3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 3:85

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 3:85 in the Quran reader

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہر گر قبول نہیں کیا جائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں ہوگا

آیت نمبر : 85۔ (آیت) ” غیر یبتغ “ فعل کا مفعول ہے اور دینا تفسیر کی بناء پر منصوب ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ دینا یبتغ فعل کے سبب منصوب ہو اور غیر الدین سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔ حضرت مجاہد (رح) اور سدی (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت جلاس بن سوید کے بھائی حارث ابن سوید کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ انصار میں سے تھا وہ اور اس کے ساتھ بارہ افراد دین اسلام سے مرتد ہوگئے اور وہ مکہ میں کفار سے جا ملے تو یہ آیت نازل ہوئی، پھر اس نے اپنے بھائی کی طرف پیغام بھیجا جبکہ وہ توبہ کا طابت ہے حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے یہی مروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اس نے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا، (آیت) ” وھو فی الاخرۃ من الخسرین ‘۔ ہشام نے بیان کیا ہے : یعنی وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ایک زیاں کار ہے، اور اگر ایسا نہ ہو، تو صلہ اور موصول کے درمیان تفریق کی جاتی۔ اور مازنی نے کہا ہے : الخاسرین پر الف لام ایسے ہی ہے جسے الرجل پر ہے اور سورة البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین “۔ کے تحت یہ گزر چکا ہے۔
Ayah 3:86

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:86 in the Quran reader

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہیں ؟ اور انکے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

آیت نمبر : 86۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اسلام قبول کیا پھر وہ مرتد ہوگیا اور مشرکین سے جا ملا، بعد ازاں وہ اپنے کئے پر نادم ہوا تو اس نے اپنی قوم کی طرف پیغام بھیجا تو میرے لئے رسول اللہ ﷺ سے عرض کرو کیا میرے لئے توبہ ہے ؟ تو اس کی قوم رسول اللہ ﷺ کی بارہ گاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی کیا اس کی توبہ (قبول) ہوسکتی ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانھم وشھدوا ان الرسول حق وجآء ھم البینت واللہ لا یھدی القوم الظلمین، اولئک جزآؤھم ان علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس جمعین، خلدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون، الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور رحیم “۔ پس آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے اسلام قبول کرلیا، اسے نسائی نے نقل کیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہوگیا اور مشرکین سے جا ملا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” کیف یھدی اللہ قوما کفروا بعد ایمانھم وشھدوا ان الرسول حق وجآء ھم البینت واللہ لا یھدی القوم الظلمین، اولئک جزآؤھم ان علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس جمعین، خلدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون، الا الذین تابوا “۔ (آل عمران) کیسے ہو سکتا ہے کہ ہدایت دے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ایمان لے آنے کے بعد مگر وہ لوگ جنہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی) پس اس کی قوم نے اسے اس کی طرف بھیج دیا، تو جب اس پر یہ آیت پڑھی گئی تو اس نے کہا : قسم بخدا میری قوم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس مجھے جھٹلایا نہیں اور نہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے بارے میں جھوٹا سمجھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تینوں کو سچا قرار دیا ہے، چناچہ وہ تائب ہو کر واپس لوٹ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے توبہ کو قبول فرما لیا اور اسے چھوڑ دیا، اور حسن نے کہا ہے : یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے بارے میں بشارت دیتے تھے اور کفر کرنے والوں کے خلاف آپ کے وسیلہ سے فتح کی دعا مانگتے تھے، لیکن جب آپ ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے سرکشی کی اور کفر اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” اولئک جزآؤھم ان علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس جمعین “ (آل عمران) ترجمہ : ایسوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر پھٹکار پڑتی رہے اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی۔ پھر کہا گیا ہے : کیف لفظ استفہام ہے اور اس کا معنی انکار ہے۔ یعنی لا یھدی اللہ اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا، اور اسی کی مثل یہ ارشاد بھی ہے : کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ یعنی لایکون لھم عھد (انکے لئے کوئی عہد نہیں ہو سکتا) ۔ اور شاعر نے کہا ہے : کیف نومی سے علی الفراش ولما یشمل القوم غارۃ شعواء : اس میں بھی کیف نومی سے مراد ہے لا نوم لی یعنی میرے لئے کوئی نیند نہیں۔ (آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “ کہا جاتا ہے کہ ظاہر آیت یہ ہے کہ جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر اختیار کیا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دے گا اور جو کوئی ظالم ہوا، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دے گا، حالانکہ ہم نے بہت سے مرتدین کو دیکھا کہ وہ اسلام لائے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی اور کثیر ظالموں کو دیکھا انہوں نے اپنے ظلم سے توبہ کرلی تو اسے کہا جائے گا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نہیں دے گا جب تک وہ اپنے کفر اور اپنے ظلم پر قائم رہے اور انہوں نے اسلام قبول نہ کیا، لیکن جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور توبہ کرلی تو اس کے بارے اللہ تعالیٰ نے ہی انہیں توفیق دی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 3:87–89

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 3:87 in the Quran reader

ان لوگوں کی سزایہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ Open ayah 3:88 in the Quran reader

ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ملہت دی جائے گی

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:89 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کرلی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر : 87 یعنی اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہیں اور لعنۃ اللہ والناس کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ (آیت) ” ولا ھم ینظرون یعنی نہ انہیں موخر کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی پھر اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والوں کی استثناء فرمائی اور ارشاد فرمایا : (آیت) ” الا الذین تابوا “ مراد حارث بن سوید ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے معنوی طور پر آیت میں ہر وہ داخل ہے جس نے اسلام کی طرف رجوع کیا اور اس کے لئے مخلص ہوگیا۔
Ayah 3:90

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ Open ayah 3:90 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

آیت نمبر : 90۔ حضرت قتادہ ؓ عطا خراسانی ؓ اور حسن ؓ نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت عسی (علیہ السلام) اور انجیل کے ساتھ کفر کیا اور پھر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کر کے اپنے کفر میں اور اضافہ کرلیا، اور ابو العالیہ نے کہا ہے، یہ آیت یہود ونصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نعت وصفت کے ساتھ ایمان لانے کے بعد کفر کیا (آیت) ” ثم ازدادوا کفرا “۔ پھر اپنے کفر پر قائم رہ کر انہوں نے اس میں اور اضافہ کرلیا اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” ازدادو اکفرا “۔ وہ کفر میں بڑھتے ہی گئے ان گناہوں کے سبب جو انہوں نے کئے، اور یہ علامہ طبری کا اختیار کردہ ہے، اور یہ آیت ان کے نزدیک یہود کے بارے میں ہے۔ (آیت) ” لن تقبل توبتھم “ یہ اس آیت کی وجہ سے مشکل ہے : (آیت) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ ویعفوا عن السیات “۔ (الشوری : 25) ترجمہ : اور وہی ہے جو توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی اور درگزر کرتا ہے ان کی غلطیوں سے۔ سو یہ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے موت کے وقت انکی توبہ ہر گز قبول نہیں کی جائے گی، نحاس نے کہا ہے : یہ اچھا قول ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات، حتی اذا حضرا احدھم الموت قال انی تبت الئن “۔ (النسائ : 18) ترجمہ : اور نہیں یہ توبہ (جس کے قبول کرنے کا وعدہ ہے) ان لوگوں کے لئے جو کرتے رہتے ہیں برائیاں (ساری عمر) یہاں تک کہ جب آجائے کسی ایک کو ان میں سے موت (تو) کہے بیشک میں توبہ کرتا ہوں اب۔ اور حضرت حسن، قتادہ اور عطا رحمۃ اللہ علہیم سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ” یقینا اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک اس کی جان (روح) حلقوم تک نہ پہنچے (1) (ابن ماجہ، باب ذکر التوبہ، حدیث نمبر 4242، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اس کا بیان سورة النساء میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” لن تقبل توبتھم “ یعنی وہ حالت جس پر وہ کفر کرنے سے پہلے تھے (اس پر نہیں لوٹ سکتے) کیونکہ کفر نے اسے ضائع کردیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے (آیت) ” لن تقبل توبتھم “ یعنی جب وہ اپنے کفر سے دوسرے کفر کی طرف رجوع کریں، بلاشبہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی، جب انہوں نے اسلام کی طرف رجوع کیا، اور قطرب نے کہا ہے : یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے کہا : ہم محمد ﷺ کے بارے میں تکالیف زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں، پس اگر ہمارے لئے واپسی ممکن ہوئی تو ہم اپنی قوم کی طرف لوٹ جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ان الذین کفروا بعد ایمانھم ثم ازدادوا کفرا لن تقبل توبتھم “ یعنی ان کی توبہ ہر گز قبول نہیں کی جائے گی درآنحالیکہ وہ کفر پر مقیم رہیں، پس اسے ہی توبہ غیر مقبولہ کا نام دیا ہے، کیونکہ قوم کا عزم صحیح نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ مکمل طور پر قبول فرماتا ہے بشرطیکہ عزم و ارادہ صحیح ہو۔
Ayah 3:91

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ Open ayah 3:91 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے وہ اگر (نجات) حاصل کرنی چاہیں (اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

آیت نمبر : 91۔ المل، کسرہ کیساتھ ہو تو مراد وہ مقدار ہے جو کسی شے کو بھر دیتی ہے اور المل فتحہ کے ساتھ مصدر ہے تیرا کسی شے کو بھر دینا اور کہا جاتا ہے : اعطنی ملاہ وملایہ وثلاثۃ املایہ۔ اور (آیت) ” ولو افتدی بہ “ میں واؤ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مقحم اور زائدہ ہے، اور معنی یہ ہے (آیت) ” فلن یقبل من احدھم ملء الارض ذھبا ولو افتدی بہ “۔ اور علماء نحو میں سے اہل نظر نے کہا ہے : یہ جائز نہیں ہے کہ واؤ مقحمہ ہو کیونکہ یہ معنی پر دلالت کر رہی ہے، اور آیت کا معنی یہ ہے : سو ان میں سے کسی سے زمین بھر سونا تبرعا قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ اسے بطور فدیہ دے۔ اور (آیت) ” ذھبا “ ، فراء کے قول کے مطابق بطور تفسیر منصوب ہے، مفضل نے کہا ہے : تفسیر کے لئے شرط یہ ہے کہ کلام تام ہو اور وہ مبہم ہو، جیسے تیرا یہ قول ہے : عندی عشرون، اس میں عدد معلوم ہے اور معدود مبہم ہے، پس جب تو نے درھما کہا تو تو نے تفسیر بیان کردی، بلاشبہ اسے بطور تمیز نصب دی گئی ہے کیونکہ اس کے لئے کوئی ایسا عامل نہیں ہے جو اسے کسرہ دے رہا ہو اور نہ ہی اسے کوئی رفع دینے والا عامل ہے، اور نصب خفیف ترین حرکت ہے اور یہ ہر اس کے لئے بنائی گئی ہے جس میں کوئی عامل نہ ہو، اور کسائی نے کہا ہے : اسے من کو مضمر کر کے نصب دی گئی ہے۔ یعنی اصل میں تھا من ذھب، جیسا کہ اس قول میں ہے : اوعدل ذالک صیاما۔ ای من صیام۔ اور بخاری اور مسلم میں حضرت قتادہ ؓ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اسے کہا جائے گا : تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے لئے زمین بھر سونا ہو، کیا تو اسے بطور فدیہ دے سکتا ہے ؟ تو وہ کہے گا، ہاں، پھر اسے کہا جائے گا : تحقیق تجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کیا تھا جو اس سے بہت زیادہ آسان تھی۔ “ یہ بخاری کے الفاظ ہیں، اور مسلم نے قد کنت کی بجائے کذبت، قد سئلت کے الفاظ نقل کئے ہیں، (تو نے جھوٹ بولا ہے حالانکہ تجھ سے اس کا سوال کیا گیا تھا) (1) (صحیح بکاری، باب من نوقش الحساب، حدیث نمبر 6057 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
Ayah 3:92

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 3:92 in the Quran reader

(مو منو ! ) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (راہ خدا) میں صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کرسکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔

آیت نمبر : 92۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) ائمہ کرام نے روایت بیان کی ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں، حضرت انس ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ تو ابو طلحہ ؓ نے کہا : ہمارا رب ہمارے مالوں کے بارے میں ہم سے سوال کر رہا ہے پس یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں اس پر کہ میں نے اپنی زمین اللہ تعالیٰ کے لئے دین دے دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو اسے اپنے قرابتداروں حسان ابن ثابت اور ابی بن کعب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں تقسیم کر دے ، “۔ (ا) (صحیح بخاری، باب الزکاۃ علی الاقارب، حدیث نمبر 1368، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور المؤطا میں ہے ” ان کے اموال میں سے ان کے نزدیک پسندیدہ مال بیرحاء تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جاتے تھے اور اس کا میٹھا اور طیب پانی نوش فرماتے تھے۔ “ پھر آگے وہی حدیث ذکر کی، تو اس آیت میں خطاب کے ظاہر اور اس کے عموم کو عمل میں لانے پر دلیل موجود ہے، کیونکہ جب آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس کے کوئی معنی مذکور کلام سے نہیں سمجھے، کیا آپ حضرت ابو طلحہ ؓ کو دیکھتے نہیں کہ جب انہوں نے (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا “۔ الآیہ سنی تو انہوں نے توقف کی ضرورت محسوس نہیں کی یہاں تک کہ دوسری آیت کے ذریعہ اس کا بیان اور وضاحت آجائے تو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کے بندے خرچ کریں یا کوئی سنت سامنے آجائے تو اس کی وضاحت کرنے والی ہو کیونکہ وہ تو بہت سی اشیاء کو پسند کرتے ہیں۔ اور اسی طرح حضرت زید ابن حارثہ ؓ نے بھی کیا کہ آپ نے اپنے پسندیدہ گھوڑے کا قصد کیا اسے سبل کہا جاتا تھا اور کہا : اے اللہ ! یقینا تو جانتا ہے کہ میرے نزدیک میرے اس گھوڑے سے زیادہ پسندیدہ مال کوئی نہیں ہے، پس آپ اسے حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس لے آئے اور عرض کی : یہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان ہے (اسے قبول فرمائیے) تو آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو فرمایا : ” اسے قبضے میں لے لو “ تو گویا حضرت زید ؓ نے اس کے بارے اپنے دل میں کچھ (وہم سا) پایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان اللہ قد قبلھا منک بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اسے تجھ سے قبول فرما لیا ہے۔ اسے اسد بن موسیٰ نے ذکر کیا ہے (2) (تفسیر طبری، جلد 5، صفحہ 577) اور حضرت ابن عمر ؓ نے اپنے غلام نافع کو آزاد کیا اور اس میں حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ نے انہیں ہزار دینار عطا کئے، صفیہ بنت ابی عبید نے کہا ہے : میں ان کے بارے گمان کرتی ہوں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تاویل کی (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ اور شبل نے ابو نجیح سے اور انہوں نے حضرت مجاہد (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو طرف لکھا کہ وہ مدائن کسری کی فتح کے دن جلولاء کے قیدیوں سے ان کے لئے ایک لونڈی خریدیں، تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان کیا : پس حضرت عمر ؓ نے اسے بلایا تو اس نے آپ کو بہت خوش کیا، تو انہوں نے کہا : بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے اسے آزاد کردیا، اور حضرت ثوری (رح) سے مروی ہے کہ ان تک یہ خبر پہنچی ہے کہ ربیع بن خیثم کی ام ولد نے بیان کیا ہے کہ جب ان کے پاس کوئی سائل آتا تو وہ مجھے فرماتے اے فلانہ، سائل کو شکردے دو ، کیونکہ ربیع شکر بہت پسند کرتا تھا، سفیان نے کہا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی (یہی) تاویل کرتے ہیں : (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ سے مروی ہے کہ وہ شکر کی بوریاں خریدتے تھے اور انہیں صدقہ کردیتے تھے تو آپ سے عرض کی گئی : آپ اس کی قیمت کیوں نہیں صدقہ کردیتے ؟ تو آپ نے فرمایا : کیونکہ شکر میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اپنی زیادہ پسندیدہ اور محبوب شے (اللہ تعالیٰ راہ میں) خرچ کر دوں۔ اور حسن (رح) نے کہا ہے : یقینا تم اسے ہر گز نہیں پا سکو گے جسے تم پسند کرتے ہو مگر اسے چھوڑ کر جس کی خواہش اور چاہت تم رکھتے ہو اور تم اس کا ادراک نہیں کرسکتے جس کی تم آرزو رکھتے ہو مگر اس پر صبر کرتے ہوئے جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ مسئلہ نمبر : (2) البر “ کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے بعض نے کہا ہے : اس سے مراد جنت ہے، یہ حضرت مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت عطا، حضرت مجاہد، عمرو، بن میمون اور سدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، و رحمۃ اللہ علہیم سے منقول ہے، اور تقدیر کلام یہ ہوگی، ” لن تنالوا ثواب البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ (تم نیکی کا ثواب ہر گز نہیں پا سکتے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ ) اور النوال بمعنی عطا ہے، یہ تیرے اس قول سے ہے تولتہ تنویلا یعنی میں نے اسے عطا کیا، اور نالنی من فلان معروف ینالنی، یعنی وہ مجھ تک پہنچ گیا، سو معنی یہ ہوگا : تم ہر گز جنت تک نہ پہنچ سکو گے اور نہ تم اسے پاس سکو گے یہاں تک کہ تم خرچ کر دو (راہ خدا میں) ان چیزوں میں سے جنہیں تم عزیز رکھتے ہو۔ اور بعض نے کہا ہے : البر سے مراد عمل صالح (نیکی) ہے، اور صحیح حدیث میں ہے : ” تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچائی عمل صالح کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور عمل صالح جنت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الادب حدیث نمبر 5629، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) سورة البقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ عطیہ العوفی نے کہا ہے : البر “ سے مراد طاعت ہے، حضرت عطا (رح) نے بیان کیا ہے : تم ہر گز دین اور تقوی کا شرف و مرتبہ نہ پا سکو گے یہاں تک کہ تم صدقہ کرو درآنحالیکہ تم صحت مند اور حریص ہو، تم زندگی کی آرزو رکھتے ہو اور فقر و افلاس سے ڈرتے ہو، اور حسن سے منقول ہے کہ (آیت) ” حتی تنفقوا “ سے مراد فرض زکوۃ ہے، مجاہد اور کلبی نے کہا ہے : یہ آیت منسوخ ہے اسے آیت زکوۃ نے منسوخ کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے یہاں تک کہ تم ان چیزوں میں سے خرچ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے خیر اور نیکی راہ میں مثلا صدقہ یا علاوہ ازیں دیگر طاعات وغیرہ اور یہ جامع معنی ہے، اور نسائی نے صعصعہ بن معاویہ سے روایت نقل کی ہے، انہوں نے کہا : میں حضرت ابو ذر ؓ سے ملا تو میں نے کہا کوئی حدیث بیان فرمائے تو انہوں نے کہا ہاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو مسلمان آدمی اپنے ہر مال سے جوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے تمام دربان اس کا استقبال کریں گے اور ان میں سے ہر کوئی اسے اس کی طرف بلائے گا جو اس کے پاس ہے، میں نے پوچھا : وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اگر تو وہ (مال) اونٹ ہیں تو پھر دو اونٹ (صدقہ کرے) اور اگر وہ گائیں ہیں تو پھر وہ دو گائیں (صدقہ کرے) اور ابوبکر الوراق نے کہا ہے : (اللہ تعالیٰ نے) اس آیت کے ساتھ مکارم اخلاق پر ان کی راہنمائی کی ہے، یعنی تم ہر گز اپنے ساتھ میری نیکی کو نہیں پا سکو گے مگر اس طرح کہ تم اپنے بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو اور اپنے اموال اور جاہ و حشمت میں سے ان پر خرچ کرو، پس جب تم اس طرح کرو گے تو پھر میری نیکی، احسان اور میرا لطف ومہربانی تمہیں آپہنچے گی۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا : یہ اس ارشاد کی مچل ہے : (آیت) ” ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا وما تنفقوا من شیء فان اللہ بہ علیم “۔ یعنی جب وہ جانتا ہے تو اس پر جزا عطا فرمائے گا۔
Ayahs 3:93–94

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:93 in the Quran reader

بنی اسرائیل کے لئے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ Open ayah 3:94 in the Quran reader

جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹ افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں۔

آیت نمبر : 93۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” حلا “ یعنی حلال، (کھانے کی ہر چیز حلال تھی) پھر استثنا کی اور فرمایا (آیت) ” الا ما حرم اسرآء یل علی نفسہ “۔ اور یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : آپ ہمیں بتائیے کون سی شے اسرائیل (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے آپ پر حرام کی تھی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ جنگل میں رہتے تھے اور وہ عرق النسائ (کی بیماری) میں مبتلا ہوگئے اور وہ اونٹوں کے گوشت اور ان کے دودھ کے سوا کوئی پسندیدہ اور مناسب شے نہ پاتے تھے ، “ انہوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا : (1) (سنن ترمذی، باب وہن سورة الرعد، حدیث نمبر 3042، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حدیث ذکر کی، اور کہا جاتا ہے : (بےشک آپ نے) نذر مانی کہ اگر آپ اس بیماری سے شفایاب ہوگئے تو وہ اپنا پسندیدہ کھانا پینا چھوڑ دیں گے اور آپ کے نزدیک پسندیدہ کھانا پینا اونٹ کا گوشت اور ان کا دودھ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد ؓ قتادہ اور سدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا ہے : حضرت یعقوب (علیہ السلام) حران سے بیت المقدس کا ارادہ کرتے ہوئے آئے جبکہ آپ اپنے بھائی عیصو سے بھاگے، آپ انتہائی مضبوط اور قوی آدمی تھے، پس آپ کی ملاقات ایک فرشتے سے ہوئی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ یہ ڈاکو ہے، چناچہ آپ نے اس کے ساتھ لڑائی کی کہ آپ اس کو پچھاڑ دیں، تو فرشتے نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ران پر کچوکا لگایا اور پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس کی طرف دیکھتے رہے تو اس طرح آپ پر عرق النساء کی بیماری غالب آگئی اور اس کے سبب شدید تکلیف میں مبتلا ہوگئے، درد کی وجہ سے رات کو نیند نہ آتی تھی بلکہ آپ چیختے ہوئے رات گزارتے تھے، تب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نذر مانی اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں شفا عطا فرما دی تو (ہڈی نہیں کھائیں گے) اور نہ ہی وہ ایسا کھانا کھائیں گے جس میں ہڈی ہوگی تو انہوں نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا، تو ان کے بعد ان کے بیٹے بھی ان کی پیروی کرنے لگے اور وہ گوشت سے ہڈیوں کو نکال دیتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو فرشتے کا کچوکا لگانے یہ تھا کہ وہ نذر مانیں کہ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہ بیٹے عطا فرمائے اور وہ صحیح سالم بیت المقدس آئے تو وہ ان میں سے آخری کو ذبح کریں گے، پس وہ انکی نذر سے نکلنے کے لئے تھا، حضرت ضحاک سے یہی منقول ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ تحریم حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اپنے اجتہاد سے تھی یا اللہ تعالیٰ کے اذن سے ؟ تو اس میں صحیح پہلا قول ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تحریم کی نسبت ان کی طرف کی ہے۔ فرمایا (آیت) ” الا ما حرم “ اور یہ کہ نبی کو جب اس کا اجتہاد کسی حکم تک پہنچا دے تو وہ دین ہوتا ہے اور اس کی اتباع ہمارے اوپر لازم ہوجاتی ہے، کیونکہ اللہ اسے اس پر پختہ فرما دیتا ہے، اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے اور اس کی اتباع لازم ہوجاتی ہے اسی طرح اس کو اجازت دی جاتی ہے اور وہ اجتہاد کرتا ہے اور اس کے اجتہاد کا موجب متعین ہوجاتا ہے جب وہ اس پر قادر ہو اور اگر اس کے لئے اس کی تحریم کے بارے پہلے اجازت نہ ہو تو وہ تحلیل وتحریم کی جانب بغیر اجازت کے نہیں بڑھتا۔ ہمارے نبی مکرم ﷺ نے صحیح روایت کے مطابق شہد کو حرام کیا (1) (صحیح بخاری، باب لم تحرم ما احل اللہ لک، حدیث نمبر 4862، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یا اپنی کنیز ماریہ کو۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی تحریم کی توثیق نہ کی اور یہ ارشاد نازل ہوا (آیت) ” لم تحرم ما احل اللہ لک “ اس کا بیان سورة التحریم میں آئے گا۔ ال کیا الطبری نے کہا ہے یہ کہا جانا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ مطلق ارشاد (آیت) ” لم تحرم ما احل اللہ لک “ تقاضا کرتا ہے کہ یہ ماریہ کے ساتھ مختص نہ ہو۔ اور امام شافعی (رح) نے یہ رائے بیان کی ہے کہ اس صورت میں کفارہ کا واجب ہونا غیر معقول ہے تو آپ نے اسے محل نص کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے یہ کہا ہے کہ دراصل کفارہ ہر مباح کو حرام قرار دینے کی صورت میں ہے اور آپ نے اسے قسم کے قائم مقام قرار دیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل فاتوا بالتورۃ فاتلوھا ان کنتم صدیقین “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) عرق النساء میں مبتلا ہوئے تو حکماء نے آپ کے لئے یہ تجویز کیا کہ آپ اونٹ کے گوشت سے پرہیز کریں چناچہ آپ نے اسے اپنے آپ پر حرام قرار دیا، پھر یہودیوں نے کہا : بلاشبہ ہم اپنے آپ پر اونٹ کا گوشت حرام قرار دیتے ہیں، کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اسے حرام قرار دیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تحریم کا تورات میں نازل فرمایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، حضرت ضحاک (رح) نے کہا ہے : پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب فرمائی اور ان کا رد کردیا اور فرمایا اے محمد ﷺ (آیت) ” قل فاتوا بالتورۃ فاتلوھا ان کنتم صدیقین “۔ لیکن وہ نہ لائے تب اللہ تعالیٰ نے ارشاف فرمایا : (آیت) ” فمن افتری علی اللہ الکذب من بعد ذلک فاولئک ھم الظلمون “۔ زجاج نے کہا ہے : ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کے لئے اس آیت میں بہت بڑی دلیل ہے، آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ یہ ان کی کتاب میں نہیں ہے اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تورات لے آئیں لیکن انہوں نے انکار کیا، یعنی انہوں نے یہ پہچان لیا کہ آپ ﷺ نے وحی کے سبب یہ ارشاد فرمایا ہے۔ اور عطیہ العوفی نے کہا ہے : بلاشبہ وہ ان پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حرام کرنے کی وجہ سے حرام ہوا، اور وہ اس طرح کہ اسرائیل نے اس وقت کہا جب انہیں عرق النساء کا مرض لاحق ہوا : قسم بخدا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت اور صحت عطا فرمائی تو کوئی بچہ اسے (گوشت کو) نہیں کھائے گا، حالانکہ وہ ان پر حرام نہیں کیا گیا تھا، اور کلبی نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے تورات میں ان پر حرام نہیں کیا بلکہ تورات کے بعد انکے ظلم اور کفر کی وجہ سے اسے حرام قرار دیا، اور بنی اسرائیل جب بڑے بڑے گناہ کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پاکیزہ اور طیب کھانا حرام کردیا یا ان پر عذاب نازل کردیا اور وہ موت ہے پس اسی لئے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم “۔ الآیہ (النسائ : 160) ترجمہ : سو بوجہ ظلم ڈھانے یہود کے ہم حرام کردیں ان پر وہ پاکیزہ چیزیں جو حلال کی گئی تھیں انکے لئے۔ اور ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر، ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظھورھما اوالحوایا او ما اختلط بعظ، ذلک جزینھم ببغیھم وانا لصدقون “۔ (الانعام) ترجمہ : اور ان لوگوں پر جو یہودی بنے تھے ہم نے حرام کردیا ہر ناخن والا جانور۔۔۔ یہ ہم نے سزا دی تھی انہیں بسبب ان کی سرکشی کے اور یقینا ہم سچے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (4) ابن ماجہ نے اپنی سنن میں یہ عنوان ذکر کیا ہے دواء عرق النساء ہشام بن عمار اور راشد ابن سعید الرملی نے بیان کیا ہے کہ ولید بن مسلم، ہشام بن حسان، انس بن سیرین تمام نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، عرق النساء کا علاج جنگلی بکری کی لاٹ ہے جسے پگھلایا جائے، پھر اسے تین اجزاء میں تقسیم کیا جائے، پھر ہر روز ایک جزنہار منہ پیا جائے۔ (1) (ابن ماجہ باب دواء عرق النساء حدیث نمبر 3453، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر میں حضرت انس بن مالک (رح) سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرق النساء کے بارے میں ارشاد فرمایا :” عربی مینڈھے کی لاٹ لی جائے نہ وہ چھوٹا ہو اور نہ ہی بہت بڑا اور اسے چھوٹا چھوٹا کاٹ لیا جائے اور پھر اس کی چربی پگھلا کر نکال لی جائے اور تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے اور ہر روز ایک تہائی حصہ نہار منہ لے لیا جائے۔ “ حضرت انس ؓ نے فرمایا میں نے سو سے زیادہ افراد کو اس کو اس کے بارے بتایا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تندرست ہوگئے۔ حضرت شعبہ ؓ نے بیان کیا ہے : حجاج بن یوسف کے زمانے میں عرق النساء کے متعلق ایک شیخ نے مجھے بتایا : میں تجھے عظمت وشان والے اللہ کی قسم دیتا ہوں اگر تو (اس سے) تندرست نہ ہو تو میں تجھے آگ کے ساتھ داغ دوں گا یا تجھے استرے کے ساتھ مونڈ دوں گا۔ حضرت شعبہ ؓ نے بیان کیا : تحقیق میں نے اس کا تجربہ کیا تو اسے کہہ، اور تو اس جگہ پر اسے کل دے۔
Ayah 3:95

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرما دیا۔ پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

آیت نمبر 95۔ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے، بلاشبہ وہ تورات میں حرام نہیں کیا گیا ہے۔ (آیت) ” فاتبعوا ملت ابراھیم حنیفا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ (آیت) ” وما کان من المشرکین “۔ یہ ان کے باطل دعوی کو انہی پر رد کرنا اور لوٹانا ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 3:96

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 3:96 in the Quran reader

پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ وہی ہے جو مکہ میں ہے بابرکت اور جہاں کے لئے موجب ہدایت۔

اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر ؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس پہلی مسجد کے بارے میں پوچھا جو زمین پر بنائی گئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” مسجد حرام “ میں نے عرض کی پھر کون سی مسجد بنائی گئی ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’ مسجد اقصی “ میں نے عرض کیا : ان دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :” چالیس سال، پھر ساری زمین تیرے لئے مسجد بنا دی گئی جہاں کہیں تجھے نماز کا وقت ہوجائے تو تو وہیں نماز پڑھ لے۔ (1) (صحیح بخاری، باب یزفون النسلان فی المشی، حدیث نمبر 3115 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حضرت مجاہد (رح) اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : اس سے پہلے کوئی عبادت خانہ نہیں بنایا گیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : بیت سے پہلے بیوت تو کثیر تھے، لیکن یہاں بیت سے مراد وہ ہے جو عبادت کے لئے سب سے اولی بنایا گیا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے بیان کیا : مسلمان اور یہودی ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے پس یہودیوں نے کہا : بیت المقدس کعبہ سے افضل اور اعظم ہے، کیونکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی ہجرت گاہ ہے اور ارض مقدس میں ہے، اور مسلمانوں نے کہا : (نہیں) بلکہ کعبہ معظمہ افضل ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور سورة البقرہ میں بیت اللہ کی بناوٹ اور سب سے اول جس نے اسے بنایا اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے زمین کی کسی شے کو تخلیق فرمانے سے دو ہزار برس پہلے اس بیت کی جگہ کو تخلیق فرمایا اور اس کی بنیادیں نیچے والی ساتویں زمین میں ہیں اور جہاں تک مسجد اقصی کا تعلق ہے تو اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بنایا ہے، جیسا کہ اسے امام نسائی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر و ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : جب حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے بیت المقدس کو بنایا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین خصلتوں اور اعزاز کا سوال کیا (انہوں نے اللہ تعالیٰ سے) حاکم بنائے جانے کی التجا کی کہ وہ انہیں حکومت عطا فرمائے، پس وہ انہیں عطا کردی گئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملک کی التجا کی کہ آپ کے بعد کسی کے لئے ایسی بادشاہی نہ ہو پس وہ بھی آپ کو عطا کردی گئی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی جب وہ مسجد بنانے سے فارغ ہوئے کہ جو بھی اس میں آکر نماز ادا کرے تو وہ اسے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا پس یہ اعزاز بھی انہیں عطا کردیا گیا۔ “ دونوں حدیثوں کے درمیان اشکال ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے درمیان طویل مدت کا فاصلہ ہے اہل تواریخ نے کہا ہے : وہ مدت ہزار برس سے زیادہ ہے۔ پس کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے نئے سے بنایا جس کی بنیاد ان کے سوا (کسی اور) نے رکھی تھی، اور یہ روایت ہے کہ سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ شریف بنایا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، پس یہ جائز ہے کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد میں سے کسی نے چالیس سال بعد بیت المقدس کو تعمیر کیا اور یہ بھی جائز ہے کہ ملائکہ نے ہی بیت اللہ کو بنانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اذن سے اسے بنایا ہو، یہ سب احتمالات ہیں، واللہ۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو زمین میں گھر بنانے کا حکم ارشاد فرمایا اور یہ کہ وہ اس کا طواف کریں اور یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے تھا، پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے ہی بنایا جو پہلے بنایا جا چکا تھا اور اس کا طواف کیا، پھر ان کے بعد دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے بھی، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی بناوٹ کو مکمل کیا۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للذی ببکۃ “ یہ ان کی خبر ہے اور اس میں لام برائے تاکید ہے اور بکۃ سے مراد وہ خاص جگہ ہے جہاں بیت اللہ شریف ہے اور مکہ تو سارا شہر ہے، یہ حضرت مالک بن انس ؓ سے منقول ہے۔ اور محمد بن شہاب نے کہا ہے کہ بکۃ سے مراد مسجد ہے اور مکہ سے مراد سارا حرم ہے، اس میں گھر داخل ہوتے ہیں، اور مجاہد (رح) نے کہا ہے ؛ بکۃ سے مراد مکہ ہی ہے۔ پس اس میں میم کو با سے بدل دیا گیا ہے جیسا کہ عربوں نے کہا ہے : طین لازب و لازم، حضرت ضحاک (رح) اور مورج نے یہ ہے۔ پھر یہ کہا گیا ہے کہ بکۃ، البک، سے مشتق ہے اور اس کا معنی ازدھام اور بھیڑ ہے، جب لوگ اکٹھے ہوجائیں تو کہا جاتا ہے تباک القوم، طواف کی جگہ لوگوں کی بھیڑ اور اژدحام ہونے کی وجہ سے اس کا نام بکہ رکھا گیا ہے، اور البک کا معنی ہے دق العنق۔ گردن توڑنا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام بکہ اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ بڑے بڑے جابروں کی گردنیں توڑ دیتا ہے جب وہ اس میں ظلم و زیادتی کی طرف مائل ہوں، حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے فرمایا : جب بھی کسی جابر نے برائی کی نیت سے اس کا قصد کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے پاش پاش کردیا۔ اور رہا مکہ ! تو کہا گیا ہے کہ اس کا یہ نام پانی کی قلت کی وجہ سے رکھا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا یہ نام اس لئے ہے کیونکہ اس کا قصد کرکے آنے والا اتنی مشقت پاتا ہے جو اس کی ہڈیوں سے گود اور مغز کو خشک کردیتی ہے، یہ معنی ان کے اس قول سے ماخوذ ہے : مککت العظم اذا اخرجت مافیہ “ یعنی ہڈیوں میں جو کچھ ہے تو وہ سب نکال لے تب کہے گا مککت العظم (میں نے ہڈی کو خالی کرلیا) اور ملک الفصیل ضرع امہ وامت کہ جب بچھڑا کھیری میں موجود سارا دودھ چوس لے اور اسے پی لے تب یہ کہا جاتا ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے : مکت فلم تبق فی اجوافھا دررا : انہوں نے دودھ چوسا اور ان میں کوئی دودھ نہ چھوڑا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ اسے ہلاک اور تباہ کردیتا ہے جو اس میں ظلم و زیادتی کرے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا یہ نام اس لئے ہے کیونکہ لوگ اس میں تمسخر کرتے تھے اور ہنستے تھے اور یہ معنی اس ارشاد باری تعالیٰ سے لیا گیا ہے : (آیت) ” وما کان صلاتھم عند البیت الا مکاء وتصدیۃ “۔ یعنی وہ اس میں تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ اور یہ اس کے منصرف ہونے کو ثابت نہیں کرتا، کیونکہ مکۃ دو حرفی مضاعف ہے۔ اور مکاء سہ حرفی معتل ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” مبرکا “ اسے مبارک بنایا کیونکہ اس میں علم کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور برکت کا معنی کثرۃ الخیر ہے، اور یہ لفظ وضع کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یا بکۃ سے ظرف ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ اور معنی یہ ہے : الذی استقر ببکۃ مبارکا “۔ (یعنی وہ جو مکہ میں قیام پذیر رہا جس میں برکت رکھ دی گئی) اور غیر قرآن میں مبارک پڑھنا بھی جائز ہے یا تو اس لئے کہ یہ خبر ثانی ہے یا اس لئے کہ یہ الذی سے بدل ہے یا اس بنا پر کہ مبتدا مضمر ہے۔ (آیت) ” وھدی للعلمین “۔ یہ اس پر معطوف ہے۔ اور یہ وھو ھدی للعالمین کے معنی میں ہوگا، اور غیر قرآن میں اسے مبارک جر کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے اس صورت میں یہ البیت کی نعت اور صفت ہوگا۔ مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فیہ ایت بینت “۔ اسے مبتدا یا صفت ہونے کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے، اہل مکہ، ابن عباس، مجاہد، اور سعید بن جبیر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ایۃ بینۃ واحد پڑھا ہے، یعنی مقام ابراہیم واحد اور ایک ہے، انہوں نے کہا کہ مقام ابراہیم میں ان کے قدموں کا نشان ایک واضح اور ظاہر علامت ہے، اور حضرت مجاہد (رح) نے مقام ابراہیم کی تفسیر پورے حرم سے کی ہے، اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی آیات اور نشانیوں میں سے صفا اور مروہ، رکن اور مقام ابراہیم ہیں۔ اور باقیوں نے اسے جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے اور انہوں نے اس سے ارادہ مقام ابراہیم، حجر اسود، حطیم، زمزم اور دیگر تمام مشاعر کا کیا ہے، فرمایا : ابو جعفر النحاس نے کہا ہے : جنہوں نے آیات بینات پڑھا ہے تو ان کی قرات زیادہ واضح اور بین ہے، کیونکہ صفا اور مروہ بھی آیات و علامات میں سے ہیں، اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ پرندہ صحیح سالم حالت میں بیت اللہ شریف سے بلند نہیں ہو سکتا۔ اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی شکاری شکار کو تلاش کر رہا ہو تو جب وہ حرم پاک میں داخل ہوجائے تو وہ اسے چھوڑ دیتا ہے اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ بارش جب رکن یمانی کی جانب ہو تو ہریالی اور شادابی یمن میں ہوتی ہے اور جب رکن شامی کی جانب ہو تو شادابی شام میں ہوتی ہے، اور جب پورے بیت اللہ پر ہو تو شادابی سارے شہروں میں آتی ہے اور ان میں سے یہ بھی ہے کہ جمرات پر جس قدر اضافہ کیا جاتا ہے اور ایک ہی مقدار پر دکھائی دیتے ہیں۔ اور المقام ان کے اس قول سے ہے قمت مقاما اور یہ وہ جگہ جس میں کھڑا ہوا جاتا ہے اور المقام تیرے اس قول سے ہے اقمت مقاما اور یہ سورة البقرہ میں گزر چکا ہے اور مقام میں اختلاف بھی گزر چکا ہے اور اس میں صحیح یہ ہے اور المقام مبتدا ہونے کی بنا پر مرفوع ہے، اور خبر محذوف ہے، اور تقدیر کلام ہے : منھا مقام ابراہیم۔ اخفش نے یہی کہا ہے اور محمد بن یزید نے بیان کیا ہے کہ مقام آیات سے بدل ہے اور اس میں ایک تیسرا قول بھی ہے، یعنی بمعنی ھی مقام ابراہیم ہے۔ اور کلام عرب میں اخفش کا قول معروف ہے جیسا کہ زہیر نے کہا ہے : لھا متاع واعوان غدون بہ قتب وغرب اذا ما افرغ انسحقا : یعنی اس کا بہاؤ دور ہوگیا اور ختم ہوگیا۔ اور ابو العباس کا قول ہے، بیشک مقام بمعنی مقامات ہے، کیونکہ یہ مصدر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم “۔ یعنی فی اطرافھا “۔ اور اسے وہ حدیث جو اس طرح مروی ہے اور تقویت دیتی ہے۔ الحج (کلہ) مقام ابراہیم (کہ حج سارے کا سارا مقام ابراہیم ہے۔ ) مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : یہ بھی حرم پاک کی نشانیوں میں سے ہے نحاس نے کہا ہے : یہ قول اچھا ہے، کیونکہ اس کے گردونواح سے لوگوں کو لوٹ لیا جاتا تھا، لیکن اس میں کوئی جابر اور ظالم نہیں داخل ہوتا تھا، حالانکہ وہ بیت المقدس میں داخل ہوئے اور اسے پامال کیا اور حرم پاک تک کسی کو نہ پہنچنے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل “۔ (الفیل) ترجمہ : کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ ) اور بعض اہل معانی نے کہا ہے : آیت صورۃ تو خبر ہے حالانکہ اس میں معنی امر کا ہے تقدیر کلام یہ ہے ” ومن دخلہ فامنوہ (اور جو اس میں داخل ہوجائے تو تم اسے امن اور پناہ دے دو ) جیسا کہ یہ قول ہے۔ : (آیت) ” فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج “۔ یعنی نہ تم برائی کی باتیں کرو اور نہ فسق کا ارتکاب کرو اور نہ ہی آپس میں جھگڑا فساد کرو۔ اسی معنی کی وجہ سے امام سابق حضرت نعمان بن ثابت ؓ نے کہا ہے : جس نے گناہ کا ارتکاب کیا اور اس کے سبب وہ حد کا مستحق بن گیا پھر اس نے حرم پاک میں پناہ لے لی تو اس نے اپنے آپ کو محفوظ کرلیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے امن اور پناہ کو واجب قرار دیا جو اس میں داخل ہوگیا اور یہی سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے اس میں حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر افراد ہیں۔ ابن عربی (رح) نے کہا ہے : (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ 284) ہر وہ جس نے یہ کہا ہے وہ دو اعتبار سے وہم میں مبتلا ہوا ہے “ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آیت کو سمجھا ہی نہیں کہ یہ ماضی میں ہونے والے واقعہ کو خبر ہے اور اس سے مستقبل کے حکم کا اثبات مقصود نہیں اور دوسرا یہ ہے کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ وہ امن اور پناہ گزر چکی ہے اور یہ کہ قتل و قتال اس کے بعد اس میں واقع ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی خبر واقع نہ ہوگی، بخلاف اس کے جسکی خبر دی گئی ہے، پس یہ بھی اس پر دلیل ہے کہ یہ ماضی میں ہوچکا ہے، اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے مناقضہ کیا اور فرمایا : جب وہ حرم میں پناہ لے لے تو اسے نہ کھلایا جائے گا اور نہ پلایا جائے گا نہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ کیا جائے گا اور نہ ہی کلام اس سے کی جائے گی یہاں تک کہ وہ باہر نکل آئے، پس اسے نکلنے پر مجبور کرنا اس کے ساتھ اس کا امن میں ہونا اور محفوظ ہونا صحیح نہ ہوگا، اور آپ ہی سے مروی ہے کہ آپ نے کہا : حرم پاک میں اعضاء میں قصاص واقع ہو سکتا ہے حالانکہ اس کے ساتھ بھی امن صحیح نہیں ہے اور جمہور علماء نے کہا ہے کہ حرم پاک میں حدود قائم کی جاسکتی ہیں، تحقیق حضور نبی مکرم ﷺ نے ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا حالانکہ وہ غلاف کعبہ کے ساتھ چمٹا پڑا تھا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : ثوری (رح) نے منصور سے انہوں نے مجاہد (رح) سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : جس کسی نے حرم میں حد کا ارتکاب کیا تو اس پر حرم میں حد قائم کی جائے گی اور اگر حل میں اس کا ارتکاب کیا اور پھر حرم میں پناہ لے لی تو اس سے نہ کلام کی جائے اور نہ خریدو فروخت کی جائے یہاں تک کہ وہ حرم پاک سے نکل آئے تو پھر اس پر حد قائم کی جائے گی اور یہی امام شعبی کا قول ہے اور ہی کو فیوں کی حجت اور دلیل ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ آیت کے معنی سے یہی سمجھے ہیں اور وہ حبر الامۃ اور عالم الامۃ ہیں اور صحیح یہ ہیں کہ اس سے ہر اس پر نعمتوں کے شمار کرنے کا ارادہ اور قصد کیا گیا ہے جو ان سے جاہل اور ناواقف ہے اور عرب میں اس کے منکر بھی تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم (العنکبوت : 67) ترجمہ : کیا انہوں نے (غور سے) نہیں دیکھا کہ ہم نے بنا دیا ہے حرم کو امن والا حالانکہ اچک لیا جاتا ہے لوگوں کو ان کے آس پاس سے۔ پس وہ دور جاہلیت میں تھے جو کوئی اس میں داخل ہوتا اور اس میں پناہ لے لیتا تو وہ قتل و غارت سے امن میں ہوجاتا، جیسا کہ اس کا بیان سورة مائدہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : جو کوئی دورجاہلیت میں ان میں داخل ہوا وہ امن پانے والا اور محفوظ ہوگیا۔ اور یہ حسن اور اچھا ہے (1) (تفسیر طبری جلد 5، صفحہ 601) اور روایت ہے کہ کسی ملحد نے بعض علماء کو کہا : کیا قرآن کریم میں نہیں ہے۔ (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ پس ہم اس میں داخل ہوئے اور ہم نے اس اس طرح کیا اور جو کوئی اس میں تھا وہ محفوظ نہیں ہوا۔ تو انہوں نے انہیں کہا : کیا تو عربوں میں سے نہیں ہے ! جو کوئی یہ کہتا ہے ” من دخل داری کان امنا “۔ (جو کوئی میرے گھر میں داخل ہوگیا وہ محفوظ ہوگیا) وہ اس سے کیا مراد لیتا ہے ؟ کیا یہ اسی طرح نہیں کہ کوئی اپنی اطاعت اور پیروی کرنے والے کو کہے : کف عنہ فقد امنتہ وکفف تنہ ؟ (تو اس سے رک جا تحقیق میں نے اپنی پناہ دے رکھی ہے اور تو اس سے رک جائے ؟ اس نے کہا : ہاں کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا پس اسی طرح یہ قول ہے۔ (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ اور یحییٰ بن جعدہ نے کہا ہے : (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ کا معنی ہے یعنی وہ آگ (کے عذاب) سے محفوظ ہوگیا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں یہ اپنے عموم پر نہیں ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے طویل حدیث شفاعت منقول ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی بھی قیامت کے دن حق کی بحث میں مومنین سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو قسم دلانے والا نہ ہوگا جو کہ اللہ تعالیٰ کی بارگارہ میں اپنے ان بھائیوں کے لئے اصرار کر رہے ہوں جو کہ جہنم میں ہوں گے اسے ہمارے رب ! وہ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے اور حج ادا کرتے تھے، تو انہیں کہا جائے گا : اسے نکال لو جسے تم پہنچانتے ہوں “ الحدیث (2) (صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث نمبر 6886، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) بلاشبہ وہ آگ سے محفوظ ہوجائے ہوجائے گا جو مناسک ادا کرنے کے لئے اس میں داخل ہوا اس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کے حق کو پہچانتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے۔ حضرت امام جعفر صادق ؓ نے فرمایا ہے : جو کوئی پورے اخلاص اور صفائے باطن کے ساتھ اس میں داخل ہو اجیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام اس میں داخل ہوئے تو یقینا وہ اس کے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔ اور حضور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کا یہی معنی ہے : ” جس نے حج کیا اور برائی کے بارے کوئی گفتگو نہ کی اور نہ ہی فسق کا مرتکب ہوا تو وہ اپنے گناہوں سے اسی طرح پاک ہوگیا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا اور حج مبرور کی جزا سوائے جنت کے اور کوئی نہیں۔ “ حسن نے بیان کیا ہے : حج مبرور یہ ہے وہ دنیا سے دوری اختیار کرتے ہوئے اور آخرت میں رغبت رکھتے ہوئے واپس لوٹے۔ اور یہ اشعار بھی کہے : یا کعبۃ اللہ دعوۃ اللاجی دعوۃ مستشعر و محتاج : اے کعبہ معظمہ ! جو اللہ تعالیٰ کا گھر ہے پناہ لینے والے کے لئے دعا ہے اور شعار پہننے والے اور محتاج کے لئے جائے دعا ہے۔ ودع احبابہ ومسکنہ فجاء مابین خائف راجی۔ اپنے احباب اور اپنے مکینوں کو الوداع کہہ پس (ہر کوئی) بیم ورجا کی کیفیت لئے ہوئے آیا۔ ان یقبل اللہ سعیہ کر ما فاعطف علی وافد بن حجاج۔ اور تو ان میں سے ہے جن کی شفاعت کی امیدرکھی جاتی ہے پس تو وافد بن حجاج پر مہربانی فرما۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے کہ جو کوئی عمرہ قضا کے سال حضور نبی رحمت ﷺ کی معیت میں اس میں داخل ہوا وہ امان میں آگیا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ آمنین۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں من غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور یہ آیت شکار کے امان میں ہونے کے بارے ہے اور یہ شاذ ہے اور قرآن کریم میں ہے (آیت) ” فمنھم من یمشی علی بطنہ الآیہ۔