Ayah 3:180آیت نمبر : 180۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا یحسبن الذین “۔ اس میں الذین محل رفع میں ہے اور مفعول اول محذوف ہے خلیل، سیبویہ اور فراء نے کہا ہے : اس کا معنی البخل، خیرا لھم “ ، یعنی بخل کرنے والے یہ گمان نہ کریں (کہ) بخل ان کے لیے بہتر ہے۔ (1) (جامع البیان للطبری، جلد 3۔ 4، صفحہ، 6 23) اور چونکہ یبخلون بخل پر دلالت کر رہا ہے اس وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے اور یہ اس قول کی طرح : من صدق کان خیرالہ ای کان الصدق خیرالہ “۔ (جس نے سچھ بولا وہ سچ اس کے لیے بہتر ہے)
اور اسی سے شاعر کا قول ہے :
اذا نھی السفیہ جزی الیہ وخالف والسفیہ الی خلاف :
پس معنی ہے : جری الی السفہ، پس سفیہ سفہ پر دلالت کرتا ہے۔
(جب سفیہ (احمق) کو منع کیا گیا تو وہ اسی کی طرف چلا اور اس نے مخالفت کی اور سفیہ خلاف کی طرف گیا)
اور رہی حمزہ کی قرات تا کے ساتھ تو وہ (حقیقت سے) بہت دور ہے نحاس نے یہی کہا ہے اور اس کا جواز اس صورت میں ہے کہ تقدیر عبارت یہ ہو : (آیت) ” لا تحسبن بخل الذین یبخلون ھو خیرا لھم (2) (جامع البیان للطبری، جلد 3۔ 4، صفحہ، 6 23) (تو ان لوگوں کے بخل کے بارے جو بخل کرتے ہیں گمان بھی نہ کر کہ وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ )
زجاج نے کہا ہے : یہ واسال القریۃ کی مثل ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 547 دارالکتب العلمیہ) (یعنی مضاف محذوف ہے) اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” ھو خیرالھم “۔ میں ھو بصریوں کے نزدیک ضمیر فاصلہ ہے اور کو فیوں کے نزدیک یہی ضمیر عماد ہے، نحاس نے کہا ہے : عربی میں مبتدا خبر ہونے کی حیثیت سے (آیت) ” ھو خیرالھم “۔ بھی جائز ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ “۔ (آیت) ” بل ھو شرلھم “۔ یہ مبتدا اور خبر ہیں۔ یعنی ” البخل شرلھم “ (بخل انکے لیے بہت برا ہے)
اور سیطوقون میں سین ہے یعنی سوف یطوقون “۔ (انہیں طوق پہنایا جائے گا) مبرد نے یہی کہا ہے یہ آیت مال، انفاق فی سبیل اللہ، اور فرض زکوۃ کی ادائیگی میں بخل کرنے کے بارے نازل ہوئی ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 547 دارالکتب العلمیہ) اور یہ اس ارشاد کی طرح ہے : (آیت) ” ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ “۔ الآیہ (التوبہ : 34)
تاویل کرنے والوں کی ایک جماعت اسی طرف گئی ہے ان میں سے حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ابو وائل ؓ ، ابو مالک ؓ اور شعبی ؓ ہیں، انہوں کے کہا ہے : (آیت) ” سیطوقون مابخلوابہ “۔ کا معنی وہ ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں موجود ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 547 دارالکتب العلمیہ) کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ” جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی قیامت کے دن وہ اس کے لئے اژدھا کی شکل بنادیا جائے گا اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نشان ہوں گے قیامت کے دن اسے اس کا طوق پہنایا جائے گا پھر وہ اسے اپنے دونوں جبڑوں کے ساتھ پکڑ لے گا اور پھر کہے گا میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ (کنز) ہوں۔۔۔۔۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” ولا یحسبن الذین یبخلون “ الایہ۔ (3) (سنن نسائی، کتاب الزکوۃ جلد 1، صفحہ 343، ایضا صحیح بخاری، باب اثم ما نع الزکوۃ حدیث 1315، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اسے نسائی نے روایت کیا ہے، اور ابن ماجہ نے اسے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ نے فرمایا : کوئی بھی جو اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے لئے اسے ایک زہریلے اژدھا کی شکل بنا دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی گردن میں اس کے ساتھ طوق پہنایا جائے گا “ پھر حضور نبی مکرم ﷺ نے ہم پر کتاب اللہ میں سے اس کا مصداق یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتھم اللہ من فضلہ “۔ الآیہ (4) (سنن ابن ماجہ، کتاب الزکوۃ جلد 1، صفحہ 129، ایضا ابن ماجہ حدیث نمبر 1773، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور آپ ﷺ سے یہ روایت بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” کوئی ذی رحم (رشتہ دار) نہیں ہے جو اپنے ذی رحم کے پاس آتا ہے اور اس سے اس فضل و احسان (مراد مال) میں سے کچھ مانگتا ہے جو اس کے پاس ہے پس وہ اس کے بارے میں اس پر بخل کرتا ہے، مگر قیامت کے دن اس کے لئے جہنم سے ایک اژدھا نکالا جائے گا جو زبان (باہر نکال کر) ادھر ادھر پھیر رہا ہوگا تاکہ اسے اس کا طوق پہنائے (5) (المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 2 صفحہ 322، حدیث نمبر 2343) اور حضرت ابن عباس ؓ نے بھی کہا ہے : بلاشبہ یہ آیت اہل کتاب اور ان کے بخل کے بارے میں ان کے بیان سے جو کچھ وہ حضور نبی مکرم ؓ کے بارے میں جانتے تھے نازل ہوئی (6) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 547 دارالکتب العلمیہ) اور حضرت مجاہد (رح) اور اہل علم کی ایک جماعت نے یہی کہا ہے۔ اور اس تاویل پر (آیت) ” سیطوقون “۔ کا معنی ہے عنقریب وہ اس کی سزا برداشت کریں گے جو انہوں نے آپ کے ساتھ بخل کیا اور یہ طاقتہ سے ماخوذ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا۔
(آیت) ” وعلی الذین یطیقونہ “۔ (البقرہ : 184)
ترجمہ : اور جو لوگ اسے مشکل سے ادا کرسکیں۔
اور تطویق سے ماخوذ نہیں ہے (1) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 409) اور حضرت ابراہیم نخعی نے کہا ہے : (آیت) ” سیطوقون “ کا معنی ہے کہ انکے لئے قیامت کے دن آگ کا طوق بنایا جائے گا (2) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 409) اور یہ پہلی تاویل کے ساتھ یعنی سدی کے قول کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : ان کے اعمال کو انکے ساتھ چمٹا دیا جائے گا جیسا کہ طوق گردن کے ساتھ چمٹ جاتا ہے کہا جاتا ہے : طوق فلان عملہ طوق الحمامۃ “۔ فلاں کو اس کے عمل کا طوق پہنایا گیا کبوتری کے طوق کی طرح، یعنی اسے کا عمل چمٹا دیا گیا، اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “۔ (الاسراء 13)
ترجمہ ؛ اور ہر انسان کی (قسمت کا) نوشتہ اس کے گلے میں ہم نے لٹکا رکھا ہے)
اور اسی معنی میں ابو سفیان کے لئے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کا قول بھی ہے :
ابلغ ابا سفیان عن امر عوقبہ ندامہ :
تو ابو سفیان کو اس امر کا پیغام پہنچا دے جس کا انجام ندامت اور شرمندگی ہے۔
دار ابن عمک بع تھا تقضی بھا عنک العرامہ :
تو نے اپنے چچا کے بیٹے کا گھر بیچ دیا ہے اس کے عوض تجھ سے تاوان لیا جائے گا۔
وحلیفکم باللہ رب الناس مجتھد القسامۃ :
اور قسم ہے اللہ کی جو لوگوں کا رب ہے تمہار حلیف قسامہ کو کوشش کر رہا ہے۔
اذھب بھا اذھب بھا طوق تھا طوق الحمامہ :
تو اسے لے جا تو اسے لے جا تجھے کبوتری کے طوق کی طرح اس کا طوق پہنایا جائے گا۔
اور یہ دوسری تاویل کے مطابق جاری ہوتا ہے بخل اور بخل کا لغت میں معنی یہ ہے کہ انسان کا اس حق کو (ادا کرنے) سے باز رہنا جو (حق) اس پر واجب ہو۔
پس جو کوئی اس سے باز رہا جو اس پر واجب نہیں ہوتا تو وہ بخیل نہیں ہے، کیونکہ اس پر مذمت نہیں کی جاتی ہے، اور اہل حجاج کہتے ہیں : یبخلون وقد بخلوا “۔ (وہ بخل کرتے ہیں اور تحقیق انہوں نے بخل کیا، اور تمام عرب کہتے ہیں : بخلوا یبخلون۔
اسے نحاس نے بیان کیا ہے : اور بخل یبخل بخلا وبخلا ‘، یہ ابن فارس سے منقول ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) تیسرا مسئلہ بخل کے ثمرہ اور اس کے فائدہ کے بارے میں ہے، اور اس کے بارے روایت کیا گیا ہے۔ کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے انصاری کو فرمایا : تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی جد بن قیس اس بنا پر کہ اس میں بخل ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اور کون سی بیماری (عیب) ہے جو بخل سے بڑھ کر ہو “ (یعنی جو بخل سے زیادہ قبیح ہو) انہوں نے عرض کی : وہ کیسے یارسول اللہ ﷺ ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک قوم ساحل سمندر کے قریب اتری پس وہ اپنے بخل کے سبب اپنے پاس مہمانوں کے آنے سے تنگ اور مجبور ہوگئے تو انہوں نے یہ تدبیر کی کہ ہم میں سے مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں سے دور فاصلے پر رہیں تاکہ مرد عورتوں کے دور ہونے کے سبب مہمانوں کے سامنے معذرت کریں، اور عورتیں مردوں کے دور ہونے کے سب ان سے معذرت کریں، پس انہوں نے ایسا کرلیا اور اسی طرح ان پر طویل وقت گزر گیا نتیجتا مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ (استمتاع کے لئے) مشغول ہوگئے (1) (المستدرک، معرلہ الصحابۃ جلد 3، صفحہ 242، حدیث نمبر 4965) اسے الماوردی نے کتاب ” ادب الدنیا والدین “ میں ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) بخل اور شح میں اختلاف ہے، کیا یہ دونوں ایک معنی میں ہیں یا دو معنوں میں، چناچہ کہا گیا ہے : البخل الامتناع من اخراج ماحصل عندک (بخل سے مراد اس شے کو دینے اور نکالنے سے باز رہنا ہے جو تیرے پاس موجود ہو) اور الشح ! الحرص علی تحصیل مالیس عندک “۔ (شح سے مراد اس شے حاصل کرنے کی حرص رکھنا ہے جو تیرے پاس موجود نہیں)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ شح سے مراد وہ بخل ہے جسکے ساتھ حرص بھی ہو، اور یہ صحیح ہے اس روایت کے مطابق جسے مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیرے اور تاریکیاں ہے اور شح (بخل) سے بچو کیونکہ اس نے انہیں تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اس نے انہیں اس پر ابھارا ہے کہ وہ اپنے خون بہائیں اور اپنی محارم کو حلال سمجھیں (2) (صحیح مسلم، کتاب البروالصلہ، جلد 2) اور یہ ارشاد ان کے قول کی تردید کرتا ہے جنہوں نے کہا کہ بخل واجب کو روکنا (اور اسے ادا نہ کرنا) ہے اور شح مستحب کو روکنا ہے، کیونہ اگر شح مستحب کو روکنا ہوتا تو وہ اس عظیم اور شدید وعید کے تحت داخل نہ ہوتا، اور شدید مذمت وہی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی ہلاکت ہو۔
اور اس معنی کی تائید وہ روایت بھی کرتی ہے جسے حضرت ابوہریرہ ﷺ نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی راہ میں اڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں ایک مسلمان آدمی کے نتھنوں میں ہمیشہ کے لئے جمع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی شح (بخل) اور ایمان ایک مسلمان آدمی کے دل میں ہمیشہ جمع رہ سکتے ہیں (3) (سنن نسائی، کتاب الجہاد، جلد 2 صفحہ 55) اور یہ اس پر دلیل ہے کہ شح ندمت میں بخل سے زیادہ شدید ہے، مگر بلاشبہ ایسی روایات بھی موجود ہیں جو ان دونوں کے مساوی اور برابر ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ آپ ﷺ کا یہ قول ہے۔ آپ سے پوچھا گیا : ایکون المؤمن بخیلا “ ؟ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : لا نہیں۔
اور الماوردی نے کتاب ” ادب الدنیا والدین “ میں ذکر کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے انصار کو کہا : ” تمہارا سردار کون ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : جد بن قیس اس بنا پر کہ اس میں بخل ہے، الحدیث۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وللہ میراث السموات والارض “۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے باقی رہنے اور اپنی بادشاہی کے دائمی ہونے کی خبردی ہے اور یہ کہ وہ ابد میں اسی طرح ہے جیسے وہ ازل میں تھا اور وہ العالمین سے غنی (اور بےنیاز) ہے، پس وہ زمین کا وارث ہوگا، اپنی مخلوق کے فنا ہونے کے بعد اور ان کی املاک زائل اور ختم ہونے کے بعد، پس املاک اور اموال باقی رہیں گے لیکن ان کا دعوی کرنے والا کوئی نہ ہوگا، تو یہ مخلوق کی عادت اور عرف کے مطابق وراثت کے جاری ہونے کی طرح ہی یہ (حکم) جاری ہوگیا، حالانکہ حقیقت میں یہ مراث نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں وارث وہ ہے جو کسی (ایسی) شے وارث بنتا ہے جس کا وہ اس سے قبل مالک نہ ہو، اور اللہ تعالیٰ تو آسمانوں زمین اور جو کچھ انکے درمیان ہے سب کا مالک ہے، تمام آسمان اور جو کچھ ان میں ہے، اور زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب اسی کا ہے، اور اموال اپنے مالکوں کے پاس عاریۃ (ادھار) ہیں پس جب وہ مرتے ہیں تو عاریہ کو اس کے اس مالک کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جس کا وہ اصل میں ہوتا ہے اور اس آیت کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
(آیت) ” انا نحن نرث الارض ومن علیھا “۔ الآیہ (مریم : 40)
ترجمہ : یقینا ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اور ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائیں گے۔
اور دونوں آیتوں میں معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم ارشاد فرمایا ہے کہ وہ خرچ کریں اور وہ بخل نہ کریں اس سے قبل کہ وہ مر جائیں اور وہ اسے بطور میراث اللہ تعالیٰ کے لئے چھوڑ جائیں، اور انہیں کوئی نفع نہ دے گا سوائے اس کے جو انہوں نے خرچ کردیا۔
Ayahs 3:181–182آیت نمبر : 181 تا 182۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ اللہ تعالیٰ نے کفار بالخصوص یہود کے قول کی قباحت (اور برائی) ذکر فرمائی۔ اور اہل تفسیر نے کہا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرض حسنا “۔ (البقرہ : 245) (کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن) تو یہودیوں میں سے ایک گروہ نے کہا۔۔ ان میں سے حی بن اخطب تھا، یہ حسن کے قول کے مطابق ہے اور حضرت عکرمہ ؓ نے کہا ہے : وہ فخاص بن عازوراء تھا۔ (آیت) ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 548 دارالکتب العلمیہ) (بےشک اللہ تعالیٰ مفلس ہے اور ہم غنی (اور دولت مند) ہیں اور ہم سے قرض مانگ رہا ہے، بلاشبہ انہوں نے اپنے ضعفاء اور کمزوروں پر اظہار برتری کے طور پر سنانے کے لئے یہ کہا، نہ کہ وہ اس کا اعتقاد رکھتے تھے، کیونکہ وہ اہل کتاب تھا، لیکن انہوں نے اس قول کے ساتھ کفر کیا، کیونکہ انہوں نے اس سے اپنے ضعفاء کو اور مومنین میں کمزور لوگوں کو شک میں ڈالنے اور حضور نبی مکرم ﷺ کی تکذیب کا ارادہ کیا، یعنی یہ کہ وہ محمد ﷺ کے قول کے مطابق فقیر اور مفلس ہے، کیونکہ اس نے ہم سے قرض کا مطالبہ کیا ہے۔ (آیت) ” سنکتب ماقالوا “۔ یعنی ہم انہیں اس پر جزا اور بدلہ دیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم انہیں انکے اعمال ناموں میں لکھ لیں گے یعنی ہم کراما کاتبین کو ان کو قول لکھ لینے اور ثابت رکھنے کا حکم دیں گے تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے انہیں اعمال ناموں میں اسے پڑھیں، جو انہوں دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ ان کے خلاف حجت کو اور پختہ اور مؤکد کرنے والا ہوجائے گا، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے۔
(آیت) ” وانا لہ کتبون “۔ (الانبیائ)
ترجمہ : اور ہم اس کے لئے (اس کے عملوں کو) لکھنے والے ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لکھنے سے مقصود محفوظ رکھنا ہے، یعنی ہم اسے محفوظ رکھیں گے جو انہوں نے کہا تاکہ ہم انہیں بدلہ اور جزا دیں، اور (آیت) ” ما قالوا “۔ میں ما، سنکتب کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔
اور اعمش اور حمزہ نے سیکتب پڑھا ہے یعنی یا کے ساتھ تو اس صورت میں ما، اسم مالم یسم فاعلہ ‘ (نائب الفاعل) ہوگا۔ اور حمزہ نے اس میں حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات کا اعتبار کیا ہے (آیت) ” ونقول ذوقوا عذاب الحریق “۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وقتلھم الانبیاء بغیر حق “۔ یعنی ہم ان کے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنے کے عمل کو لکھ لیں گے یعنی ان کے قتل کے ساتھ رضا مند ہونے کو اور ان سے مراد انکے اسلاف کا انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنا ہے، لیکن جب وہ اس پر راضی اور خوش ہیں تو اس کی اضافت ان کی طرف کرنا صحیح ہے، ایک آدمی نے حضرت شعبی (رح) کے پاس حضرت عثمان ؓ کے قتل کو اچھا اقدام قرار دیا تو حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہنے اسے کہا : تو بھی ان کے خون میں شریک ہے پس آپ نے رضا بالقتل کو قتل ہی قرار دیا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ بہت بڑا مسئلہ ہے : اس حیثیت سے کہ رضا بالمعصیت معصیت ہوتی ہے، ابوداؤد نے عرس بن عمیرہ الکندی سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ” جب تو نے زمین میں خطا اور گناہ کا عمل کیا تو جو وہاں حاضر تھا اس نے اسے ناپسند کیا۔ اور ایک بار فرمایا پس اس نے اس کا انکار کیا تو وہ اس کی طرح ہے جو وہاں موجود نہ تھا اور جو وہاں سے غائب تھا لیکن اس نے اسے پسند کیا تو وہ اس کی طرح ہے جو وہاں موجود اور حاضر تھا (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، جلد 2، صفحہ 241) اور یہ نص ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” بغیر حق “۔ اس کا معنی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ونقول ذوقوا عذاب الحریق “۔ یعنی جہنم میں ان کو کہا جائے گا یا موت کے وقت یا حساب کے وقت یہ کہا جائے گا، پھر یہ قول یا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوگا یا فرشتوں کی جانب سے، دونوں قول ہیں۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات میں و یقال ہے۔ اور الحریق شعلہ نکالنے والی آگ کا اہم ہے، اور النار کا لفظ شعلہ نکالنے والی اور شعلہ نہ نکالنے والی آگ دونوں کو شامل ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ذلک بما قدمت ایدیکم ‘۔ یعنی وہ عذاب ان گناہوں کے عوض ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور الایدی کو ذکر کے ساتھ اس لئے خاص کیا گیا ہے تاکہ وہ فعل کے بذات خود کرنے پر دلالت کرے، کیونکہ کبھی فعل کی نسبت انسان کی طرف کردی جاتی ہے اس معنی میں کہ اس نے وہ کام کرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ یہ ارشاد ہے ” یذبح ابناء ھم اور ” ایدیکم “ اصل میں ایدیکم تھا ضمہ کو یا پر ثقیل ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ واللہ اعلم
Ayahs 3:183–184آیت نمبر : 183 تا 184۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الذین “ محل جر میں ہے اور یہ اس الذین سے بدل ہے جو اس قول باری تعالیٰ میں ہے (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا “۔ یا یہ للعبید کی صفت ہے یا مبتدا کی خبر ہے یعنی ہم الذین قالوا “۔ اور کلبی وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت کعب بن اشرف، مالک بن صیف، وہب بن یہوذاء فخاص بن عازوراء اور ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی اور حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا : کیا آپ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، حالانکہ اس نے ہم پر کتاب نازل کی ہے اور اس میں ہم سے عہد کیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جو گمان کرتا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے جسے آگ کھالے، پس اگر تم ہمارے لئے ہو (دلیل) لے آئے تو ہم آپ کی تصدیق کرلیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ تورات میں ہے، لیکن مکمل کلام یہ ہے، یہاں تک کہ تمہارے پاس حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آجائیں پس جب وہ دونوں تمہارے پاس آئیں تو ان دونوں کے ساتھ بغیر قربانی کے ایمان لاؤ۔
اور یہ قول بھی ہے : قربانی دینے والوں کا امر ثابت اور قائم تھا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبان پر اسے منسوخ کردیا گیا، ان میں سے نبی (علیہ السلام) قربانی ذبح کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے تو پھر سفید سی آگ نازل ہوتی، اس کی آواز ہوتی اور وہ گھیر لیتی، اس کا دھواں نہ ہوتا، اور وہ
قربانی کو کھا جاتی، پس یہ قول یہود کی طرف سے دعوی ہے، اور جب وہاں استثناء ہوئی یا نسخ تو انہوں نے اسے چھپا دیا، اور وہ اس سے اپنے استدلال میں سرکشی اور تکبر کرنے والے تھے اور حضور نبی مکرم ﷺ کے معجزات ان کے دعوی کو باطل کرنے میں دلیل قاطع ہیں، اور طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بھی۔
اور جس کا صدق ثابت ہو اس کی تصدیق بھی ثابت ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” قل “۔ اے محمد ! ﷺ آپ فرما دیجئے : (آیت) ” قد جآء کم “۔ اے گروہ یہود ! آچکے تمہارے پاس۔
(آیت) ” رسل میں قبلی بالبینت وبالذی قلتم “۔
ترجمہ : رسول مجھ سے پہلے بھی دلیلوں کے ساتھ اور اس (معجزہ) کے ساتھ جو تم کہہ رہے ہو)
یعنی قربانی :
(آیت) ” فلم قتلتموھم ان کنتم صدقین “۔
تو کیوں قتل کیا تم نے انہیں اگر تم سچے ہو۔
یعنی حضرت زکریا، حضرت یحی، حضرت شعیا (علیہم السلام) اور وہ تمام انبیاء (علیہم السلام) جو قتل کردیئے گئے اور تم ان کے ساتھ ایمان نہ لائے، اس سے مراد ان کے اسلاف ہیں۔ (1) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 441) اور یہی وہ آیت ہے جسے عامر الشعبی (رح) نے تلاوت کی، اور اس کے ساتھ اس پر حجت قائم کی جس نے حضرت عثمان ؓ کے قتل کو اچھا قرار دیا جیسا کہ ہم نے اسے بیان کردیا ہے۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو قاتل کا نام دیا ہے اس لئے کہ وہ اپنے اسلاف کے اس فعل پر راضی تھے، اگرچہ ان کے درمیان تقریبا سات سو برس کا فاصلہ اور فرق تھا، اور القربان سے مراد قربانی، صدقہ، اور عمل صالح میں سے وہ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قرب حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ فعلان کے وزن پر ہے اور القربۃ سے ماخوذ ہے، اور یہ اسم اور مصدر ہو سکتا ہے پس اسم کی مثال سلطان اور برہان ہے، اور مصدر کی مثال عدوان اور خسران ہے اور عیسیٰ بن عمر بقربان قاف کے ضمہ کی اتباع میں را کو ضمہ کے ساتھ پڑھتے تھے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 549 دارالکتب العلمیہ) جیسا کہ ظلمۃ کی جمع میں ظلمات اور حجرۃ کی جمع میں ججرات کہا گیا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اور آپ کی غمخواری کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” فان کذبوک فقد کذب رسل من قبلک جآء و بالبینت “۔ اگر یہ جھٹلاتے ہیں آپ کو (تو یہ کوئی نئی بات نہیں) تحقیق آپ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے جو دلائل کے ساتھ آئے تھے والزبر “ یعنی اور لکھی ہوئی کتابیں، اور زبر یہ زبور کی جمع ہے اور یہ کتاب ہے۔ اور اس کی اصل زبرت ای کتبت سے ہے یعنی میں نے لکھا اور ہر زبور پس وہ کتاب ہے۔
امرؤ القیس نے کہا ہے :
لمن طلل ابصرتہ فشجانی کخط زبور فی عسیب یمانی :
اس میں بھی زبور سے مراد کتاب ہے۔
اور انا اعرف تزبرتی ای کتابی، یعنی میں اپنی کتابت (لکھائی) کو پہچانتا ہوں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور زبر بمعنی زجر (جھڑکنا) سے ماخوذ ہے (3) (زاد المسیر، جلد 1۔ 2، صفحہ 411) اور زبرت الرجل کا معنی ہے میں نے آدمی کو جھڑکا (ڈانٹ پلائی) اور زبرت البئر کا معنی ہے میں نے کنوئیں کو پتھروں سے بنایا۔ اور ابن عامر نے ” بالزبروبالکتاب المنبیر “ دونوں کلموں کو با کی زیادتی کے ساتھ پڑھا ہے (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 549 دارالکتب العلمیہ) اور اسی طرح اہل شام کے مصاحف میں ہے۔
(آیت) ” والکتب المنیز “ یعنی واضح اور روشن کتاب لے کر آئے، یہ تیرے اس قول سے ہے : انرت امشیء انیرہ، یعنی میں نے اسے واضح اور روشن کردیا، کہا جاتا ہے : نار الشیء وانا رہ وتورہ واستنارہ یہ ہم معنی ہیں، اور ان دونوں میں سے ہر ایک لازم اور متعدی ہے۔ اور زبر اور کتاب کو جمع کیا، حالانکہ یہ دونوں بھی ہم معنی ہیں۔ اس لئے کہ ان دونوں کے الفاظ مختلف ہیں اور ان کی اصل وہی ہے جیسے ہم نے ذکر کردی ہے۔
Ayah 3:185آیت نمبر : 185۔
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے بخل کرنے والوں اور ان کے کفر کے بارے ان کے اس قول میں خبر دی : (آیت) ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “ اور مومنین کو ان کی اذیت پر صبر کرنے کے بارے میں اپنے اس قول میں حکم ارشاد فرمایا ” لتبلون “۔ الآیہ “۔
(تو پھر) بیان کیا کہ وہ ختم ہوجانے والی چیزوں میں سے ہے اور وہ ہمیشہ نہیں رہے گا، کیونکہ دنیا کی انتہا اور اختتام قریب ہے اور قیامت کا دن یوم جزا (بدلے کا دن) ہے (آیت) ” ذائقۃ الموت “۔ یہ ذوق سے ماخوذ ہے اور یہ (موت) ایسی شے ہے جس سے انسان کو پناہ نہیں، اور نہ ہی اس سے کوئی حیوان الگ اور جدا ہے (یعنی ہر ذی روح کو موت آنا یقینی ہے)
امیہ بن ابی الصلت نے کہا :
من لم یمت عبطۃ یمت ھرما للموت کاس والمرذائقھا :
جو عین عالم شباب میں نہیں مرتا اسے بڑھاپے میں موت آجاتی ہے موت تو (شراب سے بھرا ہوا) ایک جام اور آدمی اس کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔
اور دوسرے شاعر نے کہا ہے :
الموت باب وکل الناس داخلہ فلیت شعری بعد الباب مالدار :
موت ایک دروازہ ہے اور تمام لوگ اس سے داخل ہونے والے ہیں اے کاش مجھے علم ہوتا اس دروازے کے بعد گھر کون سا ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) عام قرات (آیت) ” ذآئقۃ الموت “۔ اضافت کے ساتھ ہے اور اعمش، یحی اور ابی اسحاق نے ذائقۃ الموت “۔ یعنی ذائقۃ کو تنوین کے ساتھ اور الموت کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 550 دارالکتب العلمیہ) انہوں نے کہا ہے : کیونکہ موت بعدتو کوئی ذائقہ نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ اسم فاعل کی دو قسمیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بمعنی ماضی ہو۔ اور دوسری یہ کہ وہ بمعنی استقبال ہو، پس اگر تو پہلا معنی مراد لے گا تو اس میں تو صرف مابعد کی طرف اضافت ہی ہے، جیسے تیرا یہ قول ہے : ھذا ضارب زیدا مس اور قاتل بکر امس، کیونکہ اسے اسم جامد کے قائم مقام رکھا جاتا ہے اور وہ علم ہے، جیسا غلام زید اور صاحب بکر۔
شاعر نے کہا ہے :
الحافظوعورۃ العشیرۃ لایا تیھم من ورائھم وکف :
(اس میں الحافظ اسم مابعد کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہو رہا ہے)
اور اگر دوسرا معنی مراد لیں تو جر جائز ہے اور نصب اور تنوین کی بھی ہی صورت ہے اور یہی اصل ہے، کیونکہ یہ (اسم فاعل) قائم مقام فعل مضارع کے ہوتا ہے اور اگر فعل غیر متعدی ہو، تو پھر یہ متعدی نہیں ہوتا جیسے قائم زید اور اگر وہ متعدی ہو تو تو اسے متعدی بنائے اور اس کے ساتھ نصب دے اور یہ کہے : زید ضارب عمروا ‘ بمعنی یضرب عمروا۔ اور تخفیف کے لئے تنوین کا حذف اور اضافت جائز ہوتی ہے۔
جیسا کہ المراز نے کہا ہے :
سل الھوم بکل معطی راسہ فاج مخالط صھبۃ متعیس :
مغتال احبلہ مبین عنقہ فی منکب زین المطی عرندس :
تنوین کو تخفیفا حذف کردیا گیا ہے اور اصل میں : معط راسہ تنوین اور نصب کے ساتھ ہے اور اس کی مثل قرآن کریم میں بھی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ھل ھن کاشفات ضرہ “۔ اور اس کی مثل نہیں۔
مسئلہ نمبر : (3) پھر تو جان کہ موت کے کچھ اسباب اور اس کی کچھ علامات ہیں، پس بندہ مومن کی موت کی علامات میں سے پیشانی پر پسینہ کا آنا ہے، اسے نسائی نے حضرت بریدہ ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بندہ مومن پیشانی کے عرق آلود ہونے کے ساتھ فوت ہوتا ہے۔ (1) (سنن نسائی الجنائز، جلد 1، صفحہ 259 ) ۔ اور ہم نے اسے ” التذکرہ “ میں بیان کیا ہے اور جب وہ قریب المرغ ہو تو اسے شہادت کی تلقین کی جائے، کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ” لقنوا موتا کم لا الہ الا اللہ “۔ (2) (صحیح مسلم، الجناز، جلد 1، صفحہ 300) (اپنے مرنے والوں کو ” لا الہ الا اللہ “ کی تلقین کرو) تاکہ یہ اس کا آخری کلام ہو اور اس کی زندگی کا اختتام کلمہ شہادت کے ساتھ ہو اور اس پر باربار اس کا اعادہ نہ کیا جائے تاکہ وہ پریشان اور تنگ نہ ہوجائے۔ اور اس وقت سورة یسین پڑھنا مستحب ہوتا ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : اقرؤ یس علی موتاکم “۔ (3) (اپنے مرنے والوں پر یسین پڑھو) اسے ابو داؤد نے نقل کیا ہے، اور علامہ الآجری نے کتاب النصیحہ میں حضرت ام درداء ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ما من میت یقرء عندہ سورة یسن الاھون علیہ الموت “۔ (1) (الفردوس بما ثور الخطاب، جلد 4، صفحہ 32) (جس مرنے والے کے پاس سورة یسین پڑھی جاتی ہے اس پر موت آسان کردی جاتی ہے) پس جب روح قبض کی جاتی ہے اور نگاہ روح کی اتباع اور پیچھا کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے خبر دی ہے اور صحیح مسلم میں ہے اور عبادات اٹھ جاتی ہیں اور پابندی (تکلیف) ختم ہوجاتی ہے، تو زندوں پر کچھ احکام لازم ہوتے ہیں، ان میں سے اس کی آنکھیں بند کرنا، اور اس کے نیک اور صالح بھائیوں دوستوں کو اس کی موت کی خبر دینا ہے، اور ایک قوم نے اسے مکروہ کہا ہے اور کہا ہے یہ موت کی خبر اور اعلان ہے، اور پہلا زیادہ صحیح ہے، ہم نے اسے کسی دوسرے مقام پر بیان کیا ہے اور ان احکام میں سے غسل ودفن کے ساتھ اس کی تیاری کرنا بھی ہے تاکہ اس میں تغیر اور تبدیلی نہ آجائے، حضور نبی مکرم ﷺ نے اس قوم سے کہا جنہوں نے میتوں کو دفن کرنے میں تاخیر کی : عجلوا بدفن جیفتکم اپنے مردوں کو دفن کرنے میں جلدی کرو) اور مزید فرمایا : اسرعوا بالجنازۃ الحدیث (جنازہ لے جانے میں جلدی کرو) اس کا بیان آگے آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (4) اور رہا میت کے غسل کا مسئلہ تو یہ سوائے شہید کے تمام مسلمانوں کے لئے سنت ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ میت کو غسل دینا واجب ہے، قاضی عبدالوہاب نے یہی کہا ہے۔ اور پہلا کتاب کا مذہب ہے، اور ان دونوں قولوں پر علماء کا عمل ہے اور اختلاف کا سبب حضور نبی مکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو آپ نے ام عطیہ کو اپنی بیٹی زینب کو غسل دینے کے بارے میں فرمایا، جیسا کہ وہ مسلم میں موجود ہے، اور بعض نے کہا ہے : وہ حضرت ام کلثوم تھیں، جیسا کہ ابو داؤد کی کتاب میں موجود ہے : ” تم انہیں تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار غسل دینا اگر تم اسے دیکھو (2) (سنن ابی داؤد، الجنائز، جلد 2، صفحہ 92، ایضا صحیح بخاری، باب غسل المیت ووضونہ بالماء والسدر، حدیث نمبر 1175، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
یہ حدیث علماء کے نزدیک میت کو غسل دینے کے بارے میں اصل ہے، پس کہا گیا ہے کہ اس امر سے مراد غسل کا حکم بیان کرنا ہے کہ وہ واجب ہے اور بعض نے کہا ہے : اس سے مقصود غسل کی کیفیت کی تعلیم ہے لہذا اس میں کوئی ایسی شے نہیں ہے جو غسل کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہو، وہ کہتے ہیں کہ اس پر آپ ﷺ کا قول ” ان رایتن ذالک “ دلالت کرتا ہے اور یہ امر کے ظاہر کو وجوب سے نکالنے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اسے ان کی نظر وفکر کے سپرد کردیا۔
ان کو کہا گیا : اس میں یہ بعد اور دوری ہے، کیونکہ تمہارا ان رایتن کو امر کی طرف لوٹانا، یہ فہم میں جلدی آنے والا نہیں ہے بلکہ یہ بالفور اس شرط کو مذکورہ (مفہوم کے) اقرب کی طرف لوٹانے کا ذریعہ ہے اور وہ اس سے اکثر اور زیادہ ہے “ یا پھر اعداد میں تخیر کی طرف لوٹاتا ہے۔
المختصر اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ میت کو غسل دینا مشروع ہے شریعت میں اس پر عمل کیا گیا ہے اسے (کبھی) نہیں چھوڑا جائے گا اور اس کا طریقہ غسل جنابت کے طریقہ کی طرح ہے جیسا کہ معروف ہے، اور بالاجماع ایک میت کو غسل دینے میں سات بار غسل سے تجاوز نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ اسے ابو عمر نے بیان کیا ہے، اگر ساتویں بار غسل دینے کے بعد اس سے کوئی شے خارج ہو تو صرف اس مخصوص جگہ کو دھو ڈالا جائے گا، اور اس کا حکم جنبی کے حکم کی طرح ہے جبکہ اسے غسل کے بعد حدث لاحق ہوجائے جب میت کے غسل سے فارغ ہوجائے تو اسے اس کے کپڑوں میں کفن دو اور وہ یہ ہیں۔
عام علماء کے نزدیک کفن دینا واجب ہے، پس اگر اس کا مال ہو تو پھر عام علماء کے نزدیک اس کے رأس المال سے کفن دیا جائے گا، مگر طاؤس نے یہ کہا ہے کہ اس کا مال تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے تیسرے حصہ سے ہی کفن دیا جائے گا۔
اور اگر میت ان میں ہو کہ اس کا نفقہ اس کی زندگی میں ہی کسی اور کے ذمہ لازم ہو مثلا آقا کے ذمہ۔۔۔۔ اگر وہ غلام ہو۔۔۔۔ یا باپ یا خاوند یا بیٹے کے ذمہ، تو بلاتفاق (کفن) ان پر ہی ہوگا، پھر بیت المال پر یا مسلمانوں کی جماعت پر کفن کفایہ ہوگا اور وہ شے جو اس میں سے تعین فرض کے ساتھ متعین ہوجاتی ہے وہ ستر عورت (شرمگاہ کو ڈھانپنا) ہے اور اگر اس میں فالتو اور اضافی کپڑا ہو لیکن وہ سارے بدن کو نہ ڈھانپ سکتا ہو تو پھر اس کے چہرہ کی تکریم میں اس کے سر اور چہرہ کو ڈھانپا جائے گا اور اس کے محاسن کی تبدیلی میں سے جو ظاہر ہو اسے ڈھانپ دیا جائے اور اس میں اصل حضرت مصعب بن عمیر ؓ کا قصہ ہے، کیونکہ انہوں نے احد کے دن ایک کمبل چھوڑا جب آپ کے سر کو ڈھانپا جاتا تو آپ کے پاؤں اس سے نکل جاتے اور جب آپ کے پاؤں کو ڈھانپا جاتا تو آپ کا سر باہر نکل جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسے ان کے سر پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر اذکر (گھاس) رکھ دو (1) (صحیح مسلم الجنائز، جلدا، صفحہ 305، ایضا صحیح بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر 1197، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور تمام علماء کے نزدیک کفن میں کپڑوں کا طاق (وتر) ہونا مستحب ہے، اور تمام کا اس پر اجماع ہے کہ اس میں کوئی مخصوص حد نہیں ہے اور پھر کپڑوں کا سفید ہونا مستحب ہے، حضور ﷺ نے فرمایا : البسوا من ثیابکم البیاض فانھا من خیر ثیابکم و کفنوا فیھا موتاکم (2) (سنن ابی داؤد، الطب جلد 2، صفحہ 185) (تم اپنے سفید کپڑے پہنو کیونکہ یہ لباس تمہارے کپڑوں میں سے بہترین ہے اور اسی میں تم اپنے مردوں کو کفن دو ) اسے ابو داؤد نے نقل کیا ہے اور حضور نبی ﷺ کو سحول کے بنے ہوئے روئی کے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور کسی اور رنگ کے کپڑوں میں کفن دینا جائز ہے مگر یہ کہ وہ خالص ریشم یا اون ملا ریشمی کپڑا نہ ہو، اور اگر ورثاء کفن میں بخل سے کام لیں تو پھر ان میں جمعہ اور عیدین کے دنوں میں پہنے جانے والے لباس کی مثل کپڑا لازم کردیا جائے گا، حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا کفن احدکم اخاہ فلیحسن کفنہ “۔ (3) (صحیح مسلم، الجنائز، جلد 1، صفحہ 306) (جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اچھے کپڑے میں کفن دے) اسے مسلم نے روایت کیا ہے، مگر یہ کہ وہ اس سے کم کے بارے وصیت کرے، اور اگر اس نے اسراف (فضول خرچی) کی وصیت کی تو کہا گیا ہے : (ضرورت سے) زائد میں (اس کی وصیت) باطل ہوگی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ثلث میں نافذ ہوگی۔ (لیکن) پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے
(آیت) ” ولا تسرفوا “۔
ترجمہ : اور تم فضول خرچی نہ کرو۔
اور ابوبکر نے کہا ہے : بیشک یہ میت کے بدن سے نکلنے والی پیپ کے لئے ہے، اور جب وہ اس کے غسل اور اسے کفن پہنانے سے فارغ ہوجائے، اور اسے چارپائی پر رکھ دیا جائے اور اسے آدمی اپنے کندھوں پر اٹھائیں تو اس کا حکم یہ ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) اس کے لئے حکم تیز چلنے کا ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : اسرعوا بالجنازۃ فان تک صالحۃ فخیر تقدمونھا الیہ وان تکن غیر ذالک فشر تضعونہ عن رقابکم (1) (صحیح مسلم، الجنائز، جلد 1، صفحہ 307۔ 306) (تم میت کو لے کرتیز چلو پس اگر وہ نیک اور صالح ہے تو اچھا اور بہتر ہے تم اسے اس تک جلدی پہنچا دو گے اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو وہ برا ہے تم اسے جلدی اپنی گردنوں سے اتار دو گے) (2) (صحیح بخاری، باب السرعۃ بالجنازہ، حدیث 1231، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اس طرح نہیں ہے جیسا کہ آج جاہل لوگ آہستہ آہستہ لے کر چلتے ہیں، اور باربار راستے میں ٹھہرتے ہیں اور ایسی سر اور آواز کے ساتھ قرآن کریم کی قرات کرتے ہیں جو حلال نہیں ہے اور وہ بھی جائز نہیں ہے جو مصری شہروں کے لوگ اپنے مردوں کے ساتھ کرتے ہیں، نسائی نے روایت کیا ہے کہ محمد بن عبدالاعلی نے ہمیں خبر دی ہے انہیں نے کہا ہے کہ خالد نے اور اسے عیینہ بن عبدالرحمن نے خبر دی ہے اور کہا ہے کہ مجھے میرے باپ نے بتایا ہے کہ میں حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ کے جنازہ میں حاضر ہوا اور زیاد نکل کر چارپائی کے آگے آگے چلنے لگا اور عبدالرحمن کے خاندان کے لوگ اور ان کے موالی چارپائی اٹھا کر اپنی ایڑئیوں پر چل رہے تھے اور کہتے تھے : آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے : پس وہ رینگ رینگ کر چل رہے تھے (یعنی انتہائی آہستہ رفتار سے) یہاں تک کہ جب ہم مربد کا کچھ راستہ طے کرچکے تو ہمیں پیچھے سے خچر پر حضرت ابوبکر ؓ آ کر ملے، پس جب آپ نے انہیں وہ کرتے ہوئے دیکھا تو ان پر اپنے خچر سے حملہ کردیا اور ان پر کوڑا برسایا اور فرمایا تم چھوڑ دو ! قسم ہے سب سے مکرم ومحترم ابو القاسم ﷺ کے چہرہ اقدس کی ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ہم میت کو لے کر دوڑتے چلے جاتے تھے تو اس سے قوم خوش ہوگئی (3) (سنن نسائی، الجنائز، جلد 1، صفحہ 271)
اور ابو ماجدہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کہ انہوں نے بیان کیا ہم نے حضور نبی مکرم ﷺ سے جنازہ کے ساتھ چلنے کے بارے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ ڈر کی چال سے ذرا کم ہو اگر وہ میت نیک اور صالح ہوئی تو بہتر ہے اسے اس تک جلدی پہنچا دیا جائے گا اور اگر وہ اس کے سوا ہوئی تو پھر اہل نار سے دور رہو (4) (ابو داؤد باب الاسراع باالجنازہ، حدیث 2769، ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ رحمۃ اللہ علیہالحدیث “۔ ابو عمر نے کہا ہے : اس مسئلہ میں جس پر علماء کی جماعت ہے (وہ یہ ہے) کہ عام عادت سے چال تھوڑی تیز ہو، اور تیزی ان کے نزدیک آہستہ چال سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور ایسی تیزی جو ان کمزور اور ضعیف لوگوں کے لئے باعث مشقت ہو جو جنازہ کے پیچھے چل رہے ہیں وہ مکروہ ہے اور حضرت ابراہیم نخعی نے کہا ہے : میت کو لے کر تھوڑا آہستہ چلو (لیکن) یہود ونصاری کی طرح رینگ رینگ کر نہ چلو اور ایک قوم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں الاسراع کی تاویل یہ کہ ہے کہ اس سے مراد دفن میں جلدی کرنا ہے، نہ کہ چلنے میں اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کردی ہے، وباللہ التوفیق۔
مسئلہ نمبر : (6) اور رہی میت پر نماز جنازہ تو یہ جہاد کی طرح واجب (فرض) علی الکفایہ ہے یہی علماء کا مشہور مذہب ہے، امام مالک (رح) اور دیگر کا بھی، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے نجاشی کے بارے میں فرمایا : قوموا فصلوا علی (تم اٹھوا اور اس پر نماز پڑھو) اور اصبغ نے کہا ہے : نماز جنازہ سنت ہے اور انہوں نے امام مالکرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے، اس بارے میں مزید بیان سورة براۃ میں آئے گا۔
مسئلہ نمبر : (7) میت کو مٹی میں دفن کرنا، اس میں چھپانا اور اسے مٹی کے ساتھ ڈھانپ دینا یہ واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض لیریہ کیف یواری سوءۃ اخیہ “۔ (المائدہ : 31)
ترجمہ : پس بھیجا اللہ نے ایک کوا کھودتا تھا، زمین کو تاکہ دکھائے اسے کہ کس طرح چھپائے لاش اپنے بھائی کی۔
اس آیت کے تحت قبر بنانے کا حکم اور جو کچھ اس میں سے مستحب ہوتا ہے اور اس میں میت کو رکھنے کی کیفیت ذکر کی جائے گی اور اس پر مسجد بنانے کا حکم سورة ۃ ” الکہف “ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
پس یہ مردوں سے متعلقہ احکام ہیں اور وہ جو زندوں پر ان کے لئے واجب ہوتے ہیں، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” مردوں کا گالیاں نہ دو کیونکہ وہ اس تک پہنچ چکے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے (1) (سنن نسائی الجنائز، جلد 1، صفحہ 274، ایضا صحیح بخاری، باب ماینھی من سب الاموات، حدیث نمبر 1308، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور سنن نسائی میں آپ ہی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین نے فرمایا : حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس ایک مرنے والے کا ذکر برائی کے ساتھ کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم اپنے ہلاک ہونے والوں کا ذکر نہ کرو مگر خیر اور بھلائی کے ساتھ (2) (سنن نسائی الجنائز، جلد 1، صفحہ 274، ایضا صحیح بخاری، باب ماینھی من سب الاموات، حدیث نمبر 1308، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وانماتوفون اجورکم یوم القیمۃ “۔ پس مومن کا اجر ثواب ہے، اور کافر کا اجر عقاب (سزا) ہے دنیا میں نعمتوں اور آزمائش ومصائب کو اجر اور جزا میں شمار نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ فنا ہونے والی ہیں۔ (آیت) ” فمن زحزح عن النار “۔ پس جسے آتش جہنم سے دور رکھا گیا۔ (آیت) ” وادخل الجنۃ فقد فاز “۔ اور اسے جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ اس کے ساتھ کامیاب ہوگیا جس کی وہ آرزو اور تمنا رکھتا ہے اور اس سے وہ نجات پا گیا جس سے وہ ڈرتا ہے، اور اعمش نے زید بن وہب سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : من سرہ ان یزحزح عن النار وان یدخل الجنۃ فلتاتہ منیتہ وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویاتی الی الناس الذی یحب ان یوتی الیہ (3) (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، البروالصلۃ، جلد 6، صفحہ 340، حدیث نمبر 13669 ) ۔ (جسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اسے آتش جہنم سے دور رکھا جائے اور اسے جنت میں داخل کیا جائے تو چاہئے کہ اس کی موت اسے اس حال میں آئے کہ وہ شہادت دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور وہ لوگوں کے پاس وہ (شے) لے کر آئے جسے وہ پسند کرتا ہے کہ وہ اس کے پاس لائی جائے) اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جنت میں کوڑے (برابر) جگہ دینا اور اس میں موجود تمام چیزوں کی نسبت بہتر ہے اگر تم چاہو تو یہ پڑھ لو (آیت) ” فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز۔ (4) (المستدر التفسیر جلد 2، صفحہ 327، حدیث نمبر 3170، جامع ترمذی، کتاب تفسیر القرآن من رسول اللہ حدیث 2939 ضاء القرآن پبلی کیشنز)
(آیت) ” وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور “۔ یعنی دنیا مومن کے ساتھ مکر کرتی ہے اور اسے دھوکہ دیتی ہے اور وہ اس کے طویل عرصہ تک باقی رہنے کا گمان کرنے لگتا ہے حالانکہ دنیا فانی ہے، اور متاع سے مراد ہر وہ شے ہے جس سے لطف اندوز ہوا جائے اور اس سے نفع اٹھایا جائے، جیسا کہ کلہاڑا، ہانڈی اور پیالہ پھر یہ زائل اور ختم ہوجاتا ہے، اور اس کی ملکیت باقی نہیں رہتی، اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے۔
حسن نے کہا ہے : جیسا کہ سرسبز و شاداب نباتات اور بچیوں سے دل بہلانا اس کا کوئی حاصل اور نتیجہ نہیں۔ اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا : یہ چھوڑا ہوا سازو سامان ہے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سمیت برباد اور تباہ ہوجائے لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ اس سامان سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبردای کے لئے اتنا لے لے جتنی وہ استطاعت رکھتا ہے۔
تحقیق کسی نے کتنا خوب اور اچھا کہا ہے :
ھی الدار دار الاذی والقذی ودارلفناء ودارالغیر :
یہ (دنیا) اذیتوں اور تکلیفوں کا گھر ہے اور یہ فناہ ہونے والا اور تکبر ونحوت کا گھر ہے۔
فلو نل تھا بحذا فیرھا لمت ولم تقض منھا الوطر :
پس اگر تو اسے مکمل طور پر بھی پالے تو یقینا تجھے موت آئے گی اور تیرا مطلوب حاصل نہ ہوا ہوگا۔
ایامن یؤمل طول الخلود وطول الخلود علیہ ضرر :
اے وہ جو اس سے طویل آرزوئیں وابستہ رکھتا ہے اس پر ہمیشہ کی آرزو رکھنا باعث ضرر ہے۔
اذا انت شبت وبان الشباب ولا خیر فی العیش بعد الکبر :
جب تو بوڑھا ہوجائے گا اور جوانی ڈھل جائے گی تو پھر بڑھاپے کے بعد زندگی میں کوئی مزہ اور خیر نہیں۔
اور (آیت) ” الغرور “ (عین کے فتحہ کے ساتھ) اس کا معنی شیطان ہے، وہ لوگوں کو جھوٹے وعدوں اور تمناؤں کے ساتھ دھوکہ دیتا ہے، ابن عرفہ نے کہا ہے : غرور سے مراد وہ شے ہے جسے تو ظاہرا دیکھے تو تو اسے پسند کرے اور اس کا باطن مکروہ (ناپسندیدہ) یامجہول ہو، اور شیطان کمزور ہے، کیونکہ وہ نفس کی محبت پر ابھارتا ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ برا ہوتا ہے فرمایا : اس سے بیع الغرر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ بیع کا ظاہر اسے دھوکہ دیتا ہے اور باطن مجہول ہوتا ہے۔
Ayah 3:186آیت نمبر : 186۔
یہ خطاب حضور نبی رحمت ﷺ اور آپ کی امت کو ہے اور معنی یہ ہے : تم آزمائے جاؤ گے اور یقینا تمہارا امتحان لیاجائے گا اور مالوں میں مصائب کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی تکلیف کے ساتھ اور تمام شرعی پابندیاں لگانے کے ساتھ، اور جانوں میں آزمائش موت، امراض میں مبتلا کرنے اور دوست احباب کے فوت ہونے کے ساتھ ہوتی ہے چونکہ مالوں کے سبب مصائب زیادہ ہوتے ہیں اس لئے پہلے ذکر اموال کا فرمایا (آیت) ” ولتسمعن “۔ اگر کہا جائے : (آیت) ” لتبلون “ میں واؤ کیوں ثابت رہی اور (آیت) ” ولتسمعن “ سے کیوں حذف کردی گئی تو جواب یہ ہے کہ (آیت) ” لتبلون “ میں واؤ کا ماقبل مفتوح ہے پس اسے التقاء ساکینن کی وجہ سے حرکت دے دی گئی، اور حرکت بھی ضمہ دی گئی اس لئے کہ یہ واؤ جمع ہے اور اس کا حذف کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کے ماقبل کی حرکت اس پر دلالت نہیں کرتی، اور (آیت) ” ولتسمعن “۔ میں واؤ کو حذف کردیا گیا، کیونکہ اس کے ماقبل کی حرکت اس پر دلالت کر رہی ہے۔ (اور وہ حرکت ماقبل کا ضمہ ہے) اور (آیت) ” لتبلون “ میں واؤ کو ہمزہ سے بدلنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی حرکت عارضی ہے، نحاس وغیرہ نے یہی کہا ہے اور واحد مذکر کے لئے کہا جائے گا : (آیت) ” لتبلین “ یا رجل اور تثنیہ کے لئے : لتبلیان یارجلان اور جمع مذکر کے لئے (آیت) ” لتبلون “ کہا جائے گا، اور اس کا سبب نزول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا : (آیت) ” ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء “۔ (1) اس نے یہ کلمات قرآن کریم کا رد کرتے ہوئے اور اس کو حقیر سمجھنے ہوئے اس وقت کہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ تو آپ ؓ نے اسے تھپڑ دے مارا، اس نے حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آپ کی شکایت کی تب یہ آیت نازل ہوئی، کہا گیا ہے کہ وہ کہنے والا فخاص یہودی تھا یہ عکرمہ سے مروی ہے۔
اور زہری نے کہا ہے : وہ کعب بن اشرف تھا اس کے سبب یہ آیت نازل ہوئی، وہ شاعر تھا اور وہ حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کی ہجو کرتا تھا اور وہ آپ ﷺ کے خلاف کفار قریش کو جمع کرتا تھا اور مسلمان عورتوں کے ذکر سے اپنے قصیدہ کو مزین کرتا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف حضرت محمد بن مسلم ؓ اور آپ کے ساتھیوں کو بھیجا اور انہوں نے اسے قتل کردیا، کتب سیر اور صحیح اخبار میں اس کا قتل مشہور ہے، اور اس کے سوا بھی اقوال ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 551 دارالکتب العلمیہ، ایضا صحیح بخاری، باب قتل کعب بن الاشرف، حدیث نمبر 3731، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور آپ ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں یہودی اور مشرک تھے، اور آپ ﷺ اس آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بہت زیادہ اذیت ناک باتیں سنتے تھے، اور صحیحین میں ہے (3) (صحیح بخاری کتاب تفسیر سورة آل عمران، حدیث نمبر 4200، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ آپ ﷺ ابن ابی کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ آپ ﷺ گدھے پر سوار تھے تو آپ ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تو ابن نے کہا : جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اگر وہ سچ ہے تو آپ اس کے ساتھ ہماری مجالس میں ہمیں تکلیف اور اذیت نہ دیں، آپ اپنی سواری کی طرف لوٹ جائیں پس جو آپ کے پاس آئے تو اس پر اسے بیان کیجئے اور اس نے اپنی ناک پکڑ لی تاکہ گدھے کا غبار اس تک نہ پہنچے تو ابن رواحہ ؓ نے عرض کی : ہاں یا رسول اللہ ﷺ آپ ہماری مجالس میں تشریف لائیے کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ وہ مشرک جو ابن ابی کے پاس موجود تھے وہ اور مسلمان باہم گالی گلوچ کرنے لگے، اور حضور نبی کریم ﷺ مسلسل انہیں خاموش کراتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے پھر آپ ﷺ حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے پاس عیادت کے لئے تشریف لے گئے وہ بیمار تھے اور فرمایا : ” کیا تم نے وہ سنا ہے جو فلاں نے کہا ہے ؟ “ تو حضرت سعد ؓ نے عرض کی : آپ اسے معاف فرما دیجئے اور اس سے درگزر کیجئے قسم ہے اس کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے بالیقین اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حق کے ساتھ بھیجا ہے جو (آپ پر) نازل ہوا ہے، حالانکہ اس شہر کے باسیوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ وہ اسے تاج پہنائیں اور اسے سردار بنا لیں، تو جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس حق کے ساتھ رد کردیا ہے جو آپ کو اس نے عطا فرمایا ہے تو اس کے سبب وہ تنگ اور پریشان ہے، اسی لئے اس نے وہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر فرما لی، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی،
یہ بھی کہا گیا ہے : یہ آیت قتال کے نازل ہونے سے پہلے ہوا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے صبر اور تقوی کو مستحب قرار دیا اور یہ خبر دی کہ یہ عزم الامور (ہمت کے کاموں) میں سے ہے اور اسی طرح بخاری میں (1) (صحیح بخاری، التفسیر، جلد 2، صفحہ 256، 255) سیاق حدیث میں ہے کہ یہ آیت قتال کے نازل ہونے سے پہلے ہوا، اور اظہر یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں، کیونکہ احسن انداز میں اور نرمی کے ساتھ جھگڑنا، مجادلہ کرنا ہمیشہ مستحب رہا ہے۔ اور آپ ﷺ باوجود اس کے کہ آپ پر قتال کا حکم نازل ہوچکا تھا آپ یہود کے ساتھ صلح کرتے تھے اور ان سے نرمی برتتے تھے، اور منافقین سے درگزر فرماتے تھے، اور یہ بالکل بین اور ظاہر ہے، اور عزم الامور کا معنی کاموں کا مضبوط اور پختہ اور سخت ہونا ہے، اس پر بخث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 3:187آیت نمبر : 187۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا اخذا اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب “۔ یہ یہود کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، کیونکہ انہیں حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لانے اور آپ کی شان کے بیان اور وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے آپ کی شان کے بیان اور وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے آپ کی نعت اور تعریف کو چھپالیا، پس یہ آیت ان کے لئے زجر وتوبیخ ہے، پھر اس کے ساتھ ساتھ یہ انکے لئے اور دوسروں کے لیے عام خبر ہے، حضرت حسن اور قتادہ ؓ نے کہا ہے : یہ آیت ہر اس کے بارے میں ہے جسے کتاب میں سے کسی شے کا علم دیا گیا جو کسی شے کا عالم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی تعلیم دے، اور تم علم چھپانے سے بچو کیونکہ یہ ہلاکت ہے : (1) (جامع البیان للطبری، جلد 3۔ 4، صفحہ 252، ) اور حضرت محمد بن کعب نے کہا ہے : کسی عالم کے لئے یہ حلال نہیں ہوتا کہ وہ اپنے علم پر خاموش رہے اور نہ کسی جاہل کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی جہالت پر خاموش رہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” واذا اخذا اللہ میثاق الذین اوتوالکتب “۔ الایہ۔ اور ارشاد فرمایا :
(آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل)
ترجمہ : پس دریافت کرلو اہل علم سے اگر تم خود نہیں جانتے۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے کتاب کا علم رکھنے والوں سے وعدہ نہ لیا ہوتا تو میں تمہیں کوئی شے نہ بتاتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
(آیت) ” واذا اخذا اللہ میثاق الذین اوتوالکتب “۔ (2)
اور حضرت حسن بن عمارہ نے کہا ہے : میں حضرت زہری ؓ کے پاس آیا اس کے بعد کہ انہوں نے حدیث بیان کرنا ترک کردیا تھا، تو میں نے انہیں اپنے دروازے پر پالیا، میں نے عرض کی : اگر آپ مناسب خیال کرتے ہیں تو مجھے حدیث بیان فرمائیے،
تو انہوں نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں نے حدیث بیان کرنی چھوڑ دی ہے ؟ میں عرض کی : یا آپ مجھے حدیث بیان کریں اور یا میں تم سے حدیث بیان کروں گا، انہوں نے فرمایا : تم مجھے بیان کرو، تو میں نے کہا : مجھے حکم ابن عتییہ نے یحییٰ بن جزار سے بیان کیا ہے انہوں نے کہا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ نے جاہلوں سے وعدہ نہیں لیا کہ وہ تعلیم حاصل کریں بلکہ اس نے علماء سے وعدہ لیا ہے کہ وہ علم سکھائیں، انہوں نے فرمایا : پھر انہوں نے مجھے چالیس احادیث بیان فرمائیں۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لتبیننہ للناس “۔ میں ھا ضمیر حضور نبی رحمت محمد ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے اگرچہ آپ کا ذکر جاری نہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ (ضمیر) کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے اور اس میں حضور نبی کریم ﷺ کے امر کا بیان داخل ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ کتاب میں ہے، اور فرمایا : (آیت) ’ ولا تکتمونہ “۔ یہاں تکتمنہ نہیں فرمایا کیونکہ یہ حال کے معنی میں ہے، یعنی تم اسے بغیر چھپائے کھول کر بیان کرتے ہو، اور ابو عمرو اور عاصم نے ابوبکر اور اہل مکہ کی ایک روایت میں لتبیننہ خطاب کی حکایت کے طور پر تا کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے یا کے ساتھ کیونکہ وہ غائب تھے (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 551 دارالکتب العلمیہ) اور حضرت ابن عباس ؓ نے (آیت) ” واذاللہ میثاق النبیین لیبیننہ پڑھا ہے اور قولہ تعالیٰ : فنبذوہ “ ان لوگوں کی طرف لوٹتے ہوئے آرہا ہے جن کو انبیاء (علیہم السلام) نے کھول کر بیان کردیا ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ کی قرات میں ” لیببینونہ “ بغیر نون تاکید ثقیلہ کے ہے اور النبذ کا کا معنی پھینکنا ہے اور اس کا بیان سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ورآء ظھورھم “ یہ پھینکنے میں اظہار مبالغہ ہے، اور ای سے (آیت) ” واتخذتموہ ورآء کم ظھریا “ ہے۔ اور اس کا بیان بھی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے۔
اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ’ واشتروابہ ثمنا قلیلا “ کا معنی ومفہوم بھی سورة البقرہ میں گزر چکا ہے لہذا اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں اور فبئس ما یشترون “۔ بھی پہلے گزر چکا ہے۔ والحمد للہ۔