3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 3:35–36

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

آیت نمبر : 35 تا 36۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذ قالت امرات عمرن “۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے : اذ، زائدہ ہے اور محمد بن یزید نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے اذکر اذ۔ اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے اصطفی آل اذ قالت امرات عمرن “۔ اللہ تعالیٰ نے آل عمران کو چن لیا جب عمران کی بیوی نے عرض کی، اور یہ حنہ بنت فاقود بن قنبل حضرت مریم (علیہا السلام) کی ماں اور حضرت عسی (علیہ السلام) کی داد تھی، یہ عربی نام نہیں ہے اور نہ ہی عربی میں کسی عورت کا نام حنہ معروف ہے۔ عربی میں ابو حنہ البدری ہے۔ اور اس میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابو حبہ ہے اور یہی اصح ہے اور اس کا نام عامر ہے۔ اور حنہ کی خانقاہ شام میں ہے اور ایک دوسری بھی ہے اسے بھی دیر حنہ ہی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ابو نواس نے کہا ہے : یا دیر حنۃ من ذات الاکیراح من یصح عنک فانی لست بالصاحی : اس میں یا دیر حنہ سے اشتہاد کیا گیا ہے۔ اور عرب میں حبہ تو کثیر ہیں، ان میں سے ایک ابو حبہ انصاری ہیں اور ابو السنابل بن بعکک جو کہ حدیث سبیعہ میں مذکور ہیں (1) (صحیح بخاری، باب فضل من شھد بدرا، حدیث نمبر 3691، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) وہ بھی حبہ ہیں اور خنہ خاء مجمہ کے ساتھ تو کوئی معروف نہیں سوائے بنت یحییٰ بن اکثم القاضی کے اور یہ محمد بن نصر کی ماں ہے اور جنہ تو کوئی معروف نہیں سوائے ابو جنہ کے اور یہ ذی الرمہ شاعر کا ماموں ہے یہ سب ابن ماکولا کی کتاب سے لیا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” رب انی نذرت لک مافی بطنی محررا “۔ نذر کا معنی پہلے گزر چکا ہے اور یہ (نذر) بندے پر لازم نہیں ہوتی مگر اس طرح کہ بندہ خود اسے اپنے اوپر لازم کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ جب حاملہ ہوئیں تو انہوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے نجات عطا فرمائی اور میں نے اسے جنا جو میرے پیٹ میں ہے تو میں اسے (سب کاموں سے) آزاد کر دوں گی، اور لک کا معنی ہے لعبادتک یعنی تیری عبادت کے لئے اور محررا حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ مفعول محذوف کی صفت ہے یعنی انی نذرت لک ما فی بطنی غلاما محررا تفسیر، سیاق کلام اور اعراب (ترکیب) کے اعتبار سے پہلا مفہوم زیادہ اولی اور بہتر ہے، کیونکہ جہاں تک ترکیب کا تعلق ہے تو نعت کو منعوت کے قائم مقام رکھنا کئی مقامات پر جائز نہیں ہوتا اور کئی دوسرے مقامات پر مجازی طور پر جائز ہوتا ہے اور رہی تفسیر تو کہا گیا ہے کہ عمران کی بیوی کے اس قول کا سبب یہ ہے کہ وہ عمر رسیدہ تھی بچے کو جنم نہ دے سکتی تھی۔ اور یہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ کے گھر میں رہ رہے تھے اور وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی تو اس نے ایک پرندے کو دیکھا وہ اپنے بچے کو چوگ دے رہا تھا تو اس وجہ سے اس کے دل میں بھی اضطراب اور حرکت پیدا ہوئی اور اس نے اپنے رب سے دعا مانگی کہ وہ اسے بچہ عطا فرمائے اور نذر مانی کہ اگر اس نے (بچہ) جنا تو وہ اسے (ہر کام سے) آزاد کر دے گی، یعنی وہ خالصۃ اللہ تعالیٰ کے لئے آزاد ہوگا، عبادت گاہ کا خادم ہوگا، اور اسی کے لئے وقف ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے فارغ ہوگا اور ایسا کرنا ان کی شریعت میں جائز تھا اور ان کی اولاد پر لازم تھا کہ وہ ان کی اطاعت وفرمانبرداری کرے، پس جب اس نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو جنم دیا تو کہا : (آیت) ” رب انی وضعتھا انثی “۔ اے رب، میں نے ایک لڑکی کو جنم دیا ہے۔ یعنی لڑکی تو کنیسہ کی خدمت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کہا گیا ہے یا اس وجہ سے کہ اسے حیض اور دیگر تکلیفیں لاحق ہوتی رہتی ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (یا اس وجہ سے) کہ وہ مردوں کے ساتھ اختلاط اور میل جول کی صلاحیت نہیں رکھتی اور وہ امید کر رہی تھی کہ وہ بچہ ہوگا پس اسی وجہ سے اس نے اسے آزاد کردیا۔ مسئلہ نمبر : (3) ابن عربی نے کہا : ” اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عمران کی بیوی کے حمل تک نذر کوئی راستہ نہیں پاسکتی کیونکہ وہ آزاد تھی۔ اور اگر اس کی بیوی کنیز ہوتی تو بھی کوئی اختلاف نہیں کہ آدمی کے لئے اپنے بچے کے بارے میں نذر ماننا صحیح نہیں ہوتا تو کیونکر اس نے اس کی حالت میں تصرف کرلیا، کیونکہ اگر نذر ماننے والا غلام ہو تو اس بارے میں اس کا کوئی قول مضبوط اور پختہ نہیں، اور اگر آزاد ہو تو یہ صحیح نہیں کہ وہ اس کا مملوک ہو۔ اور عورت بھی اسی طرح ہے تو پھر اس بارے میں نذر کی وجہ کیا ہے ؟ بلاشبہ اس کا حقیقی معنی تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ بیشک آدمی اپنے بچے کا ارادہ کرتا ہے تاکہ وہ اس سے انس حاصل کرے، اس سے مدد لے اور اس کے ساتھ اطمینان اور تسلی پائے، پس اس عورت نے بھی بچے سے انس حاصل کرنے اور سکون اور راحت پانے کے لئے بچے کی خواہش اور طلب کی تو جب اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان فرما دیا تو اس نے نذر مانی کہ وہ اس سے انس حاصل کرنے کے اپنے حصہ سے دستبردار ہوتی ہے اور وہ خالصۃ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے وقف ہوگا، اور یہ نیکوکار آزاد لوگوں کی نذر ہے۔ اور اس نے اس سے ارادہ یہ کیا ہے کہ وہ میری جانب سے آزاد ہوگا اور دنیا کی غلامی اور اس کی مشغولیت سے آزاد ہوگا، صوفیاء میں سے ایک آدمی نے اپنی ماں کو کہا : اے ماں ! تو مجھے اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑ دے میں اس کی عبادت کروں گا اور علم حاصل کروں گا تو ماں نے کہا : ہاں (میں نے تجھے چھوڑ دیا) پس ہو چلا گیا یہاں تک کہ اس نے غور فکر کیا تو پھر ماں کی طرف واپس لوٹ کر آیا اور دروازے پر دستک دی تو ماں نے پوچھا : کون ہے ؟ اس نے جواب دیا میں تیرا فلاں بیٹا ہوں، تو ماں نے کہا : ہم نے تجھے اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے اور ہم تجھے واپس نہیں لوٹائیں گے (1) (احکام القرآن للجصاص، جلد 1، صفحہ 270) مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” محررا “۔ یہ ماخوذ ہے اس حریۃ (آزادی) سے جو عبودیۃ (غلامی) کیضد ہے اسی سے تحریر الکتاب ہے اور وہ اسے اضطراب اور فساد سے خالص (خالی) کرنا ہے اور خصیف نے حضرت عکرمہ اور حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے کہ محرر وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور امور دنیا میں سے کسی شے کی اس میں آمیزش نہ ہو، اور لغت میں یہ معروف ہے کہ ہر شے جو خالص ہو اسے حر (آزاد) کہا جاتا ہے اور محرر اسی معنی میں ہے۔ جیسا کہ ذوالرمہ نے بھی کہا ہے : والقرط فی حرۃ الذفری معلقہ تباعد الحبل منہ فھو یضطرب۔ اور طین حرہ وہ مٹی جس میں ریت نہ ہو، باتت فلانۃ بلیلۃ حرۃ (یہ تب کہا جاتا ہے) جب پہلی رات خاوند عورت کے پاس نہ آئے اور اگر وہ اس پر قدرت پالے تو پھر اس کی رات لیلۃ شیباء کہلائے گی۔ مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فلما وضعتھا قالت رب انی وضعتھا انثی “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس نے یہ کہا ہے کہ کیونکہ نذر میں صرف مذکر قبول کیا جاتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو قبول فرما لیا، اور ترکیب کلام میں انثی حال ہے اور اگر چاہے تو اسے بدل بنا لے، اور کہا گیا ہے کہ اس نے ان کی تربیت اور پرورش کی یہاں تک وہ جوان ہوگئی تو اس وقت انہیں (آزاد) چھوڑ دیا، اشہب نے اسے مالک سے روایت کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے اسے ایک کپڑے میں لپیٹا اور مسجد چھوڑ آئی اور اپنی نذر کو پورا کردیا اور اس سے برات اختیار کرلی، شاید ان میں حجاب (پردہ) نہیں تھا جیسا کہ ابتدائے اسلام میں تھا اور بخاری اور مسلم میں ہے کہ رسول اللہ کے عہد میں ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد میں جھاڑو دیتی تھی اور وہ فوت ہوگئی۔ الحدیث۔ (1) (صحیح بخاری، باب کنس المسجد والتقاط الخرق والقذی والعیدان، حدیث نمبر 438، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واللہ اعلم بما وضعت “۔ یہ اس کی قرات کے مطابق ہے جس نے وضعت تا کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ من جملہ اس کا کلام ہے، کیونکہ کلام متصل ہے اور یہ ابوبکر اور ابن عامر کی قرات ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا اور اس کے لئے خضوع اور پاکی بیان کرنے کا معنی ہے۔ (اس سے کہ اس پر کوئی شے مخفی ہے) اور اس نے یہ بطریق اخبار نہیں کہا کیونکہ مومن کے طریقہ پر کہا ہے۔ اور جمہور کی قرات کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہے جو پہلے لایا گیا ہے اور اس کی تقدیر یہ ہے کہ یہ (آیت) ” وانی اعیذھا بک وذریتھا من الشیطن الرجیم “۔ سے موخر ہو، واللہ اعلم بما وضعت “۔ مہدوی نے یہی کہا ہے اور مکی نے کہا ہے : یہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے تثبیت کے طریقہ پر اطلاع ہے پس فرمایا : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اس کے بارے جو مریم کی ماں نے جنا وہ اس کے بارے کچھ کہے یا نہ کہے، اور اسے اس سے بھی قوت حاصل ہوتی ہے کہ اگر یہ حضرت مریم (علیہ السلام) کی ماں کے کلام سے ہوتا تو کلام کا انداز یہ ہوتا ؛ وانت اعلم بما وضعت ‘ (اور تو بہتر جانتا ہے اس کے بارے میں جو میں نے جنا) کیونکہ اس نے اپنے قول میں پہلا کلام اس طرح پکارا ہے : (آیت) ” رب انی وضعتھا انثی “۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بما وضعت تا کے کسرہ کے ساتھ مروی ہے، یعنی اسے یہ کہا گیا۔ مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولیس الذکر کالانثی “۔ بعض شافعیہ نے اس سے اس پر استدلال کیا ہے کہ رمضان المبارک میں دن کے وقت وطی کے سلسلہ میں عورت اپنے خاوند کی پیروی اور مطاوعت اختیار کرے تو وجوب کفارہ میں مرد عورت کے مساوی نہیں ہوگا۔ ابن عربی نے کہا ہے : اور یہ ان کی طرف سے غفلت ہے، کیونکہ یہ خبر ہم سے پہلے والوں کی شریعت میں سے ہے اور وہ اس طرح کا قول نہیں کرتے تھے، اور اس صالحہ عورت نے اپنے کلام کے ساتھ اس کا قصد کیا ہے جس کے بارے میں اس کی ظاہر حالت اور اس کے کلام کا مقطع شہادت دیتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے بچے کے لئے مسجد کی خدمت کرنے کی نذر مانی تھی پس جب اس نے اسے بچی دیکھا جو اس کی صلاحیت نہیں رکھتی تو چونکہ وہ عورت ہے تو اس نے اپنے مقصود کے خلاف پائے جانے کی وجہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں معذرت پیش کی اور ” مریم “ غیر منصرف ہے کیونکہ یہ مونث معرفہ ہے اور یہ عجمی بھی ہے نحاس نے اسی طرح کہا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وانی سمیتھا مریم “۔ ان کی لغت میں مریم کا معنی خادم الرب ہے، (آیت) ” وانی اعیذھا بک “ اس میں ھا ضمیر سے مراد مریم ہے، (آیت) ” وذریتھا “ مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کبھی ذریت کا اطلاق صرف بیٹے پر ہوتا ہے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث نمبر 3177، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے شیطان اسے کچوکا لگاتا ہے اور وہ شیطان کے کچوکا لگانے سے چیخ کر روتا ہے سوائے ابن مریم اور ان کی ماں کے۔ “ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : اگر تم یہ پڑھ لو (آیت) ” وانی اعیذھا بک وذریتھا من الشیطن الرجیم “۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : پس اس حدیث نے یہ فائدہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ کی دعا کو قبول فرما لیا ہے، کیونکہ شیطان سوائے مریم اور ان کے بیٹے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے تمام اولاد آدم کو حتی کہ انبیاء اور اولیاء کو بھی کچوکے لگاتا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا ہے : ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پہلو میں کچوکا لگاتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ماں کے، ان دونوں کے درمیان حجاب ڈال دیا گیا پس اس کا کچوکا حجاب پر لگا اور دونوں کے لئے اس سے کوئی شے پار نہ ہوئی (2) (صحیح بخاری، باب صفۃ ابلیس و جنودہ حدیث نمبر 3044، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ہمارے علماء نے کہا ہے : اگر اس طرح نہ ہو تو ان دونوں کی خصوصیت باطل ہوجاتی ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ شیطان کے کچوکا لگانے سے جسکو مس کیا گیا ہے اس کو گمراہ کرنا اور بھٹکانا اس سے لازم آتا ہے، کیونکہ یہ ظن فاسد ہے، پس کتنے انبیاء اور اولیاء ہیں کہ شیطان نے فساد اور بھٹکانے کے طرح طرح کے طریقوں سے ان سے تعرض کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے محفوظ ومامون رکھا جو شیطان کا ارادہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ (آیت) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “۔ (الحجر : 42) ترجمہ : بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ بنی آدم میں سے ہر ایک کو شیاطین میں سے اس کے ساتھی کے حوالے کیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (3) (مسند امام احمد، حدیث نمبر 2323) پس حضرت مریم اور ان کا بیٹا اگرچہ دونوں شیطان کے کچوکے سے بچا لئے گئے ہیں لیکن ان دونوں کو اس کی ملازمت اور مقارنت سے محفوظ نہیں رکھا گیا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 3:37–38

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

آیت نمبر 37 تا 38۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فتقبلھا بقبول حسن “۔ اس کا معنی ہے : اسے سعداء کے راستے پر چلایا یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور ایک قوم نے کہا ہے : تقبل کا معنی ہے تربیت میں کفیل بنانا اور اس کے معاملات کو ادا کرنا، اور حسن نے کہا ہے تقبل کا معنی ہے کہ اس کے رب نے اسے رات، دن میں سے کبھی ایک ساعت بھی اذیت اور تکلیف نہیں دی اور (آیت) ” وانبتھا نباتا حسنا “۔ سے مراد ہے اس کی خلقت کو بغیر کسی کمی وبیشی کے صحیح بنایا، پس وہ ایک دن میں اتنا بڑھتی تھی جتنا عام بچہ سال میں نشوونما پاتا ہے۔ قبول اور نبات دونوں مصدر ہیں لیکن اپنے فعل کے ہم وزن مصدر نہیں، فی الحقیقت مصدر تقبلا اور انباتا ہیں۔ شاعر نے کہا : اکفرا بعد رد الموت عنی وبعد عطائک المائۃ الرتاعا۔ شاعر کی مراد بعد اعطائک ہے، لیکن جب کہا انب تھا تو یہ نبت پر دلیل ہے (انبات بنت کو مستلزم ہے) اسی طرح امرؤ القیس نے کہا ہے : فصرنا الی الحسنی ورق کلامنا ورضت فذلت صعبۃ ای اذلال۔ بلا شبہ ذلت کا مصدر ذل ہے لیکن اس نے اسے اذللت کے معنی پر لوٹا دیا ہے اور اسی طرح ہر اس کا حال ہے جو اس باب میں آتا ہے۔ پس تقبل اور قبل کا معنی ایک ہے، پس معنی ہو فقبلھا ربھا بقبول حسن “۔ کہ اس کے رب نے اسے اچھی طرح قبول کرلیا۔ اور اسی کی مثل روبہ کا قول ہے۔ وقد تطویت انطواء الحضب۔ اس میں تقویت اور انطویت کا معنی ایک ہے۔ اور اسی کی مثل القطامی کا قول ہے : اور خیر الامر ما استقبلت منہ ولیس بان تتبعہ اتباعا۔ کیونکہ تتبعت اور اتبعت دونوں ہم معنی ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات میں ہے (آیت) ” انزلالملائکۃ تنزیلا کیونکہ نزل اور انزل کا معنی ایک ہے، اور مفضل نے کہا ہے : اس کا معنی ہے، وانبتھا فنبتت نباتا حسنا۔ (اس کے رب نے اسے پروان چڑھا یا اور وہ خوب اچھی طرح پروان چڑھی۔ ) اور معنی کی رعایت کرنا زیادہ بہتر ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، اور قبول میں اصل ضمہ ہے کیونکہ یہ مصدر ہے جیسا کہ دخول اور خروج، اور فتحہ قلیل حروف میں آیا ہے جیسا کہ ولوع اور وزدع، یہ تین ہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں ہے، ابو عمرو، کسائی اور ائمہ نے یہی کہا ہے۔ اور زجاج نے ” قبول “ کو اصل کی بنا پر قاف کے ضمہ کے ساتھ جائز قرار دیا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکفلھا زکریا “۔ یعنی مریم کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ساتھ ملا دیا (سپرد کردیا) ابو عبیدہ نے کہا ہے : وہ اس کی دیکھ بھال کے ضمن بن گئے، کو فیوں نے ” وکفلھا “ تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اور تقدیر عبارت ہے : ” وکفلھا ربھا زکریا “۔ یعنی اس کی کفالت ان کے ذمہ لازم کردی، اور اس پر انہیں مقرر کردیا اور اسے ان کے لئے آسان بنا دیا۔ اور مصحف ابی میں ہے واکفلھا متعدی میں ہمزہ تشدید کی مثل ہے، اور یہ بھی کہ اس سے پہلے فتقبلھا اور انب تھا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں خبر دی اس کے بارے میں جو اس کے ساتھ کیا، پس اسی وجہ سے کفلھا تشدید کے ساتھ ذکر کیا، اور باقیوں نے فعل کی نسبت حضرت زکریا (علیہ السلام) کی طرف کرنے کی بنا پر اسے مخفف پڑھا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اس کی کفالت اور اس کے معاملات کے والی اور نگران بن گئے، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (آیت) ” ایھم یکفل مریم “۔ (ان میں سے کون مریم کی نگرانی کرے گا ؟ ) مکی نے کہا ہے : یہی پسندیدہ ہے، کیونکہ تشدید بھی تخفیف کی طرف ہی لوٹتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے زکریا (علیہ السلام) کی نگرانی میں دیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے ضامن اور نگران بنے۔ کیونکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) جب اس کے کفیل بنے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت کے ساتھ ہی بنے، پس اس بناء پر دونوں قرایتیں باہم متداخل ہیں۔ عمرو بن موسیٰ نے عبداللہ بن کثیر اور ابی عبداللہ المزنی سے وکفلھا فا کے کسرہ کے ساتھ روایت کیا ہے اخفش نے کہا ہے : کہا جاتا ہے کف یکفل اور کفل یکفل (یعنی یہ دونوں باب ہیں) اور میں نے کفل نہیں سنا، حالانکہ یہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اور مجاہد نے فتقبلھا سوال اور طلب کی بنا پر لام کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اور ربھا کو نصب کے ساتھ اس لئے کہ اس کی نسبت (حرف) ندا کی طرف ہے اور انب تھا میں تا کو سکون کے ساتھ وکفلھا “ میں لام کو سکون کے ساتھ اور ” زکریا “ کو مد اور نصب کے ساتھ پڑھا ہے، حفص، حمزہ اور کسائی نے ” زکریا “ کو بغیر مد اور ہمزہ کے پڑھا ہے اور باقیوں نے اسے مد کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور فراء نے کہا ہے : اہل حجاز ” زکریا “ کو مد کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس میں قصر کرتے ہیں، اور اہل نجد اس سے الف کو حذف کردیتے ہیں اور اسے منصرف پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں : زکری۔ اخفش نے کہا ہے : اس میں چار لغات ہیں : مد اور قصر اور زکریہ یا کی تشدید اور منصرف اور زکر اور رایت زکریا، ابو حاتم نے کہا ہے : زکری غیر منصرف ہے کیونکہ یہ عجمہ ہے اور یہ غلط ہے، کیونکہ اس میں ” یا “ ہے اس طرح کے الفاظ منصرف ہوتے ہیں مثلا کرسی اور یحی اور زکریا اور قصر کی صورت میں منصرف نہیں کیونکہ اس میں الف تانیث، عجمہ اور تعریف ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کلما دخل علیھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقا، قال یمریم انی لک ھذا قالت ھو من عند اللہ ان اللہ یرزق من یشآء بغیر حساب، ھنالک دعا زکریا ربہ، قال رب ھب لی من لدنک ذریۃ طیبہ انک سمیع الدعآء “۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کلما دخل علیھا زکریا المحراب “۔ لغت میں محراب سے مراد مجلس میں قابل تکریم جگہ ہے اس کا مزید بیان سورة مریم میں آئے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ ”(حضرت مریم) ایک کمرہ میں رہتی تھیں اور حضرت زکریا (علیہ السلام) ان کے پاس سیڑھی سے چڑھ کر آتے تھے۔ جیسا کہ وضاح الیمن نے کہا ہے : ربۃ محراب اذا جئتھا لم القھا حتی اتقی سلما “۔ محراب (مکان) میں رہنے والی، جب بھی میں اس کے پاس آتا ہوں تو میں اس سے ملاقات نہیں کرسکتا یہاں تک کہ میں سیڑھا چڑھتا ہوں۔ اس سے مراد ” ربہ غرفۃ “۔ ہے ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : عمران کی بیوی عمر رسیدہ ہونے کے بعد حاملہ ہوئی تو اس نے نذر مانی کہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ ہر طرح سے آزاد ہے، تو عمران نے اسے کہا : تیری ہلاکت ہو ! تو نے کیا کیا ہے ؟ تیرا کیا خیال ہے اگر وہ بچی ہوئی ؟ تو اس وجہ سے دونوں ہی مغموم ہوگئے پھر عمران فوت ہوگئے اور حنہ حاملہ تھی اس نے بچی کو جنم دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے خوب اچھی طرح قبول کرلیا اور وہ صرف بچوں کو آزاد چھوڑتے تھے، تو علماء نے ان قلموں کے ساتھ اس کے بارے قرعہ اندازی کی جس کے ساتھ وہ وحی لکھتے تھے، جیسا کہ آگے آئے گا، پس زکریا (علیہ السلام) کو اس پر نگران مقرر کردیا اور انہوں نے اس کے لئے ایک جگہ بنائی اور جب وہ تھوڑی بڑی عمر کی ہوگئی تو آپ نے اس کے لئے محراب بنا دیا اور اس جگہ کی طرف آپ سیڑھی کے ساتھ اوپر چڑھتے تھے اور آپ نے اس کے لئے ایک دایہ (دودھ) پلانے والی) اجرت پر رکھی اور آپ اس پر دروازہ بند کر جاتے تھے، اور حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سوا کوئی اس کے پاس داخل نہ ہو سکتا تھا یہاں تک کہ وہ بڑی ہوگئی، پس جب وہ حائضہ ہوئی تو آپ اسے اپنے گھر کی طرف نکال کرلے گئے اور وہ اپنی خالہ کے پاس رہنے لگی اور کلبی کے قول کے مطابق اس کی خالہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی تھی، مقاتل نے کہا ہے : اس کی بہن حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زوجہ تھی، اور جب وہ حیض سے پاک ہوگئی اور اس نے غسل کرلیا تو آپ اسے محراب کی طرف لوٹا لائے اور بعض نے کہا ہے : اسے حیض نہ آتا تھا اور وہ اس سے پاک رہتی تھی، اور حضرت زکریا (علیہ السلام) جب اس کے پاس آتے تو آپ اس کے پاس موسم سرما کے پھل گرمی میں اور گرمی کے پھل موسم سرما میں پاتے تھے، تو آپ نے فرمایا : اے مریم ! تیرے پاس یہ کہاں سے آتے ہیں ؟ تو اس نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آتے ہیں تو اس وقت حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بچے کی خواہش کی اور کہا : بیشک وہ جو اس کے پاس پھل لاتا ہے وہ مجھے بچہ عطا کرنے پر بھی قادر ہے، اور انی کا معنی ہے من این کہاں سے، ابو عبیدہ نے یہی کہا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ اس میں تساہل ہے، کیونکہ این جگہ اور مکان کے بارے سوال کے لئے آتا ہے اور انی مذاہب اور جہات کے بارے سوال کے لئے آتا ہے، اور معنی یہ ہے کہ کون سے مذاہب اور کون سی جہات سے تیرے لئے یہ ہیں، کمیت نے ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے۔ اور کہا ہے : انی ومن این ابک الطرب من حیث لا صبوۃ ولا ریب اس میں انی جہات اور این مکان کے لئے ذکر کئے گئے ہیں۔ اور کلما، وجد کے سبب منصوب ہے ای کل دخلہ (ہر بار داخل ہوتے وقت) (آیت) ” ان اللہ یرزق من یشآء بغیر حساب “۔ کہا گیا ہے : یہ مریم کے قول میں سے ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو اور یہی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا اور بچے کی التجا کا سبب بنا گیا۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھنالک دعا زکریا ربہ “۔ ھنالک “ محل نصب میں واقع ہے، کیونکہ یہ ظرف ہے اور اسے زمان ومکان دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے دراصل یہ ظرف مکان ہے، مفضل بن سلمہ نے کہا ہے : ” ھنالک “ ظرف زمان کے لئے ہے اور ھناک ظرف مکان کے لئے آتا ہے اور کبھی اسے اس کی جگہ بھی رکھ دیا جاتا ہے، اور ھب لی کا معنی ہے مجھے عطا فرما ” من لدنک اپنی بارگاہ سے (آیت) ” ذریۃ طیبۃ “ صالح اور نیک نسل (بچہ) (آیت) ” ذریۃ “ واحد اور جمع اور مذکر اور مونث تمام کے لئے استعمال ہوتا ہے، اور یہاں واحد کے لئے ہے، اور اس پر قول باری تعالیٰ (آیت) ” فھب لی من لدنک ولیا “۔ دلالت کرتا ہے کیونکہ یہاں اولیاء نہیں فرمایا۔ اور (آیت) ’ طیبۃ “ کو مونث لایا گیا ہے کیونکہ (آیت) ” ذریۃ مونث ہے۔ جیسا کہ شاعر کا قول : ابوک خلیفۃ ولدتہ اخری وانت خلیفۃ ذاک الکمال “ اس میں لفظ خلیفہ کے مونث ہونے کی وجہ سے ولدتہ کو مونث لایا گیا ہے۔ اور حضرت انس ؓ سے حدیث مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ای رجل مات وترک ذریۃ طیبۃ اجرمی اللہ لہ مثل اجر عملھم ولم ینقص من اجورھم شیئا “۔ (جو کوئی آدمی فوت ہوا اور اس نے نیک اور صالح اولاد پیچھے چھوڑی تو اللہ تعالیٰ اسے ان کے اعمال کے اجر کی مثل اجر عطا فرمائے گا اور انکے اجر میں سے کوئی شی کم نہ ہوگی) سورة البقرۃ میں لفظ ذریۃ کا مادہ اشتقاق گزر چکا ہے، اور طیبۃ کا معنی ہے صالح، نیک اور بابرکت (آیت) ” انک سمیع الدعآء “۔ بلاشبہ تو ہی دعا کو قبول فرمانے والا ہے اور اسی سے سمع اللہ لمن حمدہ بھی ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) یہ آیت بچے کی طلب اور خواہش کرنے پر دلیل ہے اور یہ مرسلین اور صدیقین کی سنت ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ “۔ (الرعد : 38) ترجمہ ؛ اور بیشک ہم نے بھیجے کئی رسول آپ سے پہلے اور بنائیں ان کے لئے بیویاں اور اولاد۔ اور صحیح مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان ؓ نے تجرد اختیار کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں منع فرمایا دیا اور اگر آپ ﷺ انہیں اس کی اجازت عطا فرما دیتے تو ہم خصی ہوجاتے اور ابن ماجہ نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نکاح میری سنت ہے پس جس نے میری سنت کے مطابق عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں ہے اور تم شادی کرو کیونکہ میں تمہارے سبب دیگر امتوں پر اظہار کثرت کروں گا اور جو کوئی قدرت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے اور جو (قدرت) نہ پائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہی اس کے لئے وجاء (شہوت نکاح کو کاٹنے کا ذریعہ) ہے۔ (1) (ابن ماجہ، کتاب النکاح، حدیث نمبر 1835، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اس میں ان بعض جاہل متصوفہ کا رد ہے جنہوں نے کہا ہے : جو بچے کی خواہش اور طلب رکھتا ہے وہ احمق ہے اور اسے نہیں معلوم کہ وہ کند ذہن اور بیوقوف ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بارے خبر دیتے ہوئے فرمایا۔ (آیت) ” واجعل لی لسان صدق فی الاخرین “۔ (الشعرائ) ترجمہ : اور بنا دے میرے لئے سچی ناموری آئندہ آنے والوں میں۔ اور مزید فرمایا : (آیت) ” والذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “۔ (الفرقان : 74) ترجمہ : اور وہ جو عرض کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب مرحمت فرما ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔ اور امام بخاری نے تو اس عنوان باب باندھا ہے باب طلب الولد اور حضور ﷺ نے حضرت ابو طلحہ ؓ کو اس دن فرمایا جس وقت ان کا بیٹا فوت ہوا۔ ” کیا تم نے آج رات مباشرت کی ہے “ انہوں نے عرض کی۔ جی ہاں، تو آپ نے فرمایا : بارک اللہ لکما فی غابر لیلتکما “۔ (اللہ تعالیٰ تمہاری گزشتہ رات کے بارے میں تم دونوں کو برکت عطا فرمائے) فرمایا پس وہ حاملہ ہوگئی (2) (صحیح بخاری، کتاب العقیقہ، حدیث 5048، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور بخاری میں ہے : سفیان نے بیان کیا ہے انصار میں سے ایک آدمی نے کہا ہے : میں نے نو بچے پائے ہیں ان تمام نے قرآن کریم پڑھا ہے (3) اور یہ بھی عنوان ہے باب الدعاء بکثرۃ الولد مع البرکۃ (برکت کے ساتھ اولاد کی کثرت کی دعا کا بیان) اور حضرت انس بن مالک ؓ کی حدیث ہے کہ ام سلیم نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کا خادم انس ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہم اکثر مالہ وولدہ وبارک لہ فیما اعطیتہ (اے اللہ ! اس کے مال اور اس کی اولاد میں کثرت عطا فرما اور جو تو اسے عطا فرمائے اس میں اس کے لئے برکت عطا فرما) (1) (صحیح بخاری، باب دعوۃ النبی لخادمہ العمر بکثرۃ مالہ، حدیث نمبر 5868، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضور نبی ﷺ نے فرمایا : ” اے اللہ ! ابو سلمہ کی مغفرت فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور باقی رہنے والے لوگوں میں سے اسے اچھا خلیفہ (نائب) عطا فرما۔ “ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے اور حضور ﷺ نے فرمایا : ” تم بچے جننے والی اور محبت کرنے والی (عورت) سے شادی کرو کیونکہ میں تمہارے سبب دیگر امتوں پر اظہار کثرت کروں گا۔ (2) (ابی داؤد باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء حدیث نمبر 1754، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ اس معنی میں بہت سی روایات ہیں جو بچے کی طلب پر ابھارتی ہیں اور اس طرف متوجہ کرتی ہیں، کیونکہ انسان اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد اس کے نفع اور فوائد کا امیدوار ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اذا مات احدکم انقطع عملہ الامن ثلاث “۔ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین کے، اس میں ذکر فرمایا او ولد صالح یدعولہ یا نیک بچہ جو اس کے لئے دعا کرتا ہو۔ گر اس حدیث کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو تو اس میں یہی کافی ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) پس جب یہ ثابت ہوگیا تو انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے خالق کی بارگاہ میں اپنے بچے اور اپنی بیوی کی ہدایت کے لئے تضرع اور التجا کرتا رہے کہ وہ دونوں کو ہدایت، نیکی، پاکدامنی اور رعایت کی توفیق عطا فرمائے اور یہ کہ وہ دونوں دین اور دنیا میں اس کے معاون و مددگار ہوں یہاں تک کہ دونوں کے سبب اس کی منفعت اور فوائد دنیا اور آخرت میں عظیم ہوجائیں، کیا آپ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے قول میں غور نہیں کرتے۔ (آیت) ” واجعلہ رب رضیا “۔ (مریم) اور عرض کی (آیت) ” ذریۃ طیبۃ “۔ اور کہا (آیت) ” ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ کیلئے دعا فرمائی اور کہا : اللہم اکثر مالہ وولدہ وبارک لہ فیہ اسے بخاری (3) (صحیح بخاری، باب من زادر قوما ولم یفطر عندھم، حدیث نمبر 1846، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور مسلم نے نقل کیا ہے اور یہ تیرے لئے کافی ہے۔
Ayah 3:39

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھے والے اور (خدا کے پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

آیت نمبر : 39۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فنادتہ الملئکۃ “۔ حمزہ اور کسائی نے فنادہ مذکر ہونے کی بنا پر الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں اس میں امالہ کرتے ہیں کیونکہ یہ (الف) اصل میں یا ہے۔ اور یہ بھی کہ یہ چوتھی جگہ ہے اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی قرات الف کے ساتھ ہی ہے اور یہی ابو عبیدہ کی پسند ہے۔ اور جریر نے مغیرہ کے واسطہ سے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت عبداللہ ؓ پورے قرآن میں ملائکہ کو مذکر قرار دیتے ہیں۔ ابو عبید نے کہا ہے : ہم انہیں جانتے ہیں کہ انہوں نے اسے مشرکین کے خلاف اختیار کیا ہے کیونکہ مشرکین نے کہا : ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ نحاس نے کہا ہے : یہ ایسا استدلال ہے جس سے کوئی شے حاصل نہیں کی جاسکتی کیونکہ عرب کہتے ہیں : قالت الرجال اور قال الرجال اور اسی طرح النساء کے ساتھ بھی کرتے ہیں (یعنی مذکر ومونث دونوں طرح استعمال کرلیتے ہیں۔ ) اور ان پر قرآن کریم سے استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے، اور اگر یہ جائز ہے کہ ان کے خلاف قرآن کریم سے اس طرح حجت لائی جائے تو پھر یہ بھی جائز ہے کہ ان کے خلاف قرآن کریم سے اس طرح حجت لائی جائے تو پھر یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس قول باری تعالیٰ سے استدلال کریں : (آیت) ” واذ قالت الملئکۃ “۔ البتہ ان کے خلاف اس ارشاد میں حجت ہے : (آیت) ” اشھدوا خلقھم “۔ یعنی انہوں نے مشاہدہ نہیں کیا۔ پس وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ مونث ہیں، تحقیق یہ معلوم ہوگیا کہ یہ ظن اور محض خواہش ہے۔ اور رہا ” فناداہ “ تو یہ جمع کے مذکر ہونے کی بنا پر جائز ہے اور نادتہ جماعت کے مونث ہونے کی بنا پر جائز ہے۔ مکی نے کہا ہے : الملائکۃ ذوالعقول میں سے جمع مکسر ہے اور یہ تانیث میں قائم مقام غیر ذوی العقول کے ہے آپ کہتے ہیں : ھی الرجال وھی الجذوع وھی الجمال وقالت الاعراب، اور اسے یہ ارشاد اور تقویت دیتا ہے۔ (آیت) ” واذ قالت الملئکۃ اور دوسری جگہ مذکور ہے : (آیت) ” والملائکۃ باسطوا ایدیھم “ اور اسی طرح اجماع ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب “۔ پس اس جمع کو مذکر ومونث دونوں طرح لانا اچھا ہے اور سدی نے کہا ہے : اکیلے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے انہیں ندادی۔ (ناداہ جبرائیل وحدہ) اور اسی طرح حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات میں ہے اور قرآن کریم میں ہے : (آیت) ” ینزل الملائکۃ بالروح من امرہ “۔ مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ اور روح سے مراد وحی ہے۔ اور عربی میں یہ جائز ہے کہ واحد کے بارے میں جمع کے لفظ ساتھ خبر دی جائے اور قرآن کریم میں آیا ہے : (آیت) ” الذین قال لھم الناس “۔ الناس سے مراد نعیم بن مسعود ہے، جیسا کہ آگے آئئے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے تمام ملائکہ نے ندا دی اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ یعنی ندا ان کی جانب سے آئی۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” وھو قآئم یصلی فی المحراب ان اللہ یبشرک “۔ اس میں، (آیت) ” وھو قائم “۔ مبتدا اور خبر ہے، اور ’ یصلی “ محل رفع میں ہے اور اگر چاہے تو ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں رکھ لے، (آیت) ” ان اللہ “ اصل میں بان اللہ ہے۔ حمزہ اور کسائی نے ” ان “ پڑھا ہے یعنی قالت ان اللہ، پس ندا بمعنی قول ہے۔ (آیت) ” یبشرک تشدید کے ساتھ اہل مدینہ کی قرات ہے۔ اور حمزہ نے ” یبشرک مخفف پڑھا ہے اسی طرح حمید بن قیس مکی نے کہا ہے مگر یہ کہ انہوں نے شین کو کسرہ یا ضمہ اور با کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اخفش نے کہا ہے : یہ تینوں لغات ایک معنی میں ہیں۔ پہلی کی دلیل اور یہ ایک جماعت کی قرات ہے کہ اس مادہ سے جو بھی فعل ماضی یا امر کا صیغہ قرآن کریم میں ہے وہ تثقیل کے ساتھ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبشر عبادی، فبشرہ بمغفرۃ، فبشرنا ھا باسحاق، قالوا بشرناک بالحق “۔ اور ہی دوسری تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات ہے اور وہ بشر یبشر سے ہے اور وہ اہل تہامہ کی لغت ہے، اور اسی سے شاعر کا قول بھی ہے : بشرت عیالی اذ رایت صحیفۃ اتتک من الحجاج یتلی کتابھا۔ اس میں محل استشہاد بشرت ہے۔ اور دوسرے نے کہا : واذا رایت الباھشین الی الندی عبرا اکفھم بقاع ممحل : فاعنھم وابشرمابشروا بہ واذا ھم نزلوا بضنک فانزل :۔ اس میں محل استشہاد بما بشروا بہ ہے۔ اور جہاں تک تیسری قرات کا تعلق ہے تو وہ ابشر یبشرا بشارا سے ہے۔ شاعر نے کہا : یا امر عمرو ابشری بالبشری موت ذریع وجراد عظلی۔ اس میں محل استشہاد ابشری ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” بیحی پہلی کتاب میں ان کا نام حیا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ سارہ کا نام یسارہ تھا، اور عربی میں اس کی تفسیر لاتلد (وہ بچے نہ جنے گی) ہے، پس جب انہیں اسحاق کی بشارت دی گئی تو انہیں کہا گیا : سارہ اور انہیں یہ نام حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے دیا، تو انہوں نے کہا : اے ابراہیم (علیہ السلام) میرے نام سے ایک حرف کیوں کم کردیا گیا ہے ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہی جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا تو انہوں نے کہا : ” بلاشبہ یہ حرف ان کے اس بیٹے کے نام میں زائد کردیا گیا ہے جو افضل انبیاء میں سے ہے اس کا نام حی ہے اور اس کا نام یحی رکھ دیا گیا ہے۔ “ نقاش نے اسے ذکر کیا ہے اور حضرت نے کہا ہے : ان کا نام یحییٰ رکھا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان اور نبوت کے ساتھ پیدا فرمایا (اور زندہ رکھا) اور بعض نے کہا ہے : ان کا نام یحی رکھا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب لوگوں کو ہدایت کے ساتھ احیا عطا فرمایا اور مقاتل نے کہا ہے : ان کا اسم اللہ تعالیٰ کے اسم حی سے مشتق ہے پس یحی نام رکھ دیا گیا ہے، اور یہ قول بھی ہے : کیونکہ ان کے سبب اللہ تعالیٰ نے انکی ماں کی رحم کو زندہ کردیا۔ (آیت) ” مصدقا بکلمۃ من اللہ “۔ اکثر مفسرین کے قول کے مطابق کلمۃ من اللہ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمہ اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے، پس وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، ابو السمال العدوی نے ” بکلمۃ “ تمام قرآن میں کاف کو مکسور اور لام کو ساکن پڑھا ہے، اور یہ فصیح لغت ہے جیسا کہ کتف اور فخذ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام کلمہ اس لئے ہے کیونکہ لوگ ان سے اسی طرح ہدایت پاتے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہدایت اور راہنمائی پاتے تھے۔ اور ابو عبید نے کہا ہے : (آیت) ” بکلمۃ من اللہ “ معنی ہے بکتاب من اللہ (یعنی جو تصدیق کرنے والا ہوگا اللہ تعالیٰ کی کتاب کی) فرمایا : اور عرب کہتے ہیں انشدنی کلمۃ ای قصیدۃ اس نے میرے سامنے قصیدہ پڑھا، جیسا کہ روایت ہے کہ الحویدرہ کا حضرت حسان ؓ کے پاس ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : لعن اللہ کلمتہ یعنی قصیدتہ “۔ (اللہ تعالیٰ اس نے قصیدہ پر لعنت کرے) اور اس کے علاوہ بھی کئی اقوال کہے گئے ہیں۔ پہلا قول زیادہ مشہور ہے اور اکثر علماء اسی پر ہیں اور یحی (علیہ السلام) وہ پہلے فرد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی، اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تین سال بڑے تھے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے اور دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ پس جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کی شہادت سنی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اٹھے اور انہیں اپنے ساتھ ملا لای اور وہ ایک کپڑے میں (لپٹے) پڑے تھے اور علامہ طبری نے ذکر کیا ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) جب حضرت عسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہوئیں تو اسی وقت ان کی بہن حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے حاملہ تھی، تو وہ اپنی بہن کی ملاقات کے لئے آئی اور کہا : اے مریم ! کیا تجھے معلوم ہوا ہے کہ میں حاملہ ہوں ؟ تو حضرت مریم (علیہا السلام) نے اسے کہا : کیا تو نے محسوس کیا ہے میں حاملہ ہوں ؟ تو اس نے آپ کو کہا : جو میرے پیٹ میں ہے میں اسے پا رہی ہوں کہ وہ اسے سجدہ کر رہا ہے جو تیرے پیٹ میں ہے، اسی وجہ سے یہ روایت کیا گیا کہ انہوں نے اپنے جنین کو محسوس کیا کہ وہ اپنا سر حضرت مریم کے پیٹ کی طرف جھکا رہا ہے، سدی نے کہا ہے : پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” مصدقا بکلمۃ من اللہ “۔ اور مصدقا “ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ ” وسیدا “ اس کے معنی السید (سردار) وہ جو اپنی قوم کا سردار ہوتا ہے، اور اس کے قول پر (کسی کام کی) انتہا ہوجاتی ہے اور اس کی اصل ” سیود “ ہے کہا جاتا ہے : فلان اسود من فلان۔ یہ افعل کے وزن پر صیغہ اسم تفضیل ہے اور السیادۃ سے بنایا گیا ہے اور اسی میں اس پر دلیل موجود ہے کہ انسان کا نام سید رکھنا جائز ہے جیسا کہ یہ جائز ہوتا ہے کہ اس کا نام عزیز یا کریم رکھا جائے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث نمبر 3812، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اسی طرح حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے بنی قریضہ (٭) (تفسیر میں الفاظ یہی ہیں جبکہ اصل میں یہ ارشاد حضرت سعد بن معاذ کے حق میں انصار کو ہے) کو فرمایا : (اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو) اور بخاری ومسلم میں ہے (2) (ایضا کتاب الصلح، حدیث نمبر 2505۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت امام حسن ؓ کے بارے فرمایا : ان ابنی ھذا سید ولعل اللہ یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین “۔ (بلاشبہ میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اللہ تعالیٰ اس کے سبب مسلمانوں کے دو بہت بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا) اور پھر اسی طرح ہوا، کیونکہ جب حضرت علی ؓ شہید ہوئے تو چالیس ہزار سے زائد لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور بہت سے ان میں سے تھے جو انکے باپ سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان میں سے تھے جنہوں نے ان کی بیعت توڑ دی تھی، آپ تقریبا سات ماہ تک عراق اور اس کے بعد خراسان میں خلیفہ رہے، پھر آپ اہل حجاز اور اہل عراق کا لشکر ساتھ لے کر حضرت امیر معاویہ ؓ کی طرف چلے اور حضرت امیر معاویہ ؓ اہل شام کو لے کر آپ کی طرف چلے، پس جب دونوں لشکر ایک جگہ آمنے سامنے ہوئے وہ انبار کی اطراف میں عراق کی زمین میں سے مسکن کہلاتی ہے، تو امام حسن ؓ نے جنگ کو ناپسند کیا، کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ دونوں گروہوں میں سے کوئی ایک غالب نہیں آسکتا یہاں تک کہ دوسرے کا اکثر حصہ ہلاک ہوجائے، پس مسلمان ہلاک ہوں گے، تو آپ نے ان شرائط پر معاملہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے سپرد کردیا جو شرائط آپ نے ان پر عائد کی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ امیر معاویہ ؓ کے بعد امارت (حکمرانی) آپ کی ہوگی، پس امیر معاویہ ؓ نے ان تمام کا التزام کیا، پس حضور نبی مکرم ﷺ کا فرمان سچا ثابت ہوا ان ابنی ھذا سید بلاشبہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور اس سے بڑا سردار کوئی نہیں ہو سکتا جسے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول سردار بنائے، حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے، کہ ” وسیدا “ کا مفہوم ہے کہ وہ علم و عبادت میں سردار ہیں، ابن جبیر اور ضحاک نے کہا ہے : علم اور تقوی میں سردار ہیں۔ مجاہد (رح) نے کہا ہے : السید سے مراد کریم سخی ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : وہ جس پر غصہ غالب نہ آتا ہو۔ اور زجاج نے کہا ہے : سید وہ ہے جو اپنے ساتھیوں پر خیر اور نیکی کے کام میں فوقیت رکھتا ہو۔ اور یہ لفظ (تمام) کو جامع ہے، اور کسائی نے کہا ہے : السید کا معنی دو سال کی بھیڑ بھی ہے۔ اور حدیث میں ہے : ثنی من الضان خیر من السید المعز، بھیڑوں میں دوندی دو برس کی بھیڑ سے بہتر اور افضل ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے : سواء علیہ شاۃ عام دئت لہ لیذبحھا للضیف ام شاہ سید۔ (آیت) ” وحصورا “ یہ اصل ہے الحصر سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی ہے روکنا، قید کرنا، حصرنی الشیء واحصرنی جب کوئی شے مجھے روک لے۔ جیسا کہ ابن میادہ نے کہا ہے : وما ھجر لیلی ان تکون تباعدت علیک ولا ان احصرتک شغول : اور ناقۃ حصور : صیقۃ الاحلیل یعنی جس اونٹنی کے تھنوں (یاپیشاب) کا سوراخ تنگ ہو۔ اور حصوروہ ہوتا ہے جو عورتوں کے پاس نہ آسکتا ہو (یعنی جماع کے قابل نہ ہو) گویا کہ اسے ان سے روک دیا گیا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے : رجل وحصور وحصیر جب کہ وہ اپنی بخشش اور عطا کو روک لے اور وہ کچھ نہ نکالے جو کچھ اس کے ہم نشین نکال رہے ہیں کہا جاتا ہے : شرب القوم فحصر علیہم فلان ای بخل، (قوم نے شراب پی تو ان پر فلاں نے پابندی لگا دی، یعنی اس نے ان کے ساتھ بخل کیا۔ ) یہ ابو عمرو سے منقول ہے۔ اخطل نے کہا ہے : وشارب مربح بالک اس نادمنی لا بالحصور ولا فیھا بسوار۔ اور قرآن کریم میں ہے (آیت) ” وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا “۔ یعنی جہنم کو ہم نے کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے اور الحصیر سے مراد ملک ہے کیونکہ اسے روک لیا جاتا ہے۔ اور لبید نے کہا ہے : وقمامم غلب الرقاب کا نھم جن لدی باب الحصیر قیام : اس میں باب الحصیر سے مراد ملک ہے۔ پس حضرت یحی (علیہ السلام) حصور تھے یہ بروزن فعول بمعنی مفعول ہے یعنی آپ عورتوں کے ساتھ مباشرت نہ کرسکتے تھے، گویا کہ انہیں اس سے روک لیا گیا جو کچھ مردوں میں ہوتا ہے، یہ حضرت ابن مسعود ؓ وغیرہ سے مروی ہے، اور فعول بمعنی مفعول لغت میں کثیر الاستعمال ہے، اسی سے حلوب بمعنی محلوبۃ ہے۔ شاعر نے کہا : فیما اثنتان واربعون حلوبۃ سودا کخافیۃ الغراب الاسحم “۔ اس میں حلوبۃ سے استدلال کیا گیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، ابن جبیر ؓ ، قتادہ ؓ ، عطاء ؓ ابو الشعثاء ؓ ، حسن ؓ ، سدی ؓ ، اور ابن زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بیان کیا ہے : (حصور) اس سے مراد وہ ہے جو عورتوں سے باز رہتا ہے اور قدرت کے باوجود ان کے قریب نہیں جاتا۔ اور دو اعتبار سے یہی اصح قول ہے، ایک یہ ہے کہ یہ ان کی مدح اور تعریف ہے اور بلاشبہ تعریف اکثر فعل کسبی کے سبب ہوتی ہے نہ کہ فطری اور طبعی فعل پر اور دوسری وجہ یہ ہے کہ فعول لغت میں فاعل کے صیغوں میں سے ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے : ضروب بنصل السیف سوق سمانھا اذا عدمو ازاد افانک عاقر “۔ اس میں محل استشہاد لفظ ضروب ہے۔ پس معنی یہ ہے کہ اپنے نفس کو شہوات سے روکنے والا ہے، اور شاید یہ انکی شریعت میں تھا اور رہی ہماری شریعت تو اس میں نکاح ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حصور سے مراد وہ عنین ہے جس کا ذکر نہ ہو کہ وہ اس کے سبب وطی کرسکتا ہو اور نہ اسے انزال ہوتا ہو یہ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی، حضرت سعید ابن مسیب ؓ اور ضحاک ؓ نے کہا ہے، اور ابو صالح ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر انسان اللہ تعالیٰ سے گناہ کے ساتھ ملاقات کرے گا، درآنحالیکہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہوگا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ اس کے سبب اسے عذاب دے گا یا پھر رحم فرمائے گا سوائے یحی بن زکریا کے، کیونکہ وہ (آیت) ” وسیدا وحصورا ونبیا من الصلحین “۔ تھے، پھر حضور نبی مکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک زمین کے ایک تنکے کی طرف نیچے کیا اور اسے اٹھا لیا اور فرمایا : ” ان کا ذکر اس تنکے کی مثل تھا “۔ اور قول بھی ہے کہ اس کا معنی ہے : وہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں سے بچانے اور روکنے والا ہے۔ (آیت) ” ونبیامن الصلحین “۔ زجاج نے کہا ہے : الصالح الذی یؤدی للہ ما افترض علیہ والی الناس حقوقھم۔ (کہ صالح وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض ادا کرتا ہے اور لوگوں کو ان کے حقوق عطا کرتا ہے۔
Ayah 3:40

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

آیت نمبر : 40۔ کہا گیا ہے : یہاں رب سے مراد جبریل امین (علیہ السلام) ہیں یعنی انہوں نے حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو کہا : رب اے میرے سردار۔۔۔ کیونکر میرے ہاں لڑکا ہوگا ؟ یہ کلبی کا قول ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : رب سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ ” انی “ بمعنی کیف ہے اور یہ ظرف ہونے کی بنا پر محل رفع میں ہے اور اس استفہام کے معنی میں دو وجہیں ہیں ایک یہ ہے کہ انہوں نے سوال کیا کیا اس کے ہاں بچہ ہوگا حالانکہ وہ اور اس کی بیوی اپنے اس حال پر ہیں یا انہیں اس حال پر لوٹا دیا جائے گا جس سے بچہ ہو سکتا ہے ؟ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سوال کیا کیا انہیں اپنی اسی بانجھ بیوی سے بچہ عطا کیا جائے گا یا کسی اور سے ؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے : معنی یہ ہے کہ کون سے درجہ کے سبب اس کا حقدار سمجھا گیا ہے حالانکہ میں اور میری بیوی اس حال پر ہیں آپ نے یہ علی وجہ التواضع کہا۔ اور روایت ہے کہ آپ کی دعا اور جس وقت آپ کو اس کی بشارت دی گئی ان کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ تھا اور جس دن آپ کو بشارت دی گئی تھی اس وقت آپ کی عمر نوے برس تھی اور آپ کی اہلیہ کی عمر بھی اس کے قریب تھی، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک ؓ نے کہا : جب آپ کو خوشخبری دی گئی، اس وقت آپ کی عمر ایک سو بیس برس تھی، اور آپ کی بیوی کی عمر اٹھانوے برس تھی، پس اسی لئے یہ قول ہے وامراتی عاقر یعنی میری بیوی بانجھ ہے وہ بچہ نہیں جن سکتی کہا جاتا ہے : رجل عاقر وامراۃ عاقر جس میں بانجھ پن واضح اور ظاہر ہو۔ اور (کہا جاتا ہے) عقرت وعقر (دونوں میں قاف مضموم ہے) تعقر عقرا وہ بانجھ ہوگئی، مثلا حسنت تحسن حسنا “۔ یہ ابو زید سے منقول ہے اور عقارۃ بھی ہے اور دونوں میں اسم فاعل فعل سے فعیلۃ کے وزن پر ہے، کہا جاتا ہے : عظمت فھی عظیمۃ اور ظرفت فھی ظریفۃ اور عاقر کہا گیا ہے کیونکہ اس سے مراد نسب کی بنا پر بانجھ پن والا ہے اور اگر یہ فعل کی بنا پر ہوتا تو کہتا : عقرت فھی عقیرۃ گویا کہ وہ اس کے سبب بانجھ ہے، یعنی عمر کے اعتبار سے بڑھاپا بچہ جننے سے اس کے لئے مانع ہے، اور عاقر سے مراد ریت کی وہ کثیر مقدار ہے جو کوئی شے اگنے نہ دے اور عقر عورت کے مہر کو بھی کہتے ہیں جب شبہ کے ساتھ اس سے وطی کی جائے، اور بیضۃ العقر، اس سے مراد مرغ کا انڈا ہے، کیونکہ یہ اس کی عمر میں طویل مدت تک ایک خاص سفیدی سی لے آتا ہے، اور عقر النار بھی ہے، یعنی آگ کا وسط اور اس کا بڑا حصہ۔ اور عقر الحوص حوض کا پچھلا حصہ جہاں اونٹ کھڑے ہوتے ہیں جب وہ اس پر آئیں، کہا جاتا ہے : عقر اور عقر مثلا عسر اور عسر اور اس کی جمع الاعقار ہے اور یہ لفظ مشترک ہے، اور کذلک میں کاف محل نصب میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی مثل جو چاہتا ہے کرتا ہے اور الغلام الغلمہ سے مشتق ہے اور اس کا معنی نکاح کی طلب کا شدید ہونا ہے۔ اور اغتلم الفعل غلمۃ وہ شھوۃ ضراب سے بھڑک اٹھا۔ لیلی الاخیلیہ نے کہا ہے : شفاھا من الداء العضال الذی بھا علام اذا ھز القناۃ سقاھا : اور الغلام سے مراد ایسا نوجوان جس کی لبین نکل رہی ہوں اور وہ جس میں غلومۃ اور غلومیۃ (جوانی) واضح ہو، اور اس کی جمع الغلمۃ اور الغلمان ہے۔ اور کہا جاتا ہے : ان الغیلم الشاب والجاریۃ ایضا (یعنی جوان آدمی اور جوان لڑکی) اور الغیلم کچھوے کو بھی کہتے ہیں اور الغیلم جگہ بھی ہے، اور اغتلم البحر کا معنی ہے : سمندر نے جوش مارا اور اس کی امواج تلاتم خیز ہوئی۔