Ayah 3:135آیت نمبر 135۔
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم “۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک صنف کا ذکر کیا ہے اور یہ پہلی صنف (کے لوگوں) سے (درجہ میں) کم ہیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت اور احسان کے ساتھ ان کے ساتھ ملا دیا ہے اور یہ توبہ کرنے والے لوگ ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت عطا کی روایت میں کہا ہے : یہ آیت نبھان التمار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی کنیت ابو مقبل تھی، اس کے پاس ایک حسین و جمیل عورت آئی اس نے اسے کھجوریں فروخت کیں اور پھر اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اس کا بوسہ اور پھر اپنے اس عمل پر نادم اور شرمندہ ہوا تو حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ (1) (اسباب النزول، صفحہ 81)
ابو داؤد طیالسی (رح) نے اپنی مسند میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے فرمایا : مجھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بیان کیا ہے اور ابوبکر نے سچ کہا ہے : کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو بندہ بھی کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر وضو کرتا ہے اور دو رکعت نماز ادا کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرما دیتا ہے ، “ پھر آپ نے آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم “۔ الآیہ۔
اور دوسری یہ آیت۔۔۔ ومن یعمل سؤ او یظلم نفسہ “۔ اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن ہے (2) (جامع الترمذی، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 202، ایضا، جامع ترمذی، کتاب التفسیر من سورة آل عمران، حدیث 2932، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ عام ہے، تحقیق آیت کسی سبب خاص کے تحت نازل ہوتی ہے اور پھر وہ ان تمام کو شامل ہوتی ہے جو وہ کرے یا اس سے زیادہ فعل کرے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک ثقفی ایک غزوہ میں گیا اور اس نے اپنا ایک انصاری دوست اپنے گھر والوں کے پاس چھوڑا، تو اس نے اس میں خیانت کی کہ اس نے اسے دبوچ لیا اور وہ عورت اپنے لئے اسے دور ہٹاتی رہی لیکن اس نے اس کے ہاتھ کا بوسہ لے لیا، پھر وہ اس پر نادم ہوا تو وہ زمین میں چیختے چلاتے نکل گیا وہ اپنے فعل پر انتہائی نادم تھا اور توبہ کر رہا تھا، پس وہ ثقفی واپس آیا تو اس کی زوجہ نے اس کے ساتھی کے فعل کے بارے اسے بتایا تو وہ اس کی تلاش میں نکل پڑا، پس وہ انصاری حضرت ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر فاروق رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاس اس امید سے آیا کہ وہ ان کے پاس کوئی وسعت اور گنجائش پالے گا لیکن انہیں نے اسے خوب جھڑکا اور ڈانٹ ڈپٹ کی، پھر وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ کو اپنے فعل کے بارے میں عرض کی، تو یہ آیت نازل ہوئی (3) (اسباب النزول، صفحہ 82) حدیث کے مطابق عموم ہی اولی اور بہتر ہے۔
اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہم سے زیادہ مکرم تھے، اس حیثیت سے کہ ان میں سے گناہ کرنے والے کی سزا صبح کے وقت اس کے دروازے پر لکھی ہوئی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے گناہ کا کفارہ اس کے گھر کی دہلیز پر لکھ دیا جاتا تھا ‘’ تو اپنی ناک توڑ دے، تو اپنا کان کاٹ لے تو اس طرح کر “۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی اور رحمت فرماتے ہوئے اور بنی اسرائیل کے اس فعل کے عوض یہ آیت نازل فرمائی۔
اور روایت کیا جاتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی، تو ابلیس روپڑا، اور الفاحشۃ کا اطلاق ہر معصیت (گناہ) پر کیا جاتا ہے، حالانکہ اکثر طور پر یہ زنا کے ساتھ خاص ہے یہاں تک کہ حضرت جابر بن عبداللہ اور سدی نے اس آیت میں اس کی تفسیر زنا کے ساتھ ہی کی ہے، اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” او ظلموا انفسھم “۔ میں لفظ او کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ واؤ کے معنی میں ہے اور مراد وہ (گناہ) ہیں جو کبائر میں شامل نہ ہوں۔
ذکروا اللہ “ اس کا معنی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سزا کے خوف سے اور اس سے حیا کرتے ہوئے اس کا ذکر کرنے لگتے ہیں جو ضحاک (رح) نے کہا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑی پیشی کا ذکر کرتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دل میں یہ فکر کرنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اس کے بارے پوچھے گا، اسے کلبی اور مقاتل نے بیان کیا ہے۔
اور مقاتل سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ گناہ ہوجانے کے وقت زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ (آیت) ” فاستغفروا لذنوبھم “۔ یعنی وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ہر وہ دعا جس میں یہ معنی ہو یا اس کے الفاظ ہوں تو وہ استغفار کہلاتا ہے، اس سورة کی ابتداء میں سید الاستغفار کا ذکر ہوچکا ہے، اور یہ کہ اس کا وقت سحری کا ہے، پس استغفار عظیم ہے اور اس کا ثواب بہت بڑا ہے حتی کہ ترمذی نے حضور نبی کریم ﷺ سے حدیث ذکر کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ” جس نے یہ کہا، استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ (1) تو اس کو بخش دیا جائے گا اگرچہ وہ میدان جہاد سے ہی بھاگا ہو۔ “
اور مکحول نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا :” میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ استغفار کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا “۔ اور حضرت مکحول نے کہا ہے : میں نے کہا ہے : میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے زیادہ استغفار کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، اور حضرت مکحول ؓ خود بھی کثیر الاستغفار تھے، ہمارے علماء نے کہا ہے : مطلوب استغفار وہ ہے وجو اصرار کی گرہ کو کھول دیتا ہے، اور اس کا معنی دل میں ثبت ہوجاتا ہے نہ کہ صرف زبان سے تلفظ کرنا ہے پس جس نے اپنی زبان سے کہا : استغفر اللہ، اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی معصیت ونافرمانی پر مصر رہا تو اس کا یہ استغفار مزید استغفار کا محتاج ہوتا ہے اور اس کے صغیرہ گناہ کبائر کے ساتھ مل جاتے ہیں، اور حضرت حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہمارا استغفار مزید استغفار کا محتاج ہوتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ آپ یہ قول اپنے زمانے میں کہتے تھے تو ہمارے اس زمانے میں کیفیت کیا ہوگی جس میں انسان ظلم وستم پر منہ کے بل گرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور اس پر ایسا حریص ہے کہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور تسبیح اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے درآنحالیکہ یہ گمان کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے گناہ کی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کر رہا ہے اور یہ اس کی طرف سے استہزا اور استخفاف (حقیر سجھنا) ہے اور قرآن کریم میں ہے
(آیت) ” ولا تتخذوا ایات اللہ ھزوا “۔
ترجمہ : اور تم اللہ تعالیٰ کی آیات کو تمسخر نہ بناؤ) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن یغفرالذنوب الا اللہ “۔ یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں ہے جو گناہوں کی مغفرت فرما دے اور ان کی سزا کو زائل کر دے۔
(آیت) ” ولم یصروا “۔ یعنی جو کچھ انہوں نے کہا اس پر وہ ثابت قدم نہیں ہوجاتے اور نہ اس کا پختہ عزم کرتے ہیں، اور حضرت مجاہد نے کہا ہے : یعنی وہ اس پر ہمیشگی اور دوام اختیار نہیں کرتے، اور معبد بن صبیح نے کہا ہے : میں نے حضرت عثمان ؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری ایک جانب علی ؓ تھے، پس آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی ہے پھر آپ گئے اور وضو کیا اور پھر نماز پڑھائی، (آیت) ” ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون “۔ اصرار کا معنی ہے ھو العزم بالقلب علی الامر وترک الاقلاع عنہ، یعنی کسی کام پر دل سے پختہ عزم کرنا اور اس سے باز رہنے کو ترک کرنا، اور اسی سے صر الدنانیر ہے یعنی انہیں مضبوط باندھنا،
حطیئہ نے گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے :
عوابس بالثعث الکماۃ اذا ابتغوا غلال تھا بالمحصدات اصرت :
یعنی وہ اپنے دشمنوں کے خلاف ثابت قدم رہے۔
اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : الاصرار الثبوت علی المعاصی، یعنی اصرار سے مراد گناہوں پر ثابت ہونا اور ڈٹ جانا ہے،
شاعر نے کہا ہے :
یصر باللیل ما تخفی شواکلہ یا ویح کل مصر القلب خثار :
اس میں اصرار کا لفظ مذکورہ معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔
سہل بن عبداللہ نے کہا ہے : جاہل مردہ ہے، بھولنے والا سونے والا ہے، اور گناہ کرنے والا نشے میں ہے اور اصرار کرنے والا ہلاک ہونے والا ہے اور اصرار کا معنی بار بار کرنا ہے یعنی وہ یہ کہتا رہے کہ میں کل توبہ کروں گا ؟ اور یہ نفس کا دعوی ہے وہ آنے والے کل کیسے توبہ کرے گا جب کہ وہ اس کا مالک ہی نہ ہوگا۔
اور سہل کے سوا کسی اور نے کہا ہے : اصرار کا معنی ہے کہ وہ توبہ نہ کرنے کی نیت کرے اور جب وہ خالص توبہ کی نیت کرے گا تو اصرار سے نکل جائے گا، اور سہل کا قول احسن ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : لاتوبۃ مع اصرار (یعنی (گناہ پر) اصرار کے ساتھ کوئی توبہ نہیں ہے)
مسئلہ نمبر : (3) ہمارے علماء نے کہا ہے : توبہ پر ابھارنے والی اور اصرار کو حل کرنے والی (شے) کتاب اللہ العزیز الغفار میں دائمی غوروفکر کرنا ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس میں جنت اور اطاعت کرنے والوں کے ساتھ وعدوں کی تفصیل ذکر کی ہے اور جو کچھ اس میں عذاب جہنم اور گنہگاروں کو ڈرانے کا بیان کیا ہے اور وہ اس پر ہمیشہ غوروفکر کرتا رہے یہاں تک کہ اس کا خوف اور امید قوی ہوجائے اور وہ رغبت رکھتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے اور یہ رغبت اور رہبت ہی خوف اور رجاء کا ثمرہ اور نتیجہ ہے، وہ سزا سے خوفزدہ رہتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی راہ صواب کی توفیق دینے والا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلاشبہ اس پر ابھارنے والی وہ تنبیہ الہی ہے جس کے ساتھ وہ اسے متنبہ کرتا ہے جس کے لئے وہ سعادت کا ارادہ کرے اور گناہوں کے قبیح اور ضرر کا کیونکہ وہ تو ہلاک کرنے والا زہر ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ی اختلاف لفظ میں ہے نہ کہ معنی میں، کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور وعید میں اس کی تنبیہ کے بغیر غوروفکر نہیں کرتا پس جب بندہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اپنے آپ کی طرف دیکھتا ہے تو وہ اپنے نفس کو ان گناہوں سے بھرا ہوا پاتا ہے جو اس نے کمائے ہیں اور ان برائیوں سے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور پھر اس کوتاہی اور سستی پر اس میں ندامت اور شرمندگی کے جذبات ابھر آتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی سزا کے خوف سے سابقہ اعمال کی مثل اعمال کرنا چھوڑ دیتا ہے تو ایسے آدمی پر یہ صادق آتا ہے کہ وہ تائب (توبہ کرنے والا) ہے اور اگر اس طرح نہ ہو تو پھر وہ معصیت پر اصرار کرنے والا ہوگا اور ہلاکت کے اسباب کو لازم پکڑنے والا ہوگا۔
سہل بن عبداللہ نے کہا ہے : تائب کی علامت یہ ہے کہ گناہ اسے کھانے پینے سے مشغول رکھے جیسا کہ وہ تین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (1) (صحیح بخاری، باب حدیث کعب ابن مالک، حدیث نمبر 4066، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وھم یعلمون “ اس میں کئی اقوال ہیں پس کہا گیا ہے : یعنی وہ اپنے گناہوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان سے توبہ کرتے ہیں، نحاس نے کہا ہے : یہ اچھا قول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور وہ جانتے ہیں کہ میں اصرار پر سزا دوں گا اور عبداللہ بن عبید بن عمیر نے کہا ہے : اور وہ جانتے ہیں کہ میں اصرار پر سزا دوں گا اور عبداللہ بن عبید بن عمیر نے کہا ہے : اور وہ جانتے ہیں کہ میں اصرار پر سزا دوں گا اور عبداللہ بن عبید بن عمیر نے کہا ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالے۔ اور یہ قول بھی ہے : یہ جانتے ہیں جو میں نے ان پر حرام کی ہیں یہ ابن اسحاق نے کہا ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ ، حسن ؓ مقاتل ؓ اور کلبی رحمۃ اللہ علیہتمام نے کہا ہے : اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اصرار تکلیف دہ ہے اور اسے چھوڑ دینا سرکشی کی نسبت بہتر ہے، اور حسن بن فضل نے کہا ہے : اور وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب ہے جو گناہ کو بخش دیتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : انہوں نے یہ معنی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے لیا ہے وہ حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ اپنے رب کریم سے اسے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بندہ ایک گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ ! میرا گناہ بخش دے تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ کو معاف فرما دیتا ہے اور گناہ کے سبب وہ پکڑ لیتا ہے پھر وہ لوٹتا ہے اور گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، اور کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! میرے لئے میرا گناہ بخش دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی کی مثل دو بار ذکر کیا اور آخر میں فرمایا : اعمل ما شئت فقد غفرت لک “۔ تو جو چاہے عمل کر میں نے تجھے بخش دیا (1) (مسلم، کتاب التوبہ جلد 2، صفحہ 357، کراچی، ایضا صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث نمبر 6952، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے مسلم نے نقل کیا ہے، اس میں اس پر دلیل موجود ہے کی دو بار گناہ کرکے توبہ کو توڑنے کے بعد دوبارہ توبہ کرنا صحیح ہے۔
کیونکہ پہلی توبہ طاعت ہے وہ گزر چکی ہے اور صحیح ہے اور دوسرا گناہ سرزد ہونے کی وجہ سے اب وہ دوسری نئی توبہ کا محتاج ہے اور گناہ کی طرف لوٹنا اگرچہ اس کی ابتدا سے زیادہ قبیح ہے، کیونکہ گناہ کی نسبت توڑنے کی طرف ہے، تو توبہ کی طرف لوٹنا اس کی ابتدا سے زیادہ اچھا ہے، کیونکہ اس کی طرف کریم اور سخی کے دروازے کو التجا کے اصرار کے ساتھ لازم پکڑنے کی نسبت ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔
اور حدیث کے آخر میں یہ قول ” اعمل ما شئت “ یہ امر ہے اور اس کا معنی ایک قول کے مطابق اکرام (عزت کرنا) ہے پس یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے باب سے ہوجائے گا۔
(آیت) ” ادخلوھا بسلم “۔ (ق : 34)
ترجمہ ؛ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی سے۔
کلام کا آخر مخاطب کی حالت کے بارے خبر ہے کہ اس کے سابقہ گناہوں سے اس کی مغفرت کردی گئی ہے اور وہ اپنے مستقبل کے کاموں میں انشاء اللہ محفوظ ہوگا۔
آیت اور حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ گناہ کے اعتراف اور اس سے استغفار کرنے کا عظیم فائدہ ہے، حضور ﷺ نے فرمایا : ان العبد اذا اعترف بذنبہ ثم تاب الی اللہ تاب اللہ علیہ (2) (صحیح بخاری، کتاب المغازی باب حدیث الافک، جلد 2، صفحہ 596، اسلام آباد صحیح بخاری، کتاب الشہادات، حدیث 2467، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کرلے پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ ) اسے صحیحین نے روایت کیا ہے۔
اور کسی شاعر نے کہا ہے :
یستوجب العفو الفتی اذا اعترف بما جنی من الذنوب واقترف :
نوجوان عفو درگزر کو واجب کرلیتا ہے جب وہ ان گناہوں کا اعتراف کرے جن کا ارتکاب اس نے کیا۔
اور ایک دوسرے نے کہا ہے :
اقرر بذنبک ثم اطلب تجاوزہ ان الجحود جحود الذنب ذنبان :
اپنے گناہ کا اقرار کر پھر اس سے درگزر کرنے کا مطالبہ کر بلاشبہ گناہ کا انکار کرنا دو گناہ ہیں۔
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو یقینا اللہ تعالیٰ تمہیں لے جائے (ختم کر دے) اور ایک ایسی قوم لے آئے جو گناہ کریں گے اور استغفار کریں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا۔ (والذی نفسی بیدہ لولم تذنبوا الذھب اللہ بکم ولجاء بقوم یذنبون ویستغفرون فیغفرلھم) (1) (مسلم کتاب التوبہ، جلد 2، صفحہ 355، آرام باغ کراچی) اور اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی غفار اور تواب کا یہی فائدہ ہے، ہم نے اسے ” الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی “ میں بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) گناہ وہ ہیں جن سے توبہ کی جاسکتی ہے چاہے وہ کفر ہو یا اس کے سوا کوئی اور پس کافر کی توبہ اس کا ایمان لانا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ وہ اپنے سابقہ کفر پر نادم بھی ہو، صرف ایمان لانا نفس توبہ نہیں ہے اور اگر گناہ کفر کے علاوہ ہو تو پھر یا تو وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوگا یا وہ کسی بندے کا حق ہوگا، پس حقوق اللہ میں سے ہونے کی صورت میں توبہ کے لئے اسے چھوڑ دینا کافی ہوتا ہے، سوائے ان کے جن میں شریعت نے صرف ترک کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان میں سے بعض کی طرف قضا کی نسبت کی ہے جیسا کہ نماز اور روزہ وغیرہ۔ اور ان میں بعض وہ ہیں جن کی طرف کفارہ کی نسبت کی ہے جیسا کہ قسم توڑ دینا اور ظہار وغیرہ میں، اور رہے حقوق العباد تو انہیں ان کے مستحقین تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر وہ نہ پائے جائیں تو ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے گا۔ اور جو کوئی تنگدستی کے سبب اس کی وسعت نہ پائے جو اس کے ذمہ واجب الاداء ہے تو پھر معاف فرمانا اللہ تعالیٰ کا معمول ہے اور اس کا فضل وافر ہے، پس کتنے تبعات کا وہ ضامن بنا ہے اور اس نے سیئات کو حسنات سے بدل دیا ہے، عنقریب کا مزید بیان آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (6) انسان پر یہ لازم نہیں ہے کہ جب اسے اپنا گناہ یاد نہ ہو اور وہ اسے نہ جانتا ہو کہ وہ اس معین گناہ کی طرف سے توبہ کرے، بلکہ اس پر یہ لازم ہے کہ جب اسے گناہ یاد آجائے تو وہ اس سے توبہ کرلے، اور بہت سے لوگوں نے اس میں تاویل کی ہے جو ہمارے شیخ ابو محمد عبدالمعطی الاسکندر رانی ؓ نے ذکر کیا ہے کہ امام محاسبی (رح) یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اجناس معاصی سے توبہ کرنا صحیح نہیں ہوتا اور ویہ کہ ان تمام پر نادم ہونا کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے جوارح کے ہر فعل سے اور اپنے دل کے ہر عقیدہ سے معین طور پر توبہ کرے، انہوں نے ان کے قول سے یہی گمان کیا ہے، حالانکہ یہ ان کی مراد نہیں ہے اور نہ ان کا کلام اس کا تقاضا کرتا ہے، بلکہ مکلف کا حکم یہ ہے کہ جب وہ اپنے افعال کا حکم پہچان لے اور معصیت کو غیر سے پہچان لے، تو اس کے لئے ان تمام سے توبہ کرنا صحیح ہے جنہیں اس نے پہچان لیا، کیونکہ اگر اس نے اپنی ماضی کے فعل کے گناہ ہونے کو کہ پہچانا تو اس کے لئے اس سے توبہ کرنا ممکن نہ ہوگا نہ انفرادا اور نہ تفصیلا، اس کی مثال وہ آدمی ہے جو سود کے دروازوں میں سے کسی دروازے کو لے لیتا ہے اور وہ یہ نہیں پہچانتا کہ یہ ربوا ہے، پھر جب اس نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین، فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔ (البقرہ :)
ترجمہ : اے ایمان والو ! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود سے اگر تم (سچے دل سے) ایماندار ہو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اعلان جنگ سن لو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے)
تو اس پر یہ تہدید انتہائی شدید ثابت ہوئی اور اس کا گمان تھا کہ وہ سود سے سالم اور محفوظ ہے، لیکن اب اسے سود کی حقیقت کا علم ہوا پھر وہ اپنے گزرے ہوئے دنوں کے بارے میں متفکر ہوا یا اور اس نے جان لیا کہ وہ سابقہ دنوں میں سود میں سے بہت سی چیزیں لیتا رہا ہے، تو اب اس پر صحیح ہے کہ وہ ان تمام پر نادم ہو، اس کے اوقات کی تعیین اس پر لازم نہیں، اور اسی طرح ان تمام گناہوں اور برائیوں کا حکم ہے جن میں وہ واقع ہوتا رہا ہے، مثلاغیبت، چغلخوری اور ان کے علاوہ وہ محرمات جن کے حرام ہونے کا اسے علم نہیں تھا، پس جب فقاہت حاصل کرلے، اور اس کے کلام میں سے جو گزر چکا ہے اسے تلاش کرلے تو وہ مجموعی طور پر اس سے توبہ کرلے، اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے جس میں اسے کوتاہی ہوئی ہے اس پر اظہار ندامت کرے، اور جب اس نے حلال سمجھا اسے جو اس پر ظلم تھا تو اس نے مجموعی طور پر اسے حلال قرار دیا اور اس کا نفس اپنا حق چھوڑنے کے ساتھ خوش رہا تو یہ جائز ہے، کیونکہ یہ مجہول شے ہبہ کرنے کے باب سے ہے، یہ بندے کے بخل اور اپنے حق کی طلب پر اس کی حرص کے ساتھ ساتھ ہے، تو پھر اس اکرم الاکرمین کے بارے کیفیت کیا ہوگی، جو طاعات اور انکے اسباب عطا فرمانے والا ہے اور صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے ؟ ہمارے شیخ (رح) نے کہا ہے : یہ امام کی مراد ہے اور یہی وہ معنی ہے جس پر ان کا کلام دلالت کرتا ہے اس کے لئے جس نے اس کی تلاش کی اور جو یہ گمان کرنے والے نے گمان کرلیا ہے کہ ندامت صحیح نہ ہوگی مگر ہر معین اور ہر معینہ حرکات و سکنات پر تو یہ تکلیف مالایطاق کے باب سے ہے، جو شرعا واقع نہیں ہے اگرچہ عقلا جائز ہے، اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ یہ پہچان رکھتا ہو کہ شراب پیتے وقت اس نے کتنے گھونٹ پیئے ہیں، اور زنا کرتے وقت اس نے کتنی بار حرکت کی ہے اور حرام کی طرف چلتے ہوئے اس نے کتنے قدم چلے ہیں اور یہ ایسی شے ہے جس کی کوئی بھی طاقت نہیں رکھتا اور رہی اس سے تفصیلا توبہ کرنے کا حکم آیا ہے۔ اس بارے میں توبہ کے احکام اور اس کی شرائط کا مزید بیان سورة النساء وغیرہا میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (7) قول باری تعالیٰ (آیت) ” ولم یصروا “ میں اس پر واضح ججت اور قطعی دلیل موجود ہے کہ یہ اس کے لئے ہے جو کچھ اس نے زبان سے کہا، اور لسان الامۃ القاضی ابوبکر بن طیب نے کہا ہے کہ انسان کا اس کے سبب بھی مواخذہ کیا جائے گا جس پر اس نے اپنے ضمیر کو ثابت اور پختہ کرلیا اور جس برائی کا اس نے اپنے دل سے عزم مصمم کرلیا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : قرآن کریم میں ہے۔
(آیت) ” ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم “۔ (الحج)
ترجمہ : اور جو ارادہ کرے اس میں زیادتی کا ناحق تو ہم اسے چکھائیں گے دردناک عذاب۔
اور مزید فرمایا :
(آیت) ” فاصبحت کالصریم “۔ (القلم)
ترجمہ : چناچہ (لہلہاتا) باغ کٹے ہوئے کھیت کی مانند ہوگیا۔
پس انہیں ان کے پختہ عزم کے سبب ان کے فعل سے پہلے ہی سزا دے دی گئی اور اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور بخاری شریف میں ہے ” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے آتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔ “ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اس قاتل کے بارے میں تو سمجھ آئی لیکن مقتول نے کیا کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ بھی تو اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا۔ “ (1) (صحیح بخاری، کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 1049، اسلام آباد)
پس آپ ﷺ نے وعید کو حرص کے ساتھ معلق کیا ہے اور یہ عزم اور پختہ ارادہ ہی ہے اور ہتھیار کے اظہار کو لغو کردیا ہے۔ اور اس سے زیادہ نص وہ ہے جسے ترمذی نے نقل کیا ہے ابو کبثہ انماری کی حدیث سے، اور اسے صحیح مرفوع قرار دیا ہے۔ ” بیشک دنیا چار قسم کے آدمیوں کے لئے ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور علم عطا فرمایا اور وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا رہتا ہے اور اس میں صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے حق کو جانتا ہے تو یہ افضل ترین مقام و مرتبہ پر ہوگا اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا اور اسے مال نہ دیا اور وہ (نیت کے اعتبار سے صادق اور سچا ہو) اور وہ یہ کہتا ہو اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں اس میں فلاں آدمی کے عمل کی طرح عمل کرتا اور اس نے اس کی نیت کی تو ان دونوں کا اجر برابر ہوگا اور تیسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور اسے علم نہیں دیا اور وہ (اپنے مال میں بغیر علم کے تصرف کرتا ہے) اور اس میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا، اور نہ وہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی حق جانتا ہے تو وہ اخبث اور رذیل درجہ میں ہوگا اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے نہ مال عطا فرمایا اور نہ ہی علم اور وہ کہتا ہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں یقینا اس میں فلاں آدمی کے عمل کی طرح عمل کرتا اور وہی اس کی نیت ہو تو دونوں کا بوجھ برابر ہوگا۔ (1) (جامع الترمذی، کتاب الزہد، جلد 2 صفحہ 56، اسلام آباد، صفحہ 507، لاہور)
اور یہ وہ ہے جس کی طرف قاضی گئے ہیں اور اسی پر عام سلف اور اہل علم فقہاء محدثین اور متکلمین ہیں، اور اس کے خلاف جس نے یہ گمان کیا ہے کہ جس شے کا انسان قصد کرتا ہے اگرچہ وہ اس پر ثابت اور پختہ ہوجائے تو صرف ارادہ کے سبب اس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اس کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی اور اس کے لئے حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد میں کوئی حجت نہیں ہے : ” جس نے گناہ کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو اس کے بارے کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر اس کے مطابق عمل کیا تو اس پر ایک گناہ لکھا جائے گا (2) (مسلم، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السموات وفرض الصلوات جلد 1، صفحہ 91، آرام باغ کراچی) کیونکہ فلم یعملھا کا معنی ہے : اور اس نے اس پر عمل کرنے کا ارادہ نہ کیا، اور اس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے ذکر کی ہے، اور فان عملھا کا معنی ہے : اگر اس نے اسے ظاہر کیا یا اس کا ارادہ کیا، اور اس کی دلیل بھی وہی ہے جو ہم نے بیان کردی ہے۔ وباللہ توفیقنا۔
Ayah 3:136آیت نمبر : 136۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم کے ساتھ گناہوں کی بخشش کو ان کے لئے لازم کیا ہے جو اپنی توبہ میں مخلص ہیں اور اپنے گناہ پر مصر نہیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قصہ احد کے ساتھ متصل ہو، یعنی جو بھاگے پھر توبہ کرلی اور اصرار نہ کیا تو ان کے لئے مغفرت ہے۔
Ayah 3:137آیت نمبر : 137۔
یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنین کے لئے تسلی ہے، اور سنن سنۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد صراط مستقیم ہے، (کہا جاتا ہے) فلان علی السنۃ یعنی فلاں سیدھے راستے پر ہے وہ خواہشات نفسانی میں سے کسی شے کی طرف جھکتا نہیں۔
ہذلی نے کہا ہے :
فلا تجزعن من سنۃ انت سر تھا فاؤل راض سنۃ من یسیرھا :
تو اس راستے سے خوفزدہ اور پریشان نہ ہو جس پر تو چلا کیونکہ جو اس پر چلتا ہے وہ پہلے اس راستے سے راضی ہوتا ہے۔
اور سنۃ سے مراد وہ امام ہے جس کی اتباع اور اقتدا کی جائے، کہا جاتا ہے : سن فلان سنۃ حسنۃ وسیئۃ جب وہ کوئی ایسا کام کرے جس کی اقتدا اور پیروی کی جائے اس میں خیر ہو یا شر۔
لبید نے کہا ہے :
من معشر سنت لھم اباؤھم ولکل قوم سنۃ وامامھا :
اہل خانہ کے لئے انکے آباء نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور ہر قوم کے لئے مقتدا اور ان کا امام ہے۔
اور سنۃ سے مراد امت اور سنن سے مراد امم ہیں یہ معنی مفضل سے منقول ہے۔
اور اس نے شعر کہا ہے :
ماعاین الناس من فضل کفضلھم ولا راوا مثلھم فی سالف السنن :
لوگوں نے ان کے فضل کی طرح کوئی فضل نہیں دیکھا اور نہ انکی مثل سابقہ امتوں میں کوئی دیکھا۔
اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی اہل سنن ہیں، اور مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔
اور ابو زید نے کہا ہے : مراد امثال ہیں، عطا کا قول ہے ،: مراد شرائع ہیں، حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے (آیت) ” قد خلت من قبلکم سنن “۔ یعنی ہلاکت کے ساتھ ان میں گزر چکی ہیں جنہیں نے تم سے پہلے جھٹلایا ہے جیسا کہ قوم عاد اور ثمود اور العاقبۃ کا معنی ہے : کسی امر کا آخر یعنی انجام : اور یہ احد کے دن میں ہوا، وہ فرماتا ہے، پس میں انہیں مہلت دوں گا اور میں انہیں ڈھیل دیتا رہوں گا اور میں ان کے لئے تدبیر اپناتا رہوں گا یہاں تک کہ لکھی ہوئی تقدیر اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائے گی، یعنی حضور نبی مکرم ﷺ اور مومنین کی نصرت ومدد کے ساتھ اور ان کے دشمن کافروں کو ہلاک کرنے کے ساتھ۔
Ayah 3:138آیت نمبر : 138۔
یعنی یہ قرآن ایک بیان ہے حسن وغیرہ سے یہ منقول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس قول کی طرف اشارہ ہے : (آیت) ” قد خلت من قبلکم سنن “ اور الموعظۃ کا معنی وعظ (نصیحت) ہے اور اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
Ayah 3:139آیت نمبر : 139۔
غزوہ احد میں مومنین کو اپنے شہداء اور زخمی ہونے والے افراد کے سبب جو تکلیف اور غم لاحق ہوا اس آیت میں اس پر انہیں حوصلہ اور تسلی دلائی جا رہی ہے، اور اس میں انہیں اپنے دشمن کے خلاف جہاد پر ابھارا جارہا ہے اور انہیں عجز اور بزدلی دکھانے سے منع کیا جارہا ہے، پس فرمایا (آیت) ” ولا تھنوا “۔ یعنی اے اصحاب محمد ﷺ کمزوری نہ دکھاؤ اور اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کرنے سے بزدلی کا اظہار نہ کرو اس تکلیف کی وجہ سے جو تمہیں پہنچی۔
(آیت) ” ولا تحزنوا “ اور اپنی پشتوں پر غم سوار نہ کرو، اور نہ ہی اس ہزیمت اور مصیبت کے سبب غمزدہ ہو جو تمہیں پہنچی، (آیت) ” ان کنتم مؤمنین “۔ یعنی اگر تم میرے وعدہ کی سچائی کے ساتھ ایمان رکھتے ہو، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان بمعنی اذ ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : رسول اللہ ﷺ کے اصحاب احد کے دن شکست خوردہ ہوئے پس ہم ان کے درمیان اسی طرح تھے کہ اچانک خالد بن ولید مشرکین گھوڑ سواروں کے ساتھ آگیا، وہ چاہتا تھا کہ وہ ان پر پہاڑ کی جانب سے حملہ آور ہو اور غالب آئے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے دعا مانگی : ” اے اللہ ! وہ ہم پر غالب نہ آئے اے اللہ ! تیرے سوا ہماری کوئی قوت نہیں اے اللہ ! اس جماعت کے سوا اس شہر میں کوئی تیری عبادت نہیں کرے گا ، “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور مسلمان تیر اندازوں کا ایک گروہ اکٹھا ہوا اور وہ پہاڑ پر چڑھ گئے اور انہوں نے مشرک گھوڑ سواروں پر تیر برسائے یہاں تک کہ انہیں شکست سے دو چار کردیا، پس اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وانتم الاعلون “۔ (1) یعنی احد کے بعد تم ہی دشمن پر غالب رہو گے، پس اس کے بعد انہوں نے کوئی لشکر نہیں بھیجا مگر انہیں ہر اس جنگ میں کامیابی و کامرانی نصیب ہوئی جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ہوئی اور ہر اس جنگ میں جو رسول اللہ کے بعد ہوئی اور اس میں صحابہ کرام میں سے کوئی ایک بھی ہوا تو ظفر وفتح ان کا مقدر بنی، اور یہ تمام شہر رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے عہد میں ہی فتح ہوئے، پھر ان کے ختم ہوجانے کے بعد اس طرح کوئی شہر بھی فتح نہیں ہوا جس طرح وہ اس وقت میں فتح کرتے تھے، اس آیت میں اس امت کی فضیلت کا بیان ہے، کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ خطاب فرمایا ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو خطاب فرمایا ہے، کیونکہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا :
(آیت) ” انک انت الاعلی “۔ (طہ)
ترجمہ : یقینا تم ہی غالب رہو گے۔
اور اس امت کو فرمایا : (آیت) ” وانتم الاعلون “۔ اور یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی الاعلی سے مشتق ہے پس اس کی ذات پاک اور بلند ہے اور مومنین کے لئے فرمایا (آیت) ” وانتم الاعلون “۔
Ayah 3:140آیت نمبر : 140۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یمسسکم قرح “۔ قرح کا معنی زخم، چوٹ ہے اس میں کسائی اور اخفش سے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ دونوں لغتیں منقول ہیں (یعنی قرح اور قرح) مثلا عقر اور عقر۔ اور فراء نے کہا ہے : فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی زخم ہے اور ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی زخم کا درد ہے، اور معنی یہ ہے کہ اگر احد کے دن تمہیں زخم لگا ہے تو بدر کے دن (تمہاری دشمن) قوم کو بھی اسی کی مثل زخم لگا ہے، اور محمد بن سمیقع نے مصدر کی بنا پر فا اور را کے فتحہ کے ساتھ قرح پڑھا ہے۔ (آیت) ” وتلک الایام نداولھا بین الناس “۔ کہا گیا ہے : یہ جنگ میں ہوتا ہے، ایک بار مومنین کے لئے ہوتی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فرمائے، اور ایک بار کافروں کے لئے ہوتی ہے جب مومنین نافرمانیاں کرنے لگیں تاکہ وہ انہیں آزمائش میں ڈالے اور ان کے گناہوں کو کم کرے اور رہی یہ صورت کہ جب وہ نافرمانیاں نہ کریں تو پھر یقینا اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی غالب آتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” نداولھا بین الناس “۔ ہم پھراتے رہتے ہی لوگوں کے درمیان خوش اور غم، صحت اور بیماری، اور خوشحالی اور تنگدستی کو اور الدولۃ کا معنی ہے ایک بار۔
شاعر نے کہا ہے :
قیوم لناویوم علینا ویوم نساء ویوم نسر “
پس ایک دن ہمارے حق میں ہوتا ہے اور ایک دن ہمارے خلاف اور کبھی ہمیں اذیت دی جاتی ہے اور کبھی ہمیں خوش کیا جاتا ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ولیعلم اللہ الذین امنوا “ اس کا معنی ہے : بلاشبہ یہ پھرنا اس لئے ہے تاکہ مومن کو منافق سے (جدا) دکھایا جائے اور ان میں سے بعض کو بعض سے ممتاز کیا جاسکے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما اصابکم یوم التقی الجمعن فباذن اللہ ولیعلم المؤمنین، ولیعلم الذین نافقوا “۔ (آل عمران) اور یہ بھی کہا گیا ہے تاکہ وہ مومنین کے صبر کو جان لے، (یعنی) ایسا علم جس پر جزا واقع ہوگی، جیسا کہ انہیں مکلف بنانے سے پہلے اس کا غیبی علم ہے، یہ معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویتخذ منکم شھدآء “۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویتخذ منکم شھدآء “۔ یعنی وہ تمہیں شہادت کے ساتھ تکریم اور اعزاز عطا فرمائے، یعنی تاکہ ایک قوم (جماعت) قتل کی جائے اور وہ لوگوں پر اپنے اعمال کے سبب گواہ ہوجائیں، اور کہا گیا ہے کہ اسی وجہ سے اسے شہید کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اسے شہید اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ جنت اس کے لئے حاضر کردی جاتی ہے، اور یہ قول بھی کہ اس کا نام شہید اس لئے ہے کیونکہ ان کی ارواح دارالسلام میں حاضر ہیں، کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ اور انکے سوا دوسروں کی ارواح جنت تک نہیں پہنچتی ہیں، پس شہید بمعنی شاہد ہے یعنی جنت کے لئے حاضر ہونے والا، آنے والے بیان کے مطابق یہی صحیح معنی ہے، اور شہادت کی فضیلت بہت عظیم ہے، اور تیرے لئے اس کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کافی ہے :
(آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم “۔ الآیہ (التوبہ : 111)
ترجمہ : یقینا اللہ نے خرید لی ہیں ایمانداروں سے ان کی جانیں اور انکے مال اس عوض میں کہ ان کے لئے جنت ہے)
اور اللہ تعالیٰ کا یہ اور ارشاد :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم، تؤمنون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ذلکم خیرلکم ان کنتم تعلمون، یغفرلکم ذنوبکم ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر ومسکن طیبۃ فی جنت عدن، ذلک الفوز العظیم “۔ (الصف)
ترجمہ : اے ایمان والو ! کیا میں آگاہ کروں تمہیں ایسی تجارت پر جو بچا لے تمہیں درد ناک عذاب سے (وہ تجارت یہ ہے) تم ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔۔۔ یہی بڑی کامیابی ہے)
اور صحیح البستی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” شہید قتل سے اتنی ہی تکلیف پاتا ہے جتنی تم میں سے کوئی پھوڑے سے پاتا ہے۔ (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الجہاد، صفحہ 206، اسلام آباد) اور نسائی نے بیان کیا ہے کہ راشد بن سعد ؓ سے حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی سے روایت کیا ہے کہ کسی آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ مومنین کو کیا ہوا ہے کہ سوائے شہید کے انہیں اپنی قبروں میں آزمائش اور فتنہ میں ڈالا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس کے سر پر تلواروں کی چمک فتنہ اور آزمائش کے لئے کافی ہے (2) ’(سنن نسائی، کتاب الجنائز، جلد 1 صفحہ 289، اسلام آباد) اور بخاری میں ہے : مسلمانوں میں سے احد کے دن جو شہید کئے گئے ، “ ان میں سے حضرت حمزہ، ؓ یمان، ؓ نضر بن انس ؓ ، مصعب بن عمیر ؓ ، ہیں، عمرو بن علی نے مجھے بیان کیا ہے کہ معاذ بن ہشام نے کہا : میرے باپ نے حضرت قتادہ ؓ سے مجھے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہم قبائل عرب میں سے کوئی ایسا قبیلہ نہیں جانتے جس میں انصار سے بڑھ کر شہید ہوں اور قیامت کے دن وہ ان سے زیادہ عزت والا ہو۔
حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا ہے : اور ہمیں حضرت انس بن مالک ؓ نے بتایا ہے کہ ان میں سے احد کے دن ستر آدمی شہید کے گئے اور بئر معونہ کے دن ستر اور یمامہ کے دن بھی ستر (آدمی شہید کئے گئے) فرمایا : بئرمعونہ کا واقعہ حضور نبی مکرم ﷺ کے عہد میں ہوا، اور جنگ یمامہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے عہد میں مسیلمہ کذاب سے لڑی گئی، (3) (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 584، آرام باغ کراچی) اور حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو لایا گیا اور آپ کے جسم پر نیزے تلوار اور تیر کے ساٹھ کے قریب زخم تھے تو حضور نبی مکرم ﷺ ان پر دست مبارک پھیرنے لگے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اس طرح جڑنے اور مندمل ہونے لگے گویا وہ تھے ہی نہیں۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ (آیت) ” ویتخذ منکم شھدآء “ اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ ارادہ امر کا غیر ہے۔ (یعنی دونوں علیحدہ علیحدہ ہیں) جیسا کہ اہل السنۃ یہی کہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو مومنین کے قتل سے منع کیا ہے، یعنی حضرت حمزہ اور آپ کے ساتھیوں کو رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور انکے قتل کا ارادہ فرمایا ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو درخت کھانے سے منع فرمایا اور کھانے کا ارادہ فرمایا پس آدم (علیہ السلام) اس میں واقع ہوئے۔ اور اس کے برعکس یہ ہے کہ ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس کا ارادہ نہیں کیا پس وہ س سے رک گیا، اور اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قول حق کے ساتھ اشارہ بھی واقع ہے :۔
(آیت) ” ولکن کرہ اللہ اتبعاثھم فثبطھم ‘۔ (التوبۃ : 46)
ترجمہ ؛ لیکن ناپسند کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے کھڑا ہونے کو اس لئے پست ہمت کردیا انہیں۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تمام کو جہاد کا حکم دیا ہے لیکن سستی، کاہلی اور سفر سے رہ جانے والے اسباب بھی پیدا فرما دیئے پس وہ پیچھے بیٹھ رہتے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (3) حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : بدر کے دن حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو عرض کی : ” آپ قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب کو اختیار دے دیجئے اگر وہ چاہیں تو قتل کردیں اور اگر چاہیں تو اس شرط پر فدیہ لے لیں، کہ آئندہ سال انکے برابر ان میں سے قتل کئے جائیں گے تو انہیں کہا : ہم فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں گے۔ “ اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن ہے (1) (جامع ترمذی کتاب السیر جلد 1، صفحہ 190، اسلام آباد) پس اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ اپنے اولیاء کی شہادت کے ساتھ پورا کردیا اس کے بعد کہ انہیں اختیار دیا تو انہوں نے قتل کو اختیار کیا۔
(آیت) ” واللہ لا یحب الظلمین “۔ یعنی اللہ تعالیٰ مشرکین کو دوست نہیں رکھتا یعنی اگر وہ مومنین کی جانب سے کفار کو کچھ دے تو وہ انہیں پسند نہیں کرتا ہے اور اگر وہ مومنین کے سبب کچھ تکلیف پہنچائے تو بلاشبہ وہ مومنین کو دوست رکھتا ہے۔
Ayah 3:141آیت نمبر : 141۔
اس میں تین اقوال ہیں : یمحص، بمعنی یختبر (تاکہ وہ آزمائے) دوسرا۔۔۔۔ یطھر “۔ (تاکہ وہ انہیں گناہوں سے پاک کرے) اس صورت میں مضاف محذوف ہے، معنی یہ ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو ختم کر دے جو ایمان لائے فراء نے یہی کہا ہے اور تیسرا۔۔۔ یمخص بمعنی یخلص (تاکہ وہ انہیں نکھار دے اور صاف کر دے) یہ معنی زیادہ غریب ہے۔
خلیل نے کہا ہے : کہا جاتا ہے محص الحبل یمحص محصا جب رسی کی اون کٹ جائے اور اسی سے ہے اللہم محص عناذنوبنا اے اللہ ! ہم سے ہمارے گناہوں کو صاف کر دے (ختم کر دے) یعنی ہمیں ان کی سزا سے نجات عطا فرما، اور ابو اسحاق الزجاج نے کہا ہے : میں نے محمد بن یزید عن خلیل یہ قرات کی : التمحیص (بمعنی) التخلیص ہے، کہا جاتا ہے : محصہ (یمحصہ) محصا جب وہ اسے نجات دلا دے، صاف کر دے، پس معنی ہوگا : اس پر ہے کہ وہ مومنین کو آزمائے تاکہ وہ انہیں ثواب عطا فرمائے اور انہیں ان کے گناہوں سے نجات دلائے، (آیت) ” ویمحق الکفرین “۔ یعنی وہ انہیں ہلاک کر کے تباہ وبرباد کردے۔
Ayah 3:142آیت نمبر : 142۔
ام بمعنی بل ہے، اور کہا گیا ہے : میم زائدہ ہے اور معنی : اے وہ جو احد کے دن شکست خوردہ ہوئے کیا تم گمان رکھتے ہو کہ تم اسی طرح جنت میں داخل ہوجاؤ گے جیسے وہ داخل ہوئے جو شہید کردیئے گئے اور انہوں نے زخم اور قتل کے درد پر صبر اختیار کیا اس کے بغیر کہ تم انکے راستے پر چلو اور انکے صبر کی طرح صبر کرو ؟ نہیں، یہاں تک (آیت) ” یعلم اللہ الذین جھدوا منکم “۔ یعنی (تم میں سے جنہوں نے جہاد کیا اللہ تعالیٰ کے بارے) علم شہادت (حاصل کرلے) تاکہ اس پر جزا واقع ہو۔ اور معنی ہے : اور تم نے جہاد نہیں کیا کہ وہ تم سے اسے جان لے۔ اس میں لما بمعنی لم ہے اور سبیویہ نے لم اور لما کے درمیان فرق کیا ہے اور یہ گمان کیا ہے کہ لم یفعل، فعل کی نفی ہے، اور لما یفعل، قد فعل کی نفی ہے۔ (آیت) ” ویعلم الصبرین “۔ یہ ان مضمرہ کے سبب منصوب ہے یہ خلیل روایت ہے، اور حسن اور یحییٰ بن یعمر نے ” یعلم الصابرین “۔ عطف نسق کی بنا پر جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے قطع کی بنا پر رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ یعنی وھو یعلم، اور یہ قرات عبد الوارث نے ابو عمرو سے روایت کی ہے، اور زجاج نے کہا ہے : یہاں واؤ بمعنی حتی ہے، ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم حتی یعلم صبرھم کم تقدم انفا،
حالانکہ ابھی دیکھا ہی نہیں اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا یہاں تک کہ وہ ان کے صبر کو دیکھ لے جیسا کہ ابھی گزرا ہے۔
Ayah 3:143آیت نمبر : 143۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد کنتم تمنون الموت “۔ یعنی تم تو شہادت کی آرزو کرتے تھے اس سے پہلے کہ تم اس سے ملاقات کرو، اعمش نے ” من قبل ان تلاقوہ “ پڑھا ہے یعنی قتل سے پہلے اور یہ کہا گیا ہے : اس سے پہلے کہ تم اسباب موت سے ملاقات کرو “۔ اور یہ اس لئے کہ ان میں سے بہت سے غزوہ بدر میں حاضر نہیں تھے تو وہ اس دن کی آرزو اور تمنا کر رہے تھے جس میں جنگ ہوگی، تو جب احد کا دن آیا تو وہ شکست کھا گئے اور ان میں وہ بھی تھے جو مضبوط رہے اور ڈٹے رہے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے، اور ان میں سے حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا انس بن نضر ؓ بھی تھے، کیونکہ جب مسلمان بکھرے تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! میں تیری طرف اس سے برات کا اظہار کرتا ہوں جو کچھ انہوں نے کیا ہے اور پھر (پوری قوت کے ساتھ) لڑنے لگے اور کہا : بلاشبہ یہاں تو جنت کی خوشبو ہے، میں اسے پالوں گا، اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے،
حضرت انس ؓ نے بیان کیا ہے : ہم نے انہیں صرف انگلیوں کے پوروں سے پہچانا تھا اور ہم نے ان کے بدن پر اسی سے زائد زخم پائے، ان کے بارے میں اور ان جیسے افراد کے بارے میں یہ ارشاد نازل ہوا،
(آیت) ” رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ (1) (صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، حدیث نمبر 2595، ضیا القرآن پبلی کیشنز) (الاحزاب : 23)
ترجمہ : ایسے جوان مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا جو وعدہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا۔
پس یہ آیت شکست خوردہ ہونے والوں کے حق میں عتاب ہے، اور بالخصوص ان کے لئے جنہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو مدینہ طیبہ سے نکلنے پر ابھارا تھا اور اس کا ذکر عنقریب آئے گا۔
اور موت کی تمنا مسلمانوں سے شہادت کی تمنا کی طرف راجع ہوتی ہے جس کا دارومدار (میدان) جہاد میں صبر وثبات پر ہے، نہ کہ اس سے مراد کفار کا انہیں قتل کرنا ہے، کیونکہ یہ تو معصیت اور کفر ہے اور معصیت کا ارادہ کرنا جائز نہیں ہوتا، اور اسی بنا پر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے یہ التجا اور دعا کرنے پر برانگیختہ کیا جاتا ہے کہ وہ انہیں شہادت عطا فرمائے اور وہ جہاد میں بسر اختیار کرنے کی التجا کرتے ہیں اگرچہ وہ انہیں قتل تک ہی پہنچا دے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وانتم تنظرون “۔ اخفش نے کہا : یہ تکریربمعنی تاکید ہے اس قول فقد رایتموہ “۔ کے لئے جیسا کہ اس قول میں ہے ” ولا طائریطیر بجناحیہ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور تم آنکھوں سے مشاہدہ کررہے ہو تمہاری آنکھوں میں کوئی بیماری نہیں ہے، (جیسا کہ) تو کہتا ہے : قد رأیت کذا وکذا ولیس فی عینیک علۃ، (تو نے اس اس طرح دیکھ لیا ہے اور تیری آنکھوں میں کوئی بیماری نہیں) یعنی تو نے اسے حقیقتا دیکھ لیا ہے، اور یہ معنی توکید کی طرف راجع ہے، اور بعض نے کہا ہے : (آیت) ” وانتم تنظرون “۔ اور تم حضرت محمد مصطفیٰ ؓ کی طرف دیکھ رہے ہو، آیت میں اضمار ہے، تقدیر کلام یہ ہے۔ فقد رایتموہ وانتم تنظرون فلم انھزمتھم ؟ (تحقیق تم نے اسے دیکھ لیا ہے اور تم (آنکھوں سے) مشاہدہ کر رہے ہو تو پھر تم نے شکست کیوں کھائی ؟ )
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) روایت ہے کہ یہ احد کے مسلمانوں کے شکست کھانے کے سبب نازل ہوئی اس وقت شیطان نے چیخ کر کہا ؛ قد قتل محمد۔ (تحقیق محمد ﷺ کو شہید کردیا گیا) عطیہ العوفی نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے کہا ہے : تحقیق محمد ﷺ کو موت دی گئی ہے پس تم انہیں اپنے ہاتھوں کے ساتھ دو کیونکہ وہ تمہارے بھائی ہیں اور بعض نے کہا ہے : اگر محمد ﷺ کو موت دی گئی ہے تو کیا تم اس حالت پر باقی نہیں رہو گے جس پر تمہارے انبیاء رہے یہاں تک کہ تم آپ سے جا ملو، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ ارشاد نازل فرمایا :