4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا

ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء . اللہ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرے گا اور شرک کے علاوہ ( ہر گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ) جس کو معاف کرنا چاہے گا معاف کر دے گا۔ خواہ توبہ کے بعد ہو یا توبہ کے بغیر ہو۔ ومن یشرک باللہ اور (واجب الوجود قرار دینے میں یا معبود ماننے میں) جو کوئی کسی کو اللہ کا ساجھی قرار دیتا ہے۔ فقد ضل ضللا بعیدا . وہ (راہ حق سے) دور بھٹک جاتا ہے۔ نجات اور مغفرت تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔ بغوی نے بروایت ضحاک حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ایک بوڑھے اعرابی کے حق میں ہوا تھا جس نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا ‘ یا رسول اللہ ﷺ میں گناہوں میں غرق ہوں اتنی بات ضرور ہے کہ جب سے میں نے خدا کو پہچانا اور مانا ہے اس وقت سے کسی چیز کو اس کا شریک نہیں قرار دیا اور نہ اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو کارساز مانا اور نہ اللہ کے خلاف جری ہو کر گناہوں کا ارتکاب کیا نہ میرے دماغ میں کبھی یہ بات آئی کہ میں اللہ سے بھاگ کر بےبس کردوں گا۔ اب میں (گناہوں پر) پشیمان ہوں توبہ کرتا ہوں معافی چاہتا ہوں میرا کیا حال ہوگا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ ثعلبی نے ضحاک کی یہ روایت بیان کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اہل مکہ کے متعلق آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:117

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو

ان یدعون من دونہ . وہ نہیں عبادت کرتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دعا عبادت ہے پھر حضور ﷺ نے آیت وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْتلاوت فرمائی۔ رواہ احمد و اصحاب السنن الاربعہ۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جو کسی کی پوجا کرتا ہے وہ اسی کو حاجات کے لئے پکارتا ہے۔ الا انثا . مگر چند زنانی چیزوں کی۔ اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ اناث سے مراد بت ہیں۔ بتوں کو اناث کہنے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ عرب اپنے بتوں کو مؤنث (مادہ) ہی جانتے تھے اور ان کے ناموں کے لئے مؤنث کے صیغے ہی استعمال کرتے تھے مثلاً مناۃ ‘ عزیٰ اللات (شاید حضرت مفسر (رح) کا اس تمثیل سے اشارہ اس طرف ہے کہ مناۃ منان کا اور اللات اللہ کا مؤنث ہے جیسے عزی بروزن فعلی اعزکا مؤنث ہے) اور کسی قبیلہ کے بت کو کہتے تھے۔ فلاں قبیلہ کی دیوی ‘ فلاں قبیلہ کی مؤنث۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے الااناثا کی تشریح میں فرمایا صنما جنیۃ (دیوی پری) رواہ ابن ابی حاتم و ابن المنذر و عبداللہ بن احمد زوائد المسند۔ یا یہ وجہ ہے کہ ان کے معبدوں کی کوئی حقیقت تو تھی نہیں صرف نام ہی نام تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے اللہ نے فرمایا ہے : مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الاَّ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْہَا اور نام مؤنث تھے اس لئے اناث فرمایا۔ یہ وجہ کہ معبود جمادات تھے (پتھروں کے پتیل کے یا اور کسی دھات کے) اور اناث کا اطلاق جمادات پر ہوتا ہے۔ قاموس میں ہے اناث انثیٰ کی جمع ہے انثی کی جمع اناثیٰ بھی ہے اور اناث بےجان چیزوں کو کہتے ہیں جیسے درخت پتھر اور چھوٹی بیلیں۔ اس وقت اناث کاتبوں پر اطلاق لغت کے اعتبار سے حقیقی ہوگا مجاز کی ضرورت نہ ہوگی۔ علم نحو کی کتابوں میں صراحت ہے کہ الف تاء کے ساتھ کسی واحد کی جمع اور جمع مؤنث کا نون بےعقل چیزوں کے لئے اصلی (حقیقی لغوی) ہے جیسے کہا جاتا ہے سُفُنٌ جاریاتٌاور نخلٌ باسقاتٌاور صرن الایام الیالی۔ عورتوں کی جمع میں الف تاء کا آنا صرف اس وجہ سے ہے کہ کم عقل ہونے کی وجہ سے گویا ان کو بےعقل چیزوں کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔ حسن اور قتادہ نے الا اناثا کی تشریح میں کہا بےجان جن میں روح نہیں۔ جس طرح مؤنث مذکر کے مقابلہ میں حقیر ہے اسی طرح بےجان جاندار کے مقابلہ میں حقیر ہے اس لئے بےجان کو اناث کے لفظ سے تعبیر کیا۔ اس قول پر بےجان پر اناث کا اطلاق مجازی ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں اناثا کی جگہ اثناآیا ہے۔ اثن اوثان کی جمع ہے اور اوثان وثن کی (وثن کا معنی ہے بت۔ استھان) ضحاک کے نزدیک۔ اناث سے مراد ملائکہ ہیں کیونکہ مشرک ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَجَعَلُوا الْمَلاءِکَۃَ الَّذِیْنَ ہُمْ عِبَاد الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا۔ وان یدعون الا شیطانا . اور وہ نہیں پوجا کرتے مگر شیطان کی۔ ہر بت میں ایک شیطان ہوتا تھا اور پجاریوں اور کاہنوں کو دکھائی دیتا تھا اور ان سے کلام بھی کرتا تھا ہم اس کا ذکر پہلے کرچکے ہیں۔ بعض کے نزدیک شیطان سے ابلیس مراد ہے۔ ابلیس نے ہی مشرکوں کو بت پرستی کا حکم دیا تھا۔ بت پرستی میں درحقیقت ابلیس ہی کی عبادت اور طاعت تھی۔ مریدا . جو سرکش ہے۔ مارد اور مرید وہ (شریر) جس کا تعلق خیر سے نہ ہو۔ مرد (میم راء دال کا مجموعہ) کا لغوی معنی ہے چکناپن (یعنی کھردرا نہ ہونا) صَرْحٌ مُّمَرَّدٌصاف چکنا محل۔ امرد بےڈاڑھی مونچھ کا لڑکا۔ اس جگہ مرید سے مراد ہے سرکش۔ اللہ کی اطاعت سے خارج ہونے والا۔
Ayah 4:118

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔

لعنہ اللہ جس کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا تھا۔ شیطاً نا کی پہلی صفت مَرِیْدًا اور دوسری صفت یہ جملہ۔ وقال اور شیطان نے کہا تھا۔ اس کا عطف لَعَنَپر ہے گویا شیطان ایک تو ملعون ہے۔ دوسرے ایسے قول کا قائل بھی ہے جو انتہائی انسان دشمنی پر دلالت کر رہا ہے۔ شیطان کا یہ قول دلالت کر رہا ہے کہ آیت میں لفظ شیطاناً سے مراد ابلیس ہے کیونکہ ابلیس ہی نے جب حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور اللہ نے اس پر لعنت کی تو اس نے کہا ‘ قسم ہے تیری عزت و جلال کی جب تک بنی آدم میں جان رہے گی اس وقت تک برابر میں ان کو بہکاتا رہوں گا۔ صحیح حدیث میں یہی مضمون آیا ہے اور آئندہ آیت کا بھی یہی معنی ہے۔ لا تخذن من عبادک نصیبا مفروضا کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقررہ حصہ (گمراہ کرنے کے لئے) ضرور لوں گا۔ حسن نے کہا ‘ ہر ہزار میں سے 999 دوزخ کو اور ایک جنت کو جائے گا۔ میں کہتا ہوں حدیث بعث النار میں ایسا ہی آیا ہے۔ یا مفروضاً کا معنی ہے جدا۔ الگ یعنی خوش نصیبوں سے الگ بدبختوں کی جماعت۔
Ayah 4:119

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا ہروں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا اور وہ صریح نقصان میں پڑ گیا

ولاضلنہم . اور ضرور (راہِ حق سے) ان کو بھٹکاؤں گا یعنی ان کے دلوں میں وسوسے ڈالوں گا اور خواہشات نفس کو آراستہ پیراستہ شکل میں ان کے لئے لاؤں گا۔ گمراہ کرنے کی نسبت شیطان کی طرف مجازی ہے (حقیقت میں گمراہ کرنے والا اور ہدایت یاب بنانے والا اللہ ہی ہے شیطان تو گمراہی کا ایک ذریعہ ہے) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بعض لوگوں کے پاس شیطان آکر کہتا ہے اس کو کس نے پیدا کیا (پھر) اس کو کس نے پیدا کیا (بندہ کہتا چلا جاتا ہے کہ سب کو رب نے پیدا کیا) آخر شیطان کہتا ہے تیرے رب کو کس نے پیدا کیا لہٰذا اگر کوئی اس درجہ تک پہنچ جائے تو اس کو اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے (کیونکہ یہ تو ہم شیطانی تو ہم ہے) اور (اپنے تو ہم سے) باز آجانا چاہئے۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہا۔ ولا منینہم . اور میں یقیناً ان کو (باطل) ہوسیں دلاؤں گا۔ کہ نہ قیامت ہوگی نہ عذاب ہوگا اور زندگی ابھی بہت لمبی ہے اور باوجود عصیاں کوشی کے سعادت آخرت تم کو ملے گی۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے اندر جہاں خون دوڑتا ہے شیطان بھی وہاں دوڑتا ہے۔ رواہ البخاری ومسلم۔ حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آدمی کو ایک کچوکا شیطان کا اور ایک کچوکا فرشتہ کا ہوتا ہے۔ شیطان کا کچوکا تو شر کا آرزومند کرنا اور حق کو جھٹلانا ہے اور فرشتہ کا کچوکا خیر کا وعدہ دلانا اور حق کی تصدیق کرنا ہے اگر کسی کو یہ چیز مل جائے تو یقین کرلے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اللہ کا شکر کرے اور اگر کوئی دوسری چیز محسوس کرے تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے الشَّیْطَانُ یَعْدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَامُرْکُمْ بالْفَحْشَآءِرواہ الترمذی وقال حدیث غریب۔ ولامرنہم فلیبتکن اذان الانعام . اور میں ان کو تعلیم دوں گا جس سے وہ چارپایوں کے کانوں کو کاٹا کریں گے بَتْکٌ (مصدر ثلاثی مجرد) کاٹنا۔ چیرنا پھاڑتا۔ تبتیک (باب تفعیل ‘ مصدر ثلاثی مزید) بکثرت چیرنا بار بار چیرنا۔ جانوروں کے کان چیرنے سے مراد ہے۔ بحیرہ کے کان کاٹنا چیرنا۔ (جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ قتادہ اور سدی نے کہا اہل جاہلیت بحیرہ جانوروں کے کان اپنے بتوں (کی نذر) کے لئے چیر دیا کرتے (اور بتوں کے پر چھوڑ دیا کرتے تھے) قاموس میں ہے بحرٌکا معنی ہے پھاڑنا اور کان چیرنا بحیرۃ لفظ بحر سے ہی مشتق ہے۔ اگر کوئی اونٹنی دس جھول بیاہ جاتی تو وہ لوگ اس کا کان چیر کر آزاد چھوڑ دیتے کہ جہاں چاہے چرتی پھرے (کہیں اس کی پکڑ نہ تھی) اگر وہ مرجاتی تو اس کا گوشت عورتوں کے لئے ممنوع اور مردوں کے لئے جائز ہوتا تھا (اس اونٹنی کو بحیرہ کہا جاتا تھا) گویا شیطان نے اپنے اس قول میں اس طرف اشارہ کیا کہ میرے حکم کے مطابق وہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام بنا لیں گے اور جو جانور بالفعل یا بالقوۃ کامل پیدا کیا گیا ہے اس کو ناقص بنا دیں گے۔ ولامرنہم فلیغیرن خلق اللہ . اور یقیناً میں ان کو حکم دوں گا تو وہ اللہ کی بناوٹ کو بدل ڈالیں گے۔ خواہ یہ تغیر صورت کے اعتبار سے ہو یا حالت کے اعتبار سے۔ (1) [ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی لعنت گودنے والیوں اور گدوانے والیوں اور موچنے سے سفید بال نوچنے والیوں اور دانتوں کی جھریاں بنانے والیوں پر جو اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرتی ہیں۔ رواہ احمد والشیخان بن مسعود۔ شیخین نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی لعنت بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں پر اور گودنے والی اور گدوانے والیوں پر امام احمد نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ لعنت کرتے تھے گودنے والی گدوانے والی ‘ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ جانوروں کو خصی کرنے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے نماء (بڑھوتری) تو نروں میں ہی ہے (ان کی متقیص درست نہیں) امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جانوروں کو خصی کرنے میں کوئی گناہ نہیں (ہدایہ) کذا روی عبدالرزاق وعبد بن حمید عن الحسن وکذا روی ابن ابی شیبۃ وابن المنذر عن محمد بن سیرین والحسن۔ لیکن ابن شیبہ اور بیہقی اور ابن المنذر کی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرماتے تھے۔ ابن المنذر اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول (اتنا زائد نقل کیا ہے) کہ اس کے متعلق آیت وَلَاْٰ مَرنَّہُمْ فَلَیْغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِنازل ہوئی لیکن ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ولاَاٰمُرْنَّہُمْ فَلَیْغُیَرِّنُ خَلْقَ اللّٰہِکی تشریح میں فرمایا کہ خلق اللہ سے مراد دین اللہ ہے۔] تغییر خلق اللہ میں مندرجہ ذیل امور داخل ہیں عال (نر سانڈ) کی ایک آنکھ پھوڑ دینا (جیسا کہ مشرک کرتے تھے) غلاموں کو خصی بنانا۔ گودنا (یعنی سوئی سے گود کر اس میں کا جل بھرنا تاکہ کھال پر بیل بوٹے یا کسی مندر وغیرہ کی تصویر کھد جائے) دانتوں کو ریت کر تیز کرنا (لاش کو) مثلہ کرنا (یعنی ناک کان یا ہاتھ پاؤں کاٹ دینا) لواطت یا عورتوں کا آپس میں سحق کرنا ‘ چاند سورج اور پتھروں (درختوں دریاؤں وغیرہ) کی پوجا کرنا ‘ ہاتھ پاؤں اور بدنی طاقتوں کو ان کاموں میں صرف کرنا جو نفس میں کسی طرح کا کمال پیدا کرنے والے نہ ہوں۔ فطرت خداوندی یعنی اسلام کو بگاڑ دینا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چوپایوں کا بچہ پورے اعضا کا پیدا ہوتا ہے (نہ دم کٹا ہوتا ہے نہ کان چرا نہ خصی) کیا تم (پیدائشی طور پر کسی جانور کے بچہ کے) ناک ‘ کان ‘ لب ‘ ہاتھ ‘ پاؤں کٹے ہوئے پاتے ہو۔ اس بیان کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا تھا : فطرۃ اللّٰہ التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللّٰہ۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہا۔ یہ بھی جائز ہے کہ مذکورۂ بالا پانچوں جملوں میں خود شیطان کے اپنے افعال کا بیان ہو۔ اس صورت میں یہ قول ابلیس ہی کے ساتھ مخصوص نہ ہوگا۔ شرک پرلے درجہ کی گمراہی ہے۔ اس کی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی کہ جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو وہ خود بےجان ہیں نہ کسی کو نفع پہنچا سکتی ہیں نہ نقصان۔ بلکہ ان کے نام بھی تم نے زنانے رکھ چھوڑے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ پھر شرک کرنے میں شیطان مردود کی اطاعت بھی ہے جو خود شر و گمراہی میں غرق ہے خیر و ہدایت کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور ملعون بھی ہے۔ اس کی اطاعت سے سوائے لعنت اور گمراہی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ انسان کا بدترین دشمن اور تباہ کن بھی ہے ایسے کی دوستی ہی عقل سے بعید اور سراسر گمراہی ہے عبادت تو بجائے خود رہی۔ من یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ . اور جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا یعنی جو شیطان کو اپنا رب بنائے گا کہ اللہ کے حکم کے خلاف شیطان کے حکم کو مانے گا۔ آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ شرک کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا مقبول نہیں۔ اللہ کی شرک آمیز عبادت درحقیقت اللہ کی عبادت نہیں غیر کی عبادت ہے۔ اللہ کی عبادت غیر کی عبادت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے ارشاد فرمایا ہے میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک غنی سے ہوں جو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔ دوسری روایت میں آیا ہے میں اس سے بری ہوں۔ اس کا عمل اسی (شریک) کے لئے ہے جس کے لئے اس نے کیا ہے۔ (رواہ مسلم) فقد خسر خسرانا مبینا تو وہ کھلا ہوا گھاٹا اٹھائے گا کیونکہ وہ اصلی پونجی بھی کھودے گا اور جنت کے عوض دوزخ مول لیگا۔
Ayah 4:120

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

وہ ان کو وعدے دیتا رہا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے جو دھوکا ہی دھوکا ہے

یعدہم . شیطان ان کو وعدے دیتا ہے یعنی دماغوں میں فاسد خیالات پیدا کرتا ہے یا اپنے دوستوں کی زبانی ایسے وعدے کراتا ہے جن کو وہ کبھی پورا نہیں کرتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شیطان خود آدمی کی شکل میں آکر کامیابی کی لالچ دیتا ہو جیسا جنگ بدر میں کیا تھا اور کہا تھا لاَ غَالِبَ لَکُمْ الْیَوْمَ : آج تم پر کوئی غلبہ پانے والا نہیں میں ضامن ہوں لیکن فَلَمَّا تَرَآء تِ الْفِءْتَانِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ جب دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو ایڑیاں موڑ کر بھاگ گیا اور کہنے لگا آج تمہاری کوئی حمایت نہیں کرسکتا مجھے اللہ کی طرف سے وہ چیزیں نظر آرہی ہیں جو تم کو نظر نہیں آتیں۔ ویمینہم اور ان کو امیدیں دلاتا ہے۔ باطل امیدیں جن کو وہ کبھی نہیں پاتے مثلاً طول عمر اور کثرت مال کی امیدیں۔ وما یعدہم الشیطن الا غرورا اور شیطان کا وعدہ محض فریب ہی ہوتا ہے۔ نقصان رساں فعل کو نفع بخش اور سود مند کام کو ضرر آفریں بتاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا الشیطان یعدکم والفقر : یعنی شیطان تم کو افلاس سے ڈراتا ہے کہتا ہے اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے یا رشتہ داروں کو دو گے تو محتاج ہوجاؤ گے۔
Ayah 4:121

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا Open ayah 4:121 in the Quran reader

ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے

اولئک ماوہم جہنم ولا یجدون عنہا محیصا یہی ہیں وہ جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ اس سے چھٹکارا یا یا مفر نہیں پائیں گے۔ محیص (مصدر) بھاگنا (ظرف مکان) بھاگنے کی جگہ۔ قاموس میں ہے۔ حاص عنہ۔ یحیص حیصا وحیصۃ ومحیصاً (یعنی حاض باب ضرب سے آتا ہے اور اس کا مصدر حیصٌ حیصۃٌاور محیصٌہے اور اگر اس کے بعد عنآئے تو اعراض کرنے اور مڑ جانے کے معنی ہوتے ہیں لیکن اگر عننہ آئے اور بغیر کسی صلہ کے استعمال کیا جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے سینا جیسے جاض غیتیہ اس کی دونوں آنکھوں کو سی دیا یعنی نیند نے اس کی آنکھیں بند کردیں۔ مترجم) عنہا کا تعلق محیصا سے نہیں ہے کیونکہ محیصمصدر ہو یا ظرف دونوں صورتوں میں اس کا معمول مقدم نہیں ہوسکتا۔
Ayah 4:122

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا Open ayah 4:122 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے

والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ہم ان کو ضرور جنتوں میں داخل کریں گے جن کے محلات اور بالا خانوں کے نیچے سے نہریں بہتی جا رہی ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وعد اللہ حقا . اللہ نے (اس کا) سچا وعدہ کیا ہے۔ وعد اور حقامفعول مطلق ہیں تاکید کے لئے۔ ومن اصدق من اللہ قلیلا . اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ بات کا سچا کون ہے یعنی کوئی بھی اللہ سے زیادہ سچی بات والا نہیں ہے (استفہام انکاری ہے) استفہام کے پیرایہ میں نفی کرنے سے نفی میں کامل قوت پیدا ہوگئی۔ آیت کا مقصد ہے شیطان کے جھوٹے وعدوں اور اللہ کے سچے وعدہ میں تقابلی موازنہ کو ظاہر کرنا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا تھا کہ ہمارے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا اور قریش نے حشر و نشر کا ہی انکار کردیا تھا اس پر اللہ نے آیات ذیل نازل فرمائیں۔
Ayah 4:123

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:123 in the Quran reader

(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار

لیس بامانیکم . حقیقت امر تمہاری آرزوؤں سے وابستہ نہیں ہے۔ یعنی اے اہل مکہ تم میں سے جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ حشر و نشر کچھ نہ ہوگا اور بعض کہتے ہیں کہ اللہ کے پاس یہ بت ہمارے سفارشی ہوں گے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ تمہارے خیال کے مطابق اگر دوبارہ زندگی ہوئی تب بھی ہم تم سے اچھے حال میں ہوں گے۔ حقیقت امر تمہارے ان اندازوں سے وابستہ نہیں ہے۔ سیاق آیت دلالت کر رہا ہے کہ خطاب اہل مکہ کو ہے۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔ ولا امانی اہل الکتب . اور نہ حقیقت امر اہل کتاب کے مفروضات سے وابستہ ہے۔ اہل کتاب سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی جو کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور بیٹے ہیں اور جنت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ کوئی نہیں جائے گا اور آگ صرف چند روز ہم کو چھوئے گی۔ بلکہ نجات اور ثواب کا مدار ایمان اور نیک اعمال پر ہے اور گرفتاری و عذاب کفر و بداعمالی سے وابستہ ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ۔ من یعمل سوءا یجزبہ . جو برے کام یعنی کفر و گناہ کرے گا اس کی سزا اس کو دی جائے گی۔ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا . اور اللہ کو چھوڑ کر وہ اپنے لئے نہ یار پائے گا جو اس کو کسی طرح کی خیر پہنچا سکے۔ نہ مددگار جو اس کی طرف سے شر کو دفع کر دے۔ آیت کا سبب نزول خواہ خاص ہو مگر حکم عام ہے مؤمن ہو یا کافر سب کو شامل ہے کیونکہ الفاظ کے عموم کا اعتبار ہے (واقعہ کا خصوص معتبر نہیں) خیالات مذکورہ بیشک اہل مکہ اور اہل کتاب کے تھے (مسلمانوں کے نہ تھے) مگر ضابطہ عمومی ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر ؓ : کا قول یہی نقل کیا ہے۔ کئے کی سزا پانے کی صراحت عدم مغفرت کے ساتھ مشروط ہے وعید عذاب کی تمام آیات کی یہ شرط ہے کہ اگر اللہ معاف نہیں کر دے گا تو عذاب ہوگا۔ پھر سزا عام ہے آخرت میں ملے یا دنیا میں۔ حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت میں آیا ہے کہ صحابہ ؓ کی جماعت رسول اللہ ﷺ کے آس پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ آپ ﷺ نے فرمایا میری بیعت کرو کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ کرو گے چوری نہیں کروگے زنا نہیں کرو گے ‘ اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے کسی پر تہمت تراشی دیدہ و دانستہ نہیں کرو گے اور کسی اچھے کام (کے معاملہ) نافرمانی نہیں کرو گے پس تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا تو اس کے اجر کا اللہ ذمہ دار ہے اور اگر کچھ (گناہ) کرے گا اور دنیا میں اس کو سزا مل جائے گی تو اس کے گناہ کی معافی ہوجائے گی لیکن اگر کسی نے کوئی نافرمانی کی پھر اللہ نے اس کا پردہ ڈھانکے رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے معاف کر دے چاہے سزا دے ہم نے ان شرائط پر حضور ﷺ : کی بیعت کی۔ صحیحین۔ بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ آیت ولا یَجِدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَلاَ نَصِیْرًا کا حکم صرف کافروں کے ساتھ مخصوص ہے اہل ایمان سے اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ مسلمانوں کا کارساز اور مددگار خود ان کا مولیٰ ہے وہ چاہے گا تو بخش دے گا پھر اللہ کی اجازت سے فرشتے انبیاء اور اولیاء ان کی شفاعت بھی کریں گے مگر وہ کارساز اور دافع عذاب نہ ہوں گے نہ اہل ایمان ان کو کارساز اور حامی بنائیں گے البتہ کفار اپنے اپنے معبودوں سے کارسازی اور حمایت کے خواستگار ہوں گے مگر کوئی کارساز نہیں ملے گا۔ یہ قول غلط ہے آیت کے عموم کو مندرجۂ ذیل روایت ثابت کر رہی ہے حضرت ابوبکر ؓ صدیق کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آیت فَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجْزَبِہٖنازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوبکر ؓ میں تم کو ایک آیت سناؤں جو مجھ پر نازل ہوئی ہے میں نے عرض کیا فرمائیے حضور ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھائی (فوراً سنتے ہی) میری کمر درد سے ٹوٹنے لگی اور میں نے کمر کو سیدھا کیا (ایسا واقعہ اس سے پہلے مجھے کبھی پیش نہیں آیا) حضور ﷺ نے فرمایا ابوبکر ؓ کیا ہوگیا کیا ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ حضور ﷺ پر قربان ہم میں سے کس نے کوئی برا عمل نہیں کیا اور ہم کو ہر کئے ہوئے گناہ کی سزا ضرور دی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اور تمہارے ساتھی مؤمن دنیا ہی میں برائی کی سزا پالیں گے۔ اللہ کے سامنے جائیں گے تو گناہ سے پاک ہو کر باقی دوسرے لوگوں کی بدیاں جمع رکھی جائیں گی یہاں تک کہ قیامت کے دن (سب گناہوں کی) ان کو سزا دی جائے گی۔ رواہ البغوی والترمذی وعبد بن حمید وابن المنذر۔ احمد اور ابن حبان اور حاکم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا اس (آیت) کی موجودگی میں کون نجات پاسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم پر غم نہیں آتا ‘ کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم پر مصیبت نہیں آتی۔ میں نے عرض کیا ‘ ایسا تو ضرور ہوتا ہے فرمایا تو بس وہ (سزا) یہی ہوتی ہے۔ امام احمد ‘ ابویعلی ‘ بیہقی اور تاریخ میں بخاری نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو بڑا شاق ہوا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : آپ کے علاوہ ہم میں سے کون ہے جس نے کوئی بدی نہیں کی پھر سزا کس طرح ہوگی۔ (1) [ محمد بن منتشر ؓ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جب آیت مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجَزْبِہٖ وَلاَ یَجَدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًانازل ہوئی تو ہم مدتک تک ایسی حالت میں رہے کہ ہم کو کھانا پینا اچھا نہیں معلوم دیتا تھا بالآخر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور (اس میں پہلی آیت کے حکم سے محفوظ رہنے کا) ایک پہلو نکال دیا اور فرمایا وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغِفِر اللّٰہَ یَجِدِلہ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔] حضور ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کچھ (دکھ) آتا ہے وہ اسی سزا کی ایک قسم ہے پس جو شخص کوئی ایک نیکی کرے گا اس کی دس نیکیاں (ثواب کے لحاظ سے) ہوجائیں گی۔ اب اگر کسی بدی کی سزا دی گئی تو دس نیکیوں (کے ثواب) میں سے ایک نیکی کا ثواب گھٹ جائے گا اور نو نیکیاں رہ جائیں گی۔ افسوس ہے اس شخص پر جس کی اکائیاں دہائیوں سے بڑھ جائیں گی (اور گناہوں کی تعداد نیکیوں سے بڑھ جائے یعنی ہر نیکی کی دس نیکیاں اس کے لئے لکھی جاتی ہیں اور ہر گناہ ایک ہی لکھا جاتا ہے اور ایک گناہ کی سزا میں ایک نیکی کم ہوجاتی ہے اس طرح دس گناہوں کی پاداش میں دس نیکیاں ساقط ہوتی ہیں جو حقیقت میں دس نہیں بلکہ ایک نیکی ہوتی ہے تو گویا دس گناہوں کا مقابلہ ایک نیکی سے ہوتا ہے اب اگر گیارہ بارہ تیرہ گناہ ہوگئے تو بقدر ایک دو تین کے بیشی ہوجائے گی ایسے شخص کی حالت قابل افسوس ہے یہ تو دنیوی سزا کی حالت ہے) رہا آخرت کا بدلہ تو وہاں نیکیوں اور بدیوں کا توازن کیا جائے گا۔ ہر گناہ کے مقابل ایک نیکی ساقط کردی جائے گی اس کے بعد اگر نیکی باقی رہی تو جنت میں اس کا ثواب ملے گا اور ہر بیشی والے کو اس کی بیشی ملے گی۔ (2) [ ابن ابی شیبہ اور احمد اور بخاری اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعید خدری (رح) کی روایت سے لکھا ہے کہ ان دونوں بزرگوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ مؤمن پر جو بیماری دکھ اور غم و فکر آتا ہے اللہ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے صحیحین وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ وغیرہ کی روایت سے بھی ایسا ہی آیا ہے ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت بریدہ ؓ اسلمی کی رعایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے جس کسی مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ کوئی کانٹا بھی لگتا ہے تو اس کا نتیجہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوتی ہے یا تو اس مصیبت کے عوض اللہ اس کا کوئی گناہ معاف کردیتا ہے جو بغیر اس کے معاف ہونے والا نہیں ہوتا یا اس کو کسی عزت پر پہنچا دیتا ہے کہ اس جیسی مصیبت کے بغیر اس عزت پر پہنچ نہیں سکتا تھا۔ ابن سعد اور بیہقی نے حضرت ابو فاطمہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اللہ بندہ کو دکھ میں مبتلا کردیتا ہے اور یہ صرف اللہ کی طرف سے بندہ پر مہربانی ہوتی ہے جنت کے اندر اس بندہ کو ایسا درجہ عنایت ہوگا جس پر بغیر اس دکھ میں مبتلا ہونے کے اور کسی عمل سے وہ پہنچ نہیں سکتا۔ بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی رعایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔] میں کہتا ہوں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے آیت لَیْسَ بامَانِیَکُمْکا سبب نزول جو ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے وہی روایت اور درایت (عقل) کے لحاظ سے ظاہر ہے لیکن ایک اور سبب نزول بھی روایت میں آیا ہے جس کو ابن جریر نے مسروق ‘ قتادہ ‘ ضحاک اور سدی کی روایت سے مرسل اور عوفی کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ آیت لَیْسَ بِاَمَانِیَّکُمْ وَلاَ اَمَانِیَّ اَہْلِ الْکِتَابِکا نزول مسلمانوں اور عیسائیوں کے ایک مباحثہ کے متعلق ہوا دوسری روایت میں آیا ہے کہ اہل مذاہب کے مباحثہ کے متعلق ہوا کچھ یہودی اور عیسائی اور مسلمان (ایک جگہ) بیٹھے بحث کر رہے تھے ایک گروہ نے کہا ہم افضل ہیں۔ دوسرے نے کہا ہم افضل ہیں۔ بغوی کے بیان میں آیا ہے کہ اہل کتاب نے کہا ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے مقدم ہے لہٰذا ہم بہ نسبت تمہارے خدا سے زیادہ تقرب رکھتے ہیں مسلمانوں نے کہا ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب کا فیصلہ سب کتابوں پر لاگو ہے اور ہمارا ایمان تمہاری کتاب پر بھی ہے مگر تمہارا ایمان ہماری کتاب پر نہیں ہے اس لئے ہم افضل ہیں۔ اس شان نزول پر بامانیکمکا خطاب مؤمنوں کو ہوگا اور مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجْزَبِہٖکے حکم کا عام ہونا بالکل ظاہر ہوگا۔ ابن جریر نے مسروق کی روایت سے اور بغوی نے اعمش کی روایت سے ابن الضحی کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : لَیْسَ بِاَمَانِیَّکُمْ وَلاَ اَمانِّی اَہْلِ الْکِتَاَبنازل ہوئی تو اہل کتاب نے کہا ہم تم برابر ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:124

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا Open ayah 4:124 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

ومن یعمل من الصلحت . اور جو شخص بھی کوئی نیک عمل کرے گا من الصلحت میں من تبصیضیہ ہے یعنی کچھ بھی نیکی کرے گا کیونکہ دوسری آیت آئی ہے مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ من ذکر او انثی . یعنی کرنے والا مرد ہو یا عورت یا وہ نیکی مرد سے صادر ہو یا عورت سے۔ اوّل صورت میں یہ ٹکڑا یَعْمَلْکی ضمیر سے حال ہوگا اور مَنْکا استعمال مَنْ یعملکے ابہام کو واضح کرنے کے لئے ہوگا (یعنی من تبیینیہ ہوگا) اور دوسری صورت میں الصلحت سے حال ہوگا اور منابتدائیہ ہوگا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں لفظ او سے من یعملکے حکم کے عموم کی تاکید ہوگی۔ بعض علماء نے بیان کیا کہ من ذکر او انثی میں جو نیک عمل کرنے کی تعمیم ہے اس سے ان مشرکوں کو تنبیہ کرنی مقصود ہے جو اپنی لڑکیوں کو ہلاک کردیا کرتے تھے (اور یہ سمجھتے تھے کہ عورت بھی ایک جانور ہے اس کا کوئی عمل ‘ خیر اور قابل ثواب نہیں ہوسکتا۔ وہو مؤمن . ایمان دار ہونے کی حالت میں یعنی نیک اعمال کی جزا ایمان پر موقوف ہے۔ برے اعمال کی سزا کافر ہونے کی شرط نہیں لگائی کیونکہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا اللہ کو پسند نہیں (کرنے والا کافر ہو یا مؤمن) گناہ کا تقاضا ہے کہ اللہ معاف نہ فرما دے تو اس کی سزا ضروری ہے اسی لئے برے اعمال پر سزا پانے کی وعید عام ہے مؤمن اور کافر دونوں اس کے ذیل میں آتے ہیں۔ البتہ نیکیاں قابل اعتبار اس وقت ہوں گی جب ایمان کی حالت میں کی جائیں۔ کافروں کا تو کوئی عمل اللہ کے لئے خالص نہیں ہوتا (بلکہ شرک آمیز ہوتا ہے) اور جو عمل خالص اللہ کے لئے نہ ہو وہ شرک اور گناہ ہے نیکی نہیں ہے۔ ایک شبہ اگر کافر کا کوئی عمل نیک ہی نہیں ہے تو ایسی حالت میں عمل صالحات کے لئے ایمان کی شرط لگانا ہی بیکار ہے۔ کافر کا تو نیک کام بھی صالحات میں داخل نہیں ہے۔ ازالہ بیشک بات تو یہی ہے مگر ” ہو مؤمن “ کہنے میں صرف صراحت اور وضاحت کرنی مقصود ہے کہ عمل صالح وہی مقبول ہوگا جو ایمان کی حالت میں ہو۔ اس سے کافروں کے اس خیال کی بھی تردید ہوجائے گی کہ صلۂ رہم کنبیہ پروری ‘ خیرات اور دوسرے اچھے اعمال کافروں کے لئے بھی مفید ہوں گے اور یہ اعمال بجائے خود نیکیاں ہیں (ان کا کرنے والا کوئی ہو اجر کا مستحق ہے) فاولئک یدخلون الجنۃ . پس یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ خواہ صالح ہوں یا فاسق ‘ توبہ کر کے مرے ہوں یا بغیر توبہ کئے۔ جنت میں ابتدائی داخلہ خواہ اس طرح ہو کہ ان کے گناہ معاف کر دئیے جائیں اور دوزخ میں بھیجا ہی نہ جائے یا گناہوں کی سزا پانے کے بعد ہو۔ ولا یظلمون نقیرا . اور ذرہ بھر بھی ان کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ نقیروہ (لمبوترا) گڑھا جو کھجور کی گٹھلی پر ہوتا ہے (مراد حقیر ترین مقدار) آیت کی عبارت بتارہی ہے کہ فرماں بردار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور بطور دلالت النص یہ بات بطریق اولیٰ معلوم ہو رہی ہے کہ گناہگار کے عذاب میں (مقدار گناہ سے) بیشی نہیں ہوگی کیونکہ ثواب کم دینے میں اتنی اذیت نہیں جتنی جرم سے زائد سزا دینے میں ہے پس جب ارحم الراحمین ثواب میں کمی نہیں کرے گا تو سزا میں بیشی بدرجۂ اولیٰ نہیں کرے گا۔ بعض علماء نے بیان کیا کہ کفار کی تہدید عذاب کے لئے آیت مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجْزَبِہٖکے بعد ولا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًاکی قید ذکر نہیں کی کیونکہ شرک سے نفرت دلانے کے لئے اس قید کو ترک کرنا ہی مناسب تھا اور مؤمن کو عمل صالح اور اطاعت کی ترغیب دینے کا تقاضا تھا کہ اس قید کو ذکر کردیا جائے اس لئے اس کو ذکر کردیا۔ میں کہتا ہوں کہ آیت ولا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا کا مطلب یہ ہے کہ کسی اطاعت گزار کی اطاعت کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ کسی کی بداعمالی کی سزا میں بیشی کی جائے گی اور آیت مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصَّلٰحِتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌمیں تمام مؤمن داخل ہیں خواہ صالح ہوں یا فاسق۔ کیونکہ فاسق مؤمن بھی کوئی نہ کوئی عمل صالح کرتا ہی ہے کم سے کم توحید کی شہادت دیتا ہے اور ایمان کی سب سے اعلیٰ شاخ یہی ہے اس لئے اس آیت میں دونوں طرح کے مسلمانوں کو بشارت دے دی خواہ نیک ہوں یا بد کہ کسی مسلمان کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ عذاب میں بیشی ہوگی۔ رہی آیت وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً اتو اس کے اندر مؤمن بھی داخل ہیں اور کافر بھی گویا فاسق مؤمن کا اندراج دونوں جگہ ہے آیت من یعمل سوءا میں بھی اور آیت من یعمل من الصلحت میں بھی لیکن کافروں کے گناہوں کی سزا کی کوئی حد اور انتہا ہی نہیں ہے کیونکہ کفر کی برائی اتھاہ ہے اس لئے اس کی سزا بھی لاانتہا ہے پس کفار کے گناہوں کی سزا خواہ کتنی ہی زائد ہو مگر اس کو گناہ سے زائد (اور ظلم) نہیں قرار دیا جاسکتا۔ یا یوں کہا جائے کہ کافروں کی سزا گناہوں سے بڑھ کر ہوگی اللہ نے فرمایا ہے لاناہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِاس لئے کافروں کی تہدید عذاب کے ساتھ ولا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًانہیں فرمایا ورنہ کافروں کے لئے ایک طرح کی بشارت ہوجاتی۔ ایک شبہ ظلم بہرحال برا ہے خواہ کافروں پر ہی ہو اور اللہ ہر برائی سے پاک ہے پھر گناہ سے زائد کافر کو عذاب دینے کا امکان ہی کیا ہے۔ ازالہظلم نام ہے دوسرے کی ملک میں تصرف کرنے کا اور اللہ مالک الملک ہے وہ جس طرح چاہے اپنی ملک میں تصرف کرسکتا ہے اگر سارے عالم کو بغیر جرم کے بھی عذاب دے تو ظلم نہ ہوگا (اپنی ملک میں تصرف ہوگا) مزید شبہ : جب اللہ کے لئے کوئی فعل ظلم نہیں اور اس کی شان میں ظالم ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا (خواہ وہ کچھ بھی کرے) تو پھر آیت لاَ یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا اور آیت اِنَّ اللّٰہَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِمیں نفی ظلم کا معنی ہی کیا ہے۔ جواب : اس قسم کے کلام کی بناء مجازی معنی پر ہے مراد یہ ہے کہ مؤمنوں سے اللہ کوئی ایسا سلوک نہیں کرے گا کہ اگر ویسا سلوک کوئی دوسرا ان سے کرے تو اس کو ظلم کہا جاتا ہے (یعنی جو عمل کسی انسان یا فرشتے سے اگر صادر ہو اور اس کو ظلم کہا جائے تو اللہ مؤمنوں کے ساتھ ایسا برائے نام بھی ظلم نہیں کرے گا) بغوی نے مسروق کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب آیت لَیْسَ بامانیکم نازل ہوئی تو اہل کتاب نے کہا ہم اور تم برابر ہیں اس پر آیت ومن یعمل من الصلحت الخ نازل ہوئی اور مندرجۂ ذیل آیت کا بھی نزول ہوا۔
Ayah 4:125

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسوں (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا

ومن احسن دینا ممن اسلم وجہہ للہ . اور ایسے شخص سے اچھا دین کس کا ہوگا جو اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے یعنی جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لئے خالص کردیا کہ اس کے قلب کی کوئی علمی یا میلانی وابستگی اور آوپختگی غیر خدا سے نہیں رہی۔ دل اور سارا بدن اللہ کے اوامرو نواہی کا پابند ہوگیا یہاں تک کہ عالم امکان میں اپنا یا کسی اور کا کوئی وجود اصلی حقیقی اس کو نظر ہی نہیں آتا کسی کے مستقل وجود یا کسی کو معبود و محبوب ماننے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ انکار کو بصورت استفہام ذکر کرنے سے کمال انکار کی طرف اشارہ ہے۔ وہو محسن . ایسی حالت میں کہ وہ اچھے کام کرنے والا بھی ہے یعنی نیک اعمال کرتا اور برے کام چھوڑ دیتا اور ہمیشہ حضور قلبی اور اخلاص رکھتا ہے۔ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے جب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ احسان (اعمال کی خوبی) کیا ہے تو آپ نے فرمایا (عبادت کی خوبی یہ ہے کہ) تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے اللہ کو (اس وقت اپنی نظر سے) دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہیں دیکھ پاتے تو وہ تو یقیناً تم کو دیکھتا ہے۔ اس حدیث کے راوی حضرت عمر ؓ ہیں۔ متفق علیہ۔ واتبع ملۃ ابراہیم . اور چلا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر۔ یوں تو تمام انبیاء کا دین ایک ہی ہے۔ اپنی ذات اور اعضاء بدن اور اندرونی بیرونی قوتوں کو اللہ کی رضامندی میں لگا دینا ہی دین انبیاء ہے لیکن خصوصیت کے ساتھ حضرت ابراہیم کے دین کا تذکرہ صرف اس وجہ سے کیا کہ آپ کی نبوت پر تمام اقوام کا اتفاق ہے اور ہر دین میں آپ کی حقانیت مسلم ہے پھر دین اسلام بکثرت فروعی مسائل میں شریعت ابراہیمی کے موافق ہے مثلاً کعبہ کی طرف نماز ‘ کعبہ کا طواف ‘ مناسک حج ‘ ختنہ ‘ مہمان نوازی اور وہ محاسن فطریہ جن کی تکمیل کا حکم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا اور وہ اس امتحان میں پورے اترے اور یہ تمام احکام شریعت اسلامیہ میں باقی رکھے گئے۔ حنیفا . یعنی ابراہیم یا ان کی ملت ابراہیم پر حنیف ہو کر چلنے والا مراد ہے۔ حنیف سے مراد ہے تمام باطل راستوں سے منہ موڑ کر راہ حق پر چلنے والا۔ حضرت ابراہیم نے بت پرستی سے منہ موڑ لیا تھا باوجودیکہ آپ کے باپ کے خاندان اور قوم والے سب کے سب بت پرست تھے مگر آپ نے سب کو چھوڑ کر راہ مستقیم اختیار کی۔ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا . اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا خالص دوست بنایا تھا۔ خلیل سچا دوست خالص محبت والا۔ لفظ خُلّۃٌ کا اشتقاق یا خلال سے ہے (خلال کا معنی ہے گھس جانا مخلوط ہوجانا) خُلَّت (اور باطنی محبت) بھی دل کے اندر گھس جاتی اور نفس میں مخلوط ہوجاتی ہے۔ یا خلل سے مشتق ہے (خلل کا معنی ہے رخنہ شگاف) دو گہرے دوستوں میں سے ہر ایک دوسرے کی حاجت روائی کرتا اور اس کی حالت کے بگاڑ کو درست کرتا ہے اس لئے دونوں کو خلیل کہا جاتا ہے۔ زجاج نے کہا خلیل وہ ہے جس کی محبت میں کوئی رخنہ نہ ہو یا خل سے مشتق ہے۔ خل اس راستہ کو کہتے ہیں جو ریت کے اندر ہو۔ دو خلیل بھی دوستی کے راستہ پر برابر گامزن اور ہم طریق ہوتے ہیں یا خلت سے ماخوذ ہے خلتکا معنی ہے خصلت دونوں دوستوں کی خصلت ایک ہی ہوتی ہے اس لئے ان کو خلیل کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل کہنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ صرف اللہ کے محتاج تھے مخلوق کے سامنے اپنی حاجت نہیں پیش کرتے تھے۔ (1) [ آپ دیتے تھے لیتے نہ تھے اور اللہ کے سوا کسی کی طرف اپنا رخ نہیں کرتے تھے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) سے دریافت کیا جبرئیل اللہ ( علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل کس وجہ سے بنایا حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا (مخلوق کو) کھانا کھلانے کی وجہ سے۔ ابن المنذر نے ابن ابزی کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ملک الموت سے پوچھا میرے رب نے مجھے خلیل کس وجہ سے بنایا ملک الموت نے جواب دیا اس لئے کہ آپ (مخلوق کو) دینا پسند کرتے تھے لینا پسند نہیں کرتے۔ دیلمی نے حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے اس قول کو رسول اللہ ﷺ کا بیان قرار دیا ہے۔ مگر اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔ زبیر بن بکار کا قول ہے کہ اللہ نے ابراہیم کے پاس وحی بھیجی کیا تم واقف ہو کہ میں نے تم کو خلیل کیوں بنایا ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب مجھے نہیں معلوم ‘ اللہ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے تیرے دل کو دیکھا تو میں نے پایا کہ تو دینا پسند کرتا ہے اور یہ پسند نہیں کرتا کہ تجھے دیاجائے۔] روایت میں آیا ہے کہ جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا اس وقت آپ کے پاس جبرئیل ( علیہ السلام) آئے اور پوچھا کیا آپ کو مدد کی ضرورت ہے فرمایا آپ کی مدد کی ضرورت نہیں حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا تو اپنے رب سے ہی دعا کیجئے۔ فرمایا وہ میرے حال کو جانتا ہے اس کو میرے سوال کی ضرورت نہیں۔ ایک سوال اگر خلیل کو خلت بمعنی حاجت سے مشتق مانا جائے تو آیت کا معنی درست نہ ہوگا کیونکہ اس وقت احتیاج دونوں طرف سے ہونی چاہئے حالانکہ اللہ کا محتاج ہونا قابل تصور بھی نہیں ہے۔ جواب : ہم شروع کتاب میں بیان کرچکے ہیں کہ اللہ پر اسماء وصفی کا اطلاق حقیقی نہیں مجازی ہے اور نتائج کے لحاظ سے ہوتا ہے (جو افعال ہیں) مبادی کے اعتبار سے نہیں ہوتا (جو تاثرات و انفعالات ہیں) مثلاً رحمن و رحیم اللہ کے دو صفی نام ہیں دونوں کا اشتقاق رحمت سے ہے اور رحمت کا معنی ہے رقت قلب جو حسن سلوک اور مہربانی کی مقتضی ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کا قلب نہیں نہ اس کے اندر رقب قلب پیدا ہوتی ہے (رقب قلب تو ایک قسم کا تاثر ہوتا ہے جو کسی وجہ سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور خدا ہر اثر پذیری سے پاک ہے اثر پذیری عجز کی علامت ہے) بلکہ رقت قلب کا جو لازمی تقاضا ہے یعنی دوسرے پر مہربانی کرنا اور حسن سلوک کرنا اس کے اعتبار سے اللہ پر رحمن و رحیم کا اطلاق ہوتا ہے (پس رحمن و رحیم کا ترجمہ ہوا مہربان۔ رقیق القلب۔ ترجمہ درست نہیں) اسی طرح اللہ پر خلت کا اطلاق مجازی ہے یعنی خالص محبت۔ حاجت کا مفہوم مراد نہیں ہے۔ (اگرچہ محبت نتیجہ ہوتا ہے حاجت کا پس نتیجۂ حاجت یعنی خالص محبت مراد ہے مبدء محبت یعنی حاجت مراد نہیں ہے) وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً جملۂ معترضہ ہے وسط کلام میں اس کا ذکر اتباع ملت ابراہیمی کے وجوب کو مؤکد طور پر ظاہر کرنے کے لئے کیا گیا ہے کیونکہ جو شخص اتنے اونچے مرتبہ پر فائز ہوجائے کہ اللہ اس کو اپنا خلیل بنا لے یقیناً اس کا اتباع لازم ہے۔ مجدد الف (رح) ثانی نے فرمایا خلیل وہ ندیم اور ہم نشین ہوتا ہے جس کے سامنے آدمی اپنے محب اور حبیب کے راز ظاہر کرتا ہے۔ عبدالرزاق اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں زید بن اسلم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ زمین پر سب سے اوّل جبار نمرود تھا لوگ اس سے آکر کھانے کے لئے اناج مانگتے اور وہ دیتا تھا۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سے غلہ لینے گئے جب لوگ اس کے پاس پہنچے تو اس نے پوچھا تمہارا پالنہار کون ہے لوگوں نے کہا آپ (اس نے غلہ دے دیا) جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی باری آئی اور آپ پہنچے تو نمرود نے پوچھا تیرا رب کون ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میرا مالک وہ ہے جس کے قبضہ میں موت و زندگی ہے نمرود نے کہا میں بھی موت و زندگی دیتا ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ سورج کو مشرق سے لاتا ہے (اگر تجھے رب ہونے کا دعویٰ ہے تو) تُو اس کو مغرب کی طرف سے لے آ۔ یہ بات سن کر وہ منکر خدا لاجواب ہوگیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بغیر اناج دیئے واپس کردیا ‘ واپسی میں آپ کا گزر خاکستری رنگ کے ایک ریت ٹیلے کی طرف سے ہوا آپ نے سوچا کہ گھر والوں کو بہلانے کے لئے مجھے یہی ریت کچھ لے لینا چاہئے تاکہ میرے پہنچتے ہی ان کو مایوسی نہ ہو (رات گزرنے کے بعد صبح ہوگی تو دیکھا جائے گا) یہ سوچ کر آپ نے کچھ ریت لے لی اور گھر پہنچ کر سامان اتار کر رکھ دیا اور سو گئے (رات میں) بیوی نے اٹھ کر سامان کھولا تو اندر سے اعلیٰ قسم کا غلہ نکلا ‘ اس نے فوراً اس میں سے کچھ لے کر کھانا تیار کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے لے آئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جس وقت گئے تو گھر میں کچھ کھانا نہیں تھا اب کھانا سامنے آیا تو پوچھا یہ کہاں سے تیار کیا گیا بیوی نے کہا اسی غلہ سے تیار کیا گیا ہے جو آپ لے کر آئے تھے اس وقت آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ نے عطا فرمایا ہے اس پر اللہ کا شکر کیا۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابو صالح کی روایت سے لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غلہ لینے گئے اور کچھ ہاتھ نہ آیا اور واپسی میں ایک سرخ ٹیلہ کی طرف سے گزرے تو اس سے کچھ (مٹی ریت) لے لیا اور گھر لوٹ آئے۔ گھر والوں نے پوچھا یہ کیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا سرخ گیہوں۔ گھر والوں نے کھول کر دیکھا تو سرخ گیہوں برآمد ہوئے (یہ عجیب گیہوں تھے) جب ان میں سے کچھ بیج لے کر بویا گیا تو جڑ سے پھنگچی تک تہ بر تہ گیہوں کی بالیاں برآمد ہوئیں۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بڑے مہمان نواز تھے آپ کا مکان سر راہ تھا جو ادھر سے گزرتا آپ اس کی میزبانی کرتے تھے۔ ایک بار کال پڑا لوگ کھانا طلب کرنے حضرت کے دروازے پر جمع ہوگئے آپ کے لئے غلہ کی رسد ہر سال مصر سے ایک کے پاس سے آیا کرتی تھی اس سال بھی آپ نے اپنے غلاموں کو اونٹ دے کر اس مصری دوست کے پاس بھیجا تاکہ غلہ کی رسد لے آئیں دوست نے غلاموں سے کہا اگر ابراہیم اپنے لئے طلب کرتے تو ہم ان کی خاطر اس بار کو اٹھا بھی لیتے کیونکہ جو مصیبت لوگوں پر آئی ہے ہم پر بھی آئی ہے قاصد (ناکام) لوٹ پڑے اثناء راہ میں ایک وادی کی طرف سے گزر ہوا آپس میں کہنے لگے اونٹ خالی لے جاتے ہوئے تو ہم کو شرم آتی ہے مناسب یہ ہے کہ اس وادی کی کچھ مٹی لے کر ہم بوریوں میں بھر لیں تاکہ لوگ دیکھ کر خیال کریں کہ ہم غلہ لے کر آئے ہیں یہ کہہ کر بوریاں بآسانی بھر لیں اور حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ کی اطلاع دے دی۔ اس وقت حضرت سارہ ( علیہ السلام) سو رہی تھیں۔ لوگ دروازہ پر تھے حضرت کو یہ بات سن کر بڑا رنج ہوا اسی دوران میں نیند سے مغلوب ہو کر سو گئے سارہ ( علیہ السلام) بیدار ہوئیں تو دن چڑھ گیا تھا کہنے لگیں تعجب ہے غلام نہیں آئے۔ غلاموں نے آواز دی کیوں نہیں ( آ تو گئے) حضرت سارہ ( علیہ السلام) نے کہا تو پھر کچھ لائے نہیں۔ غلاموں نے کہا لائے کیوں نہیں۔ سارہ ( علیہ السلام) اٹھ کر بوروں کے پاس گئیں اور ان کو کھولا تو بڑا کھرا آٹا نکلا۔ آپ نے روٹی پکانے والوں کو حکم دیا۔ حسب الحکم انہوں نے روٹیاں پکائیں اور لوگوں کو کھانا کھلایا اتنے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیدار ہوگئے اور آپ کو کھانے کی خوشبو آئی فرمایا سارہ یہ کہاں سے آیا۔ سارہ نے کہا آپ کے مصری دوست کے پاس سے فرمایا ( نہیں) یہ میرے خلیل کے پاس سے آیا جو اللہ ہے۔ اسی روز اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا۔ فائدہ : حضور سید الانبیاء ﷺ کا درجہ خلت کے درجہ سے بہت اونچا تھا آپ کا مقام خالص محبوبیت کا مقام تھا۔ مقام خلت کو تو آپ راستہ میں چھوڑ گئے تھے اسی عبور اور تقدم کی وجہ سے آپ ﷺ نے اپنے کو خلیل فرمایا تھا اور ارشاد فرمایا تھا کہ اگر (اپنے رب کے علاوہ) میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا۔ لیکن ابوبکر ؓ میرے بھائی اور رفیق ہیں اور اللہ نے تمہارے ساتھی کو خلیل بنا لیا ہے۔ رواہ مسلم من حدیث ابن مسعود۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا اگر اپنے رب کے علاوہ میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا۔ رواہ البخاری و مسلم من حدیث ابی سعید الخدری۔ یہ بھی فرمایا سن لو تمہارا ساتھی اللہ کا خلیل ہے۔ رواہ الترمذی عن ابی ہریرۃ۔ حضرت جندب ؓ کا بیان ہے میں نے خود سنا حضور ﷺ وفات سے پہلے فرما رہے تھے اللہ نے مجھے خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا تھا اخرجہ الحاکم وصححہ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنا لیا تھا اور تمہارا ساتھی بھی اللہ کا خلیل ہے اور قیامت کے دن محمد ﷺ بنی آدم کا سردار ہوگا پھر آپ نے آیت عَسٰی اَنْ یَّبْعُثْکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحَمْوًدًاتلاوت فرمائی۔ (2) [ ترمذی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ تھے اور واقع میں وہ ایسے ہی تھے (لیکن) سن لو کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور (یہ) فخر نہیں ہے (اظہار واقعہ ہے) سب سے پہلے میں ہی شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی اور (یہ) فخر نہیں ہے اور سب سے پہلے میں ہی جنت کی زنجیر ہلاؤں گا اور اللہ اس کو کھول کر مجسم کو اندر داخل فرمائے گا اس وقت میرے ساتھ فقراء مؤمنین بھی ہوں گے اور (یہ) فخر نہیں ہے اور میں قیامت کے دن تمام اگلوں پچھلوں سے زیادہ معزز ہوں گا اور (یہ) فخر نہیں ہے۔ ابن جریر اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے ابراہیم کو خلت کے لئے اور موسیٰ کو کلام کے لئے اور محمد ﷺ کو دیدار کے لئے چن لیا۔ از مؤلف (رح) ۔] حضور ﷺ کا استقرار مقام خلت میں نہ تھا۔ آپ کا مقام اس سے اونچا تھا مقام محبوبیت کا یہی اقتضاء تھا مگر امت کے بعض افراد کے لئے آپ مقام خلت کے خواستگار تھے تاکہ ان افراد کے تفصیلی کمال کا شمار آپ کے کمال میں ہوجائے کیونکہ متعبین کے کمالات مقتدا کے کمال کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ علماء اہل سنت کا اجماعی فیصلہ اصول دین کی کتابوں میں موجود ہے کہ اولیاء کی کرامتیں پیغمبر ﷺ کے معجزات ہوتی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا اس کو اس طریقہ پر چلنے کا ثواب بھی ہوگا اور ان لوگوں کے عمل کا بھی ثواب ہوگا جو اس طریقہ پر چلیں گے مگر ان چلنے والوں کے ثواب میں اس سے کوئی کمی نہیں آئے گی۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ نیکی کا راستہ بتانے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امت کے اعمال اور کمالات کا شمار رسول اللہ ﷺ کے اعمال اور کمالات میں ہے۔ حضور ﷺ نے اپنے لئے اور اپنی امت کے لئے ان تفصیلی کمالات کو طلب کرنے کے لئے ہی دعا کی تھی اللہم صلی علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علٰی ابراہیم وعلی ال ابراہیم اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور ہزار برس کے بعد یہ مقام حضرت مجدد الف ثانی (رح) کو عنایت فرمایا حضرت والا کا مقام مقام خلت قرار پایا اور تفصیلی خلت سے آپ موصوف ہوئے اور یہ تفصیلی خلت آپ ﷺ سے پہلے کسی کو میسر نہ ہوئی اس کی وجہ خواہ یہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے اتباع خصوصی کی وجہ سے بعض جلیل القدر صحابہ ؓ اور ائمہ اہل بیت مقام خلت سے اونچے ہو کر درجۂ محبوبیت پر پہنچ گئے تھے (کیونکہ اللہ نے اپنے رسول کی زبان سے کہلوا دیا تھا کہ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہِیا یوں کہا جائے کہ (بعض لوگوں کو خصوصی عنایت سے سرفراز کرنا) اللہ کا سراسر فضل ہے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے سرفراز فرماتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا میری امت کی حالت بارش کی طرح ہے کہ معلوم نہیں اس کا اوّل حصہ بہتر ہے یا آخر حصہ یا باغ کی طرح ہے جس سے ایک سال ایک جماعت کو اور دوسرے سال دوسری جماعت کو کھانے کو ملتا ہے ہوسکتا ہے کہ دوسرے سال والی جماعت پہلی جماعت سے زیادہ فراخ اور وسیع رزق والی اور اس سے زیادہ خوش حال ہو۔ رواہ رزین من حدیث جعفر بن محمد ؓ ۔ یہ مسئلہ صحیح کشف سے ثابت ہے اگر کوئی اس کو نہیں مانتا تو نہ مانے ‘ ہماری گفتگو ان لوگوں سے ہے جو بات سنتے اور اچھی بات پر چلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرما دی ہے اور یہی گروہ اہل دانش کا ہے۔ میں نے یہ بات اس لئے کہی کہ بعض کوتاہ فہم لوگ حضرت مجدد (رح) کے کلام پر طعن کرتے بلکہ اس مقام پر جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اس کو کفر قرار دیتے ہیں۔ مجدد صاحب (رح) نے اس جگہ جو کچھ فرمایا وہ کسی ناممکن امر کا دعویٰ نہیں ہے بزرگوں سے حسن ظن رکھنے کا تقاضا ہے کہ اس کو تسلیم کرلیا جائے یا کم از کم سکوت ہی اختیار کیا جائے۔ ( رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں) بعض لوگ کہتے تھے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کیا یہ لوگ اللہ کی رحمت خود تقسیم کر رہے ہیں (کہ جس کو چاہا پیغمبر بنا دیا) کچھ لوگ کہتے تھے کیا ہم میں سے اس شخص پر قرآن اتارا گیا (ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا) یہ بڑا جھوٹا ہے اللہ نے جواب میں فرمایا کل کو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ بڑا جھوٹا اترانے والا کون ہے اگر بعض جلیل القدر صحابہ ؓ اور ائمہ اہل بیت مقام محبوبیت پر فائز تھے تو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ان بزرگوں کی برتری لازم نہیں آتی کیونکہ ان کو جو کچھ ملا وہ دوسروں کا اتباع کرنے سے اور وراثت کے طور پر ملا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو کچھ ملا وہ بالذات اور بلاوسیلہ تھا اور دونوں میں بڑا فرق ہے۔ حضرت مجدد (رح) مقام خلت پر فائز تھے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ کی ترقی ختم ہوگئی یہ تو وقفۂ راہ ہے منزل نہیں ہے مقام خلت سے آگے بڑھ کر آپ کی رفتار مقام محبوبیت کی جانب تھی اگرچہ بالتبع اور بالواسطہ تھی۔
Ayah 4:126

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے

وللہ ما فی السموات وما فی الارض . اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے یعنی اللہ ہی کی مخلوق اور اللہ ہی کی ملک ہے سوائے اللہ کے کسی دوسرے کو کسی چیز کی تخلیق میں دخل ہے نہ ملکیت میں (یوں تو سارا جہان اور جہان کی چیزیں اللہ ہی کی مخلوق و مملوک ہیں لیکن چونکہ موجودات سماوی اور کائنات ارضی نظر کے سامنے ہیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ انہی کا تذکرہ کیا گیا) اس جملہ کا معنوی تعلق یا تو آیت وَمَنْ اَحْسَنْ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِسے ہے گویا یہ اس کلام کی علت ہے کہ جب سب کچھ اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا اور اسی کی ملکیت ہے لہٰذا ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنا رخ اسی کی طرف پھیر لے۔ یا آیت : وَاتَّخَذَ اللّٰہُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلاً سے اس کا ربط ہے یعنی سب کچھ اللہ ہی کا ہے اس کو اختیار ہے کہ اپنی مشیت کے موافق جس چیز اور جس شخص کو چاہے چن لے۔ یا اس کلام کا اتصال ذکر اعمال سے ہے یعنی اللہ کی فرماں برداری ساری کائنات پر فرض ہے اور وہی سب کے اعمال کا بدلہ دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ وکان اللہ بکل شی محیطا . اور اللہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے مگر اس کا احاطہ ہر کیفیت سے پاک ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی چیز اپنی ہستی مستقل اور خودبخود نہیں رکھتی بلکہ باری تعالیٰ کی ہستی سے وابستہ ہے اسی کی محتاج ہے کسی کا وجود ذاتی نہیں ہر چیز کے تمام صفات و افعال اور خود اس کی ذات اللہ کی مہربانی اور فضل کی ممنون ہے لہٰذا کسی کے لئے جائز نہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا رخ کرے۔ اللہ کے محیط ہونے کا معنی اس کے علم وقدرت کا محیط ہونا بھی بعض علماء نے بیان کیا ہے یعنی اللہ کا علم ہمہ گیر اور قدرت محیط کل ہے لہٰذا وہ لوگوں کو اعمال کے موافق بدلہ دے گا نیکی کا بدلہ اچھا اور برائی کا بدلہ برا۔ واللہ اعلم۔ حاکم نے مستدرک میں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ اہل جاہلیت بچہ کو بالغ ہونے سے پہلے میراث نہیں دیتے تھے اور نہ عورت کو وارث قرار دیتے تھے جب اسلام آیا (اور لوگوں نے عورتوں کی میراث کا حکم دریافت کیا تو) اللہ نے فرمایا۔