Ayah 3:110آیت نمبر : 110۔
قولہ تعالیٰ : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس :
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) ترمذی نے بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے یہ روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے قول باری تعالیٰ قولہ تعالیٰ : کنتم خیر امۃ اخرجت للناس : کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : ” تم ستر امتوں کو مکمل کرنے والے ہو تم ان میں بہت ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سے زیادہ مکرم ومحترم ہو “ اور امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن من سورة ال عمران، جلد 2، صفحہ 125، اسلام آباد، ایضا، ابن ماجہ حدیث 4277، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا : ہم لوگوں کی نسبت بہترین (اور نفع بخش) ہیں ہم انہیں زنجیروں کے ساتھ اسلام کی طرف کھینچ کر لا رہے ہیں (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 531، ایضا صحیح بخاری، حدیث نمبر 4391، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس نے ان کے کام کی طرح کام کیا وہ انہیں کی مثل ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہے یعنی جو ان میں سے صالحین اور اہل فضل ہیں، اور وہ قیامت کے دن لوگوں پر شاہد ہوں گے جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ” تم آیت میں ذکر کردہ شرائط کی بنا پر بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت وبھلائی کے لئے ظاہر کی گئی ہے۔ “
اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم لوح محفوظ میں ہو (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 531) اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم جب سے ایمان لائے ہو بہترین امت ہو، اور کہا گیا ہے : یہ نبی مکرم ﷺ اور آپ کی امت کے ساتھ پہلے آنے والوں کے لئے بشارت کے طور پر آئی ہے سو معنی یہ ہے کہ تم اپنے سے پہلے آنے والے اہل کتاب کے نزدیک بہترین امت ہو۔ اور اخفش نے کہا ہے : مراد اہل امت یعنی بہترین دین والے ہیں۔
اور کسی شاعر نے کہا :
حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ وھل یاثمن ذوامۃ وھو طائع :
میں نے قسم کھائی سو میں نے تیری ذات کے لئے کوئی شک نہیں چھوڑا اور کیا دیندار گناہ کرے گا حالانکہ وہ طاعت شعار اور فرمانبردار ہے۔
اور یہ قول بھی ہے کہ یہ کان تامہ ہے اور معنی ہے تم پیدا کیے گئے اور تم بہترین امت قرار پائے گئے اور (آیت) ” خیرامۃ “۔ حال ہے اور یہ قول بھی ہے : کان زائدہ ہے اور معنی ہے ” انتم خیرامۃ “ (تم بہترین امت ہو۔ )
اور سیبویہ نے کہا ہے :
وجیران لنا کانوا کرام :
(اور ہمارے عزت واکرام والے پڑوسی ہیں) اس میں کان زائدہ ہے۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” کیف نکلم من کان فی المھد صبیا “۔ (مریم)
ترجمہ : ہم کیسے بات کریں اس سے جو گہوارہ میں (کمسن بچہ ہے)
اور (آیت) ” واذکروا اذکروا اذکنتم قلیلا فکثرکم “۔ (الاعراف : 86)
ترجمہ : اور یاد کرو (وہ وقت) جب تم تھوڑے تھے پھر اس نے تمہیں بڑھا دیا۔
اور دوسرے مقام پر فرمایا :
(آیت) ” واذکروا اذ انتم قلیل “۔ (الانفال : 26)
ترجمہ : اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے۔
اور سفیان نے میسرہ اشجعی سے، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت اللناس “۔ کے تحت روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : تم لوگوں کو زنجیروں کے ساتھ اسلام کی طرف کھینچ کر لاتے ہو (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 531) نحاس نے کہا ہے : اس کے مطابق تقدیر کلام اس طرح ہے ” کنتم للناس خیر امۃ “ تم لوگوں کے لئے بہترین امت ہو۔
اور حضرت مجاہدرحمۃ اللہ علیہ کے قول کے مطابق تقدیر کلام یہ ہے : (آیت) ” کنتم خیر امۃ اذ کنتم تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر “۔ (تم بہترین امت ہو جبکہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو) اور یہ قول بھی ہے : حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت بہترین امت ہوگئی کیونکہ ان میں سے مسلمان زیادہ ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان میں عام ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے لئے ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : خیرالناس قرنی “۔ بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں یعنی وہ لوگ جن میں مجھے مبعوث کیا گیا۔
مسئلہ نمبر : (2) جب قرآن کی نص سے ثابت ہوگیا کہ یہ امت تمام امتوں سے بہتر اور افضل ہے، ائمہ نے عمران بن حصین سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ جوان کے ساتھ ملتے ہیں (یعنی تابعین) پھر وہ جو ان کے ساتھ ملتے ہیں (یعنی تبع تابعین) “ (2) (صحیح مسلم، کتاب فضائل صحابہ باب الصحابہ ثم الذین یلونھم، جلد 2، صفحہ 309، اسلام آباد، ایضا، صحیح بخاری، حدیث نمبر 2457، ضیا القرآن پبلی کیشنز) (الحدیث) یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس امت کے پہلے لوگ بعد میں آنے والوں سے افضل ہیں، یہی موقف جید اور عظیم علماء نے اپنایا ہے اور یہ کہ جس نے حضور نبی مکرم ﷺ کی صحبت اختیار کی اور آپ کو دیکھا اگرچہ عمر میں ایک ہی بار، وہ آپ کے بعد آنے والوں سے افضل ہے اور یہ کہ فضیلت صحبت کے برابر مساوی کوئی عمل نہیں ہو سکتا۔
ابو عمر بن عبدالبر اس طرف گئے ہیں کہ کبھی کوئی وصف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد آنے والے میں اس سے افضل ہوسکتا ہے جو جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں تھا اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد : خیرالناس قرنی “۔ اپنے عموم پر نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کے زمانہ میں بھی فاضل اور مفضول دونوں قسم کے لوگ جمع تھے آپ کے زمانہ میں منافقین کی وہ جماعت جو ایمان کا اظہار کرتے تھے اور وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے جن پر یا ان میں سے بعض پر حدود قائم کی گئیں سبھی جمع تھے، اور آپ نے انکے لئے ہی کہا : جو تم چور، شرابی اور زانی کے بارے میں کہتے ہو۔ اور آپ نے اپنے زمانے کے لوگوں کے سامنے فرمایا :” لا تسبوا اصحابی “۔ (تم میرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو گالی گلوچ نہ دو ۔ ) (1) (مسلم کتاب فضائل صحابہ، باب تحریم سبت الصحابہ، جلد 2، صفحہ 310) اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو حضرت عمار ؓ کے بارے فرمایا : لا تسبب من ھو خیر منک (تو اسے گالی نہ دے جو تجھ سے بہتر ہے) اور حضرت ابوامامہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” طوبی لمن رانی وآمن بی طوبی سبع مرات لم یرنی وامن بی “ (سعادت ہے اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا اور میرے ساتھ ایمان لایا اور سات بار سعادت ہے اس کے لئے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور میرے ساتھ ایمان لایا)
اور مسند ابی داؤد الطیالسی میں عن محمد بن ابی حمید عن زید بن اسلم عن ابیہ عن عمر ؓ کی سند سے روایت موجود ہے کہ حضرت عمر ؓ نے بیان کیا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا :” کیا تم جانتے ہو کون سی مخلوق ایمان کے اعتبار سے افضل ہے۔ “ ہم نے عرض کی ” ملائکہ “ آپ نے فرمایا : ” ان کے بارے تو حق ہے انکے علاوہ کون ہیں ؟ “ ہم نے عرض کی انبیاء علیہم السلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ان کے بارے تو حق ہے بلکہ ان کے علاوہ کون ہے “ بعدازاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ایمان کے اعتبار سے مخلوق میں سے افضل وہ قوم ہے جو ابھی مردوں کی صلبوں میں ہے وہ میرے ساتھ ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں وہ ورق (کتاب) پائیں گے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے مطابق عمل کریں گے پس وہی ایمان کے اعتبار سے افضل الخلق ہیں “۔
اور صالح بن جبیر ؓ نے ابو جمعہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا : ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم سے کوئی بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے اور دو تختیوں کے درمیان ایک کتاب پائیں گے جو کچھ اس میں ہے اس کے ساتھ وہ ایمان لے آئیں گے اور وہ میرے ساتھ ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ، “ اور ابو عمر نے کہا ہے : ابو جمعہ صحابی ہیں اور ان کا نام حبیب بن سباع ہے اور صالح بن جبیر ثقہ تابعین میں سے ہیں۔ اور حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ تمہارے ایسے دن آنے والے ہیں کہ ان میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہوگا ان میں عمل کرنے والے کے لئے اس کی مثل عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کا اجر ہوگا۔ (2) (ابن ماجہ کتاب الفتن، حدیث نمبر 4003، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (یعنی ان کے اجر کی مثل اسے اجر دیا جائے گا) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ﷺ کیا ان میں سے (پچاس آدمیوں کی مثل) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :”(نہیں) بلکہ تم میں سے “ (پچاس آدمیوں کی مثل)
ابو عمر ؓ نے کہا : بل منکم کے الفاظ سے بعض محدثین خاموش ہیں، اور انہوں نے ان کا ذکر نہیں کیا، اور حضرت عمر بن خطاب ؓ نے قول باری تعالیٰ (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ کی تاویل میں کہا ہے : جس نے تمہارے فعل کی مثل فعل کیا وہ تمہاری مثل ہے۔ احادیث کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ پہلی (روایات) خصوصیت کی بنا پر ہیں۔ واللہ الموفق۔
اور اس باب کی احادیث کی توجیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک آپ ﷺ کے زمانے کو اس بنا پر فضیلت دی گئی ہے کیونکہ وہ لوگ کفار کی کثرت ان کی اذیتوں پر اپنے صبر کرنے اور اپنے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھنے کے سبب اپنے ایمان میں غرباء تھے اور بلاشبہ اس امت کے آخر میں آنے والے لوگوں نے جب دین کو قائم کیا اور اسے مضبوطی سے تھام لیا اور جب شر، فسق، فتنہ و فساد، گناہ اور کبائر کے ظہور کے وقت وہ اپنے رب کی اطاعت وفرمانبرداری پر ثابت قدم رہے تو اس وقت وہ بھی غرباء ہوگئے اور اس وقت میں ان کے اعمال اسی طرح پاکیزہ رہے جس طرح پہلے لوگوں کے اعمال پاکیزہ تھے اور اس کی شہادت حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد بھی دیتا ہے : بدا الاسلام غریبا وسیعود کما بدا فطوبی للغرباء (اسلام کا آغاز ہوا درآنحالیکہ وہ غریب تھا اور عنقریب اس حالت کی طرف لوٹ جائے گا جیسے شروع ہوا تھا پس غرباء کے لئے مبارکباد اور سعادتمندی ہے (1) (جامع الترمذی، کتاب الایمان، جلد 2، صفحہ 547، اسلام آباد، ابن ماجہ کتاب الفتن، حدیث الفتن، حدیث 3975 ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 84، اسلام آباد) ’ میری امت بارش کی طرح ہے یہ معلوم نہیں ہو سکتا اس کا اول بہتر ہے یا اس کا آخر “۔ اسے ابو داؤد طیالسی اور ابو عیسیٰ ترمذی نے ذکر کیا ہے اور اسے ہشام بن عبید اللہ رازی نے مالک سے، انہوں نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مثل امتی مثل المطر ” لا یدری اولہ خیر ام اخرہ “۔ (2) (جامع ترمذی، کتاب الامثال باب ماجاء فی صلوات الخمس، جلد 2، صفحہ 577؍110، اسلام آباد) اسے دارقطنی نے مسند حدیث مالک میں ذکر کیا ہے، ابو عمر نے کہا ہے : ہشام بن عبید اللہ ثقہ روای ہے محدثین اس میں اختلاف نہیں کرتے۔
اور روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ جب مسند خلافت کے والی بنے تو آپ نے حضر سالم بن عبداللہ ؓ کی طرف لکھا کہ میری طرف حضرت عمر بن خطاب ؓ کی سیرت لکھو تاکہ میں اس کے مطابق (عمل) کروں تو حضرت سالم ؓ نے ان کی طرف لکھا : اگر تم نے حضرت عمر ؓ کی سیرت پر عمل کیا تو پھر تم حضرت عمر ؓ سے افضل ہو کیونکہ تماہرا زمانہ حضرت عمر ؓ کے زمانے کی طرح نہیں ہے اور نہ ہی تمہارے آدمی حضرت عمر ؓ کے آدمیوں کی طرح ہیں، راوی کا بیان ہے : اور آپ نے اپنے زمانہ کے فقہاء کی طرف لکھا، تو ان تمام نے بھی آپ کی طرف حضرت سالم ؓ کے قول کی طرف ہی لکھا۔
بعض اجل علماء نے حضور ﷺ کے ارشاد ” خیر الناس قرنی “۔ کا اس ارشاد کو معارض قرار دیا ہے : خیرالناس من طال عمرہ وساء علمہ (3) (جامع ترمذی کتاب الزھد باب ما جاء فی طول العمر لمؤمن، جلد 2، صفحہ 56، اسلام آباد) (لوگوں میں سے بہتر اور اچھا وہ ہے جس کی عمر طویل ہوئی اور اس کا عمل حسین و جمیل رہا اور لوگوں میں سے شریر وہ ہے جس کی عمر طویل ہوئی اور اس کا عمل برا رہا) ابو عمر نے کہا : یہ احادیث اپنی اسناد کے تواتر اور حسن ہونے کے ساتھ اس امت کے اول اور اس کے آخر کے درمیان مساوات اور برابری کا تقاضا کرتی ہیں، اور اس کا معنی وہی ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے کہ ایمان لانا اور عمل صالح کرنا ایسے زمانہ میں جو فاسد ہوچکا ہے اور اس میں اہل علم ودین کو اٹھا لیا جائے گا اور اس میں فسق اور فتنہ و فساد وافر ہوجائے گا اور مومن کو ذلیل ورسوا کیا جائے گا اور فاجر کی عزت و تکریم کی جائے گی، اور دین غربت کی طرف لوٹ آئے گا جیسا کہ شروع میں غریب تھا اور اس میں دین پر قائم رہنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرف ہوگا۔ پس اس وقت اس امت کا اول عمل کی فضیلت میں اس کے آخر کے ساتھ برابر ہوجائے گا، سوائے اہل بدر اور حدیبیہ کے اور جس نے اس باب کے آثار میں تدبر اور غور وفکر کیا تو اس کے لئے یہ صحیح اور سیدھی راہ ہے۔ واللہ یوتی فضلہ من یشاء۔ (اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے اپنا فضل عطا فرما دیتا ہے)
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر “۔ یہ اس امت کی مدح ہے کہ جس دین پر وہ قائم ہیں اور وہ اس کے ساتھ متصف ہیں، اور جب انہیں نے تبدیلی کو چھوڑ دیا اور منکر (گناہ کا عمل) پر اتفاق کرلیا تو ان سے مدح وتعریف کا اسم ختم اور زائل ہوگیا۔ اور انہیں ذم اور برائی کا نام لاحق ہوگیا۔ اور وہی ان کی ہلاکت اور بربادی کا سبب بن گیا، اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے کلام سورة کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولو امن اھل الکتب لکان خیرالھم “۔ یہ خبردی ہے کہ اہل کتاب کا نبی مکرم ﷺ کے ساتھ لانا ان کے لئے بہتر تھا اور یہ خبر دی ہے کہ ان میں مومن اور فاسق دونوں قسم کے لوگ ہیں، البتہ فاسق زیادہ ہیں۔
Ayah 3:111آیت نمبر 111۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لن یضروکم الا اذی “۔ یعنی ان کا جھٹلانا، تحریف کرنا اور ان کا بہتان لگانا (تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا) اور نہ ہی ان کو غلبہ حاصل ہوگا، یہ حسن اور قتادہ سے منقول ہے، اور استثنا متصل ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ تمہیں سوائے معمولی ضرر اور تکلیف کے کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکیں کے پس الا ذی مصدر کے محل میں واقع ہے اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ایک وعدہ ہے کہ اہل کتاب ان پر غالب نہ آسکیں گے اور یہ کہ ان کی ان کے خلاف مدد کی جائے گی اور انہیں ان کی طرف سے سوائے بہتان اور تحریف کی اذیت کے اور کوئی بگاڑ اور استیصال نہیں پہنچے گا اور رہا انجام (اور آخرت) تو وہ مومنین کے لئے ہی ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استثناء منقطع ہے اور معنی ہے وہ بالیقین تمہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے البتہ وہ تمہیں اس کے ساتھ اذیت دیں گے جو کچھ تمہیں سنائیں گے، مقاتل نے کہا ہے : سرداران یہود کعب، عدی نعمان، ابو رافع، ابو یاسر، کنانہ اور ابن صوریا وہ اپنے میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کی طرف جاتے اور انہیں ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ستاتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” لن یضروکم الا اذن “۔ (1) (اسباب النزول، صفحہ 78) یعنی سوائے زبانی اذیت کے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، یہاں کلام مکمل ہوگیا، پھر فرمایا (آیت) ” وان یقاتلوکم یولوکم الادبار “۔ اور اگر وہ تمہارے ساتھ لڑیں گے تو شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے، یہ کلام بھی مکمل ہوگیا، (آیت) ” ثم لا ینصرون “ یہ نیا کلام ہے اسی لئے ان میں نون ثابت ہے، اور اس آیت میں نبی مکرم ﷺ کے لئے معجزہ ہے، کیونکہ یہودیوں میں سے جو بھی لڑا وہ اپنی پیٹھ پھیر کر بھاگ گیا۔
Ayahs 3:112–115آیت نمبر : 112 تا 115۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ضربت علیہم الذلۃ “۔ یعنی جہاں کہیں یہ پائے گئے اور یہ ملے، کلام مکمل ہوا اور ان پر ذلت مسلط کرنے کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
(آیت) ” الابحبل من اللہ “۔ یہ استثنا منقطع ہے یہ اول کا جز نہیں ہے، یعنی بجز ان کے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کو مضبوط کرتے ہیں، (آیت) ” وحبل من الناس “۔ مراد وہ ذمہ داری (معاہدہ) ہے جو لوگوں کی جانب سے ان پر ہے، اور (آیت) ” الناس “ سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور وہ مومنین ہیں جنہیں وہ خراج ادا کرتے ہیں اور وہ انہیں امن اور پناہ دیتے ہیں، کلام میں اختصار ہے اور معنی یہ ہے : ” الاان یعتصموا بحبل امن اللہ “۔ پھر اس سے فعل کو حذف کردیا گیا ہے۔
فراء نے یہی کہا ہے۔ (آیت) ” وبآء و بغضب من اللہ “ ‘۔ یعنی وہ لوٹ آئے ہیں اللہ کے غضب کی طرف، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بمعنی احتملوا ہے یعنی انہوں نے اللہ کا غضب اٹھایا برداشت کیا، اور لغت میں اس کا اصل معنی ہے کہ ان پر غضب لازم ہوگیا، اور سورة البقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ پھر خبر دی کہ انکے ساتھ یہ کیوں کیا گیا۔ تو فرمایا : (آیت) ” ذالک بانھم کانوا یکفرون بایت اللہ ویقتلون الانبیآء بغیر حق، ذالک بما عصوا وکانوا یعتدون “۔ اس کی مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے، پھر خبر دی اور فرمایا : لیسوا سواء وہ سب برابر نہیں، اور کلام مکمل ہوگیا اور معنی یہ ہے کہ اہل کتاب اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت برابر اور یکساں نہیں (1) (احکام القرآن، جلد 1، صفحہ 295) اور ابو خیثمہ زہیر بن حرب نے بیان کیا ہے حدثنا ہاشم بن القاسم حدثنا شیبان عن عاصم عن زرعن ابن مسعود ؓ آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے (ایک رات) عشاء کی نماز مؤخر فرمائی پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے تو دیکھا لوگ نماز کے لئے انتظار کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا : بلاشبہ تمہارے سوا اہل ادیان میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہوں ، “ فرمایا : اور یہ آیت نازل کی گئی (آیت) ” لیسوا سوآء من اھل الکتب امۃ قآئمۃ یتلون ایت اللہ اناء الیل وھم یسجدون، یؤمنون باللہ والیوم الاخر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویسارعون فی الخیرت، واولئک من الصلحین، وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ واللہ علیم بالمتقین “۔ (2) (اسباب النزول، صفحہ 79) ابن وہب نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” من اھل الکتب امۃ قائمۃ یتلون ایت اللہ انآء الیل وھم یسجدون “۔ یعنی وہ جو حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ ایمان لائے،
اور ابن اسحاق (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کیا ہے جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ثعلبہ بن سعیہ، ایسد بن سعیہ اور اسید بن عبید اسلام لائے اور جو بھی یہود میں سے اسلام لایا، پس وہ ایمان لائے انہوں نے تصدیق کی، اسلام کی طرف راغب ہوئے اور اس میں پختگی اور رسوخ حاصل کیا، تو یہودی علماء اور ان میں سے اہل کفر کہتے : محمد ﷺ کے ساتھ نہ ایمان لائے اور نہ ہی آپ کی اتباع وپیروی کی مگر ہمارے شریر لوگوں نے، اگر وہ ہمارے اچھے اور نیک لوگوں میں سے ہوتے تو اپنے آباؤ و اجداد کے دین کو نہ چھوڑتے اور کسی غیر کی طرف نہ جاتے تو ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ ارشاد نازل فرمایا (3) (معالم التنزیل جلد 1، صفحہ 534)
(آیت) ” لیسوا سوآء من اھل الکتب امۃ قآئمۃ یتلون ایت اللہ اناء الیل وھم یسجدون، یؤمنون باللہ والیوم الاخر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویسارعون فی الخیرت، واولئک من الصلحین “۔
اور اخفش نے کہا ہے : تقدیر کلام یہ ہے من اھل الکتاب ذوامۃ ای ذو طریقۃ حسنۃ (4) (ایضا) یعنی اچھے طریقے اور راستے والے۔
اور شاعر نے کہا ہے :
وھل یاثمن ذوامۃ وھو طائع۔
(کیا اچھے طریقے والا گناہ کرتا ہے حالانکہ وہ اطاعت وفرمانبرداری کر رہا ہے)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام میں حذف ہے اور تقدیر کلام ہے ” من اھل الکتاب امۃ قائمۃ واخری غیر قائمۃ پس پہلے پر اکتفا کرتے ہوئے دوسرے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔
جیسا کہ ابو ذؤیب کا قول بھی ہے :
عصانی الیھا القلب انی لامرہ مطیع فما ادری ارشد طلابھا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 492 دارالکتب العلمیہ)
اس کی طرف مائل ہونے میں دل نے میرا ساتھ نہ دیا بلاشبہ میں تو اس کے حکم کا مطیع وفرمانبردار ہوں سو میں نہیں جانتا کہ اس سے (حق کا) مطالبہ کرنا ہدایت ہے (یا گمراہی) تو اس میں مراد ارشاد ام غی ہے اور اسے حذف کردیا گیا ہے۔
فراء نے کہا ہے : امۃ سواء کے سبب مرفوع ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 492 دارالکتب العلمیہ) اور تقدیر عبارت ہے : لیس یستوی امۃ من اھل الکتاب قائمۃ یتلون آیات اللہ وامۃ کافرۃ، (اہل کتاب میں سے ایک گروہ جو حق پر قائم ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں وہ اور کفر کرنے والا گروہ برابر نہیں ہیں۔
نحاس نے کہا ہے : یہ قول کئی اعتبار سے غلط ہے، ایک وجہ یہ ہے کہ امۃ کو سواء کے ساتھ رفع دیا گیا ہے تو اس میں لیس کے اسم کی طرف لوٹنے والی کوئی شے نہیں ہے اور رفع ایسی شے کے سبب دیا جارہا ہیں جو فعل کے قائم مقام نہیں ہے اور اسے مضمر مانا جائے گا جس کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ کافر کا ذکر پہلے ہوچکا ہے لہذا اسے مضمر ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : یہ عربوں کے اس قول کی مثل ہے : اکلونی البراغیث “۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 492 دارالکتب العلمیہ) اور ذھبوا اصحابک، نحاس نے کہا : یہ غلط ہے، کیونکہ ان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور اواکلونی البراغیث ان کا پہلے ذکر نہیں ہوا۔
اور (آیت) ” انآء الیل “۔ اس سے مراد رات کی ساعتیں ہیں۔ (4) (معالم التنزیل جلد 1، صفحہ 534) اس کا واحد انی وانی اور اخ ہے اور یہ ظرف کی بنا پر منصوب ہے اور (آیت) ” یسجدون “۔ بمعنی یصلون (وہ نماز پڑھتے ہیں) ہے۔
اور فراء اور زجاج سے مروی ہے، کیونکہ تلاوت رکوع و سجود میں نہیں ہوتی، اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ولہ یسجدون “۔ ای یصلون۔ اور سورة الفرقان میں ہے : (آیت) ” واذا قیل لھم اسجدوا للرحمن “۔ اور سورة النجم میں ہے (آیت) ” فاسجدوا للہ واعبدوا “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے اس سے مراد صرف معروف سجدہ ہی لیا جارہا ہے، اور سبب نزول اسے رد کر رہا ہے اور یہ کہ مراد عشاء کی نماز ہے جیسا کہ ہم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے ذکر کیا ہے، پس بتوں کی پوجا کرنے والوں پر جونہی رات چھا جاتی ہے تو وہ سوجاتے اور موحدین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز عشاء کے لئے کھڑے ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جب ان کے قیام کا ذکر کیا تو فرمایا (آیت) ” وھم یسجدون “ یعنی (سجدوں کے) ساتھ قیام بھی تھا، اور ثوری نے کہا ہے : یہ مغرب و عشاء کے درمیان کی نماز ہے (5) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 493 دارالکتب العلمیہ) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قیام لیل کے بارے میں ہے، اور بنی ثیبہ کے ایک آدمی سے روایت ہے وہ کتابیں پڑھتا تھا اس نے کہا : بلاشبہ ہم رب العالمین کے کلام میں سے ایک کلام پاتے ہیں، کیا اونٹ یا بکریاں چرانے والا گمان کرتا ہے جو رات آتے ہی منفرد اور علیحدہ ہو (کر سو) جاتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو رات کے وقت قیام سجود کرتا ہے ؟ (آیت) ” یؤمنون باللہ “۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں اور حضور نبی مکرم محمد ﷺ کی تصدیق کرتے ہیں (آیت) ” ویامرون بالمعروف “۔ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد حضور نبی مکرم ﷺ کی اتباع وپیروی کا حکم ہے۔ (آیت) ” وینھون عن المنکر “۔ نہی عن المنکر “ سے مراد آپ کی مخالفت سے منع کرنا اور رد کرنا ہے۔ (آیت) ” ویسارعون فی الخیرت “۔ یعنی وہ نیکی کے اعمال بغیر کسی بوجھ اور ثقل کے جلدی سے کرتے ہیں اس لئے کہ وہ ثواب اور اجر کی مقدار سے واقف وآگاہ ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ فوت ہونے سے پہلے اعمال کرنے میں جلدی اور تیزی کرتے ہیں۔ (آیت) ” والئک من الصلحین “۔ اور یہ لوگ صالحین کے ساتھ ہوں گے جنت میں اور وہ حضور نبی رحمت ﷺ کے اصحاب ہیں۔ (آیت) ” وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ “۔ اعمش، ابن وثاب، حمزہ، کسائی، حفص اور خلف “۔ دونوں فعلوں کے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ (اس لئے کہ یہ) امۃ قائمۃ کے بارے خبر ہے، یہی حضرت ابن عبا ؓ کی قرات ہے اور ابو عبید کی پسند ہے، اور باقیوں نے خطاب کی بنا پر دونوں کو تا کے ساتھ پڑھا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ اسے ابو حاتم نے اختیار کیا ہے اور ابوعمرو دونوں قراتوں کو یعنی یا اور تا کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں، اور آیت کا معنی ہے : تم جو بھی نیک عمل کرو گے تو ہر گز تمہیں اس کے ثواب سے انکار نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہاری قدر افزائی کی جائے گی اور اس پر تمہیں اجر وثواب اور جزا دی جائے گی (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 535)
Ayah 3:116آیت نمبر : 116۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ یہ ان کا اسلم ہے اور اس کی خبر یہ ہے۔ (آیت) ” لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا “۔ مقاتل نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے مومنین کا ذکر کیا تو پھر ان کے کفار کا ذکر کیا اور وہ اس کا یہ قول ہے (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ اور کلبی نے کہا ہے : اسے ابتداء بنایا اور فرمایا : بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے مال کی کثرت اور ان کی اولاد کی کثرت انہیں ہر گز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ذرہ بھر نہیں بچا سکیں گے، اولاد کا ذکرخاص طور پر کیا گیا کیونکہ نسب کے اعتبار سے وہی ان کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ (آیت) ” واولئک اصحب النار “۔ یہ مبتدا اور خبر ہیں اور اسی طرح (آیت) ” ھم فیھا خلدون “۔ بھی ہے ان تمام کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
Ayah 3:117آیت نمبر : 117۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” مثل ما ینفقون فی ھذہ الحیوۃ الدنیا کمثل ریح فیھا صر “۔ اس میں مایہ صلاحیت بھی رکھتا ہے کہ وہ مصدر یہ ہو اور یہ بھی کہ وہ بمعنی الذی ہو، اور ضمیر عائد محذوف ہے، یعنی مثل ما ینفقونہ۔ اور کمثل ریح کا معنی ہے، کمثل مھب ریح (ہوا چلنے کی طرح) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : الصر ‘ کا معنی سخت ٹھنڈک ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی صل الصریر ہے جس کا معنی آواز ہے، پس مراد شدید ہوا کی آواز ہے۔
زجاج نے کہا ہے : یہ اس آگ کے بھڑکنے کی آواز ہے جو اس ہوا میں ہو، یہ معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور حدیث طیبہ میں ہے : بلاشبہ اس مکڑی کو کھانے سے منع کیا گیا ہے جسے سخت ٹھنڈی ہوا نے مار دیا ہو، اور آیت کا معنی ہے، کافروں کے خرچ کئے ہوئے مال کے باطل اور ضائع ہونے اور اس کے نفع بخش نہ ہونے کی مثال اس کھیتی اور فصل کی طرح ہے جسے سخت ٹھنڈی ہوا یا آگ لگی ہو اور اس نے اسے جلا کر خاکستر کر یا ہو، اور اس کے مالکوں کو ذرہ بھر فائدہ نہ ہو، حالانکہ وہ اس سے نفع اور فائدہ کی امید رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما ظلمھم اللہ “۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ان پر ظلم نہیں کیا : (آیت) ” ولکن انفسھم یظلمون “۔ لیکن وہ خود ہی کفر ومعصیت کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حق کا انکار کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ انہوں نے زراعت کے وقت کے بغیر اور اس کی جگہ کے بغیر کھیتی کاشت کی پس اللہ تعالیٰ نے انہیں ادب سکھایا، اس لئے کہ انہوں نے ایک شے کو غیر محل میں رکھا، اسے مہدوی نے بیان کیا ہے۔
Ayah 3:118آیت نمبر : 118۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ نے کفار کی طرف میلان اور جھکاؤ رکھنے سے منع کرنے اور اس پر زجر وتوبیخ کرنے کو مؤکد کیا ہے، اور اس کا تعلق سابقہ اس ارشاد کے ساتھ ہے، ان تطیعوا فریقا من الذین اوتوا الکتاب “۔ اور البطانۃ مصدر ہے اور اس کے ساتھ واحد اور جمع دونوں کا نام رکھاجا سکتا ہے، اور بطانۃ الرجل سے مراد وہ خاص دوست اور افراد ہیں جو اس کے خفیہ معاملات پر بھی آگاہ ہوتے ہیں اور یہ اصل میں البطن سے ماخوذ ہے جو الظھر کے خلاف ہے، اور بطن فلان بفلان یبطن بطونا وبطانۃ جب کوئی کسی کے ساتھ خاص ہو اور اس کے اندرونی معاملات میں تہہ تک پہنچا ہوا ہو۔
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
اولئک خلصائی نعم وبطانتی وھم عیبتی من دون کل قریب :
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اس آیت کے ساتھ منع فرمایا ہے : کہ وہ کفار، یہود اور اہل ھوا کو اپنے معاملات میں دخیل اور راز دار بنائیں کہ وہ آراء اور مشاورت میں ان کے ساتھ تبادلہ خیالات کرکے اور اپنے معاملات ان کے سپرد کردیں، اور کہا جاتا ہے : کل من کان علی خلاف مذھبک ودینک فلا ینبغی لک ان تحادثہ۔ یعنی ہر وہ جو تیرے مذہب اور تیرے دین کے خلاف ہے اس کے ساتھ تیرا مشاورت اور گفتگو کرنا مناسب نہیں۔
شاعر نے کہا :
عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ فکل قرین بالمقارن یقتدی :
ہر آدمی سے سوال نہ کر بلکہ اپنے ساتھی سے سوال کر پس ہر ساتھی اپنے مصاحب کی ہی اقتدی کرتا ہے اور سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم نے فرمایا : ” آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک کو اس کے بارے غور وفکر کرنی چاہیے جسے وہ دوست بنا رہا ہے۔ “ (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الاداب باب من یومر ان یجالس، جلد 2، صفحہ 308، ایضا، جامع ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی اخذ المال۔۔۔۔ الک حدیث 2300، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو ان کے بھائیوں (دوستوں) پر قیاس کرو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس معنی اور سبب کو بیان فرمایا جس کے لئے اس نے اس تعلق اور دوستی سے منع فرمایا : اور ارشاد فرمایا : (آیت) ” لا یالونکم خبالا “۔ خبالا بمعنی فسادا ہے یعنی تمہارے فساد اور بربادی میں وہ کوئی کسر اور کمی نہیں چھوڑیں گے، یعنی بلاشبہ اگرچہ وہ ظاہر میں تمہارے ساتھ قتال اور جنگ نہیں کریں گے لیکن مکروفریب اور دھوکہ دینے میں وہ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الـذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یالونکم خبالا “۔ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ان سے مراد خوارج ہیں۔ “ اور روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے ایک ذمی کو کاتب بنایا تو حضرت عمر ؓ نے انکی طرف شدید عتاب آمیز خط لکھا اور یہ آیت بھی ساتھ تحریر فرمائی،
حضرت ابوموسی اشعری ؓ حساب لے کر حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور آپ کو وہ پیش کیا اور آپ کو تعجب میں ڈال دیا، حضرت عمر ؓ ایک کتاب (تحریر) لائے اور ابو موسیٰ ؓ کو فرمایا : تیرا کاتب کہاں ہے یہ کتاب لوگوں پر پڑھے ؟ تو انہوں نے عرض : وہ تو مسجد میں داخل نہیں ہوگا۔ تو آپ نے فرمایا : کیوں ! کیا وہ جنبی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : وہ نصرانی ہے، تو آپ نے انہیں خوب جھڑکا اور فرمایا تو انہیں قریب نہ کر جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دور کیا ہے اور تو ان کی عزت و تکریم نہ کر جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل ورسوا کیا ہے اور تو انہیں امین نہ بنا جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خائن قرار دیا ہے (لا تدنھم وقد اقصاھم اللہ ولا تکرمھم وقد اھانھم اللہ ولا تامنھم قد خونھم اللہ)
حضرت عمر ؓ نے بیان فرمایا : تم اہل کتاب کو عامل نہ بناؤ کیونکہ وہ سود اور رشوت کو حلال سمجھتے ہیں اور اپنے اموال اور اپنی رعایا پر ان لوگوں سے مدد طلب کرو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ (لا تستعملوا اھل الکتاب فانھم یستحلون الرشاد واستعینوا علی امورکم وعلی رعیتکم بالذین یخشون اللہ تعالیٰ ) حضرت عمر ؓ کو بتایا گیا : یہاں حیرہ کی عیسائیوں میں سے ایک آدمی ہے اس سے بہتر لکھنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ ہی قلم کے ساتھ اس سے اچھا کوئی لکھ سکتا ہے، کیا وہ آپ کی طرف سے کاتب نہ ہوجائے ؟ تو آپ نے فرمایا : میں مومنین کے سوا کسی کو راز دار نہیں بناؤں گا۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 496) پس اہل ذمہ کو کاتب بنانا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کے سوا دیگر بیع وشراء کے معاملات میں سے کسی میں انن کا تصرف کرنا اور انہیں نیابت کی ذمہ داری سونپنا جائز ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس زمانے میں اہل کتاب کو کاتب اور امین بنانے کے سبب احوال بدل چکے ہیں اور وہ والیوں اور امراء کے کند ذہن اور جاہل ہونے کے سبب سردار بن گئے ہیں۔ امام بخاری، نے حضرت ابو سعید خدری ؓ اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ بنایا ہے مگر اس کے دو راز دان اور خواص ہیں ان میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس پر برانگیختہ کرتا ہے اور دوسرا اسے شر کا حکم دیتا ہے اور اسے اس پر ابھارتا ہے پس معصوم (اور محفوظ) وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا (اور بچا لیا) (2) (صحیح البخاری، کتاب الاحکام جلد 2، صفحہ 1068، اسلام آباد، ایضا صحیح بخاری، حدیث 6121، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو اور اپنی انگوٹھیوں میں غریب نہ کھواؤ (3) مسند احمد بن حنبل (رح)، کتاب مسند المکثرین باب مسند جابر بن عبداللہ، جلد 3، صفحہ 99، مطبوعہ دارصادر)
حسن بن ابی الحسن نے اس کی تفسیر اور وضاحت کی اور فرمایا : حضور نبی کریم ﷺ نے اس سے ارادہ یہ فرمایا ہے کہ تم اپنے معاملات میں سے کسی کے بارے مشرکین سے مشاورت نہ کرو اور اپنی انگوٹھیوں میں اسم محمد ﷺ کندہ نہ کراؤ، حسن نے کہا : اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ہے : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ الآیہ۔ (4) (احکام القرآن جلد 1، صفحہ 296)
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” من دونکم “ ای من سواکم (یعنی تم اپنے سوا کسی غیر کو راز دار نہ بناؤ)
فراء نے کہا : (آیت) ” ویعملون عملا دون ذالک “۔ بمعنی سوی ذالک “۔ یعنی اس میں دون بمعنی سوی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” من دونکم “ یعنی سیرت اور حسن مذہب میں (کسی غیر کو راز دار نہ بناؤ) اور (آیت) ” لایالونکم خبالا “۔ کا معنی ہے وہ ایسے معاملہ میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے جس میں تمہارے لئے فساد اور بگاڑ ہوگا اور یہ (آیت) ” بطانۃ من دونکم “ کی صفت کے محل میں ہے، کہا جاتا ہے لا الوجھدا “۔ یعنی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا (کوئی کوتاہی نہیں کروں گا) اور الوت الوا کا معنی ہے میں نے کوتاہی کی۔
امرؤ القیس نے کہا ہے :
وما المرء مادامت حشاشۃ نفسہ بمدرک اطراف الخطوب ولا ال :
اس میں ولا آل کا لفظ مذکورہ معنی میں ذکر کیا گیا ہے۔
اور الخبال، الخبل ہے اور الخبل کا معنی فساد اور بگاڑ ہے اور یہ افعال، ابدان اور عقول میں ہوتا ہے، اور حدیچ میں ہے : من اصیب بدم اوخبل (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الدیات من قتل لہ قتیل فھو بالخیار بین احدی ثلات، ایضا ابن ماجہ حدیث 2613، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 3898، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یعنی وہ جسے ایسا زخم لگا جو عضو کو ضائع اور فاسد کر دے، اور الخبل کا معنی اعضاء کا فاسد ہونا ہے اور رجل خبل ومختبل “۔ (فاسد اور بگڑا ہوا آدمی) اور خبلہ الحب (یعنی محبت نے اسے بگاڑ دیا)
اوس نے کہا ہے :
ابنی لبینی لستم بید الا یدا مخبولۃ العضد :
فراء نے کہا ہے :
نظر ابن سعد نظرۃ وبت بھا کا نت لصحبک والمطی خبالا :
اس میں بھی خبال بمعنی فساد ہے۔
اور خبالا مفعول ثانی کے اعتبار سے منصوب ہے، کیونکہ الالو، دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اور اگر چاہے تو مصدر (یعنی مفعول مطلق) کی حیثیت سے منصوب مان لے یعنی یخبلونکم خبالا، اور اگر چاہے تو حرف جر کے حذف کے سبب منصوب تصور کرلے یعنی اصل میں بالخبال تھا، جیسا کہ انہوں نے کہا : اوجعتہ ضربا، (یعنی بالضرب میں نے اسے مار کے ساتھ تکلیف دی) اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” ودوا ماعنتم “۔ میں مامصدریہ ہے یعنی ودواعنتکم یعنی وہ پسند کرتے ہیں اسے جو تم پر شاق گزرتی ہے اور العنت کا معنی مشقت ہے (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 537) اور اس کا معنی ومفہوم سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قد بدت البغضآء من افواھھم “۔ یعنی تمہارے لئے عداوت اور تکذیب ان کے مونہوں (زبانوں) سے ظاہر ہوچکی ہے اور البغضاء بمعنی بغض ہے اور یہ حب (محبت) کی ضد ہے اور البغضاء مصدر مؤنث ہے اور اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مونہوں کا ذکر کیا ہے نہ کہ زبانوں کا یہ ان کے اپنی ان باتوں میں لغویات اور بےاحتیاط گفتگو کرنے کی طرف اشارہ ہے پس وہ اس چھپنے والے سے فوق اور اوپر تھے جس کی آنکھوں میں بغض ہوتا ہے اور اس معنی کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ کی نہی ہے ” کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت کے بارے میں اپنے منہ کو حیاء میں رکھے اس کا معنی منہ کھولنا ہے، کہا جاتا ہے، : شحی الحمار فاہ بالنھیق (گدھے نے ہینگتے ہوئے اپنا کھولا) اور شحی الفم نفسہ (منہ بذات خود کھل گیا) اور شحی اللجائم فم الفرس شحیا، (لگام نے گھوڑے کا منہ مکمل طور پر کھول دیا، ) اور جائت الخیل شواحی، یعنی گھوڑے اپنے منہ کھولے ہوئے آئے، اس حدیث سے جواز پر دلیل خطاب نہیں سمجھی جاسکتی کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت میں خفیۃ داخل ہوجائے، کیونکہ باتفاق علماء وہ حرام ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 496 دارالکتب العلمیہ)
اور قرآن کریم میں ہے ” ولا یغتب بعضکم بعضا “۔ الآیہ۔ (اور تم آپس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو) اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بلاشبہ تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں (2) (مسلم کتاب الحج جلد 1، صفحہ 397، اسلام آباد) اور شحو کا ذکر بےاحتیاطی اور بےتکلفی کی طرف اشارہ ہے، فاعلم۔
مسئلہ نمبر : (5) اور اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ دشمن کی شہادت دشمن کے خلاف جائز نہیں ہوتی اور اسی طرح اہل مدینہ اور اہل حجاز نے کہا ہے : اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ سے اس کا جواز مروی ہے، ابن بطال نے ابن شعبان سے بیان کیا ہے کہ اس نے کہا : علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ کسی دشمن کی شہادت اپنے دشمن کے خلاف کسی بھی شے میں جائز نہیں، اگرچہ وہ سراپا عدل ہو اور عداوت عدالت کو زائل کردیتی ہے تو پھر کافر کی عداوت کا کیا حال ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما تخفی صدورھم اکبر “۔ یہ خبر دینا اور آگاہ کرنا ہے کہ وہ جو بغض وحسد چھپائے رکھتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جس کا وہ اپنے مونہوں سے اظہار کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے قد بدء البغضاء پڑھا ہے، یعنی فعل کو مذکر ذکر کیا ہے، اس لئے کہ البغضاء بمعنی البغض ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 497 دارالکتب العلمیہ)
Ayah 3:119آیت نمبر : 119۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھانتم اولآء تحبوھم “۔ مراد منافقین ہیں (یعنی تم تو منافقین سے محبت کرتے ہو) اور اس پر دلیل یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” واذا لقولکم قالوا امنا “۔ (جب وہ تمہیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں) ابو العالیہ اور مقاتل نے یہی کہا ہے یہاں المحبۃ بمعنی مصافاۃ (یعنی خالص محبت کرنا) ہے یعنی اے مسلمانو ! تم تو ان کے ساتھ خالص محبت کرتے ہو اور وہ اپنے نفاق کی وجہ سے تمہارے ساتھ خالص محبت نہیں کرتے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : تم تو ان کے لئے اسلام کا رادہ رکھتے ہو اور تمہارے لئے کفر چاہتے ہیں اور یہ قول بھی ہے کہ ان سے مراد یہود ہیں۔ اکثر (علمائ) نے یہی کہا ہے، الکتاب اہم جنس ہے، حضرت ابن عباس ؓ کے کہا ہے : اس سے مراد کتابیں ہیں، اور یہودی بعض کے ساتھ ایمان لاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” واذا قیل لھم امنوا بماانزل اللہ قالوا نؤمن بما انزل علینا ویکفرون بما ورآء ہ “۔ (البقرہ : 91)
ترجمہ : اور جب ان سے کہا جاتا ہے : ایمان لے آؤ اس پر جسے اللہ نے اتارا ہے تو کہتے ہیں ہم تو (صرف) اس پر ایمان لائے ہیں جو نازل کی گئی ہم پر اور کفر کرتے ہیں اس کے علاوہ (دوسری کتابوں) کے ساتھ۔
(آیت) ” واذا لقوکم قالوا امنا “۔ یعنی کہتے ہیں : ہم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ (آیت) ” واذا خلوا “ اور جب وہ اپنوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ (آیت) ” عضوا علیکم الانامل “۔ انامل سے مراد انگلیوں کی اطراف (یعنی پورے) ہیں۔ (آیت) ” من الغیظ “۔ یعنی وہ تم پر شدید غصہ سے انگلیوں کے پورے چباتے ہیں اور انکے بعض بعض کو کہتے ہیں : کیا تم ان کی طرف دیکھتے ہو یہ ظاہر ہوئے اور بہت زیادہ ہوگئے، اور العض کا مفہوم ہے شدید غصے کا اظہار کرنا (1) اس کے نفاذ کی قدرت نہ رکھتے ہوئے اور اسی معنی میں حضرت ابو طالب کا قول ہے :
یعضون غیظا خلفنا بالانامل :
(وہ ہمارے پیچھے شدید غصہ کے سبب انگلیوں کو چباتے ہیں)
اور دوسرے نے کہا ہے :
اذا راونی۔۔۔۔۔ اطال اللہ غیظھم عضوا من الغیظ اطراف الاباھیم۔
جب انہوں نے مجھے دیکھا تو وہ اپنے انگوٹھوں کے اطراف کو غصے سے کاٹنے لگے۔ اللہ تعالیٰ ان کے غصہ میں اور اضافہ کرے،
کہا جاتا ہے : عض یعض عضا، عضیغا اور العض (عین کے ضمہ کے ساتھ ہو) تو معنی ہے : اس نے اہل امصار کے چوپاؤں کو چارہ ڈالا، مثلا الکسب (کمائی) اور النومی المرضوخ (توڑی ہوئی گٹھلی) اسی سے کہا جاتا ہے : اعض القوم، جب انکے اونٹ گھاس کھانے لگیں، اور بعیر عضاضی، یعنی موٹا تازہ اونٹ گویا اسے اس طرف منسوب کیا گیا ہے اور (عین کے کسرہ کے ساتھ ہو) تو معنی ہے : لوگوں میں سے انتہائی ہوشیار اور انتہائی چالاک، اور عض الانامل یعنی کو کاٹنا سے مراد ایسا فعل ہے جس پر انتہائی غصہ ہو اور آدمی اسے کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، یا ایسے کام میں پڑنا جسے تبدیل کرنے پر آدمی قدرت نہ رکھتا ہو، اور یہ دانتوں کے ساتھ کاٹنا اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ قریب (المرگ آدمی پر ہاتھ کو (دانتوں کے ساتھ) پکڑنا ہوتا ہے اور اسی طرح شرمندہ آدمی کا دانتوں کو ٹکرانا بھی ہوتا ہے، علاوہ ازیں غمزدہ اور پریشان حال آدمی کا زمین پر بیٹھ کر لکیریں لگانا اور کنکریوں کو گننا بھی اسی قبیلے سے ہے، اور یہ عض ضاد ساقطہ کے ساتھ لکھا جاتا ہے، اور عض الزمان ظاء مشالہ کے ساتھ۔
جیسا کہ کسی نے کہا :
وعظ زمان یا بن مروان لم یدع من المال الامسحتا او مجلف۔
اس میں عظ زمان عض الزمان کے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔
الانامل کا واحد انملۃ (میم کے ضمہ کے ساتھ) ہے۔ اور میم کو فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے اور ضمہ زیادہ مشہور ہے۔ اور ابو الجوزاء نے جب یہ آیت تلاوت کی تو اس نے کہا : یہ اباضیہ ہیں۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ صفت قیامت تک آنے والے بہت سے اہل بدعت میں پائی جائے گی،
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل موتوا بغیظکم، ان اللہ علیم بذات الصدور “۔ اگر کہا جائے، وہ کیسے نہیں مرے ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ جب کسی شے کو فرمائے، کن (تو ہوجا) فیکون (تو وہ ہوجاتی ہے) ؟ تو اس کی طرف سے دو جواب دیئے گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے، اس بارے میں مفسرین میں سے علامہ طبری اور کثیر نے کہا ہے : یہ ان کے لئے بددعا ہے۔
یعنی اے محمد ! ﷺ تم فرماؤ تم مسلسل اپنے غصہ میں جلتے رہو یہاں تک کہ تم مر جاؤ، اور اس پر توجیہ یہ ہے کہ آپ ان کے لئے ان کے سامنے اور پیچھے بددعا کرتے رہیں، بخلاف لعنت کرنے کے۔ (1) (تفسیر طبری، کتاب آل عمران، جلد 4، صفحہ 87، اسلام آباد)
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس کا معنی ہے کہ انہیں خبر دے دو کہ وہ اسے بالکل نہ پاسکیں گے جس کے آرزو اور خواہش رکھتے ہیں کیونکہ موت اس کے قریب ہے تو اس معنی کی بنا پر دعا کا معنی زائل ہوگیا اور تقریع اور غصہ دلانے کا معنی باقی رہا اور یہ معنی مسافر بن ابی عمرو کے قول کے ساتھ بھی جاری ہوتا ہے :
و یتمنی فی ارومتنا ونفقا عین من حسدا۔
اور اسی معنی کی طرف یہ قول باری تعالیٰ بھی راہنمائی کرتا ہے :
(آیت) ” من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدنیا والاخرۃ فلیمدد بسبب الی السمآء ثم الیقطع “۔ (الحج : 15)
ترجمہ : اور جو شخص یہ خیال کئے بیٹھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کی مدد نہیں کرے گا نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اسے چاہیے کہ لٹک جائے ایک رسی کے ذریعے چھت سے پھر (گلے میں پھندا ڈال کر) اسے کاٹ دے۔ )
Ayah 3:120آیت نمبر : 120۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان تمسسکم حسنۃ تسؤھم “۔ سلمی نے اسے یا کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے تا کے ساتھ، اور یہ لفظ عام ہے ہر اس سے کو شامل ہے جو اچھی ہو سکتی ہے اور بری ہو سکتی ہے، اور مفسرین نے جو (خصب) شادابی (جدب) خشک سالی، مومنین کا اجتماع اور ان کے درمیان فرقت کا ہونا اور دیگر ان جیسے ان جیسے اقوال مثالیں ذکر کی ہیں اور یہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور آیت میں معنی یہ ہے کہ ہر وہ جس کی یہ حال ہو کہ اس میں شدید عداوت اور حقدوکینہ ہو اور مسلمانوں پر تکالیف آنے کے وقت اسے خوشی اور مسرت ہوتی ہو وہ اس اہل نہیں کہ اسے راز دار بنایا جائے، بالخصوص جہاد جیسے اس امر عظیم میں جو کہ دنیا اور آخرت کا سرمایہ ہے،
کسی کہنے والے نے کتنا خوب کہا ہے :
کل العداوۃ قد ترجی افاق تھا الا عداوۃ من عاداک من حسد :
ہر عدوات اور دشمنی کے ختم ہونے کی امید کی جاسکی ہے سوائے اس کی عداوت کے جس نے تیرے ساتھ حسد کیا۔
(آیت) ” وان تصبروا “۔ اور اگر تم ان کی اذیت رسانی پر صبر کرتے رہو (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 539) اور طاعت اور مومنین کی محبت ودوستی پر صبر کرتے رہو (آیت) ” وتتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا “۔ کہا جاتا ہے : ضارہ یضورہ یضیرہ ضیرا وضورا “۔ پس اللہ تعالیٰ نے صبر اور تقوی کے ساتھ ان کے ضرر اور نقصان کی نفی کی شرط بیان کی ہے اور یہ مومنین کے لئے تسلی اور ان کے دلوں کے لئے باعث تقویت ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں۔۔۔۔ کہ حرمیان اور ابو عمرو نے (آیت) ” لا یضرکم “۔ پڑھا ہے، یہ ضار یضیر سے ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا قول ” لا ضیر “ ہے اور دو ساکن ملنے ک، ی جوہ سے یا کو حذف کردیا گیا، کیونکہ جب را سے ضمہ کو حذف کردیا گیا تو را اور یا دونوں ساکن باقی رہ گئیں لہذا یا کو حذف کردیا گیا اور اسے ہی حذف کرنا اولی ہے، کیونکہ اس کا ماقبل اس پر دلالت کرتا ہے اور کسائی نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ضارہ یضورہ سنا ہے اور انہوں نے (آیت) ” لا یضرکم “ کی اجازت دی ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ کی قرات میں ” لا یضررکم ہے۔ (اور کو فیوں نے لا یضرکم “ را کو ضمہ اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ ضر یضر سے ہے) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ فا کو مضمر ماننے کی تقدیر پر مرفوع ہو اور معنی ہو : فلایضرکم (پس وہ تمہیں نقصان نہ دے گا)
اور اسی کے مطابق شاعر کا قول ہے :
من یفعل الحسنات اللہ یشکرھا۔
(جو نیکیاں کرے گا اللہ تعالیٰ ان کی قدر افزائی فرمائے گا) یہ کسائی اور فراء کا قول ہے، یا یہ تقدیم کی نیت پر مرفوع ہوگا۔
اور سیبویہ نے کہا ہے :
انک ان یصرع اخوک تصرع :
(بلاشبہ تو پچھاڑ دیا جائے گا اگر تیرے بھائی کو پچھاڑ دیا گیا)
آیت کا مفہوم یہ ہوگا لا یضر کم ان تصبروا وتتقوا (تمہارا صبر کرنا اور تمہارا ڈرنا (اور تقوی اختیار کرنا) تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔ ) اور یہ بھی جائز ہے کہ اسے جزم دی جائے اور دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے راء کو ضمہ دیا جائے کیونکہ وہ ضمہ کے بعد واقع ہے، اور اسی طرح فعل مجزوم ہونے کی بنا پر وا کے فتحہ کی قرات بھی ہے اور اجتماع ساکنین کی صورت میں فتحہ کے خفیف حرکت ہونے کہ ویہ سے ” یضرکم “ کو مفتوح پڑھا گیا ہے، اسے ابو زید نے مفضل عن عاصم سے روایت کیا ہے۔
اسے مہدوی نے بیان کیا ہے، اور نحاس نے بیان کیا ہے : اور مفضل ضبی نے عاصم سے (آیت) ” لا یضرکم “۔ گمان کیا ہے کہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے را کو کسرہ دیا گیا ہے۔
Ayah 3:121آیت نمبر : 121 :
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذ غدوت من اھلک “۔ اذ میں عامل فعل مضمر ہے اور تقدیر کلام ہے : واذکر اذ غدوت “ یعنی وہ آپ یاد کرو (اے محبوب) جب آپ صبح سویرے چلے، (آیت) ” من اھلک ‘ اپنے گھر سے ام المومنین “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس مجاہد، حسن، مقاتل، اور کلبی رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : یہ غزوہ خندق کے بارے ہے اور حسن (رح) سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ غزوہ بدر کے بارے ہے اور جمہور کا قول یہ ہے کہ یہ غزوہ احد کے بارے ہے۔ (1) (معالم التنزیل جلد 1 صفحہ 539)
اور اسی پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے :
(آیت) ” اذ ھمت طائفتن منکم ان تفشلا “۔
ترجمہ : جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ ہمت ہار دیں۔
اور یہ بلاشبہ غزوہ احد میں ہوا تھا اور مشرکین نے تین ہزار افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ مدینہ طیبہ پر (چڑھائی کا) قصد کیا تاکہ وہ ان سے غزوہ بدر کی ناکامی اور شکست کا بدلہ وانتقام لیں، پس وہ احد پہاڑ کے نزدیک مدینہ طیبہ کے بالمقابل وادی کے کنارے جا اترے، یہ 3 ھ بارہ شوال بدھ کا دن تھا، ہجرت سے اکتیسواں مہینہ شروع ہوچکا تھا اور وہ جمعرات کے دن وہاں مقیم ہوگئے اور حضور نبی مکرم ﷺ ابھی مدینہ طیبہ میں تھے تو رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی تلوار میں دندانے پڑگئے ہیں اور یہ کہ آپ کے لئے بیل ذبح کیا جا رہا ہے اور یہ کہ آپ نے اپنا دست مبارک محفوظ اور مضبوط زرہ میں داخل کیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایک گروہ شہید کردیا جائے گا اور یہ کہ آپ کے خاندان میں سے ایک آدمی کو بھی شہید کردیا جائے گا اور یہ کہ محفوظ زرہ مدینہ طیبہ ہے۔
اسے مسلم نے نقل کیا ہے (1) (بخاری کتاب المناقب، حدیث 3352، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ سب کچھ اسی کے مطابق ہے جو کچھ اس غزوہ میں سے معروف ومشہور ہے۔ اور تبو کا اصل معنی ہے گھر بنانا، (ٹھکانا، بنانا) بواتہ منزلا، کہا جائے گا جب تو کسی جگہ سکونت اختیار کرے اور اسی معنی میں حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : من کذب علی متعمدا فلیتوبوا مقعدہ من النار (2) (مسلم المقدمہ، جلد 1، صفحہ 7، اسلام آباد) (جس نے عمدا میرے بارے میں جھوٹ بولا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے) یعنی اس میں گھر بنا لے، پس (آیت) ” تبوی المؤمنین “۔ کا معنی ہے آپ ان کے لئے صف بندی کی جگہیں بنا رہے تھے اور بیہقی (رح) نے حضرت انس ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں نے خواب میں دکھا جیسا کہ ایک سونے والا دیکھتا ہے گویا کہ میں پے درپے مینڈھے لا رہا ہوں اور گویا میری تلوار کی دھار ٹوٹ گئی ہے تو میں نے تعبیر یہ کہ میں قوم کے مینڈھے کو قتل کروں گا اور میں نے اپنی تلوار کی دھار ٹوٹنے کی تعبیر یہ کہ کہ میری آل میں سے ایک آدمی شہید کردیا جائے گا۔ “ پس حضرت حمزہ ؓ شہید کردیئے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے طلحہ کو قتل کیا اور وہ (کفار کا) علمبردار تھا، اور موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب سے بیان کیا ہے : مہاجرین کا علمبردار رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی تھا تو اس نے کہا : میں انشاء اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کروں گا جو میرے ساتھ ہے، تو طلحہ بن عثمان جو کہ سعید بن عثمان لخمی کا بھائی تھا اس نے اسے کہا : اے عاصم ! کیا تیرے لئے مقابلے کی طاقت ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں، پس وہ آدمی اس پر تیزی سے جھپٹا اور طلحہ کے سر پر تلوار دے ماری یہاں تک کہ تلوار اس کی داڑھی پر لگی اور اس نے اسے قتل کردیا تو علمبردار کا قتل ہونا رسول اللہ ﷺ کے خواب کی تصدیق ہے کانی مردف کبشا۔