Ayahs 2:183–184ترکیب : یا حرف ندا الذین آمنوا صلہ و موصول منادی کتب فعل مجہول الصیام مفعول مالم یسم فاعلہ کما موضع نصب میں ہے صفت ہے کتب کی ای کتبنا کما کتب ایاما موصوف۔ معدودات صفت یا یہ منصوب ہے صوموا مقدر سے یا الصیام سے فمن شرطیہ کان کا اسم ضمیر ہے جو من کی طرف پھرتی ہے اور مریضا اس کی خبر معطوف علیہ او علی سفر معطوف موضع نصب میں اے او مسافرا فعدۃ مبتداء والخبر محذوف ای علیہ من ایام اخر صفت ہے عدۃ کی۔ پس یہ مجموعہ جو اب شرط ہے علی الذین یطیقونہ جملہ خبر فدیۃ مبدل منہ طعام مسکین بدل مجموعہ مبتداء جملہ معطوف برجملہ سابقہ۔
تفسیر : قصاص اور وصیت حیات دنیاوی کا سبب تھا اور کلام الٰہی میں جس طرح حیات دنیا کی اصلاح فرمائی گئی اسی طرح حیات ابدی کی بھی ضرور رعایت ہونی چاہیے۔ اس لیے یہاں اس چیز کا حکم دیا کہ جو حیات ابدی کا عمدہ ذریعہ ہے یعنی روزہ کس لیے کہ انسان جب صبح سے شام تک نفس کے تینوں خواہشوں کھانے ‘ پینے ‘ جماع سے رکے گا اور اسی کو صوم شرعی کہتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ اپنے دل کو ذکر الٰہی ٗ تلاوت اور نماز اور مراقبہ اور اعتکاف میں لگا دے گا تو بیشک اس کی روح کو قوت ہوگی اور اس جسم کو چھوڑنے کے بعد یہی حیات ابدی اور عالم قدس میں زندہ رہنے کا سبب ہوگا اور نیز احکام مذکورہ بالا کی تعمیل جسمانی خواہشوں کے خلاف ہے اور جب تک انسان اپنی نفسانی خواہشوں سے مقابلہ کرنے کا خوگر نہیں ہوتا تو اصول حسنات اور صبر پر بھی قادر نہیں ہوتا بلکہ دنیاوی ترقی کے لیے بھی مصائب برداشت نہیں کرسکتا اس لیے روزہ کا حکم دیا تاکہ روح قوی ہوجائے جسم کی خواہش اور تیزی توڑنے کے لیے آسمانی ہدایت میں قدیم سے ریاضت کا حکم ہے۔ اسی لیے فرماتا ہے کہ اے مسلمانو ! تم پر روزے فرض ہوئے جس طرح کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تم نفس کشی کے عادی ہو کر متقی ہوجائو اور یہ روزہ تم پر ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ چند روز اور اس پر بھی تمہارے لیے یہ آسانی ہے کہ اگر کوئی بیمار یا مسافر ہو اور روزہ کی طاقت نہ رکھے تو اس کے بدلہ میں اور دنوں میں گن کر روزہ رکھ لے اور اس پر بھی تمہارے لیے یہ رخصت ہے کہ جو لوگ تم میں سے بڑی مشقت کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہوں جیسا کہ بڈھا تو وہ ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کا کھانا کہ جو اس کو دو وقت کافی ہو دیوے اور جو اپنی طرف سے زیادہ دو بہتر ہے اور جو تکلیف اٹھا کر بھی روزہ رکھ لو تو بہتر ہے۔
فوائد : (1) کتب علیکم الصیام سے کیا مراد ہے ؟ رمضان کے روزے یا اور روزے۔ معاذ اور قتادہ اور عطا وغیرہم علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ اس سے مراد علاوہ رمضان کے اور روزے ہیں جو رمضان کی فرضیت سے پیشتر فرض تھے۔ پھر رمضان فرض ہونے سے جیسا کہ آیت آیندہ میں ہے ٗ ان کی فرضیت جاتی رہی اور وہ ہر مہینے میں تین روزے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان میں محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ بھی تھا اور دلیل ان کی یہ ہے کہ اس آیت میں جس کو طاقت روزہ رکھنے کی ہے اس کو فدیہ دینے کی رخصت ہے۔ حالانکہ رمضان کے روزوں کی نسبت یہ حکم نہیں کہ فدیہ دے کر روزہ نہ رکھے اور نیز اس آیت میں مسافر اور مریض کا حکم ہے اور اس سے پچھلی آیت میں بھی کہ جس میں رمضان کے روزے میں مسافر اور مریض کا حکم مذکور ہے، پس اگر یہاں صیام سے مراد رمضان ہو تو بےفائدہ عبارت مکرر ہوجاوے جمہور محققین کہ جن میں ابن عباس بھی ہیں ٗ یہ کہتے ہیں کہ اس جگہ صیام سے مراد رمضان ہی کے روزے ہیں مگر اولا خدا تعالیٰ نے کتب علیکم الصیام فرمایا ٗ پھر اس کے بعد ایاماً معدودات اس کی تشریح کی پھر اگلی آیت شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن میں تو خوب تعین کردی جس طرح کہ اس نے اولاً کما کتب علی الذین من قبلکم کہہ کر اطمینان دلا دیا تھا کہ یہ سلف صالحین کا قدیم دستور ہے۔ ایاماً معدودات کہہ کر یہ تسلی کردی کہ ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ چند روز کے لیے پھر مسافر اور مریض کو رخصت دی اور جس سے نہایت مشقت سے ادا ہوتے ہوں ٗ اس کو فدیہ کی اجازت دے دی اور ان کی دلیل کا یہ جواب ہے کہ یطیقونہ کے یہ معنی ہیں کہ بہ تکلف و بمشقت روزہ رکھ سکتے ہوں۔ چناچہ عکرمہ اور ایوب اور عطا کی قرأت میں یطوقونہ آیا ہے۔ اے یحشمونہ یعنی یکلفونہ اور یہ اس لیے کہ وسعت طاقت کے اوپر ایک اور شے ہے۔ اس صورت میں اب بھی رمضان کے روزوں کی نسبت اس شخص کے لیے کہ جو مشقت سے روزہ رکھ سکے ٗ یہی حکم ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے میں فدیہ دیوے۔ یہ شیخ فانی کے لیے ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی جب روزہ رکھنے میں عاجز ہو وے تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی اور حاملہ کے لیے فدیہ دینے کا حکم اس لیے نہیں کہ یہ پھر قضا کے روزے رکھ سکتے ہیں۔ بخلاف شیخ فانی کے یہ فدیہ کا حکم خاص اسی کے لیے ہے۔ پس آیت یطیقونہ کو آیت ومن شہد منکم الشہر فلیصمہ سے منسوخ قرار دینا بےفائدہ ہے اور اسی طرح لامقدر ماننا اور ہمزہ کو سلب کے لیے کہنا بھی لاحاصل ہے۔
دوسرا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الذین یطیقونہ سے مراد مسافر اور بیمار ہیں اور ان کی دو حالت ہیں۔ ایک یہ کہ روزے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس کا حکم تو خدا نے فعدۃ من ایام اخر میں ظاہر کردیا کہ اور دنوں میں روزہ رمضان کی قضا ادا کرلیں۔ دوسری حالت طاقت کی ہے ٗ سو اس میں ان کے لیے یہ حکم ہے فدیۃ طعام مسکین کہ فدیہ دے کر چاہیں روزہ نہ رکھیں یعنی دونوں باتوں میں اختیار ہے (کبیر) تیسرا ایک اور بھی جواب ہے کہ رمضان میں ابتدائِ اسلام میں مقیم صحیح کو بھی کہ جو روزے کی طاقت رکھتے تھے ٗاختیار تھا خواہ روزہ رکھیں خواہ فدیہ دے دیں۔ مگر اگلی آیت سے یہ حکم منسوخ ہوگیا اور مکرر ہونے کا یہ جواب ہے ابتداء میں چونکہ تندرست مقیم کے لیے فدیہ اور روزے کا اختیار تھا اور مسافر اور مریض کے لیے افطار کی رخصت تھی تو یہاں سے یہ خیال ہوسکتا تھا کہ مسافر و مریض پر قضا اور فدیہ نہیں کیونکہ یہ مشقت میں ہیں۔ اس لیے خدا نے مسافر اور مریض کا حال بھی بیان فرما دیا کہ ان پر قضا واجب ہے۔
(2) کما کتب علی الذین من قبلکم میں تشبیہ نہ عدد میں ہے نہ وقت میں بلکہ صرف ایجاب میں یعنی جس طرح تم پر روزے واجب ہوئے اسی طرح تم سے پہلے لوگوں پر بھی واجب ہوئے تھے نہ یہ کہ جس طرح تم پر تیس روزے رمضان کے واجب ہوئے ان پر بھی تیس رمضان کے واجب تھے اور من قبلکم سے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل کتاب کے ہاں بھی روزے واجب تھے۔ چناچہ تورات کی تیسری کتاب کے 6 باب درس 29 اور باب 23 درس 27 و 29 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں پر ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو کفارہ کا روزہ رکھنا واجب تھا کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ جو کوئی اس روز روزہ نہ رکھے گا اپنی قوم سے منقطع ہوجاوے گا اور اعمال حواریان کے 2 باب درس 9 سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی بھی یہ روزے رکھا کرتے تھے۔ علاوہ اس کے چالیس روز تک کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روزے رکھے جیسا کہ کتاب خروج کے 34 باب سے معلوم ہوتا ہے اور کتاب دانیال کے باب دس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دانیال نے تین ہفتے کے روزے رکھے اور اول کتاب السلاطین کے 19 باب 8 درس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت الیاس (علیہ السلام) کوہ حوریب کو گئے تھے تو انہوں نے چالیس دن رات روزے رکھے۔
اور انجیل متی کے 4 باب اور انجیل لوقا کے 4 باب درس 13 سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی جبکہ وہ بیابان میں تھے ٗ چالیس دن رات کے روزے رکھے تھے۔ علاوہ اس کے بائبل کے مختلف مقامات سے اور بھی روزے رکھنا اہل کتاب کا ثابت ہے اور اسی لیے اب بھی یہود اور متدین نصاریٰ میں روزہ رکھنے کا دستور ہے۔
ہاں اب جو یورپ کا الحاد جوش زن ہے البتہ اس کی وجہ سے رسم روزہ و نماز عیسائیوں میں سے اٹھ گئی اور یوماً فیوماً اٹھتی جاتی ہے بلکہ ان کی تقلید میں نیچر مفسر بھی اپنی کتاب کے صفحہ 231 میں روزے کی نہایت اہانت کر رہے ہیں جس کا ایک فقرہ یہ ہے عرب کے لوگ یہودیوں اور عیسائیوں کو دیکھتے تھے کہ خدا کے خوش کرنے کے خیال سے اور اپنے پیغمبر کی پیروی کی نظر سے روزہ رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس رسم کو جاری رکھنے کی اجازت دی انتہٰی ملخصاً اور اس سے پیشتر اس صفحہ میں روزے کو بدنی ریاضت کہہ آئے ہیں اور جملہ بدنی ریاضتوں کی نسبت صفحہ 230 میں یہ کہتے ہیں قولہ غرض کہ تمام جسمانی ریاضتوں کا اسی غلط خیال پر رواج ہوا ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی آسائش سے بسر کرنی خدا کو پسند نہیں اور یہ ایک عجیب خیال تھا انتہٰی ملخصاً ۔
(3) فمن کان منکم مریضاً او علی سفر فعدۃ من ایام اخر جس مرض سے روزہ کا افطار کرنا درست ہے جمہور محققین کے نزدیک وہ ہے کہ جس میں روزہ رکھنے سے ضرر جان یا زیادتی مرض متصور ہو نہ ہر مرض کیونکہ اس مقام پر جو لفظ مریض بولا گیا ہے تو اہل زبان اپنے قرائن سے اس سے وہی مرض سمجھتے ہیں کہ جس کا ہم نے ذکر کیا۔ نہ عام مرض۔ سفر کے معنی لغت میں کشف کے ہیں یعنی کھل جانا اور چونکہ سفر سے لوگوں اور ملکوں اور زمین کا حال کھلتا ہے اس لیے اس کو سفر کہتے ہیں اور سفیر چونکہ دو شخصوں کی پیچیدگی کھول دیتا ہے اس لیے بھی اس کو سفیر کہتے ہیں اور اسی لیے بولتے ہیں اسفر الصبح اور کتاب چونکہ معانی کھول دیتی ہے اس لیے اس کو سفر کہتے ہیں اور اسی لیے کہتے ہیں اسفار صبح کی روشنی میں آنا۔
مگر شرع میں اس جگہ سفر سے مراد اقل مرتبہ تین منزل کا سفر ہے کس لیے کہ نبی ﷺ نے مسح کے بارے میں فرمایا ہے کہ مقیم ایک رات دن مسح کرے اور مسافر تین رات دن اس سے معلوم ہوا کہ سفر اقل مرتبہ تین رات دن کے فاصلہ سے ہوتا ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے سفر کو علت مسح قرار دیا اور مسح کو معلول بنایا اور معلول علت سے زیادہ نہیں ہوتا۔
امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ سولہ فرسخ کا فاصلہ ضرور ہے اور ہر فرسخ تین میل کا اور ہر میل بارہ ہزار قدم کا ہے کیونکہ ہاشم جدّ رسول اللہ ﷺ نے جب جنگل ناپا تو میل کو بارہ ہزار قدم قرار دیا اور امام مالک و احمد و اسحاق کا بھی یہی مذہب ہے۔
مگر دائود ظاہری نے مطلق سفر مراد رکھا ہے اور اس کی تقلید سے قاضی شوکانی نے در ربہیّہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ پس ان کے مذہب میں تو کوس کیا آدھے کوس تک جانے میں بھی روزہ نہ رکھے اور یہ بالکل غلط ہے۔
Ayah 2:1852 ؎ بعض کہتے ہیں انزل فیہ القرآن سے مراد یہ نہیں ہے کہ رمضان میں قرآن اترا بلکہ رمضان کی شان میں قرآن اترنا مراد ہے جیسا کہ کہتے ہیں انزل فی و علی و انزل فی عمر۔ 12 منہ
ترکیب : شہر رمضان مبتداء انزل فیہ القران خبر اور ممکن ہے کہ فمن شہد جملہ شرطیہ اس کی خبر اور ممکن ہے کہ شہر رمضان مبتداء محذوف کی خبر ہوھی شہر رمضان یعنی الایام المعدودات اور بعض نے شہر کو بالنصب پڑھا ہے بدل بنایا ہے ایام معدودات سے ھدی حال ہے۔ قرآن سے اور بعض نے کہا ہے کہ مفعول لہ انزل کا وبینت ای آیات و اضحات معطوف ہے ہدیٰ پر اور والفرقان معطوف ہے الہدیٰ پر ای حال کو نہ ہاد یا للناس وحال کو نہ بینات من الہدایۃ والفرقان اے مما یفرق بین الحق والباطل فمن شرطیہ مبتداء اور اس کے بعد اس کی خبر منکم حال ہے ضمیر فاعل سے اور مفعول شہد کا محذوف ہے اے شہد المصر اور الشہر ظرف ہے فلیصمہ جواب شرط والتکملوا معطوف ہے الیسر پر اور لام زائدہ ہے۔
تفسیر : یہ آیت پہلی آیت کا تتمہ ہے۔ اول فرمایا تھا تم پر چند روز کے روزے فرض ہوئے۔ اب اس آیت میں ان چند روزوں کی تشریح کردی کہ وہ چند دن کہ جن میں تم پر روزے فرض ہوئے رمضان کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے کہ جو لوگوں
کے لیے ہدایت ہے اور حق و باطل میں تمیز کرنے کے بارے میں کھلی نشانی بھی ہے۔ پس جو اس مہینے کو پاوے تو چاہیے کہ روزہ رکھے اور جو مسافر اور بیمار ہو تو اور دنوں میں اتنے ہی رکھ لے۔ اس سے خدا نے تمہارے لیے آسانی کردی اور نیز تعداد رمضان کی بھی پوری ہوجاتی ہے اور اس لیے کہ تم خدا کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے ہم کو ہدایت کی اور ہمیشہ اس کی شکرگزاری کرتے رہو۔ انزل فیہ القرآن اس میں کوئی بھی شبہ نہیں کہ انوارِ الٰہی ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں مگر علائقِ بشریہ ان کو ارواح بشریہ پر ظاہر ہونے میں حجاب ہوجاتے ہیں اور ان علائقِ بشریہ کے دور کرنے میں روزہ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور نزول قرآن بھی انوارِ الٰہی کا کامل ظہور ہے۔ سو اس لیے اس کا نزول ماہ رمضان میں قرار پایا اور یہی حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جبکہ کوہ طور پر ان کو تورات ملی اور خدا نے ان سے کلام کیا تو اول ان سے چالیس روزے رکھوائے اور اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بیابان میں چالیس روزے رکھے۔ غالباً ان کو اسی وقت انجیل عطا ہوئی ہو اور آنحضرت ﷺ نے بھی غار حرا میں روزے رکھے ان پر وہاں قرآن نازل ہوا۔ رمضان کے مہینہ میں شب قدر میں جو تجلی الٰہی کا وقت ہے قرآن مجید تمام و کمال لوح محفوظ سے نقل ہو کر آسمان دنیا میں بیت المعمور ایک جگہ ہے وہاں نازل ہوا اور پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا دنیا میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا کیا۔ پس اب اس آیت میں اور اس میں انا انزلناہ فی لیلۃ القدر وانا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ 1 ؎ کچھ بھی تعارض نہ رہا۔
1 ؎ کس لیے لیلۃ مبارکہ میں رمضان ہی میں تھی اور نہ اس قول مشہور میں کہ قرآن شوال کے مہینے میں نازل ہونا شروع ہوا اور نہ اس آیت میں کچھ تعارض باقی رہا۔
Ayah 2:186ترکیب : واذا سالک فعل عبادی فاعل ک مفعول عنی متعلق ہے فعل سے یہ تمام جملہ شرط فانی قریب ای قفل لہم انی قریب جواب شرط اجیب خبر ثانی۔
تفسیر : پہلی آیت میں تکبیر اور یاد الٰہی اور اس کی شکر گزاری کا حکم تھا جس سے احتمال تھا کہ ہم تو اس کو یاد اور اس کی شکر گذاری کرتے ہیں۔ آیا وہ بھی ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے یا کہ دنیا کے امراء اور شہنشاہوں کی طرح وہاں تک رسائی اور کسی کی شنوائی ہی نہیں ہوتی !
قطعہ :
روئے بر خاک عجزمے مالم
ہر سحر گہ کہ بادمے آید
ایکہ ہرگز فرامشت نکنم
ہیچت از بندہ یادمے آید
اس آیت میں اس شبہ کو زائل کردیا کہ جب میرے بندے اے نبی میرا حال آپ سے پوچھیں تو کہہ دو کہ میں تو ان سے بہت ہی قریب ہوں جو کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ جو مجھ سے دعا کرتا ہے قبول کرتا ہوں۔ پس میرے بندوں کو بھی لازم ہے کہ میری اطاعت کریں اور گو میں ان کی نظر سے غائب ہوں لیکن وہ مجھ پر ایمان لاویں تاکہ مجھ تک پہنچنے کا رستہ پاویں۔
اس آیت کے شان نزول مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ایک بدوی نے آکر آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ ہمارا رب قریب ہو تو ہم اس سے آہستہ مناجات کریں اور اگر بعید ہو تو پکاریں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ
کسی جہاد میں تشریف لے گئے تھے۔ صحابہ نے بلند آواز سے تکبیر و تہلیل پکارنی شروع کی۔ آپ نے فرمایا ٗ تمہارا رب بہرا اور دور نہیں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ خدا تعالیٰ کا قرب اپنے بندوں سے قرب جسمانی نہیں کیونکہ وہ جسم سے پاک ہے۔ علاوہ اس کے جسمانی چیز سب سے مساوی درجہ پر قریب نہیں ہوتی۔ بلکہ ان دو شخصوں میں سے ( جو فاصلہ پر ہیں) جس سے جس قدر قریب ہوگی دوسرے سے اتنی ہی دور ہوگی بلکہ یہ قرب علاوہ اس کے اور قرب ہے کہ جس کو کہیں 1 ؎ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلِیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ اور کہیں ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَاء کُنْتُمْ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کو اہل ظاہر قرب علمی کہتے ہیں ٗ وہ ہم سے شہ رگ تو کیا ہماری ذات اور ہمارے وجود سے بھی تو زیادہ قریب ہے مگر اس حجاب جسمانی کی وجہ سے وہ ہم کو دکھائی نہیں دیتا۔
اجیب دعوۃ الداع کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں۔ کبھی جو دعا کا اثر ظاہر نہیں ہوتا تو اس میں کوئی حکمت الٰہی ہوتی ہے۔ ملحدانہ خیال کے لوگ دعا اور اس کے اثر کے منکر ہیں جس سے تمرُّد پایا جاتا ہے۔ بندہ کو لازم ہے کہ ہر حاجت میں اسی کی طرف رجوع کرے۔ دعا کے فضائل بیشمار ہیں۔
1 ؎ اور ہم شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔
Ayah 2:187ترکیب : احل فعل مجہول الرفث الخ مفعول مالم یسم فاعلہ لیلۃ الصیام ظرف ہے الرفث کا اور بعض کہتے ہیں احل کا۔ وفیہ نظر چونکہ رفث میں افضی کے معنی ملحوظ ہیں اس لیے اس کے صلہ میں الی ایاب نہیں آئی۔ علم فعل اللہ فاعل انکم الخ جملہ مفعول باشروا امر ضمیر انتم اس کا فاعل ھن
مفعول اور پھر وابتغوا اور کلوا واشربوا جملہ اس پر معطوف الآن ان سب کا ظرف من الفجر الخیط کا بیان ہے۔ وانتم عاکفون الخ حال ہے لاتباشروھن سے۔
تفسیر : یہ آیت احکام صیام کا تتمہ ہے۔ اکثر مفسرین یہ کہتے ہیں کہ ابتدائِ اسلام میں روزہ دار کو افطار کے بعد جب تک کہ عشا نہ پڑھے اور نہ سوئے کھانا پینا جماع کرنا درست تھا اور جب وہ عشا پڑھ چکے یا افطار کرکے سو جاوے تو پھر اس کے لیے یہ چیزیں ممنوع ہوجاتی تھیں جس طرح کہ اب صبح صادق سے ممنوع ہوجاتی ہیں۔ چناچہ اس آیت کی شان نزول میں مروی ہے کہ ایک انصاری (کہ جس کے نام میں اختلاف ہے معاذ کہتے ہیں ابو صرمہ اور براء کہتے ہیں قیس بن صرمہ) دن کے کام سے ہارا تھکا شام کو گھر میں آیا۔ افطار کرکے کھانا مانگا۔ کھانے میں کچھ دیر تھی سو گیا پھر اس کو بیدار کیا تو اس نے اس لیے کہ بعد خواب کے کھانا منع تھا نہ کھایا اسی طرح روزہ پر روزہ رکھ لیا جس سے اگلے روز ضعف کے مارے اس کا حال تباہ ہوا۔ جناب رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی اور اس عرصہ میں حضرت عمر ؓ نے بھی عرض کیا کہ یا حضرت میں نے عشاء کے بعد اپنی بیوی سے صحبت کی۔ اسی طرح اور لوگوں نے بھی ایسے ایسے واقعات بیان کئے تب یہ آیت نازل ہوئی (تفسیر کبیر) اس آیت میں خدا نے وسعت دے کر صبح صادق تک کھانے پینے ٗ جماع کرنے کی اجازت دے دی۔ خواہ نماز عشاء پڑھ کر یا سو کر ان چیزوں کو استعمال میں لا وے۔ اس آیت میں خدا فرماتا ہے کہ روزہ کی شب میں تمہارے لیے اپنی بیویوں کے پاس جانا مباح ہے کس لیے کہ ان سے تم سے باہم نہایت رغبت طبعی ہے اور ہم کو اپنے علم ازلی سے یہ بات معلوم تھی کہ تم سے صبر نہ ہو سکے گا۔ پس ہم نے تم کو اجازت دے دی کہ تم ان سے صبح صادق تک مباشرت کرسکتے اور کھا پی سکتے ہو مگر جب اعتکاف کرنے کے لیے مسجدوں میں بیٹھو تب ان سے رات میں بھی مباشرت نہ کرو۔
رفث لغت میں فحش باتوں کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لارفث ولا فسوق فی الحج پھر اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو بوقت جماع کی جاتی ہیں اور یہاں جماع مراد ہے ھن لباس لکم عورت کو مرد کا اور مرد کو عورت کا لباس کہا۔ اس وجہ سے کہ یہ باہم اس طرح لپٹتے اور چمٹتے ہیں کہ جس طرح لباس بدن سے لپٹا ہوتا ہے یا اس وجہ سے کہ ایک دوسرے کو ناجائز باتوں کے روکنے میں لباس کی طرح ستر ہوجاتا ہے یا اس لیے کہ جس طرح لباس مخصوص ہوتا ہے اسی طرح ان میں خصوصیت ہوتی ہے یا اس لیے کہ لباس کی طرف انسان کو رغبت طبعی ہوتی ہے اور وہ باعث زیب وزینت ہوتا ہے۔ ایسا ہی معاملہ مرد عورت کا ہے۔ انکم کنتم تختانون خیانت سے مراد وہ افعال ہیں کہ جو اس آیت کے نازل ہونے سے پیشتر بعض صحابہ سے ظہور میں آئے کہ کسی نے رات کو جماع کیا ٗ کسی نے کھایا پیا۔ واتبعوا الخ سے بعض نے یہ مراد لی ہے کہ جماع سے غرض اولاد ہے۔ سو اس کو طلب کرو محض قضائے شہوت مقصود نہ رکھو۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ہے کہ جو چیز جماع میں تمہارے لیے جائز کی گئی وہ لو یعنی دبر سے جماع نہ کرو اور خاص بیوی یا لونڈی سے یہ نفع لو۔ معاذ بن حبل وابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسی فعل میں شب کو تیر نہ کرو بلکہ بقدر ضرورت فارغ ہو کر لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ والخیط 1 ؎ الابیض اور الخیط الاسود سے مراد رات اور صبح صادق صبح صادق سے پہلے سفید ستون سا آسمان کے کنارہ سے مشرق کی جانب نمودار ہوتا ہے۔ اس کے بعد سیاہی چھا جاتی ہے۔ اس کو صبح کاذب کہتے ہیں۔ اس وقت تک کھانا پینا سب درست ہے۔ اس کے بعد اسی سیاہی میں سے ایک سفید دھاری الٹ کر اوپر تک پھیل جاتی ہے یہاں تک کہ پھر آفتاب طلوع کر آتا ہے۔ اس سفید دھاری کو صبح صادق کہتے ہیں۔ پس
جب یہ دونوں دھاریاں باہم ممتاز ہوجائیں جب سے کھانا پینا ٗ جماع ممنوع ہے کیونکہ صبح صادق سے دن شمار ہوتا ہے اور یہ ممانعت بموجب اتموا الصیام الی اللیل غروب آفتاب تک ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب تک سرخی غائب نہ ہوجائے تب تک بعض کہتے ہیں ستاروں کے برآمد ہونے تک ممانعت ہے۔ جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں مگر جبکہ لیل عرف عرب میں غروب آفتاب سے گنی جاتی ہے اور نیز احادیث صحیحہ میں بھی بعد غروب کے متصلاً آنحضرت ﷺ کا افطار کرنا ثابت ہوگیا ہے تو پھر دیر کرنا تکلیفِ بےفائدہ ہے۔
ولاتبا شروھن وانتم عاکفون فی المساجد اعتکاف لغت میں کسی شے پر اپنے آپ کو مقید کرنا خواہ بھلی ہو یا بری بات۔ جیسا کہ یعکفون علی اصنام لہم میں وارد ہے لیکن شرع میں اعتکاف مسجد میں بہ نیت تقرب الٰہی بیٹھنے کا نام ہے، امام ابوحنیفہ (رح) اس میں دو قیدیں ٹھہراتے ہیں۔ ایک یہ کہ مسجد میں روزہ کے ساتھ بیٹھنا دوسری یہ کہ کم سے کم پورے ایک دن تک بیٹھے پس بغیر روزے کے مسجد میں بیٹھنا اسی طرح روزہ بھی ہو تو دن بھر سے کم بیٹھنا اعتکاف شرعی نہ سمجھا جائے گا کس لیے کہ احادیث اور فعل صحابہ سے اعتکاف اسی طور سے پایا گیا ہے مگر امام شافعی (رح) ان دونوں قیدوں کو شرط نہیں خیال کرتے کہ ان بغیر اعتکاف نہ سمجھا جائے گا۔ ہاں جو ان قیود کو مرعی رکھے تو اولیٰ ہے۔
دلائل فریقین کی ان کتابوں میں مذکور ہیں اعتکاف میں بھی اپنی بیوی سے جماع کرنا درست نہیں بغیر شہوت کے اگر ہاتھ لگ جاوے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ معتکف سوائے حاجت ضروری پیشاب پاخانہ یا نماز جمعہ کے مسجد سے باہر نہ نکلے۔ رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کرنا مسنون ہے۔
ابو مسلم اس آیت کے معنی میں یہ کہتے ہیں کہ ابتدائِ اسلام میں روزہ کی کوئی تشریح نہ تھی کہ کب تک کھاوے پیوے اور یہود بلکہ عیسائی اس سبب سے ( کہ جہاں کہیں ان کی کتابوں میں روزہ کا حکم ہے وہاں دن رات کا روزہ سمجھا جاتا ہے) دن رات کا روزہ رکھتے تھے۔ ان کے رویہ سے مسلمان بھی یہی کرنے لگے تھے کہ رات کو بھی کچھ کھاتے پیتے نہ تھے مگر اس میں مشقت تھی اور نیز وہ آسانی کہ جو اس شریعت میں رکھی گئی ہے اس کے بھی منافی تھا۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے صریح اجازت دے دی کہ صبح صادق تک شوق سے کھائو پیو یعنی رات کا روزہ نہیں۔ سو یہ سمجھنا کہ یہ آیت پہلے حکم کے لیے ناسخ ہے ٗ غلط ہے۔ درحقیقت روزہ روح کی تازگی اور جسم کی پژمردگی کے لیے ایک عجیب نسخہ ہے اور نیز مشقت کشی کے عادی ہونے کے لیے اور تنقیہ جسمیہ کے لیے بھی اس کے فوائد بیشمار ہیں اور اس لیے ہر ملت و مذہب میں اس کا دستور قدیم ہے اور ریاضت جسمانی کا مسئلہ اسلام میں ایک مہذب طریقہ پر ملحوظ رکھا گیا ہے کیونکہ خدا نے اخیر نبی (علیہ السلام) کو متوسط طریق پر مبعوث کیا ہے اس لیے سحر تک کھانے پینے سے جسم کو پژمردگی مفرد محفوظ رکھا۔ کس لیے کہ افراط میں آکر بالکل جسم کو ہلاک کرنا روح ] 1 ؎ جب یہ آیت نازل ہوئی تو عدی بن حاتم ؓ نے ڈورے سیاہ اور سفید لے کر اپنے تکیہ کے نیچے رکھ چھوڑے۔ پس جب تک ان میں فرق نہ معلوم ہوتا تب تک کھاتے پیتے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے اطلاع کی آپ ہنسے اور فرمایا تیرے پاس بڑے لمبے چوڑے ڈورے ہیں۔ اے صاحب ان سے مراد رات دن کے ڈورے ہیں۔ ہکذا فی صحیح البخاری۔ 12 منہ[
کو اس کے کمالات حاصل کرنے سے محروم کردینا ہے اور لیکن پہلی امتوں کے نفوس چونکہ زیادہ سرکش تھے اور ان کے قورئے بہیمیہ بھی تیز تھے اس لیے بقاعدہ دوا بقدر مرض ان کو دن رات کے روزے کی ضرورت تھی۔ اسی طرح شتر بےمہار ہو کر ہر طرح کی لذات میں مستغرق رہنے سے بھی منع کردیا۔ اسی لیے اسلام میں سحری کھانا مسنون قرار پایا۔ تسحر وا فان فی السحور برکۃ کہ سحری کھائو اس میں برکت ہے۔
Ayah 2:188ترکیب : لاتاکلوا فعل انتم فاعل اموالکم 1 ؎ مفعول بینکم ظرف ہے تاکلوا کا ‘ لان المعنی لاتأ کلوا بالباطل موضع نصب میں ہے بسبب تاکلوا کے وتدلوا مجزوم ہے بسبب معطوف ہونے کے تاکلوا پر لتا کلوا کالام تدلوا سے متعلق ہے فریقاً مفعول تاکلوا کا من اموال الناس اس کا بیان وانتم تعلمون جملہ حال ہے تاکلوا کے فاعل سے۔
تفسیر : گذشتہ آیات میں روزہ کا حکم اور اس میں مباح چیزوں کے بھی وقت معین تک کھانے پینے کی ممانعت تھی جو نفس سرکش کے زیر کرنے کے لیے بڑی عمدہ ریاضت ہے۔ ان آیات میں معنوی روزہ کا حکم دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے ناجائز طور پر مال نہ کھا جایا کرو۔ وہ گناہ جو حقوق العباد سے متعلق ہیں کسی کا غصب ٗ رشوت ٗ چوری ٗ دغا بازی ٗ خیانت ‘ حیلہ سازی یا معصیت کے ذرائع سے پیدا کردہ مال کھانا اور مال کو حکام رسی کا رشوت دے کر ذریعہ بنا کر لوگوں کے مال اڑا جانا مخل تمدن اور روسیاہی کا بھی باعث ہے۔ ان گناہوں سے خصوصاً پرہیز کرنا بھی ایک قسم کا روزہ ہے اور نیز روزوں کی راتوں کو کھانے کی اجازت تھی۔ اس جگہ بتا دیا کہ کھائو تو مال حرام نہ کھایا کرو۔ اس مناسبت سے اس مسئلہ کا بھی ذکر ہوا اور اس کے بعد اور بھی ممنوع چیزوں کا ذکر ہوتا ہے اور مفید اعمال کی تاکید فرمائی جاتی ہے تاکہ معنوی روزہ کی تکمیل ہوجائے۔
تدلوا ادلا سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کنویں میں ڈول ڈالنا قال تعالیٰ فادلی دلوہ مگر اس سے مراد بذریعہ رشوت حکام سے ربط پیدا کرنا تاکہ لوگوں کے مال ناحق مارے۔
1 ؎ اموالکم کے بظاہر معنی اپنا مال ہے۔ پھر اپنے مال کو بینکم بالباطل سے کھانے کے کیا معنی ! اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ اموالکم سے مراد اپنے لوگوں کا مال ہے جو ایک معنی سے اپنے بھائیوں کا مال اپنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اموالکم کے ساتھ تعبیر کرنا شفقت دلانا مقصود ہے کہ یہ بھی تمہارا ہی مال ہے اس کو بےدریغ ناجائز حیلوں سے نہ کھا جایا کرو۔ دوئم اپنا مال بھی باطل طریقوں سے کھانا درست نہیں۔ اسراف، فضول خرچی، عیاشی، کھیل تماشے، لہو و لعب میں صرف کرنا ناجائز طریقوں سے کھانا ہے۔
پہلی صورت ناجائز طریقہ سے کھانے کی یہ صورتیں ہیں دغا فریب دے کر کھانا رشوت اور سود میں دینا لینا۔ رمل، جفر، نجوم وغیرہ شعبدوں سے مال لینا، جھوٹے، ٹوٹکے، فال وغیرہ سے حاصل کرلینا، فتو وں رشوت لینا حکام اور اس علامت کا رشوت لینا دھو کے سے لینا سب باطل مال کھانا ہے جو اس آیت سے حرام ہے۔
Ayah 2:189ترکیب : یسئلون فعل فاعل ک مفعول عن الاھلۃ متعلق ہے یسئلون سے ھی مبتداء مواقیت للناس معطوف علیہ والحج معطوف مجموعہ خبر البر اسم لیس بان تاتوا البیوت اس کی خبر۔
تفسیر : جبکہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو چاند کے حساب سے رمضان اور شوال کا اور نیز حج کے مہینوں کا حساب و شمار عرب کے قدیم عادت کے موافق ایک ضروری بات ہوگئی۔ اس لیے بعض لوگوں نے رسول کریم ﷺ سے ہلالوں سے سوال کیا کہ اس میں کیا سِرّ ہے کہ اول
راتوں میں چاند باریک خمدار ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے بڑھ جاتا اور پورا ہوجاتا ہے اور پھر گھٹنے لگتا ہے۔ آخر پھر وہی باریک خمدار ہوجاتا ہے۔ چونکہ مسئلہ علمِ ‘ ہیئت سے متعلق تھا جس کے سمجھنے کی ان ان پڑھ لوگوں کو لیاقت نہ تھی ٗ مفت الجھن میں پڑجاتے۔ اس لیے اس سے اعراض کرکے جو فائدہ تھا وہ بتا دیا کہ یہ لوگوں کے معاملات اور اوقات بتاتے ہیں۔ چاندوں سے مہینے اور مہینوں سے سال و برس بنتے ہیں۔ عرب کے نزدیک صاف اور موٹا حساب جس کو ہر ایک سمجھ سکے چاندوں ہی سے تھا اور اب بھی ہے۔ اس جواب سے دو باتوں کی تعلیم ہوگئی۔ اول یہ کہ جن اشیاء کے حقائق و اسرار سمجھنے کی لیاقت نہ ہو ان سے سوال کرکے اپنا اور مجیب کا وقت ضائع نہ کرنا چاہیے۔ بیکار باتوں میں مصروف ہونا تضیع اوقات ہے۔ دوئم یہ کہ اگر کوئی اس قسم کا سوال کرے بھی تو جہاں تک اس کے مفید مدعا ہو بتلا دینا چاہیے ٗ زجرو توبیخ کرنا خلاف اخلاق ہے۔
ہلال اول رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع اھلہ آتی ہے۔ چونکہ یہ ذکر جواب میں آچکا کہ حج کا وقت بھی بتلاتے ہیں اس مناسبت سے حج جیسی عمدہ عبادت میں جو کچھ عرب کے جاہلوں نے تعریف کر رکھی تھی اور لطًف یہ کہ اس کو نیکی سمجھے ہوئے تھے اور اصلی نیکی سے بیخبر تھے۔ اس لیے اس کی تعریف اور جملہ نیکیوں کے اصل الاصول کو بتا دیا۔ احرام باندھنے کے بعد جو عرب کے لوگوں کو گھر میں آنے کی ضرورت پڑتی تھی تو پس پشت سے آتے تھے تاکہ دروازے سے آنے میں حج سے اعراض نہ پایا جاوے۔ فرمادیا یہ کچھ بھی نیکی نہیں آئو تو دروازوں سے آیا کرو اتوالبیوت من ابوابہا 1 ؎ حکمت کا ایک بیش بہا گوہر ہے جس میں اشارہ ہے کہ جس کام کو کرو اس کے رستے سے کرو ٗ اسباب عادی کو اور اس کے مناسب تدابیر کو عمل میں لائو۔ یہ دنیا و دین کے سب کاموں کو حاوی ہے۔ اصلی نیکی کیا ہے اتقوا اللہ خدا سے ڈرنا اور پرہیزگاری کرنا جملہ ممنوع امور سے الگ رہنا خواہ از قسم عقائد ہوں یا از قسم اعمال ہوں اور اسی پر فلاح دارین وابستہ ہے لعلکم تفلحون سعادت کے گھر کا یہی دروازہ ہے۔ یہ بھی معنوی روزہ کا تتمہ بیان تھا۔
1 ؎ وأتوت البیوت من ابوابہا کلام حکمت ہے جو بہت سے معانی جلیلہ کی طرف اشارہ کرتا ہے ازانجملہ یہ کہ جو کام کرو اس کے قاعدہ اور دستور سے کرو خلاف کام کرنا گھر میں پس پشت سے آنا ہے۔ گھر سے مقصود کی طرف اور دروازہ سے اس کے رستہ اور قاعدہ کی طرف اشارہ ہے۔ 12 منہ
Ayah 2:190ترکیب : قاتلوا فعل انتم اس کا فاعل فی سبیل اللہ اس کے متعلق الذین یقاتلونکم جملہ مفعول ولا تعتدوا معطوف ہے قاتلوا پر اللہ اسم ان لایحب الخ خبر واقتلوا فعل انتم فاعل ھم مفعول حیث متعلق ہے اقتلوا سے وقس علیہ اخرجوھم والفتنۃ مبتدا اشد الخ خبر حتیٰ بمعنی کے اور ممکن ہے کہ بمعنی الی ان ھو لا تکون کان تامہ اور یکون میں بھی کان تامہ اور جو دونوں کو ناقصہ کیا جاوے تو للہ خبر عدو ان اسم لا الاعلی الظالمین خبرلا۔
تفسیر : پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ نیکی گھروں میں پیچھے سے آنے میں نہیں بلکہ نیکی تقویٰ ہے اور تقویٰ کی بڑی شاخ اللہ کے دشمنوں سے لڑ کر زمین کو کفر و معاصی اور دیگر فساد سے پاک کرنا ہے جس کی بھلائی اور جس کا عام فائدہ آیندہ نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قتل فی سبیل اللہ یعنی جہاد کا حکم دیا۔ نبی ﷺ صحابہ کبار کے ساتھ بارادہ حج مدینہ سے کوچ کرکے مکہ کی طرف چلے اور جب مقام حدیبیہ 3 ؎ آئے تو کفار قریش نے آپ کو روک دیا اور کئی روز تک آپ وہاں ٹھہرے رہے اور آخر واپس چلے آئے۔ پھر اگلے سال حج کی تیاری کی اور صحابہ کو خوف ہوا کہ قریش بجنگ پیش آئیں گے اور ان مہینوں میں صحابہ جنگ کرنے کو نہایت مکروہ جانتے تھے۔ اس کشمکش میں تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں خدا تعالیٰ نے ان سے جنگ کرنے کی رخصت دی اور بوقت ضرورت تلوار اٹھانے کی اجازت دی کہ اے مسلمانو ! خدا کی راہ میں جنگ کرو مگر زیادتی نہ کرو بچوں اور عورتوں اور بڈھوں کو نہ مارو سبز درختوں کو نہ کاٹو ‘ عہد شکنی نہ کرو۔ کس لیے کہ خدا کو زیادتی کرنے والے پسند نہیں اور جب تم میں اور ان میں کوئی عہد قائم نہ ہو تو ان کو جہاں پائو قتل کر ڈالو اور جس طرح انہوں نے تم کو مکہ سے باہر نکال دیا ہے ٗ تم بھی ان کو وہاں سے نکال دو اور یہ خیال نہ کرو کہ ہم نے ان کو مقام مقدس میں قتل کیا اور وہاں سے نکالا کیونکہ وہ وہاں فتنہ اور فساد کرتے ہیں اور فتنہ تو قتل سے بڑھ کر ہے جس کا نتیجہ خرابی بلاد اور پریشانی عباد ہے۔ مگر مسجد الحرام کے پاس ان سے جنگ نہ کرو جب
3 ؎ مکہّ کے قریب ایک جگہ ہے۔ 12 منہ
تک کہ وہ وہاں تم سے جنگ نہ کریں اور اگر وہ وہاں حرمت خانہ کعبہ ملحوظ نہ رکھیں اور تم سے جنگ کریں تو تم وہیں ان کو قتل کرو۔ کس لیے کہ خدا کے دشمنوں کی یہی سزا ہے اور جو وہ باز آجاویں اور توبہ کرلیں تو خدا بھی غفور الرحیم ہے اور کفار سے لڑتے رہو جب تک کہ دنیا پر فتنہ و فساد باقی نہ رہے اور احکام الٰہی پر بےروک و ٹوک عمل درآمد ہونے لگے۔
متعلقات
فتنہ کے لغوی معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں اور اسی لیے نعمت اور مصیبت کو بھی فتنہ کہتے ہیں کہ اس حالت میں صبر و شکر کے بارے میں آزمائش ہوتی ہے مگر اس جگہ مراد ابن عباس ؓ کے نزدیک کفر و شرک ہے کیونکہ اس سے زمین پر فساد اور خرابی پھیلتی ہے جس سے ظلم اور باہمی قتال وجدال پیدا ہوتا ہے جو موضع آزمائش ہے اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد فساد اور ظلم وغیرہ قبائح ہیں اور شرک و کفر بھی اس میں شامل ہیں۔
اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اولاً یوں فرمایا کہ جو تم سے لڑے تو تم بھی اس سے لڑو اور مسجد الحرام کے پاس حتی المقدور جنگ سے
اولاً باز رہو گویا یہ جنگ بحالت مدافعت ہے مگر زمین کا ہر قسم کی برائی اور جورو ظلم سے پاک کرنا عالم بالا کا اصل منشا تھا اور اس لیے خدا تعالیٰ نے عرب کے ملک میں وہ نبی برپا کیا کہ جس کی اجمالی خبر کتب مقدسہ بالخصوص 50 زبور 1 ؎ میں ہے اور جس کی معرفت زمین پر آسمانی سلطنت کا ظاہر ہونا مقدر تھا اور ان شریر لوگوں کی گوشمالی اور سزا علم الٰہی میں ٹھہر چکی تھی کہ جن سے تورات و دیگر صحائف 2 ؎ میں خطاب کرکے فرمایا گیا تھا کہ بدوں کو بھوسی 3 ؎ کی طرح چھانٹے گا اور آتشی شریعت سے بت پرستی اور شرارت کو مٹا دے گا اور یہ کام بعد موسیٰ (علیہ السلام) کے پورا پورا سرانجام پانا آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر مقدر تھا کہ آپ خدا کے نائب بن کر زمین پر ہر قسم کی نیکی پھیلائیں۔
اسی لیے حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للّٰہ فرما کر حکم دیا واقتلوھم حیث ثقفتموھم قرآن مجید میں یہ اول آیت ہے کہ جس میں جہاد و قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ جب مکہ میں تھے تو کفار قریش نے خود آنحضرت ﷺ پر اور مسلمانوں پر نہایت ظلم و ستم کئے تھے۔ یہاں تک کہ مکہ سے نکال دیا اور بہت لوگ ملک حبش میں چلے گئے اور خود آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو ادائے فرائض اور عبادتِ الٰہی سے روک دیا تھا۔ ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد و قتال کی اجازت دی۔
مخالفین اسلام کے جہاد پر اعتراضات : مخالفین اسلام محض تعصب وعناد سے جہاد کے بارے میں یہ اعتراض کرکے اسلام پر دھبہ لگایا کرتے ہیں۔
(1) یہ کہ بردباری اور فروتنی اور باہمی محبت اور عفو کا مسئلہ جو اور کتب انبیاء بالخصوص انجیل میں ہے (کہ جو تیرے ایک گال پر طمانچہ
1 ؎ 50 زبور میں جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کر کے یہ لکھا ہے اے پہلوان تو اپنی تلوار کو جو تیری حشمت اور بزرگواری ہے حمائل کر کے اپنی گردن پر لٹکا۔ 12 منہ
2 ؎ ہمارا بادشاہ آوے گا اور چپ چاپ نہ رہے گا آگ اس کے آگے آگے فنا کرتی جائے گی اور اس کے گردا گرد شدت سے طوفان ہوگا وہ اوپر آسمان کو طلب کرتا اور زمین کو بھی تاکہ اپنے لوگوں کی عدالت کرے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کا اس کے مطابق ہیبت اور شوکت سے ظہور ہوا اور دنیا میں کامل عدالت بھی کی۔ 12 منہ
3 ؎ انجیل متی کے 3 باب میں ہے توبہ کرو کیونکہ آسمانی بادشاہت نزدیک ہے۔ (11) وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے زور آور ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے قابل نہیں۔ اس کا چھاج اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے کھلیان کو خوب صاف کرے گا اور اپنے گیہوں کو کہتے ہیں جمع کرے گا پھر بھوسی کو اس آگ میں جو کبھی نہیں بجھتی (دوزخ) میں جلاوے گا۔ 12 منہ
مارے تو اس کی طرف دوسرا گال کر دے اور جو تیرے لیے برا چاہے تو اس کی بھلائی چاہ) قرآن واسلام اس سے خالی ہے بلکہ برخلاف ہے۔
(2) برخلاف تمام انبیائِ سابقین کے لوگوں پر بزور شمشیر اسلام میں لانے کی تاکید ہے اور جو اسلام نہ لاوے اس کو بےرحمی سے قتل کرنا اور اس کی جورو اور معصوم بچوں کو لونڈی و غلام بنانا اور اس کے گھر بار کو لوٹنا عام دستور اہل اسلام کا ہے۔
(3) اس جہاد کے مسئلہ نے مسلمانوں کو ہر ایک قسم کے ظلم و زیادتی کی غیر مذہب والوں کے ساتھ اجازت دے دی یہاں تک کہ جو مسلمان غیر مذہب بادشاہوں کے ملک میں امن پا کر رہتے اور ان کے سایہ حفاظت میں پرورش پاتے ہیں ان کے ساتھ بدعہدی کرنا اور جس غیر مذہب والے پر قابو پانا اس کو مار ڈالنا اور بادشاہ کے ساتھ بغاوت کرنا ‘ بدخواہی کرنا اسلام میں باعث ثواب ہے حالانکہ یہ وہ باتیں ہیں کہ جن کو نہ الہام قبول کرتا ہے نہ عقل تسلیم کرتی ہے بلکہ یہ امور تمدن کے بھی صریح برخلاف ہیں۔ پھر ایسی باتوں کے مروج کو کیونکر نبی کہا جاوے ؟ اور اسی لیے اس وقت کے جس قدر روشن دماغ ہیں وہ بھی انتظام مملکت میں شریعت کو دخل نہیں دیتے اور جو اس پرانے وحشیانہ قانون پر چلتے ہیں تو ان کے ملک بھی برباد اور تنزل پذیر ہیں۔ مخالفین بالخصوص یورپ کے ملحد اور ان کے مرید مشنری ان اعتراضات
پر بڑے نازاں ہیں۔ (1) واضح ہو کہ علم اخلاق کے احکام دو قسم ہیں۔ ایک وہ کہ جن کی پابندی ہر شخص کے لیے ضروری ہے ٗ دوسری وہ کہ جن کی پابندی کے مستحق خاص خاص لوگ بوجہ حصول مزید درجات ہیں۔ عام لوگوں سے ان پر عمل ہو نہیں سکتا مثلاً جو کوئی کسی کو قتل کرے یا چوری یا غصب سے کسی کا مال لے لیوے اور کسی قسم کی تعدی کرے اس کا معاف کردینا خاص لوگوں کا کام ہے لیکن کوئی شریعت اور کوئی نبی اس حکم کو عام نہیں کرسکتا کیونکہ اگر ایسا ہو تو دنیا میں ظلم و ستم کا دروازہ کھل جاوے۔ کبھی ایسی باتوں پر عمل کیا ہے ! ہرگز نہیں بلکہ یہ مکارم اخلاق خاص لوگوں کا خاص وقت میں دستور العمل ہوسکتا ہے قانون عام نہیں ہوسکتا۔
ہندو اپنے مذہب کو بڑا ہی رحیم کہتے ہیں۔ آدمی تو کیا کسی جاندار کا قتل کرنا بھی روا نہیں رکھتے۔ پھر کوئی دھرماتما ہندو یہ بتلا سکتا ہے کہ اس قانون کا فائدہ اور اثر سوا اس کے صرف زبانی جمع خرچ ہو اور بھی کچھ کسی زمانہ میں ہوا ہے ؟ جن زمانوں کو یہ ست جگ اور دوا پرکھ کے ان کے متبرک ہونے پر بڑی خوشی ظاہر کرتے ہیں۔ کیا ان میں ان کے انہیں بزرگوں کے ہاتھوں سے کہ جن کے یہ مقولے ہیں سینکڑوں آدمیوں کی جانیں تلف نہیں ہوئیں ؟ مہابھارت سے کوئی ہندو ناآشنا نہیں۔ اس سے بخوبی ثابت ہوا کہ ایسی عفو اور رحمدلی اور بردباری کی باتیں جس مذہب میں ہیں وہ خاص لوگوں کے لیے ہیں نہ یہ کہ عموماً قوم کے لیے قرآن مجید میں بھی یہ مکارم اخلاق بہت کچھ مذکور ہیں۔ سورة حم سجدہ میں فرماتا ہے ولا تستوی الحسنہ ولا السیئۃ ادفع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم وما یلقہا الا الذین صبروا ومایلقہا الاذوحظ عظیم ” بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں تو برائی کے جواب میں بھلائی کر پھر جو تیرا دشمن بھی ہے وہ بھی نہایت دوست ہوجاوے گا یہ خصلت صابرین اور بڑے نصیبے والوں کو نصیب ہوتی ہے “۔ اب دیکھئے اس میں بلا لحاظ مومن و کافر ہم قوم و غیر قوم و بلا قید یگانہ و بیگانہ کس قدر رحمدلی و بردباری اور عفو کی تعلیم ہے کہ جو دوسرے گال پھیر دینے کے اندر نہیں کیونکہ اس میں تو دشمن کے ساتھ بجائے صبر کے نیک سلوک کی بھی تعلیم ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے ان اللہ یاْمرکم بالعدل والاحسان الآیۃ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ تم عدل و انصاف کرو اور اسی پر بس نہ کرو بلکہ بلا قید مومن و کافر یگانہ و بیگانہ سب کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ پھر نیک سلوک میں کوئی قید نہیں بلکہ عام رکھا ہے ایک جگہ فرمایا ولکن البرمن امن باللہ والیوم الاخروالملئکۃ والکتب والنبیین واتی المال علی حبہ ذوی القربٰی والیتمٰی والمساکین وابن السبیل والسائلین وفی الرقاب اس آیت میں بلا قید مومن و کافر اپنے بیگانوں سب کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے ولمن صبر وغفران ذلک لمن عزم الامور اور اسی طرح بیشمار آیات ہیں اور احادیث صحیحہ اس بارے میں بکثرت ہیں۔ علاوہ اس کے جناب پیغمبر خدا علیہ الصلوٰاۃ والسلام کی رحمدلی اور فروتنی اور بردباری اور مخالفوں کے ساتھ قدرت پا کر نیک سلوک کرنا ضرب المثل ہے۔ ایسے صدہا واقعات فن سیرت میں موجود ہیں کہ جن سے ثابت ہے کہ اسلامی رحمدلی اور خود پیغمبر (علیہ السلام) کی نرم دلی ‘ بردباری ‘ تواضع و عفو کا کچھ انتہا نہ تھا۔ آپ کے جانشینوں کے اخلاق و عادات بھی باوجود یکہ وہ بڑی بڑی سرسبز اور عالیشان سلطنتوں کے مالک ہوگئے تھے ٗ نہایت رحیمانہ عفو و حلم کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی بےنظیر فتوحات کا جو ان کو قرن اول میں نصیب ہوئیں ‘ یہ بھی ایک بڑا سبب تھا۔ الحاصل جس نے قرآن و احادیث کو پڑھا ہے وہ مکارم اخلاق سے جو اعلیٰ سے اعلیٰ پیمانہ پر ہو ٗ قرآن اور اسلام کو خالی رہنے کا الزام نہیں لگا سکتا مگر اس کے ساتھ قوانین معدلت اور سرکشوں اور گمراہوں اور گمراہ کنندوں کے سرنگوں کرنے کا مسئلہ بھی ضرور قرآن میں ہے جس کا سلسلہ انبیاء ہمیشہ سے خوشخبری دیتا آیا ہے اور جسکی بلحاظ ادا کرنے فرض منصبی مذہب کو از حد ضرورت ہے۔
(2) اسلام میں کہیں بزور شمشیر مسلمان کرنے کا حکم بھی نہیں چہ جائیکہ تاکید بلکہ اس کے برعکس حکم ہے تاکید نہیں بلکہ علانیہ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی یعنی دین میں کسی پر کچھ زبردستی نہیں گمراہی اور ہدایت میں فرق ظاہر ہوگیا۔ اسلام کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ زبردستی مسلمان ہوجاوے۔ زنا 1 ؎ ٗ شراب خواری ‘ قمار بازی وغیرہ رسوم کو کیوں بزور مٹایا اور کیوں بت پرستی کو جرم قرار دیا تو یہ محض بیہودہ اعتراض ہے۔ کیا اس وقت کے روشن دماغ جرائم کو بزور نہیں مٹاتے ؟ اور بعد جنگ کے مخالفوں کے مال و اسباب ضبط نہیں کرتے۔ ان کو قید میں نہیں ڈالتے۔ اسی طرح اسلام آسمانی باغیوں کے ساتھ کرتا ہے اور ان کو قید غلامی کی سزا دیتا ہے۔ اگر اس پر اعتراض ہے تو پھر دیندار عیسائی انبیائِ بنی اسرائیل پر بھی اعتراض کریں کہ جنہوں نے زن و بچہ بلکہ جانوروں تک بھی مخالفوں کا زندہ نہ چھوڑا تورات اور کتاب یوشع وغیرہ کو ملاحظہ فرمایئے۔
(3) اسلام نے غیر مذہب والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ٗ قتل و بد عہدی کی ہرگز اجازت نہیں دی نہ جس بادشاہ کے امن میں آرام پائیں اور نہ فرائضِ مذہبی کو بہ آزادی ادا کریں اس کے ساتھ بدعہدی اور بدخواہی کی رخصت دی ہے بلکہ عہد پورا کرنے کی نہایت تاکید ہے والموفون بعہدھم ابھی آیت سابقہ میں آچکا ہے اور متعدد مواضع میں آیا ہے اور احادیث میں بکثرت وارد ہے۔ ہرقل شاہ روم اوردیگر مخالفین اسلام شاہوں کے ملک میں جب صحابہ تجارت یا کسی کام کو گئے انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا اور جو یہ اعتراض کرتا ہے وہ اسلام اور قرآن پر بہتان باندھتا ہے یا ناواقف ہے۔
جہاد کے مواقع : اسلام صرف ان چند صورتوں میں جہاد کی اجازت دیتا ہے اور حسب ضرورت تاکید بھی فرماتا ہے۔ اول یہ کہ مخالفین اسلام مسلمانوں کے ملک اور معابد پر قبضہ کرنے کے ارادہ سے حملہ آور ہوں اور مسلمانوں پر چڑھائی کریں جیسا کہ احزاب کا واقعہ۔ دوسرے یہ کہ کسی جگہ مسلمانوں اور کافر قدیم سے ملے جلے رہتے ہیں اور پھر کفار ان کو ادائیگی مراسم مذہبیہ سے منع کریں اور جلاوطنی پر مجبور کریں اور محض اسلام کی وجہ سے ظلم وتعدی کرنا شروع کریں جیسا کہ کفار قریش نے مکہ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔ اس صورت میں اگر وہاں کے لوگوں کو مقابلہ کی طاقت نہیں تو اسلام کو مخفی نہ کریں اور مراسم اسلامیہ سے باز رہنا اختیار نہ کریں بلکہ وطن چھوڑ کر کسی دار اسلام میں چلے جاویں اور اس کو ہجرت کہتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں فرض ہے جیسا کہ صحابہ اور خود نبی علیہ الصلوٰ والسلام نے کیا۔ اس صورت میں باہر جا کر جمعیت بہم پہنچا
1 ؎ پیغمبر (علیہ السلام) اور ان کے جانشینوں نے مصلحت ملکی و مذہبی کے لحاظ سے اس بات کی ضرور کوشش کی کہ غیر مذہب برّ عرب میں رہنے نہ پائے باہر چلا جائے اس کے سوا اور ممالک میں مسلمان اور مشرک و غیر مذاہب کے لوگ سلطنت کے مطیع رہ کر مساوی درجوں پر بودوباش کے مجاز تھے پر عرب سے باہر کرنے کو اگر کسی نے بزور شمشیر اسلام لانے پر مجبور کرنا سمجھ لیا ہے تو یہ اس کی خوش فہمی ہے اسلام بےقصور ہے۔ 12 منہ حقانی
کر ضرور مخالفین کو مغلوب کریں جس طرح کہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ سے آکر مکہ فتح کیا۔
تیسری صورت یہ ہے کہ مسلمان اپنی قوت و شوکت اور سامان حرب و قتال بہم پہنچا کر اپنے آس پاس کے بادشاہوں اور قریب و بعید کے ملکوں کو دین حق کی منادی کریں اور بت پرستی اور دیگر رسوم قبیحہ ترک کرنے اور امور فطرت کے اختیار کرنے کا حکم دیویں (کس لیے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ نے راستی اور آسمانی سلطنت قائم کرنے کے لیے جناب نبی ﷺ کو بھیجا ہے جیسا کہ کتب مقدسہ سے بھی ثابت ہے اور آپ کے بعد الی یوم القیامۃ آپ کے جانشین اس کام پر مامور ہیں) ۔ اگر وہ لوگ امر حق اختیار کرلیں اور فساد سے باز آویں تو ان سے کچھ نہ کہیں اور نہ ان کو ماتحتی اسلام پر مجبور کریں اور اگر یہ بھی نہ مانیں تو اخیر درجہ جس طرح آج کل مہذب گورنمنٹیں دفع فساد کے لیے فوج کشی کرتی ہیں ٗ شاہ اسلام لشکر کشی کرے جیسا کہ شام و ایران وغیرہ بلاد پر صحابہ نے لشکرکشی کی مگر لڑکے ٗ عورتوں ٗ بڈھوں کو نہ مارے کھیتیاں نہ اجاڑے۔ پس ان صورتوں میں جبکہ طرفین سے جنگ قائم ہوئی ہے تو سوائے واغلظ علیہم اور واقتلوھم حیث وجدتموھم کے اور کیا ہوتا ہے ؟ جس قدر کفار پر سختی اور قتل میں سعی کرنے اور ثابت قدم رہنے کی تاکید ہے سو وہ خاص ان صورتوں میں ہے اور انہیں کے لیے قرآن میں جا بجا تاکید ہے اور انہیں میں مارے جانے سے شہادت ملتی ہے اور انہیں کے اجر وثواب قرآن مجید میں جا بجا مذکور ہیں۔ باقی
اور سب صورتوں میں وہی رحمدلی اور عفو ورنہ عدل و انصاف اب فرمایئے کونسا اعتراض ہے ؟ 1 ؎
1 ؎ اور جو ناانصاف یہود و نصاریٰ اب بھی اعتراض سے باز نہ آئیں اور ملحدانہ طور سے کہیں کہ قرآن نے ریلجس لبرٹی اور کا نشسنس کا ستیاناس کردیا اور مذہبی آزادی کو باقی نہ رکھا اور آسمانی حقوق کے لیے کیوں تلوار اٹھائی اور کیوں کافروں پر قہر و غضب ظاہر کیا۔ تو اس سے پیشتر وہ بائبل اور اپنے دینی پیشوائوں پر بھی اعتراض جماویں کہ جنہوں نے مذہبی جنگ قائم کی اور جنہوں نے کفار سے عہد باندھنے کی بھی سخت ممانعت کردی۔ چناچہ تورات سفر خروج کے 22 باب 18 درس میں ہے تو جادوگرنی کو جینے مت دے جو کوئی چارپائے سے مباشرت کرے مارا جائے جو کوئی خدا کے سوا اور معبود کے لیے قربانی کرے مارا جاوے عذاب دے کر پھر 17 باب میں قوم عمالیق سے جنگ کی اور نسل در نسل ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ پھر 23 باب میں خدا کا کفار سے دشمنی رکھنا اور تمام کفار کی ہلاکت کا وعدہ کرنا اور ان سے معاہدہ کرنے کی سخت ممانعت مذکور ہے۔ پھر 32 باب میں بسبب گو سالہ پرستی کے بھائی کو بھائی اور دوست کو دوست کے ہاتھ سے قتل کرنے کا حکم اور نیز ہزاروں کا قتل ہونا بھی مندرج ہے۔ پھر کتاب استثناء کے 2 باب میں جسوں کے بادشاہ موری سے جنگ کرنے کا حکم ہے۔ پھر 3 باب میں عوج کو اس کی تمام قوم سمیت قتل کرنا مذکور ہے جس میں ان کی عورتیں اور معصوم بچے بھی بحکم خدا قتل کئے گئے۔ اسی طرح سینکڑوں مقامات ہیں۔ پھر کتاب یشوع کو دیکھئے کہ اس میں کافروں کے ساتھ کیا بےرحمانہ برتائو لکھا ہے اور زن و مرد جانداروں تک نبی نے تہ تیغ بےدریغ کیا ہے۔ اب عیسائیوں کے بزرگوں کی طرف آئیے قسطنطین اعظم نے عیسوی چوتھی صدی میں مذہبی قتل عام کیا۔ پھر ایرین چرچ نے مقلدین اتا نسیس کو کس بےرحمی سے افریقہ میں قتل کیا اور روس چرچ کرنے جرمن و برطانیہ و فرانس میں اور ٹلی کے شمال میں الیس کے پہاڑوں میں دریائے خون خاص مذہب کے لیے بہائے۔ آسٹریا میں تیس برس تک مذہبی جنگ رہی۔ ملک فرانس میں چارلس نہم عیسائی نے تین لاکھ پر اٹسٹنٹ کو بےرحمی سے قتل کیا بلکہ کو ئن میری اور لوئیس چہاردہم نے کیسا قتل عام مذہب کے لیے کیا اور ہنری ششم شاہ انگلستان نے کا تھولیک لوگوں کو قتل کرکے مذہب پر اٹسٹنٹ پھیلایا۔ پھر انگلستان میں ایک سو تیس برس تک پر اٹسٹنٹوں نے اپنا مذہب جاری کرنے کے لیے کیسے کیسے ظلم و ستم کئے۔ پھر جان کالوں نے شاہ سروٹیس کو ترغیب دی کہ جو ہمارے مذہب کو نہ مانے قتل کیا جاوے۔ پھر اسپین میں مسلمانوں پر پادریوں نے کیا کچھ جورو ستم نہ کئے۔ ہندوئوں میں ویدیوں اور بدھ مذہب والوں میں سالہا سال تک کیسے کیسے قتل عام ہوئے۔ پس اگر مذہبی آزادی خدائی حکم ہے تو یہ ان رحم دل لوگوں نے کیوں کیا اور اب روشن دماغ گورنمنٹیں دنیاوی حقوق کے لیے اور محض انسانی آزادی مٹانے اور بنی نوع کو غلامی کی قید میں لانے کے لیے کیسی کیسی خونریزی کیا کرتے ہیں اور کیسی کیسی مکر و فریب اور بدعہدی و بےرحمی کا استعمال کرتی ہیں جو انسانی سیرت کے لیے بدنما دھبہ ہے۔ 12 حقانی
Ayahs 2:191–1921 ؎ یعنی اگر وہ تم پر مسجدالحرام کے پاس قتال کرنے کا الزام لگا کر بےادبی کعبہ کا طعنہ دیں تو وہ خود اس کے مرتکب ہیں کیونکہ مسجد الحرام میں فتنہ اٹھا رکھا ہے جو قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ 12 منہ
Ayah 2:1932 ؎ یعنی دنیا پر سب احکامِ الٰہی چلنے لگیں رکاوٹ اٹھ جائے سرکشوں کے قتل اور مغلوب کرنے سے۔ 12 منہ