2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 2:120–121

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور یہود آپ سے ہرگز خوش نہ ہوں گے اور نہ نصاریٰ بھی راضی ہوں گے تاوقتیکہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوں گے۔ کہہ دو ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے اور اگر آپ اس کے بعد بھی کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے ان کی خواہشوں پر چلے تو آپ کے لیے اللہ کے مقابلہ میں نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ مددگار۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے (قرآن) وہ تو اس کو جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے ویسا ہی پڑھتے ہیں وہی اس پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہیں سو وہی نقصان پانے والے ہیں۔

ترکیب : ولن ترضیٰ فعل عنک اس کے متعلق الیہود والنصاری فاعل حتی تتبع فعل انت فاعل ملتہم مفعول جملہ غایۃ قل فعل انت فاعل ان ھدی اللہ اسم ان ھو ضمیر فصل الہدی خبر جملہ مقولہ ولئن میں لام تاکید ان شرطیہ اتبعت الخ شرط مالک الخ جواب شرط الذین موصول آتینہم الکتاب جملہ خبریہ صلہ یتلون حق تلاوتہ حال مقدرہ ھم سے یا کتاب سے حق منصوب بوجہ مفعول مطلق ہونے کے تقدیرہ، یتلون تلاوتہ حقا اولئک مبتداء یؤمنون بہ جملہ خبریہ مجموعہ خبر الذین ومن شرطیہ یکفربہ جملہ شرط فاولئک ھم الخاسرون جواب شرط۔ تفسیر : اس جگہ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو یہ بات بتلاتا ہے کہ گویہ دین حق ہے اور اس کی اندرونی و بیرونی خوبیاں اس کی حقانیت کی روشن دلیلیں ہیں جن سے دل میں مخالف بھی قائل ہیں اگر ضد اور تعصب سے یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک کہ آپ خود ان کی جہالت و ضلالت کے جس کو انہوں نے مذہب ملت بنا رکھا ہے تابع نہ ہوجائیں گے دین حق ماننا تو درکنار آپ سے خوش بھی نہ ہوں گے آپ ان ازلی بےنصیبوں سے کوئی طمع ہدایت پر آنے کی نہ رکھیں اور ان کی طمع کاریوں کو ہدایت نہ سمجھیں۔ کس لیے کہ ہدایت تو وہی ہے جو منجانب اللہ ہے نہ ان کے تراشیدہ خیالات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے مشائخ و علماء نے پیدا کئے ہیں ‘ آپ ہرگز ان کی خواہشوں پر نہ چلیں۔ آپ سے یہود درخواستیں کیا کرتے تھے کہ اگر فلاں امر میں ہمارا کہنا مان لیں تو ہمارا آپ کا اختلاف جاتا رہے۔ کبھی تحویل قبلہ کی درخواست ہوتی تھی، کبھی جانوروں کی حلت و حرمت میں اتفاق چاہتے تھے، کبھی اور احکام میں تبدل و تغیر کی درخواست کرتے تھے چونکہ آنحضرت ﷺ کو گمراہوں کی ہدایت پر آنے کی از حد حرص تھی ممکن تھا کہ آپ مصلحت وقت کا لحاظ کرکے جزئیات احکام میں ان کا کہا مان لیتے کہ وہ اصول مذہب میں آپ کی پیروی کرتے مگر اس بات سے بھی خدا تعالیٰ نے بہت مؤکد پیرایہ میں آپ کو منع کردیا کہ آپ ہرگز ایسا نہ کریں کیونکہ آپ کے پاس علم آچکا ‘ حقائق الامور منکشف ہوگئے۔ اگر ایسا کرو گے تو تم پر سے سایہ فضلِ الٰہی اٹھ جائے گا۔ وہی زہر تم میں بھی سرایت کر جائے گا پھر تمہارے لیے جو ولایت اور حمایتِ الٰہی غیب سے مقرر ہوچکی ہے باقی نہ رہے گی۔ حقیقت میں بدبخت قوموں میں اختلاط اور ان کی رسوم میں شرکت زوال برکات اور حمایتِ الٰہی کا سبب ہوتی ہے، اسی لیے سیدنا عمر ؓ نے جب کہ لشکر اسلام ممالک عجم پر غالب آیا ایک نامہ لکھا جس میں مفتوح قوموں سے اختلاط کرنے اور اپنے عربی خواص چھوڑنے سے سخت ممانعت کی۔ جب تک مسلمانوں میں یہ بات رہی فتح و نصرت ‘ ہیبت و شوکت ‘ اقبال و دولت بھی ان کے قدموں کے ساتھ لگی رہی اور جب سے یہ بات باقی نہ رہی ان کا اقبال بلکہ مذہب بھی مدبر قوموں کے ساتھ پامال ہوگیا۔ اس کے بعد اہل کتاب کی طرف روئے سخن متوجہ کرکے فرمایا جاتا ہے کہ یہ جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے اور تفاخر کرتے ہیں یعنی موجودہ یہود ونصاریٰ وہ کیا اہل کتاب ہیں ان کا اپنی کتاب پر ایمان ہے نہ اس کو پڑھتے ہیں ‘ پس پشت ڈال رکھا ہے اگر اپنی کتاب کو پڑھتے ہوتے اور اس پر ایمان رکھتے تو نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے اور ان کی ہدایت قبول کرتے جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور نجاشی وغیرہا ؓ با انصاف یہود و نصاریٰ نے کیا کیونکہ ان کی کتابوں میں بہت سی بشارات نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی بابت موجود ہیں گویا یہ اہل کتاب نہیں اگر ہوتے تو اس کا جو حق تلاوت ہے اس طرح پڑھتے معانی میں غور کرتے ‘ اس پر عمل کرتے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یتلونہ و من یکفربہ کی ضمیریں الکتاب کی طرف پھرتی ہے جس سے مراد قرآن مجید ہے۔ اب آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جن کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے یعنی مومن وہی اس کو خوب پڑھتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں یہ سعادت انہی کو نصیب ہے اور جو اس کے منکر ہیں جیسا کہ یہود و نصاریٰ وہ زیاں کار دنیا و آخرت میں بےنصیب ہیں۔ گویا اہل کتاب کے خطاب کے مسلمان مستحق ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ الکتاب سے مراد توریت وغیرہا ہی ہیں مگر یؤمنون بہ کی ضمیر بطور صفت است خدام قرآن کی طرف پھرتی ہے کیونکہ اس پر بھی شروع الم میں کتاب کا اطلاق ہوا ہے یعنی اصلی اور سچے اہل کتاب قرآن پر ایمان لاتے ہیں اس کے مطالب علیہ کو موافق پا کر مگر بدبخت نام کے اہل کتاب رہبان اور قسیسوں کے بندے وہ منکر ہیں اس لیے زیاں کار ہیں واللہ اعلم بمرادہ۔
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو تو یاد کرو کہ جو میں نے تم کو دی تھی اور یہ بھی کہ میں نے تم کو جہان پر فضیلت دی تھی

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو کہ جس دن کوئی بھی کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس کی طرف سے بدلہ قبول ہوگا نہ سفارش فائدہ دے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

ترکیب : یا حرف ندا بنی مضاف اصل میں بنین ابن بمعنی پسر تھان اضافت سے ساقط ہوگیا اسرائیل مضاف الیہ مجموعہ منادی اذکروا فعل امر حاضر معروف ضمیر انتم فاعل نعمتی موصوف التی موصول انعمت علیکم جملہ صلہ عائد محذوف مجموعہ معطوف علیہ و انی فضلتکم علی العلمین جملہ معطوف پھر سب مل کر مفعول ہوا اذکروا کا۔ اذکروا اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ واتقوا الخ اس کی ترکیب بیان ہوچکی وہاں دیکھ لو۔ تفسیر : اس سورة میں خدا تعالیٰ نے جب بنی اسرائیل سے کلام شروع کیا تھا تو وہاں بھی یہی فرمایا تھا کہ یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی الآیہ اور پھر جب ان کی نصیحت اور ان کے مکائد پر فضیحت سے فراغت پائی تو پھر کلام کو تمام کرتے وقت بھی یہی فرمایا کہ اے بنی اسرائیل تم احسانات کو یاد کرو کہ میں نے تمہارے ساتھ مختلف اوقات اور مختلف مقامات میں کیا کیا احسان کئے یہاں تک کہ تمہارے خاندان کو ایک وقت میں دنیا کے تمام خاندانوں سے افضل اور اشرف کردیا تھا اور تم نے پھر جس قدر نافرمانیاں کیں ان کے برے نتائج دنیا میں بھگتے۔ اب اگر تم اپنی نافرمانی اور سرکشی سے باز نہیں آتے تو یہ بھی یاد رہے کہ میں جس طرح کریم و رحیم غصہ کا دھیما ہوں اسی طرح قہار و جبار بھی ہوں پھر تم روز قیامت سے ڈرتے رہو کہ جہاں نہ کسی کی سفارش کام آتی ہے نہ کچھ معاوضہ لیا جاتا ہے نہ کوئی مددگار مدد کرکے چھڑا سکتا ہے۔ یہ کمال بلاغت ہے کہ اول میں مورد نزاع کو قائم کرکے اس پر بہت کچھ دلائل لائے جائیں اور پھر نتیجہ میں وہی دعویٰ ذکر کیا جائے اور نیز نصیحت قبول کرانے کے حق میں یہ بات (کہ منافع اور رحمت سے امید دلائی جائے اور پھر انجام کا خوف بھی دلایا جاوے) اکسیر کا اثر رکھتی ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کسی قدر حالات بیان فرماتا ہے کہ جن کی نسل سے ہونے پر یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کو بڑا ناز تھا کہ خود ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کی کیفیت معلوم ہوجاوے اور انہی کے بیان سے نبی آخر الزمان کا برحق ہونا ثابت ہوجاوے اور خود ان کا ابراہیم (علیہ السلام) کے عہدئہ نبوت سے محروم ہونا معلوم ہوجاوے
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جبکہ ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے ان کو پورا کردیا خدا نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا پیشوا کیا چاہتے ہیں۔ وہ بولے اور میری اولاد میں سے بھی (خدا نے) فرمایا میرا اقرار ظالموں تک نہیں پہنچتا۔

ترکیب : واذا محل نصب میں ہے اذکر محذوف سے ابتلی فعل ابراھیم مفعول ربہ فاعل بکلمٰۃ متعلق ہے ابتلی کے فاتم فعل ضمیر ہوراجع ابراہیم کی طرف فاعل ھن مفعول راجع کلمات کی طرف قال فعل ضمیر ہوراجع رب کی طرف فاعل انی الخ جملہ مقولہ انی میں ی اسم ان جاعلک الخ جملہ خبرک مفعول اول جاعل کا اماما مفعول ثانی للناس متعلق جاعل کے یہ تمام جملہ ابتلی کا بیان ہے یا جملہ مستانفہ ہے ومن ذریتی اس کا عطف کاف ہے ای و بعض ذریتی کما تقول و زیدا فی جواب ساکر مک ای واجعل فریقامن ذریتی اماما لاینال فعل عہدی فاعل الظلمین مفعول سب جملہ مقولہ ہوا قال کا جو جواب ہے سوال ابراہیم کا۔ تفسیر : مکہ بلکہ عرب کے لوگ اور یہود و نصاریٰ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے (بلکہ اب بھی مانتے ہیں) اور ہر فریق کو اس بات پر بڑا غرہ تھا کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل ہیں اور ان کے طریقے کے پیرو خدا نے ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے برکت کا وعدہ کرلیا ہے۔ سو وہ ہم کو ہر حال میں کافی ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کے طریق پر نہیں وہ ہمارا نہایت فرمانبردار بندہ تھا، ہم نے اس کو کئی باتوں میں آزمایا وہ سچے نکلے۔ بیٹے کی قربانی کا حکم دیا وہ ہمہ تن آمادہ ہوگئے اور ستارہ پرستوں کی محبت اور برادری بلکہ وطن چھوڑنے کو کہا انہوں نے ویسا ہی کیا۔ سب کو چھوڑ کر ملک شام میں آرہے۔ ریگستان عرب میں خدا کے لیے عبادت خانہ بنانے اور اس کی محافظت کے لیے اپنی اولاد بسانے کو کہا اس نے اپنے پیارے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو وہاں بسایا اور خانہ کعبہ بنایا۔ نمرود نے آگ میں ڈالا، ایمان پر قائم رہ کر اس میں گرنا منظور کیا۔ یہ تھیں وہ باتیں کہ جن میں خدا نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش کی تھی۔ حسن کہتے ہیں کہ وہ باتیں توحید پر قائم رہنا، نماز و زکوٰۃ، طہارت ظاہریہ و باطنیہ ختنہ وغیرہا دس باتیں تھیں اس کے صلہ میں ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو تمام عالم کا پیشوا یعنی نبی بنانا چاہتے ہیں، اس نے کہا کہ الٰہی میری اولاد میں سے بھی انبیاء اور بابرکت لوگ پیدا کیجیو تاکہ تیری خدمت گزاری اور فرمانبرداری ہمیشہ میرے خاندان میں رہے ہم نے کہا البتہ ایک گروہ تیری اولاد میں سے ایسا ہوگا جو بدکار ہوں گے ان کے لیے میرا اقرار نہیں۔ ان کو یہ برکت نصیب نہ ہوگی۔ پس اے بنی اسرائیل اور اے عرب کے مشرکو تم کو لازم ہے کہ اپنے مسلّم الثبوت بزرگ کی پیروی کرو ‘ خدا کی اور اس کے نبی آخر الزماں کی اطاعت بجا لائو جس کے لیے خود ابراہیم نے دعا کی۔ و من ذریتی اگر تم دل سے دین ابراہیمی کے مطیع ہو تو تم کو لازم ہے کہ اس نبی ابراہیم کا اتباع کرو اور اے اہل کتاب تم اس بات کا خیال نہ کرو کہ نبی ہمارے خاندان سے کیوں نہیں۔ کس لیے کہ ابراہیم نے صرف اپنے بیٹے اسحاق ہی کے خاندان کے لیے برکت نہ چاہی تھی بلکہ اسماعیل کے لیے بھی۔ چناچہ سفر پیدائش کے سترہویں باب میں ہے اور اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی، دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا اگر تم اطاعت نہ کرو گے تو تم کو ابراہیم کی برکت سے کچھ حصہ نہ ملے گا۔ فوائد : (1) بکلمات کی تفسیر میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ قوی وہی ہے جو ہم نے بیان کیا مگر کلمات سے عجائبِ صنع باری اس جگہ مراد لینا خلاف عقل و نقل ہے۔ (2) امام کے معنی پیشوا کے ہیں جس کا فرد کامل نبی ہے اور خلیفہ اور قاضی اور جماعت کے امام پر بھی صادق آتا ہے مگر مراد نبی ہے تورات سفر پیدائش کے بارہویں باب میں بھی اس کا ذکر ہے اور خداوند تعالیٰ نے ابراہام کو کہا تھا کہ تو اپنے ملک اور اپنے قرابتیوں کے درمیان سے اور اپنے باپ کے گھر سے اس ملک میں جو میں تجھے دکھائوں گا نکل چل اور میں تجھے ایک بڑی قوم بنائوں گا اور تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کروں گا اور تو ایک بابرکت ہوگا اور ان کو جو تجھے برکت دیتے ہیں برکت دوں گا اور اس کو جو تجھ پر لعنت کرتے ہیں لعنتی کروں گا اور دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پاویں گے۔ بلاشک یہود اور عیسائی اور مسلمان اور مجوس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیشوا جانتے ہیں۔ (3) ذریت بمعنی نسل بوزن فیّعلہ ذرء بمعنی خلق سے مشتق ہے اور ممکن ہے کہ ذرء بمعنی تفریق سے مشتق ہو کیونکہ انسان کی نسل مخلوق اور پھیلتی بھی ہے۔ (4) لاینال عہدی الظلمین سے انبیاء (علیہم السلام) کا فسق و فجور سے بری ہونا ثابت ہوتا ہے۔ دو وجہ سے ‘ وجہ اول یہ کہ عہد سے مراد امامت ہے اور ہر نبی امام ہے اور امام فاسق نہیں ہوتا جیسا کہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ پس نبی بھی فاسق نہیں ہوگا۔ وجہ دوم اگر عہد سے مراد نبوت ہو تو کوئی ظالم یا فاسق نبی نہ ہونا چاہیے اور اگر امامت ہے تو ہر نبی امام ہے اور امامت فاسق کو پہنچتی نہیں۔ رہی یہ بات کہ فاسق کیوں ظالم ہے۔ سو اس کا ثبوت یہ ہے کہ ظلم وضع شی فی غیر محلہ یعنی بیجا کرنا ‘ سو وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے کہ جو گناہوں کی وجہ سے اس کو سعادت اخرویہ سے محروم رکھتا ہے اس بیجا حرکت سے وہ ظالم ہے۔ خلاصہ یہ کہ کچھ حقوق العباد ہی میں تعدی کرنے کا نام ظلم نہیں بلکہ حقوق الٰہی میں تعدی کرنا بھی ظلم ہے اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ نہیں تو پھر انبیاء (علیہم السلام) نے کیوں اپنے آپ کو ظالم کہا جیسا کہ یونس (علیہ السلام) نے کہا انی کنت من الظلمین اور حضرت آدم (علیہ السلام) کہتے ہیں ربنا ظلمنا انفسنا اس کا جواب یہ ہے کہ اس ظلم سے مراد معصیت ہے کہ جو منافی عصمت انبیاء ہے اور کبھی اچھے لوگ ذرا سی لغزش اور بھول چوک کو بھی عاجزی اور استغفار کے موقع میں ظلم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مقام پر انبیاء اس ذلت کو ظلم کہہ رہے ہیں یہ وہ ظلم نہیں کہ جو منافی عصمت ہو۔ شیعہ اس آیت سے حضرت ابوبکر ‘ و عمر ‘ و عثمان ؓ کی امامت یا خلافت کا ابطال اس طرح پر کیا کرتے ہیں کہ بقول اہل سنت بھی یہ لوگ معصوم نہ تھے پس فاسق ہوئے اور فاسق کے لیے امامت پہنچتی نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عصمت شرط ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ فاسق یا ظالم ہو صدہا مومن صالح ہیں کہ جو فاسق اور ظالم نہیں حالانکہ ان کے معصوم ہونے کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اسی طرح یہ بزرگوار تھے اور جن روایتوں میں ان کی نسبت معصیت مذکور ہے وہ سب غلط اور متعصب لوگوں کی بندش ہیں ایسے بےبنیاد شبہ پر شیعہ نے حضرت امام حسین ؓ کی اولاد میں سے بعض لوگوں کو معصوم مان کر نبوت بلکہ خدائی کے درجہ پر پہنچا دیا ہے جس پر محققین شیعہ سخت تاسف کرتے ہیں۔