2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے کہ وہ ادھر ہی جھکتا ہے۔ پس تم تو نیکیوں کی طرف دوڑا کرو تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کرلے آئے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

ترکیب : وجہۃ مبتداء لکل اس کی خبر لفظ وجہۃ میں قیاس چاہتا تھا کہ جہۃ ھومثل عدۃ اور زینۃ کے ھو (ای اللہ) مبتداء 2 ؎ مولیہا بکسر اللام اس کی خبر تقدیرہ اللہ مولیٰ تلک الجھۃ ذلک الفریق اے یا مرہ بہا امرا تکوینیا فحذف المفعول الثانی اور احتمال ہے کہ ضمیر ہو کل کی طرف رجوع کرے۔ اے ذلک الفریق مولی الجھۃ نفسہ۔ یہ تمام جملہ صفت وجہۃ کی ہوگا اَیْنَمَا ظرف ہے تکونوا کا ومن حیث خرجت اس جگہ شرط کے لیے نہیں۔ پس من متعلق فول کے ساتھ ہے ٗ وحیث ماکنتم میں دونوں احتمال ہیں۔ لئلا میں لام محذوف کے ساتھ متعلق ہے۔ تقدیرہ فعلنا ذلک لئلا الخ حجۃ اسم کان اور للناس اس کی خبر اور علیکم صفت حجۃ اصل میں مؤخر تھی مگر چونکہ مقدم ہوگئی تو حال ہونے کی وجہ سے منصوب المحل ہوئی اور یہ جائز نہیں کہ اس کو حجت کے متعلق کیا جاوے۔ لئلا یتقدم صلۃ المصدر علیہ الا الذی ظلموا استثناء ہے الناس سے اے لئلا یکون لاحد من الناس حجۃ الا للمعاندین منہم اور ممکن ہے کہ استثنا مبالغہ کے لیے ہو جیسا کہ اس شعر میں ولا عیب فیہم غیر ان سیوفہم بہن فلول من قراع الکتائب ولاتم معطوف ہی لام سابق پر علیکم متعلق ہے لاتم سے۔ تفسیر : خدا تعالیٰ اس آیت میں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ جب امر حق دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہوجاوے تو پھر اس کے اختیار کرنے میں کسی کی مخالفت و موافقت کا کچھ بھی پاس نہ کرنا چاہیے اور کیونکر انسان ہر ایک کو بالخصوص دینی امور میں موافق کرسکتا ہے۔ حالانکہ ہر ایک شخص کی رائے اور عقیدت اور میل قلبی جداگانہ ہے۔ ع ہر قوم راست را ہے دینی و قبلہ گاہے خلاصہ یہ کہ ہر ایک شخص اور قوم اور ملک کا ایک بات کی طرف رجحان ہوتا ہے۔ پس تم اس خیال موافقت کو دل سے نکال دو اور جو نیک باتیں کہ مقصود بالذات ہوں جیسا کہ نماز اور روزہ و ذکر اور خلق خدا کے ساتھ نیکی کرنا اور خواہش نفسانی اور متقضیات ہیولانیہ سے بری رہنا 2 ؎ او مبتداء راجع لکل مولیہا خبر ضمیرہا راجع وجہۃ کی طرف یا ضمیر ہو راجع الی اللہ کریں پس تقدیر عبارت یوں ہے اللہ مولیہا ایاہ ہو مولہا ای اللہ مولی تلک الجہۃ قدولیہا بہر حال معنی یہ ہیں ولکل امۃ قبلۃ یتوجہہ الیہا منکم ومن غیر کم۔ 12 منہ حقانی ان میں سرگرم رہو اور استقبال کعبہ تو امر مقصود بالذات نہیں بلکہ نماز میں متبع ملت ابراہیمیہ کا غیر متبع سے امتیاز ہونے کے لیے حجت قرار دی گئی ہے اور یہ اختلاف جہات اور باہمی تباعد اسی عالم میں ہے ورنہ آخرت میں تو سب کو اللہ تعالیٰ ایک ہی جہت اور ایک روش پر جمع کرکے ہر کہیں سے لے آئے گا ٗ ہر حالت خوف و رجا میں دربارِ الٰہی میں سب اس کی طرف متوجہ اور اسی کے تخت کو قبلہ بنائے کھڑے ہوں گے کیونکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور ممکن ہے کہ اینما تکونوا الخ کا خطاب خاص اہل اسلام سے ہو۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ اے مسلمانو ! ہر قوم کے لیے ایک جہت خاص ہے اور تمہارے لیے حصول قرب وسعادت کے لیے ہر جہت ہے۔ تمہارے لیے میدان سعادت بڑا وسیع ہے۔ پس تم اس میدان میں دوڑو اور یہ خیال نہ کرو کہ تم اس میدان میں ادھر ادھر چلے جائو گے۔ باہمی اتفاق و تعاکس انوار نہ ہوگا کیونکہ وہ تم کو بارگاہ قرب میں جمع کر دے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ان اسرار و رموز کے بعد پھر اسی حکم کی تاکید کرتا ہے کہ بلاشبہ تم نماز میں منہ کعبہ کی طرف کیا کرو تاکہ پھر کسی کا اعتراض باقی نہ رہے کہ باوجود اتباع ملت ابراہیمیہ کے اس نبی نے مسجد الحرام کو کیوں قبلہ بنایا اور نیز اس میں تمہارے لیے اے اہل اسلام خدا کی پوری نعمت ہے (کیونکہ اس میں وہ خوبیاں ہیں کہ جن کا بیان نہیں ہوسکتا۔ چناچہ کسی قدر ہم نے بیان کی ہیں) اور نیز اس میں تمہارے لیے راہ راست کی رہنمائی بھی ہے۔ اس کے بعد جو کوئی تم پر اعتراض کرے تو وہ ناانصاف ہے اس کی کچھ پروا نہ کرنی چاہیے بلکہ خاص خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ فائدہ : اس حکم کو ایک بار تو خدا تعالیٰ ذکر کرچکا تھا مگر پھر تین بار اس آیت میں کیوں اس کو ذکر کیا ؟ بظاہر یہ بات بلاغت و فصاحت کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول بار تعمیم احوال کے لیے ہے اور دوم تعمیم امکنہ کے لیے اور سوم تعمیم ازمنہ کے لیے تاکہ اس حکم میں کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے اور یہ بھی ہے کہ جب بلیغ کسی دعویٰ کو کسی دلیل سے ثابت کیا کرتے ہیں تو دوبارہ جب اس پر اور دلیل لاتے ہیں تو پھر اس دعویٰ کو دلیل کے ساتھ ربط دینے کے لیے ذکر کردیتے ہیں اور یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے اور یہ بھی ہے کہ جب کسی امر اہم کو بیان کرتے ہیں تو اس کی تاکید بھی ضرور کرتے ہیں اور تاکید تین بار کہنے سے حاصل ہوتی ہے مگر لطف یہ ہے کہ نیا عنوان مدِنظر رکھا ہے۔
Ayahs 2:149–150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور آپ کہیں سے بھی نکلیں تو اپنا منہ 1 ؎ مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور یہی حق بھی ہے آپ کے رب کی طرف سے اور اللہ تمہارے کام سے غافل نہیں

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور آپ جہاں کہیں سے نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں اور (مسلمانو) تم بھی جہاں کہیں ہوا کرو تو اپنا منہ (نماز میں) اس کی طرف کیا کرو ( بار بار اسی لیے حکم دیا گیا) کہ لوگوں کو تم پر کوئی الزام نہ رہے مگر ان میں سے جو ہٹ دھرم ہیں تو تم بھی ان سے نہ ڈرو اور ہم سے ڈرتے رہا کرو اور اس لیے بھی کہ ہم اپنی نعمت تم پر پوری کردیں اور اس لیے بھی کہ تم سیدھے رستہ پر آجائو۔

1 ؎ نماز میں 12
Ayahs 2:151–152

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسا 1 ؎ کہ ہم نے تم میں ایک رسول تمہیں میں سے بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں سناتا اور تم کو پاک کرتا اور تم کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور (نیز) تم کو وہ باتیں سکھاتا ہے کہ جو تم نہیں جانتے تھے

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

پس مجھے یاد کرو کہ میں تم کو یاد کروں گا اور میرا شکریہ ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کیا کرو۔

1 ؎ یعنی قبلہ کی رہنمائی بھی ہمارا ایک ایسا ہی احسان ہے۔ جیسا کہ رسول کا بھیجنا احسان تھا۔ 12 منہ ترکیب : کما میں کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ یہتدون ہدایۃً کا ارسلنا اور اتماما کا ارسلنا اور بعض محققین کہتے ہیں فاذکرونی کما ارسلنا فعلی ہذا یکون منصوبا صفتہ للذکر اے ذکراً مثل ارسالی اور ما مصدریہ ہے منکم رسول کی صفت اور یتلوا ویزکیکم ویعلمکم حال ہے۔ تفسیر : خدا تعالیٰ نے دین محمد ﷺ کے منجانب اللہ ہونے پر چند وجوہ بیان فرمائیں۔ بعض ان میں سے الزامیہ ہیں کہ یہ دین ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ پس اس کا قبول کرنا ضرور ہے۔ چناچہ اس آیت میں اسی طرف اشارہ تھا ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم الامن سفہ نفسہ الخ اور بعض ان میں سے برہانیہ ہیں اور وہ یہ آیت قولوا آمنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراہیم واسمٰعیل واسحٰق ویعقوب والاسباط اس کے بعد خدا نے مخالفین کے دو شبہ ذکر فرما کر ان کا جواب شافی دیا۔ اول وقالوا کونوا ھود ونصارٰی تہتدوا دوسرا نسخ کے بارے میں تھا کہ شریعت محمدیہ میں نسخ ہوتا ہے۔ بالخصوص قبلہ کی بابت ہوا جس سے معلوم ہوا کہ یہ شریعت منجانب اللہ نہیں۔ سو یہ شبہ ان کا قویٰ تھا اس لیے اس کا جواب سیقول السفہاء الخ سے شروع ہو کر ولا تم نعمتی ولعلکم تہتدون پر ختم کردیا اور چونکہ تحویل قبلہ کو اتمام نعمت فرمایا تو اس کے ساتھ دوسری نعمت کو بھی یاد دلایا کہ ہم نے جس طرح کعبہ کو قبلہ بنانے میں تمہارے حال پر نعمت نازل کی ہے اور مخالف اس کی حقیقت سے ناواقف اعتراض کرتے ہیں اسی طرح ہم نے تم کو بڑی نعمت یہ دی کہ تمہارے پاس تمہیں میں کا ایک ایسا رسول بھیجا کہ جس نے نہ صرف کلام الٰہی لوگوں تک پڑھ کر سنایا بلکہ اس نے تزکیہ نفس اور تہذیب ارواح کی اور حکمت نظریہ اور عملیہ اور کتاب سکھائی اور بہت سی باتیں تم کو بتائیں جس کا اثر تم نے دیکھ لیا۔ عرب کی کیسی حالت خراب تھی ٗ پھر کیسی درست ہوئی۔ پس جس طرح اس پر مخالفوں کے شبہات بیجا تھے اسی طرح اس امر میں بھی شبہات بےجا ہیں۔ اب تم میری طرف اپنا دھیان دھرو اور مجھے یاد کرو۔ میں بھی تم پر اپنی رحمت کروں گا اور میری ان نعمتوں کو مدِنظر رکھ کر شکریہ کرتے رہو۔ کبھی ناشکری نہ کرنا اور کسی کے بہکانے میں آکر نافرمانی نہ کرنا۔ فائدہ : اقسام ذکر : ذکر کی تین قسمیں ہیں۔ اول یہ کہ زبان سے اس کی حمد اور تسبیح اور تمجید اور تہلیل و تکبیر پڑھی جاوے اور اس کی کتاب پڑھی جاوے۔ دوم ذکر قلبی اور وہ یہ کہ اپنے لطائفِ باطنیہ کو اور اپنے جمیع قوائے ادراکیہ کو اس کی طرف متوجہ کر دے اور یہاں تک محویت حاصل ہو کہ اپنے تئیں بھی بھول جائے خواہ نفی و اثبات کرکے خواہ مراقبہ سے خواہ توجہ اور ہمت شیخ سے یہ بات حاصل 1 ؎ ہو۔ جب انسان کو یہ حالت نصیب ہوتی ہے تو جس طرح ممکنات میں ایک دوسرے کے اثر سے حال بدلتا ہے مٹی پھول کی صحبت سے معطر اور لوہا آگ میں رہنے سے اخگر ہوجاتا ہے اسی طرح انسان پر آثار تقدیس فائض ہوتے ہیں۔ پھر تو اس کی زبان اور اس کی آنکھ خدا کی زبان اور اس کی آنکھ اور اس کے ہاتھ پائوں اس کے ہاتھ پائوں ہوجاتے ہیں (حالانکہ وہ ان چیزوں سے پاک ہے) جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہوا ہے اور پھر اس بندہ سے آثار عجیبہ بھی سرزد ہونے لگتے ہیں کہ جن کو معجزات و کرامات کہتے ہیں اور یہ بھی ذکر قلبی کی شاخ ہے کہ اس کی مخلوقات میں جو کچھ اسرار رکھے ہیں ٗ ان میں غور و فکر کرے تاکہ اس عالم کا ہر ذرّہ اس کے جمال جہاں آراء کے لیے آئینہ ہوجاوے۔ اس لیے ایک عارف نے فرمایا ہے (مارایت شیئا الارایت اللہ فیہ) کہ میں جب کسی چیز کو دیکھتا ہوں تو اس میں خدا ہی نظر آتا ہے۔ ہر چیز اس کی وحدانیت اور صفات کمالیہ کے لیے شاہد عدل بن کر سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس لیے قرآن اور احادیث صحیحہ میں اس ذکر کی بڑی تاکید آئی ہے اور ایک جگہ لعلکم تفلحون فرمایا ہے۔ قبل اس کے کہ اس ذاکر کی روح اس خاک کے پتلے سے مفارقت کرے اسی عالم میں یہ شخص عالم قدس کے لوگوں میں شریک ہوجاتا ہے۔ سوم قسم ذکر جو ارح یعنی ہاتھ پائوں وغیرہ ان اعضاء کا ذکر سو وہ ان اعضاء کو اس کے حکم میں مستعمل کرنا اور منہیات سے روکنا ہے اور اس لیے اس آیت میں نماز کو بھی ذکر کہا ہے۔ فاسعوا اِ لی ذکر اللہ۔ 1 ؎ ہرگز اس شخص کا قلب قابل انعکاس تجلیاتِ الٰہی و تنویر ضیاء نامتناہی نہیں ہوسکتا ہے تاوقتیکہ اس کا قلب لذایذ دنیوی وحظ نفسانی سے پاک و صاف نہ ہو اس لیے ہمت و توجہ شیخ کی ضرورت لاحق ہے تاکہ ذکر قلبی سے سالک کے لطائفِ باطنیہ کو اس کی طرف متوجہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلم کی جڑ اول اسلام دوم ایمان سوم احسان ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ احسان کیا چیز ہے آپ نے فرمایا کہ نماز میں اللہ تعالیٰ کو حاضر جان اور خیال کر کہ میں اس کو دیکھتا ہوں اور اگر یہ تجھے حاصل نہیں تو خیال کر کہ اللہ مجھ کو دیکھ رہا ہے علیٰ ہذا ہر عبادت اور ذکر الٰہی میں خواہ لسانی ہو یا قلبی غرض کہ اپنی ہستی کو ذات باری میں فنا کردی اسی کا نام عارف ہے۔
Ayahs 2:153–157

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

ایمان والو ! صبر اور نماز سے (ہر ایک سختی میں) مدد لیا کرو۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کو مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور ضرور ہم تم کو کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں سے اور پیداوار کے نقصان سے آزمائیں گے اور (اے نبی) ان صبر کرنے والوں کو مژدہ دے دو

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

جن پر جب کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اس کے ہی پاس جانا ہے۔

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا کی طرف سے (صد) آفریں اور رحمت ہے اور یہی ہدایت پائے ہوئے ہیں۔

ترکیب : بالصبر متعلق ہے استعینوا سے لا تقولوا فعل انتم اس کا فاعل لمن یقتل الخ جملہ مفعول من چونکہ معنی جمع ہے اس لیے اموات میت کی جمع خبر میں لانا مناسب ہوا احیاء خبر مبتداء محذوف کی اے ہم احیاء ولَنَبْلُوَنکُمْ جواب ہے قسم محذوف کا من الخوف موضع جر میں ہے کس لیے کہ یہ صفت ہے۔ بشیء کی من الاموال موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے محذوف کی تقدیرہ و نقص شیء من الاموال لان النقص مصدر ھو متعدالی مفعول وقد حذف المفعول۔ الذین اذا اصابتہم موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے صابرین کی قالوا انا للہ جواب ہے شرط کا اولئک مبتداء و صلوات مبتداء ثانی اور علیہم اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے مبتدا اول کی اولئک مبتدا ہم المہتدون جملہ اس کی خبر اور ممکن ہے کہ ہم ضمیر فصل ہو اور المہتدون تنہا خبر ہو۔ تفسیر : خدا تعالیٰ نے پہلی آیت میں اپنے ذکر اور شکر اور عدم کفران کا حکم دیا تھا کہ جو تمام عبادتوں اور ہر قسم کی اوامرو نواہی کا لب لباب تھا اور اس قسم کے بارگراں کے تحمل کے لیے کوئی سہارا بھی ضرور ہے کہ جس کی اعانت اور وجہ سے یہ بارگراں آسان ہوجاوے اور نیز اگلی آیات میں جہاد اور اشاعت خیر کا بھی حکم دینا منظور تھا کہ جس پر قوم اور ملت کی عزت و آبرو کا مدار ہے۔ اسی لیے اس نے بطور تمہید کے اس جگہ وہ آیت نازل فرمائی کہ جو دونوں مقصدوں کو خوب پورا کر دے اور جس کو دونوں سے کامل درجہ کا ارتباط ہو۔ پس فرمایا کہ اے ایمان والو ! اس بارگراں کی سہولت کے لیے صبر اور نماز پڑھنے سے کام لو۔ کس لیے کہ صبر اور نماز ایسے آلے ہیں کہ جس سے یہ کام بلکہ جہاد فی سبیل اللہ دونوں سہل ہوجاتے ہیں اور یہ اس لیے کہ صبر عقل کا اتباع کرکے نفس کو غضب اور شہوت سے روکنے کو کہتے ہیں۔ اس لیے جس میں یہ دونوں چیزیں ہوں گی صبراسی کو نصیب ہوگا۔ ملائکہ میں چونکہ غضب اور شہوت نہیں بلکہ عقل صرف ہے تو اس لیے ان کو بھی یہ نعمت نصیب نہیں اور دیگر حیوانات میں عقل نہیں۔ غضب اور شہوت ہے اس لیے وہ بھی اس سعادت سے فیضیاب نہیں۔ ان کی قوت جماعیہ جس جانور سے چاہتی جماع کرنے کا حکم دیتی ہے اور جس چیز کے کھانے پینے کو چاہتی ہے ٗ حکم دیتی ہے جس پر چاہتی ہے حملہ کرنے کے لیے آمادہ کردیتی ہے۔ سو وہ اس کے کہنے سے ویسا ہی کرتا ہے۔ عقل اس کا ہاتھ نہیں پکڑتی کہ ارے ظالم کیا کرتا ہے۔ بخلاف انسان کے کہ اس کو عقل مانع آتی ہے اور اس کے کہنے سے نفس کو روکتا ہے تو نفس پر پژمردگی اور روح پر تازگی اور نورانیت طاری ہوتی ہے اور جب روح پر نورانیت آتی تو اس آئینہ میں جمال جہاں آرا کا جلوہ ہوا خدا کا قرب نصیب ہوگیا۔ اسی لیے فرمایا ان اللہ مع الصابرین اور جبکہ قرب مبداء فیاض نصیب ہوا تو اس کے اثر صحبت سے تمام کام دنیا و آخرت کے انجام پا گئے۔ اس لیے کسی نے فرمایا الصبر مفتاح الفرج کہ صبر فتوحات کی کنجی ہے۔ دیکھئے جنگ و قتال میں جب ہر طرح کی تکلیف پر آدمی صبر کرتا ہے تو اپنے دشمن پر فتح پاتا ہے اور عزت و دولت و راحت اس کو آکر سلام کرتی ہے۔ کاشتکار جب گرمی اور بھوک و پیاس کی تکلیف اٹھا کر محنت کرتا ہے تو غلہ کاٹتا ہے۔ الغرض دنیا و آخرت کے تمام کاروبار کا صبر پر مدار ہے۔ اقسام صبر : واضح ہو کہ صبر کی دو قسمیں ہیں۔ بدنی اور نفسانی۔ پھر بدنی کی بھی دو قسمیں ہیں فعلی جیسا کہ بڑے بھاری اور مشقت کے کاموں کو کرنا انفعالی۔ درد اور تکلیف کو برداشت کرنا گو اس تکلیف کے آثار بےخود متقضی طبعی سے ظاہر ہوجائیں گے مگر یہ شخص اسی حالت میں خلاف قانون عقل و شرع کوئی حرکت نہ کرے اور صبر نفسانی یہ ہے کہ نفس کو اس کی خواہشوں سے روکے۔ اگر خواہش شکم و آلہ تناسل کو روکے گا تو اس کو عفت کہیں گے اور اگر فضول چیزوں کی خواہش سے روکے گا تو اس کو زہد و قناعت کہیں گے۔ اگر غصہ کی حالت میں اپنے دشمن سے درگزر کرے گا اور نفس کو انتقام لینے سے روکے گا تو اس کو حلم کہیں گے۔ اگر کسی کا راز افشاء کرنے سے زبان کو بند کرے گا تو اس کو رازداری کہیں گے اور جو زبان کو بیہودہ بکواس سے اور اپنے اعضاء کو بےجا حرکات سے بند کرے گا تو اس کو متانت کہیں گے۔ صبر کے فضائل قرآن و حدیث میں بکثرت ہیں۔ قال اللہ تعالیٰ وجعلنا ھم ائمۃ یہدون بامرنا لما صبروا۔ وتمت کلمۃ ربک الحسنیٰ علی بنی اسرائیل بما صبروا جس کسی نے ترقی حاصل کی ہے اس صبر ہی کی بدولت کی ہے اور اسلام نے امت مرحومہ کے لیے صبر کی ایک شاخ روزہ کو بھی فرض کردیا تاکہ نفس کو بھوک اور پیاس کی تکلیف اٹھانے کی عادت پڑے اور جماع جیسی مرغوب چیز کو باوجود سامان مہیا ہونے کے ترک کرنے کا خوگر ہو۔ فضائلِ نماز : اور نماز تو ایک عجیب تریاق مجرب ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ کی حمد وثناء اور دعا اور اس کے آگے سر کے بل جھکنا ہے، اس میں خوامخواہ بندے کو اللہ سے تقرب حاصل ہوتا ہے اور یہ روح کو منور کرنے کا اعلیٰ طریقہ ہے اور اسی لیے اس کی نسبت وارد ہے ان الصلوٰۃ تنہیٰ 1 ؎ عن الفحشاء والمنکر پس جب بندے کو مولیٰ سے تقرب و توصل ہوا تو اس کے سب کام انجام کو پہنچے اور چونکہ خدا تعالیٰ تمام کائنات کی اصل ہے تو ہر چیز جب اس کو موانع پیش نہیں آتے تو اپنی اصل کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس حدیث کے یہی معنی ہیں کان النبی ﷺ اذا اخرجہ امر قرع الی الصلوٰۃ (جامع الاصول) اور جبکہ خدا تعالیٰ نے صبر کی فضیلت میں یہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ صابرین کو معیت اور تقرب غیب ہوتا ہے اور صبر کا اعلیٰ موقع قتل فی سبیل اللہ تھا۔ کس لیے کہ جان کے آگے مال یا کسی اور منفعت کی کچھ بھی وقعت نہیں۔ نقل مشہور ہے گر جان ہے تو جہاں ہے۔ پس جس قدر صبر اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے میں ہے اس قدر اور چیز کے صرف کرنے میں نہیں اور نیز اگلی آیات میں جہاد اور قتل فی سبیل اللہ کا حکم ہونے والا تھا۔ اسی لیے اس صبر کا اور بھی ذکر کرنا مناسب ہوا اور سب اجروں میں بڑا اجر یہ ہے کہ اس کے عوض میں بندے کو حیات ابدی عطا ہو۔ پس فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ٗ تم ان کو مردے نہ کہو کیونکہ ؎ ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است برجریدہ عالم دوامِ 1 ؎ نماز بےشکر برائی اور بےحیائی کی باتوں سے روکتی ہے۔ بلکہ وہ زندہ ہیں کس لیے کہ ؎ کشتگان خنجر تسلیم را ہر زمان از غیب جانے دیگر است صرف یہ بات ہے کہ وہ تم کو نظر نہیں آتے۔ واضح ہو کہ انسان روح یا نفس ناطقہ ہے اور یہ جسم خاکی کہ جو ہم کو دکھائی دیتا ہے اس نفس ناطقہ یعنی (روح ہوائی کا کہ جس کو نسمہ کہتے ہیں) مرکب ہے۔ اعنی نفس ناطقہ کا تعلق روح ہوائی سے ہے کہ جو لطیف خون کے ابخرات سے پیدا ہوتی ہے اور روح ہوائی کا مرکب یہ جسم ہے۔ جب کسی سبب سے اس جسم خاکی سے تعلق منقطع ہوجاتا ہے ( اور اس ترک تعلق کا نام موت عرفی ہے تو نفس ناطقہ کو جو جوہر نورانی ہے باقی رہتا ہے اور نہایت عمدہ طرح سے حس و ادراک اور شعور وتمیز بھی باقی رہتے ہیں۔ اس میں کافر و مومن شہید غیر شہید سب برابر ہیں۔ پس اس معنی سے موت ہے تو جسم کو اور حیات ہے تو نفس ناطقہ کو لیکن کبھی پاک روحوں کا اثر جسم خاکی تک بھی پہنچتا ہے اور یہ جسم سڑتا گلتا نہیں جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیائِ کرام و شہدائِ عظام کے اجساد سے ظاہر ہوا ہے۔ اسی طرح اس موت عرفی میں بھی سب انسان شریک ہیں۔ اس معنی سے اور غیر شہید انبیاء و غیر انبیاء سب کو موت ہے انک میت وانہم میتون٭ کل نفس ذائقۃ الموت (آپ بھی ایک روز مرنے والے اور وہ بھی مرنے والے ہیں ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے) اور اس لیے ان کے بعد ان پر احکام موت جاری ہوتے ہیں۔ مال میں حصے لگ جاتے ہیں۔ اب حیات شہداء و انبیاء کے یہ معنی ہیں اور آیت میں وہی مراد بھی ہیں کہ جسم سے روح جدا ہوجانے کے بعد روح کو اس عالم قدس میں ہر قسم کا آرام اور عزت نصیب ہو اور چونکہ روح بھی ایک جسم لطیف ہے۔ اس جسمانی خول کے آثار بھی اس میں مطیع ہوتے ہیں اور اس کی نورانی صورت کو اس جسمانی صورت سے بھی ایک ایسی مناسبت ہوتی ہے کہ روح کو وہی شخص روحانی عالم میں کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے اس عالم میں کہ جس کو اس عالم سے وہی نسبت ہے جو عالم خواب کو عالم بیداری سے ہے ٗ ہر قسم کی لذات ‘ میوے اور عمدہ مکان انہار و حورو قصورمیسر آتے اور ان سے لذت پاتے ہیں۔ بالخصوص شہدا کو ان کو نسمہ سابق سے ایک عجیب تعلق باقی رہتا ہے جس کے لیے عالم برزخی میں ان کے لیے ایک نہایت عمدہ پیکر عطا ہوتا ہے اور وہ اس پیکر نورانی سے بارگاہ قدس میں جہاں تک چاہتے ہیں طیران کرکے ترقی کرتے ہیں اوراقسام و انواع کے لذات سے مستفید ہوتے ہیں جس کی طرف آیت میں اشارہ ہے اور اس حدیث 1 ؎ میں بھی کہ جس کو شیخین نے روایت کیا ہے کہ شہداء سبز طیور کے قوالب میں آکر آشیانہ عرش میں رہتے اور جہاں سے جی چاہتا کھاتے ہیں۔ اسی طرف ایماء ہے۔ اسی طرح وہ جب چاہتے ہیں اس عالم کی طرف بھی نزول کرتے ہیں۔ کبھی لوگوں کو عیاناً بھی دکھائی دے جاتے ہیں مگر ان کے اس حیات جاودانی کو یہ آنکھیں اور یہ حواس نہیں محسوس کرسکتے کہ جو اجسام کثیفہ کے احساس کے لیے مخصوص ہیں اور اسی سے ایک انچ آگے بھی ان کا ادراک نہیں۔ یہ کامرانی دراصل وہ حیات ابدی ہے کہ جس کا آیت میں ذکر ہے۔ اس کے برخلاف کفار و فجار کا اس عالم میں معذب ہونا موت ہے۔ ایک شخص طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہے۔ دوسرا قسم قسم کی نعمتوں میں ہے۔ گو دونوں زندہ ہیں مگر اول الذکر کی زندگی کیا زندگی ہے۔ وہ تو موت سے بھی بدتر ہے۔ زندگی تو دوسرے شخص کی ہے۔ اس لیے شہیدوں کو زندہ کہا جاتا ہے اور اسی تعلق خاص کے سبب ان ان کے اعمال حسنہ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور لوگوں کی طرح منقطع نہیں ہوجاتا۔ جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے۔ کل ابن ادم یختم علی عملہ اذامات الا المجاھد فی سبیل اللہ فانہ یمنی لہ عملہ الی یوم القیٰمۃ (رواہ البخاری و مسلم) ( ہر انسان جب مرتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں مگر مجاہد فی سبیل اللہ کے اعمال ہمیشہ جاری رہتے ہیں 12 منہ حقانی) لیکن اس حیات میں انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام شریک ہیں اور اس کے درجات بھی متفاوت ہیں مگر شہیدوں کو تلذذات حاصل کرنے میں 1 ؎ اس حدیث کے یہ معنی سمجھ کر (کہ شہید طوطے یعنی حیوان بن کر درختوں پر اڑانیں مارتے پھریں گے ان نیت سے حیوانیت میں آجاویں گے) اعتراض کرنا اور قہقہہ اڑانا ایک سخت کوڑ مغزی ہے 12 منہ ایک خصوصیت خاصہ ہے اور اس لیے جناب نبی ﷺ نے شہادت کی آرزو کی ہے اور کیوں نہ ہو جو خدا کو اپنی حیات مستعار سپرد کرتا ہے وہ اس کے بالعوض اس کو حیات ابدی 1 ؎ عطا کرتا ہے۔ گو وہ لوگ ہم کو نظر نہیں آتے اور اسی لیے خدا نے لاتشعرون فرمایا لاتعلمون نہ فرمایا۔ جب خدا تعالیٰ نتائجِ صبر اور اس کے فوائد بیان فرما چکا تو اس کے بعد مطلع کرتا ہے کہ ضرور تم کو دولت صبر سے بہرہ ور کریں گے جس لیے تم پر گو ناگوں مصائب پیش آویں گے۔ مخالفوں کا خوف اور بھوک اور نقصان مالی و جانی اور نقصان ثمرات یعنی مرگ اولاد اور باغ اور کھیت سے بےبہرہ رہنا اور اپنی کوششوں میں ناکامیاب ہونا ان برائیوں میں سے تم کو آزمائیں گے۔ پھر جو اس تپائو کے بعد کھرا نکلا اس کو حیات جاودانی اور دنیا میں بھی ہر طرح کی کامیابی ‘ فتح و ظفر ‘ نیکو نامی نصیب ہے۔ ان آیات میں ایمانداروں کو ثابت قدمی اور استقامت فی الدین اور ہر قسم کی تکالیف برداشت کرکے دین پر قائم رہنے کی تعلیم ہے اور دراصل انسان کی ترقی دنیا و دین کی یہی برداشت و استقبال اور جان کا ہی عمدہ سیڑھی ہے جس نے اس پر چڑھنے سے انکار کیا وہ ہر طرح سے محروم رہا اور جو اس پر چڑھ گیا ٗ وہ مراد کو پہنچا۔ اس آیت کے بعد صحابہ بلکہ خود حضرت رسالت پناہ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے مصائب پیش آئے جن کا ذکر کرنے سے کلیجہ کانپ اٹھتا ہے۔ مگر صد آفرین ہے ان صادقوں پر کہ انہوں نے اس تلخ جام کو کس استقلال سے پیا اور دم نہ مارا۔ یہ کوچہ عشق ہے اس کی جانباز ہی سیر کرتے ہیں ؎ سرمد غم عشق بوالہوس را نہ دہند سوزِ غم پروانہ مگس را ندہند ابتدائِ اسلام میں یہ صبر و استقلال اور اس کے ذریعہ سے بےحد کامیابی نبوت کا صریح معجزہ ہے۔ آخر وہ کیا لذت روحانی تھی کہ جس کے لیے لوگوں نے یہ مصائب اٹھائے۔
Ayahs 2:158–159

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

البتہ صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو خدا قدردان ہے جاننے والا۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو کہ جس کو ہم نے نازل کردیا ہے ٗ اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے اس کو ان لوگوں کے لیے کتاب میں بھی بیان کردیا (سو) انہیں پر خدا لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی

ترکیب : صفا اور مروہ دونوں اسم ان من شعائر اللہ اس کی خبر فمن حج البیت الخ شرط فلا جناح الخ جواب شرط اسی طرح من تطوع الخ شرط فان اللہ الخ جواب تفسیر : اول آیت میں صابرین کی مدح اور صبر کے فضائل تھے (جس طرح کہ اس سے پہلی آیت میں ذکر اور شکر کا ذکر تھا) ۔ کس لیے کہ انسان کی دو حالت ہیں۔ نعمت و مصیبت اول میں شکر اور دوسرے میں صبر کرنا مقتضی ایمان ہے۔ یہاں خدا تعالیٰ صابرین کے صبر کا نتیجہ ذکر کرتا ہے کہ صفا اور مروہ جو خانہ کعبہ کی متصل دو چھوٹی سی پہاڑیاں ہیں۔ وہ ہاجرہ والدہ حضرت اسماعیل کے صبر کی وجہ سے خدا کی نشانیاں اور مقدس و متبرک جگہ ہوگئیں۔ جب ہاجرہ اپنے معصوم بچے اسماعیل کو لے کر اس خشک میدان میں آرہیں اور مشک کا پانی ختم ہوچکا اور دھوپ کی گرمی اور پیاس کی شدت اور بچے کے تڑپنے میں بیقرار ہو کر خدا کی طرف ملتجی ہوئیں اور اس حالت میں کبھی اس پہاڑی پر اور کبھی اس پہاڑی پر ظہور رحمت الٰہی کی امید میں آئیں گئیں تو خدا نے انہیں پہاڑوں پر سے تجلی رحمت فرمائی اور ہاجرہ کی دعا قبول کی اور خدا کے فرشتہ نے آواز [1 ؎ مفسر نیچر نے اپنی تفسیر میں اس مقام پر معتزلہ کی تقلید کرکے حیات کے معنی حیات فی الدین لیے ہیں اور کبھی آیندہ زندہ ہوجانا مراد رکھا ہے سو یہ محض ان کی کم فہمی ہے۔ ] دی کہ دیکھ خدا نے تیرے اور تیرے بچے کے لیے چشمہ جاری کردیا۔ سو جب سے یہ جگہ محل اجابت دعا قرار پا گئی۔ پس جو کوئی حج یا عمرہ کے لیے جاوے تو اس عارضی وجہ سے کہ ایام جاہلیت میں اساف اور نائلہ کے بت (جو دو مرد و عورت تھے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے پاس عین طواف میں ارادہ زنا کا کیا تھا جس سے ان کی صورت مسخ ہوگئی تھی) مشرکین نے رکھ لیے تھے اور ان کے ارد گرد طواف کرتے تھے۔ ان مقامات مقدسہ کی بزرگی میں کوئی فرق نہ خیال کرے۔ اگر ان پہاڑیوں کے میدان میں اسی طرح سے کہ جس طرح ہاجرہ اجابت دعا کے لیے طواف کرتی پھریں تھیں ٗ کوئی طواف کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں بلکہ اس کے لیے دراجات مفتوح ہوتا ہے۔ یہ نیک بات ہے اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرتا ہے تو خدا بھی اس کو رائیگاں نہیں کرتا بلکہ اس کی قدردانی کرتا ہے کیونکہ وہ شکور بھی ہے یعنی قدردان اور واقف بھی۔ دنیا کے امراء اور سلاطین کی طرح غافل نہیں کہ مخلصوں کی خیرخواہی اور خدمت گذاری ان تک نہیں پہنچتی۔ صفا اور مروہ خانہ کعبہ سے شرقی جانب دو پہاڑیاں ہیں۔ صفا تو جنوبی جانب ہے اور مروہ شمالی جانب میں ان کے بیچ میں تخمیناً سات سو گز کی مسافت ہے۔ صفا تو کوہ ابو قبیس کی جڑ میں ہے اور مروہ کوہ قعیقعان کے آگے ناک کی طرح ہے۔ اب ان دونوں پہاڑیوں پر آبادی ہے بلکہ کسی قدر ان پہاڑوں پر بھی اور صفا ومروہ پر صرف سیڑھیوں کے نشان بنا دیے ہیں اور ان کے درمیان جو فاصلہ ہے ٗ پہلے وہاں نشیب اور ناہموار زمین تھی۔ اب تو حرم کی دیوار سے ملا ہوا ایک بازار وسط شہر میں ہے۔ وہیں حاجی سعی کرتے ہیں اور طواف بھی۔ شعائر : شعیرہ یا شعارہ کی جمع ہے جس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں اور شعائر اللہ عرف شریعت میں عبادت کے مکانات اور زمانوں اور علامات کو کہتے ہیں۔ مکانات عبادت جیسا کہ کعبہ اور عرفہ اور مزدلفہ و جمرات ثلث و صفا ومروہ ومنی و جمیع مساجد اور اوقات جیسا کہ رمضان اور اشہر حج و عیدین و جمعہ اور علامات جیسا کہ اذان و اقامت و نماز بجماعت اور اسی طرح دینی بزرگوں کے وہ مقامات کہ جہاں ان پر افضالِ الٰہی نے ظہور کیا تھا ٗ حج کے شعائر کہلاتے ہیں۔ حج کے لغوی معنی قصد وغیرہ کے ہیں مگر شرع میں ارکان مخصوص کا نام ہے اور حج وعمرہ میں یہ فرق ہے کہ حج میں نویں ذوالحجہ کو عرفات میں جانا اور پھر وہاں سے آکر طواف کعبہ کرنا ہوتا ہے اور عمرہ میں یہ نہیں۔ باقی احرام باندھنے اور طواف اور سعی صفا اور مروہ میں دونوں شریک ہیں اور عمرہ کے لیے کوئی مہینہ اور دن خاص نہیں۔ ہرچند لفظ لاجناح سے صفا ومروہ کی سعی واجب یا فرض نہیں معلوم ہوتی بلکہ یہ بات کہ جو سعی کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں لیکن دلائلِ شریعہ سے اس کا کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ پھر امام شافعی فرض کہتے ہیں کہ بغیر اس کے حج وعمرہ نہیں ہوتا نہ کوئی قربانی اس کے قائم مقام ہوتی ہے اور امام ابوحنیفہ واجب کہتے ہیں کہ اس کے نہ کرنے سے حج وعمرہ فوت نہیں ہوتا بلکہ قربانی سے بدل مافات ہوسکتا ہے۔ یہ ایک باریک سا فرق ہے اور دلائل ہر فریق کے ان کی کتابوں میں مذکور ہیں مگر جو لوگ اس کو ضروری نہیں کہتے جیسا کہ مجاہد اور عطا تو ان کے قول صحیح نہیں۔ کس لیے کہ بہت سی احادیث صحیحہ اس کے وجوب کو ثابت کر رہی ہیں۔ بالخصوص حضرت عائشہ ؓ کی وہ حدیث کہ جس کو امام بخاری و مسلم ومالک نے روایت کیا ہے کہ عروۃ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو اس پر کچھ حرج نہیں۔ ام المومنین نے فرمایا تو سمجھا نہیں ٗاگر یوں ہوتا تو ان لایطوف بہما فرماتا۔
Ayahs 2:160–162

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر وہ کہ جنہوں نے توبہ کی اور نیکی اختیار کی اور صاف ظاہر کردیا تو ہم بھی ان کو معاف کردیتے ہیں اور ہم تو بڑے ہی معاف کرنے والے مہربان ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جو منکر ہوگئے اور انکار ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو انہیں پر خدا کی لعنت ہے اور فرشتوں اور سب لوگوں کی بھی۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ سدا اسی میں رہیں گے نہ تو ان کے عذاب ہی میں کمی کی جاوے گی اور نہ ان کو چھٹکارا ہی ہوگا۔

ترکیب : الذین موصول یکتمون فعل بافاعل ما انزلنا اس کا مفعول من البینت والہدٰی بیان ما من بعد ما متعلق ہے یکتمون سے فی الکتاب متعلق ہے بیناہ سے یہ سب مجموعہ صلہ ہوا۔ پھر موصول وصلہ اسم ان اور اولئک مبتدا یلعنہم الخ جملہ اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے۔ ان کی الا الذین الخ استثناء متصل موضع نصب میں ہے اور مستثنیٰ منہ ضمیر ہے یلعنہم میں الذین کفروا الخ اسم ان اولئک مبتداء علیہم لعنۃ اللہ الخ خبر جملہ خبران خالدین حال سے ضمیر علیہم سے اور لایخفف حال ہے ضمیر خالدین سے۔ تفسیر : اول تحویل قبلہ کے بارے میں گفتگو تھی اور اس کے ضمن میں کعبہ کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کے شکوک و شبہات کا جواب تھا کیونکہ وہ کعبہ اور حج وغیرہ امور کی نسبت یہ کہتے تھے کہ یہ جاہلیت کی باتیں ہیں۔ پیغمبر برحق ہوتے تو ان باتوں کو نہ کرتے۔ پھر اس کلام کو عمدہ نصیحت اور یاد الٰہی اور شکر اور صبر کی تاکید اور اس کے عمدہ نتائج پر ختم کرکے اصل مدعا کی طرف رجوع کرتا ہے کہ ہمارے پیغمبر کی شریعت اور جس قدر اس کے اصول ہیں وہ سب کتب انبیاء تورات وغیرہ میں مذکور ہیں اور نیز اس نبی کی بشارتیں اور فاران سے خدا کا جلوہ گر ہونا اور بنی قیدار میں خدا کا فضل و رحمت کا وعدہ سب کچھ ان کتب میں خدا تعالیٰ نے بیان کردیا ہے مگر تعصب وعناد سے اہل کتاب ان باتوں کو چھپاتے اور عرب کے جاہلوں اور اپنے عامیوں کو شبہات میں ڈال کر گمراہ کرتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ ان چیزوں کو کہ جن کو ہم نے لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کردیا ہے ٗ چھپاتے ہیں اور ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت پر پردہ ڈالتے ہیں اور عالم کی روشنی کو بجھاتے ہیں تو ان پر خدا کی طرف سے اور تمام عالم کی طرف سے لعنت برستی ہے جس کا نتیجہ دنیا کی رسوائی اور بےبرکتی اور عالم آخرت کا عذاب ہے مگر جو لوگ اس فعلِ بد سے توبہ کرکے نیک بختی اور خدا کی امانت کا اظہار اختیار کرتے ہیں تو ہم بھی ان کو معاف کردیتے ہیں۔ ہاں جو اسی کفر میں دم اخیر تک رہتے ہیں اور اسی حالت میں اس عالم سے جاتے ہیں تو ان پر ہمیشہ خدا کی طرف سے اور ملائِ اعلیٰ کی طرف سے بلکہ عالم سفلی کی طرف سے لعنت برستی ہے کہ جس سے وہ اس عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں کہ کبھی ان سے کم نہیں ہوگا اور نہ کوئی ان کو اس سے مہلت دلا سکے گا۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا خدا تو خدائے واحد ہے جس کے سوائے کوئی معبود نہیں وہ بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے۔

ترکیب : الہکم مبتداء الہ واحد موصوف و صفت خبر الا ھو مستثنیٰ موضع رفع میں ہے کس لیے کہ یہ بدل ہے موضع لا الہ سے کیونکہ محل لا کا اور جس میں کہ یہ عمل کرتا ہے رفع ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور اگر مستثنیٰ موضع نصب میں ہوتا تو الا ایاہ ہوتا الرحمن بدل ہے ھو سے یا خبر مبتداء ہے اور یہ جائز نہیں کہ ھو کی صفت ہولان الضمیر لا یوصف اور نہ یہ کہ ہو کی خبر ہولان المستثنیٰ ہنالیس بجملۃ فی خلق السموات الخ سب جملہ یکے بعد دیگرے خبر ہیں۔ ان کے اور لآیات الخ اسم ہے ان کا۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور اس کے احکام کے چھپانے والوں اور کفر پر مرنے والوں کو یہ حکم سنایا گیا کہ ان پر خدا اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے تو اس جگہ یہ خطرہ شیطانی پیدا ہوتا تھا کہ یہ دعویٰ سرے سے غلط ہے۔ کس لیے کہ اور بھی شخص ایسے ہیں کہ جن کو خدائی اختیارات ہیں یا وہ خدائی کے حصہ دار ہیں۔ اگر ایک نے نکالا تو دوسرے کی طرف ملتجی ہوجاویں گے۔ چناچہ عموماً عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی کا حصہ دار جانتے ہیں اور ان کو بیٹا کہتے ہیں اور مشرکین قدیم و حال تو عناصر و آسمان و ارواح وغیرہ سینکڑوں چیزوں کو خدائی میں شریک جانتے تھے اور جانتے ہیں اور مدینہ کے بعض بیوقوف یہود بھی عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس وسوسہ شیطانی کو باطل کردیا۔ اے بنی آدم تم سب کا ایک ہی معبود ہے پس عزیزے کہ از درگہش سر بتافت بہردر کہ رفت ہیچ عزت نیافت اور یہ اس لیے کہ اس کے سوائے عرصہ وجود میں اور کوئی معبود ہی نہیں۔ پھر اس دعویٰ کے ثبوت میں خدا تعالیٰ نے آٹھ وہ دلیلیں بیان فرمائیں کہ جن سے خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور دیگر صفات کمالیہ اور نیز اس کا وجود معلوم ہوجاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ دلیلیں اس کی انعام اور بخشش کے لیے آئینہ بھی ہیں اور یہ آٹھوں چیزیں امور مذکور پر ایک وجہ سے نہیں بلکہ مختلف وجوہ سے دلالت کرتے ہیں۔ وہ آٹھ چیزیں یہ ہیں۔ (1) آسمان و زمین کی پیدائش۔ سو یہ چند طور پر دلالت کرتی ہے از آنجملہ یہ کہ افلاک متعدد ہیں اور ان میں ستارے بھی متعدد ہیں اور باوجود یکہ طبیعت جرم علوی سب میں مشترک ہے مگر ہر ایک مختلف ہے۔ کوئی آسمان بڑا کوئی چھوٹا ہے۔ اسی طرح کوئی ستارہ بڑا کوئی چھوٹا ہے اور کسی کا رنگ مائل بسرخی ہے کسی کا مائل بسفیدی اور کسی کی حرکت کسی طرف ہے اور کسی کی کسی طرف۔ کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُوْنَ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کسی قادر مختار کے قبضہ ٔ قدرت میں ہیں کہ وہ اپنے ارادہ اور اختیار سے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اگر یہ چیزیں از خود ہوتیں تو پھر باوجود اتحاد مقتضٰی کے یہ اختلافات کیسے ؟ از آنجملہ یہ کہ افلاک اور ستارے اجسام ہیں اور ہر جسم مرکب ہے اور ہر مرکب حادث ہے یعنی پہلے نہ تھا پھر ہوا اور ہر حادث کے لیے ایک محدث قدیم و قدیر ضرور ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اور زمین کے مختلف حالات سے تو زیادہ تر یہ بات ثابت ہے کہ یہ کسی قادر مختار کے قبضہ قدرت میں ہے۔ (2) دنوں اور راتوں کا اختلاف کہ رات جاتی اور دن آتا ہے اور کبھی راتیں چھوٹی اور کبھی بڑی ہوتی ہیں اور اسی طرح دنوں کا حال ہے اور ایک ہی وقت میں کہیں رات ہے کہیں دن ہے آج جو ہماری رات دس یا بارہ گھنٹہ کی ہے وہی بلاد شمالیہ میں دو مہینے کی بلکہ قطب کے نیچے رہنے والوں کے لیے چھ مہینے کے برابر۔ پس یہ عجائب از خود نہیں بلکہ اس کے ہاتھ میں ہے کہ جس کے ہاتھ میں آسمان اور آفتاب کی ڈوری ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ (3) کشتی اور جہاز اور آگہنبوٹ کی روانگی ہے۔ تمام زمین پر کرہ مار محیط ہے یعنی ہر طرف پانی ہے جس کو عربی میں بحر اور اردو میں سمندر کہتے ہیں اور جو پانی کی بارش اور زمین کے چشموں یا برف کے پگھلنے سے بہتے ہیں تو ان کو عربی میں نہر کہتے ہیں۔ پس اس سمندر میں سے بقدر چوتھائی زمین اٹھی ہوئی ہے کہ جس پر یہ تمام ممالک یورپ افریقہ ایشیا وغیرہ آباد ہیں اور کہیں کہیں اور بھی بڑے بڑے جزیرے یعنی ٹاپو ہیں کہ جن میں ملک بستے ہیں۔ جیسا کہ امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ اور کہیں کہیں سینکڑوں کوسوں تک زمین میں سمندر کی کوئی شاخ چلی گئی ہے جس کو خلیج کہتے ہیں۔ پس ان دور دراز ملکوں میں جو لوگ جاتے اور تجارت کے عمدہ عمدہ کارآمد اسباب لے جاتے ہیں تو بذریعہ ہوائی اور دخانی کشتیوں کے لے جاتے ہیں۔ اب اس بےانتہا دریا میں اس طرح سے کشتی کا چلنا اور اس کے متعلق انسان کو عمدہ عمدہ علوم اور آلات تعلیم کرنا خاص اسی خداوند تعالیٰ و تقدس کا کام ہے اور پھر اس کو پہاڑ سی موجوں سے بچانا اور ہوا کا موافق رکھنا سب اس کے ید قدرت میں ہے۔ (4) آسمانوں میں مینہ کا اتارنا یعنی بادلوں سے بارش کا نازل کرنا یہ بھی اس کے وجود قدرت کاملہ کی دلیل ہے۔ ہزاروں من پانی بادلوں میں بھرا ہوا ہوا کی گاڑی پر لدا ہوا ہے۔ اس کو فرشتے ادھر ادھر لیے پھرتے ہیں جہاں جس قدر ضرورت ہوتی ہے اسی قدر اس کے حکم سے نہایت سہولت سے برساتے ہیں۔ (5) اس پانی سے زمین مردہ کو زندہ کرنا یعنی اس سے ہزارہا جڑی بوٹیاں ٗ اناج گھاس عمدہ عمدہ پھل پھول کے درخت اگانا یہ سب اسی کا کام ہے باوجودیکہ ایک زمین ہے اور وہی پانی اوپر سے برستا ہے مگر ایک درخت شیریں ہے تو دوسرا تلخ بلکہ ایک ہی درخت میں کہیں سرخ پھول ہیں تو کہیں سفید۔ پھر نباتات میں جو کچھ ید قدرت نے گلکاریاں کی ہیں اس کی تو نقل کرنے میں بھی بڑے بڑے نقاش حیران و سرگرداں ہیں۔ باوجودیکہ ایک مادہ ‘ ایک پانی ‘ ایک ہوا ‘ ایک آفتاب و ماہتاب کی شعاع اس پر نباتات میں یہ کچھ اختلافات۔ پس اگر یہ سب نیرنگیاں اس قادر مطلق کے یدقدرت کی نہیں ہیں کہ جو پردہ جس کے پیچھے جلوہ گر ہے تو اور کیا ہے ؟ سچ تو یوں ہے کہ ہر ہر شجر بلکہ ہر برگ و براسی کی خداوندی کا اقرار کر رہا ہے۔ ؎ ہر گیا ہے کہ از زمین روید وحدہ لا شریک لہ گوید (6) زمین پر حیوانات کا پھیلانا ٗحیوان کی ہزارہا انواع و اقسام ہیں۔ ان کی گنتی اور شمار بشر کی قدرت سے باہر ہے۔ ان کے دو قسم عام ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہیں کہ جو توالد اور تناسل کے طریق پر پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ آدمی گھوڑا وغیرہ دوسری قسم وہ ہیں کہ جو بطریق تولید پیدا ہوتی ہیں جیسا کہ برساتی پانی سے سینکڑوں مینڈک اور ہزارہا جھینگر اور دیگر حشرت الارض مٹی سے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اب ان میں جو اعلیٰ اور اشرف حضرت انسان ہیں انہیں کو ملاحظہ فرمائیے۔ نطفہ جو اس کی اصل ہے اسی کو غور کیجئے کہ وہ ایک متشابہ الاجزاء چیز ہے پھر وہ کون ہے جو اس نطفہ کی تقسیم کرتا ہے۔ کسی قدر کا قلب اور کسی قدر کی ہڈی وغیرہ اعضاء بناتا ہے۔ اگر کہے کہ یہ خود اس انسان کا فعل ہے تو یہ ہنوز بنا ہی نہیں ٗ فعل کیا کرے گا اور جب یہ کامل بن کر باہر آتے اور پھر علوم و فنون میں استاد ہوجاتے ہیں تب تو ان سے ایک بال بھی نہیں بن سکتا۔ نہ ہڈی نہ چمڑا بنا سکتے ہیں تو اس حالت میں کیا کرسکتے تھے۔ اگر کہو کہ یہ طبیعت نطفہ کا فعل ہے تو وہ ہر جزو میں مساوی ہے۔ اس کا فعل بھی ہر جزو میں مساوی ہونا چاہیے تھا۔ غایۃ الامر اس کی شکل گول مول ہوتی ہے جیسا کہ بسائط کی شکل کروی ہوتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ کاریگری اسی قادر مطلق کی ہے کہ جو پانی پر تصویر کھینچتا ہے۔ اب اس کی پرورش اور قورئے ظاہریہ و باطنیہ کو جو لحاظ کیجئے گا تو اس کو اسرارِ الٰہی کا مجموعہ اور اس کے جمال باکمال کا آئینہ کہئے گا۔ (7) ہوائوں کا بدلنا کہ جس پر اہل دنیا کی زندگانی کا مدار ہے۔ (8) ہزارہا من پانی کے بادلوں کو زمین و آسمان میں معلق کرکے رکھنا باوجودیکہ پانی کا مقتضائے طبعی نیچے آنا ہے مگر اس کے حکم سے معلق ہے۔ پھر ان دلائل میں ایک عجیب ترتیب طبعی ہے۔ اول آسمانوں اور زمین کو ذکر کیا۔ اس کے بعد رات دن کے اختلافات کو کہ جو علویات سے متعلق ہو ٗ اس کے بعد عناصر دریا اور ہوا اور بادلوں میں جو کچھ اس کی صنعت ہے ٗ اس کا اظہار کیا۔ اس کے بعد موالید ثلثہ نباتات حیوانات جمادات کی طرف اشارہ کیا۔ سبحان اللہ عجب کلام ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن بدلنے میں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کی نفع دینے والی چیزیں لے کر چلتے ہیں اور اس پانی میں کہ جس کو خدا آسمان سے برساتا ہے پھر اس سے مری 1 ؎ ہوئی زمین کو زندہ کرتا ہے اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلاتا ہے اور ہوائوں کے بدلنے میں اور بادلوں میں کہ جو آسمان اور زمین میں ادھر رکھے گئے ہیں ٗ البتہ عقلمندوں کے لیے بہت سے نشان (قدرت) ہیں۔

1 ؎ یعنی خشک زمین کو جو مردہ کے مشابہ ہے زندہ یعنی ہرا کرتا ہے۔ خشک ہونے کو بیکار ہونے کے سبب مردگی سے اور تازہ ہونے اور نباتات اگانے کو کارآمد ہونے کے سبب اس کی زندگی سے بطور استعارہ کے تعبیر کیا اور یہ کلام عرب میں بڑی فصاحت ہے۔ 12 منہ
Ayahs 2:165–167

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور ایسے بھی لوگ ہیں کہ جنہوں نے خدا کے سوا اور شریک بنا رکھے ہیں جن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی کہ خدا سے رکھنی چاہیے اور ایمان والوں کو تو خدا ہی سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور کاش ظالموں کو (آج) معلوم ہوجائے (جیسا کہ جب معلوم ہوگا) جب کہ عذاب دیکھیں گے کہ سب قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت تر ہے

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جبکہ پیشوا اپنے پیرو وں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور عذاب دیکھیں گے اور آپس کے علاقے ٹوٹ جائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور پیرو کہیں گے ٗ اے کاش پھر ایک بار ہم کو دنیا میں جانا ملے تو ہم بھی ان سے اسی طرح دست برداری کریں جیسی کہ انہوں نے ہم سے کی ہے۔ خدا یوں ان کے اعمال کو ان پر حسرتیں بنا کر دکھائے گا حالانکہ (اس پر بھی) ان کو جہنم سے خلاصی نہیں ہونے کی۔

ترکیب : من یتخذ من نکرہ موصوفہ اور جائز ہے کہ بمعنی الذی ہو یحبونہم موضع نصب میں ہے صفت ہے اندادا کی اور جائز ہے کہ موضع رفع میں ہو صفت من کی کحب اللہ کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی ای حباکحب اللہ اشد کا متعلق محذوف ہے۔ تقدیرہ اشد حبا للہ من حب ہولاء الانداد لو حرف شرط یریٰ فعل احد اس کا فاعل محذوف اور ممکن ہے الذین الخ فاعل قرار دیا جاوے اور یری بمعنی علم ہو ای لو عرف الذین ظلمو اور ممکن ہے کہ الذین الخ فاعل ہو اور یری بمعنی لو شاہد الذین ظلموا ان القوۃ الخ مفعول ہے یری کا بصر ای او یرون العذاب اس کا ظرف ہے اور اذ تبرالذین میں جو اذ ہے وہ بدل ہے اس اذ سے ورائو العذاب و تقطعت وقال الذین یکے بعد دیگر معطوف ہیں۔ تبرء پر پس مجموعہ شرط اور جواب اس کا لما اتحذوا من دونہ انداد امحذوف کذلک موضع رفع میں ہے ای الامر کذلک اور جائز ہے کہ موضع نصب میں ہو صفت محذوف کی ای یریہم رویۃً کذلک یریھم رویۃ العین سے ہے۔ ہم مفعول اول اعمالہم مفعول ثانی حسرات حال ہے اور ممکن ہے کہ بمعنی یعلمھم ہو اور حسرات مفعول ثالث ہو۔ تفسیر : یعنی باوجود یکہ ہم (خدا) اپنے وجود اور وحدہ لاشریک ہونے پر اور اپنے صفات کمالیہ پر آٹھ وہ دلائل بیان کرچکے ہیں کہ جن سے تمام نعمتوں اور کل بھلائیوں کا خدا کی طرف سے پہنچنا ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ مینہ برسانا ٗ اس سے اناج اگانا وغیرہ وغیرہ مگر بعض ایسے بھی بیوقوف ہیں کہ خدا کے سوا اس کی مخلوق میں سے عناصر اور فلکیات اور ارواح و ملائیکہ وغیرہم کو بھی اس کی خدائی میں شریک اور نفع اور ضرر کا مبداء تصور کرکے ان سے بھی ویسی ہی محبت کرتے ہیں کہ جیسی خدا سے کرنی چاہیے تھی۔ سو یہ انہیں لوگوں کا کام ہے کہ جنہوں نے خدا کو خدا ہی نہیں جانا اور سچے دل سے اس پر ایمان نہیں لائے اور ان پر نور ایمان کا آفتاب نہیں چمکا ورنہ جو اس پر ایمان لا چکے ہیں وہ تو اس پر فدا ہیں اپنی جان اور مال بلکہ اگر تمام عالم میسر آئے تو اس کو بھی اس پر قربان کرنے میں تامل نہ کریں ؎ قیمت خود ہر دو عالم گفتہ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز پس وہ خاص اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی کی بھی پروا نہیں کرتے اور یہ بیوقوف جو غیر اللہ سے جس امید پر محبت کرتے ہیں ٗ ان کو اصل حال معلوم نہیں کیونکہ اس امید کا انتظار شدت کے وقت ہوتا ہے اور شدت اور تکلیف کا وقت قیامت سے زیادہ کوئی نہیں۔ پس اگر ان کو وہاں کا حال معلوم ہو اور پھر ان کے خیالی معبودوں کا ان سے بیزار ہونا اور تبرا کرنا اور پھر ان کا یہ حسرت کرنا کہ اگر ہم پھر دنیا میں جاویں تو کبھی ان سے ایسی محبت نہ کریں بلکہ کنارہ کریں اور پھر وہاں ہر طرح کی امید اور باہمی علاقہ کا منقطع ہوجانا معلوم ہو تو کبھی بھی یہ کام نہ کریں۔ محبت علماء ظاہر کے نزدیک ایک قسم کا ارادہ اور خواہش ہے جو ممکن الوجود چیز کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ چونکہ ممکن نہیں بلکہ واجب ہے تو اس کی محبت کے یہ معنی ہیں کہ اس کی عبادت ٗ اطاعت یا ثواب و رضا کو محبوب جانے مگر محققین کے نزدیک یہ ایک کیفیت اضطراری ہے یعنی روح کا میلان ازخود خواہ کوئی غرض ہو یا نہ ہو اور یہ کیفیت ارادے کے علاوہ ہے اور سِرّ اس میں یہ ہے کہ روح کو جمال و کمال کے ساتھ میل طبعی ہے جس طرح کہ لوہے کو مقناطیس سے اور یہ میل عالم کے ہر جز میں رکھا ہوا ہے۔ اس لیے کواکب و افلاک سرگرداں ہیں۔ پس جس قدر جمال و کمال ہوتا ہے اتنا ہی دل اسی کی طرف از خود کھنچتا ہے۔ جسمانی چیزوں میں جب کوئی حسین صورت نظر پڑتی ہے ٗ از خود اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے ( اور آواز میں جب ایک اعتدال طبعی پیدا ہو کر حسن آتا ہے تو دل اسی کی طرف کھنچتا ہے) جب حسن اور جمال ظاہری کی یہ کیفیت ہے تو جمال و کمال حقیقی کہ جس کے جمال و کمال کا ایک ادنیٰ ظل یہ تمام جمال و کمال ہیں اعنی حق سبحانہ و تعالیٰ کا جمال تو اس کی طرف روح کو جس قدر میل طبعی ہو کم ہے اور جب اجسام کا یہ حال ہے کہ ہر شے اپنے اصل اور حیز طبعی کی طرف بغیر ارادہ بیقرار ہو کر آتی ہے تو اس اصل کل کی طرف روح کیونکر بیقرار نہ ہو وے۔ ہاں جب کفر و الحاد ومعصیت کے حجاب درمیان آجاتے ہیں تو جمال حقیقی دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لیے ان لوگوں کو اس کی محبت کم ہوتی ہے اور چونکہ مومنوں کے دل سے یہ حجاب مرتفع ہیں۔ اس لیے وہ اس پر فدا ہیں اور پھر ان میں بھی درجات متفاوت ہیں۔ اولیاء ٗانبیاء سب کے پیشرو ہیں۔ جب محبت میں محویت ہوجاتی ہے تو پھر فنا فی اللہ اور بقاء باللہ کا مرتبہ نصیب ہوتا ہے اور عشق بھی محبت کے ایک مرتبہ کا نام ہے۔ جناب سرور کائنات ﷺ نے جس طرح دینی و دنیاوی خوبیوں کی تعلیم فرمائی اسی طرح بنی آدم میں سب سے پیشتر عشق الٰہی کا مدرسہ بھی جاری کیا۔ اس لیے اولیاء اللہ جس قدر اس امت میں گزرے کسی امت میں نہیں۔ پس بعض شوخ چشم عیسائیوں کا یہ کہنا کہ قرآن میں محبت الٰہی نہیں ٗ نہ حضرت کی تعلیم سے ثابت ہے۔ بڑی ہٹ دھرمی ہے بلکہ محبت الٰہی کا جس قدر وجود اسلام میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم سے دیرپا اثر کے ساتھ پایا جاتا ہے اس کا کسی قوم بلکہ کسی مذہب میں نظیر بھی نہیں پایا جاتا جس کا نمونہ بدر کی لڑائی ہے۔ اس بات کو دیکھ کر ایک عیسائی مؤرخ کہتا ہے کہ عیسیٰ کے ماننے والے اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں تو بہت بہتر ہو کہ عیسیٰ کے حواری جو بہت سے معجزات دیکھ چکے تھے جس وقت کہ ان کے ہادی کو یہودی پکڑ کر پھانسی دینے لائے تو وہ سب تتر بتر ہوگئے۔ ان کا دینی نشہ اتر گیا بلکہ شمعون پطرس نے تو شناسائی کا بھی بلفظ لعنت انکار کردیا۔ برخلاف محمد ﷺ کے پیرو وں کے کہ انہوں نے اپنی جان کو اپنے مظلوم پیغمبر کے لیے تہلکہ میں ڈال دیا جو نشہ کہ محمد ﷺ نے ان پر چڑھایا تھا۔ اس کو زمانہ کی کوئی ترشی بھی آخر عمر تک نہ اتار سکی۔
Ayahs 2:168–170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

لوگو زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ چیزوں کو کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو کیونکہ وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے۔

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو تم کو بری اور بےحیائی کی باتیں ہی بتایا کرتا ہے اور یہ بھی کہ تم خدا پر نادانستہ باتیں بنائو

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ جو خدا نے نازل کیا ہے ٗ اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کی پیروی نہ کریں گے بلکہ ہم تو اسی پر چلیں گے کہ جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بھلا اگر ان کے باپ دادا محض بےعقل اور گمراہ ہوں تو بھی (ان کی راہ پر چلیں گے)

ترکیب : حلالا مفعول ہے کلوا کا اور من متعلق ہے کلوا سے اور یہ ابتداء غایۃ کے لیے ہے اور ممکن ہے کہ من محذوف سے متعلق ہو اور حلالا سے حال ہو اور طیبا صفت ہے حلالا کی خطوات خطوہ کی جمع ہے اور خطوہ کہ ہ کو بالفتح پڑھیں تو اس کے معنی مصدر کے ہیں اور جو ضمہ سے تو فاصلہ بین القد میں کے وان تقولوا موضع جر میں ہے کس لیے کہ اس کا عطف بالسوء پر ہے۔ بل اس جگہ اضراب کے لیے ہے۔ او عطف کے لیے اور ہمزہ استفہام کے لیے بمعنی توبیخ اور جواب کو محذوف ہے۔ تقدیرہ یتبعونہم مثل الذین الخ مبتداء کمثل الذی ینعق خبروفی الکلام حذف تقدیرہ مثل داعی الذین کفروا ای مثل داعیھم کمثل الناعق بالغنم الادعا منصوب سے ہے یسمع سے۔ تفسیر : عرب کی قوموں نے بہت سے خیالی معبود اور تقرب الٰہی اور قضائِ حاجت کے لیے بتوں اور دیگر چیزوں کو وسائل بنا رکھا تھا جن سے وہ محبت زائد رکھتے تھے (انداد سے یہی چیزیں مراد ہیں) اور پھر جس طرح ہنود کی قومیں کہیں کسی چیز کا کھانا پینا کہیں کسی چیز کا استعمال کرنا اپنے معبودوں کے لیے ترک کردیتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی کیا تھا۔ پس خدا تعالیٰ اپنی وحدانیت اور خاص اپنی ذات سے محبت ذاتیہ رکھنے کے دلائل بیان فرما کے اور ان کی ان خیالی امیدوں کو جو ان کو اپنے معبودوں سے تھیں ٗ باطل کرکے فرماتا ہے کہ جس طرح تمہاری ان سے محبت باطل ہے اسی طرح اس محبت کے وسائل کہ ناحق خدا کی پاک چیزوں کو حرام کر رکھا ہے ٗ بےسود ہیں۔ تم خدا کی پاک اور حلال چیزیں کھائو اور شیطانی دھوکے میں نہ آئو وہ تو بےسود اور بری باتیں دل میں ڈالا کرتا ہے۔ کس لیے کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ اس کے بعد ان کی بلادت اور نور فطرت کے زائل ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب ان سے کوئی تمام حجتیں ختم کرکے احکامِ الٰہی کے اتباع کو کہتا ہے تو اس کو جہالت کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے طریق پر چلیں گے۔ فرماتا ہے کہ کیا باپ دادا احمق اور گمراہ ہوں جب بھی ان کے طریق پر چلیں گے۔ پھر ان کی اس تاریکی باطن کی مثال دیتا ہے کہ ان کو ہدایت کی طرف بلانے کی مثال ویسی ہے کہ جیسا کوئی بھیڑ بکریوں کو پکارتا ہے کہ وہ اس کی آواز تو سنتے ہیں مگر کچھ سمجھتے نہیں۔ اسی طرح یہ لوگ چارپایوں کے مانند ہیں کہ کلام کو سنتے ہیں مگر کلام الٰہی ان کے دلوں میں نہیں اترتا یہ اس لیے کہ جو مبدائِ فیض سے قوائے باطنیہ عطا ہوئے تھے ٗ ان کو انہوں نے معطل کردیا۔ اب گویا بہرے اور گونگے ہیں ٗ اس لیے ہدایت پر نہیں آتے۔
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

اور کافروں کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کوئی ان جانوروں کو پکارے 1 ؎ کہ جو بجز پکار اور آواز کے اور کچھ نہیں سنتے ٗ وہ بہرے ٗ اندھے ‘ گونگے ہیں ٗ اس لیے سمجھتے نہیں۔

1 ؎ نعق۔ نعیق چرواہے کا بکریوں کا پکارنا اسی طرح نعقان بالتحریک و نفاق بالضم۔ حقانی