا التحقیق۔ اس کے بعد بھی جو کوئی بےسمجھ پادری یا کوئی اور مخالف اسلام نسخ شریعت پر اعتراض کرے تو استعداد فہم کا قصور ہے۔
Ayahs 2:137–139

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

پھر اگر وہ بھی اسی طرح سے ایمان لے آئیں جس طرح کہ تم لائے ہو تو انہوں نے بھی یہ ہدایت پائی اور اگر وہ نہ مانیں تو ضد میں پڑے ہوئے ہیں پھر تم کو خدا ان کے شر سے بچانے میں کافی ہے اور وہ سننے اور جاننے والا ہے

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

اللہ کے رنگ میں رنگو اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ بہتر ہوسکتا ہے اور (کہو) ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

اے نبی ان سے کہو اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال اور ہم تو اس کے مخلص بھی ہیں

ترکیب : فان شرطیہ آمنوا فعل بافاعل 1 ؎ بمثل میں ب زائدہ ہے مثل صفت ہے مصدر محذوف کی ما مصدریہ ہے تقدیرہ ان آمنو ایمانا مثل ایمانکم پس یہ جملہ شرط ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ مثل زائد ہو جیسا کہ لیس کمثلہ شیء میں ک زائد ہے جس سے مراد قرآن اور نبی ہے اور بہ کی ضمیر اس کی طرف پھرتی ہے تقدیرہ ان امنوا بما آمنتم بہٖ یعنی جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اگر اس پر یہ لوگ بھی ایمان لائے تو راہ پالیں گے۔ فقد اھتدو اجواب شرط اور اسی طرح وان تولو اصبغۃ اللہ منصوب ہے فعل محذوف کی طرف صبغۃ اللہ ومن استفہام … کے لیے مبتدا احسن ممیز صبغۃ تمیز مجموعہ خبر۔ تفسیر : یہود ونصاریٰ کے دعویٰ کا الزامی اور تحقیقی جواب دے کر خدا تعالیٰ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہدایت اسلام میں ہے جیسا کہ اوپر کی آیت میں بیان ہوا۔ پس اگر یہ لوگ مسلمانوں کی طرح ایمان لائیں گے تو ہدایت پاویں گے ورنہ ضدی ہیں۔ سو اب اے مسلمانو ان کے ضد اور دشمنی سے امر حق کے ظاہر کرنے میں کچھ تردد نہ کرو۔ خدا تم کو ان کے شر سے محفوظ رکھے گا وہ دانا بینا ہے (چنانچہ خدا نے اپنے وعدہ کو پورا کیا مسلمانوں اور حضرت ﷺ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا یہ پیشین گوئی صادق ہوئی) عیسائیوں میں قدیم دستور ہے کہ جب کسی کو اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں یا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کو حوض میں غوطہ دیتے ہیں۔ بعض عیسائی جیسا کہ کلیسائے عرب اس پانی میں کچھ زردی وغیرہ رنگ کا بھی استعمال کرتے ہیں اور بجائے غوطہ کے صرف رنگین کرنے ہی پر بس کرتے تھے اس کو اصطباغ یعنی بپتسمہ کہتے ہیں۔ اس ظاہری رنگ پر ان کو بڑا اعتماد تھا اور اس کو نجات کی کنجی سمجھتے تھے۔ اس کے حق میں خدا فرماتا ہے کہ اس ظاہری رنگ سے کیا دل رنگین ہوسکتا ہے ؟ کوئی کسی حوض میں ہزار غوطے لگائے اور سر سے پائوں تک رنگ میں رنگا جائے مگر کیا فائدہ ؟ رنگ تو خدائی رنگ ہے۔ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ جو انسان کی روح اور دل کو رنگین کردیتا ہے، خدا کے اس رنگ باطنی سے کونسا رنگ اچھا ہوسکتا ہے۔ انسان اس رنگ میں رنگین ہو کر ہمیشہ اسی کی عبادت میں مستغرق رہتا ہے۔ فائدہ : یہودیوں اور عیسائیوں کے دعوے کا براہین مسلمہ سے ابطال کرکے اس کے برخلاف دعوے کو (کہ نجات اور حقیقی ہدایت دین اسلام میں ہے) نہایت پراثر اور عمدہ دلائل سے ثابت کردیا اور یہ بات جتلا دی کہ اسلام کے مقابلہ میں اصطباغ وغیرہ رسوم ظاہریہ کچھ فائدہ مند نہیں۔ 1 ؎ ایک ناواقف پادری نے غلط فہمی سے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس سے مرا داللہ ہے جس سے لازم آیا کہ اللہ کے مثل پر ایمان لانا چاہیے حالانکہ اس کا کوئی مثل نہیں یہ پادری اگر کچھ بھی صرف ونحو پڑھ لیتا تو کبھی اس قسم کا بےجا اعتراض نہ کرتا۔
Ayahs 2:140–141

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا اب یہ کہو گے کہ ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اور اسباط یہودی یا نصرانی تھے۔ ان سے پوچھو کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ اور سے زیادہ ظالم کون ہے کہ جس کے پاس خدا کی طرف سے شہادت بھی ہو اور وہ اس کو چھپائے اور اللہ تمہارے کام سے بیخبر نہیں

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ ایک امت تھی جو گزر گئی وہ جو کچھ کر گئے ان کے لیے اور جو کچھ تم نے کیا تمہارے لیے اور تم سے ان کے اعمال کی پرستش نہ ہوگی۔

ترکیب : قل فعل بافاعل اہمزئہ استفہام انکاری اتحاجوننا الخ جملہ استفہامیہ اس کا مقولہ ام معادلۃ للہمزۃ فی قولہ تعالیٰ اتحا جو ننا یعنی ان دونوں باتوں میں سے کون سی کرتے ہو۔ ہم سے خدا میں جھگڑا کرتے ہو کہ وہ خاص ہمارا ہی خدا ہے بغیر یہودی یا نصرانی ہونے کے نجات ممکن نہیں۔ اس پر کوئی دلیل یا برہان بھی رکھتے ہو یا محض تقلید اور افترا سے کام لیتے ہو یا یہ کہو کہ ابراہیم اور اسماعیل و اسحاق و یعقوب و اسباط یہودی و نصرانی تھے ہم ان کے پیرو ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ام اللہ مبتدا و الخبر محذوف ای ام اللہ اعلم ام متصلہ ہے۔ ای ایکم اعلم استفہام انکاری ہے۔ شہادۃ موصوف عند ثابت کے متعلق ہو کر صفت اول من اللہ کائنۃ کے متعلق ہو کر صفت ثانی ہوئی۔ ای لاحد اظلم ممن فعل کذا۔ تفسیر : یعنی یہود جو کہتے ہیں کہ ہدایت کا مدار یہودیت پر ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ مدار ہدایت عیسائیت پر ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ جنت میں یہودی ہی جائیں گے، نصرانی کہتے ہیں ہم ہی اس کے مستحق ہیں۔ تو اے نبی ان سے یہ کہو کہ کیا تمہارا ہی خدا ہے کہ جس میں تم ہم سے جھگڑا کرتے ہو اور اس سے اپنی جداگانہ خصوصیت جتلاتے ہو حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے اور ہر شخص اپنے اعمال کی جزا و سزا پاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ تم اس سے ناز وتکبر سے پیش آتے ہو اور ہم سراسر اس سے عجز و نیاز اور دلی اخلاص بھی رکھتے ہیں۔ پھر کیا وجہ کہ تمہارے خانہ ساز ڈھکوسلوں پر (کہ جن کو نہ عقل سلیم تسلیم کرتی ہے نہ نقل) نجات اور ہدایت کا انحصار ہو اور اگر وہ اپنے دعویٰ کی دلیل سے عاجز ہو کر یہ کہیں کہ اس لیے یہودیت یا عیسائیت پر مدار نجات ہے کہ ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب و اسباط بزرگان دین یہودی یا عیسائی تھے تو یہ بھی غلط ہے۔ صدہا ہزارہا سال کی بات وہ جانتے ہیں۔ یا خدا خوب جانتا ہے حالانکہ وہی خوب جانتا ہے بلکہ یہ لوگ خود بھی واقف ہیں کہ ان بزرگوں سے صدہا ہزار ہا سال بعد یہ مذہب قرار پائے ہیں۔ بھلا ان بزرگوں کے عہد میں سبت وغیرہ رسوم اور عقیدئہ تجسم و تشکلِ الٰہی کا کہ جو مذہب یہود میں ہے ‘ کہاں تھا۔ اسی طرح الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ اور عشاء ربانی اور بپتسمہ کو کہ جو مذہب عیسوی کے اصول ہیں کون جانتا تھا اور ان بزرگوں میں سے کس کا عقیدہ ایسا تھا۔ پھر اس پر یہ لطف ہے کہ یہ لوگ اس بات کا بھی یقین رکھتے ہیں اور ان کی کتابوں اور روایتوں میں بھی ہے کہ ان بزرگوں نے نجات حاصل کی تھی۔ اور وہ راہ ہدایت پر تھے۔ پھر کس طرح سے اس شہادت کو چھپا کر کہتے ہیں کہ مدار نجات اور انحصار ہدایت یہودیت یا نصرانیت میں ہے۔ اس پر اس شہادت کو جو چھپائے اس سے کون زیادہ ظالم ہے۔ خدا تعالیٰ ان کے تعصب وعناد اور شرو فساد سے بیخبر نہیں ان کو سزا دے گا۔ ان بزرگوں کا نام یہ لوگ عبث لیتے ہیں وہ اچھے لوگ تھے گزر گئے ان کے لیے ان کے اعمال ہیں ان کے لیے ان کے اعمال۔ تمت
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

بیوقوف ابھی کہنے لگیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے کہ جس پر وہ تھے کس نے پھیر دیا (سو اے نبی ! ان سے) کہہ دو کہ مشرق اور مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

ترکیب : سیقول فعل السفہاء فاعل من الناس اس کا بیان ماولہم مبتداء و خبر مل کر موضع نصب میں ہے۔ بسبب قول کے عن جار قبلۃ مجرور مضاف ھم مضاف الیہ۔ سب موصوف التی کانوا علیہا ای علی تو جھہا او علی اعتقادھا۔ جملہ صفت عن متعلق ولی کے ہے۔ تفسیر : اس سے پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے یہود اور ان کے مقلد منافقین کی ان نکتہ چینیوں کو ( کہ وہ جو اسلام اور نبی (علیہ السلام) کی شان میں کرتے تھے) ذکر فرما کر جواب دیا تھا۔ منجملہ ان نکتہ چینیوں کے ایک بڑا بھاری اعتراض اسلام پر اور آنحضرت پر تحویل قبلہ کے بارے میں کرتے تھے۔ سو خدا تعالیٰ اس کا جواب اس آیت میں دیتا ہے۔ جب نبی ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لائے تو یہاں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرتے اور اسی کو قبلہ بناتے تھے۔ مؤرخین کی روایات میں تفاوت ہے کہ کوئی کہتا ہے نو یا دس مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی۔ کوئی سولہ یا سترہ مہینے تک کہتا ہے۔ واقدی وغیرہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ربیع الاول کی اول تاریخوں میں مدینہ میں تشریف لائے۔ پھر دوسرے سال کے رجب میں پندرہویں تاریخ پیر کے روز کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ اس تقدیر پر یہ مدت تخمیناً سترہ (17) مہینے کی ہوتی ہے اور یہی ٹھیک ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت مکہ میں تھے ٗ جب بھی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور کعبے کو سامنے رکھتے تھے۔ جیسا کہ بیہقی نے سنن میں اور ابو دائود نے ناسخ و منسوخ میں اور ابن شیبہ نے عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کان رسول اللہ ﷺ یصلی وھو بمکۃ نحوبیت المقدس والکعبۃ بین یدیہ وبعد ماتحول الی المدینۃ ستۃ عشر شہرا ثم صرف الی الکعبۃ اور اسی لیے بعض مورخین کو شبہ ہوگیا کہ تحویل قبلہ دو بار واقع ہوئی ٗ حالانکہ یہ غلط ہے۔ قصہ مختصر آنحضرت ﷺ نے ایک سرِّالٰہی کی وجہ سے چند مدت بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور پھر حکمت الٰہی کا مقتضٰی ہوا کہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دے۔ مخالفوں کے طعن کو بیان کرکے اس کا جواب دیتا ہے کہ عنقریب بیوقوف لوگ کہ جو نہ سرِ الٰہی سے واقف ہیں نہ خاصان خدا پر ان کا اعتقاد ہے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کے حکم پر یہ اعتراض کریں گے کہ ان مسلمانوں کو کس چیز نے ان کے قبلہ بیت المقدس سے پھیر دیا جس کی طرف وہ مدت تک منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ یہ طعن یہود مدینہ اور منافقین اور مشرکین عرب کی طرف سے ہوا تھا۔ یہود نے تو اس بنا پر کیا کہ خدا اپنے احکام کو کیوں منسوخ کرتا ہے۔ کیا اس کو پیشتر مصلحت معلوم نہ تھی۔ بعد میں سوجھی۔ خدا ایسا نہیں کرسکتا اور نیز ان کو یہ امر ناگوار گزرا کہ باوجود اتباع سلسلہ انبیاء کے یہ نبی عربی اس کعبہ انبیاء کو چھوڑ کر جاہلوں کے کعبہ کی طرف منہ کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ نبی نہیں کہ جس کی تورات میں موسیٰ نے خبر دی ہے (آج کل کے پادری اور ان کے مقلد بھی یہود مدینہ کے پیرو بن کر اسلام پر اس لغو اعتراض کو وارد کیا کرتے ہیں) اور منافقین کے نزدیک کوئی جہت مرجح نہ تھی۔ وہ اس کو سرے سے لغو سمجھتے تھے اور مشرکین کہتے تھے کہ دیکھو آخرکار ہمارے کعبہ کی طرف منہ کیا۔ خدا تعالیٰ اس شبہ کا جواب دیتا ہے کہ اے نبی ! ان سے کہہ دو کہ مشرق اور مغرب یعنی ہر جانب اور ہر سمت خدا کے نزدیک یکساں ہے۔ ہر جگہ اس کا ظہور ہے مگر وہ کسی سر کی وجہ سے ایک جہت کو عبادت کرنے والوں کے لیے مخصوص کردیتا ہے اور اس سر کو ہر شخص نہیں سمجھتا ٗ ہاں وہ جس کو چاہتا ہے اس کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ متعلقات وجہ تعین قبلہ : قبلہ بروزن فعلہ سامنے کی جہت کو کہتے ہیں یا اس حالت کو جو کسی چیز کے سامنے ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ مقابلہ سے مشتق ہے۔ اومن الاستقبال اور قبلہ کو اسی لیے قبلہ کہتے ہیں کہ وہ نمازی کے سامنے ہوتا ہے (تفسیرکبیر وغیرہ) سو یہ قبلہ کبھی بیت المقدس اور پھر خانہ کعبہ قرار پایا۔ اس مقام پر دو باتیں قابل غور ہیں۔ وجہ اوّل : اول یہ کہ نماز کے لیے قبلہ معین کرنے میں کیا سرِّ الٰہی ہے ؟ اس کی تحقیق یہ ہے کہ اس میں چند حکمتیں ہیں۔ (1) مقدمہ : خدا تعالیٰ نے انسان کو دو قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ ایک قوت عقلیہ کہ جو مجردات کا ادراک کرتی ہے۔ دوسری قوت خیالیہ کہ جو محسوسات میں تصرف کرتی ہے۔ بسا اوقات یہ قوت قوت عقلیہ کو معانی مجردہ کے ادراک میں مدد دیا کرتی ہے اور اسی لیے آپ نے دیکھا ہوگا کہ مہندس جب مقادیر کا کوئی حکم کلی دریافت کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کوئی صورت معینہ اور شکل معین فرض کرلیتے ہیں تاکہ حس اور خیال اس کی اس ادراک میں اعانت کرے۔ پس جب بندہ کو خدا تعالیٰ کے حضور میں بوقت عبادت حاضر ہونا پڑا تو اس ذات مقدسہ کے لیے جو جسم اور اس کے تمام عوارض سے پاک اور احاطہ حس و خیال سے باہر ہے۔ کوئی آلہ حسی 1 ؎ ضرور تھا کہ جو اس تجلیات کا مظہر اور اس کے جمال باکمال کا آئینہ ہو اور یہ بھی ضرور تھا کہ اس آئینہ میں کوئی صنمیت 2 ؎ وغیرہ کا رنگ نہ ہو (یعنی وہ جگہ کسی کی تصویر نہ ہو ورنہ پھر توجہ عبودیت اس صاحب تصویر کی طرف رجوع کرے گی) تاکہ عمدہ طرح سے نظر آوے اور یہ جگہ خانہ کعبہ ہے کہ جو عالم ملکوت میں بیت المعمور کا نمونہ اور عالم ناسوت میں اب الانبیاء و رئیس الموحدین حضرت آدم و ابراہیم (علیہما السلام) کا معبد اور خداوند تعالیٰ کے جلوہ کی کرسی ہے (جیسا کہ تورات سفر استثناء میں ہے کہ خدا فاران یعنی مکہ کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوا) اور آفتاب دین محمدی کا مطلع اور اہل اسلام کی دولت و حشمت کا منبع ہے اور اس کے بعد دوم درجہ میں بیت المقدس ہے جہاں سے نبوت بنی اسرائیل کا دریا بہا ہے۔ وجہ دوم : (2) یہ امر تو ظاہر ہے کہ حالت اجتماعیہ حالت وحدانیہ سے قوی ہوتی ہے۔ دیکھئے ایک یا دو بال میں وہ قوت نہیں کہ جو دس بیس پچاس ملا کر رسی بٹنے سے ہوتی ہے۔ پس جب نباتات و جمادات کا یہ حال ہے تو پھر انسان بالخصوص اہل ایمان کی حالت اجتماعیہ کا تعاکس انوار و ظہور تجلیات میں بوقت عبادت کیا کہنا ہے ؟ اس اتفاق کی بدولت اسلام شرقاً غرباً تھوڑے سے دنوں میں ابر رحمت کی طرح دنیا میں پھیل گیا۔ اسی کی برکت سے خدا کے نافرمان بادشاہوں کی سرسبز سلطنتیں دینداروں کے ہاتھ میں آئیں۔ اسی لیے نماز جماعت مقرر ہوئی کہ اہل محلہ میں اتفاق پیدا کرے اور جمعہ اور حج اس لیے مقرر ہوا کہ اہل شہر اور روئے زمین کے اہل اسلام کا باہمی میل جول ہو۔ پس جب نماز میں حالت اتفاقیہ شریعت کے نزدیک ایک امر ضروری تھا تو اس کے لیے ایک جہت کا مقرر ہونا بھی ضرور تھا کیونکہ اختلاف ظاہری اختلاف باطنی کی دلیل ہے اور وہ جہت خانہ کعبہ ہونی چاہیے کیونکہ اسلام اور توحید کا یہی منبع ہے اور اکیلے کی نماز جماعت کے تابع ہے جو اس کو ضرور 1 ؎ یعنی اس کی مشق کے لیے خاکہ۔ 2 ؎ بت پرستوں اور عناصر پرستوں کی سمجھ میں جبکہ یہ نکتہ نہ آیا اور سونے اور پیتل میں تمیز نہ رہی تو ان چیزوں کو جہت عبادت کی آڑ بنا کے پوجا۔ (12 منہ) ہے۔ اس کو بھی ضرور ہے اور یہی اسرار ہیں اختصاراً اسی پر بس کرتا ہوں۔ دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ دو قبلہ کیوں ہوئے۔ چند روز بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کے بعد پھر خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا کیوں حکم ہوا ؟ اس میں بھی چند اسرار ہیں (1) یہ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا دین تمام انبیاء (علیہم السلام) کے اصول دین پر مبنی ہے اور اسی لیے آنحضرت ﷺ کا ماننا موسیٰ و عیسیٰ و دیگر انبیاء کا ماننا اور قرآن مجید پر ایمان لانا تمام کتب الٰہیہ پر ایمان لانا ہے۔ گویا اخیر زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اختلافِ جزئیات کو (کہ جو مصالح قوم اور زمانہ کی وجہ سے انبیاء کی شریعتوں میں تھا) حذف کرکے ایک اصلی مذہب بنا دیا یا یوں کہو کہ تمام پھولوں کا عطر کھینچ کر ایک جا جمع کردیا اور انبیاء (علیہم السلام) کے دو معبد روئے زمین پر ایسے معظم و مکرم تھے کہ جن کی عزت و عظمت تمام خدا پرست قوموں کے دلوں میں مرسوخ تھی۔ ایک کعبہ دوسرا بیت المقدس۔ پس ضرور ہوا کہ ان دونوں گھروں کو قبلہ نما بنایا جاوے تاکہ مرتبہ جامعیت پایا جاوے مگر چونکہ نور نبوت اولاً کعبہ ہی سے چمکا ہے تو بیشتر صرف اس کی رعایت یا اس کے ساتھ دوسرے گھر کی بھی رعایت کرنا مناسب ہوا۔ جیسا کہ بیہقی وغیرہ کی روایت سے ثابت ہے۔ پھر جب اس آفتاب نبوت نے مدینہ میں جا کر عروج پایا اور آنِ واحد میں دونوں قبلوں کی طرف متوجہ ہونا مشکل پڑگیا تو اس رتبہ ترقی کے موافق بیت المقدس کی طرف نماز میں منہ کرنا پڑا مگر جب تھوڑے سے ہی دنوں کے بعد دائرہ کمالات نبوت نہایت وسیع ہوا تو جس نقطہ سے شروع ہوا تھا ٗ وہیں آرہا یعنی پھر خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ (2) یہ کہ مکہ سے مدینہ کی طرف آنحضرت ﷺ کا ہجرت کرکے آنا اس طرف اشارہ تھا کہ آپ انبیائِ بنی اسرائیل کی طرف ملتفت ہیں کیونکہ مدینہ مکہ سے شام کی جانب ہے جو انبیائِ بنی اسرائیل کا مرکز ہے تاکہ انبیائِ بنی اسرائیل کے پیروئوں اہل کتاب یہود و نصاریٰ کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ یہ نبی عربی سلسلہ انبیائِ بنی اسرائیل موسیٰ و عیسیٰ دائود (علیہم السلام) کے برخلاف نہیں بلکہ انہیں کا مذہب و ملت کا مہتمم و مصلح ہے جیسا کہ توریت وغیرہ کتب انبیاء میں خبر دی گئی تھی اور جس لیے اہل کتاب ایک ایسے مصلح و مجدد کے آنے کے منتظر بیٹھے تھے۔ اس لیے مدینہ میں تشریف لا کر ضرور ہوا کہ اتحاد انبیائِ بنی اسرائیل کا اظہار کیا جائے تاکہ اہل کتاب کو نفرت نہ ہو ( اسی بات کو بعض مفسرین نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی وجہ تالیف للیہود بتائی ہے اور اظہار اتحاد دلی کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے سے زیادہ اور کوئی بات ہو نہیں سکتی تھی۔ ) اس لیے اس طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوا مگر بیت المقدس اور اس کے بانی اور اس کے انبیاء (علیہم السلام) دراصل ملت ابراہیمی کے تابع ہیں اور آنحضرت ﷺ ملت ابراہیمیہ کے اصلی مہتمم و مصلح کرکے بھیجے گئے ہیں۔ اس لیے مسجد ابراہیمی یعنی خانہ کعبہ کی طرف ہمیشہ کے لیے منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دینا اس بات کا اظہار ہے کہ آپ کو اصلی و دائمی خصوصیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہے کیونکہ ان کے بڑے فرزند اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے خصوصیت اور خاصہ اور حق اکبریت فوقیت کے ساتھ حاصل ہے اور نیز اسلام کا ظہور بھی مکہ سے ہوا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کعبہ کا شہر ہے اور اسلام کی اشاعت اور جہان بھر میں پھیلنے کا ذریعہ بھی عرب کی قومیں نوشتہ ازلی میں قرار پا چکی ہیں اور ان سب کا عبادت گاہ کعبہ تھا اور اسی کی عظمت ان کے دلوں پر جاگزیں تھی اور اسی کی طرف منسوب ہونے کو وہ ابراہیمیت کی علامت خاص جانتے تھے۔ اس لیے ہمیشہ کے لیے کعبہ ہی جہت نماز قرار پایا۔ (3) اور اس میں یہ بھی سر ہے کہ آنحضرت ﷺ کو وصف جامعیت حاصل ہوجائے۔ ام القلبتین کا مرتبہ ملے۔ (4) نیز اس میں مخلصین و غیر مخلصین کا امتحان بھی ہے۔ رسم پرست ہمیشہ اپنے رسوم و مالوفات ہی پر چلتے ہیں۔ مخلصین فوراً حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ جدھر ہادی نے موڑ دیا ٗ مڑ جاتے ہیں اور اسی کا نام اتباع حقیقی ہے اور یہی محمدی ہونے کی سچی علامت اور محبت صادق کا خاص نشان ہے ورنہ دراصل مشرق و مغرب یعنی ہر سمت خدا کی ہے ٗ اس کا ہر سمت جلوہ ہے کافراں سجدہ کہ درپیش بتاں میکردند ہمہ روسوئے تو بود و ہمہ سو روئے تو بود نہ کعبہ ہی میں خدا رہتا ہے نہ بیت المقدس میں ہی بستا ہے۔ وہ ہر مکان و ہر زماں سے پاک ہے۔ واضح ہو کہ بعض خبطیوں نے اس مقام پر وہ بےسروپا اعتراض کئے ہیں کہ جن کو قرآن سے کچھ بھی علاقہ نہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ اہل کتاب کے لیے کوئی جہت قبلہ ہی نہیں ٗ پھر ان کے لیے مشرق و مغرب کو کیوں جہت کہا۔ از انجملہ یہ کہ کعبہ دیواروں کا نام ہے اور جب دیواریں نہ رہیں گی تو کیا ہوگا وغیرہ ذلک من الخرافات اس لیے اس کے بعد خدا نے یہدی من یشاء الی صراط مستقیم فرمایا کہ یہ اسرار جس کو ہم چاہتے ہیں ٗ تلقین کرتے ہیں ورنہ بعض تو وادی ضلالت و جہالت میں سر ٹکراتے ہی مرجاتے ہیں۔ اس آیت سے جس طرح یہ بات ثابت ہوئی کہ احکامِ الٰہی کا چھپانا حرام ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ کفار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ یہاں تک حکم تحویل قبلہ کی تمہید تھی۔ اگلی آیات میں حکم دیا جا رہا ہے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور (جس طرح کہ ہم نے قبلہ کے امر میں ہدایت کی) اسی طرح تم کو امت وسط بنایا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے اور وہ قبلہ کہ جس پر (اے نبی) تم تھے ٗ بیت المقدس ہم نے اس لیے بنایا تھا کہ ہم کو معلوم ہوجائے کہ کون (تحویل قبلہ کے وقت) رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھرجاتا ہے اور قبلہ کا بدلنا بیشک بہت شاق تھا مگر جن کو خدا نے ہدایت دی (ان پر کچھ بھی شاق نہیں) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان ضائع کردیتا۔ بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ شفیق اور مہربان ہے۔

ترکیب : وکذلک میں کاف موضع نصب میں ہے۔ صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ و مثل ہذا اتینا من نشاء جعلنا کم اور جعلنا بمنزلہ صیر نا علی الناس متعلق ہے۔ شہداء سے قبلۃ مفعول اول ہے۔ جعلنا کا اور مفعول ثانی محذوف ہے اور التی مع صلہ اس محذوف کی صفت ہے تقدیرہ وما جعلنا القبلۃ القلبلۃ الخ من یتبع میں من بمعنی الذی موضع نصب میں ہے نعلم اے ممن ینقلب میں من متعلق ہے نعلم سے۔ ای لیفصل المتبع عن المنقلب علی عقیبہ موضع نصب میں ہے بوجہ حال ہونے کے ای راجعا وان کانت میں ان مخففہ ہے ثقلہ سے اور اسم اس کا محذوف ہے۔ اس پر سیاق دلالت کرتا ہے۔ اے وان کانت التولیۃ الاعلی الذین میں علی کبیرنا سے متعلق ہے اور الا نے صرف معنی میں عمل کیا ہے۔ وماکان اللہ لیضیع خبرکان محذوف اور لام اس محذوف کے ساتھ متعلق ہے۔ تقدیرہ وما کان اللہ مرید الان لیضع ایمانکم کو فیوں کے نزدیک لیضیع خبر ہے اور لام تاکیدی اس پر داخل ہوگیا۔ وفیہ نظر لان اللام لام الجروان بعدہامرادۃ۔ تفسیر : یعنی جس طرح ہم نے اے امت محمد ﷺ تم کو اور باتوں میں برگزیدہ کیا از انجملہ یہ کہ یہود اور نصاریٰ کسی نبی کو مانتے ٗ کسی کو نہیں اور تم سب کو مانتے ہو اور یہ کہ تم اپنے نبی کے سچے اور حقیقی فرمانبردار ہو جس چیز کا حکم ہوتا ہے بلا چوں و چرا اس کو تسلیم کرتے ہو اور نیز یہ کہ تمہارا قبلہ کعبہ قرار دیا گیا کہ جو ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے بخلاف یہود اور نصاریٰ کے قبلہ کے کہ وہ پیچھے بنا ہے۔ اسی طرح ہر بات میں تم کو امت وسط یعنی پورا اور کامل بنایا تاکہ سب لوگوں کے لیے تم شہید یعنی ہر امر خیر میں ہادی بنو کہ جس بات کو تم اچھا یا برا کہو اس میں تم خداوند کے گواہ مانے جائو اور رسول تمہارا ہادی اور گواہ بنے یعنی جو کچھ خدا تعالیٰ اپنے نبی کے دل پر القا کرے اس کو تم اوروں کو تعلیم کرو اور تحویل قبلہ کے بارے میں جو لوگ تم سے جھگڑتے اور طرح طرح کے شکوک پیش کرتے ہیں ٗ وہ بیوقوف اس رمز سے (کہ جس کا پہلے بیان ہوا) ناواقف ہیں۔ منجملہ اور اسرار کے چند روز بیت المقدس کی طرف منہ کرنے میں ایک یہ بھی سر تھا کہ پیغمبر کے سچے فرمانبرداروں اور نافرمانوں میں باہم امتیاز ہوجاوے۔ کس لیے کہ جو اپنے معبود حقیقی اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو (جس طرح دانشمند مریض اس حکیم حاذق کے نسخہ کی تبدیل کو بلاحجت و تکرار قبول کرکے اس کی دوا کو پی لیتا ہے کہ جس کو دل سے حکیم حاذق مفید جانتا ہے) بےکھٹکے رسول کے حکم کو قبول کرلیتے ہیں ٗ خواہ ان کی رسم و حمیت ملکی کے خلاف ہو خواہ موافق۔ وہ ہر وقت یہی کہتے ہیں رشتہ در گردنم افگندہ دوست مے برد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست اور جو رسم اور مذہب و ملت آبائی اور حب جاہ و مال کے جال میں گرفتار ہیں ٗ وہ سینکڑوں نکتہ چینیاں کرکے اس سعادت سے محروم رہتے ہیں اور ہرچند یہ بڑی بھاری بات ہے کہ کسی کے کہنے سے اپنے شعائرِ مذہبیہ کو چھوڑ دے اور جن کو وہ شعائر بتائے ان کو یہ تسلیم کرے مگر جن کو خدا تعالیٰ ہدایت کرتا ہے اور ان کے دلوں سے حجاب اٹھا لیتا ہے ٗ وہ رسول کے حکم کو سب پر مقدم رکھتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو یہ توفیق عطا نہ کرتا تو وہ بھی نافرمانی اور سرکشی سے بالخصوص اس تحویل قبلہ کے امر میں نکتہ چینی کرنے سے ایمان زائل کردیتے مگر خدا چونکہ بڑا مہربان اور شفیق ہے وہ کا ہے کو مسلمانوں کے ایمان کو ضائع ہونے دیتا تھا ٗ لہٰذا اس نے ان کو توفیق عطا فرمائی۔ متعلقات امت وسط۔ وسط کے معنی عدل کے ہیں اور بعض کہتے ہیں اس کے معنی بہتر کے ہیں جیسا کہ کنتم خیر امۃ لتکونواشہداء شہادت سے مراد گواہی ہے۔ خواہ یہ گواہی دنیا میں ہو خواہ آخرت میں۔ چناچہ ایک بار آنحضرت ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گیا۔ لوگوں نے اس کی مذمت کی تو آپ نے فرمایا وجبت 1 ؎ وجبت پھر دوسرا جنازہ آیا تو لوگوں نے اس کی مدح کی تو آپ نے فرمایا وجبت وجبت۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے دونوں کے لیے ایک ہی کلمہ فرمایا۔ آپ نے جواب دیا کہ جس کی تم نے مذمت کی اس کے لیے آتش دوزخ واجب ہوئی اور جس کی تم نے مدح کی ٗاس کے لیے جنت واجب ہوئی۔ تم خدا کے دنیا میں گواہ ہو ٗ جس کو تم اچھا کہو ٗ وہ اچھا ہے اور جس کو تم برا کہو وہ برا ہے (ترمذی وغیرہ) خلاصہ یہ کہ امت مرحومہ بحیثیت اجتماعی نبی (علیہ السلام) کے کمالات کا آئینہ ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا لن تجمع امۃ محمد علی الضللۃ کہ امت محمدیہ گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی۔ یہاں سے اجتماع امت کا برحق ہونا پایا گیا اور اسی لیے خدا نے فرمایا وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوِّلِہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَسَآئَتْ مَصِیْرًا کہ جو مسلمانوں سے علیحدہ راہ اختیار کرے گا۔ جہنم میں جاوے گا۔ واضح ہو کہ گواہ میں دو باتیں ضرور ہیں۔ اول یہ کہ وہ عادل ہو کیونکہ جھوٹے ‘ بدکار کی گواہی کا کیا اعتبار۔ دوم اس کو علم بھی ہو کیونکہ جس چیز کو جب تک نہ جانے گا اس کی بابت کیا گواہی دے گا۔ پس جب امت محمدیہ کا شاہد ہونا ثابت ہوا تو نیک اور ذی علم ہونا بھی پایا گیا۔ اسی لیے لفظ وسط امت کی صفت میں لایا گیا۔ 1 ؎ واجب ہوئی 12 منہ پہلے جو خدا نے یہدی من یشاء الی صراط مستقیم فرمایا تھا تو وہ ایک عام بات تھی۔ اب اس آیت میں اس کی تشریح کردی کہ جن کو خدا نے صراط مستقیم کی ہدایت کی ہے ٗ ان میں سے امت محمدیہ اور خود حضرت محمد ﷺ ہیں۔ اس میں اشارہ کردیا کہ اے مسلمانو ! تم کو ان یہود و نصاریٰ و دیگر اقوام کی طعن و طنز کی طرف التفات بھی نہ کرنا چاہیے کیونکہ تم خدا کے شاہد ہو۔ ہر امر میں ان لوگوں کو تمہارا اقتداء کرنا چاہیے نہ کہ تم ان کا اقتداء کرو۔ تمہیں صرف اپنے رسول کا اتباع کافی ہے۔ فائدہ : ماکان اللہ لیضیع ایمانکم کی تفسیر میں بعض محدثین نے یوں نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے چند صحابہ جیسا کہ ابی امامہ اور سعد بن ذرارہ اور براء بن عازب اور برا بن معرور وغیرہم کا انتقال اس زمانہ میں ہوا کہ جب آنحضرت ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے۔ پس جبکہ قبلہ کعبہ بنایا گیا تو ان کے وارثوں نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ وہ لوگ تو اس حالت میں مرے کہ جو منسوخ ہوگئی ٗ اب ان کی نمازوں کا کیا حکم ہے تو اس کے جواب میں خدا نے یہ آیت نازل فرمائی :
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

تمہارا (انتظار حکم میں) آسمان کی طرف پھر پھر کر منہ کرنا ہم دیکھ رہے ہیں ( غم نہ کرو) جس قبلہ کو تم پسند کرتے ہو اسی کی طرف منہ کرنے کا حکم دیے دیتے ہیں۔ پس (نماز میں) مسجد الحرام (کعبہ) کی طرف منہ کرلیا کرو اور (اے مسلمانو) تم جہاں کہیں ہوا کرو (نماز میں) اسی کی طرف اپنا منہ کرلیا کرو اور بیشک جن کو کتاب دی گئی ہے ٗ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے برحق ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں

ترکیب : نریٰ فعل مضارع ضمیر نحن اس کا فاعل تقلب الخ مفعول فی السماء متعلق ہے تقلب کے نولین فعل بافاعل کے مفعول اول قبلۃ موصوف ترضہا صفت مجموعہ مفعول ثانی وَلَّ فعل انت ضمیر فاعل کی اس میں مستقر اس کا فاعل وجہک مفعول اول شطر الخ مفعول ثانی حیث ظرف ہے۔ فولوا الخ کا من ربہم موضع نصب میں بوجہ حال ہونے کے۔ تفسیر : جب خدا تعالیٰ قبلہ کے بارے میں مخالفوں کے شکوک و شبہات رد کرچکا اور یہ بات بھی بتلا چکا کہ چند روز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ایک امتحان اور سرباطنی کے لیے تھا اور دراصل ہمیشہ کے لیے قبلہ کعبہ ہی ہونا چاہیے تھا ( ان اسرار کی وجہ سے کہ جن کا ذکر اوپر ہوا) تو اب اس آیت سے پیشتر آنحضرت ﷺ کی اس رغبت کا اظہار کرتا ہے کہ جو بوجہ ترقی مراتب کعبہ کے قبلہ بنانے میں تھے۔ اس کے بعد آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ ہم تم کو اس قبلہ کا حکم دیں گے کہ جس کو آپ کا دل چاہتا ہے۔ پھر آپ کو اور آپ کے ساتھ آپ کی امت کو عام حکم دیتا ہے کہ کچھ مکہ اور اس کے نواح کی خصوصیت نہیں بلکہ تم جہاں کہیں ہو اور نماز پڑھنا چاہو تو کعبہ کی طرف کہ جس کو مسجد الحرام کہتے ہیں ٗ منہ کرلیا کرو۔ پھر اس کے بعد اہل کتاب کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اب جو کچھ اس بارے میں تم پر اعتراض کرتے ہیں یا کریں گے ٗ یہ ان کی محض حق سے چشم پوشی ہے کیونکہ وہ اپنی ان روایات سے کہ جو بطور تواتر نسل در نسل ان میں چلی آتی ہیں ٗ کعبہ کی بزرگی اور اس کا برحق ہونا خوب جانتے تھے۔ اس کے بعد ان کو متنبہ کرتا ہے کہ خدا تمہاری اس مکاری اور حق پوشی سے غافل نہیں ٗ وہ ضرور تم کو اس کا بدلہ دے گا۔ فوائد : (1) قدنریٰ تقلب وجہک فی السماء مراد دلی آرزو ہے۔ عام ہے کہ سچ مچ آسمان کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر آپ دیکھتے تھے۔ جیسا کہ اہل اللہ حالت انتظار میں دیکھا کرتے ہیں یا نہ دیکھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی یہ دلی آرزو کہ قبلہ کعبہ ہو حب وطن یا مشرکین مکہ کی خوشی کے لیے نہ تھی بلکہ ان اسرار کی وجہ سے کہ جن کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں اور جو نفوس کاملہ ہوتے ہیں ٗ ان کو ہمیشہ کمالات کی طرف از حق شوق ہوا کرتا ہے اور کعبہ کا قبلہ ہونا آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے بڑا کمال 1 ؎ تھا۔ (2) مسجد الحرام کعبے کو اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی حرمت خدا کی طرف سے مقرر ہوئی ہے یا اس لیے کہ یہاں معاصی اور قتل و ظلم کی اشد حرمت اور ممانعت ہے جو کعبہ کو مسجد الحرام کے ساتھ بیان کیا تو اس میں یہ نکتہ ہے کہ یہود جو حق پوشی کرکے اعتراض کرتے تھے کہ ” کعبہ میں کیا فضیلت ہے ٗ یہ مشرکین عرب کا معبد ہے۔ “ اس سے باز آویں اور کعبہ کی حرمت و عظمت کی طرف خیال کریں کہ جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا معبد ہے۔ کعبہ کے کہنے میں یہ بات حاصل نہ تھی۔ (3) شرط المسجد الحرام شطر کے معنی یہاں جانب اور طرف کے ہیں۔ گوجڑ کے بھی ہیں مگر کعبہ کی طرف منہ کرنے سے مراد یہاں نماز میں منہ کرنا ہے اور یہ طرف اور سمت حقیقی ہونی کچھ ضروری نہیں بلکہ تخمینی بھی کافی ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک خط جنوب و شمال میں کعبہ سے نکالا جاوے اور دوسرا نمازی کے سامنے کھینچا جاوے جبکہ وہ کعبہ سے مغربی یا مشرقی جہت میں ہو اور پھر دونوں خطوں میں تقاطع ہوجاوے تو کافی ہے اور جو اندھیری رات میں یا کسی اور وجہ سے قبلہ معلوم نہ ہو تو نمازی غور کرے اور جدھر ظن غالب قبلہ ہو اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے۔ گو بعد میں غلطی معلوم ہو کیونکہ یہ امر سہولت پر مبنی ہے ورنہ دقت ہوجاوے۔ 1 ؎ آیندہ کی ترقیاں اسی پر مبنی ہیں۔ 12 منہ
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اللہ اس سے بھی بیخبر نہیں ہے اور اگر آپ اہل کتاب کے لیے سب نشانیاں بھی لے آویں تو بھی وہ آپ کے قبلہ کو نہ مانیں گے اور آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور ان میں سے کوئی بھی کسی کے قبلہ کو نہیں مانتا ہے اور اگر آپ نے علم حاصل ہوجانے کے بعد بھی ان کی خواہشوں کی پیروی کی (یا ان کے کہنے پر چلے) تو بیشک اس وقت آپ بھی ستمگاروں میں سے ہوں گے

ترکیب : ولئن میں لام تو تطیہ قسم ہے۔ پھر یہ تمام جملہ شرط ہے اور ماتبعوا قبلتک جو اب ما بلحاظ لفظ ماضی داخل ہے ورنہ تبعوا بمعنی مستقبل ہے اور ما بمعنی لا اور اسی لیے جواب میں فا نہیں آیا اور اسی طرح ولئن اتبعت الخ شرط انک جواب اذا حرف ہے اور نون اس میں اصل ہے اور یہ خاص جواب میں مستعمل ہوتا ہے۔ الذین الخ مبتداء یعرفونہ الخ اس کی خبر کما صفت ہے مصدر محذوف کی اور ما مصدر یہ ہے الحق مبتدا من ربک خبر۔ تفسیر : چونکہ نبی ﷺ کو مخالفین کے حق پر آنے کی نہایت آرزو تھی کہ یہ کسی طرح وادی ضلالت سے نجاوت پاویں اور کاش آیات و معجزات ہی سے راہ پر آویں۔ بالخصوص تحویل قبلہ کے بارے میں مگر ان کا انکار ان کی شقاوت ازلی کی وجہ سے حد سے تجاوز کر گیا تھا۔ اسی لیے اپنے نبی کو فرماتا ہے کہ اگر آپ ان اہل کتاب کو سینکڑوں معجزات و آیات بھی دکھاویں گے۔ تب بھی یہ آپ کے قبلہ کو نہ مانیں گے اور اس پر کیا منحصر ہے ٗ ان کی باہم بھی یہاں تک ضد و کد ہے کہ ایک دوسرے کے قبلہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے سینکڑوں معجزات دکھائے مگر یہود نے ان کو نہ مانا۔ پھر نصاریٰ میں پولوس 1 ؎ نے حق پوشی کے لیے اور نصاریٰ کو ابداً حق سے محروم کرنے کے لیے یہ کہہ دیا کہ میرے خلاف اگر کوئی آسمان کا فرشتہ بھی کہے تب بھی نہ ماننا۔ پھر اگر آپ باوجود امر حق ظاہر ہونے کے بفرض محال ان کے خواہشوں کے تابع ہوں گے تو برا کریں گے (جیسا کہ حق سے انکار میں ان کا اصرار تھا) ۔ اتنا ہی آپ کے لیے ان کے اتباع سے منع کرنے میں اصرار کردیا اور آنحضرت ﷺ کی امت کو کنایۃً متنبہ کردیا ؎ خوشتر آن باشد کہ سرّ دلبراں گفتہ آید در حدیث دیگراں اور ان کا یہ انکار عمداً ہے کیونکہ وہ آپ کو نبی برحق ان علامات سے کہ جو ان کی کتابوں میں ہیں اور سینہ بہ سینہ ان کے احبار اور رہبان میں چلے آتے ہیں ٗ اسی طرح سے جانتے ہیں کہ جس طرح اپنی اولاد کو سینکڑوں لڑکوں میں دیکھ کر پہچان لیتے ہیں اور بالکل اشتباہ نہیں ہوتا ٗ اگرچہ ان کے عوام نہ جانتے ہوں مگر ایک فریق یعنی علماء تو عمداً جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہیں مگر ان کے اس خلاف حق ظاہر کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ حق تو وہی ہے کہ جس کو خدا ظاہر کرتا ہے۔ بس اب اے مخاطب تو کسی شک و شبہ میں نہ پڑنا۔ فوائد : (1) ومابعضہم بتابع قبلۃ بعض گو تمام عیسائیوں اور یہود کے لیے نماز میں کوئی جہت خاص قبلہ نہ ہو مگر عرب کے یہود عموماً بیت المقدس کو نماز میں قبلہ بناتے تھے اور نصاریٰ جہت شرق کو اس لیے کہ حضرت مسیح بیت اللحم میں پیدا ہوئے تھے کہ جو یروشلم سے بجہت شرق واقع تھا اور ممکن ہے کہ قبلہ سے ہر مذہب کے رسوم و شعار مراد ہوں اور ہر ایک دوسرے کے رسوم کو نہیں مانتا۔ یہ طبعی بات ہے۔ (2) فلاتکونن من الممترین سے یہ مراد نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو کچھ شک تھا بلکہ اوروں کے سنانے کو حضرت سے یہ اور لئن اتبعت اھوائھم فرمایا۔ (3) ہم نے قیود کی رعایت رکھ کر تفسیر کی ہے۔ اس تقریر پر وہ سوال و جواب جو خلاف معنی لے کر بعض مفسر کرتے ہیں ٗ تضیع اوقات ہے۔ 1 ؎ چناچہ پولوس اس خط میں جو گلیتوں کو لکھا ہے اس کے پہلے باب کے درس میں یہ لکھتا ہے (8) لیکن اگر ہم یا آسمان سے کوئی فرشتہ سوا اس انجیل کے جو ہم نے تمہیں سنائی دوسری انجیل تمہیں سنائے سو ملعون ہو وے۔ 12 منہ
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن کو کہ ہم نے کتاب دی ہے وہ تو اس 1 ؎ کو اس طرح جانتے ہیں کہ جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں اور ان میں سے ایک فریق ایسا بھی ہے کہ جو جان کر حق کو چھپاتے ہیں۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق تو آپ کے رب ہی کی طرف سے ہے ٗ پس آپ شک میں نہ پڑیں۔

1 ؎ یعنی نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کو۔ 12 منہ