4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:36

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ Open ayah 4:36 in the Quran reader

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا

واعبدوا اللہ . اور اللہ کی عبادت کرو (جوہری کی) صحاح میں ہے کہ عبودیت کا معنی ہے کمزوری اور عجز کا اظہار۔ لیکن عبادت کے معنی میں عبودیت کے مفہوم سے زیادہ زور ہے عبادت کا معنی ہے انتہائی کمزوری اور عاجزی کا اظہار (اسی لئے عبودیت کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوسکتا ہے مگر) عبادت کا استحقاق صرف اسی کے لئے ہے جو عظمت و ربوبیت کی چوٹی پر فائز ہے۔ ولا تشرکوا بہ شیئا . اور کسی چیز کو (عبادت میں) اس کا شریک نہ قرار دو ۔ شیئاً میں تنوین تحقیر کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی اللہ کی بزرگی غیر متناہی ہے اس کے مقابلہ میں ہر ممکن خواہ کتنا ہی بڑا ہو حقیر ہے (پس تم حقیر کو الہٰ اعظم کی عبادت میں شریک نہ بناؤ) اس مطلب پر شیئاً مفعول بہ ہوگا یہ بھی ممکن ہے کہ مفعول مطلق محذوف ہو اور شیئاً اس کی صفت ہو یعنی اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نہ ظاہر نہ پوشیدہ۔ عبادت کی دو قسمیں ہیں (1) اضطراری۔ یعنی ہر چیز چاروناچار اللہ کے حکم سے وابستہ ہے کسی کو اس سے (تخلیقی طور پر) سرتابی کی مجال نہیں۔ (2) اختیاری۔ آیت میں عبادت اختیاری کا ہی حکم دیا گیا ہے عبادت الٰہی سے مراد ہے اللہ کے اوامرو نواہی کی پابندی۔ صوفیہ کا قول ہے کہ عبادت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح غسال کے ہاتھوں میں مردہ ہوتا ہے اسی طرح اللہ کے احکام کی تعمیل میں بندہ اپنے کو بےاختیار و بےارادہ بنا دے رب کے ہر حکم پر راضی ہو یہاں تک کہ اس کی نظر میں اللہ کے احکام تکومینیہ (تخلیقیہ اور خطریہ) اور احکام تشریعیہ (اوامرو نواہی) کا مرتبہ ایک جیسا ہو (یعنی جس طرح اللہ کے احکام تخلیقیہ میں بندہ کے اختیار کو کوئی دخل نہیں اسی طرح اللہ کے احکام تشریعیہ کی پابندی کے لئے بھی وہ اپنے کو مجبور سمجھے) اللہ نے فرمایا ہے جب اللہ اور اللہ کا رسول کسی بات کا فیصلہ کردیتے ہیں تو پھر کسی مؤمن مرد و عورت کی اپنی اختیاری مرضی نہیں رہتی۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ کا بیان ہے میں اونٹنی پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ حضور ﷺ نے فرمایا معاذ ؓ ! کیا تجھے معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانے۔ فرمایا بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ اس کی عبادت کریں کسی کو اس کا ساتھی نہ قرار دیں۔ معاذ ؓ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے جب کہ انہوں نے ایسا کیا ہو (یعنی اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنایا ہو) میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانے فرمایا بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ (ایسے لوگوں کو) عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں فرمایا ان کو عمل کرنے دے ( اگر یہ بشارت دے دی تو بھروسہ کر بیٹھیں گے اور اعمال کو ترک کردیں گے) رواہ البغوی۔ صحیحین میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔ صوفیہ کے نزدیک عذاب دینے سے مراد ہے ہجر و فراق کا عذاب دینا۔ یعنی اللہ پر غیر مشرک بندوں کا حق یہ ہے کہ ان کو ہجر و فراق کا دکھ نہ دے۔ وبالوالدین احسانا . اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو ‘ حضرت معاذ ؓ کا بیان ہے مجھے رسول اللہ ﷺ نے دس باتوں باتوں کی نصیحت فرمائی تھی۔ اللہ کا ساجھی نہ قرار دینا خواہ تجھے قتل کردیا جائے یا جلا دیا جائے۔ ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا۔ خواہ وہ بیوی اور مال کو چھوڑ دینے کا حکم دیں۔ الحدیث رواہ احمد۔ وبذی القربی . اور قرابت داروں سے اچھا سلوک کرو۔ حضرت سلمان ؓ بن عامر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین کو خیرات دینا تو (صرف) خیرات ہے اور (مسکین) قرابت داروں کو دینا خیرات بھی ہے اور صلۂ رحم بھی (یعنی دوہرا ثواب ہے) رواہ احمد والنسائی وابن حبان والحاکم والترمذی وابن ماجہ وابن خزیمہ ‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے ابن خزیمہ کی روایت کے الفاظ بھی اسی کے قریب ہیں۔ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ غنی پر والدین اوراقارب کا نان نفقہ واجب ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفولوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ راہ خدا میں کیا خرچ کریں آپ کہہ دیجئے کہ جو حاجت سے زیادہ ہو وہ سب دے دو ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین خیرات وہ ہے جو غنی (یعنی اپنی حاجت پوری ہونے) کے بعد ہو اور دینا اس سے شروع کرو جس کی کفالت تمہارے ذمہ ہو۔ رواہ البخاری عن حکیم وابی ہریرۃ ورواہ مسلم عن حکیم۔ والدین کے علاوہ دوسرے قرابت داروں کے مصارف کے لئے دینا اس وقت واجب ہے کہ وہ کمائی سے عاجز ہوں ‘ مثلاً کوئی بچہ ہو ‘ لنگڑا ہوا اپاہج ہو یا عورت ہو ‘ والدین کو دینے کی یہ شرط نہیں ہے۔ کوئی شخص مال دار ہو اور اس کے اقرباء بھوکے مر رہے ہوں اور یہ ان کو نہ دے یہ حرکت تقاضائے احسان کے خلاف ہے ایسے وقت میں دینا واجب ہے۔ والیتمی والمساکین . اور یتیموں اور مسکینوں سے اچھا سلوک کرو۔ یتیموں اور مسکینوں کو مال کی زکوٰۃ دینی تو واجب ہے اور زکوٰۃ کے علاوہ کچھ خیرات کرنی مستحب ہے۔ حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے اندر میں اور یتیم کی سرپرستی کرنے والا اس طرح ہوں گے۔ حضور ﷺ نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے یہ الفاظ فرمائے تھے اور دونوں انگلیوں کے درمیان قدرے شگاف چھوڑ دیا تھا۔ رواہ البخاری۔ حضرت ابوامامہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے محض اللہ واسطے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو جس حصہ پر اس کا ہاتھ لگا ہوگا اس کے ہر بال کے عوض اس کو دس نیکیاں ملیں گی اور جس نے کسی یتیم لڑکے یا لڑکی سے اچھا سلوک کیا جو اس کے پاس ہو تو وہ اور میں جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب) ہوں گے۔ حضور ﷺ نے دونوں انگلیوں کو (قدرے) الگ الگ کر کے بتایا۔ رواہ البغوی۔ والجبار ذی القربی . اور قربت رکھنے والے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو توبیٰ سے مراد یا قربت مکانی ہے یعنی متصل ہمسایہ یا قربت نسبی یعنی قرابت دار پڑوسی یا قربت دینی مراد ہے یعنی مسلمان پڑوسی۔ والجار الجنب . اور دور کے پڑوسی سے بھی اچھا سلوک کرو اس سے مراد یا وہ شخص ہے جو متصل ہمسایہ نہ ہو بلکہ مکان دور ہو (مگر محلہ اور گلی ایک ہو) یا وہ ہمسایہ مراد ہے جو قرابت دار نہ ہو یا وہ پڑوسی مراد ہے جو مسلمان نہ ہو۔ حضرت جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پڑوسی تین ہیں ایک پڑوسی وہ ہے جس کے تین حق ہیں ‘ ہمسائیگی کا حق قرابت داری کا حق اور مسلمان ہونے کا حق۔ دوسرا پڑوسی وہ ہے جس کے دو حق ہیں۔ ہمسائیگی کا حق اور اسلام کا حق۔ تیسرا پڑوسی وہ ہے جس کا صرف ایک حق ہے یعنی ہمسایہ ہونے کا اور یہ شخص وہ ہے جو کتابی کافر ہو (یعنی ایک پڑوسی وہ ہے جو مسلمان اور رشتہ دار بھی ہو دوسرا وہ ہے جو مسلمان ہو۔ تیسرا وہ ہے جو کافر ہو ‘ فقط پڑوس میں رہتا ہو اوّل تین وجوہ سے حق دار ہے ‘ دوسرا دو وجوہ سے اور تیسرا صرف ہمسایہ ہونے کی وجہ سے) رواہ الحسن بن سفیان والبزار وابوالشیخ فی کتاب الثواب ابو نعیم فی الحلیہ۔ ابن عدی نے کامل میں حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایت سے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے مگر دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے دو پڑوسی ہیں میں کس کے گھر بطور ہدیہ کچھ بھیجوں (یعنی دونوں میں زیادہ مستحق کون ہے) فرمایا جس کا دروزہ تجھ سے زیادہ قریب ہو۔ (بخاری) حضرت ابوذر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تو شوربا پکائے تو اس میں پانی بڑھا دے اور اپنے پڑوسیوں کا لحاظ رکھ۔ مسلم۔ حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جبرئیل ﷺ مجھے پڑوسی کے متعلق برابر نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ یہ پڑوسی کو میراث کا حق دار بنا دیں گے۔ بخاری۔ والصاحب بالجنب مجاہد ‘ عکرمہ اور قتادہ کے نزدیک اس سے مراد ہے رفیق سفر اور ابن جریح اور ابن زید نے کہا جو اپنے فائدہ کے لئے تیرے ساتھ ہو وہ صاحب بالجنب ہے اس وقت یہ لفظ شاگرد اور استاد بھائی دونوں کو شامل ہوگا۔ حضرت علی ؓ عبداللہ اور ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ اس سے مراد بیوی ہے جو مرد کے پہلو کے ساتھ ہوتی ہے۔ وابن السبیل . بعض علماء کے نزدیک اس سے مراد مسافر ہے اور اکثر علماء کے نزدیک مہمان۔ حضرت ابوشریح خزاعی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو اپنے ہمسایہ سے اچھا سلوک کرنا چاہئے اور جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہئے اور جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ زبان سے کلمۂ خیر نکلے یا خاموش رہے۔ رواہ البغوی۔ حضرت ابوشریح کعبی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کا اللہ اور روز آخرت پر ایمان ہو اس کو اپنے مہمان کی ایک شبانہ روز ضیافت کرنی چاہئے اور مہمانی (کا حکم) تین دن تک ہے اس کے بعد خیرات ہے مہمان کے لئے جائز نہیں کہ میزبان کو تنگ کرنے کے لئے اس کے پاس پڑا ہی رہے۔ صحیحین۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہئے اور جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو اپنے ہمسایہ کو دکھ نہ دینا چاہئے اور جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ صحیحین۔ وما ملکت ایمانکم . اور اپنے باندی غلام کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ میں کہتا ہوں اس حکم میں مویشی بھی داخل ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باندی غلام کے کھانے پہننے کا حق (آقا پر) ہے اور اس بات کا بھی حق ہے کہ طاقت کی برداشت سے زائد اس پر کام کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (باندی غلام) تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے زیردست کردیا ہے پس جس کے زیردست اللہ نے اس کے بھائی کو کردیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ جو کھانا خود کھائے وہی اپنے زیردست بھائی کو کھلائے اور جو خود پہنے وہی اس کو پہنائے اور طاقت سے زیادہ اس پر کام نہ ڈالے اگر اس کی طاقت سے زیادہ کام ہو تو خود بھی اس کی مدد کرے۔ بخاری و مسلم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم آگ کی گرمی اور دھواں برداشت کر کے کھانا پکا کر لائے تو اس کو ساتھ بٹھا کر کھلانا چاہئے اگر کھانا بہت ہی کم ہو تو ایک دو لقمے ہی اٹھا کر ضرور اس کو دینا چاہئے۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابو مسعود ؓ انصاری کا بیان ہے کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا پیچھے سے میں نے کسی کی آواز سنی ابو مسعود سمجھ لے کہ جتنا قابو تیرا اس پر ہے تیرے اوپر اللہ کا اس سے زیادہ قابو ہے ‘ میں نے منہ پھیر کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے میں نے فوراً کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ اللہ واسطے آزاد ہے۔ فرمایا اگر تو ایسا نہ کرتا تو آگ کی لپٹ تجھے پہنچ ہی گئی تھی یا یہ فرمایا کہ آگ نے تجھے چھو ہی لیا تھا۔ رواہ مسلم۔ حضرت ام سلمہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مرض (وفات) میں فرما رہے تھے۔ نماز اور باندی غلام (کا لحاظ رکھو) رواہ البیہقی فی شعب الایمان ‘ امام احمد اور ابوداؤد نے حضرت علی ؓ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین باتیں ہیں جس کے اندر یہ تینوں ہوں گی اللہ اس کی موت آسان کر دے گا اور اس کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ کمزور سے نرمی کرنا ماں باپ پر شفقت کرنا اور باندی غلام سے اچھا سلوک کرنا۔ رواہ الترمذی۔ حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو کی روایت ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم خادموں کو کتنی بار معاف کریں ‘ یہ سن کر حضور ﷺ خاموش رہے۔ اس نے دوبارہ عرض کیا۔ آپ پھر بھی خاموش رہے۔ جب تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا فرمایا روزنہ ستّر بار معاف کرو۔ رواہ الترمذی۔ ابوداؤد نے حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو اور حضرت سہل ؓ بن حنظلہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اثناء راہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک (لاغر) اونٹ دیکھا جس کا پیٹ پیٹھ سے لگ گیا تھا فرمایا ان بےزبان جانوروں کے معاملہ میں خدا کا خوف کرو۔ اگر یہ سواری کے قابل ہوں تو سوار ہو اور چھوڑ دینے کے قابل ہوں تو چھوڑ دو (سوار مت ہو) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو بتاؤں کہ تم میں سب سے برے کون لوگ ہیں (برے ہیں وہ لوگ) جو تنہا خور ہیں ‘ غلام کو کوڑے سے مارتے ہوں اور اپنا عطیہ روک کر رکھتے ہوں (کسی کو کچھ نہ دیتے ہوں) رواہ رزین۔ حضرت ابوسعید ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خادم کو مارتے وقت آدمی اللہ کو یاد کرلے (کہ وہ کتنا قادر اور طاقتور ہے اور اس کے باوجود بندہ کے قصوروں سے درگزر فرماتا ہے) پس تم بھی (باندی غلام کو مارنے سے) ہاتھ اٹھا لو۔ رواہ الترمذی۔ ان اللہ لا یحب . اللہ پسند نہیں کرتا یعنی نفرت کرتا ہے عدم محبت سے مراد بغض و نفرت ہے۔ من کان مختالا فخورا . ایسے لوگوں کو جو اپنے کو بڑا سمجھتے اور شیخی کی باتیں کرتے ہوں۔ مختال سے مراد وہ شخص ہے جو تکبر کرتا اپنے قرابت داروں ‘ پڑوسیوں اور ساتھیوں سے ناک چڑھاتا اور ان کی طرف التفات نہ کرتا ہو اور فخور وہ شخص ہے جو دوسروں پر اپنی فوقیت جتاتا ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی دو چادریں (یعنی پورا سوٹ) پہنے مٹکتا اتراتا چلا جا رہا تھا۔ اللہ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اس میں گھستا چلا جائے گا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص غرور سے اپنا کپڑا (زمین پر) گھسیٹتا چلتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا۔ بخاری و مسلم۔ حضرت عیاض بن حمار اشجعی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ تم لوگ آپس میں تواضع کرتے رہو (یعنی ایک دوسرے کے سامنے جھکا رہے) کوئی کسی پر بڑائی نہ کرے ‘ نہ زیادتی کرے۔ رواہ مسلم۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے گروہ اہل اسلام اللہ سے ڈرتے رہو۔ کوئی شبہ نہیں کہ جنت کی ہوا ہزار سال کی مسافت سے محسوس کی جائے گی مگر نہ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اس کو پائے گا نہ رشتہ داری قطع کرنے والا نہ بوڑھا زانی اور نہ وہ شخص جو غرور سے اپنا تہبند گھسیٹتا چلتا ہے۔ بڑائی صرف رب العلمین کو زیبا ہے۔ الحدیث۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط۔
Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

الذین یبخلون . جو خود بخل کرتے ہیں یعنی حق واجب ادا نہیں کرتے۔ ویامرون الناس بالبخل . اور لوگوں کو بھی کنجوسی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن زید کے قول پر اس آیت کا نزول مندرجۂ ذیل یہودیوں کے متعلق ہوا۔ کردم بن زید حیی بن اخطب ‘ رفاعہ بن زید بن تابوت ‘ اسامہ بن حبیب ‘ نافع بن ابی نافع ‘ بجری بن عمرو یہ لوگ انصاریوں کے پاس ان سے گھل مل کر کہتے تھے کہ (راہ خیر میں) اپنے مال خرچ نہ کرو۔ ہم کو تمہارے مفلس ہوجانے کا اندیشہ ہے تم کو نہیں معلوم کہ آئندہ کیا ہوگا۔ رواہ ابن اسحاق و ابن جریر بسند صحیح ہے۔ اس روایت پر آیت میں بخل سے مراد ہوگا مالی بخل لیکن سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ بخل سے مراد ہے علم کو چھپانا۔ عطیہ عوفی کی وساطت سے ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی کہ اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جو رسول اللہ ﷺ کے اوصاف (جو تورات میں آئے ہیں لوگوں سے) چھپا کر رکھتے تھے اور ایک دوسرے کو بھی اس اخفاء کا مشورہ دیتا تھا اور اس علم کو بند رکھنے سے بڑھ کر اور کنجوسی اور کون سی ہوسکتی ہے۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ عطیہ عوفی ضعیف ہے۔ ویکتمون ما اتہم اللہ من فضلہ . اور جو چیز اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کی ہے اس کو چھپاتے ہیں چیز سے مراد ہے مال (بروایت اوّل) یا علم (بروایت دوئم) واعتدنا للکافرین . اور ہم نے کافروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ بجائے ضمیر کے لفظ الکافرینکا صراحت کے ساتھ ذکر اس امر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ مذکورۂ بالا اوصاف قبیحہ کے حامل اللہ کی نعمت کے کافر (ناشکرے اور منکر) ہیں اور ایسے ناشکروں کے لئے ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ عذابا مہینا . ذلیل کرنے والا عذاب یعنی جس طرح اس نے اللہ کی نعمت کو چھپا کر اور بخل کر کے اس کی توہین کی ہے اسی طرح اللہ نے بھی اسی کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ عذاب کی عظمت اور ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لئے ضمیر غائب یعنی اعتدنا (بصیغہ واحد مذکر غائب) کی جگہ ضمیر متکلم (یعنی اعتدنا) ذکر فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سخی اللہ سے قرب رکھنے والا جنت سے قرب رکھنے والا اور لوگوں سے قرب رکھنے والا (یعنی ہر دل عزیز اور محبوب خلق ہوتا ہے) دوزخ سے دور ہوتا ہے اور بخیل اللہ سے دور جنت سے دور لوگوں سے دور اور دوزخ سے قریب ہوتا ہے اور جاہل سخی ‘ عابد بخیل سے اللہ کو زیادہ پیارا ہے۔ رواہ الترمذی۔ حضرت ابو سعید خدری کی مرفوع حدیث ہے کہ مؤمن کے اندر دو (بری) خصلتیں یعنی کنجوسی اور بدخلقی اکٹھی نہیں ہوتیں۔ رواہ الترمذی ‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ مکار (مفسد) نہ بخیل اور احسان جتلانے والا۔ رواہ الترمذی۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے

والذین ینفقون اموالہم رء آء الناس . اور جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ رء آئغرض انفاق اور مفعولہ لہٗ ہے یعنی دنیا میں سخی کہلانے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ الذین ینفقونکا عطف الذین یبخلون پر ہے دکھاوٹ اور طلب شہرت کے لئے دینا بھی ایسا ہی مذموم ہے جیسے نہ دینا ‘ بخل مرتبۂ تفریط ہے اور اسراف مرتبۂ افراط اور دونوں مذموم اور موجب عذاب ہیں۔ یا الکافرین پر عطف ہے کیونکہ دکھاوٹ کے لئے دینا بھی کفر اور شرک خفی ہے اسی لئے آئندہ آیت کا اس پر عطف کیا گیا ہے۔ ولا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر . اور ایمان نہیں رکھتے اللہ پر نہ روز آخرت پر۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے میں شرک سے بہت ہی زیادہ بےنیاز ہوں (یعنی مجھے کسی کو شریک بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں) اگر کوئی ایسا عمل کرے گا جس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کرلے گا تو میں اس کے شرک آمیز عمل کو چھوڑ دوں گا۔ دوسری روایت میں ہے کہ میں اس سے بیزار ہوں اس کا عمل اسی کے لئے ہوگا۔ جس کے لئے اس نے کیا ہوگا۔ رواہ مسلم۔ حضرت معاذ کی مرفوع حدیث ہے کہ تھوڑی ریاکاری بھی شرک ہے۔ سدی کا قول ہے کہ یہ آیت منافقوں کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ بعض علماء کے نزدیک اس آیت کا نزول مکہ کے مشرکوں کے حق میں ہوا تھا جو رسول اللہ ﷺ : کی دشمنی کے راستوں میں اپنا مال خرچ کرتے تھے۔ ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا . اور شیطان جس کا ساتھی اور دوست ہو تو وہ برا ساتھی ہوگا۔ اس جملہ میں شیطان کے اتباع اور دوستی سے بازداشت کی گئی ہے اور اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بخل ریاکاری اور دوسری خباثتیں ان کے اندر شیطان کی قربت و صحبت کی وجہ سے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آیت میں اس بات کی وعید ہو کہ شیطان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے جائے گا۔
Ayah 4:39

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

وما ذا علیہم لو امنوا باللہ والیوم الاخر . ان کا کیا ہرج ہوتا ان پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روزِِ آخرت پر ایمان لے آتے۔ محسن کا شکریہ تو فی نفسہٖ اچھا فعل ہے اس میں نقصان کا تو احتمال ہی نہیں ہوسکتا نہ عقلاً نہ نقلاً ۔ وانفقوا مما رزقہم اللہ . اور جو کثیر مال اللہ نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے اور دس گنے سے سات سو گنے تک ثواب پانے کی امید میں صرف کردیتے۔ کچھ مال خرچ کرنے سے مراد ہے سونے چاندی کا چالیسواں حصہ اور جانوروں میں اس سے بھی کم اور وہ بھی اس صورت میں کہ اپنی ضرورتوں اور ضروری حاجتوں سے زائد ہو (اور مال پر سال بھی گزر جائے) اتنا اور اس غرض سے دینا تو کسی کے لئے بھی دشوار نہیں نہ اس میں کسی کا کوئی ہرج ہوتا ہے۔ جملہ کو بصورت سوال ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ یہ لوگ جہل مرکب میں مبتلا ہیں جس چیز میں نفع ہے اس کو نقصان سمجھتے ہیں۔ اس امر کی بھی تلقین ہے کہ جس شخص کو کسی بات کا حکم دیا جائے اور اس میں کم از کم کوئی ضرر نہ ہو (خواہ فائدہ ہو یا نہ ہو) تب بھی بنظر احتیاط کرلینا چاہئے اور جب نفع کھلا ہوا ہو تو کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ وکان اللہ بہم علیما اور اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ اس جملہ میں کافروں کو عذاب کی دھمکی ہے۔
Ayah 4:40

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا

ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ یہ امر یقینی ہے کہ اللہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا۔ مثقال ثقل سے ماخوذ ہے۔ ذرہ سرخ چھوٹی چیونٹی۔ یا روشن دان میں دھوپ کے رخ پر جو ذرے سے اڑتے دکھائی دیتے ہیں اور جن کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ بالکل ظلم (حق تلفی) نہیں کرے گا۔ یعنی اللہ نے کافروں کے لئے جو عذاب مہین تیار کر رکھا ہے وہ ظلم نہیں ہے۔ سراسر انصاف ہے بلکہ اگر ان کو عذاب نہ دے گا تو یہ ظلم ہوگا کیونکہ انہوں نے اللہ کی توحید اور عبادت سے منہ موڑا ‘ والدین اوراقارب و اجانب کے حقوق کی ادائیگی کو چھوڑا تو اگر ان کو عذاب نہ ہو تو گویا یہ ظلم (اور نازیبا معاملہ) ہوگا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کفار چونکہ عذاب کے مستحق ہیں اور ان کو عذاب نہ دیا جائے تو گویا ان کی حق تلفی ہوجائے گی ظلم کا معنی ہے غیر جگہ میں کسی چیز کو رکھ دینا اور بےجا ناجائز کام کرنا مگر اللہ کے لئے کوئی کام ناجائز اور بےجا نہیں ہے وہ خالق کل ہے مالک الملک ہے اگر بغیر جرم کے سارے جہان کو عذاب دے تب بھی ظلم نہ ہوگا پس اس کی شان میں کسی فعل پر ظلم کا اطلاق ہی نہیں ہوسکتا اس لئے آیت کی مراد یہ نہیں ہے کہ اس کا کوئی عمل بھی ظلم ہوسکتا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کوئی ایسا کام بھی نہیں کرے گا کہ دوسرے اگر وہی کام کریں تو اس کو ظلم کہا جائے خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کسی کی طاعت کے ثواب میں کمی نہیں کرے گا اور نہ کسی کے گناہ میں بیشی کرے گا۔ بغوی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن کی کسی نیکی (کے اجر) کو کم نہیں کیا جائے گا دنیا میں اس کے عوض رزق (زیادہ) ملے گا اور آخرت میں بھی اس کی اچھی جزا ملے گی اور کافر کی نیکی کا بدلہ اس کو بصورت رزق دنیا میں ہی ملے گا آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی نیکی باقی ہی نہ رہے گی کہ ثواب پا سکے۔ رواہ احمد و مسلم۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مؤمن دوزخ سے نجات پا کر مامون ہوجائیں گے تو اپنے ان بھائیوں کے متعلق جو دوزخ میں داخل کردیئے گئے ہوں اپنے رب سے اتنا سخت جھگڑیں گے کہ اتنا سخت جھگڑا تم میں سے کوئی اپنے حق کے متعلق بھی کسی سے نہیں کرتا۔ عرض کریں گے پروردگار وہ ہمارے بھائی ہیں ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے روزے رکھتے تھے حج کرتے تھے اللہ فرمائے گا جاؤ اور جس کو پہچانتے ہو دوزخ میں سے نکال لو مؤمن جا کر چہروں سے پہچان لیں گے کیونکہ چہروں کو آگ نے نہ کھایا ہوگا۔ کسی کے نصف پنڈلیوں تک آگ نے جلایا ہوگا اور کسی کے ٹخنوں تک۔ یہ ان کو نکال لیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے جن کو نکالنے کا حکم دیا تھا ‘ ہم نے ان کو نکال لیا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (پھر جاؤ) اور جس کے دل میں دینار کے برابر ایمان ہو اس کو بھی نکال لو (مؤمن حکم کی تعمیل کریں گے) پھر (حکم ہوگا) جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو (اس کو بھی نکال لو مؤمن حکم کی تعمیل کریں گے آخر) یہاں تک (حکم ہوگا کہ) جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو (اس کو بھی نکال لو۔ راوی نے کہا اگر کوئی اس بات کو سچ نہ مانتا ہو تو اس آیت کو پڑھے اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّاِنْ تَکُ حَسَنَۃِ یُّضَاعِفْہَا وَیُؤْتِ مِّنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًامؤمن عرض کریں گے پروردگار تو نے جن کو نکال لینے کا حکم دیا تھا ان کو ہم نے نکال لیا اب دوزخ میں کوئی بھی ایسا نہیں رہا جس کے (دل کے) اندر کوئی بھی خیر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ملائکہ سفارش کرچکے انبیاء سفارش کرچکے ‘ مؤمن سفارش کرچکے اور ارحم الراحمین باقی رہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر اللہ دوزخ کے اندر سے ایک مٹھی بھر یا دو مٹھی بھر ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے اللہ کے لئے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہوگی اور جل کر کوئلہ ہوگئے ہوں ان کو لا کر آب حیات ان پر ڈالا جائے گا جس کی وجہ سے وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کیچڑ میں دانہ اگتا ہے اور موتی کی طرح ان کے بدن جھلکنے لگیں گے ان کی گردنوں پر مہر لگی ہوگی کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں (یعنی ان کی کوئی نیکی ہی نہیں تھی) حکم ہوگا جنت میں داخل ہوجاؤ تمہاری جو تمنا ہو اور جس چیز پر تمہاری نظر پڑے وہ تمہاری ہے وہ عرض کریں گے پروردگار تو نے ہم کو ایسا کچھ عطا فرمایا جو کسی کو جہاں میں نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ میرے پاس تمہارے لئے اس سے بھی بڑھ کر (نعمت) ہے وہ عرض کریں گے پروردگار وہ کیا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری خوشنودی آئندہ کبھی میں تم سے غصے نہ ہوں گا۔ رواہ البغوی بسندہ بخاری و مسلم نے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں حضرت ابو سعید ؓ : کا یہ قول نہیں ہے کہ اگر کوئی اس بات کو سچ نہ مانتا ہو تو اس آیت کو پڑھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے علی الاعلان لائے گا اس کے اعمال ناموں کے ننانوے دفتر کھولے جائیں گے ہر دفتر اتنا لمبا ہوگا جتنی دور نظر پہنچتی ہے اور اللہ فرمائے گا کیا تجھے اس میں سے کسی چیز کا انکار ہے کیا میرے نگراں کاتبوں نے تیری کوئی حق تلفی کی ہے بندہ عرض کرے گا نہیں میرے مالک (کوئی حق تلفی نہیں کی نہ مجھے اس کا انکار ہے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا (گناہ کرنے کا) تیرے پاس کوئی عذر یا تیری کوئی نیکی اور ہے (جو لکھنے سے رہ گئی ہو) بندہ لاجواب اور متحیر ہو کر عرض کرے گا نہیں پروردگار۔ اللہ فرمائے گا کیوں نہیں۔ ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے تجھ پر آج ظلم نہ ہوگا اس کے بعد ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں : اشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وان محمد عبدہ ورسولہلکھا ہوگا اللہ فرمائے گا وزن کے وقت تو موجود رہنا ‘ بندہ عرض کرے گا میرے مالک ! یہ چھوٹا سا پرچہ ان لمبے دفتروں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیری حق تلفی نہیں ہوگی۔ اس کے بعد تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں اور پرچہ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا تو دفتروں والاپلڑا اوپر کو اٹھ جائے گا اور پرچہ والا پلڑا بھاری نکلے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز وزنی نہیں ہوگی۔ رواہ ابن ماجہ وابن حبان والحاکم۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کا کسی پر حق رہنے نہ دے گا بلکہ ضرور وصول کرے گا اور کسی کا ذرہ برابر حق ایسا باقی نہیں چھوڑے گا کہ اس کا اجر نہ دے اور چند گنا نہ دے جیسے آگے فرمایا ہے۔ وان تک حسنۃ یعضعفہا . اگر ذرہ برابر تول نیکی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اس کو کئی گنا کر دے گا یعنی کتنے ہی گنا بڑھا دے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے قسم کھا کر بیان کیا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ کوئی شک نہیں کہ اللہ ایک نیکی کو بڑھا کر ہزاروں ہزار نیکیاں کر دے گا۔ رواہ ابن جریر وابن ابی شیبہ۔ ویوت من لدنہ اجرا عظیما . اور اپنے پاس سے یعنی اپنی مہربانی سے اس ایک نیکی والے کو مقررہ موعودہ ثواب سے الگ اجر عظیم عنایت فرمائے گا۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اجراً عظیما فرمایا تو اب اس کی مقدار کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا قیامت کا دن ہوگا تو اللہ اگلوں پچھلوں کو جمع کرے گا اور ایک منادی ندا دے گا۔ خبردار ہوجاؤ جس کسی کا کوئی حق ہو وہ اپنا حق لینے آجائے یہ سن کر آدمی خوش ہوگا کہ باپ یا اولاد یا بھائی پر اس کا جو حق ہوگا وہ اس کو ملے گا خواہ حق کتنا ہی تھوڑا ہوا رشتہ داروں سے حق وصول کرنے کا ثبوت اس آیت میں موجود ہے فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ فَلاَاَنْسَابَ بَیْنَہُمْ الخ۔ اور (ہر) شخص کو طلب کیا جائے گا اور ایک منادی تمام اگلوں پچھلوں کے سامنے ندا دے گا یہ فلاں شخص ہے جس کا اس پر حق ہو وہ اپنا حق لینے آجائے پھر اس شخص سے کہا جائے گا ان کے حقوق ادا کر وہ شخص کہے گا میرے رب دنیا جاتی رہی اب کہاں سے دوں اللہ فرشتوں سے فرمائے گا اس کے اعمال دیکھو ان میں سے ان لوگوں کے حقوق دے دو ۔ اب اگر ذرہ برابر نیکی رہ جائے گی تو فرشتے عرض کریں گے اے ہمارے مالک اس کی ذرہ برابر نیکی باقی رہی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندہ کے لئے اس کو چند گنا کرو اور اس کو میری رحمت کے طفیل جنت میں داخل کر دو “۔ اس کا ثبوت اس آیت میں موجود ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا اور اگر بندہ بدبخت ہوگا اور فرشتے کہیں گے کہ اے ہمارے معبود اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقدار ابھی باقی ہیں تو اللہ فرمائے گا ان کی کچھ بدیاں لے کر اس کے گناہوں میں بڑھا دو پھر اس کے لئے دوزخ کا پروانہ کاٹ دو (یا اس کو خوب مارتے ہوئے دوزخ کو لے جاؤ) رواہ البغوی وابن المبارک و ابونعیم وابن ابی حاتم۔
Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

فکیف پس ان کافروں کی کیا حالت ہوگی یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور ہر مظلوم کا ظالم سے حق دلوائے گا تو اس ہولناک وقت میں ان کافروں کا کیا حال ہوگا۔ جنہوں نے نہ اللہ کے حقوق ادا کئے نہ بندوں کے۔ اذا جئنا من کل امۃ بشہید جب ہر امت میں سے ایک گواہ کو ہم حاضر کریں گے یعنی ہر امت کے پیغمبر کو حاضر کریں گے جو امت کے اچھے برے اعمال اور تصدیق و تکذیب کی شہادت دے گا۔ وجئنابک علی ہولآء شہیدا اور اس تمام امت پر آپ کو شہادت دینے کے لئے حاضر کریں گے ہولآئ سے مراد ہے امت اسلامیہ رسول اللہ ﷺ : تمام امت اسلامیہ پر شہادت دیں گے جس نے حضور ﷺ کو دیکھا ہوگا اور جس نے نہ دیکھا ہوگا سب کے متعلق گواہی دیں گے۔ ابن مبارک نے سعید بن مسیب کا قول نقل کیا ہے کہ ہر روز صبح شام رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی امت پیش کی جاتی ہے اور آپ اس کی خصوصی علامات اور اعمال کو پہچانتے ہیں اسی لئے (قیامت کے دن) آپ ساری امت کے متعلق شہادت دیں گے۔ بخاری نے حضرت ابن مسعود ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا (کچھ قرآن) پڑھ کر مجھے سناؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ پر ہی نازل ہوا اور آپ کو میں پڑھ کر سناؤں فرمایا ہاں حسب الحکم میں نے سورة نساء پڑھی جب آیت فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنابک علی ہولآء شہیداً پر پہنچا تو فرمایا اب بس کرو۔ میں نے منہ اٹھا کر دیکھا تو حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ بعض کے نزدیک ہٰؤلآئ سے مراد انبیاء ہیں کیونکہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں پر شہادت دیں گے اور رسول اللہ ﷺ ان انبیاء کی سچائی کے گواہ ہوں گے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ مؤمن مراد ہیں اس امت کا ایماندار گروہ انبیاء کی طرف سے شہادت دے گا کہ یہ سچ کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ ان مؤمنوں کی تصدیق کریں گے۔ اہل اسلام کی انبیاء پر شہادت کا ذکر ہم نے سورة بقرہ کی آیت لتکونوا شہداء علی الناس کی تفسیر میں کیا ہے۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بہم الارض اس روز جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور پیغمبر کا کہنا نہ مانا ہوگا آرزو کریں گے کہ کاش وہ زمین کا پیوند ہوجائیں یعنی جن لوگوں نے رسول کی رسالت کا انکار کیا ہوگا اور رسول کا حکم نہ مانا ہوگا یا صرف ایک جرم کیا ہوگا یعنی انکار کیا ہوگا یا رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا وہ آرزو کریں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ سما جائیں اور پھر زمین برابر کردی جائے یا خاک کے ساتھ خاک ہوگئے ہوتے اور جانوروں کی طرح معدوم کردیا جاتا۔ اوّل مطلب قتادہ اور ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے اور دوسرا مطلب کلبی نے بیان کیا ہے کلبی نے لکھا ہے کہ چوپایوں ‘ مویشیوں ‘ درندوں اور پرندوں کو اللہ حکم دے گا خاک ہوجاؤ وہ فوراً خاک ہو کر زمین میں مل جائیں گے اس وقت کافر بھی یہی تمنا کرے گا۔ ولا یکتمون اللّٰہ حدیثنا اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔ عطاء نے کہا کہ لا یکتمونکا عطف تسوی پر ہے اور مضارع کا صیغہ ماضی کے معنی میں ہے یعنی وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین میں سما جاتے مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتے اور رسول ﷺ کے اوصاف و حالات (جو تورات میں مذکور ہیں) انہوں نے نہ چھپائے ہوتے۔ جمہور کے نزدیک لا یکتمونکا عطف یودالذین پر ہے یعنی وہ اپنی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے چھپانہ سکیں گے۔ اللہ سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں ان کے ہاتھ پاؤں خود شہادت دیں گے۔ سعید بن جبیر ؓ : کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا۔ قرآن کی چند آیات میں مجھے اشتباہ ہے باہم اختلاف نظر آتا ہے۔ فرمایا پیش کرو تم کو کیا اشتباہ ہے۔ اس نے عرض کیا آیت فلاانساب بینہم یومئذ ولا یتساء لون (سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس روز کوئی کسی کو نہیں پوچھے گا) اور آیت اقبل بعضہم علی بعض یتساء لون (سے باہم پوچھ تاچھ کا ثبوت مل رہا ہے) اور آیت ولا یکتمون اللّٰہ حدیثا (میں نفی اخفاء کی صراحت ہے) اور آیت واللّٰہ ربنا ماکنا مشرکین (سے دل میں اظہار کے خلاف مطلب کو چھپائے رکھنا ثابت ہو رہا ہے) اور آیت ام السماء بناہا۔۔ والارض بعد ذلک دحاہا میں آسمان کی تخلیق پہلے اور زمین کی تخلیق پیچھے ذکر کی ہے لیکن آیت ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین الخ میں آسمان کی تخلیق سے پہلے زمین کو پیدا کرنے کا ذکر کیا ہے اور آیت کان اللّٰہ غفورا رحیما میں لفظ کان بتارہا ہے کہ اللہ غفور رحیم تھا۔ اب نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے جواب میں فرمایا آیت فلاَاَنْسَابَکے مصداق کا حدوث پہلا صور پھونکا جانے کے بعد ہوگا جب کہ صور کی آواز سے سب بےہوش جائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو (اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے پوچھ تاچھ کرے گا۔ (لہٰذا سوال اور عدم سوال میں کوئی تضاد باقی نہیں رہا) رہا مَا کُنَّا مُشرِکِینَاور ولا یکتمون اللّٰہ حدیثا کا تعارض (تو یہ بھی حقیقت میں تعارض نہیں ہے) ۔ جب مشرک اور کافر مسلمانوں کے گناہ معاف ہوتے اور مشرکوں کے جرائم معاف نہ ہوتے دیکھیں گے تو بخشش کی امید میں مشرک ہونے سے انکار کردیں گے پھر اللہ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں بولنے لگیں گے اور ان کے اعمال کو ظاہر کردیں گے اس وقت رسول ﷺ کا فرمان نہ ماننے والے اور رسالت کا انکار کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین میں سما جائیں اور اللہ سے کوئی بات (یعنی اپنا شرک) مخفی نہ رکھ سکیں گے۔ باقی تخلیق زمین و آسمان کے اوّل بعد ہونے کا مسئلہ تو اس کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ نے دو روز میں زمین کو پیدا کیا ‘ پھر دو روز میں سات آسمان پیدا کئے ‘ پھر دو روز میں زمین کو بچھایا اور ہموار کیا۔ اس حساب سے زمین اپنی موجودات سمیت چار روز میں پیدا کی گئی۔ رہا کان اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاتو (اس میں کان بمعنی ماضی نہیں ہے بلکہ بمعنی استمرار ہے) اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے غفورُ رّحیم ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تم کو قرآن پاک میں اشتباہ نہ ہونا چاہئے یہ سب اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاس سے آیا ہوا ہے۔ کذا اخرجہ البخاری وغیرہ۔ حسن نے (آیات کے ظاہری اختلاف کو دور کرنے کے لئے) فرمایا کہ ان آیات میں مختلف مواقع کے واقعات کا اظہار کیا گیا ہے ایک موقع پر وہ بات نہیں کرسکیں گے اور لاَ تَسْمَعُ الاَّ ہَمْسًاا اور سوائے پھس پھس کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔ دوسرے مقام پر وہ بول سکیں گے اور جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے مَا کُنَّا مشرکین ما کنا نَعْمَلْ مِنْ سُوْءٍایک موقع پر وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے فاعترفوا بذنبہم ایک جگہ پر وہ باہم سوال نہیں کریں گے اور دوسرے موقع پر دنیا میں دوبارہ لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے اور سب سے آخری موقع پر ان کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے اور اللہ تعالیٰ سے وہ کوئی بات چھپا نہ سکیں گے ولا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدیثًا۔