4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ جناح کا معنی ہے گناہ۔ کذافی القاموس۔ ان تقصروا من الصلوۃ کہ نماز میں قصر کر دو ۔ یعنی چار رکعت والی نماز میں دو رکعت کم کر دو ۔ تین اور دو رکعت والی نماز میں باتفاق علماء قصر نہیں۔ اس لئے اس جگہ الصلٰوۃ سے مراد چار رکعت والی نماز ہے۔ سیبویہ کے نزدیک من الصلوۃ صفت ہے اور موصوف جو مفعول ہے محذوف ہے یعنی شیئاً کائنًا من الصَّلوۃ۔ اخفش کے نزدیک الصلوٰۃ ہی مفعول ہے۔ منزائد ہے۔ چندمباحث بحث (1) : جس سفر میں قصر کی اجازت ہے اس کی مقدار کیا ہے۔ یہ مفصل بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے جہاں روزہ نہ رکھنے کی اجازت کا بیان کیا گیا ہے۔ بحث (2) : کیا سفر میں پوری نماز (بغیر قصر کے) پڑھنی جائز ہے یا نہیں امام ابوحنیفہ (رح) کے اور امام مالک (رح) کے بعض رفقاء کے نزدیک ناجائز ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ حضرت ابن عمر ؓ حضرت جابر اور حضرت ابن عباس ؓ کا مسلک روایات میں یہی آیا ہے۔ حسن بصری (رح) عمر (رح) بن عبدالعزیز۔ قتادہ (رح) اور امام مالک کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعی (رح) امام احمد (رح) نے کہا اور مشہور قول امام مالک کا بھی یہی ہے کہ پوری نماز سفر میں جائز ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان غنی اور حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص کا مسلک یہی مروی ہے۔ امام شافعی (رح) نے جواز کا قول ظاہر آیت کو دیکھ کر اختیار کیا کیونکہ گناہ کی نفی اجازت ہی کی صورت میں ہوتی ہے جہاں قطعی حکم ہو وہاں نفی جناح نہیں (بلکہ اس کام کو نہ کرنا وجوبی ہوتا ہے) حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں قصر بھی کرتے تھے اور پوری بھی پڑھتے تھے اور روزہ نہیں بھی رکھتے تھے اور رکھتے بھی تھے۔ رواہ الشافعی و ابن ابی شیبۃ والدارقطنی۔ دارقطنی نے اس حدیث کی سند کو صحیح کہا ہے لیکن اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ روایت مغیرہ بن زیاد کی ہے جس نے عطاء بن رباح کے حوالہ سے اس کو بیان کیا ہے اور امام احمد (رح) نے مغیرہ کو ضعیف کہا ہے اور ابو زرعہ نے اس کی حدیث کو ناقابل استدلال قرار دیا ہے۔ مگر ابن جوزی نے یہ حدیث عمر بن سعید کی وساطت سے بحوالۂ عطا بیان کی ہے (جس میں مغیرہ واقع نہیں ہوتا) پھر مغیرہ کو وکیع اور یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔ عبدالرحمن بن اسود راوی ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میں رمضان میں عمرہ کرنے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئی ‘ حضور ﷺ نے روزہ نہیں رکھا مگر میں نے رکھا۔ حضور ﷺ نے نماز میں قصر کیا اور میں نے پوری نماز پڑھی۔ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ قربان ‘ آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے رکھا۔ آپ ﷺ نے قصر کیا اور میں نے پوری نماز پڑھی۔ فرمایا عائشہ ؓ : تم نے اچھا کیا۔ رواہ النسائی والدارقطنی۔ دارقطنی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ بیہقی نے بھی نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ عبدالرحمن بن اسود حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں بچہ پن میں گئے تھے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے کسی حدیث کی سماعت نہیں کی۔ دارقطنی نے بلوغ کے قریب حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں جانے کی صراحت کی ہے۔ تاریخ بخاری وغیرہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ پھر دارقطنی نے کہا یہ حدیث عبدالرحمن ؓ بن اسود نے اپنے باپ کی وساطت سے اس سے بھی بیان کی ہے گویا دارقطنی کے قول میں اختلاف ہوگیا۔ ایک قول سے حدیث کا مسند ہونا اور دوسرے قول سے مرسل ہونا معلوم ہوتا ہے۔ السیر میں مسند ہونے کو صحیح کہا ہے اور العلل میں مرسل ہونے کو اشبہ بالصواب کہا ہے اس روایت پر اعتراض کیا گیا ہے کہ تمام اہل سیر کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی رمضان میں عمرہ نہیں کیا ہے صرف دارقطنی کی روایت میں عمرۂ رمضان کی صراحت ہے کسی اور راوی نے عمرۂ رمضان کا ذکر نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا استدلال حسب ذیل ہے۔ یعلی بن امیہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمر ؓ بن خطاب سے دریافت کیا اللہ نے فرمایا ہے : لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِیَنُکُم الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اور اب لوگ امن سے ہیں (تو کیا امن کی حالت میں سفر کے اندر بھی قصر جائز ہے) حضرت عمر ؓ نے فرمایا مجھے بھی اس پر تعجب تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تم کو عطا فرمایا ہے لہٰذا اللہ کے صدقہ (یعنی احسان) کو قبول کرو۔ رواہ مسلم۔ اس حدیث میں قصر کو صدقہ فرمایا ہے اور جہاں کسی کو مالک کرنے کا احتمال ہی نہ ہو وہاں تصدق کرنے کا معنی ہوتا ہے محض ساقط کردینا (تو قصر جب تصدق ہوا اور قصر سے کسی چیز کی تملیک نہیں ہوتی لامحالہ دو رکعت کو ساقط کردینا ہی مراد ہوگا اور اللہ کی طرف سے جو حکم ساقط ہوگیا اس کو کرنا ناجائز ہے لہٰذا پوری نماز پڑھنا ناجائز ہے) دیکھو جس شخص کی اطاعت واجب نہیں جیسے ولی قصاص اگر وہ تصدق کر دے یعنی قصاص کو معاف کر دے تو قصاص ساقط ہوجاتا ہے چہ جائیکہ تصدق کرنے والی اگر وہ ہستی ہو جس کی اطاعت واجب ہے (اس کے تصدق کے حکم کی تعمیل کس طرح لازم نہ ہوگی) قبیلۂ بنی عبداللہ بن کعب میں انس ؓ بن مالک ایک شخص تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ : کی مندرجۂ ذیل حدیث بیان کی اس کے علاوہ کسی اور حدیث رسول کی روایت ان سے ثابت نہیں۔ انس ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سواروں نے ہم پر لوٹ مچائی (یعنی حملہ کیا) میں فوراً خدمت گرامی میں حاضر ہوا حضور ﷺ دن کا کھانا تناول فرما رہے تھے فرمایا قریب آؤ اور کھاؤ میں نے عرض کیا میں روزہ سے ہوں فرمایا قریب آؤ میں روزہ کے متعلق تم سے ایک بات کہوں ‘ اللہ نے مسافر سے روزہ اور نماز کا آدھا حصہ ساقط کردیا ہے اور حاملہ و مرضعہ سے روزہ۔ (انس ؓ : کا بیان ہے) افسوس کہ میں رسول اللہ ﷺ کا کھانا نہ کھاسکا۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الترمذی۔ امام شافعی (رح) نے اسی حدیث سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں روزہ کو نماز کے ساتھ بیان کیا ہے اور مسافر کو سفر میں روزہ نہ رکھنے کا باتفاق علماء جواز ہے وجوب نہیں (لہٰذا نماز میں قصر کرنے کا بھی جواز ہوگا وجوب نہ ہوگا) وجہ یہ ہے کہ وضع کا حقیقی معنی ہے ساقط کردینا لیکن رخصت صوم میں چونکہ اس کا استعمال کیا گیا ہے اس لئے صوم کے معاملہ میں مجازاً اس کا استعمال تخییر کے لئے ہوگیا (اور قصر صلوٰۃ کا ذکر صوم کے ساتھ اسی لفظ کے تحت کیا گیا ہے اس لئے قصر میں بھی تخییر کا معنی مراد ہوگا۔ قصر صلوٰۃ میں وجوب کے لئے اور ترک صوم میں تخییر کے لئے ہو یہ ممکن نہیں ورنہ ایک ہی وقت میں ایک ہی لفظ کے دو معنی مراد لینے ہوں گے ایک حقیقی دوسرا مجازی اور یہ حقیقت و مجاز کے درمیان اجتماع ہے جو ناجائز ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق پوری پوری بغیر کمی کے سفر کی نماز دو رکعت ہے اور عیدالاضحی کی نماز دو رکعت ہے اور عیدالفطر کی نماز دو رکعت ہے اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ اخرجہ النسائی وابن ماجۃ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے تمہارے نبی پر اقامت کی حالت میں چار رکعت اور سفر میں دو رکعت اور خوف کے وقت ایک رکعت فرض کی۔ رواہ مسلم۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا (شروع میں) نماز کی دو رکعتیں ہی فرض کی گئی تھیں پھر سفر کی حالت میں تو اس کو قائم رکھا گیا اور اقامت کی حالت میں اس میں (دو رکعت کی) زیادتی کردی گئی۔ رواہ البخاری ومسلم۔ زہری کا بیان ہے میں نے عروہ ؓ سے پوچھا پھر حضرت عائشہ ؓ سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی تھیں۔ عروہ ؓ نے جواب دیا انہوں نے حضرت عثمان ؓ کی طرح تاویل کی تھی۔ بخاری کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں۔ نماز دو رکعت فرض کی گئی تھی پھر جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کی تو چار رکعتیں (اقامت کی حالت میں) فرض کردی گئیں اور سفر کی حالت میں اوّل صورت پر نماز باقی رکھی گئی۔ حضرت ابن عمر ؓ کا بیان ہے میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا حضور ﷺ نے وقت وفات تک (سفر میں) دو رکعت سے زائد نہیں پڑھی۔ حضرت عمر ؓ کے بھی ساتھ رہا ‘ آپ نے بھی وقت وفات تک دو رکعت سے زائد نہیں پڑھی (یعنی سفر میں) حضرت عثمان ؓ کے بھی ساتھ رہا آپ نے بھی (سفر میں) وقت وفات تک دو رکعت سے زائد نہیں پڑھی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌرواہ البخاری۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ کا قول ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا آپ ﷺ سفر میں دو رکعتوں پر اضافہ نہیں کرتے تھے اور میں ابوبکر ؓ و عمر ؓ اور عثمان ؓ کے ساتھ بھی رہا یہ بھی ایسا ہی کرتے تھے ‘ صحیحین میں حضرت ابن عمر کا قول اس طرح بھی آیا ہے کہ منیٰ میں رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے بعد ابوبکر نے بھی اور ابوبکر ؓ کے بعد عمر ؓ نے بھی اور عثمان نے اپنی خلافت کے شروع میں بھی لیکن کچھ مدت کے بعد عثمان ؓ نے چار رکعتیں پڑھیں۔ امام احمد (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو لوگوں نے اعتراض کیا آپ نے فرمایا لوگو میں جب سے مکہ میں آیا ہوں میں نے مکہ میں گھر کرلیا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص کسی شہر میں گھر کرے تو وہ مقیم کی ایسی نماز پڑھے۔ دیکھو حضرت عثمان ؓ کے پوری نماز پڑھنے پر لوگوں نے اعتراض کیا اور آپ ﷺ نے مکہ میں گھر کرلینے کا عذر پیش کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری نماز پڑھنی جائز نہیں ورنہ لوگ اعتراض نہ کرتے اور نہ آپ عذر پیش کرتے بلکہ فرما دیتے کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ سفر میں قصر کروں یا نہ کروں) امام شافعی (رح) کی طرف سے جواب میں کہا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب کے قول میں آیا ہے کہ سفر میں دو رکعتیں ہیں پوری پوری بغیر قصر (کمی) کے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دو رکعتیں ثواب میں پوری ہیں (صرف دو رکعت پڑھنے سے) نماز میں کوئی نقصان نہیں آتا کیونکہ غیر قصر سے مراد اگر یہ ہوتی کہ (اصل نماز دو رکعت ہے) سفر میں قصر نہیں کیا گیا تو یہ آیت : فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا کے خلاف ہے اس آیت میں قصر صلوٰۃ کی صراحت ہے اور حدیث آحاد خواہ مرفوع ہی ہو لیکن جب اس کا مقابلہ صراحت قرآنی سے ہو تو واجب الترک ہے یہ تو حدیث موقوف ہے۔ رہا حضرت ابن عباس ؓ کا اثر تو وہ بالاجماع واجب الترک ہے کیونکہ صلوٰۃ خوف کے ایک رکعت ہونے کا کوئی قائل نہیں۔ باقی حضرت عائشہ ؓ کی روایت تو وہ بھی ناقابل عمل ہے کیونکہ راوی کا عمل اگر اسی کی روایت کے خلاف ہو تو ایسی روایت مجروح مانی گئی ہے اور یہ یقینی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ (سفر میں) پوری نماز پڑھتی تھیں اور رخصت اختیاری کا قول انہوں نے نقل بھی کیا ہے لہٰذا ان کے یہ الفاظ کہ سفر میں نماز اوّل حالت پر چھوڑ دی گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دو رکعت پڑھنا پسند کرے تو گویا اس کے لئے نماز اوّل حالت پر چھوڑ دی گئی (اس کو زیادہ کا مکلف نہیں بنایا گیا) رہا حضرت ابن عمر ؓ کا قول تو وہ نفی کی شہادت دے رہا ہے اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث اثبات پر دلالت کر رہی ہے لہٰذا حضرت عائشہ ؓ کی حدیث کو ترجیح دی جائے گی۔ یا یوں کہا جائے گا کہ حضرت ابن عمر ؓ نے جو فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت پر اضافہ نہیں کیا۔ اس سے مراد ہے اکثر اوقات دو رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھی (کبھی زیادہ بھی پڑھ لی) پھر خود ہی حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عثمان ؓ نے اپنی خلافت کے شروع میں دو رکعتیں پڑھیں پھر چار پڑھیں۔ اس میں لوگوں کے اعتراض کرنے کا ذکر نہیں ہے اس سے بجائے خود ثابت ہوتا ہے کہ دو یا چار رکعت پڑھنے کا اختیار ہے (دو کا وجوب نہیں) رہی آیت لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌجو حضرت ابن عمر ؓ نے ذکر کی تھی تو یہ وجوب پر دلالت نہیں کرتی۔ اوّلیٰ ہونا بتاتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عثمان ؓ پر لوگوں کا اعتراض اور آپ کی معذرت صرف ترک اوّلیٰ کی وجہ سے ہو (ترک واجب کی وجہ سے نہ ہو) امام ابوحنیفہ (رح) نے ایک عقلی استدلال بھی کیا ہے کہ قصر کی نماز کے آخری شفعہ (آخری دو رکعتوں) کی قضا کا حکم نہیں اور نہ ان کو ترک کرنے سے گناہ گار ہوگا (معلوم ہوا کہ پہلی دو رکعتیں ہی فرض ہیں اور) آخری شفعہ نفل ہے ‘ روزہ کی یہ حالت نہیں ہے۔ اس کی قضا واجب ہے اور فقیر کے حج کی حالت بھی اس سے جدا ہے (فقیر پر حج اگرچہ فرض نہیں لیکن اگر میقات میں داخل ہوجائے تو فرض ہوجاتا ہے) ۔ تخییر (کرنے نہ کرنے کا اختیار) کا حکم تو اس وقت ہوتا ہے جب فعل اور ترک دونوں میں کسی خاص قسم کی سہولت ہو جیسے مسافر کے لئے رمضان کا روزہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ایسی سہولت سے گزر جاتا ہے جو تنہا روزہ رکھنے میں مفقود ہے دو تین کے ساتھ روزہ رکھنے میں آسانی ہے۔ رہا مسافر کا جمعہ اور اس کے ظہر کی نماز تو یہ دونوں الگ الگ جنس کی نمازیں ہیں اور ہر ایک میں وہ سہولت ہے جو دوسرے میں نہیں ہے جمعہ میں (باوجود دو رکعت کی سہولت حاصل ہونے کے) ایسی شرطیں بھی ہیں جو ظہر میں نہیں ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اگر مکلف کی سہولت کی رعایت نہ ہو تو ایسی صورت میں تخییر شان عبودیت کے منافی ہے (عبودیت کا تقاضا وجوب ہے نہ کہ اپنی مرضی پر چلنا) ۔ امام صاحب کے اس استدلال کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ اگر قلیل و کثیر میں تخییر دی جاتی ہے تو دونوں صورتوں کی وجہ الگ الگ ہوتی ہے ‘ قلیل میں تو سہولت ہوتی ہے اور کثیر میں ثواب کی زیادتی اور کثیر میں اجر کے زیادہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قلیل میں (معیار مقرر کے درجہ سے) ثواب کم ہے ‘ دیکھو نماز میں مقدار قراءت کم سے کم اتنی کہ جس سے نماز ہوجائے (کامل ثواب کے لئے کافی ہے) اور پورے قرآن کی ایک رکعت میں قراءت جو (زیادتی ثواب کی موجب ہے) دونوں کا اختیار ہے اوّل الذکر کی نماز میں کوئی نقصان نہیں آتا اور نہ پورا قرآن پڑھنے والا فرض سے زائد (بطور نفل) پڑھتا ہے کیونکہ حکم قراءت قرآن کا ہے اور جس طرح مقدار ادنیٰ مایجوزبہ الصلوٰۃ ماموبہ کا فرد ہے اسی طرح پورا قرآن بھی فرد ہے۔ اِس پر شبہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ تقریر تو اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ اگر مسافر پوری نماز پڑھے تو ثواب زیادہ ہوگا اور قصر سے پڑھنے میں اتنا ثواب نہ ہوگا (گو فرض ادا ہوجائے گا) جیسے نماز میں قرأت کی زیادتی سے بالاجماع ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ سنت سے زیادہ قراءت امام کے لئے اس وقت مکروہ ہے جب مقتدی پسند نہ کرتے ہوں۔ تنہا نماز پڑھنے میں زیادتی قراءت افضل ہے اور اگر قوم راغب ہو تو امام کے لئے بھی زیادہ قرآن پڑھنا زیادتی ثواب کا باعث ہے لیکن بالاجماع سفر میں قصر کرنا پوری نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ امام شافعی (رح) کا ایک قول ضرور آیا ہے کہ سفر میں پوری نماز پڑھنی افضل ہے مگر آپ نے اس سے رجوع کرلیا تھا۔ رہا امام شافعی (رح) کا لفظ جناح سے تخییر کا استنباط کرنا تو یہ غلط ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ پوری نماز پڑھنے کے عادی تھے اور اسی سے مانوس تھے۔ قصر کے حکم سے ان کے دلوں میں یہ خطرہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس سے نماز میں کمی آجائے گی اس خیال کو دفع کرنے کے لئے گناہ کی نفی کی تاکہ لوگ قصر سے کوئی خطرہ محسوس نہ کریں اور اطمینان قلب سے قصر کے ساتھ نمازیں پڑھیں جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاءِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا (جاہلیت کے زمانہ میں لوگ صفا ومروہ کے درمیان چکر لگاتے تھے اور دونوں پہاڑیوں پر اس زمانہ میں دو بت رکھے تھے جب اسلام کا دور آیا اور صفا ومروہ کے درمیان طواف کا وجوبی حکم دینا مقصود ہوا لیکن اس طور پر کہ لوگوں کو یہ خیال نہ ہو کہ یہ تو بت پرستی اور جاہلیت کی رسم ہے اس لئے لفظ لاَجُنَاحَاستعمال کیا) ۔ اس کے رد میں شافعیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ تو خواہ مخواہ بےوجہ ظاہر آیت کا ترک ہے۔ واللہ اعلم۔ بحث (3): آیت کے عموم کے پیش نظر امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک گناہ کے سفر میں بھی قصر کیا جائے گا۔ باقی تینوں اماموں کے نزدیک سفر معصیت میں قصر جائز نہیں مگر ان کے پاس کوئی قابل اعتماد دلیل نہیں (کہ آیت کے عموم کے مقابل اس کو تسلیم کیا جائے) بحث (4) : مسافر جب شہر کی آبادی سے نکل جائے تو قصر کرے یہ فیصلہ چاروں اماموں کے نزدیک بالاتفاق ہے البتہ ایک روایت میں امام مالک (رح) : کا قول آیا ہے کہ جب آبادی سے تین میل پر پہنچ جائے تو قصر کرے۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ جب حارث ؓ بن ربیعہ نے سفر کا ارادہ کیا تو اپنی فردوگاہ میں ہی انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں۔ حاضرین میں اسود اور حضرت عبداللہ ؓ کے متعدد شاگرد موجود تھے۔ مجاہد کا قول آیا ہے کہ دن کو سفر کو نکلے تو رات آنے تک قصر نہ کرے اور رات کو نکلے تو دن شروع ہونے سے پہلے قصر نہ کرے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ حضرت علی ؓ جب بصرہ سے نکلنے لگے تو ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں یعنی آبادی چھوڑنے سے پہلے پھر فرمایا اگر ہم اس چھاؤنی سے آگے نکل جاتے تو دو رکعت پڑھتے۔ اسی طرح جب آپ سفر سے واپس آتے اور شہر میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو جب تک آبادی میں داخل نہ ہوجاتے دو رکعت پڑھتے۔ آبادی میں داخل ہوجائے تو چار رکعت پڑھے یہ اجتماعی فیصلہ ہے۔ بخاری نے تعلیقاً ذکر کیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے آبادی سے نکل کر قصر کیا آبادی کے گھر سامنے نظر آ رہے تھے جب واپس آئے تو لوگوں نے کہا یہ کوفہ آگیا ہے آپ نے فرمایا نہیں۔ جب تک اندر داخل نہ ہوجائیں مراد یہ کہ دو رکعتیں پڑھیں حالانکہ کوفہ نظر کے سامنے تھا۔ عبدالرزاق نے بروایت ثوری (رح) وفا بن ایاس اسدی کا قول نقل کیا ہے۔ وفا نے کہا ہم حضرت علی ؓ کے ساتھ (کوفہ) سے نکلے ‘ کوفہ ہم کو دکھائی دے رہا تھا مگر حضرت علی ؓ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر لوٹے تب بھی دو رکعتیں پڑھیں حالانکہ آبادی ان کو نظر آرہی تھی ہم نے عرض کیا۔ کیا ہم چار نہ پڑھیں فرمایا نہیں تاوقتیکہ اندر داخل نہ ہوجائیں۔ بحث (5) : دوران سفر میں اگر کسی شہر یا گاؤں میں چار روز قیام کی نیت کرلے تو امام مالک و شافعی (رح) کے نزدیک چار رکعت پڑھے ‘ داخل ہونے اور نکلنے کے دن ان چار کی گنتی میں نہیں آئیں گے۔ امام احمد کا قول مروی ہے کہ اگر کہیں ٹھہر کر 20 نمازوں سے زائد پڑھنے کا ارادہ ہو تو پوری نماز پڑھے۔ امام ابوحنیفہ (رح) عدم قصر کے لئے کسی شہر یا گاؤں میں پندرہ روز کے قیام کی نیت کو ضروری قرار دیتے ہیں اور جنگل میں یا (بدویوں کے) خیموں میں ٹھہرنے کی نیت کا اعتبار نہیں کرتے۔ حنفیہ کی دلیل یہ ہے کہ حج وداع میں 4 ذی الحجہ کی صبح کو اتوار کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔ روز نرویہ یعنی 8 ذی الحجہ کو جمعرات کے دن منیٰ کو گئے۔ بروز عرفہ یعنی 9 ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد منیٰ سے کوفہ کو تشریف لے گئے پھر حج سے فارغ ہو کر چہار شنبہ کی رات محصب میں گزاری اور صبح سے پہلے پہلے تڑکے میں طواف وداع کرلیا اور 14 کی صبح کو (مکہ سے) نکل گئے اس طرح دس راتیں پوری ہوگئیں۔ یوم الترویہ تک چار شبانہ روز مکہ میں قیام فرمایا۔ اس تفصیل سے امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا قول باطل ہوگیا (کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے چار شبانہ روز مکہ میں قیام رکھنے کے باوجود اور کل دس روز کی مجموعی مدت گزارنے کے باجود قصر کیا۔ لیکن امام احمد (رح) کا قول اس سے باطل نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں کل 20 نماز ادا کیں اس سے زیادہ نہیں پڑھیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے آثار کو بھی دلیل میں پیش کیا ہے۔ طحاوی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ کا قول لکھا ہے کہ جب تم حالت سفر میں کسی شہر میں جاؤ اور وہاں پندرہ روز ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو نماز پوری پڑھو اور اگر تم کو علم نہ ہو کہ وہاں سے کب کوچ کر جانا پڑے گا تو (پھر کتنی ہی مدت گزر جائے) قصر کرو۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ اگر پندرہ روز کے قیام کا پختہ ارادہ کرلیتے تھے تو پوری نماز پڑھتے تھے۔ امام محمد (رح) نے کتاب الآثار میں لکھا ہے کہ ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہم سے موسیٰ بن مسلم نے مجاہد کی روایت بیان کی کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا اگر تم مسافر ہو اور (کہیں) پندرہ روزہ قیام کرنے پر تمہارا دل جم جائے تو نماز پوری پڑھو اور اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ کب کوچ کرنا پڑے گا تو قصر کرو۔ مسئلہ : اگر کسی شہر میں داخل ہوا اور اقامت کی نیت نہیں کی اور آج کل پرسوں وہاں سے جانے کا ارادہ کرتا رہا یا یہ ارادہ کیا کہ جب کام پورا ہوجائے گا تو چلا جاؤں گا۔ اس طرح برسوں تک وہاں رہتا رہا تو جمہور کے نزدیک ہمیشہ قصر کرے گا۔ ایک قول امام شافعی (رح) کا بھی یہی ہے دوسرا قول امام شافعی (رح) کا یہ ہے کہ 14 روز قصر کرے اور (پندرہویں روز پوری نماز پڑھے) امام شافعی (رح) کا قویٰ قول یہ ہے کہ 17 روز قصر کرے اور اٹھارویں روز پوری نماز پڑھے کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کے بیان میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تشریف لے گئے اور آپ نے سترہ روز دو دو رکعتیں پڑھیں اس لئے ہم بھی سترہ روز تک دو دو رکعت پڑھتے ہیں اور اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو پوری نماز پڑھتے ہیں۔ رواہ الترمذی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن اس حدیث میں سترہ روز قصر کرنے اور اٹھارہویں روز پوری نماز پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اتفاق سے سترہ روز قیام فرمایا تھا بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر زیادہ قیام فرماتے تب بھی قصر کرتے۔ امام احمد (رح) اور ابوداؤد نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ نے بیس روز قیام فرمایا اور قصر کرتے رہے۔ عبدالرزاق نے اپنی سند سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے آذربائیجان میں چھ ماہ قیام کیا اور نماز میں قصر کرتے رہے۔ یہ واقعہ بیہقی نے بھی صحیح سند سے بیان کیا ہے۔ بیہقی نے اپنی سند سے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا ہم آذربائیجان میں مجاہدین کے ساتھ چھ مہینے رہے ‘ برف نے ہمارا راستہ بند کر رکھا تھا (اس مدت میں) ہم دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ اسی روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ اس زمانہ میں آپ کے ساتھ دوسرے صحابی بھی تھے اور سب یہی کرتے تھے۔ عبدالرزاق نے حسن کا قول بیان کیا ہے کہ ہم حضرت عبدالرحمن ؓ بن سمرہ کے ساتھ چند سال ملک فارس میں رہے آپ دو نمازوں کو جمع نہیں کرتے تھے اور نہ دو رکعت سے زائد پڑھتے تھے۔ عبدالرزاق نے حضرت انس بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ ہم عبدالملک بن مروان کے ساتھ شام میں دو ماہ رہے اور دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ مسئلہ : جو ملاح بیوی بچوں اور مال و متاع کے ساتھ جہاز میں سفر کرتا رہتا ہو یا جو مزدور ہمیشہ سفر میں رہتا ہو وہ تین اماموں کے نزدیک قصر کرتا رہے گا کیونکہ نص مطلق ہے صرف امام احمد (رح) کے نزدیک قصر نہیں کرے گا۔ مسئلہ : خانہ بدوش صحرائیوں کی نیت اقامت بعض کے نزدیک صحیح نہیں لیکن صحیح قول یہ ہے کہ ان کو مقیم کہا جائے گا کیونکہ اقامت اصل ہے ایک چراگاہ سے دوسری چراگاہ کی طرف منتقل ہونے سے باطل نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ : اگر مسافر کسی مقیم امام کی نماز کے کسی حصہ میں اقتدا کرے تو جمہور کے نزدیک اس کو چار رکعتیں پوری کرنی چاہئے۔ امام مالک (رح) نے فرمایا اگر اس کو ایک رکعت مل گئی ہو تو چار پوری کرے گا ورنہ نہیں۔ اسحاق بن راہویہ نے کہا مقیم کے پیچھے مسافر قصر کرے گا۔ امام احمد نے موسیٰ بن سلمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ہم حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ مکہ میں تھے۔ میں نے کہا جب ہم آپ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں تو چار پڑھتے ہیں اور جب لوٹ کر جاتے ہیں تو دو رکعت پڑھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کا یہی طریقہ ہے۔ مسئلہ : اقامت کی حالت میں جو نماز فوت ہوجائے اور سفر میں اس کو ادا کرے تو پوری ادا کرے گا۔ ابن المنذر نے کہا ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس میں اختلاف کیا ہو ہاں حسن اور مزنی کا قول ایک روایت میں ہے کہ (صلوٰۃ حضر کی نماز) سفر میں قصر کے ساتھ ادا کرے گا اور اگر سفر میں کوئی نماز قضا ہوگئی ہو تو امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک حضر میں قصر کے ساتھ ادا کرے گا۔ امام شافعی (رح) کا بھی ایک قول یہی ہے امام احمد کے نزدیک پوری ادا کرے گا امام شافعی (رح) کا بھی صحیح قول یہی ہے۔ مسئلہ : اگر مسافر امام ہو اور مقیم مقتدی تو امام دو رکعتیں پڑھے گا اور مقیم اپنی نماز پوری کریں گے ‘ اجماعی فیصلہ یہی ہے ‘ حضرت عمران بن حصین کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب جہاد کیا اور فتح مکہ کے وقت بھی آپ کے ساتھ موجود تھا۔ آپ ﷺ نے مکہ میں آٹھ رات قیام کیا اس مدت میں ہم بس دو رکعتیں پڑھتے رہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اہل مکہ تم چار رکعت پڑھو ہم تو مسافر لوگ ہیں۔ رواہ الترمذی وصححہ۔ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا . اگر تم کو اندیشہ ہو کہ کافر تم کو دکھ پہنچائیں گے یعنی قتل کرنے یا زخمی کرنے یا قید کرنے یا مال لوٹنے کا۔ اس شرط کو جزاء کی ضرورت نہیں کیونکہ سابق کلام اس پر دلالت کر رہا ہے یعنی اگر دشمن کی ایذا رسانی کا تم کو اندیشہ ہو تو نماز میں قصر کرلیا کرو۔ بظاہر آیت میں خوف عدو کو قصر کی شرط قرار دیا ہے۔ خارجی اسی کے قائل ہیں لیکن اجماع علماء ہے کہ خوف شرط نہیں بلکہ عادۃً چونکہ ایسا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے اکثر سفروں میں دشمن کا خوف لگا رہتا تھا اس لئے ایک واقعہ کا اظہار کردیا ورنہ اس شرط پر کوئی حکم متفرع نہیں ہے (کہ اگر شرط ہو تو وہ حکم بھی نہ ہو) جیسے دوسری آیت ہے : وَلاَ تُکْرِہُوْ فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًاتم اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی کی خواہاں ہوں (ظاہر ہے کہ پاکدامنی کی خواہش کا ذکر اکثریت کے لحاظ سے بےباندیاں اور وہ مسلمان باندیاں زنا کی خواہشمند نہیں تھیں پاکدامنی کی خواہش کی شرط ایسی نہیں کہ اس حکم پر موقوف ہو اور اگر باندیاں پاکدامنی کی خواہش مند نہ ہوں تو ان کو زنا پر مجبور کرنا جائز ہو) امن کی حالت میں قصر صلوٰۃ کے متعلق بکثرت احادیث باہم مؤید ہیں جیسے یعلی بن امیہ نے حضرت عمر ؓ کی حدیث بیان کی تھی (جس کا ذکر ادھر آچکا ہے) امام شافعی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ و مدینہ کے درمیان امن کی حالت میں سفر کیا کہ آپ کو سوائے خدا کے کسی کا خوف نہ تھا اور آپ دو رکعت پڑھتے رہے۔ حضرت حارثہ ؓ بن وہب خزاعی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں ہم کو دو رکعتیں پڑھائیں اس وقت کثرت اور امن کے لحاظ سے ہم ہر گزشتہ زمانہ سے بڑھ چڑھ کر تھے۔ متفق علیہ۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ان خفتمکا تعلق سابق کلام سے نہیں ہے بلکہ آگے جو صلوٰۃ خوف کا بیان ہے اس سے اس کا تعلق ہے ‘ یہ تعلق اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے بعید ہے مگر معنوی ربط کے لحاظ سے قریب ہے کیونکہ صلوٰۃ خوف میں دشمن کا خوف ہونا بالاجماع شرط ہے اور اس کے آگے کہیں اس شرط کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تائید بغوی کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت ابو ایوب ؓ انصاری نے فرمایا آیت فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تُقَصَرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِفقط یہیں تک نازل ہوئی تھی پھر ایک سال کے بعد لوگوں نے صلوٰۃ خوف کے متعلق دریافت کیا تو نازل ہوا : اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنَّ الْکَافِرِیْنَ کَانُوْا لَکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ الخبغوی نے کہا ایسی عبارتیں قرآن میں بکثرت آئی ہیں۔ پہلے پوری خبر ذکر کردی جاتی ہے پھر ترتیب کلام میں ایک اور خبر لائی جاتی ہے جو بظاہر ماقبل سے مربوط ہوتی ہے مگر حقیقت میں جدا ہوتی ہے جیسے (سورۂ یوسف میں آیا ہے) : اَلْاٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصَّدِقِیْنَ ۔ ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اِنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بالْغَیْبِ الصَّدِقِیْنَتک عزیز کی بیوی کے قول کی نقل ہے اور ذٰلک سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے قول کی حکایت ہے۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا ‘ بنی نجار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہم ملک میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ نماز کس طرح پڑھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا : وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصَرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ ۔ پھر وحی بند رہی ایک سال کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک جہاد کیا اور وہاں ظہر کی نماز پڑھی مشرکوں نے کہا محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں نے اپنی پشت کی جانب سے (حملہ کرنے کا) موقع تو دے دیا تھا تم نے حملہ کیوں نہیں کیا۔ ایک آدمی بولا ان کی ایک نماز اور بھی ایسی ہی اس کے پیچھے آئے گی (اس وقت حملہ کردینا) اس پر اللہ نے دونوں نمازوں (یعنی ظہر و عصر) کے درمیان نازل فرمایا : اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمْ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔۔ عَذَابًا مُّہِیْنًاتک۔ میں کہتا ہوں اس شان نزول پر ان خفتم کی جزا محذوف ہوگی جس پر بعد والا کلام دلالت کر رہا ہے یعنی کافروں کی ایذا رسانی کا اگر تم کو اندیشہ ہو تو نماز کی حالت میں بھی احتیاط اور جہاد کو نہ چھوڑو۔ ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا . یقیناً کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ امام احمدنے دلائل میں بیہقی نے اور حاکم نے (مستدرک میں) حضرت ابو عیاش زرقی کا بیان نقل کیا ہے کہ ہم عسفان میں رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب تھے۔ سامنے سے مشرک آگئے جن کے سردار خالد بن ولید تھے یہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرک کہنے لگے ‘ تھے تو یہ بڑے موقع پر اگر ہم غفلت میں ان پر حملہ کردیتے پھر خود ہی بولے (اب تو موقع نکل گیا خیر) ابھی ان کی ایک اور نماز آرہی ہے جو ان کو اپنی جان و اوّلاد سے بھی زیادہ پیاری ہے (اس وقت حملہ کریں گے) اس پر جبرئیل ( علیہ السلام) ظہر و عصر کے درمیان یہ آیت لے کر آئے : وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ الخغرض نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا (اپنے ہتھیار ساتھ رکھو) حسب الحکم لوگوں نے اسلحہ لے لئے ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں آپ نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا تو ہم سب نے سر اٹھائے پھر آپ ﷺ نے اس صف کے ساتھ سجدہ کیا جو آپ سے متصل تھی (یعنی پہلی صف) اور دوسرے لوگ کھڑے حفاظت کرتے رہے جب پہلی صف والے سجدہ کرچکے اور کھڑے ہوگئے تو پچھلی صف والے بیٹھ گئے اور انہوں نے اوّل صف والوں کی جگہ سجدہ کیا۔ پھر ایک جماعت دوسری جماعت کی جگہ اور دوسری جماعت اوّل جماعت کی جگہ آگئی اور (قرآت کے بعد) سب نے ساتھ مل کر رکوع کیا پھر سب نے رکوع سے سر اٹھایا پھر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور سلام پھیر دیا۔ صلوٰۃ خوف رسول اللہ ﷺ نے دو بارہ پڑھی تھی ایک بار عسفان میں اور ایک بار قبیلۂ بنی سلیم کی سرزمین میں۔ مسلم نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا صلوٰۃ خوف پڑھنا اسی طرح نقل کیا ہے۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

واذا کنت فیہم اور جب آپ ان میں موجود ہوں اور دشمن کا خوف ہو۔ دشمن کا خوف ہونے کی قیدباجماع علماء اس جگہ ضروری ہے اور اِنْ خِفْتُمْکو اگر مابعد کلام سے مربوط مانا جائے تب تو قرینہ بھی موجود ہوگا۔ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ ان خفتم پر اس کا عطف ہو اور دونوں شرطوں کا مجموعہ صلوٰۃِ خوف کے لئے ضروری ہو یعنی اگر دشمن کا خوف ہو اور مجاہدین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی موجود ہوں تو صلوٰۃِ خوف پڑھی جائے (اگر دشمن کا خوف نہ ہو یا رسول اللہ ﷺ وہاں موجود نہ ہوں تو صلوٰۃ خوف کا جواز نہیں) اسی ظاہر کلام کے پیش نظر امام ابو یوسف (رح) نے فرمایا کہ صلوٰۃ خوف رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھی (دوسروں کے لئے جائز نہیں) مگر جمہور علماء کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی صلوٰۃِ خوف کا ضابطہ جاری ہے۔ تمام خلفاء اسلام رسول اللہ ﷺ کے نائب ہیں ‘ ہر زمانہ میں کسی خلیفہ کی موجودگی رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کے قائم مقام ہے۔ قرآن کا طرز خطاب عموماً یہی ہے کہ مراد تمام امت کو خطاب کرنا ہوتا ہے مگر روئے خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف کیا جاتا ہے جیسے لاَ تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ (ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تو کوئی شک ہو نہیں سکتا تھا لامحالہ مراد امت کو ہی خطاب کرنا ہے) ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد تمام صحابہ ؓ نے صلوٰۃ خوف پڑھی اور کسی نے کسی کے خلاف اعتراض نہیں کیا لہٰذا نماز خوف کے جواز پر اجماع ہوگیا۔ ابو داؤد کی روایت ہے کہ مجاہدین نے حضرت عبدالرحمن ؓ بن سمرہ کی ہمراہی میں کابل کا جہاد کیا آپ نے سب کو صلوٰۃ خوف پڑھائی۔ ابو داؤد کی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ صفین کی جنگ کے دن حضرت علی ؓ نے صلوٰۃ خوف پڑھی۔ رافعی نے ذکر کیا ہے کہ لیلۃ الہریر (جنگ جمل کی رات کو) مغرب کی نماز حضرت علی ؓ نے صلوٰۃ خوف کی طرح پڑھائی پہلے گروہ کے ساتھ ایک رکعت اور دوسرے گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں۔ بیہقی نے امام جعفر ؓ کی روایت سے بحوالۂ امام زین ؓ العابدین بوساطت امام حسین ؓ بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے لیلۃ الہریر میں مغرب کی صلوٰۃ خوف پڑھی۔ امام شافعی (رح) کی روایت میں بھی آیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے لیلۃ الہریر میں مغرب کی صلوٰۃ خوف پڑھی۔ اسی طرح جس طرح رسول اللہ ﷺ نے (بروایت صالح بن خوات) پڑھی تھی بیہقی نے ابوالعالیہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اصفہان میں صلوٰۃ خوف پڑھی۔ بیہقی نے یہ بھی بیان کیا کہ مجوسیوں کی جنگ کے وقت طبرستان میں حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص نے صلوٰۃ خوف پڑھی ‘ اس وقت آپ کے ساتھ حضرت حسن ؓ بن علی ؓ و حضرت حذیفہ ؓ بن یمان اور عبداللہ بن عمرو ؓ بن العاص بھی تھے۔ ابو داؤد اور نسائی نے ثعلبہ بن زہرم کے طریق سے بیان کیا کہ ہم حضرت سعید بن العاص کے ساتھ تھے۔ آپ نے پوچھا تم میں سے کس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلوٰۃ خوف پڑھی ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا میں نے چناچہ آپ نے ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت اور دوسرے گروہ کے ساتھ دوسری رکعت پڑھی۔ فاقمت لہم اصلوۃ اور ان کو آپ نماز پڑھائیں۔ فلتہم طآئفۃ منہم معک تو ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ (نماز میں) کھڑا ہو یعنی کل نمازیوں کے دو گروہ بنا لیں ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوجائے اس کو آپ نماز پڑھانا شروع کردیں۔ ولیاخذوا اسلحتہم اور یہ گروہ اپنے اسلحہ (اپنے ساتھ) لئے رہے امام مالک نے کہا صلوٰۃِخوف میں اسلحہ (نماز کے اندر) اپنے ساتھ رکھنا واجب ہے امام شافعی (رح) : کا بھی ایک قول یہی ہے لیکن اکثر علماء کے نزدیک امر استحباب کے لئے ہے (نماز کے اندر اپنے اسلحہ ساتھ رکھنا مستحب ہے) فاذا سجدوا . پھر جب یہ گروہ سجدہ کرچکے یعنی ایک رکعت امام کے ساتھ پوری کرلے سجدہ سے نماز بھی مراد ہو سکتی ہے جز بول کر کل مراد لیا جاسکتا ہے یعنی جب یہ گروہ پوری نماز پڑھ لے۔ فلیکونوا من ورآئکم تو تمہارے پیچھے چلا جائے یعنی تم سب کے پیچھے دشمن کے سامنے چلا جائے۔ ولتات طآئفۃ اخری لم یصلوا اور (ان کی جگہ) دوسرا گروہ آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی ہو۔ فلیصلوا معک . اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے یعنی پوری نماز یا دوسری رکعت۔ ولیاخذوا حذرہم واسلحتہم اور یہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے اسلحہ لئے رہے۔ بچاؤ کے سامان سے مراد ہے دشمن کے حملہ سے بچنے کا سامان جیسے زرہ ڈھال اور اسلحہ سے مراد ہیں لڑائی کے ہتھیار جن سے لڑا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی صلوٰۃ خوف کا طریقہ چند طور پر روایات میں آیا ہے۔ (1) ابو عیاش ؓ زرقی اور جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے پہلے گزر چکا ہے یہ صورت عسفان میں ہوئی تھی اور دشمن مسلمانوں کے اور قبلہ کے درمیان حائل تھا۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت جابر ؓ کی روایت سے لکھا ہے حضرت جابر ؓ نے فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب چلے جب ذات الرقاع میں پہنچے۔ اس روایت میں آیا ہے۔ تو رسول اللہ نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر یہ گروہ پیچھے ہٹ آیا اور حضور ﷺ نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ ﷺ : کی چار اور دوسرے لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ اس حدیث کا مطلب دو طرح ہوسکتا ہے۔ ایک یہ کہ حضور ﷺ نے چار رکعتیں ایک ہی سلام سے ادا کیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ نے دو دو رکعتیں پڑھیں۔ دوسرا مطلب یہ کہ حضور ﷺ نے دو رکعت پڑھ کر ایک گروہ کے ساتھ سلام پھیر دیا پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اور ان کے ساتھ سلام پھیرا یہ آخری صورت حضرت جابر ؓ کی راویت میں صراحت کے ساتھ بھی آئی ہے کہ بطن نخل میں ‘ رسول اللہ ﷺ : لوگوں کو ظہر کی صلوۃ خوف پڑھا رہے تھے پہلے گروہ کو دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا ‘ پھر دوسرا گروہ آیا اور آپ ﷺ نے اس کو دو رکعتیں پڑھائیں یہ روایت بغوی نے بطریق شافعی بیان کی ہے۔ اس روایت میں شافعی کے راوی کا نام معلوم نہیں لیکن شافعی نے ان کو معتمد کہا تھا۔ چناچہ فرمایا تھا مجھے ایک ثقہ نے۔ ابو علیہ تھے یا کوئی اور بتایا۔ ابن جوزی نے دارقطنی کے طریق سے بوساطت عنبسہ بحوالۂ حسن حضرت جابر ؓ کی یہ روایت بیان کی ہے اور اس کو غیر صحیح کہا ہے یحییٰ بن معین نے عنبسہ کے متعلق فرمایا یہ کچھ نہیں ہے۔ نسائی نے اس کو متروک اور ابو حاتم نے حدیثیں بنانے والا کہا ہے۔ یہ حدیث ابو داؤد ابن حبان حاکم اور دارقطنی نے ابوبکرہ کی روایت سے بیان کی ہے ابو داؤد اور ابن حبان کی روایت میں اس کو ظہر کی نماز کہا گیا ہے اور دارقطنی کی روایت میں مغرب کی۔ ابن قطان نے کہا یہ روایت معلل ہے کیونکہ حضرت ابوبکرہ ؓ صلوٰۃ خوف کے وقوع کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔ حافظ نے کہا اس سے روایت معلل نہیں ہوتی ‘ مرسل صحابی ہوجائے گی (جو مقبول ہے) (3) شیخین نے صالح بن خوات کی روایت سے ایسے شخص کا بیان کیا ہے جس نے ذات الرقاع کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی۔ بخاری نے دوسری سند سے صالح بن خوات کے راوی کا نام سہیل بن ابی حثمہ لکھا ہے۔ سہیل کا بیان ہے کہ ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صف باندھی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ حضور ﷺ نے اس گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی پھر جمے کھڑے رہے اور ان لوگوں نے اپنی نماز (یعنی باقی رکعت پوری کی پھر فارغ ہو کر دشمن کے سامنے پہنچ کر صفت بستہ ہوگئے اور دوسرا گروہ آگیا اس کو حضور ﷺ نے اپنی نماز کی باقی رکعت پڑھائی پھر (بغیر سلام پھیرے) اپنی جگہ جمے بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی باقی نماز پوری کی پھر حضور ﷺ کے ساتھ سب نے سلام پھیرا۔ (4) ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ضحنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ کیا۔ مشرکوں نے کہا ان (مسلمانوں) کی ایک نماز ہے جو ان کو ماں باپ اور اوّلاد سے بھی زیادہ پیاری ہے یہ عصر کی نماز ہے اس لئے پوری قوت جمع کر کے (نماز کے اندر) ان پر یکدم حملہ کردینا ادھر حضرت جبرئیل ﷺ رسول اللہ ﷺ کے پاس (مشرکوں کے ارادہ کی اطلاع لے کر) آگئے اور حضور ﷺ کو مشورہ دیا کہ ساتھیوں کے دو حصے کر کے ایک حصہ کو نماز پڑھائی اور دوسرا حصہ نماز پڑھنے والوں کے پیچھے کھڑا رہے اور بچاؤ کا سامان اور اسلحہ لئے رہے اس طرح ہر گروہ کی ( رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) ایک رکعت ہوگی اور آپ کی دو رکعتیں ہوجائیں گی۔ اسی طرح بغوی نے بھی لکھا ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ : کی روایت سے رسول اللہ ﷺ : کی صلوٰۃ خوف کی یہی صورت منقول ہے کہ حضور ﷺ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرے گروہ کو دوسری اور انہوں نے بقیہ نماز نہیں پڑھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت زید ؓ بن ثابت کی روایت میں آیا ہے کہ قوم کی ایک ایک رکعت ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کی دو علماء نے اس کو شدت خوف کے وقت کی نماز کہا ہے اور صراحت کی ہے کہ ایسی حالت میں ایک ہی رکعت فرض ہے۔ (5) بخاری نے صحیح میں سالم بن عمر ؓ کی وساطت سے حضرت عمر ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی جانب جہاد کو گیا اور دشمن کے مقابلہ پر ہم نے صف بندی کی (نماز کا وقت آگیا تو) رسول اللہ ﷺ ہم کو نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے چناچہ ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کو کھڑا ہوگیا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس گروہ کے ساتھ رکوع اور دو سجدے کئے پھر یہ گروہ لوٹ کر اس گروہ کی جگہ پہنچ گیا جس نے نماز نہیں پڑھی تھی اور وہ گروہ آگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھی لے کر ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے پھر سلام پھیر دیا اور مقتدیوں میں سے ہر شخص کھڑا ہوگیا اور ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے۔ نافع کی روایت بھی اسی طرح آئی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ اگر اس سے زیادہ خوف ہو تو نماز ادا کرو پیدل ہو سوار ہو قبلہ رخ ہو یا قبلہ رخ نہ ہو۔ نافع نے کہا میرے خیال میں حضرت ابن عمر ؓ نے (ازخود) بغیر رسول اللہ ﷺ کے فرمائے ہوئے ایسا نہیں کہا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے صلوٰۃ خوف کی صورتوں میں سے اسی آخری صورت کو اختیار کیا ہے باقی صورتوں کو جائز نہیں قرار دیا اور فرمایا دوسرا گروہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد دشمن کے سامنے چلا جائے اور پہلا گروہ آکر اوّل اپنی نماز پوری کرلے پھر دوسرا گروہ آکر اپنی نماز پوری کرے اور سلام پھیر دے کیونکہ امام محمد (رح) نے کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہ (رح) کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول نقل کیا ہے اور ایسے معاملہ میں حدیث موقوف مرفوع کی طرح ہوتی ہے اس لئے امام صاحب (رح) نے اس کے سوا کسی صورت کو جائز نہیں قرار دیا۔ دوسری صورت میں تو فرض پڑھنے والے کی اقتداء نفل پڑھنے والے کے پیچھے لازم آئے گی (جو درست نہیں کیونکہ قوی کی بناء ضعیف پر ناجائز ہے) اور تیسری صورت میں امام سے پہلے مقتدی کا رکوع اور سجدہ کرنا لازم آتا ہے جس کی کوئی نظیر شریعت میں نہیں ‘ اس کے علاوہ مقتدی کا انتظام امام کو کرنا تقاضائے امامت کے خلاف ہے۔ چوتھی صورت اجماعاً متروک العمل ہے علاوہ امام کے اور لوگ صرف ایک رکعت پڑھیں ایسا کسی کے نزدیک درست نہیں ‘ خوف سے رکعتوں کی تعداد کم نہیں ہوسکتی۔ رہی پہلی صورت جہاں دشمن قبلہ کے اور نمازیوں کے درمیان حائل تھا تو یہ ارشاد قرآنی کے خلاف ہے اللہ نے فرمایا ہے : فَلْتَقُمْ طَآءِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَاور اس صورت میں دونوں گروہ نماز میں کھڑے ہوں گے اور آگے ارشاد ہے : وَلْتَاْتِ طَآءِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا اور اس صورت میں کوئی گروہ ایسا رہے گا نہیں جس نے نماز نہ پڑھی ہو۔ امام شافعی (رح) ‘ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک صلوٰۃ خوف کی جتنی صورتیں روایات میں آئی ہیں سب صحیح ہیں۔ اختلاف صرف ترجیح میں ہے (کہ راحج کون سی صورت ہے) امام احمد (رح) نے فرمایا سوائے ایک حدیث کے اس باب میں میرے علم میں اور کوئی صحیح حدیث نہیں آئی۔ وجوہ مذکورہ میں سے امام شافعی (رح) کے نزدیک راحج چار صورتیں ہیں اور امام احمد (رح) کے نزدیک تین۔ اگر نمازیوں کے اور قبلہ کے درمیان دشمن حائل ہو تو امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) دونوں کے نزدیک راحج وہی صورت ہے جو وجہ اوّل میں بیان کردی گئی۔ اگر جہت قبلہ کے علاوہ کسی دوسرے رخ پر نماز ہو تو امام شافعی (رح) کے نزدیک راحج یا دوسری صورت ہے جیسے حضور ﷺ نے بطن نخلہ میں نماز پڑھی تھی یا تیسری صورت ہے جیسے ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ نے پڑھی ‘ دوسری صورت میں فرض پڑھنے والے کی اقتداء نفل پڑھنے والے کے پیچھے ضرور ہوجائے گی۔ مگر امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ جائز ہے۔ امام احمد (رح) کے نزدیک شق مذکور میں تیسری صورت ہی متعین ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ ظاہر قرآن کے یہی صورت زیادہ موافق ہے اور احتیاط صلوٰۃ بھی اس میں زیادہ ہے اور دشمن سے حفاظت بھی اس میں کامل ہے۔ کیونکہ قرآن میں آیا ہے : فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآءِکُمْیعنی جب نماز پڑھ چکیں تو پیچھے چلے جائیں پھر فرمایا : وَلْتَاْتِ طَاءِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا اور دوسرا گروہ آجائے جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا پھر فرمایا : فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَپھر وہ نماز پڑھیں یعنی پوری نماز پڑھیں۔ ظاہر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کو چھوڑنے والا گروہ اس وقت جگہ سے ہٹے جب نماز پوری کرلے۔ نماز کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ نماز کا اقتضاء ہے کہ اس میں عمل کثیر اور چلنا نہ ہو۔ احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ مجاہدین جب نماز میں نہ ہوں گے تو جنگ اور فرار پر پورے طور پر قادر ہوں گے بشرطیکہ اس کی ضرورت پڑے اور اگر گھمسان کا رن پڑے اور خوف زیادہ ہو تو پیدل سوار کسی حال میں ہی جدھر کو منہ اٹھے نماز پڑھے قبلہ رخ نہ ہونا اور نماز کے اندر حرکت کثیرہ کرنا اس حالت میں معاف ہے اگر رکوع اور سجدہ بھی نہ کرسکے تو اشارہ ہی سے کام لے رکوع کے لئے معمولی اشارہ اور سجدہ کے لئے گردن کا ذرا زیادہ جھکاؤ کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک شدت خوف کے وقت نماز کے جواز کی دو ہی صورتیں ہیں یا قدموں پر کھڑا ہو کر یا سواری کی حالت میں مؤخر الذکر صورت میں اشارہ کرے گا۔ پیدل قتال کی حالت میں نماز نہیں ہوگی۔ عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجائے گی۔ اس مسئلہ کی تحقیق سورة بقرہ کی آیت فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجاُلاً اَوْ رُکْبَانًاکی تفسیر کے ذیل میں ہوچکی ہے۔ فائدہ : حافظ نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صلوٰۃ خوف کی 14 صورتیں روایات میں آئی ہیں جن کو ابن حزم نے جزء مفرد میں بیان کیا ہے ان میں سے صحیح مسلم میں بعض کا تذکرہ آیا ہے اور بیشتر کا ذکر سنن ابو داؤد میں کیا گیا ہے حاکم نے آٹھ اور ابن حبان نے نو صورتیں لکھی ہیں۔ مسئلہ : امام مالک کے علاوہ جمہور کے نزدیک حضر میں بھی صلوٰۃ خوف جائز ہے ہر گروہ کو دو رکعت پڑھائے البتہ مغرب میں پہلی جماعت کو اور دوسری جماعت کو ایک رکعت پڑھائے۔ ود الذین کفروا۔۔ کافر تمنا کرتے ہیں کہ کاش تم اپنے اسلحہ اور سامان کی طرف سے غافل ہو تو وہ سب تم پر یکدم ٹوٹ پڑیں۔ یہ ترجمہ لَو تمناء کا ہے لیکن لو مصدری بھی ہوسکتا ہے یعنی اگر تم غافل ہو تو وہ یکدم حملہ کردیں۔ نماز میں مسلح رہنے کے حکم کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے۔ کلبی نے ابو صالح کے توسط سے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنی محارب اور بنی انمار سے جہاد کرنے تشریف لے گئے۔ ایک جگہ پڑاؤ کیا وہاں دشمن کا کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا۔ لوگوں نے ہتھیار کھول دیئے اور رسول اللہ ﷺ بھی ہتھیار کھول کر قضائے حاجت کے لئے وادی کو قطع کر کے (پار) چلے گئے۔ بارش ہو رہی تھی ‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ کے درمیان وادی حائل ہوگئی۔ ایک درخت کے نیچے قضائے حاجت کے لئے بیٹھ گئے۔ غویرث بن حارث محاربی نے دور سے آپ کو دیکھ لیا کہنے لگے اللہ مجھے قتل کر دے اگر میں اس کو قتل نہ کر دوں پھر تلوار سونت کر پہاڑ سے نیچے آیا اور بولا محمد ﷺ ! اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ! پھر دعا کی اے اللہ ! تو جس طرح چاہے مجھے غویرث بن حارث سے بچا۔ غویرث نے مارنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف تلوار بڑھائی تھی کہ یکدم اس کے دونوں شانوں کے درمیان درد اٹھا اور درد کی وجہ سے منہ کے بل گرپڑا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ کر الگ جا پڑی۔ حضور نے فوراً اٹھ کر تلوار لے لی اور فرمایا غویرث اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا بولا کوئی نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تو شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کا بندہ اور رسول ہے میں تیری تلوار تجھے دے دوں گا۔ بولا نہیں ہاں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ تم سے جنگ کبھی نہیں کروں گا اور تمہارے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے تلوار دے دی۔ غویرث بولا خدا کی قسم تم مجھ سے بہتر ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا بیشک میں اس کا مستحق بھی تجھ سے زیادہ ہوں۔ غویرث چلا گیا۔ ساتھیوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا ارے تجھے کیا ہوگیا ‘ کس چیز نے تجھے روک دیا ‘ بولا میں نے مارنے کے لئے اس کی طرف تلوار بڑھائی ہی تھی کہ میں نہیں جان سکا کہ کس نے میرے دونوں شانوں کے درمیان درد پیدا کردیا اور میں منہ کے بل گرپڑا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ ولا جناح علیکم ان کان بکم۔۔ اور بارش کی وجہ سے اگر تم کو تکلیف ہو (مثلاً چمڑے کی زرہ بھیگ کر بوجھل ہوجائے) یا تم بیمار ہو (کہ ہتھیاروں کا بوجھ نہ اٹھا سکتے ہو) تو کوئی گناہ نہیں کہ اپنے ہتھیار اتار دو ۔ بارش یا بیماری کے عذر کی وجہ سے اللہ نے اس آیت میں ہتھیار کھول دینے کی اجازت دے دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہتھیار بند رہنے کا حکم سابق وجوبی تھا استحبابی نہ تھا لہٰذا امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کے مسلک کی اس سے تائید ہوتی ہے۔ وخذوا حزرکم . اور اپنا بچاؤ لے لیا کرو یعنی کیمپ کے اندر یا کسی اور محفوظ مقام پر پناہ گیر رہا کرو تاکہ دشمن ناگہاں تم پر حملہ نہ کر دے جان کی حفاظت واجب ہے بےفائدہ جان کا نقصان جائز نہیں حفاظت نفس مآل کار اعلاء کلمۃ اللہ کا موجب ہوگی۔ ایسی حالت میں اپنا بچاؤ ملحوظ رکھنے کا کام گذشتہ شان نزول سے مناسبت رکھتا ہے گویا اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو نصیحت فرما دی کہ اگر دشمن کی طرف سے اندیشہ ہو تو قضاء حاجت کے لئے بھی لشکرگاہ سے دور نہ جائیں۔ ان اللہ اعدا للکفرین عذاب مہینا . بیشک اللہ نے کافروں کے لئے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔ دنیا میں قتل ‘ قید (وغیرہ) اور آخرت میں دوزخ۔ پہلے احتیاط اور بچاؤ رکھنے کا حکم دیا تھا اس آیت میں کافروں پر غلبہ پانے اور فتح یاب ہونے کا وعدہ فرمایا تاکہ مسلمانوں کے قلوب میں قوت پیدا ہو اور وہ سمجھ جائیں کہ احتیاط رکھنے کا حکم ہماری کمزوری یا دشمن کے غلبہ کی وجہ سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ ضابطۂ الٰہی ہی یوں جا ری ہے کہ اسباب کو اختیار کیا جائے بیداری اور تدبیر سے کام لیا جائے پھر اللہ پر بھروسہ کیا جائے۔ کلبی نے مذکورہ روایت میں آگے بیان کیا کہ پھر نالہ ٹھہر گیا اور رسول اللہ ﷺ نے واپس آکر صحابہ ؓ : کو اس واقعہ کی اطلاع دی اور یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ آیت اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰیحضرت عبدالرحمن بن عوف کے حق میں نازل ہوئی ‘ آپ زخمی تھے یعنی زخموں کی وجہ سے آپ کو ہتھیار اتارنے کی اجازت دی گئی تھی۔