4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:66

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

ولو انا کتبنا علیہم اور اگر ہم ان پر فرض کردیتے یعنی اگر ان منافقوں پر جو ایمان کے دعوے دار ہیں اور پھر آپ کے فیصلہ سے ناخوش بھی ہیں ہم فرض کردیتے ہیں۔ علیہم میں ہم کی ضمیر منافقوں کی طرف راجع ہے صحابہ ؓ کی طرف راجع نہیں ہے کیونکہ کلام کی رفتار منافقوں ہی کے متعلق ہے پھر اس کا امکان بھی نہ تھا کہ اگر صحابہ ؓ پر خودکشی فرض کردی جاتی تو وہ تعمیل حکم نہ کرتے اللہ نے تو ان کی تعریف میں فرمایا ہے : کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ ۔ دوسری آیت میں صحابہ ؓ کے متعلق فرمایا ہے : یسارعون فی الخیراتخود رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا تھا : خیر القرن قرنیدوسری حدیث میں ارشاد فرمایا تھا : اِنَّ اللّٰہَ اخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَلِیْ اَصْحَاباً ۔ اس کے علاوہ اگر صحابہ ؓ کی طرف ضمیر کو راجع کیا جائے گا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کی فضیلت اصحاب محمدی پر لازم آئے گی کہ ان کو جب توبہ کا حکم دیا گیا اور خودکشی کا امر ہوا تو انہوں نے تعمیل حکم کی اور صحابہ ؓ کرام ایسے نہیں کہ اگر ان کو خودکشی کا حکم دیا جاتا تو وہ تعمیل کرتے۔ (1) [ یہ فقیر حضرت مؤلف قدس سرہٗ کے اس کلام کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ اگر صرف منافقوں کی طرف ضمیر کو راجع مانا جائے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ خودکشی کا حکم ملنے کے بعد عام منافق تعمیل نہیں کریں گے مگر کچھ منافق ایسے بھی ہوں گے جو حکم کی تعمیل میں خودکشی کرلیں گے استثناء کا یہی تقاضا ہے کہ نفی سے استثناء کے بعد مستثنیٰ میں حکم کا اثبات ضرور ہونا چاہئے۔ مگر یہ مطلب روایت اور آیت دونوں کے خلاف ہے۔ اگر منافق رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں خودکشی کرلیتے تو وہ منافق ہی کیوں ہوتے اور صرف صحابہ ؓ : کو ضمیر کا مرجع قرار دینے سے تنقیص صحابہ ؓ لازم آئے گی جیسا کہ حضرت مؤلف نے صراحت فرمائی ہے اس لئے اس ہیچمدان کی نظر میں ضمیر کے مرجع کو اگر عام قرار دیا جائے تو زیادہ مناسب ہے اور ہر اعتراض سے محفوظ یعنی وہ لوگ جو ایمان کے دعوے دار ہیں خواہ منافق اور جھوٹے ہیں یا سچے اور مخلص اگر ان کو خودکشی کا حکم دے دیا جاتا تو بعض لوگ حکم کی تعمیل کرتے اور باقی نہ کرتے یعنی مخلص مومن اور صحابہ ؓ : حکم کی تعمیل کرتے اور جھوٹے منافق تعمیل نہ کرتے۔ اسلام کا دعویٰ کرنے والے تو سب ہی تھے سچائی اور جھوٹ کی جانچ اس حکم کی تعمیل و عدم تعمیل سے ہوجاتی۔ واللہ اعلم ] ان اقتلوا انفسکم کہ اپنے آپ کو خود قتل کرو۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف رجوع کرنے کے جرم سے توبہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو خود قتل کرو۔ کَتَبْنَا : (ہم نے فرض کیا) کے اندر قول کا معنی ہے اور اس مقولہ کی تفسیر اَنْکے ذریعہ سے کردی گئی ہے یا اَنْمصدری ہے یعنی ہم نے ان کو اپنے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیا جیسا بنی اسرائیل کو گو سالہ پرستی کے جرم کی وجہ سے دیا تھا۔ اواخرجوا من دیارکم یا اپنے دیس سے نکل جاؤ۔ جیسے بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جہاد کے لئے اپنے گھروں سے نکلنے اور شہادت کے لئے اپنے کو پیش کرنے کا حکم اگر ہم ان کو دے دیں۔ ما فعلوہ تو اس کو کوئی نہ کرے گا یعنی فرض کو کوئی ادا نہیں کرے گا یا اپنے نفس کو قتل نہیں کرے گا یابستی سے نہیں نکلے گا۔ الا قلیل منہم مگر ان میں سے تھوڑے شخص۔ یعنی نفاق کے بعد اللہ جن کو اخلاص کی توفیق دے دے گا وہ حکم کی تعمیل کریں گے۔ ابن جریر نے سدی کی روایت سے لکھا ہے کہ جب آیت وَلَوْ اَنَا کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ اَن اِقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اَوِاخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ مَّافَعَلُوْہٗ الاَّ قَلِیْلٌ: نازل ہوئی تو ثابت ؓ بن قیس بن شماس اور ایک یہودی کے درمیان مباحثہ چھڑ گیا یہودی (بطور فخر) کہنے لگا اللہ نے ہم پر خودکشی کو واجب کیا تو ہم نے خود اپنے آپ کو قتل کردیا ثابت ؓ بولے خدا کی قسم اگر اللہ ہم پر بھی خودکشی کو فرض کردیتا تو ہم بھی اپنے کو قتل کردیتے اس پر اللہ نے مندرجۂ ذیل آیت نازل فرمائی۔ ولو انہم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لہم واشد تثبیتا اور اگر یہ لوگ جو کچھ ان کو نصیحت کی جاتی ہے اس پر عمل کیا کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور ایمان کو زیادہ پختہ کرنے والا ہوتا۔ یا ان کے اعمال کے ثواب کو پختہ کرنے والا ہوتا۔ حسن اور مقاتل راوی ہیں کہ اس آیت کے اترنے پر حضرت عمر ؓ حضرت عمار ؓ بن یاسر ‘ حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود اور کچھ دوسرے صحابیوں نے کہا خدا کی قسم اگر اللہ ہم کو ایسا حکم دیتا تو ہم ضرور تعمیل کرتے۔ لیکن الحمدللہ کہ اللہ ہی نے ہم کو محفوظ رکھا۔ اس قول کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو بھی پہنچ گئی تو آپ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ زمین میں گڑے ہوئے پہاڑوں سے بھی زیادہ ایمان ان کے دلوں میں جما ہوا ہے۔
Ayah 4:67

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

واذا اور اس حالت میں اس کا عطف لکان خیرالہم پر ہے یا جدا کلام ہے اور واؤ استیناف کلام کے لئے ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ واذا : میں واو قسم کے لئے ہو یعنی بخدا اس وقت۔ لاتینہم من لدنا ہم خاص اپنی طرف سے عطا فرماتے یعنی اعمال کی جزا سے زیادہ محض اپنی مہربانی سے ان کو دیتے۔ اجرا عظیما بڑا ثواب۔
Ayah 4:68

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور سیدھا رستہ بھی دکھاتے

ولہدینہم صراطا مستقیما اور ہم ان کو ضرور سیدھا راستہ بتا دیتے جس پر چل کر وہ بارگاہ قدس تک پہنچ جاتے۔ طبرانی نے قابل قبول سند سے اور ابو نعیم و ضیاء نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے اپنی جان اور اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آجاتی ہے تو جب تک حاضر ہو کر شرف زیارت حاصل نہ کرلوں قرار نہیں آتا لیکن جب مجھے اپنی اور آپ ﷺ کی موت کا تصور ہوتا ہے تو جانتا ہوں کہ (مرنے کے بعد یہ شرف زیارت حاصل نہ ہو سکے گا کیونکہ) آپ جنت میں انبیاء کے ساتھ اونچے درجہ میں ہوں گے اور میں اگر جنت میں پہنچ بھی گیا تو اندیشہ ہے کہ آپ ﷺ : کو نہ دیکھ سکوں گا۔ حضور ﷺ نے یہ کلام سن کر کوئی جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جبرئیل ( علیہ السلام) آیت ذیل لے کر آئے۔
Ayah 4:69

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

ومن یطع اللہ والرسول اور جو لوگ اللہ اور رسول کے حکم پر چلیں گے یعنی اللہ کے فرائض ادا کریں گے اور رسول ﷺ کی سنت کی پیروی کریں گے۔ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبین والصدیقین والشہداء والصلحین تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ اپنے انعام سے سرفراز فرمائے گا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہداء اور نیک اعمال لوگ۔ طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ ابن ابی حاتم نے مسروق کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ نے عرض کیا تھا (اب تو تھوڑی دیر کے لئے بھی) آپ سے جدا رہنا ہمارے لئے مناسب نہیں کیونکہ وفات کے بعد تو آپ کو اتنے اونچے درجہ پر پہنچا دیا جائے گا۔ ہم آپ ﷺ کو دیکھ نہ سکیں گے۔ ابن جریر نے ربیع کا قول نقل کیا ہے کہ صحابہ ؓ نے کہا ہم کو معلوم ہے کہ جنت کے اندر دوسرے اہل ایمان پر رسول اللہ ﷺ کو بڑی فضیلت حاصل ہوگی۔ پھر جن لوگوں نے حضور ﷺ کا اتباع کیا ہوگا اور آپ پر ایمان لائے ہوں گے اور جنت میں سب جمع ہوں گے تو ایک دوسرے کو کیسے دیکھ سکے گا (کیونکہ سب کے درجات میں فرق ہوگا) اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اوپر کے درجوں والے نیچے والوں کے پاس اتر کر آئیں گے اور جنت کے باغات میں جمع ہو کر اللہ کے انعامات کا تذکرہ کریں گے اور اللہ کی ثناء کریں گے۔ مسلم۔ ابو داؤد اور نسائی نے لکھا ہے کہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی نے فرمایا میں خدمت گرامی میں حاضر ہوتا تھا اور آپ ﷺ کے وضو اور استنجاء کے لئے پانی کا برتن لے جاتا تھا۔ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا مجھ سے مانگ (کیا مانگتا ہے) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جنت کے اندر حضور ﷺ کے ساتھ رہنے کا خواستگار ہوں ‘ فرمایا یا اس کے علاوہ اور کچھ میں نے عرض کیا بس یہی فرمایا سجدوں کی کثرت سے اپنے معاملہ میں میری مدد کر (یعنی سجدے بہت کیا کرتا کہ اپنی رفاقت کے لئے میں تیری شفاعت کرسکوں) حضرت عکرمہ کی روایت ہے کہ ایک جوان خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ دنیا میں تو ہم کو آپ کی زیارت ہوجاتی ہے مگر قیامت کے دن ہم کو حضور ﷺ کا دیدار نصیب نہ ہوگا کیونکہ آپ اونچے درجات پر ہوں گے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو انشاء اللہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ابن جریر ؓ نے یہ حدیث مرسلاً سعید بن جبیر ‘ مسروق بن ربیع ‘ قتادہ اور سدی کی روایت سے بیان کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ان آیات کا نزول رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ؓ کے متعلق ہوا تھا ثوبان ؓ کو حضور ﷺ سے بڑی محبت تھی ان کو حضور ﷺ کے بغیر قرار ہی نہ آتا تھا ایک روز خدمت گرامی میں حاضر ہوئے تو چہرہ کا رنگ اترا ہوا تھا ‘ غم کے آثار نمودار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثعبان ؓ چہرہ کا رنگ بدلا ہوا کیوں ہے ؟ ثعبان ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی دکھ درد نہیں بس اتنی بات ہے کہ حضور ﷺ : کی زیارت نہیں ہوتی تو جی بالکل اچاٹ ہوجاتا ہے اور جب تک زیارت نہ کرلوں چین نہیں آتا پھر آخرت کا تصور کرتا ہوں تو ڈر لگتا ہے کہ وہاں مجھے آپ کا دیدار ہی نہ ہوگا کیونکہ انبیاء کے ساتھ آپ تو اونچے درجہ پر ہوں گا اور میں اگر جنت میں چلا بھی گیا تو آپ ﷺ کے درجہ سے بہت نیچے مقام پر ہوں گا اور جنت میں داخلہ نہ ملا تو پھر تو کبھی دیدار میسر ہی نہیں آئے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ نے اس آیت میں انعام یافتہ لوگوں کی چار قسمیں بیان کی ہیں اور قرب کے لحاظ سے ان کی ترتیب قائم کی ہے اور سب لوگوں کو (درپردہ) ترغیب دی ہے کہ (مؤخر الذکر تینوں گروہوں میں سے کسی گروہ میں) شامل ہوجائیں (1) انبیاء۔ ان کا مبدأ تعیین (وتشخص) اللہ کی صفات قدسیہ ہیں بغیر حجاب صفات کے یہ دوامی انوار ذاتیہ میں غرق ہوتے ہیں۔ تجلیات ذاتیہ کا ہی دوسرا نام کمالات نبوت ہے بغیر کسی کی وساطت کے یہ گروہ اس مقام پر فائز اور راسخ ہوتا ہے تاکہ دوسرے انسانوں کی تکمیل انسانیت کر کے ان کی استعداد اور صلاحیت کے مطابق اللہ کی منشا و مشیت کے زیر اثر قرب الٰہی کی طرف مختلف لوگوں کو کھینچ کرلے آئے۔ (1) [ یعنی دعوت انبیاء بجائے خود کوئی مستقل اور بالاصالت موجب ہدایت نہیں اور نہ انبیاء کسی کو اپنی مرضی سے قرب الٰہی تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ قرب الٰہی کے مقام پر فائز ہونے کی اصل علت فاعلہ تو اللہ کی مشیت ہے۔ وہی مؤثر اور موجب حقیقی ہے اور علت متاثرہ یا منفعلہ آدمی کی اپنی اپنی فطری صلاحیت ہے جیسی قابلیت سرشت میں ملی ہے اور جیسے مشیت غیبی ہے اسی لحاظ سے پیغمبروں کی دعوت لوگوں کو اللہ کی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوتی ہے۔] یہی گروہ اللہ کے احکام بندوں تک پہنچاتا ہے تاکہ بندوں کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں۔ (2) صدیقوں کا گروہ۔ یہ لوگ انبیاء کے کامل پیرو اور ظاہر باطن ہر طرح سے اتباع انبیاء کرنے والے۔ بڑے سچے۔ کمالات نبوت یعنی تجلیات ذاتیہ میں ڈوبے ہوئے اور بوراثت انبیاء بغیر حجاب صفات کے محض پیغمبروں کا کامل اتباع کرنے کی وجہ سے بحر انوار قدسیہ میں غرق ہوتے ہیں۔ (3) شہداء : یہ گروہ راہ خدا میں اپنی جانیں دے دیتا ہے تاکہ جانی قربانی کے عوض اس کو تجلیات ذاتیہ کا ایک مخصوص حصہ حاصل ہوجائے اور اس پر انوار ذاتیہ کی خصوصی شعاع پڑجائے۔ (4) صالحین : یعنی وہ لوگ جو تمام رذائل اور بری باتوں سے اپنے نفوس کو پاک رکھتے اور ہمیشہ یاد خداوندی میں غرق رہ کر غیر اللہ کے ساتھ وابستگی سے پرہیز رکھتے ہیں اور گناہوں کی کثافت سے اپنے جسم کو بھی آلودہ نہیں کرتے جب فناء ذاتی اور بقاء اللہ کے کمال پر پہنچ جاتے ہیں تو تجلیات ذاتیہ کا کچھ پر تو ان پر پڑجاتا ہے۔ اگرچہ تجلی ذاتی کی یہ پر تو اندازی حجاب صفات کے پیچھے سے ہوتی ہے انہی کو لوگ اولیاء کرام کہتے ہیں۔ (2) [ خلاصہ یہ کہ انبیاء کو بلاواسطہ تجلیات ذاتیہ یعنی کمالات نبوت حاصل ہوتے ہیں اور صدیقوں کو انبیاء کی وساطت سے ان کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے تجلیات ذاتیہ بغیر حجاب صفات کے حاصل ہوتی ہے اور وہ ہر وقت دوامی تجلیات ذاتیہ میں غرق رہتے ہیں اور شہداء کو تجلیات ذاتیہ کا ایک مخصوص حصہ حاصل ہوتا ہے۔ عمومی اور دوامی تجلیات ان پر فائض نہیں ہوتیں بلکہ نورانیت کی ایک مخصوص شعاع ان پر تو انداز ہوتی ہے مگر یہ تجلی بھی ذاتی ہوتی ہے اور عام اولیاء کو ذاتی تجلی کا جو حصہ ملتا ہے وہ صفات کی اوٹ سے ہوتا ہے براہ راست نہیں ہوتا۔] اللہ تعالیٰ نے تمام مؤمنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ اطاعت خدا اور رسول کے تفاوت کے لحاظ سے جنت کے اندر کم و بیش سب کو اپنے دیدار سے سرفراز فرمائے گا۔ یوں تو انبیاء بھی صدیق ہوتے ہیں لیکن اس جگہ صدیقوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مرتبۂ صدیقیت پر فائز ہوں اور نبی نہ ہوں اسی طرح صالحین سے مراد وہ صالحین ہیں جو انبیاء اور صدیقین نہ ہوں اگرچہ تمام انبیاء اور صدیق اہل صلاح ہوتے ہیں۔ گویا صدیق کا لفظ نبی اور غیر نبی دونوں کو شامل ہے اور صالح کا لفظ سب سے عام ہے۔ اسی لئے صدیق اور صالح کا اطلاق انبیاء پر بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے : اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَبِّیًّا اور حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے : وَسَیِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِیًّا مِّنَ الصَّلِحِیْنَ : اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے : وَیُکْلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ کَہْلاً وَّمِنَ الصَّلِحِیْنَ ۔ فائدہ : جب میرے مرشد و امام شہید ہوگئے تو میں تاریخ وفات پر غور کرنے لگا اچانک اللہ کی طرف سے میرے دل پر آیت اُوٰلءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُکا القاء ہوگیا میں نے جو حساب لگایا تو سنہ وفات یعنی 1195 ھ ؁ پورا نکلا والحمد للہ۔ وحسن اولئک رفیقا . اور یہ لوگ بہت اچھے رفیق ہیں یعنی مذکورۂ بالا چاروں اقسام کے لوگوں کی رفاقت اچھی ہے رفیقا : تمییز یا حال ہے چونکہ اس کا اطلاق واحد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے اس لئے حال ہونے میں کوئی قباحت نہیں۔
Ayah 4:70

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

ذلک الفضل من اللہ . یہ مہربانی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یعنی انعام یافتہ لوگوں کے جیسے اعمال نہ ہونے کے باوجوداُن کی رفاقت میسر آجانا اللہ کی مہربانی ہے۔ وکفی باللہ علیما . اور اللہ پورا پورا جاننے والا ہے۔ یعنی اللہ اس رفاقت کے سبب اور انعام یافتہ گروہ کے ساتھ شمول کی وجہ کو خوب جانتا ہے ‘ رفاقت کا اصل سبب محبت ہے محب کے اعمال اگرچہ محبوب کے اعمال کی طرح نہ ہوں مگر محبوب کی محبت محبوب کے ساتھ رفاقت کا سبب ہے اور محبت ایک ایسی چیز ہے جس کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ اعمال لکھنے والے فرشتے بھی واقف نہیں ہوتے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک شخص کو ایک قوم سے محبت ہے مگر (اُس کے ساتھ اس شخص کا شمول نہیں ہوسکتا کیونکہ) وہ (عمل میں) اس قوم کو نہ پہنچ سکا۔ فرمایا آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہوگی۔ احمد۔ بخاری۔ مسلم۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بھی یہ حدیث آئی ہے۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کی گھڑی کب ہوگی۔ فرمایا ارے تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے اس نے عرض کیا میں نے تیاری تو کچھ نہیں کی صرف اللہ اور اللہ کے رسول سے مجھے محبت ہے فرمایا تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہوگی۔ راوی کا بیان ہے ‘ مسلمانوں کو جتنی خوشی یہ الفاظ سن کر ہوئی اتنا خوش اسلام کے بعد میں نے مسلمانوں کو ہوتے نہیں دیکھا۔ صحیح بخاری و مسلم۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذلک : سے اشارہ انعام یافتہ لوگوں کے مرتبہ کی طرف ہوگا یعنی انعام یافتہ لوگوں کے مرتبہ پر ان کا فائز ہونا محض اللہ کی مہربانی سے ہے ان کے عمل کو اس میں دخل نہیں ہے کیونکہ ان مراتب تک پہنچنا عموماً اللہ کے انتخاب سے ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اعمال درست رکھو (مگر) یہ بھی سمجھے رہو کہ کسی کو عمل کی وجہ سے نجات نہیں ملے گی۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کو بھی ‘ فرمایا نہ مجھے۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت و فضل سے ڈھانک لے۔ صحیحین۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو

یا یہا الذین امنوا خذوا حذرکم اے اہل ایمان اپنے بچاؤ کا سامان لے لیا کرو۔ (احتیاط رکھو) حَذَر : اور حذر : دونوں صحیح ہیں جیسے اَثَر اور اِثْر مَثَل : اور مِثْل۔ حذر : بچاؤ کی چیز کو کہتے ہیں جیسے اسلحہ وغیرہ۔ فانفروا ثبات او انفروا جمیعا . پھر (جہاد کو) نکلو متفرق ٹولیاں بنا کر یا نکلو اکٹھے ہو کر جیسی مصلحت ہو۔ ثبات : جمع ہے ثُبَۃٌکی ثُبَۃٌ: منفرد ٹولی۔ اس کی جمع ثُبِین : بھی آتی ہے۔ (1) [ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے انفرو اثبات یعنی دس اور دس سے زائد۔ مجاہد نے کہا چھوٹی ٹولیا۔ (از مفسر)]
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

وان منکم لمن لیبطئن . اور تم میں سے بعضا۔۔ تو وہ ہے جو ہٹا رہتا ہے یعنی جہاد سے ہٹا رہتا ہے اور سست پڑجاتا ہے اس جگہ باب تفعیل باب باب افعال کا ہم معنی ہے اور لازم ہے یا متعدی ہے اور یہ معنی ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو جہاد سے روکتے ہیں جیسے جنگ احد کے دن۔ ابن ابی نے کچھ لوگوں کو روکا تھا۔ اس وقت لیبطئن : اس بَطَّأَ : سے مشتق ہوگا جو بطوء سے بنا ہے جیسے ثقل ثقل : سے بنا ہے بہرحال اس سے منافق مراد ہیں۔ فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذ لم اکن معہم شہیدا . پس (اے مسلمانو) اگر تم پر (قتل یا شکست کی) کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ (منافق) کہتا ہے مجھ پر اللہ کا کرم ہوگیا کہ میں مسلمانوں کے ساتھ موجود نہ تھا (اس لئے مجھ پر وہ آفت نہ آئی جو مسلمانوں پر آئی)
Ayah 4:73

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (کہ افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

ولئن اصابکم فضل من اللہ اور اگر اللہ کی کوئی مہربانی تم کو ملتی ہے یعنی فتح یا مال غنیمت۔ لیقولن تو (وہ انتہائی حسرت سے) کہتا ہے۔ کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی ہی نہ تھی۔ یلیتنی کنت معہم اے کاش میں بھی مسلمانوں کے ساتھ (اس جنگ میں شریک) ہوتا۔ فافوز فوزا عظیما تو مجھے بھی بڑی کامیابی ہوتی یعنی مال غنیمت کا بڑا حصہ مل جاتا۔ جملہ کان لَّمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہٗ مُوَدَّۃٌ: جملہ معترضہ ہے جو لیقولن : اور یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَہُمْکے درمیان منافقوں کے عقیدہ کی کمزوری پر تنبیہ کرنے کے لئے ذکر کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ رہنے سے ان کا اصل مقصد صرف حصول مال ہے اگر مسلمان کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کو حسد ہوتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جملہ کان لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہٗ مُوَدَّۃٌ: کا تعلق پہلے جملہ سے اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ مسلمانو ! جب تم پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو منافق کہتا ہے اللہ کا مجھ پر کرم ہوگیا کہ میں مسلمانوں کے ساتھ موجود نہ تھا۔ گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی کا رشتہ ہی نہ تھا (اسی لئے وہ اپنے بچ جانے کو غنیمت سمجھتا ہے خواہ تم مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہو) بیضاوی نے لکھا ہے۔ بغوی کی یہ تشریح ضعیف ہے کیونکہ ایک جملہ کے اجزاء میں ایسی عبارت سے تفریق کرنا جس کا تعلق ان اجزاء سے نہ لفظی ہو نہ معنوی درست نہیں۔
Ayah 4:74

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

فلیقاتل فی سبیل اللہ پھر اللہ کی راہ میں لڑیں۔ اس کا عطف خُذُوْاحِذْرَکُمْپر ہے یعنی اپنے بچاؤ کے لئے ہتھیار وغیرہ لے لو پھر اللہ کی راہ میں لڑو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فاء کو جزائیہ قرار دیا جائے یعنی منافق اگر پیچھے ہٹتے ہیں تو ہٹیں اہل ایمان کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے۔ الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی فروخت کرتے ہیں یعنی وہ مخلص جو آخرت کی طلب میں اپنی جانیں دیتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یشترونکا معنی ہے یشترو ن . اس وقت منافق مراد ہوں گے جو آخرت کے عوض دنیوی زندگی کو پسند کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ خلوص کے ساتھ ایمان لائیں۔ نفاق کو چھوڑ دیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کریں تاکہ دنیا اور آخرت میں ان کو افسوس و حسرت سے دوچار ہونا نہ پڑے۔ ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل او یغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما . اور جو اللہ کی راہ میں لڑے گا خواہ وہ مارا جائے یا (دشمنوں پر) غالب آجائے ہم (آخرت میں) اس کو بڑا اجر عطا کریں گے۔ اللہ نے مجاہد سے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا خواہ اللہ کا بول بالا کرنے کی کوشش میں وہ شہید ہوجائے اور اللہ کا بول بالا نہ کرسکے یا غالب اور کامیاب ہوجائے اور اس کو اقتدار و مال حاصل ہوجائے کیونکہ وہ اپنی امکانی کوشش سے تو دریغ نہیں کرتا یہاں تک کہ ناکامیابی کی صورت میں اپنی جان دے دیتا ہے اور کامیابی کی شکل میں اس کو اگرچہ مال و دولت اور اقتدار مل جاتا ہے لیکن اس سے اس کے اخروی اجر میں کوئی کمی نہیں آسکتی کیونکہ حصول مال اس کا اصل مقصد نہ تھا اللہ کے بول کو بالا کرنا اور دین کا اعزاز قائم کرنا اس کا مقصود تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو شخص نکلتا ہے اور محض اللہ پر ایمان اور اللہ کے پیغمبروں کی تصدیق اس کو گھر سے نکالتی ہے (کوئی اور دنیوی غرض اس کے پیش نظر نہیں ہوتی) تو اللہ نے اس کا ذمہ لے لیا ہے کہ (یا) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس کو (جنگ سے) لوٹا دوں گا یا جنت میں داخل کر دوں گا۔ بخاری و مسلم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے (دن کو) روزہ رکھنے والا ( رات کو) عبادت میں کھڑا رہنے والا۔ خشوع خضوع سے اللہ کا کلام پڑھنے والا کہ نہ روزہ سے تھکتا ہے نہ نماز سے (یعنی سستی نہیں کرتا) مجاہد کی یہ حالت اس وقت تک رہتی ہے کہ جہاد سے لوٹ آئے۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ اللہ اس کو مال غنیمت اور ثواب آخرت کے ساتھ لوٹا دے یا اس کو شہادت عطا کرے اور جنت میں داخل فرما دے۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ : اور تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کرو اللہ کی راہ میں اور ان کمزوروں کی خاطر جن میں کچھ (کمزور) مرد ہیں اور کچھ عورتیں اور کچھ بچے۔ استفہام انکاری ہے یعنی ترک جہاد کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ المستضعفین کا عطف لفظ اللہ پر ہے یا لفظ سبیل پر۔ مراد یہ ہے کہ (مکہ میں) جو کمزور مسلمان رہ گئے ہیں ان کو مشرکوں کے پنجے سے رہا کرانے کے لئے جہاد نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ المستضعفین کا نصب اختصاص کی وجہ سے ہو یوں تو سبیل اللہ کا لفظ ہر خیر اور نیکی کو شامل ہے مگر کمزور مسلمانوں کی رہائی کا درجہ سب سے بڑا ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔ الذین یقولون ربنا اخرجنا من ہذہ القریۃ الظالم اہلہا جو (دعا کرتے ہیں اور) کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو اس بستی (یعنی مکہ) سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ الظالم اہلہا۔ القریۃ کی صفت ہے لیکن اہلہاچون کہ الظالمکا فاعل ہے اس لئے الظالمکو مذکر لایا گیا۔ واجعل لنا من لدنک ولیا واجعل لنا من لدنک نصیرا اور ہمارے لئے غیب سے کسی دوست کو کھڑاکر دے اور ہمارے لئے غیب سے کسی حامی کو بھیج دے یعنی کوئی ہمارا سرپرست اور مددگار بنا دے جو مشرکوں سے ہماری حفاظت کرسکے۔ (1) [ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ میں اور میری والدہ بھی مسعتضفین میں سے تھے۔ بخاری (از مفسر)] اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی دعا قبول فرما لی اور مکہ کی فتح عنایت کردی رسول اللہ ﷺ نے فتح کے بعد حضرت عتاب ؓ بن اسید کو مکہ کا حاکم مقرر کردیا جو مظلوموں کے حامی اور منصف تھے۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے

الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ . جو مؤمن ہیں وہ اللہ کی راہ میں (یعنی اللہ کی اطاعت کی راہ میں) لڑتے ہیں (اللہ کی اطاعت ہی ایسا راستہ ہے جس پر چل کر مؤمن اللہ تک پہنچتا ہے) ۔ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں یعنی شیطان کی اطاعت کی راہ میں لڑتے ہیں جو ان کو شیطان سے ملا دیتی اور طبقات میں جہنم میں پہنچا دینے والی ہو۔ فقاتلوا اولیآء الشیطن پس اے مسلمانو ! تم شیطان کی فوج (یعنی کافروں) سے لڑو۔ اس سے آگے جرأت دلاتے ہوئے فرمایا۔ ان کیدا الشیطن کان ضعیفا درحقیقت شیطان کا فریب کمزور ہے سوائے دل میں وسوسہ پیدا کرنے کے وہ اور کچھ نہیں کرسکتا۔ بدر کی لڑائی کے دن اس نے کافروں سے کہا تھا۔ میں تمہارا پشت پناہ ہوں آج تم پر کوئی شخص غالب نہیں آسکتا۔ لیکن فرشتوں (کے لشکر) کو دیکھ کر بھاگ پڑا اور سب کو بےمدد چھوڑ گیا اور ایڑیوں کے بل پلٹ کر کہنے لگا ‘ میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں مجھ کو وہ چیز نظر آرہی ہے جو تم کو نظر نہیں آتی مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے اللہ کی مار بہت سخت ہے۔ نسائی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ہجرت سے پہلے جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تشریف فرما تھے تو حضرت عبدالرحمن ؓ بن عوف اور کچھ دوسرے صحابیوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبی اللہ ﷺ ہم مشرک ہونے کی حالت میں تو عزت والے تھے جب سے مسلمان ہوئے ذلیل ہوگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے (ظالم کافروں کو) معاف کردینے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے تم (کافروں سے) لڑائی نہ کرو۔ ہجرت کے بعد جب اللہ نے حضور ﷺ کو مدینہ منتقل فرما دیا تو اس وقت کافروں سے لڑنے کا حکم دے دیا مگر اس وقت لوگ پست ہمت ہوگئے اور لڑائی سے انہوں نے ہاتھ روک لئے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

الم تر الی الذین قیل لہم کفوا ایدیکم کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ ان سے کہا گیا تھا اپنے ہاتھوں کو تھامے رہو۔ یہ تعجب آفریں سوال ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ جب قتال نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو سب قتال کے درپے تھے اور جب جہاد کا حکم دیا گیا تو ایک گروہ بیٹھ رہا اور کافروں سے لڑنے لگا۔ ہاتھ روک لینے کا حکم بتارہا ہے کہ جن کو حکم دیا گیا تھا وہ لڑائی کے درپے تھے۔ الذین قیل لہم الخ سے برقول کلبی حسب نقل بغوی حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری ‘ حضرت مقداد بن اسود کندی ‘ حضرت قدامہ بن مظعون جمحی ‘ حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص اور صحابہ ؓ کی وہ جماعت ہے جو مکہ میں کافروں کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے عرض کیا تھا کہ ہم کو کافروں سے لڑنے کی اجازت دے دیجئے کافر ہم کو ستاتے ہیں مگر حضور ﷺ فرماتے تھے اپنے ہاتھ روکے رکھو۔ مجھے ان سے لڑنے کا حکم ابھی نہیں دیا گیا ہے۔ واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کی تعمیل میں مشغول رہو۔ اس آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اپنے قلب اور نفس کی حالت کو درست کرنے کے لئے نفس سے جہاد کرنا۔ کافروں سے جہاد کرنے سے افضل ہے کیونکہ اوّل جہاد کا مقصد ہے اپنے نفس کی اصلاح اور دوسرے جہاد کی غرض سے کافروں کی اصلاح اور دنیا کو بگاڑ سے خالی کردینا اور (ظاہر ہے کہ اپنی ذات کو بگاڑ سے بچانا دوسروں کو خرابی سے بچانے پر مقدم ہے) اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد نفس کو فرض عینی اور جہاد کفار کو فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ فلما کتب علیہم القتال پھر جب (مدینہ کو ہجرت ہوگئی اور) ان پر (مشرکوں سے) جہاد کرنا فرض کردیا گیا تو بعض لوگوں پر اس کی تعمیل دشوار ہوگئی اور پست ہمت ہو بیٹھے اور اذا فریق منہم یخشون الناس کخشیۃ اللہ یکدم ان (طلبگاران جہاد) میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسا اللہ سے ڈرنا چاہئے تھا۔ خشیۃ اللّٰہمیں مصدر کی اضافت مفعول کی جانب ہے۔ یا یخشونکے فاعل سے کخشیۃ اللّٰہحال ہے یعنی خوف خدا رکھنے والوں کی طرح ہوتے وہ لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ او اشد خشیۃ یا اس سے بھی زیادہ ڈرنے والے۔ اگر خشیۃ اللہ کو حال قرار دیا جائے تو معنی اس طرح ہوگا ‘ وہ لوگوں سے ڈرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کا خوف رکھنے والوں سے بھی زیادہ خشیۃ رکھنے والے ہیں۔ لیکن اگر کخشیۃ اللّٰہکو بجائے مفعول مطلق کے مانا جائے تو اس وقت اشد کا عطف کخشیۃ اللّٰہپر نہ ہوگا بلکہ لفظ اللہ پر عطف ہوگا یعنی ان کا انسانوں سے خوف اللہ کے خوف کی طرح ہے یا اللہ کے خوف سے بھی زیادہ۔ اس فقرہ میں لفظ او شک کے لئے نہیں ہے بلکہ تخییر کے لئے ہے یعنی جس قدر وہ انسانوں سے ڈرتے ہیں اس کو اگر خوف خدا کی طرح کہا جائے تب بھی ٹھیک ہے اور خوف خدا سے زائد کہا جائے تب بھی درست ہے کلام کا حقیقی وفی مراد نہیں ہے کیونکہ خدا سے زیادہ بندوں سے خوف کرنا اگر واقعتہً ہو تو کفر ہے بلکہ ارتکاب معصیت کی بناء کبھی عذاب کی طرف سے غفلت اور مغفرت کی طمع ہوتی ہے باوجودیکہ یقین ہوتا ہے کہ انسانوں کا عذاب اللہ کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتا پس آیت میں مجازی معنی مراد ہے جب بزدلی اور پستی ہمت کی وجہ سے لوگ جہاد سے بیٹھ رہے اور حکم جہاد کی تعمیل چستی کے ساتھ نہیں کی تو اللہ نے فرما دیا یہ لوگ اللہ سے زیادہ بندوں سے ڈرتے ہیں۔ آیت کے ظاہری مفہوم کی وجہ سے خوارج نے مرتکب کبیرہ کو کافر قرار دیا ہے کیونکہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ جہاد سے بیٹھ رہنے والے اللہ سے زیادہ بندوں سے ڈرتے ہیں اور یہ کفر ہے۔ خارجیوں نے اپنے دعوے کی ایک عقلی دلیل بھی بیان کی ہے کہ سمجھدار آدمی کو جب کسی سوراخ کے اندر سانپ کے موجود ہونے کا یقین ہوتا ہے تو ہرگز اس کے اندر انگلی نہیں ڈالتا اگر انگلی ڈال دے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کو سانپ کے موجود ہونے اور کاٹ کھانے کا یقین ہی نہیں ہے (یا یہ پاگل اور بےشعور ہے) مرتکب کبیرہ کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ گناہ کبیرہ کرنا بتارہا ہے کہ آیات عذاب پر اس کو یقین نہیں اگر یقین ہوتا تو گناہ نہ کرتا۔ ہماری توضیح سے اس دلیل کا ابطال ہوجاتا ہے (سوراخ کے اندر سمجھدار آدمی کا اندر انگلی ڈالنا کبھی اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ سانپ کی موجودگی کا یقین ہونے کے باوجود اس کو ڈسے جانے کی امید نہیں ہوتی۔ نفس کی غفلت ‘ ذہن کا ذہول اور امید کی غلطی بھی تو کوئی چیز ہے۔ غفلت ‘ ذہول اور طمع خام عدم تیقن پر دلالت نہیں کرتی۔ وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال اور یوں کہنے لگے اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ لولا اخرتنا الی اجل قریب ہم کو اور تھوڑی مدت مہلت دے دی ہوتی۔ یعنی دنیا میں (طبعی) موت تک رہنے کی تو نے مہلت دی ہوتی کہ ہم اپنے بستروں پر مرتے۔ میدان جہاد میں نہ مارے جاتے۔ دونوں جملوں کے درمیان حرف عطف نہیں لایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ کبھی وہ ایک بات کہتے تھے ‘ کبھی دوسری۔ سوال کی غرض یہ نہیں کہ جہاد کی علت بیان کی جائے۔ حکمت جہاد تو معلوم ہی تھی بلکہ سوال سے مقصود ہے تمنا کو ظاہر کرنا اور تاخیر جہاد کی خواہش کرنا یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں میں ہی یہ خواہش و تمنا کی ہو زبانوں سے اظہار نہ کیا ہو اور اندرونی تمنا کو اللہ نے بیان فرما دیا۔ قل متاع الدنیا قلیل آپ کہہ دیں کہ منافع آخرت کے مقابلہ میں دنیوی منفعت اور فائدہ اندوزی تھوڑی سی ہے پھر جلد ختم ہونے والی بھی ہے ایسی حالت میں زیادتی عمر کی تمنا بےسود ہے کیونکہ بالفرض اگر عمر لمبی بھی ہوگئی تو کیا حاصل۔ والاخرۃ خیر لمن اتقی اور آخرت (کا ثواب شرک اور گناہ سے) بچنے والے کے لئے (دنیا کے ثواب سے) بہتر (اور پائیدار) ہے لہٰذا حکم جہاد کی تعمیل میں سستی کرنے اور بیٹھ رہنے سے پرہیز کرنا چاہئے تاکہ ثواب آخرت کی طلب میں زیادتی ہو۔ گویا یہ جملہ لِمَ کَتَبْت کے سوال کا جواب ہے یعنی ہم نے تم پر جہاد اس لئے فرض کیا ہے کہ آخرت میں تم کو ثواب زیادہ دیا جائے۔ یہ تشریح اس صورت میں ہوگی کہ لِمَ کَتَبْتَ : کو جملہ سوالیہ قرار دیا جائے جس میں جہاد کے فرض ہونے کی حکمت اور مصلحت دریافت کی گئی ہو۔ ولا تظلمون فتیلا اور تمہاری حق تلفی ذرہ بھر نہ ہوگی یعنی تمہارے ثواب میں ادنیٰ ترین کمی بھی نہیں کی جائے گی یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری عمر جتنی مقدر ہوچکی ہے اس میں جہاد سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔ شہداء کے متعلق منافقوں نے کہا تھا کہ اگر وہ لوگ ہمارے ساتھی ہوتے (اور ہمارے ساتھ راستہ سے لوٹ آتے) تو نہ مرتے نہ مارے جاتے اس کی تردید میں آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے

این ما تکونوا تم جہاں کہیں ہو۔ اَیْنَ (اسم ظرف مکان) کے اندر شرط کا معنی ہے اور معنی شرط کی تاکید کے لئے لفظ ما ذکر کیا گیا ہے۔ یدریککم الموت تم کو موت پہنچے گی۔ ولو کنتم فی بروج مشیدۃ خواہ تم اونچی کوٹھیوں یا قلعوں میں ہو۔ قتادہ (رح) نے بروج مشیدۃ کا ترجمہ مضبوط محلات کیا ہے اور عکرمہ نے چونے اور مصالحہ سے جڑا ہوا ترجمہ کیا ہے۔ اس جگہ اس آیت کو ذکر کرنے سے آیت : لَوْلاَ اَخَّرْتَنَا اِلٰی اَجَلٍ قِرِیْب کے جواب کی طرف اشارہ ہے یعنی جہاد سے موت قریب نہیں آجاتی نہ احتیاط موت مقدرہ کو دور کرسکتی ہے حکم تقدیری لوٹایا نہیں جاسکتا۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف فرما ہوئے تو یہودیوں اور منافقوں نے کہا جب سے یہ شخص اور اس کے ساتھی یہاں آئے ہیں ہمارے پھلوں اور کھیتوں میں برابر نقصان ہوتا چلا جاتا ہے (یہ ان لوگوں کی نحوست ہے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ وان تصبہم حسنۃ یقولوا ہذہ من عنداللہ اور اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ خدادا ہے یعنی ارزانی اور ان کے مال کی کثرت ہوتی ہے تو یہودی اور منافق کہتے ہیں یہ ہمارے لئے خدا کی طرف سے (مقدر) ہے (یعنی ہماری صلاحیت اور قابلیت کی وجہ سے اللہ نے ہم کو مال کی کثرت اور رزق کی وسعت دی ہے۔ مترجم) وان تصبہم سیءۃ اور اگر ان کو کوئی برائی (قحط یا مصیبت) پہنچتی ہے۔ یقولوا ہذہ من عندک تو کہتے ہیں یہ تیری نحوست کی وجہ سے ہے اگرچہ فاعل اس کا بھی اللہ ہی ہے۔ قل کل من عنداللہ اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیں بھلائی برائی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ (1) [ اس تشریحی ترجمہ پر کل کی تنوین مضاف الیہ محذوف کی جگہ مانی جائے گی یعنی ہر بھلائی برائی اللہ کی طرف سے ہے۔] یعنی اللہ نے اپنے ارادہ سے بطور مہربانی بھلائی (کسی کے لئے) پیدا کی اور (کسی کے لئے) بطور انتقام اپنی مصلحت کے مطابق برائی مقدر کردی ‘ کسی شخص سے انتقام دوسرے کی نحوست کی وجہ سے نہیں ہوسکتا لہٰذا منافقوں اور یہودیوں کا یہ خیال کہ رسول اللہ ﷺ کی نحوست کی وجہ سے وہ مبتلائے مصیبت ہوئے اور اپنے کفر و معاصی کا خیال نہ کرنا سراسر غلط ہے۔ فمال ہولآء القوم پس اس قوم یعنی کافروں کو کیا ہوگیا ہے۔ لا یکادون یفقہون حدیثا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے یعنی سمجھنا تو درکنار سمجھنے کے قریب بھی نہیں ہیں۔ حدیثا سے مراد ہے قرآن مجید کیونکہ اگر قرآن پر وہ غور کرتے اور سمجھتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ خیر و شر سب اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ایک کے عمل پر خدا دوسرے کو عذاب نہیں دیتا۔ یا حدیث سے مراد ہے بات یعنی چوپایوں کی طرح یہ لوگ بات بھی نہیں سمجھتے۔ یا نئی پیدا ہونے والی چیز مراد ہے یعنی وہ غور نہیں کرتے کہ ان کے اعمال نیک ہیں کہ مستحق انعام ہوں یا برے ہیں کہ سزاوار عذاب ہوں۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ . تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ ہر انسان کو خطاب ہے۔ یعنی انسان کو جو بھلائی پہنچتی ہے وہ محض اللہ کی مہربانی سے پہنچتی ہے انسان کا کوئی استحقاق نہیں نہ خدا پر بھلائی دینا لازم ہے کیونکہ انسان جو طاعت بھی کرتا ہے اگر ہم فرض کرلیں کہ وہ بالکل معصیت سے پاک ہے اور ساری عمر انسان اسی میں مشغول رہے اور وہ قابل قبول بھی ہے پھر بھی وہ پیدا کی ہوئی تو خدا ہی کی ہے اسی کے کرم کا نتیجہ ہے اللہ ہی نے تو اس کو ناپسندیدہ اعمال سے محفوظ رکھا اور پسندیدہ کاموں کی توفیق دی اور نیک کام کی توفیق دینا محض اس کی عنایت ہے پھر نیکی کرنے سے دنیا یا آخرت کے ثواب کا استحقاق کیسے پیدا ہوسکتا ہے اس کے علاوہ بجائے خود وجود اور لوازم وجود خواہ ان پر صدور طاعت کا مدار ہو یا نہ ہو اللہ ہی کی اتھاہ نعمت ہے۔ طاعت سے تو اس کا شکر بھی ادا نہیں ہوسکتا (چہ جائیکہ استحقاق ثواب پیدا ہو سکے۔ (1) [ مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی اور بقاء زندگی محض خداداد ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں کسی کے عملی استحقاق کو دخل نہیں پھر زندگی کو اطاعت میں لگا دینا بھی اللہ کی توفیق پر موقوف ہے اور یہ توفیق بھی بلا استحقاق ہے اس لئے انسان اگر ساری عمر خالص نیکی کرے تو نعمت الٰہی کا شکر بھی ادا نہ ہوگا ] اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ کوئی شخص بغیر اللہ کی رحمت کے جنت میں نہیں جاسکے گا۔ عرض کیا گیا۔ کیا آپ بھی فرمایا نہ میں۔ بخاری و مسلم۔ از روایت ابوہریرہ ؓ ۔ وما اصابک من سیءۃ فمن نفسک اور اے انسان تجھے جو برائی یعنی مصیبت پہنچتی ہے وہ تیری طرف سے ہے۔ تیرے بعض گناہوں کی سزا اور بدلہ ہے۔ دوسرے کی نحوست کو اس میں دخل نہیں ہے ‘ بلکہ یہ مصیبت تیرے نفس کی نحوست کا ہی نتیجہ ہوتی ہے۔ اگر انسان کافر ہوتا ہے تو اس پر پڑنے والی مصیبت ‘ عذاب آخرت کا دنیا میں اس کے لئے ایک نمونہ بن جاتی ہے اور مؤمن پر واقع ہونے والی مصیبت اس کے کچھ گناہوں کا کفارہ اور بلندی درجات آخرت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مصیبت مسلمان پر آتی ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے یہاں تک کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے (وہ گناہوں کی سزا کی تخفیف کا ذریعہ ہوجاتا ہے) متفق علیہ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو دکھ یا بیماری (مسلمان پر آتی) ہے یہاں تک کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے ذریعہ سے گناہوں کو اتار کردیتا ہے۔ متفق علیہ۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ کو جو ٹھوکر لگتی ہے یا اس سے کم و بیش مصیبت آتی ہے وہ گناہ کی وجہ سے آتی ہے اور جتنے حصۂ گناہ کو اللہ معاف کردیتا ہے وہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ترمذی۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جو منافق و کافر مصائب کی نسبت کرتے تھے ان کے قول کا جواب اس آیت سے ہوگیا۔ وارسلنک للناس رسولا اور لوگوں کے لئے ہم نے آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ رسولایا مفعول مطلق ہے (اگر اس کو مصدر کہا جائے جیسے قبول ‘ دبور) یا حال ہے (اگر رسولاً کو صفت کا صیغہ قرار دیا جائے) بہرحال اگر للناس : کو ارسلنا : سے متعلق کیا جائے گا تو رسلا : محض تاکید فعل کے لئے ہوگا اور اگر رسولا سے متعلق کیا جائے گا تو تعمیم کا مفہوم پیدا ہوجائے گا یعنی سب لوگوں کے لئے رسول بنا کر ہم نے آپ کو بھیجا ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : وَمَا اَرْسَلْنٰکَ الاَّ کَافَّۃً لِلَّنَاسِخلاصۂ مصمون کافروں کے خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر تو رسول اللہ ﷺ کی طرف نحوست کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ تمام لوگوں کے لئے ہمہ گیر رحمت بنا کر آپ ﷺ کو بھیجا گیا ہے البتہ کفار اس رحمت سے محروم ہیں اور دنیوی و اخروی عذاب میں اپنے اعمال کی نحوست کی وجہ سے مبتلا ہیں اور رسول کی اطاعت نہ کرنا اس مصیبت کا اصل سبب ہے۔ وکفی باللہ شہیدا اور اللہ تعالیٰ شہادت دینے کے لئے کافی ہے وہی دنیا میں آپ کو معجزات عطا فرما کر آپ ﷺ کی رسالت کی شہادت دے رہا ہے اور قیامت کے دن جھگڑے کے وقت وہی شہادت دے گا کہ رسول اللہ ﷺ حق پر تھے اور کفار گمراہ تھے۔ قیامت کے دن اللہ کی شہادت کافروں کو لاجواب بنانے اور مستحق عذاب قرار دینے کے لئے ہوگی اس روز حکومت (ظاہری اور حقیقی) سب اسی کی ہوگی وہی اپنے علم کے مطابق فیصلہ کر دے گا کسی دوسرے کی شہادت کی ضرورت نہ ہوگی (اسی کی شہادت کافی ہوگی) بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے جس نے میری اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے بلاشک اللہ تعالیٰ سے محبت کی اس پر بعض منافق کہنے لگے یہ شخص تو بس ہم سے یہ چاہتا ہے کہ جس طرح عیسائیوں نے مسیح ابن مریم ( علیہ السلام) کو رب بنا لیا تھا اسی طرح ہم بھی اس کو اپنا رب بنا لیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ حقیقت میں اللہ کی اطاعت کرتا ہے کیونکہ رسول تو صرف حکم پہنچانے والے ہیں حکم دینے والا تو اللہ ہی ہے۔ ومن تولی اور جو اطاعت سے روگردانی کرتا ہے۔ اس کی آپ پرواہ نہ کریں اور کوئی فکر نہ کریں۔ فما ارسلنک علیہم حفیظا کیونکہ (اے محمد ﷺ ! ) ہم نے آپ ﷺ کو ان کا کنٹرولر بنا کر نہیں بھیجا۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچانے کی ہے حساب فہمی ہمارا کام ہے ان کے اعمال کی نگرانی اور کنٹرولنگ آپ کے ذمہ نہیں۔
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے

ویقولون طاعۃ اور (جب آپ ان کو کوئی حکم دیتے ہیں تو) وہ کہتے ہیں (ہمارا تو کام ہی) اطاعت ہے۔ طاعۃ : حقیقت میں مفعول تھا دوام اور ثبات کا مفہوم ظاہر کرنے کے لئے بصورت خبر ذکر کیا (کیونکہ جملہ فعلیہ اقتران زمانی کی وجہ سے حدوث پر دلالت کرتا ہے اور جملۂ اسمیہ زمانہ پر دلالت نہ کرنے کی وجہ سے دمام کا مفہوم ظاہر کرتا ہے۔ جملۂ فعلیہ سے جملۂ اسمیہ کی طرف رجوع اسی غرض سے کیا جاتا ہے) ۔ فاذا برزوا من عندک پھر جب آپ ﷺ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو بیت طآئفۃ منہم غیر الذی تقول . ان کی ایک جماعت رات کو مشورہ کرتی ہے اس کے خلاف جو ( آپ ﷺ کے سامنے) کہا تھا۔ قتادہ اور کلبی نے کہا کہ تبییت (بروز تفعیل) کا معنی ہے بدل ڈالنا اس لئے بَیَّتَ (صیغۂ ماضی) کا ترجمہ ہوا بدل ڈالتی ہے۔ اخفش نے کہا : بَیَّتَکا ترجمہ ہے اندازہ کرتی ہے منصوبہ بنا لیتی ہے ‘ اگر کوئی منصوبہ بنا لے تو عرب کہتے ہیں بَیَّتَ فَلاَنٌگویا اس محاورہ کا اصل ماخذ بیت شعر یا بیت مبنی (بنایا ہو مکان) ہے (جس طرح شاعر کسی مضمون کو چند موزوں الفاظ ملا کر ادا کرتا ہے یا کوئی شخص مختلف لکڑی لوہا اینٹ مصالحہ جمع کر کے مکان بناتا ہے اور اس کو بیت کہا جاتا ہے) اسی مناسبت سے مشورہ کے بعد منصوبہ قائم کرنے کو تبییتکہا جاتا ہے۔ ابو عبیدہ ؓ اور قتیبی نے کہا اس کا ماخذ بیتوتت (شب گزاری) ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رات کو مشورہ کر کے وہ بات طے کرتے ہیں جو دن میں کئے ہوئے وعدہ کے خلاف ہوتی ہے۔ تقول کی ضمیر طائفۃ کی طرف راجع ہے (مذکورۂ بالا مطلب اسی تقدیر پر ہوگا) لیکن ہوسکتا ہے غائب مؤنث کی ضمیر نہ ہو بلکہ) رسول اللہ ﷺ : کو خطاب ہو یعنی آپ نے ان کو جو حکم دیا تھا اور وعدہ لیا تھا اس کے خلاف مشورہ کرتے ہیں۔ واللہ یکتب ما یبیتون اور اللہ لکھتا رہتا ہے جو کچھ وہ راتوں کو مشورہ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی طرف سے اعمالنامے لکھنے والے فرشتے اللہ کے حکم سے لکھتے رہتے ہیں تاکہ ان کو ان کے کئے کی پوری پوری سزا دی جائے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ان کے مشورۂ شبینہ کو اس وحی کے اندر مندرج کرلیتا ہے جو آپ کے پاس بھیجی جاتی ہے تاکہ ان کے اندرونی اسرار کی آپ : ﷺ کو اطلاع ہوجائے۔ فاعرض عنہم پس آپ ان سے الگ رہیں ان کی پرواہ نہ کریں یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان پر غصہ نہ کریں اور ان کے نام ظاہر نہ کریں۔ وتوکل علی اللہ اور (تمام امور میں خصوصاً ان کے معاملہ میں) اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ وکفی باللہ وکیلا اور اللہ کی کارسازی و ذمہ داری کافی ہے۔ اگر اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیں گے تو وہی آپ : ﷺ کی طرف سے ان کا بدلہ لے گا اور وہ آپ : ﷺ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

افلا یتدبرون القران . پھر کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ یعنی منافق کیا قرآن کی عبارت اور مضامین پر غور نہیں کرتے اور قرآن کے اندر جو عجائب وغرائب ہیں ان کو نہیں سمجھتے کہ کلام اللہ ہونا اور انسانی کلام نہ ہونا ان پر واضح ہوجاتا اور ان کو ایمان حاصل ہوجاتا اور یہ نفاق ترک کردیتے۔ افلا یتدبرونکا لفظ بنا رہا ہے کہ (شرعاً ) مسائل شریعت میں قیاس سے کام لینا جائز ہے۔ ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا اور اگر قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں یہ بکثرت تفاوت پاتے یعنی معنی میں تناقض اور عبارت میں تفاوت ہوتا کچھ حصہ فصیح ہوتا کچھ رکیک ‘ کسی حصہ کا مقابلہ دشوار ہوتا اور کسی کا آسان۔ مستقبل کے متعلق اس کی پیشین گوئی کوئی صحیح ہوتی کوئی غلط کیونکہ انسان کا علم ناقص ہے ہمہ گیر نہیں ہے۔ یہاں یہ شبہ نہ کرنا چاہئے کہ قرآن کے اندر بعض احکام منسوخ ہیں اور بعض ناسخ ہیں۔ یہ تفاوت و تناقض تو موجود ہے کیونکہ حقیقت میں نسخ نہ اختلاف ہے نہ تناقض معنی۔ نسخ کا معنی تو یہ ہے کہ حکم سابق ایک خاص مدت کے لئے تھا (جس کی تعیین اللہ کو معلوم تھی ہم کو معلوم نہ تھی) وہ مدت پوری ہونے اور حال و زمان بدلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس حکم کی مدت ختم ہوجانے کا اظہار فرما دیا۔ واللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ملک کے اندر اور باہر مختلف اطراف میں کچھ فوجی دستے بھیجتے تھے۔ وہ پہنچ کر غالب ہوتے یا مغلوب بہرحال منافق ان کی خبریں قبل از وقت معلوم کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے تھے اور پتہ لگتے ہی رسول اللہ ﷺ کے بیان کرنے سے پہلے بیان کرنا شروع کردیتے تاکہ شکست کی خبریں سنا کر اہل ایمان کے دلوں میں ضعف پیدا کردیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ کچھ کمزور رائے رکھنے والے مسلمانوں کو جب فوجی دستوں کی کوئی اچھی بری اطلاع ملتی یا رسول اللہ ﷺ وحی سے اطلاع پا کر فتح یابی کے وعدہ کا یا تخویف کا اظہار فرما دیتے تو یہ ضعیف الرائے طبقہ اس کی اشاعت کردیتا اور اس اشاعت سے کام بگڑ جاتا۔ اگر کو امن کی اطلاع ملتی تو وہ اپنے تحفظ کی کوشش کرنے لگتے اور خوف کی خبر ملتی تو جنگ وجدال اور فساد کی طرف دوڑتے ‘ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

واذا جآء ہم اور جب ان کو یعنی منافقوں یا کمزور رائے رکھنے والے مسلمانوں کو۔ امرا من الامن امن کی کوئی خبر مل جاتی ہے یعنی فتح و سلامتی کی اطلاع ہوجاتی ہے۔ او الخوف یا خوف یعنی شکست و ہزیمت کی۔ اذاعوا بہ تو اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم اور اگر وہ اس خبر کو رسول ﷺ کے اور جو ان میں ایسے امورکو سمجھتے ہیں ان کے حوالہ پر رکھتے۔ یعنی عقلمند صحابہ ؓ جیسے حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ؓ وغیرہم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ چونکہ یہ جلیل القدر صحابہ ؓ معاملات میں بصیرت رکھتے تھے اس لئے ان کو اولی الامر فرمایا یا یہ وجہ کہ اکثر اوقات انہی میں سے امیر بنائے جاتے تھے یا یوں کہا جائے کہ لوگوں کو کوئی حکم دینے سے پہلے رسول اللہ ﷺ ان سے مشورہ لے لیا کرتے تھے یا اولی الامر کہنے کی یہ وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو انکی اقتداء کرنے کا حکم دے دیا تھا ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ (زمین والوں میں سے) میرے دو وزیر ابوبکر ؓ و عمر ؓ ہیں۔ رواہ الترمذی۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان دونوں کی اقتداء کرو جو میرے بعد ہوں گئے ابوبکر ؓ و عمر۔ رواہ الترمذی۔ لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم . تو اس کو وہ لوگ تو پہچان ہی لیتے جو ان میں اس کی تحقیق کرلیا کرتے۔ استنباط کا معنی ہے نکال لینا استنبط الماء : پانی نکال لیا یعنی شائع کرنا یا چھپانا جو بھی مناسب ہوتا وہ لوگ غور کرنے کے بعد ویسا کرتے۔ الذین یستنبطونہ : سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے دانشور صحابی۔ علم یہاں ایک یہی مفعول چاہتا ہے کیونکہ اس جگہ علم (جاننے) کا معنی ہے معرفت یعنی پہچاننا اور سمجھنا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ خبر کے معاملہ کو اہل دانش یعنی رسول اللہ ﷺ اور جلیل القدر صحابہ ؓ کے سپرد کردیتے تو وہ اہل الرائے نتیجہۂ خبرکو پہچان لیتے کہ اس کو پھیلانا مناسب ہے یا چھپانا۔ یا استنباط کرنے والوں سے مراد ہیں۔ خبر کی اشاعت کرنے والے اس وقت مِنْہُمْ الذین سے حال نہ ہوگا بلکہ فعل کا صلہ ہوگا۔ مطلب اس طرح ہوگا کہ اشاعت خبر کرنے والے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ سے استنباط علم کرتے ہیں جان لیتے کہ خبر کی اشاعت مناسب ہے یا اخفاء۔ ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ . اور تم پر اگر اللہ کا فضل و رحمت نہ ہوتی۔ فضل و رحمت سے مراد ہے مخصوص فضل و رحمت کیونکہ اضافت عہدی ہے یعنی پیغمبر کو بھیجنے اور کتاب کو نازل کرنے کی شکل میں جو اللہ کا فضل و کرم ہے اگر یہ نہ ہوتا۔ لا تبعتم الشیطن . تو بلاشبہ (کفر و معصیت کی صورت میں) تم شیطان کی پیروی کرتے۔ الا قلیلا مگر تھوڑے سے۔ علیکم : کی ضمیر مخاطب سے یہ استثناء ہے یعنی بغیر نزول قرآن و بعثت رسول ﷺ کے تم سب شیطان کی پیروی کرتے۔ ہاں بعض لوگ جیسے زید بن عمرو بن نفیل اور ورقہ بن نوفل اس سے مستثنیٰ ہیں وہ خداداد عقل سلیم اور اللہ کی طرف سے ملی ہوئی عصمت فکری کی وجہ سے (نزول کتاب و بعثت سے پہلے) اتباع شیطان سے محفوظ تھے۔ یا استثناء مفرغ ہے یعنی نزول قرآن کے بغیر تم شیطان کا اتباع کرتے مگر بعض باتوں میں نہ کرتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ چونکہ تمہاری دانش و عقل اکثر چیزوں کی اچھائی برائی پہچاننے سے قاصر ہے اس لئے اتباع شیطان سے محفوظ رہنے کا مدار بعثت رسول اور نزول قرآن پر ہے۔ اگر بعثت اور نزول نہ ہوتا تو تم اتباع شیطان سے محفوظ نہ رہتے اس لئے رسول : ﷺ کی اجازت کے بغیر مسلمانوں کی خبریں شائع کرنے میں جلدی نہ کرو۔ مسلم نے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا : جس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ امہات المؤمنین سے بالکل الگ ہو کر گوشہ گیر ہوگئے تھے ‘ میں مسجد میں داخل ہوا ‘ میں نے دیکھا کہ لوگ (پریشانی اور رنج میں) پتھریوں سے زمین کرید رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق دے دی ‘ میں نے فوراً مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر بہت چیخ کر کہا : رسول اللہ : ﷺ نے بیبیوں کو طلاق نہیں دی اور آیت : وَاِذَا جَآءَ ہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِالْخَوْفِنازل ہوئی۔ پس میں نے استنباط معاملہ کیا۔ واللہ اعلم۔ جہاد میں ٹال مٹول کرنے والوں کے بزدلانہ مقولہ کا ذکر اوپر ہوچکا اب مندرجۂ ذیل آیت میں رسول اللہ ﷺ کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے خواہ آپ تنہاہی ہی ہوں کوئی بھی ساتھ نہ دے اور نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے خواہ سب بیٹھ رہیں اور رسول اللہ ﷺ تنہا رہ جائیں اور صراحت کردی گئی ہے کہ کسی کا مدد نہ کرنا آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ان کے فعل کا مواخذہ آپ سے نہ ہوگا۔