Ayahs 3:50–51آیت نمبر : 50 تا 51۔
(آیت) ” ومصدقا اس کا عطف ورسولا پر ہے، اور کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے کہ میں تمہارے پاس تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں (آیت) ” لما بین یدی “ اس کی جو مجھ سے پہلے آئی (آیت) ” ولاحل لکم “ اس میں حذف ہے، ای ولا حل لکم جئتکم “ (اور تاکہ میں تمہارے لئے حلال کر دوں میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں) (آیت) ” بعض الذی حرم علیکم “ یعنی کھانے کی اشیاء میں سے بعض جو تم پر پہلے حرام کی گئی تھیں۔
کہا گیا ہے : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انکے لئے ان چیزوں کو حلال کردیا جو ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں اور وہ تورات میں نہ تھیں، مثلا تھوم کھانا اور ہر ناخن والا جانور، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے انکے لئے ان چیزوں کو حلال کردیا جنہیں ان پر علماء نے حرام کردیا تھا اور وہ تورات میں ان پر حرام نہ کی گئی تھیں ابو عبیدہ نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ بعض بمعنی کل ہو۔
اور لبید نے کہا ہے :
تراک امکنۃ اذا لم ارضھا او یرتبط بعض النفوس جمامھا ‘
اس میں بعض بمعنی کال استعمال ہوا ہے۔
یہ قول اہل لغت میں سے اہل نظر وفکر کے نزدیک غلط ہے، کیونکہ بعض اور جز اس جگہ پر بمعنی کل نہیں ہو سکتے، کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انکے لئے ان چیزوں کو حلال کیا جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر حرام کیا تھا مثلا تھوم کھانا وغیرہ، اور آپ نے انکے لئے قتل، چوری اور فحاشی، وغیرہ کو حلال نہیں کیا اور اس پر دلیل یہ ہے کہ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انتہائی نرمی اور ملائمت کے ساتھ ان کے پاس تشریف لائے ان چیزوں کے بارے میں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس لے کر آئے، کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اونٹوں کی تحریم اور تھوم وغیرہ اشیاء کی تحریم کا حکم لے کر ان کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے بعض کی حلت کا حکم لے کر آئے۔
نخعی نے (آیت) ” بعض الذی حرم علیکم پڑھا ہے۔ یعنی یہ کرم کی مثل ہے، بمعنی صار حراما، یعنی وہ حرام ہوگیا کے معنی میں ہے، اور کبھی بعض کو بمعنی کل بھی رکھا جاتا ہے جبکہ وہاں ایسا قرینہ متصل ہو جو اس پر دلالت کرے۔
جیسا کہ شاعر نے کہا :
ابا منذر افنیت فاستبق بعضنا حنانیک بعض الشر اھون من بعض :
اس میں بعض الشراھون سے مراد کل ہے۔ (آیت) ” وجئتکم بایۃ من ربکم “ اس میں آیہ کو واحد ذکر کیا گیا ہے حالانکہ یہ آیات ہیں، اس وجہ سے کہ یہ آپ کی رسالت پر دلالت کرنے کے اعتبار سے جنس واحد ہے۔
Ayah 3:52آیت نمبر : 52
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فلما احس عیسیٰ منھم الکفر “۔ یعنی جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کفر محسوس کیا، آیت میں احس بمعنی علم اور وجد کے ہے (یعنی جانا اور پایا) زجاج نے یہی کہا ہے۔ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے : احس عرف (آپ نے پہنچانا) کے معنی میں ہے۔ اور اس کا اصل معنی کسی شے کو حاسہ کے ساتھ پانا (وجود الشیء بالحاسۃ) اور احساس کا معنی کسی شے کو جاننا ہے۔ (العلم بالشیئ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ھل تحس منھم من احد “۔ (مریم : 98)
ترجمہ : کیا آپ ان میں سے کسی کو جانتے ہیں ؟۔
اور الحس بمعنی قتل ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” اذ تحسونھم باذنہ “۔ (آل عمران : 152)
ترجمہ : جبکہ تم قتل کر رہے تھے کافروں کو اس کے حکم سے۔
اور اسی معنی میں جراد (مکڑی) کے بارے میں حدیث بھی ہے اذا حسہ البرد (جب سردی نے اسے ہلاک کردیا) منھم الکفر “۔ یعنی ان کا اللہ کے ساتھ کفر و انکار کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ نے ان سے کلمہ کفر سنا اور فراء نے کہا ہے : انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔
(آیت) ” قال من انصاری الی اللہ “۔ فرمایا : کون ہے وہ جس سے میں ان کے خلاف مدد طلب کروں ؟ سدی اور ثوری وغیرہما نے کہا : (آیت) ” الی اللہ “ بمعنی مع اللہ یعنی الی بمعنی مع ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : (آیت) ” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “۔ یعنی مع اموالکم، (یعنی تم اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال نہ کھاؤ) واللہ اعلم۔
اور حسن نے کہا ہے : اس کا معنی ہے من انصاری فی السبیل الی اللہ۔ (یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں کون میرے مددگار ہیں ؟ ) کیونکہ آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا معنی ہے کون ہے جو اپنی نصرت اور مدد کو اللہ تعالیٰ کی نصرت ومدد کے ساتھ ملائے گا ؟ ان دونوں قولوں کے مطابق الی اپنے اصل معنی پر ہے اور یہی جید اور عمدہ ہے اور آپ نے نصرت اور مدد طلب کی تاکہ اس کے سبب آپ اپنی قوم سے حفاظت میں رہیں اور اعلانیہ دعوت دے سکیں حسن اور مجاہد سے یہ معنی منقول ہے۔ اور انبیاء واولیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور طریقہ یہی ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) نے کہا :
(آیت) ” لوان لی بکم قوۃ اواوی الی رکن شدید (ہود)
ترجمہ : اے کاش میرے پاس بھی تمہارے مقابلے کی قوت ہوتی یا میں پناہ ہی لے سکتا کسی مضبوط سہارے کی۔
یعنی خاندان اور اصحاب میری مدد کرتے۔ (آیت) ” قال الحواریون نحن انصار اللہ ‘۔ حواریوں نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ کے نبی اور اسکے دین کے مددگار ہیں اور حواریوں سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب ہیں اور وہ بارہ آدمی تھے، کلبی اور ابو روق نے یہی کہا ہے۔
ان کا یہ نام رکھنے میں اختلاف ہے، سو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : انکے سفید کپڑوں کی وجہ سے انہیں یہ نام دیا گیا، وہ صیادین (شکاری) تھے، ابن بی الجیح اور ابن ارطاۃ نے کہا ہے : وہ دھوبی تھے، تو انہیں یہ نام کپڑے خوب صاف کرنے کی وجہ سے دیا گیا، حضرت عطاء (رح) نے کہا ہے : حضرت مریم (علیہ السلام) نے حضرت عسی (علیہ السلام) کو متفرق عمال کے سپرد کیا اور سب سے آخر میں آپ نے انہیں حواریوں کے حوالے کردیا اور وہ دھوبی اور رنگباز تھے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معلم نے سفر کا ارادہ کیا، تو اس نے حضرت عسی (علیہ السلام) کو کہا : میرے پاس مختلف رنگوں کے بہت سے کپڑے ہیں اور میں نے تمہیں رنگ کرنا سکھا دیا ہے، پس تم انہیں رنگ دینا، چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک مٹکا رنگ پکایا اور اس میں تمام کپڑے ڈال دیئے اور کہا : تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اسی طرح ہوجا جو میں تجھ سے ارادہ رکھتا ہوں پس حواری آیا اور سارے کپڑے مٹکے میں پڑے ہوئے تھے، جب اس نے انہیں دیکھا تو کہا : تو نے انہیں خراب کردیا، تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سرخ، زرد اور سبز اور دیگر ان رنگوں میں کپڑے نکالے جو رنگ ان میں سے ہر کپڑے پر لکھا ہوا تھا، یہ دیکھ کر حواری بہت متعجب ہوا اور اس نے جان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، اس نے لوگوں کو آپ کی طرف بلایا پس وہ آپ کے ساتھ ایمان لائے اور وہی حواری تھے، حضرت قتادہ ؓ اور ضحاک ؓ نے کہا ہے : انہیں یہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ خاص تھے اور وہ اس سے اپنے دلوں کی صفائی اور طہارت کا ارادہ رکھتے تھے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ بادشاہ تھے، اس طرح کہ بادشاہ نے کھانے کی دعوت کی اور لوگوں کو اس پر بلایا، تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جو پیالہ تھا وہ ذرا کم نہ ہوا تو بادشاہ نے آپ کو کہا : آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ہوں تو اس نے کہا میں اپنی سلطنت چھوڑتا ہوں اور تمہاری اتباع کرتا ہوں۔ پس وہ اپنے متبعین کو ساتھ لے کر آپ کے ساتھ چل پڑا تو وہی حواری ہیں، یہ ابن عون نے کہا ہے : لغت میں الحور کا اصل معنی سفیدی ہے اور حورت الثیاب کا معنی ہے میں نے کپڑے کو خوب صاف کیا، سفید کیا اور الحواری من الطعام ماحور “ یعنی جو کھانا خوب اچھی طرح پکایا جائے اور احور کا معنی ابیض (سفید ہونا) ہے اور الجفنۃ المحورۃ : سفید چمڑے سے بنی ہوئی نیام اور الحواری کا معنی مددگار بھی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لکل نبی حواری وحواری الزبیر (1) (صحیح بخاری باب فضل الطلیعۃ حدیث نمبر 2634، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (ہر نبی کا حواری (مددگار) ہے اور میرا حواری زبیر) اور الحواریات سفید عورتیں۔
اور کسی نے کہا :
فقل للحواریات یبکین غیرنا ولا تبکنا الا الکلاب النوابح :
پس تو ان سفید عورتوں سے کہہ دے وہ ہمارے سوا اوروں پر روئیں اور ہم پر نہ روئیں گے مگر بھونکنے والے کتے۔
Ayah 3:53آیت نمبر : 53
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ربنا امنا بما انزلت “۔ یعنی وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے (آیت) ” بما انزلت “ یعنی اس کے ساتھ جو تو نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا اور اس پر جو تو نے اپنے حکم میں سے ظاہر اور بیان کیا۔ (آیت) ” واتبعنا الرسول “ رسول سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (آیت) ” فاکتبنا مع الشھدین “۔ شاہدین سے مراد حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، اور معنی یہ ہے ہمارے اسماء ان کے اسماء کے ساتھ لکھ لے اور ہمیں من جملہ ان میں سے بنا دے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : معنی یہ ہے ہمیں ان کے ساتھ لکھ لے جنہوں نے تیرے انبیاء (علیہم السلام) کی صدق وسچائی کے ساتھ شہادت دی۔
Ayah 3:54آیت نمبر : 54
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومکروا “ مراد بنی اسرائیل کے وہ کفار ہیں جن سے آپ نے کفر محسوس کیا یعنی آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب ان کی قوم اور ان کی ماں نے اپنے درمیان نکال دیا تو آپ حواریوں کے ساتھ ان کی طرف لوٹ کر آئے اور ان میں اعلانیہ دعوت و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا، تو انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ بنایا اور انہوں نے آپ کے قتل پر اتفاق کیا، پس یہی ان کا مکر اور خفیہ تدبیر ہے، اور (آیت) ” مکر اللہ “ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے جسے وہ نہ جانتے ہوں، فراء وغیرہ سے یہی مروی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : جب بھی انہوں نے کوئی گناہ اور غلطی کی تو ہم نے انہیں ایک تازہ اور اچھی نعمت عطا کردی۔
اور زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” مکر اللہ سے مراد انہیں انکی خفیہ تدیبر پر جزا اور بدلہ دینا ہے پس جزا اور بدلے کو ابتدا کا نام دیا گیا ہے جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : (آیت) ” اللہ یستھزی بھم “۔ اور (آیت) ” وھو خادعھم “۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، لغت میں مکر کا اصل معنی حیلہ کرنا اور دھوکہ دینا ہے۔ اور مکر کا معنی خدا لۃ الساق (پنڈلی کا بھرجانا) ہے اور امراۃ مکروۃ الساقین “۔ (ایسی عورت جس کی دونوں پنڈلیاں گول اور بھری ہوئی ہوں) اور مکر کپڑوں کی ایک قسم بھی ہے۔
اور کہا جاتا ہے : بلکہ اس سے مراد گیرو اور سرخ مٹی ہے، اسے ابن فارس نے بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” مکر اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ کو دوسروں کے سامنے کردیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے اٹھا لیا اور وہ اس طرح ہوا کہ یہودی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لئے جمع ہوئے تو آپ ان سے بھاگ کر گھر میں داخل ہوئی تو حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے آپ کو روشندان سے آسمان کی طرف اٹھا لیا تو ان کے بادشاہ نے ان میں سے ایک خبیث آدمی کو کہا اسے یہودا کہا جاتا تھا : تو ان پر داخل ہو اور انہیں قتل کر دے، پس وہ روشندان سے اندر داخل ہوا لیکن وہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ پایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو عسی (علیہ السلام) کی شبیہ مشابہ بنادیا، پس جب وہ نکلا تو انہوں نے اسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ دیکھا چناچہ انہوں نے اسے پکڑ لیا اور قتل کردیا اور پھر اسے سولی دے دی بعد ازاں انہوں نے کہا : اس کا چہرہ تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چہرہ سے مشابہت رکھتا ہے اور اس کا بدن ہمارے اپنے ساتھی کے بدن سے مشابہ ہے پس اگر یہ ہمارا ساتھی ہے تو پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں ہیں اور اگر یہ عیسیٰ ہیں تو پھر ہمارا ساتھی کہاں ہے ؟ پس ان کے درمیان جنگ شروع ہوگئی اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا، پاس اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ومکروا ومکر اللہ “ اس کے علاوہ بھی (بہت کچھ) کہا گیا ہے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔
(آیت) ” واللہ خیر المکرین “۔ ماکرین مکر یمکر مکرا ‘ اسے اسم فاعل ہے اور بعض علماء نے اسے اللہ تعالیٰ کے اسماء میں شمار کیا ہے اور جب وہ اس کے پکاریں تو اس طرح کہتے ہیں : یا خیر الماکرین ام کرلی۔ (اے بہترین تدبیر کرنے والے میرے لئے تدبیر فرما) اور حضور ﷺ اپنی دعا میں کہتے تھے (1) اللھم ام کرلی ولا تمکرعلی (اے اللہ میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ فرما) ہم نے اسے ” الکتاب الاسنی فی شرح اسماء الحسنی “ میں ذکر کیا ہے۔
Ayah 3:55آیت نمبر : 55۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذ قال اللہ یعیسی انی متوفیک “۔ اذ میں عامل یا تو مکروا ہے یا فعل مضمر ہے، اہل معافی کی ایک جماعت جن میں ضحاک اور فراء بھی ہیں انہوں نے ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” انی متوفیک ورافعک الی کے بارے کہا ہے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے، کیونکہ واؤ ترتیب کو ثابت نہیں کرتی، اور معنی یہ ہے : انی رافعک الی ومطھرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد ان تنزل من السمائ “۔ (میں تمہیں اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں ان لوگوں کی تہمتوں سے پاک کرنے والا ہوں جنہوں نے تیرا انکار کیا اور تمہیں آسمان سے اتارے جانے کے بعد تمہیں موت دوں گا) اسی طرح یہ ارشاد ہے
(آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاما واجل مسمی “۔ (طہ)
ترجمہ ؛ اور اگر انکے (انجام کے) متعلق آپ کے رب کا فیصلہ پہلے نہ ہوچکا ہوتا اور انکے لئے ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ابھی ان پر عذاب نازل ہوجاتا۔ اس میں تقدیر عبارت یہ ہے ولولاکلۃ سبقت من ربک واجل مسمی لکان لزاما۔
شاعر نے کہا ہے :
الا یانخلۃ من ذات عرق علیک ورحمۃ اللہ السلام :
اس میں تقدیر عبارت، علیک السلام ورحمۃ اللہ، یعنی اس میں بھی تقدیم وتاخیر ہے۔
حسن اور ابن جریج نے کہا ہے : متوفیک کا معنی ہے : میں تمہیں قبضہ میں لینے والا ہوں اور بغیر موت کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں جیسا کہ کہا جاتا ہے : توفیت مالی من فلان یعنی میں نے فلاں سے اپنا مال قبضے میں لے لیا۔
اور وہب بن منبہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دن کی تین ساعتوں کے لئے موت دی اور پھر انہیں آسمان کی طرف اٹھا لیا، لیکن یہ قول بعید از حقیقت ہے، کیونکہ آپ کے آسمان سے اترنے اور دجال کو قتل کرنے کے بارے حضور نبی مکرم ﷺ سے صحیح احادیث مروی ہیں، جیسا کہ ہم نے اسے ” کتاب التذکرہ “ میں کیا ہے اور اس کتاب میں بھی کچھ گزر چکا ہے اور کچھ آگے آئے گا۔
اور ابن زید نے کہا ہے : متوفیک بمعنی قابضک (میں تجھے قبضہ میں لینے ہوں) ہے اور متوفیک اور رافعک ایک ہی ہے اور اس کے بعد موت نہیں ہے۔
ابن طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ متوفیک کا معنی ممیتک ہے (یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں) حضرت ربیع بن انس نے کہا ہے کہ اس سے مراد نیند کی موت ہے (جیسا کہ) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وھو الذی یتوفا کم باللیل یعنی تمہیں رات کے وقت سلا دیتا ہے کیونکہ نیند اخوالموت ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب آپ سے پوچھا گیا کیا جنت میں نیند ہوگی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں اخوالموت ہے اور جنت میں کوئی موت نہیں “ اسے دارقطنی نے بیان کیا ہے۔
اور صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بغیر وفات اور بغیر نیند کے آسمان کی طرف اٹھا لیا، جیسا کہ حسن اور ابن زید نے کہا ہے : اور اسے ہی طبری نے اختیار کیا ہے اور یہی حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح روایت ہے، اور ضحاک نے بھی یہی کہا ہے، ضحاک نے کہا ہے : واقعہ یہ ہے کہ جب انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، حواری ایک کمرے میں جمع ہوئے اور وہ بارہ آدمی تھے تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کمرے کے طاق سے ان پر داخل ہوئے تو ابلیس نے یہود کی جماعت کو اس سے آگاہ کردیا، چناچہ ان میں سے چار ہزار آدمی سوار ہو کر آئے اور انہوں نے کمرے کے دروازہ کو گھیر لیا، تو حضرت مسیح (علیہ السلام) نے حواریوں کو کہا : تم میں سین کون ہے جو نکلے گا اور اسے قتل کردیا جائے گا اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا ؟ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں پس آپ نے اون سے بنا ہوا ایک جبہ اور ایک عمامہ اس کی طرف پھینکا اور اسے اپنا نیزہ (مراد ایسا ڈنڈا جس کے نیچے پھل لگا ہوا ہو) بھی عطا فرمایا اور اسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ بنا دیا گیا، وہ یہود کی طرف نکلا تو انہوں نے اسے قتل کردیا اور اسے سولی دے دی اور رہے حضرت مسیح (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پر عطا فرمائے اور انہیں نور کا لباس پہنا دیا اور ان سے کھانے پینے کی لذت منقطع کردی تو وہ ملائکہ کے ساتھ اڑ گئے،
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے کہ ابو معاویہ اعمش نے منہال سے، انہوں نے حضرت سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو وہ اپنے اصحاب کی طرف نکلے وہ بارہ آدمی تھے، ایک معین کمرے میں جمع تھے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے تو آپ نے انہیں کہا، خبر دار بلاشبہ تم میں سے وہ ہے جو عنقریب میرے بارے میں بارہ مرتبہ انکار کرے گا اس کے بعد کہ وہ میرے ساتھ ایمان لا چکا ہے، پھر آپ نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جس پر میری شبیہ ڈال دی جائے پھر وہ میری جگہ قتل کردیا جائے تو وہ میرے درجہ میں میرے ساتھ ہوگا ؟ تو ان کے جوانوں میں سے ایک جوان اٹھا اور اس نے کہا میں، تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تو بیٹھ جا، پھر آپ نے دوبارہ بات کی تو وہی جوان اٹھا اور اس نے کہا : میں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تو بیٹھ جا، آپ نے پھر تو بیٹھ جا، آپ نے پھر اپنی بات کی تو وہی جوان پھر اٹھا اور اس نے کہا میں تو اب کی بار آپ نے فرمایا : ہاں تو ہی وہ ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پر تاؤ ڈال دیا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس سوراخ سے اوپر اٹھا لیا جو گھر میں آسمان کی طرف تھا، راوی نے بیان کیا : اور پھر تلاش کرنے والے یہودی آئے اور انہوں نے اس مشابہ شخص کو پکڑ لیا اور اسے قتل کردیا اور پھر اسے سولی پر لٹکا دیا اور ان میں سے بعض نے آپ کا بارہ مرتبہ انکار کیا بعد اس کے کہ وہ آپ کے ساتھ ایمان لا چکے تھے، پس اس طرح وہ تین فرقوں میں تقسیم ہوگئے ایک فرقے نے کہا : ہم میں اللہ تعالیٰ رہا جب تک اس نے چاہا پھر وہ آسمان کی طرف بلند ہوگیا اور وہ یعقوبیہ ہیں، اور ایک گروہ نے کہا : ہم میں ابن اللہ رہے جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور یہ نسطوریہ ہیں، اور ایک فرقے نے کہا : ہم میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول رہا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا اور پھر اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور یہ مسلمان ہیں، پھر دونوں کافر گروہ مسلمان گروہ پر غالب آگئے اور انہوں نے اسے قتل کردیا، پھر اسلام مسلسل مٹتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول رہا جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا اور پھر اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور یہ مسلمان ہیں، پھر دونوں کافر گروہ مسلمان گروہ پر غالب آگئے اور انہوں نے اسے قتل کردیا، پھر اسلام مسلسل مٹتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا تو وہ قتل کردیئے گئے پھر اسلام مسلسل مٹتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا تو وہ قتل کردیئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ” فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل وکفرت طآئفۃ فایدنا الذین امنوا “ (الصف : 14) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کے آباء ایمان لائے ” علی عدوھم “ یعنی ہم نے اہل ایمان کے دین کو کفار کے دین پر غلبہ دینے میں ان کی تائید کی (آیت) ” فاصبحوا ظاھرین “۔ پس وہ غالب ہوگئے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ (1) (صحیح بخاری، باب نزول عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) “۔ حدیث نمبر 3192، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قسم بخدا ! ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت سے ضرور نازل ہوں گے وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو ضرور قتل کریں گے اور جزیہ ختم کردیں گے اور جوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان پر کوئی کام نہ کیا جائے گا اور کینہ باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنا اور باہمی حسد سب ختم ہوجائے گا اور آپ مال کی طرف دعوت دیں گے اور کوئی اسے قبول نہ کرے گا “۔
اور آپ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ابن مریم کو (مکہ اور مدینہ کے درمیان) روحاء کے راستہ پر ڈالا جائے گا حج کے لئے یا عمرہ کرنے کے لئے یا اس لئے تاکہ وہ دونوں کو ایک ساتھ کریں۔ “
وہ کسی نئی شریعت کے ساتھ نزول نہیں فرمائیں گے کہ اس سے ہماری شریعت منسوخ ہوجائے بلکہ وہ ان امور کی تجدید کے لئے نازل ہوں گے جو اس شریعت کے متبعین نے اس سے بوسیدہ کردیئے ہیں اور مٹا ڈالے ہیں، اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم کیسی (شان سے) ہو گے جب ابن مریم تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا “ اور ایک روایت میں الفاظ فامکم منکم ہیں، ابن ابی ذئب نے کہا : تم جانتے ہو تو میں سے امکم کیا ہے ؟ میں نے کہا : آپ ہی مجھے بتائیے، تو انہوں نے کہا : پس تمہاری اصل (فامکم) تمہارے رب وتعالیٰ کی کتاب ہے اور تمہارے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے (1) (صحیح بخاری، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام، حدیث نمبر 3193، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ہم نے کتاب التذکرہ “ میں اس بارے قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ والحمد للہ۔
اور (آیت) ” متوفیک “ اصل میں متوفیک ہے اور ضمہ کو ثقیل ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا اور یہ ان کی خبر ہے اور (آیت) ” ورافعک “ اس پر معطوف ہے اور اسی طرح (آیت) ” مطھرک اور (آیت) ” وجاعل الذین اتبعوک “ بھی ہیں اور یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” وجاعل الذین “ اصل ہو
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” ومطھرک من الذین کفروا پر وقف تام ہے، نحاس نے کہا ہے : یہ قول حسن ہے، (آیت) ” وجاعل الذین اتبعوک “ اور بنانے والا ہوں ان کو جنہوں نے (اے محمد ﷺ آپ کی اتباع کی (آیت) ” فوق الذین کفروا “ حجت اور قیام دلیل کے ساتھ غالب ان پر جنہوں نے کفر کیا اور یہ بھی کہا گیا ہے : بالعزوالغلبۃ “۔ یعنی عزت اور غلبے کے ساتھ کفر کرنے والوں پر غالب، اور ضحاک اور محمد ابان نے کہا ہے : مراد حواری ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 3:56–58آیت نمبر : 56 تا 58۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاما الذین کفروا فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدنیا والاخرۃ “۔ یعنی میں انہیں دنیا میں قتل، سولی، قید اور جزیہ کے ساتھ اور آخرت میں آگ کے ساتھ سخت عذاب دوں گا۔
(آیت) ” ذلک نتلوہ علیک “۔ ذالک مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے، اور اس کی خبر ” نتلوہ “ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ الامر ذالک ہو یعنی مبتدا مضمر ہو۔
Ayahs 3:59–60آیت نمبر : 59 تا 60۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم، خلقہ من تراب “۔ یہ آیت قیاس کے صحیح ہونے پر دلیل ہے اور تشبیہ اس بناء پر واقع ہے، کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی طرح بغیر باپ کے پیدا کیا گیا ہے، اس بنا پر نہیں ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور ایک شے دوسری شے کے مشابہ ہوتی ہے جب وہ دونوں ایک وصف میں جمع ہوں اگرچہ فی الحقیقت دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہو، کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق فرمایا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا نہیں کیا گیا پس اس جہت سے دونوں کے درمیان فرق ہے لیکن جس شے میں دونوں کو تشبیہ دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا ہے اور اس لئے بھی کہ دونوں کی خلقت کی اصل مٹی سے ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی نفس مٹی سے پیدا نہیں کئے گئے، بلکہ مٹی کو کیچڑ بنایا پھر اسے صلصال (سوکھی ہوئی بجنے والی مٹی) بنایا پھر اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بنایا تو اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیرا، پھر آپ کو بغیر باپ کے بشر بنایا۔
اور یہ آیت وفد نجران کے سبب نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے اس قول کی وجہ سے انکار کیا : ان عیسیٰ عبداللہ وکلمتہ “ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کا کلمہ ہیں، انہوں نے کہا : آپ ہمیں کوئی بندہ دکھائیں جو بغیر باپ کے پیدا کیا گیا ہو، تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” آدم (علیہ السلام) جو ان کے باپ تھے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ تمہارے لئے تعجب خیز ہیں، کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا صرف باپ نہیں لیکن آدم (علیہ السلام) کا نہ باپ ہے اور نہ ہی ماں “ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ولا یاتونک بمثل “۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (وہ آپ کے پاس کوئی مثال نہیں لائیں گے) (آیت) ” الا جئناک بالحق “۔ (مگر ہم آدم (علیہ السلام) کے بارے میں آپ کے پاس حق لے کر آئے) ” واحسن تفسیرا “ (اور کتنی اچھی تفسیر بیان کی) اور روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے جب انہیں اسلام کی دی تو انہوں نے کہا : ہم تم سے پہلے مسلمان تھے، تو آپ نے فرمایا : ” تم نے جھوٹ بولا ہے تین چیزیں تمہیں اسلام سے روک رہی ہیں۔ ایک تمہارا یہ قول کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا بنایا ہے (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو) اور دوسرا تمہارا خنزیر کھانا اور تیسرا تمہارا صلیب کو سجدہ کرنا “۔ تو انہیں نے کہا : عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ کون ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم، خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون، الحق من ربک فلا تکن من الممترین، فمن حاجک فیہ من بعد ما جآءک من العلم فقل تعالو ندع ابنآء نا وابنآء کم ونسآء نا ونسآء کم وانفسنا انفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین “۔ پھر حضور ﷺ نے انہیں بلایا تو ان میں سے بعض نے بعض کو کہا : اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر وداد آگ سے بھڑک اٹھے گی، تب انہوں نے کہا : کیا اس کے سوا بھی کوئی شے آپ ہم پر پیش فرمائیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسلام یا جزیہ یا جنگ تو انہوں نے ان میں سے جزیہ کا اقرار کیا اس کا بیان آگے آئے گا، اور قول باری تعالیٰ آدم پر کلام مکمل ہوگیا۔
پھر فرمایا (آیت) ” خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “۔ یہ بمعنی فکان ہے۔ جب معنی معلوم اور معروف ہو تو مستقبل ماضی کے محل میں واقع ہو سکتا ہے۔
فراء نے کہا : (آیت) ” الحق من ربک “۔ یہ مرفوع ہے اور اس سے پہلے ھو مبتدا مضمر ہے۔
اور ابوعبیدہ نے کہا ہے : یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس کی خبر (آیت) ” من ربک “ کے قول میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الحق فاعل ہے یعنی (آیت) ” جاءک الحق “۔
(آیت) ” فلا تکن من الممترین “۔ یہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے، کیونکہ آپ ﷺ تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے قطعا شک کرنے والے نہیں۔
Ayah 3:61آیت نمبر : 61۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فمن حاجک فیہ “ یعنی اے محمد ﷺ جو شخص آپ سے جھگڑا کرے ” فیہ “ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (آیت) ” من بعد ما جآئک من العلم “۔ اس کے بعد کہ آپ کے پاس اس بارے میں یقینی علم آگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (آیت) ” فقل تعالوا “۔ یعنی تعالوا “ بمعنی اقبلوا ہے، تو آپ کہہ دیجئے کہ آؤ یہ لفظ وضع تو اس کے لئے کیا گیا ہے جس کی کوئی قدر ومنزل اور رفعت وشان ہوا اور پھر ہر آنے اور متوجہ ہونے کی دعوت دینے والے کے لئے استعمال ہونے لگا، اس کا مزید بیان سورة الانعام میں آئے گا، ندع یہ محل جزم میں ہے (آیت) ” ابنآء نا “ یہ اس پر دلیل ہے کہ بیٹیوں کے بیٹوں کو ابناء کا نام دیا جاسکتا ہے، اس لئے کہ حضور نبی مکرم ﷺ امام حسن، امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو ساتھ لے کر آئے اور حضرت فاطمہ ؓ آپ ﷺ کے پیچھے چل رہی تھیں اور حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ کے پیچھے تھے اور آپ ﷺ انہیں فرما رہے تھے : ” اگر میں دعا کروں تو تم امین کہنا ، “ اور یہ اس ارشاد کا معنی ہے (آیت) ” ثم نبتھل “ یعنی ہم دعا میں انتہائی عجز و انکساری اختیار کریں، حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے، ابو عبیدہ اور کسائی نے کہا ہے کہ نبتھل بمعنی نلتعن ہے اور ابتھال کا اصل معنی یہی ہے کہ دعا میں لعن وغیرہ کے ساتھ انتہائی کوشش کرنا۔
لبید نے کہا ہے :
فی کھول سادۃ من قومہ نظر الدھر الیھم فابتھل :
یعنی زمانے نے انہیں ہلاک کرنے میں پوری کوشش کی،
کہا جاتا ہے : بھلہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی اور البھل کا معنی لعن ہے۔ اور البھل کا معنی ماء قلیل (تھوڑا پانی) بھی ہے اور ابھلتہ “ تب کہا جاتا ہے جب تو اسے اور اس کے ارادہ کو چھوڑ دے، اور بھلتہ کا بھی یہی معنی ہے، اور ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے : بھلہ اللہ یبھلہ بھلۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ اہل نجران تھے : ان کے رؤساء میں قابل ذکر، عاقب اور ابن حارث تھے۔ (آیت) ” فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین “۔ (پھر ہم جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجیں)
مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کی علامت میں سے ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے انہیں مباہلہ کی دعوت دی اور انہوں نے اس سے انکار کیا اور جزیہ دینے پر راضی ہوگئے اس کے بعد کہ ان کے بڑے سردار عاقب نے انہیں بتایا کہ اگر انہوں نے آپ سے مباہلہ کیا تو ان پر یہ وادی آگ سے بھڑک اٹھے گی، کیونکہ حضرت محمد ﷺ نبی مرسل ہیں، اور تحقیق تم جانتے ہو کہ وہ تمہارے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیل لے کر آئے ہیں، تو انہوں نے مباہلہ ترک کردیا اور اپنے شہروں کی طرف واپس چلے گئے اس شرط پر کہ وہ ہر سال ایک ہزار حلہ صفر کے مہینہ میں اور ایک ہزار حلہ رجب کے مہینہ میں ادا کریں گے تو رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے بدلے اسی پر ان سے صلح کرلی۔
مسئلہ نمبر : (3) بہت سے علماء نے کہا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کا مباہلہ کے وقت امام حسن و حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے یہ قول (آیت) ” ندع ابنآء نا وابنآء کم “ اور امام حسن ؓ کے بارے آپ کا یہ ارشاد ” ان ابنی ھذا سید (1) (صحیح بخاری کتاب الصلح، حدیث نمبر 2505، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) امام حسن و حسین، ؓ کے ساتھ مخصوص ہے کہ ان دونوں کو حضور نبی کریم ﷺ کا بیٹا ہونے کا نام دیا گیا، ان کے سوا کسی کے لئے یہ حکم نہیں ہے، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ” قیامت کے دن ہر سبب ونسب کٹ جائے گا سوائے میرے نسب و سبب کے “ اسی لئے بعض اصحاب شافعی نے ایسے آدمی کے بارے میں کہا ہے جس نے فلاں کے بیٹے کے لئے وصیت کی اور اس کا صلبی بیٹا نہ تھا اور اس کے بیٹے کا بیٹا اور بیٹی کا بیٹا تھا، بلاشبہ وہ وصیت بیٹے کے بیٹے کے لئے ہوگی نہ بیٹی کے بیٹے کے لئے اور یہ امام شافعی (رح) کا قول ہے، اس کے بارے مزید بیان سورة الانعام اور۔۔۔۔ حرف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayahs 3:62–63آیت نمبر : 62 تا 63۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ھذا لھو القصص الحق “۔ قول باری تعالیٰ (آیت) ” ان ھذا “ میں ارشاہ قرآن اور اس میں موجود قصص کی طرف ہے، انہیں قصص کا نام دیا گیا ہے کیونکہ ان میں معانی تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : فلان یقص اثر فلان یعنی فلاں فلاں کی اتباع میں آرہا ہے۔
(آیت) ” وما من الہ الا اللہ “۔ اس میں من زائدہ تاکید کے لئے ہے اور معنی ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں۔ (وما الہ الا اللہ) (آیت) العزیز “ یعنی وہ مغلوب نہیں ہوتا، ” الحکیم “ اس کا معنی ہے صاحب حکمت اس کی مثال پہلے گزر چکی ہے۔ والحمد للہ۔
Ayah 3:64آیت نمبر : 64
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یاھل الکتب، حسن، ابن زید اور سدی کے قول کے مطابق یہ خطاب اہل نجران کو ہے اور قتادہ اور ابن جریج وغیرہما کے مطابق خطاب مدینہ کے یہودیوں کو ہے، انہیں اس لئے خطاب کیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے علماء کو ان کی اطاعت وپیروی کرنے میں رب کی طرح بنا رکھا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب یہود ونصاری تمام کے لئے ہے اور حضور نبی مکرم ﷺ نے ہرقل کی طرف جو گرامی نامہ تحریر فرمایا اس میں ہے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔۔۔۔۔۔ من محمد رسول اللہ لی ھرقل عظیمہ تروم سلام علی من اتبع الھدی ’ اما بعد فانی دعوک بدعایۃ الاسلام (اسلم تسلمہ (واسلمہ) یؤتک اللہ اجرک مرتین وان تولیت فان علیک اثم الا یسیین، ویا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لانعبد الا اللہ۔۔۔ الی قولہ : فقولوا اشھدوا بانا مسلمون “۔ (1) (مسند امام احمد، حدیث نمبر 2370)
بسم اللہ الرحمن الرحیم : (یہ خط) محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب سے شاہ روم ہرقل کی طرف ہے اس پر سلام ہو جس نے ہدایت کی اتباع اور پیروی کی (اما بعد، میں تجھے دعوت اسلام دیتا ہوں (اسلام قبول کرلے محفوظ ہوجائے گا) اور تو اسلام لے آ) اللہ تعالیٰ تجھے دو بار اجر عطا فرمائے گا اور اگر تو نے اعراض کیا تو تجھ پر اپنے جملہ لواحقین ومتبعین کا گناہ ہوگا اور اے اہل کتاب اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں تاکہ قولہ ” تو تم کہہ دو گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں) یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔
السواء کا معنی عدل اور نصف ونصف ہے قتادہ نے یہی کہا ہے۔
اور زہیر نے کہا ہے :
ارونی خطۃ لا ظیم فیھا یسوی بیننا فیھا السواء
مجھے کوئی ایسا کام دکھاؤ جس میں ظلم نہ ہو اور اس میں ہمارے درمیان عدل کیا جاتا ہو۔
فراء نے کہا ہے : عدل کے معنی ادا کرنے کے لئے سوی اور سوی کہا جاتا ہے، پس جب تو سین کو فتحہ دے گا تو اسے مد کے ساتھ پڑھے گا اور جب تم سین پر کسرہ یا ضمہ پڑے گا تو اسے قصر کے ساتھ پڑھے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” مکانا سوی “ فرمایا : اور حضرت عبداللہ کی قرات میں ہے الی کلمۃ عدل بیننا وبینکم اور قعنب (ابو السمال العدوی) نے کلمۃ لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور انہوں نے لام کی حرکت کاف کو دے دی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے : کبدپس معنی یہ ہے تم اسے قبول کرو جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے اور وہی وہ کلمہ عادلہ مستقیمہ ہے جس میں حق سے کہیں اور ذرا میلان اور جھکاؤ نہیں اور اس کی تفسیر اس قول باری تعالیٰ کے ساتھ کے ہے۔ (آیت) ” الا نعبد الا اللہ “۔ اس میں ان، کلمۃ سے بدل ہونے کی بنا پر محل جر میں ہے یا مبتدا مضمر ہونے کی بنا پر یہ محل رفع میں ہے، تقدیر کلام یہ ہے ھی ان لانعبد الا اللہ “۔ یا پھر یہ ان مفسرہ ہے اور اس کا کوئی محل نہیں، اور اس کے ساتھ ” نعبد “ اور جو اس پر معطوف ہے اس پر رفع اور جزم دونوں جائز ہیں ؛ پس جزم اس بنا پر کہ ان مفسرہ بمعنی اسی ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰنے فرمایا ان امشوا اور لاجازمہ ہو۔ یہ سیبویہ کا مذہب ہے اور اس بنا پر یہ بھی جائز ہے کہ نعبد کو رفع دیا جائے اور یہ اور اس کا مابعد خبر ہو۔ اور بمعنی انہ لانعبد رفع دینا جائز ہے اور اس کی مثل یہ ارشاد ہے۔
(آیت) ” افلا یرون الا یرجع الیھم قولا، ولا یملک لھم ضرا ولا نفعا (طہ)
ترجمہ : کہ یہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ اختیار رکھتا ہے ان کے لئے کسی ضرر کا اور نہ نفع کا۔
اور کسائی اور فراء نے کہا ہے : (آیت) ” ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ “۔ یعنی یہ جزم کے ساتھ ہیں اس وہم کی بنا پر کہ اول کلام میں ان نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ “۔ یعنی ہم کسی شے کو حلال کرنے یا اسے حرام کرنے میں اس کی اتباع اور پیروی نہ کریں گے مگر اسی میں جسے اللہ تعالیٰ نے حلال کرنے یا اسے حرام کرنے میں اس کی اتباع اور پیروی نہ کریں گے مگر اسی میں جسے اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے : (آیت) ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے علماء کو انکی حرام کردہ اور حلال کردہ چیزوں کرنے میں اپنے رب کے رتبہ اور درجہ میں رکھا ان چیزوں کے بارے میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہ حرام کیا اور نہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حلال کیا۔
اور یہ ایسے استحسان کے بارے قول کے باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس کا انحصار کسی دلیل شرعی پر نہ ہو، ال کیا الطبری نے کہا ہے : مثلا امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے وہ استحسانات جو ان اندازوں اور تقدیرات کے بارے ہیں جو انہوں نے بذار خود بغیر واضح دلائل کے مقرر کئے، اور اس میں ان روافض کا بھی رد ہے جو یہ کہتے ہیں : دلیل شرعی کا سہارا لئے بغیر بھی امام کا قول قبول کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ اسے حلال کرسکتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو بغیر اس کے کہ وہ کوئی مستند دلیل شرعی بیان کرے، ارباب رب کی جمع ہے اور یہا دون بمعنی غیر ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان تولوا “۔ یعنی اگر وہ اس سے اعراض کرلیں جس کی طرف انہیں دعوت دی گئی ہے (آیت) ” فقولوا اشھدوا بانا مسلمون “۔ تو تم کہہ دو گواہ رہنا ہم دین اسلام کے ساتھ متصف ہیں، اس کے احکام کی پیروی کرنے والے ہیں اور ہم ان احسانات اور انعامات کا اعتراف کرتے ہیں جو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہم پر ہیں ہم کسی کو رب بنانے والے نہیں ہیں نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ عزیر (علیہ السلام) کو اور نہ ہی ملائکہ کو، کیونکہ وہ ہماری مثل بشر ہیں وہ ہمارے حدوث کی طرح حادث ہیں اور راہبوں سے کسی ایسی شے کو قبول نہیں کریں گے جسے انہوں نے ہم پر حرام کیا ہو جب تک اللہ تعالیٰ نے اسے ہم پر حرام نہ کیا ہو، کہ ہم انہیں رب بنالیں اور عکرمہ نے کہا ہے : (آیت) ” یتخذ بمعنی یسجد ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ تک سجدہ (تعظیمی) جائز تھا پھر حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو منع فرمای دیا جب انہوں نے سجدہ کرنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ سورة البقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے، اور حضرت انس بن مالک (رح) نے بیان کیا ہے کہ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا ہمارے بعض بعض کے لئے جھک سکتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں “ پھر ہم نے عرض کی : کیا ہم آپس میں ایک دوسرے سے معانقہ کرسکتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : نہیں البتہ تم ایک دوسرے سے مصافحہ کرو “ اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے (1) (ابن ماجہ باب المصافحہ، حدیث نمبر 3691، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس بارے میں مزید بیان سورة یوسف میں آئے گا اور سورة واقعہ میں قرآن یا اس کے جز کو بغیر طہارت کے چھونا کیسا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 3:65آیت نمبر : 65۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یاھل الکتب لم تحاجون فی ابرھیم “۔ لم اص میں لما ہے، استفہام اور خبر کے درمیان فرق بیان کرنے کے لئے الف کو حذف کردیا گیا ہے، اور یہ آیت یہود ونصاری میں سے ہر فریق کے اس دعوی کے سبب نازل ہوئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے دین پر تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب فرمائی بایں طور کہ یہودی اور نصرانی دونوں ہی آپ کے بعد ہوئے ہیں، سو اسی لئے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وما انزلت التورۃ والانجیل الا من بعد “۔ الآیہ۔
زجاج نے کہا ہے : یہ آیت یہود ونصاری کے خلاف واضح حجت ہے، کیونکہ تورات وانجیل دونوں ان کے بعد نازل کی گئیں اور ان دونوں میں ادیان میں سے کسی ایک کا نام نہیں ہے اور اسلام کا نام ہر کتاب میں ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہزار برس کا عرصہ تھا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بھی ہزار برس کا فاصلہ تھا۔ (آیت) ” افلا تعقلون “۔ کیا تم اپنی دلیل اور قول کے بطلان کو نہیں جانتے، واللہ اعلم۔
Ayah 3:66آیت نمبر : 66۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھانتم ھولاء حاججتم “۔ یعنی تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں جھگڑتے ہو کیونکہ وہ آپ ﷺ کی ان صفات کو جانتے تھے جو وہ اپنی کتاب میں پاتے تھے پس آپ کے بارے میں انہوں نے باطل اور غلط جھگڑا کیا۔ (آیت) ” فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم “۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے اس دعوی پر کہ وہ یہودی تھے یا عیسائی (کیوں جھگڑنے لگے ہو جبکہ تمہیں اس بارے کچھ علم ہی نہیں)
(آیت) ” ھآنتم “۔ دراصل أأنتم تھا اس میں پہلے ہمزہ کو ھا سے بدل دیا گیا کیونکہ یہ اس کی اخت ہے، ابو عمرو بن العلاء اور اکفش سے یہی منقول ہے۔
نحاس نے کہا ہے : یہ اچھا اور حسین قول ہے، اور قنبل نے ابن کثیر سے ھانتم، ھعنتم کی مثل نقل کیا ہے اور اس سے احسن یہ ہے کہ ھا ہمزہ سے بدل کر آئی ہو اور اس کی اصل أأنتم ہو، اور یہ بھی جائز ہے کہ ھا تنبیہ کے لئے ہو اور یہ انتم پر داخل ہوئی ہو اور الف کو کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہو، اور ھؤلاء میں دو لغتیں ہیں یعنی مد اور قصر اور عربوں میں سے بعض اسے قصر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔
ابو حاتم نے کہا ہے :
لعمرک انا والاحالیف ھاؤلا لفی محنۃ اظفارھا لم تقلم۔
اس میں ھاؤ لاکو قصر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔
اور یہاں ھؤلاء محل نداء میں واقع ہے یعنی یا ھؤلاء، اور ھولاء کو انتم کی خبر بنانا بھی جائز ہے، اس بنا پر کہ اولاء بمعنی الذی ھو اور اس کا مابعد اس کا صلہ ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ انتم کی خبر حاججتم ہو، اور یہ سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔
مسئلہ نمبر : (2) آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ اس کے بارے جھگڑنا منع ہے جس کے بارے علم نہ ہو اور اس سے روکنے اور منع کرنے کے ممنوع ہونے پر دلیل موجود ہے جو اس کے نزدیک متحقق اور ثابت نہ ہو پس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ھانتم ھؤلاء حاججتم فیما لکم بہ علم فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم “۔
اور اس کے بارے جھگڑنے کا حکم موجود ہے جس کے بارے علم اور یقین ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجادلھم بالتی ھی احسن “۔ (النحل : 125) (اور ان سے بحث (ومناظرہ) اس انداز سے کیجئے جو بڑا پسندیدہ اور (شائستہ ہو) اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس نے اپنے بچے کا انکار کیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیا تیرے پاس اونٹ ہیں ‘؟ اس نے عرض کی ہاں آپ نے فرمایا : ” ان کی رنگت کیسی ہے ؟ “ اس نے عرض کی ؛ وہ سرخ رنگ کے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے عرض کی ہاں۔ آپ نے فرمایا : ” وہ کہاں سے آیا ؟ “ اس نے عرض کی : شاید اصل اس کی مشابہ ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اور یہ بچہ شاید اصل اس کے مشابہ ہو۔ (1) (صحیح بخاری، باب اذا عرض بتفی الولد، حدیث نمبر 4893، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہی جھگڑے کی حقیقت اور رسول اللہ ﷺ کی جانب سے استدلال کو واضح اور ظاہر کرنے کی انتہا ہے۔
Ayah 3:67آیت نمبر : 67۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے دعاوی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پاکی اور برات بیان فرمائی اور یہ بیان فرمایا کہ وہ حنیفیہ اسلامیہ (خالص اسلامی دین) پر تھے اور وہ مشرک نہ تھے، اور حنیف وہ ہوتا ہے جو توحید کا اقرار کرتا ہے، حج ادا کرتا ہے، قربانی دیتا ہے، مختون ہوتا ہے، اور قبلہ شریف کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے مادہ اشتقاق کے بارے سورة البقرہ میں گزر چکا ہے،
اور لغت میں مسلم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کی اطاعت و پیروی کرنے والا ہو، اور اسلام کا معنی سورة البقرہ میں بالتفصیل گزر چکا ہے، والحمد للہ۔
Ayah 3:68آیت نمبر : 68۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ سرداران یہود نے کہا : قسم بخدا اے محمد ﷺ آپ یقینا جانتے ہیں کہ ہم آپ اور آپ کے سوا کسی اور کی نسبت دین ابراہیمی کے نزدیک تر لوگ ہیں، کیونکہ وہ یہودی تھے اور آپ کو سوائے حسد کے اور کچھ نہیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اولی ‘ بمعنی احق ہے، (یعنی زیادہ حق رکھنا) یہ کہا گیا ہے : معونت (مدد) اور نصرت میں (یعنی مدد اور نصرت کے اعتبار سے قریب تر وہ تھے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حجت کے اعتبار سے قریب تر وہ تھے (آیت) ” للذین اتبعوہ “۔ وہ آپ کی ملت اور سنت پر تھے۔ (آیت) ” وھذا النبی “۔ حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم (اور توقیر) کے لئے آپ کا ذکر علیحدہ کیا گیا، جیسا کہ اس ارشاد میں ہے (آیت) ” فیھما فاکھۃ ونخل ورمان “۔ اور مکمل طور پر اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے، اور لفظ ” ھذا “ محل رفع میں ہے اور الذین پر معطوف ہے، اور النبی، ھذا کی صفت ہے یا عطف بیان ہے اور اگر اسے محل نصب میں رکھا جائے توع بھی کلام میں جائز ہے، اس صورت میں اس کا عطف اتبعوہ کی ھا ضمیر پر ہوگا، (آیت) ” واللہ ولی المؤمنین “۔ یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کا مددگار ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ان لکل نبی ولیا من النبین وان ولی منھم ابی و خلیل ربی “۔ بیشک ہر نبی کا انبیاء (علیہم السلام) میں سے کوئی (نہ کوئی) مددگار ہے اور ان میں سے میرے مدگار میرے باپ (جد اعلی حضرت ابراہیم علیہ السلام) اور میرے رب کے خلیل ہیں (1) (سنن ترمذی باب ومن سورة آل عمران، حدیث نمبر 2921، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔
(آیت) ” ان اولی الناس بابرھیم للذین اتبعوہ وھذ النبی “۔ (ال عمران : 68)
ترجمہ : بیشک نزدیک تر لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سے وہ تھے جنہوں نے انکی پیروی کی نیز یہ نبی (کریم) ۔
Ayah 3:69آیت نمبر : 69۔
یہ آیت حضرات معاذ بن جبل، حذیفہ بن یمان، اور عمار بن یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی جس وقت بنی نضیر، قریظہ، اور بنی قینقاع کے یہودیوں نے انہیں اپنے دین کی طرف دعوت دی، اور یہ آیت اس قول باری تعالیٰ کی مثل ہے۔
(آیت) ” ود کثیر من اھل الکتب لویردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا “۔ (البقرہ : 109)
ترجمہ : دل سے چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب کہ کسی طرح پھر بنا دیں تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر (انکی یہ آرزو) بوجہ اس حسد کے ہے۔ اس قول کی بنا پر من تبیعض کے لئے ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے، مراد جمیع اہل کتاب ہیں تو پھر من بیان جنس کے لئے ہوگا۔
اور (آیت) ” لویضلونکم “ کا معنی ہے وہ تمہیں دین اسلام سے رجوع اور اس کی مخالفت کے سبب معصیت اور گناہ میں مبتلا کردیں، اور ابن جریج نے کہا ہے : یضلونکم کا معنی ہے یھلکونکم، یعنی وہ تمہیں ہلاک کردیں۔
اور اسی میں اخطل کا قول ہے :
کنت القذی فی موج اکدر مزید قذف الانی بہ فضل ضلالا۔
اس میں ضل ضلالا بمعنی ھلک ھلاکا ہے۔
(آیت) ” وما یضلون الا انفسھم “۔ اس میں نفی اور اثبات ہے (یعنی اوروں سے ضلال وگمراہی کی نفی ہے اور ان کی اپنی ذاتوں کے لئے اس کا اثبات ہے، یعنی وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو) (آیت) ” وما یشعرون “۔ یعنی وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ وہ مومنین کو گمراہ کرنے کی استعداد نہیں رکھتے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” وما یشعرون “ کا معنی ہے : وہ اسلام کی صحت کو نہیں جانتے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اسے جانیں اور سمجھیں، کیونکہ اس کی براہین ظاہر اور دلائل واضح ہیں، واللہ اعلم ،
Ayah 3:70آیت نمبر : 70۔
یعنی ان آیات کے صحیح ہونے کے تم خود گواہ ہو جو تمہارے پاس تمہاری کتابوں میں ہیں، یہ حضرت قتادہ اور سدی سے منقول ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : اور تم ان کی مثل انبیاء (علیہم السلام) کی ان آیات و علامات کے گواہ ہو جن کے بارے تم خود اقرار کرتے ہو۔
Ayah 3:71آیت نمبر : 71۔
اللبس کا معنی ہے الخلط یعنی ملا دینا (گڈمڈ کردینا) سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے اور اس آیت کا معنی اور جو آیت اس سے پہلے ہے دونوں کا معنی ایک ہے (آیت) ” وتکتمون الحق “۔ اسے جواب استفہام ہونے کی وجہ سے تکتموا پڑھنا بھی جائز ہے (آیت) ” وانتم تعلمون “۔ یہ جملہ حالیہ ہے یعنی حالانکہ تم جانتے ہو۔
Ayah 3:72آیت نمبر : 72۔
یہ آیت کعب بن اشرف اور مالک بن صیف وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، انہوں نے اپنی قوم کے سفلہ اور احمق لوگوں کو کہا کہ ایمان لے آؤ اس (کتاب) پر جو ایمان والوں پر اتاری گئی صبح کے وقت (آیت) ” وجہ النھار “۔ سے مراد دن کا پہلا اور اول حصہ ہے۔ اور اس کے بہت حسین ہونے کی وجہ سے اسے وجھا کا نام دیا گیا ہے اور اس کا اول وہ ہے جو سب سے پہلے سامنے آتا ہے (مراد صبح ہے)
شاعر نے کہا ہے :
وتضی فی وجہ النار منیرۃ کجمانسۃ البحری سل نظامھا “۔
دن کی صبح کو روشنی اس طرح منور کرتی ہے جیسا کہ موتیوں کو لڑی میں پرودیا گیا ہو۔
اور ایک دوسرے نے کہا :
من کان مسرورا بمقتل مالک فلیات نسوتنا بوجہ نھار۔
جو مالک کے قتل سے مسرور ہے اسے چاہیے کہ وہ ہماری عورتوں کو صبح سویرے لے آئے اور (آیت) ” وجہ النھار “ اور اسی طرح اخرہ ظرف ہونے کی بنا پر منصوب ہیں۔
اور حضرت قتادہ (رح) کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے اس لئے ایسا کیا تاکہ وہ مسلمانوں کو شک میں مبتلا کردیں، اور المطائفہ کا معنی الجماعۃ ہے، یہ طاف یطوف سے ہے اور کبھی نفس طائفۃ کے معنی پر واحد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اور آیت کا معنی یہ ہے کہ یہودیوں میں سے بعض نے بعض کو کہا : دن کے اول حصہ میں محمد ﷺ کے ساتھ ایمان کا اظہار کرو اور پھر دن کے آخر میں اس کا انکار کر دو ، کیونکہ جب تم اس طرح کرو گے تو جو انکی اتباع اور پیروی کر رہے ہیں ان کے لئے اپنے دین میں شک پیدا ہوجائے گا، پس وہ انکے دین سے تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیں گے اور یہ کہنے لگیں گے۔ بیشک اہل کتاب اس بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے تم صبح کے وقت آپ کی نماز کے ساتھ ایمان لے آؤ جس میں منہ بیت المقدس کی طرف ہے کیونکہ وہ حق ہے اور سرشام آپ کی نماز کا انکار کر دو جس میں منہ کعبہ کی طرف ہے، شاید وہ تمہارے قبلہ کی طرف رجوع کرلیں۔
یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے۔
اور مقاتل نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ وہ صبح کے وقت حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے پاس سے لوٹ کر گئے تو انہوں نے سفلہ لوگوں کو کہا : وہ حق ہے تو اس کی اتباع اور پیروی کرو، بعد ازاں انہوں نے کہا : یہاں تک کہ ہم تو رات دیکھ لیں، پھر وہ سرشام لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا : تحقیق ہم نے تورات میں دیکھا ہے وہ پسندیدہ نہیں ہے، وہ کہنے لگے : بلاشبہ وہ حق نہیں ہے اور اس سے انہوں نے ارادہ یہ کیا کہ وہ سفلہ لوگوں پر معاملہ مشتبہ کردیں اور یہ کہ وہ اس بارے میں انہیں شک میں مبتلا کردیں۔