Ayahs 3:16–17آیت نمبر : 16 تا 17۔
اس میں (آیت) ” الذین، للذین اتقوا “۔ سے بدل ہے، اور اگر چاہو تو مرفوع پڑھ لو او تقدیر کلام ہوگی ھم الذین یا پھر مدح کی بناء پر منصوب پڑھ لو۔ ” ربنا “ اصل میں یا ربنا ہے۔ اننا امنا “ کا معنی ہے یقینا ہم نے تصدیق کی۔ (آیت) ” فاغفرلنا ذنوبنا “۔ یہ مغفرت کی دعا اور التجاء ہے۔ (آیت) ” وقنا عذاب النار “ یہ سورة البقرۃ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” الصبرین “۔ یعنی یہ گناہوں اور شہوات سے صبر کرنے والے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ طاعات پر صبر کرنے والے ہیں (آیت) ” والصدقین “۔ اور افعال واقوال میں سچ بولنے والے ہیں (آیت) ” والقنتین “۔ اور وہ اطاعت وپیروی کرنے والے ہیں۔ (آیت) ” والمنفقین “۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور سورة البقرہ میں مکمل طور پر یہ معافی گزر چکے ہیں، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان متقی لوگوں کے احوال تفصیل سے بیان کئے ہیں جن کے لئے جنات کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” والمستغفرین بالاسحار “۔ کے معنی میں اختلاف ہے حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا : یہ مغفرت کی دعا اور التجا کرنے والے لوگ ہیں اور قتادہ نے کہا ہے : ان سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 411 دارالکتب العلمیہ)
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، کیونکہ وہی نماز پڑھتے ہیں اور وہی استغفار کرتے ہیں اور سحری کا وقت خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بارے ظن غالب یہ ہے کہ یہ دعا کی قبولیت کا وقت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس قول باری تعالیٰ کی تفسیر میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرف سے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو کہا : (آیت) ” سوف استغفرلکم ربی “۔ (میں تمہارے لئے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا) ” بلاشبہ آپ نے اس دعا کو سحری کے وقت تک موخر کردیا (1) “ اسے ترمذی نے بیان کیا ہے اس کا ذکر آگے آئے گا۔
اور حضور نبی مکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) سے دریافت فرمایا ” رات کے کون سے حصہ میں (دعا) زیادہ سنی جاتی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا :: ”’ میں اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ سحری کے وقت عرش وجدکناں ہوتا ہے کہا جاتا ہے سحر اور سحر یعنی حا کے فتحہ اور اس کے سکون کے ساتھ اور زجاج نے کہا ہے سحر سے مراد وہ وقت ہے جب رات واپس پلٹ رہی ہوتی ہے یہاں تک کہ فجر ثانی طلوع ہوجائے اور ابن زید نے کہا ہے : سحر سے مراد رات کا آخری چھٹا حصہ ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس بارے میں صحیح ترین روایت وہ ہے جسے ائمہ حدیث نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ (اپنی شان قدرت کے مطابق) ہر رات جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے : میں بادشاہ ہوں کون ہے وہ جو مجھ سے دعا مانگ رہا ہو کہ میں اس کی دعا قبول کرلوں، کون ہے وہ جو مجھ سے سوال کر رہا ہو کہ میں اسے عطا کروں، کون ہے وہ جو مجھ سے مغفرت طلب کر رہا ہو کہ میں اس کی مغفرت فرما دوں پس وہ اسی طرح ندا دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے “۔ اور ایک روایت میں یہ لفظ ہیں حتی ینفجر الصب، یہاں تک کہ صبح پھوٹ پڑتی ہے۔ (2) (صحیح مسلم، باب صلاۃ اللیل، صلاۃ المسافرین جلد 1، صفحہ 258، ایضا صحیح بخاری، باب الدعا فی الصلوۃ، حدیث نمبر 1077، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یہ مسلم کے الفاظ ہیں اس کی تاویل میں اختلاف ہے اور اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سے اولی اور ارجح وہ ہے جو نسائی کی کتاب میں بطور مفسر موجود ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید ؓ دونوں نے بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ رات کا پہلا نصف حصہ گزر جاتا ہے پھر وہ منادی کو حکم دیتا ہے پس وہ کہتا ہے : کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے اس کی دعا قبول کی جائے گی، کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے اس کی مغفرت کردی جائے گی، کیا کوئی سائل اور حاجتمند ہے اسے عطا کیا جائے گا “ اسے ابو محمد عبدالحق نے صحیح قرار دیا ہے۔ (3) (الجواہر الحسان جلد 1، صفحہ 239، دارالکتب العلمیۃ بیروت) اور یہ ارشاد اشکال کو رفع کردیتا ہے اور ہر احتمال کو واضح کردیتا ہے اور بیشک پہلے ارشاد میں مضاف محذوف ہے یعنی عبارت اس طرح ہے ینزل ملک ربنا فیقول، اور ینزل یاء کو ضمہ کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے اور یہ بھی اسی مفہوم کو بیان کرتا ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ وباللہ توفیقنا اور ہم نے اس کا ذکر کتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی وصفاتہ العلی میں کیا ہے۔
مسئلہ : استغفار کرنا مستحب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مغفرت طلب کرنے والوں کی تعریف بیان فرمائی ہے اور کئی دوسری آیات میں بھی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وبالاسحار ھم یستغفرون “۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا : ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم سحری کے وقت ستر مرتبہ استغفار کریں (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 411 دارالکتب العلمیہ) اور حضرت سفیان ثوری (رح) نے فرمایا : مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے : جب رات کا پہلا حصہ ہوتا ہے تو ایک ندا دینے والا ندا دیتا ہے چاہیے کہ اطاعت وفرمانبرداری کرنے والے اٹھ کھڑے ہوں چناچہ وہ اتھ کھڑے ہوتے ہیں اور سحری تک اسی طرح نماز پڑھتے رہتے ہیں اور جب سحری کا وقت ہوتا ہے تو ندا دینے والا ندا دیتا ہے : مغفرت طلب کرنے والے کہاں ہیں کہ وہ مغفرت طلب کریں، پس دوسرا گروہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور وہ نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، اور جب فجر طلوع ہوجاتی ہے تو ندا دینے والا ندا دیتا ہے : خبردار سنو ! چاہیے کہ غافل لوگ اٹھ کھڑے ہوں پس وہ اپنے بستروں سے اسی طرح اٹھتے ہیں جیسا کہ مردوں کو ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا، اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اہل زمین کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہوں پھر جب میں اپنے گھروں کو آباد کرنے والوں کی طرف، میری رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کی طرف اور سحری کے وقت تہجد پڑھنے والوں اور استغفار کرنے والوں کی طرف دیکھتا ہوں تو ان کے سبب ان سے عذاب پھیر دیتا ہوں۔ “ ان اللہ یقول انی لاھم بعذا اھل الارض فازا انظرت الی اعمار بیتی والی المتحابین فی والی المتحجدین والمستغفرین بالاسحار صرفت عنھم العذاب بھم ‘۔ (2) (شعب الایمان، جلد 6، صفحہ 501، حدیث نمبر 9051)
حضرت مکحول نے کہا ہے : جب امت میں پندرہ افراد موجود ہوں جو ہر روز پچیس مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ عام عذاب کے ساتھ اس امت کا مواخذہ نہیں فرماتا : اسے ابو نعیم نے کتاب الحلیہ میں ذکر کیا ہے۔
اور حضرت نافع ؓ نے کہا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ رات جاگتے رہتے تھے پھر فرماتے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت ہوچکا ہے ؟ـمیں عرض کرتا : نہیں، پھر آپ دو بار نماز پڑھنے لگ جاتے، پھر آپ پوچھتے، پس جب میں کہتا ہاں (سحری کا وقت ہوچکا ہے) تو آپ بیٹھ جاتے اور استغفار کرنے لگتے، (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 411 دارالکتب العلمیہ) اور ابراہیم بن حاطب نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے سحری کے وقت مسجد کے ایک کونے میں آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے حکم دیا تو میں نے تیری اطاعت وپیروی کی، یہ سحری کا وقت ہے تو میری مغفرت فرما دے، یا رب، امرتنی فاطعتک، وھذا سحر فاغفرلی پس میں نے دیکھا تو وہ حضرت ابن مسعود ؓ تھے (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 411 دارالکتب العلمیہ) ا
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ سب اس پر دلالت کرتا ہے کہ مراد حضور قلب کے ساتھ زبان سے استغفار کرنا ہے، نہ کہ وہ جو ابن زید نے کہا کہ مستغفرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں (5) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 411 دارالکتب العلمیہ) واللہ اعلم۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کہا تھا : اے میرے بیٹے، مرغ تجھ سے زیادہ دانا اور عقلمند نہ ہونے پائے کہ وہ تو سحری کے وقت ندا دیتا ہے اور تو سویا ہی رہے “۔
استغفار کے الفاظ میں مختار اور پسندیدہ وہ ہیں جو امام بخاری (رح) نے شداد بن اوس سے روایت کئے ہیں اور آپ کی الجامع میں اس کے سوا اور کوئی نہیں، حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : سید الاستغفار یہ ہے کہ تو کہے : اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عھدک ووعدک ما استطعت اعوذبک من شرما صنعت ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذنبی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت۔۔ (اے اللہ ! تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا فرمایا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں تیرے عہد اور تیرے وعدہ پر ہوں جتنی مجھ میں قدرت اور استطاعت ہے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس عمل کے شر سے جو میں نے کیا تیری جو نعمتیں مجھ پر ہیں میں ان کے سبب تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں تو میری مغفرت فرما دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔
فرمایا جس کسی نے پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دن کے وقت یہ پڑھا پھر اسی دن شام ہونے سے پہلے پہلے وہ فوت ہوگیا تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا اور جس کسی نے رات کے وقت یہ پڑھا اور پھر اسی رات صبح ہونے سے پہلے پہلے وہ فوت ہوگیا تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا (1) (صحیح بخاری، کتاب الدعوات، جلد 2، صفحہ 933، ایضا، بخاری صفحہ 5831، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ابو محمد عبد الغنی نے سعید بن ابی لہیعہ کی حدیث عن ابی صخر عن ابی معاویہ عن سعید بن جبیر عن ابی الصہباء البکری عن علی بن ابی طالب ؓ کی سند سے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا ہاتھ پکڑا پھر ارشاد فرمایا : ” کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھا دوں (جب) تو انہیں کہے تو اگر تیرے گناہ چیونٹیوں کی گرز گاہ کی طرح بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ تیرے لئے انہیں معاف فرما دے گا اس بنا پر کہ اس نے تیری مغفرت فرما دی ہے : اللہم لا الہ الاانت سبحانک علمت سؤا وظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا یغفرالذنوب الا انت “۔ (2) (کنزالعمال، جلد 2، صفحہ 677، حدیث نمبر 5052، ایضا بخاری باب الدعا، قبل السلام، حدیث نمبر 790، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اے اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے میں نے برائی کے اعمال کئے ہیں اور میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے سو تو میری مغفرت فرما دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ )
Ayah 3:18آیت نمبر : 18۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا ہے کہ کعبہ معظمہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ تمام سجدے میں گر گئے، (1) (زاد المیسر، جلد 1، صفحہ 294)
اور کلبی نے کہا ہے : جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ کے پاس اہل شام کے علماء میں سے دو عالم حاضر ہوئے، جب ان دونوں نے مدینہ طیبہ کو دیکھا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی کو کہا : یہ شہر اس نبی مکرم ﷺ کے شہر کے اوصاف کے ساتھ کتنی زیادہ مشابہت رکھتا ہے جو آخر زمانہ میں تشریف لائے گا، چناچہ جب وہ دونوں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ کی علامات اور صفات کو دیکھ کر آپ کو پہچان لیا، تو انہوں نے آپ سے پوچھا : کیا آپ محمد ﷺ ہیں ؟ آپ نے فرمایا ” ہاں “ پھر کہا : کیا آپ احمد ﷺ ہیں ؟ آپ نے فرمایا ” ہاں “ دونوں نے کہا : ہم آپ سے شہادت کے بارے پوچھتے ہیں پس اگر آپ نے ہمیں اس کے بارے بتا دیا تو ہم آپ کے ساتھ ایمان لے آئیں گے اور ہم آپ کی تصدیق کریں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو فرمایا : ” تم مجھ سے پوچھو “ تو انہوں نے کہا : کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کے بارے آپ ہمیں بتائیے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو، والملئکۃ واولوا العلم قآئما بالقسط “۔ چناچہ وہ دونوں اسلام لے آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کردی (2) (اسباب النزول لنیشاپوری، صفحہ 63) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” اولو العلم “۔ سے مراد حضرات انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ابن کیسان نے کہا ہے : مہاجرین اور انصار ہیں۔ مقاتل نے کہا ہے : اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے اور سدی اور کلبی نے کہا ہے : مراد تمام مومنین ہیں اور یہی قول زیادہ واضح اور ظاہر ہے کیونکہ یہ عام ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اس آیت میں علم کی فضیلت اور علماء کے شرف وفضل پر دلیل ہے، کیونکہ اگر کوئی اور علماء سے اشرف واعلی ہوتا تو بالیقین اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اور ملائکہ کے ملائکہ کے نام کے ساتھ اسی طرح ملا کر ذکر کرتا جیسا کہ علماء کا ذکر کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے علم کے شرف و عظمت کے سبب ہی اپنے نبی مکرم ﷺ کو فرمایا : وقل رب زدنی علما “۔ پس اگر کوئی اور شے علم کی نسبت زیادہ شرف والی ہوتی تو یقینا اللہ تعالیٰ اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم ارشاد فرما تاکہ اس میں زیادتی اور اضافہ کی التجا کریں جیسا کہ علم میں زیادتی اور اضافہ کی طلب کا حکم ارشاد فرمایا : اور آپ ﷺ نے فرمایا ان العلماء ورثہ الانبیاء (3) (سنن ابی داؤد کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 157، ) (بلاشبہ علماء انبیاء (علیہم السلام) کے وراث ہیں) اور مزید فرمایا : العلماء امناء اللہ علی خلقہ “۔ (4) (کنزالعلمال، جلد 10، صفحہ 134، حدیث نمبر 28675) (علماء اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق پر امین ہیں) اور علماء کے لئے عظیم شرف اور بہت بڑا اعزاز ہے۔ اور دین میں ان کے لئے بہت بڑا مقام اور بلند رتبہ ہے، ابو محمد عبدالغنی الحافظ نے برکۃ ابن نشیط کی حدیث نقل کی ہے۔ اور یہ عنکل بن حکارک ہیں اور اس کی تفسیر برکۃ بن نشیط ہے اور یہ حافظ ہیں۔
ہمیں عمر ابن مومل، محمد بن ابی الخصیب، عنکل محمد بن اسحاق، شریک نے ابو اسحاق سے حدیث بیان کی کہ حضرت براء ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : العلماء ورثۃ الانبیاء یحبھم اھل السماء ویستغفرلھم الحیتان فی البحر اذا ماتوا الی یوم القیامۃ (1) (کنز العمال، جلد 10، صفحہ 135، حدیث نمبر 28679) (علماء انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں جب وہ فوت ہوجائیں گے تو یوم قیامت تک سمندر میں مچھلیاں ان کے لئے مغفرت طلب کرتی رہیں گی، ) اس باب میں حضرت ابو الدرداء ؓ کی حدیث بھی ہے جسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے (2) (سنن ابی داؤد، کتاب العلم، جلد 2، صفحہ 157، ایضا ابی داؤد حدیث نمبر 3157، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (3) غالب القطان نے بیان کیا ہے : میں تجارت کی غرض سے کوفہ آیا اور میں حضرت اعمش کے قریب اترا اور میں ان سے اختلاف رکھتا تھا، پس جب رات ہوئی تو میں نے بصرہ میں نزول کا ارادہ کیا وہ اٹھے اور انہوں نے رات کے وقت نماز تہجد ادا کی اور یہ آیت تلاوت کی (آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو، والملئکۃ واولوا العلم قآئما بالقسط، لا الہ الا ھو العزیز الحکیم، ان الدین عند اللہ الاسلام “۔ اعمش نے کہا میں اس بارے شہادت دیتا ہوں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے اور میں یہ شہادت اللہ تعالیٰ کے پاس امانت رکھتا ہوں اور یہ میرے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس ودیعت ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین (فقط) اسلام ہے، انہوں نے بار بار یہ کہا : پس میں صبح کے وقت ان کی طرف گیا اور میں نے انہیں الوداع کہا پھر کہا : بلاشبہ میں نے تمہیں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا ہے اس کے بارے میں تمہیں کیا خبر پہنچی ہے ؟ میں ایک سال تک تمہارے پاس رہا ہوں تم نے اس بارے میں مجھے کچھ نہیں بیان کیا، انہوں نے فرمایا : قسم بخدا ! میں ایک سال تک اس بارے میں تمہیں کچھ نہیں بیان کروں گا، وہ فرماتے ہیں ؛ پس میں اٹھا اور میں نے ان کے دروازے پر اس دن کے بارے لکھ دیا، پس جب سال گزر چکا تو میں نے کہا : اے ابو محمد ! سال گزر چکا ہے تو انہوں نے کہا : مجھے ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یجاء بصاحبھا یوم القیامۃ فیقول اللہ تعالیٰ عبدی عھد الی وانا احق من وفی ادخلوا عبدی الجنۃ (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 440) اس آیت پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندے نے میرے ساتھ عہد کیا ہے اور میں کسی بھی وفا کرنے والے سے زیادہ حق رکھتا ہوں پس تم میرے بندے کو جنت میں داخل کر دو )
ابوالفرج الجوزی نے کہا ہے : غالب القطان سے مراد غالب بن خطاف القطان ہے جو اعمش سے حدیث شھد اللہ روایت کرتا ہے اور یہ حدیث مفصل ہے، ابن عدی نے کہا ہے : اس کی حدیث میں ضعف بین اور واضح ہے، امام احمد بن حنبل (رح) نے فرمایا غالب بن خطاف القطان ثقہ ہے ثقہ ہے، ابن معین نے کہا ثقہ ہے، اور ابو حاتم نے کہا ہے : یہ صدوق اور صالح ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : تیرے لئے اس کی عدالت اور ثقاہت کے لئے یہی کافی ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علہیم نے اپنی کتابوں میں اس کی حدیث نقل کی ہے اور تیرے لئے یہ کافی ہے اور حضرت انس ؓ سے حدیث مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اپنے سونے کے وقت یہ آیت پڑھی (آیت) ” شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو، والملئکۃ واولوا العلم قآئما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم “۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے تر ہزار فرشتے پیدا فرما دے گا اور وہ اس کے لئے یوم قیامت تک استغفار کرتے رہیں گے ، “ اور کہا جاتا ہے : جس نے اس شہادت کے بارے اپنے صحیح قلب سے اقرار کرلیا تحقیق اس نے عدل قائم کرلیا، اور حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : کعبہ معظمہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے قبائل عرب میں سے ہر قبیلے کے لئے ایک یا دو بت تھے، پس جب یہ آیت نازل ہوئی تو تمام بت اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ ریز ہوگئے۔ (1) (زاد المیسر جلد 1، صفحہ 294)
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” شھد اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : اور آگاہ فرمایا، جیسا کہ کہا جاتا ہے : شھد فلان عندالقاضی (اس کا معنی ہے) فلان نے قاضی کے سامنے اس کے بارے بیان کیا جس کا حق ہے یا جس پر حق ہے زجاج نے کہا ہے : شاہد وہ ہوتا ہے جو کسی شے کو جانتا ہے اور اس کی وضاحت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر ایسے شے کے ساتھ ہماری راہنمائی فرمائی ہے جسے اس نے تخلیق فرمایا اور بیان فرمایا :
اور ابو عبیدہ نے کہا ہے (آیت) ” شھد اللہ “ بمعنی قضی اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے (فیصلہ فرمایا) آگاہ فرمایا، اور ابن عطیہ (رح) نے کہا ہے : یہ کئی اعتبار سے مردود ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 412 دارالکتب العلمیہ)
امام کسائی نے قول باری تعالیٰ (آیت) ” انہ لا الہ الا ھو “ اور ” ان الدین “ میں ان کے ہمزہ کو مفتوح پڑھا ہے، مبرد نے کہا ہے : تقدیر کلام یہ ہے ان الدین عند اللہ الاسلام بانہ لا الہ الا ھو “۔ پھر یا کو حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ کہا : امرتک الخیریہ “ اصل میں بالخیر ہے، کسائی نے کہا ہے تو ان دونوں کو اکٹھی نصب دے، اس معنی میں شھد اللہ انہ کذا، وان الدین عنداللہ، ابن کیسان نے کہا ہے : دوسرا ان پہلے سے بدل ہے، کیونکہ اسلام ہی معنی توحید کی تفسیر ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی قرات کی ہے جو کسائی نے بیان کیا ہے (آیت) ” شھد اللہ انہ “ یعنی اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ان الدین اس میں ان کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 412 دارالکتب العلمیہ) اور تقدیر کلام یہ ہے ” شھد اللہ ان الدین الاسلام “۔ پھر ابتدا کی اور فرمایا (آیت) ” انہ لا الہ الا ھو “۔ اور ابو المہلب نے ” شھد اللہ “ حال ہونے کی بنا پر نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور ان سے شھداء اللہ بھی مروی ہے۔ (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 412 دارالکتب العلمیہ)
اور شعبہ نے عاصم بن زرعن ابی کی سند سے حضور نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ اس طرح پڑھتے تھے ” ان الدین عنداللہ الحنیفیۃ لا الیھودیۃ ولا النصرانیۃ ولا المجوسیۃ “۔ (5) (مسند احمد بن حنبل، جلد 5، صفحہ 132، ایضا ترمذی، باب مناقب اھل بیت النبی ﷺ حدیث نمبر 3726، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابوبکر انباری نے کہا ہے : کسی صاحب تمیز آدمی پر یہ مخفی نہیں ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ سے یہ کلام تفسیر کی حیثیت سے مروی ہے اور ناقلین حدیث میں سے کسی نے اسے قرآن میں داخل کردیا ہے۔ اور قائما قول باری تعالیٰ (آیت) ” شھد اللہ “ میں اسم جلالت سے یا قول باری تعالیٰ ” الا ھو “ سے حال مؤکدہ ہونے کی بنا پر منصوب ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) اور فراء نے کہا ہے : وہ قطع کی بنا پر منصوب ہے، اس کی اصل القائم ہے پس جب الف لام کا کاٹ دیا گیا تو اسے نصب دے دی گئی جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے (آیت) ” ولہ الدین وصبا “۔ اور حضرت عبداللہ ؓ کی قرات میں القائم بالقسط “۔ ہے لغت اور صفت ہونے کی بنا پر، اور القسط کا معنی عدل ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) (آیت) ” لا الہ الا ھو العزیز الحکیم “۔ اسے دوبارہ لایا گیا ہے کیونکہ پہلا دعوی کے محل میں واقع ہے اور دوسرا شہادت حکم کے محل میں واقع ہے اور حضرت امام جعفر صادق ؓ نے فرمایا : پہلا وصف اور توحید ہے اور دوسرا رسم (حکم) اور تعلیم ہے یعنی تم کہو (آیت) ” لا الہ الا ھو العزیز الحکیم۔
Ayah 3:19آیت نمبر : 19۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ”۔ ان الدین عنداللہ الاسلام “۔ اس آیت میں دین سے مراد طاعت اور ملت ہے اور اسلام بمعنی ایمان اور طاعات ہے، ابو العالیہ نے یہی کہا ہے اور اسی پر جمہور متکلمین ہیں (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) اور حدیث جبریل (4) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 12، ایضا حدیث نمبر 48، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کے مطابق اور اسلام کے مسمی میں دراصل تغایر ہے، (یعنی دونوں لفظوں کا اطلاق علیحدہ علیحدہ معنی پر ہوتا ہے) اور کبھی معنی مردافہ کے ساتھ بھی استعمال ہوتے ہیں اور دونوں میں ہر ایک کو دوسرے کا نام دے دیا جاتا ہے، جیسا کہ وفد عبد القیس کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ایمان لانے کا حکم ارشاد فرمایا اور فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو ایمان کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : اللہ ورسولہ اعلم “۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ واقام الصلوۃ ایتاء الزکوۃ وصوم رمضان وان تؤدوا خمسا من المغنم الحدیث (5) ، (یہ شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت سے خمس ادا کرو) اور اسی طرح آپ ﷺ کا ارشاد ہے “ ایمان کے ستر سے کچھ زائد باب ہیں اور ان میں سے ادنی تکلیف دہ شے کو راستے سے ہٹانا ہے اور اعلی ترین باب ” الا الہ الا اللہ “۔ کہنا ہے۔ “ اسے ترمذی نے نقل کیا ہے (6) (جامع ترمذی، کتاب الایمان، جلد 2، صفحہ 86، ایضا صحیح بخاری، باب امور الایمان، حدیث نمبر 8، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور مسلم نے یہ زیادہ کیا ہے والحیاء شعبۃ من الایمان (7) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 47) (حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے)
اور یہ تداخل کے معنی میں ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بولا جاتا ہے اور اس سے مراد اس کا اپنا اصل مسمی اور دوسرے کا مسمی لیا جاتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے کیونکہ اس میں تصدیق اور اعمال دونوں داخل ہوں اور اسی کے مطابق حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے۔ الایمان معرفۃ بالقلب وقول باللسان وعمل بالارکان (ایمان سے مراد دل سے معرفت حاصل کرنا، زبان سے قول کرنا اور ارکان کے مطابق عمل کرنا ہے) اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے (1) (سنن ابن ماجہ، مقدمہ، صفحہ 8، ایضا سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 63، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ پہلے گزر چکا ہے اور حقیقی معنی وضعا اور شرعا پہلا ہی ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ وسعت کے باب سے ہے واللہ۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما اختلف الذین اوتوا الکتب “۔ الایہ، اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اختلاف کے بارے خبر دی ہے کہ وہ حقائق کے بارے علم رکھتے تھے اور یہ کہ وہ دنیا کے خواہشمند اور طالب تھے، حضرت ابن عمر ؓ وغیرہ نے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) یہی کہا ہے اور کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اور معنی یہ ہے : اور نہیں جھگڑا کیا ان لوگوں نے جنہیں کتاب دی گئی تھی آپس میں حسد کرتے ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس (صحیح) علم آگیا، اخفش نے یہی کہا ہے، محمد بن جعفر بن زبیر، نے کہا ہے : اس آیت سے مراد نصاری ہیں اور یہ نجران کے عیسائیوں کے جھڑک ہے (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) اور ربیع بن انس نے کہا ہے : اس سے مراد یہود ہیں اور (آیت) ” الذین اوتوالکتب “۔ کا لفظ یہود ونصاری تمام کو شامل ہے۔ (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) یعنی وہ لوگ جنہیں کتاب عطا کی گئی وہ حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کے بارے میں نہیں جھگڑے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس صحیح علم آگیا تھا، یعنی آپ ﷺ کی صفت اور نبوت کا بیان ان کی کتابوں میں آچکا تھا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : (اس آیت میں سے مراد یہ ہے) جنہیں انجیل عطا کی گئی انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا نہیں کیا اور آپ کے بارے میں انہوں نے متفرق قول نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس یہ علم آگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ یکتا اور منفرد ومعبود ہے اور یہ کہ حضرت عیسیعلیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور بغیا مفعول من اجلہ ہونے کی وجہ سے یا الذین سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (5) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 3:20آیت نمبر : 20 :
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان حاجوک فقل اسلمت وجھی للہ ومن اتبعن “۔ یعنی اگر وہ جھوٹین من گھڑت اقوال اور مغالطون کے ساتھ آپ سے جھگڑا کریں، تو آپ اپنا معاملہ اس کی طرف منسوب کیجئے جس کا ایمان اور تبلیغ میں سے آپ کو مکلف بنایا گیا ہے اور آپ کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہی ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 413 دارالکتب العلمیہ) اور قول باری تعالیٰ : ” وجھی “ بمعنی ذاتی ہے (یعنی میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا دیا ہے) اور حدیث طیبہ میں بھی ہے : سجد وجھی للذی خلقہ وصورہ (2) (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، جلد 1، صفحہ 263) (میری ذات نے اسے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے صورت عطا کی) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں الوجہ بمعنی القصد ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں خرج فلان فی وجہ کذا (فلاں اس ارادے اور قصد میں نکلا) یہ معنی سورة البقرہ میں مکمل طور پر گزر چکا ہے، پہلا معنی زیادہ اولی اور بہتر ہے، اور ساری ذات کو وجہ کے ساتھ اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ (چہرہ) آدمی کے تمام اعضاء میں سے زیادہ شرف وعزت والا ہے اور حواس کو جمع کرنے والا ہے اور کسی شاعر نے کہا :
اسلمت وجھی لمن اسلمت لہ المزن تحمل عذبا زلالا۔
اس میں وجہ بمعنی ذات ذکر کیا گیا ہے۔
اور ماہر متکلمین نے اس ارشاد گرامی (آیت) ” ویبقی وجہ ربک “ میں کہا ہے کہ اس میں وجہ سے مراد ذات ہے (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 414 دارالکتب العلمیہ) اور یہ بھی کہا گیا ہے : مراد وہ عمل ہے جس کے ساتھ اس کی ذات کا قصد کیا جاتا ہے اور قولہ : (آیت) ” ومن اتبعن “ میں من محل رفع میں ہے اور یہ اسلمت کی تا پر معطوف ہے، یعنی جنہوں نے میری پیروی کی انہوں نے بھی (اپنا آپ) جھکا دیا، اور ضمیر مرفوع متصل پر بغیر تاکید کے عطف جائز ہوتا ہے جبکہ دونوں کے درمیان فاصلہ آجائے۔
حضرت نافع، ابو عمرو اور یعقوب نے اتبعن میں یا کو اپنے اصل پر ثابت رکھا ہے اور دوسروں نے مصحف کی اتبا میں اسے حذف کردیا ہے کیونکہ یہ اس میں بغیر یاء کے ہے (4) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ)
اور شاعر نے کہا ہے :
لیس تخفی یسارتی قدر یوم ولقد تخف شیمتی اعساری۔
میری خوشحالی دن کی قدر کو نہیں چھپاتی بلکہ میری عادت وکردار میری تنگدستی کو چھپا دیتا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وقل للذین اوتوالکتب والامینء اسلمتم فان اسلموا فقد اھتدوا وان تولوا فا انما علیک البلغ واللہ بصیر بالعباد ، “۔ للذین اوتوالکتب “۔ سے مراد یہود ونصاری ہیں اور امیین “ سے مراد وہ ہیں جن کی کوئی کتاب نہیں اور وہ مشرکین عرب ہیں، ء اسلمتم میں استفہام تقریری ہے، اور اس کے ضمن میں امر ہے یعنی اسلموا (یعنی تم اسلام لے آؤ) علامہ طبری وغیرہ نے اسی طرح کہا ہے۔
اور زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” ء اسلمتم “۔ یہ تہدید ہے اور یہی اچھا اور بہتر مفہموم ہے، کیونکہ معنی ہے : کیا تم اسلام لائے یا نہیں ؟ اور ارشاد گرامی (آیت) ” فقد اھتدوا “ میں ماضی کا صیغہ ان کے لئے ہدایت کے وقوع اور اس کی تحصیل میں اظہار مبالغہ کے لئے ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 414 دارالکتب العلمیہ) اور البلغ بلغ کا مصدر ہے اس کے فعل میں عین کلمہ مخفف ہے، (بلغ) یعنی بلاشبہ آپ پر صرف تبلیغ کرنا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ حکم ان میں سے ہے جو جہاد کے ساتھ منسوخ ہوچکا ہے اور ابن عطیہ (رح) نے کہا ہے : یہ قول اس آیت کی تاریخ نزول کی پہچان کا محتاج ہے۔ ظاہر تو یہی ہے کہ یہ آتی وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، کیونکہ معنی یہ ہے کہ بلاشبہ آپ پر یہ لازم ہے کہ آپ کی طرف قتال وغیرہ احکام میں سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ وہ ان تک پہنچا دیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 414 دارالکتب العلمیہ)
Ayahs 3:21–22آیت نمبر : 21 تا 22۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین یکفرون بایت اللہ ویقتلون النبین “۔ ابو العباس المبرد نے کہا ہے : بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ تھے ان کے پاس انبیاء (علیہم السلام) انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے لئے آئے تو انہوں نے قتل کردیا اور پھر ان کے بعد مومنین میں سے کچھ لوگ اٹھے اور انہوں نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انہیں قتل کردیا اور پھر ان کے بعد مومنین میں سے کچھ لوگ اٹھے، اور انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے انہیں بھی قتل کردیا، پس انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طرح معقل بن ابی مسکین نے کہا ہے انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات بغیر کتاب کے بنی اسرائیل کے پاس آتے رہے اور وہ انہیں قتل کرتے رہے پر انبیاء (علیہم السلام) کے متبعین میں سے ایک گروہ اٹھا اور وہ انہیں عدل و انصاف کا درس دینے لگا تو وہ بھی قتل کئے جانے لگے، (3) (جامع البیان، جلد 2، صفحہ 253) اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بری قوم وہ قوم ہے جو ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو لوگوں میں سے عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں اور کتنی بری ہے وہ قوم جو نیکی کا حکم نہیں دیتے اور منکر سے منع نہیں کرتے اور کتنی بری قوم ہے وہ جس میں بندء مومن احتیاط اور پرہیز کے ساتھ چلتا ہے۔ (4) (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 23، حدیث نمبر 2145)
اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” بنی اسرائیل نے دن کے اول حصہ کی ایک ساعت میں تینتالیس انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا، پھر بنی اسرائیل کے لوگوں میں سے ایک سو بارہ آدمی اٹھے اور انہوں نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا تو اسی دن کے آخری حصہ میں وہ ب کے سب قتل کردیئے گئے اور وہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے (1) (زاد المیسر، جلد 1، صفحہ 297) “ اسے المہدوی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
اور شعبہ نے ابو اسحاق عن ابی عبیدۃ عن عبداللہ کی سند سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل ایک دن میں ستر انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرتے رہے پھر دن کے آخر میں ان کی سبزیوں کے بازار لگ گئے، (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 414 دارالکتب العلمیہ) پس کہنے والا کہے کہ وہ جنہیں یہ نصیحت کی گئی ہے انہوں نے کسی نبی کو قتل نہیں کیا ؟ـ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ان کے فعل کے ساتھ راضی ہیں جنہوں نے قتل کیا ہے پس یہ بھی انہیں کی طرح ہوگئے اور یہ بھی کہ انہوں نے بھی حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ قتال کیا اور انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ اور قصد کیا اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک “۔ (الانفال : 30)
ترجمہ : اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کر رہے تھے آپ کے بارے میں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا تاکہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو شہید کردیں۔
مسئلہ نمبر : (2) یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سابقہ امتوں میں واجب تھا اور یہی رسالت کا فائدہ اور نبوت کی خلافت ہے، حسن نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا تو وہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے اور اس کے رسول کا خلیفہ ہے اور اس کی کتاب کا خلیفہ ہے، (3) (کنز العمال، جلد 3، صفحہ 77، حدیث نمبر 5564)
اور درہ بنت ابی لہب نے بیان کیا ہے ایک آدمی حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے بہتر کون ہے ؟ـآپ ﷺ نے فرمایا : ”(وہ) جس نے انہیں نیکی کا حکم دیا اور انہیں برائی سے منع کیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے لئے ڈرایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب انہیں جمع اور اکٹھا کیا (4) (مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحۃ 432) اور قرآن کریم میں ہے :
(آیت) ” المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض، یامرون بالمنکر وینھون عن المعروف “۔ (التوبہ : 67)
ترجمہ : منافق مراد اور منافق عورتیں سب ایک جیسے ہیں حکم دیتے ہیں برائی کا اور روکتے ہیں نیکی سے۔
پس اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو مومنین اور منافقین کے درمیان فرق بنا دیا ہے اور یہ اس پر دلیل ہے کہ مومن کے اوصاف میں سے کا ص ترین وصف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور اس کا سرخیل اسلام کی طرف دعوت دینا اور اس پر قتال کرنا ہے۔ پھر امر بالمعروف ہر ایک کے لائق اور مناسب نہیں ہوتا، بلاشبہ اسے سلطان وقت قائم کرتا ہے کیونکہ حدود کا قیام اسی کے سبب ہوتا ہے، تعزیر اس کی رائے کے سپرد ہوتی ہے، قید کرنا اور چھوڑنا اسی کے حوالے ہوتا ہے اور جلاوطنی وغیرہ کے احکام اسی کے اختیار میں ہوتے ہیں پس وہ ہر شہر میں نیک صالح، طاقتور، عالم اور امانتدار آدمی مقرر کرے گا اور اسے ان احکام کے نفاذ کا حکم دے گا اور اس طرز پر حدود بغیر کسی زیادتی کے جاری رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ اتوا الذکوۃ وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر ‘۔ (الحج : 41)
ترجمہ وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں اقتدار بخشیں زمین میں تو وہ صحیح صحیح ادا کرتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوۃ اور حکم کرتے ہیں (لوگوں کو) نیکی کا اور روکتے ہیں (انہیں) برائی سے۔
مسئلہ نمبر : (3) اہل السنت کے نزدیک ناہی کے لئے عادل شرط نہیں ہے بخلاف مبتدعہ کے وہ کہتے ہیں : کسی کو عادل کے سوا کوئی تبدیل نہیں کرسکتا، یہ نظریہ ساقط الاعتبار ہے، کیونکہ عدالت تو مخلوق میں سے قلیل لوگوں میں محصور ہے اور امر بالمروف اور نہیں عن المنکر تمام لوگوں میں عام ہے اور اگر وہ اس ارشاد باری تعالیٰ سے استدلال کریں۔
(آیت) ” اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم “۔ (البقرہ : 44)
ترجمہ : کیا تم حکم کرتے ہو (دوسرے) لوگوں کو نیکی کا اور بھلا دیتے ہو اپنے آپ کو)
اور قول باری تعالیٰ :
(آیت) ” کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا مالا تفعلون “۔ اور اسی طرح کی دیگر آیات سے، (الصف)
ترجمہ : بڑی ناراضگی کا باعث ہے جس سے منع کیا گیا ہے نہ کہ یہ مذمت نہیں عن المنکر کرنے پر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جس عمل سے منع کیا گیا ہے اسے کرنے والا اس کی نسبت زیادہ قبیح ہے جو اسے نہیں کرتا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں اسی طرح گھومتا رہے گا جس طرح گدھا چکی کے ساتھ گھومتا ہے، ہم نے اس کی تفصیل سورة البقرہ میں قول تعالیٰ (آیت) ” اتامرون الناس بالبر “۔ کے تحت بیان کردی ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) مسلمانوں نے اس بارے میں اجماع کیا ہے جو ابن عبد البر نے ذکر کیا ہے کہ منکر تو کو تبدیل کرنا ہر اس پر واجب ہے جو اس پر قادر ہو اور جبکہ اس فریضہ (تغییر منکر) کی ادائیگی میں اسے ایسی ملامت اور خوف لاحق ہو جو باعث اذیت نہ ہو پھر بھی اس فریضہ کی ادائیگی اس پر واجب ہے اور اگر وہ قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے روکے اور اگ اس پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اپنے دل سے (برا جانے) اس پر اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور جب وہ اپنے دل سے برا جانے تو پھر وہ اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داری ادا کرے جب وہ اس کے سوا کچھ استطاعت نہ رکھتا ہو، بیان فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید میں بہت زیادہ احادیث مروی ہیں لیکن وہ استطاعت اور قدرت کے ساتھ مقید ہیں، حسن نے کہا ہے : بلاشبہ مومن کو امید کے لئے اور جاہل کو تعلیم کے لئے کلام کی جاتی ہے، پس وہ جس نے اپنی تلوار یا کوڑا رکھ دیا اور پھر کہا : ” اتقنی اتقنی (مجھ سے تو بچ اور ڈر) تو اس میں نہ تیرے لئے کچھ (خطرہ) ہے اور نہ اس کے لئے۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ایسے آدمی کے بارے میں جو منکر (برائی) کو دیکھے اور اسے تبدیل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ اعتراف کرے کہ وہ اسے ناپسند کرتا ہے۔ (1) ابن لہیعہ نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کسی مومن کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ “ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس کا اپنے آپ کو ذلیل کرنا کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” وہ ایسی بلا اور مصیبت سے تعرض کرتا ہے جس کے لئے وہ استطاعت نہیں رکھتا۔ (2) (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن، صفحہ 299، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 4005، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
میں (مفسر) کہتا ہوں : ابن ماجہ نے اسے علی بن زید بن جدعان عن الحسن بن جندب عن حذیفہ عن النبی ﷺ کی سند سے بیان کیا ہے۔ (1) (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن، صفحہ 299، ایضا ابن ماجہ، حدیث نمبر 4005، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ان دونوں میں کلام ہے، اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مروی ہے کہ آپ نے ارشادچش فرمایا : آدمی جب کسی برائی کو دیکھے اور وہ اسے روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ تین بار یہ کہے : اللھم ان ھذا منکر (اے اللہ ! بلاشبہ یہ منکر (برائی) ہے پس جب اس نے یہ کہہ دیا تو اس نے وہ کردیا جو اس پر (لازم) تھا۔
ابن عربی (رح) نے خیال کیا ہے کہ جسے برائی کے زوال کی امید ہو اور اس کی تبدیلی سے اسے اپنی ذات پر ضرب یا قتل کا خوف ہو تو اکثر علماء کے نزدیک اس خطرہ کے وقت اس کا اس مشقت میں پڑنا جائز ہے اور اگر برائی کے زوال کی امید نہ ہو تو پھر ان کے نزدیک کون سا فائدہ ہے، فرمایا : قسم بخدا میرے نزدیک جب نیت خالص ہے تو اسے چاہیے وہ اس مشقت پر پڑجائے کیفیت جو بھی ہو اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔ (2) (احکام القرآن ابن العربی، جلد 1، صفحہ 266)
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اس کے خلاف ہے جو ابو عمر نے اجماع کا ذکر کیا ہے اور یہ آیت قتل کا خوف ہونے کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے جواز پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” وامر بالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی ما اصابک “۔ (لقمان : 17)
ترجمہ : نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے روکتے رہو اور صبر کیا کرو ہر مصیبت پر جو تمہیں پہنچے۔
اور یہ اشارہ اذیت پہنچانے کی طرف ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) ائمہ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان سے روک دے اور اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے (اسے براس مجھے) اور یہ کمزور ترین ایمان ہے (3) (صحیح مسلم کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 51، ایضا ابن ماجہ، باب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر حدیث نمبر 4002، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) علماء نے کہا ہے : ہاتھ کے ساتھ امر بالمعروف امراء (حکام وقت) پر لازم ہے اور زبان کے ساتھ امر بالمعروف علماء کے ذمہ ہے اور دل کے ساتھ ضعفاء یعنی عوام الناس پر لازم ہے، پس روکنے کے لئے برائی کا ازالہ کرنا جب زبان کے ساتھ ممکن ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے روکے اور اگر اس کے لئے سزا یا قتال کے بغیر ازالہ ممکن نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ یہ بھی کرے، اور اگر برائی قتال کے بغیر زائل ہوجائے تو پھر قتال جائز نہیں اور یہ مفہوم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے لیا گیا ہے :
(آیت) ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ “۔ (الحجرات : 9)
ترجمہ : تو پھر سب (ملکر) لڑو اس سے جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف)
اور اسی پر علماء نے اس کی بنیاد رکھی ہے کہ جب کوئی کسی ذات پر یا مال پر حملہ آور کو اپنی ذات سے یا اپنے مال سے یا کسی اور کی ذات سے دور ہٹائے تو اس کا تو حق ہے لیکن اس پر کوئی شے (بطور تاوان) لازم نہیں، اگر زید نے عمر کو دیکھا کہ اس نے بکر کا مال (اٹھانے یا ضائع کرنے کا) قصد کیا ہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس سے اسے روکے جبکہ مال کا مالک اس پر قادر نہ ہو اور نہ اس کے ساتھ راضی ہو، حتی کہ علماء نے کہا : اگر ہم (قصاص) بھی فرض کرلیں، اور کہا گیا ہے : ہر شہر میں جس میں چار قسم کے لوگ ہوں تو اس کے رہنے والے آزمائش اور بلا سے محفوظ رہتے ہیں، امام عادل جو ظلم نہ کرتا ہو اور عالم جو راہ ہدایت پر گامزن ہو اور مشائخ جو نیکی کا حکم دیتے ہوں اور برائی سے روکتے ہوں اور علم کے حصول اور قرآن کریم کی تعلیم پر برانگیختہ کرتے ہوں اور ان کی عورتیں پردے میں رہتی ہوں اور زمانہ جاہلیت کی طرح وہ زیب و آرائش کا اظہار نہ کرتی ہوں۔
مسئلہ نمبر : (6) حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ہم کب امر بالمعروف اور نہی عن المنکرچھوڑ سکتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” جب تم میں وہ ظاہر ہوجائے جو تم سے پہلی امتوں میں ظاہر ہوا۔ “ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ہم سے پہلی امتوں میں کیا ظاہر ہوا ؟ تو آپ نے فرمایا : الملک فی صغارکم والفاحشۃ فی کبارکم والعلم فی رذالتکم (حکمرانی تمہارے چھوٹوں اور گھٹیا لوگوں میں ہو اور تمہارے بڑوں (اعلی قسم کے لوگوں) میں فحاشی عام ہوجائے اور علم تمہارے رذیل (اور کمینے) لوگوں میں ہو۔ ) زید نے بیان کیا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے والعلم فی رذالتکم یعنی جب علم فاسق لوگوں میں آجائے، اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، صفحہ 299) اس باب کا مزید بیان سورة المائدہ وغیرہا میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ : اور فبشرھم اور وحبطت کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayah 3:23آیت نمبر : 23۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت اس سبب سے نازل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بیت المدارس میں یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، تو نعیم بن عمرو اور حارث بن زید نے آپ سے کہا : اے محمد ﷺ آپ کون سے دین پر ہیں ؟ تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” بلاشبہ میں ملت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوں۔ “ تو ان دونوں نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :“ تم میرے پاس تورات لے آؤ پس وہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گی ، “ تو ان دونوں نے اس کا انکار کردیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔
اور نقاش نے بیان کیا ہے : یہ آیت اس لئے نازل ہوئی کیونکہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضور نبی رحمت ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا : ” تم میرے پاس تورات لے آؤ اس میں میری صفات موجود ہیں “ تو انہوں نے انکار کردیا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 416، 415 دارالکتب العلمیہ) جمہور نے ” لیحکم “ پڑھا ہے اور ابو جعفر یزید بن القعقاع نے ” لیحکم “ یا کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 416، 415 دارالکتب العلمیہ) اور پہلی قرات احسن ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق (الجاثیہ : 29)
ترجمہ : یہ ہمارا نوشتہ ہے جو بولتا ہے تمہارے بارے میں سچ۔
مسئلہ نمبر : (2) اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کجہ جس کو دعوت دی جائے اس کا حاکم کے پاس پیش ہونا واجب ہے کیونکہ اسے کتاب اللہ ﷺ کی طرف دعوت دی گئی ہے، پس اگر وہ اسے قبول نہ کرے تو وہ مخالف ہوگیا اور مخالف اور مخالف کی قدرومنزلت کے مطابق اس پر ادب سکھانے کے لئے زجر وتوبیخ کرنا متعین ہوجاتا ہے، اور یہی حکم ہمارے پاس اندلس اور بلاد عرب میں جاری ہے، لیکن دیار مصر میں ایسا نہیں ہے۔ اور یہ وہ حکم ہے جسے ہم نے سورة النور میں پوری تفصیل کے اس ارشاد باری تعالیٰ کے تحت بیان کیا ہے :
(آیت) ” واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون، وان یکن لھم الحق یاتوا الیہ مذعنین، افی قلوبھم مرض ام ارتابوا ام یخافون ان یحیف اللہ علیھم ورسولہ، بل اولئک ھم الظلمون “۔ (النور)
ترجمہ : اور جب وہ بلائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی طرف تاکہ فیصلہ کرے ان کے درمیان تو اس وقت ایک جماعت ان میں رو گردانی کرنے لگتی ہے۔ (بلکہ درحقیقت) وہ خود ظالم ہیں۔
اور زہری نے حسن سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جسے اس کے خصم نے مسلمان حکام میں سے کسی حاکم کے پاس بلایا تو یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ظالم ہو اور اس کا کوئی حق نہ ہو (3) (السنن الکبری للبیہقی، کتاب آداب القاضی، جلد 10، صفحہ 140) ابن عربی (رح) نے کہا ہے : ” یہ حدیث باطل ہے اور رہا آپ کا یہ قول ” فھو ظالم “ تو یہ کلام صحیح ہے اور جہاں تک فلاحق لہ “ کا تعلق ہے تو وہ صحیح نہیں ہے، اور یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ آپ کی مراد یہ ہو انہ علی غیر الحق (کہ وہ غیر حق پر ہو) ابن خویز منداد مالکی نے کہا ہے : ہر وہ آدمی جسے حاکم کی مجلس کی طرف بلایا جائے اس پر واجب ہے کہ وہ اس دعوت کو قبول کرے جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو کہ حاکم فاسق ہے یا اسے مدعی اور مدعی علیہ کے درمیان عداوت کا علم ہو۔
مسئلہ نمبر : (3) اور اس آیت میں اس پر بھی دلیل موجود ہے کہ سابقہ شرائع ہمارے لئے بھی شریعت ہیں سوائے اس حکم کے جس کے منسوخ ہونے کا ہمیں علم ہو، اور یہ کہ سابقہ انبیاء (علیہ السلام) کی شریعتوں کے مطابق فیصلہ کرنا ہم پر واجب ہوتا ہے، اس کا بیان آگے آ رہا ہے، اور یہ کہ تورات نہ ہم پڑھیں گے اور نہ جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کریں گے، کیونکہ وہ جن کے قبضہ میں ہے وہ اس پر امین نہیں ہیں اور انہوں نے اس میں تغیر وتبدل کردیا ہے اور اگر ہم جان لیں کہ اس میں کوئی ایسی شے ہے جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوا تو ہمارے لئے اس کی قرات جائز ہے، اور اسی طرح حضرت عمر ؓ سے مروی ہے جبکہ انہوں نے حضرت کعب کو فرمایا : ” اگر تو جان لے کہ یہ وہی تورات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل فرمایا ہے تو پھر تو اسے پڑھ۔
اور حضور نبی کریم ﷺ اس کے بارے جانتے تھے جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوا اسی لئے آپ نے انہیں اس کی طرف اور اسی کے مطابق فیصلہ کرنے کی طرف دعوت دی، اس کا بیان عنقریب سورة المائدہ میں آئے گا اور ان اخبار کا بیان جو اس کے بارے میں وارد ہوئی ہیں انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:24آیت نمبر : 24۔
یہ (انکے) پیٹھ پھیرنے اور اعرض کرنے کی طرف اشارہ ہے اور ان کے اپنے اس قول سے دھوکہ کھانے کی طرف ” نحن ابناء اللہ واحباوہ “ اور اسی طرح کے ان کے دیگر اقوال، اور سورة البقرہ کے اس قول کے معنی میں کلام گزر چکی ہے۔ (آیت) ” لن تمسنا النار “۔
Ayah 3:25آیت نمبر : 25۔
تو توقیف اور تعجب کی جہت پر حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کی امت کو خطاب ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 416 دارالکتب العلمیہ) یعنی کیا حال ہوگا ان کا یا وہ کیا کریں گے جب قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور ان سے ان کے وہ حسن مضمحل ہوجائیں گے جن کا وہ دنیا میں دعوی کرتے تھے اور جو کچھ انہوں نے اپنے کفر، اپنی جرات اور اپنے قبیح اعمال میں سے کمایا اس کا انہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ قول باری تعالیٰ ” لیوم “ میں لام بمعنی فی ہے، کسائی نے یہی کہا ہے۔ اور بصریوں نے کہا ہے : اس کا معنی ہے لحساب یوم “۔ (اس دن کے حساب کے لئے) اور طبری نے کہا ہے : لما یحدث فی یوم۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 416 دارالکتب العلمیہ) (اس کے لئے جو اس دن میں ظاہر ہوگا)