Ayah 3:41آیت نمبر : 41۔
اس میں تین، مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قال رب اجعل لی ایۃ “۔ یہاں جعل بمعنی صیر ہے کیونکہ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے، اور لی مفعول ثانی کے محل میں واقع ہے، جب انہیں بچے کی بشارت دی گئی اور ان کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں تو انہوں نے علامت کا مطالبہ کیا جس کے ساتھ وہ اس امر کی صحت اور اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کو پہچان لیں تو اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ چونکہ انہوں نے علامت اور نشانی کا مطالبہ کیا ہے لہذا ملائکہ کے ان کے آمنے سامنے ہونے کے بعد لوگوں کے ساتھ کلام کرنے سے سکوت اور خاموشی انہیں آپہنچے گی، (یعنی وہ کلام نہ کرسکیں گے)
اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے، انہوں نے کہا : اور اسی طرح اگر مرض کے سبب گونگا پن یا اس طرح کی کوئی شے نہ ہو تو اس میں ہر حال پر کچھ نہ کچھ سزا ہے۔
ابن زید نے کہا ہے : بیشک حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زوجہ جب ان کے سبب یحییٰ سے حاملہ ہوئی تو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ وہ کسی کے ساتھ کلام کرنے کی قدرت نہ رکھتے تھے، اور وہ اس کے باوجود تورات پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور جب وہ کسی اور سے گفتگو کرنے کا ارادہ کرتے تو نہ بول سکتے تھے۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الا رمزا “ لغت میں الرمز سے مراد ہونٹوں کے ساتھ اشارہ کرنا ہے اور کبھی کبھی یہ بھنوؤں، آنکھوں اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، اس کا اصل معنی حرکت ہے، اور کہا گیا ہے : آپ نے اس علامت کا مطالبہ طمانیت و راحت میں زیادتی اور اضافہ کے لئے کیا تھا، معنی یہ ہے : تو نعمت مکمل اور تمام فرما دے اس طرح کہ تو میرے لئے کوئی علامت اور نشانی بنا دے اور وہ علامت مزید نعمت اور کرامت ہوجائے گی، تو آپ کو کہا گیا : (آیت) ” ایتک الا تکلم الناس ثلثلۃ ایام “۔ یعنی تم تین رات تک کلام نہ کرسکو گے، اس قول کی دلیل اللہ تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جو ملائکہ کے آپ کو بشارت دینے کے بعد ہے۔
(آیت) ’ وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا “۔ یعنی میں نے اپنی قدرت کے ساتھ تجھے پیدا کیا ہے تو اسی طرح تیرے لئے بچہ بھی پیدا فرما دیں گے، نحاس (رح) نے اس قول کو اختیار کیا ہے اور کہا ہے، قتادہ کا قول ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ترک کلام کے ساتھ سزا دی گئی، یہ قول قابل التفات نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کوئی خبر نہیں دی کہ انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے منع فرمایا ہے، اور اس میں کلام یہ ہے کہ اس کا معنی ہے : تو میرے لئے ایسی علامت اور نشانی بنا دے جو بچہ ہونے پر دلالت کرتی ہو، جبکہ وہ مجھ سے غائب ہے اور ” رمزا “ استثنا منقطع کی بنا پر منصوب ہے، اخفش نے یہی کہا ہے اور کسائی نے کہا ہے : رمزیر مزد یرمز، اور (آیت) ” الا رمزا “ کو میم کے فتحہ اور رمزا میم اور را کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اس کی واحد رمزۃ ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ اشارہ کلام کے قائم مقام ہوتا ہے اور یہ کثیر احادیث میں موجود ہے اور اشارات کو اس امر نے موکد اور پختہ کردیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے سوداء کے بارے میں اس کے ساتھ ہی فیصلہ فرمایا جبکہ آپ نے اسے کہا این اللہ، اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اعتقھا فانھا مؤمنۃ تو اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ مومنہ ہے، تو آپ نے اشارہ کے ساتھ اس اسلام کی اجازت دے دی جو اس دین کی اصل ہے جو جان اور مال کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے ساتھ جنت کا مستحق بنا جاتا ہے اور اس کے ساتھ آتش جہنم سے نجات پائی جاتی ہے، اور اس کے ایمان کا اسی طرح فیصلہ فرمایا جس طرح اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے جو زبان سے بول کر اقرار کرتا ہے، پس ثابت ہوتا ہے کہ اشارہ تمام دین میں قابل عمل ہے اور یہی عام فقہاء کا قول ہے۔
ابن قاسم (رح) نے مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ گونگا آدمی جب طلاق کے لئے اشارہ کرے تو وہ لازم ہوجاتی ہے، اور امام شافعی (رح) نے ایسے آدمی کے بارے میں کہا ہے جو بیمار ہوتا ہے اور اس کی زبان مختل ہوجاتی ہے تو وہ رجعت اور طلاق کے مسائل میں گونگے کی طرح ہے، اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : یہ جائز ہے جبیہ اس کا اشارہ معروف ہو (یعنی اسے سمجھنے میں کوئی شبہ نہ ہو) اور اگر اس میں شک ہو تو پھر وہ باطل ہے، یہ قیاس نہیں ہے البتہ یہ استحسان ہے، ان تمام میں قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ باطل ہو کیونکہ وہ کلام نہیں کرسکتا اور اس کا اشارہ سمجھا نہیں جاسکتا۔
ابو الحسن بن بطال (رح) نے کہا ہے : اور انہوں نے امام اعظم ابو حنفیہ (رح) کو اپنے اس قول پر محمول کیا ہے کہ انہوں نے ان احادیث کا علم نہیں ہوا جو دین کے مختلف احکام کے بارے میں اشارات کے جواز کے بارے وارد ہوئی ہیں اور شاید امام بخاری نے باب الاشارۃ فی الطلاق والامور کے عنوان سے ان کا رد کا قصد کیا ہے۔ (1) (صحیح بخاری باب الاشارہ فی الطلاق والانوار، قبل الحدیث 4883، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور حضرت عطا (رح) نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد (آیت) ” الا تکلم الناس “ سے تین دن کے روزے کا قصد کیا ہے اور وہ جب روزہ رکھتے تھے تو وہ صرف اشارے کے ساتھ ہی گفتگو کرتے تھے اور یہ انتہائی بعید از حقیقت ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (4) بعض ان افراد نے کہا ہے جو سنت کے ساتھ قرآن کریم کا نسخ جائز قرار دیتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو کلام کرنے سے روک دیا گیا حالانکہ وہ اس پر قادر تھے اور یہ حضور ﷺ کے اس ارشاد سے منسوخ ہے : لاصمت یوما الی اللیل (کسی دن رات تک خاموش رہنا جائز نہیں) اور اکثر علماء کا نظریہ یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں (2) (ابی داؤد، باب ما جاء متی ینقطع الیتم، حدیث نمبر 2489، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کیونکہ زکریا (علیہ السلام) کو کسی آفت کے سبب کلام سے روک دیا گیا جو انہیں لاحق ہوئی اور اس نے انہیں کلام سے روک دیا اور وہ آفت صحت کے باوجود کلام پر قادر نہ ہونا ہے، اسی طرح مفسرین نے کہا ہے۔ اور بہت سے علماء نے یہ کہا ہے کہ حدیث طیبہ لاصمت یوما الی اللیل کا معنی یہ ہے کہ پورا دن رات تک اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خاموشی (جائز) نہیں ہے اور رہی فضول اور بےفائدہ گفتگو ! تو اس سے تو خاموشی اچھی اور بہتر ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر ربک کثیرا وبح بالعشی والابکار “۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اپنی زبان بند ہونے کے باوجود اپنے دل میں ذکر کبھی نہ چھوڑے، یہ پہلے قول کی بنا پر ہے۔ اور سورة البقرہ میں ذکر کا معنی گزر چکا ہے۔
اور محمد بن کعب قرظی نے کہا ہے : اگر کسی کو ذکر ترک کرنے کی رخصت دی جاتی تو وہ یقینا حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے سبب دی جاتی۔ (آیت) ” الا تکلم الناس ثلثۃ ایام الا رمزا واذکر ربک کثیرا “ اور اس آدمی کو دی جاتی جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ میدان جہاد میں ہوتا ہے۔ (آیت) ” اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرا اسے علامہ طبری نے بیان کیا ہے۔
(آیت) ” وسبح بمعنی صل ہے یعنی تو نماز پڑھ، اس میں صلاۃ (نماز) کو سبحۃ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اس میں ہر قسم کی برائی اور نقص سے اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہے اور العشی، عشیۃ کی جمع ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واحد ہے اور اس سے مراد سورج کے زوال پذیر ہونے کے وقت سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت ہے یہ حضرت مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے اور موطا میں قاسم بن محمد (رح) سے منقول ہے میں نے لوگوں کو نہیں پایا مگر یہ کہ وہ ظہر کی نماز عشی کے وقت ادا کرتے ہیں اور (آیت) ” الابکار سے مراد طلوع فجر سے چاشت تک کا وقت ہے۔
Ayah 3:42آیت نمبر : 42۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ اصطفک “۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اختیار کرلیا ہے (چن لیا ہے) اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت) ” وطھرک اور تجھے خوب پاک کردیا ہے کفر سے۔
حضرت مجاہد (رح) اور حسن (رح) سے یہی مروی ہے اور زجاج نے کہا ہے : اور تمہیں پاک کردیا ہے تمام الائشوں سے مثلا حیض، نفاس وغیرہما، اور تمہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینے کے لئے پسند کرلیا ہے۔ (آیت) ” علی نسآء العلمین “۔ یعنی اپنے زمانے کی تمام عورتوں پر حسن اور ابن جریج وغیرہما نے یہی بیان کیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” علی نسآء العلمین “۔ قیامت قائم ہونے کے دن تک تمام جہان والی عورتوں کو شامل ہے اور یہی صحیح ہے ہم اسے بیان کریں گے اور یہی زجاج وغیرہ کا قول ہے۔
” اصطفاء کا ذکر دوبارہ کیا گیا ہے کیونکہ پہلے کا معنی ہے کہ تمہیں چن لیا ہے اپنی عبادت کے لئے اور دوسرے کا معنی ہے کہ تمہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے لئے چن لیا ہے، امام مسلم (رح) نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (1) (صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء حدیث نمبر 3159، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ” مردوں میں سے کامل بہت سے ہیں اور عورتوں میں سے سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا کوئی کامل نہیں اور بلاشبہ عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔ “ ہمارے علماء رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : کمال سے مراد انتہاء کو پہنچنا اور مکمل ہونا ہے۔ اور اس کا فعل ماضی کمل میم کے فتحہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ ساتھ ہے۔ اور مضارع یکمل میم کے ضمہ کے ساتھ آتا ہے اور ہر شے کا کمال اس کی اپنی حیثیت کے مطابق ہوتا ہے اور کمال مطلق تو فقط اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نوع انسان میں سے کامل ترین حضرات انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہیں اور پھر ان کے بعد اولیاء مثلا صدیقین، شہداء اور صالحین، اور جب یہ ثابت ہوچکا تو پھر کہا گیا : بیشک وہ کمال جس کا ذکر حدیث طیبہ میں کیا گیا ہے اس سے مراد تو نبوت ہے تو اس پر یہ لازم آتا ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) اور آسیہ دونوں نبیہ ہوں اور اس طرح کہا گیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) نبیہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف فرشہت کے واسطہ سے وحی فرماجی ہیں جیسا کہ اس نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف وحی فرمائی ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور اس کا بیان سورة مریم میں بھی آئے گا اور رہی آسیہ تو کوئی ایسی شے بیان نہیں ہوئی جو واضح طور پر اس کی نبوت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس سے صدیقہ ہونے پر اور اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو، اس کا بیان سورة التحریم میں آئے گا،
صحیح اسناد سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اور آپ سے اسے حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے :” سارے جہان کی عورتوں سے بہتر چار عورتیں ہیں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی ہے، حضرت خدیجہ بنت خویلد اور حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ اور حضرت ابن عباس ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت بیان کی ہے : ” اہل جنت کی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ﷺ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ہیں (2) مسند امام احمد، حدیث 2668) اور آپ ہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے : ” مریم کے بعد اہل جنت کی عورتوں کی سردارحضرت فاطمہ اور حضرت خدیجہ ؓ ہیں۔
پس قرآن واحادیث کا ظاہر یہ تقاضا کرتا ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) سارے جہان کی عورتوں سے افضل ہے، حضرت مائی حواء (علیہا السلام) سے لے کر اس آخری عورت تک جس پر قیامت قائم ہوگی (سب سے افضل ہے) کیونکہ ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے تکلیف اخبار، اور بشارت کے بارے میں وحی ان تک اسی طرح پہنچائی ہے جس طرح تمام انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچائی، پس اس طرح یہ نبیہ ہیں اور نبی ولی سے افضل ہوتا ہے پس یہ تمام عورتوں سے افضل ہیں، مطلقا اولین وآخرین سب شامل ہیں، پھر ان کے بعد حضرت فاطمہ ؓ افضل ہیں، پھر ان کے بعد حضرت خدیجہ الکبری ؓ اور پھر ان کے بعد آسیہ ؓ اور اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے کریب کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے اسے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سارے جان کی عورتوں کی سردار مریم ہیں پھر فاطمہ، پھر خدیجہ اور پھر آسیہ ہے “ یہ حدیث حسن ہے اشکال کو دور کردیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کو اس کے ساتھ خاص کیا ہے جو عورتوں میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا اور وہ یہ کہ روح القدس ان سے ہمکلام ہوئے، ان کے قریب ہوئے اور عورتوں میں سے کسی کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا اور انہوں نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی۔ اور جب انہیں بشارت دی گئی تو کسی نشانی کا مطالبہ نہیں کیا جیسا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نشانی کا مطالبہ کیا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن مقدس میں صدیقہ کا نام دیا ہے اور فرمایا : (آیت) ” وامہ صدیقۃ “ اور فرمایا : (آیت) ” وصدقت بکلمات ربھا وکتبہ وکانت من القانتین “۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے صدیقہ ہونے کی شہادت دی اور ان کے لئے کلمات بشارت کی تصدیق کرنے کی شہادت دی اور ان کے عجز و انکساری اور اطاعت شعاری کی شہادت دی اور بلاشبہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بچے کی بشارت دی گئی تو انہوں نے اپنے بڑھاپے اور اپنی بیوی کے بانجھ پن کی طرف دیکھا اور کہا : کیونکر میرے لئے بچہ ہو سکتا ہے حالانکہ میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے، سو نشانی طلب کی، اور حضرت مریم کو بچے کی بشارت دی گئی تو اس نے یہ دیکھا کہ وہ باکرہ ہے اور اسے کسی بشر (انسان) نے مس نہیں کیا تو اسے کہا گیا : (آیت) ” کذالک قال ربک “۔ اسی طرح تیرے رب نے کہا ہے۔
پس انہوں نے اسی پر اقتصار کیا اور اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کردی اور کوئی ایسی علامت اور نشانی طلب نہ کی جس سے اس امر کی حقیقت کو جانا جاسکتا ہو۔ بنات آدمی میں سے سارے جہان کی عورتوں میں کسی عورت کے لئے اس قسم کے مناقب نہیں ہیں، اسی لئے یہ روایت ہے کہ وہ جنت کی طرف رسل (علیہم السلام) کے ساتھ پہلے جانے والوں میں جائیں گی، حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے :” اگر میں قسم کھاؤں کہ میری امت کے سابقین سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا سوائے دس سے کچھ زائد افراد کے ان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق، (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم بنت عمران (علیہا السلام) کے تو میں یقینا اپنی قسم میں سچا ہوں۔ “
تحقیق اس پر یہ فرض اور لازم ہوجاتا ہے جس پر ظاہری علم کھلا اور اس نے اشیاء ظاہرہ سے اشیاء باطنہ پر استدلال کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو جان لے (1) (ابن ماجہ، باب ذکر الشفاعہ، حدیث نمبر 4297، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) انا سید ولد آدم ولا فخر (میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ ) لواء الحمد یوم القیامۃ بیدی ومفاتیح الکرم وانا اول خطیب واول شفیع واول مبشر واول واول (قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا اور کرم کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور میں پہلا خطیب ہوں اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں سب سے پہلے بشارت دینے والا ہوں گا اور میں (فلاں میں) اول ہوں گا اور (فلاں میں) اول ہوں گا) (2) (جامع ترمذی، باب فی فضل النبی، حدیث نمبر 3543، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور رسل (علیہم السلام) کو دنیا میں یہ سرداری حاصل نہیں ہوئی مگر باطن میں کسی امر عظیم کے سبب (انہیں یہ مقام ملا) اور اسی طرح حضرت مریم (علیہا السلام) کی شان ہے کہ انہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے صدیقہ اور کلمات کی تصدیق کرنے کی شہادت نصیب نہیں ہوئی مگر ایسے مرتبہ کے سبب جو انتہائی قرب عطا کرنے والا ہے۔
اور جنہوں نے یہ کہا کہ وہ نبیہ نہیں انہوں نے کہا ہے : ان کا فرشتے کو دیکھنا اسی طرح اسی طرح ہے جس حضرت جبریل (علیہ السلام) کو دحیہ کلبی کی صورت میں دیکھا گیا جس وقت انہوں نے اسلام اور ایمان کے بارے سوال کئے تھے اور اس رؤیت کے باوجود صحابہ کرام انبیاء نہیں ہوئے، پہلا قول زیادہ ظاہر اور واضح ہے اور اکثر اسی موقف پر ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:43آیت نمبر : 43
مراد یہ ہے کہ اے مریم نماز میں قیام طویل کر، یہ مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے، حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے تو اطاعت و عبادت پر دوام اختیار کر قنوت کے بارے تفصیلی گفتگو پہلے گزر چکی ہے، امام اوزاعی نے کا ہے : جب ملائکہ نے انہیں یہ کہا تو وہ نماز میں کھڑی ہوئیں یہاں تک کہ ان کے قدم ورم آلود ہوگئے اور ان سے خون اور پیپ بہنے لگی، (آیت) ” واسجدی وارکعی “۔ یہاں رکوع پر سجود کو مقدم کیا گیا ہے کیونکہ واؤ ترتیب کو ثابت نہیں کرتی اور اس بارے میں اختلاف سورة البقرہ میں اس ارشاد کے تحت گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “۔ پس جب تو کہے : قام زید وعمرو “ تو یہ مراد لینا جائز ہے کہ عمر وزید سے پہلے کھڑا ہوا ہو۔ پس اس بنا پر یہ ہوگا وارکعی واسجدی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی شریعت میں سجدہ رکوع سے پہلے تھا (آیت) ” مع الرکعین “۔ کہا گیا ہے اس کا معنی ہے افعلی کفعلھم تو ان کی طرح کا فعل کر اگرچہ تو ان کے ساتھ نماز نہ پڑھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نماز باجماعت ہے، یہ بھی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 3:44آیت نمبر :44
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ذالک من انبآء الغیب “۔ یعنی یہ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہم السلام) کے واقعات ہم نے ذکر کئے ہیں یہ اخبار غیب میں سے ہیں، (آیت) ” نوحیہ الیک “۔ اس میں حضور نبی رحمت محمد مصفطی (علیہ السلام) کی نبوت پر دلیل ہے اس حیثیت سے کہ آپ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کے واقعیہ کی خبر دی حالانکہ آپ ﷺ نے کتابوں میں نہیں پڑھا تھا : آپ ﷺ نے اسے بیان فرمایا اور اہل کتاب نے اس بارے آپ کی تصدیق کی، پس اسی لئے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” نوحیہ الیک “۔ میں ضمیر کو ذالک کی طرف لوٹایا گیا ہے اور اسی کی یاد دلائی گئی ہے اور الایحاء یہاں نبی کریم ﷺ کی طرف کچھ بھیجنے کے معنی میں ہے، اور وحی الہام، اشارہ اور کئی دوسرے طریقوں سے ہوتی ہے، اور لغت میں اس کی اصل خفیۃ کسی شے سے آگاہ کرنا ہے، اسی وجہ سے الہام کو بھی وحی کا نام دیا جاتا ہے اور اسی سے ہے (آیت) ” واذ اوحیت الی حواریین “ اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” واوحی رب الی النحل “۔ اور کہا گیا ہے (آیت) ” اوحیت الی الحواریین “۔ کا معنی ہے ” میں نے انہیں حکم دیا کہا جاتا ہے : وحی اور اوحی، رہی اور آرمی یہ ہم معنی ہیں، عجاج نے کہا ہے : اوحی لھا القرار فاستقرت یعنی اس نے زمین کو قرار پکڑنے کا حکم دیا پس وہ قرار پذیر ہوگئی،
اور حدیث میں ہے : الوحی الوحی مراد انتہائی سرعت اور تیزی ہے اور اس سے فعل توحیت توحیا ہے، ابن فارس نے کہا ہے : الوحی کا معنی اشارہ، کتابت اور رسالۃ (بھیجنا) ہے۔ اور ہر وہ شے جسے تو کسی غیر کی طرف القاء کرے یہاں تک کہ وہ اسے جان لے وہی وحی ہے وہ جیسے بھی ہو، اور الوحی کا معنی السریع ہے اور الوحی کا معنی الصوت آواز ہے، اور کہا جاتا ہے : استوحیناھم “ یعنی ہم نے ان کی مدد طلب کی۔
کسی نے کہا :
اوحیت میمونا لھاوالرزراق :
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کنت لدیھم “۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ ان کے پاس موجود نہ تھے، (آیت) ” اذ یلقون اقلامھم “۔ اقلام قلم کی جمع ہے، یہ قلمہ سے ہے اس کا معنی ہے : فلاں نے اسے کاٹ دیا کہا گیا ہے : قداحم وسھامھم یعنی مراد ان کے تیر ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے : انکی وہ قلمیں مراد ہیں جن سے وہ تورات لکھتے تھے اور یہی عمدہ معنی ہے، کیونکہ ازلام (جوئے کے تیر) سے تو اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے (آیت) ” ذالکم فسق “۔
مگر وہ ان کی اجازت دیتا ہے اس طور پر کہ وہ انہیں اس طرز پر استعمال نہ کریں جس طرح دور جاہلیت میں کرتے تھے، (آیت) ” ایھم یکفل مریم “۔ یعنی کون مریم کی پرورش اور تربیت کرے گا ؟ تو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ اس کی خالہ میرے گھر ہے اور ان کا نکاح میں اشیع بنت فاقودتھی جو کہ مریم کی ماں حنہ بنت فاقود کی بہن تھی، بنی اسرائیل نے کہا : ہم اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے عالم کی بیٹی ہے، پس انہوں نے اس پر قرعہ اندازی کی اور ہر ایک اپنی قلم لے کر آیا اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا کہ وہ قلم جاری پانی میں ڈالیں گے پس جس کا قلم ٹھہر گیا اور پانی اسے بہا کر نہ لے گیا تو وہ اس کی پرورش اور تربیت کرے گا، حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : پس قلم بہہ گئے اور حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قلم اوپر بلند ہوگیا۔ “ اور یہ آپ کی نشانی اور معجزہ تھا، کیونکہ آپ نبی تھے اور معجزات اور علامات آپ کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے تھے، اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں۔
اور (آیت) ” ایھم یکفل مریم “۔ یہ مبتدا اور خبر اس فعل مضمر کے سبب محل نصب میں واقع ہیں جس پر کلام دلالت کرتی ہے، تقدیر کلام ہے : ینظرون ایم یکفل مریم اور فعل لفظ ای میں کوئی عمل نہیں کرتا کیونکہ وہ برائے استفہام ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) ہمارے بعض علماء نے اس آیت سے قرعہ اندازی کے اثبات پر استدلال کیا ہے اور ہماری شریعت میں یہی اصل اور بنیاد ہے ہر اس کے لئے جو تقسیم میں عدل و انصاف کرنا چاہے اور جمہور فقہاء کے نزدیک دو مساوی حجتوں میں یہی سنت ہے تاکہ انکے درمیان عدل ہوسکے اور ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور اس آدمی کے بارے میں وہم و گمان اٹھ جائے جو ان کی تقسیم کا والی بنتا ہے، اور ان میں سے کسی کو اس کے ساتھی پر فضیلت نہ دی جائے گی جبکہ مقسوم ایک جنس سے ہو یہی کتاب وسنت کی اتباع ہے، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحاب نے قرعہ اندازی پر عمل کرنے کو رد کردیا ہے اور انہوں نے اس بارے میں وارد ہونے والی احادیث کو بھی رد کیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ ان کا کوئی معنی اور حقیقت نہیں اور انہوں نے اس بارے میں وارد ہونے والی احادیث کو بھی رد کیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ انکا کوئی معنی اور حقیقت نہیں اور یہ جوئے کا ے ان تیروں کے مشابہ ہے جن سے اللہ تعالیٰ منع فرمایا ہے، اور ابن منذر نے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے بیان کیا ہے کہ آپ نے اسے (قرعہ اندازی کو) جائز قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے : قیاس کے مطابق قرعہ صحیح نہیں ہوتا لیکن ہم نے اس مسئلہ میں قیاس کو چھوڑ دیا ہے، اور ہم نے آثار اور سنت کو پکڑ لیا ہے۔
ابو عبید نے کہا ہے : قرعہ اندازی کے مطابق تین انبیاء نے عمل کیا ہے : مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ، حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، ابن منذر نے کہا ہے : جو شے شرکاء کے مابین تقسیم کی جاتی ہے اس میں قرعہ اندازی پر عمل کرنا ایسا ہے گویا اس پر اہل علم کا اجماع ہے اور جس نے اس کا رد کیا ہے اس کے قول کا کوئی معنی اور حقیقت نہیں، امام بخاری نے کتاب الشہادات کے آخر میں یہ عنوان ذکر کیا ہے باب القرعۃ فی المشکلات وقول اللہ عزوجل، (آیت) ” اذ یلقون اقلامھم “۔ اور حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث بیان کی ہے :” حدود اللہ پر قائم رہنے والے اور ان میں واقع ہونے والے کی مثال اس قوم کی مثل ہے جنہوں نے کشتی پر قرعہ اندازی کی (1) (صحیح بخاری، باب القرعۃ فی المشکلات، حدیث 2489، ضیا القرآن پبلی کیشنز) الحدیث ‘ عنقریب اس کا بیان سورة الانفال اور سورة الزخرف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، اور ام العلاء کی حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کا حصہ رہائش میں ان کے لئے تقسیم ہوگیا جب انصار نے مہاجرین کی رہائش کے لئے قرعہ اندازی کی (2) (ایضا حدیث 2490، ضیا القرآن پبلی کیشنز) ” الحدیث، اور الم المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث کی انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ فرماتے تھے اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے اور جس کسی کے نام پر قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے، آگے حدیث ذکر کی۔ (1) (صحیح بخاری، باب القرعۃ فی المشکلات حدیث 2491، ضیا القرآن پبلی کیشنز) اس بارے میں احادیث کثیر ہیں، قرعہ اندازی کی کیفیت اور اختلاف کتب فقہ میں مذکور ہے، امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہنے ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ازواج النبی ﷺ کی شان میں قرعہ اندازی ان میں سے ہے کہ اگر تم اس پر بغیر قرعہ اندازی کے راضی ہوجاؤ تو وہ جائز ہے، ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ” یہ ضعیف ہے، کیونکہ قرعہ اندازی کا فائدہ ہی یہ ہے کہ باہم اختلاف اور جھگڑے کی صورت میں کسی مخفی حکم کو نکالنا اور ظاہر کرنا اور رہا وہ حکم جو اس میں رضا مندی کے ساتھ نکالا جاتا ہے وہ ایک دوسراباب ہے اور کسی کے لئے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ قرعہ باہم رضا مندی کے محل میں ڈالا جاتا ہے کیونکہ یہ کبھی بھی باہم رضا مندی کے ساتھ نہیں ہوتا ، “ یہ ہوتا ہی ان چیزون میں ہے جن میں لوگوں کے مابین اختلاف اور جھگڑا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بخل کیا جاتا ہے۔
امام شافعی (رح) اور جنہوں نے اس کے بارے کہا ہے ان کے نزدیک قرعہ اندازی کا طریقہ یہ ہے کہ کاغذ کے مساوی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ لئے جائیں اور ہر ٹکڑے پر حصہ دار کا نام لکھ دیا جائے پھر انہیں مٹی کی ایسی گولیوں میں رکھ دیا جائے جو مساوی ہوں ان میں کوئی تفاوت نہ ہو۔ پھر وہ تھوڑی تھوڑی خشک کرلی جائیں پھر وہ کسی آدمی کے کپڑے میں ڈال دی جائیں جو وہاں حاضر نہ ہو، اور انہیں کپڑے سے ڈھانپ دیا جائے پھر وہ اپنا ہاتھ اس میں داخل کرے اور ایک نکال لے اور جس آدمی کا نام لے اسے وہ جزا اور حصہ دے دے جس پر قرعہ اندازی کی گئی۔
مسئلہ نمبر : (4) یہ آیت اس پر بھی دال ہے کہ سوائے دادی کے تمام قرابتداروں کی نسبت خالہ کے لئے حق پرورش زیادہ ہے، اور تحقیق حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا حضرت امیر حمزہ ؓ کی بیٹی کا فیصلہ حضرت جعفر ؓ کے لئے فرمایا تھا اور ان کے نکاح میں انکی خالہ تھی، اور فرمایا ” بلاشبہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے (3) (ایضا کتاب الصلح، حدیث نمبر 2501، ایضا) یہ مسئلہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے،
ابو داؤد نے حضرت علی ؓ سے حدیث نقل کی ہے۔ (4) (ابی داؤدباب من احق بالولد حدیث نمبر 1940، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) انہوں نے بیان فرمایا : حضرت زید بن حارثہ ؓ مکہ مکرمہ گئے اور حضرت امیر حمزہ ؓ کی بیٹی کو لے آئے تو حضرت جعفر ؓ نے کہا : اسے میں لوں گا، میں اپنے چچا کی بیٹی کا زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ اس کی خالہ میرے پاس ہے اور بلاشبہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے، اور حضرت علی ؓ نے کہا : میں اپنے چچا کی بیٹی کا زیادہ حق رکھتا ہوں کیونکہ میرے عقد میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ہے اور وہ اس کی زیادہ حقدار ہے، اور حضرت زید ؓ نے کہا ؛ میں اس کا زیادہ حق رکھتا ہوں، کیونکہ میں اس کی طرف گیا، میں نے سفر کیا اور اسے ساتھ لے کر آیا، پس حضور نبی مکرم ﷺ تشریف لائے اور حدیث ذکر کی فرمایا : ” جہاں تک بچی کا ذکر ہے تو میں حضرت جعفر کے حق میں اس کا فیصلہ کرتا ہوں یہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی بلاشبہ خالہ ماں ہوتی ہے ، “ ابن ابی خیثمہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ ؓ حضرت امیر حمزہ ؓ کے وصی تھے، پس اس بنا پر خالہ وصی کی نسبت بھی زیادہ حق رکھتی ہے، اور چچا کا بیٹا جب خاوند ہو تو وہ خالہ کے حق حضانت کو ختم نہیں کرتا اگرچہ وہ اس کا محرم نہ ہو۔
Ayahs 3:45–46آیت نمبر : 45 تا 46
یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی نبوت کی دلیل ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور (آیت) ” اذ یختصمون “ کے متعلق ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ (آیت) ’ وما کنت لدیھم “۔ کے متعلق ہو (آیت) ” بکلمۃ منہ “ ابو السمان نے اسے بکلمۃ منہ پڑھا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ (آیت) ” اسمہ المسیح “۔ اس میں اسمھا نہیں فرمایا کیونکہ کلمۃ بمعنی ولد ہے، اور المسیح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا لقب ہے، اور اس کا معنی صدیق ہے، حضرت ابراہیم نخعی نے یہی کہا ہے اور یہ معرب الفاط میں سے ہے اور اس میں اصل شین ہے اور وہ مشترک ہے۔
ابن فارس نے کہا ہے : مسیح کا معنی پسینہ ہے اور المسیح کا معنی الصدیق ہے اور مسیح کا معنی ایسا درہم بھی ہے جس پر نقش مٹا ہوا ہو، اور المسح کا معنی جماع ہے، کہا جاتا ہے مسحھا اور الامسح سے مراد نرم وملائم جگہ بھی ہے۔ اور المسحاء وہ عورت جس کے کو لہو اور ران کمزور ہوں، ویفلان مسحۃ من جمال) (فلاں کے پاس انتہائی مضبوط عمدہ اونٹ ہے) اور المسائح انتہائی مضبوط عمدہ اونٹ اس کی واحد مسیحۃ ہے۔
جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :
لھا مسائح زور فی مراکضھا لئن ولیس بھا وھن والارفق :
اس میں لفظ مسائح اسی معنی میں ذکر کیا گیا ہے۔
اور مسیح ابن مریم کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کون سے مادہ سے لیا گیا ہے ؟ پس کہا گیا ہے : کیونکہ آپ نے زمین میں خوب سیاحت کی اور آپ نے حفاظت کے لئے کوئی گھر نہیں بنایا۔
اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ جب کسی کوڑھ زدہ کو پھونک مارتے تھے تو وہ صحت یاب ہوجاتا تھا تو اسی وجہ سے آپ کا نام مسیح پڑگیا، اس بنا پر یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : کیونکہ آپ کو برکت کا تیل لگایا گیا تھا، انبیاء (علیہم السلام) کو جو تیل لگایا جاتا ہے وہ انتہائی خوشبودار ہوتا ہے، پس جب وہ لگایا جاتا ہے تو اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ نبی ہے، اور یہ قول بھی ہے چونک ان کے دونوں (پاؤں کے) تلوؤں کو مس کیا گیا تھا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے، ” کیونکہ حسن و جمال نے ان کا احاطہ کیا ہوا تھا اور وہ ان پر ظاہر اور عیاں تھا اور یہ قول بھی ہے کہ ان کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کیونکہ انہوں گناہوں سے پاک کردیا گیا تھا، اور ابو الہیثم نے کہا ہے : مسیح، مسیخ کی ضد ہے، کہا جاتا ہے، مسحہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے انتہائی حسین اور مبارک پیدا فرمایا اور مسخہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے انتہائی ملعون اور قبیح پیدا کیا۔ اور ابن اعرابی (رح) نے کہا ہے : المسیح الصدیق “ یعنی مسیح کا معنی صدیق ہے اور مسیخ کا معنی اعور (کانا) ہے اور دجال کو یہی نام دیا گیا ہے، اور ابو عبید نے کہا ہے : مسیح دراصل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اصل میں مشیح یعن شین کے ساتھ ہے اور پھر اسے عربی کی طرف منتقل کیا گیا ہے جیسا کی مشوی کو عربی میں موسیٰ بنا دیا گیا ہے اور رہا دجال تو اس کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ اس کی ایک آنکھ مسخ کردی گئی ہے اور دجال کے لئے مسیح میم کے کسرہ اور سین کی شد کے ساتھ کہا گیا ہے اور بعض اسی طرح خا نقطے والی کے ساتھ کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں مسیخ یعنی میم مفتوح ہے خانقطے والی ہے اور سین مخفف ہے، پہلا زیادہ مشہور ہے اور اکثر کا قول اسی کے مطابق ہے، اور اس کا وہ نام اس لئے ہے کیونکہ وہ زمین میں گھومتا پھرتا رہے گا اور سوائے مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور بیت المقدس کے تمام شہروں میں داخل ہوگا اور یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، پس دجال زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے چکر لگائے گا، گھومے گا اور ابن مریم (علیہ السلام) بخشش وعطا کے لئے سیاحت کریں گے، اور اس بناپر کہ اس کی ایک آنکھ بند کردی گئی ہے فعیل بمعنی مفعول ہوگا۔
اور شاعر نے کہا :
ان المسیح یقتل المسیخا۔
بے شک مسیح (علیہ السلام) مسیخ (دجال) کو قتل کردیں گے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا کوئی شہر نہیں ہے مگر دجال اس میں داخ ہوگا۔ (1) (صحیح بخاری، باب لا یدخل الدجال المدینہ حدیث نمبر 1748، ضیا القرآن پبلی کیشنز) الحدیث۔ اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث میں ہے ” سوائے کعبہ اور بیت المقدس کے ‘’ اسے ابو جعفر طبری نے ذکر کیا ہے اور ابو جعفر طحاوی نے ” مسجد طور “ کا اضافہ ذکر کیا ہے اور اسے انہوں نے جنادہ بن ابی امیہ عن بعض اصحاب النبی ﷺ عن النبی ﷺ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کی ہے ” کہ وہ ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے حرم پاک اور بیت المقدس کے اور وہ مومنین کو بیت المقدس میں محصور کر دے گا۔ “ اور آگے پوری حدیث ذکر کی، اور صحیح مسلم میں ہے : ” پس ہمارے درمیان وہ اسی طرح ہوگا کہ اچانک اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو مبعوث فرمائے گا وہ دمشق کے مشرق سے سفید منارہ کے پاس نزول فرمائیں گے اس حال میں کہ وہ ورس اور زعفران سے رنگا ہوا لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے ہوں گے جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے قطرے گریں گے اور جب اسے اٹھائیں گے تو اس سے چاندی کے جبے گریں گے جو اپنی ہئیت وشکل میں موتیوں کی مثل ہوں گے پس کسی کافر کے لئے حلال نہ ہوگا کہ وہ آپ کی سانس کی ہوا کو پائے مگر وہ مر جائے گا اور آپ کی سانس کی انتہا وہاں تک ہوگی جہاں تک آپ کی نظر پہنچے گی پس آپ اسے تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لد (لد فسطین میں بیت المقدس کے قریب ایک گاؤں ہے) کے پاس پالیں گے اور اسے قتل کردیں گے، الحدیث، یہ ایک طویل حدیث ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسیح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام ہے کسی سے مشتق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کا یہ نام رکھا ہے اس بنا پر عیسیٰ المسیح سے بدل کل ہوگا۔ اور عیسیٰ عجمی اسم ہے اسی وجہ سے وہ غیر منصرف ہے، اور اگر آپ اسے عربی قرار دیں تو پھر اس کے غیر منصرف ہونے کے لئے معرفہ یا نکرہ ہونے کوئی سوال نہیں کیونکہ اس میں الف تانیث موجود ہے (اور یہ قائم مقام دو سببوں کے ہے) اور یہ مشتق ہوگا عاسہ یعوسہ سے یعنی جب کوئی کسی کے لئے تدبیر اور انتظام کرے اور اس پر ڈٹ جائے اور قائم رہے۔
(آیت) وجیھا کا معنی ہے شریف، صاحب قدرومنزلت اور یہ لفظ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اخفش نے یہی کہا ہے۔ (آیت) ” ومن المقربین “ اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقربین میں سے ہوگا، یہ (آیت) ” وجیھا پر معطوف ہے یعنی بمعنی مقربا اخفش نے یہی کہا ہے، اور وجیہ کی جمع وجھاء اور وجہ اء ہے (آیت) ” ویکلم الناس “ اس کا عطف بھی وجیھا پر کیا گیا ہے، اخفش نے بھی یہی کہا ہے، اور المھد سے مراد بچے کی شیر خوراگی کے قیام کا بچھونا ہے، اور مھدت الامر کہا جاتا ہے جب تو اسے تیار کرے اور پھر اسے رونددے، اور قرآن کریم میں ہے : (آیت) ” فلا نفسھم یمھدون “۔ (الروم) (تو وہ اپنے لئے ہی راہ ہموار کر رہے ہیں) اور امتھد الشیء کا معنی ہے کسی شے کا اس طرح بلند ہوتا جس طرح اونٹ کی کوہان بلند ہوتی ہے۔ وکھلا، الکھل سے مراد عمر کا وہ حصہ ہے جو بچپن اور شیخوخۃ کے درمیان ہوتا ہے (یعنی پکی عمر) اور امراۃ کھلۃ پکی عمر کی عورت اور اکتھلت الروضہ جب باغ میں کلیاں عام ہوجائیں کہتے ہیں کہ آپ گہوارے میں لوگوں سے بطور معجزہ اور علامت کے گفتگو کرتے تھے اور پکی عمر میں وحی اور رسالت کے سبب گفتگو کرتے تھے۔
ابو العباس نے کہا ہے : آپ نے گہوارے میں لوگوں سے اس وقت گفتگو کی جب آپ نے اپنی ماں کی برات کا اظہار فرمایا اور کہا (آیت) ” انی عبداللہ “۔ الآیہ اور رہی حالت کہولت کی گفتگو ! تو جب اللہ تعالیٰ آپ کو آسمان سے نازل فرمائے گا تو اس وقت آپ کو تنتیس برس کی عمر والی حالت پر نازل فرمائے گا اور یہی کھل کی حالت ہے تو آپ انہیں فرمائیں گے : (آیت) ” انی عبد اللہ “۔ جیسا کہ آپ نے گہوارے میں کہا تھا، پس یہ دونوں معجزے اور دلائل ہیں۔
مہدوی نے کہا ہے : آیت کا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ فرما دیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) گہوارے میں ان سے گفتگو کریں گے اور کہولت کی حالت میں ان سے گفتگو کرنے تک وہ زندہ رہیں گے، جبکہ عادت یہ ہے کہ جس کسی نے گہوارے میں گفتگو کی وہ زندہ نہیں رہا،
زجاج نے کہا ہے : ” وکھلا “ بمعنی ویکلم الناس کھلا “ ہے، اور فراء اور اخفش نے کہا ہے : یہ وجیھا پر معطوف ہے اور کہا گیا ہیی اس کا معنی ہے اور وہ لوگوں سے صغر سنی اور کہولت کی عمر میں گفتگو کریں گے، ابن جریج نے حضرت مجاہد ؓ سے روایت کیا ہے کہ الکھل کا معنی حلیم اور بردبار ہے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الاحادیث الانبیاء قبل الحدیث 3179، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
نحاس نے کہا ہے : لغت میں یہ معنی معروف نہیں، اہل لغت کے نزدیک الکھل سے مراد چالیس سال کے قریب کی عمر ہوتی ہے، اور بعض نے کہا ہے : سولہ برس تک کی عمر کو حدث (لڑکپن) کہا جاتا ہے پھر بتیس سال تک جوانی ہوتی ہے اور پھر تینتیسویں سال میں کہولت شروع ہوجاتی ہے، اخفش نے یہی کہا ہے (آیت) ” ومن الصلحین “۔ اس کا عطف وجیھا پر کیا گیا ہے یعنی (آیت) ” وھو من العباد الصالحین “۔ (اور وہ نیکو کار بندوں میں سے ہوگا) ابوبکر بن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اور انہوں نے ہلال بن یساف سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : گہورارے میں تین کے سوا کسی نے گفتگو نہیں کی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، صاحب یوسف، اور صاحب جریج، اسی طرح کہا اوصاحب یوسف۔
اور یہی صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” گہوارے میں سوائے تین کے کسی نے کلام نہیں کی حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) اور صاحب جریج اور صاحب الجبار اور یہ اس دوران ہوا جب بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے۔ “ اور انہوں نے طویل حدیث بیان کی اور حضرت صہیب کی حدیث میں اصحاب اخدود کے واقعہ میں یہ بھی آیا ہے ’‘’ کہ ایک عورت کو لایا گیا تاکہ اسے ایمان لانے کی وجہ سے آگ میں ڈال دیا جائے اور اس کے ساتھ ایک (شیر خوار) بچہ بھی تھا۔ ‘ اور مسلم کے علاوہ میں ہے ” وہ شیرخوار تھا تو عورت آگ میں کودنے سے ذرا خوفزدہ ہوئی تو اس بچے نے کہا یا امہ اصبری فانک علی الحق “۔ اے میری ماں تو صبر کر (یعنی آگ میں ڈالے جانے سے خوفزدہ نہ ہو) کیونکہ تو ہی حق پر ہے۔
اور ضحاک نے کہا ہے : گہوارے میں چھ نے کلام کی ہے۔ شاہد یوسف، فرعون کی بیوی کی ماشطہ کا بچہ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یحییٰ ، صاحب جریج، اور صاحب جبار اور انہوں نے اخدود کا ذکر نہیں کیا، اور انہوں نے صاحب الاخدود کو ساقط کردیا ہے اور اس سمیت کلام کرنے والے سات ہوجائیں گے، اس کے اور حضور نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے درمیان کوئی معارضت نہیں ہے ” کہ گہوارے میں تین کے سوا کسی نے کلام نہیں کی “ آپ نے کلام حصر کے ساتھ فرمایا۔ کیونکہ آپ نے ان کے بارے خبر دی جن کا علم آپ کو اس وقت بذریعہ وحی عطا فرمایا گیا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جس کے بارے چاہا آپ کو آگاہ فرمایا اور آپ نے اس کے بارے خبر دی۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : رہا صاحب یوسف تو اس کے بارے کلام آگے آئے گا، اور صاحب جریج، صاحب الجبار اور صاحب الاخدود کا ذکر صحیح مسلم میں ہے، اور عنقریب اخدود کا قصہ ” سورة البروج “ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور جہاں تک فرعون کی بیوی کی ماشطہ کے بچے کا ذکر ہے تو اسے علامہ بیہقی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جب مجھے سفر معراج پر لے جایا گیا تو میں نے انتہائی طیب اور اچھی خوشبو میں سیر کی تو میں نے کہا یہ خوشبو کیسی ہے ؟ انہوں نے بتایا : فرعون کی بیٹی کی ماشطہ اور اس کی اولاد کی اس کی کنگھی اس کے ہاتھ سے گرپڑی تو اس نے کہا : بسم اللہ (اللہ تعالیٰ کے نام سے) تو اس پر فرعون کی بیٹی نے کہا : کیا وہ میرا باپ ہے ؟ اس نے جواب دیا ربی وربک ورب ابیک (اس کے نام سے جو) میرا رب ہے اور تیرا رب ہے اور تیرے باپ کا بھی رب ہے۔ اس نے کہا : کیا میرے باپ کے سوا بھی تیرا کوئی رب ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہاں میرا، تیرا اور تیرے باپ کا رب اللہ ہے، اس نے کہا۔۔۔۔ پھر اس نے تانبے کے ٹکڑے پگھلانے کا حکم دیا پس اسے گرم کیا گیا پھر اس نے اسے اس میں پھینک دینے کا حکم دیا تو ماشطہ نے کہا : مجھے تجھ سے ایک کام ہے، اس نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ اس نے : یہ میری اور میرے بچے کی ہڈیوں کو ایک ہی جگہ میں جمع کر دے گا، اس نے کہا : یہ تیرے لئے اس حق کے عوض میں ہے جو تیرے لئے ہم پر لازم ہے، پس اس نے ان کے بارے حکم دیا تو انہیں ایک ایک کرکے اس میں پھینک دیا یہاں تک کہ وہ ان میں شیر خوار بچے تک جا پہنچا تو اس نے کہا : اے ماں ! تو کود جا اور اس میں تاخیر نہ کر کیونکہ ہم حق پر ہیں۔ راوی نے کہا : چاربچوں نے صغر سنی میں گفتگو کی، ایک یہ بچہ ہے، دوسرا شاہد یوسف، تیسرا صاحب جریج، اور چوتھا حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ۔
Ayah 3:47آیت نمبر : 47۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” قالت رب “ مریم بولیں اے میرے سردار، آپ حضرت جبریل (علیہ السلام) کو خطاب کر رہی ہیں، کیونکہ جب وہ اس کے پاس انسانی شکل میں آئے اور اسے کہا : بلاشبہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ وہ تجھے ایک پاکیزہ کو برو بچہ عطا فرمائے تو جب مریم نے ان کا یہ قول سنا تو آپ نے ان سے بچہ کے طریقہ کے بارے پوچھا اور کہا : میرے ہاں بچہ کیوں کر ہو سکتا ہے حالانکہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا ؟ یعنی نکاح کے ساتھ (سورۃ مریم میں ہے) (آیت) ” ولم اک بغیا “۔ (مریم) (اور نہ میں بدچلن ہوں)
انہوں نے یہ بطور تاکید ذکر کیا ہے، کیونکہ ان کا یہ قول (آیت) ” لم یمسسنی بشر “۔ (مجھے کسی انسان نے ہاتھ نہیں لگایا) حرام اور حلال دونوں طریقوں کو شامل ہے، آپ کہتی ہیں : وہ عادت جاریہ جو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جاری کر رکھی ہے وہ یہ ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے نکاح سے یا زنا سے، اور کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بھی بعید نہیں سمجھا، لیکن ارادہ یہ کیا کہ یہ بچہ کیسے ہوگا، کیا مستقبل میں خاوند کی جانب سے یا بتداء ہی اللہ تعالیٰ اسے پیدا فرمائے گا ؟ اور روایت ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جس وقت مریم کو کہا : (آیت) ” کذالک اللہ یخلق مایشآء (بات یونہی ہے اللہ پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے)
(آیت) ” قال کذالک قال ربک ھو علی ھین “۔
ترجمہ ؛ اس نے کہا اسی طرح ہے تیرے رب نے فرمایا ہے وہ مجھ پر آسان ہے۔
انہوں نے مریم کی قمیص کے گریبان اور ان کی آستین میں پھونک ماری ابن جریج نے یہی کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اپنی انگلی کے ساتھ انکی قمیص کی آستین کو پکڑا اور وہ اسی ساعت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حاملہ ہوگئیں، اس کے علاوہ بھی کئی اقوال ہیں۔ اس کا بیان سورة مریم میں آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور بعض نے کہا ہے : جبریل امین (علیہ السلام) کی پھونک مریم کے رحم پر پڑی پس وہ اس کے سبب حاملہ ہوگئی، اور بعض نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ تخلیق جبریل امین (علیہ السلام) کی پھونک سے ہو کیونکہ اس طرح جزوی طور پر بچہ ملائکہ میں سے ہوجائے گا اور اس کا بعض انسانوں میں سے ہوگا لیکن اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا اور ان کی اولاد سے عہد و پیمان لیا تو کچھ پانی باپوں کی صلبوں میں رکھ دیا اور کچھ ماؤں کی رحموں میں پس جب یہ دونوں پانی جمع ہوں تو بچہ بن گیا اور اللہ تعالیٰ دونوں پانی اکٹھے مریم میں رکھ دیئے کچھ ان کی رحم میں اور کچھ ان کی صلب میں پس جبریل امین نے اس میں پھونک ماری تاکہ ان کی شہوت بھڑک جائے، کیونکہ عورت کی شہوت میں جب تک ہیجان پیدا نہ ہو وہ حاملہ نہیں ہوتی پس جب حضرت جبریل امین کی پھونک سے انکی شہوت میں انگیخت پیدا ہوئی تو وہ پانی جو ان کی صلب میں تھا وہ رحم میں آ گرا اور اس طرح دونوں پانی آپس میں مل گئے تو اس طرح استقرار حمل ہوگیا، پس اسی کے بارے ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” اذقضی امرا یعنی جب وہ کسی شے کو پیدا کرنے ارادہ فرماتا ہے تو اسے کہتا ہے کن تو ہوجا، تو وہ شے ہوجاتی ہے، اس بارے میں مکمل گفتگو سورة البقرہ میں گر چکی ہے۔
Ayahs 3:48–49آیت نمبر : 48 تا 49۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتورۃ والانجیل “۔ ابن جریج نے کہا ہے : الکتاب سے مراد کتابت کرنا اور لکھنا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات اور انجیل کے علاوہ کوئی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائی۔
(آیت) ” ورسولا “۔ (یعنی) اور ہم اسے رسول بنائیں گے یا وہ ان سے رسول کی حیثیت سے ہم کلام ہوگا، اور یہ قول بھی ہے کہ وہ (آیت) ” وجیھا “ پر معطوف ہے اور اخفش نے کہا ہے : اگر چاہے تو (آیت) ” ورسولا میں واؤ کو مقحم بنا دے اور رسولا کوہ ضمیر سے حال بنا لے تقدیر کلام ہوگی ” ویعلمہ الکتاب رسولا “ (اور اللہ تعالیٰ اسے کتاب سکھائے گا اس حال میں کہ وہ رسول ہوگا) اور حضرت ابو ذر ؓ کی طویل حدیث میں ہے ” انبیاء بنی اسرائیل میں سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور آخری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں (آیت) ” انی اخلق لکم “ یعنی میں تمہارے لئے تصویر اور شکل سی بنا دیتا ہوں۔ (آیت) ” من الطین کھیئۃ الطیر “۔ اعرج اور ابو جعفر نے کھیۃ شد کے ساتھ ہے اور باقیوں نے ہمزہ کے ساتھ۔
اور الطیر مذکر ومونث دونوں ہو سکتا ہے، (آیت) ” فانفخ فیہ “ اور ان میں سے ایک میں پھونک مارتا ہوں یا کیچڑ میں پھونکتا ہوں تو وہپرندہ اڑنے والا ہوجائے گا اور طائر اور طیریہ تاجر اور تجر کی مثل ہیں۔
وہب نے کہا ہے : وہ اڑتا رہا جب تک لوگ اس کی طرف دیکھتے رہے اور جب وہ انکی آنکھوں سے غائب ہوگیا تو مردہ ہو کر گر پڑا تاکہ مخلوق کا فعل اللہ تعالیٰ کے فعل سے ممتاز ہوجائے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے چمگادڑ کے سوا کوئی نہیں بنایا کیونکہ خلقت کے اعتبار سے وہ کامل ترین پرندہ ہے تاکہ وہ قدرت میں انتہاء کو پہنچ جائے، کیونکہ اس کے پستان بھی ہیں، دانت بھی اور کان بھی ہیں اور اسے حیض بھی آتا ہے، وہ پاک بھی ہوتا ہے اور بچے بھی جنتا ہے۔
اور کہا جاتا ہے : انہوں نے چمگادڑ بنانے کا مطالبہ کیا، کیونکہ وہ خلقت میں تمام سے عجیب تر ہے اور اس کے عجائب میں سے یہ ہے کہ اس میں گوشت بھی ہے اور خون بھی، وہ بغیر پروں کے اڑتا ہے اور حیوانوں کی طرح بچوں کو جنم دیتا ہے اور وہ اس طرح انڈے نہیں دیتا جس طرح باقی تمام پرندے انڈے دیتے ہیں، اس کی کھیری ہوتی ہے اور اس سے دودھ نکلتا ہے، وہ نہ دن کی روشنی میں دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی رات کی تاریکی میں، بلکہ وہ صرف دو ساعتوں میں دیکھ سکتا ہے، ایک ساعت سورج غروب ہونے کے بعد اور ایک ساعت طلوع فجر کے بعد اس سے پہلے کہ وہ خوب روشن ہو، اور وہ اس طرح ہنستا ہے جس طرح آدمی ہنستا ہے اور اسے اسی طرح حیض آتا ہے جس طرح عورت کو حیض آتا ہے۔
اور کہا جاتا ہے : بیشک ان کا آپ سے اس بارے میں سوال کرنا تعنت اور سرکشی کی بنا پر تھا تو انہوں نے کہا : ہمارے لئے چمگادڑ بناؤ اور اس میں روح ڈال دو اگر آپ اپنے قول میں سچے ہیں، پس آپ نے مٹی لی اور اس سے چمگادڑ بنایا پرھ اس میں پھونک ماری تو وہ زمین و آسمان کے درمیان اڑنے لگا اس میں مٹی اور پھونک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے تھی اور تخلیق اللہ تعالیٰ کی جانب سے، جس طرح کہ پھونک جبریل امین (علیہ السلام) کی جانب سے تھی اور تخلیق اللہ تعالیٰ کی جانب سے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ “۔ الاکمہ وہ جو اندھا اور نابینا پیدا ہوتا ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے اور اسی طرح ابو عبیدہ نے کہا ہے : وہ جو اندھا پیدا کیا جاتا ہے اور رؤیۃ کے بارے کسی نے کہا :
فارتہ ارتداد الاکمہ “۔
ابن فارس نے کہا ہے : الکمہ کا معنی نابینا (یعنی) انسان پیدا ہوتا ہیی اس حال میں کہ اسے یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے، سوید نے کہا ہے : کمھت عیناہ حتی ابیضتا (اور اس کی آنکھیں اندھی ہیں یہاں تک کہ وہ سفید وہ گئیں)
حضرت مجاہد ؓ نے کہا ہے : وہ جو دن کے وقت دیکھتا ہے لیکن رات کے وقت نہیں دیکھ سکتا، عکرمہ نے کہا ہے : وہ اعمش ہیں، البتہ لغت میں اس کا معنی عمی اندھا پن ہے کہا جاتا ہے کمہ یکمہ کمھا اور کمھ تھا “۔ انا کا معنی ہے جب تو اسے اندھا کر دے، اور برص تو معروف بیماری ہے یعنی وہ سفید داغ جو ساری جلد پر چھا جاتے ہیں (اور اسے سفید کردیتے ہیں) اور الابرص کا معنی قمر (چاند) بھی ہے اور سام ابرص (چھپکلی) تو معروف ہے اور اس کی جمع اباریص آتی ہے ان دونوں بیماریوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دونوں عاجز کردینے والی ہیں (یعنی ان کا علاج انتہائی مشقت آمیز اور مشکل ہے گویا لاعلاج بیماریاں ہیں) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب کا غلبہ اور دور دروہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسی کی جنس سے انہیں معجزہ دکھا دیا۔
(آیت) ” واحی الموتی باذن اللہ “ کہا گیا ہے کہ آپ نے چار آدمیوں کو زندہ کیا : عاذر کو وہ آپ کا دوست تھا، بڑھیا کے بیٹے کو ابنہ العاشر کو اور سام بن نوح کو، فا اللہ اعلم، پس عاذر نے تو چند دن قبل وفات پائی تھی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی پس وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی چربی ٹپکنے کے قریب ہوگئی پس وہ زندہ رہا اور اس کی اولاد بھی وہئی، اور رہا ابن العجوز ! تو آپ اس کے پاس سے گزرے اسے چارپائی پر اٹھایا جارہا تھا، تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو وہ کھڑا ہوگیا اور اپنے کپڑے پہن لئے اور چارپائی اپنی گردن پر اٹھالی اور اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ گیا اور جہاں تک بنت العاشر کا تعلق ہے تو آپ ایک رات اس کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو وہ اس کے زندہ ہوئی اور اس کی اولاد بھی ہوئی، پس جب بنی اسرائیل نے یہ دیکھا تو کہنے لگے بلاشبہ آپ انہیں زندہ کرتے ہیں جس کی موت قریب قریب واقع ہوئی ہے توشاید وہ ابھی نہ مرے ہوں بلکہ ان پر سکتہ طاری ہوا ہو، تو آپ ہمارے لئے سام بن نوح کو زندہ کریں تو آپ نے انہیں فرمایا : تم اس کی قبر کے بارے میری راہنمائی کرو، چناچہ آپ نکلے اور آپ کے ساتھ قوم بھی نکلی یہاں تک کہ اس کی قبر کے پاس پہنچ گئے، آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو وہ اپنی قبر سے اس حال میں نکلا کہ اس کے سر کے بال سفید تھے، تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا، تیرا سر کیسے سفید ہوگیا ہے حالانکہ تمہارے زمانہ میں بڑھاپا نہیں تھا ؟ تو اس نے جواب دیا : اے روح اللہ ! بلاشبہ تو نے مجھے بلایا ہے اور میں نے یہ آواز سنی کوئی کہہ رہا ہے : روح کو جواب دو ، تو میں نے یہ گمان کیا کہ قیامت قائم ہوچکی ہے، پس اس خوف کی وجہ سے میرا سر سفید ہوگیا ہے، پھر آپ نے اس سے نزع کے بارے پوچھا تو اس نے کہا : اے روح اللہ ! بلاشبہ نزع کی تلخی میری سانس کی نالی سے (نرخرہ سے) ابھی ختم نہیں ہوئی حالانکہ میری موت کے وقت سے (اب تک) چار ہزار برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، پھر اس نے قوم کو کہا : تم ان کی تصدیق کرلو کیونکہ یہ نبی ہیں، تو ان میں سے بعض آپ کے ساھت ایمان لے آئے اور بعض نے آپ کو جھٹلا دیا، اور کہا : یہ سحر ہے، اسماعیل بن عیاش کی حدیث سے مروی ہے کہ انہوں نے ذکر کیا مجھے محمد بن طلحہ نے ایک آدمی سے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جب کسی مردے کو زندہ کرنے کا ارادہ فرماتین تھے تو آپ دو رکعت نماز ادا فرماتے پہلی رکعت میں (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک، اور دوسری میں تنزیل السجدہ “ کی قرات فرماتے اور جب فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ حمد وثنا کرتے پھر ان سات اسماء کے وسیلہ سے دعا مانگتے : یا قدیم، یاخفی، یا دائم، یافرد، یاوتر، یا احد یا یاصمد، اسے علامہ بیہقی (رح) نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” وانبئکم بماتاکلون وما تدخرون، فی بیوتکم، ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین “۔ یعنی میں تمہیں اس کے بارے بتلاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو تم جمع کرکے رکھتے ہو، اور یہ اس لئے ہوا کہ جب آپ نے ان کے لئے مردے زندہ کئے تو انہوں نے آپ سے ایک دوسرے معجزے کا مطالبہ کردیا اور انہوں نے کہا : آپ ہمیں ان کے بارے بتائیین جو ہم اپنے گھروں میں کھاتے ہیں اور جو آنے والے کل کے لئے جمع کرکے رکھتے ہیں۔ چناچہ آپ نے انہیں آگاہ کیا اور فرمایا : اے فلاں ! تو نے فلاں فلاں چیز کھائی اور تو نے فلاں فلاں چیز کائی اور فلاں فلاں چیز جمع کر کے رکھی، اسی کے برے قولہ (آیت) ” وانبئکم “ الآیہ ہے۔
مجاہد، زہری اور سختیانی رحمۃ اللہ علہیم نے ذال معجمہ کے ساتھ وما تذخرون مخفف پڑھا ہے، اور حضرت سعید بن جبیر ؓ وغیرہ نے کہا ہے : آپ تعلیم گاہ میں بچوں کو ان چیزوں کے بارے بتلاتے تھے جو وہ جمع کرکے رکھ آتے تھے یہاں تک کہ انکے والدین نے انہیں آپ کے پاس بیٹھنے سے روک دیا، حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا : آپ نے انہیں اس کے بارے بتایا جو وہ دسترخوان سے کھا کر آتے اور جو وہ خفیۃ (چھپ کر) اس سے جمع کر آتے تھے۔