3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

آیت نمبر : 172۔ (آیت) ” الذین مبتدا ہونے کی بنا پر محل رفع میں ہے اور اس کی خبر (آیت) ” من بعد ما اصابھم القرح “ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل جر میں ہو، اس صورت میں یہ (آیت) ” المؤمنین “ سے یا (آیت) ” بالذین لم یلحقوا “۔ سے بدل ہوگا۔ (آیت) ” استجابوا “۔ یعنی اجابوا ہے اور اس میں سین اور تا دونوں زائدہ ہیں۔ اور اسی معنی میں یہ قول بھی ہے۔ فلم یستجبہ عند ذالک مجیب “۔ اور صحیحین میں حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا : مجھے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : تیرا باب ان میں سے تھا جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول معظم ﷺ کی دعوت پر لبیک کہی اس کے بعد کہ انہیں گہرا زخم لگ چکا تھا یہ مسلم کے الفاظ ہیں (1) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 282، ایضا صحیح بخاری، باب الذین استجابوا اللہ والرسول، حدیث نمبر 3769، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور انہی کی وساطت سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے : اے میرے بھانجے تیرے دونوں باپ یعنی حضرت زبیر اور حضرت ابو بکرصدیق ؓ ان میں سے تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول معظم ﷺ کی دعوت پر لیبک کہی اس کے بعد کہ انہیں گہرا زخم لگ چکا تھا اور انہوں نے فرمایا : جب مشرک میدان احد سے واپس لوٹے اور حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو وہ مصیبت اور اذیت پہنچی جو انہیں پہنچی تو آپ کو خوف لاحق ہوا کہ (ممکن ہے) وہ واپس پلٹ آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” کون ان کے مقابلہ کی دعوت پر لبیک کہے گا تاکہ یہ جان لیں کہ ہمارے پاس قوت ہے ؟ “ پس حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت زبیر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ان ستر افراد میں تھے جو اس کے لئے تیار ہوئے، چناچہ یہ اس قوم کے پیچھے نکلے اور انہیں اپنی آواز پہنچائی اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس لوٹے، اور ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے جو غزوہ حمراء الاسد میں پیش آیا، اور یہ مدینہ طیبہ سے تقریبا آٹھ میل کے فاصلے پر ہے اور وہ اس طرح ہوا کہ جب اتوار کا دن تھا اور یہ غزوہ احد کا دوسرادن تھا، رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں مشرکین کا پیچھا کرنے کا اعلان کیا اور فرمایا ” ہمارے ساتھ صرف وہی نکلے گا جو کل اس میں حاضر تھا ، “ تو آپ ﷺ کے ساتھ مومنین میں سے دو سو آدمی اٹھے، بخاری میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” کون ان کے پیچھے جائے گا ؟ “ تو ان میں سے ستر آدمی تیار ہوئے، فرمایا : ان میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ اور حضرت زبیر ؓ بھی تھے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب المغازی جلد 2 صفحہ 584، ایضا صحیح بخاری، حدیث نمبر 3769، ضیا القرآن پبلی کیشنز) یہاں تک کہ آپ حمرء الاسد پہنچ گئے، دشمن کو ڈرانے اور خوفزدہ کرنے کے لئے، ان میں ایسا بھی تھا جو زخم لگنے کے سبب شدید تکلیف میں تھا وہ چلنے کی استطاعت نہ رکھتا تھا اور وہ کوئی سواری بھی نہ پاتا تھا اور کبھی گھوڑے پر سوار ہوتا تھا اور یہ تمام کے تمام رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پیروی اور جہاد کی رغبت میں تھے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی عبدالاشہل کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ دونوں زخم لگنے کے سبب انتہائی کمزور اور نحیف تھے، ان میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھ پر ٹیک اور سہارا لگا کر چلتا تھا اور یہ دونوں حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ نکلے، پس جب حمرآء الاسد پہنچے تو نعیم بن مسعود ان سے ملا اور اس نے انہیں یہ خبر دی کہ ابو سفیان ابن حرب اور جو قریش کے افراد اس کے ساتھ ہیں وہ لشکر جرار کی صورت میں اکٹھے ہیں اور انہوں نے اپنی رائے کو اس پر پختہ کرلیا ہے کہ وہ مدینہ طیبہ کی طرف لوٹ کر آئیں اور وہاں کے باسیوں کو ہلاک وبرباد کردیں، تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے بارے خبر نہیں دی ہے : (آیت) ” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ اور اسی اثنا میں کہ قریش اس رائے پر جمع ہوچکے تھے کہ اچانک ان کے پاس معبد الخزاعی آگیا اور قبیلہ خزاعہ حضور نبی مکرم ﷺ کا حلیف اور آپ کی نصیحتوں کا راز داں تھا اور وہ حضور نبی کریم ﷺ کے اصحاب کا حال اور جس کیفیت پر وہ تھے اسے دیکھ چکا تھا اور جب اس نے قریش کے واپس پلٹنے کے عزم کو دیکھا تاکہ وہ اہل مدینہ کو تباہ و برباد کر دے تو اسے اس کا خوف لاحق ہوگیا اور حضور نبی کریم ﷺ کے لئے اور آپ کے اصحاب کے لئے اس کے اخلاص نیت نے اسے اس سے برانگیختہ کیا کہ وہ قریش کو ڈرائے چناچہ اس نے انہیں کہا : میں نے ابھی حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کو حمرا الاسد کے مقام پر بہت بڑے لشکر کی صورت میں چھوڑا ہے اور جو کوئی ان سے پیچھے رہ گیا تھا وہ بھی ان کے ساتھ جمع ہوچکا ہے اور وہ تم پر (غصہ سے) جلے ہوئے ہیں، پس تم بچ جاؤ بچ جاؤ، پس میں تجھے اس سے روک رہا ہوں قسم بخدا جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس نے مجھے اس پر ابھارا ہے کہ میں اس کے بارے کچھ اشعار لکھوں۔ اس (ابو سفیان) نے پوچھا، تو نے کیا کہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں نے کہا ہے : کادت تھد من الاصوات راحلتی اذ سالت الارض بالجرد الابابیل : قریب تھا کہ میری سواری کا جانور لشکروں کے شوروغل کی ہولناکی کی وجہ سے گر پڑتا جب زمین پر جوق درجوق کم مو گھوڑوں کا سیلاب آگیا : تردی باسد کرام لا تنابلۃ عند اللقآء ولا میل معاذیل : جو ایسے ذی شان شیروں کو اٹھائے دوڑ رہے تھے جو مقابلہ کے وقت نہ سست اور بزدل ہوں گے اور نہ ہتھیاروں سے خالی ہوں گے۔ فظلت عدوا اظن الارض مائلۃ لما سموا برئیس غیر مخذول : جب وہ گھوڑے ایک ایسے سردار کے ساتھ بلند ہوئے جو بےیارومددگار نہیں چھوڑا گیا تھا تو میں تیز دوڑنے لگا، مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے زمین جھکی جارہی ہے۔ فقلت ویل ابن حرب من لقائکم اذا تغطمطت البطحاء بالخیل : میں نے کہا تمہاری ملاقات سے ابو سفیان بن حرب کے لئے ہلاکت ہے جب وادی بطحاء گھوڑوں سے تھر تھرا اٹھے گی۔ انی نذیر لاھل البسل ضاحیۃ لکل ذی اربۃ منھم ومعقول بے شک میں سورض کی دھوپ میں چمکنے والی سرزمین کے رہنے والوں (یعنی قریش مکہ) میں سے ہر صاحب عقل و دانش کو ڈرانے والا ہوں۔ من جیش احمد لا وخش قنابلہ ولیس یوصف ما انذرت بالقیل (1) (جامع البیان للطبری، جلد 3، 4، صفحہ 224) (سیدنا) احمد (مجتبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر سے جو سست اور کوتاہ قد نہیں ہیں اور جس بات سے میں نے ڈرایا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ پس اس طرح اس نے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو واپس لوٹا دیا اور اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ ڈرتے ہوئے تیزی کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف لوٹ آئے اور حضور نبی مکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ہمراہ اس حال میں مدینہ منورہ کی طرف لوٹے کہ آپ کی مدد ونصرت فرمائی گئی تھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء “۔ اس میں سوء سے مراد قتال اور رعب ہے (آل عمران : 174) ترجمہ : ان کے عزم و توکل کا نتیجہ یہ نکلا کہ “ واپس آئے یہ لوگ اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ نہ چھوا ان کو کسی برائی نے۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے آپ کی معیت میں نکلنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرمادی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ اس واپس پلٹنے کے ساتھ انہیں اجر عظیم حاصل ہوا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ یہ عزوہ ہے۔ “ یہی جمہور نے اس آیت کی تفسیر کی ہے اور حضرت مجاہد (رح) اور عکرمہ (رح) کا قول شاذ ہے ان دنوں نے کہا ہے : بیشک یہ آیت اس قول میں سے ہے : (آیت) ” الذین قال لھم الناس “۔ تاقولہ۔۔۔۔ عظیم۔ یہ حضور نبی مکرم ﷺ کے بدر صغری کی جانب خروج کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نکلے ابو سفیان کے اس وعدہ کے مطابق جو اس نے میدان احد میں کیا تھا، کیونکہ اس نے کہا تھا : آنے والے سال ہمارا مقابلہ میدان بدر میں ہوگا، تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” تم جوابا کہو : ہاں (ہمیں منظور ہے) پس آپ ﷺ بدر کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں بہت بڑی منڈی لگی ہوئی تھی، پس رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو دراہم عطا فرمائے۔ “ اور آپ بدر کے قریب جاپہنچے تو آپ ﷺ کے پاس نعیم بن مسعود اشجعی آیا اور اس نے آپ کو خبر دی کہ قریش جمع ہوچکے ہیں اور آپ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں وہ اور جو ان کی طرف منسوب ہیں پس اس وجہ سے مسلمان خوفزدہ ہوگئے، لیکن انہوں نے کہا : (آیت) ” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ پس وہ چلتے رہے یہاں تک کہ بدر میں پہنچ گئے اور وہاں کسی ایک کو بھی نہ پایا۔ اور انہوں نے منڈی اور بازار لگا ہوا پایا پس انہوں نے اپنے دراہم کے ساتھ کچھ چمڑا اور سامان تجارت خریدا اور واپس لوٹ گئے، اور انہوں نے کوئی جنگ اور مکر نہ پایا اور اپنی تجارت میں نفع کمایا، پس اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل “۔ (یعنی ان تجارات میں فضل و احسان کے ساتھ واپس لوٹے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 543 دارالکتب العلمیہ) ۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

آیت نمبر : 173۔ اس قول باری تعالیٰ : (آیت) ” الذین قال لھم الناس “۔ میں اختلاف کیا گیا ہے، پس حضرت مجاہد (رح)، مقاتل، عکرمہ اور کلبی رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : وہ (کہنے والا) نعیم بن مسعود اشجعی تھا (2) (زاد المسیر 1۔ 2، صفحہ 402) یہ لفظ عام ہے اور اس کا معنی خاص ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے، : (آیت) ” ام یحسدون الناس “۔ یعنی (الناس سے مراد) حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ سدی نے کہا : وہ ایک اعرابی تھا جس کے لئے اس کام پر اجرت مقرر کی گئی تھی اور ابن اسحاق (رح) اور ایک جماعت نے کہا ہے : الناس سے مراد عبدا لقیس کے سواروں کا قافلہ ہے، اور ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے انہیں مسلمانوں کی طرف ایک سازش کے تحت بھیجا تاکہ وہ انہیں اس سے باز رکھیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں الناس سے مراد منافقین ہیں۔ سدی نے کہا ہے : جب حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ابو سفیان کی مقرر کردہ میعاد کے مطابق بدر الصغری کی طرف چلنے کے لئے تیار ہوئے تو انکے پاس منافقین آئے اور انہوں نے کہا : ہم تمہارے وہی ساتھی ہیں جنہوں نے تمہیں ان کی طرف نکلنے سے منع کیا تھا اور تم نے ہماری تجویز نہ مانی تھی اور پھر انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں میں آکر قتل کیا اور وہ کامیاب ہوئے اور اگر تم ان کے پاس ان کے گھروں میں گئے تو تم میں سے کوئی ایک بھی واپس لوٹ کر نہیں آئے گا، تو انہوں نے کہا : (آیت) ” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ (ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) اور ابو معشر نے کہا ہے : اہل تہامہ میں سے قبیلہ ہذیل کے کچھ لوگ مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے تو ان سے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے ابو سفیان کے بارے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا : (آیت) ” قد جمعوا لکم “ تحقیق کافروں نے تمہارے لئے بہت بڑا لشکر جمع کر رکھا ہے، (آیت) ” فاخشوھم “ پس تم ان سے ڈرو اور تم ان سے بچو، کیونکہ تمہارے پاس ان کے مقابلے کی طاقت نہیں ہے، ان باب میں ان اقوال کی بنا پر ہی الناس جمع ہے۔ واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فزادھم ایمانا “۔ یعنی لوگوں کے قول نے از روئے ایمان کے ان میں اضافہ کردیا، یعنی اپنے دین کے بارے میں تصدیق اور یقین، اپنی مدد ونصرت پر پختہ وثوق اور قوت وجرات اور استعداد کے اعتبار سے ان میں اضافہ ہوگیا، پس ان معنی کی بنا پر ایمان میں زیادتی سے مراد اعمال میں زیادتی ہے، علماء کا ایمان کے زیادہ اور کم ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اور اس بارے میں کئی اقوال ہیں اور اس بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ نفس ایمان جو کہ ایک تاج ہے اور کسی بھی شے کی ایک تصدیق ہے بلاشبہ یہ مفرد معنی ہے جب یہ حاصل ہوجائے تو اس میں کوئی زیادتی اور اضافہ داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس میں سے کوئی شے باقی رہجاتی ہے جب یہ زائل ہوجائے، پس کچھ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ زیادتی اور کمی ایمان کے متعلقات میں ہوتی ہے نہ کہ اس کی ذات میں۔ پس علماء کی ایک جماعت نے یہ موقف اپنانا ہے کہ ایمان ان اعمال کے اعتبار سے زیادہ یا کم ہوتا ہے جو اس سے صادر ہوتے ہیں، بالخصوص بہت سے علماء اسم ایمان کا اطلاق طاعات پر کرتے ہیں، اس وجہ سے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” ایمان کے ستر سے کچھ زائد باب ہیں ان میں سے اعلی ” لا الہ الا اللہ “ کہنا ہے اور ان میں سے ادنی راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ہے (1) (جامع ترمذی، کتاب الایمان جلد 2، صفحہ 86، ایضا، جامع ترمذی، حدیث 2539، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور مسلم نے یہ اضافہ بھی ذکر کیا ہے :” اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے (2) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 47) اور حضرت علی ؓ کی حدیث میں ہے : ایمان دل میں ایک سفید نقطہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جب بھی ایمان میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ نقطہ بڑھ جاتا ہے اور آپ کا قول ” لمظۃ “ اس کے بارے اصمعی نے کہا ہے : نقطہ اور اس کی طرح کی سفیدی ہے اور اسی سے کہا گیا ہے : فرس المظ جب گھوڑے کے ہونٹ میں سفیدی ہو اور محدثین کہتے ہیں لمظۃ “ فتحہ کے ساتھ، البتہ کلام عرب میں یہ ضمہ کے ساتھ ہے : مثلا ” شبھۃ، دھمۃ اور حمرۃ۔ اور اس میں ان کے خلاف حجت اور دلیل ہے جو ایمان کے زیادہ اور کم ہونے کا انکار کرتے ہیں، کیا آپ انہیں دیکھ نہیں رہے وہ کہتے ہیں جب بھی ایمان بڑھتا ہے تو وہ نقطہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ سارا دل سفید ہوجاتا ہے، اور اسی طرح نفاق دل میں ایک سیاہ نقطہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جب بھی نفاق بڑھتا ہے تو دل سیاہ ہوتا ہے یہاں تک کہ سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے، اور ان میں سے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ایمان عرض ہے اور یہ دو زمانوں میں ثابت نہیں رہتا اور یہ حضور نبی کریم ﷺ اور صلحاء کے لئے یکے بعد دیگرے قائم رہتا ہے پس مومن کے دل میں اس کی امثال ثابت نہیں رہتا، اور یہ حضور نبی کریم ﷺ اور صلحاء کے لئے یکے بعد دیگرے قائم رہتا ہے پس مومن کے دل میں اس کی امثال کے لگا تار اور تسلسل کے ساتھ قائم رہنے کے اعتبار سے اور بالدوام اس کے موجود رہنے کے اعتبار سے یہ بڑھتا ہے، اور مومن کے دل پر لگا تار اور مسلسل غفلتیں پڑنے کے سبب یہ کم ہوجاتا ہے، اس کی طرف ابو المعالی نے اشارہ کیا ہے۔ اور یہ معنی حدیث شفاعت میں موجود ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ہے اسے مسلم نے نقل کیا ہے (3) (صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث نمبر 6866، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس میں ہے :” پس مومنین عرض کریں گے اے ہمارے رب ہمارے بھائی روزے رکھتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے تو انہیں کہا جائے گا جنہیں پہچانتے ہو نکال لاؤ پس ان کی صور آتش جہنم پر حرام کردی جائیں گی اور خلق کثیر نکال لی جائے گی درآنحالیکہ اسے آگ نصف پنڈلی اور اس کے گھٹنے تک پکڑے ہوئے تھی پھر وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! جن کے بارے تو نے ہمیں حکم دیا ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا ہے تو رب کریم فرمائے گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں تم ایک دینار برابر خیر اور نیکی پاؤ تو اسے بھی نکال لاؤ چناچہ وہ بہت سی مخلوق کو نکالیں گے پھر وہ عرض کیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے ان میں سے کوئی ایک بھی اس میں نہیں چھوڑا جن کے بارے تو نے ہمیں حکم دیا ہے پھر رب کریم فرمائے گا : تم لوٹ کر جاؤ اور تم جس کے دل میں نصف دینار کے برابر خیر اور نیکی پاؤ تو اسے نکال لو چناچہ وہ خلق کثیر کو نکالیں گے پھر عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم نے اس میں سے کوئی بھی نہیں چھوڑا جن کے بارے تو نے ہمیں حکم دیا، پھر رب کریم فرمائے گا : تم لوٹ جاؤ اور جس کے دل میں تم ذرہ برابر خیر اور نیکی پاؤ تو اسے بھی نکال لاؤ (1) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1 صفحہ 103) اور آگے پوری حدیث ذکر کی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس حدیث میں ایمان سے مراد دلوں کے اعمال ہیں مثلا نیت، اخلاص، خوف، اور نصیحت، اور ان کے مشابہ اعمال، اور ان کا نام ایمان رکھا ہے کیونکہ یہ محل ایمان میں ہیں یا ایمان سے مراد عادت عرب کے مطابق تسمیۃ لشیء باسم الشیء ہے جبکہ یہ اس کے مشابہ اور مجاور ہو یا یہ اس کے سبب ہو، اس تاویل کی دلیل شفاعت کرنیو الوں کا وہ قول ہے جو انہوں نے ان لوگوں کو نکالنے کے بعد کہا جن کے دلوں میں ذرہ بھی خیر اور نیکی ہوگی : لم ندر فیھا خیرا (ہم نے اس میں کوئی خیر نہیں چھوڑی) باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان میں سے جمع کثیر کو نکالے گا، جو ” لا الہ الا اللہ “ کہتے ہیں اور وہ قطعا یقینا مومن ہیں اور اگر وہ مومن نہ ہوتے تو یقینا اللہ تعالیٰ انہیں نہ نکالتا۔ پھر اگر وہ وجود اول معدوم ہوجائے جس پر اس کی مثل مرتب ہوتا ہے تو یہ نہ زیادتی ہے اور نہ نقصان، اور اس کا اندازہ حرکت میں لگایا گیا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے علم مفرد پیدا کیا اور اس کے ساتھ اس کی مثل یا امثال کی معلومات پیدا کیں تو اس کا علم زیادہ ہوا اور اگر اللہ تعالیٰ امثال کو معدوم کر دے تو وہ کم ہوگیا، یعنی زیادتی زائل ہوگئی اور اسی طرح جب اس نے حرکت کو پیدا کیا اور اس کے ساتھ اس کی مثل یا امثال کو پیدا کیا۔ اور علماء کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ ایمان کی زیادتی اور کمی یہ اولہ کے اعتبار سے ہے پس ایک کے پاس دلائل زیادہوتے ہیں تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : یہ ایمان میں زیادتی ہے، اس کے معنی کے مطابق۔۔۔۔ کئی اقوال پر۔۔۔ انبیاء (علیہم السلام) کو دوسری مخلوق پر فضیلت دی گئی ہے، کیونکہ وہ اسے وجوہ کثیرہ سے جانتے ہیں اور وہ ان وجوہ سے کہیں زیادہ ہیں جن کے سبب مخلوق اسے جانتی ہے اور یہ قول آیت کے مقتضی سے خارج ہے، کیونکہ یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں زیادتی ادلہ کے اعتبار سے ہو۔ اور ایک قوم اس طرف گئی ہے کہ ایمان میں زیادتی حضور نبی رحمت ﷺ کے زمانہ میں فرائض واخبار کے نزول کے اعتبار سے ہے اور گزرے ہوئے زمانے میں جہالت کے بعد ان کی معرفت کے اعتبار سے ہے اور بلاشبہ یہی ایمان کی زیادتی ہے، پس اس بارے میں یہ قول کہ ایمان زیادہ ہوتا ہے یہ قول مجازی ہے اور اس تعریف پر اس میں کمی کا تصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ معلوم کی طرف اضافت کے اعتبار سے اس کا تصور کیا جاسکتا ہے، فاعلم۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ یعنی انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور حسب یہ احساب سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی کفایت ہے۔ شاعر نے کہا ہے : فتملا بیتنا اقطا وسمنا وحسبک من غنی شیع وری : اس میں حسبک کا معنی ہے تیرے لئے کافی ہے۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری تعالیٰ (آیت) ” الذین قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمان، وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل “۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے یہ اس وقت کہا جب انہیں آگ میں پھینکا گیا اور حضور نبی کریم ﷺ نے یہ اس وقت کہا جب انہیں لوگوں نے کہا : بیشک کافر تمہارے لئے بہت سے لوگوں کو (لشکر جرار کو) جمع کئے ہوئے ہیں (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ 655) واللہ اعلم۔
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

آیت نمبر : 174۔ ہمارے علماء نے کہا ہے : جب انہوں نے اپنے امور کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اور اپنے دلوں سے اس پر اعتماد کرلیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں چار طرح کی جزا عطا فرمائی : (یعنی) نعمت، فضل، برائی کو ان سے پھیر دینا، اور رضا کی پیروی کرنا، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رضا عطا فرمائی اور وہ ان سے راضی ہوگیا۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

آیت نمبر : 175۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے ” یخوفکم اولیاء “ یعنی وہ تمہیں ڈراتا ہے اپنے دوستوں کے ساتھ یا اپنے دوستوں سے (2) (زادالمسیر جلد 1۔ 2، صفحہ 403) اس سے حرف جر (بایامن) حذف کردیا گیا ہے اور فعل کو اسم کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور اسے (اسم کو) نصب دی گئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لینذر باسا شدیدا “۔ ای لینذر کم بب اس شدید، (تاکہ وہ تمہیں ڈرائے شدید قوت کے ساتھ) یعنی وہ مومن کو کافر سے ڈراتا ہے، اور حسن اور سدی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے وہ اپنے منافق دوستوں کو ڈراتا ہے، تاکہ وہ مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے بیٹھ جائیں (3) (ایضا، جلد 1، 2 صفحہ 404) اور رہے اللہ تعالیٰ کے دوست تو وہ اس سے نہیں ڈرتے جب وہ انہیں ڈرائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ یہ جو تمہیں کفار کے اجتماع سے ڈرا رہا ہے وہ انسانی شیطانوں میں سے ایک شیطان ہے، چاہے وہ نعیم بن مسعود ہو یا کوئی اور، اس اختلاف کی بنا پر جو پہلے گزر چکا ہے، (آیت) ” فلا تخافوھم “۔ یعنی تم ان کافروں سے نہ ڈرو جن کا ذکر اس قول میں کیا گیا ہے : (آیت) ” ان الناس قد جمعوا لکم “۔ یا (ھم ضمیر) اولیاء کی طرف لوٹ رہی ہے اگر تو کہے کہ معنی یہ ہے وہ تمہیں اپنے دوستوں کے ساتھ ڈراتا ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” وخافون “۔ یعنی میرا حکم چھوڑنے میں تم مجھ سے ڈرو اگر تم میرے وعدہ کی تصدیق کرتے ہو اور کلام عرب میں خوف سے مراد گھبراہٹ ہے اور خاوفنی فلان فخفتہ (ڈرنے میں فلاں نے مجھ سے مقابلہ کیا تو میں اس پر ڈرنے میں غالب آگیا) یعنی میں اس کی نسبت زیادہ ڈرا اور الخوفاء ایسا جنگل جس میں پانی نہ ہو، اور کہا جاتا ہے : ناقۃ خوفاء یعنی ایسی اونٹنی جس کا دودھ خشک ہوجائے اور الخافۃ مراد چمڑے کا وہ تھیلا ہے جس میں شہد حاصل کیا جاتا ہے، (یا چمڑے کا وہ لباس جو شہد اتارتے وقت پہنا جاتا ہے) حضرت سہل بن عبداللہ نے بیان کیا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بعض صدیقین جمع ہوئے اور پوچھا خوف کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : تو امن و سکون نہ پائے یہاں تک کہ تو امن والی جگہ پر پہنچ جائے، حضرت سہل (رح) نے کہا ہے : حضرت ربیع بن خیثم ؓ جب لوہار کی بھٹی کے پاس سے گزرتے تو اس کو ڈھانپ دیا جاتا تھا، تو حضرت علی ابن ابی طالب ؓ کو اس بارے بتایا گیا تو آپ نے فرمایا : جب وہ وہاں پہنچیں تو مجھے آگاہ کرنا، پس وہ وہاں پہنچے تو لوگوں نے آپ کو اطلاع دی، چناچہ آپ وہاں آئے اور اپنا ہاتھ ان کی قمیص میں داخل کیا تو آپ نے ان کی (دل کی) حرکت کو بڑا تیز اور بلند پایاتو فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ تمہارے اہل زمانہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے، پس اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا وہ ہے کہ وہ اس سے ڈرے کہ اللہ تعالیٰ اسے سز دے گا چاہے دنیا میں یا آخرت میں اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے : ڈرنے والا وہ نہیں ہے جو رو رہا ہو اور اپنی آنکھیں پونچھ رہا ہو بلکہ ڈرنے والا وہ ہے جو اسے چھوڑ دے جس کے بارے وہ خوف رکھتا ہو کہ اس سے اسے عذاب دیا جائے گا، پس اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کردیا ہے کہ وہ اس سے ڈریں چناچہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وخافون ان کنتم مؤمنین “۔ اور فرمایا (آیت) ” وایای فارھبون “۔ (البقرہ) ترجمہ : اور صرف مجھی سے ڈرا کرو۔ اور مومنین کی خوف کے سبب مدح کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” یخافون ربھم من فوقھم (النحل : 50) ترجمہ : ڈرتے ہیں اپنے رب کی قدرت سے۔ اور ارباب اشارات کی خوف کے بارے میں کئی عبارات ہیں جن کا مرجع وہ ہے جو ہم نے ذکر کردیا ہے۔ الاستاذ ابو علی الدقاق نے کہا ہے : میں ابوبکر بن فورک (رح) کی عیادت کرنے کے لئے گیا، پس جب انہوں نے مجھے دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تو میں نے ان سے کہا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت اور شفا عطا فرمائے گا، تو انہوں نے مجھے کہا : کیا تو یہ گمان کر رہا ہے کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں ؟ بلاشبہ میں تو موت کے بعد والی کیفیت سے ڈر رہا ہوں، اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھ سکتے اور میں جو سن رہا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے، آسمان چر چرارہا ہے اور اس کے لئے لازم کیا گیا ہے کہ وہ چر چرائے اس میں چار انگلیاں رکھنے برابر بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر اس میں فرشتے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہوئے اپنی پیشانی رکھے ہوئے ہیں قسم بخدا ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو یقینا تم بہت تھوڑا ہنسو اور تم بہت زیادہ رو، اور تم بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو اور یقینا تم دشوار گزار گھاٹیوں کی جانب نکل جاؤ جہاں تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تضرع اور عاجزی کرتے ہوئے دعا مانگو قسم بخدا میں تو یہ پسند کرتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا ہے۔ (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، جلد 1، صفحہ 319، ایضا ابن ماجہ حدیث نمبر 4179، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے : حدیث حسن غریب (یہ حدیث حسن غریب ہے) اور اس سند کے علاوہ اور سے روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت ابو ذر ؓ نے کہا ہے : لوددت انی کنت شجرۃ تعضد (2) (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2 صفحہ 55۔ ) واللہ اعلم۔
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

آیت نمبر : 176۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “۔ یہ ایک قوم تھی جو اسلام لائے اور پھر مرتد ہوگئے مشرکین کے خوف سے، تو حضور نبی رحمت ﷺ مغموم ہوگئے پس اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “۔ اور کلبی نے کہا ہے : اس سے مراد منافقین اور یہود کے سردار ہیں، انہوں نے کتاب میں موجود حضور نبی کریم ﷺ کی صفات کو چھپالیاتو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ بھی کہ جاتا ہے جب اہل کتاب ایمان نہ لائے تو رسول اللہ ﷺ پر یہ شاق گزرا، کیونکہ لوگ ان کیطرف دیکھتے اور یہ کہتے : بلاشبہ یہ اہل کتاب ہیں، پس اگر آپ ﷺ کا قول حق ہوتا تو یقینا یہ آپ کی اتباع اور پیروی کرتے، پس یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ولا یحزنک “ حضرت نافع کی قرات میں یاء مضموم اور زا مسکور ہے، جہاں بھی واقع ہو سوائے (سورۃ) انبیاء کے (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “۔ کیونکہ اس میں یا مفتوح اور زا مضموم ہے (3) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 404) اور ابو جعفر نے اس کا برعکس کیا ہے، ابن محیصن نے تمام جگہوں پر یا کو ضمہ کے ساتھ اور زا کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی تمام نے یا کو فتح اور زا کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ حزننی الامر یحزننی اور اخزننی بھی ہے اور یہ قلیل لغت ہے اور دونوں میں سے پہلی افصح ہے، نحاس نے یہی کہا ہے۔ اور شاعر نے احزن کے بارے کہا ہے : مضی صحبی واخزننی الدیار : (میرے ساتھی چلے گئے اور گھروں نے مجھے غمزدہ کردیا) اور عام قرات یسارعون ہے اور طلحہ نے یسرعون فی الکفر پڑھا ہے۔ حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے : مراد کفار قریش ہیں۔ (1) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 405) اور ان کے سوا نے کہا ہے : وہ منافق ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اور ان کے سوا نے کہا ہے : وہ منافق ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ وہی ہیں جن کا ذکر ہم نے پہلے کردیا ہے اور یہ قول بھی ہے : یہ تمام کفار کے لئے عام ہے، اور ان کا تیزی کے ساتھ کفر میں جانا حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف مظاہرہ کرنا ہے، علامہ قشیری نے کہا ہے : کافر کے کفر پر غمزدہ ہونا طاعت ہے، لیکن حضور نبی مکرم ﷺ اپنی قوم کے کفر پر بہت زیادہ غمزدہ ہوتے تھے، تبھی آپ کو اس سے منع کردیا گیا جیسا کہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” فلا تذھب نفسک علیھم حسرت “۔ (فاطر : 8) ترجمہ : پس نہ گھلے آپ کی جان ان کے لئے فرط غم سے۔ اور فرمایا : (آیت) ” فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا “۔ (الکہف) ترجمہ : تو کیا آپ (فرط غم سے) تلف کردیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے۔ (آیت) ” انھم لن یضروا اللہ شیئا “۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ملک اور اس کی سلطنت اور اقتدار میں سے کسی شے کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، یعنی ان کے کفر کے سبب کوئی نقصان نہ ہوگا، اور اسی طرح حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے اور انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے ان روایات میں نقل کی ہے جنہیں آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے روایت کیا ہے (یعنی حدیث قدسی ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” اے میرے بندو ! بلاشبہ میں نے ظلم اپنی ذات پر حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے پس تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ظلم نہ کرو، اے میرے بندو ! تم تمام کے تمام گمراہ ہو سوائے انکے جنہیں میں نے ہدایت دی پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت عطا فرماؤں گا، اے میرے بندو ! تم تمام کے تمام بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں نے کھانا کھلایا پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا (یعنی رزق عطا فرماؤں گا) اے میرے بندو ! تم تمام کے تمام ننگے ہو سوائیی ان کے جنہیں میں نے لباس پہنایا پس تم مجھ سے لباس کا مطالبہ کیا کرو تاکہ میں تمہیں لباس پہناؤں۔ اے میرے بندو ! بلاشبہ تم رات دن گناہ اور خطائیں کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں پس تم مجھ سے مغفرت طلب کرو میں تمہاری مغفرت فرما دوں گا، اے میرے بندو ! بلاشبہ تم میرے نقصان تک نہیں پہنچ سکتے کہ تم مجھے کوئی نقصان پہنچاؤ اور تم میرے نفع تک نہیں پہنچ سکتے کہ تم مجھے کوئی نفع پہنچاؤ، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول، تمہارے آخر، تمہارے انسان اور تمہارے جن تمام تم میں سے ایک انتہائی متقی دل رکھنے والے آدمی کی کیفیت پر ہوں تو اس طرح وہ میرے ملک میں کسی شے کا کوئی اضافہ نہیں کرسکتے، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر تمہارے انسان اور تمہارے سارے ایک فاجر ترین دل رکھنے والے آدمی کی کیفیت پر ہوں تو وہ میرے ملک اور اقتدار میں کسی قسم کی کمی اور نقصان نہیں کرسکتے، اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر تمہارے انسان اور تمہارے جن ایک ہی سرزمین میں کھڑے ہوجائیں اور وہ مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب اور حاجت کے مطابق عطا کروں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس میں کمی واقع نہ ہوگی مگر اسی طرح جیسے سوئی کمی کرتی ہے جب اسے سمندر میں داخل کیا جائے، اے میرے بندو ! بلاشبہ یہ تمہارے اعمال ہیں میں انہیں تمہارے لئے شمار کرتا رہتا ہوں پھر میں تمہیں انکا پورا پورا اجر دوں گا پس جو کوئی خیر اور نیکی پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے اور جو کوئی اس کے سوا پائے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے (1) (صحیح مسلم البرو الصلۃ، جلد 2، صفحہ 319، ایضا جامع ترمذی باب ما جاء فی صفۃ او ان الحوض، حدیث 2419، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے مسلم نے اپنی صحیح میں اور ترمذی وغیرہما نے روایت کیا ہے اور یہ عظیم حدیث ہے اس میں طوالت ہے تمام کی تمام لکھی جاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے (آیت) ” لن یضروا اللہ شیئا “۔ کام معنی ہے یعنی وہ واولیاء اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے جب وہ ان کی مدد ترک کردیں جبکہ اللہ تعالیٰ ان کا ناصر اور مددگار ہے۔ (2) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 405) قولہ تعالیٰ آیت : یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ، ولھم عذاب عظیم “۔ حظا کا معنی حصہ ہے اور الحظ کا معنی النصیب والجد (حصہ) ہے، کہا جاتا ہے : فلاں احظ من فلان احظ من فلان، وھو محظوظ، فلاں فلاں کی نسبت حصہ کا زیادہ حق رکھتا ہے اور اسے حصہ دیا گیا ہے اور حظ کی جمع خلاف قیاس احاظ آتی ہیی، ابو زید نے کہا ہے : کہا جاتا ہے جل حظیظ ای جدید ‘ جب وہ رزق میں حصہ دار ہو، اور حظظت فی الامر احظ “۔ میں نے کام میں خوب حصہ لیا، بسا اوقات حظ کی جمع احظا بھی آتی ہے (معنی یہ ہے) اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں رکھے گا اور یہ اس بارے میں نص ہے کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتے ہیں۔
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

آیت نمبر : 177۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین اشتروا الکفر بالایمان “۔ اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” لن یضروا اللہ شیئا “ اسے تاکید کے لئے مکرر لایا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یعنی ایمان کو کفر کے ساتھ تبدیل کرنا۔۔۔۔۔ کے عوض اسے بیچنا یہ اس کی بری تدبیر میں سے ہے، (اور اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کو ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) پس اسے اس کی اطاعت نہ کرنے کا کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تدبیر کا کوئی خوف ہے اور شیئا “ دونوں آیتوں میں مصدر کی جگہ واقع ہونے سے منصوب ہے، گویا کہ یہ فرمایا : لن یضروا اللہ ضررا قیلا ولا کثیر “۔ (وہ اللہ تعالیٰ کو ہر گز تھورا یا زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ با کو حذف کرنے کی تقدیر پر منصوب ہو، گویا کہ فرمایا : لن یضروا اللہ بشی “۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیے جاتے ہیں تو یہ انکے حق میں اچھا ہے (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں اور آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

آیت نمبر : 178۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یحسبن الذین کفرو انما نملی لھم خیرلانفسھم “۔ املاء سے مراد عمر کا طویل ہونا اور زندگی کا کشادہ اور خوشحال ہونا ہے اور معنی یہ ہے : وہ لوگ خیال نہ کریں جو مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرنے پر قادر ہے اور بلاشبہ وہ انہیں طویل عمریں عطا کر رہا ہے تاکہ وہ معاصی اور گناہ کے اعمال کریں اس لئے نہیں کہ وہ انکے لئے باعث خیرونفع ہے اور کہا جاتا ہے : (آیت) ” انما نملی لھم “۔ سے مراد وہ فتح اور کامیابی ہے جو انہوں نے غزوہ احد میں حاصل کی وہ ان کے نفسوں کے لئے باعث خیرو نفع نہیں۔ بلکہ وہ اس لئے ہے تاکہ وہ سزا میں اور اضافہ کرلیں، اور حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : کوئی نیکوکار اور فاجر نہیں ہے، مگر موت اس کے لئے بہتر اور باعث خیر ہے، کیونکہ اگر وہ نیکوکار ہو تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” وما عند اللہ خیر اللابرار “۔ اور اگر وہ فاجر ہو تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” انما نملی لھم لیزدادوا اثما “۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 546 دارالکتب العلمیہ) (ہم تو انہیں مہلت دے رہے کہ وہ گناہ اور زیادہ کرلیں) ابن عامر اور عاصم نے ” لایحسبن “ یا کے ساتھ اور سین کے نصب کے ساتھ قرات کی ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 545 دارالکتب العلمیہ) اور حمزہ نے تا کے ساتھ اور سین کو منصوب پڑھا ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 545 دارالکتب العلمیہ) (یعنی لا تحسبن) اور باقیوں نے یا کے ساھت اور سین کو مکسور پڑھا ہے، پس جنہوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے تو اس کے مطابق الذین فاعل ہے، یعنی کفار خیال نہ کریں، اور (آیت) ” انما نملی لھم خیرلانفسھم “۔ دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اور ما بمعنی الذی ہے، اور ضمیر عائد محذوف ہے، اور خیر ان کی خبر ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ما مقدر ہو اور فعل مصدر ہو، اور تقدیر کلام اسی طرح ہو ” ولا یحسبن الذینکفروا ان املاء نا لھم خیر النفسھم “۔ (اور کافر لوگ خیال نہ کریں کہ ہمارا انکو مہلت دینا انکے لئے بہتر ہے) اور جنہوں نے تا کے ساتھ پڑھا ہے تو اس میں فاعل ضمیر خطاب ہے اور (مخاطب) حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور الذین کو تحسب کا مفعول اول ہونے کی بنا پر نصب دی گئی ہے اور ان اور اس کا مابعد الذین سے بدل ہے، اور یہ قائم مقام دو مفعولوں کے ہوجائے گا جیسا کہ یہ بدل نہ ہونے کی صورت میں قائم مقام ہے، اور ان اور اس کا مابعد تحسب کا مفعول ثانی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ اس باب میں مفعول ثانی ہی معنی میں اول ہوتا ہے، کیونکہ حسب اور اس کے اخوات مبتدا اور خبر پر داخل ہوتیے ہیں، پس تقدیر کلام ہوگی : ولا تحسبن انما نملی لھم خیر “۔ یہ زجاج کا قول ہے اور ابو علی کا قول ہے : اگر یہ صحیح ہوتا تو کہتا خیرا یعنی نصب کے ساتھ، کیونکہ ان، الذین کفروا اسے بدل ہوجائے گا تو گویا یہ کہا : لا تحسبن املاء الذین کفروا خیرا “۔ (یعنی تم کافروں کی مہلت کو بہتر اور خیر خیال نہ کرو) تو اس میں قولہ خیرا حسب کے لئے مفعول ثانی ہے، تب یہ جائز نہیں ہے کہ لاتحسبن “ تاکہ ساتھ پڑھا جائے مگر اس صورت میں کہ انما میں ان کو کسرہ دیں اور خیرا کو نصب دین (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 545 دارالکتب العلمیہ) اور حمزہ سے یہ مروی نہیں ہے اور حمزہ کی قرات تا کے ساتھ ہے نتیجتا یہ قرات صحیح نہ ہوگی۔ اور فراء اور کسائی نے کہا ہے : حمزہ کی قرات تکریر کی بنا پر جائز ہے، اس کی تقدیر عبارت ہے ولا تحسبن الذین کفروا، ولا تحسبن انما نملی لھم خیر “۔ پس اس میں ان دوسرے تحسب کے لئے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اور یہ اور جس نے عمل کیا ہے (مراد عامل تحسب ہے) وہ پہلے تحسب کا مفعول ثانی ہے، علامہ قشیری نے کہا ہے : یہ اس کے زیادہ قریب ہے جو زجاج نے بدل کے دعوی میں ذکر کیا ہے اور قرات صحیح ہے، جبکہ ابو علی کا مقصود زجاج کو غلط قرار دینا ہے، نحاس نے کہا ہے اور ابو حاتم نے گمان کیا ہے کہ یہاں حمزہ کی قرات تا کے ساتھ ہے، اور ان کا قول : ولا یحسبن الذین یبخلون لحن (غلطی) ہے جائز نہیں ہے، اور اس پر ان کی اتباع ایک جماعت نے کی ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ کوئی شے نہیں ہے جیسا کہ اس کا ترکیبی بیان پہلے گزر چکا ہے اور نقلا قرات کا صحیح ہونا اور اس کا ثابت ہونا بھی گزر چکا ہے اور یحی بن وثاب نے (آیت) ” انما نملی لھم “۔ یعنی دونوں جگہ پر ان کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابو جعفر نے کہا ہے : یحی کی قرات اچھی ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : حسبت عمر ابوہ خالد (اس میں عمرا مفعول اول اور ابوہ خالد مفعول ثانی ہے) ابو حاتم نے کہا ہے : میں نے احنف سے سنا ہے وہ انکو مکسور ذکر کرتے ہیں اور اس سے قدریہ کیلئے استدلال کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان میں سے تھے اور وہ تقدیم وتاخیر پر معمول کرتے ہیں (آیت) ” ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لھم لیزدادوا اثما انما نملی لھم خیرالانفسھم “۔ بیان کیا : میں نے جامع مسجد میں ایک مصحف میں دیکھا انہوں نے اس میں ایک حرف زائد کیا تھا تو وہ اس طرح ہوگیا انما نملی لھم ایمانا “۔ پس اس کی طرف یعقوب القاری نے دیکھا تو غلطی واضح ہوگئی چناچہ انہوں نے اسے مٹا دیا، اور یہ آیت قدریہ مذہب کے بطلان میں نص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کی عمروں کو طویل کرتا ہے تاکہ وہ معاصی کا عمل کر کے کفر میں اضافہ کریں، اور اس کی امثال لگا تار دل پر مرتب ہوتی ہیں، جیسا کہ اس کی ضد جو کہ ایمان ہے اس کا بیان گزر چکا ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : کوئی نیکو کار نہیں اور نہ ہی کوئی فاجر ہے مگر موت اس کے لئے بہتر اور باعث خیر ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (آیت) ” انما نملی لھم لیزدادوا اثما “۔ اور یہ آیت پڑھی۔ وما عنداللہ خیرا للابرار (1) اسے رزین نے روایت کیا ہے۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو ! ) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا البتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

آیت نمبر : 179۔ ابو العالیہ نے کہا ہے : مومنین نے عرض کی کہ انہیں ایسی علامت اور نشانی عطا کی جائے جس کے ساتھ وہ مومن اور منافق کے درمیان فرق کرسکیں، تو اللہ عزوجل، نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ماکان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔ الایہ (1) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 402) اس آیت کا مخاطب کون ہیں ؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ حضرت ضحاک ؓ مقاتل ؓ کلبی ؓ اور اکثر مفسرین رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : اس میں خطاب کفار اور منافقین کو ہے (2) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 407) یعنی اللہ تعالیٰ کی شان نہیں ہے کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑے رکھے جس حال پر کفر، نفاق اور نبی مکرم ﷺ کی عداوت میں سے تم اب ہو، کلبی نے کہا ہے : اہل مکہ میں سے قریش نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : ہم میں سے ایک آدمی کے بارے میں آپ گمان کرتے ہیں کہ وہ آتش جہنم میں ہے، اور یہ کہ جب اس نے ہمارا دین چھور دیا اور تمہارے دین کی اتباع وپیروی کرلی تو تم نے کہا یہ اہل جنت میں سے ہے، پس اس کے بارے ہمیں بتلائیے یہ کہاں سے ہوا ؟ اور اس کی بھی خبردیجئے ہم میں سے کون تمہارے پاس آئے گا ؟ اور کون تمہارے پاس نہیں آیا ؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ماکان اللہ لیذر المؤمنین علی ما انتم علیہ “۔ یعنی کفر اور نفاق میں سے جس حال پر تم ہو۔ (آیت) ” حتی یمیز الخبیث من الطیب “۔ (یہاں تک کہ وہ پلید کو پاک سے الگ الگ کر دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب مشرکین کو ہے اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” لیذرالمؤمنین “ میں مومنین سے مراد وہ ہیں جو ابھی صلبوں اور رحموں میں ہیں ان میں سے جو ایمان لائیں گے، یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہاری اس اولاد کو جن کے لئے ایمان کا حکم ہے اس حال پر چھوڑ دے جس حال پر شرک میں سے اب تم ہو، یہاں تک کہ وہ تمہارے اور ان کے درمیان تفریق کر دے گا اور اس بنا پر (آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم “۔ نیا کلام ہوگا، اور یہی قول حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ خطاب مومنین کو ہے (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 546 دارالکتب العلمیہ) یعنی اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ تمہیں چھوڑ دے اے گروہ مومنین ! اس حال پر جس پر تم اب ہو کہ مومن اور منافق باہم مخلوط اور ملے جلے ہیں، یہاں تکہ وہ تمہارے درمیان آزمائش اور (احکام کا) پابند بنا کر تفریق ڈال دے کہ تم پلید منافق اور پاک مومن کو پہچان لو۔ اور اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کو احد کے دن الگ الگ کردیا۔ یہ قول اکثر اہل معانی کا ہے۔ (آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “۔ (اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی شان کہ تمہیں غیب پر مطلع کرے) اے گروہ مومنین ! یعنی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی شان کہ وہ تمہارے لئے منافقین کو معین کر دے تاکہ تم انہیں پہچان لو، البتہ وہ انہیں تمہارے لئے احکام کا پابند بنا کر اور آزمائش میں ڈال کر ظاہر کر دے گا اور پھر وہ احد کے دن ظاہر ہوگئے، کیونکہ منافقین پیچھے رہ گئے اور انہوں نے مسلمانوں کی تکلیف اور اذیت پر خوشی کا اظہار کیا، پس تم اس سے پہلے اس غیب کو نہ جانتے تھے، پس اب اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم محمد مصطفیٰ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو اس پر آگاہ فرما دیا اور یہ قول بھی ہے کہ (آیت) ” لیطلعکم “ ، کا معنی ہے یعنی اور اللہ تعالیٰ کی شان نہیں ہے کہ وہ تمہیں اس سے آگاہ کرے جوان سے ہوگا، پس قول باری تعالیٰ : (آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “۔ اس قول کے مطابق (سابقہ کلام سے) متصل ہے اور پہلے دونوں قولوں کی بنا پر منقطع ہے اور وہ یہ کہ کفار نے جب کہا : ہماری طرف وحی کیوں نہیں کی گئی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب “۔ یعنی اس پر جو نبوت کا مستحق ہوتا ہے کہ وحی تمہارے اختیار (اور پسند) کے مطابق ہو (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 546 دارالکتب العلمیہ) (آیت) ” ولکن اللہ یجتبی “ البتہ اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے یعنی منتخب فرما لیتا ہے (آیت) ” من رسلہ “ اپنے رسولوں میں سے اپنے غیب پر اطلاع اور آگاہی کے لئے (آیت) ” من یشآء “۔ جسے چاہتا ہے، کہا جاتا ہے ” طلعت علی کذا اور اطلعت علیہ (میں اس پر آگاہ ہوا) اور اطلعت علیہ غیری (میں نے اس پر اپنے سوا دوسرے کو آگاہ کیا) پس یہ لازم اور متعدی (دونوں طرح استعمال ہوتا ہے) اور (آیت) ” حتی یمیز “۔ میز سے تشدید کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اور اسی طرح سورة الانفال میں ہے، اور یہی حمزہ کی قرات ہے اور باقیوں نے یمیز تخفیف کے ساتھ مازیمیز سے پڑھا ہے، کہا جاتا ہے : مزت الشی بعضہ من بعض امیزہ میزا، اور میزتہ تمییزا (میں نے ایک شے کے بعض کو بعض سے الگ الگ کردیا) ابو معاذ نے کہا ہے : مزت الشی امیزہ میزا (کہا جاتا ہے) جب تو دو چیزوں کو الگ الگ کرے، اور اگر اشیاء زیادہ ہوں تو تو کہے گا : فرقت بینھما، یعنی یہ تخفیف کے ساتھ ہوگا، اور اسی سے فرق الشعر (بالوں کی مانگ) بھی ہے اور اگر ایک شے کو دو سے زیادہ حصوں میں تقسیم کرے تو کہے گا : فرقتہ تفریقا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : کہ اسی سے امتازالقوم ہے، یعنی ان کے بعض بعض سے جدا ہوگئے الگ ہوگئے، اور یکاد یتمیز کا معنی ہے یتقطع (قریب ہے کہ وہ کٹ جائے) اور اسی کے ساتھ اس قول باری تعالیٰ کی تفسیر بیان کی گئی ہے : (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ (الملک : 8) (ایسا معلوم ہوتا ہے گویا مارے غضب کے پھٹا چاہتی ہے) اور حدیث میں ہے : ” من مازاذی من الطریق فھولہ صدقۃ (جس نے راستے سے تکلیف دہ چیز دور کی تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فامنوا باللہ ورسلہ “ کہا جاتا ہے کہ کفار نے جب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ انہیں ان کے بارے بتائیں جو ان میں سے ایمان لائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : (آیت) ” فامنوا باللہ ورسلہ “ یعنی تم ایسے کاموں میں مشغول نہ ہو جو تمہارا مقصود نہیں ہیں، بلکہ تم ایسے کام میں مشغول ہو جو تمہارا مقصود ہے (اور تمہارے لئے نفع بخش ہے) اور وہ ایمان لانا ہے، (آیت) ” فامنوا “ یعنی تم تصدیق کرو، یعنی تم پر تصدیق کرنا واجب اور لازم ہے نہ کہ اطلاع غیب کی طرف جھانکنا (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 546 دارالکتب العلمیہ) (اور اس سے آرستہ ہونا لازم ہے) (آیت) ” وان تؤمنوا وتتقوا فلکم اجر عظیم “۔ ترجمہ : اور اگر تم ایمان لائے اور تم نے تقوی اختیار کیا تو تمہارے لئے اجر عظیم یعنی جنت ہے) اور ذکر کیا جاتا ہے ایک آدمی حجاج بن یوسف ثقفی کے پاس نجومی تھا پس حجاج نے اپنے ہاتھ چند کنکریاں لیں اور ان کی تعداد معلوم کرلی اور پھر نجومی کو کہا : میرے ہاتھ میں کتنی ہیں ؟ پس اس نے حساب لگایا اور نجومی اس تعداد تک پہنچ گیا، پھر حجاج نے اسے غافل رکھا اور کچھ کنکریاں ہاتھ میں لیں اور انہیں گنا نہیں اور پھر نجومی کو کہا : میرے ہاتھ میں کتنی ہیں ؟ پس اس نے حساب لگایا اور اس میں غلطی اور خطا کی، پھر اس نے حساب لگایا اور پھر غلطی کی، پس اس نے کہا : اے امیر ! میرا خیال ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے تو اس کی تعداد کو نہیں جانتا ؟ اس نے کہا (ہاں) نہیں جانتا، تو اس نے پوچھا : ان دونوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ اس نے جواب دیا : اگر تو نے اسے گنا ہوتا تو یہ غیب کی تعریف سے نکل جاتا، اور میں حساب لگاتا تو اس تک پہنچ جاتا اور چونکہ تجھیی اس کی تعداد معلوم نہیں اس لئے یہ غیب ہے اور غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ باب سورة الانعام میں عنقریب آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔