Ayah 3:144(آیت) ” وما محمد الا رسول، قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا، وسیجزی اللہ الشکرین، وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ کتبا مؤجلا، ومن یرد ثواب الدنیا نؤتہ منھا، ومن یرد ثواب الاخرۃ نؤتہ منا وسنجزی الشکرین، وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر، فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وما استکانوا واللہ یحب الصبرین، وما کان قولھم الا ان قالو ربنا اغفرلنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین، فاتھم اللہ ثواب الدنیا “۔ (1) (اسباب النزول “۔ صفحہ 83)
اس میں ما نافیہ ہے اور اس کا ما بعد مبتدا اور خبر ہے، اور ما کا عمل باطل ہوگیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس طرح قرات کی ہے : ” قد خلت من قبلہ رسل “۔ یعنی بغیر الف الام کے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس پر آگاہ فرمایا ہے کہ رسل علیہم الصلوت والتسلیمات اپنی قوم میں ہمیشہ باقی رہنے والے نہیں ہیں، اور یہ کہ اس کو مضبوطی سے تھامنا واجب ہے جو رسل (علیہم السلام) لے کر آئے اگرچہ رسول موت یا قت کے سبب نقود ہو۔ اور اپنے نبی مکرم ﷺ کی عزت و تکریم فرمائی (آپ کے دو وصفوں) دو اسموں کے ساتھ جو دونوں آپ کے اسم سے مشتق ہیں محمد اور احمد ﷺ عرب کہتے ہیں : رجل محمود ومحمد جب اس کے خصائل حمیدہ کثیر ہوں۔
کسی شاعر نے کہا ہے :
الی الماجد القرم الجواد المحمد :
تحقیق یہ معنی سورة الفاتحہ میں گزر چکا ہے۔
اور عباس بن مرداس نے کہا ہے :
یا خاتم النبآء انک مرسل بالخیر کل ھدی السبیل ھداکا :
اے خاتم الانبیاء بلاشبہ آپ خیر وبھلائی کے ساتھ بھیجے گئے ہیں ہر راہ ہدایت آپ ہی کی ہدایت ہے۔
ان الالہ بنی علیک محبۃ فی خلقہ ومحمدا سما کا :
بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں تجھ پر محبت کی بنیاد رکھی ہے اور تیرا نام محمد ﷺ رکھا ہے۔
پس یہ آیت شکست کھانے والوں کے عتاب کا تتمہ ہے، یعنی ان کے لئے شکست کھانا نہیں ہے اگرچہ محمد ﷺ بھی شہید کردیئے جائیں، اور نبوت موت کو دور نہیں کرسکتی اور ادیان انبیاء (علیہم السلام) کی موت سے زائل نہیں ہوتے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شجاعت اور آپ کی جرات پر سب سے بڑھ کر دلیل ہے، کیونکہ شجاعت اور جرات کی تعریف اور حد مصائب وآلام آنے کے وقت دل کا ثابت رہنا ہے، اور حضور نبی مکرم ﷺ کی موت سے بڑی اور کوئی مصیبت نہیں۔ جیسا کہ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، پس اسی وقت آپ کی شجاعت اور آپ کا علم ظاہر ہوا لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے ان میں سے حضرت عمر ؓ تھے، اور حضرت عثمان ؓ خاموش ہوگئے، اور حضرت علی ؓ نے بھی (معاملہ) مخفی رکھا اور معاملہ مضطرب ہوگیا تو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے اس آیت کے ساتھ اس حقیقت کو ظاہر کیا جب آپ اپنی رہائش گاہ سخ سے آئے۔
بخاری میں اسی طرح ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1165، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور سنن ابن ماجہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو اس وقت حضرت ابوبکرصدیق ؓ اپنی زوجہ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھی، کے ساتھ عوالی میں تھے تو لوگ کہنے لگے : حضور نبی مکرم ﷺ فوت نہیں ہوئے بلکہ یہ انہیں حالات میں سے ایک حالت ہے جو وحی لیتے وقت آپ طاری ہوتی تھی، اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ آئے اور آپ نے آپ ﷺ کے چہرہ اقدس سے (کپڑا) اٹھایا اور آپ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور دو بار کہا : انت اکرم علی اللہ من ان یمیتک (آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ہیں اس سے زیادہ معزز اور مکرم ہیں کہ وہ آپ کو موت دے)
قسم بخدا ! رسول اللہ ﷺ وصال فرماگئے اور حضرت عمر ؓ مسجد کے ایک کونے میں کہہ رہے تھے : قسم بخدا رسول اللہ ﷺ فوت نہیں ہوئے، اور نہ وہ فوت ہوں گے یہاں کہ منافقین میں سے بہت سے لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں، پس حضرت ابوبکر صدیق ؓ اٹھے اور منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : ” من کان یعبد اللہ فان اللہ حی لم یمت، ومن کان یعبد محمدا فان محمدا قد مات “ جو اللہ تعالیٰ تو زندہ ہے وہ فوت نہیں ہوا۔
اور جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو محمد ﷺ تو فوت ہوچکے ہیں۔
(آیت) ” وما محمد الا رسول، قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا، وسیجزی اللہ الشکرین،
حضرت عمر ؓ نے بیان کیا ” گویا میں نے تو یہ آیت اس دن کے سوا پڑھی ہی نہیں (2) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائزصفحہ 116، اسلام آباد، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 1615، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا جو پہلے انہوں نے کہا تھا اسے وائلی ابو نصر عبید اللہ نے اپنی کتاب ” الابانۃ “ میں ذکر کیا ہے : حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس وقت سنا جب رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں ابوبکرصدیق کی بیعت کی گئی، اور آپ رسول اللہ ﷺ کے منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے پہلے شہادت دی اور کہا : اما بعد، میں نے کل تمہیں ایک بات کہی تھی اور وہ اس طرح نہ تھی جیسے میں نے کہی تھی، اور قسم بخدا ! میں نے وہ بات جو تمہیں کہی اسے اس کتاب میں نہیں پایا جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور نہ ہی اس عہد میں پایا جو عہد رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : البتہ میں یہ امید کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ زندہ رہیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے بعد آئیں گے۔۔۔۔ آپ کے کہنے کی مراد یہ تھی کہ آپ ﷺ کو موت آخر میں آئے گی : پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کے لئے اپنی پسند کو تمہاری پسند پر ترجیح دی، اور یہ وہ کتاب ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم ﷺ کی راہنمائی فرمائی پس تم اسے پکڑ لو تم ہدایت پاجاؤ گے اس کی طرف جو رسول اللہ ﷺ نے رہنمائی فرمائی (1) (صحیح بخاری کتاب الاحکام حدیث نمبر 6679، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
وائلی ابو نصر نے کہا : وہ بات جو انہوں نے کہی پھر اس سے رجوع کرلیا وہ یہ ہے ” کہ حضور نبی مکرم ﷺ فوت نہیں ہوئے اور وہ ہرگز فوت نہیں ہوں گے یہاں تک کہ لوگوں کے ہاتھ اور ان کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں گے اور انہوں نے یہ اس عظیم صدمہ کی وجہ سے کہا جو انہیں لاحق ہوا اور انہیں فتنہ اور منافقین کے ظہور کا خدشہ ہوا، اور جب انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی قوت یقین کا مشاہدہ کیا، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پڑھا : (آیت) ” کل نفس ذآئقۃ الموت “۔ اور (آیت) ” انک میت وانہم میتون “۔
اور وہ جو انہوں نے اس دن کہا تو یہ آگاہ ہوئے اور یہ بات (ان کے ذہن میں) راسخ ہوگئی اور انہوں نے کہا : گویا میں نے یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ کے سوا کسی سے سنی ہی نہیں، اور لوگ یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے مدینہ طیبہ کی گلیوں میں نکل پڑے، گویا یہ آیت کبھی نازل نہیں ہوئی مگر اسی دن (2) (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث 1165، ایضا)
اور آپ ﷺ کا وصال بلا اختلاف پیر کے دن ہوا اسی وقات میں جس میں آپ ﷺ ہجرت کے وقت مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تھے جس وقت دھوپ خوب سخت ہوچکی تھی، اور آپ ﷺ کو منگل کے دن دفن کیا گیا، اور یہ قول بھی ہے کہ بدھ کی رات کو (آپ کو دفن کیا گیا) (3) (صحیح بخاری کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1298، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
صفیہ بنت عبدالمطلب نے رسول اللہ ﷺ کا مرثیہ کہتے ہوئے کہا :
الا یارسول اللہ کنت رجاء نا وکنت بنا برا ولم تک جافیا :
خبردار یا رسول اللہ ﷺ آپ ہماری امید تھے اور آپ ہمارے محسن تھے اور کبھی اعراض نہ برتتے تھے۔
وکنت رحیما ھادیا ومعلما لیبک علیک علیک الیوم من کان با کیا ؛
اور بڑے مہربان، راہبر اور معلم تھے چاہیے کہ آج کے دن آپ پر ہر رونے والا روئے۔
لعمرک ما ابکی النبی لفقدہ ولکن لما اخشی من الھرج اتیا :
تیری عمر کی قسم میں نبی مکرم ﷺ کے مفقود ہونے کے سبب نہیں روؤں گی البتہ مجھے کسی حرج اور مصیبت آنے کا خدشہ ہوگا۔
کان علی قلبی لذکر محمد وما خفت من بعد النبی المکاویا :
گویا میرے دل پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ذکر ہے اور مجھے نبی مکرم ﷺ کے بعد کسی گالیاں دینے والے کا کوئی خوف نہیں۔
افاطم صلی اللہ رب محمد علی جدث امسی بیثرب ثاویا :
میں چھوڑتی ہوں اللہ تعالیٰ پر جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا رب ہے کہ وہ اس قبر پر رحمتیں نازل فرمائے جو یثرب میں آباد ہے۔
فدی لرسول اللہ امی وخالتی وعمی وآبائی ونفسی ومالیا
رسول اللہ ﷺ پر میری ماں، میری خالہ، میری پھوپھی، میری جان اور میرا مال سبھی نثار ہوں۔
صدقت وبلغت الرسالۃ صادقا ومت صلیب العود ابلج صافیا :
آپ نے سچ بولا اور پیغام رسالت کو صدقت کے ساتھ پہنچا یا اور آپ نے لکڑی کی صلیب کو ختم کردیا اور خوب صاف کردیا۔
فلو ان رب الناس ابقی نبینا سعدنا ولکن امرہ کان ماضیا :
آپ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلوۃ وسلام ہو اور آپ کو جنات عدن میں داخل کیا جائے اس حال میں کہ آپ راضی اور خوش ہوں۔
اری حسبنا ایتمتہ وترکتہ یبکی ویدعو جدہ الیوم ناعیا :
میں دیکھ رہی ہوں آپ نے ہی ہمارے حسب کو مکمل کیا ہے اور اسے رلاتے ہوئے چھوڑ دیا ہے اور آج یہ دور اپنے دادا کو پکار رہا ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اور اگر یہ کہا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کی تدفین کو کیوں مؤخر کیا گیا حالانکہ آپ نے اہل بیت کو اپنی میتوں کو تدفین کو مؤخر کرنے پر کہا : ” اپنے مردوں کی تدفین میں جلدی کرو اور تم ان میں تاخیر نہ کرو “ (1) (ابن ماجہ کتاب الجنائز، صفحہ 108، کراچی، ایضا ابن ماجہ کتاب الجنائز، حدیث نمبر 1474، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا گیا ہے۔
(1) ایک تو و ہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ آپ ﷺ کے وصال فرمانے پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مابین اتفاق نہ تھا۔
(2) اس لئے کہ وہ اس مقام اور جگہ کو نہ جانتے تھے جہاں وہ آپ کو دفن کریں، پس ایک جماعت نے کہا : جنت البقیع میں دفن کیا جائے اور دوسرے گروہ نے کہا : مسجد میں اور ایک قوم نے کہا : آپ کو روکا جائے گا یہاں تک کہ آپ کو اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف اٹھا لیا جائے، یہاں تک کہ عالم اکبر (مراد حضرت ابوبکرصدیق ؓ ہیں) نے کہا : میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ما دفن نبی الا حیث یموت (کسی نبی کو دفن نہیں کیا جاتا مگر اسی جگہ جہاں اس کا وصال ہوتا ہے)
اسے ابن ماجہ اور مؤطا وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ (2)
(3) وہ اس اختلاف میں مشغول ہوگئے جو مہاجرین وانصار کے درمیان بیعت کے بارے میں واقع ہوا، پس وہ اس میں غور وفکر کرتے رہے یہاں تک کہ معاملہ واضح ہوگیا اور کام منظم ہوگیا اور حالات پر سکون ہوگئے اور خلافت اپنے نصاب میں پختہ ہوگئی پس انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بیعت کرلی، پھر دوسرے دن ان میں سے ایک جماعت نے برضا ورغبت دوسری بیعت کی، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب مرتدین کے فتنہ سے نجات دلائی اور آپ کے سبب دین کو تقویت حاصل ہوئی، والحمد للہ رب العالمین “۔ پھر اس کے بعد انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کی طرف رجوع کیا اور آپ کے دفن کے بارے میں غور وفکر کی تب انہوں نے آپ ﷺ کو غسل دیا اور آپ کو کفن پہنایا، واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (4) اس میں اختلاف ہے کہ کیا آپ ﷺ پر نماز پڑھی گئی یا نہیں، پس بعض نے کہا ہے : کسی نے بھی آپ ﷺ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی بلکہ ہر ایک آپ ﷺ کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگتا رہا کیونکہ آپ ﷺ کی شان اس سے اشرف واعلی ہے کہ آپ پر نماز جنازہ پڑھی جائے، اور علامہ ابن عربی نے کہا ہے : یہ کلام ضعیف ہے، کیونکہ سنت یہی ہے کہ آپ پر نماز جنازہ میں کھڑے ہو کر درود پاک پڑھا جائے گا جیسا کہ آپ پر دعا میں درود پاک پڑھا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہے : اللھم صل علی محمد ال یوم القیامۃ “۔ (اے اللہ ! حضرت محمد مصطفیٰ ؓ پر یوم قیامت تک رحمتیں نازل فرما) اور یہ ہمارے لئے بھی باعث نفع ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ ﷺ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی، کیونکہ وہاں کوئی امام نہ تھا، اور یہ ضعیف ہے، کیونکہ وہ جو انہیں فرض نماز پڑھا رہا تھا وہی اس نماز میں ان کی امامت نہیں کرائی، اس حدیث کو انہوں نے نصر ابن علی جہضمی سے اس سند کے ساتھ بیان کیا ہے انبانا وھب بن جریر حدثنا ابی عن محمد بن اسحاق قال حدثنی حسین ابن عبداللہ عن عکرمۃ عن ابن عباس، الحدیث بطولہ، (1) (ابن ماجہ، کتاب الجنائز، صفحہ 118، ایضا این ماجہ کتاب الجنائز حدیث نمبر 1616، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (5) حضور نبی مکرم ﷺ کے وصال کے بعد حالات کی تبدیلی کے بارے میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا : جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو آپ کی آمد سے ہر شے منورہ و روشن وہ گئی اور جس دن آپ ﷺ کا مدینہ میں وصال ہوا تو وہاں کی ہر شے تاریک ہوگئی اور ہم نے حضور نبی مکرم ﷺ سے ہاتھ نہیں جھاڑے یہاں تک کہ ہم نے اپنے کا انکار کردیا
ابن ماجہ نے روایت بیان کی ہے (2) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، صفحہ 119، ایضا ابن ماجہ، کتاب الجنائز حدیث نمبر 1620، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور کہا ہے : محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اپنی عورتوں کے ساتھ کلام کرنے اور دل لگی کرنے سے بچتے تھے اس خوف سے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن میں قرآن نہ نازل ہوجائے، اور جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوگیا تو پھر ہم کلام کرنے لگے۔ (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، صفحہ 119، ایضا ابن ماجہ، کتاب الجنائز حدیث نمبر 1621، ضیاء القرآن)
اور ام سلمہ بنت ابی امیہ زوج النبی ﷺ سے مسند روایت ہے (کہ انہوں نے کہا) لوگ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو کسی نمازی کی نظر اپنے قدموں سے تجاوز نہ کرتی تھی اور جب رسول اللہ ﷺ وصال فرما گئے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا (عہد) آیا تو لوگوں میں سے جب کوئی نماز کے لئے کھڑا ہوتا تو ان میں سے کسی کی نظر پیشانی رکھنے کی جگہ سے تجاوز نہ کرتی، پھر جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا وصال ہوا اور حضرت عمر ؓ (عہد) آیا لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا تو کسی کی نظر قبلہ کی سمت سے نہ پھرتی پھر جب حضرت عثمان بن عفان ؓ (کا عہد) آیا تو فتنے برپا ہوگئے اور لوگ نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے لگے۔ (2) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، صفحہ 119، ایضا ابن ماجہ، کتاب الجنائز حدیث نمبر 1623، ضیاء القرآن)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم “۔ اس میں افائن مات “۔ شرط ہے اور ” اوقتل “ اس پر معطوف ہے اور ” انقلبتم “۔ جواب شرط ہے اور حرف استفہام حرف جزا پر داخل ہے کیونکہ شرط اسی کے ساتھ منعقد ہے اور یہ ایک جملہ اور ایک خبر ہوگیا ہے اور معنی یہ ہے۔ افتنقلبون علی اعقابکم ان مات اوقتل ؟ (کیا تم الٹے پاؤں (دین اسلام سے) پھر جاؤ گے اگر آپ انتقال فرما جائیں یا آپ کو شہید کردیا جائے) اور اسی طرح (حکم ہے) ہر استفہام کا جو حرف جزا پر داخل ہو، کیونکہ وہ اپنے محل میں نہیں ہوتا، اور اس کا محل یہ ہے کہ وہ جواب شرط سے پہلے ہو، اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” انقلبتم علی اعقابکم “۔ ایک تمثیل ہے، اور اس کا معنی ہے تم اپنے ایمان کی بعد کفار کی طرف لوٹ جاؤ گے، حضرت قتادہ وغیرہ نے یہی کہا ہے، اور یہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے جو اس حالت کی طرف لوٹ آئے جس پر وہ پہلے تھا، انقلب علی عقبیبہ، اور اسی معنی میں نکص علی قبیہ “ بھی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں انقلاب (لوٹنے) سے مراد شکست کھانا ہے، اور یہ حقیقت ہے نہ کہ مجاز، اور یہ قول بھی ہے اس کا معنی ہے تم نے مرتدین کا فعل کیا ہے اگرچہ یہ ردۃ (مرتد ہونا) نہیں۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیائ “۔
ترجمہ : اور جو الٹے پاؤں پھرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔
بلکہ اپنی ذات کا نقصان کرے گا اور مخالفت کے سبب اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کرے گا، اور اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اسے کوئی طاقت نفع نہیں دے سکتی اور نہ کوئی معصیت اسے کوئی نقصان اور ضرر پہنچا سکتی ہے۔
(آیت) ” وسیجزی اللہ الشکرین “۔ (اور اللہ تعالیٰ جلدی اجر دے گا شکر کرنے والوں کو) یعنی وہ جنہوں نے صبر کیا اور جہاد کیا اور شہید کردیئے گئے، اور (آیت) ” وسیجزی اللہ الشکرین “۔ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” فلن یضر اللہ شیئا “۔ کے بعد آیا ہے اور یہ وعدہ کا وعید کے ساتھ اتصال ہے۔
Ayah 3:145قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ کتبا مؤجلا “۔ یہ جہاد پر ابھارنا ہے اور اس پر آگاہ کرنا ہے کہ موت لازم اور ضروری ہے اور ہر انسان مقتول ہو یا غیر مقتول وہ مرنے والا ہے جب وہ اپنی (موت کی) لکھی ہوئی مقررہ مدت تک پہنچ جائے، کیونکہ ” مؤجلا “۔ کا معنی الی اجل (مقررہ مدت تک) ہے اور (آیت) ” باذن اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی قضا اور اس کی تقدیر سے۔ اور کتبا مصدر کی بنا پر منصوب ہے یعنی کتب اللہ (آیت) ” کتبا مؤجلا “۔ (اللہ تعالیٰ نے موت کا مقررہ وقت لکھ دیا ہے) اور اجل الموت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ تعالیٰ سبحانہ کے علم میں ہے، کہ زندہ کی روح اس کے جسم سے جدا ہوگی، اور جب بندہ قتل کیا جاتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ وہی اس کی موت کو مقررہ وقت ہے، اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے : اگر اسے قتل نہ کیا جاتا تو وہ زندہ رہتا، اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” کتبا مؤجلا “۔ پر دلیل (آیت) ” فاذا اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “۔ (النحل)
ترجمہ : پس جب آجاتی ہے انکی (مقررہ) میعاد تو نہ وہ ایک لمحہ پیچھے ہوسکتے ہیں اور نہ آگے ہو سکتے ہیں۔
اور (آیت) ” فان اجل اللہ لات “۔ (العنکبوت : 5)
ترجمہ : تو (وہ سن لے) کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور (آیت) ” لکل اجل کتاب، (الرعد) (ہرمیعاد کے لئے ایک نوشتہ ہے)
اور معتزلی کہتا ہے : موت کا وقت متقدم اور متاخر ہوتا رہتا ہے اور یہ کہ جسے قتل کردیا جائے وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہلاک ہوجاتا ہے اور اسی طرح ہر وہ حیوان جو ذبح کردیا جائے تو وہ بھی اپنے مقرر وقت سے پہلے ہلاک ہوگیا اسی لئے قاتل پر ضمان اور دیت واجب ہوتی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان کیا ہے کہ کوئی نفس اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہلاک نہیں ہوگا، اس کا مزید بیان سورة الاعراف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، اور اس میں علم کے لکھنے اور اسے مدون کرنے پر دلیل موجود ہے اور اس کا بیان سورة ” طہ “ میں اس قول کے تحت آئے گا۔
(آیت) ” قال علمھا عند ربی فی کتب “۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن یرد ثواب الاخرۃ نؤتہ منھا “۔ (ثواب الدنیا) سے مراد غنیمت ہے، یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے غنیمت کی طلب میں مرکز کو چھوڑ دیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ہر اس کے بارے میں عام ہے جس نے آخرت کی بجائے صرف دنیا کا ارادہ کیا اور معنی یہ ہے : ہم اس میں سے اسے وہ دیں گے جو اس کے لئے حصہ مقرر کیا گیا ہے اور قرآن کریم میں ہے :
(آیت) ” من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید “۔ (الاسراء : 18)
ترجمہ ؛ جو لوگ طلبگار ہیں صرف دنیا کے ہم جلدی دے دیتے ہیں اس دنیا میں جنتا چاہتے ہیں (ان میں سے) جسے چاہتے ہیں۔
(آیت) ” ومن یرد ثواب الاخرۃ نؤتہ منھا “۔ یعنی ہم اسے اس کے عمل کی جزاعطا فرمائیں گے، اسی طرز پر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ جس کے لئے چاہے گا نیکیاں دو گناہ کر دے گا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور آپ کے وہ ساتھی ہیں جو مرکز پر ڈٹے رہے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے
(آیت) ” وسنجزی اللہ الشکرین “۔ یعنی ہم انہیں ابدی ثواب عطا فرمائی گے جو انکے لئے ترک انہزام پر جزا اور بدلہ ہوگا اور یہ سابقہ بیان کی تاکید ہے کہ آخرت میں انہیں مزید عطا کیا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے (آیت) ” وسنجزی اللہ الشکرین “۔ اور ہم انہیں دنیا میں رزق عطا کریں گے تاکہ یہ وہم نہ کیا جائے کہ شکر گزار اپنے مقسوم سے محروم کردیا جاتا ہے اس میں سے جسے کافر پالیتا ہے۔
Ayahs 3:146–147آیت نمبر 146 تا 147۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر “۔ زہری نے بیان کیا ہے : غزوہ احد کے دن شیطان نے چیخ کر کہا : قتل محمد (محمد ﷺ قتل کردیئے گئے) تو اس سے مسلمانوں کی ایک جماعت شکست خوردہ ہوگئی، حضرت کعب بن مالک ؓ نے بیان کیا : میں پہلا آدمی تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کو پہچانا، میں نے خود کے نیچے سے آپ ﷺ کی آنکھوں کو چمکتے ہوئے دیکھا، تو میں نے اپنی بلند آواز کے ساتھ پکار کر کہا : یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، تو آپ ﷺ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ تو خاموش رہ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر، فماوھنو لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا “۔ الآیہ۔ اور کاین بمعنی کم ہے، خلیل اور سیبویہ نے کہا ہے : یہ ای ہے اس پر کاف تشبیہ داخل ہوا اور اس کے ساتھ اسے بنایا گیا، پس یہ کلام میں کم کے معنی میں ہے۔
اور اسے مصحف میں نون کے ساتھ لکھا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک کلمہ ہے اسے اپنے اصل سے نقل کیا گیا ہے پس اس کے معنی کے تغیر کی وجہ سے اس کے لفظ کو بھی بدل دیا گیا ہے، پھر اس کا استعمال کثیر ہے اور عرب تو اس کے ساتھ کھیلتے رہے اور انہوں نے اس میں قلب اور حذف کا تصرف کیا ہے، اور اس میں چار لغات ہیں جن کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے، ابن کثیر نے اسے وکائن، وکاعن کی مثل فاعل کے وزن پر پڑھا ہے اور اس کی اصل کیء ہے پھر یا کو الف سے بدل دیا گیا جیسا کہ بیاس میں تبدیل کیا گیا اور کہا گیا ہے یاء س۔
وکائن بالاطالح من صدیق یرانی لو اصبت ھو المصابا :
اور ایک دوسرے شاعر نے کہا ہے :
وکائن رددنا عنکم من مدجج یجی امام الرکب یردی مقنعا :
اور ایک اور نے کہا ہے :
وکائن فی المعاشر من اناس اخوھم فوقھم وھم کرام :
مذکورہ تمام اشعار میں وکائن فاعل کے وزن پر پڑھا گیا ہے۔
اور ابن محیصن نے وکئن پڑھا ہے یعنی مہموز مقصور ہے جیسا کہ وکعن اور یہ کائن سے بنایا گیا ہے اور اس کے الف کو حذف کردیا گیا ہے، اور اس سے ” وکاین “ بھی ہے جیسا کہ وکعین اور یہ کیء مخفف کا مقلوب ہے، اور باقیوں نے ” وکاین “ کعین کی مثل تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی اصل ہے۔
شاعر نے کہا ہے :
کعاین من اناس لم یزالوا اخوھم فوقھم وھم کرام :
اور ایک دوسرے نے کہا ہے :
کاین ابدنا من عدو بعزنا وکائن اجرنا من ضعیف وخائف :
اور اسے دو لغتوں کے درمیان جمع کردیا گیا ہے : کاین وکائن، اور ایک پانچویں لغت ہے کیئن جیسا کہ کیعن، گویا یہ کیی سے مخفف ہے اور کاین کا مقلوب ہے، علامہ جوہری نے سوائے دو لغتوں کے کوئی ذکر نہیں کی : کائن مثلا کا عن، اور کاین مثل کعین، آپ کہتے ہیں کاین رجلا لقیت، اس میں رجلا تمیز کی بنا پر کاین کے بعد منصوب ہے، اور آپ یہ بھی کہتے ہیں : کاین من رجل لقیت، کاین کے بعد من داخل کرنا نصب کی نسبت اکثر اور عمدہ ہے۔ اور بکاین تبیع ھذا الثوب ؟ بمعنی بکم تبیع ہے۔ (تم یہ کپڑا کتنے میں بیچوگے)
ذوالرمہ نے کہا ہے :
وکائن ذعرنا من مھاۃ ورامح بلاد العدا لیست لہ ببلاد :
اس میں کاین بمعنی کم استعمال ہو رہا ہے۔
نحاس نے کہا ہے : ابو عمرو نے وقف کیا ہے اور وکای بغیر نون کے پڑھا ہے، کیونکہ یہ تنوین ہے اور سورة ابن مبارک نے کسائی سے اسے روایت کیا ہے، اور باقیوں نے خط مصحف کی اتباع کرتے ہوئے نون کے ساتھ وقف کیا ہے اور آیت کا معنی مومنوں کو تشجیع دلانا اور انبیاء (علیہم السلام) کے بہترین متبعین میں سے جو پہلے گزر چکے ہیں ان کی اقتداء اور پیروی کرنے کا حکم دینا ہے، یعنی کثیر انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن کے ساتھ بہت سے اللہ والوں کو شہید کیا گیا یا انبیاء (علیہم السلام) میں سے کثیر شہید کردیئے گئے اور ان کی امتیں مرتد نہیں ہوئیں، یہ دو قول ہیں : پہلا حسن اور سعید بن جبیر کا ہے، حسن نے کہا ہے : کوئی نبی کسی جنگ میں کبھی شہید نہیں کیا گیا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562) اور ابن جبیر ؓ نے کہا ہے : ہم نے نہیں سنا کہ کوئی نبی (علیہ السلام) جنگ میں شہید کردیا گیا ہو۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562 ) ۔ اور دوسرا قول حضرت قتادہ ؓ اور عکرمہ ؓ سے منقول ہے، اس قول کی بنا پر ” قتل “ پر وقف کرنا جائز ہے اور یہ قرات (قتل) نافع، ابن جبیر، ابو عمرو اور یعقوب کی ہے، اور یہی حضرت ابن عباس ؓ کی قرات ہے اور ابو حاتم نے اسے ہی اختیار کیا ہے اور اس میں دو وجہیں ہیں : ایک یہ کہ قتل صرف نبی پر واقع ہو رہا ہے، اور اس صورت میں قتل پر کلام کی تکمیل ہوجاتی ہے اور کلام میں اضمار ہوگا، یعنی ومعہ ربیون کثیر، جیسا کہ کہا جاتا ہے، قتل الامیر معہ جیش عظیم، یعنی ومعہ جیش عظیم، اور خرجت مع تجارۃ ای ومعی۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قتل نبی (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو بھی شامل ہو، اور کلام کی توجیہ یہ ہوگی کہ اس میں سے بعض شہید کردیئے گئے جو اس (نبی علیہ السلام) کے ساتھ تھے، عرب کہتے ہیں : قتلنا بنی تمیم وبنی سلیم (یعنی) ان میں سے بعض قتل کردیئے گئے، اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” فما وھنوا ان میں سے بابقی کی طرف راجع ہوگا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ قول نزول آیت کے ساتھ زیادہ مشابہت اور زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ شہید نہیں کیے گئے، بلکہ آپ کے ساتھ زیادہ مشابہت اور زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ شہید نہیں کئے گئے، بلکہ آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام کی ایک جماعت شہید کی گئی، اور کو فیوں اور ابن عامر نے ” قاتل “ پڑھا ہے۔
اور یہی حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات ہے، اور اسے ابو عبید نے اختیار کیا ہے، اور کہا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے جب ان کی مدح اور تعریف کی جنہوں نے جہاد کیا تو جو شہید کردیئے گئے وہ بھی اس میں داخل ہوگئے، اور جب مدح ان کی ہو جو شہید کردئے گئے تو پھر ان کے سوا باقی اس میں داخل نہ ہوئے، پس قاتل اعم (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562) اور زیادہ قابل مدح ہے اور ربیون “ را کے کسرہ کے ساتھ جمہور کی قرات ہے، اور حضرت علی ؓ کی قرات را کے ضمہ کے ساتھ ہے، اور ابن عباس ؓ نے را کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اس میں تین لغات ہیں، اور ” ربیون “ سے مراد بہت سی جماعتیں ہیں، یہ حضرت مجاہد قتادہ، ضحاک اور عکرمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے منقول ہے (4) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562) ان کا واحد ربی را کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ ” ربہ “ کی طرف منسوب ہے یہ را کے کسرہ کے ساتھ بھی ہے اور را کے ضمہ کے ساتھ بھی، اور اس کا معنی ہے جماعت، گروہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا ہے : ” الربیون “ سے مراد الوف کثیرہ (یعنی کئی ہزار) ہیں (5) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562) اور ابن زید نے کہا ہے : البریبیون سے مراد اتباع وپیروی کرنے والے ہیں (6) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562) پہلا معنی لغت میں زیادہ معروف ہے، اور اسی معنی میں (کپڑے کا) وہ ٹکڑا ہے جس میں جوئے کے تیر جمع کئے جاتے ہیں اسے ” ربۃ “ اور ” ربۃ “ کہا جاتا ہے، اور رباب سے مراد وہ قبائل ہیں جو جمع ہوں، اور ابان بن ثعلب نے کہا ہے : ” الربی دس ہزار ہے : اور حسن نے کہا ہے : اس سے مراد صبر کرنے والے علماء ہیں۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 562) حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ربیع اور سدی نے کہا ہے : اس سے مراد الجمع الکثیر (بہت بڑا اجتماع) ہے۔
حسان نے کہا ہے :
اذا معشر تجافوا عن الحق حملنا علیھم ربیا :۔
جب لوگ حق سے دور ہوگئے تو ہم نے ان پر جمع کثیر کو مسلط کردیا۔
اور زجاج نے کہا ہے : یہاں دو قرآتیں ہیں، ” ربیون “ را کے ضمہ کے ساتھ اور ” ربیون “ را کے کسرہ کے ساتھ، رہا ” ربیون “ تو اس کا معنی ہے جماعت کثیرہ اور کہا جاتا ہے ،: دس ہزار۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ” ربیون را کے فتحہ کے ساتھ یہ رب کی طرف منسوب ہے خلیل نے کہا ہے، الربی ‘ ان بندوں میں سے ایک جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ڈٹے رہے اور صبر کیا اور وہی ربانیوں ہیں ان کی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی معرفت، عبادت اور الوہیت کی طرف نسبت کی گئی ہے، واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ “۔ وھنوا وہ کمزور ہوگئے، اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ الوھن کا معنی ہے خوف کے سبب ہمت اور قوت کا ٹوٹ جانا، اور حسن اور ابوالسمال نے وھنوا ھا کے کسرہ اور ھا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ابو زید سے منقول ہیں، وھن المشیء یھن وھنا، اور اوھنتہ انا ووھننتہ “۔ اس کا معنی ہے میں نے اسے کمزور کردیا۔ اور الواھنۃ کا معنی ہے پسلیوں کان نیچے آنا اور ان کا چھوٹا ہونا اور الوھن من الابل سے مراد اونٹ کا بوجھل اور موٹا ہونا ہے اور الوھن سے مراد رات کی وہ ساعت بھی ہے جو گزر جاتی ہے، اور اسی طرح الموھن بھی ہے، اور اوھنا یعنی ہم اس ساعت میں ہوگئے، مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے نبی کے شہید ہونے کی وجہ سے یا ان کے قتل کی وجہ سے جو ان میں شہید کردیئے گئے ہمت نہ ہاری یعنی ان کے باقی رہنے والوں نے ہمت نہ ہاری پس اس میں مضاف محذوف ہے۔ (آیت) ” وما ضعفوا “ اور وہ اپنے دشمن کی وجہ سے کمزور نہیں ہوئے۔ (آیت) ” وما استکانوا “۔ یعنی (انہوں نے ہار نہ مانی) اس تکلیف اور مصیبت کی وجہ سے جو انہیں جہاد میں پہنچی۔ اور الاستکانۃ کا معنی ذلت اور خضوع ہے (یعنی نہ وہ جھکے اور نہ عجز کا اظہار کیا) اور اس کی اصل ” واستکنوا، افتعلوا “ کے وزن پر ہے، پھر کاف کے فتہ میں اشباع کیا گیا تو اس سے الف پیدا ہوا۔
اور جنہوں نے اسے کون سے بنایا ہے تو پھر یہ استفعلوا کے وزن پر ہے۔ (یعنی باب استفعال ہے) اور پہلا آیت کے معنی سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ اور فما وھنوا وما ضعفوا “ ھا اور عین کے سکون کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور کسائی نے ضعفو عین کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی اس کے بعد کہ ان میں سے کچھ شہید کردیئے گئے یا ان کے نبی (علیہ السلام) کو شہید کردیا گیا یہ کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ بھاگے نہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو موت پر پیش کردیا اور انہوں نے مغفرت طلب کی تاکہ ان کی موت گناہوں سے توبہ ہوجائے اگر انہیں شہادت عطا فرما دی جائے، اور انہوں نے ثابت قدم رہنے کی التجا کی یہاں تک کہ وہ شکست خرودہ نہ ہوئے اور اپنے دشمنوں کے خلاف فتح ونصرت کی دعا مانگی اور انہوں نے ثابت بالاقدام کو خاص کیا نہ کہ دیگر اعضائے بدن کو اس لئے کہ اعتماد اور انحصار انہیں پر ہوتا ہے، وہ کہتا ہے : اے اصحاب محمد ! ﷺ تم نے اس طرح کیوں کیا اور کہا ؟ پس اللہ تعالیٰ نے انکی دعا کو قبول فرمایا اور انہیں نصرت، فتح، دنیا میں مال غنیمت اور آخرت میں مغفرت عطا فرمائی جب وہ اس کی طرف چلے گئے، اور اللہ تعالیٰ اپنے مخلص توبہ کرنے والے، سچ بولنے والے اور اپنے دین کی مدد ونصرت کرنے والے بندوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرتا ہے، جو اس کے دشمنوں کے مقابلے میں اس کے سچے وعدہ اور سچے قول کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں، (آیت) ” واللہ یحب الصبرین “۔ یعنی (اللہ تعالیٰ ان سے پیار اور محبت کرتا ہے) جو جہاد میں صبر اختیار کرتے ہیں اور بعض نے (آیت) ” وما کان قولھم “۔ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس میں قول کو کان کا اسم بنایا گیا ہے، سو اس کا معنی ہوگا۔ (آیت) ” وما کان قولھم الا قولھم “۔ (اور ان کی کوئی گفتگو نہ تھی سوائے اس قول کے) (آیت) ” ربنا اغفرلنا ذنوبنا “۔ (اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش دے) اس میں مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ ” واسرافنا “۔ اور جو زیادتیاں ہم نے کی ہیں مراد کبیرہ گناہ ہیں۔ اور اسراف کا معنی ہے : الافراط فی الشیء ومجاوزۃ الحد یعنی کسی شے میں زیادتی کرنا اور حد سے تجاوز کرنا، اور صحیح مسلم میں ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے ” اللھم اغفرلی خطیئتی و جھلی واسرافی فی امری واما انت اعلم بہ منی (1) (صحیح بخاری، کتاب الدعوت باب قول النبی ﷺ اللہم اغفرلی الخ حدیث نمبر 5919، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اے اللہ ! میری خطائیں، میری جہالت (میری عدم علم) میری اپنے معاملے میں زیادتی اور ہو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے میری مغفرت اور بخشش فرما) اور آگے حدیث ذکر کی (2) (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعوات التعوذ باب فی الادعیۃ جلد 2، صفحہ 349، اسلام آباد) چناچہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اس دعا پر عمل کرے جو کتاب اللہ اور صحیح سنت میں ہے اور اس کے سوا کو چھوڑ دے اور یہ نہ کہے : میں اس طرح پسند کرتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) اور اپنے اولیاء کے لئے پسند فرمایا اور انہیں تعلیم دی کہ وہ کیسے دعا مانگیں۔
Ayah 3:148آیت نمبر : 148۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاتھم اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کردیا یا (آیت) ” ثواب الدنیا “ یعنی دشمنوں کے خلاف مدد ونصرت اور ان پر فتح و کامرانی۔ (آیت) ” وحسن ثواب الاخرۃ “۔ یعنی جنت اور جھدری نے ” فاثابھم اللہ ‘ پڑھا ہے یعنی یہ ثواب سے ماخوذ ہے۔۔۔۔ (آیت) ” المحسنین “۔ اس کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 3:149–150آیت نمبر : 149 تا 150۔
جب اللہ تعالیٰ نے انکی اقتدا کا حکم دیا جو انبیاء (علیہم السلام) کے انصارومعاونین میں پہلے گزر چکے ہیں تو کافروں کی طاعت وپیروی سے ڈرایا، کافروں سے مراد مشرکین عرب یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھی ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہود ونصاری ہیں اور حضرت علی ؓ نے فرمایا : مراد منافقین ہیں انہوں نے مومنین کو ہزیمت کے وقت یہ کہا : تم اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف لوٹ آؤ (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 563) (آیت) ” یردوکم علی اعقابکم “۔ یعنی وہ تمہیں کفر کی طرف پھیر دیں گے۔ (آیت) ” فتنقلبوا خسرین “۔ تو تم لوٹو گے اس حال میں کہ تم خسارے اور نقصان میں ہو گے، پھر فرمایا : (آیت) ” بل اللہ مولکم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار اور تمہارا محافظ ہے اگر تم اس کی اطاعت کرو گے، اور بل اللہ “ نصب کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے بل واطیعوا اللہ مولاکم۔
Ayah 3:151آیت نمبر : 151۔
اسی کی مثل ہے (آیت) ” وقذف فی قلوبھم الرعب “۔ ابن عامر اور کسائی نے ” الرعب “ عین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ اور ” الرعب “ کا معنی خوف ہے، کہا جاتا ہے : رعبتہ رعبا ورعبا، فھو مرعوب “۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ الرعب مصدر ہو اور الرعب اسم ہو۔ اور اس کی اصل الملاء سے ہے، (بھرنا) کہا جاتا ہے : سیل راعب یملا الوادی (یعنی ایسا سیلاب جو وادی کو بھر دے) اور رعبت الحوض کا معنی ہے میں نے حوض کو بھر دیا۔
اور آیت کا معنی ہوگا : ہم عنقریب مشرکین کے دلوں کو خوف اور گھبراہٹ سے بھر دیں گے اور سختیانی نے سیلقی یاء کے ساتھ پڑھا ہے، اور باقیوں نے نون عظمت کے ساتھ پڑھا ہے۔
سدی وغیرہ نے کہا ہے : جب ابوسفیان اور مشرکین احد کے دن مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر چلے وہ چلتے رہے یہاں تک کہ جب وہ کچھ راستہ طے کرچکے تو نادم اور شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے : ہم نے کہا ہے وہ کتنا برا ہے، ہم نے انہیں قتل کیا ہے یہاں تک کہ جب بکھرے ہوئے چند افراد کے سوا کوئی باقی نہیں رہا تو ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے واپس چلو اور انہیں مکمل طور پر ہلاک کردو۔
پس جب انہوں نے اس کا عزم و ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب اور خوف ڈال دیا یہاں تک کہ انہوں نے جو قصد کیا تھا اس سے رجوع کرلیا (1) (اسباب النزول، صفحہ 83) اور القاء درحقیقت اجسام میں استعمال کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” والقی الالواح “۔ (اور اس نے تختیاں پھینکیں)
(آیت) ” فالقوا حبالھم وعصیھم “۔ (الشعراء 44)
ترجمہ : تو انہوں نے پھنک دیں اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں میدان میں۔
(آیت) ” فالقی موسیٰ عصاہ “۔
ترجمہ ؛ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا۔ شاعر نے کہا ہے :
فالقت عصاھا واستقر بھا النوی :
پس اس نے اپنا عصا پھینکا اور اس کے ساتھ گھر ساکن ہوگیا۔
پھر کبھی مجازی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے، اور اس ارشاد میں :
(آیت) ” والقیت علیک محبۃ منی “۔ (طہ : 39)
ترجمہ : اور (اے موسی) میں نے پر تو ڈالا تجھ پر محبت کا اپنی جانب سے۔
اور القی علیک ممالۃ ( اور اس نے تجھ پر سوال کیا ہے۔ )
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” بما اشرکوا باللہ “۔ یہ علت بیان ہو رہی ہے یعنی ان کے دلوں میں رعب ڈالنے کا سبب ان کا شرک کرنا ہے اور یہ مامصدریہ ہے اور کہا جاتا ہے : (آیت) ” اشرک بہ “ یعنی اس نے اس کے غیر کو اس کے مساوی قرار دیا تاکہ وہ اسے شریک بنا لے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ سلطان سے مراد حجۃ اور بیان ہے، اور عذر اور برہان (دلیل) ہے، اسی وجہ سے والی کو سلطان کہا گیا ہے، کیونکہ وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی حجت ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے : یہ سلیط سے ماخوذ ہے اور اس سے مراد وہ ہے جس سے چراغ روشن کئے جاتے ہیں اور وہ تلوں کا تیل ہے۔
جیسا کہ امرؤ القیس نے کہا ہے :
امال السلیط بالذبال المفتل :
پس سلطان (دلیل) کے ساتھ حق کے اظہار اور باطل کو مٹانے میں روشنی اور نور حاصل کیا جاتا ہے اور کہا گیا ہے : ” السلیط کا معنی حدید (لوہا) ہے اور السلاطۃ کا معنی الحدۃ (غضب) ہے اور السلاطۃ تسلیط سے ہے اور اس کا معنی قہر اور غلبہ ہے اور سلطان اسی سے ہے، اس میں نون زائدہ ہے، پس سلطان کا اصل معنی قوت ہے، کیونکہ قوت کے ساتھ اسی طرح غلبہ پایا جاتا ہے جس طرح دلیل کے ساتھ غلبہ حاصل کیا جاتا ہے، اور السلیطۃ کا معنی ہے شور وشغب اور چیخ و پکار کرنے والی عورت، اور سلیط سے مراد فصیح اللسان آدمی ہے، اور اس کا معنی ہے کہ کسی دین میں بھی بتوں کی عبادت ثابت نہیں، اور اس کے جواز پر عقلی دلیل بھی کوئی نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام اور ان کے لوٹنے کی جگہ کے بارے خبر دی اور فرمایا : (آیت) ” وماوھم النار “۔ (اور ان کا ٹھکانا آتش (جہنم) ہے) پھر اس کی مذمت بیان کی اور فرمایا : (آیت) ” وبئس مثوی الظلمین “۔ اور المثوی مراد وہ جگہ جس میں انہیں رکھا جائے گا، کہا جاتا ہے : ثوی یثوی ثواء “۔ اور الماوی : اس سے مراد ہر وہ جگہ ہے جس کی طرف کوئی شے رات یا دن کے وقت لوٹ کر آتی ہے۔