4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں

ورسلا قد قصصنہم علیک من قبل اور ہم نے کچھ پیغمبر بھیجے جن کا ذکر ہم نے پہلے تم سے کردیا جیسے آدم ( علیہ السلام) ‘ شیث ( علیہ السلام) ‘ ادریس ( علیہ السلام) ‘ زکریا ( علیہ السلام) ‘ یحییٰ ( علیہ السلام) ‘ ذوالکفل ( علیہ السلام) وغیرہ۔ ورسلا لم نقصصہم علیک اور کچھ پیغمبر اور بھی بھیجے جن کا ذکر تم سے ہم نے نہیں کیا۔ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے کون پیغمبر تھا۔ فرمایا آدم ( علیہ السلام) ۔ میں نے عرض کیا وہ نبی تھے۔ فرمایا ہاں نبی تھے جن سے کلام کیا گیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ رسول کتنے ہوئے فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس ایک بڑی جماعت۔ حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ انبیاء کی پوری گنتی کتنی تھی فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار جن میں سے تین سو پندرہ کی ایک بڑی جماعت رسولوں کی ہوئی۔ رواہ احمد وابن ابی حاتم۔ حاکم نے ضعیف سند سے اور ابو یعلی نے اور حلیہ میں ابو نعیم نے بیان کیا کہ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے آٹھ ہزار انبیاء مبعوث فرمائے ‘ چار ہزار بنی اسرائیل میں سے اور چار ہزار باقی لوگوں میں سے۔ (1) [ ابن حبان نے صحیح میں اور حاکم اور ابن عساکر نے اور حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں اور عبد بن حمید نے حضرت ابوذر کا بیان نقل کیا ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! انبیاء کتنے ہوئے ؟ فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ان میں سے رسول کتنے ہوئے ؟ فرمایا : تین سو تیرہ کی ایک بڑی جماعت۔ پھر فرمایا : ابوذر ؓ چار بانی ہیں آدم ( علیہ السلام) شیث ( علیہ السلام) نوح ( علیہ السلام) خنوخ ( علیہ السلام) ۔ خنوخ ہی ادریس ( علیہ السلام) تھے انہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا۔ چار عرب میں سے ہیں ‘ ہود ( علیہ السلام) صالح ( علیہ السلام) شعیب ( علیہ السلام) اور تمہارا نبی ﷺ ۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلے نبی موسیٰ ( علیہ السلام) اور آخری نبی عیسیٰ ( علیہ السلام) ہوئے۔ سب سے اوّل نبی آدم تھے اور آخر نبی تمہارا پیغمبر ﷺ ۔] یہ آیت بتارہی ہے کہ ایمان کے لئے تمام انبیاء کی الگ الگ (ناموں کے ساتھ) شناخت ضروری نہیں اگر ہر ایک پر تفصیلی ایمان ضروری ہوتا تو اللہ سب کا تفصیلی ذکر فرماتا بلکہ سب پر اجمالاً ایمان لازم ہے۔ وکلم اللہ موسیٰ تکلیما اور اللہ نے موسیٰ سے یقیناً کلام کیا۔ اللہ کا کلام کرنا وحی کا انتہائی درجہ ہے یہ فضیلت اللہ نے تمام پیغمبروں میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھی مگر محمد رسول اللہ ﷺ : کو اس سے بڑھ کر اس سے بھی بڑھ کر فضیلت عطا کی اور آپ کے درجات اونچے کئے فرمایا ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَا اَوْحٰی مَاکَذَبَ الْفُوْادُ مَا رَأیٰ اَفَتُمَا رُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرَیٰ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْریٰ عِنْدَ سِدْرَۃٍ الْمُنْتَہٰی اور جو کچھ کسی دوسرے نبی کو عنایت کیا تھا اس سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کو عطا کیا۔ فراء نے بیان کیا ہے کہ عرب بعض افعال انسان کی نسبت بعض ایسے فاعلوں کی طرف بھی کردیتے تھے جو حقیقی فاعل نہیں ہوسکتے لیکن اس فعل کی تاکید مصدر کے ساتھ نہیں کرتے ہاں اگر مصدر کا تاکیداً ذکر کرتے ہیں تو اس وقت حقیقی فعل مقصود ہوتا ہے مجازی معنی مراد نہیں ہوتے مثلاً کہتے ہیں اراذا لجد اران نیقضدیوار نے ٹوٹنے کا ارادہ کیا (ارادہ انسانی فعل ہے لیکن اس مثال میں اس کی نسبت دیوار کی طرف کردی گئی ہے اس لئے حقیقی ارادہ مراد نہیں ہے) اس مثال میں اراد الجدار ارادۃ کہنا درست نہیں کیونکہ دیوار حقیقی ارادہ کی اہل نہیں ہے (اور آیت میں کلم کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے اور اس کی تاکید کے لئے تکلیمامصدر بھی ذکر کیا ہے معلوم ہوا کہ حقیقی کلام مراد ہے)
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے

رسلا مبشرین ومنذرین اللہ نے بھیجے پیغمبر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل تاکہ پیغمبروں کے بھیجنے کے بعد اللہ کے خلاف لوگوں کو کوئی عذر باقی نہ رہے یعنی قیامت کے دن لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا کہ ہم اس کے کہنے پر چلتے۔ حضرت مغیرہ ؓ کی روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے کہا اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے پاس دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کو ضرور قتل کر دوں۔ اس قول کی اطلاع رسول اللہ ﷺ : کو پہنچی تو فرمایا کیا تم کو سعد کی غیرت سے تعجب ہوتا ہے۔ خدا کی قسم میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے اللہ کی اسی غیرت کا تقاضا ہے کہ اس نے کھلی چھپی فحش کاریاں حرام کردی ہیں اور اللہ سے زیادہ کسی کو (گناہ گار کی) عذر خواہی پسند نہیں اسی لئے اس نے ڈرانے والے اور بشارت دینے والے پیغمبر بھیجے اور اللہ سے زیادہ کسی کو اپنی تعریف پسند نہیں اسی لئے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا۔ رواہ البخاری وغیرہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت میں ثبوت ہے اس امر کا کہ پیغمبروں کو بھیجے بغیر کسی کو عذاب نہیں دے گا جیسا کہ دوسری آیت میں اس نے خود فرمایا ہے وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً حنفیہ کہتے ہیں کہ (آیت وَمَاکُنَّا معذبین سے مراد عذاب دنیوی کی نفی ہے یعنی جب تک اللہ کسی پیغمبر کو ہدایت کے لئے نہیں بھیج دیتا اور پھر لوگ اس سے سرکشی نہیں کرتے اللہ دنیوی عذاب نہیں بھیجتا) (1) [ یا اس آیت میں نفی عذاب سے مراد ہے بداعمالی اور بد اطواری پر عذاب دینے کی نفی یعنی آخرت میں کسی کی بداعمالی موجب عذاب اس وقت تک نہ ہوگی جب تک اللہ نے اس کے پاس پیغمبر کو نہ بھیج دیا ہو۔ رہا عدم توحید اور شرک کا مواخذہ اس کی نفی اس جگہ نہیں ہے۔] احکام امر و نہی پر عذاب اللہ کی طرف سے اسی وقت ہوگا جب پیغمبر آکر امر و نہی بیان کردیں (کیونکہ پیغمبر کے بغیر کسی کو معلوم نہیں کہ اللہ کا کیا حکم ہے اور کس چیز کی ممانعت ہے) البتہ نفس توحید کا اقرار و اعتراف پیغمبروں کے آنے پر موقوف نہیں۔ اندرونی اور بیرونی تمام آیات الوہیت توحید پر دلالت کر رہی ہیں اور ان کو سمجھنے کے لئے عقل کافی ہے۔ واللہ اعلم۔ وکان اللہ عزیز اور اللہ غالب ہے یعنی اس کے ارادہ پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ حکیما حکمت والا ہے۔ تدبیر نبوت۔ ہر نبی کو خاص قسم کی وحی اور مخصوص معجزات و فضیلت عطا کرنا اور خاتم المرسلین کو قیامت تک آنے والی تمام قوموں کی ہدایت کے لئے بھیجنا اور ہر نبی کو جو کچھ عطا فرمایا وہ سب ان کو عطا فرمانا اسی کی حکمت کے زیر اثر ہے۔ ابن اسحاق (رح) اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی حضور ﷺ نے ان سے فرمایا تم بلاشبہ جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں یہودیوں نے جواب دیا ہم کو تو اس کا علم نہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مکہ کے کچھ سردار رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا محمد ﷺ ہم نے یہودیوں سے تمہارے اور تمہارے اوصاف کے متعلق دریافت کیا کہ ان کی کتاب میں اس کا ذکر ہے یا نہیں یہودیوں نے جواب دیا کہ ہم (اپنی کتاب میں) اس امر سے واقف نہیں اس پر مندرجۂ ذیل آیات کا نزول ہوا۔
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے

لکن اللہ یشہد بما انزل الیک لیکن اللہ تو اس کتاب کے ذریعہ سے جو آپ پر نازل کی ہے (آپ کی نبوت کی) شہادت دے رہا ہے۔ یعنی قرآن جو اپنی عبارت اور معنی کے لحاظ سے مکمل معجزہ ہے وہ آپ ﷺ کی نبوت کو ثابت کر رہا ہے۔ انزلہ بعلمہ اللہ نے یہ کتاب اپنے خاص علم کے ساتھ اتاری ہے (یعنی یہ کتاب اللہ کے علم خاص کی حامل ہے) علم خاص سے مراد ہے گزشتہ اور آئندہ کے غائب امور کا علم۔ قرآن کی عبارت کا علم جس کی مختصر ترین سورت کی طرح بھی کوئی عبارت نہیں پیش کی جاسکتی۔ اس امر کو جاننا کہ نبوت کا اہل کون ہے اور کس پر کتاب نازل کی جائے۔ اور اس بات کو جاننا کہ لوگوں کو اپنی معاش و معاد کی درستگی کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے۔ بعلمہترکیب کے اعتبار سے یا حالت فاعل کو بیان کر رہا ہے یا حالت مفعول کو یا مفعول مطلق ہے۔ اور پورا جملہ انزلہ بعلمہسابق جملہ کی گویا تفسیر ہے۔ والملئکۃ یشہدون اور ملائکہ (بھی) شہادت دیتے ہیں کہ آپ کی مدد کے لئے جہاد کے موقع پر علی الاعلان آتے ہیں جیسے بدر کی لڑائی میں ہوا۔ وکفی باللہ شہیدا اور اللہ کی شہادت کافی ہے یعنی آپ کی نبوت کے جو دلائل اللہ نے قائم کردیئے ہیں ان کی موجودگی میں کسی دوسرے کی شہادت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یا یہ مراد ہے کہ مؤمنوں اور کافروں کو بدلہ دینا قیامت کے دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا لہٰذا اسی کی شہادت کافی ہے منصف حاکم کو اگر واقعہ کا علم ہو اور وہ خود شاہد ہو تو پھر کسی دوسرے کی شہادت کی ضرورت نہیں رہتی۔
Ayah 4:167

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے

ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ بلاشبہ جن لوگوں نے خود کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا یعنی جن یہودیوں نے خود کافر رہنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ان اوصاف کو چھپایا جن کا ذکر توریت میں آیا ہے اور دوسروں کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لالنے اور آپ ﷺ : کا اتباع کرنے سے روکا۔ قد ضلوا ضللا بعیدا وہ (حق کے راستہ سے) دُور بھٹک گئے کیونکہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
Ayah 4:168

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا

ان الذین کفروا و ظلموا بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور (محمد ﷺ پر) ظلم کیا کہ جان لینے کے بعد آپ کی نبوت کا انکار کیا یا لوگوں پر ظلم کیا کہ ان کو ان کی بھلائی کے راستہ سے روکا۔ اس سے مراد یہودی ہیں۔ لم یکن اللہ لیغفر لہم ولا لیہدیہم طریقا۔ اللہ نہ تو ان کی مغفرت کرے گا اور نہ سوائے راہ جہنم کے ان کو کوئی راستہ دکھائے گا
Ayah 4:169

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے

الا طریق جہنم : یعنی صرف وہی راستہ بتائے گا جو جہنم تک پہنچانے والا ہوگا۔ خلدین فیہا ابدا وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جہنم میں داخلہ کے وقت وہاں ہمیشہ رہنا ان کے لئے مقدر کردیا جائے گا۔ (1) [ خالدین حال ہے اور حال وذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے اور داخلہ کے وقت خلود کا امکان نہیں کیونکہ داخلہ ایک آنی چیز ہے۔ تھوڑے وقت میں ہوجائے گا اور خلود کا معنی ہے غیر منقطع لا انتہا زمانہ پھر خلدین کا حال واقع ہونا کس طرح ممکن ہے۔ اس شبہ کا جواب حضرت مؤلف نے ایک جملہ میں دے دیا کہ داخلہ کے وقت ان کے لئے خلود مقدر کیا جائے گا حکم خلود اور داخلہ کا وقت ایک ہوگا گویا خلود سے مراد ہے حکم خلود۔ ‘ وکان ذلک علی اللہ یسیرا اور ان کو دوزخ میں داخل کرنا اللہ کے لئے آسان ہے۔ اس کے لئے کوئی چیز دشوار نہیں۔ اس آیت کا حکم ان لوگوں کے حق میں ہے جن کا مرتے وقت کفر پر قائم رہنا اللہ کے علم میں ہے (کیونکہ ایسے لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے)
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

یایہا الناس قد جآء کم الرسول بالحق من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے رسول ‘ حق یعنی قرآن اور سچا دین لے کر آگیا۔ پہلے نبوت کا اثبات۔ پھر نبوت پر یقین حاصل کرنے کا طریقہ بتایا اور نبوت کا انکار کرنے والوں کو عذاب کی وعید کا ذکر کیا اب عام انسانوں کو دعوت حق دی جا رہی ہے۔ فامنوا خیرا لکم لہٰذا اس پر ایسا ایمان لاؤ جو تمہارے لئے بہتر ہو یا اس طرح ترجمہ کیا جائے کہ اس پر ایمان لاؤ اور ایسا کام کرو جو تمہارے موجودہ مسلک سے بہتر ہو بغوی نے یکنکا لفظ محذوف قرار دیتے ہوئے اس طرح ترجمہ کیا ہے اس پر ایمان لاؤ ‘ وہ ایمان تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ بصرہ کے علماء نحو نے بغوی کے قول کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس صورت میں کان (فعل) کو مع اسم کے محذوف ماننا پڑے گا جو بغیر کسی خاص مجبوری کے جائز نہیں۔ اس کے علاوہ ایک خرابی یہ ہوگی کہ شرط و جزا دونوں کو محذوف قرار دیا جائے گا (صرف جزاء کا ایک جزء مذکور ہوگا کیونکہ پورا کلام اس طرح ہوگا لوگو ! ایمان لاؤ اگر ایمان لے آؤ گے تو ایمان لانا تمہارے لئے بہتر ہوگا) اہل بصرہ کے قول کی تردید آیت الناس یجزون مجزون باعمالہم ان خیراً فخیراً سے ہوتی ہے (کیونکہ اس آیت میں کان کو مع اسم کے دو جگہ حذف کردیا ہے پورا کلام اس طرح تھا اگر عمل اچھے ہوں گے تو جزا اچھی ہوگی ان کان العمل خیرا فیکن جزاء ہ خیرا) وان تکفروا اور اگر کفرو کرو گے تو اللہ بےنیاز ہے نہ تمہارے کفر سے اس کا ضرر ہوگا نہ ایمان سے نفع۔ نقصان۔ فائدہ تمہارا ہی ہوگا۔ (شرط کی جزا محذوف ہے اور آئندہ آیت علت حکم ہے) ۔ فان للہ ما فی السموات والارض پس جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ ہی کی مخلوق اور ملک ہے۔ وکان اللہ علیما اور اللہ (مؤمن و غیر مؤمن کو) خوب جانتا ہے۔ حکیما حکمت والا ہے ‘ مؤمن اور غیر مؤمن کو ایک جیسا بدلہ نہیں دے گا۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے

یاہل الکتب لا تغلوا فی دینکم اے اہل کتاب اپنے دین (کی عصبیت) میں (حق و صداقت کی) حد سے تجاوز نہ کرو۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں یہود و نصاریٰ دونوں گروہوں کو خطاب ہے یہود حضرت عیسیٰ کی تنقیص کرتے تھے آپ کی والدہ کو زانیہ قرار دیتے اور آپ کی رسالت کی تکذیب کرتے تھے اس طرح حد صداقت سے ہٹ گئے تھے اور عیسائی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تعظیم میں آگے بڑھ گئے تھے کہ آپ کو معبود بنا رکھا تھا۔ غلو کا اصل لغوی معنی ہے حد سے ہٹ جانا۔ بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول صرف نصاریٰ کے متعلق ہوا تھا۔ نصاریٰ کے چار فرقے ہیں یعقوبیہ۔ ملکائیہ۔ نسطوریہ۔ مرقوسیہ۔ یعقوبیہ اور ملکائیہ کا تو قول یہ تھا کہ عیسیٰ ہی اللہ ہے۔ نسطوریہ کہتے تھے عیسیٰ اللہ کا بیٹا ہے مرقوسیہ قائل تھے کہ عیسیٰ تین میں کا تیسرا ہے یہ تعلیم ان کو یہودی نے دی تھی جس کا نام بولس تھا سورت توبہ میں انشاء اللہ اس کی تفصیل آئے گی۔ ولا تقولوا علی اللہ الا الحق اور اللہ کے متعلق حق بات کے علاوہ اور کچھ نہ کہو یعنی اس کو شریک ‘ بیوی اور اوّل اد سے پاک سمجھو اور اس کو جسم قرار نہ دو جو کھانے کا محتاج ہو۔ انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ مسیح عیسیٰ بن مریم تو بس اللہ کا رسول تھا۔ نہ نصاریٰ کا قول صحیح ہے کہ مسیح ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا تھا۔ نہ یہود کا قول درست ہے کہ عیسیٰ جھوٹا تھا وہ تو اللہ کا رسول تھا۔ وکلمتہ اور اللہ کا کلمہ تھا۔ یعنی اللہ کے کلمہ کنکا نتیجہ تھا۔ اللہ نے فرمایا ہوجا فوراً وہ بغیر باپ کے آدمی ہوگیا۔ القہا الی مریم اللہ نے اپنا کلمہ مریم تک پہنچا دیا۔ و روح منہ اور اس کی طرف سے روح تھا یعنی دوسرے جانداروں کی طرح اللہ کی تخلیق کے زیر اثر وہ حامل روح تھا اور اس روح کا صدور اللہ کی طرف سے تھا اس لئے الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اس فقرہ میں اللہ نے روح کی نسبت اپنی ذات کی طرف عیسیٰ کے شرف کو ظاہر کرنے کے لئے کی ہے۔ (ورنہ حقیقت میں تمام ارواح کا صدور اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ حضرت مفسر قدس سرہ عقیدۂ جزئیت کو باطل کرنا چاہتے ہیں کہ روح منہ سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کی روح تھے یا اللہ کی روح کا جز تھے بلکہ ایک مخلوق تھے جس کی روح کا صدور اللہ کی طرف سے ہوا تھا گویا اس وقت منہ میں منہ تبیعضیہ نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے) ۔ بعض اہل تفسیر نے روح کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے کہ آپ مردہ انسانوں کو یا مردہ دلوں کو زندہ کردیتے تھے بعض نے کہا روح سے وہ پھونک مراد ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) نے حضرت مریم ( علیہ السلام) کے گریبان میں پھونکی تھی اور بحکم خدا اس پھونک سے حضرت مریم حاملہ ہوگئیں تھیں۔ پھونکنے کو روح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ پھونک بھی ہوا ہوتی ہے جو روح سے خارج ہوتی ہے اور چونکہ یہ نفخ بامر خدا بغیر مادی سبب کے ہوا تھا اس لئے اللہ کی طرف (براہ راست) اس کی نسبت کردی۔ بعض نے کہا روح سے مراد ہے رحمت خدا اور رحمت اسی پر ہوتی ہے جو اس پر ایمان رکھتا اور حکم پر چلتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ روح سے مراد وحی ہے۔ مریم ( علیہ السلام) کو وحی بصورت بشارت ہوئی اور جبرئیل ( علیہ السلام) کو وحی نفخ کی ہوئی اور عیسیٰ کو وحی کی گئی کہ ہوجا وہ ہوگئے۔ بعض کے نزدیک روح سے مراد جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں اور اس کا عطف القا کی مستتر فاعلی ضمیر پر ہے اور فصل ہونے کی وجہ سے یہ جائز ہے یعنی اللہ نے اپنا کلمہ مریم ( علیہ السلام) کو پہنچایا اور جبرئیل ( علیہ السلام) نے بحکم خدا وہ کلمہ پہنچا دیا۔ اللہ آمر یا خالق تھا اس لئے اس کی طرف کلمہ پہنچانے کی نسبت کی اور جبرئیل ( علیہ السلام) فاعل یا کا سب تھا اس لئے اس کی طرف نسبت کردی۔ حضرت عبادہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے وحدہٗ لا شریک ہونے کی اور محمد ﷺ : کی عبدیت و رسالت کی شہادت دی اور یہ بھی اعتراف کیا کہ عیسیٰ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول اور اس کا کلمہ تھا جو اللہ نے مریم ( علیہ السلام) : کو پہنچایا تھا اور اللہ کی طرف سے صادر شدہ روح بھی تھا اور (یہ بھی یقین رکھا کہ) جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس کو (آخرکار) اللہ جنت میں لے جائے گا عمل اس کے کچھ بھی ہوں۔ رواہ البخاری و مسلم فی صحیحہا۔ فامنوا باللہ پس مانو اللہ تعالیٰ کو۔ جیسا کہ اس کی شان تنزیہ کے مناسب ہے۔ ورسلہ اور اس کے پیغمبروں کو جن میں عیسیٰ بھی داخل ہیں۔ ولا تقولوا ثلثۃ اور نہ کہو کہ الٰہ تین ہیں اللہ اور مسیح ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) (یعنی مسیح ( علیہ السلام) اور مریم ( علیہ السلام) کو معبود نہ قرار دو ) اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے آیت ءَ اَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِبعض علماء نے کہا ہے کہ نصاریٰ اقانیم ثلاثہ (الوہیت کے تین عناصر) کے قائل تھے۔ اللہ ‘ عیسیٰ اور جبرئیل ( علیہ السلام) اللہ کو باپ عیسیٰ کو بیٹا اور جبرئیل ( علیہ السلام) کو روح القدس کہتے تھے۔ عیسائی کہتے تھے کہ ایک ذات کی دو صفات تھیں علم اور حیوۃ۔ صفت علم ذات سے منتقل ہو کر مستقل بن کر مجسم بن گئی جس کا نام عیسیٰ ( علیہ السلام) ہوگیا اور صفت حیوٰۃ کا نام جبرئیل ( علیہ السلام) قرار پایا۔ انتہوا (تثلیث سے) باز رہو۔ خیرا لکم تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ یا ایسا کام کرو جو تمہارے موجودہ مسلک سے بہتر ہے۔ انما اللہ الہ واحد بس اللہ ہی تنہا معبود ہے اس کے اندر کسی طرح کا تعدد (اور کثرت) نہیں ہے۔ سبحانہ ان یکون لہ ولد وہ اس امر سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اوّل اد ہو۔ اوّل اد ہونے کا تصور تو وہاں ہوسکتا ہے جہاں اصل کی مثل ہوسکتی ہو اور فنا کا تصور کیا جاسکتا ہو (اللہ کا تو نہ مثل ہے نہ وہ فانی ہے) اسی لئے اللہ نے اپنے لئے صاحب اوّل اد ہونے کے قول کو گالی قرار دیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے فرمایا۔ ابن آدم ( علیہ السلام) نے میری تکذیب کی اور اس کے لئے یہ جائز نہ تھا ‘ اس نے مجھے گالی دی اور اس کو یہ بھی درست نہ تھا۔ میری تکذیب تو اس قول سے کی کہ اوّل تخلیق کی طرح دوبارہ اللہ تخلیق نہیں کرے گا حالانکہ اوّل تخلیق سے دوبارہ تخلیق میرے لئے دشوار نہیں اور گالی اس قول سے دی کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنا لیا حالانکہ میں اکیلا ہوں بےاحتیاج ہوں نہ میری اوّل اد نہ میں کسی کی اوّل اد ‘ نہ میرا کوئی مثل۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ الفاظ ہیں میں بیوی اور اوّل اد اختیار کرنے سے پاک ہوں۔ رواہ البخاری۔ لہ ما فی السموات وما فی الارض اسی کی مخلوق اور ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اس کی مثل کون ہوسکتا ہے کہ اس کے بیٹے ہونے کا تصور کیا جاسکے۔ یہ جملہ گویا نفی ولدیت کی علت ہے۔ وکفی باللہ وکیلا اور اللہ کافی کارساز ہے یعنی سارے عالم کی نگہداشت اور انتظام کے لئے اللہ ہی کافی ہے اس لئے اوّل اد کی اس کو کوئی ضرورت نہیں۔ اوّل اد کی ضرورت تو اس لئے ہوتی ہے کہ باپ کا ہاتھ بٹائے اور اس کا قائم مقام ہوجائے۔ واللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے اور واحدی نے اسباب النزول میں اس قول کی نسبت کلبی کی طرف کی ہے کہ نجران کے نمائندوں نے کہا محمد ﷺ آپ ہمارے آقا پر عیب لگاتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا میں کیا کہتا ہوں وفد والوں نے کہا آپ ان کو اللہ کا بندہ اور رسول کہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کا بندہ ہونا عیسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے باعث عار نہیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا

لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ مسیح تو اللہ کا بندہ ہونے سے ہرگز نہ عار کریں گے کیونکہ اللہ کی بندگی تو ان کے لئے باعث شرف و کمال ہے جس پر ان کو فخر ہے کیونکہ ممکنات کے اندر کوئی کمال وصفی اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ان کا انتساب اللہ کی طرف نہ ہو اور سوائے عبدیت کے مسیح کی کوئی اور نسبت اللہ سے نہیں ہے پس عبدیت ہی ان کے لئے کمال ہے ذلت و نفرت تو اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی سے ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی اسی جیسا ہوتا ہے۔ استنکاف کا معنی ہے کسی چیز کو حقیر سمجھ کر اس سے ناک چڑھانا۔ محاورہ ہے تکفت الدمع میں نے انگلی یا ہاتھ سے آنسو پونچھ لئے تاکہ آنسو کا نشان باقی نہ رہے۔ ولا الملئکۃ المقربون اور نہ مقرب فرشتے (اللہ کی بندگی سے عار کرتے ہیں) اس کا عطف المسیح پر ہے۔ جو لوگ انسان پر فرشتوں کی برتری کے قائل ہیں وہ اپنے دعوے پر اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس آیت میں مسیح کے بعد ملائکہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ترقی ادنیٰ سے اعلیٰ کی جانب ہوتی ہے محاورہ میں بولا جاتا ہے زید اس سے عار نہیں کرتا اور نہ وہ شخص عار کرتا ہے جو زید سے برتر ہے یوں نہیں کہا جاتا کہ فلاں بات سے زید عار نہیں کرتا اور نہ اس کا غلام عار کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ ملائکہ کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی جانب حکم کی ترقی مقصود ہو بلکہ آیت میں دونوں فرقوں کی تردید مقصود ہے۔ پرستاران مسیح کی بھی اور پرستاران ملائکہ کی بھی۔ (کیونکہ جس طرح نصاریٰ کا ایک فرقہ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتا تھا اسی طرح بعض اہل شرک ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے) یا یوں کہا جائے کہ آیت میں ادنیٰ مرتبہ والوں سے اعلیٰ مرتبہ والوں کی طرف ترقی مراد نہیں ہے۔ بلکہ قلت سے کثرت کی طرف ترقی کا حکم مقصود ہے۔ (یعنی مسیح کو بھی عبدیت سے عار نہیں اور نہ ملائکہ مقربین کو عار ہے جن کی تعداد بیشمار ہے) جیسے کہا جاتا ہے حاکم سے نہ کوئی بڑا سردار ڈرتا ہے نہ رعایا اور نہ خدام۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اگر ادنیٰ سے اعلیٰ درجہ تک ترقی کا حکم آیت میں مان بھی لیا جائے تو زائد سے زائد یہ لازم آتا ہے کہ مقرب فرشتے مسیح سے افضل ہوجائیں گے یعنی وہ کرّبی جو حاملین عرش ہیں مسیح ( علیہ السلام) سے برتر قرار پائیں گے لیکن اس سے مطلق جنس ملائکہ کی فضیلت نوع بشر پر لازم نہیں آتی اور اختلاف اسی مسئلہ میں ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ آیت میں نفی استنکاف کی مسیح سے ملائکہ کی جانب ترقی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ملائکہ افضل ہیں اور ان کو ثواب کا استحقاق زیادہ ہے بلکہ اس ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ بنی آدم میں تو باہم بندگی اور غلامی کی کثرت ہے اگر انسان کے کسی ایک فرد یعنی مسیح ( علیہ السلام) کو عبدیت سے عار نہ ہو تو تعجب نہیں ان میں غلامی اور عبدیت عام چیز ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ مقرب فرشتے جو باہم بندگی کا تصور بھی نہیں کرتے ان کو بھی اللہ کی عبدیت سے عار نہیں۔ میرے نزدیک اعلیٰ تحقیق یہ ہے کہ آیت سے ملائکہ کی کلی فضیلت انسانوں پر لازم نہیں آتی۔ جزئی فضیلت ثابت ہوتی ہے یعنی بعض وجوہ سے ملائکہ کو انسان پر فضیلت اور برتری حاصل ہے اور اس میں کوئی نزاع بھی نہیں ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ انسان جو اپنی شخصی اور نوعی بقا کے لئے کھانے پینے اور جماع کرنے کا محتاج ہے اس کا زمانۂ حدوث بھی قریب ہے مدت عمر بھی کوتاہ ہے موت آنے میں زیادہ مدت نہیں وہ اللہ کی عبدیت اور مخلوقیت سے کیسے انکار کرسکتا ہے اور کس طرح اپنی الوہیت کا دعویٰ کرسکتا ہے جب کہ وہ ملائکہ جو ہر مادی کثافت سے پاک ہوتے ہیں ان کو کوئی حاجت نہیں ‘ قوت بھی ان کی زائد ہے عمریں بھی کم نہیں ہیں امراض و مصائب میں مبتلا بھی نہیں ہوتے اللہ کی عبدیت سے انکار نہیں کرتے اور نہ اپنی الوہیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پھر نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملہ میں حد سے زیادہ مبالغہ کیا اور عبدیت سے بالاتر قرار دیا تھا اور اس غلط افراط کی وجہ صرف یہ تھی کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مادر زاد اندھوں کو بینا اور برص زدہ لوگوں کو صحت مند اور مردوں کو زندہ کردیتے تھے اور لوگوں کی رات کی کھائی ہوئی چیزوں کو بتا دیتے تھے اور جو چیزیں لوگ گھروں میں اندوختہ کرتے تھے ان کی بھی اطلاع دے دیتے تھے ان کے رد میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ اوصاف تو ملائکہ میں بہ نسبت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زیادہ ہیں اور اس کے باوجود ملائکہ کو اللہ کی عبدیت سے عار نہیں پھر عیسیٰ کو عبدیت سے کس طرح انکار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جب نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملہ میں حد سے زیادہ افراط سے کام لیا اور اتنی اونچی بلندی پر جا بٹھایا جو کسی طرح ان کے لئے سزاوار نہ تھی تو آیت میں عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ملائکہ کی فضیلت کی طرف اشارہ کردیا گیا خواہ بعض اعتبارات سے ہی ہو مگر ملائکہ کی فضیلت کی طرف اشارہ ہوگیا اور نصاریٰ کے زعم باطل کا جواب ہوگیا جس طرح حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے جب دریافت کیا کہ کیا تم کو اپنے سے بڑا عالم کوئی معلوم ہے اور موسیٰ نے نفی میں جواب دیا تو فرمایا ضرور ہے۔ ہمارا بندہ خضر تم سے (بعض چیزوں کو) زیادہ جانتا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا لَا اَبْرَحُ حَتّٰی اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا اور حضرت خضر ( علیہ السلام) سے کہا ہَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰی اَنْ تُعَلِّمَنْ مِّمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرہم الیہ جمیعا اور جو شخص اللہ کی بندگی سے عار اور تکبر کرے گا تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرے گا اور سزا دے گا۔ استنکاف (غرور کے ساتھ انکار آمیز ناک چڑھانا) سے استکبار (اپنے کو غلط طور پر بڑا سمجھنا) کا درجہ کم ہے۔ استکبار کا استعمال اس جگہ ہوتا ہے جہاں بڑائی کا استحقاق مطلق نہ ہو اور تکبر میں یہ شرط نہیں ہے تکبر کبھی استحقاق کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
Ayah 4:173

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندوں ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے

فاما الذین امنوا عملوا الصلحت پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ جیسے مسیح ( علیہ السلام) اور ملائکہ اور دوسرے مؤمن (معلوم نہیں آیت کے عموم میں حضرت مفسر (رح) نے ملائکہ کو کیوں داخل کیا ‘ باوجودیکہ کلام کا سیاق بتارہا ہے کہ صرف نیک مؤمن انسانوں کا حکم بیان کرنا مقصود ہے پھر آئندہ جزاء کا تعلق بھی صرف انسانوں سے ہے ثواب پورا پورا دینا اور اپنے فضل سے ثواب مزید عطا کرنا اس کا وعدہ صرف انسانوں سے ہے انسان ہی قوانین کتاب کا مکلف ہے فرشتے تو مکلف ہی نہیں ہیں نہ ان سے حساب کتاب کی کہیں صراحت ہے نہ ثواب عذاب پانے کی نص۔ واللہ اعلم۔ مترجم) فیوفیہم اجورہم تو ان کا ثواب پورا پورا دے گا جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے۔ ویزیدہم من فضلہ اور اپنی مہربانی سے (جتنا اور جو چاہے گا) زیادہ عطا کرے گا۔ چند در چند جزاء اور مقام قرب و دیدار کے وہ معاملات جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا (جو کچھ چاہے گا عطا فرمائے گا) طبرانی وغیرہ نے ضعیف مسند سے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کے لئے دوزخ لازم ہوچکی ہوگی تو اللہ اپنی مہربانی سے نیک لوگوں کو ان کی شفاعت کرنے کا حق دے گا (گویا نیکیوں کے لئے حق شفاعت کی عطا اللہ کی مزید مہربانی ہوگی) واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبہم عذابا الیما اور جن لوگوں نے (اللہ کی بندگی سے) عار کی اور بڑے بنے تو اللہ ان کو دکھ کا عذاب دے گا۔ ولا یجدون لہم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو اپنے لئے نہ کوئی کار سازنہ ملے گا نہ مددگار۔ ایک شبہ تفصیل اجمال کے مطابق نہیں ہے کیونکہ سیحشرہم کی ضمیر مَنْ یَسْتَنْکِفْکی طرف راجع ہے تو اجمال کی حالت میں صرف المستنکفین کا ذکر ہوا مگر تفصیل کے موقع پر دونوں فریقوں کا ذکر ہے۔ ازالہیہ صریحی عبارتی اجمال کی تفصیل نہیں ہے بلکہ مضمون کلام جو قرینہ سے سمجھا جا رہا ہے اس کی تفصیل ہے گویا کلام یوں تھا ” اللہ اپنے پاس سے سب استنکاف کرنے والوں کو جمع کرے گا اور جس روز سب بندوں کو جمع کرے گا اس روز ان کو بدلہ دے گا پس بندوں میں سے جو ایمان لائے ہوں گے اور نیک کام کئے ہوں گے ان کو اور جن لوگوں نے استنکاف اور تکبر کیا ہوگا ان کو یا یوں کہا جائے کہ اہل استنکاف کے مخالفوں کو اچھی جزا دینا درحقیقت اہل استنکاف کے لئے عذاب اور حسرت و الم کا سبب ہوگا تو گویا اہل استنکاف کے ہی دو گنا عذاب کو بیان کیا گیا ہے (اہل ایمان کے ثواب کا بیان سابق اجمال کی تفصیل نہیں بلکہ کافروں کے عذاب کا دوسرے طریقہ سے بیان ہے) ۔ علامہ تفتازانی نے اس توجیہ کو غلط قرار دیا ہے کیونکہ اہل استنکاف کی سزا پر اما کا لفظ نہیں آیا ہے بلکہ دونوں فریقوں کے بیان کے شروع میں آیا ہے۔ صاحب کشاف نے فسیحشرہم کے بعد والمؤمنین کا لفظ مقدر قرار دیا ہے (تاکہ اجمال کے موقع پر دونوں فریق کا ذکر ہوجائے) کیونکہ تفصیل کا تقاضا یہی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ دو مقابل چیزوں میں سے اگر ایک کا ذکر صراحت کے ساتھ کردیا جائے تو دوسری کا ذکر ضمناً آہی جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں تفصیل سے پہلے دونوں فریقوں کا ذکر (صراحت کے ساتھ) ہوچکا ہے غیر مستنکفینکا ذکر تو لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَکُوْنَ عَبْدًالِلّٰہِ وَلاَ الْمَلاَءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَکے ذیل میں آگیا اور اہل استنکاف کا ذکر آیت وَمَنْ یَّسْتَنْکِفَ عَنْ عِبَادَتِہٖکے ضمن میں ہوگیا اس کے بعد تفصیل کے موقع پر اللہ نے دونوں فریقوں کے اچھے بدلہ برے کا ذکر کردیا۔
Ayah 4:174

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے

یا ایہا الناس قد جآء کم برہان من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کے پاس سے واضح دلیل آگئی یعنی ایسے معجزات آگئے جو محمد ﷺ : کی نبوت کو ثابت کر رہے ہیں یا برہان سے مراد ہے حجت الٰہیہ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی۔ وانزلنا الیکم نورا مبینا اور ہم نے تمہارے پاس روشنی پیدا کرنے والا یعنی قرآن بھیج دیا جس طرح اشیاء کا انکشاف روشنی سے ہوتا ہے اسی طرح حق کا انکشاف قرآن سے ہوتا ہے۔
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا۔ اور اپنی طرف (پہچنے کا) سیدھا رستہ دکھائے گا

فاما الذین امنوا باللہ واعتصموا بہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کو (یعنی اس کے دین کو) مضبوطی سے پکڑ لیا۔ فسیدخلہم فی رحمتہ منہ وفضل تو اللہ ان کو اپنی رحمت و فضل میں ضرور داخل کرے گا۔ رحمت سے مرادجنت میں اور اتنا ثواب جو ایمان و عمل کے مقابلہ میں اللہ نے اپنی رحمت سے مقرر کردیا ہے اگرچہ کسی کا حق اللہ پر واجب نہیں۔ معتزلہ ہر نیکی کے ثواب کو اللہ پر واجب قرار دیتے ہیں۔ فضل سے مراد ہے اللہ کا وہ احسان جو مقررہ ثواب سے زائد ہوگا جیسے دیدارِ الٰہی اور درجات قرب۔ ویہدیہم الیہ صراطا مستقیما اور اپنے پاس تک پہنچنے کا ان کو سیدھا راستہ بتادے گا۔ الیہ سے مراد ہے اللہ کا وہ راستہ جو اللہ کی ذات بےکیف و بےمثال تک پہنچانے والا ہے اور صراط مستقیم سے مراد ہے اسلام ‘ طاعت ‘ صوفیہ کے راستہ پر چلنا اور آخرت میں جنت کا راستہ اور مقام دیدار و قرب۔ ابن مردویہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کلالہ کی میراث کا حکم دریافت کیا تو آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا کلالہ بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

یستفتنوک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ کلالہ کے معنی کی تحقیق شروع سورت میں ہوچکی ہے۔ نسائی نے ابوالزبیر کے طریق سے حضرت جابر ؓ کا بیان نقل کیا ہے۔ جابر ؓ نے فرمایا میں بیمار ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اپنی بہنوں کے لئے ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں فرمایا (ان کے ساتھ) بھلائی کرو میں نے عرض کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں فرمایا (ان کے ساتھ) بھلائی کرو ‘ یہ فرمانے کے بعد تشریف لے گئے پھر (کچھ دیر کے بعد) تشریف لائے اور فرمایا میرے خیال میں تم اس بیماری سے نہیں مرو گے۔ اللہ نے تمہارے اور تمہاری بہنوں کے معاملہ میں حکم نازل فرما دیا اور وہ دو تہائی مال (کا) ہے حضرت جابر ؓ : فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کا نزول میرے ہی حق میں ہوا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ شروع سورت میں جو قصہ گزر گیا حضرت جابر ؓ : کا یہ قصہ اس سے الگ ہے۔ فائدہ : علماء کا اجماع ہے کہ حقیقی بھائی بہنوں کی میراث کے متعلق یہ آیت اتری ہے جیسا کہ شروع سورت میں حضرت ابوبکر ؓ کی روایت سے ہم نے بیان کردیا ہے۔ اگر حقیقی بھائی بہن نہ ہوں تو علاتی بھائی بہن (باپ ایک ماں جدا جدا) کا حکم حقیقی کی طرح بالاجماع ہے۔ ان امروا ہلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلہا نصف ما ترک اگر کوئی آدمی مرجائے اور اس کی کوئی اوّل ادنہ ہو (نہ نر نہ مادہ) اور ایک حقیقی بہن ہو تو بہن کو بھائی کے ترکہ میں سے آدھا مال ملے گا۔ وہو یرثہا ان لم یکن لہا ولد لیکن اگر بہن مرجائے اور اس کی کوئی اوّل اد نہ ہو تو بھائی حقیقی بہن کے کل مال کا وارث ہوگا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ میت کے باپ دادا بھی موجود نہ ہوں یہ شرط لفظ کلالہ سے سمجھی جاتی ہے (اگرچہ اس جگہ یہ شرط عبارت میں مذکور نہیں ہے) فان کانتا اثنتین فلہما الثلثن مما ترک اور اگر دو (یا زیادہ) بہنیں ہوں (اور بھائی کوئی نہ ہو) تو بھائی کے کل ترکہ کا دو تہائی ان کا ہوگا۔ دو سے زائد کا حصہ بھی دو ہی کے برابر بالاجماع ہے۔ وان کانوا اخوب رجالا و نسآء اور اگر بھائی بہنوں کی ایک جماعت ہو کچھ مرد اور کچھ عورتیں۔ اگر دو بھائی بہن ہوں یعنی ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو دونوں کا حصہ بھی جماعت کی برابر بالاجماع ہے۔ فللذکر مثل حظ الانثیین تو (ایک) مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر واجب ہے یعنی اگر دو بہنوں کے ساتھ ایک بھائی یا زیادہ بھائی ہوں تو ہر بھائی کو دو بہنوں کے برابر حصہ دینا واجب ہے۔ دلالتِ نص سے یہ مسئلہ معلوم ہو رہا ہے کہ اگر ایک یا زیادہ بھائی ہوں اور بہن ایک ہو تو ایک بہن کو ایک بھائی کے حصہ سے آدھا دیا جائے گا۔ حاصل یہ کہ مرد کے دو حصے اور عورت کا ایک حصہ ہے۔ مسئلہ : ایک بہن کے لئے کل ترکہ کا آدھا اور ایک بہن سے زیادہ کے لئے کل ترکہ کا دو تہائی اس وقت ہوگا جب میت کی نر مادہ اوّل اد نہ ہو یہ مسئلہ تو صراحتاً مذکور ہے۔ اسی کے ساتھ باجماع علماء یہ بھی ضروری ہے کہ میت کی نسل در نسل کی کوئی نرینہ اوّل اد بھی نہ ہو یعنی پوتا ‘ پوتے کا بیٹا ‘ پوتے کے بیٹے کا بیٹا وغیرہ بھی نہ ہو اس وقت بہن یا بہنوں کا مذکورہ حصہ ہوگا اور اگر ایک نرینہ نسل یا چند ہوں۔ مثلاً ایک یا چند پوتے یا ایک پروتا یا چند پروتے ہو خواہ پوتی یا پروتی یا سکروتی کوئی ہو یا نہ ہو بہرحال اس وقت بھائیوں اور بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر ایک یا چند لڑکیاں ہوں پو وتیاں ہوں پروتیاں ہوں تو اس وقت بھائی بہن عصبہ ہوں گے بیٹی پوتی پروتی بہرحال نرینہ اوّل اد کی نسلی عورتوں کے مقررہ حصہ دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ بھائیوں اور بہنوں کا ہوگا۔ بھائیوں کے عصبہ ہونے کے متعلق حدیث آئی ہے حضور ﷺ نے فرمایا ہے مقررہ حصّے حصّوں والوں کو پہنچا دو پھر جو کچھ بچے وہ قریب ترین مرد کا ہے (یعنی بھائی کا ہے) اسی طرح ایک یا چند بہنیں ایک بیٹی یا چند بیٹیوں کی موجودگی میں صاحب فرض نہیں بلکہ عصبہ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے بہنوں کو بیٹیوں کی موجودگی میں عصبہ قرار دو ۔ شرحبیل کا بیان ہے کہ ایک شخص حضرت ابوموسیٰ ؓ اور حضرت سلیمان ؓ بن ربیعہ کے پاس آیا اور مسئلہ پوچھا کہ ایک آدمی مرگیا اور وارثوں میں ایک بیٹی ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن موجود ہے تقسیم ترکہ کس طرح کی جائے۔ دونوں بزرگوں نے جواب دیا بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف دیا جائے (یعنی پوتی محروم ہے) جاؤ ابن مسعود ؓ سے جا کر پوچھ لو وہ بھی اس کی تائید کریں گے۔ سائل حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس گیا حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا اگر میں اس کی تائید کروں گا تو گمراہ ہوں گا۔ میں وہی حکم دوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔ بیٹی کا نصف ترکہ۔ پوتی کا کل ترکہ کا چھٹا حصہ۔ اسی طرح دو تہائی ترکہ دونوں کا ہوجائے گا۔ اور جو باقی رہے گا (یعنی ایک تہائی) وہ بہن کا ہوگا۔ (1) [ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر بیٹی موجود ہو تو بہن کا کوئی مقررہ حصہ نہیں بلکہ وہ عصبہ ہوجائے گی آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ یہ حکم نہ قرآن میں ہے نہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ میں اللہ نے تو لفظ فقط اِنِ امْرُءٌ ہَلَکَ وَلَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہٗ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَاتَرَکَفرمایا ہے۔ مگر یہ حکم سنت (صحابہ) سے ثابت ہے اور اس پر اجماع ہوچکا ہے۔] رواہ البخاری۔ مسئلہ : ایک حقیقی بھائی اگر موجود ہو تو علاتی بھائی بہن وارث نہیں ہوتے کیونکہ حضرت علی ؓ کی روایت ہے حضور اقدس نے فرمایا حقیقی بھائی آپس میں وارث ہوتے ہیں۔ علاتی بھائی وارث نہیں ہوتے ایک شخص اپنے حقیق بھائی کا وارث ہوتا ہے علاتی بھائی وارث نہیں ہوتا۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ والحاکم من حدیث الحارث عن علی ؓ ۔ یہ حدیث بقول ترمذی صرف حارث کی روایت سے آئی ہے اور حارث ضعیف ہے مگر ترمذی نے کہا ہے کہ حارث فرائض کے عالم تھے ان کی اس روایت پر عمل کیا جاتا ہے یعنی ان کی اس روایت پر عمل کرنے پر اجماع ہے۔ مسئلہ : اگر ایک حقیقی بہن ہو تو علاتی بہن کو خواہ ایک ہو یا چند۔ کل ترکہ کا چھٹا حصہ ملے گا تاکہ دو تہائی کی تکمیل ہوجائے جس طرح اگر ایک بیٹی ہو اور اس کے ساتھ ایک پوتی یا متعدد پوتیاں ہوں تو بیٹی کو نصف اور پوتی کو چھٹا حصہ ملتا ہے لیکن اگر دو حقیقی بہنیں ہوں تو علاتی بہنوں کو کچھ نہیں ملتا۔ کیونکہ حقیقی بہنوں کو اس وقت دو تہائی مل جاتا ہے ہاں اگر علاتی بہنوں کے ساتھ ان کا کوئی بھائی بھی موجودہ ہو تو بھائی کی وجہ سے وہ بھی عصبہ ہوجاتی ہیں اور بقیہ ایک تہائی بھائی بہنوں میں دوہرے اور اکہرے کے حساب سے تقسیم کردیا جائے گا یعنی مرد کا دوہرا حصہ اور عورت کا اکہرا۔ مسئلہ : اجماع علماء ہے کہ اگر حقیقی بھائی موجود نہ ہوں اور علاتی ہوں تو علاتی کا اس وقت حکم حقیقی کی طرح ہوجاتا ہے یا تو اسی آیت کی وجہ سے کیونکہ اس میں لفظ اخوۃ آیا ہے جو بہنوں کو بھی شامل ہے (اور حقیقی و علاتی دونوں اس میں داخل ہیں) مگر عینی کو علاتی پر ترجیح سنت سے ثابت ہے (گویا سنت سے آیت کی تشریح ہوگئی) مگر اس صورت میں مشترک کے دونوں معنی ایک ہی وقت میں مراد لینے پڑیں گے یا یوں کہنا چاہئے کہ نقل مستفیض (خبر مشہور) کی وجہ سے ہم مذکورۂ بالا حکم دیتے ہیں (اگرچہ آیت میں مذکور نہیں ہے) بہرحال ایک بہن کو نصف اور دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو دو تہائی دیا جائے گا اور تنہا ایک بھائی ہو تو سب کا ترکہ کا مالک ہوجائے گا اور اگر بھائی بہن مخلوط ہوں تو مرد کا دوہرا اور عورت کا اکہرا حصہ ہوگا۔ لیکن اگر میت کا بیٹا یا پوتا یا پروتا یا باپ یا دادا موجود ہو تو علاتی بھائی بہن محروم ہوجائیں گے اور اگر میت کی ایک یا متعدد بیٹیاں موجود ہوں تو علاتی کا وہی حکم ہوگا جو بیٹیوں کی موجودگی میں حقیقی بھائی کا ہوتا ہے۔ بینین اللہ لکم ان تضلوا اللہ تمہارے سامنے تمہارے بہک جانے کو کھول کر بیان کرتا ہے یعنی اگر تم کو تمہاری خواہش پر آزاد چھوڑ دیا جائے تو گمراہ ہوجاؤ گے اس بات کو اللہ کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنی مرضی پر چلنے کو چھوڑ دو ۔ یا یہ ترجمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے حق اور سچی بات کھول کر بیان کر رہا ہے کیونکہ تمہارا بھٹک جانا اس کو ناپسند ہے۔ علماء کوفہ کے نزدیک اس جگہ لا محذوف ہے یعنی اللہ اپنا حکم کھول کر بیان کر رہا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ۔ واللہ بکل شی علیم اور اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ موت و زندگی میں بندوں کے لئے جو مصالح ہیں ان کو بھی خوب جانتا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت براء بن عازب ؓ کا قول منقول ہے کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورة براءت ہے اور سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سورة نساء کی آخری آیت یَسْتَفْتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰۃِہے۔ متفق علیہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت آیت ربوا ہے اور سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُہے۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا یہ قول بھی آیا ہے کہ آخری آیت : وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلٰی اللّٰہِہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ سورة النصر کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ سال بھر زندہ رہے اور سورة النصر کے چھ ماہ بعد سورت براءت نازل ہوئی اور یہی سورت تھی جو سب سے آخر میں پوری نازل ہوئی اس کے بعد حضور ﷺ چھ ماہ زندہ رہے پھر حجۃ الوداع کے راستہ میں آیت : یَسْتَفُتُوْنَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِنازل ہوئی۔ اور اس کا نام آیت الصیف لیا گیا (گرمی والی آیت) پھر اس کے بعد وقوف عرفہ کے وقت آیت الیوم اکملت لکم دینکمنازل ہوئی۔ اس آیت کے نزول کے بعد حضور ﷺ 18 دن زندہ رہے پھر آیت ربوا نازل ہوئی اور اس کے بعد حضور ﷺ اکیس روز زندہ رہے۔ جس روایت میں سورة براءت کے بعد حضور : ﷺ کا چھ ماہ زندہ رہنا آیا ہے وہ محل تامل ہے کیونکہ سورة براءت کا نزول اس وقت ہوا جب 9 ھ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ : کو امیر حج بنا کر بھیجا تھا جب حضرت ابوبکر ؓ چلے گئے تو ان کے پیچھے حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو سورة براءت کے شروع کی چالیس آیات تعلیم دے کر بھیجا تھا کہ حج میں لوگوں کے سامنے پڑھ دی جائیں۔ اس حساب سے سورت براءت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ 15 مہینے زندہ رہے یا 16 مہینے۔ اسی طرح یہ بات بھی قابل تسلیم نہیں کہ سورة نصر کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ سال بھر زندہ رہے کیونکہ فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ : ﷺ : مکہ میں داخل ہوئے تو سورت نصر تلاوت فرماتے داخل ہوئے۔ سورت نصر کی تفسیر میں اس کی تفصیل کردی گئی ہے اور فتح مکہ حضور : ﷺ کی وفات سے 30 ماہ پہلے ہوئی تھی۔ (2) [ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا جو سورة بقرہ اور سورة النساء اور سورة آل عمران پڑھتا ہے اللہ کے ہاں اس کو اہل دانش میں سے لکھا جاتا ہے۔ (مفسر (رح) ] سورۂ نساء کی تفسیر 11 رجب 1198 ھ ؁ کو بحمد اللہ پوری ہوئی