4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے

وابتلو الیتمیٰ اور یتیموں کی جانچ کرلو۔ یعنی بالغ ہونے سے پہلے یتیموں کی عقل کی جانچ کرلو تھوڑا سا مال ان کے قبضہ میں دے کر دیکھو کہ وہ کس طرح اس میں تصرف کرتے ہیں اگر وہ ہوشیار ہوں گے تو شروع میں ہی ان کی ہوشیاری ظاہر ہوجائے گی۔ ہوشیار بچہ کو تجارتی لین دین کی اجازت اس آیت سے معلوم ہوتی ہے یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ امام شافعی کے نزدیک بچہ کو تجارت کی اجازت نہیں اور آیت میں جانچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے نکاح کے مبادی ان کے سپرد کردیئے جائیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول زیادہ ظاہر ہے۔ حتی اذا بلغوا النکاح یہاں تک کہ جب وہ نکاح کو پہنچ جائیں یعنی اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نکاح اور نسل آفرینی کی ان میں صلاحیت پیدا ہوجائے لڑکے میں اسکی علامت احتلام جماع کے وقت انزال اور صلاحیت تولید ہے اور لڑکی میں حیض احتلام اور حاملہ ہونے کی صلاحیت ہے اگر ان علامات میں سے کوئی علامت نہ پیدا ہو تو امام مالک، امام احمد، امام شافعی، امام ابو یوسف کے نزدیک لڑکے اور لڑکی کے بلوغ کی عمر پورے پندرہ سال ہیں ایک روایت میں امام ابوحنیفہ کا قول بھی یہی آیا ہے اور اسی پر فتویٰ بھی ہے مگر امام صاحب کا مشہور قول یہ ہے کہ لڑکی کے لیے پورے سترہ اور لڑکے کے لیے پورے اٹھا رہ سال اور ایک روایت کے بموجب پورے انیس سال ہونا چاہئے۔ جمہور نے اپنے مسلک کی دلیل میں حضرت انس کی روایت کو پیش کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب مولود (بچہ اور بچی) کی عمر پورے پندرہ سال کی ہوجاتی ہے تو اس کے مفید مضر اعمال لکھے جاتے ہیں اور اس پر حدود قائم کی جائیں۔ (رواہ البیہقی فی الخلافیات) اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ صحیحین میں حصرت ابن عمر کا قول آیا ہے کہ احد کے دن جب کہ میری عمر چودہ سال تھی (شرکت جنگ کی اجازت کے لیے) مجھے رسول اللہ کی خدمت میں پیش کیا گیا آپ ﷺ نے شرکت کی اجازت نہیں دی۔ پھر خندق کے دن جب کہ میری عمر 15 سال تھی مجھے حضور ﷺ کے معاینہ میں پیش کیا گیا اس وقت آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ امام احمد کے نزدیک بلوغ کی ایک علامت پوشیدہ بالوں کی روئیدگی بھی ہے (مشرکین کے لیے بھی اور مسلمانوں کے لیے بھی) امام شافعی کے نزدیک مشرکین کے لیے بلوغ کی علامت روئیدگی ہے مسلمانوں کے لیے نہیں ہے یا ہے۔ یہ دونوں روایتیں امام شافعی سے منقول ہیں امام ابوحنیفہ (رح) پوشیدہ بالوں کی روئیدگی یا عدم روئیدگی کو ہیچ قرار دیتے ہیں ناقابل اعتبار۔ امام احمد و امام شافعی کے قول کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو ابن حبان اور حاکم اور اصحاب سنن نے بیان کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے کہ عطیہ قرظی نے فرمایا : بنی قریظہ (کی گرفتاری وقتل) کے دن مجھے رسول اللہ کے معاینہ میں پیش کیا گیا کیونکہ لوگوں کو میرے بالغ اور نا بالغ ہونے میں شک تھا رسول اللہ نے حکم دیا کہ پوشیدہ بالوں کو دیکھو پیدا ہوگئے ہیں یا نہیں لوگوں نے حکم کی تعمیل کی مگر بال نہ پائے اس لیے مجھے (قتل سے) چھوڑ دیا گیا اور قیدیوں میں شامل کردیا گیا۔ فان انستم منھم رشدا پس اگر بلوغ کے بعد تم ان سے ہوشیاری دیکھو (محسوس کرو) یعنی لین دین میں خرابی محسوس نہ ہو اور معاملات میں درستی نظر آئے۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد نے رشدًا کا مطلب یہی بیان کیا ہے امام شافعی نے فرمایا۔ صلاح دین، حفاظت مال اور مال کو ترقی دینے کی تدبیروں کا علم رشد سے مراد ہے۔ بیہقی نے علی ؓ بن طلحہ ؓ کی سند سے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ جب تم کو ان کے اندر دینی صلاح اور حفاظت مال بلوغ کے بعد نظر آئے۔ ثوری نے جامع میں منصور کی روایت سے مجاہد کا قول بھی یہی نقل کیا ہے اور بیہقی نے یزید بن ہارون از ہشام بن حسان کی روایت سے حسن بصری کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ نتیجۂ اختلاف یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک فاسق صاحب رشد نہیں ہے اور دوسرے لوگوں کے نزدیک فاسق رشید ہے۔ فادففعوا الیھم اموالھم تو ان کا مال فوراً بالغ ہوتے ہیں بلا تاخیر ان کو دیدو۔ ترکیب عبارت اذا بلغواظرف ہے لیکن اس میں شرط کا معنی ہے اور ظرف کا تعلق ادفعوا سے ہے حتیٰ ابتدائیہ ہے ما قبل حتی ما بعد کا سبب ہے یہ حتی جارہ نہیں ہے کیونکہ اذا کے اندر فی (ظرفیت) کا معنی ہے۔ اس لیتے حتّٰی جارہ اس پر داخل نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ یتیموں کی جانچ کر لوتا کہ نکاح کی عمر کو پہنچنے پر جب تم کو ان کی ہوشیاری نظر آجائے تو ان کا مال ان کو دیدو۔ گو جانچ کرنا مال دینے کا سبب ہے لیکن دینا دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے بلوغ اور احساس رشد۔ اسی لیے امام شافعی، امام مالک، امام احمد اور صاحبین نے فرمایا : کہ جب تک رشد دیکھ نہ لیا جائے ان کا مال ان کے ہاتھوں میں نہ دیا جائے مگر امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک احساس رشد لازم نہیں۔ مال دینے کے لیے پچیس سال کی عمر پوری ہوجانا کافی ہے کیونکہ مال دینے کی ممانعت بچپن کے آثار کی وجہ سے کی گئی ہے اور ابتدائی بلوغ میں بچپن کے آثار باقی رہتے ہیں اور زیادہ وقت گذرنے پر نشان طفولیت ختم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ممانعت کا حکم باقی نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے امام صاحب کا قول ہے کہ بلوغ کے وقت اگر کوئی بچہ صاحب رشد تھا پھر سفیہ 1 ؂ ہو گیا تو مال سے اس کو نہیں روکا جائے گا کیونکہ اس کی یہ سفاہت بچپن کے اثر کی وجہ سے نہیں ہے۔ امام صاحب نے فرمایا : کہ رشداً کی تنوین تقلیل کے لیے ہے یعنی اگر تم کو ان کے اندر کسی قسم کا تھوڑا سا رشد بھی نظر آئے تو انکا مال دیدو۔ تکمیل رشد کا انتظار نہ کرو اور چونکہ پچیس سال کی عمر میں کسی نہ کسی قسم کا رشد کسی درجہ میں حاصل ہو ہی جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا مال دیدو مال کی روک کا حکم تو ادب آموزی کے لیے تھا اس عمر کے بعد ادب سیکھنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں یا یوں کہو کہ غالباً امکان ادب آموزی ختم ہوجاتا ہے ایسی حالت میں مال روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لہٰذا دیدینا لازم ہے۔ مسئلہ جس سفیہ کو مال دینے کی ممانعت کی گئی ہے اس کا کوئی مالی معاملہ نافذ نہیں ہوسکتا نہ بیع کرسکتا ہے نہ غلام کو آزاد کرسکتا ہے یہ مسلک امام شافعی کا ہے لیکن امام محمد کے نزدیک سفیہ کا وہ تصرف تو جاری ہوجائے گا جو فسخ کردینے کے قابل ہی نہیں ہے اور وہ تصرف نافذ نہ ہوگا جس کو ولی کی اجازت سے فسخ کیا جاسکتا ہے جیسے خریدو فروخت لیکن امام ابو یوسف اور اکثر علماء کے نزدیک جب تک قاضی نے روک نہ کردی ہو سفیہ کے تمام تصرفات نافذ ہوں گے اور قاضی ہر تصرف سے روک سکتا ہے۔ اگر قاضی روک دے تو سفیہ کی نہ بیع نافذ ہوگی نہ کوئی ایسا تصرف نافذہو گا جس میں مذاق کے طور پر زبان سے کہہ دینا بھی سنجیدگی کا حکم رکھتا ہے لیکن غلام کی آزادی کا حکم نافذ ہوجائے گا اور امام ابو یوسف کے نزدیک غلام پر لازم ہوگا کہ محنت مزدوری یا اور کوئی کام کرکے اپنی قیمت 2 ؂ ادا کرے امام محمد کے مثبت و منفی دو قول آئے ہیں اوّل قول امام ابو یوسف کے موافق ہے اور دوسرے قول میں غلام کو اپنی قیمت کا ذمہ دار نہیں قرار دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : قاضی کے لیے جائز ہی نہیں کہ کسی عاقل بالغ کو سبکی عقل یا دین یا فسق کی وجہ سے تصرفات سے روک دے۔ اس فعل کا معنی یہ ہوگا کہ آدمیت کے حقوق سلب کرکے چوپایوں میں اس کو پہنچا دے اور حقوق انسانیت کا سلب بربادی مال سے زیادہ سخت ہے ادنیٰ ضرر کو دفع کرنے کے لیے بڑے ضرر کو نہیں اختیار کیا جاسکتا۔ شافعی اور احمد وغیرہ سفیہ کو تصرفات سے روک دینے کے جواز کے قائل ہیں ان کے اس مسلک کی دلیل یہی آیت ہے آیت دلالت کر رہی ہے کہ سفیہ سے مال کو روک دیا جائے لیکن اگر اس کے ہاتھ کو تصرف سے روک بھی دیا جائے تب بھی کوئی نتیجہ نہ ہوگا کیونکہ وہ زبان سے (خریدوفروخت وغیرہ) تصرفات کرسکے گا اس لیے اس کو ہر طرح کی باز داشت قاضی کی طرف سے ہونی چاہئے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : مالی تصرف سے صرف ہاتھ کو روکنا بھی مفید ہوسکتا ہے کیونکہ سبکی عقل کا ظہور اکثر ہبہ اور صدقات و خیرات کی صورت میں ہوتا ہے اور ایسا تصرف ہاتھ کا محتاج ہے زبانی ہبہ (اور صدقہ) بغیر قبضہ کے نافذ نہیں۔ امام اعظم کی دلیل حضرت انس کی روایت ہے کہ ایک آدمی بیع و شراء کے معاملہ میں کمزور تھا مگر خریدو فروخت کرتا ضرور تھا اس کے گھر والوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس کو خریدو فروخت سے روکد یا جائے حضور ﷺ نے اس کو بلوا کر بیع کرنے کی ممانعت فرمادی۔ اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ سے تو بغیر بیع کے صبر نہیں ہوتا فرمایا : تو جب بیع کیا کرو تو یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکہ نہ ہونا چاہئے (مجھے فسخ کا اختیار ہے 1 ؂) ۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے دیکھو رسول اللہ نے اس کو بیع سے بالکل باز داشت نہیں کی اور تحریمی ممانعت نہیں فرمائی۔ شافعی (رح) کی طرف سے اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ وہ شخص خود قصداً اپنا مال برباد نہیں کرتا تھا بلکہ سبک عقلی کی وجہ سے خریدو فروخت میں اس کو نقصان ہوجاتا تھا اس کا تدارک حضور ﷺ کے اس قول سے ہوسکتا تھا کہ کوئی دھوکہ 2 ؂ نہ ہونا چاہئے۔ (چنانچہ آپ نے یہی فرمایا) اور ہماری گفتگو اس سفیہ کے متعلق ہے جو دانستہ خود اپنا مال برباد کرتا ہو۔ بغوی نے لکھا کہ سفیہ کو تمام مالی تصرفات سے روک دینے کے جواز کی دلیل صحابہ کا اتفاق آراء ہے۔ عروہ نے ہشام سے ہشام نے قاضی ابو یوسف سے امام ابو یوسف نے امام محمد سے، امام شافعی سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن جعفر نے کچھ بھوڑ زمین ساٹھ ہزار درہم کو خریدی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ نے فرمایا : میں عثمان کے پاس جا کر تیری خرید کا اختیار بند کرادوں گا۔ عبد اللہ نے جا کر حضرت زبیر سے یہ بات کہہ دی۔ حضرت زبیر نے کہا میں اس بیع میں تمہارا شریک (مشورہ) ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ حضرت عثمان کے پاس گئے اور کہا اپنے بھتیجے کو تصرفات سے روک دیجئے۔ (وہ سفیہ ہے) حضرت زبیر نے کہا میں (مشورہ میں) ان کا شریک ہوں حضرت عثمان نے کہا اب میں کسی کو کیسے اس تصرف سے روک دوں جس (کے مشورہ میں) ان کا شریک ہوں حضرت عثمان نے کہا اب میں کسی کو کیسے اس تصرف سے روک دوں جس (کے مشورہ) میں زبیر شریک ہیں۔ ابو عبیدہ نے کتاب الاموال میں اپنی سند سے ابن سیرین کی روایت سے لکھا ہے کہ عثمان نے علی سے کہا۔ (غالبا کتابت کی غلطی ہے حضرت عثمان نے حضرت علی سے یہ بات نہیں کہی بلکہ حضرت علی نے حضرت عثمان سے کہی تھی جیسا کہ شافعی کی مذکورہ بالا روایت میں صراحت ہے۔ ) آپ اپنے بھتیجے کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتے اور اس کی خریدو فروخت کی بندش کیوں نہیں کردیتے۔ اس نے ساٹھ ہزار درہم کو ایسی شور ناک زمین خریدی ہے کہ مجھے وہ اپنی جوتی کے بدلہ میں بھی نہیں بھاتی۔ بغوی نے کہا اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سفیہ کی بندش اختیار پر صحابہ متفق تھے اسی وجہ سے تو حضرت زبیر نے بندش اختیار کو دور کرنے کا حیلہ کیا۔ مسئلہ اگر نا بالغ بالغ ہونے کے وقت تو صاحب رشد ہو پھر سبک سر برباد کن ہوجائے تو اس کو ممنوع التصرف قرار دینا ان علماء کے نزدیک جائز ہے جو بلوغ کے وقت سفیہ کو ممنوع التصرف قرار دینے کے قائل ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن زبیر کے قصہ سے واضح ہو رہا ہے۔ رہا قرضد دار تو اس کو بھی ممنوع التصرف قرار دیا جاسکتا ہے جیسا کہ کعب بن مالک نے اپنے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے حضرت معاذ کو مال میں تصرف (خرید فروخت) کرنے سے قرضدار ہونے کی وجہ سے روک دیا تھا اور آپ کا مال بکوا دیا تھا۔ (رواہ الدار قطنی والحاکم والبیہقی) ابو داؤد نے مراسیل میں اور سعیدنے سنن میں مرسلاً عبد الرزاق کی روایت سے اور ابن جوزی نے ابن مبارک از معمر کی روایت سے مرسلاً بیان کیا کہ حضرت معاذ بن جبل سخی جوان تھے کچھ روک کر نہیں رکھتے تھے اور برابر قرض لیتے رہتے تھے یہاں تک کہ آپکا مال قرض میں ڈوب گیا مجبوراً آپ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضور قرض خواہوں سے آپ ﷺ اس کے متعلق کچھ گفتگو کریں اگر قرض خواہ کسی کو چھوڑ دیتے تو رسول اللہ کی سفارش سے حضرت معاذ کو چھوڑ دیتے (لیکن انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا) رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کا مال فروخت کردیا اور حضرت معاذ ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہوگئے۔ عبد الحق نے کہا یہ حدیث بصورت ارسال متصل سے زیادہ صحیح ہے۔ ابن صلاح نے احکام میں لکھا ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے یہ واقعہ 9 ھ کا ہے۔ حضور ﷺ نے قرض خواہوں کے مطالبہ کا 7/5 حصہ دیا۔ قرض خواہوں نے کہا 7/2 بھی فروخت کرکے ہم کو دیدیجئے فرمایا : اب تمہارے لیے (باقی مال پر قبضہ کرنے کا) کوئی راستہ نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : کہ قاضی قرضدار کو نہ ممنوع التصرف کرسکتا ہے نہ اس کا مال فروخت کرسکتا ہے کیونکہ اس کے مال کی خود اپنے حکم سے فروختگی بھی ایک قسم کی بندش تصرف ہے اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ یہ بغیر رضا مندی کی بیع ہے جو ناجائز ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ بلکہ قاضی یہ کرسکتا ہے کہ قرض دار کو قید کر دے یہاں تک کہ وہ تنگ آکر اپنا مال فروخت کردے اور قرضخواہوں کا قرض چکا دے اور اس پر بھی (قاضی کی طرف سے) ظلم نہ ہو۔ رہا حضرت معاذ کا قصہ تو ہم کو یہ تسلیم نہیں ہے کہ حضرت معاذ کی مرضی کے خلاف رسول اللہ نے ان کا مال فروخت کردیا تھا یہ ناممکن تھا کہ رسول اللہ کے عمل سے معاذ ناراض ہوتے بلکہ حضور ﷺ نے ان کی مرضی سے ان کا مال فروخت کیا تھا جیسے کسی کی طرف سے وکیل فروخت کرتا ہے یا فضولی آدمی کسی کا مال بیچ ڈالتا ہے اور بعد کو اصل مالک رضا مندی دیدیتا ہے روایت میں جو آیا ہے کہحجر علی معاذ مالہ و اباعہ یہ صرف زاری کا خیال ہے کہ حضرت معاذ کے مال کی فروخت کو انہوں نے حجر علی معاذقرار دیدیا کیونکہ واقدی کے سلسلہ سے بیہقی نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اس حدیث کے آخر میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ نے اس کے بعد حضرت معاذ کی شکستہ دلی دور کرنے کے لیے یمن کو عامل بنا کر بھیج دیا۔ طبرانی نے کبیر میں لکھا ہے کہ رسول اللہ نے جب حج کیا تو معاذ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا آپ ہی سب سے پہلے اللہ کے مال (وصول کرنے) کے لیے اجیر بنے۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے۔ کہ رسول اللہ نے حضرت معاذ کو ممنوع التصرف نہیں کیا تھا۔ مسئلہ : اگر کوئی دیوالیہ ہوجائے اور حاکم اس کا مال قرض خواہوں کی تقسیم کرادے اور پھر بھی قرض باقی رہ جائے مگر اس کو پیش ایسا آتا ہو جس کی اجرت اس کے ضروری مصارف سے زائد ہو تو امام احمد نے (ایک روایت کے اعتبار سے) کہا ہے کہ حاکم ادائے قرض کے لیے اسکو مزدوری کرنے کی اجازت دے سکتا ہے دوسری روایت میں امام احمد (رح) کا قول اسکے خلاف ہے باقی ائمہ نفی اجازت کے قائل ہیں۔ اوّل قول کے ثبوت میں امام احمد نے اس حدیث کو پیش کیا ہے جو دارقطنی نے زید بن اسلم کی روایت سے لکھی ہے زید بن اسلم نے کہا میں نے اسکندریہ میں ایک بوڑھا شخص دیکھا جس کو سرق کہا جاتا تھا میں نے کہا یہ کیسا نام ہے ؟ بوڑھے نے کہا میرا یہ نام رسول اللہ نے رکھا تھا اور میں اس کو ہرگز ترک نہیں کروں گا۔ میں نے کہا رسول اللہ نے تمہارا یہ نام کیوں رکھا تھا ؟ بوڑھے نے کہا : میں (ایک بار) مدینہ کو گیا اور لوگوں سے کہا : میرا مال آنے والا ہے لوگوں نے مجھ سے آنے والے مال کا سودا کرلیا لیکن سب مال برباد ہوگیا ( اور میرا مال نہیں آیا) لوگ رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے حضور ﷺ نے فرمایا : تو چور ہے اور حضور صعلم نے مجھے چار اونٹوں کی قیمت میں بیچ ڈالا۔ جس شخص نے مجھے خریدا تھا قرض خواہوں نے اس سے پوچھا تم اس کا کیا کرو گے ؟ اس نے کہا : میں اسے آزاد کردوں گا قرض خواہوں نے کہا : تو ثواب کی طلب میں ہم تم سے کم نہیں ہیں چناچہ قرض خواہوں نے مجھے آزاد کردیا اور میرا نام باقی رہ گیا۔ ابن جوزی (رح) نے لکھا ہے کہ یہ امر ظاہر ہے کہ رسول اللہ نے اس کی ذات کو تو فروخت کیا نہ تھا کیونکہ آزاد تھا (اور آزاد مملوک نہیں ہوسکتا) بلکہ اس کے منافع (یعنی مزدوری کی آمدنی) کو فروخت کیا تھا پس آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے خدمت لینے سے مجھے آزاد کردیا۔ میں کہتا ہوں کوئی وجہ نہیں کہ اس حدیث میں لفظ بیع سے بیع منافع مراد لی جائے کیونکہ یہ تو عمل مجہول کا ٹھیکہ ہوجائے گا لہٰذا یہ حدیث باجماع علماء متروک ہے (کیونکہ آزاد کی بیع بالاجماع ناجائز ہے) رہا رسول اللہ کا عمل تو حضور ﷺ کو لوگوں کی جانوں میں تصرف کرنے کا حق تھا دوسروں کو وہ حق حاصل نہیں۔ حضرت ابو سعید کی روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے اور اس کے پھل مارے گئے اور اس پر قرض بہت ہوگیا حضور ﷺ نے فرمایا : اس کو خیرات دو حکم کی تعمیل کی گئی مگر چندہ اتنا نہیں ہوا کہ اس کا قرض پورا ہوسکتا۔ حضور نے قرض خواہوں سے فرمایا : جتنا تم کو مل گیا لے لو بس اس سے زیادہ تم کو نہیں ملے گا۔ یہ حدیث صاف بتارہی ہے کہ وصول قرض کے لیے قرض دار کا فقط مال لیا جاسکتا ہے۔ مدیون پر (قرض خواہوں کا) اور کوئی حق نہیں (یعنی قرضدار کو نہ ممنوع التصرف کیا جاسکتا ہے نہ مزدوری یا نوکری وغیرہ سے روکا جاسکتا ہے) وا اللہ اعلم۔ و لا تاکلوھا (یعنی اے یتیموں کے سر پرستو ! ) یتیم کا مال نہ کھاؤ 1 ؂۔ اسرافاً و بدارا (حد اعتدال اور ضرورت سے) زیادہ اور جلدی جلدی۔ قاموس میں ہے سَرَفٌ توسط کی ضد۔ صحاح میں ہے سرف کا معنی ہے ہر فعل میں حد سے تجاوز کرنا اللہ نے فرمایا ہے : لَا تُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ قتل میں حد سے تجاوزنہ کرو۔ دوسری آیت ہے : یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ لیکن مال کے صرف میں حد سے تجاوز کرنے پر سرف کا اطلاق زیادہ ہوتا ہے حد سے تجاوز کبھی تو مقدار کے اعتبار سے ہوتا ہے یعنی کثرت ہوجاتی ہے اللہ نے فرمایا ہے : کُلُوْا واَشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا کھاؤ اور پیو اور حد اعتدال سے آگے نہ بڑھو اور کبھی کیفیت کے لحاظ سے حد سے تجاوز ہوتا ہے اسی لیے سفیان ثوری نے فرمایا کہ اللہ کی طاعت سے ہٹ کر جو کچھ بھی خرچ کیا جائے وہ اسراف ہے خواہ اس کی مقدار قلیل ہی ہو۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الْمُسْرِفِیْنَ ھم اصحاب النار (ا اللہ کی طاعت سے ہٹ کر صرف کرنے والے ہی دوزخی ہیں 2 ؂۔ ) میں کہتا ہوں اس صورت میں مالدار سرپرست کے لیے یتیم کا مال کھانا خواہ قلیل مقدار میں ہی ہو اسراف ہے اور نادار کے لیے یتیم کا مال اتنا کھا لینا جو دستور کے خلاف ہو 3 ؂ اسراف اور افراط کہلائے گا۔ ان یکبروا اس اندیشہ سے وہ بڑے ہوجائیں گے اور اپنا مال تم سے لے لیں گے۔ اِسرافًا اور بدارًادونوں مصدر بمعنی اسم فاعل ہیں اور مقام حال میں ہیں یعنی اسراف اور جلدی کرتے ہوئے دونوں مفعول لہ ٗ بھی ہوسکتے ہیں یعنی اسراف اور جلدی کرنے کی وجہ سے۔ و من کان غنیا فلیستعفف اور جو مالدار ہو وہ یتیم کے مال سے بچتا رہے۔ یتیم کا مال بالکل نہ لے تھوڑ ا نہ بہت استعفاف کے معنی ہیں عفاف سے زیادہ زور ہے عفاف بچنا۔ استعفاف بچتا رہنا۔ ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف اور جو محتاج ہو وہ دستور کے مطابق کھا سکتا ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب کے دادا کی روایت ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میرے زیر پرورش ایک یتیم ہے (جس کا مال موجود ہے) حضور ﷺ نے فرمایا : اپنے یتیم کے مال میں سے کچھ کھالو مگر (حد اعتدال سے) زیادتی نہ کرنا۔ نہ جلدی جلدی ہڑپ کرنا نہ (اپنی مزدوری کے) مال کو بچا کر اس کے مال کو کھانا۔ (رواہ ابو داؤد والنسائی وابن ماجہ) حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے عرض کیا میری گود میں ایک یتیم ہے کیا میں اس کے مال میں سے کھا سکتا ہوں فرمایا : (کھا سکتے ہو) بغیر اس کے کہ اپنے مال کو بچا کر اس کے مال کو کھاؤ اور اپنا مال جمع رکھو۔ (رواہ الثعلبی) مراد یہ ہے کہ یتیم کی تربیت کے معاوضہ کے بقدر کھا سکتے ہو۔ حضرت عائشہ ؓ کا یہی مسلک ہے اور ہم بھی اسی مطلب کو لیتے ہیں۔ عطا اور عکرمہ نے یا کل بالمعروف کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ انگلیوں کے پوروں سے کھائے زیادتی نہ کرے اور (یتیم کے مال میں سے) کپڑے نہ پہنے۔ نخعی نے کہا : یتیم کے مال سے کتان اور صوف خرید کر نہ پہنے صرف بھوک دور کرنے کی بقدر کھالے اور ستر پوشی کے بقدر پہن لے اور ان مصارف میں جتنی رقم آئی ہو اس کی واپسی لازم نہیں۔ حسن بصری اور ایک جماعت علماء نے کہایتیم کے درختوں کے پھل کھا سکتا ہے، اس کے جانور کا دودھ پی سکتا ہے مگر دستور کے موافق اور اس کا معاوضہ لازم نہیں۔ البتہ چاندی سونا نہ لے اگر لے گا تو اس کا معاوضہ ادا کرنا لازم ہے کلبی نے کہا : معروف سے مراد ہے یتیم کی سواری پر سوار ہونا ؟ اس کے خادم سے خدمت لینا یتیم کے مال میں سے کچھ کھانا جائز نہیں۔ بغوی نے اپنی سند سے قاسم بن محمد کی روایت لکھی ہے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر حضرت ابن عباس سے عرض کیا میرے زیر تربیت ایک یتیم ہے اور اس کے اونٹ ہیں کیا میں ان کا دودھ پی سکتا ہوں ؟ فرمایا : اگر ایسا ہو کہ تم اس کے گم شدہ اونٹوں کو تلاش کرو۔ خارشتی اونٹوں کی مالش کرو ان کے پیاؤ کو درست کرو اور پانی پلانے کے دن ان کو پانی پلاؤ تو ان کا دودھ بھی پی سکتے ہو لیکن اس طرح کہ اونٹوں کے بچوں کو (بھوک کا) ضرر نہ پہنچے اور نہ بالکل تھنوں سے دودھ نچوڑ لیا جائے۔ شعبی نے کہا ایسی مجبوری کے بغیر جس میں آدمی مردار کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے یتیم کا مال نہ کھائے۔ مجاہد اور سعید بن جبیر نے معروف کا ترجمہ قرض کیا ہے یعنی ضرورت ہو تو یتیم کے مال میں سے قرض لے سکتا ہے۔ جب فراخدستی ہو تو واپس کردے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : میں نے اللہ کے مال (بیت المال) کے معاملہ میں اپنی ذات کو یتیم کے سرپرست کی طرح قرار دے رکھا ہے۔ اگر غنی ہوں گا تو بچتا رہوں گا اور محتاج ہوں گا تو معروف کے ساتھ (یعنی بطور قرض) کھالوں گا اور جب فراخدست ہوں گا تو ادا کردوں گا۔ فاذا دفعتم الیھم اموالھم (یعنی بالغ ہونے اور ہوشیار پانے کے بعد) جب ان کا مال تم ان کو دو ۔ فاشھدوا علیہم تو دیتے وقت شاہد بنا لو۔ یہ حکم استحبابی ہے واجب نہیں ہے تہمت کو دور کرنے اور آئندہ جھگڑے کو کاٹنے کے لیے گواہ بنانا اولیٰ ہے۔ امام شافعی اور امام مالک نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر سر پرست یتیم کے بالغ ہونے بعد مال ادا کردینے کا دعویٰ کرے تو بغیر گواہوں کے اسکا دعویٰ قابل قبول نہ ہوگا۔ امام اعظم (رح) نے فرمایا : اگر گواہ نہ ہوں تو اس کا قول قسم کے ساتھ قبول کرلیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے اوپر تاوان عائدکئے جانے کا منکر ہے (اور منکر کا قول قسم کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے) اسی مفہوم پر دلالت کررہا ہے آئندہ قول۔ فرمایا : و کفیٰ باللہ حسیبا اور اللہ ہی حساب لینے والا کافی ہے یعنی حساب فہمی کرنے والا۔ بدلہ دینے والا اور شہادت دینے والا اللہ ہی کافی ہے کسی دوسرے گواہ کی ضرورت نہیں بلکہ ولی کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے حقیقت معاملہ کو اللہ کے سپرد کردیا جائے۔ باللہ کفیٰ کا فاعل ہے باء زائد ہے۔ آئندہ آیت کی شان نزول ابو الشیخ ابن حبان نے کتاب الفرائض میں بطریق کلبی ابو صالح کی روایت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ اہل جاہلیت نہ لڑکیوں کو میراث دیتے تھے نہ بالغ ہونے سے پہلے چھوٹے لڑکوں کو ایک انصاری جن کا نام اوس بن ثابت تھا انتقال ہوگیا اور انہوں نے دو لڑکیاں اور ایک چھوٹا لڑکا چھوڑا اس کے دو چچا زاد بھائی خالد اور عرفجہ تھے دونوں نے آکر ساری میراث پر قبضہ کرلیا اوس کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور واقعہ عرض کردیا ارشاد فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ کیا کہوں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں

للرجال نصیب مما ترک الولدان والاقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون یعنی والدین اور (باہم وارث ہونے والے) نزدیک ترین رشتہ داروں کے ترکہ میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ عورتوں کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے مستقلاً ان کے لیے والدین اوراقارب کے ترکہ کا ذکر کیا۔ مما قل منہ اوکثر ترکہ کم ہو یا زیادہ یہ فقرہ مما ترک سے بدل ہے قلیل مقدار کی جو لوگ پرواہ نہیں کرتے تھے اس فقرہ میں ان کو تنبیہ کردی گئی (کہ ترکہ کم ہو یا زیادہ میراث سب میں جاری ہوگی) نصیباً مفروضا حصہ قطعی یہ مفعول مطلق تاکیدی ہے (فعل محذوف ہے) یا فاعل ظرف (للرجال) سے حال ہے حال در حقیقت مفروضاً ہے نصیباً اس کی تمہید۔ یا فعل اختصاص محذوف ہے اور نصیباً کا نصب اختصاص کی وجہ سے ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے وارثوں کے حصے قطعی اور واجب کردیئے ہیں کسی کے لیے ان کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔ لفظ مفروضاً بتارہا ہے کہ وارث اگر اپنے حصہ سے اعراض بھی کرلے یا اظہار بیزاری کردے تب بھی اس کا حصہ ساقط نہیں ہوتا۔ یہ آیت دو لحاظ سے مجمل ہے۔ (1) اس میں حصوں کی تعیین نہیں (2) اقرب سے کیا مراداس کی وضاحت نہیں ان دونوں باتوں کا بیان شریعت (یعنی حدیث) میں آیا ہے۔ والدین بھی اگرچہ اقربین میں داخل تھے۔ مگر مستقلاً والدین کے ذکر کی دو وجہیں ہیں ایک تو والدین کی اہمیت دکھانی مقصود ہے دوسری یہ کہ والد کے ترکہ کی تقسیم کے متعلق (اصل میں) آیت کا نزول ہوا تھا ( اقرباء کا ذکر تو ضمنی طور پر کردیا گیا) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت اوس بن ثابت انصاری کا انتقال ہوا اور پسماندگان میں ایک بیوی ام کحہ اور تین لڑکیاں رہیں۔ سوید اور عرفجہ جو میت کے چچا کے بیٹے اور وصی تھے کھڑے ہوگئے اور کل مال پر قابض ہوگئے نہ بیوی کو کچھ دیا نہ بیٹیوں کو کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں وہ لوگ نہ عورتوں کو میراث دیتے تھے نہ چھوٹی اولاد کو خواہ اولاد میں کوئی لڑکا ہی ہوتا صرف بالغ مردوں کو میراث کا حصہ دیتے تھے اور کہتے تھے ہم صرف اسی کو دیں گے جو دشمن سے لڑے اور مال غنیمت لوٹے۔ ام کحہ نے خدمت گرامی ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ اوس بن ثابت کا انتقال ہوگی اوس نے تین بیٹیاں پیچھے چھوڑیں اور میں اس کی بیوی ہوں اور میرے پاس اتنا بھی نہیں کہ میں لڑکیوں کو کھلا سکوں لڑکیوں کے باپ نے اچھا خاصا مال چھوڑا ہے مگر وہ مال سوید اور عرفجہ کے قبضہ میں ہے انہوں نے نہ مجھے کچھ دیا نہ میری بچیوں کو بچیاں میرے پاس ہیں نہ ان کے کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو۔ رسول اللہ نے سوید اور عرفجہ کو طلب فرمایا اور بولے یا رسول اللہ اس عورت کی اولاد اس قابل نہیں کہ گھوڑے پر سوار ہو سکے نہ (دیت اور تاوان وغیرہ کا) بار اٹھاسکتی ہے نہ دشمن سے لڑ سکتی ہے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ رسول اللہ نے سوید اور عرفجہ کو بلوا کر فرمایا : ابھی اوس بن ثابت کے مال کو بالکل تقسیم نہ کرنا اللہ نے ترکہ میں اس کی لڑکیوں کو حصہ دار بنایا ہے۔ مگر حصہ کی تعیین نہیں کی۔ میں منتظر ہوں کہ لڑکیوں کے بارے میں کیا حکم (تعیین کے ساتھ) نازل ہوتا ہے اس پر اللہ نے آیت : یوصیکم اللہ۔۔ نازل فرمائی رسول اللہ نے سوید اور عرفجہ کو حکم دیا کہ اسکے مال میں سے 8/1 ام کحہ کو اور 3/2 لڑکیوں کو دیدو باقی تمہارا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب آیت : للرجال نصیب کے بعد ہی آیت : یوصیکم اللہ نازل ہوگئی تو وقت حاجت سے بیان کی تاخیر لازم نہیں آتی۔ وا اللہ اعلم۔ سعد ؓ نے لکھا ہے کہ معتبر کتابوں میں اور صحیح روایات میں آیا ہے کہ حضرت اوس بن ثابت حضرت حسان بن ثابت کے بھائی تھے اور جنگ احد میں شہید ہوئے تھے۔ مگر شیخ جلال الدین سیوطی کی نظر میں یہ قول محل اعتراض ہے کیونکہ بھائی کی موجودگی میں چچا کے بیٹوں کو میراث ملنے کا کوئی قانون نہیں (اور حضرت حسان موجود تھے) بغوی (رح) کے بیان کردہ شان نزول کو ابن حجر نے اصابہ میں لکھا ہے اور غلط قرار دیا ہے کیونکہ حضرت حسان کے کسی بھائی کا نام اوس نہیں تھا اور نہ آپ ؓ کے چچا زادوں میں کوئی عرفطہ یا خالد تھا۔ 1 ؂ اس کے بعد شیخ سیوطی نے لکھا ہے کہ متعدد صحابہ ؓ کا نام اوس تھا مگر سب کی ولدیت الگ الگ تھی اس لیے ممکن ہے کہ انہی میں سے کسی کی میراث کے سلسلہ میں آیت کا نزول ہوا ہے۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو

و اذا حضرالقسمۃ اولوا القربیٰ والیتمیٰ والمساکین اور اگر تقسیم میراث کے وقت (دور کے غیر مستحق) قرابتدار اور یتیم اور مسکین آجائیں۔ اولوا القربٰی سے وہ قرابتدار مراد ہیں جن کا میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں۔ فارزقوھم منہ تو ترکہ سے یا تقسیم سے ان کو بھی بطور خیرات کچھ دیدو۔ حسن نے بیان کیا کہ لوگ تابوت، برتن، پرانے کپڑے اور وہ سامان جس کو آپس میں تقسیم کرنے سے شرم آتی تھی دیدیا کرتے تھے سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا کہ آیت : یوصیکم اللہ سے یہ آیت منسوخ ہے حضرت ابن عباس شعبی، نخعی، زہری، مجاہد اور علماء کی ایک جماعت نے اس آیت کو محکم قرار دیاقتادہ نے یحییٰ بن یعمر کا قول نقل کیا ہے کہ تین مدنی آیات جو محکم ہیں لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا ہے ایک یہی آیت اور دوسری طلب اجازت کے متعلق آیت : یٰٓایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاذِنْکُمُ الَّذِیْنَ مَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اور تیسرییَآیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی۔۔ آیت کو محکم قرار دینے کی صورت میں بعض علماء کے نزدیک : فارزقوھم کا امر وجوب کے لیے ہے۔ وارث چھوٹے ہوں یا بڑے سب کے اہل میں یتامیٰ مساکین اقارب بعید کا واجبی حق ہے اگر وارث بڑے ہوں تو خود دیدیں اور نا بالغ ہوں تو انکی طرف سے ان کے ولی دیدیں محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ اسی آیت کی وجہ سے عبیدہ سلمانی نے یتیموں کے مال میں سے بانٹ کر کچھ حصہ نکال کر ایک بکری خرید کر ذبح کرا کے کھانا پکوایا اور اس آیت میں جن کا ذکر ہے ان کو دیدیا اور فرمایا : اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ میرے مال سے ہوتا صحیح یہ ہے کہ امر استحبابی ہے (وجوبی نہیں ہے) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اگر وارث بڑے ہوں تو مذکورہ بالا آیت والوں کو کچھ دیدیں اور اپنے دئیے کو قلیل سمجھیں ان پر احسان نہ جتائیں اور اگر وارث چھوٹے ہوں تو ان کا ولی یا وصی مذکورہ بالا مستحقین سے عذر کردیں اور کہہ دیں یہ مال بچوں کا ہے میرا نہیں ہے اگر میرا ہوتا تو میں ضرور کچھ دیتا جب یہ بچے بڑے ہوجائیں گے تو تمہارے حقوق پہچانیں گے (اس وقت ان کو تمہارے حقوق کا علم نہیں) آیت ذیل میں قول یہی مراد ہے۔ و قولوا لھم قولا معروفا اور ان سے اچھائی کے ساتھ بات کرو۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں

و لیخش الزین لوترکوا من خلفھم ذریۃ ضعافا خافوا علیھم اور ڈریں وہ لوگ جنکو اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے چھوٹے بچوں کے تباہ ہوجانے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ بظاہر ڈرنے کا یہ حکم طاقت والے والے وارثوں کو ہے اور اس آیت کا ربط آیت : لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ اور اذا حَضَرَ الْقِسْمَۃَ ۔۔ سے ہے مطلب یہ ہے کہ طاقتور وارث، عورتوں اور کمزور وارثوں کا مقررہ میراثی حصہ دیدیں اور جو قرابتدار وارث نہیں ہیں ان کو اور فقراء و مساکین کو بھی (اگر وہ تقسیم ترکہ کے وقت آکھڑے ہو، ) کچھ نہ کچھ دیدیں کہیں یہ کمزور طقبہ برباد نہ ہوجائے جیسے ان کو اپنے بعد باقی رہنے والی بیوی اور کمسن بچوں کے تباہ ہونے کا اندیشہ لگا رہتا ہے اسی طرح مورث کے دور اور قریب کمزور رشتہ داروں کا بھی پاس لحاظ رکھنا چاہئے۔ فلیتقوا اللہ پس اللہ سے ان کو ڈرنا چاہئے (یعنی جب ان کو اپنے بیوی بچوں کے تباہ ہونے کا ڈر رہتا ہے تو مورث کی بیوی اور دوسرے کمزور وارثوں اور دور کے رشتہ داروں اور یتیموں، فقیروں کے متعلق بھی ان کو ایسا ہی سوچ رہنا چاہئے کہ کہیں یہ تباہ نہ ہوجائیں اور انکی بربادی کی باز پرس اللہ ہم سے کرے پس ان کو اللہ کی باز پرس سے خوف کرنا چاہئے۔ خشیۃ کی انتہا تقویٰ ہے اس لیے دونوں کا حکم دیا اوّل ضعفاء کی تباہی سے ڈرنے کا اور آخر میں اللہ سے ڈرنے کا۔ کلبی نے کہا حکم مذکور یتیموں کے سرپرستوں اور وصیت والوں کو دیا گیا ہے کہ یتیموں کے معاملہ میں اللہ سے ڈریں اور ان سے سلوک اچھا کریں جیسا اپنے ان کمزور بچوں کے ساتھ لوگوں سے سلوک کرانا پسند کرتے ہیں جو ان کے پیچھے رہ جائیں اس وقت اس آیت کا تعلق : و ابتلوا الیتٰمی سے ہوگا اور للرجال نصیب سے آخر تک معترضہ کلام ہوگا اور اس کلام کو بیچ میں لانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب تک جاہلیت کے دستور کو ختم نہ کردیا جائے اور اہل جاہلیت جو کمزوروں کو میراث نہ دینے اور صرف اہل حرب کو حصہ دینے کے قائل تھے ان کے قول کو دفع رفع نہ کردیا جائے۔ اس وقت تک نہ یتیموں کی سرپرستی کا کوئی نتیجہ ہے نہ ان کی جانچ کا نہ ترکہ کی تقسیم ہوسکتی ہے یہ بھی احتمال ہے کہ وارثوں کو حکم ہو کہ کمزور غیر وارث رشتہ دار اور یتیم و فقیر اگر تقسیم کے وقت موجود ہوں تو ان سے شفقت کا سلوک کریں اور یہ خیال کریں کہ اگر یہ ہماری اولاد ہوتے اور ہمارے بعد رہ جاتے تو ہم کس طرح ان کو محروم رکھنا گوارا نہ کرتے۔ بعض علماء نے کہا کہ آیت میں وہ شخص مراد ہے جو مرنے کے قریب ہو اور اس کے گردو پیش کے آدمی اس سے کہیں کہ تیرے اور تیرے وارث کام نہیں آئیں گے لہٰذا فلاں غلام کو آزاد کردے اور فلاں فلاں شخص کو اتنا اتنا دیدے۔ غرض کل مال اپنی زندگی میں ہی تقسیم کردینے کا اس کو مشورہ دیں۔ ایسے ہی لوگوں کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈریں اور مریض کی اولاد کو اپنی اولاد سمجھیں کوئی ایسا مشورہ نہ دیں کہ ان کو نقصان پہنچے اور تمام مال صرف ہوجائے یا وصیت کرنے والوں کو حکم ہے کہ وہ کمزور وارثوں کے تباہ ہوجانے کا لحاظ رکھیں وصیت میں حد سے تجاوز نہ کریں ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہ کریں تاکہ ورثہ محروم نہ رہ جائیں۔ ولیقولوا قولا سدیدا اور ان کو ٹھیک بات کہنی چاہئے یعنی طاقت والے وارث کمزور وارثوں سے مہربانی اور تہذیب سے بات کریں یا سر پرست یتیموں سے شفقت اور مہربانی سے بات کریں جیسے اپنے بچوں سے کرتے ہیں یا مرنے کے وقت موجود ہونے والے لوگ مرنے والے کو مشورہ دیں کہ وہ تہائی مال سے کم خیرات کرنے اور کسی کو دینے کی وصیت کرے یا تقسیم کے وقت جو فقراء آجائیں ان سے تقسیم کرنے والے معذرت کریں۔ یا وصیت کرنے والے وصیت میں اچھی بات کہیں ایک تہائی سے کم کی وصیت کریں اور وصیت میں نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے

ان الذین یا کلون اموال الیتمیٰ ظلما مقاتل بن حبان کا بیان ہے کہ مرثد بن زید غلطفانی نے جب اپنے یتیم بھتیجے کا مال کھالیا تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو لوگ یتیموں کا مال بےجا طور پر کھاتے ہیں۔ ظلماً مفعول مطلق ہے اور اس وقت موصوف محذوف ہوگا یعنی اکلاً ظلماً یا حال ہوگا اس وقت مصدر بمعنی اسم فاعل ہوگا۔ انمایاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا بس وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے یعنی ایسی چیز پیٹ میں بھرتے ہیں جو ان کو کھینچ کر دوزخ میں لے جائے گی حدیث میں آیا ہے رسول اللہ نے فرمایا : شب معراج میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہونٹ اونٹ کے لبوں کی طرح تھے بالائی لب سکڑا ہوا دونوں نتھنوں پر تھا اور نچلا ہونٹ سینہ پر لٹکا ہوا جہنم کے کارندے ان کے منہ میں دوزخ کے انگارے اور پتھر بھر رہے تھے۔ میں نے پوچھا جبرائیل یہ کون ہیں ؟ جبرائیل نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال بیجا طور پر کھاتے تھے۔ (رواہ ابن جریر وابن ابی حاتم من حدیث ابی سعید خدری ؓ ابن ابی شیبہ نے مسند میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور ابن ابی حبان نے صحیح میں حضرت ابو بردہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ قبروں سے کچھ لوگوں کو ایسی حالت میں اٹھائے گا کہ ان کے منہ سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے عرض کیا گیا یہ کون لوگ ہوں گے فرمایا : کیا تم کو نہیں معلوم کہ اللہ فرما رہا ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں بس وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر تے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ سعیر بروزن فعیل اس مفعول کے معنی میں مستعمل ہے۔ یہ لفظسعرت النار (میں نے آگ روشن کی) سے ماخوذ ہے۔ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے لکھا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ نے فرمایا : (محلہ) بنی سلمہ میں رسول اللہ اور حضرت ابوبکر ؓ میری عیادت کو تشریف لائے اور مجھے غشی میں پا کر پانی منگوا کر وضوء کیا پھر مجھ پر پانی کا چھینٹا دیا فوراً مجھے ہوش آگیا میں نے عرض کیا حضور ﷺ کا کیا حکم ہے ؟ میں اپنے مال میں کیا (وصیت) کرسکتا ہوں ؟ اس پر آیت : یوصیکم اللہ نازل ہوئی۔ امام احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سعد بن ربیع کی بیوی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ سعد ؓ آپ ﷺ کے ہمرکاب ہو کر احد میں شہید ہوگئے اور ان کی یہ دو لڑکیاں ہیں لڑکیوں کے چچا نے ان کا مال لے لیا اور ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا اور بغیر مال ان کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ ان کا فیصلہ فرما دے گا اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی اور رسول اللہ نے لڑکیوں کے چچا کو طلب فرما کر حکم دیا کہ 3/2 مال لڑکیوں کو اور 8/1 سعد کی بیوی کو دیدوباقی تمہارا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا جو لوگ آیت کا نزول سعد کی لڑکیوں کے سلسلہ میں قرار دیتے ہیں اور جابر کے معاملہ میں نزول تسلیم نہیں کرتے ان کی دلیل یہ ہے کہ اس زمانہ میں حضرت جابر ؓ کی اولاد ہی نہ تھی (اور آیت میں میراث اولاد کا بیان ہے) اس کا جواب یہ ہے کہ سبب نزول دونوں واقعات ہوئے لڑکیوں کا بھی اور حضرت جابر کا بھی (اور متعدد واقعات کا ایک حکم کے لیے سبب نزول ہونا ناممکن نہیں) یہ بھی احتمال ہے کہ آیات کا ابتدائی حصہ حضرت سعد کی لڑکیوں کے حق میں اور آخری حصہ یعنی و ان کان یورث کلالۃ۔۔ حصرت جابر ؓ کے سلسلہ میں نازل ہوا ہو اور حضرت جابر نے جو فرمایا تھا کہ اللہ نے آیت : یوصیکم اللہ نازل فرمائی تو اس سے مراد ہے اس آیت سے بعد آنے والی آیت (جو کلالہ کے متعلق ہے) شان نزول کے سلسلہ میں ایک اور واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے ابن جریر نے سدی کی روایت سے لکھا ہے کہ جاہلیت والے نہ لڑکوں کو میراث دیتے تھے نہ چھوٹے لڑکوں کو۔ اولاد میں سے میراث اسی کو ملتی تھی جو دشمن سے لڑنے کی طاقت رکھتا تھا۔ حضرت حسان شاعر کے بھائی عبد الرحمن کا انتقال ہو تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک بی بی ام کحہ اور پانچ لڑکیاں چھوڑیں دوسرے وارث آکر مال پر قبضہ کرنے لگے ام کحہ نے اس کی شکایت رسول اللہ سے کی تو آیت : فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ نازل ہوئی اور ام کحہ کے متعلق نازل ہوا : وَ لَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ ۔۔ حضرت سعد بن ربیع کے سلسلہ میں ان آیات کا نزول ایک اور سند سے بھی مروی ہے قاضی اسماعیل نے احکام القرآن میں عبدالملک بن محمد بن حزم کے طریق سے بیان کیا ہے کہ عمرہ بنت حرام، حضرت سعد بن ربیع کی بیوی تھیں اور عمرو کے بطن سے سعد کی ایک لڑکی تھی۔ عمرہ اپنی لڑکی کی میراث طلب کرنے کے لیے خدمت گرامی میں حاضر ہوئیں۔ تو ان کے حق میں ہی آیت : یوصیکم اللہ نازل ہوئی۔