3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 3:73

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے حضور قائل معقول کرسکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

آیت نمبر : 73۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم “ یہ نہی ہے اور یہ یہود کے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کلام میں سے ہے یعنی ان کے روساء نے سفلہ اور گھٹیا لوگوں کو کہا۔ اور سدی نے بیان کیا ہے : یہ خیبر کے یہودیوں کی مدینہ طیبہ کے یہودیوں کے ساتھ گفتگو میں سے ہے۔ اور یہ آیت اس سورة میں مشکل ترین آیت ہے۔ اور حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ آیت کا معنی ہے : تم کسی کی بات نہ مانو سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اور تم یہ نہ مانو کہ وہ تم پر تمہارے رب کے پاس کوئی حجت لا سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی حجت ہے ہی نہیں، پس دین کے اعتبار سے تم ان سے زیادہ صحیح ہو۔ ان اور (آیت) ” یحآجوکم “۔ دونوں محل جر میں ہیں ای بان یحاجوکم ای باحتجاجھم “ یعنی تم اس بارے میں ان کی تصدیق نہ کرو کیونکہ ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “۔ (اور یہ بھی نہ ماننا کہ) کسی کو اتنادیا جاسکتا ہے جیسے تمہیں دیا گیا ہے مثلا تورات من وسلوی اور سمندر کا پھٹنا اور علاوہ ازیں دیگر علامات و فضائل : پس (آیت) ” ان یؤتی۔ او یحاجوکم “ کے بعد مؤخر ہوگا اور ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” ان الھدی ھدی اللہ “۔ دو کلاموں کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : معنی یہ ہے اور تم مت مانو کسی کی بات سوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اور مت مانو یہ کہ کسی کو اس کی مثل دیا جاسکتا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے پس استفہام پر مد بھی اس انکار کی تاکید کے لئے ہے جو انہوں نے کہا ہے : ” بیشک کسی کو اس کی مثل نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ انہیں دیا گیا ہے، کیونکہ علمائے یہود نے انہیں کہا ہے : تم مت مانو سوائے ان کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں کہ کسی کو اس کی مثل دیا جاسکتا ہے جیسا تمہیں دیا گیا ہے، یعنی کسی کو اس کی مثل نہیں دیاجاسکتا جیسا تمہیں دیا گیا ہے پس کلام اپنی ترتیب پر ہے اور ان محل رفع میں ہے انکے قول کے مطابق جنہوں نے تیرے اس قول میں رفع دیا ہے۔ ازید ضربتہ، اور خبر محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے : ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم تصدقون اوتقرون، ای ایتاء موجود مصدق او مقربہ، ای لا تصدقون بذالک۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ فعل مضمر کی بنا پر ان محل نصب میں ہو، جیسا کہ تیرے اس قول میں جائز ہے، ازیدا ضربتہ اور عربی میں یہ زیادہ قوی ہے کیونکہ استفہام بالفعل اولی ہے، اور تقدیر کلام یہ ہوگی : اتقرون ان یؤتی اور اتشیعون ذالک او اتذکرون ذالک نحوہ۔ اور ابن کثیر، ابن محیصن اور حمید نے مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابو حاتم نے کہا ہے : ان بمعنی الان ہے پھر لام جر کو تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا اور اسے مد کے ساتھ بدل دیا گیا، جیسا کہ اس کی قرات جس نے اس طرح پڑھا ان کان ذا مال یہ اصل میں الان ہے، اور اس قرات کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” او یحاجوکم “۔ مومنین کو خطاب کرنے کی طرف رجوع ہے، یا پھر او بمعنی ان ہوگا، کیونکہ یہ دونوں حرف شک اور جزا ہیں اور ان میں سے ایک کو دوسرے کی جگہ رکھا جاسکتا ہے، اور آیت کی تقدیر اس طرح ہے : وان یحاجوکم عند ربکم یا معشر المؤمنین پس تم فرما دیجئے اے محمد ﷺ بیشک ہدایت اور فضل وکرم تو اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے اور ہم اسی پر ہیں۔ اور جس نے بغیر مد کے پڑھا ہے اس نے کہا ہے : بیشک پہلی نفی ان کے قول (آیت) ” ولا تؤمنوا “ میں ان کے انکار پر دلالت کرتی ہے، پس معنی یہ ہے کہ یہودی علماء نے ان سے کہا : تم اس بات کی تصدیق نہ کرو کہ کسی کو اس کی مثل دیا جاسکتا ہے جیسا تمہیں دیا گیا ہے، یعنی نہ ان کے پاس ایمان ہے اور نہ ہی کوئی حجت، پس علم و حکمت، کتاب وحجت من وسلوی اور سمندر کا پھٹنا وغیرہ فضائل و کرامات کا معنی پر عطف کیا گیا ہے۔ یعنی بلاشبہ یہ سب صرف تم ہی میں موجود ہیں پس تم یہ بات مت مانو کہ کسی کو اس کی مثل دیا جاسکتا ہے جیسا تمہیں دیا گیا ہے سوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں، پس اس قرات کے مطابق کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اور لام زائدہ ہے اور من استثنی اول میں سے نہیں ہے، ورنہ کلام جائز نہیں ہوگا۔ اور احد داخل کیا گیا ہے کیونکہ اول کلام نفی ہے، پس اسے ان کے صلہ میں داخل کیا گیا ہے کیونکہ وہ فعل منفی کا مفعول ہے، اور جر دینے والا عامل نہ ہونے کی وجہ سے ان محل نصب میں ہے اور خلیل نے کہا ہے : ان محل جر میں ہے کیونکہ اس سے پہلے جر دینے والا لفظ محذوف ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لام زائدہ نہیں ہے، اور تؤمنوا یہ تقروا پر محمول ہے۔ ابن جریج نے کہا ہے : معنی یہ ہے کہ تم مت مانو سوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اس کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کسی کو اس کی مثل دیا جاسکتا ہے جیسا تمہیں دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے : تم اس کے بارے مت خبر دو جو تمہاری کتاب میں حضور نبی کریم ﷺ کے اوصاف موجود ہیں سوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں تاکہ بتوں کی عبادت اور ان کی تصدیق کی طرف کوئی راہ نہ ہو۔ اور فراء نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ یہودیوں کا کلام اس ارشاد پر ختم ہوچکا ہو (آیت) ” الا لمن تبع دینکم “ اور پھر حضور نبی رحمت ﷺ کو فرمایا ہو : (آیت) ” قل ان الھدی ھدی اللہ “۔ یعنی بلاشبہ بیان حق ہی اللہ تعالیٰ کا بیان ہے۔ (آیت) ” ان یؤتی احد مثل ما اوتیتم “۔ یہ (اس معنی میں) بالکل بین اور ظاہر ہے کہ کسی کو اس کی مثل نہیں دیا جاسکتا جیسا تمہیں دیا گیا ہے اور لا ان کے بعد مقدرہ ہے یعنی لئلا یوتی، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” یبین اللہ لکم ان تضلوا یعنی لئلا تضلوا تاکہ تم گمراہ نہ ہو، پس اسی لئے کلام میں احد کا داخل ہونا صحیح ہے، اور اوبمعنی حتی اور الاان ہے۔ جیسا کہ امرء القیس نے کہا ہے : فقلت لہ لا تبک عینک انبا نحاول ملکا او نموت فنعذرا : اس میں اون موت الا ان نموت کے معنی میں ہے۔ اور ایک دوسرے نے کہا ہے : وکنت اذا غمزت قناۃ قوم کسرت کعوبھا او تستقیما : اس میں او تستقیما حتی ان تستقیما کے معنی میں ہے اور اس کی مثل ان کا یہ قول ہے ؛ لا نلتقی او تقوم الساعۃ اس میں اوبمعنی حتی یا الی ان کے ہے اور اسی طرح کسائی کا مذہب ہے۔ اور اخفش کے نزدیک یہ او عاطفہ ہے اور یہ عطف (آیت) ” ولا تؤمنوا “ پر ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے، یعنی لا ایمان لھم ولا حجۃ (نہ ان کا ایمان ہے اور نہ ان کی کوئی دلیل) اور یہ عطف معنی پر کیا گیا ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ پوری آیت اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنین کو خطاب ہو ان کے دلوں کو ثابت قدم رکھنے کے لئے اور انکی نگاہوں میں تیزی پیدا کرنے کے لئے تاکہ وہ یہودیوں کی تلبیس اور ان کے اپنے دین کو آراستہ اور مزین کرکے پیش کرنے کے وقت کسی شک میں مبتلا نہ ہوجائیں، اور معنی یہ ہو : اے گروہ مومنین ! تم بات نہ مانو مگر ان لوگوں کی جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق نہ کرو کہ اس کی مثل فضل وکرم اور دین میں سے کسی کو نہیں دیا جاسکتا جیسا تمہیں دیا گیا ہے اور نہ یہ مانو کہ تمہارا کوئی مخالف تمہارے دین کے بارے میں تمہارے رب کے پاس کوئی حجت لا سکتا ہے یا وہ اس پر قدرت رکھتا ہے، کیونکہ ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اور بلاشبہ فضل وکرم اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ ضحاک (رح) نے کہا ہے : بیشک یہودیوں نے کہا ہم اپنے رب کے پاس اس پر حجت لائیں گے جس نے ہمارے دین میں ہماری مخالفت کی، پس اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ بیشک وہ پھسلائے گئے ہیں اور عذاب دیئے گئے ہیں اور مومنین غالب آنے والے ہیں، اور ان کی حجت ان کا قیامت کے دن جھگڑنا ہے، اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک یہود ونصاری ہمارے بارے میں ہمارے رب کے پاس حجت لائیں گے اور وہ کہیں گے تو نے ہمیں ایک اجر دیا ہے اور انہیں تو نے دو اجر دیئے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں نے تمہارے ساتھ تمہارے حقوق کے بارے کسی قسم کی زیادتی کی ہے ؟ وہ عرض کریں گے نہیں، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ میرا فضل ہے جسے میں چاہتا ہوں اسے عطا کرتا ہوں۔ “ (1) (صحیح بخاری، باب الاجارۃ الی صلوۃ العصر، حدیث نمبر 2108، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ہمارے علماء نے کہا ہے : اگر وہ جانتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں ہے تو وہ ہمارے بارے میں ہمارے رب کے پاس حجت نہ لاتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو آگاہ فرما دیا کہ وہ قیامت کے دن تمہارے بارے میں تمہارے رب کے پاس حجت لائیں گے، پھر فرمایا تم اب ان سے کہہ دو (آیت) ” ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشآء واللہ واسع علیم “۔ بیشک فضل وکرم تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور اللہ تعالیٰ وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے، ابن کثیر نے ان یؤتی کو استفہام کی بنا پر مد کے ساتھ پڑھا ہے، جیسا کہ اعشی نے بھی کہا ہے : أأن رات رجلا اغشی اضر بہ ریب المنون ودھر متبل خبل : اور باقیوں نے خبر کی بنا پر بغیر مد کے پڑھا ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر نے ان یؤتی ہمزہ کو مکسور پڑھا ہے اس بنا پر کہ اس میں معنی نفی کا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں سے ہوگا جیسا کہ فراء نے کہا ہے، اور معنی ہوگا : اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے : ” بیشک ہدایت تو وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہو کسی کو اس کی مثل عطا نہیں کیا جائے گا جیسا تمہیں عطا کیا گیا ہے یا نہ کوئی حجت لا سکتا ہے تم پر تمہارے رب کے پاس “ یعنی یہودی باطل پر ہیں کہ وہ کہتے ہیں ہم تم سے افضل ہیں۔ اور (آیت) ” اویحاجوکم “ کو ان مضمر اور او کے ساتھ نصب دی گئی ہے اور أؤ کے بعد ان کو مضمر کیا جاتا ہے، جب وہ حتی اور الا ان کے معنی میں ہو۔ اور حسن نے ان یؤتی یعنی تا کو کسرہ کے ساتھ اور یا کو مفتوح پڑھا ہے معنی یہ ہوگا۔ ” ان یؤتی احد احد مثل ما اوتیتم “۔ (کہ کوئی کسی کو اتنا دے گا جتنا تمہیں دیا گیا ہے۔ ) اس میں سے مفعول کو حذف کردیا گیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل ان الھدی ھدی اللہ “ ‘ اس میں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ خیر اور نیکی کی طرف ہدایت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف راہنمائی کرنا اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے وہ اسے اپنے انبیاء علیہم الصلوت والتسلیمات کو عطا فرماتا ہے، سو تم انکار نہ کرو کہ تمہارے سوا کسی کو اس کی مثل عطا کیا جائے جیسا تمہیں عطا کیا گیا ہے، پس اگر وہ اس کا انکار کریں تو ان سے فرما دیجئے، (آیت) ” ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشآء “ کہ فضل وکرم اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ جیسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے : آپ فرما دیجئے ہدایت تو وہی ہے جو اس اللہ کی ہدایت ہو جس نے جو مومنین کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تصدیق کرنے کے بارے عطا فرمائی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ اور بعض اہل اشارات نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے : تم (حسن) معاشرت نہ رکھو سوائے ان کے جو تمہارے احوال اور تمہارے طریقہ میں تم سے موافقت کرتے ہیں، کیونکہ جو تم سے موافقت نہیں کرتا وہ تمہارا دوست نہیں ہو سکتا، واللہ اعلم۔
Ayah 3:74

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

آیت نمبر : 74۔ یعنی وہ اپنی نبوت اور ہدایت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے جسے چاہتا ہے، یہ قول حسن اور مجاہد وغیرہما کا ہے، ابن جریج نے کہا ہے : وہ خاص کرلیتا ہے اسلام اور قرآن کے ساتھ جسے چاہتا ہے، ابو عثمان نے کہا ہے : یہ حسین تر قول ہے جس کے ساتھ امیدوار کی امید اور خوفزدہ ہونے والے کا خوف باقی رہتا ہے۔ ” اور اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے “۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فورا) واپس دیدے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا کو محض جھوٹ بولتے ہیں اور اسی بات کو جانتے بھی ہیں

آیت نمبر : 75۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن اھل الکتب من ان تامنہ بقنطار یؤدہ “۔ مثلا حضرت عبد اللہ بن سلام (ان اہل کتاب میں سے تھے) (آیت) ” ومنھم من ان تامنہ بدینار لایؤدہ الیک “۔ اس سے مراد فخاص بن عازوراء یہودی ہے، ایک آدمی نے اس کے پاس کچھ دینار امانت رکھے تو اس نے اس میں خیانت کی۔ اور یہ بھی قول ہے کہ ان سے مراد کعب بن اشرف اور اس کے ساتھ ہیں، ابن وثاب اور اشہب عقیلی نے ” من ان تیمنہ “ قرات کی ہے اور یہ ان کی لغت پر ہے۔ جو نستعین پڑھتے ہیں اور یہ بنی بکر اور بنی تمیم کی لغت ہے، اور حضرت عبداللہ کی قرات میں مالک تیمنا علی یوسف “ کے الفاظ ہیں، جبکہ باقیوں نے الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع اور کسائی نے یؤدھی اور اج میں یا کے ساتھ پڑھا ہے، ابو عبید نے کہا ہے : ابو عمرو، اعمش، عاصم اور حمزہ نے ابوبکر کی روایت میں ھا پر وقف کرکے پڑھا ہے یعنی یؤدہ الیک، نحاس نے کہا ہے : بعض نحویوں کے نزدیک ھا کو ساکن کرنا بغیر شعر کے جائز نہیں ہے اور بعض نے اسے مطلقا جائز قرار نہیں دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ جنہوں نے سکون کے ساتھ اسے پڑھا ہے انہوں نے غلطی کی ہے اور یہ کہ انہیں وہم ہوا ہے کہ جزم ھا پر واقع ہوئی ہے اور ابو عمرو نے اس سے پاک قرار دیا کہ اس کی مثل اس پر جائز مثل اس پر جائز ہوا اور ان سے صحیح روایت یہ ہے کہ وہ ھا کو کسرہ دیتے ہیں اور یہی یزید بن قعقاع کی قرات ہے۔ اور فراء نے کہا ہے کہ بعض عربوں کا مذہب یہ ہے کہ وہ ھا کو جزم دیتے ہیں جب اس کا ماقبل متحرک ہو، وہ کہتے ہیں : ضربتہ ضربا شدیدا، جیسا کہ وہ انتم اور قمتم کی میم کو سکون دیتے ہیں اور اس کی اصل رفع ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا : لما رای الا دعہ ولا شبع مال الی ارطاۃ حقف فاضطجغ : اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس مقام پر ھا کو ساکن کرنا جائز ہے کیونکہ وہ جزم کے محل میں واقع ہے اور یہ یا ختم ہوجانے والی ہے، ابو المنذر سلام اور زہری نے یودہ بغیر واؤ کے واؤ کے ہا کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ، حمید اور مجاہد نے یؤد ھو کو واؤ کے ساتھ پڑھا ہے، اس کے لئے واؤ کو اختیار کیا گیا ہے کیونکہ واؤ شفتہ سے ادا ہوتی ہے اور ھا بعیدۃ المخرج ہے۔ (یعنی اس کی ادائیگی کا محل بعید ہے) سیبویہ نے کہا ہے : مذکر میں واؤ مونث میں الف کے قائم مقام ہے اور اسے یا سے بدل دیا جاتا ہے، کیونکہ یا زیادہ خفیف ہے، جبکہ اس کا ماقبل کسرہ یا یا ہو اور یا حذف ہوجاتی ہے اور کسرہ باقی رہتا ہے، کیونکہ یا کبھی حذف ہوجاتی ہے اور فعل مرفوع ہو تو اسے اپنے حال پر ثابت رکھا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اہل کتاب میں کچھ خائن ہیں اور کچھ امین ہیں اور مومنین ان میں تمیز نہیں کرسکتے، پس چاہیے کہ وہ ان تمام سے اجتناب کریں اور اہل کتاب کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اگرچہ مومنین بھی اسی طرح ہیں، اس لئے کہ ان میں خیانت زیادہ پائی جاتی ہے، پس کلام غالب کے بارے میں کہا گیا ہے، واللہ اعلم، اور قنطار کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے اور رہا دینارتو وہ چوبیس قیراط کا ہوتا ہے اور ایک قیراط درمیانے جو کے تین حبوں کے برابر ہوتا ہے اور اس کا مجموعہ بہتر حبے ہیں اور اس پر اجماع کیا گیا ہے، جس نے کثیر کی حفاظت کی اور اسے ادا کردیا تو (حفاظت اور ادائیگی) قلیل میں بدرجہ اولی ہوگی اور جس نے تھوڑے میں خیانت کی یا اسے روک کر رکھا تو وہ کثیر میں اور زیادہ ہوگی، اور یہ مفہوم خطاب کے ساتھ قول پر انتہائی واضح دلیل ہے، اور اس میں علماء کے مابین بہت زیادہ اختلاف ہے جو اصول فقہ میں مذکور ہے، اور اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں ذکر کی ہیں جو ادا کرتا ہے او وہ جو ادا نہیں کرتا مگر وہی جو اس پر لازم ہوتا ہے اور کبھی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو ادا نہیں کرتا اگرچہ تو اس کے پاس ہمیشہ کھڑا رہے، پس اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں ذکر کی ہیں کیونکہ یہ غالب اور معتاد ہیں اور تیسری نادر ہے، لہذا کلام غالب کے بارے ہے اور طلحہ بن مصرف اور ابو عبدالرحمن السلمی وغیرہما نے دمت دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور یہ دونوں لغتیں ہیں اور کسرہ زاد السراۃ کی لغت ہے، یہ دمت تدام سے ماخوذ ہے جیسا خفت تخاف ہے۔ اور اخفش نے دمت تدوم بیان کیا ہے، اور یہ شاذ ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے اس ارشاد سے اپنے اس موقف پر استدلال کیا ہے ہے کہ غریم (مقروض) کے ساتھ ساتھ رہنا چاہیے (آیت) ” الا ما دمت علیہ قآئما “۔ اور تمام علماء نے اس کا انکار کیا ہے اور سورة البقرہ میں یہ پہلے گزر چکا ہے، اور ہمارے علماء میں سے بعض بغداد کے رہنے والوں نے بہت زیادہ قرض لینے والے کو حبس میں رکھنے پر اس قول باری تعالیٰ سے استدلال کیا ہے : (آیت) ” ومنھم من ان تامنہ بدینارالایؤدہ الیک الا مادمت علیہ قائما “۔ تو جب اسے لازم پکڑنا اور تصرف سے اسے روکنا جائز ہے تو اسے حبس میں رکھنا بھی جائز ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک (آیت) ” الا ما دمت علیہ قآئما “۔ کا معنی ہے پس وہ تیری وجہ سے تجھ سے ڈرتا ہے اور تجھ سے حیاء محسوس کرتا ہے، کیونکہ حیاء آنکھوں میں ہوتا ہے، کیا آپ حضرت ابن عباس ؓ کا قول جانتے نہیں ہیں ؛ لا تطلبوا من الاعمی حاجۃ فان الحیاء فی العینین “۔ تم اندھے سے حاجت کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ حیاء آنکھوں میں ہوتا ہے، اور جب تو اپنے بھائی سے حاجت کا مطالبہ کرے تو تو اپنے چہرے (کو متوجہ کرکے) اس کی طرف دیکھ یہاں تک کہ وہ حیاء محسوس کرنے لگے تو وہ اسے (حاجت کو) پورا کر دے گا، اور کہا جاتا ہے : ” قائما “ بمعنی ملازمالہ ہے (یعنی اسے لازم پکڑتے ہوئے) پس اگر تو نے اسے مہلت دی تو وہ تیرا انکار کر دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : قیام سے مراد مسلسل مطالبہ کرنا ہے نہ کی عین قیام مراد ہے۔ اور دینار اصل میں دنار ہے کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیف کے لئے دو نونوں میں سے ایک کو یا سے بدل دیا گیا ہے، اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس کی جمع دنانیر آتی ہے اور تصغیر دنینیر بنائی جاتی ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) دین میں امانت انتہائی عظیم المرتبت ہے اور اس کی عظمت وقدر میں سے یہ ہے کہ یہ اور رحم (صلہ رحمی) پل صراط کی دونوں جانبوں پر کھڑے ہوں گے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے اور اسے عبور کرنے پر کوئی قادر نہ ہوگا مگر وہی جو ان دونوں کی حفاظت اور پاسداری کرے گا۔ اور مسلم نے حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : ہمیں رفع امانت کے بارے میں حضور نبی مکرم ﷺ نے بیان فرمایا : ” آدمی نیند کی حالت میں سو جائے گا اور اس کے دل سے امانت قبض کرلی جائے گی ، “ الحدیث۔ یہ روایت سورة البقرہ کے اول میں مکمل طور پر گزر چکی ہے اور ابن ماجہ نے بیان کیا ہے کہ محمد بن مصطفیٰ محمد بن حرب نے سعید بن سنان عن ابی الزاھریہ عن ابی شجرہ کثیر ابن مرہ عن ابن عمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی سند سے بیان کیا گہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے حیاء چھین لیتا ہے اور جب وہ اس سے حیاچھین لیتا ہے تو اسے نفرت اور ناپسندیدگی کے سوا کچھ نہیں ملتا اور جب اسے نفرت اور ناپسندیدگی آملتی ہے تو اس سے امانت چھین لی جاتی ہیں اور جب سے امانت چھین لی جاتی ہے تو پھر وہ خود خیانت کا ارتکاب کرتا ہے اور اس خیانت کی جاتی ہے اور جب وہ خیانت کرنے لگتا ہے اور اس سے خیانت کی جاتی تو اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو پھر اسے صرف دھتکار اور لعنت آپہنچتی ہے اور اسے دھتکار اور لعنت پڑنے لگتی ہے تو اس سے السام کا قلادہ اتار لیا جاتا ہے۔ (1) (ابن ماجہ، باب ذہاب الامانۃ، حدیث نمبر 4043، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضور ﷺ کے اس ارشاد کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، اذالامانۃ الی من ائتمنک ولا تخن من خانک “ اس کی امانت ادا کر جس نے تجھے امین بنایا اور اس کے ساتھ خیانت نہ کر جس نے تجھ سے خیانت کی۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (5) اس آیت میں تمام اہل کتاب کے لئے اور نہ ہی ان میں سے بعض کے لئے کوئی تبدیلی ہے، بخلاف ان کے جو اس طرف گئے ہیں، کیونکہ فاسق مسلمانوں میں بھی ایسے پائے جاتے ہیں جو امانت ادا کرتے ہیں اور مال کثیر پر امین بنائے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عادل نہیں ہوتے، پس عدالت وشہادت کے طریق میں امانت فی الحال کی ادائیگی کو معاملہ اور ودیعت کی جہت سے جائز فرار نہیں دیا جاسکتا، کیا آپ ان کا قول جانتے نہیں۔ (آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “۔ (ال عمران : 75) ترجمہ : کہ نہیں ہے ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی گرفت۔ پس وہ کیسے عدل کرسکتا ہے جو کوئی بغیر حرج کے اپنے اوپر ہمارے اموال اور ہماری عزتیں مباح سمجھنے کا اعتقاد رکھتا ہے اور اگر ان کی تعدیل میں اتنا کافی ہوتا تو یقینا ان کی شہادت مسلمانوں پر سنی جاتی۔ مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ذلک بانھم قالوا “۔ یعنی یہودیوں نے کہا : (آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “۔ کہا گیا ہے کہ یہودی جب مسلمانوں سے خرید وفروخت کرتے تھے تو کہتے تھے : ہم پر ان پڑھوں کے معاملہ میں کوئی گرفت نہیں ہے، یعنی ان کے ساتھ ظلم میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے ہماری مخالفت کی ہے اور انہوں نے یہ دعوی کیا کہ یہ ان کی کتاب میں موجود ہے، پس اللہ عزوجل نے انہیں جھٹلایا اور ان اور ان کا رد کردیا، اور فرمایا : بلی یعنی کیوں نہیں ان پر ان کے جھوٹ کی وجہ سے اور ان کے عربوں کے مال حلال سمجھنے کی وجہ سے عذاب کی راہ ہے۔ ابو اسحاق الزجاج نے کہا ہے : کلام مکمل ہوگیا ہے، پھر فرمایا (آیت) ” من اوفی بعدہ واتقی “ اور کہا جاتا ہے : بیشک یہودی اعرابیوں سے اموال قرض لیتے تھے پس جب حقوق کے مالک اسلام لائے تو یہودیوں نے کہا : تمہارے لئے ہم پر کوئی شے واجب الادا نہیں، کیونکہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے لہذا ہم سے تمہارا قرض ساقط ہوچکا ہے۔ اور انہوں نے دعوی کیا کہ یہ تورات کا حکم ہے سو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا بلی، یہ ان کے اس قول کا رد ہے (آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “۔ یعنی اس طرح نہیں ہے جس طرح تم کہتے ہوں، پھر نئے سرے سے ارشاد فرمایا : (آیت) ” من اوفی بعھدہ واتقی “ یعنی جس نے وعدہ پورا کیا اور شرک سے بچتا رہا تو وہ جھٹلانے والوں میں سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اللہ ﷺ اس سے محبت فرماتے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (7) کسی آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : بیشک ہم ارادہ اہل ذمہ کے اموال میں سے مرغیاں اور بکریاں پکڑ لیتے ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں ہم پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ؟ تو آپ نے اسے فرمایا : یہ تو اسی طرح ہے جیسے اہل کتاب نے کہا (آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “۔ بلاشبہ جب وہ جزیہ ادا کردیں تو تمہارے لئے ان کے اموال ان کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ہیں، عبدالرزاق نے اسے معمر عن ابی اسحاق الھمدانی عن صعصعۃ ان رجلا قال ابن عباس ؓ کی سند سے ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کافر کو قبولیت شہادت کا اہل قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے فرمایا ہے کہ یہ کذاب ہے اور اس میں ان کافروں پر رد ہے جو اللہ تعالیٰ کی تحریم کے بغیر (چیزوں کو) حرام قرار دیتے ہیں اور اس کی تحلیل کے بغیر (چیزوں کو) حلال قرار دیتے ہیں، اور پھر اسے شریعت میں سے قرار دیتے ہیں، ابن عربی نے کہا ہے : اور اس سے ان کا رد نکلتا ہے جو بغیر دلیل کے استحسان کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں اور میں اہل قبلہ میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اس نے یہ کہا ہو۔ اور حدیث میں ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جاہلیت کی کوئی شے نہیں ہے مگر وہ میرے قدموں کے نیچے ہے سوائے امانت کے کیونکہ اسے نیکوکار اور فاجر تک پہنچایا گیا (1) (تفسیر رازی، جلد 8، صفحہ 108، تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 511)
Ayah 3:76

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

آیت نمبر : 76۔ من مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے اور یہ شرط ہے اور اوفی “ محل جزم میں ہے اور (آیت) ” اتقی “ معطوف علیہ ہے، یعنی اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرا وہ جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی اس نے اس شے کو حلال سمجھا جو اس پر حرام کی گئی، (آیت) ” فان اللہ یحب المتقین “۔ یعنی اللہ ان سے محبت فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے اولیاء سے محبت کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” بعدہ “ میں ھاء ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور اس کا ذکر اس ارشاد میں بھی ہے (آیت) ” ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ وعدہ پورا کرنے والے اور کفر وخیانت اور نقض عہد سے پرہیز کرنے والے کی طرف لوٹ رہی ہو، عہد مصدر ہے جسے فاعل اور مفعول (دونوں) کی طرف مضاف کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

آیت نمبر : 77۔ مسئلہ نمبر : (1) ائمہ نے اشعث بن قیس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میرے اور ایک یہودی آدمی کے درمیان زمین کا تنازعہ ہوا تو اس نے میرے (حق کا) انکار کردیا سو میں اسے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : ” کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ “ میں نے عرض کی : نہیں، پھر آپ ﷺ نے یہودی کو فرمایا : ” تو حلف دے دے، میں نے عرض کی :“ تب یہ تو حلف دے دے گا اور میرا مال لے جائے گا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا “ الی آخر الآیۃ، (1) (صحیح بخاری، باب کلام الخصوم بعضھم فی بعض، حدیث نمبر 2239، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ائمہ نے یہ بھی حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس کسی نے کسی مسلمان کا حق اپنی قسم کے ساتھ کاٹ دیا تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جہنم کو واجب کردیا اور اس پر جنت کو حرام کردیا “ تو ایک آدمی نے آپ سے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ وہ تھوڑی سی شے بھی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگرچہ وہ درخت کی ایک ٹہنی ہی ہو۔ “ (آیت) ” لا یکلمھم اللہ ولا ینظر الیھم یوم القیمۃ ولا یزکیھم “۔ کا معنی ومفہوم سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ حاکم کا حکم قضاء ظاہر کے ساتھ باطن میں مال کو حلال نہیں کرتا جبکہ محکوم لہ اس کے بطلان کو جانتا ہو اور ائمہ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بلاشبہ تم میرے پاس آکر جھگڑتے ہو اور بلاشبہ میں تو بشر ہوں شاید تمہارے بعض اپنی دلیل اور حجت بیان کرنے میں بعض کی نسبت خطا کریں میں تمہارے درمیان اس کے بارے فیصلہ کرتا ہوں جو میں تم سے سنتا ہوں پس جس کے لئے اس کے بھائی کے حق میں سے کسی شے کا میں فیصلہ کروں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ گویا میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ قیامت کے دن آئے گا۔ “ (2) (صحیح بخاری، کتاب الحلیل، حدیث نمبر 6452، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس میں ائمہ کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے، اس میں امام ابوحنیفہ (رح) نے مناقضہ کیا اور فرمایا : بلاشبہ حاکم کا وہ فیصلہ جس کا دارومدار شہادت باطلہ پر ہو اور وہ اس کے لئے اس شرمگاہ کو حلال کردیتا ہے جسے اس پر حرام کیا گیا تھا، جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، اور یہ گمان کیا ہے کہ اگر دو جھوٹے گواہوں نے ایک آدمی پر اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے شہادت دی اور حاکم نے ان کی شہادت کے مطابق فیصلہ کردیا تو بلاشبہ اس کی شرمگاہ اس کے ساتھ اس شادی کرنے والے کیلئے حلال ہوگی جو یہ جانتا ہے کہ فیصلہ باطل ہے، اور آپ پر اس صحیح اور صریح حدیث سے اعراض کرنے کا عیب لگایا گیا ہے اور اس طرح کہ آپ نے اموال کو بچا لیا اور آپ نے احکام فاسدہ کے سبب انہیں مباح سمجھنے کی طرف غور نہیں فرمایا، اور اس سے آپ نے شرمگاہوں کی حفاظت نہیں کی حالانکہ شرمگاہیں زیادہ حق رکھتی ہیں کہ ان کے بارے احتیاط برتی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے، اور ان کے قول کا بطلان آیت لعان میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ (٭) (امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے بارے میں یہ رائے محل نظر ہے کیونکہ یہ امام اعظم کے نقطہ نظر میں عدم تدبر کی بنا پر ہے اس کی تفصیل ہدایہ کتاب النکاح میں دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان (اہل کتاب) میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) حالانکہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں

آیت نمبر : 78۔ فریقا سے مراد یہود کی ایک جماعت اور گروہ ہے (آیت) ” یلون السنتھم بالکتب “۔ ابو جعفر اور شیبہ نے (معنی) تکثیر کی بنا پر یلوون “ پڑھا ہے، جب وہ اسے جھکا لے، مروڑ لے اور اسی سے یہ معنی ہے وہ کلام میں تحریف کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ اسے مقصد سے پھیر دیتے ہیں، اللی کا اصل معنی المیل (ایک طرف جھکنا) ہے، لوی بیدہ (اس نے اپنا ہاتھ پھیر دیا) اور لوی براسہ اور اس نے اپنا سر پھیر دیا، قولہ تعالیٰ (آیت) ” لیابالسنتھم “ یعنی حق سے عناد رکھتے ہوئے اور اس سے غیر کی طرف پھیرتے ہوئے (اپنی زبانوں کو مروڑتے ہیں) اور ولا تلوون علی احد “ کا معنی ہے لاتعرجون علیہ “ (اس پر نہیں چڑھوگے) کہا جاتا ہے لوی علیہ جب وہ اس پر چڑھے اور مقیم ہوجائے، اور اللی کا معنی ہے المطل مروڑنا (لوہے کو بڑھانے کیلئے کاٹنا) ٹال مٹول کرنا، لواہ بدینہ یلویہ لیا ولیانا مطلہ یعنی اس نے اسے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کی۔ شاعر نے کہا : قد کنت دانیت بھا حسانا مخافۃ الافلاس واللیانا۔ یحسن بیع الاصل والعیانا۔ ذوالرمہ نے کہا ہے : تریدین لیانی وانت ملیۃ واحسن یا ذات الوشاح التقاضیا۔ اور حدیث میں ہے لی الواجد یحل عرضہ وعقوبتہ (پانے والے کا ٹال مٹول کرنا اپنی عزت اور اپنی سزا کو حلال کردیتا ہے) اور السنۃ، لسان کی جمع ہے لغت میں جس نے مذکر قرار دیا ہے اور جس نے مونث قرار دیا ہے اس نے السن کہا ہے۔
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی آدمی کا شایان نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہل کتاب) تم (علمائے) ربانی ہوجاؤ کیونکہ تم کتاب (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو

آیت نمبر : 79۔ ماکان اس کا معنی ہے ماینبغی یعنی نہیں چاہیے جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطاء “ اور ما کان اللہ ان یتخذ من ولد “ اور مایکون لنا ان تتکلم بھذا “ تمام میں مراد یہی ہے کہ نہیں چاہیے (مناسب نہیں) اور لفظ بشر واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے کیونکہ یہ قائم مقام صدر کے ہے اور ضحاک اور سدی کے قول کے مطابق یہاں مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں، کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور حکم سے مراد علم اور فہم ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ح کم سے مراد احکام ہیں، یعنی بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی نبوت کے لئے جھوٹوں کو نہیں چنتا، اور اگر کوئی انسان ایسا کرتا تو یقینا اللہ تعالیٰ نبوت کی آیات و علامات اس سے سلب کرلیتا۔ ” ان یؤتیہ “ اور ” یقول “ کے درمیان اشتراک کی بنا پر ” ثم یقول “ کو نصب دی گئی ہے یعنی کسی نبی کے لئے نبوت کا ہونا اور اس کا یہ قول (آیت) ” کونوا عبادالی من دون اللہ “ جمع نہیں ہو سکتے، (آیت) ” ولکن کونوا ربنین “۔ یعنی البتہ یہ جائز ہے کہ وہ نبی ان سے کہے (آیت) ” کونوا ربنین “ تم اللہ والے ہوجاؤ، کہا گیا ہے کہ یہ آیت نجران کے نصاری کے بارے نازل ہوئی ہے، اور اسی طرح یہ بھی روایت ہے کہ پوری سورة قول باری تعالیٰ (آیت) ” واذ غدوت من اھلک “ تک کا سبب نزول نجران کے نصاری تھے، لیکن یہود کو ان کے ساتھ ملا دیا گیا، کیونکہ انہوں نے بھی انکار اور عناد انہیں کی طرح کیا۔ (آیت) ” ربنین “ اس کا واحد ربانی ہے یہ الرب کی طرف منسوب ہے اور ربانی وہ ہوتا ہے جو لوگوں کی صغار علم کے ساتھ اپنے بڑا ہونے سے پہلے تربیت کرتا ہے، گویا کہ وہ امور کو آسان بنانے میں رب سبحانہ کی اقتدا کرتا ہے یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، بعض نے کہا ہے یہ اصل میں ربی تھا پھر مبالغہ کے لئے اس میں الف اور نون داخل کردیئے گئے، جیسا کہ عظیم اللحیہ کے لئے کہا جاتا ہے۔ لحیانی اور عظیم الجمہ (بہت ہی زیادہ) کے لئے جمانی اور غلیظ الرقبہ (موٹی گردن والا) کے لئے رقبانی کہا جاتا ہے اور مبرد نے کہا ہے : الربانیوں سے مرادار باب علم ہیں، ان کا واحد ربان ہے، یہ ان کے اس قول سے ماخوذ ہے ربہ یربہ فھو ربان جب وہ اسے مدبر بنائے اور اسی کی اصلاح کرے، اس بنا پر اس کا معنی ہے یدبرون امور الناس ویصلحونھا وہ لوگوں کے امور کی تدبیر کرتے ہیں اور ان کی اصلاح کرتے ہیں، اور اس میں الف اور نون مبالغہ کے لئے ہیں جیسا کہ ان کا قول ریان اور عطشان ہے پھر اس کے ساتھ یائے نسبت ملا دی گئی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے ،: لحیانی رقبانی اور جمانی۔ شاعر نے کہا ہے : لوکنت مرتھنا فی الجوانزلنی منہ الحدیث وربانی احباری۔ پس ربانی کا معنی رب العالمین کے دین کا ایسا عالم ہے جو اپنے علم کے ساتھ ساتھ عمل کرتا ہے، کیونکہ جب وہ اپنے علم کے مطابق عمل نہ کرے تو پھر عالم نہیں، یہ معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے اور ابو رزین نے کہا ہے : ربانی سے مراد ایسا عالم ہے حکیم اور دانا بھی ہو۔ حضرت شعبہ (رح) نے حضرت عاصم سے، انہوں نے حضرت زر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے (آیت) ” ولکن کونوا ربنین “۔ فرمایا مراد ایسے حکماء ہیں جو علماء ہوں، ابن جبیر، نے کہا ہے : مراد ایسے حکماء ہیں جو انتہائی متقی اور پرہیز گار ہوں۔ اور حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے : کسی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ حفظ قرآن کے لئے بہت محنت اور جدوجہد، کو چھوڑ دے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” ولکن کونوا ربنین “۔ اور ابن زید نے کہا ہے : ربانیوں سے مراد ولی اور جید علماء ہیں۔ اور حضرت مجاہد نے فرمایا ہے : ربانیوں احبار (علمائ) سے فائق اور اعلی ہوتے ہیں، نحاس نے کہا ہے : اور یہ قول اچھا ہے، کیونکہ احبار ہی ہیں اور ربانی وہ ہوتا ہے جو علم بصیرت کو سیاست و دانائی کے ساتھ جمع کرتا ہے، یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : رب امر الناس یربہ (یہ تب کہا جاتا ہے) جب وہ لوگوں کے معاملہ کی اصلاح کر دے اور اس کے ساتھ قائم ہوجائے، فھو راب “ اور ربانی “ تکثیر پر دلالت کرتا ہے، ابو عبیدہ نے کہا ؛ میں نے کسی عالم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ربانی مراد حلال و حرام اور امر ونہی کے بارے جاننے والا عالم ہے اور وہ جو امت کی اخبار اور جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ ہوگا کے بارے جاننے والا ہو۔ جس دن حضرت ابن عباس ؓ کا وصال ہوا اس دن محمد بن حنیفہ (رح) نے کہا : الیوم مات ربانی ھذہ الامۃ۔ (1) (کشاف زمخشری، جلد 1، صفحہ 440) آج اس امت کے عالم ربانی کا وصال ہوگیا، اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : کوئی مومن ومرد وعورت اور آزاد و غلام نہیں مگر اس پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کے دین میں تفقہ حاصل کرے پھر، آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” ولکن کونوا ربنین “۔ الآیہ اسے حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” بما کنتم تعلمون الکتب وبما کنتم تدرسون “۔ ابو عمرو اور اہل مدینہ نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ علم سے ماخوذ ہے، اور ابو حاتم نے اسی قرات کو پسند کیا ہے، ابو عمرو نے کہا ہے ،: اور اس کی تصدیق (آیت) ” تدرسون “ کرتا ہے (کیونکہ) التدریس سے تشدید کے ساتھ (آیت) ” تدرسون “ نہیں کہا گیا۔ ابن عامر اور اہل کوفہ نے تعلیم نے تشدید کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھا ہے اور ابوعبید نے اسے اختیار کیا ہے (اور) کہا ہے : کیونکہ یہ دونوں معنوں (یعنی) تغنون اور تدرسون کو جامع ہے۔ مکی نے کہا ہے : تشدیدا بلیغ ہے، کیونکہ ہر معلم عالم بمعنی یعلم ہوتا ہے لیکن ہر وہ جو کسی شے کا علم رکھتا ہو وہ معلم نہیں ہوتا، پس تشدید علم اور تعلیم دونوں پر دلالت کرتی ہے اور تخفیف صرف علم پر دلالت کرتی ہے، پس تعلیم ابلغ اور زیادہ قابل تعریف ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ ذم میں ابلغ ہے، جنہوں نے تخفیف کی قرات کو ترجیح دی ہے، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ کے قول سے استدلال کیا ہے (آیت) ” کونوا ربینین ‘ فرمایا : تم حکماء علماء ہوجاؤ پس یوں کہا جانا بعید ہے کونوا فقہاء حکماء علماء بتعلیکم یعنی تم اپنی تعلیم کے ساتھ فقہاء حکماء علماء ہوجاؤ حسن نے کہا ہے : تم اپنے علم کے ساتھ حکماء علماء ہوجاؤ اور ابو حیوہ نے تدرسون۔ ادرس یدرس (یعنی باب افعال) سے پڑھا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) سے تعلمون تا کے فتحہ اور لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اصل میں تتعلمون تھا۔
Ayah 3:80

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہوچکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے ؟

آیت نمبر : 80۔ ابن عامر، عاصم اور حمزہ نے (آیت) ” ان یؤتیہ ‘’ پر عطف کرتے ہوئے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے یہ قول تقویت دیتا ہے کہ یہودیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں اے محمد ﷺ کو ہم آپ کو رب بنالیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ما کان لبشر ان یؤتیہ اللہ الکتب والحکم والنبوۃ ثم یقول للناس کونوا عبادا لی من دون اللہ ولکن کونوا ربین بما کنتم تعلمون الکتب وبما کنتم تدرسون “۔ ولا یامرکم “۔ اور اس میں ضمیر بشر کی طرف راجع ہے۔ یعنی تمہیں وہ انسان حکم نہیں دے گا بشر سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت (علیہ السلام) ہیں۔ اور باقیوں نے اسے پہلے کلام سے جدا ہونے اور استئاف کی بنا پر رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں ضمیر کا مرجع اللہ عزوجل کا اسم گرامی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم نہیں دے گا کہ تم بنالو اور اس قرات کو یہ تقویت دیتا ہے کہ حضرت عبداللہ ﷺ کے مصحف میں ولن یامرکم ہے پس یہ استئناف پر دلالت کرتا ہے اور ضمیر بھی اللہ عزوجل کے لئے ہے، اسے مکی نے ذکر کیا ہے اور سیبویہ اور زجاج نے بھی یہی کہا ہے اور ابن جریج اور ایک جماعت نے کہا ہے : حضرت محمد ﷺ تمہیں حکم نہیں دیں گے، یہی قرات ابو عمرو، کسائی اور اہل حرمین کی ہے۔ (آیت) ” ان تتخذوا “ کہ تم ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) کو خدا بنا لو، یہ نصاری میں موجود تھا وہ انبیاء (علیہم السلام) اور ملائکہ کی تعظیم کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے انہیں خدا بنا لیا۔ (آیت) ” ایامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون “۔ یہ انکار اور تعجب کے طریقہ پر ہے، پس اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) پر حرام قرار دیا کہ وہ لوگوں کو ایسے بندے بنا دیں کہ وہ ان کے خدا بن جائیں البتہ مخلوق پر ان کی حرمت کو لازم کردیا، اور حضور نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : ” میں سے کوئی یہ نہ کہے عبدی وامتی (اے میرے بندے اور اسے میری بندی) بلکہ یہ کہنا چاہیے فتای وفتاتی (اے میرے جوان اور اے میری دوشیزہ) اور تم میں سے کوئی کسی کو یہ نہ کہے ربی، (اے میرے رب) بلکہ یہ کہنا چاہیے سیدی (اے میرے آقا) (1) (صحیح بخاری، کتاب العتق، حدیث نمبر 2366، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور قرآن کریم میں ہے (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ اس کے معنی کا بیان وہاں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 3:81

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اسکی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹھیرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد و پیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

آیت نمبر : 81۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ بعض بعض کی تصدیق کریں اور بعض بعض کو ایمان کا حکم دیں (یعنی وہ ایک دوسرے کی تصدیق کریں اور ایک دوسرے پر ایمان لائیں) سو تصدیق کے ساتھ مدد ونصرت کرنے کا یہی معنی ہے، یہ قول سعید بن جبیر، قتادہ، طاؤس، سدی اور حسن رحمۃ اللہ علہیم کا یہی آیت کا ظاہر مفہوم ہے، طاؤس نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے یہ وعدہ لیا کہ وہ بعد میں آنے والوں کے ساتھ ایمان لائیں اور حضرت ابن مسعود ؓ نے اس طرح قرأت کی ہے (آیت) ” واذ اخذا للہ میثاق الذین اوتو الکتاب “۔ کسائی نے کہا ہے : یہ جائز ہے کہ (آیت) ” واذ اخذا للہ میثاق النبین “ بمعنی واذ اخذ اللہ میثاق الذین مع النبیین ہو۔ اور بصریوں نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ وعدہ لیا تو تحقیق یہ وعدہ انہیں سے لیا جو ان کے ساتھ تھے، کیونکہ انہوں نے ہی انکی اتباع وپیروی کی اور انہوں نے ہی ان کی تصدیق کی، اور قول باری تعالیٰ لما من ما بمعنی الذی ہے، سبیویہ نے کہا ہے میں نے خلیل ابن احمد سے قول باری تعالیٰ (آیت) ” واذ اخذا للہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا : لما بمعنی الذی ہے۔ نحاس نے کہا ہے خلیل کے قول کے مطابق تقدیر عبارت یہ ہے للذی اتیتکموہ، پھر اسم کے طویل ہونے کی وجہ سے ھا کو حذف کردیا گیا، اور الذی مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی خبر (آیت) ” من کتب و حکمۃ ہے اور من بیان جنس کے لئے ہے اور یہ کہنے والے کے اس قول کی طرح ہے لذید افضل منک اور یہی اخفش کا قول ہے کہ یہ لام ابتدا ہے۔ المہدوی نے بیان کیا ہے : قولہ : (آیت) ” ثم جآء کم اور اس کا مابعد جملہ صلہ پر معطوف ہے اور اس سے موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے اور تقدیر کلام یہ ہے ثم جاء کم رسول مصدق بہ۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ والتنصرنہ “۔ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس آیت میں رسول سے مراد حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، لفظ اگرچہ نکرہ ہے لیکن اشارہ معین فرد کی طرف ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : ضرب اللہ مثلا قریۃ کا نت امنۃ مطمئنۃ۔۔ تاقولہ ولقد جاء ھم رسول منکم فکذبوہ، پس اللہ تعالیٰ نے تمام کے تمام انبیاء علیہم الصلوت والتسلیمات سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لائیں اور آپ کی مدد کریں اگر وہ آپ کو پالیں اور انہیں یہ بھی حکم ارشاد فرمایا کہ وہ یہی وعدہ اپنی اپنی امتوں سے لیں، اور (آیت) ” لتؤمنن بہ “ میں لام اس قسم کا جواب ہے جو وعدہ لینے کی صورت میں ہے کیونکہ یہ استحلاف (قسم لینے) کے قائم مقام ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ آپ کلام میں کہتے ہیں اخذت میثاقک لتفعلن کذا تو اس صورت میں گویا تو نے یہ کہا : میں تجھ سے حلف لیتا ہوں اور قسم اور جواب قسم کے درمیان فاصلہ اس حرف جار کے سبب ہے جو ابن کثیرہ کی قرات میں لما ہے جیسا کہ آگے آئے گا، اور جنہوں نے اسے فتحہ دیا ہے انہوں نے اسے اس قسم کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے جو اخذ میثاق ہے اور (آیت) ” لتؤمنن بہ “۔ میں محذوف قسم کا جواب ہے یعنی اصل عبارت ہے۔ واللہ لتؤمنن بہ۔ مبرد، کسائی اور زجاج نے کہا ہے : ما شرط ہے اس پر لام تحقیق داخل ہوا ہے جیسا کہ یہ ان پر داکل ہوتا ہے، اور اس کا معنی ہے (لمھما) اتیتکم پس ماکا محل نصب ہے اور اتیتکم کا محل جزم ہے اور ثم جآء کم معطوف علیہ ہے، لتؤمنن بہ اس میں لام جواب وجزا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، (آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن “۔ (اسراء 86) (اس میں لنذھبن جواب اور جزا ہے) اور کسائی کا بیان ہے کہ (آیت) ” لتؤمنن بہ “ قسم کا معتمد ہے اور یہ کلام اول کے ساتھ متصل ہے اور جواب وجزا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” فمن تولی بعد ذالک “۔ اور اس بنا پر ضمیر عائد مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ اور اہل کوفہ نے (آیت) ” لما اتیتکم “ لام مکسور کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی بمعنی الذی ہے اور یہ اخذ کے متعلق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان اس پختہ وعدہ لیا اس لئے کہ اس نے انہیں کتاب و حکمت عطا فرمائی پھر اگر تمہارے پاس رسول آجائے تو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو اس وعدہ کے بعد تم ضرور ضرور اس کے ساتھ ایمان لانا، کیونکہ اخذ المیثاق استحلاف کے معنی میں ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ نحاس نے بیان کیا ہے : اس بارے میں ابو عبیدہ کا قول اچھا ہے۔ اور انہوں نے کہا : اس کا معنی یہ ہے (آیت) ” واذا اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب لتؤمنن بہ لما اتیتکم من ذکر التوراۃ۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ لیا جنہیں کتاب عطا کی گئی تو تم ضرور اس کے ساتھ ایمان لانا کیونکہ میں نے تمہیں تورات کا ذکر عطا فرمایا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے اور معنی یہ ہے : اور جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ وعدہ لیا کہ تم ضرور ضرور لوگوں کو اس کے بارے آگاہ کروں گے جو تمہارے پاس کتاب و حکمت لے کر آئے، اور ضرور ضرور لوگوں پر یہ لازم کرو گے کہ وہ (اس کے ساتھ) ایمان لائیں، (واذاخذ اللہ میثاق النبیین لتعلمن الناس لما جائکم من کتاب و حکمۃ، ولتاخذن علی الناس ان یومنوا) اور اس حذف پر یہ ارشاد دال ہے۔ (آیت) ” واخذتم علی ذلکم اصری “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنہوں نے لما میں لام کو کسرہ دیا ہے وہ لام بمعنی بعد ہے یعنی بعد ما اتیتکم من کتاب و حکمۃ، (بعد اس کے کہ میں تمہیں کتاب و حکمت عطا کر دوں) جیسا نابغہ نے کہا ہے : توھمت ایات لما فعرف تھا لستۃ اعوام وذالعام سابع۔ مجھے اس کی نشانیوں کا وہم ہوا تو میں نے اسے چھ سال بعد پہچان لیا اور یہ ساتواں سال ہے، اس میں لستۃ اعوام بمعنی بعد ستۃ اعوام ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے لما کو مشدد پڑھا ہے اور اس کا معنی ہے حین اتیتکم یعنی جب میں تمہیں عطا کر دوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں اصل تخفیف ہو، پھر من زائد کردیا گیا ہو ان کے مذہب کے مطابق جو اس کی زیادتی کو واجب قرار دیتے ہیں تو یہ لمن ماہو گیا اور پھر ادغام کے لئے نون کو میم سے بدل دیا گیا، پس تین میم جمع ہوگئے تو ان میں پہلے میم کو تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا، اور اہل مدینہ نے تعظیم کی بنا پر اتیناکم پڑھا ہے اور باقیوں نے اتیتکم صیغہ واحد پڑھا ہے۔ پھر تمام انبیاء (علیہم السلام) کو کتاب نہیں دی گئی بلکہ بعض کو عطا کی گئی ہے لیکن غلبہ انہیں دیا گیا ہے جنہیں کتاب عطا کی گئی ہے، اور مراد تمام انبیاء (علیہم السلام) سے وعدہ لینا ہے پس جنہیں کتاب عطا نہیں کی گئی تو وہ بھی ان کے حکم میں ہیں جنہیں کتاب دی گئی ہے کیونکہ انہیں حکم اور نبوت عطا فرمائے گئے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جنہیں کتاب نہیں دی گئی تو انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے سے پہلے والی کتاب لے لیں (اور اس کے احکام پر عمل کریں) نتیجتا یہ بھی ان کی صفت کے تحت داخل ہوگئے جنہیں کتاب دی گئی۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ء اقررتم واخذتم علی ذلکم اصری، قالوا اقررنا قال فاشھدوا وانا معکم من الشھدین “۔ اقررتم یہ اقرار سے ماخوذ ہے، اور الاصر اور الاصر دو لغتیں ہیں اور اس سے مراد عہد ہے، لغت میں الاصر کا معنی ثقل (بوجھ) ہے، اور عہد کو اصر کا نام اس لئے دیا گیا کیونکہ یہ بہت بڑی رکاوٹ اور سختی ہے، (آیت) ” قال فاشھدوا “۔ بمعنی اعملوا۔ فرمایا پس تم جان لو، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے، زجاج نے کہا ہے : تم بیان کرو کیونکہ شاہد وہ ہوتا ہے جو مدعی کے دعوی کی تصحیح کرتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے تم گواہ بنا لو اپنے آپ پر اور اپنے متبعین پر۔ (آیت) ” وانا معکم من الشھدین “ اور میں بھی تم پر اور ان پر گواہوں میں سے ہوں، اور حضرت سعید بن مسیب ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو ارشاد فرمایا ” پس تم ان پر گواہ رہنا “ تو یہ غیر مذکور سے کنایہ ہوگا۔
Ayah 3:82

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

تو جو اس کے بعد پھرجائیں وہ بدکردار ہیں،

آیت نمبر : 82۔ من شرطیہ ہے پس انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں میں سے جس نے وعدہ لئے جانے کے بعد ایمان سے منہ پھیرا (آیت) ” فاولئک ھم الفسقون “۔ پس وہ ایمان سے خارج ہیں اور فاسق بمعنی خارج، یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 3:83–84

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ Open ayah 3:83 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں ؟ حالانکہ سب اہل آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:84 in the Quran reader

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انییاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

آیت نمبر : 83 تا 84۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون “۔ کلبی نے کہا ہے : کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نصاری کے ساتھ اپنا جھگڑا حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا اور عرض کی : ہم میں سے کون زیادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” دونوں فریق آپ کے دین سے بری ہیں “ (یعنی دونوں اس پر نہیں ہیں) تو انہوں نے کہا : نہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں اور نہ ہی ہم آپ کا دین قبول کرتے ہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون “۔ کیا اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا (کوئی اور دین) وہ تلاش کرتے ہیں آیت میں غیر کو یبغون فعل کے سبب نصب دی گئی ہے یعنی یبغون غیر دین اللہ اور صرف عمرو نے یبغون کو خبر کی بنا پر یا کے ساتھ پڑھا ہے اور (آیت) ” والیہ یرجعون “ کو خطاب کی بنا پر تا سے (پڑھا ہے) فرمایا : چونکہ پہلا خاص ہے اور دوسرا عام ہے لہذا معنی میں افتراق کے لئے ان کے درمیان فرق کیا گیا ہے اور حفص وغیرہ نے یبغون اور یرجعون دونوں کو یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ (آیت) ” فاولئک ھم الفسقون “۔ اور باقیوں نے دونوں کو خطاب کی بنا پر تا سے پڑھا ہے، اس ارشاد کی وجہ سے (آیت) ” لما اتیتکم من کتب و حکمۃ۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولہ اسلم “۔ یعنی سر جھکا دیا، سرتسلیم ختم کردیا اور تمام مخلوق اطاعت وپیروی کرنے والی اور سرجھکانے والی ہے کیونکہ وہ ایسی فطرت پر ہے جس سے نکلنے کی وہ قدرت نہیں رکھتی، حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے کہ مومن نے خوشی اور رضا مندی سے سرتسلیم خم کرلیا ہے اور کافر نے اپنی موت کے وقت مجبوری سے (سرجھکایا) اور وہ اسے کوئی نفع نہ دے گا، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راؤا باسنا “۔ (المومن : 85) ترجمہ : پس کوئی فائدہ نہ دیا انہیں ان کے ایمان نے جب دیکھ لیا انہوں نے ہمارا عذاب۔ حضرت مجاہد، ؓ نے کہا ہے : کافر کا اسلام مجبورا ہے کیونکہ اس کا سجدہ غیر اللہ کے لئے ہے اور اس کے سائے کا سجدہ اللہ کے لئے ہے، (جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے) (آیت) ” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء یتفیوا ظللہ عن الیمین والشمآئل سجدا اللہ وھم دخرون “۔ (النحل) ترجمہ : کیا انہوں نے نہیں دیکھا ان اشیاء کی طرف جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں ان کے سائے دائیں سے (بائیں طرف) اور بائیں سے (دائیں طرف) سجدہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو اس حال میں کہ وہ اظہار عجز کر رہے ہیں۔ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظللھم بالغدو والاصال، (الرعد) ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کیلئے سجدہ کر رہی ہے ہر چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے بعض خوشی سے اور بعض مجبورا اور ان کے سائے بھی (سجدہ ریز ہیں) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس صورت پر پیدا فرمایا جس کا ان سے ارادہ فرمایا، پس ان میں سے کچھ حسین ہے اور کچھ قبیح، کچھ طویل ہے اور چھوٹے قد کی، کچھ صحت مند ہے اور کچھ بیمار اور تمام کے تمام مجبورا جھکے ہوئے ہیں، پس صحیح رضا مندی اور خوشی سے اطاعت کرنے والے ہیں اور اسے پسند کرنے والے ہیں اور مریض جھکتے ہیں، اطاعت اختیار کرتے ہیں اگر وہ مجبور ہوں، اور الطوع کا معنی ہے سہولت کے ساتھ جھکنا اور اتباع کرنا، اور الکرہ وہ ہوتا ہے جو مشقت کے ساتھ ہو، مجبورا ہو اور دل سے اس کا انکار ہو اور (آیت) ” طوعا وکرھا “۔ دونوں مصدر ہیں اور حال کے محل میں واقع ہیں، یعنی یہ طائعین اور مکرھین کے معنی ہیں، اور حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد باری تعالیٰ کے بارے فرمایا : (آیت) ” ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “۔ فرمایا : ملائکہ نے آسمان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور انصار اور عبدالقیس نے زمین میں “ اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تم میرے اصحاب کو گالی گلوچ نہ دو کیونکہ میرے اصحاب اللہ تعالیٰ کے خوف سے اسلام لائے اور لوگ تلوار کے خوف سے السلام لائے “۔ (1) (صحیح بخاری، باب قول النبی ﷺ لوکنت مت خدا خلیلا حدیث نمبر 3397، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور عکرمہ نے کہا ہے : طوعا “ سے مراد وہ ہے جس نے بغیر کسی بحث مباحثہ کے اسلام قبول کیا اور کرھا “ سے مراد وہ ہے جسے حجت اور دلیل نے توحید کی جانب مجبور کردیا ہو، اس پرا للہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : (آیت) ” ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ “۔ (الزخرف : 87) ترجمہ ؛ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو یقینا کہیں گے اللہ تعالیٰ نے۔ (آیت) ” ولئن سالتھم من خلق السموت والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ “۔ (العنکبوت : 61) ترجمہ ؛ (اور اے حبیب) اگر آپ پوچھیں ان (مشرکوں) سے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور کس نے فرمانبردار بنایا ہے سورج اور چاند کو تو وہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے۔ حسن نے کہا ہے : یہ (لفظ) عام ہے مگر اس کا معنی خاص ہے، اور آپ سے مروی ہے (آیت) ” اسلم من فی السموت “۔ اور کلام مکمل ہوئی۔ پھر فرمایا : (آیت) ” والارض طوعا وکرھا “۔ فرمایا مجبوری سے اطاعت کرنے والا منافق ہے جسے اس کا عمل کوئی نفع نہ دے گا اور (آیت) ” طوعا وکرھا “۔ دونوں مصدر ہیں، حال کے محل میں واقع ہیں، حضرت مجاہد (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی سواری سرکش ہوجائے یا وہ بدکنے لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کے کان میں یہ آیت پڑھے : (آیت) ” افغیر دین اللہ یبغون ولہ اسلم من فی السموت والارض طوعا وکرھا “۔ الی اخر الایہ۔