Ayah 4:95لا یستوی القاعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر . بلا عذر (قوی جسمانی ہو یا مالی) بیٹھ رہنے والے مسلمان برابر نہیں۔ بخاری ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی اور نسائی نے حضرت زید بن ثابت کی روایت سے اور صرف بخاری نے حضرت براء ؓ بن عازب کی روایت سے اور طبرانی نے حضرت زید ؓ بن ارقم کی روایت سے ابن حبان نے حضرت ابن عاصم کی روایت سے اور صرف ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ کی راویت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت زید بن ثابت سے لکھوا رہے تھے۔ لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجَاہِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ (یعنی شروع میں من المؤمنینکے بعد غیر اولی الضرر کا لفظ نہ تھا) حضور ﷺ : لکھوا ہی رہے تھے کہ حضرت ابن مکتوم ؓ آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر میں جہاد کرسکتا تو ضرور کرتا حضرت ابن ام مکتوم نابینا تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی راویت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن حجش اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ دونوں (آئے اور دونوں) نے کہا ہم تو نابینا ہیں۔ اس پر اللہ نے (آیت مذکورہ اس طرح) نازل کی لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وْالْمُجَاہِدُوْنَحضرت زید ؓ بن ثابت کا بیان ہے جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت حضور : ﷺ کی ران میری ران پر تھی (نزول وحی کا) مجھ پر اتنا بوجھ پڑا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میری ران ٹوٹ نہ جائے اس کے بعد وحی ختم ہوگئی اور موجودہ آیت نازل ہوئی۔
آیت میں غیر اولی الضرر القاعدون کی صفت ہے یا بدل ایسے بیٹھ رہنے والے جو دکھی نہ ہوں یا بیٹھ رہنے والے یعنی جو دکھی نہ ہوں (اوّل ترجمہ صفت کی صورت میں ہوگا اور دوسرا ترجمہ بدل کی صورت میں)
ایک سوال : القاعدون معرفہ ہے اور لفظ غیر نکارت میں اتنا مستغرق ہے کہ اہل علم کے نزدیک معرفہ کی طرف مضاف ہونے کے بعد بھی معرفہ نہیں ہوسکتا پھر معرفہ کی صفت کس طرح ہوسکتا ہے ہاں بدل بن سکتا تھا ‘ معرفہ سے نکرہ بدل ہوسکتا ہے مگر اسی وقت ہوسکتا ہے جب نکرہ خود موصوفہ ہو یعنی اس کی کوئی صفت مذکور ہو جیسے بالناصبۃ کاذبۃ اور یہاں نکرہ موصوفہ نہیں ہے لہٰذا بدل بھی نہیں ہوسکتا۔
جواب : القاعدون اگرچہ معرفہ ہے لیکن حکم نکرہ میں ہے کیونکہ (اس میں الف لام جنسی ہے عہدی نہیں ہے) اس سے کوئی معین قوم مراد نہیں ہے۔
یہ جواب ضعیف ہے کیونکہ معرفہ اگرچہ (بعض وقت) نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے لیکن اس وقت اس کی صفت کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو نکرہ کی صفت بن سکتی ہے۔ صرف جملۂ فعلیہ بفعل مضارع اس معرفہ کی صفت بن سکتا ہے جو نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے جیسے ولقد امر علی اللیئم یسبنی (اس مصرعہ میں کوئی خاص لیئم مراد نہیں اور یسبنی جو جملۂ فعلیہ بفعل مضارع ہے اس کی صفت ہے اور جملہ فعلیہ بجائے خود نکرہ کی صفت ہوسکتا ہے پس اللئیم جو معرفہ ہونے کے باوجود نکرہ کے حکم میں ہے اس کی صفت جملۂ فعلیہ بن گیا) اس لئے صحیح جواب یہ ہے کہ اس جگہ غیر (نکرہ نہیں ہے بلکہ) اضافت کی وجہ سے معرفہ بن گیا ہے کیونکہ غیر اولی الضرر کا معنی ہے ایسا شخص جس کو دکھ نہ ہو (یعنی غیر عام طور پر اضافت کے بعد بھی معرفہ نہیں ہوتا لیکن علماء نے صراحت کی ہے کہ اگر غیر کی اضافت ایسی چیز کی طرف ہو جس کی ایک ہی ضد ہے تو معرفہ ہوجاتا ہے جیسے غیر السکون میں غیر معرفہ ہے کیونکہ سکون کی ایک ہی ضد ہے یعنی حرکت یا جیسے غیر اللیلمعرفہ ہے کیونکہ لیل کی ایک ہی ضد ہے یعنی نہار۔۔
۔۔ اور یہاں بھی اولی الضرر کی ایک ہی ضد ہے یعنی جس کو ضرر نہ ہو ‘ دکھ کی ضد سکھ ہی ہے پس دکھی نہ ہونے کا معنی ہے سکھی ہونا۔ لہٰذا اس جگہ غیر معرفہ ہے۔ جوہری نے صحاح میں لکھا ہے کہ ضُرٌّکا معنی ہے بدحالی خواہ واقعی اور حقیقی ہو ‘ مال فضل اور عفت کی وجہ سے یا بدنی بدحالی ہو کسی عضو ظاہری کے کم ہونے یا ناقص ہونے کی وجہ سے یا صرف ظاہری بدحالی مال یا مرتبہ کے کم ہونے کی وجہ سے۔
قاموس میں ہے ضُرٌّکی طرح ضَرَرٌکا معنی بھی بدحالی ہے اسی لئے نابینا کو ضریر کہتے ہیں (کیونکہ اس کی آنکھیں مفقود ہوجاتی ہیں) میں کہتا ہوں اس جگہ اولی الضرر سے مراد ہیں اپاہج لنگڑے ‘ لولے یا بیمار یا جسمانی طور پر بہت کمزور یا ضعیف النظر یا قلیل المال کیونکہ آگے آیا ہے۔
والمجاہدون فی سبیل اللہ بالموالہم وانفسہم . اور جان مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یعنی اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والے اور جان و مال سے بلاعذر کے جہاد نہ کرنے والے برابر نہیں ہیں۔
جو لوگ اپاہج یا نابینا ہونے یا کسی اور مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یا راہ خدا میں خرچ کرنے کے قابل مال نہ رکھنے کی وجہ سے جہاد نہ کرسکیں لیکن ان کی نیت یہ ہو کہ اگر خدا ان کو قدرت عطا فرما دے گا تو ضرور جہاد کریں گے تو ایسے لوگ کبھی مجاہدوں کے ہم مرتبہ ہوجاتے ہیں۔ بخاری نے حضرت انس ؓ کی روایت سے اور ابن سعد ؓ اور حضرت جابر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا مدینہ کے اندر کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جتنی مسافت تم نے طے کی اور جس وادی کو تم نے قطع کیا وہ (برابر) تمہارے ساتھ رہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا مدینہ میں رہتے ہوئے۔ فرمایا ہاں وہ مدینہ میں ہی رہے ان کو عذر نے روک رکھا تھا۔
مقسم نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا کہ بدر کو نہ جانے والے مسلمان اور بدر کو جانے والے مسلمان برابر نہیں ہیں۔
فضل اللہ المجاہدین باموالہم وانفسہم علی القعدین درجۃ اللہ نے جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو (بغیر عذر کے) بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت عطا فرمائی ہے۔ القاعدین سے مراد وہی لوگ ہیں جو غیر اولی الضرر ہوں کیونکہ (بلاغت کا قاعدہ یہ ہے کہ) معرفہ کو اگر دوبارہ بصورت معرفہ ذکر کیا جائے تو دوسرا بعینہٖ اوّل ہوتا ہے (اور اگر بصورت نکرہ ذکر کیا جائے تو دوسرا اوّل سے غیر ہوتا ہے)
درجۃً کا نصب یا اس بنا پر ہے کہ حرف جر حذف کردیا گیا ہے یعنی ایک درجہ کے ساتھ مجاہدوں کو اللہ نے فضیلت دی ہے۔ یا مفعول مطلق ہے اور ایک بار کا مفہوم ظاہر کر رہا ہے یعنی مجاہدوں کو ایک درجہ فضیلت دی ہے جیسے ضربتہ سوطا میں نے اس کو ایک کوڑا مارا۔ یا حال ہے اور مضاف محذوف ہے۔ یعنی مجاہد درجہ والے ہیں۔ سابق جملہ میں مساوات کی نفی کی گئی تھی اس جملہ نے نفی مساوات کی وضاحت کردی۔
سوال : یہ جملہ کافی تھا اس سے پہلے نفی مساوات کی ضرورت کیا تھی ؟
جواب : نفی مساوات میں اجمالاً تفضیل کا مفہوم آجاتا ہے اس کے بعد تفضیل کی صراحت کردی تاکہ مزید تاکید ہوجائے اور مخاطب کے ذہن میں جم جائے۔
ایک شبہ : کسی قسم کی اطاعت کرنے والا ہو بہرحال یہ بات بالکل کھلی ہوئی ہے کہ طاعت گزار طاعت نہ کرنے والے سے افضل ہوتا ہے پھر مجاہدین کے غیر مجاہدین پر فضیلت رکھنے کا خصوصیت کے ساتھ اظہار کیوں کیا گیا۔
جواب : اس فضیلت خصوصی پر تنبیہ کرنا اور جہاد کی رغبت دلانا مقصود ہے۔ زیادہ صحیح جواب یہ ہے کہ کبھی جہاد نہ کرنے میں انسان فراغت خاطر کے ساتھ یکسوئی میں ایسی طاعت گزاریاں کرتا ہے اور اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے کہ جہاد کی حالت میں نہ وہ طاعت گزاریاں ہوسکتی ہیں نہ اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی۔ اس سے خیال ہوسکتا تھا کہ شاید جہاد سے بیٹھ رہنے والے کو مجاہد پر فضیلت ہوسکتی ہے اس آیت نے اس خیال کو دفع کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وقت واپسی تک مجاہد فی سبیل اللہ کی حالت اس شخص کے مثل ہوتی ہے جو (ہمیشہ دن کو) روزہ رکھے اور (رات بھر) نماز پڑھے اور اللہ کی آیات سے اس پر قنوت طاری ہوجائے۔ متفق علیہ۔
وکلا وعد اللہ الحسنی . اور ہر ایک سے (خواہ مجاہد ہو یا بغیر عذر کے جہاد سے بیٹھ رہنے والا) اللہ نے اچھے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔ یعنی ایمان کی وجہ سے جنت دینے کا۔
اس جملہ میں دلیل ہے اس امر کی کہ جہاد فرض کفایہ ہے (اگر بعض لوگ اس فرض کو ادا کردیں تو سب کے سر سے ساقط ہوجاتا ہے) کیونکہ اگر فرض عین ہوتا تو جہاد سے بلاعذر بیٹھ رہنے والا ثواب کا مستحق نہ ہوتا عذاب کا مستحق ہوتا۔
فصل
علماء کا اجماع ہے کہ کفار اگر اپنے ملک میں (ہی) برقرار ہوں (اور مسلمانوں پر حملہ نہ کر رہے ہوں تب بھی) خلیفہ پر واجب ہے کہ کوئی سال بغیر جہاد کے نہ چھوڑے خواہ خود بھی جہاد میں شریک ہو یا فوجی دستوں کو بھیج دے ورنہ جہاد معطل ہوجائے گا۔ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین نے ترک جہاد بالکل کبھی نہیں کیا۔
اگر مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کے لئے کھڑا ہوجائے جس کی وجہ سے کافروں کا شرع دفع اور اللہ کا بول بالا ہوجائے تو باقی (شریک نہ ہونے والے) لوگوں کے سر سے فرض ساقط ہوجاتا ہے ایسی حالت میں آقا کی اجازت کے بغیر غلام ‘ شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی ‘ قرض خواہ کی اجازت کے بغیر قرض دار ‘ اور ماں باپ کی کی اجازت کے بغیر لڑکا جہاد کو نہیں جاسکتا۔ شریک ہونے والی جماعت جب کافی ہے تو پھر حقوق عباد کو تلف کرنے کی کیا ضرورت ہے اور اگر جہاد کے لئے کوئی بھی کھڑا نہ ہوگا تو سب گنہگار ہوں گے ‘ البتہ عذر والے گنہگار نہ ہوں گے۔
علماء کا اجماع ہے کہ کفار کی ہر بستی اور ہر شہر سے متصل رہنے والے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنے متصل کافروں سے جہاد کریں اگر ان کی جماعت کمزور ہو تو جو مسلمان ان سے قریب رہتے ہوں وہ ان کی مدد کریں اور وہ بھی کافی نہ ہوں تو ان سے متصل رہنے والے کی مدد کریں اسی طرح اقرب فالاقرب کا سلسلہ چلا جائے گا۔ یہی حالت اس وقت ہوگی جب کفار سے متصل رہنے والے مسلمان سست پڑجائیں اور جہاد نہ کریں تو ان سے قریب رہنے والوں پر پھر ان سے قریب رہنے والوں پر پھر اسی ترتیب سے مسلسل۔ زمین کے آخری کنارہ تک مسلمانوں پر جہاد کرنا واجب ہے۔
مسئلہ : علماء کا اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ جب دونوں صفوں کا باہم مقابلہ ہوجائے تو جو مسلمان وہاں موجود ہوں تو ان کا مقابلہ سے منہ پھیر کر بھاگنا جائز نہیں ہاں داؤں کرنے کے لئے یا اپنی جماعت میں آکر شامل ہونے کے لئے مقابلہ سے کنی کاٹنا جائز ہے اور اگر کفار کی تعداد مسلمانوں کے دوگنے سے بھی زائد ہو تو مقابلہ سے بھاگ جانا جائز ہے مگر اس وقت بھی جما رہنا افضل ہے۔
مسئلہ : دوسرے اسباب و آلات کے ساتھ ساتھ جہاد کے لئے راشن اور سواری علاوہ امام مالک کے باقی تینوں اماموں کے نزدیک شرط ہے صرف امام مالک اس شرط کے قائل نہیں۔ اول قول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے غَیْرِ اولِی الضّرر فرمایا اور جس کے پاس کھانا پینا اور سواری نہ ہو وہ اہل ضرر میں سے ہے۔ دوسری آیت میں آیا ہے ولا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَا اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لاَ اَجِدْ مَا اَحْمِلْکُمْ عَلَیْہِاور ان لوگوں پر کہ جب سواری مانگنے آپ کے پاس آئیں تو آپ جواب دے دیں کہ تمہاری سواری کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے (اس آیت میں سواری کے مہیا ہونے کی شرط لگائی ہے)
مسئلہ : علماء کا اتفاق ہے کہ اگر مسلمان کی بستی پر کافر دشمن حملہ کر دے تو اس بستی کے ہر بالغ مرد پر جہاد کو نکلنا فرض عین ہوجاتا ہے (فرض کفایہ نہیں رہتا) آزاد ہو یا غلام ‘ مالدار ہو یا نادار۔ اس وقت جہاد کا حکم نماز روزہ کی طرح ہوجاتا ہے آقا کا غلام پر ‘ قرض خواہ کا قرض دار پر اور ماں باپ کا اولاد پر جو حق ہے اس وقت اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی (اگر آقا غلام کو ‘ قرض خواہ قرضدار کو اور ماں باپ اولاد کو جہاد میں نکلنے سے روکیں تو ان کے احکام کی تعمیل نہیں کی جائے گی جیسے فرض نماز روزہ سے ممانعت ناقابل تعمیل ہوتی ہے) بلکہ امام ابوحنیفہ (رح) نے تو یہاں تک کہا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کو بھی جہاد میں جانا لازم ہے۔ اب اگر بستی والے مقابلہ کے لئے کافی ہوں تو خیر ورنہ برابر کی بستی والوں پر فرض ہوجاتا ہے کہ مدد کریں اور اگر وہ مدد نہ کریں تو پھر ان کے متصل رہنے والوں کو اعانت کرنی چاہئے وغیرہ وغیرہ علی ہذا۔ لیکن معذور لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ ان پر اس حالت میں بھی کوئی فرض جہاد عائد نہیں ہوتا۔
وفضل اللہ المجہدین علی القعدین اجرا عظیما۔ اور اللہ نے مجاہدوں کو ‘ جہاد سے بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم یعنی بہت درجے برتری کے عطا کئے ہیں۔
Ayah 4:96دَرَجٰتٍ : یعنی اپنے قرب اور جنت کے درجات۔
منہ ومغفرۃ ورحمۃ اپنی طرف سے اور مغفرت و رحمت۔
درجاتٍاور مغفرتٍاور رحمۃً تینوں اجراً سے بدل ہیں یعنی جو گناہگار نہ ہو تو اس کے لئے درجات ہیں اور گناہگار کے لئے مغفرت رہی رحمت تو وہ دونوں فرقوں کے لئے عمومی ہے۔ اگر درجاتٍکو مفعول مطلق فَضَّلَکا اور مغفرۃً ورحمۃً کو مفعول مطلق محذوف فعلوں کا اور اجراحال مقدم قرار دیا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ چونکہ ذوالحال نکرہ تھا اس لئے حال کو مقدم کردیا یعنی مجاہدوں کو اللہ نے درجات اور مغفرت اور رحمت سے برتری عطا فرمائی ہے اور یہ انعامات اجر عظیم کی حالت میں ملیں گے۔
جہاد کی ترغیب دینے اور عظمت ظاہر کرنے کے لئے مجاہدوں کی فضیلت کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ اول تو مجاہدین اور غیر مجاہدین کی مساوات نہ ہونے کی صراحت کی گئی جس سے اجمالاً معلوم ہوگیا کہ مجاہدوں کو فضیلت حاصل ہے پھر صراحت کے ساتھ مجاہدوں کی فضیلت کا اظہار کیا مگر اجمالاً اور صرف درجۃ فرمایا آخر میں پھر فضیلت کی صراحت کی اور تفصیل کے ساتھ اجرًا عظیمًا درجاتٍ منہ ومغفرۃً ورحمۃً فرمایا۔
ایک شبہ : پہلے تو صرف درجۃً (یعنی ایک درجہ فضیلت عطا کرنے کا اظہار کیا) اور دوبارہ درجات (بہت درجے فضیلت دینے کی) صراحت فرمائی دونوں میں منافات ہے۔
ازالہ : دونوں میں کوئی منافات نہیں کیونکہ اول صراحت کا مقصد یہ ہے کہ ہر مجاہد کو غیر مجاہد پر برتری عطا کی گئی ہے اور دوسری صراحت کا مقصود یہ ہے کہ مجاہدوں کی جماعت کو غیر مجاہدوں کی جماعت پر درجات کی برتری حاصل ہے۔ ظاہر ہے کہ جماعت کے لئے درجات کا لفظ ہونا چاہئے اور جب فرد کا فرد سے مقابلہ ہوگا تو ایک فرد کا ایک ہی درجہ ہوگا۔
یہ بھی جواب دیا گیا ہے کہ ایک درجہ فضیلت سے مراد ہے دنیوی برتری ‘ مال غنیمت ‘ فتح و نصرت سلطنت اور ذکر خیر اور دنیا کی یہ ساری نعمتیں چونکہ (آخرت کے مقابلہ میں) بےمقدار تھیں اس لئے ان کو ایک درجہ کی فضیلت فرمایا اور آخرت کے فضائل کو درجات سے تعبیر کیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ درجہ سے مراد ہے قرب خداوندی کا درجہ بلند ہونا اور درجات سے مراد ہیں جنت کے اندر مراتب۔
بعض علماء نے کہا کہ کافروں سے جہاد کرنے والوں کے لئے ایک درجہ ہے اور اپنے نفس سے جہاد کرنے والوں کے لئے اللہ اجر عظیم یعنی درجات اور مغفرت اور رحمت عطا فرمائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجاہد یعنی کامل مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے اور مہاجر (یعنی کامل مہاجر) وہ ہے جس نے خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دیا ہو۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن فضالۃ)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلی آیت میں معذوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہ کرنے والے مراد ہیں ان پر مجاہدوں کو ایک درجہ کی فضیلت حاصل ہے۔ اہل عذر کی نیت تو جہاد کی تھی مگر دکھی ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکے اور مجاہدوں کی نیت بھی جہاد کی تھی اور عملاً انہوں نے جہاد کیا بھی لیکن مجاہد ہوں یا معذور غیر مجاہد اللہ نے ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے (مجرم کوئی نہیں۔ البتہ مجاہد کو معذور غیر مجاہد پر ایک درجہ کی برتری حاصل ہے) اور دوسری جگہ قاعدین سے مراد وہ لوگ جو بلاعذر جہاد سے غیر حاضر رہے (گو ایمان کی وجہ سے جنت ان کو بھی مل جائے گی مگر) ان پر مجاہدین کو بدرجات فضیلت حاصل ہے۔ کذا قال مقاتل۔
حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ حضرت ابو سعید ؓ کو یہ سن کر تعجب ہوا اور دوبارہ ارشاد کی درخواست کی۔ حضور ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرما دیا (پھر) فرمایا ایک اور بات بھی ہے جس کی وجہ سے اللہ جنت کے اندر بندہ کے سو درجے بلند فرمائے گا اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنی اونچائی ہوگی جیسے آسمان کی زمین سے ہے۔ حضرت ابو سعید ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا بات ہے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد ‘ اللہ کی راہ میں جہاد۔ رواہ مسلم۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور نماز باقاعدہ ادا کی اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے راہ خدا میں اس نے جہاد کیا ہو یا اپنی جنم بھومی میں بیٹھا رہا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا لوگوں کو ہم یہ خوشخبری نہ سنا دیں۔ فرمایا جنت میں سو درجات ہیں جو اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان۔ جب تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگو یہ اوسط اور اعلیٰ جنت ہے (ہر چیز کا اوسط اعلیٰ ہوتا ہے) اس سے اوپر رحمن کا عرش ہے اور عرش سے ہی جنت کے دریا نکلتے ہیں۔ رواہ البخاری۔
وکان اللہ غفورا رحیما اور اللہ (ان کے گناہوں کو) معاف کرنے والا اور (ان پر) بڑا مہربان ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ مکہ کے باشندوں نے اسلام کا کلمہ تو پڑھ لیا تھا مگر ہجرت نہیں کی تھی ‘ ان میں سے قیس بن فاکہ بن مغیرہ اور قیس بن ولید بن مغیرہ اور ان جیسے دوسرے لوگ بھی تھے۔ جب مشرک بدر کو لڑنے آئے تو وہ مسلمان بھی مشرکوں کے ساتھ آگئے اور کافروں کے ساتھ مارے گئے۔
بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ مسلمان مشرکوں کے ساتھ ان کی تعداد بڑھانے کے لئے ہوگئے تھے اور (مسلم لشکر کا) کوئی تیر ان کے بھی لگ جاتا تھا اور وہ مرجاتا تھا یا تلوار سے مار دیا جاتا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ مشرکوں کی تعداد بڑھانے کے لئے آنے سے یہ معلوم ہوا ‘ وہ لڑتے نہ تھے۔ ابن مندہ نے ان لوگوں کے نام بھی روایت میں ذکر کئے ہیں۔ قیس بن ولید بن مغیرہ ‘ ابوالقیس بن فاکہ بن مغیرہ ‘ ولید بن عتبہ بن ربیعہ ‘ عمرو بن امیہ سفیان ‘ علی بن امیہ بن خلف ‘ ابن مندہ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ بدر کو مکہ سے آئے تھے ‘ جب انہوں نے مسلمانوں کی تعداد کم دیکھی تو ان کے دلوں میں شک پیدا ہوگیا اور بولے ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکہ دے رکھا ہے ‘ آخر یہ لوگ بدر میں مارے گئے۔
میں کہتا ہوں کہ دلوں میں شک پیدا ہوجانے کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ وہ مرتد ہوگئے تھے لیکن قرآنی عبارت ان کے کفر پر دلالت نہیں کرتی۔ ابن ابی حاتم نے بھی یہ قصہ نقل کیا ہے اور حارث بن ربیعہ بن اسود اور عاص بن عتبہ بن حجاج کا نام بھی بیان کیا ہے۔
طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ میں کچھلوگ مسلمان تو ہوگئے تھے مگر جب حضور ﷺ نے ہجرت کی تو وہ ڈر گئے اور ہجرت کرنا ان کو گوارا نہ ہوا۔ ابن جریر اور ابن منذر نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ مکہ کے کچھ باشندے مسلمان تو ہوگئے تھے مگر اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ مشرک ان کو ساتھ لے کر بدر کو گئے ان میں سے کچھ لوگ مارے گئے مسلمانوں نے کہا وہ مسلمان تو تھے مجبور کر کے ان کو لایا گیا تھا۔ لہٰذا ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:97ان الذین توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنے کو گنہگار کر رکھا تھا۔ توفٰی : رُوح قبض کرنا۔ توفیماضی کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور مضارع کا بھی۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ ملائکہ سے مراد ہے تنہا موت کا فرشتہ۔ اللہ نے فرمایا ہے : قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وَکِّلَ بِکُمْعرب کبھی واحد کو صیغۂ جمع سے خطاب کرلیتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ موت کا فرشتہ اور اس کے مددگار کارندے مراد ہیں۔
امام احمد اور نسائی نے حضرت ابوہریر ؓ کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس کے اندر یہ بھی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مؤمن کے مرنے کے وقت ملائکہ رحمت سفید ریشمی پارچہ لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں (اے روح پاک) باہر آ۔ تو اللہ سے خوش اور اللہ تجھ سے خوش۔ چل اللہ کی رحمت اور راحت اور اس مالک کی طرف سے جو (تجھ سے) ناخوش نہیں ہے اور کافر کے مرنے کے وقت عذاب کے فرشتے ٹاٹ کا ایک ٹکڑا لے کر آموجود ہوتے ہیں اور کہتے ہیں (اے ناپاک نفس) تو (آنے والے عذاب یا اللہ سے) ناراض اور تجھ سے خدا ناراض۔ چل نکل اللہ کے عذاب کی طرف۔
حضرت براء بن عازب کی روایت سے امام احمد نے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں مذکور ہے کہ مؤمن بندہ جب دنیا سے جاتا ہے اور آخرت سامنے آتی ہوتی ہے تو سورج کی طرح نورانی سفید چہروں والے فرشتے جنت کا کفن اور خوشبو لے کر اتر کر اس کے پاس آتے ہیں پھر بقدر مسافت نگاہ اس سے فاصلہ پر بیٹھ جاتے ہیں پھر موت کا فرشتہ آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے پاکیزہ نفس نکل کر چل ‘ اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف فوراً روح اس طرح بہتی ہوئی نکل آتی ہے جیسے مشک سے پانی کا قطرہ ‘ موت کا فرشتہ اس کو لے لیتا ہے مگر وہ بیٹھے ہوئے فرشتے ملک الموت کے پاس اس کو لمحہ بھر نہیں چھوڑتے بلکہ فوراً لے کر کفن میں لپیٹ کر خوشبو لگا کر چل دیتے ہیں اور کافر بندہ جب دنیا سے جاتا ہوتا ہے اور آخرت سامنے سے آتی ہوتی ہے تو سیاہ منہ والے کچھ فرشتے ٹاٹ لئے آسمان سے اتر کر اس کے پاس بقدر مسافت نظر بیٹھ جاتے ہیں پھر موت کا فرشتہ آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے ناپاک روح چل نکل اللہ کے غضب کی طرف روح جسم کے اندر ڈرتی (اور بھاگتی) ہے لیکن فرشتہ اس کو پکڑ کر اس طرح کھینچتا ہے جیسے بھیگے ہوئے اون سے آنکڑہ جب موت کا فرشتہ اس کو لے لیتا ہے تو وہ بیٹھنے والے لمحہ بھر اس کے پاس روح کو نہیں چھوڑتے اور فوراً لے کر ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔
ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں نے ان لوگوں کو جو مکہ میں ان کے ساتھیوں میں سے رہ گئے تھے لکھا کہ اب تمہارے لئے (وہاں رہنے میں) کوئی فائدہ نہیں (چلے آؤ) وہ لوگ نکل آئے لیکن پیچھے سے مشرکوں نے آکر ان کو پکڑ لیا اور واپس لے گئے اس پر انہی لوگوں کے متعلق نازل ہوا : فَاِذَا اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعْلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَاب اللّٰہِ (مدینہ کے) مسلمانوں نے پھر ان کو یہ آیت لکھ کر بھیج دی اس وقت مکی مسلمانوں نے فیصلہ کیا ہم (ضرور) نکلیں گے۔ اگر کسی نے ہمارا پیچھا کیا تو ہم اس سے لڑیں گے چناچہ نکل کھڑے ہوئے پیچھے سے مشرک بھی آپہنچے (لڑائی ہوئی) جو بچنے والا تھا بچ گیا اور جو مارا جانے والا تھا مارا گیا اس پر نازل ہوا ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَافُتِنُوْا۔۔
ظالمی انفسہم : ترکیب کلام میں حال ہے اپنی جان پر ظلم کرنے سے مراد ہے فرض ہجرت کو ترک کرنا۔ شرکستان میں رہنا ‘ گناہ کا ارتکاب کرنا اور کافروں کی موافقت کرنا۔
بغوی نے لکھا ہے ہجرت کے بعد بغیر ہجرت کے اسلام قبول نہیں ہوتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد یہ حکم منسوخ کردیا گیا ‘ حضور ﷺ نے فرما دیا فتح مکہ کے بعد ہجرت (کا لازمی حکم) نہیں۔ رواہ احمد و ابو داؤد بسند صحیح عن مجاشع بن مسعود ؓ ۔ ابن جریر نے یہ حدیث ضحاک کی روایت سے لکھی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جو شخص ہجرت کی قدرت رکھتا ہو اس پر کفرستان سے ہجرت کر جانا باجماع علماء محکم فرض ہے اور یہ ہجرت منسوخ نہیں ہے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ جہاں مسلمان اسلامی قوانین قائم کرنے سے عاجز ہوں وہاں سے ہجرت واجب ہے۔ رہا حدیث لاہجرۃ بعد فتح مکہکا جواب تو ظاہر ہے کہ فتح مکہ کے بعد مکہ دارالاسلام ہوگیا تھا۔ اس لئے مکہ سے ہجرت واجب نہیں رہی اور فتح کے بعد جس نے مکہ کی سکونت چھوڑ دی اس کا شمار مہاجرین میں نہیں کیا جاتا نہ مہاجرین کا ثواب اس کو مل سکتا ہے پھر ہجرت کا فرض ہونا بھی اس امر کو نہیں چاہتا کہ غیر مہاجر کا اسلام بھی مقبول نہ ہو اور اس کو مؤمن نہ مانا جائے بلکہ ایسے شخص کو گنہگار کہا جائے گا اور اس سے موالات نہیں کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا مَالَکُمْ مِّنْ وَلاَیَتِہِمْ مِّنْ شَئٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ الاَّ عَلٰی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌجو لوگ ایمان لے آئے اور ہجرت نہ کی تمہاری ان سے کوئی موالات نہیں تاوقتیکہ وہ ہجرت نہ کریں لیکن اگر وہ دین کے سلسلہ میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنی لازم ہے بشرطیکہ یہ مدد ان لوگوں کے خلاف نہ ہو جن سے تمہارا معاہدہ ہے۔
قالوا فیم کنتم . تو وہ ان سے کہتے ہیں تم کس کام میں تھے۔ یعنی فرشتے ان کو ڈانٹ کر کہتے ہیں تم کس حال میں تھے کیا اسلام کی حالت میں تھے جیسا کہ تمہارے اقرار سے معلوم ہو رہا ہے یا کفر کی حالت میں تھے جیسا کہ کافروں کے ساتھ تمہارے مقام اور بلا عذر ان کی موافقت کرنے سے پتہ چل رہا ہے۔
قالوا . فریضہ ہجرت کو ترک کرنے والے مردے کہتے ہیں۔
کنا مستضعفین فی الارض ہم اس زمین میں محض مغلوب تھے یعنی مکہ میں ہم مغلوب تھے ‘ کافروں سے مقابلہ کرنے کی ہم میں طاقت نہ تھی یا یہ مطلب کہ ہم دین کو ظاہر کرنے اور دین کا بول بالا کرنے سے عاجز تھے۔
قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتہاجروا فیہا فرشتے ان سے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ ہجرت کر کے تم وہاں چلے جاتے یعنی جب وہ مردے اپنی کمزوری کا عذر پیش کرتے ہیں تو فرشتے ان کی تکذیب اور تذلیل کے لئے کہتے ہیں کہ کیا خدا کا ملک وسیع نہ تھا کہ تم مکہ کو چھوڑ کر وہاں چلے جاتے۔ مقصد یہ کہ مکہ چھوڑ کر ایسے مقام پر چلے جانے کی تو تم میں طاقت تھی جہاں اسلام کے اظہار ‘ کافروں کی مخالفت اور اعلاء کلمۂ دین کی روک ٹوک نہ تھی جیسے مکہ چھوڑ کر حبشہ اور مدینہ کو جانے والوں نے کیا۔
فاولئک ماوہم جہنم سو ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس جملہ میں فاء تعقیب اور سببیت کے لئے ہے یعنی ترک ہجرت کے سبب اور ترک ہجرت کے نتیجہ میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس جملہ سے غیر مہاجرین کا کافر اور دوامی جہنمی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
وسآءت مصیرا اور جانے کے لئے وہ بری جگہ ہے۔ ثعلبی نے حسین ؓ کی روایت سے مرسل حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین کو لے کر ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف بھاگا خواہ وہ زمین ایک ہی بالشت کے فاصلہ پر ہو (بہرحال اس کو اپنا دینی بچاؤ مقصود ہو) تو جنت اس کے لئے واجب ہوگئی اور اس کے دادا ابراہیم (علیہ السلام) اور اللہ کے نبی محمد ﷺ (جنت میں) اس کے ساتھی ہوں گے۔ بخاری وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہیں جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر۔ فتنوں سے بچنے کے لئے اپنے دین کے ساتھ بھاگ کر چلا جائے۔ مسلم نے عمرو ؓ بن عاص کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اسلام مسلمان ہونے سے پہلے کے جرائم کو ڈھا دیتا ہے بلاشبہ ہجرت ہجرت سے پہلے کے گناہوں (کی عمارت) کو ڈھا دیتی ہے یقیناً حج پہلے کے گناہوں (کی عمارت) کو ڈھا دیتا ہے۔
Ayah 4:98الا المستضعفین من الرجال والنسآء والولدان لیکن جو مرد اور عورتیں اور بچے قادر نہ ہوں۔
یہ استثناء منقطع ہے کیونکہ ہجرت پر قدرت نہ رکھنے والے مرد اور عورتیں اور بچے الذین یا اس کی ضمیر کے تحت داخل ہی نہیں ہیں (وہ غیر معذور ہیں قادر ہیں اور یہ معذور اور عاجز ہیں) یہ لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہی نہیں ہیں ‘ حکم کا وجوب بغیر تعمیل کی قدرت کے کسی پر نہیں ہوتا لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا۔
عاجز مردوں کی مثال ایسی ہے جیسے بہت زیادہ بوڑھا فرتوت بہت بیمار بہت کمزور اپاہج کہ پیدل سفر کر نہیں سکتا اور سواری کی استطاعت نہ ہو یا کوئی عیالدار ہو کہ سب کو لے کر جانے کی استطاعت نہ ہو اور تنہا جانے میں پیچھے اہل و عیال کی تباہی کا خطرہ ہو۔
استثناء میں بچوں کا ذکر صرف کلام میں زور پیدا کرنے اور یہ ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ (ہجرت کا حکم اتنا اہم ہے کہ) بچوں پر بھی لاگو ہے اگر وہ بالغ ہوجائیں اور ہجرت کرسکیں۔ یا بچوں سے مراد ان کے ولی ہیں کیونکہ بچوں کے ولی اگر بچوں کو لے کر منتقل ہوسکتے ہوں تو ان پر مع بچوں کے ہجرت واجب ہے ورنہ ان کو عاجز قرار دیا جائے گا۔ آیت میں غلاموں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ اگر غلام میں ہجرت کی قدرت ہو تو اس پر ہجرت واجب ہے ‘ آقا کا حق اس کے لئے سنگ راہ نہیں ہوسکتا ‘ فرض عینی سے حق عباد مانع نہیں ہے۔
محمد بن اسحاق نے یونس بن بکیر کی روایت میں بیان کیا ہے کہ محاصرۂ طائف کے وقت رسول اللہ ﷺ کے منادی نے ندا دی جو غلام قلعہ سے اتر کر ہمارے پاس آجائے گا وہ آزاد ہے ‘ یہ سن کر قلعہ سے کچھ اوپر دس آدمی نکلے حافظ محمد بن یوسف صالحی شافعی نے سبیل الرشاد میں ان کے نام ذکر کئے ہیں۔
امام احمد (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا غلاموں میں سے جو نکل کر ہمارے پاس آجائے گا وہ آزاد ہے ‘ یہ سن کر غلام نکل آئے جن میں ابوبکرہ بھی تھے ‘ حضور ﷺ نے ان کو آزاد کردیا صحیحین میں عثمان ؓ نہدی کی روایت سے نقل کیا گیا ہے۔ بقول سعد ابو عثمان ؓ نہدی ہی پہلے شخص تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا تھا۔ ابوبکرہ ؓ جو طائف کے قلعہ کی فصیل پر تھے ‘ اتر کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آگئے آپ طائف (کے قلعہ) سے نکل کر آنے والوں میں تئیسویں آدمی تھے۔ یہ بات اہل طائف کو بہت ہی شاق گزری اور غلاموں پر ان کو سخت غصہ آیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو آزاد کردیا اور ایک ایک غلام سپرد کردیا تاکہ اس کی ضروریات کی دیکھ بھال رکھے اور سوار کرلے ‘ آپ ﷺ نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ غلاموں کو قرآن پڑھاؤ اور مسائل اسلام سکھاؤ۔ آخر جب بنی ثقیف مسلمان ہوگئے تو ان کے سردار نے ان آزاد کردہ غلاموں کے بارے میں درخواست کی کہ ان کو دوبارہ غلامی کی طرف لوٹا دیا جائے اور ہم کو دے دیا جائے انہی میں سے حارث ؓ بن کلدہ بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں ‘ اب ان تک رسائی نہیں ہوسکتی۔
لا یستطعیون حیلۃ ولا یہتدون سبیلا کہ نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہیں نہ راستہ سے واقف ہیں۔
حیلہ کا معنی ہے مہارت اچھی نظر اور کام کرنے کی قدرت یعنی ہجرت کرنے کی ان کو قدرت نہیں نہ اسباب ہجرت ان کے پاس ہے اور راستہ سے خود واقف نہیں نہ کوئی راہ نما ملتا ہے۔
Ayah 4:99فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنہم سو ان کے لئے۔ امید ہے کہ اللہ معاف کر دے۔
ایک سوال : معذور دین کی مجبوری ظاہر ہے وہ مکلف نہیں۔ پھر یقین کی جگہ امید کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا اور جب وہ مکلف ہی نہیں تو پھر معافی کی صراحت کیوں فرمائی۔
جواب : امید اور عفو کا لفظ استعمال کرنے پر اس امر پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ ترک ہجرت کا معاملہ اتنا اہم ہے کہ معذور کو بھی بےخطر نہ ہونا چاہئے ‘ موقع کی تاک میں لگا رہے اور ہجرت سے دل کو وابستہ رکھے۔
وکان اللہ عفوا غفورا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں اور میری ماں ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ نے معذور قرار دیا تھا یعنی مستضعفین میں سے تھے اور رسول اللہ : ﷺ ان مستضعفینکے لئے نماز میں دعا کرتے تھے۔
بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عشاء کی نماز کی آخری رکعت میں سمع اللّٰہ لمن حمدہکہنے کے بعد رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے : اَللّٰہُمَّ الْجِ عَیَّاشَ بْنَ اَبِیْ رَبِیْعَۃ۔ اَللّٰہُمَّ الْجِ الْوَلِیْدِ بْنَ الْوَلِیْدِ ۔ اَللّٰہُمَّ الْجِ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ ۔ اَللّٰہُمَّ الْجِ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اَللّٰہُمَّ اشْدُوْ طَأَتَکَ عَلٰی مُضَرَ ۔ اَلّٰلُہَّم اجْعَلْہَا سِنِیْنَ کَسِنِیْ یُوْسُفَاے اللہ عیاش بن ربیعہ کو رہائی عطا کر ‘ اے اللہ ولید ؓ بن ولید کو نجات دے ‘ اے اللہ سلمہ ؓ بن ہشام کو خلاصی دے۔ اے اللہ مغلوب مسلمانوں کو بچا اے اللہ (قبائل) مضر کو سخت پامال کر دے اے اللہ ان کے سالوں کو یوسف کے سالوں کی طرح (قحط) کے بنا دے۔
Ayah 4:100ومن یہاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مرغما کثیرا اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا اس کو زمین پر بہت سے منتقل ہونے کے مقام مل جائیں گے۔ یا جانے کی بہت جگہ مل جائے گی۔
علی ؓ بن ابی طلحہ کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ مراغمًا کا معنی ہے منتقل ہونے کی جگہ جہاں منتقل ہو کر جاسکے ‘ یہ لفظ رغام سے مشتق ہے اور رغام کا معنی ہے مٹی۔
بعض علماء نے کہا مراغما یعنی ایسا راستہ مل جائے گا کہ وہ اپنی قوم کی ناک خاک آلود کر دے مطلب یہ ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف ترک وطن کر کے چلا جائے۔ اس مطلب پر بھی یہ رغام سے مشتق ہوگا اور رغام کا معنی خاک ہوگا۔ مجاہد نے کہا مراغماً یعنی ناگوار امور سے ہٹنے کا مقام ‘ ابوعبیدہ ؓ نے کہا مراغماً یعنی ہجرت کا مقام۔ بولا جاتا ہے راغَمْتُ قَوْمِی میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ قاموس میں ہے مراغمت چھوڑ دینا دور ہوجانا مراغم جانے کی جگہ ‘ بھاگنے کی جگہ ‘ پناہ گاہ حرکت کا مقام۔
وسعۃ اور وسعت یعنی رزق میں معاش میں اور بےخوف و خطر ہوجانے اور دین کو ظاہر کرسکنے کی وجہ سینہ میں کشائش۔
بغوی نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو قبیلہ بنی لیث کے ایک بہت بوڑھے بیمار شخص نے جس کا نام جندع بن ضمرہ تھا اس کو سن کر کہا خدا کی قسم میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جن کا اللہ نے استثناء کردیا ہے ‘ مجھے تدبیر بھی آتی ہے اور میرے پاس اتنا مال بھی ہے کہ میں مدینہ تک بلکہ مدینہ سے بھی دور پہنچ سکتا ہوں بخدا آج رات میں مکہ میں نہیں گزاروں گا۔ مجھے مکہ سے باہر نکال لے چلو چناچہ ایک چارپائی پر ڈال کر لوگ اٹھا کر مکہ سے تنعیم تک لے آئے ‘ تنعیم میں پہنچ کر اس کا پیام موت آگیا تو تالی بجا کر بولا۔ اے اللہ ! یہ تیرے اور تیرے رسول ﷺ کے لئے ہے ‘ میں تجھ سے وہی عہد کرتا ہوں جو تیرے رسول : ﷺ نے تجھ سے کیا ہے ‘ اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا اس کی اطلاع حضور : ﷺ کو پہنچی تو صحابہ ؓ نے کہا اگر وہ مدینہ تک پہنچ جاتا تو اس کا ثواب بالکل پورا اور کامل ہوجاتا۔ مشرک یہ حالت دیکھ کر ہنسنے اور کہنے لگے اس کا مقصد پورا نہ ہوا۔
ابن ابی حاتم اور ابو یعلی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ ضمرہ بن جندب اپنے گھر سے ہجرت کر کے نکلا اور گھروالوں سے کہا مجھے سواری پر بٹھا دو اور شرکستان سے نکال کر رسول اللہ : ﷺ تک پہنچا دو (لوگ لے چلے) مگر وہ راستہ میں ہی مرگیا۔ رسول اللہ : ﷺ تک نہ پہنچ سکا اس پر آیت نازل ہوئی۔
ومن یخرج من بیتہ مہاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ : اور جو شخص اپنے گھر سے اس نیت سے نکل کھڑا ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ : کی طرف (یعنی جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہو) ہجرت کروں گا پھر اس کو موت آپکڑے تب بھی اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہوگیا۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول نے ترک وطن کر کے جہاں جانے کا حکم دیا ہے اگر وہاں جانے کے لئے وہ نکل کھڑا ہوا پھر مقام ہجرت تک پہنچنے سے پہلے اس کو موت آجائے تو اللہ کے ذمے اس کا ثواب واجب ہوگیا۔ وقوع بمعنی وجوب ہے یعنی اللہ کے وعدہ کی وجہ سے اس کا اجر لازم ہوگیا واقع میں تو اللہ پر کوئی چیز واجب نہیں (کیونکہ مخلوق کا اللہ پر کوئی استحقاق نہیں نہ اللہ عاجز ہے کہ اس پر کسی کا حق واجب ہو اور وہ ادا کرنے پر مجبور ہو)
وکان اللہ غفورا رحیما اور اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔
ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ابوضمرہ زرقی ایک نابینا مکہ میں رہتا تھا۔ جب آیت : الا المستضعفین نازل ہوئی تو اس نے کہا حکم مجھے پہنچ گیا اور میں صاحب استطاعت ہوں یہ کہہ کر اس نے رسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کی تیاری کرلی (اور روانہ ہوگیا) تنعیم تک پہنچا تھا کہ موت آپہنچی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر ؓ نے بھی یہ قصہ سعید بن جبیر ؓ اور عکرمہ اور قتادہ اور سدی اور ضحاک وغیرہ کی روایت سے لکھا ہے لیکن مختلف روایات میں نام کا اختلاف ہے۔ کسی میں ضمرہ بن عیص کسی میں عیص بن ضمرہ کسی میں جندب بن ضمرہ جندعی کسی میں ضمری ‘ کسی میں بنی ضمرہ کا ایک شخص کسی میں بنی خزاعہ کا ایک آدمی ‘ کسی میں بنی لیث کا کسی میں بنی کنانہ کا اور کسی میں بنی بکر کا ایک شخص آیا ہے۔
ابن سعد ؓ نے طبقات میں یزید بن عبداللہ بن قسیط کی روایت سے لکھا ہے کہ جندع بن ضمیرہ (ضمری جندعی) مکہ میں تھا اس نے اپنے لڑکوں سے کہا مجھے مکہ سے باہر لے چلو یہاں کی فکر مجھے کھائے جاتی ہے لڑکوں نے کہا کہاں اس نے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا۔ مقصد تھا مدینہ کو ہجرت کرنا۔ لڑکے اس کو لے چلے اضاء ۃ بنی عمارہ میں پہنچے تو اس کا انتقال ہوگیا اور اللہ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن ابی حاتم ‘ ابن مندہ اور باوردی نے ہشام بن عروہ کی روایت سے حضرت زبیر بن عوام کا قول نقل کیا ہے کہ خالد بن ہشام حبشہ کو ہجرت کرنے کے ارادہ سے چل دیئے ‘ راستہ میں سانپ نے کاٹ لیا اور ان کا انتقال ہوگیا۔ انہی کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔
اموی نے مغازی میں عبدالملک بن عمیر کی روایت سے لکھا ہے کہ اکتم بن صیفی کو جب رسول اللہ ﷺ : کی بعثت کی اطلاع ملی تو اس نے خدمت گرامی میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا مگر قوم والوں نے (اس کی کمزوری اور پیری کی وجہ سے) جانے کی اجازت نہیں دی ‘ اکتم نے کہا تو کوئی آدمی ایسا ہونا چاہئے جو میرا پیام ان کو اور ان کا پیام مجھے پہنچا دے۔ اس پر دو آدمیوں نے ذمہ لے لیا اور دونوں نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم اکتم بن صیفی کے قاصد ہیں اکتم نے آپ سے پوچھا ہے کہ آپ کون ہیں ‘ آپ کی کیا حالت ہے اور کیا (تعلیم) آپ لائے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عبداللہ کا بیٹا محمد ﷺ ہوں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر آپ نے آیت اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ۔۔ تلاوت فرمائی قاصد لوٹ کر اکتم کے پاس گئے اور یہ بات کہہ دی۔ اکتم نے کہا ‘ قوم والو وہ اعلیٰ خصائل کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے بازدشت کرتے ہیں ‘ اس معاملہ میں تم سربنجا و دم نہ بنو (یعنی سب سے پہلے ایمان لے آؤ ایسا نہ ہو کہ اور لوگ سبقت کر جائیں اور تم پیچھے رہ جاؤ) یہ کہہ کر اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ کا رخ پکڑ لیا لیکن راستہ میں انتقال ہوگیا۔ اسی کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ یہ روایت مرسل ہے اس کی سند ضعیف ہے۔
ابو حاتم نے کتاب المعمرین میں دو طریقوں سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا اس کا نزول اکتم بن صیفی کے متعلق ہوا تھا۔ لوگوں نے کہا تو لیثی کہاں گیا (یعنی اس آیت کا نزول تو قبیلۂ بنی اللیث کے ایک آدمی کے سلسلہ میں ہوا تھا) فرمایا یہ تو لیثی سے ایک مدت پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ آیت (سبب نزول کے ساتھ) خاص بھی ہے اور (حکم کے اعتبار سے) عام بھی ہے۔
فائدہ : علماء کا قول ہے کہ اگر طلب علم یا حج یا جہاد یا پاکیزہ رزق کی کمائی کے لئے یا ایسے شہر میں جانے کے لئے جہاں طاعت ‘ قناعت اور زہد میں ترقی ہو سکے ہجرت کرے گا اور راستہ میں موت آجائے گی تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہوجائے گا۔
ابن جریر نے حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی روایت سے لکھا ہے کہ بنی نجار کے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سفر پر جاتے ہیں ‘ نماز کس طرح پڑھیں اس پر آیت ذیل کا نزول ہوا۔