Ayah 4:127ویستفتونک فی النسآء . لوگ آپ ﷺ سے عورتوں (کی میراث) کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ استفتاء کا معنی ہے خبر طلب کرنا صحاح میں ہے فتویٰ کا معنی ہے مشکل مسائل کا جواب۔
ابن المنذر نے سعید بن جبیر ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ بالغ مرد بچہ کو وراثت کا مال نہیں دیتا تھا نہ عورت کو کچھ دیتا تھا۔ جب سورة نساء میں میراث کے تفصیلی احکام نازل ہوئے تو لوگوں پر یہ بات سخت شاق گزری اور کہنے لگے کیا بالغ مرد کی طرح بچہ اور عورت بھی وارث ہوگی اور حضور ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر اور عبد بن حمید نے مجاہد کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ کلبی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے اس آیت کا نزوم ام ؓ کمحہ کی لڑکیوں کی اس میراث کے متعلق ہوا تھا جو ان کو باپ کی طرف سے پہنچی تھی۔ اس کا قصہ شروع سورت میں گزر چکا ہے۔
بخاری نے حضرت عائشہ ؓ کا قول اس آیت کے متعلق نقل کیا ہے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا (آیت میں) وہ شخص مراد ہے جو کسی یتیم لڑکی کا ولی اور وارث ہو مگر لڑکی اس کے مال میں (بطور وراثت) شریک ہوگئی ہو اس لئے مرد اس یتمیہ (کو کہیں نکاح کرنے سے) روک دے۔ بغوی نے اس سے زیادہ اتنا اور لکھا ہے کہ یتیمہ بدصورتی کی وجہ سے خود بھی یہ شخص اس سے نکاح نہ کرے اور کسی دوسرے سے بھی نہ کرنے دے کہ کہیں غیر آدمی (اپنی بیوی کی طرف سے) میراث کے مال میں اس کا شریک ہوجائے اس لئے لڑکی کو روکے رکھے یہاں تک کہ اس لڑکی کو موت آجائے اور یہ شخص اس لڑکی کے مال کا بھی وارث ہوجائے۔ اللہ نے اس آیت میں اس کی ممانعت فرما دی۔
دوسری روایت میں حضرت عائشہ ؓ کا قول اس طرح آیا ہے کہ آیت میں وہ یتیمہ مراد ہے جو کسی شخص کی زیر تربیت ہو اور وہ شخص اس یتیمیہ کا ولی ہو اب اگر لڑکی مالدار اور خوبصورت ہو تو اس سے نکاح کا طلب گار ہوجائے مگر اس کو مہر اس کے مہر مثل سے کم دے اور بدصورت یا نادار ہو تو اس سے نکاح نہ کرے۔ (1) [ قاضی اسماعیل نے احکام القرآن میں عبدالملک بن محمد بن حزم کی روایت سے لکھا ہے کہ عمرہ بنت حزم حضرت سعد بن ربیع کی بیوی تھیں۔ سعد جنگ احد میں شہید ہوگئے عمرہ کو اور اپنی لڑکی کو جو عمرہ کے بطن سے تھی چھوڑ گئے لڑکی اپنے باپ کی میراث طلب کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئی اس پر آیت ویستفتونک فی النسائنازل ہوئی۔
بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ آیت ما یتلی علیکم فی الکتاب میں جس کا ذکر ہے وہ وہی ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے وَاِنْ خِفْتُمْ اِلَّا تُقْسِطُوْا فِی الیٰتمٰی فَانِکُحْوا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنْ النِّسَاء الخ۔]
قل اللہ یفتیکم فیہن .(اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ عورتوں کے متعلق تم کو اپنا حکم کھول کر بتاتا ہے۔
ومایتلی علیکم فی الکتب . اس کا عطف لفظ اللہ پر یا یفتیکم کی ضمیر واحد مذکر پر ہے اور فضل کی وجہ ضمیر مستتر پر عطف جائز ہے یعنی اللہ اپنا حکم بیان کر رہا ہے اور عورتوں کے متعلق اللہ کی کتاب یعنی آیت میراث یا آیت وَاٰتُو النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ مِحْلَۃً بھی حکم بیان کر رہی ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جملۂ معترضہ ہو۔ مَا یتلٰیمبتدا اور فِی الکتبخبر ہو یعنی جو حکم تم کو سنایا جا رہا ہے وہ کتاب میں یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فعل محذوف ہو اور ما یتلیاس کا مفعول ہو یعنی جو حکم سنایا جا رہا ہے اس کو اللہ بیان کر رہا ہے۔
فی یتمی النسآء . یتیم عورتوں کے متعلق۔ اس فقرہ کا تعلق یتلی سے ہوگا بشرطیکہ مایتلیکا عطف لفظ اللہ پر مانا جائے یا اس کو فعل محذوف کا مفعول قرار دیا جائے وغیرہ۔
التی لا توتونہن ما کتب لہن . جن کو تم ان کا واجب کردہ حق نہیں دیتے واجب کردہ حق سے مراد ہے میراث اور مہر وغیرہ۔
وترغبون ان تنکحوہن . اور ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو یا ان سے نکاح کرنے سے اعراض کرتے ہو ‘
اوّل ترجمہ پر لفظ فی اور دوسرے ترجمہ پر لفظ عن محذوف ہوگا۔ ابن المنذر نے پہلا قول حسن کا اور دوسرا قول ابن سیرین کا بیان کیا ہے۔ لیکن ابن ابی شیبہ نے دوسرا قول حسن کا بیان کیا ہے۔
والمستضعفین من الولدان . اور کمزور بچوں کے بارے میں۔ اس کا عطف یتامی النسائ پر ہے۔ اہل جاہلیت بچوں کو بھی میراث نہیں دیتے تھے اور ان کا مال خود کھالیتے تھے یعنی وہ آیت جو یتیم بچوں کے بارے میں تم کو سنائی جا رہی ہے وہ بھی کھول کر حکم بیان کر رہی ہے یتیموں کے متعلق آیت یہ ہے واتو الیتامی اموالہم۔
وان تقوموا للیتمی بالقسط . اور اس بارے میں کہ یتیموں کے متعلق انصاف قائم کرو۔ اس کا عطف بھی یتیمی پر ہے یعنی یتیموں کے ساتھ عدل کرنے کا حکم بھی تم کو سنایا جا رہا ہے۔ قسط سے مراد ہے میراث اور مال میں انصاف۔
وما تفعلوا من خیر . اور (عورتوں یا یتیم بچوں کے سلسلہ میں) تم جو بھلائی کرو گے۔
فان اللہ کان بہ علیما . تو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے وہ اس کا ثواب دے گا۔
بخاری ‘ ابوداؤد اور حاکم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ جب حضرت سودہ ؓ زیادہ سن رسیدہ ہوگئیں اور ان کو اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ان کو چھوڑ دیں گے تو انہوں نے حضور ﷺ سے درخواست کی اور عرض کیا کہ میں اپنی باری کا دن عائشہ کو دیتی ہوں اس پر مندرجۂ ذیل آیات کا نزول ہوا۔
Ayah 4:128وان امراۃ خافت من بعلہا نشوزا . اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بد دماغی کا غالب احتمال ہو یعنی علامات و قرائن سے معلوم ہو کہ شوہر اس کو طلاق دے دے گا۔
او اعراضا . یا رخ پھیر لینے کا اندیشہ ہو کہ شوہر اس کے ساتھ نشست برخاست اور گفتگو میں کمی کر دے اور اس کے حقوق ادا نہ کرے اور عورت طلاق نہ چاہتی ہو۔
فلا جناح علیہما ان یصلحا بینہما . تو کوئی جرم نہیں کہ وہ آپس میں (کسی جائز شرط پر) صلح کرلیں۔
مثلاً عورت اپنے کل مہر یا جزء مہر یا لازمی نفقہ یا مقررہ باری سے دست بردار ہوجائے یا شوہر کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے کچھ ہبہ کر دے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اگر شوہر اپنی بی بی سے کہے تیری عمر زیادہ ہوگئی میں کسی جوان خوبصورت عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور باری کی تقسیم میں میں اس کو تجھ پر ترجیح دوں گا اگر تو اس پر رضامند ہے تو میرے پاس رہتی رہ اگر تجھے ناگوار ہو تو میں تجھے طلاق دے دوں گا ایسی حالت میں اگر عورت (اپنی باری کا حق سوخت ہوجانے پر) رضامند ہوجائے تو یہ اس کا احسان ہوگا اس معاملہ میں اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا اور رضامند نہ ہو تو مرد پر لازم ہے کہ یا تو اس کے مصارف اور باری کا حق پورا ادا کرے ورنہ حسن سلوک کے ساتھ آزاد کر دے اگر اس کو نکاح میں رہنے دے گا اور اس کا حق ادا کرتا رہے گا (خواہ) بکراہت خاطر ہی ہو تو اس کو محسن (حسن سلوک کرنے والا) کہا جائے گا (گویا اوّل صورت میں عورت اپنے حق سے دست بردار ہونے کی وجہ سے محسن قرار پائی اور دوسری صورت میں مرد نے اپنے حق طلاق کا استعمال نہیں کیا تو محسن قرار پایا)
مقاتل بن حبان نے کہا کہ اگر کوئی بوڑھی عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو پھر کسی جوان عورت سے مرد نکاح کرلے اور بوڑھی عورت سے کہے میں تجھے اتنا مال دوں گا بشرطیکہ تو اپنے حق کی باری میں کمی کر دے اور دوسری عورت کو اپنی باری دے دے اور بوڑھی عورت رضامند ہوجائے تو بہتر اور اگر راضی نہ ہو تو مرد پر دونوں میں مساوات رکھنی لازم ہے۔ حضرت علی ؓ نے اسی آیت کے ذیل میں فرمایا اگر کوئی عورت کسی کے نکاح میں ہو لیکن بدصورتی یا زیادتی عمر کے سبب مرد کی نظر میں نہ جچے اور عورت اس مرد سے جدا ہونا بھی پسند نہ کرے اور (نکاح میں قائم رہنے کے لئے) مرد کو کچھ مال دے دے تو یہ مال اس شخص کے لئے حلال ہے اور اگر اپنی باریوں میں سے کوئی باری دے دے تب بھی درست ہے۔
آیت میں لفظ بَیْنَہُمَاسے اس طرف اشارہ ہے کہ بغیر کسی تیسرے کے دخل دیئے میاں بی بی کو خود ہی باہم صلح کر لینی مناسب ہے تاکہ ان کے آپس کی کوئی بری بات تیسرے آدمی کو معلوم نہ ہو۔
صلحا . یہ مفعول مطلق ہے اور بَیْنَہُمَامفعول بہ ہے یا مفعول بہ محذوف ہے۔
ایک شبہ : صلحاً کو اگر اِصْلاَحًایا مُصَالَحۃً کے معنی میں لیا جائے تو مفعول مطلق ہو سکے گا ورنہ نہیں ہوگا (اور یہاں ثلاثی مجرد ‘ ثلاثی مزید کے معنی میں نہیں ہے)
ازالہ : صلح بھی ایک طرح کی اصلاح ہے اس لئے اس کا مفعول مطلق ہونا صحیح ہے اس کے علاوہ یہ کہ مفعول مطلق ہونے کے لئے مادہ کا اتحاد کافی ہے۔ مصدر میں اختلاف ہو تو کوئی ہرج نہیں جیسے اَنْبَتَہُ اللّٰہُ نَباتًا (فعل باب افعال سے ہے اور نباتاً ثلاثی مجرد ہے)
آیت سے بطور دلالت النص یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر مرد کو عورت کی سرکشی کا اندیشہ ہو پھر دونوں مل کر صلح کرلیں تو کوئی ہرج نہیں (صلح ہی بہتر ہے) یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مسئلہ آئندہ آیت کے تحت سمجھ لیا جائے۔
والصلح خیر . اور صلح بہتر ہے جدا ہوجانے سے یا جھگڑا کرنے سے یا سوء معاشرت سے یا (خیرکا صلہ محذوف نہیں ہے اور) یہ معنی ہے کہ صلح ایک طرح کی بھلائی ہے جیسے باہم جھگڑا ایک طرح کی برائی ہے چونکہ لا جناحکا معنی ہے گناہ نہ ہونا اور اس سے خیال ہوتا ہے کہ شاید یہ مکروہ ہے اس خیال کو دور کرنے کے لئے والصلح خیرجملۂ معترضہ کے طور پر فرمایا اس کے علاوہ عورت کا اپنے حق میں کچھ دینا رشوت کی مشابہت رکھتا ہے اس وہم کو دفع کرنے کے لئے بھی والصلح خیر فرمایا۔
یہ آیت اگرچہ میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرنے کے سلسلہ میں خصوصیت سے نازل ہوئی تھی لیکن چونکہ الفاظ عام ہیں لہٰذا صحیح دعوے کے بعد جو بھی مصالحت ہو اس کو حکم آیت شامل ہے۔
اقسام صلح
صلح تین قسم کی ہوتی ہے (1) اقرار کے ساتھ صلح (2) سکوت کے ساتھ صلح (3) انکار حق کے ساتھ صلح۔ چونکہ آیت مطلق ہے اس لئے امام شافعی کے علاوہ باقی اماموں کے نزدیک ہر طرح کی صلح جائز ہے امام شافعی مؤخر الذکر دونوں صورتوں کو ناجائز کہتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے مسلمانوں کے درمیان ہر طرح کی صلح جائز ہے مگر وہ صلح ناجائز ہے جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں مگر اس شرط کے پابند نہیں جو حلال کو حرام کر دے۔ رواہ الحاکم ‘ توضیح دلیل یہ ہے کہ بدل کی رقم دینے والے (یعنی مدعی علیہ) کے لئے حلال تھی (کیونکہ دعویٰ جھوٹا تھا) لینے والے کے لئے حرام تھی (کیونکہ اس کا حق نہ تھا) لیکن صلح کے بعد معاملہ الٹ گیا (مدعی کے لئے حلال ہوگئی اور مدعی علیہ کو دینا پڑگئی) دوسری وجہ یہ ہے کہ مدعی علیہ جھگڑا کاٹنے کے لئے (دعوے کی) رقم دیتا ہے تو یہ دینا رشوت کے مشابہ ہوتا ہے اور (رشوت ناجائز ہے لہٰذا وہ صلح بھی جس سے رشوت کی مشابہت پیدا ہوجائے ناجائز ہے)
تینوں اماموں نے فرمایا یہ حدیث تو ہمارے خلاف نہیں جاتی بلکہ ہمارے مسلک کو ثابت کر رہی ہے کیونکہ حضور ﷺ نے بغیر کسی شرط کے فرمایا کہ ہر صلح جائز ہے رہا استثناء تو اس کا معنی یہ ہے کہ جو صلح کسی قطعی حرام (مثلاً شراب وغیرہ) کو حلال یا کسی قطعی حلال کو حرام بنا دے وہ جائز نہیں ہے مثلاً کوئی شخص اپنی بیوی سے اس شرط پر صلح کرلے کہ اس کی سوکن سے صحبت نہیں کرے گا (سوکن سے صحبت قطعی طور پر حلال ہے اگر بیوی سے صلح اس کی سوکن سے ترک صحبت کی شرط پر کرے گا تو یہ صلح باطل ہوگی) دیکھو اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اور بیوی شوہر سے اس شرط پر صلح کرلے کہ میں اپنی باری سوکن کو دیتی ہوں مجھے طلاق نہ دو تو یہ مصالحت باجماع علماء صحیح ہے باوجودیکہ مصالحت سے پہلے بعض عورتوں کو باری کی تقسیم میں ترجیح دینا حرام تھا مگر مصالحت کی وجہ سے حلال ہوگیا۔
سکوت اور انکار کے بعد (کچھ لینے دینے پر) صلح کرنا جائز ہے کیونکہ مدعی تو اپنے گمان کے مطابق اپنا حق وصول کرے گا اور مدعی علیہ اپنی طرف سے جھگڑا کاٹنے کے لئے دینے پر رضامند ہوجائے گا اور یہ جائز ہے جان بچانے کے لئے مال دینا درست ہے۔ ظلم کو دور کرنے کے لئے رشوت دینا مباح ہے ہاں اگر مدعی اپنا حق ثابت کرنے سے عاجز ہو اور مدعی علیہ واقف ہو کہ مدعی کا دعویٰ صحیح ہے اور اس کے باوجود وہ اقرار نہ کرے بلکہ دعوے کا کچھ حصہ لینے دینے پر مصالحت ہوجائے تو دعوے کا بقیہ حصہ عند اللہ مدعی علیہ کے لئے حلال نہ ہوگا کیونکہ کسی کے حق کو دانستہ ہضم کر جانا جائز نہیں۔ ہاں اگر دعوے کی صحت سے واقف نہ ہو اور (کچھ دینے لینے پر) مصالحت کرلے تو تینوں اماموں کے نزدیک جائز اور امام شافعی (رح) کے نزدیک ناجائز ہے۔
مسئلہ : اقرار دعویٰ کے بعد اگر مصالحت ہوجائے تو اگر مالی دعویٰ ہو اور اس کے عوض کچھ مال دینے کی شرط پر مصالحت ہوجائے تو اس کو بیع سمجھا جائے گا (جس مال کا دعویٰ ہے اور مدعی علیہ اس کا مقیر ہے وہ ثمن اور جو مال دعویٰ والے مال کے عوض دینا قرار پایا ہو وہ مبیع قرار پائے گا) لہٰذا اس میں شفعہ کا قانون جاری ہوگا۔ خیار عیب خیار شرط اور خیار رویت بھی ہوگا۔ مال بدل اگر مجہول ہو تو عقد صلح فاسد ہوجائے گا لیکن اگر وہ مال مجہول ہو جس کا دعویٰ تھا تو عقد صلح فاسد نہ ہوگا کیونکہ اس کو ساقط ہونا ہی ہے وصول ہونا نہیں ہے (اور ساقط ہونے والے حق کی جہالت مضر نہیں نہ باعث نزاع بن سکتی ہے) یہ ضروری ہے کہ مدعی علیہ کو مال بدل ادا کرنے پر قدرت ہو۔
اگر مال کا دعویٰ ہو اور اس کے عوض (مدعی کا) کچھ کام کرنا طے ہوجائے تو اس کا قیاس عقد اجارہ پر ہوگا (یعنی اس کو اجارہ مانا جائے اور جس طرح اجارہ میں کام کے وقت کی تعیین ضروری ہے اسی طرح) اس میں وقت کی تعیین ضروری ہے اور اگر مدت مصالحت کے اندر مدعی مدعیٰ علیہ میں سے کوئی مرجائے تو عقد مصالحت باطل ہوجاتی ہے۔
مسئلہ : سکوت و انکار کی صورت میں مصالحت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مدعی علیہ قسم کھانے سے بچ جائے گا۔ (مصالحت نہ ہوتی تو مدعا علیہ پر قسم عائد ہوتی کیونکہ منکر پر قسم عائد ہوتی ہے) اور مدعی کو اپنے حق کا معاوضہ مل جائے گا لہٰذا مدعی نے اگر کسی گھر کے متعلق دعویٰ کیا اور کچھ دے کر مدعی علیہ نے مصالحت کرلی تو اس مکان میں شفعہ واجب نہیں لیکن اگر دعوی کے عوض مدعی علیہ نے مکان دے دیا تو اس مکان میں شفعہ واجب ہے۔
مسئلہ : اگر کسی نے مکان کا دعویٰ کیا اور مکان کا ایک ٹکڑا مدعی علیہ نے دے کر صلح کرلی تو یہ صلح صحیح نہ ہوگی کیونکہ جتنا حصہ مدعی نے حاصل کرلیا وہ اس کے دعوے کا ایک جز ہے اس لئے باقی حصہ میں اس کا دعویٰ قائم رہے گا ہاں اگر مدعی علیہ نے بدل صلح میں ایک درہم بڑھا دیا یا یہ صراحت ہوگئی کہ مدعی باقی دعوے سے دست بردار ہوجائے تو صلح صحیح ہے اور باقی حصہ میں مدعی کا دعویٰ قائم نہیں رہے گا۔
مسئلہ : قتل عمد و خطا میں (مالی) مصالحت جائز ہے کیونکہ یہ بھی انسانی حقوق میں سے ایک حق ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ اَخْیِہِ شَئٌ فَاتّتاعٌ بالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ باحْسَانٍ ۔
مرد اگر کسی عورت پر نکاح کا دعویٰ کرے اور کچھ مال لے کر دست بردار ہوجائے تو جائز ہے گویا یہ خلع ہوجائے گا۔ اگر کسی پر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ تو میرا غلام ہے اور وہ کچھ مال دے کر مصالحت کرلے تو جائز ہے گویا یہ مال کے عوض آزادی ہوجائے گی۔
مسئلہ : اگر کسی پر قرض کا دعویٰ ہو اور مدعی علیہ کچھ دے کر مصالحت کرلے تو صحیح ہے گویا یہ صورت اس طرح ہوجائے گی کہ مدعی نے اپنا کچھ قرض وصول کرلیا اور باقی معاف کردیا پس اگر کھرے ہزار روپیہ کا دعویٰ ہو اور کھوٹے پانچ سو روپے پر صلح کرلی جائے تو یہ صلح درست ہوگی اور یوں سمجھا جائے گا کہ مدعی نے اپنے کھرے روپیہ کے حق کو معاف کردیا اور تعداد میں بھی کمی کردی اور نقد کی جگہ ادائیگی کے لئے مہلت دے دی۔
لیکن اگر کھوٹے ہزار روپیہ کا دعویٰ ہو تو پانچ سو کھرے روپیہ کی ادائیگی پر صلح کرنا جائز نہیں (خواہ ادائیگی نقد ہو یا تاخیر کے ساتھ) کیونکہ حق تو کھوٹے روپے کا تھا اور مصالحت کھرے روپے کی شرط پر ہوئی تو کھوٹے ہزار روپے کا معاوضہ کھرے پانچ سو سے ہوگیا یہ سود ہے۔
لیکن اگر دراہم (نقرئی) کا دعویٰ ہو اور (سونے کے) کچھ دینار پر مصالحت ہوجائے تو چونکہ یہ بیع ‘ صَرف ہوگئی اس لئے اشرفیوں پر فوراً مجلس مصالحت کو چھوڑنے سے پہلے مدعی کا قبضہ ضروری ہے۔
سعید بن منصور نے سعید بن مسیب کا بیان نقل کیا ہے کہ محمد ﷺ بن مسلمہ کی بیٹی رافع ؓ بن خدیج کے عقد میں تھی۔ رافع ؓ کو بیوی کی کوئی بات پسند نہ آئی معلوم نہیں وجہ ناپسندیدگی بیوی کی پیرانہ سالی تھی یا کچھ اور۔ بہرحال رافع ؓ نے بیوی کو طلاق دینی چاہی ‘ بیوی نے کہا مجھے طلاق نہ دو اور میری باری کا تم کو اختیار ہے جو اور جتنی چاہو میرے لئے مقرر کر دو اس پر اللہ نے آیت وان امراۃ خافت الخ نازل فرمائی۔ حاکم نے سعید بن مسیب کی ہی روایت سے حسب بیان حضرت رافع ؓ بن خدیج مذکورہ بیان کے کچھ تائیدی شواہد بھی نقل کئے ہیں جو متصل ہیں (موقوف نہیں ہیں)
بغوی نے لکھا ہے کہ عمرہ کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ خویلہ بنت محمد بن مسلمہ اور ان کے شوہر اسعد ؓ بن ربیع کے حق میں اس کا نزول ہوا۔ یا حضرت رافع ؓ بن خدیج کے حق میں ہوا ‘ جنہوں نے بنت محمد ؓ سے نکاح کیا تھا اس وقت خویلہ جوان تھیں لیکن جب پیری آگئی تو رافع نے کسی دوسری بیوی کو ان پر ترجیح دی اور ان سے الگ ہوگئے بنت محمد بن مسلمہ نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اس بات کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حاکم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ آیت والصلح خیر اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جس کے نکاح میں ایک عورت تھی اور اس سے اس کے بچے بھی تھے لیکن اس شخص نے اس کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہا۔ عورت نے اس کی رضامندی کے لئے کہا تم مجھے اپنے پاس رہنے دو اور مجھے اپنی باری کی ضرورت نہیں۔ بغوی نے سعید بن جبیر ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ ایک شخص تھا جس کی بیوی بوڑھی ہوگئی تھی۔ اس شخص کی اس بیوی سے بچے بھی تھے۔ مرد نے اس کو طلاق دے کر کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہا عورت نے کہا مجھے طلاق نہ دو ۔ اپنے بچوں پر مجھے رہنے دو اور اگر چاہو تو دو ماہ میں میرے لئے ایک باری مقرر کر دو نہ چاہو تو یہ بھی نہ کرو۔ مرد نے جواب دیا اگر تو اس پر رضامند ہے تو مجھے بھی یہ صورت پسند ہے۔ پھر وہ شخص رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ عرض کیا اس پر آیت وَاِنِ اَمَرأَۃٌ خَافَتْنازل ہوئی۔
ابن جریر ؓ نے سعید بن جبیر ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت فَاِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًانازل ہوئی تو اس عورت نے کہا میں چاہتی ہوں کہ میرے حصّہ کے مصارف تم ضرور مقرر کر دو حالانکہ یہ عورت پہلے اپنے مصارف چھوڑنے پر راضی ہوگئی تھی اور اس نے یہ کہہ دیا تھا کہ تم مجھے طلاق نہ دو (چاہے) میرے پاس بھی نہ آؤ۔ اس وقت آیت ذیل نازل ہوئی۔
واحضرت الانفس الشح . اور انسانی طبائع سے حرص غائب نہیں ہوتی۔
یعنی کنجوسی نفس انسانی کے سامنے ہر وقت رہتی ہے کبھی غائب نہیں ہوتی آدمی کی طبیعت کے خمیر میں ہی کنجوسی داخل ہے۔ شحکا معنی ہے حرص آمیز کنجوسی۔ صحاح و قاموس۔ یعنی اکثر حالات میں کسی سے کنجوسی دور نہیں ہوتی نہ عورت کو گوارا ہوتا ہے کہ مرد اس کی طرف سے منہ پھیر لے اور اس کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کرے نہ مرد کو گوارا ہوتا ہے کہ عورت کو (ہر حالت میں) اپنے پاس رکھے اور اس کے حقوق ادا کرتا رہے۔ یہ جملہ بھی معترضہ ہے پہلا جملہ صلح کی ترغیب کے لئے تھا اور یہ جملہ اپنے حق پر اڑے رہنے کی توجیہ کی تمہید کو ظاہر کر رہا ہے۔
وان تحسنوا . اور اگر تم آپس کی معاشرت اچھی رکھو گے یعنی مرد عورت کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے گا اور خواہ دل نہ چاہے مگر بیوی کے ساتھ انصاف قائم رکھے گا اور بیوی شوہر کے حقوق ادا کرتی رہے گی خواہ اس کو ناگوار ہو۔
وتتقوا . اور بچتے رہو گے یعنی نشوز اور اعراض اور حق تلفی سے بچتے رہو گے۔
فان اللہ کان بما تعملون خبیرا . تو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بخوبی باخبر ہے خواہ دوسرے کے ساتھ بھلائی کرو یا برائی وہ اس کا بدلہ تم کو دے گا۔ اللہ کا علم جزاء اعمال کا سبب ہے بجائے جزا و سزا کے علم کا ذکر تو کردیا جیسے سبب کو مسبب کے قائم مقام ذکر کردیا جاتا ہے۔
Ayah 4:129ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء . اور (لوگو) تم عورتوں میں (ہر طرح کی) برابری نہیں کرسکتے۔
یعنی جس بیوی سے قلبی محبت ہے اس کی طرف دل کا جھکاؤ نہ ہونا ناممکن ہے۔ کامل برابری تو یہ ہے کہ مصارف ذمہ داری۔ التفات نظر ‘ معاملات ‘ گفتگو ‘ دل لگی ‘ طبیعت کے جھکاؤ (اور صنفی قربت) وغیرہ میں برابری ہو (اور یہ ناممکن ہے اسی لئے) رسول اللہ ﷺ تقسیم میں تو سب عورتوں کے ساتھ برابری کرتے تھے اور پھر دعا کرتے تھے اے اللہ میرے بس میں جو کچھ ہے اس میں میری طرف سے یہ (برابری کی) تقسیم ہے لیکن جو بات میرے قبضہ میں نہیں صرف تیرے اختیار میں ہے اس میں (برابری نہ ہونے پر) تو میری پکڑ نہ کرنا۔ یعنی محبت میں (برابری نہ ہونے پر مواخذہ نہ کرنا کیونکہ دل کا جھکاؤ تیرے اختیار میں ہے میرے قبضہ میں نہیں ہے) امام احمد اور چاروں اصحاب صحاح اور ابن حبان اور حاکم نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اور اصحاب سنن اربعہ اور دارمی نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے۔
ولو حرصتم . اگرچہ تم کتنی ہی اس کی خواہش کرو۔
فلا تمیلوا کل المیل . پھر بھی (اپنے عمل کو دلی رغبت کے تابع نہ بنا دینا اور) کامل طور پر جھک نہ جانا کہ جس کی طرف رغبت نہ ہو اس پر مصارف اور باری کی تقسیم میں ظلم کرو۔
فتذوروہا کالمعلقۃ . اور اس کو ادھر میں لٹکی ہوئی کی طرح چھوڑ دو کہ وہ نہ رانڈ رہے نہ سہاگن۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی دو عورتیں ہوں اور وہ ایک کی طرف مڑ جائے (اور دوسری سے منہ پھیر لے) قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ٹیڑھا ہوگا۔ رواہ اصحاب السنن الاربعۃ والدارمی۔
وان تصلحوا . اور اگر تم (آپس کے بگڑے ہوئے امور کی) اصلاح کرلو گے۔
وتتقوا . اور (آئندہ بگاڑ سے) بچتے رہو گے۔
فان اللہ کان غفورا رحیما تو اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے (پچھلے قصور کو معاف کر دے گا) ۔
Ayah 4:130وان یتفرقا اور اگر دونوں (میاں بی بی طلاق کی وجہ سے) الگ الگ ہوجائیں گے۔
یغن اللہ کلا من سعتہ تو اللہ اپنی قدرت سے دونوں میں سے کسی کو دوسرے کا محتاج نہ رکھے گا۔
عورت کو دوسرا شوہر دے دے گا اور مرد کو دوسری بی بی۔ سَعَۃٌ کا معنی ہے وسعت اور قدرت۔
وکان اللہ واسعا . اور اللہ وسعت والا ہے یعنی اس کی رحمت میں بڑی سمائی ہے وہ سب کچھ کرسکتا ہے
یا وسعت والا ہے مگر اس کی وسعت بےکیف ہے۔ ہر خیر اور ہر وجود اس کی خیر اور اس کے وجود کا پر تو ہے۔
حکیما . حکمت والا ہے یعنی اس کے افعال و احکام پُر حکمت ہیں۔
مسئلہ : سنت رسول اللہ اور اس آیت کا اقتضا ہے کہ تمام بی بیوں کی باری (اور مصارف) کی تقسیم میں برابری رکھنا شوہر پر واجب ہے برابری نہ رکھنے میں اللہ کی نافرمانی ہے قاضی پر بھی واجب ہے کہ جس عورت کی حق تلفی ہو رہی ہو اس کو ڈگری دے۔ لیکن تسویہ اور برابری جماع میں ضروری نہیں کیونکہ جماع بغیر طبعی نشاط کے نہیں ہوتا اور طبعی جوش انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ ہاں شب باشی میں برابری واجب ہے۔
اگر کسی کے نکاح میں ایک آزاد عورت اور ایک باندی ہو تو آزاد عورت کی باریاں دو اور باندی کی باری ایک ہوگی۔ آثار صحابہ ؓ میں یہی آیا ہے ابن ہمام (شارح ہدایہ) نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ و حضرت علی ؓ نے یہی حکم دیا تھا۔ امام احمد (رح) نے حضرت علی ؓ کے فیصلہ سے استدلال کیا ہے۔ ابن حزم نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے کیونکہ اس کے راویوں میں ایک شخص منہال بن عمر اور دوسرا ابن ابی لیلی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں لیکن ابن حزم کی یہ جرح ناقابل اعتبار ہے یہ دونوں راوی ثقہ اور حافظ تھے۔
نئی بی بی بھی پرانی بیبیوں کی طرح باری کی تقسیم میں امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک برابر ہے کیونکہ حدیث مذکور مطلق ہے باقی تین اماموں کے نزدیک نئی بی بی اگر ناکت خدا ہوا تو اس کے پاس پیہم ایک ہفتہ تک رہے اور دوشیزہ نہ ہو تو تین رات مسلسل رہے اس مدت کے بعد سب کی باری برابر کر دے نئی بی بی کے پاس ابتداً جو راتیں گزاری ہوں پرانی بیبیوں کے لئے ان کی تلافی واجب نہیں۔
ابو قلابہ ؓ کی روایت ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا سنت ہے کہ اگر پہلی بی بی پر کسی کنواری سے نکاح کرلے تو اس کے پاس سات رات رہے اور اگر غیر دوشیزہ سے نکاح کیا ہو تو اس کے پاس تین رات رہے پھر سات اور تین راتوں کے بعد باری کی (برابر) تقسیم کرے۔ ابو قلابہ نے یہ روایت بیان کرنے کے بعد کہا اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا تھا۔ متفق علیہ۔
اگر کوئی شخص سفر کو جائے تو امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حالت سفر میں کسی بی بی کو باری کا حق نہیں ہے اس لئے جس کو چاہے ساتھ لے جائے۔ لیکن مستحب یہ ہے کہ قرعہ اندازی کر دے اور جس کا نام نکل آئے اس کو ساتھ لے جائے۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد کے نزدیک بغیر دوسری کی رضامندی یا قرعہ اندازی کے کسی ایک کو ساتھ لے جانا جائز نہیں۔ امام مالک (رح) کے دونوں قول مروی ہیں۔ اب اگر دوسری کی رضامندی یا قرعہ اندازی کے بغیر کسی ایک کو ساتھ لے گیا تو امام شافعی (رح) و امام احمد (رح) کے نزدیک دوسری کے لئے تلافی کرنی واجب ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) تلافی کو واجب نہیں کہتے۔ امام شافعی نے اپنے مسلک کے ثبوت میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت کردہ حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو بیبیوں میں قرعہ ڈالتے جس کا نام نکل آتا اسی کو ساتھ لے جاتے۔ متفق علیہ۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل بیبیوں کا دل رکھنے کے لئے تھا۔ بطور وجوب نہ تھا صرف استحبابی تھا ورنہ حالت سفر میں کسی عورت کا کوئی حق نہیں۔ دیکھو اگر مرد کسی کو بھی ساتھ نہ لے جائے تو باجماع علماء مرد کو اس کا حق ہے لہٰذا کسی ایک کو ساتھ لے جانے کا بھی حق ہے۔ لیکن شافعی کی طرف سے اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ دونوں باتوں میں فرق ہے اگر کسی کو ساتھ نہیں لے جائے گا تو (مرگ انبوہ جشنے دارد) کسی کے دل میں جذبۂ غیرت و حسد کا ابھار نہ ہوگا اور کسی ایک کو لے جائے گا اور دوسری کو چھوڑ جائے گا تو اس کو دکھ ہوگا۔
اگر کسی بی بی نے اپنی باری سوکن کو دے دی ہو تو اس کی باری ساقط ہوجائے گی۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ حضرت سودہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی باری عائشہ ؓ کو دے دی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے دو دن کر دئیے تھے ایک دن خود ان کا اور ایک دن حضرت سودہ والا۔ متفق علیہ۔
جس عورت نے اپنی باری سوکن کو دے دی ہو اس کو اپنی باری لوٹا لینے کا حق ہے کیونکہ جب تک باری کا دن آ نہ جائے اس کا وجوبی حق نہیں پیدا ہوتا اور جب تک وجوب نہ ہو اسقاط کا کوئی معنی نہیں (گویا رجوع کا معنی ہوا عدم سقوط اور عدم سقوط کی بنا عدم وجوب پر ہے اور وجوب وقت سے پہلے نہیں ہوتا لہٰذا رجوع صحیح ہے) بغوی نے سلیمان ؓ بن یسار کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت لا جناح علیہما ان یصلحا بینہما الخ کے ذیل میں فرمایا اگر عورت اپنے بعض مصارف یا باری کو معاف کردینے پر رضامند ہوگئی ہو تو جب تک رضامند رہے جائز ہے اور اگر رضامندی کے بعد پھر انکار کر دے تو اس کا حق اس کو واپس مل جائے گا۔
مسئلہ : مرض کی وجہ سے عورت کی رضامندی کے بغیر اس کی باری ترک کردینا جائز نہیں رضامند ہو تو جائز ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مرض وفات کی حالت میں (روزانہ) فرماتے تھے میں کل کہاں ہوں گا اس سے آپ کی مراد حضرت عائشہ ؓ کی باری معلوم کرنا ہوتی تھی (یہ دیکھ کر بیبیوں نے اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں چناچہ آپ حضرت عائشہ ؓ کے گھر رہنے لگے اور وہیں وفات پائی۔
Ayah 4:131وللہ ما فی السموات وما فی الارض . اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے یعنی سب اسی کی مخلوق ہے اور وہی سب کا مالک ہے۔ اس جملہ میں اللہ کی وسعت وقدرت پر تنبیہ ہے۔
ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم . تم سے پہلے جن کو کتاب دی گئی اور تم کو ہم نے ہدایت کردی ہے۔ الکتب سے جنس کتاب مراد ہے (کوئی آسمانی کتاب ہو یا صحیفہ ہو) اور اہل کتاب سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی اور ان سے پہلے انبیاء کی امتیں۔
ان اتقوا اللہ . کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ تقویٰ سے مراد ہے شرک سے پرہیز رکھنا کیونکہ آگے آیا ہے۔
وان تکفروا . اور اگر تم کفر کرو گے (اللہ کی توحید کا انکار کرو گے)
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تقویٰ سے مراد ہو گناہوں سے بچنا اور کفر سے مراد ہو ناشکری یعنی اللہ کی طاعت نہ کرنا اور اس کے اوامرو نواہی کا پابند نہ ہونا۔ یا تقویٰ سے مراد غیر اللہ کے ساتھ وابستگی سے دل کو محفوظ رکھنا اور کفر سے مراد ہے اللہ کے سوا کسی اور سے دل لگانا۔
فان للہ ما فی السموات وما فی الارض . تو (سمجھ لو کہ) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (تمہارے کفر سے اس کا کوئی نقصان نہ ہوگا) وہ جس طرح چاہے تم کو عذاب دے سکتا ہے اس کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا یا یہ مطلب کہ اگر تم کفرو کرو گے تو اس کو کیا پروا آسمانوں اور زمینوں کے فرشتے اس کے ہیں جو تم سے زیادہ اس کے اطاعت گزار ہیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ تم سے بےنیاز ہے نہ اس کو تمہاری عبادت سے فائدہ نہ تمہارے کفر سے نقصان۔ نفع نقصان تمہارا ہی ہے اس نے اپنی مہربانی سے تم کو بعض اعمال کرنے کا حکم دیا اور بعض کی ممانعت کی ہے۔
وکان اللہ غنیا حمیدا . اور اللہ بےنیاز اور محمود ہے یعنی ساری مخلوق اور اس کی اطاعت کی اس کو ضرورت نہیں اور مخلوق اس کی حمد کرے یا نہ کرے وہ بہرحال محمود ہے آیت فان للہ ما فی السموات کے آخری مطلب کی توضیح اور تاکید اس آیت سے ہو رہی ہے۔
Ayah 4:132وللہ ما فی السموات وما فی الارض . یہ جملہ آئندہ جملہ کے مضمون کی تمہید ہے تیسری مرتبہ ذکر کرنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ اس امر کے قابل اور مستحق ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے۔
وکفی باللہ وکیلا ممکن ہے کہ اس جملہ کا تعلق آیت یعنی اللّٰہ کُلاًّ مِّنْ سَعَتِہٖسے ہو کیونکہ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی کارسازی کا اللہ ذمہ داری ہے اور اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی ذمہ داری کافی ہے۔
Ayah 4:133ان یشایذھبکم . اور اگر وہ (تم کو فنا کرنا) چاہے تو تم کو فنا کر دے۔
ایہا الناس . اے لوگو ! کیونکہ اس کی مشیت تم کو فنا کرنے کے لئے کافی ہے۔
ویات باخرین . اور دوسری قوم کو (تمہاری جگہ) لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ کی اطاعت گزار ہو یا یہ مراد ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اے بنی آدم تم کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔
وکان اللہ علی ذلک قدیرا . اور اللہ اس (فنا کرنے اور پیدا کرنے) پر پوری قدرت رکھتا ہے اس کو کوئی چیز عاجز نہیں کرسکتی۔ اس آیت میں اللہ کے غنی اور قادر ہونے کی تاکید ہے اور جو لوگ کفر اور نافرمانی کرتے ہیں ان کے لئے دھمکی ہے۔
سعید بن منصور اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے دست مبارک حضرت سلمان ؓ کی پشت پر مار کر فرمایا تھا یقیناً وہ لوگ اس کی قوم والے ہوں گے۔ اس حدیث کی روشنی میں اس آیت کا مفہوم ویسا ہی ہوگا جیسے آیت اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ الخ کا۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان منقول ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة جمعہ نازل ہوئی جب آیت وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْاتری تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں حضور ﷺ نے دست مبارک حضرت سلمان ؓ پر رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا (یعنی زمین پر ایمان کا کہیں وجود نہیں رہے گا) تب بھی کچھ لوگ ان (کی قوم) میں کے ایمان کو حاصل کرلیں گے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِل قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لاَیَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْاگر تم منہ پھیر لو گے تو اللہ تمہارے علاوہ کچھ اور لوگوں کو لے آئے گا پھر وہ لوگ تم جیسے (کافر بداعمال) نہ ہوں گے تلاوت فرمائی صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہوں گے حضور ﷺ نے دست مبارک سلمان ؓ کی ران پر مار کر فرمایا یہ اور اس کی قوم والے اگر دین ثریا پر بھی ہوگا تو فارس کے کچھ لوگ اس کو پالیں گے۔ (1) [ شیخ محمد بن یوسف صالحی نے کہا کہ شیخ نے یعنی شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے فرمایا : اس حدیث میں امام ابوحنیفہ اور آپ کے ساتھی مراد ہیں۔ شیخ بن یوسف صالحی نے کہا سیوطی کے اس کوئی میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اہل فارس میں سے کوئی بھی امام ابوحنیفہ (رح) اور آپ (رح) کے ساتھیوں کے علمی درجہ کو نہیں پہنچا اور سلمان فارسی ؓ امام ابوحنیفہ (رح) کے جد اعلیٰ تھے۔ (از مؤلف قد سرہ)] ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ ہی کی روایت سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عجمیوں کا تذکرہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ان پر یا (فرمایا) ان میں سے بعض پر تم سے یا (فرمایا) تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد رکھتا ہوں۔
میں کہتا ہوں شاید ان احادیث میں حضرت شیخ بہاؤ الدین نقشبندی اور آپ جیسے دوسرے مشائخ ماوراء النہر کی طرف اشارہ ہے یہ بزرگ اگرچہ عجمی النسل نہ تھے مگر وطنیت کے اعتبار سے عجمی تھے اکثر حضرات رسول اللہ ﷺ کی آل اور صحابۂ کرام ؓ کی نسل سے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مردہ سنت کو زندہ کیا اور کبھی بدعت کو سئیہ ہو یا حسنہ پسند نہیں کیا۔ مولٰنا جامی نے کیا خوب کہا ہے۔
سکہ کہ دریثرب وبطحازند
نوبت آخر بنجارا زدند !
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ماوراء النہر کے محدثین کرام اور فقہاء عظام کی طرف اشارہ ہو جیسے امام ابو عبداللہ بخاری (رح) وغیرہ۔
Ayah 4:134من کان یرید ثواب الدنیا . جو دنیوی ثواب کا خواستگار ہے (یعنی صرف دنیوی ترقی چاہتا ہے) جیسے دکھاوٹ کیلئے اچھے اعمال کرنے والے اور اقتدار حکومت یا مال کے لئے جہاد کرنے والے۔
فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ . تو (وہ سخت نقصان میں ہے اور طلب میں کوتاہی کر رہا ہے کیونکہ) اللہ ہی کے پاس دنیا اور آخرت کا ثواب ہے۔ لہٰذا دونوں کے لئے دعا کرنی چاہئے اور یوں کہنا چاہئے رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً یا اعلیٰ ثواب کی طلب کرنا چاہئے (اور اعلیٰ ثواب آخرت کا ثواب ہے) کیونکہ جو شخص محض اللہ کے لئے خلوص نیت کے ساتھ جہاد کرتا ہے اس کو دنیا میں مال غنیمت ملتا ہے اور آخرت میں تو ایسی جزا ملے گی کہ دنیوی مال غنیمت اس کے مقابلہ میں نفی سے زائد نہیں ہے۔
وکان اللہ سمیعا بصیرا . اور اللہ بڑا سننے والا اور دیکھنے والا ہے یعنی اللہ لوگوں کی اغراض کو جانتا ہے ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ہجرت مال حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی اس کی ہجرت (اللہ کے لئے نہ ہوگی بلکہ) اسی مقصد کے لئے ہوگی جس کے لئے اس نے وطن کی سکونت چھوڑی ہوگی۔ متفق علیہ من حدیث عمر ؓ بن الخطاب۔ ابن ابی حاتم نے سدی کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو شخص باہمی نزاع لے کر حاضر ہوئے ایک مالدار تھا دوسرا نادار حضور کا جھکاؤ نادار کی طرف تھا کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ یہ نادار تو مالدار پر ظلم کر ہی نہیں سکتا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:135یایہا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط . اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے ہوجاؤ یعنی انصاف قائم کرنے میں انتہائی کوشش کرو اور ہمیشہ انصاف کرنے پر پابند رہو لہٰذا قاضی پر واجب ہے کہ مدعی اور مدعی علیہ دونوں سے مساویانہ سلوک کرے بیٹھنے اور کسی کی طرف متوجہ ہونے میں امتیاز سے کام نہ لے حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قاضی ہونے کی مصیبت میں مبتلا کردیا جائے تو فریقین کی نشست اشارہ اور نظر میں مساوات رکھے کسی ایک پر دوسرے سے زیادہ نہ چیخے (یعنی لب و لہجہ اور آواز میں بھی دونوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے) رواہ اسحاق بن راہویہ فی المسند والدارقطنی۔
شہدآء للہ . اللہ کے لئے گواہی دینے والے ‘ یعنی تم خالص لوجہ اللہ ادائے شہادت کرو۔ (کوئی نفسانی غرض شامل نہ ہو)
ولو علی انفسکم او الوالدین والاقربین . خواہ تمہاری گواہی خود تمہارے خلاف پڑے یا تمہارے ماں باپ اوراقرباء کے خلاف۔ تم شہادت نہ چھپاؤ۔ حق کہو نہ کسی دولت مند کی دولت اداء شہادت سے مانع ہو نہ کسی محتاج کا افلاس موجب رحم۔ کذا اخرج البیہقی وغیرہ عن ابن عباس ؓ ۔
ان یکن غنیا او فقیرا . اگر وہ شخص (جس پر شہادت دی جا رہی ہے) غنی ہو یا محتاج۔ تم شہادت سے نہ رکو۔ کسی مالدار کی دولت یا غریب پر رحم کرنے کی وجہ سے گواہی میں کجی نہ اختیار کرو۔
فاللہ اولی بہما .(تمہاری بہ نسبت) اللہ کا ان دونوں سے تعلق زیادہ ہے (غنی اور فقیر دونوں کو اللہ نے پیدا کیا اور امیر یا غریب بنایا ہے) اگر ان کے فائدے یا نقصان کی شہادت مصلحت کے خلاف ہوتی تو اللہ شہادت کا قانون جاری ہی نہ کرنا۔ فاللہ اولیٰ بہماشہادت کو ترک نہ کرنے کے حکم کی علت ہے (چونکہ اللہ کا تعلق غریب اور امیر دونوں سے زیادہ ہے وہی دونوں کا خالق ‘ رازق رب اور کرتا دھرتا ذمہ دار ہے اور اس نے واقعی شہادت کا حکم دیا ہے اس لئے کسی کو فائدہ پہنچے یا ضرر تم سچی شہادت دو )
ایک شبہ
بِہِمَا : (تثنیہ) کی ضمیر غنی اور فقیر دونوں کی طرف راجع ہے حالانکہ ان دونوں لفظوں کے درمیان (واؤ عاطفہ نہیں بلکہ او (تردیدیہ) ہے دونوں کا مجموعہ مراد نہیں ہوسکتا (اور تثنیہ کی ضمیر واحد کی طرف راجع نہیں ہوسکتی اس لئے واحد کی ضمیر ہونی چاہئے تھی۔
جواب : ضمیر (صرف غنی یا فقیر کی طرف راجع نہیں کہ ضمیر واحد کا ذکر ضروری ہو بلکہ) مذکورہ بالا یعنی جنس غنی و فقیر کی طرف راجع ہے۔ تفتازانی نے لکھا ہے کہ ظاہر کلام یعنی واحد کی ضمیر کو چھوڑ کر تثنیہ کی ضمیر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی اولویت کی تعمیم مقصود ہے اگر واحد کی ضمیر ذکر کی جاتی تو واحد کی طرف راجع ہوتی اور یہ خیال پیدا ہوتا کہ اللہ کی اولویت اسی ایک کے ساتھ مخصوص ہے۔
تفتازانی کے اس قول پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ واحد کی تعیین نہیں ہے کہ اسی واحد کی طرف راجع ہو اور خصوصیت کا خیال پیدا ہو (واحد غیر معین کی طرف ضمیر کو راجع کرنے سے اختصاص کا وہم بھی پیدا نہیں ہوسکتا) رضی نے لکھا ہے اگر دو چیزیں مذکور ہوں اور ایک کا عطف دوسرے پر ہو رہا ہو تو ضمیر کو واحد اور تثنیہ کا لانا جائز ہے جو مراد ہو (ایک یا دو ) ویسی ہی ضمیر لائی جائے گی۔
میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے ضمیر تثنیہ کا مرجع (غنی اور فقیر نہ ہو بلکہ) جس کی طرف سے یا جس کے خلاف شاہد شہادت دی جا رہی ہو وہی دونوں ضمیر کا مرجع ہوں ان دونوں کا ذکر (اگرچہ لفظاً نہیں ہے مگر کلام کا سباق ان پر دلالت کر رہا ہے مطلب یہ ہے کہ ضابطۂ شہادت کے اجراء میں دونوں کی مصلحت ہی مدعی کی بھی اور منکر کی بھی۔ جس کی طرف شہادت دی جائے اس کا مفاد فوری ہوجاتا ہے (اس کو ڈگری مل جاتی ہے) اور مدعی علیہ جس کے خلاف شہادت دی جا رہی ہو آئندہ فائدہ کا مستحق قرار پاتا ہے حقوق العباد سے اس کو سبکدوشی حاصل ہوتی ہے پس اللہ دونوں سے قریبی تعلق رکھنے والا ہے۔
شہداء اللّٰہکا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کی وحدانیت ذات کمال صفات اس کی کتابوں اور پیغمبروں کی صداقت اور احکام کی حقانیت کے گواہ بن جاؤ خواہ اس شہادت سے تمہاری اپنی ذات والدین اوراقارب کو دکھ پہنچ جائے قتل کر دئیے جاؤ یا مال تباہ ہوجائے اور مفلس ہوجاؤ کیونکہ کوئی مالدار ہو یا نادار دونوں کیلئے ان کی جان و مال سے زیادہ اللہ اولی (اور اعلیٰ ) ہے اس لئے جان سے زیادہ اللہ کے احکام قابل لحاظ ہونے چاہئیں۔
فلا تتبعوا الہوی ان تعدلوا . سو تم خواہش نفس کا اتباع نہ کرنا کہیں حق سے ہٹ جاؤ۔ یا یہ مطلب ہے کہ عدل سے مڑ جانا برا ہے اس برائی کو ترک کرنے کے لئے تم خواہشات پر نہ چلو یا یہ مراد ہے کہ تم اپنی خواہش پر نہ چلو تاکہ تم عادل رہو۔
و ان تلووا . اور اگر تم کج بیانی کرو گے یعنی شہادت میں کجی اختیار کرو گے اور سچی شہادت سے زبان پھیر لو گے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تم اپنی شہادت دوسروں کے سپرد کر دو گے (یعنی ادائے شہادت کو دوسروں کا تابع بنا دو گے)
بعض اہل تفسیر نے کہا ہے کہ اس آیت میں حکام کو خطاب ہے یعنی اے حاکمو اگر تم اپنا رخ کسی ایک فریق کی طرف جھکا دو گے (اور صرف مدعی یا مدعی علیہ کی طرف مائل ہوجاؤ گے)
او تعرضوا . یا پہلوتہی کرو گے یعنی شہادت حق یا حکومت منصفانہ سے روگردانی کرو گے۔
فان اللہ کان بما تعملون خبیرا تو بلاشبہ اللہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے یعنی تم کو سزا دے گا۔
Ayah 4:136یایہا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ اے ایمان والو تم اعتقاد رکھو اللہ اور اس کے رسول پر۔
ایمان کی حقیقت اور تکمیل یہ ہے کہ مؤمن اپنی بصیرت فکر سے پہچان لے کہ اللہ ہی کا وجود اصلی اور حقیقی ہے وہی ہر چیز کا خالق اور نقصان یا نفع پہنچانے والا ہے اس کے علاوہ کسی میں حقیقی اور اصلی کمال و حسن نہیں جو کچھ ہے اسی کا دیا ہوا ہے۔ اس عارفانہ ایمان کے بعد مؤمن کا علمی فکری اور جذباتی تعلق سوائے اللہ کے کسی سے نہیں رہے گا اور اس سے علاقۂ محبت کی وجہ سے اللہ کے اوامرو نواہی کی پابندی اس کی فطرت میں داخل ہوجائے گی آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ آگ میں جھونکے جانے سے بھی زیادہ اس کو ارتکاب گناہ سے نفرت ہوجائے گی۔
بغوی نے ابوالعالیہ اور ایک جماعت علماء کا قول نقل کیا ہے کہ آیت مذکورہ میں اہل ایمان کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے اہل ایمان تم ایمان پر جم جاؤ اور مضبوطی کے ساتھ قائم رہو۔ اس تفسیر کا مغز بھی وہی ہے جو ہم نے بیان کردیا (یعنی اے اہل ایمان ‘ کمال ایمان کا درجہ حاصل کرو اور حقیقی مؤمن بن جاؤ)
ضحاک کے نزدیک یہودو نصاریٰ کو خطاب ہے اور امنوا سے مراد ہیں وہ لوگ جو حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لا چکے ہیں یعنی اے وہ لوگو ! جو موسیٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو مانتے ہو محمد ﷺ اور قرآن پر بھی ایمان لاؤ۔ بعض کے نزدیک مشرکوں کو خطاب ہے یعنی اے وہ لوگو ! جو لات عزیٰ کو مانتے ہو اللہ اور محمد ﷺ اور قرآن پر بھی ایمان لاؤ۔
بعض کے نزدیک منافقوں کو خطاب ہے یعنی اے وہ لوگو جو صرف زبانوں سے ایمان لائے ہو دلوں سے اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کو مانو۔ یہ تمام اقوال کمزور ہیں۔ یٰاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکہہ کر نہ یہودیوں کو خطاب کیا جاتا ہے نہ عیسائیوں کو نہ مشرکوں کو نہ منافقوں کو کیونکہ زبانی ایمان تو مجازی ایمان ہے حقیقت میں ایمان وہی ہے جو دل سے ہو اور مجازی معنی کے مقابلہ میں حقیقی معنی (اگر متعذر نہ ہوں تو) اولیٰ ہوتے ہیں۔
(بغوی نے کلبی کا بیان بروایت ابو صالح لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا یہ قول ثعلبی نے بھی نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول عبداللہ ؓ بن سلام ‘ اسد ؓ بن کعب ‘ اسید ؓ بن کعب ‘ ثعلبہ ؓ بن قیس ‘ عبداللہ ؓ بن سلام کے بھانجے سلام ؓ اور بھتیجے سلمہ ؓ اور یامین بن یامین کے متعلق ہوا تھا۔ ان لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ ہمارا ایمان آپ پر اور آپ کی کتاب پر بھی ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات اور غریر پر بھی ان کے علاوہ ہم کسی کتاب اور پیغمبر کو نہیں مانتے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ تمام حضرات مسلمان ہوگئے۔
والکتب الذی نزل علی رسولہ . اور اس کتاب (یعنی قرآن) پر جو اللہ نے تھوڑی تھوڑی اپنے رسول پر نازل کی ہے۔
والکتب الذی انزل من قبل . اور ان کتابوں پر جو اللہ نے قرآن سے پہلے (بشکل مجموعہ) نازل کی تھیں یعنی تورات ‘ انجیل ‘ زبور اور تمام کتابیں ‘ صحیفے۔
ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر . اور جو شخص نہ مانے اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے پیغمبروں کو اور روز قیامت کو۔ یعنی کسی ایک پیغمبر یا کتاب یا فرشتے کا انکار کر دے۔
فقد ضل ضللا بعیدا . تو بس وہ گمراہی میں بہت دور جا پڑا۔
یعنی مقصد (راہ راست) سے اتنی دور جا پڑا کہ اب صحیح راستہ کی طرف اس کے لوٹنے کی امید نہیں رہی۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک پر ایمان دوسرے پر ایمان لانے سے وابستہ ہے کسی ایک کا انکار گمراہی اور اللہ سے دوری کا موجب ہے اور اگر سب کا انکار ہو تو بدرجۂ اولی کامل گمراہی ہے۔
میں کہتا ہوں بلکہ اللہ کی کسی صفت کا انکار بھی بڑی گمراہی ہے جیسے فرقۂ معتزلہ اللہ کے متکلم ہونے کا انکار کرتا ہے اور بندوں کے افعال کا خالق اللہ کو نہیں مانتا اور یہ بھی اس کا قول ہے کہ اللہ بعض چیزوں کا ارادہ کرتا ہے مگر اس کی مراد پوری نہیں ہوتی۔ اس سے اللہ کی صفات واقعیہ کا انکار لازم آتا ہے۔
بعض اکابر کا قول ہے کہ معتزلہ بندوں کو اپنے افعال کا خالق قرار دیتے ہیں اور بندوں کا خالق اللہ کو مانتے ہیں تو گویا بندوں کے افعال کا خالق اللہ کو مانتے ہیں مگر براہ راست نہیں بلکہ بندوں کے ذریعہ سے۔ اس زمانہ کے عوام کا حال تو معتزلہ سے بھی بدتر ہے وہ افعال کی نسبت اللہ کی طرف کرنے سے سراسر غافل ہیں ان کو تو بادشاہوں یا چوروں کی ذات سے یا زہر و تریاق سے نفع اور ضرر کی وابستگی رہتی ہے اور اسی کے وہ قائل ہیں اس غفلت کو دور کرنے کے لئے صوفیہ کا دامن پکڑنا (اس زمانہ میں) لازم ہے تاکہ بصیرت سے غفلت کا پردہ اٹھ جائے اور اللہ کے سوا تمام مخلوق کا حجاب نظر سے ہٹ جائے۔
Ayah 4:137ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا ثم ازادادوا کفرا . بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر مسلمان ہوئے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔
قتادہ نے کہا آیت میں یہودی مراد ہیں جو موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر گوسالہ پرستی کی وجہ سے کافر ہوگئے پھر (توبہ کر کے) تورات پر ایمان لائے۔ پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کیا پھر محمد ﷺ اور تمام انبیاء کی نبوت کا انکار کر کے کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک تمام اہل کتاب مراد ہیں جو اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور جو کتاب اس پیغمبر پر نازل ہوئی اس کو سچا ماننے کے بعد پھر کفر کرنے لگے یعنی اس کتاب پر عمل چھوڑ دیا پھر محمد ﷺ کا انکار کر کے کفر میں مزید ترقی کی۔
بعض لوگوں نے کہا کہ آیت میں وہ مرتد مراد ہیں جو ایمان لا کر پھرگئے ‘ پھر مسلمان ہوگئے ‘ پھر مرتد ہوگئے پھر مسلمان ہوگئے پھر اسلام سے لوٹ گئے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ایسی توبہ قابل قبول نہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے :
لم یکن اللہ لیغفر لہم ولا لیہدیہم سبیلا . اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ نہ ان کو راستہ دکھائے گا۔ لیکن اجماع علماء ہے کہ مرتد کی (خواہ کتنی ہی مرتبہ مرتد ہوا ہو) توبہ قبول ہے۔ مجاہد نے کہا ثُمَّازَادُوْا کُفْرًاسے مراد ہے مرتے دم تک کافر رہنا۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایسے لوگوں سے کفر چھوڑنا بعید ہے اور کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ جاتا ہے اس لئے ایمان پر ثابت قدم رہنا ناممکن ہے ان کی بصیرت نابینا ہوجاتی ہے اس لئے حق ان کو سجھائی ہی نہیں دیتا۔
مرتدوں کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ آیت میں منافقوں کے عذاب کا بیان ہے۔
Ayah 4:138بشر المنافقین بان لہم عذابا الیما . منافقوں کو خوشخبری سنا دو اس امر کی کہ ان کے لئے ہی بڑی دردناک سزا ہے۔ منافقوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ یا خالص ایمان والوں کے سامنے آکر تو ایمان کا اظہار کرتے تھے اور تنہائی میں جب اپنے سرداروں سے ملتے تھے تو کفر ظاہر کرتے تھے پھر اس منافقت پر جم جانے اور ملک میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش پر اصرار کرنے کی وجہ سے کفر میں بڑھتے چلے جاتے تھے۔
عذاب کی وعید (اور تکلیف رساں خبر) کو بطور استہزاء خوشخبری سے تعبیر فرمایا ہے۔ کذا قال الزجاجبعض علماء نے لکھا ہے کہ جس خبر کو سننے سے چہرہ پر تغیر آجائے اس کو بشارت کہتے ہیں خواہ خوشی کی خبر ہو یا نہ ہو۔
Ayah 4:139الذین یتخذون الکافرین اولیآء من دون المؤمنین . جن کی حالت یہ ہے کہ کافروں کو دوست بناتے ہیں مؤمنوں کو چھوڑ کر۔ یعنی یہودیوں کو اپنا مددگار اور یار غار بناتے ہیں کیونکہ یہودیوں کے طاقتور ہونے کا ان کو خیال ہوتا ہے۔
ایبتغون عند ہم العزۃ . کیا وہ کافروں کے پاس معزز ہونا (اور معزز رہنا) چاہتے ہیں یعنی کافروں کی مدد اور دوستی سے وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف عزت اور قوت کے طلب گار ہیں۔ جملہ سوالیہ انکاریہ ہے (یعنی ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے) یا استہزائیہ یا اظہار تعجب کے لئے ہے۔
فان العزۃ للہ جمیعا . سوا اعزاز تو سارا خدا کے قبضہ میں ہے جس کو اللہ عزت نہ دے وہ عزت نہیں پاسکتا اور عزت اس نے اپنے دوستوں کے لئے لکھ دی ہے وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃَ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔
Ayah 4:140وقد نزل علیکم فی الکتب . اور اللہ قرآن میں یہ فرمان تمہارے پاس بھیج چکا ہے۔
ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربہا ویستہزا بہا فلا تقعدوا معہم کہ جب اللہ کے احکام کے ساتھ استہزاء اور کفر ہوتا ہو اسنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یعنی استہزاء اور کفر آیات کرنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو یکفر اور یستہز دونوں آیات اللہ سے حال ہیں اور ساتھ بیٹھنے کی ممانعت انہی دونوں حالتوں سے وابستہ ہے مطلقاً بیٹھنے کی ممانعت نہیں ہے۔
حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ . جب تک کہ (استہزاء کے علاوہ) وہ کوئی اور بات شروع نہ کریں تو اس وقت کسی ضرورت سے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے اور بلا ضرورت مکروہ ہے۔ حسن کا قول ہے کہ خواہ وہ استہزاء کو چھوڑ کر کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں تب بھی ان کے ساتھ بیٹھنا ناجائز ہے۔ اس آیت میں سورة انعام والی آیت کی طرف اشارہ ہے جو پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھی اور فرما دیا تھا وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِی اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدْیِثٍ غَیْرِہٖضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن تک جتنے بدعتی ہوں گئے سب اسی آیت کے حکم میں داخل ہیں۔
انکم اذا مثلہم . کہ اس حالت میں تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ یعنی اے مسلمانو ! جب تم کافروں اور آیات خداوندی کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ ان کے کفر و استہزاء کی حالت میں بیٹھو گے اور اس پر راضی رہو گے تو انہی جیسے کافر ہوجاؤ گے۔ ہاں اگر زبان سے کلمۂ کفر نہ کہا جائے اور دل سے کفر پر راضی ہو تو منافق ہوجائے گا۔
ان اللہ جامع المنافقین والکفرین فی جہنم جمیعا . یقیناً اللہ منافقوں کو اور کافروں کو سب کو جہنم میں جمع کر دے گا۔ یعنی جو لوگ کافروں کے پاس بیٹھ کر ان کے کفر و استہزاء پر راضی ہوتے ہیں اور جو لوگ قرآن کا مذاق اڑاتے ہیں ان سب کو اللہ جہنم کے اندر جمع کر دے گا جس طرح وہ دنیا میں کفر و ہم نشینی پر جمع تھے۔