Ayah 3:26آیت نمبر : 26۔
حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا :” جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرمایا کہ وہ سورة فاتحہ، آیۃ الکرسی، شہدا للہ اور (آیت) ” قل اللھم ملک الملک تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء وتعزمن تشآء وتذل من تشآء بیدک الخیر، انک علی کل شی قدیر، تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی اللیل، وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی، وترزق من تشآء بغیر حساب ،:
ناز فرمائے تو یہ عرش کے ساتھ معلق ہوگئیں (اس طرح کہ) ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہ تھا اور انہوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں دارالذنوب اور ان لوگوں کی طرف اتار رہا ہے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے میری عزت و جلال کی قسم، کوئی بندہ ہر فرض نماز کے بعد تمہیں نہیں پڑھے گا مگر میں اسے حظیرۃ القدس میں اس کے اعلی مقام پر سکونت عطا فرماؤں گا اور یہ کہ میں اس کی طرف ہر روز اپنی مخفی آنکھوں کے ساتھ ستر بار دیکھوں گا اور یہ کہ میں ہر روز اس کی ستر حاجات پوری فرماؤں گا ان میں سے سب سے ادنی مغفرت ہے اور یہ کہ میں اسے ہر دشمن سے پناہ عطا فرماؤں گا اور اس کے خلاف اس کی مدد کروں گا اور جنت میں داخل ہونے سے کوئی شے اس کیلئے مانع اور رکاوٹ نہیں ہوگی مگر یہ کہ وہ فوت ہوجائے۔ “
اور حضرت معاذ بن جبل ؓ نے بیان فرمایا : میں ایک دن حضور نبی مکرم ﷺ سے روک دیا گیا اور میں آپ نے کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا نہ کرسکا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے معاذ ! تجھے نماز جمعہ سے کس شے نے روکا ہے ؟ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یوحنا بن ہاریا یہودی کا مجھ پر ایک اوقیہ چاندی قرض تھا اور وہ میرے دروازے پر میری تاک میں تھا، پس مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ وہ مجھے آپ سے روک دے گا۔
آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے معاذ کیا تو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرا قرض ادا فرما دے ؟ “ میں نے عرض کی : ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہر روز یہ پڑھا کر (آیت) ” قل اللھم مالک الملک۔۔۔۔۔۔ تا قولہ۔۔۔۔ بغیر حساب رحمن الدنیا والاخر وحیمھا تعطی منھما من تشاء وتمنع منھما من تشاء اقض عنی دینی، (اے دنیا اور آخرت میں بہت زیادہ رحم فرمانے والے اور مہربان تو جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے تو مجھ سے میرا قرض ادا فرما دے)
تو اگر تجھ اتنا سونا قرض ہوگا جس سے ساری زمین بھر جائے تو یقینا اللہ تعالیٰ تجھ سے اسے اسے ادا فرمائے گا۔ “ اسے ابو نعیم الحافظ نے روایت کیا ہے۔ اور حضرت عطا خراسانی سے بھی روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے بیان فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے قرآن کریم میں سے چند آیات یا کلمات سکھائے، زمین میں کوئی مسلمان نہیں ہے جو انکے ساتھ دعا مانگے اور وہ ستایا ہوا ہو یا اس پر تاوان ہو یا وہ مقروض ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا فرما دے گا اور اس کے غم اور پریشانی کو دور فرما دے گا، مجھے حضور نبی مکرم ﷺ سے روک لیا گیا، پھر آگے مذکورہ روایت بیان کی۔ حضرت عطا کی حدیث غریب ہے انہوں نے اسے حضرت معاذ ؓ سے مرسل روایت کیا ہے۔
اور حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کیا اور اپنی امت کے ساتھ ملک فارس ور روم کا وعدہ فرمایا تو منافقین اور یہودیوں نے کہا : یہ بعید از امکان ہے، ملک فارس اور روم کہاں محمد ﷺ کے پاس آسکتے ہیں وہ ان سے کہیں زیادہ عزت والے اور طاقتور ہیں، کیا محمد ﷺ کے لئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کافی نہیں ہوا کہ یہ ملک فارس اور روم کا طمع کر رہے ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (1) (اسباب النزول الواحدی صفحہ 63)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے اس قول میں باطل نظریہ کو مٹانے کے لئے نازل ہوئی : ” بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) ہی خدا ہیں “ اور وہ اس طرح کہ یہ اوصاف ہر صحیح الفطرت آدمی کے لئے یہ واضح اور ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے کوئی شے نہیں ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 416 دارالکتب العلمیہ) ابن اسحاق نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے عناد اور ان کے کفر کے بارے آگاہ کیا ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات اور معجزات عطا فرمائے ہیں جو ان کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں مثلا مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ ان اشیاء میں منفرد اور یکتا ہے، ارشاد گرامی ہے : تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآء وتعزمن تشآء وتذل من تشآء “۔ مزید فرمایا : ” تولج الیل فی النھار وتولج النھار فی اللیل، وتخرج الحی من المیت وتخرج المیت من الحی، وترزق من تشآء بغیر حساب ،: پس اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) الہ ہوتے تو یہ اختیار ان کے پاس بھی ہوتا، پس اس میں یہی قیاس ہے اور یہی واضح نشانی ہے۔
قولہ تعالیٰ : قل اللھم “۔ علمائے نحو نے لفظ اللھم کی ترکیب میں اختلاف کیا ہے لیکن انکا اس پر اجماع ہے کہ اس میں ھا مضموم ہے اور میم مفتوح مشدد ہے اور یہ منادی ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) اور اعشی کے قول میں میم مخفف بھی مذکور ہے۔
کدعوۃ من ابی رباح یسمعھا اللھم الکبار۔
جیسا کہ ابو رباح کی دعا اسے انتہائی عظمت وشان والا معبود حقیقی سن رہا ہے۔
خلیل، سیبویہ اور تمام بصریوں نے کہا ہے : اللھم کی اصل یا اللہ ہے پس جب کلمہ کو حرف نداء یا کے بغیر استعمال کیا گیا تو انہوں نے اس کا بدل میم مشدد کو بنادیا پس وہ دو حروف لائے اور وہ دو میمیں ہیں دو حرفوں کے عوض اور وہ دونوں یا اور الف ہیں۔ اور ھا پر ضمہ پر اسم منادی مفرد کا ضمہ ہے، اور امام فراء اور علمائے کوفہ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اللھم میں اصل یا اللہ امنا بخیر، پھر اسے حذف کردیا گیا اور دو کلموں کو ملا دیا گیا اور ھا پر ضمہ یہ وہی ضمہ ہے جو امنا میں تھا، جب ہمزہ کو حذف کردیا گیا تو حرکت منقتل ہوگئی (4) ۔ (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ)
نحاس نے کہا ہے : بصریوں کے نزدیک یہ بہت بڑی خطا ہے اور اس میں قول وہی ہے جو امام خلیل اور سیبویہ نے کیا ہے۔ زجاج نے کہا ہے : یہ محال ہے کہ وہ ضمہ چھوڑ دیا جائے تو ندا مفرد پر دلیل ہے اور یہ کہ لفظ اللہ میں ام کا ضمہ رکھا جائے یہ تو اللہ تعالیٰ کے اسم میں الحاد ہے، ابن عطیہ (رح) نے کہا ہے : یہ زجاج کی طرف سے انتہائی غلو اور زیادتی ہے (5) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) اور انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی یا اللہ ام نہیں سنا۔ اور نہ ہی عرب یہ کہتے ہیں : یا اللھم، اور کو فیوں نے کہا ہے : بلاشبہ کبھی کبھی حرف ندا ” اللھم “ پر داخل ہوجاتا ہے اور اس پر انہوں نے راجز کا یہ قول بیان کیا ہے، غفرت اوعذبت یا اللھما (اے اللہ ! تو بخش دے یا تو عذاب دے)
اور ایک دوسرے نے کہا ہے :
وما علیک ان تقولی کلما سبحت او ھللت یا اللھم ما۔
تجھ پر لازم نہیں کہ جب بھی تو سبحان اللہ یا الا الہ الا اللہ “ کہے تو کہے یا اللھم ما (اے اللہ ! )
اردد علینا شیخنا مسلما فاننا من خیرہ لن نعدما “ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ)
توہم پر ہمارے شیخ کو صحیح سالم لوٹا دے پس ہمیں ان کی خیر و برکت سے ہر گز محروم نہ کیا جائے۔
کسی اور نے کہا :
انی اذا ما حدث الما اقول یا اللھم یا اللھما “۔
بلاشبہ جب کوئی تکلیف دہ واقعہ پیش آتا ہے تو میں کہتا ہوں اے اللہ ! اللہ !
انہوں نے کہا ہے : اگر میم حرف ندا کا عوض ہوتی تو یہ دونوں جمع نہ ہوتے۔
زجاج نے کہا ہے : یہ شاذ ہے اور اس کا قائل معروف نہیں اور اسے چھوڑا نہیں جاسکتا ہے جو کتاب اللہ ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) اور یہ تمام دیوان العرب میں ہے اور اسی کی مثل اس قول میں بھی وارد ہے۔
ھما نفثا فی فی من فمویھما علی النابح العادی اشد رجام
کوفیوں نے کہا ہے : بلاشبہ فم اور ابنم میں میم مخفف کا اضافہ کیا جاتا ہے لیکن میم مشدد کا اضافہ نہیں کیا جاتا (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) اور بعض نحویوں نے کہا ہے جو کچھ کو فیوں نے کہا ہے وہ خطا اور غلطی ہے، کیونکہ اگر اس طرح ہوتا جیسے انہوں نے کہا ہے تو پھر یہ کہا جانا واجب اور ضرروی ہے : اللھم اور اسی پر اقتصار کیا جائے کیونکہ اگر اس کے ساتھ دعا ہے۔ اور یہ بھی کہ آپ کہتے ہیں : انت اللھم الرزاق “۔ پس اگر اس طرح ہو جیسے انہوں نے دعوی کیا ہے تو تو نے مبتدا اور خبر کے درمیان دو جملوں کے ساتھ فاصلہ کردیا۔ نضر بن شمیل نے کہا ہے : جس نے اللہم کہا تحقیق اس نے اللہ تعالیٰ کو اس کے جمیع اسماء کے ساتھ پکارا۔ اور حسن نے کہا ہے : اللہم دعا کو جامع ہوتا ہے (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ)
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ملک الملک “۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اللہ عزوجل سے عرض کی کہ وہ آپ کی امت کو ملک فارس عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (5) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 445) اور مقاتل نے کہا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے ملک فارس اور روم آپ کی امت کو عطا فرما دے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگیں، اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اور ملک “ سیبویہ کے نزدیک منصوب ہے اس بنا پر کہ یہ ندا ثانی ہے، اور اسی کی مثل یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” قل اللھم فاطر السموات والارض “۔ اور ان کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ اسے اللہم کی صفت بنایا جائے کیونکہ اس کے ساتھ میم ملی ہوئی ہے، اور محمد بن یزید اور ابراہیم بن سری الزجاج نے ان سے اختلاف کیا ہے اور دونوں نے کہا ہے : مالک ” ترکیب میں اسم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اسی طرح (آیت) ” فاطر السموات والارض “ میں ہے۔ ابو علی (رح) نے کہا ہے : یہی ابو العباس المبرد (رح) کا مذہب ہے اور جو سیبویہ نے کہا ہے وہ زیادہ صحیح اور زیادہ واضح ہے۔ اور وہ اس لئے کہ اسماء موصوفہ میں اللہم کی طرز پر کوئی شے نہیں ہے کیونکہ یہ اسم مفرد ہے اور اس کے ساتھ (اسم) صوت کو ملایا گیا ہے اور اصوات کی صفت نہیں لگائی جاتی، جیسا غاق اور اس کے مشابہ الفاظ۔ اور اسم مفرد کا حکم یہ ہے کہ اس کی صفت نہ لگائی جائے اگرچہ علمائے (نحو) نے کئی مقامات پر اس کی صفت لگائی ہے، اور جب یہاں وہ اسم ملا دیا گیا جس کی صفت نہیں لگائی جاتی تو پھر قیاس یہی ہے کہ صفت نہ لگائی جائے کیونکہ یہ صوت کے ساتھ ملنے کے سبب صوت کی طرح ہوگیا ہے، جیسا کہ حیھل پس اس کی صفت نہیں لگائی گئی (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) اور الملک یہاں مراد نبوت ہے (2) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 8) یہ حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد غلبہ ہے اور یہ بھی ہے کہ مراد مال اور غلام وغیرہ ہیں (3) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 8) زجاج نے کہا ہے : معنی ہے (اے) بندوں کے مالک اور اس (شے) کے مالک جس کے وہ مالک ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : معنی ہے اے دنیا اور آخرت کے مالک (4) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 8) اور (آیت) ” تؤتی الملک “۔ کا معنی ہے : تو ایمان اور اسلام عطا کرتا ہے۔ (آیت) ” من تشآء “ یعنی جسے تو چاہتا ہے کہ تو اسے وہ عطا فرمائے اور اسی طرح اس کا مابعد بھی ہے، اور اس میں محذوف (کلام) مقدر ماننا ضروری ہے، یعنی (آیت) ” وتنزع الملک ممن تشآء “۔ ان تنزعہ منہ، پھر اسے حذف کردیا گیا۔
اور سیبویہ نے شعر کہا ہے :
الاھل لھذا الدھر من متعلل علی الناس مھما شاء بالناس یفعل۔
زجاج نے کہا ہے : (اس میں اصل عبارت اس طرح ہے) مھما شاء ان یفعل بالناس یفعل (جب وہ لوگوں کے ساتھ کچھ کرنا چاہے تو وہ کردیتا ہے) اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” وتعزمن تشآء “ کہا جاتا ہے : عز کا معنی ہے جب وہ بلند ہو اور غالب ہو۔ اور اسی سے ہے عزنی فی الخطاب (وہ خطاب میں مجھ پر غالب آگیا) (آیت) ” وتذل من تشآء “ ذل یذل ذلا (جب وہ غالب آئے اور مسلط ہوجائے)
طرفہ نے کہا ہے :
یطی عن الجلی سریع الی الخنا ذلیل باجماع الرجال ملھد :
(آیت) ” بیدک الخیر “ یعنی تیرے ہی قبضے میں ہے خیر اور شر اور اسے (یعنی شر کو) حذف کردیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” سرابیل تقیکم الحر “۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : خیر کو اس لئے خاص کیا گیا ہے کیونکہ یہ دعا اور اس کے فضل میں رغبت رکھنے کا محل ہے، نقاش نے کہا ہے : (آیت) ” بیدک الخیر “۔ کا مفہوم ہے مددونصرت اور غنیمت تیرے قبضہ میں ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) اور اہل الاشارات نے کہا ہے : ابو جہل بہت زیادہ مال پر ملکیت رکھتا تھا اور وہ عزوہ بدر کے دن کنوئیں میں گرگیا ، اور حضرت صہیب، حضرت بلال اور حضرت خباب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین فقراء تھے ان کے پاس کوئی مال نہ تھا اور ان کی ملکیت ایمان تھا۔ (آیت) ” قل اللھم ملک الملک تؤتی الملک من تشآء “۔ تو ابو طالب کے یتیم رسول اللہ ﷺ کو کھڑا کرتا ہے کنوئیں کے کنارے پر، یہاں تک کہ وہ ان ابدان کو ندا دیتا ہے جو کنوئیں میں پھینک دیئے گئے ہیں : اے عتبہ، اے شبیہ، تو جسے چاہتا ہے عزت اور غلبہ عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے، اے صہیب، اے بلال تم یہ اعتقاد رکھو کہ ہم نے تمہیں تمہارے بغض کے سبب دنیا سے روک دیا ہے بیدک الخیر “ عجز میں سے کوئی شے تمہارے لئے روکاٹ نہیں۔ (آیت) ” انک علی کل شیء قدیر “۔ حق کا انعام عام ہے وہ جسے چاہتا ہے والی بنا دیتا۔
Ayah 3:27آیت نمبر : 27۔
حضرت ابن عباس، مجاہد، حسن، قتادہ، اور سدی رحمۃ اللہ علہیم نے ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” تولج الیل فی النھار “۔ کے معنی میں بیان کیا ہے کہ تو دونوں (رات اور دن) میں سے ایک کی کمی کو دوسرے میں داخل کردیتا ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ) یہاں تک کہ دن پندرہ ساعت کا ہوجاتا ہے اور وہ طویل ترین دن ہوتا ہے اور رات نو ساعت کی ہوجاتی ہے اور وہ چھوٹی ترین رات ہوتی ہے، اور اسی طرح (آیت) ” تولج الیل فی النھار “۔ کا معنی بھی ہے۔ اور یہ کلبی کا قول ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے اور آیت کے الفاظ یہ احتمال بھی رکھتے ہیں کہ اس میں رات اور دن کا ایک دوسرے کے پیچھے آنا داخل ہو اور ان میں سے ایک کا زوال دوسرے میں داخل ہونا ہو (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 417 دارالکتب العلمیہ)
اور ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” وتخرج الحی من المیت “۔ کے معنی میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے، پس حسن (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تو مومن کو کافر سے اور کافر کو مومن سے نکالتا ہے، اسی طرح حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے، اور معمر نے حضرت زہری (رح) سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ اپنی عورتوں کے پاس تشریف لے گئے تو وہاں ایک حسین و جمیل عورت موجود تھی، آپ ﷺ نے پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ تو انہوں نے عرض کی : یہ آپ کی خالاؤں میں سے ایک ہے، آپ نے پھر ارشاد فرمایا : ” یہ کون ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : یہ خالدہ بنت اسود بن عبد یغوث ہے، تب حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : سبحان الذی یخرج الحی من المیت “ (پاک ہے وہ ذات جو زندہ کو مردہ سے نکالتی ہے) وہ عورت نیک اور صالحہ تھی اور اس کا باپ کافر تھا، تو اس قول کی بنا پر مراد یہ ہے کہ کافر کا دل مردہ ہے اور مومن کا دل زندہ ہے، پس موت اور حیات دونوں مستعار ہیں۔ اور اکثر علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ آیت میں حیات اور موت دونوں حقیقت ہیں، اور حضرت عکرمہ نے کہا ہے کہ اس سے مراد مرغی کو انڈے سے نکالنا ہے اس میں مرغی زندہ ہے اور انڈا مردہ ہے اور انڈا جو کہ مردہ ہے اسے مرغی سے نکالتا ہے جو کہ زندہ ہے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : مراد نطفہ ہے جو آدمی سے خارج ہوتا ہے اور اس میں نطفہ مردہ ہے اور آدمی زندہ ہے اور آدمی نطفہ سے زندہ نکلتا ہے حالانکہ نطفہ مردہ ہے۔
اور حضرت عکرمہ اور سدی (رح) نے کہا ہے : مراد دانہ ہے جو بالی سے نکلتا ہے اور بالی دانے سے نکلتی ہے اور گٹھلی کھجور سے نکلتی ہے اور کھجور گٹھلی سے نکلتی ہے اور کھجور اور بالی میں حیات تشبیہا موجود ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 418 دارالکتب العلمیہ) پھر فرمایا : (آیت) ” وترزق من تشآء بغیر حساب “۔ گویا کہ وہ جو کچھ عطا کرتا
ہے اس کا حساب نہیں لے گا۔
Ayah 3:28آیت نمبر : 28۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومنین کو منع فرمایا ہے کہ وہ کفار کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں اور انہیں دوست بنائیں، اور اسی کی مثل یہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ (2) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 9) اور وہاں اس معنی کا بیان آ رہا ہے۔ اور (آیت) ” فلیس من اللہ فی شیئ “۔ کا معنی ہے پس وہ اللہ کے گروہ میں سے نہیں ہے اور نہ ہی اس کے دوستوں میں سے ہے۔ (یعنی فلیس من حزب اللہ ولا من اولیاہ فی شیء) اور یہ واسأل القریۃ کی مثل ہے، سیبویہ نے بیان کیا ہے ھو فی فرسخین، یعنی وہ میرے اور میرے ساتھیوں سے دو فرسخ پر ہے۔ (ای من اصحابی ومعی) پھر استثناء کی اور وہ یہ ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) اور فرمایا : (آیت) ” الا ان تتقوا منھم تقۃ “۔ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت مجاہد رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے فرمایا : تقیہ (بچاؤ) ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کے قوی اور طاقتور ہونے سے پہلے پہلے تھا، پس آج اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ اور قوت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے بچیں اور احتیاط برتیں، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ (تقیہ) یہ ہے کہ آدمی زبان سے قول کرے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو، تو نہ وہ قتل کیا جائے گا اور نہ وہ گناہ کا مرتکب ہوگا، اور حسن نے کہا ہے : تقیہ (اپنا بچاؤ کرنا) قیامت کے دن تک آدمی کے لئے جائز ہے اور قتل میں کوئی تقیہ نہیں ہے۔
حضرت جابر بن زید، مجاہد اور ضحاک رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : (آیت) ” الا ان تتقوا منھم تقۃ “۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : مومن جب کفار کے درمیان موجود ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ انہیں زبان کے ساتھ دھوکہ دیتا رہے جب اسے اپنی ذات پر خوف ہے اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔ اور تقیہ حلال نہیں ہوتا مگر تب جب قتل کا خوف ہو یا اعضائے بدن کٹنے کا خوف ہو یا انتہائی شدید اذیت پہنچنے کا خطرہ ہو، اور جسے کفر پر مجبور کیا گیا تو اس کے لئے صحیح یہ ہے کہ وہ سولی چڑھ جائے اور کفریہ کلمات زبان پر نہ لائے (یعنی اس پر کلمہ کفر کہنا واجب نہیں ہے) بلکہ اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے، اس کی تفصیل سورة النحل میں آئے گی ان شاء اللہ، حمزہ اور کسائی نے تقاۃ میں امالہ کیا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 419 دارالکتب العلمیہ) اور باقیوں نے اسے پر پڑھا ہے، اور تقاۃ اصل میں وقیۃ بروزن فعلۃ ہے جیسا کہ تودۃ اور تھمۃ ہیں پھر واؤ کو تا سے اور یا کو الف سے بدل دیا گیا ہے۔
حضرت ضحاک (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، وہ بدری اور متقی صحابی تھے اور ان کا یہود کے ساتھ معاہدہ تھا، پس جب حضور نبی کریم ﷺ غزوہ احزاب کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت عبادہ ؓ نے عرض کی : یا نبی اللہ ﷺ بلاشبہ میرے ساتھ یہود کے پانچ سو آدمی ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ میرے ساتھ نکلیں، تو ہم ان کے سبب دشمن پر غالب آسکیں گے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیآء من دون المؤمنین “۔ الآیہ (2) (اسباب النزول للواحدی جلد 1 صفحہ 88)
اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت حضرت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے وہ بعض گفتگو کی جس کا مشرکین نے ان سے ارادہ کیا، اس کا بیان سورة النحل میں آئے گا۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویحذرکم اللہ نفسہ “۔ زجاج نے کہا ہے : ای ویحذرکم اللہ ایاہ اور اللہ تعالیٰ ہی تمہیں ڈراتا ہے، پھر تم اس سے (یعنی ایاہ سے) اس کے سبب (یعنی نفسہ کے سبب) مستغنی ہوگئے اور وہ مستعمل ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تعلم مافی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک “۔ پس اس کا معنی ہے تو جانتا ہے جو کچھ میرے پاس ہے اور جو میری حقیقت ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ تیرے پاس ہے اور نہ وہ جو تیری حقیقت ہے۔ کسی دوسرے نے کہا : معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی سزا سے ڈراتا ہے۔ (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 420 دارالکتب العلمیہ) (لہذا) یہ واسال القریۃ کی مثل ہے اور فرمایا : تعلم مافی نفسی “ تو میری غیب اور چھپی ہوئی شی کو جانتا ہے، اور النفس کو ضمیر کی جگہ پر رکھا گیا ہے کیونکہ اضمار نفس میں ہی ہوتا ہے۔ (آیت) ” والی اللہ المصیر “۔ ای والی جزاء اللہ، المصیر “۔ اور اللہ تعالیٰ کی جزا کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے، اس میں دوبارہ زندہ کئے جانے کا اقرار ہے۔
Ayah 3:29آیت نمبر : 29۔
پس وہ سینوں میں مخفی اور چھپی چیزوں کو اور ان تمام کو جن پر وہ مشتمل ہیں جاننے والا ہے اور ان تمام کے بارے جاننے والا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور انہیں جاننے والا ہے جنہیں یہ گھیرے ہوئے ہیں، وہ اعلام الغیوب ہے اس سے ذرہ برابر کوئی شے پوشیدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی شے غائب ہے اس کی ذات پاک ہے۔ (آیت) ’ لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ “۔
Ayah 3:30آیت نمبر : 30۔
یوم منصوب ہے اور اس ارشاد کے ساتھ متصل ہے : (آیت) ” ویحذرکم اللہ نفسہ “۔ یوم تجد اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس قول کے ساتھ متصل ہے : (آیت) ” والی اللہ المصیر “ (آیت) ” یوم تجد “۔ اور یہ قول بھی ہے کہ یہ اس قول کے ساتھ متصل ہے (آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (آیت) ” یوم تجد “۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ منقطع ہو (یعنی مذکورہ ارشادات میں سے کسی کے ساتھ یہ متصل نہ ہو) اس بنا پر کہ اس سے پہلے اذکر فعل مضمر ہو اور اسی کی مثل یہ ارشاد بھی ہے : ان اللہ عزیز ذوا نتقام، یوم تبدل الارض “۔
اور محضرا ما کے صلہ میں ضمیر محذوف سے حال ہے، تقدیر کلام یہ ہے ” یوم تجد کل نفس ما عملتہ من خیر محضرا “ اور یہ اس بنا پے کہ تجد، وجدان الضالۃ (گمشدہ کو پانا) سے ماخوذ ہو، اور (آیت) ” وما عملت من سوء “۔ میں ماپہلے ما پر معطوف ہو۔ اور تود دوسرے ما سے حال ہونے کے محل میں ہے، اور اگر تجد کو بمعنی تعلم بنایا جائے اتو پھر محضرا مفعول ثانی ہے اور اسی طرح تود بھی دوسرے مفعول کے محل میں ہوگا، تقدیر عبارت یہ ہوگا، یوم تجد کل نفس جزاء ما عملت محضرا اور یہ بھی جائز ہے کہ دوسرا ما مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو، اور تود بھی مبتدا کی خبر ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہو، اور یہ صحیح نہیں ہے کہ مابمعنی جزا ہو، کیونکہ تود مرفوع ہے، اور اگر یہ ماضی ہوتا تو اس کا جزا ہونا جائز ہوتا اور کلام کا معنی اس طرح ہوتا : وما عملت من سؤ ودت لو ان بینھا وبینہ امد بعیدا “۔ (اور جو کچھ برائی اس نے کی تھی وہ تمنا کرتا ہے کاش اس کے درمیان اور اس دن کے درمیان مدت دراز حائل ہوجاتی) یعنی جیسا کہ مشرق ومغرب کے درمیان بعد ہے، اور جب ما کو شرطیہ بنایا جائے تو فعل مضارع مجزوم ہوتا ہے مگر یہ کہ تو اسے حذف فا پر محمول کرے اور تقدیر کلام یہ ہو : وما عملت من سوفھی تود۔ ابو علی نے کہا ہے : میرے نزدیک فراء کے قول کا یہی قیاس ہے، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” وان اطعتموھم انکم لمشرکون “ میں کہا ہے کہ یہ حذف فا کی بنا پر ہے۔ اور الامد کا معنی غایت (انتہا) ہے اور اس کی جمع اماد ہے، اور کہا جاتا ہے، استولی علی الامد، ای غالب سابقا، وہ سبقت لیتے ہوئے غالب آگیا۔ جیسا کہ نابغہ نے کہا ہے :
الا لمثلک او من انت سابقہ سبق الجواد اذا استولی علی الامد (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 421 دارالکتب العلمیہ) اور الامد کا معنی غضب بھی ہے، کہا جاتا ہے امد امدا۔ اذا غضب غضبا یعنی جب وہ شدید غصے ہوجائے تو یہ جملہ کہا جاتا ہے۔
Ayah 3:31آیت نمبر : 31۔
الحب کا معنی ہے محبت اور اسی طرح الحب بالکسر بھی ہے اور الحب بمعنی الحبیب بھی ہے جیسا کہ الخدن اور الخدین (دوست) ہے، کہا جاتا ہے، احبہ فھو محب اور حبۃ یحبہ (بالکسر) فھو محبوب (یعنی پہلا محبت کرنے والا اور دوسرا جس سے محبت کی جائے) جوہری نے کہا ہے : یہ شاذ ہے، کیونکہ مصاعف میں یفعل بالکسر نہیں آتا۔
ابو الفتح نے کہا ہے : اس میں حبب ہے جیسا کہ ظرف پھر با کو ساکن کیا گیا اور اسے دوسری با میں مدغم کردیا گیا، ابن الدہان سعید نے کہا ہے : حبب میں دو لغتیں ہیں : حب اور احب اور اس بنا میں حب اصل میں حبب تھا جیسا کہ ظرفہ اس پر ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے، : حببت۔ اور فعل سے صفت کا صیغہ اکثر فعیل کے وزن پر آتا ہے، ابوالفتح نے کہا ہے : اور احب پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : یحبھم ویحبونہ یہ یا کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اور (آیت) ” فاتبعونی یحببکم اللہ “ اور حب فعل کے وزن پر آتا ہے کیونکہ اس کا قول ہے حبب اور فعل کے وزن پر آتا ہے جیسا کہ ان کا قول محبوب ہے : حب معتدی سے اسم فاعل نہیں آتا، پس یہ نہیں کہا جاتا : انا حاب اور فعل سے اسم مفعول بہت کم آتا ہے۔ جیس اس کہ کسی کا قول ہے : منی بمنزلۃ المحب المکرم (میرے نزدیک معزز محبوب کے قائم مقام ہے) اور ابو زید نے بیان کیا ہے : حببتہ احبہ۔
اور شعر بیان کیا :
فو اللہ لو لا تمرۃ ما حببۃ ولا کان ادنی من عویف وھاشم
لعمرک اننی وطلاب مصر لکالمزداد مما حبب بعدا :
اصمعی نے بیان کیا ہے : حرف مضارع کو فتحہ دیا گیا ہے درآنحالیکہ بااکیلی ہے، اور الحب الحابیہ فارسی سے عربی بنایا گیا ہے۔ اور اس کی جمع حباب اور حببۃ آتی ہے، اسے جوہری نے بیان کیا ہے، اور یہ آیت وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی، جب انہوں نے یہ گمان کیا کہ انہوں نے جو کچھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں دعوی کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں ہے، محمد بن جعفر بن زبیر نے یہی کہا ہے (2) (اسباب النزول للواحدی، جلد 1، صفحہ 66)
اور حسن اور ابن جریج نے بیان کیا ہے : یہ آیت اہل کتاب کی ایک جماعت کے بارے نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا : نحن الذین نحب ربنا۔ (1) (اسباب النزول للواحدی، جلد 1، صفحہ 66) ہم وہ ہیں جو اپنے رب سے محبت کرتے ہیں۔
اور روایت ہے کہ مسلمانوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ واللہ انا لنحب ربنا قسم بخدا ! ہم اپنے رب سے محبت کرتے ہیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی “۔ (2) (جامع البیان للبطری، جلد 4، صفحہ 272) ابن عرفہ نے کہا ہے : عربوں کے نزدیک محبۃ کا معنی ہے ” ارادۃ الشیء علی قصدلہ “ کسی شے کا قصد کرتے ہوئے اس کا ارادہ کرنا، اور ازہری نے کہا ہے : بندے کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کا معنی اس کا ان دونوں کی اطاعت کرنا اور ان کے حکم کی اتباع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی “۔ اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے ساتھ محبت کا معنی اس کا ان پر غفران اور بخشش کے ساتھ انعام فرمانا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” ان اللہ لا یحب الکافرین “۔ یعنی وہ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا۔
اور سہل بن عبداللہ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ کی محبت کی علامت قرآن کی محبت ہے اور قرآن کریم کی محبت کی علامت حضور نبی مکرم ﷺ کی محبت ہے اور حضور نبی کریم ﷺ کی محبت کی علامت سنت کی محبت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور قرآن کی محبت اور حضور نبی مکرم ﷺ کی محبت اور سنت کی محبت کی علامت آخرت کی محبت ہے اور آخرت کی محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے محبت کرے اور اپنے نفس سے محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ دنیا سے مغض رکھے اور دنیا کے بغض کی علامت یہ ہے کہ وہ اس سے صرف زاد راہ اور گزارے کی مقدار حاصل کرے۔
حضرت ابو الدرداء ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے قول باری تعالیٰ (آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ “ کے بارے میں روایت کیا ہے فرمایا :”(کہ تم میری اتباع کرو) نیکی، تقوی، تواضع اور ذلۃ النفس میں “ اسے ابو عبداللہ ترمذی (رح) نے نقل کیا ہے (3) (نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول قل ان کنتم تحبون صفحہ 199) اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : من اراد ان یحبہ اللہ فعلیہ بصدق الحدیث واداء الامانۃ والایؤذی جارہ۔
جو یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے تو اس پر لازم ہے کہ وہ سچ بولے، امانت ادا کرے اور یہ کہ وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے، اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرمانے لگتا ہے تو وہ جبریل امین (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے : بلاشبہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ (4) (صحیح بخاری ذکر الملائکۃ، حدیث نمبر 2970، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پس حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) بھی اس سے محبت فرمانے لگتا ہے : پھر وہ آسمان میں ندا دیتا ہے اور کہتا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے سو تم بھی اس سے محبت کرو تو پھر اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں فرمایا پھر اسے زمین میں قبول عام عطا فرما دیا جاتا ہے اور جب وہ کسی بندے کو مبغوض جانے تو جبرئیل امین (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے : بلاشبہ میں فلاں کو ناپسند کرتا ہوں پس تو بھی اسے ناپسند کر پھر جبرئیل امین (علیہ السلام) بھی اسے ناپسند کرتے ہیں پھر آسمان کے باسیوں میں اعلان کردیتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ فلاں کو ناپسند کرتا ہے تو تم بھی اسے مبغوض جانو۔۔۔۔ فرمایا۔۔۔۔ پس وہ بھی اسے مبغوض جانتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، جلد صفحہ 331) اس کے بارے مزید بیان سورة مریم کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
ابو رجا العطاردی نے (آیت) ” فاتبعونی “۔ باکو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ویغفرلکم کا عطف ” یحببکم “ پر کیا ہے، اور محبوب نے ابو عمرو بن علاء سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے یغفر کی را کو لکم کی لام میں مدغم کردیا ہے، نحاس نے کہا ہے : امام خلیل اور سیبویہ را کو ادغام کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور ابو عمرو نے اس طرح کی غلطی کرنے سے صرف نظر کیا ہے
شاید وہ حرکت کو مخفی کردیتے ہیں جیسا کہ وہ کثیر اشیاء میں ایسا کرتے ہیں۔
Ayah 3:32آیت نمبر : 32۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” قل اطیعوا اللہ والرسول “۔ اس کا بیان سورة النساء میں آئے گا۔
(آیت) ’ فان تولوا “۔ یہ شرط ہے، مگر چونکہ یہ ماضی ہے اسے اعراب نہیں دیا جاسکتا (یعنی یہ معرب نہیں ہے) اور تقدیر کلام یہ ہے فان تولوا علی کفرھم واعرضوا عن طاعۃ اللہ ورسولہ “۔ (اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم ﷺ کی اطاعت سے اعراض کرلیں) (آیت) ” فان اللہ لا یحب الکفرین “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے فعل کو پسند نہیں کرتا اور وہ ان کی مغفرت نہیں فرمائے گا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، اور فرمایا : فان اللہ “ یہ نہیں کہا : فانہ کیونکہ عرب جب کسی شے کی عظمت بیان کرتے تو اس کے ذکر کا اعادہ کرتے ہیں۔
جیسا کہ سبیویہ کے اس شعر میں ہے :
لا اری الموت یسبق الموت شیء نغص الموت ذا الغنی والفقیرا :
میں موت کو نہیں پاتا کہ کوئی شے موت سے سبقت لے جاسکتی ہے موت نے خوشحال اور فقیر آدمی کی زندگی کو مکدر اور بدمزہ کردیا ہے۔
Ayah 3:33آیت نمبر : 33۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ اصطفی ادم ونوحا “۔ اصطفی بمعنی اختیار ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے چن لیا، سورة البقرہ میں اس کا ذکر گزر چکا ہے، اسی طرح آدم کا مادہ اشتقاق اور آپ کی کنیت کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے اور تقدیر کلام یہ ہے ” ان اللہ اصطفی دینھم “۔ بیشک اللہ تعالیٰنے ان کا دین چن لیا اور وہ دین، دین اسلام ہے، سو مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔
اور زجاج نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے زمانے کے رہنے والوں پر نبوت کے لئے چن لیا اور ” ونوحا “ کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ ناح ینوح سے مشتق ہے اور یہ عجمی اسم ہے مگر یہ منصرف ہے کیونکہ یہ سہ حرفی ہے (اور اس کا درمیان والا حرف ساکن ہے) اور آپ مرسلین کے شیخ ہیں اور آپ ہی پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد اہل زمین کی طرف مبعوث فرمایا اور ساتھ ہی بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں اور تمام قرابت رکھنے والی عورتیں حرام قرار دیں، اور جس کسی نے یہ کہا ہے کہ بعض مؤرخین کے نزدیک حضرت ادریس (علیہ السلام) آپ سے پہلے تھے، اسے وہم ہی ہے اس کا بیان سورة الاعراف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وال ابرھیم وال عمرن علی العلمین “۔ ال کا معنی اور جس پر اس کا اطلاق کیا جاسکتا ہے مکمل طور پر اس کا بیان سورة البقرہ میں ہوچکا ہے، اور بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : آل ابراہیم اور آل عمران سے مراد وہ مومنین ہیں جو آل ابراہیم، آل عمران، آل یاسین، اور آل محمد ﷺ میں سے مومینن ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” ان اولی الناس بابرھیم للذین اتبعوہ وھذا النبی والذین امنوا، واللہ ولی المؤمنین “۔ (1) (آل عمران)
ترجمہ : بیشک نزدیک تر لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سے وہ تھے جنہوں نے ان کی پیروی کی نیز یہ نبی (کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو (اس نبی پر) ایمان لائے اللہ تعالیٰ مددگار ہے مومنوں کا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل ابراہیم سے مراد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہے اور یہ کہ حضور نبی رحمت ﷺ بھی آل ابراہیم میں سے ہیں (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 452) اور یہ قول بھی ہے کہ آل براہیم سے مراد ان کی اپنی ذات ہے، اور اسی طرح آل عمران ہے، اس کے بارے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وبقیۃ مما ترک ال موسیٰ وال ھرون “۔ (البقرہ : 248)
ترجمہ : اور (اس میں) بچی ہوئی چیزیں ہوں گی جنہیں چھوڑ گئی ہے اولاد موسیٰ اور اولاد ہارون (3) (صحیح بخاری، فضائل القرآن، جلد 2، صفحہ 755، )
اور حدیث میں ہے : ” مجھے آل داؤد کی دعاؤں میں سے ایک دعا عطا کی گئی “۔ (4) (صحیح بخاری، باب حسن الصوت باالقرائۃ للقران، حدیث 4660، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور شاعر نے کہا ہے :
ولا تبک میتا بعد میت احبہ علی وعباس وال ابی بکر (5) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 423 دارالکتب العلمیہ)
اور تو نہ رو کسی میت پر اپنے سب سے زیادہ محبت کرنے والوں کے مرنے کے بعد یعنی حضرت علی ؓ ، حضرت عباس ؓ ، اور آل ابی بکر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس میں آل ابی بکر سے مراد ان کی ذات ہے۔
اور ایک دوسرے شاعر نے کہا ہے :
یلاتی من تذکر ال لیلی کما یلقی التسلیم من العداد :
اس میں تذکر آل لیلی سے مراد اس کی ذات ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل عمران ہی آل ابراہیم ہے۔
جیسا کہ فرمایا (آیت) ” ذریۃ بعضھا من بعض “۔ اور یہ قول بھی ہے کہ مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں، کیونکہ آپ کی والدہ عمران کی بیٹی ہے اور یہ قول بھی ہے : ان کی اپنی ذات مراد ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، مقاتل نے کہا ہے : وہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے باپ ہیں اور وہ عمران بن یصہر فاھاث بن لاوی بن یعقوب ہیں۔ (1) (معالم التنزیل جلد 1، صفحہ 453)
اور کلبی نے کہا ہے : وہ مریم باپ عمران ہیں اور وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ اور سہیلی نے بیان کیا ہے : وہ عمران ابن ماتان ہیں اور ان کی بیوی حنہ (بالنون) ہے، انبیاء (علیہم السلام) میں سے خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے، کیونکہ تمام کے تمام انبیاء ورسل (علیہم السلام) انہیں کی نسل میں سے ہیں، اور عمران غیر منصرف ہے کیونکہ اس کے آخر میں الف نون زائدتان ہے۔ اور قولہ تعالیٰ (آیت) ” علی العلمین “۔ کا معنی ہے علی عالمی زمانھم “۔ (یعنی انہیں اپنے زمانے کے باسیوں پر چن لیا) یہ اہل تفسیر کے قول کے مطابق ہے اور ترمذی حکیم ابو عبداللہ محمد بن علی نے کہا ہے : جمیع الخلق کلھم یعنی تمام مخلوق پر۔
اور کہا گیا ہے : (آیت) ” علی العلمین “۔ صور پھونکنے کے دن تمام مخلوق پر (انہیں چن لیا) اور یہ اس لئے کہ یہ رسل اور انبیاء (علیہم السلام) تھے اور یہی مخلوق میں چنے ہوئے تھے۔
اور رہے حضور نبی رحمت محمد مصفطی ﷺ تو آپ کا مرتبہ (مقام) اصطفاء سے کہیں بلند ہے کیونکہ آپ تو اللہ تعالیٰ کے حبیب اور رحمت ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین “۔ (الانبیائ) پس اور رسول (علیہم السلام) رحمت کے لئے پیدا کئے گئے اور حضرت محمد ﷺ کی ذات کو سراپا رحمت تخلیق فرمایا گیا، اسی لئے آپ مخلوق کے لئے امان بن گئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا تو مخلوق یوم قیامت تک عذاب سے محفوظ ومامون ہوگئی، اور بقیہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اس مقام پر فائز نہ ہوئے، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا ” انا رحمۃ مھداۃ (2) (شعب الا ایمان، کتاب حب النبی ﷺ جلد 2 صفحہ 164، حدیث نمبر 1446) آپ خبر دے رہے ہیں کہ آپ کی ذات اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کے لئے رحمت ہے۔ اور آپ کا قول مھداۃ کا معنی ہے : آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کے لئے ہدیہ اور تحفہ ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کو پانچ چیزوں کے ساتھ چنا، ان میں سے پہلی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نین انہیں اپنے دست قدرت کے ساتھ انتہائی حسین صورت میں تخلیق فرمایا، دوسری یہ ہے کہ انہیں تمام چیزوں کے اسماء سکھادیئے، تیسری یہ ہے کہ ملائکہ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ انہیں سجدہ کریں، چوتھی یہ ہے کہ انہیں جنت میں سکونت عطا فرمائی اور پانچویں یہ ہے کہ انہیں ابو البشر بنایا اور پانچ چیزوں کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا : پہلی یہ کہ آپ کو ابوالبشر بنایا کیونکہ پہلے تمام لوگ غرق کردیئے گئے اور صرف آپ کی ذریت اور اولاد ہی باقی رہی اور دوسری یہ کہ آپکو طویل عمر عطا فرمائی اور کہا جاتا ہے : مبارک اور بشارت ہے اس کے لئے جس کی عمر طویل ہو اور اس کا علم حسین اور اچھا ہو۔ (3) (جامع ترمذی باب ما جاء فی طول العمر للمومن حدیث نمبر 2251، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور تیسری یہ کہ کفار اور مومنین کے بارے میں آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور چوتھی یہ ہے کہ آپ کو کشتی پر اٹھایا اور پانچویں یہ کہ آپ پہلے آدمی تھے جنہوں نے احکام شرعیہ کو منسوخ کیا، آپ سے پہلے خالاؤں اور پھوپھیوں سے شادی کرنا حرام نہ تھا، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی پانچ چیزوں کے ساتھ چنا : پہلی یہ کہ آپ کو ابو الانبیاء بنایا، کیونکہ یہ روایت ہے کہ آپ کے زمانہ سے لے کر حضور نبی مکرم ﷺ کے زمانہ تک آپ کی صلب سے ایک ہزار نبی تشریف لائے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا خلیل بنایا، تیسری یہ کہ آپ کو نار نمرود سے نجات عطا فرمائی (اور اسے آپکے لئے گلزار بنا دیا) اور چوتھی یہ کہ آپ کو لوگوں کا امام بنایا اور پانچویں یہ کہ آپ کو کچھ کلمات کے ساتھ آزمایا اور آپ کو توفیق عطا فرمائی یہاں تک کہ آپ نے انہیں مکمل فرما لیا، (یعنی آپ تمام آزمائشوں میں کامیاب وکامران ہوئے) پھر فرمایا (آیت) ” وال عمرن “۔ اگر عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے والد ہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو عالمین پر چن لیا اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم پر من وسلوی نازل فرمایا اور عالم میں انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی ایک کے لئے بھی ایسا نہیں ہوا، اور اگر عمران حضرت مریم (علیہا السلام) کے باپ ہیں، تو پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مریم کو چن لیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے جنم دیا اور عالم میں کسی کے لئے بھی ایسا نہیں ہوا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:34آیت نمبر : 34۔
(آیت) ” ذریۃ کا معنی اور اس کا مادہ اشتقاق سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور یہاں یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اخفش نے یہی کہا ہے، ای فی حال کون بعضھم من بعض، یعنی اس حال میں کہ وہ بعض بعض سے ہیں، ای ذریۃ بعضھا من ولد بعض یعنی ایک نسل ہے درآنحالیکہ ان میں سے بعض بعض کی اولاد میں سے ہیں کو فیوں نے کہا ہے : بالیقین یہی ہے۔
زجاج نے کہا ہے : یہ بدل ہے ای اصطفی ذریۃ بعضھا من بعض (یعنی اللہ تعالیٰ نے چن لیا ایک نسل کو جن میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں) اور (آیت) بعضھا من بعض “۔ کا معنی ہے یعنی دین میں ایک دوسرے کی مدد کرنے میں (باہم معاون ہیں) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض “۔ یعنی ضلالت وگمراہی میں (وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں) حسن اور قتادہ رحمۃ اللہ علہیم نے یہی کہا ہے (1) (احکام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 10) اور بعض نے کہا ہے : وہ اجتباء اصطفاء اور نبوت میں ایک دوسرے کا بعض ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مرادایک دوسرے کی نسل سے ہونا ہے اور یہ (معنی) سب سے کمزور ہے۔