Ayah 2:25ترکیب : الذین فعل بافاعل الذین آمنوا وعملو الصالحات صلہ و موصول جملہ اس کا مفعول جنت اسم ہے ان کا موصوف تجری من تحتہا الانہار جملہ فعلیہ اس کی صفت لہم خبر ان کی پس یہ ان اپنے اسم و خبر کے ساتھ مجرور ہے باء کا تقدیرہ بان اور متعلق ہے بشر کے کلما شرط رزقوا جزا الخ قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل جملہ فعلیہ اس کا جواب شرط و جزا مل کر دوسری صفت ہوئی جنت کی یا خبر مبتداء محذوف کی ای ہم اوہی یا جملہ مستانفہ ہے رزقاً مفعول بہ ہے رزقوا کا اور منہا من ثمرۃ میں من ابتدائیہ ہے دونوں حال ہیں رزقاً سے علی سبیل تداخل یہ تمام جملہ عطف ہے جملہ سابقہ پر واتوابہ متشابہا جملہ معترضہ ہے گویا اس کہنے کا سبب اس میں بیان ہے یعنی وہ یہ بات اس لیے کہیں گے کہ ان کو یہ پھل یکساں صورت کے دیے جائیں گے۔ ضمیر بہ کی مارزقوا کی طرف راجع ہے متشابہا حال ہے ضمیر بہ سے ازواج موصوف مطہرۃً صفت دونوں مل کر مبتداء لہم خبر مقدم جملہ مستانفہ ہے ھم مبتداء خالدون خبر فیھا اس کے متعلق یہ جملہ مستانفہ ہے یا حال ہے لہم سے۔
تفسیر : کہ اے نبی ﷺ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام عبادت اور سخاوت وغیرہا کئے ہیں ان کو یہ مژدہ سناؤ کہ ان کو مرنے کے بعد اس عالم میں ایسے باغ عنایت ہوں گے جن میں نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں کے میووں میں عجب لطف ہوگا کہ رنگ و بو اور شکل و صورت یکساں اور مزے الگ الگ یہاں تک کہ جب کوئی میوہ ان کو ملے گا تو اس مشابہت سے یہ سمجھیں گے کہ یہ تو ہم ابھی کھاچکے ہیں مگر جب کھائیں گے تو نیا لطف پائیں گے اور ان کو جس طرح مکانات اور کھانے عمدہ عنایت ہوں گے اسی طرح انس و صحبت کے لیے پاکیزہ بیویاں ملیں گی کہ جو نفرت کی باتیں ہوتی ہیں وہ ان میں نہ ہوں گی، نہ صورت میں نہ سیرت میں۔ اس پر ان کو بڑھاپے اور موت یا افلاس کا غم نہ ہوگا بلکہ وہ اسی عیش و آرام کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے۔
نکات : (1) کتب الہامیہ کا زیادہ تر مقصود تین چیزوں کا بتلانا ہوتا ہے : (1) علم مبدء کہ پیشتر کیا تھا اور اس عالم کو کس نے بنایا ہے اور میں کون ہوں اور کہاں سے آیا ہوں۔ (2) علم معاش کہ بندہ یا اور چیزیں پیدا ہونے کے بعد خودمختار ہیں اور ہر چیز کی قدرت مستقلہ رکھتے ہیں یا ہر دم معاش میں بھی اسی کے محتاج ہیں۔ وہی اسباب معاش پیدا کرتا ہے اور ہماری سعی و کوشش تو صرف یہ ہے کہ ہم ان اسباب کو کام میں لاتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ کسی وقت اس سے بےپروائی اور استغفار نہیں ہوسکتا۔ (3) علم معاد کہ آخر کار میرا کیا ہونا ہے ؟ مجھ کو یہاں سے کہیں اور جگہ بھی جانا ہے وہاں اپنے اعمال کا ثمرہ بھی پانا ہے۔ پس خدائے تعالیٰ نے اوصاف کتاب اور مراتب سعداء و اشقیاء بیان فرما کر ان تینوں علوم کو بیان کردیا۔ اول کو الذی خلقکم میں اور پھر اس کو اور دوم کو الذی جعل لکم الارض فراشًا والسماء بناء ًا سے لے کر رزقالکم تک (سوم) کو فاتقوالنارالتی سے لے کر خالدون تک۔
(2) انسان کی جبلی عادت ہے کہ جب وہ کسی چیز کی مضرت سے واقف ہوتا ہے تو اس سے ڈرتا اور کسی منفعت کی طمع میں کوئی کام کرتا ہے اس لیے خدا کے کفر کا نتیجہ فاتقوا النار الخ اور ایمان اور اعمال صالحہ کا ثمرہ و بشر الذین الخ بیان کردیا اور اسی حکمت سے جہاں ترہیب ہے ترغیب بھی تاکہ خوف و رجا کے دونوں پلے مساوی رہیں۔
(3) کلما رزقو امنہا من ثمرۃ رزقًا قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل میں عالم آخرت کے اسرار کی طرف اشارہ کیا، کس لیے کہ کلما عموم کو چاہتا ہے، لیکن یہ بات جنت میں اول مرتبہ ثمرہ کھانے پر صادق نہیں آتی کیونکہ اس سے پہلے وہ کہاں پا چکے تھے ؟ دنیا کے ثمرات اول تو صدہا مفلس اور غریب اہل جنت کو دنیا میں نصیب ہی نہ ہوئے تھے پھر ان کو جنت کے ثمرات سے کیا نسبت بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس عالم میں انسان کے معارف و اعمال اپنی مناسب کسی شکل میں ظہور کریں گے جس طرح کہ معانی خواب میں اپنے مناسب اشکال میں دکھائے جاتے ہیں جنت کے ثمرات یہی دنیا کے معارف و اعمال صالحہ ہیں۔ جب ان کو وہاں دیکھیں گے تو اصلی مناسبت کا ادراک یہاں تک کامل ہوگا کہ دونوں کو ایک جان کر یہ کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے پا چکے اور دنیا میں کھاچکے ہیں (واللہ اعلم بمرادہ) پس کفر و الحاد اور انبیا کی نافرمانی اور بدکاری آگ اور جہنم مردم سوز کی صورت میں اور ایمان اور اچھے اعمال جنت وثمرات و ازواج و انہار کی صورت میں ظہور کریں گے۔ واضح ہو کہ انسان کی رغبت تین چیزوں سے زیادہ ہوتی ہے اور ان ہی کی طرف زیادہ احتیاج پڑتی ہے۔ (1) مکان عمدہ، (2) اچھے سامان عمدہ کھانا پینا، (3) عورت حسین۔ پس اول کو لہم جنت میں اور دوسرے کو کلما رزقوا الخ میں تیسرے کو لہم فیہما ازواج میں بیان کردیا۔ اور اس پر ایک کھٹکا ان چیزوں کے فنا ہوجانے اور اپنے مرجانے کا بھی ہوتا ہے کہ جو تمام لذت کو خاک میں ملا دیتا ہے ؎
مرادر منزل جاناں چہ امن و عیش چوں ہر دم
جرس فریاد می دارد کہ بربندید محملہا
پس اس کھٹکے کو بھی ھم فیہما خالدون سے مٹا دیا۔
تحقیقات : سوال : انسان اور دیگر ابدان اجزائِ متضادۃ الکیفیت سے مرکب ہیں کہ جن میں طرح طرح کے استحالات و انقلابات ہوتے رہتے ہیں کہ جن سے انجام کار انحلال و انفکاک ہوتا ہے اور اس مرکب کے اجزا علیحدہ ہو کر یہ مرکب فنا ہوجاتا ہے۔ پس جب یہ ہے تو جنت میں ہمیشہ رہنا کس طرح ہوسکتا ہے ؟
جواب : ہم پیشتر بھی جنت کی حقیقت بیان کرچکے ہیں اور اب پھر کہتے ہیں کہ جنت میں جسم عنصری تو کیا بلکہ جرم 1 ؎ فلکی کی قسم سے بھی کوئی جسم نہیں بلکہ وہ عالم اس عالم سے غیر اس عالم پر قیاس کرکے انفکاک و فساد ترکیب کا احتمال نکالنا قیاس مع الفارق ہے۔ قال تعالیٰ یوم تبدل الارض غیر الارض و السمٰوات کہ یہ زمین اور یہ آسمان اس روز نہ رہے گا بلکہ اس کے بدلے میں اور نئی زمین اور نیا آسمان ہوگا کہ جن کی جسمیت ان کی جسمیت سے بالکل مختلف الماہیۃ ہوگی۔ یوحنا بھی اپنے مکاشافات کے 32 باب میں کہتے ہیں : (پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا، کیونکہ اگلا آسمان اور اگلی زمین جاتی رہی تھی۔ ) انتہٰی وہاں کے اجسام لطافت میں روح کے ہم پلہ ہیں۔ پس جس طرح روح ہمیشہ رہ سکتی ہے وہ بھی۔ اس شبہ کی بنیاد ایک فلسفی وسوسہ پر ہے کہ جو نہایت کمزور اور بودا ہے۔
سوال : وہ عالم اگر تسلیم بھی کیا جائے تو وہ ایک عالم قدس ہوگا کہ جس میں کھانا پینا عورتوں سے لذت اٹھانا یا عمدہ عمدہ باغ اور نہریں اور خوبصورت عورتیں عیش اڑانے کو کہاں ؟ جنت یہ ہے کہ نفس ناطقہ اپنے ادراکات سے حظ اٹھائے گا اور جہنم اور آگ یہ ہے کہ اپنے ملکات
رذیلہ اور حقائق الاشیاء کے نہ جاننے پر بڑا تاسف کرے گا، پچھتائے گا۔
جواب : یہ سب چیزیں عالم قدس میں موجود ہیں اور پھر عالم قدس کے تقدس میں کوئی بھی فرق لازم نہیں آتا۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہ عالم اس عالم کا دوسرا پہلو ہے۔ یہاں جو کچھ ہے وہ وہیں کا ظل ہے اور پھر یہاں کی چیزیں وہاں جا کر متمثل ہوجاتی ہیں اس سِرِّمکتوم کا اظہار نہ تحریر سے ہوسکتا ہے نہ تقریر سے، انبیاء (علیہم السلام) یا ان کے متبعین پر کچھ کشف و شہود سے یہ راز کھلا وہی خوب جانتے ہیں۔ البتہ سمجھانے کے لیے ایک مثال یا نظیر (کہ جس کو اصل ممثل لہ سے ادنیٰ سی مناسبت ہے ورنہ زمین و آسمان کا فرق ہے) بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آئینہ میں ہاتھی گھوڑے ‘ درخت ‘ بڑے بڑے پہاڑ اپنی حقیقی صورت پر دکھائی دیتے ہیں اور جس طرح آئینہ سے بیرونی وجود میں باہم امتیاز ہے اسی طرح آئینہ کے وجود میں بھی ان چیزوں میں حقیقی امتیاز ہے۔ گھوڑا جدا دکھائی دیتا ہے اور ہاتھی الگ پھرتا چلتا ہوا اور پہاڑ وقار سے زانو جمائے ہوئے بیٹھا ہوا نظر آتا ہے آسمان و زمین بھی باوجود اس وسعت کے آئینہ میں موجود ہیں حالانکہ بالشت دو بالشت کا آئینہ ہے اور اس میں ایسی بڑی بڑی چیزیں موجود ہیں پھر کیا بات صرف یہ کہ یہ چیزیں تو وہی ہیں مگر یہاں اور حال ہے اور باہر اور پس باہر کے حالات کو آئینہ فرض کرکے محال جاننا اور انکار کرنا کوتاہ فہمی ہے۔
اور سنیے خواب میں جب کہ ہم لحاف میں منہ لپیٹ کر سوتے ہیں تو ہزاروں عجائبات دیکھتے ہیں۔ کبھی باغوں میں جاتے، کھانا کھاتے، جماع کرتے ہیں، انزال کا اثر صبح کو کپڑے پر پاتے ہیں۔ اسی طرح صدہا مصائب بھی دیکھتے ہیں، حالانکہ یہ صورتیں صرف خیال میں ہوتی ہیں کہ جس میں ہاتھ بھر کی چیز کی بھی گنجائش نہیں۔ نہ اس میں عورت آسکتی ہے، نہ درخت گھس سکتا ہے۔ پس ان چیزوں کے وجود خارجی کے حالات سے وجود خیالی کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ ان کی وسعت کے مخالف ہے جہل مرکب ہے۔ یہی حال اس عالم کا ہے کہ وہاں سب کچھ ہے مگر یہاں جسم عنصری فانی اور وہاں لطیف باقی۔ اس رمز کی طرف اس آیت میں اشارہ کردیا ہے۔ فلاتعلم نفس ما اخفی لہم مِن قرۃ اعین الآیہ۔ اور اسی طرح حدیث میں وارد ہے قال اللہ تعالیٰ اعدت لعبادی الصالحین مالا اعین رات ولا اذن سمعت وما خطر علیٰ قلب بشر (رواہ البخاری و مسلم) یہ شبہ بھی بےبنیاد وسوسہ ہے۔
1 ؎ اور اجسام کا صرف انہیں میں انحصار ماننا دعویٰ بلا دلیل بلکہ خیال خام ہے کہ جس کا سر منشائِ حکمائِ یونان کے توہمات فاسدہ ہیں۔
واضح ہو : کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تھوڑے ہی دنوں بعد اس حقانی مذہب میں ایسا خلط ملط ہوگیا کہ کچھ کا کچھ ہوگیا، جھوٹی انجیلیں اور جھوٹے نامجات حواریوں کے نام سے تصنیف ہونے شروع ہوگئے جس شخص کے جو جی میں آیا اس نے روح القدس نازل ہونے کے پیرایہ میں لوگوں میں جاری کردیا چناچہ پولوس کے خطوط سے بھی یہ بات ثابت ہے (بلکہ پولوس بھی ان ہی میں سے ایک شخص تھا) ۔ پھر قوم گریک یعنی یونانی بھی اس مذہب میں آئے تو انہوں نے اپنے خیالات حکیمانہ کو اس مذہب میں ملایا۔ ہوتے ہوتے پچھلی صدیوں میں 1 ؎ مارٹین لوتھر اور اس کے شاگرد کالون وغیرہ فرقہ پر اٹسٹنٹ کے پیشوا ظاہر ہوئے تو اور بھی الحاد اور دہریت کو ترقی ہوگئی۔ یہاں تک کہ سترہویں صدی میں فرانس اور جرمن میں سینکڑوں ایسے لوگ صاحب تصانیف ظاہر ہوئے کہ جو صرف خدا کے قائل تھے باقی انبیاء اور ان کے معجزات اور امور آخرت اور جن و ملائکہ بلکہ وجود آسمان سب کو قصہ کہانی جانتے تھے اور پھر تو انگلستان میں بھی اس کا چرچہ پھیلا اور لارڈ ہر براٹ اور مسٹر بلاونٹ اور ہو بس اور ارل شاف جیسے معزز بھی ملحد ہوگئے اور اس بارے میں بہت سی کتابیں انہوں نے تصنیف کیں اور پھر تو امریکہ، ہسپانیہ وغیرہ جمیع بلاد یورپ میں بھی یہ بلا پھیل گئی اور ان نام کے عیسائیوں کی یہ بلا ہندوستان میں بھی آئی اور کلکتہ میں رام موہن نامی بنگالی نے 1840 ء میں ان ہی اصول پر بت پرستی سے ناراض ہو کر ایک جدید مذہب کی بنیاد ڈالی اور اس کا برہمو سماج نام دھرا۔ پھر اس کے شاگروں
نے انگریزی خوان بنگالیوں میں اس کا بہت رواج دیا اور ان کی تقلید سے ایک شخص دہلی کے رہنے والے سید احمد خاں نے بھی مذہب اسلام کو برائے نام قائم رکھ کر ایک جدید مذہب کی ان ہی اصول ملحدانہ پر بنیاد ڈالی اور قرآن مجید کو تفسیر کے پیرایہ میں اپنے خیالات ملحدانہ کے تابع بنایا۔ مگر یہ کب ہوسکتا ہے ؟ اب ہم ان برائے نام عیسائیوں اور برہمو سماج اور اس شخص کے ان اعتراضات کو سناتے ہیں کہ جو بہ تقلید حکمائے یونان انہوں نے بےسمجھے بوجھے جنت و دوزخ پر کئے ہیں۔ منجملہ ان کے پادری فنڈر اپنی کتاب میزان الحق کے 3 باب کے 3 فصل میں قرآن مجید کی ان آیات کا ترجمہ کرکے کہ جن میں جنت کی جزئیات مذکور ہیں جیسا کہ حور، نہریں وغیرہ، یہ کہتا ہے : قولہ محمدیوں کا اعتقادی بہشت بالکل مجازی اور جسمانی ہے اس نہج پر کہ جو چیز آدمی کے خیال میں آوے سو وہ وہاں موجود ہے اور نفسانی و جسمانی ہر ایک لذت و عیش جس پر انسان کا دل مائل ہو وہاں ملتی ہے، پس ظاہر ہے کہ ایسے بہشت کا امیدوار کرنا آدمی کو دل کی پاکی اور نیک فکر سے روک کر نفسانی خواہشوں کو قوت وقدرت دیتا ہے۔ سو ایسا بہشت خدا کے تقدس کے لائق کیونکر ہوسکتا ہے۔ الخ اور اس سے پیشتر قرآن مجید کی آیات کو غلط ثابت کرنے کے لیے لوقا اور پولوس کے اقوال نقل کئے ہیں کہ جن کو اہل اسلام حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دین کا مخرب سمجھتے ہیں، چناچہ اس کا ثبوت مقدمہ کتاب میں گزرا اور آیندہ بھی کچھ ہوگا۔
قولہ : مسیح نے تو لوقا کے 20 باب کی 24 سے 36 تک یوں فرمایا کہ اس جہان کے لوگ یعنی بہشت کے لوگ نہ بیاہ کرتے ہیں، نہ بیا ہے جاتے ہیں کیونکہ وہ فرشتوں کی مانند ہیں اور رومیوں کے 14 باب کی سترہ آیت میں مرقوم ہے کہ خدا کی بادشاہت کھانا پینا نہیں بلکہ راستی اور سلامتی اور روح قدس سے خوش وقتی ہے، مگر محمد ﷺ نے قرآن میں اس کے برخلاف فرمایا ہے کہ بہشت میں کھانا پینا اور حوروں کے ساتھ رہنا ہے۔ انتہٰی۔
اقول : آپ کی مجازیت و جسمانی کا جواب تحقیقی تو ابھی بیان ہوچکا اور الزامی یہ ہے کہ یہ آپ بھی مانتے ہیں کہ جنت میں ایک شخص دوسرے کو نظر آوے گا، کلام کرے گا، پس جب یہ ہے تو جسمانیت ثابت ہوئی، خواہ وہ کسی قسم کی جسمانیت ہو، عنصریت نہ ہو نہ سہی۔ جب جسم ثابت ہے تو ہر جسم کو مکان کی ضرورت ہے اور دیگر اس کے لوازمات بھی ضرور ہیں۔ لان الشیء اذاثبت ثبت بجمیع لوازمہ حکما کا
1 ؎ یعنی سولہویں صدی مسیحی میں جبکہ پوپ لوگ جو حضرت مسیح کے نائب کہلاتے تھے ان کی سلطنت میں فتور آیا۔ ان پوپوں کو عیسائی پادری دجال اور شیطان بتلاتے ہیں حالانکہ حضرت مسیح کے یہ لوگ سینکڑوں برس سے جانشین تھے۔ پس جب ان کا یہ خیال تھا تو اوروں کا کیا ٹھکانا تھا۔ 12 منہ
مقولہ ہے۔ جب یہ ہے تو ان لوازمات کا حسب مرضی ہونا (کہ جس کو جنت کے معنی چاہتے ہیں، بہشت آنجا کہ آزارے نباشد) کچھ خلاف عقل نہیں اور جو کہے تو کوئی دلیل پیش کرے اور آپ کے عقلی دلائل کا یہ جواب ہے : اول تو لوقا حضرت مسیح کے قول کو نقل کرتا ہے اور یہ راوی معتبر نہیں اور نہ یہ شخص حواری ہے، نہ اس سے کبھی معجزہ و کرامت سرزد ہوا ہے، نہ حواریوں میں اس کی قدر و منزلت تھی بلکہ یہ پولوس کا شاگرد ہے جو دینیات میں جھوٹ بولنا ثواب سمجھتا ہے۔ جیسا کہ مقدمہ کتاب میں مذکور ہوا اور یہ خود کہتا ہے کہ میں سن کر مسیح کا حال لکھتا ہوں۔ دوم اگر اس کو معتبر شخص بھی تسلیم کیا جائے تو ممکن ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی یہ مراد ہو کہ دنیا کی طرح وہاں بکھیڑے نہ ہوں گے۔ کس لیے کہ یہ بات حضرت نے صدوقیوں کے جواب میں بیان فرمائی تھی کہ جو قیامت کے منکر تھے اور جنہوں نے ایک عورت چند شوہردار کا سوال حضرت سے کیا تھا کہ وہ کس شوہر کو ملے گی۔ سوم یوں بھی نہ ہو تو پھر خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قول سے (انجیل متی کے 26 باب 209 درس) جنت میں انگور کا شیرہ پینا ثابت ہے تو جب وہاں پینا ہے تو کیا کھانا نہ ہوگا۔ اور جب شراب ہے تو کیا عورتیں نہ ہوں گی ؟ ہاں یہ اور بات ہے کہ عیسائیوں کی جنت میں صرف انگور کا شیرہ ہو نہ باغ ہو، نہ انیس ہو، نہ اور کچھ کھانا ہو جیسا کہ دنیا میں بھنگڑ کہا کرتے ہیں کہ بنگ ہی کا مکان ہو، اسی کا اوڑھنا، اسی کا بچھونا ہو۔ سچ ہے۔ فکر ہر کس بہ قدر ہمت اوست، علاوہ اس کے مکاشفات یوحنا کے 7 باب اور 21 و 22 میں بھی اس قسم کا بیان ہے اور پولوس کے قول کا مسیح کے قول کے مقابلہ میں کیا اعتبار ہے۔ علاوہ اس کے وہ دنیا کی نسبت یہ کہتا ہے جیسا کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ پیشتر وہ یہ کہتا ہے کہ دنیا میں حلال و حرام اور پاک و ناپاک چیز کی کوئی احتیاط نہیں بلکہ پاک لوگوں کو ہر چیز پاک ہے۔ پس اس ملحدانہ اعتراض سے اسرار نبوت میں کیا دھبہ لگتا ہے ؟ پھر ان کے مقلد برہمو سماج رسالہ خلاصۃ الاصول مطبوعہ وکیل ہندوستان پریس امرتسر 1875 ء کے صفحہ 17 میں یہ لکھتے ہیں کہ صرف روح کا تقرب الٰہی میں مسرور ہونا بہشت ہے اور یہ تقرب الٰہی ابد الآباد بڑھتا جائے گا۔ اگرچہ یہ قول محققین اسلام سے لیا گیا ہے اور قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدَرٍ ۔ بلکہ قرآن و احادیث صحیحہ قاطبۃً اس بات پر متفق ہیں کہ خدائے عزوجل کا قرب اور روح کا اس کے دیدارفرحت آثار سے بشاش ہونا تمام نعمائِ جنت سے بڑھ کر ہے اور یہ کوئی بھی مسلمان نہیں کہتا ہے کہ جنت صرف اس عالم شہوات و تکدرات میں کامیابی حاصل کرنا ہے، شاید کسی نے نافہمی سے یہ سمجھ کریوں کہا ہو تو کہا ہو بلکہ کل اہل اسلام اس پر متفق ہیں کہ وہ عالم قدس ہے۔ وہاں موت، بیماری، دکھ، درد، بڑھاپا وغیرہ عوارضات جسمِ عنصری کچھ نہیں اور بالخصوص ابرار تو ہمیشہ مسرت دیدار ہی میں مستغرق رہیں گے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ انسان کے اعمال صالحہ و معارف عمدہ عمدہ شکلوں میں ظہور کریں گے اور ان حور و باغ اور نہروں کا یہی سر ہے۔ پس ان چیزوں کو دنیا کی چیزیں سمجھ کر اعتراض کرنا اور اہل اسلام کا یہی جسمانی و مجازی بہشت قرار دینا بڑی غلطی ہے۔ مگر برہمو کا لفظ صرف اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر یہ ہے تو بڑے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
خان صاحب بہادر نے تو اپنی تفسیر کے صفحہ 36 میں ان دونوں کے مقلد ہو کر جوش و خروش میں آ کر علمائِ اسلام اور سلف کو بہت کچھ کہا ہے اور جنت کی نسبت بھی بڑی دریدہ دہنی کی ہے، پھکڑ اڑایا ہے تاکہ اہل اسلام خجل ہو کر اس عقیدہ سے نفرت کریں۔ سب سے پہلے میں خان صاحب کے قول کو مختصراً ملخص کرکے بیان کرتا ہوں اور پھر ان کی پھکڑ بازی کو۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ جنت کی ماہیت جو خدا اور رسول نے (آیت فلاتعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین اور حدیث اعدت بعبادی الصالحین مالاعین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علٰی قلب بشر) میں بتلائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کو کوئی نہیں جانتا، کس لیے کہ انسان اسی چیز کو جان سکتا ہے کہ جو حواس خمسہ سے محسوس ہو اور جنت کا کسی انسان نے حواس خمسہ سے حس نہیں کیا۔ پس اس کا بیان کرنا (گو خدائے تعالیٰ ہی چاہے) محال بلکہ محال سے بھی بڑھ کر ہے، کس لیے کہ انسان کی کیفیات دنیا رنج و خوشی کی بھی کوئی کیفیت نہیں بتا سکتا۔ اس تقدیر پر اگر جنت کی حقیقت یہی باغ اور نہریں اور موتی اور چاندی اور سونے کی اینٹوں کے مکانات اور دودھ اور شراب اور شہد کے سمندر اور لذیذ میوے اور خوبصورت عورتیں اور لونڈی ہوں تو یہ آیت و حدیث کے برخلاف ہے، کیونکہ ان کو تو انسان جان سکتا ہے۔ غایۃ الامر اس قسم کی عمدہ چیزوں کو حواس سے نہیں جانتا تو یہ کچھ بات نہیں کیونکہ عمدگی ایک امر اضافی ہے اس کو جہاں تک ترقی دیتے جاؤ انسان کے دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے۔ پس یہ چیزیں بہ قدر طاقت بشری تمثیل کے طور پر سمجھانے کے لیے مذکور ہوئی ہیں۔ ورنہ درحقیقت یہ بہشت میں نہیں اور بہشت و دوزخ راحتوں اور لذتوں اور رنج و تکلیفوں کا نام ہے مگر چونکہ انبیاء (علیہم السلام) کو لوگوں کے واسطے مصلحتاً بہت سی باتوں سے منع کرنا اور بہت سی باتوں کا عمل میں لانا بیان کرنا پڑتا ہے اور آدمی کو جبلی بات ہے کہ وہ کسی کام سے جو باز رہتا ہے تو کسی خوف سے اور کرتا ہے تو کسی لالچ سے۔ پس اس راحت و رنج کو ہر نبی نے لوگوں کے حسب حال تعبیر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جنت کو فراغ دستی ‘ کثرت اولاد و مال و صحت و فتح مندی کے ساتھ اور دوزخ کو قحط ‘ و با ‘ مغلوبی کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل ان ہی باتوں سے رغبت اور ان ہی چیزوں سے نفرت رکھتے تھے اور محمد مصطفیٰ ﷺ نے ان کو ایسی تشبیہوں میں بیان کیا ہے کہ جو تمام جہان کی طبیعتوں پر حاوی ہے۔ کس لیے کہ خواہ کوئی کسی گرم و سرد ملک کا رہنے والا ہو اس کو عمدہ مکان اور باغ اور خوبصورت عورت اور لذیذ کھانوں سے رغبت ہوتی ہے اور آگ میں جلنے اور لہو پیپ کھانے سے دل ڈرتا ہے اور رفارمر یعنی ناصحوں کا یہی کام ہے۔ انتہیٰ ملخصاً ۔ اس قول کا تفصیلی جواب تو ہم مقدمہ کتاب میں دے چکے ہیں۔ مگر اجمالاً یہاں اس قدر کہتا ہوں : (1) کہ آیت اور حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنت کو کوئی نہیں جان سکتا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ جنت میں جو کچھ جزئیات امور یوماً فیوماً پیش آویں گے اور تفصیلی حالات ہیں ان کو کوئی شخص نہیں جان سکتا اور نہ دل میں ان کا خیال آسکتا ہے، کس لیے کہ اس عالم کا اور ہی حال ہے اسی عالم میں دیکھئے جنہوں نے لندن اور پیرس کے مکانات اور دیگر لوازمات عیش نہیں دیکھے، نہ ان کا نقشہ دیکھا، نہ تفصیلاً حال سنا اور اس پر یہ شخص کسی گائوں کا رہنے والا بھی ہو کہ جہاں چھپر اور کھپریل کے سوا اور کچھ نہ ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ جزئیات تفصیلاً اس کے خیال میں نہیں آسکتے ہیں باوجودے کہ اس سے وہاں کے اجمالی حالات بھی بیان کئے جاویں (کہ وہاں عمدہ عمدہ کمرے اور نفیس نفیس بلور و شیشے کے آلات و ظروف اور نہایت خوبصورت خدام اور نہایت عمدہ کھانے ہیں) مگر تب بھی باعتبار علم تفصیلی کے اس پر یہ صادق آتا ہے کہ اس نے نہ ان چیزوں کو آنکھوں سے دیکھا ہے نہ کانوں سے سنا ہے نہ اس کے دل میں ان چیزوں کا خیال گزرا ہے۔ الغرض اجمالاً علم ہونا اور تفصیلاً اس علم کا سلب کرنا کچھ منافات نہیں رکھتا، جس نے ایسا غوجی بھی پڑھی ہوگی یہ تو وہ بھی جانتا ہوگا کہ تناقض میں اتحاد جہت شرط ہے۔ پس جنت میں حور اور باغ اور دیگر
(3) اگر بہ فرض محال علم اور ادراک کا انحصار حواس خمسہ ہی پر تسلیم کیا جاوے تو بندہ کے قصور سے خداوند تعالیٰ قادر میں کیوں عجز لازم آیا کہ جو اس کو جنت کا بتلانا محال بلکہ محال سے بھی بڑھ کر ہوگیا، باوجودیکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ نے بلکہ آپ نے بیان کردیا، اب عام ہے کہ حقیقت جنت کو علم بالکنہ ہو یا بکنہ ہو بالوجہ ہو یا بوجہ ہو۔
(4) آپ کے نزدیک جنت اس راحت کا نام ہے کہ جس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے ترقی رزق وغیرہ امور دنیا سے تعبیر کیا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس عالم میں آرام پانا جنت ہے۔ وذالک فاسدلایقول بہ احد من اہل الکتاب و اہل الاسلام۔
(5) آپ کے بیان سے ثابت ہوا کہ دراصل جنت و دوزخ کچھ نہیں۔ پیغمبر یار فارمروں کو جب لوگوں کو کسی فعل یا اس کے ترک پر آمادہ کرنا منظور ہوتا ہے تو وہ جنت و دوزخ کا اڑتلہ بنا کر بیان کرتے ہیں اور محض بےاصل بات کو (یعنی حور و قصور باغ و انہار کو، یا آگ و طوق کو) شاعروں کی طرح خیالات بندی کرکے دکھلاتے ہیں۔ معاذ اللہ اس سے بڑھ کر کیا الحاد ہوگا، چند روز صبر کیجئے معلوم ہوجائے گا اور بالفرض آپ کا خیال صحیح نکلا تو ہمیں کیا فکر ہے مگر جب آپ کا خیال غلط نکلا تو دیکھئے اس کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ بہرطور آپ خطرہ میں ہیں نہ ہم۔
خان صاحب کی پھکڑ بازی : کے اقوال یہ ہیں۔ قولہ صفحہ 38، یہ نہ سمجھنا کہ جنت مثل ایک باغ کے پیدا ہوئی ہے۔ اس میں سنگ مر مر اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں، باغ ہیں، شاداب و سرسبز درخت ہیں، دودھ و شراب و شہد کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے۔ ساقی و ساقنیں نہایت خوبصورت چاندی کے کنگن پہنے ہوئے جو ہمارے ہاں کی گھوسنیں پہنتی ہیں، شراب پلا رہی ہیں۔ ایک جنتی ایک حور کے گلے میں ہاتھ ڈالے پڑا ہے۔ ایک نے ران پر سر دھرا ہے۔ ایک چھاتی سے لپٹا رہا ہے۔ ایک نے لب جاں بخش کا بوسہ لیا ہے۔ کوئی کسی کونا میں کچھ کر رہا ہے۔ ایسا بیہودہ پن ہے جس پر تعجب ہوتا ہے۔ اگر بہشت یہی ہے تو بےمبالغہ ہمارے خرابات اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ ہمارے علماء اسلام نے الخ بسبب اپنی رقت قلبی کے الخ یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جو امر الفاظ سے مستفاد ہوتا ہے اسے تسلیم کرلیں۔ الخ اس واسطے وہ بزرگ تمام ان چیزوں کو تسلیم کرتے ہیں کہ جن کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرسکتا اور جو عقل و مذہب کی بزرگی اور تقدیس کے برخلاف ہیں۔ و قال صفحہ 40 اور ایک کوڑھ مغز ملاّ یا شہوت پرست زاہدیہ سمجھتا ہے کہ درحقیقت بہشت میں نہایت خوبصورت ان گنت حوریں ملیں گی، شرابیں پیویں گے، میوے کھائیں گے۔ الخ
Ayahs 2:26–27ترکیب : اللہ اسم ان لایستحی الخ اس کی خبر جملہ اسمیہ مستانفہ ہوا لایستحیی بمعنی لایترک فعل بافاعل مثلاً مفعول یضرب ما ابہامیہ کہ جو نکرہ کو ابہام اور شیوع کو زیادہ دیتا ہے کقولک اعطنی کتابا ما ای ایّ کتاب کان یا زائدہ ہے جیسا کہ اس قول میں فبمارحمۃ من اللہ ای برحمۃ من اللہ بعوضۃ عطف بیان ہے مثلاً کا۔ ممکن ہے کہ مانکرہ کو موصوفہ اور بعوضۃ کو اس کی صفت قرار دیا جائے فما فای عطف کے لیے اور مانکرہ موصوفہ فوقہا اس کی صفت بعوضۃ معطوف علیہ پس یضرب اپنے فاعل اور مفعول اور اس کے متعلقات سے مل کر ان مصدریہ کی وجہ سے تاویل صدر میں ہو کر مفعول ہوا۔ لایستحیی کا فاما فائے تعقیبہ ہے کس لیے کہ مرتبہ تفصیل اجمال کے بعد ہے اما وہ حرف ہے کہ جو کسی امر محل کی تفصیل کے لیے آتا ہے اور اس میں شرطیہ کے معنی بھی ہیں اس لیے اس کے جواب میں فائے آتی ہے اس کے بعد جو اسم آتا ہے اس کو متبدا اور جس پر فائے داخل ہوتی ہے اس کو خبر کہتے ہیں پس الذین آمنوا مبتدا اور فیعلمون الخ اس کی خبر اور اسی طرح واما الذین کفرو اما استفہامیہ۔ ذا بمعنی الذی اراد اللہ بہذا الخ اس کا صلہ مجموعہ خبر ما اور ممکن ہے کہ ماذا کل اسم ہو بمعنی ای شیء اور یہ منصوب المحل ہوا راد سے مثلاً حال ہے ھذا سے یا تمتیر ہے یضل بہ ویہدی بہ الخ معطوف اور معطوف علیہ مل کر جملہ مستانفہ ہے یا جواب ہے اذا کا یا ان دونوں جملوں کا کہ جن کے ابتدا میں اما ہے بیان ہے میثاقہ مصدر بمعنی الایثاق یا اسم لمایقع بہ الوثاقتہ باقی سب ترکیب واضح ہے۔
تفسیر : اس سے پیشتر جبکہ خدا تعالیٰ نے منافقوں کا حال آگ جلانے والوں اور مینہ والوں کے ساتھ مثال دے کر بیان کیا اور پھر اثبات نبوت میں آ کر یہ فرمایا کہ اگر تم اس قرآن کو خوبی میں الا علیٰ نہیں تسلیم کرتے کہ جو بشر کی طاقت سے باہر ہے، یعنی اگر تم اس کو منجانب اللہ نہیں مانتے تو تم بھی اس کے برابر بنا کے دکھائو، پس جب وہ عاجز آئے (حالانکہ اس بارے میں انہوں نے مجلسیں بھی منعقد کیں، بڑے بڑے نامور شاعروں اور جادوگروں اور کاہنوں کو بھی شریک کیا، مگر کسی کی جرأت نہ پڑی اور جو کسی نے کچھ جواب میں کہا جیسا کہ یمامہ کا ایک شخص مسیلمہ 1 ؎ نے کذاب والنساء ذات الفروج الخ اور الفیل وما ادراک ما الفیل ذنبہ قلیل و خرطومہ طویل و انہ من خلقۃ ربک لقلیل وغیرہ وغیرہ
خرافات بنا کر لایاتوقبل ازیں کہ آنحضرت (علیہ السلام) کے مقابلہ میں پیش کیا جاتا، اس پر وہیں اس کے ہم قوم اور ہم زبان نے قہقہہ اڑایا) تو اور کوئی بات تو بن نہ آئی مگر یہ عیب نکالا کہ اگر یہ خدا کا کلام ہے تو تعجب کا مقام ہے کہ وہ ایسا جلیل القدر ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ساتھ مثال دے کر بیان کرتا ہے۔ خدائے تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ خدا کو مچھر یا اس سے چھوٹی چیز کے ساتھ مثال دینے سے شرم نہیں آتی۔ کس لیے کہ مثال سے غرض ایک حال کا اظہار ہے اور امر معقول کو محسوس بنا کے دکھانا اور سمجھانا مقصود ہوتا ہے جیسا حال ہوگا اسی قسم کی چیز سے مثال دی جائے گی یا یوں کہو یہاں تک خدائے تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات اور توحید کا اثبات دلائلِ آفاق وانفس سے کرکے مسئلہ نبوت و صداقت قرآن کو مستحکم دلیل سے ثابت کیا تھا کہ اگر یہ فوق القدرت کام نہیں تو تم بھی ایسی کتاب کوئی بنا لائو۔ یہ اس لیے کہ اس کے بعد عالم آخرت اور انسان کے انجام کار اور اس کی دنیاویہ کوششوں ‘ نیک و بد نتائج کا بیان بطور تفصیلی نبی اور قرآن کے بتانے پر موقوف ہے۔ اس مسلسل بیاں پر کور باطن اشخاص کو یہ شبہ پیدا ہوا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو بایں عظمت و جبروت و بایں استغنی و کبریا عالم آخرت کے حالات اور اعمال کے نتائج ‘ انہار و حور و نعماء یا جہنم اور اس کے عقوبات بیان کرنے سے کیا غرض۔ کہاں وہ اور اس کی عظمت اور کہاں بیان ازواج مطہرات اور جنت کے نعیم۔ اس کا جواب دیتا ہے اس کی عظمت و شان کسی واقعی امر کے بیان کرنے کو نہیں روکتی، خواہ وہ واقعی بیان بڑی چیز کا ہو یا چھوٹی چیز کا یہاں تک کہ اس کو مچھر یا اس سے بھی کمتر چیز کے ساتھ مثال دینے میں کوئی شرم نہیں۔ الہامی بیان کی مثال پانی کی ہے جس سے شور زمین میں خار و خس اور عمدہ میں گل لالہ اگتے ہیں۔ بعض کو یہ بیان باعث ہدایت ہوتا ہے ان کے رغباتِ دل آخرت کی طرف مائل ہوتے ہیں، ان کے روحانی جذبات عالم قدس اور ذات حق کی طرف جوش میں آتے ہیں اور بعض کو موجب ضلالت ہوجاتا ہے کیونکہ قوائے بہیمیہ کا غلبہ ‘ شہوات و لذات فانیہ کا انہماک ایسے بیان کی تکذیب پر آمادہ کردیتا ہے مگر کن کو ؟ فاسقوں کو جو جادئہ انسانیت سے باہر نکل گئے ہیں، وہ کون ہیں ؟ جن کی قوت نظریہ و عملیہ دونوں بگڑ گئے۔ علم و عمل گیا نو کرم دونوں گئے گزرے۔ کس لیے کہ انسان جب اس عالم میں آتا ہے اور اس کے قوائے ملکوتیہ کے ساتھ قوائے بہیمیہ کا جو جسمانی آثار میں جوڑا بند رہتا ہے تو اس سے نظری طور پر ایک عہد مؤثق لیا جاتا ہے کہ
1 ؎ آج کل بعض پادریوں کے مسلمانوں کے مقابلے میں قرآن مجید کے بےمثل نہ ہونے پر یہ حجت پیش کی کہ ایسی عبارت تو مسیلمہ کذاب نے بھی بنائی تھی اور مقامات حریری کی بھی ایسی ہی عبارت ہے۔ اور شیعہ کے علماء سورة فاطمہ اور سورة حنین قرآن میں ویسی ہی بنا کر ملا دی ہے الخ میں ان پادریوں کی سمجھ پر نہایت افسوس کرتا ہوں بقول شخصے مدعی سست گواہ چست۔ ان کلاموں کے مؤلف تو خود قرآن کے مقابلہ میں لائے ہوئے شرماتے ہیں اور پادری کہ جن کو عربیت سے کچھ بھی مس نہیں وہ سند بتا کے لاتے ہیں۔ 12 منہ
دیکھو دونوں کے اعتدال کے ذمہ دار ہو ایسا نہ کرنا کہ لذائذِ فانیہ پر فریفتہ ہو کر صفات ملکیہ کو کھو بیٹھو، مگر ازلی بےنصیب اس عالم حسّی میں نفسانی خواہشوں پر ایسے ریجتے ہیں کہ جن نیک اعمال و اعتقاد کا حکم دیا تھا ان کو نہیں کرتے مواصلت کی جگہ ان سے مقاطعہ کرتے ہیں اور جن برے اعمال اور علوم سے مقاطعہ کرنے کا حکم دیا تھا ان سے مواصلت کرتے ہیں۔ اس عالم حسی میں شتر بےمہار بن کر پھرتے ہیں، گویا باغیانہ طور پر خدا کے ملک میں رہتے ہیں مگر تاکہ آخر اس کے حکم قضاء و قدر سے مجبوری ہے اب سزا کے سوا انعام کہاں، اس سے زیادہ کون زیاں کار ہوسکتا ہے۔
متعلقات : حیاء : نفس انسان کا بدنامی اور برائی کے خوف سے منقبض اور متغیر ہوجانا۔ یہ انسان کی وہ حالت متوسط ہے کہ جس کے نیچے خجالت ہے کہ جو نفس کو کسی کام سے بالکل باز رکھتی ہے اور اس کے اوپر وقاحت ہے یعنی بےشرمی کی باتوں پر جرأت کرنا۔ یہ حیات سے مشتق ہے اس مناسبت سے کہ یہ حیا قوائے حیوانیہ کو ان کے افعال سے روکتی ہے پھر اس لفظ اور اس قسم کے دیگر الفاظ کا اطلاق جناب باری پر (کہ جو نفس اور انقباض سے پاک ہے) حقیقی طور پر نہیں بلکہ ان معانی کا لازم مراد ہے۔ مثلاً حیا کو لازم ہے کہ جس کام سے حیا کرے اس کو ترک کرے اور غضب کو لازم انتقام ہے۔ پس اس سے مراد ترک اور اس سے مراد انتقام اور رحمت سے مراد نفع پہنچانا ہے اور یہ قاعدہ کلیہ ہے۔ اس کو اور ان مقامات پر بھی کہ جہاں ذات باری پر وہ الفاظ بولے گئے ہیں کہ جو بندوں کے اوصاف پر بولے جاتے ہیں لحاظ رکھنا چاہیے۔
یضل بہ گمراہ کرنا اور دلوں پر مہر لگانا جو قرآن مجید میں مذکور ہے اس سے بعض ناسمجھ عیسائی اور دیگر نکتہ چین اسلام پر عیب لگایا کرتے ہیں مگر اس کا جواب اجمالی اور تفصیلی ختم اللہ کی تفسیر میں دے چکے وہاں ملاحظہ کرلو۔
فاسقین : فسق نکلنے کو کہتے ہیں عرب بولتے ہیں فسقت الرطبۃ عن قشرھا کہ ” چھوہارا اپنے پوست سے باہر ہوگیا “ اور عرف شرع میں فسق خدا کی فرمانبرداری سے گناہ کرکے خارج ہونے کو کہتے ہیں اور اس کے تین درجے ہیں (1) تغابی یعنی باوجودیکہ گناہ کو برا سمجھتا ہے مگر کبھی خواہش نفسانی سے اس کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ (2) انہماک یعنی گناہ کرنے کی عادت کرلے اور کچھ پروا نہ کرے۔ (3) جحود وہ یہ کہ گناہ کو اچھا جان کر عمل میں لاوے اور خدا اور رسول ﷺ کے فرمان کی کچھ حقیقت نہ سمجھے۔ اس تیسرے درجے میں انسان کافر ہوجاتا ہے اور پہلے دونوں درجوں تک مومن رہتا ہے کس لیے کہ تصدیق جو اصل ایمان ہے اس کے دل میں باقی ہے اور دلیل اس بات پر کہ گناہ کرنے سے ایمان نہیں جاتا۔ آیات اور احادیث اور اجماع صحابہ ہے قال تعالیٰ وَاِنْ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا۔ الآیہ ” اگر اہل ایمان کے دو گروہ باہم جنگ کریں “ الخ حالانکہ جنگ باہمی گناہ ہے مگر اس کے مرتکب کو بھی خدا تعالیٰ نے مومن کہا ہے۔
خوارج : چونکہ ایمان کا اعمال صالحہ کو جزو قرار دیتے ہیں تو گناہ کرنے والے کو کافر کہتے ہیں اور معتزلہ چونکہ تصدیق بالقلب اور اقرار باللسان اور اعمال صالحہ کے مجموعہ مرکب کو ایمان کہتے ہیں تو اس شخص کو مومن نہیں کہتے، کیونکہ مجموعہ میں سے ایک جزء اعمال صالحہ نہیں پایا جاتا مگر اس کو کافر بھی نہیں کہتے کیونکہ کفر میں انکارِ حق شرط ہے اور انکار پایا نہیں گیا اس لیے ایمان اور کفر میں وہ ایک تیسرا مرتبہ فرض کرتے ہیں۔ لازم ہے کہ اگر انسان سے بمقتضائے بشریت کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرے دل میں نادم ہو، خدائے تعالیٰ سے بعجز و انکسار و بچشم اشکبار معافی چاہے اور استغفار کرے وہ غفور رحیم ہے، معافی اس کا عام دستور ہے۔
عہد : عہد لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس کی محافظت اور رعایت کی جاتی ہے جیسا کہ وصیت اور قسم اور گھر کو بھی عرب اس لیے عہد بولتے ہیں کہ ہر پھر کے انسان وہاں آتا اور اس کی طرف خیال رکھتا ہے اور تاریخ کو بھی اس لیے عہد کہتے ہیں کہ اس کی محافظت ہوتی ہے اور عہد اللہ وہ ہے کہ جو روز ازل اس نے عالم روحانی میں تمام ارواح کو موجود کرکے باندھا تھا اور سب سے یہ اقرار کروایا تھا کہ میرے سوا کسی کو خدا نہ جاننا جیسا کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے : وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرْھْمْ ذُرّْیَّتْہْمْ ۔ الآیہ پھر اس کی شرح اس حدیث میں کہ جس کو امام احمد نے ابن عباس اور ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ خدا نے آدم کی پشت سے اس کی تمام اولاد کو نکال کر پھیلا دیا اور ان سے یہ کلام کیا : ” الست بربکم کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں ؟ سب نے کہا بلیٰ کہ ہاں تو ہمارا رب ہے۔ تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اس پر میں تمہارے باپ آدم اور آسمان و زمین کو گواہ کرتا ہوں تاکہ قیامت کو یوں نہ کہو کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔ اب تم جانو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، میرا کسی کو شریک نہ بنانا اور میں دنیا میں تمہارے پاس کتابیں دے کر اپنے رسول اس عہد کے یاد دلانے کو بھیجوں گا۔ الحدیث۔ یہ عہد ازلی ہے اور اس کا تذکرہ انسان کی عقل خداداد اور فطرت سلیمہ بھی ہے اور اسی عہد کو بار امانت بھی کہتے ہیں کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ انا عرضنا الامانۃ علی السمٰوات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا و حملھا الانسان۔ الآیۃ پھر الہامِ الٰہی اور انبیاء اور ان کے معجزات اور آیات و کتاب اس عہد کی توثیق و تذکیر کرتے ہیں، اس لیے جہاں انبیاء نہیں آئے، وہاں صرف توحید پر قائم رہنا عہد الست کا قائم رکھنا ہے۔ اگر شرک کریں گے تو جہنم میں بدعہدی کی سزا پاویں گے، جہاں انبیاء (علیہم السلام) کا فیض نبوت پہنچ چکا تو وہاں بموجب اس عہد کے نبوت اور احکام کا ماننا بھی ضروری ہوگیا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا اور اس کی مضبوطی دیگر انبیاء علیھم السلام کی معرفت کی گئی تھی کہ میرے انبیاء کو ماننا، شرک نہ کرنا، قتل نہ کرنا، احکام عشرہ وغیرہا۔ اس تقدیر پر اس آیت کے مخاطب یہود یا نصاریٰ ہیں پھر یہ عہد ہر شخص کے ساتھ اور بھی خصوصیت رکھتا ہے۔ بادشاہوں کے ساتھ یہ خصوصیت کہ وہ عدل و انصاف کریں، علماء سے یہ کہ حق نہ چھپاویں، مداہنت نہ کریں۔ انبیاء سے یہ کہ اس کے دین کو قائم کریں جس چیز کے وصل یعنی ملانے کا خدا نے حکم دیا وہ حقوق قرابت و حقوق محبت و حقوق وطن و حقوق ملت ہیں۔
Ayah 2:28ترکیب : کیف استفہام حال کے لیے ہے اور یہاں استفہام انکاری ہے تکفرون باللہ جملہ استفہامیہ اور ضمیر انتم جو تکفرون کا فاعل ہے ذی الحال اور یہ جملے معطوف مع معطوف علیہ وکنتم امواتا الخ حال واقع ہوئے ہیں۔
تفسیر : جب مسئلہ توحید اور مسئلہ نبوت و مسئلہ معادبخوبی مسلسل ثابت ہوچکے اور اس کے ضمن میں خطرات و شبہات کے جواب بھی گزر گئے تب ان معاندین کو جو اپنے انکار پر اڑے ہوئے ہیں بالخصوص مخاطب کرکے ایک نئی دلیل نئے اسلوب سے بیان فرماتا ہے جو ان کے قوی انکار کا ازالہ کر دے۔ کس لیے کہ جس قدر مرض قوی ہوتا ہے دوا بھی ویسی ہی قوی دی جاتی ہے اور لطف بیان یہ ہے کہ اپنے انعامات حال و آیندہ کا بھی بضمن دلیل ذکر ہے تاکہ طبائع سرکش کا منعم حقیقی کی طرف میلان ہو۔ دلوں میں ولولہ پیدا ہو، نزول قرآن مجید کے وقت اور شاید اب بھی ہوں چند قسم کے منکر تھے : اول وہ جو موجودات کے دائرہ کو محسوسات تک ہی محدود سمجھتے تھے جس کو آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے، کانوں سے نہیں سنتے تھے، ہاتھ سے ٹٹول نہ سکتے تھے، زبان سے چکھ نہ سکتے تھے، ناک سے سونگھ نہ سکتے تھے، نہیں مانتے تھے اس لیے صانع عالم اور مجردات ملائکہ و روح کے مرنے کے بعد کی دوسری زندگانی اور عالم برزخ اور حشر اور وہاں کے عقاب وثواب سب کے منکر تھے اور ایسی چیزوں کے وجود کو وہم و خیال جانتے تھے جیسا کہ موجودہ حکما کا یہ خیال اللہ تعالیٰ اور جزا و سزا سے بےخوف کرکے لذات بہیمیہ پر مائل کرتا ہے ہر قسم کے ظلم و عیاری کو اپنے حصول مطالب کے لیے کام میں لینا عاقلانہ زندگی سمجھتا ہے مگر اس قسم کی زندگی ایسی ناپاک زندگانی ہے جس کے بدنتائج اس عالم میں بھی پیش آتے اور برا مزا چکھاتے ہیں۔ دوم وہ جو اللہ تعالیٰ اور مجردات ملائکہ و جن و ارواح کے تو قائل تھے مگر مرنے کے بعد دوسری زندگی اور اعمال کے نیک و بد نتائجِ اخرویہ کے قائل نہ تھے بلکہ نیک و بد نتائج اسی زندگی میں کثرت اولاد اور مال و صحت و فتح مندی یا افلاس و ادبار اور موت اولاد و اموال کو خیال کرتے تھے یہ گروہ گو بظاہر اللہ جل و علاکا منکر نہیں مگر جب اس نے ایک نئی زندگانی اور حشر و نشر اور وہاں کے اعمال کے نتائج کا انکار کیا تو درحقیقت خدا ہی کا انکار کیا، کیونکہ خدا نے ان چیزوں کی اپنے رسولوں کی معرفت خبر دی ہے اور نیز اس میں اس کی صفات حمیدہ کا بھی انکار ہے، یہ زندگانی بھی سخت ناپاک اور ظلمانی زندگی ہے۔
سوم وہ لوگ تھے کہ ان سب باتوں کے تو قائل تھے مگر رسالت کے منکر تھے وہ کہتے تھے کہ خدا اور بندہ میں مجرد اور مادی ہونے کے سبب کوئی مناسبت نہیں۔ پھر آدمی سے ہمکلامی اور اس کی پیغام رسانی ایک خیال باطل ہے۔ جیسا کہ حکماء اور ہنود کا فرقہ براہمہ۔ یہ گروہ بھی خدا کی عظمت اور اس کے اوصاف حمیدہ کا منکر ہے۔ یہ زندگی بھی شکی زندگی ہے۔
ان سب کو خدا کا منکر قرار دے کر ان سے یوں خطاب کیا جاتا ہے کیف تکفرون باللہ اس کے بعد بطور جملہ حالیہ کے ان کے اطمینان قلبی کے لیے یہ دلیل پیش ہوتی ہے کنتم امواتا کہ تم مردے تھے یعنی معدوم اس مقدمہ میں کسی کو شک نہیں ایک جاہل اور بڑے سے بڑے فلسفی سے جب پوچھئے گا تو وہ اپنی عمر کی ایک ابتدا بتلا دے گا۔ دس، بیس، پچاس، ساٹھ سو برس جس سے یہ اقرار ہے کہ ہم اس سے پہلے معدوم تھے، دنیا میں نہ آئے تھے فاحیاکم پھر معدوم سے موجود ہوئے، کوئی زبردست قوت ہے جس کو ہمارے عدم اور وجود کا اختیار ہے۔ ہر حادث کے لیے کوئی محدث ضرور ہے اور یہ زندگی بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس محدث قادر کے لیے کہ وہ ہمارے بےاختیار ہم کو مردہ کرتا ہے ہم لاکھ جتن کریں جس طرح لڑکپن کو جاتے ہوئے نہ روک سکے اسی طرح جوانی جو ہر روز اپنے کارواں ہمارے سامنے روانہ کرتی ہے، اس کو بھی نہیں روک سکتے، ثم یمیتکم آخر وہ قادر مطلق ایک روز پھر معدوم کردیتا ہے۔ صفحہ ہستی پر نام و نشان بھی باقی نہیں رکھتا، خاک میں خاک مل جاتی ہے یہ مقدمات بھی یقینی ہیں ان میں بھی کسی بشر کو انکار نہیں پھر جس کے ہاتھ میں وجود اور عدم ہے معدوم سے موجود اور موجود سے معدوم کرتا ہے جس کا بنی آدم ہر روز مشاہدہ کر رہے ہیں تو پھر وہ قادر مطلق اس عدم کے بعد کیا دوبارہ زندگی عطا نہیں کرسکتا ؟ ضرور کرسکتا ہے اور یقینا کرے گا ثم یحییکم اور یہ دوبارہ زندگی کس لیے عطا کرے گا ؟ ثم الیہ ترجعون کہ تم اس کی بارگاہ کبریائی میں حاضر کئے جاؤ اور اپنی اس حیات دنیا کا نیک و بد بدلہ پاؤ اس برہان میں غور کرنے سے پھر کسی منکر کو جائے انکار باقی نہیں رہتی۔
فوائد : ثم یحییکم کہ مر کر پھر زندہ ہونا ہے اس دلیل سے ظاہر ہے کہ جس نے ابتدائً زندہ کردیا دوبارہ زندہ کرنا اس کو کیا مشکل ہے ؟ جب یہ ہے تو ثم الیہ ترجعون میں کہ اس کے پاس حساب و کتاب کے لیے پھرجانا ہے، کیا شک ہے ؟ گویا یوں کہنا چاہیے کہ انسان ملک عدم سے کوچ کرکے ملک ہستی میں آیا پھر یہاں سے انتقال کرکے ایک اور عالم میں جائے گا کہ جس کو بااعتبار اس حیات کے موت کہتے ہیں لیکن چندے وہاں آلودگی جسمانی کے اثر میں مبتلا رہے گا پھر اس سے پاک ہو کر ایک کامل حیات پاوے گا اور جب یہ تکدر بالکل جاتا رہے گا تو خدا تعالیٰ کے روبرو ظہور کلی یعنی حشر کے روز حاضر ہوگا، اس تھوڑے سے کلام میں کس قدر مبدء و معاد کے احوال اجمالاً مذکور ہیں۔
نکات : (1) الیہ ترجعون میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمام عالم بالخصوص انسان محض اس کے وجود کا ظل ہے جس طرح کہ دھوپ آفتاب کا ظل ہے پس جس طرح یہ تخصیص شیونات ہر چیز بالخصوص انسان اس مبدا سے چلا ہے اسی طرح پھر اس کی طرف تجرد ہوتے ہوتے (کہ جو موت سے حاصل ہوتا ہے اور اسی لیے موت کو نعماء میں شمار کیا ہے ورنہ موت فی نفسہ نعمت نہیں) وہیں جا کر منتہی ہوگا کیونکہ رجوع کے معنی یہ ہیں کہ جہاں سے جاوے پھر وہیں ہٹ کر آوے جس طرح کرہ میں جہاں سے ابتدا ہوتی ہے وہیں آ کر انتہا ہوتی ہے، اسی طرح خدا تعالیٰ چونکہ ہر شے پر محیط ہے (اِنَّہٗ بْکُلِّ شَیْئٍ مُّحِیْطٍ ) اسی سے ابتدا ہے پھر اس کی طرف انتہا ہے لیکن یہ احاطہ جسمانی نہیں مگر کفر و الحاد ہر طرح کی بیدینی ‘ شہوت پرستی روح کے لیے اس کی طرف رجوع ہونے میں چونکہ موانع اور عوائق ہیں جیسا سڑک پر چلنے والے کے لیے غار و دیوار یا اینٹ پتھر۔ اس لیے انبیاء (علیہم السلام) اس سلوک کو تمام کرنے کے لیے ان چیزوں سے منع کرتے ہیں کیونکہ اس کے پاس پہنچنا کہ جو مرکز اصلی ہے نجات ہے اور عوائق کے سبب دور رہنا ہلاکت ہے۔ مگر آیت میں رجوع کرنے سے مجبوراً بارگاہ کبریائی میں حساب و کتاب کے لیے حاضر کیا جانا مراد ہے۔
(2) اگرچہ بظاہر فاعل تکفرون سے وکنتم امواتاً حال نہیں ہوسکتا کس لیے کہ حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے اور اس لیے جملہ ماضیہ کو جو حال بناتے ہیں تو پہلے لفظ قد لاتے ہیں اور یہاں اتحاد زمانہ ہی نہیں کیونکہ انسان کے معدوم ہونے اور پھر موجود ہو کر کفر کرنے میں بڑا فاصلہ ہے۔ پیدا ہو کر عاقل بالغ ہو وے گا تب کہیں اس کا انکار کرے گا۔ لیکن اس رمز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے حال بنایا کہ گو وہ زمانہ بعید ہے مگر ایام زندگانی چونکہ بادصبا کی طرح یوں ہی گزر جاتے ہیں جس کی سو برس کی عمر ہوتی ہے وہ بھی ایام طفولیت کے وقائع کو کل کی بات کہا کرتا ہے خواجہ درد فرماتے ہیں ؎
گزروں ہوں جس خرابہ پہ کہتے ہیں وہاں یہ لوگ
ہے کوئی دن کی بات یہ گھر تھا یہ باغ تھا
اور مرنے کے بعد تو ہزارہا سال کے زمانے کو یَوْمٌ اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ کہیں گے۔ اس لیے اس کو حال بنایا اور اس لیے بھی۔
(3) اس تقدیر پر ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون کا بظاہر عطف و کنتم امواتاً پر صحیح نہیں ہوتا کیونکہ یہ امور تو زمانہ آیندہ میں پیش آئیں گے، پس تکفرون سے بذریعہ عطف کہ جو زمانہ حال کو چاہتا ہے حال نہیں بن سکتے مگر یہاں بھی وہی نکتہ مرعی ہے کہ گویہ امور ایک عرصہ بعد پیش آویں گے جیسا کہ لفظ ثم باآواز بلند کہہ رہا ہے مگر بقول عرب ما اقرب ماہوآت وما ابعد ماہوفات آنے والی چیز گویا عاقل کے روبرو کھڑی ہے پس اس نکتہ کے لیے اس زمانہ آیندہ کو حال بنایا، گویا یہ بات بتلا دی کہ تمہارے بعد پیدا ہونے کا اور پھر مرنے کا زمانہ دونوں ملے ہوئے ہیں پس جب یہ ہے تو اس وجود بین العدمین کالطھربین الدمین پر پھول کر خدا کو بھولنا اور اس بےحقیقت ہستی کے گھمنڈ میں خدا تعالیٰ سے اکڑنا ‘ کفر کرنا بڑی حماقت ہے۔ بلغاء کا عام دستور ہے کہ وہ وجود شی کو عدم اور عدم کو وجود اور بعد کو قرب اور قرب کو بعد اعتبارات لطیفہ سے قرار دے کر کلام کرتے ہیں۔
(4) اس کو اس خوش اسلوبی سے بیان کیا اور اس کو اول کلام کا تتمہ یا نتیجہ اور اس کے بعد کے کلام کا توطیہ تمہید کہیں تو بجا ہے۔ پس اس کے بعد اس دوسری نعمت کو بیان کرتا ہے کہ جس کو وجود انسان از بس مقتضی ہے اور جس کے بغیر اس کو دم بھر بھی چارہ نہیں، پس فرماتا ہے :