4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے

فقاتل فی سبیل اللہ پس آپ اللہ کی راہ میں لڑیں خواہ سب لوگ بیٹھ رہیں کوئی آپ کا ساتھ نہ دے۔ لا تکلف الا نفسک آپ ﷺ مکلف صرف اپنی ذات کے ہیں دوسروں کی مخالفت اور مدد سے بیٹھ رہنا آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ (1) [ ابن سعد ؓ نے حضرت خالد ؓ بن معدان کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ مجھے سب لوگوں کی طرف (رسول ﷺ بنا کر) بھیجا گیا ہے اگر سب نہ مانیں تو میری بعثت عرب کے لئے ہوگی وہ بھی نہ مانیں تو فارس کے لئے ہوگی اور وہ بھی انکار کردیں تو (صرف) بنی ہاشم کے لئے ہوگی اور بنی ہاشم بھی نہ مانیں تو میری رسالت تنہا میرے لئے ہوگی۔] بغوی نے لکھا ہے کہ غزوۂ احد کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان سے وعدہ کیا تھا کہ ماہ ذیقعدہ میں بدر صغری پر دونوں فریقوں کا پھر مقابلہ ہوگا۔ جب وقت مقرر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی مگر بعض لوگوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نقلہ ابن جریر عن ابن عباس۔ وحرض المومنین اور مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کیجئے۔ آپ کی ذمہ داری صرف پہنچانے اور ترغیب دینے کی ہے) عسی اللہ ان یکف باس الذین کفروا امید رکھو کہ اللہ کافروں کی جنگ کو روک دے گا (یعنی کافر جنگ سے باز رہیں گے (مترجم) چناچہ رسول اللہ ﷺ صرف ستر سواروں کو ساتھ لے کر بدر صغریٰ پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا فانْقَلَبُوْا بِنِعُمَۃٍ مِّنْ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَہُمْ سُوْءٌاللہ کے فضل و کرم سے بغیر کسی قسم کا دکھ اٹھائے سب لوگ (صحیح سالم) واپس آگئے (اور کافر پست ہمت ہو کر رہ گئے) پورا قصہ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ واللہ اشد باسا اور اللہ بڑی طاقت اور بڑے دبدبہ والا ہے۔ واشد تنکیلا اور بڑا عذاب دینے والا بھی ہے یعنی قریش وغیرہ کی طرف سے جس سختی کا خطرہ اور خوف ہے اس سے زیادہ سخت اللہ کا عذاب ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو دھمکی دی ہے جو کافروں کے خوف کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرنے سے گریز کرتے تھے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ فقاتل : میں فاء جوابیہ ہے۔ یہ آیت : وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا کا جواب ہے (یعنی راہ خدا میں جو شخص لڑ کر مارا جائے یا فتح یاب ہوجائے بہرحال ہم اس کو اجر عظیم عطا کریں گے لہٰذا آپ خود اللہ کی راہ میں جہاد کیجئے اور مسلمانوں کو بھی ترغیب دیجئے)
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

من یشفع شفاعۃ حسنۃ جو اچھی شفاعت (سفارش) کرے جس میں مسلمانوں کے حق کی رعایت کرے ‘ مسلمان پر سے ضرر کو دفع کرے اور اس کے فائدہ کی تدبیر کرے اور یہ سب کوشش محض اللہ واسطے ہو۔ یکن لہ نصیب منہا تو شفاعت کرنے والے کے لئے شفاعت (کے ثواب) کا کچھ حصہ ہوگا۔ مجاہد نے کہا اس سے باہمی سفارش مراد ہے سفارشی کی سفارش اگر قبول نہ بھی کی جائے گی۔ تب بھی سفارشی کو اس کی سفارش کا ثواب ملے گا۔ (رواہ ابن ابی حاتم وغیرہ الحسن) حضرت ابوموسیٰ ؓ اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں جب کوئی شخص کچھ مانگنے یا کسی اور کام کے لئے حاضر ہوتا تو آپ ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے۔ سفارش کرو۔ تم کو ثواب ملے گا اور اللہ اپنی نبی کی زبان پر جو (الفاظ) چاہے گا جاری فرما دے گا۔ مسلم و بخاری۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خیر کا راستہ بتانے والا بھی بھلائی کرنے والے کی طرح ہے۔ رواہ البزار عن ابن مسعود۔ یہ روایت طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت سہل بن سعد کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ فائدہ : مسلمان کے لئے دعا کرنے کا شمار بھی شفاعت حسنہ میں ہے۔ حضرت ابودرداء ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے بھائی کے لئے اس کے پس پشت (یعنی سامنے نہ ہونے کے وقت) دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اے اللہ ایسا ہی کر دے اور تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا لوگوں میں باہم صلح کرانا شفاعت حسنہ ہے۔ بعض علماء نے کہا لوگوں کے درمیان اچھی بات کہنا شفاعت حسنہ ہے جس سے خیر اور ثواب کا حصول ہوتا ہے۔ ومن یشفع شفاعۃ سیءۃ اور جو بری شفاعت کرے۔ جس سے مسلمان اپنے حق سے محروم ہوتا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ بری شفاعت چغلی کھاتے پھرنا ہے۔ بعض علماء نے کہا غیبت کرنی اور لوگوں میں بری بات کہنی جس سے شر اور برائی پیدا ہوتی ہو بری شفاعت ہے۔ یکن لہ کفل منہا اس کے لئے بری سفارش کے گناہ کا ایک حصہ ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مؤمن کو قتل کرنے کی اعانت میں آدھا لفظ بھی زبان سے نکالا جب اللہ کے سامنے جائے گا تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا یہ اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ رواہ ابن ماجہ۔ وکان اللہ علی کل شئی مقتیا اور اللہ ہر چیز پر قابو رکھتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے مقیت کا ترجمہ کیا مقتد (قابو والا) یہ لفظ اقات علی الشی : سے ماخوذ ہے اقات علی الشیکا معنی ہے اس چیز پر قابو پا لیا۔ اصل مادہ قوت (روزی غذا) ہے قوت سے بھی بدن کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ مجاہد (رح) نے مقیت کا ترجمہ شاہد (حاضر ناظر) کیا اور قتادہ نے نگراں۔ بعض علماء نے کہا ہر جان دار کو روزی دینے والا مقیت ہے۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

واذا حییتم بتیحیۃ اور جب تم کو کسی طرح کا سلام کیا جائے۔ تحیت۔ حَیَّاک اللہ کا مصدر ہے۔ یہ اگرچہ جملہ خبریہ ہے لیکن (انشائیہ) دعائیہ کے مواقع پر استعمال ہوتا ہے عرب حیاکّ اللّٰہ (اللہ تیری زندگی دراز کرے) اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ سلام کے موقع پر کہتے تھے۔ عہد اسلامی میں یہ لفظ۔ لفظ سلام سے بدل گیا اور مسلمانوں کا باہم دستور تحیت لفظ سلام ہوگیا۔ حضرت عمران ؓ بن حصین نے فرمایا ہم جاہلیت کے زمانہ میں (سلام کے موقعہ پر) کہتے تھے : اَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا اور انعم صباحاجب اسلام آیا تو ہم کو ایسا کہنے کی ممانعت کردی گئی (اور سلام کا دستور ہوگیا) رواہ ابوداؤد۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو اپنی صورت (شکل یا صفات) پر پیدا کیا۔ اس کے قد کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ پیدا کرچکا تو فرمایا جا اس جماعت کو سلام کر فرشتوں کی جماعت وہاں بیٹھی ہوئی تھی اور جو وہ جواب دیں اس کو سن کیونکہ وہی تیرا اور تیری نسل کا سلام ہوگا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے جا کر (ملائکہ سے) کہا السلام علیکم ‘ فرشتوں نے جواب دیا السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ رحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کردیا۔ بخاری و مسلم۔ فحیوا باحسن منہا اور دوہا پس تم اس سے بہتر جواب دو یا (کم سے کم) اسی کو لوٹا دو ۔ یعنی ویسے ہی الفاظ کہہ دو امر وجوب کے لئے ہے اور لفظ او اختیار دینے کے لئے ہے لہٰذا سلام کا جواب اتنے اور ویسے ہی الفاظ میں لوٹا دینا تو واجب ہے اور رحمت و برکت کے الفاظ بڑھا کر جواب دینا مستحب ہے۔ سلام یا جواب سلام میں جتنا اضافہ کیا جائے گا اتنا ہی ثواب زیادہ ہوگا۔ حضرت عمران بن حصین راوی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ : ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا السلام علیکم آپ ﷺ نے (ویسا ہی) جواب دے دیا اور فرمایا دس (نیکیوں کا ثواب ہوا) وہ بیٹھ گیا اس کے بعد ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ ‘ حضور ﷺ نے اس کو جواب دے کر فرمایا بیس (نیکیوں کا ثواب اس کے ملے گا) وہ بھی بیٹھ گیا اس کے بعد ایک اور شخص آیا اور اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا آپ : ﷺ نے اس کو جواب دے کر فرمایا تیس (نیکیوں کا ثواب ہوا) وہ بھی بیٹھ گیا۔ رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ حضرت معاذ بن انس ؓ کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : چالیس فضائل میں ( اضافہ) اسی طرح ہوتا ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ سلام کامل زیادہ سے زیادہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہے (اس سے آگے کوئی اضافہ نہ ہونا چاہئے) کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص نے آکر حضرت ابن عباس ؓ کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ اور اس سے آگے بھی کچھ بڑھایا حضرت نے فرمایا سلام برکت (یعنی برکاتہ) پر ختم ہوگیا۔ ذکرہ البغوی۔ امام احمد نے الزہد میں ‘ طبرانی نے الکبیر میں اور ابن ابی حاتم نے اور ابن مردویہ نے حضرت سلمان ؓ فارسی کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ : ﷺ کو سلام کیا اور کہا السلام علیک۔ آپ ﷺ نے فرمایا وعلیک السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ پھر دوسرے نے عرض کیا۔ السلام علیک ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمایا وعلیک السلام۔ اس شخص نے عرض کیا آپ نے میرا حصہ گھٹا دیا اللہ کا وہ حکم کہاں گیا۔ فحیوا باحسن منہا اور دوہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تو نے کوئی زیادتی باقی نہیں چھوڑی اس لئے میں نے تجھ پر وہی لوٹا دیا (جو تو نے کہا تھا) میں کہتا ہوں یہ حدیث بتارہی ہے کہ اگر کوئی السلام علیک ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام کہنا کافی ہے (بظاہر یہ آیت کے مفہوم کے خلاف ہے کیونکہ آیت میں تو کم سے کم سلام کے مثل جواب دینا واجب ہے اور اس حدیث سے اصل سلام سے گھٹا کر جواب دینے کا جواز معلوم ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ) نفس سلام میں مثل ہونا کافی ہے (باقی الفاظ میں مثل ہونا ضروری نہیں) یا یوں کہا جائے کہ علیک السلام میں الف لام عہدی ہے (پس مطلب یہ ہوگا کہ جو سلام تفصیل یا اجمال کے ساتھ تو نے کیا وہی تیرے لئے ہو) اس صورت میں جواب کے اندر وہ تمام چیزیں آگئیں جو ابتدائی اسلام کرنے والے کے سلام میں تھیں۔ مسئلہ : سلام کا جواب فرض کفایہ ہے اگر جماعت میں سے کسی ایک نے دے دیا تو کافی ہے۔ کذافی السراجیہ۔ حضرت علی ؓ کا ارشاد منقول ہے کہ ایک جماعت گزرے اور ان میں سے ایک سلام کرلے تو کافی ہے اسی طرح بیٹھی ہوئی جماعت میں سے بھی اگر ایک شخص جواب دے دے تو کافی ہے۔ ذکرہ البغوی فی المصابیح۔ موقوفاً والبیہقی فی شعب الایمان مرفوعاً ۔ ابوداؤد نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ حسن ؓ بن علی ؓ نے اس کو مرفوعاً بیان کیا ہے۔ حسن ؓ بن علی ؓ ابو داؤد کے شیخ تھے۔ لیکن اگر بیٹھی ہوئی جماعت میں سے کسی شخص کا خصوصیت کے ساتھ نام لے کر آنے والا سلام کرے تو اسی شخص پر جواب دینا واجب ہے کوئی دوسرا آدمی جواب دے دے گا تو کافی نہ ہوگا ‘ اسی طرح اگر جماعت کو سلام کیا جائے اور کوئی بیرونی آدمی جواب دے دے تب بھی کافی نہ ہوگا۔ کذافی بیان الاحکام۔ مسئلہ : اوّل سلام کرنا سنت ہے اور یہی افضل ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جب تک ایمان نہ لاؤ گے جنت میں نہیں جاؤ گے اور جب تک آپس میں محبت نہ کرو گے ایمان دار نہ ہو گے کیا میں تم کو ایسی بات بتاؤں کہ اگر تم اس کو گرو گے تو تمہارے درمیان محبت ہوجائے گی اپنے آپس میں سلام (کا دستور) پھیلاؤ۔ رواہ مسلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اوّل سلام کرنے والا غرور سے پاک ہے۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ حضرت ابوامامہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے تعلق رکھنے والا وہ شخص ہے جو اوّل سلام کرے۔ رواہ احمد والترمذی وابوداؤد۔ حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کون سا اسلام سب سے بہتر ہے یعنی خصائل اسلامی میں کون سی خصلت سب سے اچھی ہے فرمایا کھانا کھلانا اور (ہر شخص کو) سلام کرنا جان پہچان ہو یا نہ ہو۔ بخاری و مسلم۔ مسئلہ : سوار پیدل کو ‘ پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے بہت کو سلام کریں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت کے یہ الفاظ صحیحین میں آئے ہیں لیکن بخاری نے اتنا اور نقل کیا ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ مسئلہ : لڑکوں اور عورتوں کو (بھی) سلام کیا جائے کیونکہ حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ : ﷺ لڑکوں کی طرف سے گزرے اور ان کو سلام کیا۔ بخاری و مسلم۔ حضرت جریر ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ : ﷺ عورتوں کی طرف سے گزرے اور ان کو سلام کیا۔ رواہ احمد۔ فتاوی الغرائب میں مذکور ہے کہ جوان (اجنبی) عورت اور امرد لڑکے کو سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر یہ خود سلام کریں تو جواب دینا واجب نہیں ہے میں کہتا ہوں یہ حکم فتنہ کے اندیشہ کے وقت ہے۔ مسئلہ : گھر والا گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرے۔ حضرت انس ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے بیٹے تو اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کر تیرے لئے اور تیرے گھر والوں کے لئے برکت ہوگی۔ رواہ الترمذی۔ مسئلہ : اگر خالی گھر میں کوئی داخل ہو تو کہے السَّلام علینا وعلی عباداللّٰہ الصلحین۔ : فرشتے سلام کا جواب دیں گے۔ کذافی الشرعۃ۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَۃً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ مُبَارَکَۃً طَیِّبَۃً : (اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مفسر (رح) کے نزدیک آیت میں بیوتاً سے خالی مکان اور انفسکم : سے خود اپنی ذات مراد ہے۔ واللہ اعلم) مسئلہ : کلام کرنے سے پہلے سلام کرنا مسنون ہے۔ حضرت جابر ؓ کی مرفوع حدیث ہے السلام قبل الکلام۔ (رواہ الترمذی) مسئلہ : مسلمان بھائی کو ہر مرتبہ سامنا ہونے پر سلام کرنا مسنون ہے اگر سلام کرنے کے بعد درخت یا دیوار کی آڑ ہوجائے اور پھر سامنا ہوجائے تو ازسر نو سلام کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اس کو سلام کرے (سلام کے بعد) اگر کسی درخت یا دیوار کی دونوں کے درمیان آڑ ہوجائے اور پھر سامنا ہوجائے تو پھر سلام کرے۔ (رواہ ابوداؤد) مسئلہ : رخصت کے وقت سلام کرنا مسنون ہے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو پھر وہاں سے نکلو تو سلام کر کے رخصت ہو۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان مرسلاً ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اگر کسی مجلس پر پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا ہو تو بیٹھ جائے لیکن اٹھتے وقت پھر سلام کرے۔ اول سلام دوسرے سلام سے زیادہ ضروری نہیں ہے۔ (یعنی اول کی طرح دوسرا سلام بھی ضروری ہے) رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ مسئلہ : اگر کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو جس کو سلام پہنچایا ہو وہ کہے علیک وعلیہ السلام۔ غالب نے اپنے باپ کی وساطت سے دادا کا مقولہ نقل کیا ہے کہ مجھے میرے باپ نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں بھیجا اور کہا حضور ﷺ سے جا کر میرا سلام کہہ دیجئے (میں نے حاضر ہو کر سلام پہنچا دیا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھ پر اور تیرے باپ پر سلام ہو۔ رواہ ابوداؤد۔ مسئلہ : کافروں کو ابتداء سلام کرنا ناجائز ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودیوں اور عیسائیوں کو اوّل سلام نہ کرو۔ اگر راستہ میں مل جائیں تو ان کو تنگ راستہ میں چلنے کے لئے مجبور کرو (یعنی خود کشادہ راستہ پر چلو) رواہ مسلم۔ اگر جماعت میں مسلمان اور بت پرست مشرک اور یہودی ملے جلے ہوں تو ان کو سلام کیا جائے۔ شیخین نے حضرت اسامہ ؓ بن زید کی مرفوع حدیث اس مضمون کی نقل کی ہے لیکن سلام کرتے وقت نیت مسلمان کو سلام کرنے کی ہو تاکہ کافر کو ابتدائی سلام نہ ہو۔ مسئلہ : ذمی کافروں کے سلام کا جواب دینے میں کوئی ہرج نہیں مگر صرف وعلیک کہے ‘ اس سے زیادہ نہ کہے کیونکہ حضرت انس ؓ کی روایت سے شیخین نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو وعلیکم کہہ دو ۔ (1) [ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا مخلوق خدا میں سے جو بھی تجھے سلام کرے خواہ یہودی ہو یا عیسائی یا مجوسی تو سلام کا جواب ضرور دے کیونکہ اللہ فرماتا ہے اذا حییتم بتحیۃ رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد۔ از مفسر ] مسئلہ : نماز اور خطبہ کے اندر سلام کا جواب دینا جائز نہیں۔ اگر دے دیا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ بلند آواز سے قرآن پڑھتے وقت حدیث نقل کرتے وقت ‘ علمی مذاکرہ کے وقت ‘ اذان اور اقامت کہتے وقت سلام کا جواب دینا واجب نہیں ‘ صرف جائز ہے۔ ان اللہ کان علی کل شی حسیبا یقینی طور پر اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے اور بدلہ دینے والا ہے۔ مجاہد (رح) نے حسیباً کا ترجمہ حفیظاً (نگران) کیا ہے یعنی اللہ بندوں کے تمام باہمی حقوق کی حساب فہمی کرے گا جیسے سلام کرنا ‘ چھینکنے والے کو دعا دینا وغیرہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مؤمن کے مؤمن پر چھ حق ہیں اگر بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کو جائے ‘ مرجائے تو جنازہ میں شرکت کرے۔ دعوت کرے تو قبول کرے۔ ملاقات کے وقت سلام کرے ‘ اس کو چھینک آجائے تو دعا کرے۔ حاضر غائب اس کی خیرخواہی کرے۔ رواہ النسائی۔ ترمذی اور دارمی نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس روایت میں خیرخواہی کرنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ چھٹے نمبر پر ہے کہ جو بات اپنے لئے پسند کرے وہی اس کے لئے پسند کرے۔ حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری (رح) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سرراہ بیٹھنے والوں سے اجتناب کرو۔ ہم نے عرض کیا ہماری تو بیٹھکیں ہی سر راہ ہیں ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرنے پر مجبور ہیں فرمایا اگر وہاں بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستہ کا حق ادا کرو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ راستہ کا کیا حق ہے فرمایا آنکھ نیچی رکھنا ‘ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا۔ سلام کا جواب دینا۔ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ متفق علیہ۔ اسی قصہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آیا ہے اور راستہ بنانا۔ رواہ ابوداؤد۔ اسی قصہ میں حضرت عمر ؓ کی روایت سے آیا ہے ” اور مصیبت زدہ کی مدد کرو اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتاؤ “۔ رواہ ابوداؤد۔ مسئلہ : سلام کی تکمیل مصافحہ اور معانقہ ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے باہم سلام کا تکملہ مصافحہ ہے۔ رواہ احمد والترمذی عن ابی امامہ ؓ ۔ حضرت ابوذر ؓ کا بیان ہے کہ جب کبھی میں رسول اللہ ﷺ سے ملا آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ ضرور کیا ایک روز حضور ﷺ نے مجھے بلانے کو میرے گھر کسی کو بھیجا۔ میں گھر پر موجود نہ تھا ‘ گھر آکر مجھے اطلاع ملی میں فوراً خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ تخت پر تشریف فرما تھے ‘ مجھے چمٹا لیا اور یہ معانقہ بہت ہی عمدہ اور اعلیٰ تھا۔ رواہ ابوداؤد۔ شعبی کا بیان ہے کہ جعفر بن ابی طالب (جب سفر سے) واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا استقبال کیا اور ان کو چمٹا لیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان چوما۔ رواہ ابوداؤد البیہقی فی شعب الایمان مرسلاً لیکن شرح السنۃ میں بیاضی کی روایت سے یہ حدیث متصلاً آئی ہے۔ شرح السنۃ میں حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کا بیان آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا استقبال کیا اور معانقہ فرمایا۔ عطا خراسانی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا باہم مصافحہ کرو کینہ دور ہوگا ‘ ایک دوسرے کو ہدیہ دو آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی۔ رواہ مالک مرسلاً ۔ حضرت براء بن عازب کا بیان ہے کہ دو مسلمان جب باہم مصافحہ کرتے ہیں تو دونوں کے درمیان جو گناہ ہوتا ہے جھڑ جاتا ہے باقی نہیں رہتا۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

اللہ لا الہ الا ہو اللہ ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے قابل نہیں۔ اللہ مبتدا ہے اور لا الہ الا ہو خبریا جملہ معترضہ تاکید یہ ہے سابق اور لاحق میں جو تہدید کا مضمون ہے اس کی تاکید اس جملہ سے ہو رہی ہے اور مبتدا (اللہ) کی خبر لیجمعنکم : ہے۔ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ وہ ضرور ضرور تم کو (قبروں سے نکال کر) قیامت کے دن جمع کرے گا۔ آیت سابقہ میں حسیباً آیا تھا اس جملہ کا مفہوم بھی حسیباً کی طرح ہے۔ الی یوم القیمۃ میں الییا فی کے معنی میں ہے (اسی کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے) یا اس کا متعلق محذوف ہے یعنی تم قیامت کے دن کی طرف جاؤ گے۔ قیام اور قیامت دونوں مصدر ہیں جیسے طلاب : اور طلابۃ۔ اس سے مراد ہے حساب کے لئے کھڑا ہونا۔ لاریب فیہ اس میں یعنی قیامت ہونے میں یا تمہارے جمع کرنے میں کوئی شک نہیں۔ ومن اصدق من اللہ حدیثا اور اللہ سے زیادہ سچی بات کہنے والا کون ہے۔ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ سے زیادہ سچا کوئی نہیں۔ یہ جملہ گویا لاریب فیہ کی علت ہے کیونکہ اللہ کی خبر میں تو کسی طور پر دروغ گوئی کا احتمال ہی نہیں ہے ‘ جھوٹ عیب ہے اور اللہ کی شان میں عیب محال ہے اس لئے جب اس نے قیامت کے متعلق لاریب فیہ : فرما دیا تو یقیناً قیامت ہوگی اور سب لوگ جمع ہوں گے۔ بخاری وغیرہ نے حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ احد کی جانب (قریش سے مقابلہ کرنے) چلے تو ساتھیوں میں کچھ (منافق) لوگ راستہ سے ہی لوٹ آئے۔ لوٹنے والوں کے متعلق صحابہ کے دو فرقے ہوگئے ایک فرقہ کا خیال تھا کہ ہم کو ان سے لڑنا چاہئے دوسرا فرقہ کہتا تھا نہ لڑنا چاہئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:88

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے

فما لکم من المنفقین فئتین . پس تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے۔ فمالکم میں فاء تفریع کے لئے ہے۔ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا پر مابعد فاء متفرع ہے مطلب یہ ہے کہ تم آپس میں تفرقہ اور اختلاف کیوں کرتے ہو ‘ اپنا معاملہ اس خدا کے سپرد کیوں نہیں کردیتے جو سب سے زیادہ سچا ہے جو کچھ اس نے بیان کیا اس پر یقین رکھو اور وہ جو بھی حکم دے اس کی تعمیل کرو۔ سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کی روایت سے بیان کیا (1) [ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تقریر کی اور فرمایا تمہاری ایسے شخص کے متعلق کیا رائے ہے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں میں لڑائی کراتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی بی بی کے بارے میں بدگوئی کرتا (اور تہمت لگاتا ہے) حالانکہ اس بی بی کو اللہ نے خود پاک قرار دے دیا ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے وہ آیات تلاوت کیں جن کے اندر حضرت عائشہ ؓ کی پاکدامنی کا اظہار کیا گیا ہے اور اس کے بعد آیت فما لکم المنفقین فئتین نازل ہوئی۔] کہ (ایک روز) رسول اللہ ﷺ نے تقریر کی اور فرمایا جو شخص مجھے دکھ پہنچا رہا ہے اور اپنے گھر میں ایسے لوگوں کو جمع کرتا ہے جو مجھے ایذا دیتے ہیں ‘ میری حمایت میں ان سے نمٹنے کے لئے کون تیار ہے ‘ سعد بن معاذ نے کہا اگر وہ شخص قبیلۂ اوس میں سے ہے تو ہم اس کو قتل کردیں گے اور اگر ہمارے خزرجی بھائیوں میں سے ہے تو آپ حکم دیں ہم حکم کی تعمیل کریں گے۔ یہ سن کر سعد ؓ بن عبادہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ابن معاذ ؓ یہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی طاعت نہیں ہے کیونکہ تم جانتے ہو وہ شخص تم میں سے نہیں ہے اس پر اسید بن حضیر نے کھڑے ہو کر کہا اے ابن عبادہ تو منافق ہے ‘ منافق سے تجھے محبت ہے۔ یہ اختلاف دیکھ کر محمد بن مسلمہ نے کھڑے ہو کر کہا لوگو خاموش ہوجاؤ۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے اندر موجود ہیں وہ ہم کو جو حکم دیں ہم اس کی تعمیل کریں گے اس پر آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ امام احمد (رح) نے حضرت عبدالرحمن ؓ بن عوف کی روایت سے بیان کیا ہے کہ عرب کے کچھ لوگ رسول اللہ : ﷺ کی خدمت میں مدینہ میں آگئے لیکن مدینہ اور اس کی چراگاہوں کی (مرطوب ہوا سے پیداشدہ) وبا (ملیریا) میں مبتلا ہوگئے لہٰذا ان کو لوٹا دیا گیا ‘ وہ مدینہ سے نکل گئے ‘ راستہ میں کچھ صحابیوں ؓ سے ملاقات ہوئی۔ صحابہ ؓ نے ان سے واپسی کی وجہ دریافت کی انہوں نے جواب دیا ‘ مدینہ کی وبا ہم کو لگ گئی۔ صحابہ ؓ نے کہا تم نے رسول اللہ : ﷺ کی پیروی نہیں کی (کہ حضور ﷺ تو ہجرت کے بعد مدینہ رہ پڑے اور تم بیماری سے گھبرا کر واپس لوٹ رہے ہو) چناچہ صحابہ ؓ کے ان کے متعلق دو خیال ہوگئے۔ بعض نے کہا وہ لوگ منافق ہوگئے بعض نے کہا انہوں نے نفاق نہیں کیا اس پر اللہ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ (2) روایت کی اسناد میں تدلیس بھی ہے اور انقطاع بھی (اس لئے قابل قبول نہیں) بغوی نے مجاہد کے حوالہ سے لکھا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ آئے مسلمان ہوئے لیکن پھر مرتد ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ سے مکہ واپس جا کر اپنا تجارتی مال لانے کی اجازت طلب کی (اجازت کے بعد) چلے گئے اور جا کر مکہ میں رہ پڑے ‘ ان لوگوں کے متعلق مسلمانوں کی رائے مختلف ہوگئی۔ بعض نے کہا وہ منافق تھے اور بعض نے ان کو مؤمن خیال کیا۔ بعض علماء نے بیان کیا کہ کچھ قریشی مدینہ آکر مسلمان ہوگئے پھر ان کو پشیمانی ہوئی اور تفریح کرنے والوں کے طریقہ پر مدینہ سے باہرنکل گئے جب مدینہ سے دور ہوگئے تو وہاں سے رسول اللہ ﷺ کو خط لکھا کہ ہم اپنے سابق ایمان پر قائم ہیں مگر مدینہ کے اندر ہم کو پیٹ کا روگ لگ گیا اور اپنے وطن کا بھی شوق غالب آیا (اس لئے ہم چلے آئے) کچھ مدت کے بعد یہ لوگ تجارت کے لئے ملک شام کو گئے۔ مسلمانوں کو ان کی روانگی کی اطلاع مل گئی اس پر بعض لوگوں نے کہا ہم کو چاہئے کہ جا کر ان سے لڑیں اور ان کو لوٹ لیں کیونکہ وہ ہمارے مذہب سے پھرگئے ہیں ‘ دوسروں نے کہا تم ایسے لوگوں سے جو تمہارے مذہب پر ہیں صرف اس وجہ سے کیسے لڑ سکتے ہو کہ انہوں نے اپنی بستیاں نہیں چھوڑیں ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض روایات میں آیا ہے یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں مسلمان ہوگئے تھے مگر ہجرت نہیں کی تھی اور مشرکوں کی مدد کرتے تھے انہی کے متعلق آیت کا نزول ہوا۔ واللہ ارکسہم اور اللہ نے ان کو (کفر کی طرف) لوٹا دیا۔ رکس : کا معنی لغت میں کسی چیز کو پلٹا دینے کے ہیں۔ بما کسبوا ان کے اعمال کی وجہ سے یعنی مرتد ہونے اور دارالحرب میں چلے جانے کی وجہ سے۔ اتریدون ان تہدوا من اضل اللہ کیا تم چاہتے ہو کہ جس کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو ہدایت یاب بنا دو ۔ یا یہ مطلب ہے کہ کیا جس کو خدا نے گمراہ قرار دیا ہے اس کو تم ہدافت یافتہ کہو۔ اس آیت میں اس امر کی دلیل ہے کہ بندوں کے تمام افعال کا خالق اللہ ہے اور بندہ کا سب ہے (یعنی فاعل بندہ اور خالق خدا ہے) (1) [ گویا اس سے اشاعرہ کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے کہ تمام افعال کا خالق ایک ہی ہے اور بندہ کو جزا سزا اس کے کا سب ہونے کی وجہ سے ہے اور معتزلہ کا قول غلط ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے یا خیر کا خالق اللہ ہے اور شرکا کا خالق بندہ۔] ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تم کو اس کے لئے (حق تک پہنچانے والا) راستہ نہیں ملے گا۔
Ayah 4:89

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء (جو لوگ کفر کی طرف لوٹ گئے) وہ تو دل سے چاہتے ہیں کہ کاش تم بھی ایسے کافر ہوجاؤ جیسے وہ ہوگئے یعنی اپنے کفر کی طرح تمہارے کافر ہوجانے کی ان کو تمنا ہے تاکہ (گمراہی میں) تم سب برابر ہوجاؤ۔ فلا تتخذوا منہم اولیآء پس ان میں سے (کسی کو) تم دوست نہ بناؤ۔ ان مرتدوں کی دوستی سے اس آیت میں میں ممانعت فرما دی۔ حتی یہاجروا فی سبیل اللہ تاوقتیکہ (خالص مؤمن ہو کر محض ثواب کی امید پر بغیر کسی دنیوی لالچ کے وہ تمہارے ساتھ مل کر) اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ہجرت تین طرح کی ہوتی ہے : (1) وہ ہجرت جو آغاز اسلام میں مسلمانوں نے کی تھی ‘ (2) مجاہدوں کی ہجرت یعنی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ صرف ثواب کی امید کے زیر اثر جہاد کے لئے نکلنا (1) [ اسی دوسری ہجرت کو حتی یہاجروا میں ذکر کیا۔ جس پر ان کو دوست بنانا اور ان سے سوالات کرنا موقوف ہے۔] (3) باقی مسلمانوں کا تمام ممنوعاتِ الٰہیہ کو ترک کردینا۔ فان تولوا پس اگر یہ (ایمان کے بعد اسلام سے یا ہجرت سے) پھرجائیں۔ چونکہ اس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس لئے پھرجانے سے مراد ہجرت سے پھرجانا بھی ہوسکتا ہے۔ فخذوہم تو ان کو قیدی بنا لو۔ واقتلوہم حیث وجدتموہم اور (دوسرے کافروں کی طرح) جہاں پاؤ ان کو قتل کرو۔ ولا تتخذوا منہم ولیا اور ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ۔ دوست نہ بنانے کی یہ ممانعت تاکیدی ہے یا یوں کہا جائے کہ سابق کی ممانعت دوستی گرفتار کرنے سے قبل تھی اور یہ ممانعت گرفتار کرنے کے بعد ہے۔ ولا نصیرا اور نہ مددگار۔ اس لفظ سے ثابت ہو رہا ہے کہ کافروں سے (جنگی) امداد لینا جائز نہیں۔ زہری نے بیان کیا ہے۔ ابن ابی جب احد سے لوٹ آیا تو صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی کہ جو یہودی ہمارے معاہد ہیں ہم ان سے مدد طلب کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ خبیث ہیں ہم کو ان کی ضرورت نہیں۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینہم میثاق سوائے ان کے جو ایسے لوگوں کے پاس پہنچ جائیں جن سے تمہارا معاہدہ ہے۔ یہ فخذوہم واقتلوہم سے استثناء ہے۔ ایک سوال : مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ کے درمیان جملۂ معترضہ (وَلاَ تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلاَنَصِیْرًا) لانے کی کیا ضرورت تھی استثناء میں تو اس کا کوئی دخل نہیں۔ جواب : لاَ تَتِخَّذُوْا کا ذکر تاکید قتل کے لئے ہے گویا یوں فرمایا کہ ان کو قتل کرو اور دوستی یا مدد کی طمع میں ان کے قتل کو ترک نہ کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ معاہد قوم سے مراد بنی اسلم کا قبیلہ ہے۔ قصہ یہ ہوا تھا کہ ہلال بن عویمر اسلمی کے مکہ کو جانے سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور اس کے درمیان ایک معاہدہ ہوگیا تھا کہ ہلال نہ رسول اللہ ﷺ کی مددکرے گا نہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف دشمنوں کی مدد کرے گا اور ہلال کے پاس اگر کوئی شخص اس کے قبیلہ کا ہو یا غیر پہنچ کر پناہ گزین ہوجائے گا تو ہلال کی طرح وہ بھی مامون رہے گا (نہ اس کو گرفتار کیا جائے گا نہ قتل) کذا روی ابن ابی حاتم عن مجاہد۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حسن کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سراقہ بن مالک نے بیان کیا کہ جب بدر اور احد میں رسول اللہ ﷺ کو غلبہ حاصل ہوگیا اور اردگرد کے لوگ مسلمان ہوگئے تو مجھے اطلاع ملی کہ آپ خالد ؓ بن ولید کو میری قوم بنی مدلج کے پاس (جنگ کے ارادہ سے) بھیجنا چاہتے ہیں میں فوراً خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ خالد ؓ کو میری قوم کی طرف بھیجنا چاہتے ہیں میں آپ کو احسان کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ میری قوم کو اسی حالت پر رہنے دیں۔ اگر آپ کی قوم مسلمان ہوگئی تو وہ بھی مسلمان ہوجائیں گے اور آپ کی قوم مسلمان نہ ہوئی تو ان سے کوئی اندیشہ نہیں۔ حضور ﷺ نے خالد ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ان کے ساتھ چلے جاؤ اور جیسا چاہو کرو چناچہ خالد ؓ نے جا کر بنی مدلج سے اس شرط پر صلح کرلی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی کو مدد نہ دیں گے اور اگر قریش مسلمان ہوگئے تو وہ بھی مسلمان ہوجائیں گے اور اللہ نے آیت : اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیَنْہُمْ مِیْثَاقٌنازل فرمائی۔ پس اس صراحت کے موافق جو شخص ان کے پاس جا پہنچتا اس کا شمار انہی میں سے کیا جاتا اور وہ بھی معاہدہ میں شریک قرار دیا جاتا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت الا الذین یصلون الی قوم۔۔ ہلال بن عویمر اسلمی اور سراقہ بن مالک مدلجی اور بنی خزیمہ بن عامر بن عبدمناف کے متعلق نازل ہوئی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ معاہد لوگ بنی بکر بن زید مناۃ تھے مقاتل نے کہا یہ بنی خزاعہ تھے۔ اوجآء و کم یا تمہارے پاس آجائیں۔ جاؤکمکو ماضی کے معنی میں لیا جائے یا مضارع کے معنی میں بہرحال اس کا عطف الا الذین یصلون پر ہے یا قوم کی صفت پر عطف یعنی وہ تم سے معاہدہ رکھنے والی قوم کے پاس پہنچ جائیں یا ان لوگوں کے پاس جو غیرجانبدار ہیں اول عطف زیادہ مناسب ہے کیونکہ آگے فان اعتزلوکم آتا ہے اور مرتدوں سے تعرض نہ کرنے کا حکم اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ وہ جنگ سے دست بردار ہوجاتے ہیں اس لئے نہیں ہے کہ وہ غیر جانبداروں سے جا کر مل جاتے ہیں۔ حصرت صدورہم ان یقاتلوکم او یقاتلوا قومہم وہ تمہارے پاس ایسی حالت میں آتے ہیں کہ وہ تم سے اپنی قوم سے لڑنے سے نفرت کرتے ہیں۔ ان یقاتلوکم سے پہلے لفظ عَنْیا لفظ کراہت محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ تمہارا اور ان کا معاہدہ ہے اس لئے تم سے وہ لڑنا پسند نہیں کرتے اور تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم قریش سے بھی نہیں لڑتے (کیونکہ قریش ان کی قوم ہے) یہ لوگ (یقینا) بنی مدلج (سراقہ بن مالک کے قبیلہ والے) تھے بنی مدلج نے معاہدہ کرلیا تھا کہ مسلمانوں سے جنگ نہیں کریں گے اور قریش سے بھی نہ لڑنے کا عہد کرلیا تھا۔ اللہ نے اس آیت میں ان مرتدوں سے لڑنے کی ممانعت فرما دی جو مسلمانوں سے معاہدہ رکھنے والی قوم کے پاس چلے جائیں ایسے مرتدوں کو حکم بھی اہل معاہدہ کا حکم ہے اگر ان سے جنگ کی جائے تو گویا یہ اہل معاہدہ سے جنگ ہوگی۔ ولو شآء اللہ لسلطتہم علیکم فلقاتلوکم اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا (تمہارا رعب ان کے دلوں) سے زائل کردیتا) اور وہ تم سے جنگ کرتے لڑائی سے باز نہ رہتے لقاتلوکم میں دوبارہ لازم کو اس لئے ذکر کیا کہ مسلط اور قاتلوا دونوں کا مجموعہ جزاء شرط نہیں ہے بلکہ ہر ایک مستقل جزا ہے کیونکہ مسلط کردینے کے بعد لڑنا لازم نہیں ہے قتال پھر بھی مشیت پر موقوف ہے۔ فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم پھر اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں اور تم سے نہ لڑیں اور تم سے آشتی کا سلوک رکھیں۔ سلم سے مراد ہے صلح و آشتی۔ فما جعل اللہ لکم علیہم سبیلا تو اللہ نے تم کو ان پر کوئی راہ نہیں دی یعنی ان کو قید اور قتل کرنے کی راہ تمہارے لئے جائز نہیں کی۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنوا قومہم بعض ایسے بھی تم کو ملیں گے جو تم سے بےخطر ہو کر رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی بےخطر ہو کر۔ کلبی نے ابوصالح کے حوالہ سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ لوگ بنی اسد اور بنی غطفان کے اشخاص تھے مدینہ میں آکر رہنے لگے تھے۔ دکھاوٹ کے لئے اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے مگر واقعی میں مسلمان نہ تھے جب ان میں سے کسی سے اس کی قوم والے کہتے تھے کہ تو کیوں مسلمان ہوگیا تو جواب دیتا میں اس بندر اور بچھو پر ایمان لایا ہوں (یعنی بندر اور بچھو سے امن پانے کے لئے ایمان لایا ہوں) لیکن جب صحابہ ؓ سے اس کی ملاقات ہوتی تو کہتا میں آپ لوگوں کے دین پر ہوں۔ اس دوغلے پن سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے بےخطر ہوجائے۔ کلما ردوا الی الفتنۃ ارکسوا فیہا جب بھی ان کو کفر اور مسلمانوں سے لڑنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ بدترین صورت سے الٹ پڑتے ہیں۔ فان لم یعتزلوکم ویلوا الیکم السلام ویکفوا ایدیہم پس اگر تم سے (لڑنے سے) علیحدہ نہ رہیں اور (طالب صلح ہو کر) تم سے آشتی نہ کریں اور (شرارت سے) اپنے ہاتھ نہ روکیں۔ فخذوہم واقتلوہم حیث ثقفتموہم تو ان کو پکڑو اور جہاں ہاتھ لگ جائیں قتل کرو۔ (یعنی جہاں تم کو موقع مل جائے اور تمہارے پنجہ میں آجائیں قتل کر دو ) واولئکم جعلنا لکم علیہم سلطنا مبینا ایسے لوگوں کے خلاف ہم نے تم کو کھلی ہوئی دلیل دے دی ہے۔ ان سے لڑنے کے جواز کی دلیلیں موجود ہے کہ ان کی عداوت کھل گئی ان کا حال معلوم ہوگیا ان کا کافر ہونا مسلمانوں سے غداری کرنا اور دکھ پہنچانا سامنے آگیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ عیاش بن ربیعہ مخزومی (ابوجہل کا ماں جایا بھائی) ہجرت سے پہلے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگیا لیکن پھر اس کو اندیشہ ہوا کہ گھر والوں سے میرا مسلمان ہوجانا مخفی نہیں رہے گا اس لئے بھاگ کر مدینہ چلا گیا اور وہاں پہنچ کر ایک گڑھی میں قلعہ بند ہوگیا۔ عیاش کے جانے سے ماں کو بڑی بےتابی ہوئی اور اس نے اپنے دونوں بیٹوں ابوجہل اور حارث سے (جو ہشام کے نطفے سے تھے) کہا اللہ کی قسم جب تک تم عیاش کو نہ لاؤ گے میں نہ کسی چھت کے سایہ میں جاؤں گی نہ کھانا چکھوں گی نہ پانی۔ ماں کی قسم سن کر دونوں عیاش کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور حارث بن زید بن ابی انیسہ بھی ان کے ساتھ ہو لیا عیاش کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ گڑھی میں پہاڑی پر قلعہ بند ہے اس سے کہا تم نیچے آجاؤ تمہارے بعد تمہاری ماں نے قسم کھالی ہے کہ جب تم تک نہ پہنچ جاؤ گے وہ چھت کے سایہ میں نہ جائے گی اور نہ کچھ کھائے پیئے گی اور ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم کو کسی بات پر مجبور نہیں کریں گے نہ تمہارے مذہب سے تم کو روکیں گے۔ جب ان لوگوں نے ماں کی بےتابی کا تذکرہ کیا اور اللہ کی قسمیں کھائیں تو عیاش گڑھی سے اتر آیا۔ یہ لوگ اس کو مدینہ سے نکال کرلے چلے پھر اس کو نواڑ سے باندھ دیا اور ہر ایک نے سو سو تسمے اس کے مارے اور لے جا کر ماں کے پاس پہنچا دیا ماں نے دیکھ کر کہا خدا کی قسم میں تیری بندش اس وقت تک نہیں کھولوں گی جب تک تو اس چیز کا انکار نہ کر دے گا جس پر ایمان لایا ہے ‘ پھر (بیچارے کو) یونہی باندھا ہوا دھوپ میں ڈال دیا اور جب تک اللہ کی مشیت تھی وہ پڑا رہا آخر کار جو بات وہ لوگ چاہتے تھے عیاش نے (بظاہر) وہی کردی (اور عیاش کو کھول دیا گیا) اتنے میں حارث بن زید آگیا اور وہ بولا عیاش کیا یہی وہ بات تھی جو تو نے اختیار کی تھی (یعنی بس تیرے ایمان کے یہی کس بل تھے کہ ذرا سی تکلیف سے اپنا خیال چھوڑ بیٹھا) خدا کی قسم جس بات کو تو نے اختیار کیا تھا اگر وہ ہدایت تھی تو تو نے ہدایت چھوڑ دی اور اگر وہ گمراہی تھی تو اب تک گمراہی پر تھا۔ عیاش کو اس کی بات پر غصہ آگیا اور کہنے لگا خدا کی قسم اگر تنہائی میں تو میرے ہاتھ لگ گیا تو قتل کئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ کچھ مدت کے بعد عیاش پھر مسلمان ہوگیا اور مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلا گیا۔ عیاش کے کچھ زمانہ کے بعد حارث بن زید بھی مسلمان ہوگیا اور ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ حارث کے پہنچنے کے وقت عیاش وہاں موجود نہ تھا نہ اس کو حارث کے مسلمان ہونے کی اطلاع ملی۔ ایک روز عیاش قبا کے باہر جا رہا تھا کہ سامنے سے حارث آگیا اور عیاش نے حارث کو قتل کردیا۔ لوگوں نے کہا ارے تو نے یہ کیا کیا حارث تو مسلمان ہوگیا تھا۔ یہ سنتے ہی عیاش ؓ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرا اور حارث ؓ کا یہ واقعہ ہوا تھا اور آپ ﷺ واقف ہیں کہ مجھے اس کے مسلمان ہونے کا علم نہ تھا اور اسی لا علمی میں میں نے اسے مار ڈالا۔ ابن جریر نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ حارث بن زید بن عامر بن لوی ابوجہل کے ساتھ شریک ہو کر عیاش کو عذاب دیا کرتا تھا۔ پھر حارث ؓ ہجرت کر کے چلا آیا اور جرہ میں عیاش سامنے سے آگیا۔ عیاش سمجھتا تھا کہ حارث ؓ : کافر ہے اس لئے تلوار سے اس کو مار ڈالا اور پھر رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کردیا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔