Ayahs 3:128–129آیت نمبر : 128 تا 129۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) صحیح مسلم میں موجود ہے کہ غزوہ احد میں حضور نبی مکرم ﷺ کے دندان مبارک شہید کردیئے گئے اور آپ کا سرزخمی کردیا گیا، تو آپ ﷺ اس سے خون صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے : ” وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جنہوں نے اپنے نبی کا سرزخمی کردیا اور اس کے دانت توڑ دیئے حالانکہ وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے ، “ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” لیس لک من الامر شیئ “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیرباب غزوہ احد، جلد 2، صفحہ 108، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
ضحاک (رح) نے کہا ہے : حضور نبی کریم ﷺ نے مشرکین کے لئے بددعا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : (آیت) ” لیس لک من الامر شیئ “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے استئصال اور بربادی کے بارے دعا مانگنے کی اجازت طلب کی تو جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے جان لیا کہ ان میں سے بعض عنقریب اسلام قبول کرلیں گے، چناچہ پھر بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے ان میں سے حضرت خالد بن ولید، عمرو بن العاص اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ افراد ہیں۔
ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ چار آدمیوں کے لئے بددعا کرتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” لیس لک من الامر شیئ “۔ آیت نازل فرمائی، اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت اور توفیق عطا فرما دی، اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (2) (جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن سورة آل عمران جلد 1، صفھہ 125، اسلام آباد)
اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” او یتوب علیھم کہا گیا ہے یہ لیقطع طرفا “۔ پر معطوف ہے اور معنی ہے تاکہ وہ ان میں سے ایک گروہ کو قتل کر دے یا انہیں شکست وہزیمت کے ساتھ ذلیل ورسوا کردے یا ان کی توبہ قبول فرمالے یا انہیں عذاب دے اور یہاں او بمعنی حتی اور ” الا ان “۔ امرو القیس “ نے کہا ہے :
اون موت فنعذرا :
ہمارے علماء نے کہا ہے : حضور ﷺ کا یہ ارشاد : کیف یفلح قوم شجوا راس نبی تھم “۔ یہ بعید سمجھنا ہے اس کے لئے توفیق کو جس نے آپ کے ساتھ ایسا سلوک کیا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” لیس لک من الامر شیئ “۔ یہ اسے قریب کرنا ہے جسے آپ نے بعید سمجھا اور ان کے اسلام قبول کرنے میں حرص وطمع کا اظہار ہے۔
اور جب اس بارے میں آپ ﷺ کو طمع دلایا گیا تو آپ ﷺ نے اس طرح عرض کی : اللہم اغفر لقومی فانھم لا یعلمون “۔ (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الفطن باب الصبر علی البلاء صفحہ 300، ایضا صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، حدیث 3218، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے ہیں) جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے : گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ انبیاء میں سے کسی نبی (علیہ السلام) کا ذکر فرما رہے ہیں کہ آپ کی قوم نے آپ کو مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ” اے میرے پروردگار ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہی جانتے ہیں۔ “
ہمارے علماء نے کہا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث میں حکایت کرنے والے رسول اللہ ﷺ ہیں اور وہ محکی عنہ ہیں اور اس پر صریح اور واضح دلیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے دندان مبارک شہید کردیئے گئے اور آپ کا چہرہ مقدس زخمی کردیا گیا غزوہ احد میں تو یہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر انتہائی شاک گزرا تو انہوں نے عرض کی : اگر آپ ان کے لئے بددعا فرمائی ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھے دعوت دینے والا اور رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، جلد 2، صفحہ 323) اے اللہ میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ “ گویا کہ آپ ﷺ کی طرف واقعہ احد پیش آنے سے پہلے اس کے بارے وحی کی گئی اور نبی مکرم ﷺ نے اسے اپنے لئے معین نہیں کیا اور جب آپ کو یہ واقعہ پیش آیا تو متعین ہوگیا کہ معنی یہی ہے اور اس کی دلیل وہی ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے، اور حضرت عمر ؓ نے اپنے بعض کلام میں اس بارے میں جو کہا ہے وہ بھی اس کی وضاحت کرتا ہے : ہو یا رسول اللہ ! ﷺ میرے ماں باپ آپ نثار ہوں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے بارے میں بددعا کی اور یہ کہا۔
(آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “۔ الآیہ (نوح)
ترجمہ : اے رب ! زمین پر کافروں کا کوئی گھر نہ چھوڑ۔
اور اگر آپ ہمارے خلاف اس طرح کی دعا کرتے تو ہم اپنے آخر کی طرف سے ہلاک ہوجاتے، حالانکہ آپ کی پشت کو روندا گیا، آپ کا چہرہ خون آلود کیا گیا اور آپ کے دندان مبارک شہید کئے گئے لیکن آپ نے کلمہ خیر کے سوا کچھ نہ کہا اور یہ دعا کی : ” رب اغفر لقومی فانھم لا یعلمون “ (3) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد، باب غزوہ احد، جلد 2، صفحہ 208) اور آپ کا قول : ” اشتد غضب اللہ علی قوم کسروا رباعیۃ نبیھم “ (4) (صحیح مسلم، کتاب الجہاد، جلد 2، صفحہ 108، ایضا صحیح بخاری کتاب المغازی، حدیث نمبر 3785، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اللہ تعالیٰ کا غضب شدید اور سخت ہوا اس قوم پر جنہوں نے اپنے نبی (علیہ السلام) کے دندان مبارک شہید کردیئے) یہ خالصۃ اس کے لئے ہے جس نے عملا ایسا کیا اور ہم نے اس کا نام ذکر کردیا ہے اگرچہ اس کے بارے اختلاف ہے اور ہم نے یہ کہا کہ یہ مباشر (عمل کرنے والے) کے ساتھ خاص ہے، اس لئے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اسلام قبول کرلیا جو جنگ احد میں شریک ہوئے تھے اور خوب اچھی طرح اسلام لائے۔
مسئلہ نمبر : (2) بعض علماء کوفہ نے گمان کیا ہے کہ یہ آیت اس قنوت کے لئے ناسخ ہے جو حضور نبی مکرم صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھا کرتے تھے اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا : اللہم ربنا ولک الحمد فی الاخرۃ۔۔۔۔۔ پھر کہا۔۔۔۔ اللہم العن فلانا و فلانا “ ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” لیس لک من الامر شیء اویتوب علیھم اویعذبھم “۔ الآیہ۔ اسے بخاری نے نقل کیا ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب الاعتصام لکتاب اللہ، جلد 2 صفحہ 1091، اسلام آباد، ایضا حدیث نمبر 6800، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور امام مسلم نے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے یہ اس سے زیادہ مکمل اور اتم ہے (2) (صحیح بخاری تفسیر سورة آل عمران، حدیث نمبر 194، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ نسخ کا محل نہیں ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ امر ان کے پاس نہیں ہے اور یہ کہ وہ غیب میں سے کچھ نہیں جانتے مگر وہی جو میں انہیں بتاتا ہوں اور یہ کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ جسے چاہے گا اس کی توبہ قبول فرما لے گا اور جس کے لئے چاہے گا اسے جلدی عذاب میں مبتلا کر دے گا، اور تقدیر کلام اس طرح ہے : ” لیس لک من الامر شی وللہ ما فی السموات وما فی الارض دونک ودونھم یغفر لمن یشاء ویتوب علی من یشائ “۔ (آپ کا اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں ہے اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور اور جو کچھ زمین میں ہے نہ آپ کا ہے اور نہ ہی ان کا ہے وہ بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور جس کی چاہتا ہے توبہ قبول فرما لیتا ہے) پس اس میں کوئی نسخ نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (آیت) ” لیس لک من الامر شیئ “۔ سے یہ بیان کیا ہے کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے ہوتے ہیں اس میں قدریہ وغیرہ کا رد ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) نماز فجر اور اس کے علاوہ نمازوں میں قنوت پڑھنے کے بارے علماء نے اختلاف کیا ہے، پس کو فیوں نے نماز فجر وغیرہا میں قنوت سے منع کیا ہے اور یہی مذہب لیث اور صاحب مالک یحییٰ بن یحی لیثی اندلسی کا ہے، اور شعبی نے اس کا انکار کیا ہے اور مؤطا میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ کسی نماز میں قنوت نہ پڑھتے تھے (3) (موطا امام مالک، باب القنوت فی الصبح صفحہ 143، اسلام آباد) اور نسائی نے روایت کیا ہے کہ ہمیں قتیبہ نے عن خلف عن ابی مالک اشجعی عن ابیہ کی سند سے خبر دی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ نے قنوت نہ پڑھی اور میں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ نے دعائے قنوت نہ پڑھی اور میں نے حضرت عمر ؓ کی اقتداء میں نماز ادا کی اور آپ نے بھی قنوت نہیں پڑھی اور میں نے حضرت عثمان ؓ کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ نے بھی قنوت نہیں پڑھی اور میں نے حضرت علی ؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ نے بھی قنوت نہ پڑھی، پھر فرمایا : اے بیٹے ! یہ بدعت ہے (4) (سنن نسائی باب ترک القنوت جلد 1، صفحہ 164، ایضا جامع ترمذی، باب ماجاء فی ترک القنوت حدیث نمبر 368، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فجر کی نماز میں ہمیشہ قنوت پڑھی جائے گی اور تمام نمازوں میں (پڑھی جائے گی) جبکہ مسلمانوں پر کوئی آفت نازل ہو، امام شافعی (رح) اور طبری نے یہی کہا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نماز فجر میں مستحب ہے اور یہ امام شافعی (رح) سے مروی ہے اور حسن اور سحنون نے کہا ہے کہ یہ سنت ہے اور یہی علی بن زیادہ کی اس روایت کا تقاضا ہے جو امام مالک (رح) سے مروی ہے کہ جان بوجھ کر اسے چھوڑنے والا نماز کا اعادہ کرے گا اور علامہ طبری نے اس پر اجماع بیان کیا ہے کہ اسے چھوڑ دینا نماز کو فاسد نہیں کرتا، اور حسن سے منقول ہے کہ قنوت کے ترک ہوجانے میں سجدہ سہو لازم ہے اور یہی امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے ایک ہے، دارقطنی (رح) نے سعید ابن عبدالعزیز (رح) سے اس کے بارے میں بیان کیا ہے جو صبح کی نماز میں قنوت بھول گیا۔ فرمایا : وہ سہو کے دو سجدے کرے گا، اور امام مالک (رح) نے رکوع سے پہلے کو اختیار کیا ہے اور یہی اسحاق کا قول ہے اور یہی امام شافعی (رح)، احمد (رح) اور اسحاق (رح) کا بھی قول ہے، اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے اس بارے میں اختیار مروی ہے، (یعنی چاہے تو رکوع سے پہلے پڑھے اور چاہے تو رکوع کے بعد)
اور دارقطنی نے اسناد صحیح کے ساتھ حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں مسلسل قنوت پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے، اور ابو دادؤ نے نے مراسیل میں خالد بن ابی عمران سے ذکر کیا ہے، انہوں نے فرمایا : اس اثنا میں کہ رسول اللہ ﷺ مضر کے خلاف دعا کر رہے تھے کہ اچانک جبرائیل امین (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا کہ خاموش رہیے تو آپ ﷺ خاموش ہوگئے، پھر انہوں نے کہا : ” اے محمد ! ﷺ بلاشبہ اللہ تعالیٰ آپ کو گالی گلوچ اور لعن طعن کرنے کے لئے نہیں بھیجا، بلکہ اس نے آپ کو رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور اس نے آپ کو عذاب کے لئے نہیں بھیجا۔ (آیت) ” لیس لک من الامر شیء اویتوب علیھم اویعذبھم فانھم ظلمون “۔ راوی نے بیان کیا : پھر انہوں نے آپ ﷺ کو یہ دعائے قنوت سکھائی پس فرمایا : اللھم انا نستعینک ونستغفرک ونؤمن بک ونخنع لک ونخلع ونترک من یکفرک اللھم ایاک نعبد ولک نصلی ونسجد والیک نسعی ونحفد ونرجو رحمتک ونخاف عذابک الجد ان عذابک بالکافرین ملحق۔
Ayahs 3:130–132آیت نمبر 130۔ تا 132۔
قولی تعالیٰ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ سود کھانے سے یہ نہیں قصہ احد کے درمیان جملہ معترضہ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : مجھے اس بارے میں روایت کردہ کوئی شے یاد نہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت مجاہد نے بیان کیا ہے : وہ ایک مدت تک بیع کرتے تھے اور جب مدت مقررہ گزر جاتی تو وہ اسے مؤخر کرنے کی شرط پر ثمن میں اضافہ کردیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” یایھال الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ (میں کہتا ہوں) تمام گناہوں میں سے ربا کو خاص کیا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جنگ کی اجازت دی ہے :
(آیت) ” فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔ (البقرہ : 279)
ترجمہ : اور تم نے ایسا نہ کیا تو اعلان جنگ سن لو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے۔
اور جنگ قتل کی خبر دیتی ہے، گویا کہ وہ یہ کہہ رہا ہے : اگر تم سود سے نہ بچے تو تمہیں ہزیمت کا سامنا ہوگا اور تم قتل کردیئے جاؤ گے، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں سود چھوڑنے کا حکم دیا، کیونکہ ان کے نزدیک اس پر عمل کیا جاتا تھا، واللہ اعلم، اور ” اضعافا “ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور ” مضعفۃ “ اس کی صفت ہے۔ اور اسے مضعفۃ بھی پڑھا گیا ہے، اور اس کا معنی ہے وہ سود جس میں عرب قرض کو دوگنا کرلیتے تھے اور طالب کہتا تھا : کیا تو ادا کرے گا یا سود دے گا ؟ جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، اور مضاعفۃ یہ ایک سال کے بعد دوسرے سال دوگنا کو چار گنا کرنے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ وہ کرتے تھے، پس یہ عبارت موکدہ ان کے فعل کے انتہائی برا اور قبیح ہونے پر دلیل ہے، اسی لئے خاص طور پر تضعیف کی حالت ذکر کی گئی ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واتقوا اللہ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو سود کے مالوں میں اور تم انہیں نہ کھاؤ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں خوفزدہ کیا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 547) اور فرمایا : (آیت) ” واتقو النار التی اعدت للکفرین “۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے یہ وعید اس کے لئے ہے جس نے سود کو حلال سمجھا اور جس نے ربا کو حلال سمجھا وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے ایسے عمل سے بچو جو تم سے ایمان کو چھین لیتا ہے کہ تم (اس کے سبب) آتش جہنم کو واجب کرلو گے، کیونکہ گناہوں میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں کرنے والا ایمان کے چھن جانے کو واجب کرلیتا ہے اور اس پر کوکیا جانے لگتا ہے، انہیں میں سے والدین کی نافرمانی بھی ہے، اور اس بارے میں ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کا نافرمانی تھا اسے علقمہ کیا جاتا تھا تو موت کے وقت اسے کہا گیا کہو ” لا الہ الا اللہ “ تو وہ اس پر قادر نہ ہوسکا یہاں تک کہ اس کی ماں اس کے پاس آئی اور وہ اس سے راضی ہوئی۔ اور ایسے ہی گناہوں میں سے قطع تعلقی، سود خوری اور امانت میں خیانت کرنا ہے، ابوبکر وراق نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اکثر اوقات موت کے وقت بندے سے ایمان نکال لیا جاتا ہے، پھر ابوبکر نے بیان کیا : پس ہم ایسے گناہوں میں غور وفکر کرتے رہے جو ایمان کو نکال دیتے ہیں تو ہم نے بندوں پر ظلم سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ کسی کو ایمان نکالنے والا نہیں پایا، اس آیت میں اس پر دلیل ہے کہ آگ (جہنم) کو پیدا کیا گیا ہے یہ جہمیہ کا رد ہے، کیونکہ معدوم تیار شدہ نہیں ہوتا، پھر فرمایا (آیت) ” واطیعوا اللہ “۔ یعنی فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ”’ والرسول “ اور سنن میں (رسول اللہ ﷺ کی پیرو کرو)
اور یہ قول بھی ہے کہ سود کی تحریم میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور تحریم کے بارے میں جو حکم رسول اللہ ﷺ نے تمہیں پہنچایا ہے (اس میں انک کی اطاعت کرو) (آیت) ” لعلکم ترحمون “ تاکہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ اور یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 3:133آیت نمبر : 133۔
اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وسارعوا “ حضرت نافع اور ابن عامر نے واؤ کے بغیر (آیت) ” سارعوا “ پڑھا ہے اور اسی طرح اہل مدینہ اور اہل شام کے مصاحف میں ہے (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 547) اور باقی سات نے (آیت) ” وسارعوا “ واؤ کے ساتھ پڑھا ہے، ابو علی نے کہا ہے : دونوں قراتیں رائج اور صحیح ہیں، پس جنہوں نے واؤ کے ساتھ قرات کی ہے انہوں نے جملہ کا عطف جملہ پر کیا ہے اور جنہوں نے واؤ کو چھوڑ دیا ہے وہ اس لئے ہے کہ دوسرا جملہ پہلے کے ساتھ اس طرح ملتبس ہے کہ اسے حرم عطف واؤ کی حاجت اور ضروت ہی نہیں۔ اور المسارعۃ کا معنی المبادرۃ (جلدی کرنا، تیزی کرنا) ہے اور یہ باب مفاعلہ ہے۔ اور آیت میں حذف ہے، یعنی سارعوا الی مایوجب المغفرۃ وھی الطاعۃ (یعنی اس عمل کی طرف تیزی سے آؤ جو مغفرت و بخشش کو واجب کردیتا ہے اور وہ طاعت وفرمانبرداری ہے۔
حضرت انس ابن مالک اور مکحول نے (آیت) ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم “۔ کی تفسیر میں کہا ہے : اس کا معنی ہے تم دوڑو تکبیر تحریمہ کی طرف اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا : تم تیزی سے آؤ فرائض ادا کرنے کی طرف، حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا : تم جلدی سے آؤ اخلاص کی طرف، اور کلبی نے کہا ہے : تم سود سے توبہ کی طرف دوڑو، اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم میدان جنگ میں ثابت قدمی کی طرف آؤ اور ان کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں، اور آیت ان تمام کو شامل ہے اور ان کا معنی وہی ہے جو ” فاستبقوا الخیرات “۔ کا معنی ہے (کہ تم خیر اور نیکی کے کاموں کی طرف تیزی سے آگے بڑھو) اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) : و جنت عرضھا السموت والارض “۔ تقدیر عبارت ہے کعرض السموات والارض، اور مضاف محذوف ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ، ای الاکخلق نفسواحدۃ وبعثھا۔
شاعر نے کہا ہے :
حسبت بغام راحلتی عناقا وما ھی ویب غیرک بالعناق :
اس میں مراد صوت عناق (بھیڑ کے بچے کی آواز) ہے اس کی نظیر سورة حدید میں ہے۔ (آیت) ” وجنۃ عرضھا کعرض السمآء والارض “۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 548) (اور جنت اس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کی طرح ہے)
اس کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : آسمان و زمین آپس میں بعض بعض کے ساتھ ملادیئے جائیں گے جیسا کہ کپڑوں کو پھیلایا جاتا ہے اور بعض کو بعض کے ساتھ ملادیا جاتا ہے پس یہ جنت کا عرض ہے
اور اس کا طول سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، اور یہ جمہور کا قول ہے۔ اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ حضرت ابو ذر ؓ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے ” کہ سات آسمان اور سات زمینیں کرسی کے مقابلے میں اس طرح ہیں جیسے وہ دراہم جو زمین کے وسیع بیابان میں پھینک دیئے جائیں اور کرسی عرش کے مقابلہ میں اس انگوٹھی کی طرح ہے جو زمین کے وسیع بیانب میں پھینک دی گئی ہو۔ “ یہ مخلوقات سے آسمانوں اور زمین کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑی اور عظیم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت ان تمام سے اعظم ہے۔
اور کلبی نے کہا ہے : جنتیں چار ہیں، جنت عدن، جنۃ الماوی، جنۃ الفردوس، اور جنۃ النعیم “۔ اور ان میں سے ہر جنت زمین و آسمان نے عرض کی مثل ہے اگر وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں، اور اسماعیل السدی نے کہا ہے : اگر آسمانوں اور زمین کو توڑ دیا جائے اور وہرائی کے دانے ہوجائیں اور پھر ہر دانے کے بدلے جنت ہو تو اسکی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی طرح ہے، اور صحیح روایت میں ہے :” بیشک اہل جنت میں سے رتبہ کے اعتبار سے ادنی وہ ہوگا جو تمنا کرے گا اور آرزو کرتا رہے گا یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : لک ذالک وعشرۃ امثالہ “۔ (تیرے لئے وہ بھی ہے اور اس کی مثل دس اور بھی ہیں) اسے حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کیا ہے، اسے مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے اور یعلی بن ابی مرہ نے بیان کیا ہے، میں حمص میں تنوخی سے ملاجو کہ ہر قل کی طرف سے قاصد بن کر حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس آیا تھا وہ شیخ کبیر تھا، اس نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ہر قل کا خط لے کر آیا تو آپ ﷺ نے وہ صحیفہ اپنی بائیں طرف والے آدمی کو دیا، پھر میں نے پوچھا، تمہارا کون وہ ساتھی ہے جو اسے پڑھے گا ؟ انہوں نے کہا : معاویہ، پس تب یہ میرے صاحب کی تحریر ہے، بلاشبہ آپ نے لکھا ہے آپ مجھے ایسی جنت کی طرف دعوت دے رہے ہیں جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے تو جہنم کہاں ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’ رحمۃ اللہ علہیم سبحان اللہ رات کہاں ہوتی ہے جب دن آجاتا ہے۔ “ (1) (تفسیر ابن کثیر، سورة آل عمران، جلد 1، صفحہ 318، دار القرآن بیروت)
اور اسی طرح کی دلیل سے حضرت فاروق اعظم ؓ نے یہودیوں کے خلاف استدلال کیا جب انہوں نے آپ کو کہا : کیا تم نے اس قول کو دیکھا ہے (آیت) : و جنت عرضھا السموت والارض “۔ تو جہنم کہاں ہے ؟ اور انہوں نے آپ کو کہا : آپ وہ لائیں جو اس سے مشابہت رکھتا ہو جو تورات میں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے عرض کے سبب طول پر آگاہ فرمایا کیونکہ اغلبا طول عرض سے زیادہ ہوتا ہے اور طول جب ذکر کر دیاجائیی تو وہ عرض کی مقدار پر دلالت نہیں کرتا، زہری نے کہا ہے : جنت کا عرض بیان کیا گیا ہے اور رہا اس کا طول تو اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 1 صفحہ 548) اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے :
(آیت) ” متکئین علی فرش بطآئنھا من استبرق “۔ (الرحمن : 54)
ترجمہ : وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے بستروں پر جن کے استر قنادیز کے ہوں گے۔
تو اس میں بطانۃ کو اس حسین ترین شے کے ساتھ متصف کیا گیا ہے جو زینت اور خوبصورتی سے جانی جاتی ہے جبکہ یہ معلوم ہے کہ ظواہر باطن کے مقابلہ میں زیادہ حسین اور اتقن ہوتے ہیں، عرب کہتے ہیں : ” بلاد عریضۃ وفلاۃ عریضۃ “ یعنی وسیع شہر اور بیابان “۔
شاعر نے کہا ہے :
کان بلاد اللہ وھی عریضۃ علی الخائف المطلوب کفۃ حابل :
اس میں وھی عریضۃ وسیع و عریض ہونے کے معنی میں ہے۔
اور ایک قوم نے کہا ہے : مقطع عرب پر کلام بطور استعارہ جاری ہے، پس جب جنت وسعت اور انفساح کے اعتبار سے انتہا کو پہنچی ہوئی ہے تو پھر اسے آسمانوں اور زمین کے عرض کے ساتھ بیان کرنا انتہائی حسین عبارت ہے جیسا کہ تو کسی آدمی کے لئے کہتا ہے : ھذا بحر (یہ تو سمندر ہے) اور حیوانوں میں سے کسی بڑے کے لئے یہ کہتا ہے : ” ھذا جبل “۔ یہ پہاڑ ہے تو آیت نے عرضاحد بیان کرنے کا قصد نہیں کیا، البتہ اس سے مقصود یہ ہے کہ وہ ہر اس شے سے وسیع تر ہے جسے تم نے دیکھا ہے، اور عام علماء کا نظریہ ہے کہ جنت تخلیق کردی گئی ہے اور یہ موجود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اعدت للمتقین “۔ اور اس کا بیان حدیث اسراء وغیرہ میں ہے جو صحیحین وغیرھما میں بیان کی گئی ہے۔
اور معتزلہ نے کہا ہے : بلاشبہ یہ دونوں (جنت اور جہنم) ہمارے وقت میں موجود نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ جب آسمانوں اور زمین کو لپیٹ دے گا تو پھر وہ جنت اور جہنم کو جہاں چاہے گا بنا دے گا، کیونکہ یہ دونوں ثواب و عقاب کے لئے دار جزا ہیں، لہذا احکام کا مکلف بنائے جانے کے بعد جزا کے وقت میں انہیں بنایا جائے گا، تاکہ دارالتکلیف اور دارالجز، دنیا میں جمع نہ ہوجائیں، اور ابن فورک نے کہا ہے : جنت میں قیامت کے دن اضافہ کردیا جائے گا، ابن عطیہ نے کہا ہے : اس میں منذر بن سعید وغیرہ کا تعلق قائم کیا گیا ہے ان سے جنہوں نے کہا : بلاشبہ ابھی تک جنت تخلیق نہیں کی گئی، ابن عطیہ نے کہا ہے ابن فورک کا یہ قول ” کہ اس میں اضافہ کیا جائے گا “۔ یہ جنت کے موجود ہونے کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ ایسی سند کا محتاج ہے جو زیادتی کے عذر میں قطعی ہو۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ابن عطیہ نے اس بارے میں سچ کہا ہے کہ جب انہوں نے کہا : جب ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں کرسی کے سامنے ان دراہم کی طرح ہیں جو زمین کے وسیع بیابان میں ڈال دیئے گئے ہوں اور کرسی عرش کے سامنے اس انگوٹھی کی طرح ہے جسے وسیع زمین میں رکھ دیا گیا ہے، تو جنت اب اسی حالت پر ہے جس پر وہ آخرت میں ہوگی کہ اس کا عرض آسمانوں اور زمین کے عرض کی طرح ہے، کیونکہ عرش اس کی چھت ہے، یہ اس کے مطابق ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ چھت اپنے نیچے آنے والی ہر شے کو گھیرے ہوتا ہے اور کچھ زیادہ بھی ہوتا ہے اور جب تمام مخلوقات اس (عرش) کی نسبت ایک انگوٹھی کی طرح ہیں تو پھر کون ہے جو اس کا اندازہ لگا سکتا ہو اور اس کے طول وعرض کو جانتا ہو سوائے اللہ تعالیٰ کے جو ایسا خالق ہے جس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں اور نہ ہی اس کی مملکت کی وسعت کی کوئی غایت اور حد ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 3:134آیت نمبر : 134۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین ینفقون “۔ یہ ان متقین کی صفت ہے جن کے لئے جنت تیار کی گئی ہے اور ظاہر آیت یہ ہے کہ یہ فعل مندوب الیہ کے ساتھ مدح اور تعریف ہے اور السرآء کا معنی آسانی اور والضرآء کا معنی تنگی ہے۔
اور ابن عباس، کلبی اور مقاتل رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے اور عبید بن عمیر اور ضحاک نے کہا ہے کہ ” السرآء “۔ اور الضرآء “ کا معنی خوشحالی اور تنگ دستی ہے، اور صحت وبیماری کی حالت میں بھی یہی کہا جاتا ہے، اور یہ قول بھی ہے کہ ” فی السرآء “ کا معنی ہے زندگی میں اور ” فی الضراء “ سے مراد وہ ہے جس کی وہ موت کے بعد وصیت کرتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” فی السرآئ “ سے مراد شادی اور ولیموں میں خرچ کرنا ہے اور فی الضرء سے ماد تکالیف اور ماتم میں خرچ کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے۔ (آیت) ” فی السرآئ “ سے مراد وہ نفقہ ہے جو تمہیں خوش کرتا ہے مثلا اولاد اور قرابتداروں پر خرچ کرنا اور ضراء سے مراد دشمنوں پر خرچ کرنا ہے۔
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ (آیت) ” فی السرآئ “ سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ وہ جو ان کی مہمان نوازی کرتا ہے اور اسے ہدیہ دیتا ہے اور ضراء وہ ہے جس کو تکلیف میں مبتلا لوگوں پر خرچ کرتا اور اس سے ان پر صدقہ کرتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں، یہ آیت عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والکظمین الغیظ “۔ اور یہ ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر : (2) اور کظم الغیظ کا معنی ہے غصے کو پیٹ میں لوٹانا کہا جاتا ہے، کظم غیظہ یعنی وہ اس پر خاموش رہا اور اس کا اظہار نہ کیا باوجود اس کے کہ وہ اپنے دشمن پر برسنے اور عملا وہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
اور کظمت السقاء کا معنی ہے میں نے مشکیزہ بھرا اور اس کا منہ بند کردیا، اور الکظامۃ وہ شے جس کے ساھت پانی کا راستہ بند کیا جاتا ہے اور سی سے الکظام اس تسمہ (دھاگے) کو بھی کہا جاتا ہے جس کے ساتھ مشکیزے کا منہ بند کیا جاتا ہے اور کظم البعیر جرتہ جب اونٹ جگالی کو اپنے پیٹ میں لوٹا دے، اور کبھی کظم اس معنی کے لئے بولا جاتا ہے کہ وہ جگالی سے رک گیا قبل اس کے کہ وہ اسے اپنے منہ کی طرف بھیجے، اسے زجاج نے بیان کیا ہے، کہا جاتا ہے : کظم البعیر والناقۃ جب یہ جگالی نہ کریں۔
اور اسی سے راعی کا قول ہے :
فافضن بعد کظومھن بجرۃ من ذی الابارق اذرعین خقیلا “۔
اس میں جگالی سے رکنے کے معنی میں لفظ کظوم استعمال ہوا ہے۔
الحقیل، ایک جگہ ہے اور الحقیل ایک بوٹی بھی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گھبراہٹ اور مشقت وتھکاوٹ کے وقت ایسا کرتا ہے اور وہ جگالی نہیں کرتا۔
اعشی نے اونٹوں کو نحر کرنے والے آدمی کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا اور وہ اس سے گھبراتے ہیں :
قد تکظم البزل منہ حین تبصرہ حتی تقطع فی اجوافھا الجرر :
طاقتور اونٹ بھی جب اسے دیکھتا ہے تو گھبرا جاتا ہے یہاں تک کہ جگالی اس کے پیٹ میں ہی کٹ جاتی ہے (یعنی جگالی کے لئے پیٹ سے باہر کوئی شے نہیں لاسکتا)
اور اسی سے ہے، رجل کظیم ومکظوم جب کوئی غم واندوہ اور حزم وملال سے بھرا ہوا ہو۔
اور قرآن کریم میں ہے :
(آیت) ” وابیضت عینہ من الحزن فھو کظیم “۔ (یوسف)
ترجمہ : اور سفید ہوگئیں ان کی دونوں آنکھیں غم کے باعث اور وہ اپنے غم کو ضبط کئے ہوئے تھے۔
(آیت) ” اذ نادی وھو مکظوم “۔ (القلم)
ترجمہ ؛ جب اس نے پکارا اور وہ غم واندوہ سے بھرا ہوا تھا۔
اور غیظ غضب کی اصل اور بنیاد ہے اور اکثر اوقات تو یہ دونوں لازم وملزوم ہوتے ہیں لیکن انکے درمیان فرق ہے وہ یہ کہ غیظ جوارح (اعضاء بدن) پر ظاہر نہیں ہوتا بخلاف غضب کے کیونکہ یہ جوارح میں ایسے فعل کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جو ضروری ہوتا ہے اسی لئے جب غضب کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مقصود وہ افعال ہوتے ہیں جو (آیت) ” المغضوب علیھم “۔ میں ظاہر ہوتے ہیں اور بعض لوگوں نے غیظ کی تفسیر غضب سے کی ہے اور یہ عمدہ نہیں۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والعافین عن الناس “۔ لوگوں کو معاف کرنا نیکی اور خیر کے افعال میں سے انتہائی عظیم فعل ہے، اس حیثیت سے کہ آدمی کے لئے جائز ہوتا ہے کہ وہ معاف کردے اور یہ کہ وہ اپنے حق کیطرف متوجہ ہو اور ہر وہ جو سزا کا مستحق ہو لیکن اسے چھوڑ دیا جائے تو تحقیق اسے معاف کردیا گیا اور (آیت) ” عن الناس “ کے معنی میں اختلاف ہے پس ابو العالیہ، کلبی اور زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” والعافین عن الناس “۔ سے مراد غلاموں کو معاف کرنا ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : مثال کے طور پر یہ بہت اچھا ہے، کیونکہ وہ خادم ہوتے ہیں اور وہ کثرت سے غلطیاں کرتے ہیں اور ان پر قدرت آسان ہوتی ہے اور سزا کو نافذ کرنا سہل ہوتا ہے، اسی لئے مفسر نے اس کے ساتھ مثال بیان کی ہے، اور میمون بن مہران سے روایت ہے کہ ان کی ایک کنیز تھی وہ ایک دن ایک بڑا پیالہ لے کر آئی اس میں گرم شوربہ تھا اور آپ کے پاس کچھ مہمان بیٹھے ہوئے تھے، پس وہ گر پڑی اور شوربہ آپ پر پڑگیا تو میمون نے اسے مارنا چاہا تو اس لونڈی نے کہا : اے میرے آقا ! آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کیجئے (آیت) ” والکظمین الغیظ “ تو اس نے کہا : تحقیق میں نے کردیا، پھر اس سے کہا : جو اس کے بعد ہے اس پر بھی عمل کیجئے (آیت) ” والعافین عن الناس “۔ تو اس نے کہا : میں نے تجھے معاف کردیا، پھر اس لونڈی نے کہا : (آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ تو میمون نے کہا : میں نے تجھ پر احسان کردیا، پس تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے، احنف بن قیس سے اسی طرح مروی ہے۔
اور حضرت زید بن اسلم نے کہا ہے : (آیت) ” والعافین عن الناس “۔ اور وہ لوگوں کے ظلم اور ان کی برائیوں سے درگزر کرنے والے ہیں (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 549) یہ حکم عام ہے اور یہی آیت کا ظاہر معنی ہے اور مقاتل بن حیان نے اس آیت میں کہا ہے : ہم تک خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمایا : ”‘ میری امت میں سے یہ قلیل (لوگ) ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا، حالانکہ گزشتہ امتوں میں یہ کثیر لوگ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح اور تعریف فرمائی ہے جو غصے کے وقت بخش دیتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا :
(آیت) ” واذا ماغضبوا ھم یغفرون “۔ (الشوری)
ترجمہ : اور جب وہ غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ اور غصہ پی جانے والوں کی اس قول کے ساتھ تعریف فرمائی (آیت) ” والعافین عن الناس “۔ اور یہ خبر دی ہے کہ وہ انہیں ان کے اس احسان کے سبب پسند کرتا ہے۔
اور غصہ پی جانے، لوگون سے درگزر کرنے اور غضب کے وقت نفس کا مالک ہونے کے بارے کئی احادیث وارد ہیں، اور یہی انتہائی عظیم عبادت اور جہاد بالنفس ہے، پس آپ ﷺ نے فرمایا : ” طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے، (1) (صحیح بخاری، کتاب الادب باب الحذر من بلغضب، جلد 1، صفحہ 903، کراچی، ایضا صحیح بخاری، حدیث نمبر 5649، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور آپ ﷺ نے مزیدارشاد فرمایا ہے : ” جو گھونٹ بھی آدمی پیتا ہے وہ اس کے لئے خیر اور نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں غصہ کے گھونٹ سے بڑھ کر اجر والا کوئی نہیں ہے (2) (ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحلم، 319، اسلام آباد، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 4178، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہر شے سے زیادہ سخت اور شدید کون سی شے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا غضب “ پھر اس نے عرض کی : کون سی شے اللہ تعالیٰ کے غضب سے نجات دلاتی ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” تو غصہ نہ کر “۔
عرجی نے کہا ہے :
و اذا غضبت فکن وقورا کا ظما للغیظ تبصر ماتقول وتسمع :
جب تجھے غصہ آئے تو انتہائی وقار کے ساتھ غصہ پینے والاہوجا اور اسے غور سے دیکھ جو کہہ رہا ہے اور سن رہا ہے۔
فکفی بہ شرفا تصبر ساعۃ یرضی بھا عنک الالہ وترفع :
پس ایک ساعت کا صبر کرنا از روئے شرف کے کافی ہے جس کے سبب تجھ سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے اور تو بلند مرتبہ کردیا جائے اور حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے عفو کے بارے کہا ہے :
لن یبلغ المجد اقوام وان شرفوا حتی یذلوا وان عزوا الاقوام :
قومیں ہر گز بزرگی کو نہ پا سکیں گی اگرچہ وہ شریف ہوں یہاں تک کہ انہیں ذلیل و خوار کردیا جائے گا اگرچہ وہ قوموں پر غالب ہوں۔
ویشتموا فترالالوان مشرقۃ لا عفو ذل ولکن عفو اکرام :
اور انہیں گالی گلوچ نہی دی جاتیں اور وہ کائنات کو روشن دیکھتی ہیں ان کی یہ عفو و درگزر ذلت ورسوائی کی نہیں ہوتی بلکہ عزت واکرام کی ہوتی ہے۔
ابوداؤد اور ابو عیسیٰ ترمذی نے حضرت سہل بن معاذ بن انس جہنی سے اور انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مخلوق کے سامنے اسے بلائے گا یہاں تک کہ اسے حور کے بارے اختیار عطا فرما دے گا کہ جسے چاہے لے لے۔ “ فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (1)
اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک ندا دینے والا ندا دے گا جس کسی کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اسے چاہیے کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے، اور کہا جائے گا : یہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے ؟ تو لوگوں سے درگزر کرنے والے کھڑے ہوں گے اور بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ “ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
اور ابن مبارک نے کہا ہے : میں منصور کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو اس نے ایک آدمی کو قتل کرنے کا حکم دیاتو میں نے کہا : اے امیر المومنین رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :” جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک منادی ندا دے گا جس کا اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی احسان ہو تو وہ آگے بڑھے پس کوئی آگے نہیں بڑھے گا سوائے اس کے جس نے گناہ اور غلطی سے در گزر کی۔ “ پس یہ حکم اپنے اطلاق پر ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ان کے احسان پر ثواب عطا فرماتا ہے۔ حضرت سری سقطی نے کہا ہے : احسان یہ ہے کہ توامکان کے وقت احسان پس ہر وقت تیرے لئے احسان ممکن نہیں ہوگا۔
شاعرنے کہا ہے :
بادر بخیر اذا ما کنت مقتدرا فلیس فی کل وقت انت مقتدر :
تو خیر اور نیکی کے عمل میں جلدی کر جب تو اس کی قدرت رکھتا ہو، ہر وقت میں تو اس پر قادر نہیں ہوگا۔
اور ابو العباس الجمانی نے کہا ہے اور خوب اچھا کہا ہے :
لیس فی کل ساعۃ واوان تتھیا صنائع الاحسان :
ہر ساعت اور ہر وقت میں احسان کرنے والا (اس کے لئے) تیار نہیں ہوتا۔
واذا امکنت فبادر الیھا حذر امن تعذر الامکان :
اور جب امکان ہو تو پھر اس کی طرف جلد کر اس خوف سے کہ کہیں امکان متعذر نہ ہوجائے، محسن اور احسان کے بارے میں قول سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔