Ayah 3:152آیت نمبر : 152۔
محمد بن کعب قرظی نے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف مراجعت فرما ہوئے اس حال میں کہ انہیں تکلیف اور اذیت پہنچی تھی تو بعض نے بعض کو کہا : کہاں سے یہ اذیت ہمیں پہنچی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ فتح ونصرت کا وعدہ فرمایا تھا تب یہ آیت نازل ہوئی، (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 565، اسباب النزول، صفحہ 83) اور یہ وہ ہے کہ انہوں نے مشرکوں کے علمبردار کو قتل کیا اور اس کے بعد علم پر ان میں سے سات افراد کو قتل کیا، اور ابتداء میں مسلمانوں کو کامیابی و کامرانی حاصل ہوئی مگر یہ کہ وہ مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے، اور بعض تیراندازوں نے بھی مال غنیمت کی طلب میں اپنا مرکز چھوڑ دیا اور وہی ناکامی کا سبب بن گیا، بخاری نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب احد کا دن تھا اور ہمارا مشرکین سے آمناسامنا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے تیراندازوں میں سے کچھ لوگوں کو (ایک درہ میں) بٹھایا اور ان پر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کو امیر مقرر کیا اور آپ نے انہیں فرمایا : ” تم اپنی جگہ کو قطعا نہ چھوڑنا (آیت) ” اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم ان پر غالب آگئے ہیں تو تم اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا) اور اگر تم انہیں دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آ رہے ہیں تو پھر بھی تم ان کے خلاف ہماری مدد نہ کرنا۔ ” راوی کا بیان ہے کہ جب جنگ ہوئی اور مسلمانوں نے انہیں شکست سے دو چار کردیا حتی کہ ہم نے عورتوں کی طرف دیکھا وہ بڑی تیزی سے پہاڑ کی طرف بھاگ رہی ہیں، اور انہوں نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑے اوپر اٹھائے ہوئے ہیں اور ان کے پازیب ظاہر دکھائی دے رہے ہیں تو وہ کہنے لگے : مال غنیمت لوٹ لو مال غنیمت لوٹ لو، تو حضرت عبداللہ ؓ نے انہیں کہا : ٹھہر جاؤ، رک جاؤ ! کیا رسول اللہ ﷺ نے تم سے عہد نہیں لیا کہ تم اپنی جگہ کو نہ چھوڑنا، لیکن وہ چلے گئے پس جب وہ ان کی طرف آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو پھیر دیا (2) (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد، حدیث نمبر 3737، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور مسلمانوں میں سے ستر افراد شہید کردیئے گئے، پھر ابو سفیان بن حرب ایک بلند جگہ سے ہمارے اوپر جھانکا اور اس نے کہا : کیا قوم میں محمد ﷺ ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے جواب نہ دینا “ یہاں تک کہ اس نے تین بار پکارا، پھر اس نے کہا : کیا قوم میں ابن ابی قحافہ ہیں ؟ تین بار اس نے یہ پوچھا، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے جواب نہ دینا “ پھر اس نے کہا : کیا قوم میں عمر (بن خطاب) ہیں ؟ اس نے یہ بھی تین بار پوچھا، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے جواب نہ دینا “ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا : یہ سب لوگ قتل کردیئے گئے ہیں، تو حضرت عمر ؓ اپنے آپ پر ضبط نہ رکھ سکے، اور کہا : اے اللہ تعالیٰ کے دشمن ! تو نے جھوٹ بولا ہے ! اللہ تعالیٰ نے تجھے باقی رکھا ہے تاکہ وہ اس طرح تجھے ذلیل ورسوا کرے تو اس نے کہا : اعل ھبل : اے ھبل تو بلند ہوگیا (غالب آگیا) یہ جملہ اس نے دوبارہ کہا تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے جواب دو “ تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ ہم کیا کہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” تم کہو اللہ اعلی واجل “ اللہ تعالیٰ بلندو برتر اور بزرگ ہے۔
ابو سفیان نے کہا : لنا عزی ولا عزی لکم ( ہمارے لئے تو عزی ہے اور تمہارے لئے کوئی عزی نہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم اسے جواب دو “ صحابہ نے عرض کی : ہم کیا کہیں یا رسول اللہ ﷺ ؟ تو آپ نے فرمایا : تم کہو اللہ مولانا ولا مولی لکم “۔ اللہ تعالیٰ ہمارا مولی ہے اور تمہارا کوئی مولی نہیں۔ ابو سفیان نے کہا : آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، اور جنگ تو ڈول کی مانند ہے (یعنی اس کا نتیجہ کبھی ایک فریق کے حق میں ہوتا ہے کبھی دوسرے فریق کے حق میں جس طرح ڈول میں پانی کبھی زیادہ ہوتا ہے اور کبھی کم) بلاشبہ تم قوم میں ایسے مقتول پاؤ گے جن کا مثلہ کردیا گیا ہے میں نے اس کے بارے حکم نہیں دیا لہذا تم مجھے برا نہ کہنا (1) (صحیح بخاری، کتاب المغازی باب غزوہ احد وقول اللہ تعالیٰ ، جلد 2، صفحہ 579، قدیمی کتب خانہ کراچی، ایضا صحیح بخاری، حدیث نمبر 3737، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اور بخاری اور مسلم میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا : میں نے احد کی جانب سے شدید ترین جنگ لڑ رہے تھے اور حضرت سعد سے ایک روایت میں ہے، ان دونوں پر سفید لباس تھا میں نے ان دونوں کو نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ بعد میں، مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) اور حضرت میکائیل (علیہ السلام) ہیں (2) (مسلم، کتاب الفضائل، جلد 2، صفحہ 252، اسلام آباد، ایضا صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث 3748، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں : یقاتلان عن رسول اللہ ﷺ اشد القتال مارایتھما قبل ذالک الیوم ولا بعدہ۔
اور حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے : ملائکہ نے مسلمانوں کی معیت میں اس دن جنگ نہیں لڑی اور نہ اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد سوائے یوم بدر کے، علامہ بیہقی (رح) نے کہا ہے : حضرت مجاہد (رح) نے یہ ارادہ کیا ہے کہ ملائکہ نے احد کے دن اس قوم کی طرف سے جنگ نہیں لڑی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی اور وہ اس حکم پر قائم نہیں رہے جو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :
اور حضرت عروہ بن زبیر ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان سے صبر وتقوی، کی شرط پر وعدہ کیا تھا کہ وہ انکی مدد کرے گا پانچ ہزار فرشتوں سے جو نشان والے ہیں، اور وہ اس نے پورا کردیا، اور جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کی اور انہوں نے اپنی صفوں کو چھوڑ دیا اور تیراندازوں نے بھی اس عہد کو ترک کردیا جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے لیا تھا کہ وہ اپنی جگہ کو ہر گز نہ چھوڑیں اور انہوں نے دنیا کا ارادہ کیا تو ان سے ملائکہ کی مدد اٹھا لی گئی، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونھم باذنہ “۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کردیا اور انہیں فتح دکھا دی اور جب انہوں نے نافرمانی کی تو اس کے بعد ان پر آزمائش اور بلا کو مسلط کردیا۔
اور عمر بن اسحاق (رح) نے کہا ہے : جب احد کا دن تھا وہ رسول اللہ ﷺ سے بکھر گئے اور حضرت سعد آپ کے سامنے تیر پھینک رہے تھے اور ایک نوجوان انہیں تیر پکڑا رہا تھا جب بھی کوئی تیر چلا جاتا تو وہ تیرا نہیں دیتا، اور کہتا : اے ابا اسحاق ! تیر چلاؤ پس جب فارغ ہوئے انہوں نے دیکھا وہ جوان کون ہے ؟ تو نہ انہوں نے اسے دیکھا اور نہ اسے پہچانا، محمد بن کعب نے کہا ہے : جب مشرکوں کا علمبردار قتل ہوگیا اور ان کا جھنڈا گرگیا ، تو اسے عمرۃ بنت علقمہ حارثیہ نے اٹھایا تھا، اس بارے میں حضرت حسان کہتے ہیں :
فلولا لواء الحارثیۃ اصبحوا یباعون فی الاسواق بیع الجلائب :
پس اگر عمرہ حارثیہ کا جھنڈا نہ ہوتا تو انہیں بازاروں میں سامان تجارت کی طرح فروخت کردیا جاتا۔
اور تحسونھم کا معنی ہے تم انہیں قتل کر رہے تھے اور ان کا نام ونشان مٹا رہے تھے۔
شاعر نے کہا ہے :
حسناھم بالسیف حسا فاصبحت بقیتھم فقدشردوا او تبددوا :
ہم نے تلوار کے ساتھ ان کا نام ونشان مٹا دیا ہے پس انکے بقیہ رہنے والوں کو بھگا دیا گیا ہے یا وہ بکھر گئے ہیں۔
اور جریر نے کہا ہے :
تحسھم السیوف کما تسامی حریق النار فی الاجم الحصید :
اس میں بھی تحسھم کلی طور پر ختم کردینے اور نام ونشان مٹا دینے کے معنی میں ہے۔
ابو عبید نے کہا ہے : الحس کا معنی ہے قتل کے ساتھ ہلاک وبرباد کردینا (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 566) کہا جاتا ہے : جراد محسوس جب سردی اسے قتل اور تباہ کر دے، اور البرد محسۃ للنبت یعنی سردی نباتات کو جلا کر ختم کردینے والی ہے۔ اور سنۃ حسوس یعنی خشک سالی ہر شے کو کھا جاتی ہے، روبہ نے کہا ہے :
اذا شکونا سنۃ حسوسا تاکل بعد الاخضر الیبسا :
جب ہم شکوہ کرتے خشک سالی کا جو کہ سبزی کے بعد خشکی کو بھی کھا جاتی ہے اور اس کی اصل الحس سے ہے جس کا معنی ہے حاسہ کے ساتھ کسی شے کا ادراک کرنا، پس حسہ کا معنی ہے اس نے اس کی حس کو قتل کے سبب ختم کردیا، باذنہ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم سے یا اس کی قضا اور امر سے۔ (آیت) ” حتی اذا فشلتم “۔ یعنی جب تم بزدل ہوگئے اور تم کمزور ہوگئے کہا جاتا ہے : فشل یفشل، فھو فشل وفشل، اور حتی کہ جواب محذوف ہے ای حتی اذا فشلتم امتحنتم۔ (یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے تو تم امتحان میں ڈال دیئے گئے) اور اس کی مثل جائز ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
(آیت) ” فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض او سلما فی السمآء “۔ (الانعام : 35) ، فافعل۔
ترجمہ : تو اگر آپ سے سے ہو سکے تو تلاش کرلو کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں (تو اس پر چڑھ جاؤ ) ۔
اور فراء نے کہا ہے : حتی کا جواب ” وتنازعتم “۔ ہے اور واؤ مقحمہ زائدہ ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے۔ (آیت) ” فلما اسلما وتلہ للجبین ونادیناہ ای نادیناہ (یعنی اس میں بھی واؤ مقحمہ زائدہ ہے) اور امرؤ القیس نے کہا ہے :
فلما اجزنا سحاۃ الحی وانتحی ای انتحی :
اس میں بھی واؤ زائدہ ہے، اور ان کے نزدیک وعصیتم میں بھی واؤد کو مقحمہ قرار دینا جائز ہے، یعنی حتی اذا فشلتم وتنازعتم عصیتم “۔ (یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور جھگڑنے لگے (رسول کے) حکم کے بارے میں تو تم نے نافرمانی کی) اور اس بنا پر اس میں تقدیم وتاخیر ہے، یعنی حتی اذا تنازعتم وعصیتم فشلتم “۔ (یہاں تک کہ جب تم جھگڑنے لگے اور تم نے نافرمانی کی تو تم بزدل ہوگئے)
اور ابو علی نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ جواب (آیت) ” صرفکم عنہم “۔ اور ثم زائدہ ہو، اور تقدیر کلام یہ ہو، حتی اذا فشلتم وتنازعتم وعصیتم صرفکم عنھم “۔ (یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور جھگڑنے لگے اور تم نے نافرمانی کی تو اس نے تم کو ان سے پھیر دیا۔ )
اور بعض نحویوں نے اس کے زائدہ ہونے میں شاعر کا قول بیان کیا ہے :
ارانی اذا ما بت بت علی ھوی فثم اذا اصبحت اصبحت عادیا :
اور اخفش نے اس کے زائدہ ہونے کو جائز قرار دیا ہے، جیسا کہ اس ارشاد میں ہے :
(آیت) ” حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رحبت وضاقت علیھم انفسھم وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ، ثم تاب علیھم “۔ (التوبۃ : 118)
ترجمہ : یہاں تک کہ جب تنگ ہوگئی ان پر زمین باوجود کشادگی کے اور بوجھ بن گئیں ان پر ان کی جانیں اور جان لیا انہوں نے کہ نہیں کوئی جائے پناہ اللہ سے مگر اسی کی ذات، تب اللہ تعالیٰ ان پر مائل بکرم ہوا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حتی بمعنی الیٰ ہے اور اس وقت اس کا کوئی جواب نہ ہوگا۔ یعنی صدقکم اللہ وعدہ الی ان فشلتم “ (اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردیا یہاں تک کہ تم بزدل ہوگئے) یعنی وہ وعدہ ثابت قدم رہنے کی شرط کی ساتھ تھا۔ اور (آیت) ” تنازعتم “ کا معنی ہے ” اختلفتم “۔ (تم اختلاف کرنے لگے) یعنی اس وقت تیر اندازوں میں سے بعض نے کہا : ہم غنائم کو جا ملیں گے (یعنی مال غنیمت جمع کریں گے) اور بعض نے کہا : بلکہ ہم تو اسی جگہ ثابت قدم رہیں گے جہاں ثابت رہنے کا حضور نبی مکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے۔
(آیت) ” من بعدما ارکم ما تحبون “۔ یعنی وہ غلبہ جو احد کے دن مسلمانوں کو ابتدائی مرحلہ میں ہی حاصل ہوگیا، اور یہ اس وقت حاصل ہوا جبکہ مشرکین کا علمبردار پچھاڑ (قتل کر) دیا گیا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور اسے جونہی قتل کیا گیا تو حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب منتشر ہوگئے اور وہ متفرق گروہوں میں بٹ گئے اور انہوں نے دشمن پر شدید حملے کئے یہاں تک کہ انہوں نے انہیں اپنے سازوسامان سے محروم کردیا، اور مشرک گھوڑ ساروں نے مسلمانوں پر تین بار حملہ کیا ہر بار تیروں کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا گیا پس وہ مغلوب ہو کر واپس لوٹے اور مسلمانوں نے حملہ کیا اور انہوں نے ان خوب قتل کیا، پس جب پچاس تیراندازوں نے یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بھائیوں کو فتح عطا فرمادی ہے تو انہوں نے کہا : قسم بخدا ! ہم یہاں کسی کام کے لئے نہیں بیٹھے رہیں گے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ہلاک کردیا ہے اور ہمارے بھائی مشرکوں کے لشکر میں ہیں، اور ان میں سے کچھ گروہوں نے کہا : ہم کیونکر ٹھہرے رہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دو چار کردیا ہے ؟ چناچہ انہوں نے اپنے ان مقامات کو چھوڑ دیا جن کے بارے میں نبی مکرم ﷺ نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ انہیں قطعا نہ چھوڑیں۔ اور آپس میں جھگڑا کرنے لگے اور بزدل ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی پس گھوڑ سوار تیز رفتاری کی ساتھ قتال کرتے ہوئے ان میں آپہنچے، آیت کے الفاظ ان کے لئے زجر وتوبیخ کا تقاضا کرتے ہیں اور ان کو جھڑکنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مددونصرت کی مبادی کو دیکھ لیا تھا، پس ان کے لئے یہ جاننا واجب تھا کہ فتح ونصرت کی تکمیل ثابت قدم رہنے میں ہے نہ کہ انہزام میں، پھر جھگڑے کا سبب بیان کیا اور فرمایا (آیت) ” منکم من یرید الدینا “۔ تم میں سے بعض دنیا یعنی مال غنیمت کے طلبگار ہیں، حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : ہم نہیں جانتے تھے کہ حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی دنیا اور اس کے سازوسامان کی خواہش رکھتا ہے یہاں تک کہ احد کا دن آگیا (تب ہمیں اس کا احساس ہوا) (آیت) ” ومنکم من یرید الاخرۃ “۔ اور تم میں سے بعض آخرت کے طلبگار ہیں (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 566) اور وہ وہ ہیں جو اپنے مرکز میں ثابت قدم رہے اور انہوں نے اپنے نبی مکرم ﷺ کے حکم کے بارے میں اپنے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ سے کوئی مخالفت نہ کی اور خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابی جہل نے ان پر حملہ کردیا، اس وقت یہ دونوں کافر تھے اور انہوں نے آپ کو اپنے باقی ساتھیوں سمیت شہید کردیا۔ رحمھم اللہ۔
اور یہ عتاب ان کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے مقام کو چھوڑا نہ کہ ان کے ساتھ جو ثابت قدم رہے کیونکہ جو ثابت رہے وہ تو ثواب کے ساتھ کامیاب وکامران تھے، اور یہ اسی طرح ہے جیسے جب کسی قوم پر عام عذاب نازل ہو تو نیکو کار اور بچے بھی ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن جو ان پر نازل ہوا وہ عذاب اور سزا نہیں ہوتی بلکہ ان کے لئے اجرو ثواب کا سبب ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم صرفکم عنہم لیبتلیکم “۔ (پھر پیچھے ہٹا دیا تمہیں ان کے تعاقب سے تاکہ تمہیں آزمائے) یعنی اس کے بعد کہ تم ان پر غلبہ حاصل کرچکے تھے تمہیں ان سے ناکامی کے ساتھ واپس لوٹا دیا اور یہ اس پر دلیل ہے کہ معصیت اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اور معتزلہ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے پھر تم واپس لوٹ آئے، انصرفتم، پس اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اضافت کافروں کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب اور خوف نکالنے کے اعتبار سے ہے مسلمانوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لئے علامہ قشیری نے کہا ہے : یہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ کافروں کے دلوں سے رعب اور خوف نکالنا یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھنے لگیں قبیح اور برا ہے اور ان کے نزدیک بھی یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبیح (فعل) واقع ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ’ ثم صرفکم عنھم “۔ کا کوئی معنی باقی نہ رہے گا، اور یہ قول بھی ہے : (آیت) ” صرفکم عنھم “۔ کا معنی ہے اس نے تمہیں ان کی طلب اور تعاقب کا پابند نہیں بنایا۔
قولہ تعالیٰ : ولقد عفاعنکم “ ، واللہ ذوفضل علی المؤمنین “۔ یعنی اس نے تمہیں معصیت اور مخالفت کے بعد ہلاک اور تباہ نہیں کیا، کہا گیا ہے کہ یہ خطاب تمام کے لئے ہے، اور یہ قول بھی ہے کہ یہ ان تیر اندازوں کے لئے ہے جنہوں نے اس حکم کی مخالفت کی جو انہیں دیا گیا، اسے نحاس نے اختیار کیا ہے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے : اس آیت کی نظیر یہ قول ہے :
(آیت) ثم عفونا عنکم “۔ (البقرہ : 52)
ترجمہ : پھر بھی درگزر فرمایا ہم نے تم سے۔
(آیت) ” واللہ ذوفضل علی المؤمنین “۔
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ عفو ومغفرت کے ساتھ مومنوں پر فضل وکرم فرمانے والا ہے۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ کی کسی بھی جگہ ایسی مدد نہیں کی گئی جیسی احد کے دن مدد کی گئی، فرمایا : اور ہم نے اس کا انکار کیا، تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان جس نے انکار کیا یہ کتاب اللہ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ یوم احد کے بارے فرماتا ہے :
(آیت) ” ولقد صدقکم اللہ وعدہ اذ تحسونھم باذنہ “۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ الحس سے مراد قتل کرنا ہے۔
(آیت) ” حتی اذا فشلتم وتنازعتم فی الامر وعصیتم من بعد ما ارکم ماتحبوں منکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الاخرۃ ثم صرفکم عنھم لیبتلیکم ولقد عفاعنکم واللہ ذو فضل علی المؤمنین “۔ بلاشبہ اس سے مراد تیر انداز ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں ایک جگہ میں کھڑا کیا پھر ارشاد فرمایا : ” تم ہماری پشتوں کی حفاظت کرو پس اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم قتل کر رہے تو تم ہماری مدد نہ کرنا اور اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم مال غنیمت اکٹھا کر رہے ہیں تو تم ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا ، “ پس جب رسول اللہ ﷺ کامیاب ہوگئے اور مشرکین کے لشکر کو مباح قرار دیا تو تمام تیر انداز واپس لوٹ آئے اور لشکر میں داخل ہوگئے اور مال غنیمت لوٹنے لگے، تحقیق حضور نبی کریم ﷺ کے اصحاب کی صفیں جڑ گئیں، پس وہ اس طرح ہوگئے اور آپ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کا جال بنایا۔۔۔۔ اور وہ آپس میں مل گئے (یعنی خلط ملط ہوگئے) پس جب تیراندازوں نے اس درہ کو خالی کردیا جس میں وہ تھے تو گھوڑ سوار اسی راستے سے اصحاب رسول اللہ ﷺ پر داخل ہوگئے اور بعض نے بعض کو مارا اور آپس میں خلط ملط ہوگئے، اور مسلمانوں میں سے بہت سے لوگ شہید ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے لئے ابھی دن کی ابتدا تھی یہاں تک کہ مشرکین کے ساتھ یا نو علمبردار قتل کردیئے گئے اور مسلمان پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہ وہاں تک نہ پہنچے جسے لوگ الغار کہتے ہیں، بلاشبہ وہ مہر اس (جبل احد کے ساتھ پانی کا چشمہ) کے نیچے رہے اور شیطان چیخ اٹھا : قتل محمد ﷺ (محمد ﷺ کو شہید کردیا گیا) اور اس میں کوئی شک نہ کیا گیا کہ وہ حق اور سچ ہے، پس ہم اسی طرح رہے اور ہم آپ کے شہید ہونے کے بارے شک نہ کرتے تھے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ دو سعدوں (حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ) کے درمیان ہم پر ظاہر ہوئے جب آپ چلے تو ہم آپ کو اپنے قدموں کی طرف جھکنے کے سبب پہچان گئے، تو ہم اتنا خوش ہوئے گویا ہمیں (اس میں سے) کوئی مصیبت پہنچی ہی نہیں جو مصیبت ہمیں آئی تھی، راوی نے بیان کیا : پس آپ ﷺ ہمارے طرف چڑھے اور آپ فرما رہے تھے : اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا شدید غضب ہو جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون آلود کیا (1) (المستدرک علی الصحیحین، کتاب تفسیر باب آل عمران جلد 2، صفحہ 325، 324، دارالکتب العلمیہ) اور حضرت کعب بن مالک ؓ نے بیان کیا ہے : مسلمانوں میں سے سب سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچانا تھا، میں نے آپ ﷺ کو آپ کی آنکھوں سے پہچانا تھا جو خود کے نیچے سے روشن اور ظاہر تھیں، تو میں نے اپنی بلند آواز سے ندا لگائی : اے مسلمانوں کے گروہ ! تمہیں بشارت ہو یہ رسول اللہ ﷺ ہیں آپ تشریف لا چکے ہیں تو آپ ﷺ نے میری طرف اشارہ کیا کہ تو خاموش رہ۔
Ayah 3:153آیت نمبر ؛ 153۔
اذ قول باری تعالیٰ (آیت) ” ولقد عفاعنکم “۔ کے متعلق ہے، عام قرات ” تصعدون “ تا کے ضمہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہے، اور ابو رجا العطاردی، ابو عبدالرحمن سلمی، حسن اور قتادہ رحمۃ اللہ علہیم نے تا اور عین دونوں کو مفتوح پڑھا ہے۔ (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 567) یعنی ” تصعدون الجبل “ (تم پہاڑ پر چڑھ رہے تھے) ابن محیصن اور شبل نے ” اذیصعدون ولا یلوون دونوں فعلوں کو یا کے ساتھ پڑھا ہے اور حن نے تلون ایک واؤ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوبکر بن عیاش نے عاصم سے ولا تلوون تا کو ضمہ کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ لغت شاذہ ہے، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے، اور ابو حاتم نے کہا ہے : اصعدت (کہا جائے گا) جب تو اپنے چہرے کو پھیرتے ہوئے گزر جائے، اور صعدت (کہا جاتا ہے) جب تو پہاڑ یا کسی اور پر چڑھے، بلند ہو (3) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 567)
پس الاصعاد کا معنی ہموار زمین میں اور وادیوں اور گھاٹیوں کے بطن میں چلنا ہے اور الصعود کا معنی پہاڑوں، چھتوں، سیڑھیوں اور راستوں پر چڑھنا اور بلند ہونا ہے، اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان کا پہاڑ پر چڑھنا وادی میں چلنے کے بعد ہو، پس ” تصعدون “ اور ” تصعدون “ دونوں قراتوں کے مطابق معنی صحیح ہوگا۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ربیع ؓ نے بیان کیا ہے کہ وہ احد کے دن وادی میں چلے، اور حضرت ابی ؓ کی قرات ” اذ تصعدون فی الوادی “ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ احد میں فرار ہو کر چڑھے، نتیجتا دونوں قراتیں صحیح ہیں، اس دن شکست کھانے والے چلنے اور چڑھنے والے تھے۔ واللہ اعلم۔
مبرد اور قتبی نے کہا ہے : اصعد کا معنی ہے جب وہ جانے میں خوب دور ہوجائے (4) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 567) پس اصعاد زمین میں خوب دور چلے جانے کا کہتے ہیں اور یہ بلندی کی جانب خوب چڑھنے کی طرح ہے۔
شاعر نے کہا ہے :
الا ایھذا السائلی این اصعدت فان لھا من بطن یثرب موعدا :
خبردار اے مجھ سے سوال کرنے والے تو کہاں دور چلا گیا ہے کیونکہ اس کے لئے وادی یثرب جائے وعدہ ہے۔
اور فراء نے کہا ہے : اصعاد کا معنی سفر کو شروع کرنا اور اس کا آغاز کرنا ہے اور انحدار کا معنی سفر سے واپس لوٹنا ہے، کہا جاتا ہے : اصعدنا من بغداد الی مکۃ والی خراسان اور اسی کے مشابہ جبکہ ہم اس کی طرف نکلیں اور سفر شروع کردیں۔ اور انحدارنا جب ہم واپس لوٹیں، ابو عبیدہ نے کہا ہے :
قد کنت تبکین علی الاصعاد فالیوم سرحت وصاح الحادی :
اس میں اصعاد سفر شروع کرنے کے میں ہے۔
اور مفضل نے کہا ہے : صعد، اصعد، اور صغد تینوں کا معنی ایک ہے (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 567) اور تلوون کا معنی ہے تعرجون وتقیمون، یعنی تم میں سے بعض بعض کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بھاگتے ہوئے (یعنی ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تک نہیں۔ ) کیونکہ کسی شے کی طرف اپنی گردن کو موڑتا ہے یا اپنی سواری کی لگام کو موڑتا ہے، علی احد مراد حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں کلبی نے یہی کہا ہے (آیت) ” والرسول یدعون کم فی اخرکم “ ، ای فی اخرکم (اور رسول اللہ ﷺ تمہیں پیچھے سے بلا رہے تھے) کہا جاتا ہے : جاء فلان فی آکر الناس اخرۃ الناس واخری الناس واخریات الناس (یعنی فلاں لوگوں کے آخر میں آیا، پیچھے آیا) اور بخاری میں ہے اخراکم آکرکم کی تانیث ہے : عمرو بن خالد، زہیر اور ابو اسحاق نے بیان کیا ہے : میں نے حضرت براء بن عازب ؓ سے سنا انہوں نے بیان فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ نے احد کے دن کچھ لوگوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کو امیر مقرر کا یاور وہ بھاگ کر آگئے جبکہ ان کے پیچھے رہ کر رسول اللہ ﷺ ان کو بلاتے رہے۔ اور حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ وائے بارہ افراد کے کوئی باقی نہ رہا (2) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ والرسول یدعوکم جلد 2، صفحہ 655، اسلام آباد) حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : حضور نبی کریم ﷺ کی یہ پکار منکر (گناہ) کو تبدیل کرنے کے لئے تھی، کیونکہ یہ محال ہے حضور نبی مکرم ﷺ منکر جو کہ بھاگنا ہے کو دیکھیں اور پھر اس سے منع نہ کریں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اس بنا پر ہے کہ انہزام معصیت ہو اور اس طرح ہے نہیں، اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
قولہ تعالیٰ : فاثابکم غمابغم “ لغت میں غم کا معنی ہے التغطیۃ (ڈھانپنا) غممت الشیء کا معنی ہے میں نے اسے ڈھانپ لیا اور یوم غم ولیلۃ غمۃ (کہا جاتا ہے) جبکہ دن اور رات دونوں تاریک ہوں اور اسی سے غم الھلال بھی ہے جب چاند دکھائی نہ دے، اور غمنی الامر یغمنی (کام نے مجھے ڈھانپ لیا (یعنی جھ پر غالب آگیا)
حضرت مجاہد (رح) اور قتادہ وغیرہما نے کہا ہے : پہلا غم تو مقتول ہونا اور زخمی ہونا تھا، اور دوسرا غم حضور نبی کریم ﷺ کی شہادت کی خبر نے ان میں اضطراب پیدا کردیا، جبکہ شیطان نے اس کے بارے چیخ کر کہا، اور بعض نے یہ کہا ہے : پہلا غم وہ ہے جو فتح و کامرانی اور مال غنیمت ان سے کھو گیا اور دوسرا وہ جو قتل اور ہزیمت کا انہیں سامنا ہوا۔
اور بعض نے یہ کہا ہے کہ پہلا غم ہزیمت ہے، اور دوسرا ابو سفیان اور خالد بن ولید کا ان پر پہاڑ سے جھانکنا ہے، پس جب مسلمانوں نے ان کی طرف دیکھا تو اس نے انہیں غمزدہ کردیا، اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان پر جھانک رہے ہیں اور وہ انہیں قتل کریں گے پس اس نے انہیں وہ کچھ بھلا دیا جو انہیں حاصل ہوا تھا، تو اس وقت حضور نبی مکرم ﷺ نے یہ دعا مانگی : اللہم لا یعلن علینا “ (اے اللہ ! کوئی ہم پر غالب نہ آئے) جب کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اس بنا پر بغم میں بابمعنی علی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اپنے باب (اصل معنی) پر ہے اور معنی یہ ہے کہ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کو اپنی مخالفت کے سبب غمزدہ کیا پس اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں غم پہنچایا اس غم کے بدلے جو ان کی طرف سے آپ ﷺ کو پہنچایا گیا، اور حسن نے کہا ہے : (آیت) ” فاثابکم غما “۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں احد کے دن غم پہنچایا ” بغم “ اس کے بدلے جو غم بدر کے دن مشرکین کو پہنچا، اور غم کو ثواب کا نام دیا گیا ہے جس طرح کہ گناہ کی جزا کو ذنب کا نام دیا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے گناہ پر آگاہ کردیا پس وہ اس کے سبب اس مصیبت میں مشغول ہوگئے جو انہیں پہنچی تھی،
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم ولا ما اصابکم واللہ خبیر بما تعملون “۔ اس میں لام قول باری تعالیٰ : (آیت) ” ولقد عفاعنکم “۔ کے متعلق ہے، اور یہ قول بھی ہے : یہ (آیت) ” فاثابکم غما بغم “۔ کے متعلق ہے یعنی یہ غم اس غم کے بعد تھا تاکہ تم غمگین نہ ہو اس پر جو مال غنیمت تم سے کھو گیا، اور نہ اس مصیبت پر جو ہزیمت اور شکست کی صورت میں انہیں پہنچی۔
پہلا قول زیادہ اچھا ہے اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” ما اصابکم “۔ میں ما محل جر میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاصلہ ہے، یعنی لکی تحزنوا علی ما فاتکم وما اصابکم عقوبۃ لکم علی مخالفتکم رسول اللہ ﷺ (تاکہ تم اس پر غمگین نہ ہو جو تم سے (مال غنیمت) کھو گیا اور جو مصیبت تم کو پہنچی اس بنا پر کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی)
اور یہ اس قول کی مثل ہے : (آیت) ” ما منعک الا تسجد اذ امرتک “ (الاعراف : 12) ای ان تسجد (کس چیز نے روکا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے جب میں نے حکم دیا تجھے) اور اس قول کی مثل ہے (آیت) ” لئلا یعلم اھل الکتب “۔ (الحدید : 29) ای لیعلم (تم پر یہ خصوصی کرم اس لئے کیا تاکہ جان لیں اہل کتاب) یہ مفضل کا قول ہے، اور بعض نے کہا ہے : (آیت) ” فاثابکم غما بغم “۔ سے مراد یہ ہے کہ تم پر لگا تار غم آئے تاکہ تم اس کے بعد غنائم کے بارے میں (کسی فکر میں) مشغول نہ ہو، (آیت) ” واللہ خبیر بما تعملون “۔ اس میں تحذیر اور وعید کا معنی ہے :
Ayah 3:154آیت نمبر : 154۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ نعاسا “۔ امنۃ اور امن دونوں مساوی اور ہم معنی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ امنۃ (راحت) اسباب خوف کے ساتھ ہوتی ہے اور امن خوف نہ ہونے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور یہ (امنۃ) منصوب ہے، انزل کے سبب، اور نعاصا اس (امنۃ) سے بدل ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے مفعول لہ کی بنا پر نصب دی گئی ہے گویا کہ یہ کہا ہے : انزل علیکم للامنۃ نعاسا، (پھر تم پر راحت کے لئے غنودگی اتاری) ابن محیصن نے امنۃ میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، اللہ تعالیٰ نے احد کے دن ان غموں کے بعد مومنین پر غنودگی کے ساتھ فضل و احسان فرمایا یہاں تک کہ ان میں سے اکثر سو گئے، بلاشبہ سوتا وہی ہے جو امن و سکون میں ہوتا ہے اور خوفزدہ آدمی سو نہیں سکتا، بخاری نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے کہا : ہماری اوپر غنودگی اور نیند طاری ہوگئی احد کے دن حالانکہ ہم اپنی صفوں میں تھے انہوں نے بیان کیا : پس میری تلوار میرے ہاتھ سے گرنے لگتی تو میں اسے اٹھا لیتا اور کبھی وہ گر جاتی اور میں اسے اٹھا لیتا، (1) (صحیح بخاری، کتاب تفسیر القرآن، باب قولہ امنۃ نعاسا، جلد 2، صفحہ 655)
یغشی اسے تا اور یا دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اگر یا کے ساتھ ہو تو ضمیر کا مرجع نعاس ہوگا، اور اگر تا کے ساتھ ہو تو ضمیر کا مرجع امنۃ ہوگا، اور الطائغۃ کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ (آیت) ” وطائفۃ قد اھمتھم انفسھم “۔ مراد منافقین ہیں یعنی معتب بن قشیر اور اس کے ساتھی وہ مال غنیمت کے طمع اور مومنین کے خوف میں نکلے تو نیند ان پر طاری نہ ہوئی اور وہ اپنی حاضری پر تاسف کرنے لگے، اور وہ طرح طرح کی بدگمانیاں کرنے لگے اور (آیت) ” وطآئفۃ قدا ھمتھم کا معنی ہے اس نے انہیں غم پر ابھارا اور غم وہ ہے جس کا قصد کیا گیا، کہ ا جاتا ہے، اھمنی الشیء یعنی وہ میرا غم اور فکر ہے اور امر مھم : انتہائی سخت اور شدید معاملہ اور اھمنی الامر، امر نے مجھے غم اور اضطراب میں ڈال دیا، اور ھمنی کا معنی ہے اذا بنی اس نے مجھے پگھلا دیا، اور وطائفۃ میں واؤ حالیہ ہے اور بمعنی اذ ہے، یعنی اذ طائفۃ یظنون جبکہ ایک جماعت بدگمانی کرنے لگی کہ محمد ﷺ کا امر باطل ہے اور یہ کہ ان کی مدد نہیں کی جائے گی : ظن الجاھلیۃ یعنی اہل جاہلیت کی بدگمانی اور اس سے مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔
(آیت) ” یقولون ھل لنا من الامر من شیئ “ اس میں لفظ استفہام ہے اور اس کا معنی انکار ہے، یعنی مالنا شیء من الامر ‘(ہمارا اس کام میں کوئی دخل نہیں) یعنی خروج کے معاملہ میں، بلاشبہ ہمیں تو بالا کراہ نکالا گیا ہے، اور اس پر ان کی طرف سے بطور خبر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے،
(آیت) ” لوکان لنا من الامر شیء ما قتلنا ھھنا “۔
ترجمہ ؛ اگر ہمارا اس کام میں کچھ دخل ہوتا تو ہم یہاں (اس بےدردی سے) نہ مارے جاتے۔
حضرت زبیر ؓ نے کہا ہے : اس دن ہم پر نیند طاری کردی گئی، اور میں معتب بن قشیر کا قول سن رہا تھا حالانکہ مجھ پر نیند غالب آرہی تھی وہ کہہ رہا تھا : اگر ہمارا اس کام میں کچھ دخل ہوتا تو ہم یہاں (اس بےدردی کے ساتھ) نہ مارے جاتے۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 568) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کے قول کا معنی یہ ہے ہمیں اس کامیابی میں سے کچھ حاصل نہیں ہوا جس کا وعدہ محمد ﷺ نے ہمارے ساتھ کیا تھا، واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” قل ان الامر کلہ للہ “۔ ابو عمرو اور یعقوب نے کلہ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس لئے کہ یہ مبتدا ہے اور للہ اس کی خبر ہے اور پھر پورا جملہ اس کی خبر ہے، اور یہ اس قول کی طرح ہے :
(آیت) ” ویوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ “۔ (الزمر : 60)
ترجمہ : اور روز قیامت آپ دیکھیں گے انہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے تھے اس حال میں کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
اور باقیوں نے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : ان الامر اجمع للہ “۔ اور یہ تاکید ہے اور یہ احاطہ اور عموم میں اجمع کے معنی میں ہے اور اجمع صرف توکید کے لئے ہی ہوتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ امر کی صفت ہے اور اخفش نے کہا ہے : یہ بدل ہے یعنی مددونصرت اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کی مدد کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے رسوا کردیتا ہے اور جو یبر نے ضحاک (رح) سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری تعالیٰ (آیت) ” یظنون باللہ غیر الحق ظن الجاھلیۃ “۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس سے مراد تقدیر کو جھٹلانا ہے (2) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 569) اور یہ اس لئے کہ انہوں نے اس بارے میں کلام کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ’‘’ قل ان الامر کلہ للہ “۔ یعنی اچھی اور بری تقدیر سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے : (آیت) ” یخفون فی انفسھم “۔ یعنی وہ چھپائے ہوئے ہیں اپنے دلوں میں شرک، کفر اور تکذیب، (آیت) ” مالا یبدون لک “ وہ جو تمہارے لئے ظاہر نہیں کرتے۔
(آیت) ” یقولون لو کان لنا من الامر شیء ما قتلنا ھھنا “۔
یعنی (اگر ہمارا اس کام میں کچھ دخل ہوتا) تو ہماری جماعت قتل نہ کی جاتی، اور یہ بھی کہا گیا ہے : منافقین کہتے اگر ہماری عقل ہوتی تو ہم اہل مکہ کے ساتھ جنگ کے لئے نہ نکلتے اور نہ ہمارے سردار قتل کئے جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ جواب لوٹایا اور کہا :
(آیت) ” قل لو کنتم فی بیوتکم لبرز “۔ آپ فرمائے : اگر تم اپنے گھروں میں (بیٹھے) ہوتے تو (وہاں سے) ضرور نکل آتے (وہ لوگ) (آیت) ” الذین کتب “۔ جن کے بارے لکھا جا چکا ہے (یعنی جن کا مقدر بنا دیا گیا ہے) علیہم القتل “۔ قتل یعنی لوح محفوظ میں۔ الی مضاجعھم یعنی اپنی قتل گاہوں کی طرف اور یہ بھی کہا گیا ہے : کتب علیھم القتل یعنی اس پر قتال (جنگ) فرض کیا گیا ہے پس اسے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اسے اس کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔
ابو حیوہ نے لبرز با کے ضمہ اور را کی شد کے ساتھ پڑھا ہے، بمعنی یجعل یخرج (انہیں نکال لیا جائے گا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اے منافقین ! اگر تم پیچھے رہ جاتے تو تم اس کے علاوہ کسی دوسرے میدان جنگ کی طرف نکل پڑتے اس میں تم قتل کردیئے جاؤ گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آزما لے گا جو کچھ سینوں میں چھپا ہوا ہے اور اسے مومنین کے لئے ظاہر کر دے گا۔
اور قول باری تعالیٰ ” ولیبتلی “۔ میں واؤ مقحمہ ہے جیسا کہ اس قول میں ہے : (آیت) ” ولیکون من المؤقنین “۔ یعنی لیکون۔ اور اس فعل کو حذف کردیا گیا ہے جو لام کی کے ساتھ ہے، اور تقدیر عبارت ہے (آیت) ” ولیبتلی اللہ ما فی صدورکم ولیمحص ما فی قلوبکم “۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر قتال اور جنگ مقدر کردی ہے اور احد کے دن اس نے تمہاری مدد نہیں کی تاکہ وہ تمہارے صبر کو آزمائے، اور تم سے تمہارے گناہ معاف کر دے اگر تم توبہ کرو اور مخلص ہوجاؤ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیبتلی کا معنی ہے تاکہ تو وہ تمہارے ساتھ مختبر کا معاملہ کرے، اور بعض نے کہا ہے : تاکہ تم سے مشاہدہ واقع ہو جس کا اسے غیبا علم ہے، اور کہا گیا ہے : یہ مضاف کے حذف کی بنا پر۔ اور تقدیر عبارت ہے ” لیبتلی اولیاء اللہ تعالیٰ “۔ تاکہ وہ اولیاء اللہ کو آزمالے۔ اور تمحیص کا معنی پہلے گزر چکا ہے، (آیت) ” واللہ علیم بذات الصدور “۔ یعنی سینوں میں خیر وشر میں سے جو ہے (اللہ اسے جانتا ہے) اور یہ قول بھی ہے کہ ذات الصدور سے مراد سینے ہی ہیں، کیونکہ ذات الشیء سے مراد اس کی اپنی ذات ہی ہوتی ہے۔
Ayah 3:155آیت نمبر : 155۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انما استزلھم الشیطن ببعض ما کسبوا “۔ یہ جملہ (آیت) ” ان الذین تولوا “۔ کی خبر ہے اور مراد وہ ہیں جو مشرکین سے احد کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے، حضرت عمر ؓ وغیرہ سے یہی منقول ہے، حضرت سدی نے کہا ہے : مراد وہ لوگ ہیں جو ہزیمت کے وقت مدینہ طیبہ کی طرف بھاگ گئے نہ کہ وہ جو پہاڑ پر چڑھ گئے، اور بعض نے کہا ہے : یہ اس قوم کے ان معین افراد کے بارے ہے جو اپنی ہزیمت کے وقت میں تین دن تک حضور نبی مکرم ﷺ سے پیچھے رہے اور پھر لوٹ گئے اور (آیت) ” استزلھم الشیطن “۔ کا معنی ہے شیطان نے ان کے پھسلنے کا تقاضا کیا اس طرح کہ انہیں ان کی گزشتہ خطائیں یاد دلائیں تو وہ ثابت رہنے پر مجبور ہوگئے تاکہ وہ قتل نہ کردیئے جائیں، اور (آیت) ” ببعض ما کسبوا “۔ کا یہی معنی ہے۔
اور بعض نے کہا ہے : استزلھم “ کا معنی ہیی۔ اس نے انہیں پھسلاہٹ پر ابھارا، یہ باب استفعال ہے اور الزلۃ سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی خطا اور گناہ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زل اور ازل دونوں کا معنی ایک ہے، پھر کہا گیا : انہیں اخلاص کے ساتھ توبہ کرنے سے پہلے قتال (جنگ) پر مجبور کیا گیا تو اسی وجہ سے وہ پیٹھ پھیر گئے یہ پہلے قول کی بنا پر ہے اور دوسرے قول کے مطابق یہ ہے کہ انہوں نے مرکز کو چھوڑ کر اور مال غنیمت کی طرف مائل ہو کر حضور نبی کریم ﷺ کی نافرمانی کی۔
اور حسن نے کہا ہے ؛ (آیت) ” ما کسبوا “۔ (یعنی اس کے عوض) جو انہوں نے ابلیس کا قول قبول کیا جو اس نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا، اور کلبی نے کہا ہے : شیطان نے انکے لئے ان کے اعمال آراستہ اور مزین کئے اور یہ قول بھی ہے کہ انھزام معصیۃ نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے مدینہ منورہ میں قلعہ بند ہونے کا ارادہ کیا، پس دشمن نے ان میں اپنا طمع اور حرص ختم کردی جب انہوں نے یہ سن لیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ قتل کردیئے گئے ہیں اور یہ کہا جانا بھی جائز ہے کہ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کی پکار کو اس خوف کی وجہ سے نسا ہی نہیں جس خوف اور ڈر میں وہ مبتلا تھے اور یہ کہنا بھی جائز ہے کہ دشمن کی تعداد کئی گنا زیادہ تھی، کیونکہ وہ سات سو تھے اور دشمن کی تعداد تین ہزار تھی اور اسی حالت میں بھاگنا جائز ہوتا ہے، لیکن نبی کریم ﷺ سے بھاگنا خطا اور گناہ ہے جو جائز نہیں ہے، اور شاید انہیں یہ وہم بھی ہوگیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ پہاڑ کی طرف چلے گئے ان میں سے پہلے قول احسن ہے۔ المختصر اگر معاملہ کو ثابت شدہ گناہ پر محمول کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیا ہے۔ اور اگر اسے انہزام جائز پر محمول کیا جائے تو آیت ان کے بارے میں ہے جو ہزیمت سے بہت دور ہیں اور اتنی مقدار پر زائد ہے جو جائز قرار دی گئی ہے۔ ابو اللیث سمر قندی نصر بن محمد بن ابراہیم نے کہا ہے : خلیل بن احمد، سراج، قتیبہ، ابوبکر بن غیلان نے جریر سے نقل کیا ہے کہ حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے مابین گفتگو ہوئی، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے انہیں کہا : کیا تم مجھے برا بھلا کہتے ہو حلان کہ میں بدر میں حاضر تھا اور تم حاضر نہ تھے، اور میں نے درخت کی نیچے بیعت کی تھی (یعنی بیعت رضوان میں میں حاضر تھا) اور تم نے بیعت نہیں کی، اور احد کے دن تم نے بھی پیٹھ پھیرنے والوں کی ساتھ پیٹھ پھیرلی تھی، تو حضرت عثمان نے انہیں جواب دیتے ہوئے فرمایا : جہاں تک تمہارا یہ قول ہے کہ میں بدر میں حاضر تھا اور تم حاضر نہ تھے تو میں کسی ایسے کام سے غائب نہیں ہوا جس میں رسول اللہ ﷺ حاضر ہوئے ہوں، مگر یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی بیمار تھی اور میں ان کے پاس ان کی تیمارداری کے لئے رہا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے مسلمانوں کے حصص کے ساتھ برابر کا حصہ دیا، اور رہا بیعت الشجرہ کا مسئلہ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے مشرکین مکہ کے پاس بطور سفیر بیجھا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ مارا اور فرمایا ھذہ لعثمان یہ عثمان کے لئے ہے، پس رسول اللہ ﷺ کا دایاں اور آپ کا بایاں میرے دائیں اور بائیں سے میرے لئے انتہائی بہتر ہے اور رہا یوم الجمع (احد کا دن) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولقد عفا اللہ عنھم “۔ تو میں بھی ان میں شامل ہوگیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا، نتیجتا حضرت عثمان ؓ دلیل سے غالب آگئے (1) (صحیح بخاری فضائل صحابہ باب، عثمان بن عفان، جلد 1، صفحہ 523، اسلام آباد)
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ معنی صحیح ہے اور ابن عمر ؓ سے بھی مروی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے انہوں نے بیان کیا : عبدان، ابو حمزہ نے عثمان بن موہب سے بیان کیا ہے انہوں نے کہا : ایک آدمی آیا اور اس نے بیت اللہ شریف کا حج کیا تو اس نے ایک قوم کو وہاں بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس نے پوچھا یہ بیٹھنے والے لوگ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ قریش ہیں۔ اس نے پوچھا : شیخ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : حضرت ابن عمر ؓ پس وہ انکے پاس آیا اور کہا : میں ایک شے کے بارے تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا مجھے بتاؤ گے ؟ اس نے کہا : میں تجھے اس گھر کی حرمت کی قسم دیتا ہوں، کیا تم یہ جانتے ہو کہ حضرت عثمان ؓ احد کے دن فرار ہوئے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، پھر اس نے کہا : کیا آپ ان کے بارے یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ بدر کے دن بھی میدان سے غائب تھے وہ اس میں حاضر نہیں ہوئے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔
پھر اس نے پوچھا : کیا ؤپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ بیت رضوان سے بھی پیچھے رہ گئے اور اس میں حاضر نہ ہوئے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں۔ راوی نے کہا : پس اس آدمی نے نعرہ تکبیر بلند کیا، تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا آؤ میں تجھے بتاؤں اور جن امور کے بارے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے میں تیرے لئے اس کی وضاحت کروں، جہاں تک احد کے دن آپ کے فرار کا تعلق ہے تو میں یہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے اور رہا بدر سے ان کے غائب ہونے کا معاملہ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھی اور وہ بیمار تھیں تو حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا : ” ان لک اجر رجل ممن شھد بدرا وسھمہ “۔ (بلاشبہ تمہارے لئے اس آدمی کے برابر اجر اور (مال غنیمت سے) حصہ ہے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے) اور جہاں تک بیعت رضوان سے غائب ہونے کا تعلق ہے (تو اس کی وجہ یہ ہے) کہ اگر بطن مکہ میں حضرت عثمان بن عفان ؓ سے زیادہ عزت والا کوئی موجود ہوتا تو یقینا آپ ﷺ ان کی جگہ اسے بھیجتے، پس آپ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو بھیجا اور حضرت عثمان ؓ کے مکہ مکرمہ کی طرف جانے کے بعد بیعت رضوان ہوئی، تو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کے بارے میں فرمایا : ھذہ ید عثمان ‘ یہ عثمان کا ہاتھ ہے، پس آپ ﷺ نے اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : ہذہ لعثمان “ یہ بیعت عثمان کے لئے ہے۔ اب اسے تو اپنے ساتھ لے جا۔ (1) (صحیح بخاری کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 581، اسلام آباد)
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس آیت کی نظیر اللہ تعالیٰ کا آدم (علیہ السلام) کی توبہ کو قبول کرنا ہے اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے فحج آدم موسیٰ “۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) دلیل کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے، اور وہ اس طرح کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کو درخت کا پھل کھانے کے سبب اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو جنت سے نکالنے پر زجروتوبیخ اور ملامت کریں، تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا : کیا تم مجھے ایسے کام پر ملامت کرتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرا مقدر بنادیا تھا۔ (2) (صحیح بخاری کتاب التوحید، باب کلم اللہ موسیٰ تکلیما، جلد 2 صفحہ 119، اسلام آباد، مسلم کتاب القدر، باب تحاج آدم موسیٰ ، جلد 2، صفحہ 335، کراچی ایضا صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث نمبر 6124، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اللہ تعالیٰ نے میری توبہ قبول فرما لی ہے اور جس کی توبہ قبول ہوجائے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا اور جس کا کوئی گناہ نہ ہو تو اسے ملامت نہیں کی جاسکتی اور اسی طرح وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف فرما دے اور بلاشبہ وہ یہ ہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے اور اس کی خبر سچی ہے اور ان دو کے سوا توبہ کرنے والے گنہگار اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیداوار ہوتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے بھی ہیں پس وہ اس پریشانی اور خوف میں ہوتے ہیں کہ ان کی توبہ قبول نہ کی جائے اور اگر قبول کرلی جائے تو بھی خوف ان پر غالب ہوتا ہے کیونکہ انہیں اس کے بارے علم نہیں ہوتا، فاعلم۔
Ayah 3:156آیت نمبر 156۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین کفر “۔ مراد منافقین ہیں۔
(آیت) ” وقالوا لاخوانھم “۔ یعنی جو نفاق میں یا نسب میں (ان کے بھائی تھے) اور ان سرایا میں گئے جنہیں حضور نبی مکرم ﷺ نے بئر معونہ کی طرف بھیجا (انہیں کہتے تھے)
(آیت) ” لو کانو عندنا ما ماتوا وما قتلوا “۔
ترجمہ ؛ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔
تو اس میں مسلمانوں کو انکی مثل قول کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت) ” اذا ضربوا “ یہ زمانہ ماضی کے لئے ہے، یعنی اذ ضربوا “ ، (جب انہوں نے سفر کیا) کیونکہ کلام میں شرط کا معنی ہے اس حیثیت سے کہ (آیت) ” الذین “ مبہم غیر موقف ہے پس اذا، اذ کے محل میں واقع ہے، جیسا کہ ماضی جزا میں مستقبل کے محل میں واقع ہوتی ہے، اور (آیت) ” ضربوا فی الارض “ کا معنی ہے انہوں نے زمین میں سفر کیا اور تجارت یا دیگر کاموں کے لئے چلے اور مر گئے، (آیت) ” او کانوا غزی “ یا وہ جہاد میں گئے اور قتل کردیئے گئے اور ” العزی “ جمع منقوص ہے اس کا لفظ حالت رفعی اور جری میں تبدیل نہیں ہوتا، اور ان کا واحد غاز ہے، جیسا کہ راکع کی جمع رکع، صائم کی جمع صوم، نائم کی جمع نوم، شاہد کی جمع شھد، اور غائب کی جمع غیب ہے اور جمع میں غزاۃ بھی جائز ہے جیسا کہ قضاۃ اور غزا مد کے ساتھ بھی مثلا ضراب اور صوام اور کہا جاتا ہے : غزی “ ، الغزاۃ کی جمع ہے۔
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
قل للقوافل والغزی اذا غزوا :
اس میں الغزی الغزاۃ کی جمع کے طور پر مذکور ہے :
اور زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے غزی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور المغزیۃ ایسی عورت جس کا خاوند جہاد پر ہو۔ اور اتان مغزیۃ یعنی ایسی گدھی جس کا بچہ مؤکر ہوجائے (پیچھے ہوجائے) اور پھر اسے نکالا جائے، اور اعزت الناقۃ “ جب اس کی جان تنگ ہوجائے، اور ” الغزو “۔ کا معنی ہے کسی شے کا قصد و ارادہ کرنا، اور المغزی سے مراد مقصد ہے، اور غزو کی طرف نسبت کی وجہ غزوی کہا جاتا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیجعل اللہ ذلک حسرۃ فی قلوبھم “۔ یعنی ان کے گمان اور ان کے قول کو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں باعث حسرت بنا دے، اور لام قول باری تعالیٰ (آیت) ” قالوا “ کے متعلق ہے، یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے گمان کو بنا دے کہ اگر وہ نہ نکلتے تو قتل نہ کیے جاتے حسرۃ اس کا معنی ندامت ہے۔
(آیت) ” فی قلوبھم “۔ اور حسرت کا مفہوم ہے کھو جانے والی شے پر اظہار افسوس کرنا جس تک پہنچانا مقدر نہ ہو۔
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
فواحسرتی لم اقض منھا لبانتی ولم اتتع بالجوار و بالقرب :
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ محذوف سے متعلق ہے اور معنی ہے تم ان کی مثل نہ ہوجاؤ۔
تاکہ اللہ تعالیٰ بنائے اس قول کو ان کے دلوں میں (باعث) حسرت کیونکہ ان کا نفاق ظاہر ہوچکا ہے اور یہ قول بھی ہے اس کا معنی ہے تم انکی تصدیق نہ کرو اور نہ تم ان کی طرف متوجہ ہو، پس یہی ان کے دلوں میں حسرت ہے اور بعض نے کہا ہے : ” تاکہ اللہ تعالیٰ اسے ان کے دلوں میں حسرت بنائے قیامت کے دن کیونکہ اس دن وہ رسوائی اور ندامت میں ہوں گے اور اس دن مسلمان نعمتوں اور کرامت میں ہوں گے، قولہ تعالیٰ (آیت) ” واللہ یحی ویمیت “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ اسے زندہ رکھے جو جنگ کے لئے نکلتا ہے اور اسے مار دے جو اپنے اہل خانہ میں مقیم اور ٹھہرا ہوا ہے۔ (آیت) ” واللہ بما تعملون بصیر “۔ اسے یا اور تا دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل ہوجانا اور اس میں مر جانا تمام دنیا سے بہتر ہے۔
Ayahs 3:157–158آیت نمبر 157 تا 158۔
جواب الجزاء محذوف ہے، اور یہ جواب قسم کے سبب اس سے مستغنی ہے اور جواب قسم اس قول میں ہے : (آیت) ” لمغفرۃ من اللہ ورحمۃ “۔ اور جواب قسم کے سب مستغنی ہونا اولی اور بہتر ہے کیونکہ اس کے لئے صدر کلام (ضروری) ہے اور اس کا معنی ہے۔ لیغفرن لکم “ وہ ضرور بہ ضرور تمہاری مغفرت فرما دے گا۔
اور اہل حجاز کہتے ہیں : متم، میم کے کسرہ کے ساتھ جیسا کہ نمتم ہے، یہ مات یمات سے ماخوذ ہے جیسا کہ خفت یخاف ہے، اور سفلی مضرکہتے ہیں : متم، یہ میم کے ضمہ کے ساتھ ہے جیسا کہ صمتم، اور یہ مات یموت سے ماخوذ ہے، جیسا کہ تیرا قول : کان یکون اور قال، یقول، یہ کو فیوں کا قول ہے اور یہ اچھا ہے، اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا الی اللہ تحشرون “۔ یہ وعظ ونصیحت ہے، اللہ تعالیٰ انہیں اس قول کے ساتھ نصیحت کی ہے، یعنی تم جنگ سے بھاگو نہیں اور نہ اس سے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے بلیہ تم اس کی سزا اور اس کے دردناک عذاب سے بھاگو، کیونکہ تمہیں اس کی طرف لوٹنا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی تمہارے لئے نہ نقصان اور ضرر کا مالک ہے اور نہ ہی نفع کا۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔