3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 3:102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا

آیت نمبر : 102۔ اس میں ایک مسئلہ ہے۔ امام بخاری (رح) (نحاس) نے مرہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حق تقاتہ ان یطاع فلا یعصی وان یذکر فلا ینسی وان یشکر فلایکفر (1) (ناسخ و منسوخ للنحاس، صفھہ 299، تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 637) (حق تقاتہ کا مفہوم یہ ہے کہ اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے اور اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے اور شکر ادا کیا جائے اور ناشکری نہ کی جائے) اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مفہوم یہ ہے کہ آنکھ جھپکنے کی دیر بھی نافرمانی نہ کی جائے، اور مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس پر کون قادر ہوگا ؟ اور یہ ان پر شاق گزری تو اللہ تعالیٰنے یہ حکم نازل فرمایا (آیت) ” فاتقوا اللہ ما استطعتم “۔ (پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔ ) تو اس نے اس آیت کو منسوخ کردیا، یہ حضرت قتادہ ؓ ربیع ؓ اور ابن زید ؓ سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ارشاد گرامی (آیت) ” فاتقوا اللہ ما استطعتم “۔ اس آیت کا بیان ہے، اور معنی یہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے جتنی تم طاقت رکھتے ہو، اور یہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ نسخ تب ہوتا ہے جب دونوں کو جمع کرنا ممکن نہ ہو اور جمع کرنا ممکن ہو تو وہ اولی ہے۔ اور حضرت علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقتہ “۔ منسوخ نہیں ہے البتہ (آیت) ” حق تقتہ “ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا جائے جیسے جہاد کرنے کا حق ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں کسی لومۃ لائم (ملامت کرنے والے کی ملامت) کی پرواہ نہ ہو، اور تم عدل و انصاف کو قائم کرو اگرچہ وہ تمہاری ذاتوں اور تمہارے بیٹوں کے خلاف ہی ہو۔ نحاس نے کہا ہے : جب بھی آیت میں مسلمانوں پر کسی واجب کا ذکر کیا جائے کہ وہ اس پر عمل کریں تو اس میں نسخ واقع نہیں ہوتا اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” ولا تموتن الا وانتم مسلمون کا معنی ومفہوم سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
Ayah 3:103

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور سب مل کر خدا (کی ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ

آیت نمبر : 103۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واعتصموا۔ العصمۃ کا معنی ہے المنعۃ (یعنی عزت اور قوت) اور اسی وجہ سے بدرقہ کو عصمۃ کہا جاتا ہے اور بذرقہ : قافلہ کی حفاظت کرنے والے کو کہتے ہیں، (یعنی محافظ ونگران) اور وہ یہ ہے کہ وہ قافلہ کے ساتھ ایسے افراد کو بھیجے جو اس کی ان سے حفاظت کریں گے جو اسے اذیت اور تکلیف پہنچائیں گے۔ ابن خالویہ نے کہا ہے : البذرقہ عربی زبان کا لفظ نہیں ہے بلکہ یہ فارسی کلمہ ہے اور عربوں نے اسے عربی بنا لیا ہے، کہا جاتا ہے : بعث السلطان بذرقۃ مع القافلۃ (سلطان نے قافلہ کے ساتھ محافظ بھیجے، ) اور لفظ ” الحبل “ مشترک ہے اور لغت میں اس کا اصلی معنی یہ ہے، السبب الذی یوصل بہ الی البغیۃ والحاجۃ وہ جب جس کے ذریعہ مقصد اور حاجت تک پہنچا جاتا ہے اور حبل کا معنی حبل العاتق (کندھے کا پٹھا) بھی ہے اور حبل سے مراد ریت کا ایک لمبا اور طویل قطعہ بھی ہے اور اسی معنی میں ایک حدیث ہے : واللہ ماترکت من حبل الا وقفت علیہ، فھل لی من حج (1) (ابن ماجہ، باب الی عرفۃ قبل الفجر لیلۃ جمع، حدیث نمبر 3006، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (قسم بخدا میں نے کوئی ریت کالمبا ٹکڑا نہیں چھورا مگر میں نے اس وقوف کیا تو کیا میرا حج ہوگیا ؟ ) اور حبل کا معنی رسی بھی ہے اور اس کا معنی عہد بھی ہے۔ اعشی نے کہا ہے : واذا تجوزھا حبال قبیلۃ اخذت من الاخری الیک حبالھا : اس میں حبل سے مراد امان اور پناہ ہے۔ اور حبل کا معنی مصیبت بھی ہے۔ کثیر نے کہا ہے : فلا تعجلی یا عز ان تتفھی بنصح اتی الواشون ام بحبول : اس میں حبول مصائب کے معنی میں ہے۔ اور حبالۃ کا معنی شکاری کا پھندا (اور جال) ہے۔ اور آیت میں سوائے عہد کے معنی کے کوئی معنی مراد نہیں ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : حبل اللہ سے مراد قرآن کریم ہے اور اسے حضرت علی ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ (2) (سنن ترمذی، باب ماجاء فضل القرآن، حدیث نمبر 2831، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اور ابو معاویہ نے ھجری (مراد ابراہیم بن مسلم العبدی ہے) سے، انہوں نے ابو الاحوص سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بلاشبہ یہ قرآن ہی حبل اللہ (اللہ کی رسی) ہے۔ “ اور تقی بن مخلد نے اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے، حدثنا یحییٰ بن عبدالحمید حدثنا حثیم عن العوام بن حوشب عن الشعبی عن عبداللہ بن مسعود، واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا “۔ فرمایا : حبل اللہ سے مراد جماعت ہے اور آپ سے اور کئی دوسروں سے یہ کئی وجوہ سے مروی ہے اور تمام کا معنی باہم متقارب اور ایک دوسرے میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ الفت و محبت کا حکم ارشاد فرما رہا ہے اور فرقت وجدائی سے منع فرما رہا ہے، کیونکہ فرقت ہلاکت ہے اور جماعت واتفاق (باعث) نجات ہے، اور اللہ تعالیٰ ابن مبارک پر رحم فرمائے۔ اس نے کہا : ان الجماعۃ حبل اللہ فاعتصموا منہ بعروہ الوثقی لمن دانا۔ اس میں حبل اللہ سے مراد جماعت ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا تفرقوا “۔ یعنی تم اپنے دین میں جدا جدا نہ ہونا جیسا کہ یہود ونصاری اپنے ادیان میں جدا دجدا ہوگئے یہ حضرت ابن مسعود ؓ وغیرہ سے منقول ہے اور یہ معنی مراد لینا بھی جائز ہے کی مختلف اغراض اور خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے جدا جدا نہ ہوجانا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے سلسلہ میں بھائی بھائی ہوجاؤ تو وہ ان کے لئے باہمی قطع تعلقی اور باہمی عداوت و دشمنی سے ڈھال اور روکنے کا ذریعہ بن جائیگا اور اس کا مابعد ارشاد گرامی اسی پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ ہے : (آیت) ” واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعدآء افالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا “۔ اور اس میں فروعات میں اختلاف کے حرام ہونے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے، کیونکہ وہ کوئی اختلاف نہیں، جبکہ اختلاف وہ ہوتا ہے جس کے ہوتے ہوئے آپس میں محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونا متعذر ہو اور رہا مسائل اجتہادیہ کا حکم تو ان میں اختلاف فرائض اور معانی شرع کی باریکیاں اور لطائف نکالنے اور مستنبط کرنے کے سبب سے ہوتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پیش آنے والے حوادث وواقعات کے احکام میں مسلسل اختلاف بھی کرتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے محبت اور الفت سے پیش آتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت کا اختلاف رحمت ہے “ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایسے اختلاف سے منع فرمایا ہے جو جھگڑے اور فساد کا سبب ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یہودی اکہتر فرقوں میں یا بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور عیسائی بھی اسی کی مثل (فرقوں میں تقسیم ہوئے) اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ “ ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث صحیح ہے۔ (1) (ابن ماجہ، باب افتراق الامم، حدیث نمبر 3980، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور انہوں نے اسے حضرت ابن عمر ؓ سے بھی نقل کیا ہے (1) (سنن ترمذی، باب ماجاء فی افتراق ھذہ الامۃ حدیث نمبر 2565، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یقینا میری امت پر بالکل برابر برابر وہی حالات آئیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی آدمی اپنی ماں کے پاس اعلانیہ (برائی کے لئے) آتا تھا تو یقینا میری امت میں سے بھی ایسا ہوگا جو اسی طرح کا فعل کرے گا اور بلاشبہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی سوائے ایک گروہ کے وہ تمام کے تمام جہنم میں ہوں گے “ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ وہ ایک کون سا فرقہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ما اناعلیہ و اصحابی جو اس (دین پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ کرام ہیں۔ انہوں نے اسے عبداللہ بن زیاد الافریقی کی حدیث سے عبداللہ بن یزید عن ابن عمر ؓ کی سند سے بیان کیا ہے اور کہا ہے : یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے اس سند کے سوا سے نہیں پہچانتے، ابو عمر نے کہا ہے : عبداللہ افریقی ثقہ راوی ہے، اس کی قوم نے اس کی توثیق کی ہے اور انہوں نے اس کی تعریف کی ہے اور دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابو داؤد نے اسے اپنی سنن میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کی حدیث سے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” خبردار ! سنو تم سے پہلے اہل کتاب بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور یہ ملت عنقریب تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی بہتر جہنم میں ہوں گے اور ایک فرقہ جنت میں ہوگا اور الجماعۃ ہے، بلاشبہ عنقریب میری امت سے کچھ تجارتی گروہ نکلیں گے ان کے ساتھ خواہشات اس طرح ہوگی جس طرح الکلب (باولا کتا کاٹے کی بیماری) اپنے مریض کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور اس کے بدن کی کوئی رغ اور کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا مگر وہ اس میں داخل ہوجاتی ہے۔ (2) (ابی داؤد، کتاب السنۃ، حدیث نمبر 3981، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور سنن ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو دنیا سے اس حال میں جدا ہوا کہ اس میں اللہ تعالیٰ وحدہ کے بارے میں اخلاص ہو، اس کی عبادت میں کوئی اور شریک نہ ہو، وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرتا رہے تو وہ اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے۔ “ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا : اور وہ اللہ تعالیٰ وہ دین ہے جسے رسل (علیہم السلام) لے کر آئے اور انہوں نے اسے اپنے رب کی طرف سے پہنچایا اس سے پہلے کہ احادیث میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو اور اھواء و خواہشات میں اختلاف ہو اور اس کی تصدیق سب سے آخر میں نازل ہوئی کتاب اللہ میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، (آیت) ’ فان تابوا “ فرمایا : پس اگر وہ بتوں اور انکی عبادت کو چھوڑ دیں۔ (آیت) ” واقامو الصلوۃ واتوالزکوۃ “۔ اور دوسری آیت میں فرمایا۔ (آیت) ” فان تابو واقاموا الصلوۃ واتوالزکوۃ فاخوانکم فی الدین “۔ (التوبہ : 11) ترجمہ : پس اگر یہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور ادا کریں زکوۃ تو تمہارے بھائی ہیں دین میں۔ انہوں نے اسے نصر بن علی جہضمی عن ابی احمد بن ابی جعفر الرازی عن الربیع بن انس عن انس ؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔ (3) (ابن ماجہ باب فی الایمان، حدیث نمبر 68، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابو الفرض جوزی نے کہا ہے : اگر کہا جائے یہ فرقے تو معروف ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ ہم افتراق اور اصولی فرقوں کو جانتے ہیں اور پھر فرقوں میں سے ہر گروہ کئی فرقوں میں تقسیم ہوا ہے، اگرچہ ہم نے ان فرقوں کے اسماء اور ان کے مذاہب کا احاطہ نہیں کیا ہے، لیکن اصولی فرقوں میں سے یہ ہمارے لئے بالکل ظاہر ہیں حروریہ، قدریہ، جھمیہ، مرجئہ، رافضہ، اور جبریہ، اور بعض اہل علم نے کہا ہے : اصل گمراہ فرقے یہی چھ فرقے ہیں اور ان میں سے ہر فرقہ بارہ فرقوں میں منقسم ہے تو اس طرح بہتر فرقے ہوگئے۔ حروریہ بارہ فرقوں میں تقسیم ہوئے ہیں ان میں سے پہلا ازرقیہ ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم کسی کو مومن نہیں جانتے اور انہوں نے اہل قبلہ کو کافر قرار دیا سوائے انکے جنہوں نے ان کے قول کو قبول کیا۔ (2) اباضیۃ : انہوں نے کہا ہے : جس نے ہمارے قول کو لے لیا تو وہ مومن ہے اور جس نے اس سے اعرض کیا تو وہ منافق ہے۔ (3) ثعلییہ : ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی فیصلہ نہیں فرمایا اور نہ کوئی تقدیر بنائی۔ (4) خازمیہ : انہوں نے کہا ہے : ہم نہیں جانتے ایمان کیا ہے اور تمام مخلوقو معذور ہے۔ (5) خلفیہ : ان کا گمان ہے کہ مرد یا عورت میں سے جس نے بھی جہاد ترک کیا تو وہ کافر ہوگیا۔ (6) کو زیہ : انہوں نے کہا ہے : کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو مس کرے کیونکہ پاک چیز کو نجس سے نہیں پہچانا جاسکتا اور نہ کوئی اپنے ساتھ کسی کو کھانا کھلائے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے اور غسل کرلے۔ (7) کنزیہ : انہوں نے کہا ہے : کوئی کسی کو یہ اختیار اور گنجائش نہ دے کہ وہ اپنا مال کسی کو دے دے، کیونکہ بسا اوقات وہ مستحق نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے زمین میں جمع کرتارہتا ہے یہاں تک کہ اہل حق ظاہر ہوجائیں۔ (8) شراخیہ : انہوں نے کہا ہے : اجنبی عورتوں کو مس کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ وہ خوشبودار پودین (پھول) ہیں۔ (9) اخنسیہ : انہوں نے کہا ہے : میت کو اس کی موت کے بعد کوئی خیر وشر لاحق نہیں ہوتا۔ (10) حکمیہ : انہوں نے کہا ہے : جس نے مخلوق کی طرف بلایا تو وہ کافر ہے۔ (11) معتزلہ : انہوں نے کہا ہے : ہم پر حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ کا معاملہ مشتبہ ہے لہذا ہم دونوں فریقوں سے بری الذمہ ہیں۔ (12) میمونیہ : انہوں نے کہا ہے : ہمارے اہل محبت کی رضا کے بغیر کوئی امام نہیں ہو سکتا۔ اور قدریہ بھی بارہ فرقوں میں تقسیم ہوئے۔ (1) احمریہ : یہ وہ فرقہ ہے جن کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عدل کی شرط میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ان کے امور کا مالک بنائے اور وہ ان کے اور ان کے گناہوں کے درمیان حائل رہے۔ (2) ثنویۃ : ان کا خیال ہے کہ خیر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور شر شیطان کی طرف سے ہے۔ (3) معتزلہ : یہ وہ ہیں جنہوں نے کہا کہ قرآن کریم مخلوق ہے اور انہوں نے (صفات) ربوبیۃ کا انکار کیا ہے۔ (4) کیسانیہ : انہوں نے کہا ہے : ہم نہیں جانتے کہ یہ افعال اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں یا بندوں کی جانب سے اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کیا اس کے بعد لوگوں کو ثواب دیا جائے گا یا انہیں سزادی جائے گی۔ (5) شیطانیہ : ان کا کہنا ہے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو پیدا نہیں کیا ہے۔ (6) شریکیہ : انہوں نے کہا ہے : بیشک کفر کے سوا تمام برائیاں مقدر ہیں۔ (7) وہمیہ : انہوں نے کہا ہے : مخلوق کے افعال اور انکے کلام کے لئے کوئی ذات نہیں اور نہ ہی نیکی اور بدی کے لئے کوئی ذات ہے۔ (8) زبریہ : انہوں نے کہا ہے : ہر کتاب جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوئی ہے اس کے مطابق عمل کرنا فرض ہے چاہے وہ ناسخ ہو یا منسوخ۔ (9) مسعدیہ : انہوں نے گمان کیا ہے کہ جس نے نافرمانی کی پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ (10) ناکثیہ : انہوں نے گمان کیا ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت توڑ دی تو اس کوئی گناہ نہٰن۔ (11) قاسطیہ : انہوں نے ابراہیم بن نظام کی اس کے اس قول میں اتباع اور پیروی کہ جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ شے ہے تو وہ کافر ہے۔ اور جھیمہ بارہ فرقوں میں منقسم ہیں۔ (1) معطلہ : انہوں نے خیال کیا ہے کہ ہر وہ شے جس پر انسان کا وہم واقع ہو سکتا ہے تو وہ مخلوق ہے اور یہ کہ جس نے یہ دعوی کیا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا جاسکتا ہے تو وہ کافر ہے۔ (2) مریسیہ : انہوں نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ کی اکثر صفات مخلوق ہیں۔ (3) مکتزقہ : انہوں نے یہ نظریہ اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ میں موجود ہے۔ (4) واردیہ : انہوں نے کہا ہے : وہ آتش جہنم میں داخل نہ ہوگا جس نے اپنے رب کو پہچان لیا اور جو اس میں داخل ہوا وہ اس سے کبھی نہ نکالا جائے گا۔ (5) زنادقہ : انہوں نے کہا ہے : کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے لئے رب ثابت کرے، کیونکہ جو اس کے ادراک کے بغیر اثابت نہیں ہو سکتا اور جس کا ادراک نہ ہو وہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ (6) حرقیۃ : انہوں نے یہ گمان کیا ہے کہ کافر کو ایک بار آگ جلا دے گی پھر وہ ہمیشہ جلا ہوا باقی رہے گا اور وہ آگ کی حرارت کو نہیں پائے گا۔ (7) مخلوقیہ : انہوں نے گمان کیا ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔ (8) فانیہ : ان کا گمان ہے کہ جنت اور جہنم دونوں فناہ ہوجائیں گی اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے کہا کہ انہیں پیدا ہی نہیں کیا گیا۔ (9) عبدیہ : انہوں نے رسل (علیہم السلام) کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حکماء تھے۔ (10) واقفیہ : انہوں نے کہا ہے : نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ وہ غیر مخلوق ہے۔ (11) قبریہ : یہ عذاب قبر اور شفاعت کا انکار کرتے ہیں۔ (12) لفظیہ : انہوں نے کہا ہے : ہمارا قرآن کا تلفظ کرنا مخلوق ہے۔ اور مرجئہ بھی بارہ فرقوں میں منقسم ہیں : (1) تارکیہ : انہوں نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ کے لئے اس کی مخلوق پر کوئی فریضہ نہیں ہے سوائے اس کے ساتھ ایمان لانے کے، پس جو کوئی اس کے ساتھ ایمان لایا تو اسے چاہیے وہ جو چاہے کرے۔ (2) سائبیہ : انہوں نے کہا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ جو چاہیں کریں۔ (3) راجیہ : انہوں نے کہا ہے : کہ اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے کو طائع اور گناہ کرنے والے کو عاصی نہیں کہا جائے گا کیونکہ ہم یہ نہیں جانتے کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس کیا ہے۔ (4) سالبیہ : انہوں نے کہا ہے : کہ طاعت ایمان میں سے نہیں ہے۔ (5) بھیشیہ : انہوں نے کہا ہے : کہ ایمان علم ہے اور جو حق کو باطل سے اور حلال کو حرام سے نہیں پہچان سکتا تو وہ کافر ہے۔ (6) علمیہ : انکا کہنا ہے کہ ایمان عمل کا نام ہے۔ (7) منقوصیہ : انہوں نے کہا ہے : ایمان نہ زیادہ ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ (8) مستشنیہ : انہوں نے کہا ہے : استثناء ایمان میں سے ہے۔ (یعنی انشاء اللہ کہنا) (9) مشبہ : انہوں نے کہا ہے : آنکھ آنکھ کی طرح ہے اور ہاتھ ہاتھ کی طرح ہے۔ (یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لئے جسم چابت کرتے ہیں ’ نعوذ باللہ من ذالک) (10) حثویہ : انہوں نے کہا ہے : تمام احادٰث کا حکم ایک ہے پس ان کے نزدیک نفل کو ترک کرنے والا فرض کو چھوڑنے والے کی طرح ہے۔ (11) ظاھریہ : یہ وہ ہیں جنہوں نے قیاس کی نفی کی ہے۔ (12) بدعیہ : وہ پہلا آدمی جس نے اس امت میں ان واقعات کا آغاز کیا۔ اور رافضیہ بھی بارہ فرقوں میں منقسم ہیں : (1) علویہ : انہوں نے کہا رسول حضرت علی ؓ کو بنایا گیا تھا لیکن حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے خطا کی (اور پیغام رسالت حضور نبی مکرم ﷺ کو پہنچا دیا) (2) امریہ : انہوں نے کہا ہے : بیشک حضرت علی ؓ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ان کے کام میں شریک ہیں۔ (3) شیعیہ : ان کا موقف ہے کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے وصی ہیں اور آپ کے بعد آپ کے ولی ہیں، بلاشبہ امت نے دوسروں کی بیعت کے سبب کفر کیا ہے۔ (4) اسحاقیہ : انہوں نے کہا ہے : بیشک نبوت یوم قیامت تک متصل ہے اور ہر وہ جو اہل بیت کا علم جانتا ہے تو وہ نبی ہے۔ (5) نادوسیہ : انہوں نے کہا ہے : حضرت علی ؓ ساری امت سے افضل ہیں، اور جس کسی نے کسی غیر کو آپ فضیلت دی تو وہ کافر ہوگیا۔ (6) امامیہ : انہوں نے کہا ہے : کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں حضرت امام حسین ؓ کی اولاد میں سے کسی امام کے بغیر ہو، بلاشبہ امام کو حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) تعلیم دیتے ہیں اور جب ایک فوت ہوجائے تو اس کی جگہ دوسرے کو بدل دیتے ہیں۔ (7) زیدیہ : انہوں نے کہا ہے : کہ حضرت امام حسین ؓ کی تمام اولاد نمازوں میں ائمہ ہوں گے پس جب ان میں سے کوئی موجود ہو تو پھر کسی غیر کے پیچھے نماز جائز نہیں ان کے نیکو کار اور ان کے فاجر (سبھی برابر ہیں) (8) عباسیہ : ان کا گمان ہے کہ حضرت عباس ؓ کا کسی غیر کی نسبت خلافت کا حق زیادہ ہے۔ (9) تناسخیہ : انہوں نے کہا ہے : نے کہا ہے کہ ارواح میں تناسخ ہوتا رہتا ہے پس جو کوئی محسن اور نیکو کار ہو اس کی روح نکلتی ہے اور ایسی مخلوق میں داخل ہوجاتی ہے جو اپنی زندگی کے ساتھ سعادت اندوز ہو رہی ہوتی ہے۔ (10) رجعیہ : ان کا نظریہ ہے کہ حضرت علی ؓ اور آپ کے اصحاب دنیا کی طرف لوٹ کر آئیں گے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لیں گے۔ (11) لاعنہ : یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت معاویہ، حضرت ابو موسیٰ ، اور حضرت عائشہ صدیقہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وغیرہ پر لعن کرتے ہیں۔ (12) متربصہ : یہ زاہدوں کے لباس کی طرح لباس پہنتے ہیں اور ہر زمانے میں ایک آدمی کھڑا کرتے ہیں جس کی طرف امر کی نسبت کرتے ہیں اور یہ گمان کرتین ہیں کہ اس امت کا امام مہدی ہے اور جب وہ فوت ہوجائے تو اس کی جگہ دوسرا مقرر کردیتے ہیں۔ پھر جبریہ بھی بارہ فرقوں میں منقسم ہیں : (1) مضطریہ : انہوں نے کہا ہے : آدمی کا کوئی فعل (اور اختیار) نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ (2) افعالیہ : انہوں نے کہا ہے : ہمارے لئے افعال ہیں لیکن ہمارے پاس ان کے لئے استطاعت اور قدرت نہیں ہے، بلاشبہ ہم چوپاؤں کی مانند ہیں کہ ہم انہیں رسی ڈال کر ہانکتے اور چلاتے ہیں۔ (3) مفردغیہ : انہوں نے کہا ہے : تمام اشیاء پیدا کردی گئی ہیں اور اب کوئی شے پیدا نہیں کی جائے گی۔ (4) نجاریہ : ان کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے فعل پر عذاب دے گا نہ کہ ان کے فعل پر۔ (5) منانیہ : انہوں نے کہا ہے : تجھ پر اس کے بارے عمل کرنا لازم ہے جو تیرے دل میں کھٹکے پس تو وہ کام کر جس میں تجھے بھلائی اور خیر معلوم ہو۔ (6) کسبیہ : انہوں نے کہا ہے : بندہ نہ ثواب طلب کرے گا نہ سزا۔ (7) سابقیہ : ان کا کہنا ہے : جو چاہے وہ عمل کرے اور جو چاہے وہ عمل نہ کرے، کیونکہ سعید کو اس کے گناہ کوئی ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور شقی اور بدبخت کو اس کی نیکی کوئی فائدہ نہ دے گی۔ (8) حبیہ : انہوں نے کہا ہے : جس نے اللہ تعالیٰ کی محبت کا جام پی لیا تو اس سے ارکان کی عبادت ساقط ہوگئی۔ (9) خوفیہ : ان کا نظریہ ہے : جس نے اللہ تعالیٰ کی ساتھ محبت کی اس کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ اس سے ڈرے، کیونکہ ایک دوست اپنے دوست سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ (10) فکریہ : انہوں نے کہا ہے : جس نے علم میں اضافہ کیا تو اس نے اپنی مقدار عبادت اس سے ساقط کردی۔ (11) خشیبہ : انہوں نے کہا ہے : دنیا بندوں کے درمیان برابر ہے، ان کے درمیان اس میں کوئی فضیلت نہیں جس کے لئے ان کے باپ آدم نے انہیں وارث بنایا ہے۔ (12) منیہ : انہوں نے کہا ہے : ہماری طرف سے فعل ہے اور ہمارے لئے استطاعت وقدرت ہے۔ وہ فرقے جو اس امت میں زائد ہوئے ان کا بیان عنقریب سورة الانعام کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے سماک الحنفی کو کہا : اے حنفی، جماعت کو لازم پکڑ لے جماعت کو اختیار کرلے، کیونکہ سابقہ امتیں اپنے تفرقہ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا (آیت) ” واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا۔ اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تین چیزیں پسند فرماتا ہے اور تین چیزیں ناپسند فرماتا ہے : وہ تمہارے لئے پسند فرماتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور یہ کہ تم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو اور وہ تمہارے لئے یہ تین چیزیں ناپسند کرتا ہے، قیل وقال کثرۃ سوال اور مال کو ضائع کرنا “۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا واجب قرار دیا ہے اور اختلاف کے وقت ان دونوں کی طرف رجوع کرنا لازم قرار دیا ہے، اور اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اعتقاد اور عملا کتاب وسنت کو مضبوط پکڑنے پر اجماع کریں اور یہی کلمات میں اتفاق لانے اور متفرقات کو منظم کرنے کا وہ سبب ہے جس کے ساتھ دنیا اور دین کے مصالح مکمل ہوتے ہیں اور (اسی میں) اختلاف سے بچاؤ اور سلامتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جمع اور اکٹھا رہنے کا حکم دیا ہے اور اس افتراق سے منع کیا ہے جو اہل کتابین (یہود ونصاری) میں موجود تھا مکمل آیت کا یہی معنی ہے اور اس میں اس اجماع کے صحیح ہونے پر دلیل بھی موجود ہے جو اصول فقہ میں مذکور ہے واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکروا نعمت اللہ علیکم اذ کنتم اعدآء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا، وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا “۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کو یاد کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور سب سے عظیم اور بڑی نعمت اسلام اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع ہے، کیونکہ اس کے سبب عدوات اور نفرت وفرقت زائل ہوگئی اور باہمی محبت والفت پیدا ہوگئی، اور اس میں مراد قبیلہ اوس اور خزرج ہیں اور یہ آیت عام ہے۔ اور (آیت) ” فاصبحتم بنعمتہ اخوانا “۔ کا معنی ہے کہ تم نعمت اسلام کے سبب دین میں بھائی بھائی ہوگئے اور قرآن کریم میں جہاں (آیت) ” اصبحتم “ ہے اور بمعنی صرتم ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ان اصبح ماؤکم غورا۔ ای صار غائرا۔ اخوان اخ کی جمع ہے اور اس کا نام اخا اس کے لئے رکھا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے بھائی کے مذہب کا قصد و ارادہ کرتا ہے اور شفا ہر شے کی طرف اور اس کے کنارے کو کہتے ہیں، اور اسی طرح شفیر بھی ہے اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” علی شفا جرف ھار “۔ (التوبہ : 109) (وادی کے کھوکھلے دھانے کے کنارے پر) راجز نے کہا : نحن حضرنا للحجیع سجلۃ نابتۃ فوق شفاھا بقلہ۔ اس میں بھی شفا طرف اور کنارہ کے معنی میں ہے۔ اور اشفی علی الشی کا معنی ہے اشرف علیہ یعنی وہ اس پر جھانکا اور اسی سے ہے اشفی المریض علی الموت یعنی مریض موت پر جھانکنے لگا (مراد یہ ہے کہ وہ قریب الموت ہوگیا) اور مابقی منہ الا شفا ای قلیل یعنی اس سے تھوڑا باقی رہ گیا۔ ابن السکیت نے کہا ہے : آدمی کے لئے اس کی موت کے وقت چاند کے لئے اس کی آخری راتوں میں اور سورج کے لئے اس کے غروب ہونے کے وقت کہا جاتا ہے، : مابقی منہ الا شفا ای قلیل۔ عجاج نے کہا ہے : ومریاء عال لمن تشرفا اشرفتہ بلا شفی او بشفی۔ قولہ بلاشفی۔ ای غابت الشمس یعنی مراد ہے سورج غروب ہوگیا اور بشفی کا معنی ہے تحقیق اس سے تھوڑا سا باقی ہے، اور یہ لفظ دوات الیاء (یائی) میں سے ہے اور اس میں ایک لغت یہ بھی ہے کہ یہ وادی ہے۔ اور نحاس نے کہا ہے : شفا اصل میں شفو ہے، اسی لئے اس کو الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور اس میں امالہ نہیں کیا جاتا، اور اخفش نے کہا ہے : جب اس میں امالہ جائز نہیں تو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ وادی کلمات میں سے ہے اور اس لئے بھی کہ امالہ یا کو واضح کرتا ہے اور اس کا تثنیہ شفوان ہے۔ مہدوی نے کہا ہے : یہ تمثیل ہے اس سے انکاکفر سے ایمان کی طرف نکلنا مراد لیا جارہا ہے۔
Ayah 3:104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

آیت نمبر : 104۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں گفتگو اسی سورة میں گزر چکی ہے۔ اور ” منکم “ میں من تبعیضیہ ہے اور اس کا معنی ہے کہ حکم دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ علماء ہوں اور تمام لوگ علماء نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بیان جنس کے لئے ہے اور معنی ہے چاہیے کہ تم تمام کے تمام اسی طرح ہو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ساتھ انہیں معین کیا : (آیت) ” الذین ان منکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ “۔ الایۃ (الحج : 41) ترجمہ : وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں اقتدار بخشیں زمین میں تو وہ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو۔ اور تمام لوگوں کو قدرت نہیں دی گئی اور ابن زبیر نے پڑھا ہے۔ ” ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویستعینون اللہ علی ماصابھم “۔ ترجمہ : اور وہ اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہیں جو کچھ انہیں پہنچے۔ ابو بکر الانباری نے کہا ہے : یہ زیادتی ابن زبیر کی طرف سے تفسیر ہے اور یہ ان کا اپنا کلام ہے اس میں نقل کرنے والوں میں سے بعض نے غلطی کی ہے اور اس نے اسے الفاظ قرآن کے ساتھ ملا دیا ہے جو کچھ بیان کر رہا ہوں اس کی صحت پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو میرے باپ نے مجھے اس سند سے بیان کی ہے۔ حدثنا (حسن) بن عرفۃ حدثنا وکیع عن ابی عاصم بن ابی عون عن صبیح، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ” یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر ویستعینون اللہ علی ماصابھم “۔ اور کوئی عقلمند اس میں شک نہیں کرسکتا کہ حضرت عثمان ؓ اس زیادتی کے قرآن میں سے ہونے کا اعتقاد نہ رکھتے تھے، کیونکہ آپ نے اسے اپنے اس مصحف میں نہیں لکھا جو امام المسلمین ہے بلکہ آپ نے اسے وعظ ونصیحت کرنے کے لئے اور ماقبل رب العالمین کے کلام کو موکد کرنے کے لئے اس کا ذکر کیا ہے۔
Ayah 3:105

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور احکام بین کے آنے کے بعد ایک دوسرے سے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہوگا

آیت نمبر : 105۔ جمہور مفسرین کے قول کے مطابق مراد یہود ونصاری ہیں، اور بعض نے کہا ہے : مراد اس امت کے مبتدع (بدعت کا ارتکاب کرنے والے) لوگ ہیں اور ابو امامہ نے کہا ہے : وہ لوگ حروریہ ہیں، اور پھر یہ آیت تلاوت کی اور جابر بن عبداللہ نے کہا : (آیت) ” کالذین تفرقوا وا اختلفوا من بعد ما جآئھم البینت “۔ اور وہ لوگ یہود ونصاری ہیں۔ (آیت) ” جآء ھم “ جمع کی بنا پر مذکر ذکر کیا گیا ہے۔ اور جآء تھم “ جماعت کی بنا پر ذکر کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:106–107

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے ؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہونگے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

آیت نمبر : 106، تا 107۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ یعنی قیامت کے دن جب وہ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو مومنین کے چہرے روشن اور سفید ہوں گے اور کافروں کے منہ کالے ہوں گے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ نامہ اعمال پڑھنے کے وقت ہوگا جب مومن اپنا نامہ عمل پڑھے گا اور اس میں اپنی نیکیاں دیکھے گا تو وہ انتہائی خوش ہوگا اور اس کا چہرہ چمک اٹھے گا اور جب کافر اور منافق اپنانامہ عمل پڑھیں گے اور اس اپنی برائیاں اور گناہ دیکھیں گے تو ان کا چہرہ سیاہ کالا ہوجائے گا، اور یہ بھی کہا جاتا ہے، : بیشک ایسا میزان کے پاس ہوگا کہ جب اس کی نیکیاں بھاری ہوجائیں گی تو اس کا چہرہ روشن ہوجائے گا اور جب (کافر) کے گناہ بھاری ہوجائیں گے تو اس کا منہ سیاہ ہوجائے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے وقت ہوگا (آیت) ” وامتازوالیوم ایھا المجرمون “۔ (یسن) اور کہا جاتا ہے : جب قیامت کا دن ہوگا تو ہر فریق کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اپنے معبود کے پاس جمع ہوجائیں پس جب وہ اس تک پہنچیں گے تو پریشان اور غمزدہ ہوجائیں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے، پس مومنین، اہل کتاب اور منافقین باقی رہ جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ مومنوں کو فرمائے گا (آیت) ” من ربکم “ ؟ تمہارا رب کون ہے ؟ تو وہ عرض کریں گے : ربنا اللہ عزوجل ہمارا رب اللہ عزوجل ہے، تو وہ انہیں فرمائے گا : ” کیا تم اسے پہچان لو گے جب تم اسے دیکھو گے ؟ “ تو وہ عرض کریں گے : اس کی ذات پاک ہے ! جب اس نے اعتراف کرلیا تو ہم اسے پہچان لیں گے پس وہ اس کا دیدار کرنے لگیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے چاہا، اور مومنین اللہ تعالیٰ کے لئے سجدے میں گر جائیں گے اور ان کے چہرے برف کی مثل سفید ہوجائیں گے اور منافقین اور اہل کتاب باقی رہ جائیں گے، وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے تو غمزدہ ہوجائیں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے اور اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ اور اس کی قرات میں تبیض وتسود دونوں تاکو مسکور پڑھنا بھی جائز ہے، کیونکہ آپ کہتے ہیں : ابیضت “ ، پس تاکو اسی طرح کسرہ دیا جاتا ہے جیسے اس میں الف کو۔۔۔۔ اور یہ بنی تمیم کی لغت ہے اور اسی کے مطابق یحییٰ بن وثاب نے پڑھا ہے اور زہری نے یوم تبیاض وسواد پڑھا ہے اور تاکو مکسور پڑھنا بھی جائز ہے اور یوم یبیض وجوہ جمع مذکر کی بنا پر یا کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے۔ اور ” اقتت کی مثل اجوہ بھی جائز ہے، اور ابیضاض الوجوہ مراد ان کا نعمتوں کے ساتھ چمک اٹھنا اور روشن ہونا اور ان کی سیاہی سے مراد وہ ہے جو درد ناک عذاب میں سے ان پر چھا جائے گا۔ مسئلہ نمبر : (2) اور علماء تعیین میں اختلاف کیا ہے پس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اہل سنت کے چہرے روشن (اور منور) ہوں گے اور اہل بدعت کے منہ سیاہ کالے ہوں گے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول کو مالک بن سلیمان ہر وی غسان کے بھائی نے مالک بن انس سے انہوں نے حضرت نافع ؓ سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے قول باری تعالیٰ (آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ کے بارے میں ارشاد فرمایا : یعنی تبیض وجوہ اھل السنۃ وتسودہ وجوہ اھل البدعۃ، اسے ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب نے ذکر کیا ہے اور اس میں کہا ہے : یہ مالک کی حدیث میں سے منکر ہے۔ حضرت عطا ؓ نے کہا ہے : مہاجرین وانصار کے چہرے روشن ہوں گے اور بنی قریظہ اور نضیر کے چہرے سیاہ ہوں گے اور حضرت ابی ابن کعب ؓ نے فرمایا : وہ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے وہ کفار ہیں اور ان کو کہا جائے گا : کیا تم نے کفر اختیار کرلیا تھا ایمان لانے کے بعد کیونکہ تم نے اس وقت اقرار کیا تھا جب تم حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے چونٹیوں کی مثل نکالے گئے تھے، اسے علامہ طبری نے اختیار کیا ہے : حسن نے کہا ہے : یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے قتادہ نے کہا ہے : یہ مرتدین کے بارے ہے، عکرمہ نے کہا ہے : وہ اہل کتاب میں سے ایک قوم ہے، وہ اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کرتے تھے اور وہ حضور نبی مکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کی بھی تصدیق کرتے تھے لیکن جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ کے ساتھ کفر کیا پس اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” اکفرتم بعد ایمانکم “ سے بھی زجاج نے اختیار کیا ہے، اور مالک بن انس ؓ نے کہا ہے : یہ اہل اھواء کے بارے ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ یہ حرور یہ کے بارے ہے، اور ایک دوسری خبر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ قدریہ کے بارے ہے، اور ترمذی نے ابوغالب سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا : ابو امامہ ؓ باب دمشق پر کھڑے کئے گئے سروں کو دیکھا (1) (سنن ترمذی باب ومن سورة آل عمران : حدیث نمبر 2926، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) تو حضرت ابوامامہ (رح) نے کہا : جہنمی کتے ہیں آسمان کی چھت کے نیچے شریر ترین مقتول ہیں، بہترین اور اچھے نیکو کار مقتول وہ تھے جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ “۔ الی آخر الایۃ۔ میں نے حضرت ابو امامہ ؓ کو کہا : کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : اگر میں نے اسے رسول اللہ ﷺ نہ سنا ہوتا سوائے ایک بار یا دو بار یا تین بار کے یہاں تک کہ انہوں نے سات بار تک گنا، تو میں تمہیں یہ بیان نہ کرتا، (امام ترمذی نے) کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ اور صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بلاشبہ میں تمہارے لئے حوض (کوثر) پر پہلے موجود ہوں گا جو کوئی میرے پاس سے گزرے گا وہ وہاں سے پیئے گا اور جس نے (ایک بار) پی لیا وہ کبھی پیاس محسوس نہیں کرے گا یقینا کئی گروہ میرے پاس آئیں گے میں انہیں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان کچھ حائل کردیا جائے گا۔ “۔ ابو حازم نے کہا ہے : نعمان بن ابی عیاش نے مجھے سنا اور کہا : کیا تو نے سہل بن سعد سے اسی طرح سنا ہے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ تو اس نے کہا : میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کے پاس حاضر تھا اور میں نے آپ سے سنا وہ اس میں یہ اضافہ بیان کرتے تھے : ” تو میں کہوں گا بلاشبہ وہ تو میرے ہیں تو کہا جائے گا بلاشبہ آپ نہیں جانتے جو کچھ انہوں نے آپ کے بعد کیا ہے، اس کے لئے ہلاکت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے جس نے میرے بعد (دین) تبدیل کرلیا۔ “ (1) (صحیح بخاری، باب فی الحوض وقول تعالیٰ انا اعطیناک الکوثر، حدیث نمبر 6097، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے اصحاب کا ایک گروہ قیامت کے دن میرے پاس حوض پر آئے گا تو انہیں حوض سے نکال دیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے پروردگار میرے اصحاب ہیں تو وہ فرمائے گا آپ کے علم میں وہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے آپ کے بعد کیا ہے بلاشبہ یہ لوگ الٹے پاؤں لوٹ کر مرتد ہوگئے، ‘(2) (ایضا، حدیث نمبر 6098، ایضا) اس معنی میں احادیث بہت ہیں زیادہ ہیں پس جس نے اللہ تعالیٰ کے دین میں تغیر وتبدل کیا یا ایسی بدعت کا ارتکاب کیا جس سے اللہ تعالیٰ راضی نہ ہو اور نہ اس کے بارے اللہ تعالیٰ اجازت دے تو وہ حوض سے بھگائے جانے والوں میں سے ہوگا اور اس سے دور رہنے والوں میں سے ہوگا جن کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان میں سب سے زیادہ مطرود اور بعید وہ ہوگا جس نے جماعت مسلمین سے اختلاف کیا اور ان کے راستہ سے علیحدہ ہوگیا جیسا کہ خوراج اپنے مختلف فرقوں کی بنا پر اور روافض اپنی واضح گمراہی کی بنا پر اور معتزلہ طرح طرح کی خواہشات اور ہوس پرستی کی بنا پر، یہ تمام کے تمام دین میں تبدیلی لانے والے اور بدعت کا ارتکاب کرنے والے ہی اور اسی طرح وہ ظالم جو ظلم وستم میں حق مٹانے میں اہل حق کو قتل اور ذلیل ورسوا کرنے میں انتہائی زیادتی کرنے والے ہیں اور وہ جو اعلانیہ گناہ کبیرہ کرنے والے ہیں اور جو معاصی اور گناہوں کو حقیر اور ہلکا سمجھنے والے ہیں اور راہ حق سے انحراف کرنے والوں خواہش پرستوں اور بدعت کا ارتکاب کرنے والوں کی جماعت، ان تمام کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ وہی اس آیت سے مراد ہوں، اور مثال اسی طرح ہے جو ہم نے بیان کردی ہے، کسی کو ہمیشہ کے لئے جہنم میں نہیں رکھا جائے گا سوائے اس انکار کرنے والے کافر کے جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ اور ابن قاسم نے کہا ہے : کبھی اہل اھواء کے سوا بھی کوئی ایسا ہوتا ہے جو اہل اھواء کی نسبت زیادہ شریر ہوتا ہے یہ کہتے ہیں : اخلاص کی تکمیل گناہوں سے اجتناب کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فاما الذین استودت وجوھم “۔ اس کلام میں حذف ہے یعنی فیقال لھم، (تو انہیں کہا جائے گا) (آیت) ” اکفرتم بعد ایمانکم “۔ ترجمہ : کیا تم نے کفر اختیار کرلیا تھا ایمان لانے کے بعد۔ یعنی یوم میثاق کو جب انہوں نے کہہ دیا بلی (ہاں تو ہمارا رب ہے) اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ یہود کے لئے ہے، اور حضور نبی مکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے ساتھ ایمان رکھتے تھے لیکن جب آپ تشریف لائے تو انہوں نے (آپ کا انکار کیا اور) آپ کے ساتھ کفر کیا، اور ابو العالیہ نے کہا : یہ خطاب منافقین کے لئے ہے کہا جائے گا : کیا تم نے سرا اور خفیۃ کفر کیا تھا اعلانیہ اقرار کرنے کے بعد، اور اہل عرب کا اس پر اجماع ہے کہ اما کے جواب میں فا لانا ضروری ہے کیونکہ اس کا معنی میرے اس قول میں ہے : اما زید فمنطلق مھمایکن من شی فزید منطلق۔ اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” واما الذین ابیضت وجوھھم “۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے والے اور اس کے عہد کو پورا کرنے والے لوگ ہوں گے، (آیت) ” ففی رحمۃ اللہ ھم فیھا خلدون “۔ یعنی وہ ہمیشہ اس کی جنت اور دار عزت و کرامت میں باقی رہیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں انہیں میں سے بنائے اور بدعتوں اور ضلالتوں کی راہوں سے ہمیں بچائے اور محفوظ رکھے اور ہمیں ان کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرتے رہے۔ آمین۔
Ayahs 3:108–109

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے

آیت نمبر : 108 تا 109۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” تلک ایت اللہ “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے اور مراد قرآن کریم ہے۔ (آیت) ” نتلوھا علیک “۔ یعنی آپ پر جبریل امین کو نازل کرتے ہیں سو وہ آپ پر آیات پڑھتا ہے، (آیت) ” بالحق “۔ یعنی صدق وسچائی کے ساتھ، اور زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” تلک ایت اللہ “ یہ آیت جو ذکر کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ کی حجتیں اور اس کے دلائل ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” تلک “۔ بمعنی ھذہ ہے۔ لیکن جب یہ گزر گئیں تو اس طرح ہوگئیں گویا یہ دور اور بعید ہیں۔ لہذا (آیت) ” تلک “ ذکر کیا گیا ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” ایت اللہ، تلک سے بدل ہو، اور وہ نعت اور صفت نہ ہو، کیونکہ مبہم مضاف کے ساتھ نعت نہیں بن سکتا۔ (آیت) ” وما اللہ یرید ظلما للعلمین “۔ یعنی وہ انہیں بغیر گناہ کے عذاب نہ دے گا۔ (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ مہدوی نے کہا ہے یکہ اس کی ماقبل کے ساتھ وجہ اتصال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مومنین اور کافرین کے احوال کا ذکر کیا اور یہ کہ وہ دنیا والوں پر ظلم نہیں کرے گا تو اس کے متصل بعد اپنی قدرتوں کی وسعت اور ظلم سے اپنے مستغنی ہونے کا ذکر کیا، اس لئے کہ جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اس کے قبضہ میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ ابتدائے کلام ہے، اس نے اپنے بندوں کے لئے بیان کیا ہے کہ زمین و آسمان میں سب کا سب اسی کا ہے یہاں تک کہ وہ اسی سے سوال کریں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔