3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

آیت نمبر : 122۔ اذ من عامل تبوی، یا سمیع علیم “ ہے اور دو جماعتوں سے مراد خزرج میں سے بنو سلمہ اور اوس میں سے بنو حارثہ ہیں اور یہ دونوں غزوہ احد میں لشکر کے دو پہلو تھے (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 541) اور (آیت) ” ان تفشلا “۔ کا معنی ہے کہ وہ بزدلی کا اظہار کریں (اور ہمت ہارویں) بخاری میں حضرت جابر ؓ سے منقول ہے انہوں نے فرمایا ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” اذ ھمت طآئفتین منکم ان تفشلاو اللہ ولیھما “۔ فرمایا : ہمارے دو گروہ، بنو حارثہ، اور بنو سلمہ تھے اور پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ نازل نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” واللہ ولیھما “۔ (4) (صحیح بخاری تفسیر سورة آل عمران، حدیث نمبر 4192، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بنو حارث، بنو خزرج اور بنو نبی ت تھے اور نبی ت بنی اوس میں سے عمروہ بن مالک تھے۔ اور فشل سے مراد بزدلی ہے، اس کا لغوی معنی یہی ہے اور دونوں گروہوں کا ارادہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب لشکر کے مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کے بعد عبداللہ بن ابی اپنے منافق ساتھیوں سمیت واپس لوٹ آیا (تو انہوں نے بھی ارادہ کیا) لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی حفاظت فرمائی اور یہ واپس نہ لوٹے، اسی کے بارے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” واللہ ولیھما “۔ یعنی اس ارادہ کو عملی جامہ پہنانے سے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی حفاظت فرما رہا تھا، اور یہ قول بھی ہے کہ انہوں نے (لشکر کے ساتھ) نکلنے سے (پیچھے) بیٹھے رہنے کا ارادہ کیا اور وہ ان میں سے صغیر (چھوٹے) تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے دلوں میں آنے والا خیال تھا جو ان کے دلوں میں پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا تو ان کی بصیرت میں اضافہ ہوگیا اور اس بزدلی اور سستی کا مظاہرہ نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا اور ان میں سے بعض نے بعض کی مذمت کی اور وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ اٹھے تو رسول اللہ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ آپ مشرکین کے قریب جا پہنچے، آپ ﷺ ایک ہزار افراد کے ساتھ مدینہ طیبہ سے نکلے تھے اور پھر عبداللہ بن ابی بن سلول اپنے تین سو ساتھیوں کو ساتھ لے کر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واپس لوٹ آیا، کیونکہ اس کی رائے سے اختلاف کیا گیا تھا جب اس نے مدینہ طیبہ میں بیٹھے رہنے اور وہیں قتال کرنے کا اشارہ دیا تھا اگر دشمن ان پر حملہ آور ہو اور اس کی رائے رسول اللہ ﷺ کی رائے کے موافق تھی (1) (دلائل النبوۃ، جلد 3، صفحہ 226) اور اکثر انصار نے اس کا انکار کیا تھا، اس کا ذکر آگے آئے گا۔ اور رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے ساتھ لے گئے اور ان میں سے وہ شہید ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے شہادت کے ساتھ عزت و تکریم عطا فرمائی، امام مالک (رح) نے فرمایا ہے، غزوہ احد میں مہاجرین میں سے چار اور انصار میں سے ستر افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ المقاعد : مقعد کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے بیٹھنے کی جگہ اور یہ مواقف کے قائم مقام ہے لیکن لفظ قعود ثبوت پر دال ہے اور بالخصوص تیرانداز ثابت قدم تھے، مختصرا غزوہ احد کا یہی مفہوم ہے، اس کا تفصیلی اور شافی بیان آگے آئے گا۔ اس دن مشرکین کے ساتھ سو گھوڑ سوار تھے اور ان پر خالد بن ولید سربراہ تھے اور اس دن مسلمانوں کے ساتھ کوئی گھوڑا نہ تھا، اس میں رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا اور پتھر کے ساتھ نچلی طرف سے دائیں جانب کے چار دندان مبارک شہید کردیئے گئے اور آپ ﷺ کے سر مبارک کا خود توڑ دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی امت اور دین کی جانب سے اس سے افضل واعلی جزا عطا فرمائی جو اپنے انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی نبی (علیہ السلام) کو اس کے صبر پر عطا فرمائی اور وہ جس نے نبی مکرم ﷺ سے اس دن اعراض کیا تھا وہ عمرو بن قیمہء لیثی اور عتبہ بن ابی وقاص تھا اور کہا گیا ہے : فقیہ محمد بن مسلم بن شہاب کا دادا عبداللہ بن شہاب وہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی پیشانی مبارک کو زخمی کیا تھا، واقدی نے کہا ہے : ہمارے نزدیک ثابت یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے چہرہ اقدس کو زخمی کرنے والا ابن قمیئہ تھا، اور جس نے آپ ﷺ کے منہ پر پتھر مار کر آپ کے دندان مبارک کو شہید کیا تھا اور عتبہ بن ابی وقاص تھا، واقدی نے اپنی سند کے ساتھ نافع بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے مہاجرین میں سے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میں احد کے دن حاضر تھا اور میں نے تیر دیکھے ہر جانب سے آ رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان میں تھے اور ہر تیر آپ سے پھیر دیا جاتا تھا، تحقیق میں نے عبداللہ بن شہاب زہری کو اس دن یہ کہتے ہوئے سنا : محمد ﷺ پر میری راہنمائی کرو اگر وہ بچ گئے تو میں نہیں بچ سکوں گا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس کے پہلو میں تھے کوئی بھی آپ کے ساتھ نہ تھا پھر وہ آپ سے آگے گزر گیا، تو اس بارے میں صفوان نے اسے ڈانٹ پلائی تو اس نے کہا : قسم بخدا ! میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں، میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں : بلاشبہ انہیں ہم سے محفوظ رکھا گیا ہے، ہم چار آدمی نکلے اور ہم نے آپ کے قتل کا آپس میں پختہ معاہدہ کیا (لیکن ہم آپ پر راہ نہ پا سکے) اور ایک پتھر رسول اللہ ﷺ کو آ لگا یہاں تک کہ آپ گڑھے میں گرگئے، اسے ابو عامر راہب نے مسلمانوں کے لئے بطور دھوکہ اور چال کے کھودا تھا پس آپ ﷺ اپنے پہلو کے بل گرے اور حضرت طلحہ ؓ نے آپ ﷺ کو سہارا دیا یہاں تک کہ آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کے والد مالک بن سنان نے رسول اللہ ﷺ کے زخم سے خون چوس لیا اور آپ کے خود کے دو حلقے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک میں پیوست ہوگئے اور انہیں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے نکالا، اور اپنے دانتوں کے ساتھ انہیں پکڑا تو وہ گر گئے تو آپ نے انہیں جڑ سے توڑ دیا اور آپ ؓ کو ان کا ٹوٹنا خوبصورت لگتا تھا اور اس غزوہ میں حضرت حمزہ ؓ شہید ہوئے اور آپ کو وحشی نے قتل کیا تھا، وحشی جبیر بن مطعم کا غلام تھا اور جبیر نے اس کو کہا : اگر تو نے محمد ﷺ کو قتل کیا تو ہم تجھے گھوڑوں کی لگامیں تھما دیں گے اور اگر تو نے علی بن ابی طالب کو قتل کیا تو ہم تجھے ایک سو اونٹنیاں دیں گے وہ سب کی سب سیاہ ہوں گی اور اگر تو نے حمزہ کو قتل کیا تو تو آزاد ہوجائے گا، وحشی نے کہا : رہے محمد ﷺ ان پر نگران اور محافظ اللہ تعالیٰ کی جانب ہوتا ہے کوئی بھی ان تک نہیں پہنچ سکتا، اور جہاں تک علی ( رض) کا تعلق ہے تو انہیں جس نے بھی مقابلے کی دعوت دی ہے انہیں نے اسے قتل کردیا ہے اور رہا حمزہ، تو وہ بہادر آدمی ہیں، قریب ہے کہ میرا ان سے آمنا سامنا ہوجائے تو میں انہیں قتل کر دوں، اور وہاں ہند بھی تھی جب وحشی تیار ہوا یا وہ اس کے پاس سے گزری تو اس نے کہا : ہاں ابو دسمہ تو (سینہ کو) ٹھنڈا کر تو تو بھی پرسکون اور ٹھنڈا ہوجائے گا، پس وہ ایک چٹان کے پیچھے چھپ گیا اور حضرت حمزہ ؓ نے مشرکین کی جماعت پر حملہ کردیا، پس جب آپ اپنے حملہ سے کامیابی کے ساتھ واپس لوٹے اور وحشی کے پاس سے گزرے تو اس نے چھوٹے نیزے کے ساتھ آپ پر حملہ کردیا اور وہ آپ کو جالگا اور جان لیوا ثابت ہوا ؓ ابن اسحاق نے بیان کیا ہے : پھر ہند نے حضرت حمزہ ؓ کا سینہ چاک کر کے کلیجہ باہر نکالا اور اسے دانتوں کے ساتھ چبایا لیکن اسے نگل نہ سکی اور پھر اسے پھینک دیا پھر ایک بلند چٹان پر چڑھ گئی اور بلند آواز سے چیخ کر یہ کہا : نحن جزینا کم بیوم بدر والحرب بعد الحرب ذات سعر : (اے مسلمانو) ہم نے یوم بدر کا بدلہ چکا دیا اور جنگ کے بعد جنگ آگ کے شعلوں کی طرح بھڑکتی ہے : مان کان عن عتبۃ لی من صبر ولا اخی وعتہ وبکری : مجھے (اپنے باپ) عتبہ، اپنے بھائی (ولید بن عتبہ) اس کے چچا (شیبہ بن ربیعہ) اور اپنے پہلے بیٹے (حنظلہ بن ابی سفیان) سے صبر نہیں آتا تھا۔ شفیت نفسی وقضیت نذری شفیت وحشی غلیل صدری : میں نے اپنا دل ٹھنڈا کرلیا اور اپنی نذر پوری کرلی، اے وحشی ! تو نے میرے سینے کی جلن کو ٹھنڈا کردیا ہے۔ فشکر وحشی علی عمری حتی ترم اعظمی فی قبری : پس مجھ پر ساری زندگی وحشی کا شکریہ ادا کرنا لازم ہے یہاں تک کہ میری ہڈیاں میری قبر میں بوسیدہ ہوجائیں۔ پھر اس کا جواب ہند بنت اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب نے دیا اور کہا : خزیت فی بدر وبعد بدر یا بنت وقاع عظیم الکفر : اے انتہائی گھٹیا اور پرلے درجے کے کافر کی بیٹی، تو بدر میں بھی رسوا ہوئی اور بدر کے بعد بھی۔ صبحک اللہ عداۃ الفجر ملھاشیین الطوال الزھر : اللہ تعالیٰ علی الصبح دراز قدر اور خوش اخلاق ہاشمیوں کو تیرے پاس لے آیا۔ بکل قطاع حسام یفری حمزہ لیثی وعلی صقری : میرے شیر حضرت حمزہ اور میرے شاہین حضرت علی ؓ ہر تیز کاٹنے والی تلوار کے ساتھ تمہارے سر قلم کر رہے تھے۔ اذ رام شیب وابوک غدری فحضبا منہ ضواحی النحر : ونذرک السوء فشر نذر : جب شیبہ اور تیرے باپ (عتبہ) نے میرے ساتھ بدعہدی کا ارادہ کیا تو ان دونوں نے (یعنی حضرت حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ نے) اس کے سینے کے کھلے اطراف کو لہولہان کردیا اور تیرا بدی کی نذر ماننا بہت بری نذر ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن روحہ ؓ نے حضرت حمزہ ؓ پر روتے ہوئے یہ اشعار لکھے : بکت عینی وحق لھا بکاھا وما یغنی البکاء ولا العویل : میری آنکھ رو پڑی اور رونا اس کا حق بنتا ہے لیکن رونے اور وایلا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں : علی اسد الالہ غداۃ قالوا احمزۃ ذاکم الرجل القتیل : (میری آنکھیں) شیر خدا پر اس روز (رو پڑی) جب لوگوں نے کہا : کیا یہ مقتول آدمی حمزہ ہیں ؟ اصیب المسلمون بہ جمیعا ھناک وقدر اصیب بہ الرسول : آپ کے قتل سے سب مسلمانوں کو تکلیف پہنچی اور خود رسول اکرم ﷺ کو بھی تکلیف پہنچی : ابا یعلی لک الارکان ھدت وانت الماجد البر الوصول : اے ابو یعلی ! (یہ حضرت حمزہ ؓ کی کنیت ہے) آپ کے تمام اعضاء کاٹ دیئے گئے حالانکہ آپ ایک شریف نیک اور ہر ایک سے تعلق رکھنے والے آدمی تھے۔ علیک سلام ربک فی جنان مخالطھا نعیم لایزول : آپ پر آپ کے رب کی طرف سے ان جنتوں میں سلام پہنچے جن میں لازوال نعمتیں ملتی رہیں گی۔ الا یا ہاشم الاخیار صبرا فکل فعالکم حسن جمیل : اے قبیلہ ہاشم میں سب سے بہتر فرد صبر کر، تمہارا ہر کام نہات حسین و جمیل ہے۔ رسل اللہ مصطبر کریم بامر اللہ ینطق اذ یقول : اللہ کے رسول اللہ ﷺ صابر اور کریم ہیں وہ جب بھی کچھ فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ ہی بولتے ہیں۔ الا من مبلغ عنی لویا فبعد الیوم دائلۃ تدول : ارے کون شخص ہے جو میری طرف سے قبیلہ لؤی کو یہ پیغام پہنچا دے کہ آج کی جنگ کے بعد ایک دوسری جنگ کی نوبت آ کر رہے گی۔ وقبل الیوم ماعرفوا وذاقوا وقائعنا بھا یشفی الغلیل : اور آج کی جنگ سے پہلے (غزوہ بدر میں) جو کفار نے ہمیں خوب پہچان لیا، اور ہمارے مقابلے کا مزہ چکھ لیا (وہ بھی پہنچا دے) اس جنگ میں ہمارے تصادم سے پیاسوں کی پیاس بجھائی جاتی رہی۔ نسیتم ضربنا بقلیب بدر غداۃ اتاکم الموت العجیل : قلیب بدر کے پاس تم ہماری شمشیر زنی کو بھول گئے ہو جس روز موت تمہارے پاس بڑی تیزی سے آرہی تھی، غداۃ ثوی ابوجھل صریعا علیہ الطیر حائمۃ تجول : جس روز ابو جہل دھڑام سے گر کر ہلاک ہوگیا اور اس کے اوپر پرندے گھوم گھوم کر آجا رہے تھے۔ وعتبۃ وابنہ خرا جمیعا وشیبۃ عضہ السیف الصقیل : اور عتبہ اور اس کا بیٹا دونوں زمین پر گر پڑے اور شیبہ کو بھی صیقل کی ہوئی تلوار نے کاٹ کر رکھ دیا۔ ومترکنا امیۃ مجلعبا وفی حیزومہ لدن نبیل : اور ہم نے امیہ کو بھی زمین پر دراز کردیا درآنحالیکہ اس کے سینے کے نچلے حصے میں ایک بہت بڑا نیزہ داخل تھا۔ وھام بنی ربیعۃ سائلوھا ففی اسیافنا منھا فلول : اور بنی ربیعہ کی کھوپڑیوں سے پوچھو، ان کو کاٹنے کی وجہ سے ہماری تلواروں میں دندانے پڑے ہوئے ہیں۔ الا یا ھند فاب کی لا تملی فانت الوالہ العبری الھبول : ارے اے ہند ! اب خوب رو اور رونے سے نہ اکتا کیونکہ تو ہی شدت غم کی وجہ سے بڑے بڑے آنسو بہانے والی اور اپنے عزیزوں کو کھودینے والی ہے۔ الا یاھند لاتبدی شماتا بحمزۃ ان عزکم ذلیل : ارے اے ہند ! تو حضرت حمزہ ؓ کی وفات پر خوشی کا اظہار نہ کر کیونکہ تمہاری عزت خاک میں مل چکی ہے۔ اور آپ کی بہن حضرت صفیہ ؓ نے بھی مرثیہ کہا اور وہ کتب سیرت میں مذکور ہے رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون “ اس میں ایک مسئلہ ہے اور وہ توکل کا بیان ہے، توکل کا لغوی معنی : اظہار العجز والاعتماد علی الغیر ہے (یعنی عجز کا اظہار کرنا اور غیر پر اعتماد کرنا) اور ” واکل فلان “ (کہا جاتا ہے) جب کوئی کسی دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا کام ضائع کردے۔ توکل کی حقیقت میں علماء نے اختلاف کیا ہے، پس حضرت سہل بن عبداللہ سے اس کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : قالت فرقۃ۔ الرضابالضمان، وقطع الطمع من المخلوقین “۔ ایک جماعت نے کہا ہے : توکل سے مراد ضمان کے ساتھ راضی ہونا اور مخلوق سے کسی حرص اور لالچ کو ختم کرنا ہے، اور ایک قوم نے کہا ہے : التوکل ترک الاسباب والرکون الی مسبب الاسباب کہ توکل سے مراد اسباب کو ترک کرنا ہے اور مسبب الاسباب کی طرف متوجہ ہونا ہے، پس جب کوئی سبب اسے مسبب سے مشغول کر دے تو اس سے توکل کا اسم بھی زائل ہوجائے گا، حضرت سہل (رح) نے کہا ہے : جنہوں نے کہا ہے کہ توکل سبب ترک کرنے کے ساتھ ہوتا ہے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی سنت میں طعن کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (آیت) ” فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا “۔ ترجمہ : پس تم اس سے کھاؤ جو تم نے حلال طبیب (مال) کمایا۔ تو اس میں غنیمت بمعنی کمائی ہے اور مزید ارشاد فرمایا : (آیت) ” فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان “۔ (تو یہ بھی عمل ہے) اور حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” ان اللہ یحب العبد المحترف “ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ کوئی پیشہ (اور کام) کرنے والے بندے کو پسند فرماتا ہے) اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سریہ پر قرض دیتے تھے اور آپ کے سوا کسی اور نے کہا ہے : یہ عام فقہاء کا قول ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا معنی یہ ہے ” ھو الثقۃ باللہ والایقان بان قضاءہ ماض “ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ یقین رکھنا اور یہ ایقان رکھنا کہ اس کی قضا اور فیصلہ نافذ ہونے والا ہے اور سعی اور محنت کرنے میں نبی مکرم ﷺ کی سنت کی اتباع کرنا ایسے کاموں میں جن میں اسباب ضروری ہیں مثلا کھانا، پینا، دشمن سے احتیاط اور بچاؤ کرنا، اسلحہ تیار کرنا اور ان تمام ذرائع اور وسائل کو استعمال کرنا جن کا تقاضا اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کرتی ہے اور یہی موقف محققین صوفیہ نے اختیار کیا ہے لیکن ان کے نزدیک اسم توکل ان اسباب کے ساتھ طمانینت و راحت کے حصول اور دلوں کو ان کی طرف ملتفت کرنے کا تقاضا نہیں کرتا، کیونکہ یہ نہ تو کوئی نفع لا سکتے ہیں اور نہ کوئی ضرر دور کرسکتے ہیں، بلکہ سبب اور مسبب دونوں ہی اللہ تعالیٰ کا فعل ہیں اور سب اسی کی جانب سے اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے اور متوکل کی جانب سے ان اسباب کی طرف جھکاؤ اور میلان واقع ہوتا ہے تو وہ اس اسم (کے مفہوم) سے نکل جاتا ہے پھر توکل کرنے والوں کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ (1) توکل کی قدرت رکھنے والے کی حالت یہ تو ان اسباب میں سے کسی شے کی طرف اپنے دل کے ساتھ متوجہ ہوتا ہی نہیں اور نہ ہی وہ حکم امر کے سوا ان میں مشغول ہوتا ہے۔ (2) قدرت نہ رکھنے والے کی حالت : اور یہ وہ ہوتا ہے جس کی توجہ ان اسباب کی طرف وقتافوقتا ہوجاتی ہے مگر وہ عملی طریقوں اور دلائل قطعیہ اور حالیہ ذوق کے ساتھ ان کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے، پس وہ اسی طرح کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے جود وعطا کے ساتھ قدرت رکھنے والے متوکلین کے مقام پر فائز فرما دیتا ہے اور اسے عارفین کے درجات کے ساتھ ملا دیتا ہے۔
Ayahs 3:123–125

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

آیت نمبر : 123 تا 125۔ اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نصرکم اللہ ببدر “۔ غزوہ بدر سترہ رمضان المبارک، بروز جمعہ ہجرت کے اٹھارہویں ماہ واقع ہوا، اور بدر، وہاں پانی کا ایک کنواں ہے اسی سبب سے اس جگہ کا نام بدر ہے اور شعبی نے کہا ہے : وہ پانی قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی کا تھا اس کا نام بدر تھا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 542) اور اس وجہ سے اس جگہ کا نام بدر رکھا گیا، پہلا معنی زیادہ اور عام ہے۔ واقدی وغیرہ نے کہا ہے : بدر غیر منقول جگہ کا نام ہے اس کا ذکر عنقریب واقعہ بدر کے ضمن میں سورة الانفال میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ “۔ اور اذلۃ “ کا معنی ہے بہت کم تھوڑے، کیونکہ وہ اس دن تین سو تیرہ یا چودہ آدمی تھے (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 542) اور ان کے دشمن کی تعداد نو سو سے ہزار تک کے درمیان تھی اور ” اذلۃ “ ذلیل کی جمع ہے اور اس مقام پر ذل کا اسم استعارۃ استعمال کیا گیا ہے وہ اپنی ذاتوں میں تو یقینا عزت والے اور غالب تھے، لیکن اپنے دشمنوں کی طرف اپنی نسبت کے اعتبار سے اور زمین کے مختلف حصص میں بسنے والے جمیع کفار کے مقابلے میں غور وفکر کے وقت ان کی قلت اور کمی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ان پر غلبہ پالیا جائے گا، اور النصر کا معنی عون (مدد کرنا) ہے، پس اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے دن ان کی مدد فرمائی اور ان میں مشرکین کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور اسی دن پر اسلام کی بنیاد پڑی اور یہ وہ پہلی جنگ تھی جس میں حضور نبی کریم ﷺ شریک ہوئے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے سترہ غزوات میں شرک فرمائی اور ان میں سے آٹھ میں باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا (1) (مسلم کتاب، الجہاد والسیر، جلد 2، صفحہ، 18، قدیمی کتب خانہ کراچی) اور اسی میں ابن اسحاق (رح) سے یہ روایت ہے انہوں نے بیان کیا : میں حضرت زید بن ارقم ؓ سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا : کتنے غزوات میں رسول اللہ ﷺ شریک ہوئے ؟ تو انہوں نے فرمایا : انیس غزوات میں۔ پھر میں نے پوچھا : کتنے غزوات میں تم آپ ﷺ کے ساتھ تھے ؟ تو انہوں نے جواب کہا : سترہ غزوات میں، پھر میں کہا : وہ کون سا پہلا غزوہ ہے جس میں آپ شریک ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا : ذات العسیریا ذات العشیر (2) (مسلم کتاب الجہاد والسیر، جلد 2، صفحہ 118، قدیمی کتب خانہ کراچی، ایضا صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث نمبر 3655، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ سب کچھ اس کے خلاف ہے جو اہل تاریخ وسیر نے کہا ہے، محمد بن سعد نے کتاب الطبقات میں کہا ہے : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے غزوات ستائیس ہیں اور آپ کے سرایا چھپن ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ چھیالیس ہیں اور وہ جن میں رسول اللہ ﷺ نے قتال کیا ہے وہ بدر، احد، مریسیع، خندق، خیبر، قریظہ، الفتح، حنین اور طائف ہیں، ابن سعد نے کہا ہے : یہ وہ ہے جس پر ہمارا اجماع ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے بنی نضیر میں، خبیر سے واپسی پر وادی القری میں اور الغابہ (شام کی طرف مدینہ طبیہ کے قریب ایک جگہ ہے) میں قتال کیا ہے (3) (الطبقات الکبری لابن سعد، کتاب ذکر عدد مغازی رسول اللہ وسرایاہ جلد 2، صفحہ 5، دار بیروت) اور جب یہ ثابت ہوگیا تو ہم کہتے ہیں کہ حضرت زید ؓ اور حضرت بریدہ ؓ میں سے ہر ایک نے اس کے بارے خبر دی ہے جو اس کے علم یا اس کے مشاہدہ میں تھا، اور حضرت زید ؓ کا یہ قول : ” پہلا غزوہ جس میں آپ ﷺ شریک ہوئے وہ ذات العسیرہ ہے، یہ بھی اس کے خلاف ہے جو اہل التواریخ والسیر نے کہا ہے۔ محمد بن سعد نے کہا ہے : عزوہ عشیرہ سے پہلے تین غزوات ہوئے یعنی آپ ﷺ بنفس نفیس ان میں شریک ہوئے اور ابن عبدالبر نے ” کتاب الدررفی المغازی والسیر “ میں کہا ہے : پہلا غزوہ جس میں رسول اللہ ﷺ خود شریک ہوئے غزوہ ودان ہے اور یہ ماہ صفر میں واقع ہوا اور وہ یہ کہ آپ ﷺ مدینہ طیبہ پہنچے تو ماہ ربیع الاول کی بارہ راتیں گزر چکی تھیں، پھر آپ بقیہ ربیع الاول اور 2 ھ کے صفر تک وہیں مقیم رہے، پھر آپ ﷺ مذکور صفر کے مہینے میں نکلے اور مدینہ طیبہ پر حضرت سعد بن عبادہ ؓ کو عامل مقرر فرمایا حتی کہ آپ ودان پہنچ گئے اور بنی ضمرہ سے مصالحت کرلی پھر آپ ﷺ مدینہ طیبہ کی جانب لوٹ گئے اور جنگ نہ ہوئی اور اسی کا نام غزوہ ابواء بھی ہے، پھر آپ ﷺ مذکورہ سال کے ربیع الثانی کے مہینے تک مدینہ طیبہ میں مقیم رہے، پھر آپ ﷺ وہاں سے نکلے اور سائب بن عثمان بن مظعون کو مدینہ طبیہ پر عامل مقرر فرمایا، یہاں تک کہ آپ رضوی (مدینہ طیبہ میں ایک پہاڑ ہے) کے قریب بواط (قبیلہ جہینہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے) پہنچ گئے پھر آپ مدینہ طبیہ واپس تشریف لے گئے اور جنگ نہ ہوئی، بعد ازاں آپ ربیع الثانی کے بقیہ ایام اور کچھ جمادی الاول کے وہیں رہے پھر آپ غزوہ کے ارادہ سے نکلے اور مدینہ طیبہ پر ابو سلمہ بن عبدالاسد کو خلیفہ مقرر کیا اور ملک (مکہ مکرمہ کی ایک وادی ہے) کے راستے سے عسیرہ کی طرف چل دیئے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : ابن اسحاق نے حضرت عمار بن یاسر ؓ سے ذکر کیا ہے انہوں نے بیان کیا : میں اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ ینبع کے بطن میں ہونے والے غزوہ عشیرہ میں دونوں دوست (ایک ساتھ) تھے، جب رسول اللہ ﷺ وہاں اترے تو ایک مہینہ تک وہیں مقیم رہے اور وہاں بنی مدلج اور ان کے حلفاء بنی ضمرہ وغیرہ کے ساتھ صلح کرلی اور ان سے عداوت ترک کردی، تو حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے مجھے کہا : کیا تیرے لئے ممکن ہے (اے) ابا الیقظان کہ تو ان کے پاس آئے ؟ بنی مدلج کی ایک جماعت بیدار رہ کر ان کے لئے کام کر رہی ہے ہم دیکھیں وہ کیسے کام کر رہے ہیں۔ چناچہ ہم ان کے پاس آئے اور ان کی طرف کچھ وقت تک دیکھتے رہے پھر ہم پر نیند غالب آگئی تو ہم نے زمین کی مٹی میں کھجور کے چھوٹے درختوں کا قصد کیا اور ان میں آکر سو گئے، پھر قسم بخدا ! ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آکر اپنے قدموں کے ساتھ جگایا، تو ہم بیٹھ گئے اور ہم اس مٹی سے لتھڑے پڑھے تھے تو اس دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا : مابالک یا ابا تراب تجھے کیا ہوا ہے اے ابا تراب ! تو ہم نے آپ ﷺ کو اس کے بارے خبر دی جو ہمیں پیش آیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : الا اخبرکم باشقی الناس رجلین “۔ (کیا میں تمہیں ایسے دو آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمام لوگوں سے زیادہ بدبخت ہیں ؟ ہم نے عرض کی : ہاں یا رسول اللہ ﷺ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” قوم ثمود کا احیمر جس نے (حضرت صالح (علیہ السلام) کی) اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں اور (دوسرا وہ) جو تجھے اے علی اس پر مارے گا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنے سر پر رکھا۔۔۔۔ یہاں تک کہ یہ اس سے تر ہوگیا “ اور (پھر) آپ نے اپنا دست مبارک اپنی ریش مبارک پر رکھا (1) (مسند احمد بن حنبل کتاب اول مسند الکوفیین، جلد 4، صفحہ 263، دار صادر) پس ابو عمر نے کہا : آپ ﷺ بقیہ جمادی الاولی اور جمادی الآخرہ کی کچھ راتیں وہیں مقیم رہے اور اس میں بنی مدلج سے مصالحت کی، پھر واپس لوٹ آئے اور جنگ تک نوبت نہ آئی، پھر اس کے بعد تھوڑے ہی دونوں کے فاصلے کے ساتھ غزوہ بدر الاولی ہوا، یہ وہ ہوا، یہ وہ تفصیل ہے جس میں اہل التواریخ والسیر کوئی شک نہیں کرتے، پس حضرت زید بن ارقم ؓ نے اس کے بارے خبر دی جو کچھ ان کے پاس تھا، واللہ اعلم۔ اور کہا جاتا ہے : ذات العسیر سین کے ساتھ بھی ہے اور شین کے ساتھ بھی اور اس پر ھا کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : العیشرۃ، پھر غزوہ بدرالکبری ہوا اور جو بھی اس میں حاضر ہوئے ان کے لئے فضیلت کے اعتبار سے یہ بہت بڑی اور عظیم جنگ ہے اس میں علماء کی ایک جماعت کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ کے ساتھ اپنے نبی مکرم ﷺ اور مومنین کی مدد فرمائی اور ظاہر آیت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے، نہ کہ غزوہ احد میں، اور جنہوں نے کہا ہے کہ ایسا غزوہ احد میں ہوا تو انہوں نے قول باری تعالیٰ (آیت) ولقد نصرکم اللہ ببدر “ سے تا قولہ (آیت) ” تشکرون “ کو دو کلاموں کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیا ہے، یہ عامر شعبی کا قول ہے، اور لوگوں نے ان سے اختلاف کیا ہے اور روایات بالکل ظاہر اور واضح ہیں کہ ملائکہ غزوہ بدر کے دن حاضر ہوئے اور عملا جنگ میں شریک ہوئے اور اسی کے بارے ابو اسید مالک بن ربیعہ کا قول ہے اور یہ بدر میں حاضر تھے، اگر میں اب تمہارے ساتھ بدر میں ہوتا اور میری آنکھیں سلامت ہوتیں تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتی جس سے ملائکہ ظاہر ہوئے تھے مجھے اس میں کوئی شک اور اختلاف نہیں ہے، اسے عقیل نے زھری عن ابی حازم سلمہ بن دینار سے روایت کیا ہے، ابن ابی حاتم نے کہا ہے : اس حدیث کے سوا زہری کی ابوحازم سے کوئی حدیث معروف نہیں اور ابو اسید کے بارے کہا جاتا ہے کہ آپ ہی بدری صحابہ کرام میں سے سب سے آخر میں فوت ہوئے، اسے ابو عمر نے الاستیعاب وغیرہ میں ذکر کیا ہے اور صحیح مسلم میں حضرت میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی حدیث مذکور ہے آپ نے بیان فرمایا : غزوہ بدر کے دن جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے اور آپ ﷺ کے اصحاب کی تعداد تین سو انیس ہے، تو نبی مکرم قبلہ شریف کی طرف متوجہ ہوئے، پھر اپنے ہاتھ پھیلا دیئے اور اپنے رب کریم کی بارگاہ میں التجا کرنے لگے : اللھم انجزلی ماوعدتنی اللھم آت ما وعدتنی اللھم ان تھلک ھذہ العصابۃ من اھل الاسلام تعبد فی الارض (اے اللہ ! میرے لئے وہ وعدہ پورا فرما جو تو نے میرے ساتھ کیا ہے، اے اللہ ! وہ عطا فرما جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اے اللہ ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی) پس آپ ﷺ قبلہ شرف کی طرف منہ کئے ہاتھ پھیلا کر مسلسل اپنے رب کریم سے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آپ کے کندھوں سے آپ کی چادر مبارک گرگئی، پھر حضرت ابوبکر صدیق ؓ آئے، انہوں نے چادر اٹھائی اور آپ ﷺ کے کندھوں پر اسے ڈال دیا، پھر پیچھے کی جانب سے آپ کو پکڑ لیا اور عرض کی : یا نبی اللہ ﷺ تمہارے رب کی بارگاہ میں تمہاری طرف سے مناجات کافی ہے، وہ تمہارا وہ وعدہ پورا فرمائے گا جو اس نے تمہارے ساتھ فرمایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” اذتستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین ‘۔ (الانفال) ترجمہ : یاد کرو جب تم فریاد کر رہے تھے اپنے رب سے تو سن لی اس نے تمہاری فریاد (اور فرمایا) یقینا میں مدد کرنے والا ہوں تمہاری ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ جو پے درپے آنے والے ہیں) پس اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ساتھ آپ کی مدد فرمائی۔ ابو زمیل نے کہا ہے کہ مجھے حضرت عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اس دن مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی مشرک کے پیچھے تیز دوڑ رہا تھا تو اس نے اپنے سامنے اس پر کوڑا پڑنے کی آواز اور شہسوار کی آواز سنی کی وہ کہہ رہا ہے : اقدم حیزوم، (حیزوم آگے بڑھ) تو اس نے اپنے سامنے مشرک کی طرف دیکھا کہ وہ چھت گرگیا ہے تو اس نے اس کی طرف دیکھا کہ اس کی ناک توڑ دی گئی ہے اور اس کا چہرہ اس طرح پھاڑ دیا گیا ہے (جس طرح کوڑے کی ضرب کے ساتھ، ) پس وہ تمام کے تمام اکٹھے ہوگئے تو ایک انصاری آیا اور اس نے اس کے بارے رسول اللہ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : صدقت ذالک من مدد السمآء الثالثۃ (تو نے سچ کہا ہے وہ تیسرے آسمان سے مدد آئی ہے) پس اس دن وہ ستر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لئے گئے، آگے حدیث ذکر کی (1) (مسلم، کتاب الجہاد، باب السداد بالملائکۃ فی غزۃ بدر واباحہ الغنائم، جلد 2، صفحہ 93، اسلام آباد) اور عنقریب سورة الانفال کے آخر میں مکمل آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ، پس سنت اور قرآن نے اسی کی موافقت کی ہے جو کچھ جمہور نے کہا ہے : والحمد للہ۔ خارجہ بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے بتایا کی رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) سے پوچھا : ” بدر کے دن ملائکہ میں سے کون یہ کہہ رہا تھا ” اقدم حیزوم “۔ ؟ تو حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے عرض کی یا محمد ﷺ ما کل اھل السماء اعرف (اے محمد ﷺ میں تمام اہل آسمان کو نہیں پہچانتا) اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا : اس اثنا میں کہ میں بدر کے کنوئیں سے پانی کا ڈول کھینچ رہا تھا کہ تیز ہوا آئی جس کی مثل میں نے کبھی نہ دیکھی تھی، پھر وہ چلی گئی، پھر اتنی تیز ہوا آئی کہ میں نے اس کی مثل کبھی نہ دیکھی تھی مگر وہی جو اس سے پہلی آئی تھی، راوی کا بیان ہے : میرا گمان ہے کہ انہوں نے ذکر کیا، پھر انتہائی، تیز اور شدید ہوا آئی، پس پہلی ہوا کے وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہزار ملائکہ کو ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس اترے اور دوسری ہوا کے وقت حضرت میکائیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی دائیں جانب اترے اور آپ ﷺ کی دائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے اور تیسری ہوا کے وقت حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب اترے اور میسرہ میں میں تھا۔ اور حضرت سہل بن حنیف ؓ نے بیان فرمایا ہے : میں نے بذات خود غزوہ بدر کے دن دیکھا کہ ہم میں سے کوئی اپنی تلوار کے ساتھ مشرک کے سر کی طرف اشارہ کرتا ہے تو تلوار اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر اس کے جسم سے کٹ کر گرپڑتا۔ اور حضرت ربیع بن انس ؓ نے بیان کیا ہے کہ لوگ غزوہ بدر کے دن کفار کے ان مقتولوں کو پہنچانتے تھے جنہیں فرشتوں نے قتل کیا تھا انہوں نے انہیں گردنوں کے اوپر ضرب لگا کر قتل کیا تھا اور پوروں پر آگ نشان کی مثل نشان تھے وہ اس کے ساتھ جلا دیئے گئے، یہ سب بیہقی (رح) نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا ہے : بیشک ملائکہ قتال کرتے رہے ہیں اور کفار میں ان کی ضرب کی علامت بالکل ظاہر تھی، کیونکہ جس جگہ ان کی ضرب لگی اس جگہ میں آگ بھڑک اٹھی، یہاں تک کہ ابوجہل نے حضرت ابن مسعود ؓ کو کہا : کیا تم نے مجھے قتل کیا ہے ؟ بلاشبہ مجھے اس نے قتل کیا ہے جس کے گھوڑے کے سم تک میرا نیزہ بھی نہیں پہنچ سکا اگرچہ کوشش تو نے کی ہے، ملائکہ کی کثرت کا فائدہ یہ ہوا کہ مومنین کے دلوں کو تسکین اور راحت نصیب ہوئی اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو یوم قیامت تک مجاہدین بنا دیا، پس ہر لشکر جس نے صبر کیا اور اخلاص اپنا یا فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور ان کی معیت میں جنگ میں شریک ہوں گے اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد ؓ نے فرمایا : ملائکہ نے بدر کے دن کے سوا کہیں جنگ نہیں لڑی اور اس کے سوا میں وہ صرف حاضر ہوئے ہیں لیکن وہ قتال نہیں کرتے بلاشبہ وہ تعداد (میں اضافہ کا سبب) یا مدد ہوتے ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ ملائکہ کی کثرت کا فائدہ یہ ہے کہ وہ دعا کرتے رہتے ہیں اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ ان کے لئے (اجر وثواب میں) اضافہ کا سبب بنتے ہیں جو اس دن قتال کرتے ہیں پس اس بناء پر تو ملائکہ نے بدر کے دن بھی قتال نہیں کیا بلکہ وہ صرف ثابت قدم رہنے کی دعا کے لئے حاضر ہوئے، پہلا قول اکثر کا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : یہ بدر کا دن تھا اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار کے ہزار کے ساتھ ان کی امداد فرمائی پھر وہ ہزار ہوگئے، اور پھر بڑھ کر پانچ ہزار ہوگئے (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 542) پس اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین، اور بلی ان تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ الف من المئکۃ مسومین “۔ پس مومنین نے بدر کے دن صبر کیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ ان کی امداد فرمائی جیسا کہ ان سے وعدہ کیا تھا، پس یہ سب غزوہ بدر کے دن ہوا، اور حسن نے کہا پس یہ پانچ ہز اور یوم قیامت تک مومنین کے لئے ممدود معاون رہیں گے۔ حضرت شعبی نے کہا ہے : بدر کے دن حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو یہ خبر پہنچی کہ کرز بن جابر محاربی مشرکین کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو یہ خبر حضور نبی مکرم ﷺ اور مسلمانوں پر شاق گزری، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں “۔ (آیت) ” الن یکفیکم۔۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔۔۔ مسومین “۔ پس کر زکو شکست اور ہزیمت کی خبر موصول ہوئی تو اس نے اس کی کوئی مدد نہ کی اور واپس لوٹ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے بھی پانچ ہزار کے ساتھ ان کی مدد نہ کی، بلکہ ایک ہزار کے ساتھ ان کی مدد کی گئی، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن مومنین سے یہ وعدہ کیا کہ اگر وہ اس کی طاعت وفرمانبرداری پر ڈٹے رہے، اور اس کے محارم سے بچتے رہے تو وہ ان کی تمام جنگوں میں مدد فرمائے گا، لیکن جنگ احزاب کے سوا نہ انہوں نے صبر کیا اور نہ ہی وہ محارم سے بچے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی جب انہوں نے بنی قریظہ کا محاصرہ کیا۔ (1) اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلاشبہ یہ جنگ احد کا دن تھا، اللہ تعالیٰ نے ان سے مدد کا وعدہ فرمایا بشرطیکہ انہوں نے صبر کیا پس انہوں نے صبر نہ کیا اور نہ ہی فرشتے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اگر ان کی مدد کی جاتی تو پھر انہیں ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی، عکرمہ اور ضحاک نے یہی کہا ہے (2) (ایضا، صفحہ 543) اور اگر کہا جائے : تحقیق حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کی دائیں اور بائیں جانب دو آدمیوں کو دیکھا وہ سفید لباس پہنے ہوئے تھے اور وہ دونوں آپ کی جانب سے انتہائی شدید جنگ لڑ رہے تھے، میں نے ان دونوں کو کبھی نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ ہی اس کے بعد (3) (صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث 3748، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (دیکھا) اس کے بارے کہا گیا ہے : شاید یہ حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ مختص ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے دو فرشتے خاص کردیئے جو آپ کی طرف سے جنگ لڑیں گے اور یہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے امداد نہ ہوگی، واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (2) ملائکہ کا نازل ہونا مدد ونصرت کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ رب العالمین اس کا محتاج اور ضرورت مند نہیں ہے، بلکہ مخلوق اس کے محتاج ہے پس چاہیے کہ دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے اور اسی پر اعتماد اور توکل ہو، کیونکہ اور بغیر سبب کے وہی ناصر اور مدد فرمانے والا ہے۔ (آیت) ” انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون “۔ (یسین) ترجمہ ؛ اس کام کا حکم، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا ہی ہے کہ وہ فرماتا ہے اس کو ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے۔ لیکن اس نے اس کے بارے خبر دی ہے تاکہ مخلوق اس کی پیروی کرے جس کا اللہ تعالیٰ انہیں حکم فرمائے ان اسباب میں سے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا “۔ (الاحزاب) ترجمہ : اور آپ سنت الہی میں ہر گز کوئی تغیر وتبدل نہ پائیں گے۔ اور اس طرح توکل میں کوئی نقص اور عیب پیدا نہ ہوگا اور یہ ان کا رد ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اسباب تو ضعفاء اور کمزوروں کے لئے بنائے گئے ہیں نہ کہ اقویاء اور طاقتوروں کیلئے کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام تو اقویا اور طاقتور تھے اور ان کے سوا دوسرے ضعفاء اور کمزور ہیں اور یہ بالکل واضح ہے، مد کا لفظ شر میں اور امد کا لفظ خیر میں (مدد کے لئے استعمال ہوتا ہے) جیسا کہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہیں، ابو حیوہ نے ” منزلین “ را کو کسرہ کے ساتھ مخفف پڑھا ہے، یعنی وہ مدد ونصرت اتارنے والے ہیں، اور ابن عامر نے کثرت کی بنا پر زا کو مشدد اور مفتوح پڑھا ہے، پھر فرمایا : بلی (ہاں کافی ہے) اور کلام مکمل ہوگئی، (آیت) ” ان تصبروا “ یہ شرط ہے یعنی اگر تم دشمن کے مقابلے میں صبر کرو (آیت) ” وتتقوا “ یہ اس پر معطوف ہے یعنی تم اس کی معصیت اور نافرمانی سے بچے رہو، ” یمددکم “ یہ جواب شرط ہے (تو وہ تمہاری مدد کرے گا) اور (آیت) ” من فورھم “ کا معنی ہے من وجھھم (یعنی اگر ان کی طرف سے تیزی ہوجائے) یہ عکرمہ، قتادہ، اور حسن، ربیع، سدی اور ابن زید، رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : من غضبھم “ (یعنی اگر وہ آجائیں اپنے غضب سے) یہ مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے، وہ غزوہ احد کے دن ان حالات سے غضب میں تھے جن کا غزوہ بدر کے دن انہیں سامنا کرنا پڑا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 543) اور الفور کا اصلی معنی کسی شی کی طرف قصد کرنا اور اسے خوب محنت ومشقت کے ساتھ لینا ہے اور یہ ان کے اس قول سے ہے : فارت القدر تفود فورا وفورانا، جب ہانڈی خوب ابلنے لگے اور الفور کا معنی الغلیان (ابلنا) ہے، اور فارغضبہ جب غصہ بھڑک جائے (تو یہ کہا جاتا ہے) اور اس کا فعل فورہ سے ہے یعنی اس سے پہلے کہ وہ ساکن ہو، اور الفوارۃ جو کچھ ہانڈی میں سے ابلتا اور کھولتا ہے، اور قرآن کریم میں ہے (آیت) ” وفارالتنور “۔ (تنور ابل گیا) شاعر نے کہا ہے : تفور علینا قدرھم فندیمھا : ہمارے خلاف ان کی ہنڈیاں ابلنے لگتی ہیں تو ہم انہیں ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” مسومین “۔ یہ واؤ کے فتحہ کے ساتھ اسم مفعول ہے اور یہ ابن عامر، حمزہ کسائی اور نافع کی قرات ہے یعنی جن کی علامت کے ساتھ پہنچان کرائی گئی ہے، اور (آیت) ” مسومین “ واؤ کے کسرہ کے ساتھ اسم فاعل ہے، اور یہ ابو عمرو، ابن کثیر اور عاصم کی قرات ہے (2) (ایضا صفحہ 544) اور یہ بھی سابقہ معنی کا احتمال رکھتا ہے یعنی انہوں نے علامت کے ساتھ اپنی اور اپنے گھوڑوں کی پہچان کرائی، علامہ طبری وغیرہ نے اس قرات کو ترجیح دی ہے اور بہت سے مفسرین نے کہا ہے : مسومین “ یعنی وہ اپنے گھوڑے جنگ میں بھیجنے والے ہیں، اور مہدوی نے مسومین بفتح واؤ میں یہ معنی ذکر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار کے خلاف بھیجا، اور ابن فورک نے بھی یہی کہا ہے، اور پہلی قرات کے مطابق انہوں نے ملائکہ کی نشانی میں اختلاف کیا ہے، پس حضرت علی بن ابی طالب ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ اور ان کے علاوہ سے مروی ہے کہ ملائکہ سفید عمامے باندھے ہوئے تھے اور (ان کی طرف کو) اپنے کندھوں کے درمیان چھوڑ رکھا تھا۔ (3) (ایضا) (یعنی ایک لڑکندھوں کے درمیان لٹکا رکھا تھا) اسے بیہقی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے اور مہدوی نے اسے زجاج سے بیان کیا ہے مگر حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) حضرت زبیر بن عوام ؓ کی طرح زرد رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اور ابن اسحاق نے اسے بیان کیا ہے، اور ربیع نے بیان کیا ہے کہ ان کی نشانی یہ تھی کہ وہ ابلق گھوڑوں پر سوار تھے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : بیہقی (رح) نے حضرت سہل بن عمرو ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے بدر کے دن زمین و آسمان کے درمیان ابلق گھوڑوں پر کچھ چمکتے اور روشن آدمی دیکھے درآنحالیکہ وہ نشان زدہ تھے وہ قتل کر رہے تھے اور قیدی بنا رہے تھے، پس ان کا قول : معلمین اس پر دلیل ہے کہ ابلق گھوڑے کوئی نشانی نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ان کے گھوڑوں کی دمیں اور کلغیاں کٹی ہوئی تھیں اور پیشانیوں اور دموں پر رنگ برنگی اون کے ساتھ نشان لگے ہوئے تھے۔ (1) (احکام القرآن، جلد 1، صفحہ 297) اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے : بدر کے دن ملائکہ سفید اون کے ساتھ گھوڑوں کی پیشانیوں اور ان کی دموں پر نشان لگائے ہوئے تھے (2) (احکام القرآن، جلد 1، صفحہ 297) اور عباد بن عبداللہ بن زبیر، ہشام بن عروہ اور کلبی نے کہا ہے : ملائکہ حضرت زبیر ؓ کی نشانی میں نازل ہوئے وہ زرد رنگ کے عمامے باندھے ہوئے تھے درآنحالیکہ وہ انکے کندھوں پر لٹک رہے تھے۔ (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 544) اور حضرت زبیر ؓ کے دونوں صاحبزادوں حضرت عبداللہ اور حضرت عروہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اسی طرح کہا ہے، اور حضرت عبداللہ ؓ نے کہا ہے : زرد رنگ کی چادر تھی جس کی حضرت زبیر ؓ بطور عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ میں کہتا ہوں : اور آیت اس پر دلیل ہے، اور یہ چوتھا مسئلہ ہے۔ (4) یعنی یہ قبائل اور لشکروں کے لئے کوئی علامت اور کوڈ بنانے پر دلالت کرتی ہے جو انکے لئے حاکم وقت متعین کرتا ہے تاکہ ہر قبیلہ اور ہر لشکر جنگ کے وقت دوسرے سے ممتاز اور الگ رہے اور یہ آیت ابلق گھوڑوں کی فضیلت پر بھی دلیل ہے کیونکہ ملائکہ نے ان پر نزول فرمایا : میں (مفسر) کہتا ہوں : شاید حضرت مقداد ؓ کے گھوڑے کی موافقت میں ملائکہ ان پر نازل ہوئے، کیونکہ وہ تھوڑا ابلق تھا اور اس کے سوا ان کے پاس کوئی گھوڑا نہ تھا، پس ملائکہ حضرت مقداد ؓ کی تعظیم و تکریم میں ابلق گھوڑوں پر اترے، جس طرح حضرت زبیر ؓ کی طرح حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) زرد عمامہ باندھ کر نزول فرما ہوئے، واللہ اعلم۔ اور آیت اس پر بھی دلیل ہے۔ اور یہی پانچواں مسئلہ ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) کہ اون کالباس وہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین نے پہنا ہے، اور ابو داؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور الفاظ انہی کے ہیں کہ حضرت ابو بردہ نے اپنے باپ سے روایت کیا اور کہا کہ میرے باپ نے مجھے بتایا اگر تو ہمارے ساتھ حاضر ہوتا درآنحالیکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب بارش ہم پر برستی تو یقینا تو گمان کرتا کہ ہماری ہوا بھیڑوں کی ہوا کی طرح ہے (4) (سنن ابی داؤد کتاب اللباس، حدیث 3515، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا، ابن ماجہ، کتاب اللباس، حدیث 3551، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا، جامع ترمذی کتاب اللباس، جلد 1، صفحہ 209، اسلام آباد) حضور نبی مکرم ﷺ نے تنگ آستینوں والا اون کا بنا ہوا رومی جبہ زیب تن فرمایا۔ اسے ائمہ نے روایت کیا ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ حدیث نمبر 350، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت یونس (علیہ السلام) نے بھی اسے پہنا ہے، اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اس کا مزید بیان سورة النحل میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ : مسئلہ نمبر : (6) میں (مفسر) کہتا ہوں : رہا وہ جو حضرت مجاہد (رح) نے ذکر کیا ہے کہ انکے گھوڑوں کی دمیں اور کلغیاں کٹی ہوئی تھیں تو یہ بہت بعید ہے، کیونکہ مصنف ابی داؤد میں عتبہ بن عبد سلمی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” تم گھوڑوں کی پیشانیاں نہ کاٹو (یعنی ان کے بال نہ کاٹو) اور نہ ہی ان کی کلغیاں اور نہ ہی ان کی دمیں کیونکہ ان کی دمیں ان کی چربی ہے اور ان کی کلغیاں ان کے لئے حرارت ہیں اور ان کی پیشانیوں میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 2180، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا سنن ابی داؤد، جلد، 1، صفحہ 344، اسلام آباد) پس حضرت مجاہد (رح) کا قول اس حکم توقیفی محتاج ہے کہ ملائکہ کے گھوڑے اس صفت پر تھے، واللہ اعلم۔ اور آیت رنگوں میں سے سفید اور زرد رنگ کے حسن پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ ملائکہ انہی کے ساتھ نازل ہوئے اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : جس نے زرد رنگ کے نعل پہن لئے اس کی حاجت پوری کردی گئی (3) (احکام القرآن، جلد 1، صفحہ 297) اور آپ ﷺ نے فرمایا :” اپنے کپڑوں میں سے سفید پہنو کیونکہ وہ تمہارے بہترین اور خیر و برکت والے کپڑے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کپڑے میں کفن دو ۔ (4) (سنن ابی داؤد، کتاب الطب، حدیث نمبر 3380، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور رہے عمامے تو وہ عربوں کا تاج اور ان کا لباس ہے “ اور رکانہ نے روایت کیا ہے اور اس نے حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ کشتی لڑی تو حضور نبی مکرم ﷺ نے اسے پچھاڑ دیا۔ رکانہ نے بیان کیا : میں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : فرق مابیننا وبین المشرکین العمائم علی القلائس (5) (جامع ترمذی، کتاب اللباس، باب العمائم علی القلانس، جلد 1، صفحہ 210، اسلام آباد، ایضا، جامع ترمذی، حدیث 1706، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامے باندھنا ہے) اسے ابو داؤد نے بیان کیا ہے۔ امام بخاری نے کہا ہے اس کی اسناد مجہول ہے اس کے بعض راویوں کا سماع بعض سے معروف نہیں۔
Ayahs 3:126–127

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

آیت نمبر : 126 تا 127۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما جعلہ اللہ الا بشری لکم “۔ اس میں ضمیر مدد کے لئے ہے اور وہ ملائکہ ہیں یا وعدہ ہے یا امداد ہے، اور اس پر قول باری تعالیٰ (آیت) ” یمددکم “۔ دلالت کرتا ہے یا پھر ضمیر تسویم (نشان لگانا) یا انزال (اتارنا) یا معنوی طور پر عدد کے لئے ہے، کیونکہ خمسۃ آلاف عدد ہے، (آیت) ” ولتطمئن قلوبکم بہ “۔ اس میں لام، لام کی ہے، یعنی ” ولتطمئن قلوبکم بہ جعلہ “۔ (تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں ایسا کیا) اسی طرح یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وزینا السماء الدنیا بمصابیح وحفظا “۔ ای حفظا لھا جعل ذالک (اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ آراستہ کیا اور اس کی حفاظت کے لئے اسے بنایا) (آیت) ” وما النصر الا من عند اللہ “۔ یعنی مومنین کی مدد ونصرت نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس میں کافروں کی مدد وداخل نہیں ہے، کیونکہ انہیں جو غلبہ ہوتا ہے وہ بلاشبہ رسوائی، برے انجام اور خسارے سے بھرا اور گھرا ہوتا ہے۔ (آیت) ” لیقطع طرفا من الذین کفروا “۔ ترجمہ : یعنی تاکہ وہ قتل کے ساتھ کافروں کا ایک حصہ کاٹ دے۔ اور نظم آیت اس طرح ہے : ولقد نصرکم اللہ ببدرلیقطع۔ (تحقیق اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن تمہاری مدد فرمائی تاکہ وہ کاٹ دے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی ہے وما النصر الا من عند اللہ لیقطع (مدد نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے تاکہ وہ کاٹ دے۔ ) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ یمدد کم کے متعلق ہو، (یعنی وہ تمہاری مدد کرے گا تاکہ وہ کاٹ دے) اور معنی ہے : مشرکین میں سے جو بدر کے دن قتل کئے گئے، حسن وغیرہ سے یہ منقول ہے، سدی نے کہا ہے : یعنی اس کے ساتھ جو مشرکین غزوہ احد کے دن قتل کئے گئے اور وہ اٹھارہ آدمی تھے۔ اور ” یکبتھم “۔ کا معنی ہے ” یحزنھم ‘۔ (یا وہ انہیں پریشان اور غمزدہ کردے۔ اور المکبوت کا معنی محزون (غمگین) ہے اور روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ حضرت ابو طلحہ ؓ کے پاس آئے تو ان کے بیٹے کو پریشان اور غمزدہ دیکھا، تو فرمایا :” اسے کیا ہوا ہے ؟ “ تو عرض کی گئی : اس کا اونٹ مرگیا ہے، اور اس کی اصل جو کہ بعض اہل لغت نے بیان کی ہے یکبدھم ہے ای یصیبھم بالحزن والغیظ فی اکبادھم (1) (معالم التنزیل، جلد 1 صفحہ 545، ) (یعنی وہ انہیں غم وانددوہ اور غیظ وغضب ان کے دلوں (کلیجوں) میں پہنچائے) پھر دال کو تا سے بدل دیا گیا ہے۔ جیسا کہ سبت راسہ اور سبدہ میں دال کو تا سے بدلا گیا ہے یعنی اس نی اس کا سر مونڈ دیا (2) (ایضا) کبت اللہ العدوکبتا (یہ تب کہا جاتا ہے) جب اللہ تعالیٰ دشمن کو پھیر دے اور اسے ذلیل ورسوا کر دے، اور کبدہ کا معنی ہے اصابہ فی کبدہ (یعنی اس نے اس کے دل میں تکلیف پہنچائی) کہا جاتا ہے : قداحرق الحزن کبدہ (غم نے اس کے دل کو جلا دیا) اور احرقت العداوۃ کبدہ (دشمنی نے اس کا جگر جلا دیا) اور عرب دشمن کے لئے کہتے ہیں : اسود الکبد۔ (جگر سیاہ ہوگیا) اعشی نے کہا ہے : فما اجشبت من اتیان قوم سم الاعداء والاکباد سود : اس میں الاکباد سود جگر سیاہ ہونے کے معنی میں ہے۔ گویا کہ شدت عداوت کے سبب جب جگر جل جاتا ہے تو وہ سیاہ ہوجاتا ہے، اور ابو مجلز نے او یکبدھمدال کے ساتھ پڑھا ہے اور الخائب سے مراد وہ ہے جسکی امید ٹوٹ چکی ہو (کچھ ہاتھ نہ آئے) خاب یخیب اذا لم ینل ماطلب یعنی جو طلب کیا جب وہ اسے نہ پائے تو اس کے لئے خاب یخیب کا لفظ کہا جاتا ہے، اور الخیاب یعنی ایسا عیب ہے جسے وہ چھپا نہ سکتا ہو۔