Ayah 4:25ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المؤمنت اور تم میں سے جو کوئی آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔ طول ‘ طائل ‘ طائلہ سب کا لغوی معنی ہے فضل ‘ قدرت ‘ دولت ‘ مالی وسعت (قاموس) یہاں طول بمعنی استطاعت ہے یعنی قدرت۔ مطلب یہ کہ جو کوئی تم میں سے استطاعت نہ رکھتا ہو نکاح کرنے کی استطاعت۔ اس صورت میں طولاً مفعول مطلق اور ان ینکحمفعول بہ ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طولاً مفعول بہ ہو اور اس کا معنی ہو اونچا ہونا کیونکہ اونچا ہونا فضل و دولت کے لوازم میں سے ہے اور ان ینکح سے پہلے با محذوف ہو اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی حد تک اونچا نہ اٹھ سکے (یعنی اس کے پاس اتنا مال نہ ہو) (مؤلف نے اس جملہ کی دو نحوی ترکیبیں اور بھی لکھی ہیں لیکن مطلب میں کوئی خاص تفاوت نہیں اس لئے ہم نے اختصار کو پسند کیا)
محصنت (محفوظ عورتیں) اس سے مراد ہیں آزاد عورتیں کیونکہ وہ غلامی کی ذلت سے محفوظ ہوتی ہیں۔
فمن ما ملکت ایمانکم تو وہ نکاح کرلے اس عورت سے جو تم میں سے کسی کی مملوکہ ہو یعنی کسی دوسرے کی باندی سے کیونکہ اپنی باندی سے (باندی رکھتے ہوئے) تو نکاح کی ضرورت ہی نہیں اس لئے اپنی باندی سے نکاح جائز نہیں۔
من فتیتکم المؤمنت . لیکن وہ تمہاری مسلمان باندیوں میں سے ہو (مشرکہ باندیوں سے نکاح درست نہیں)
اس آیت سے امام شافعی ‘ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) نے دو امور پر استدلال کیا ہے :
1) اگر آزاد عورت سے نکاح کا مقدور ہو تو باندی سے نکاح حرام ہے۔
2) کتابیہ باندی سے مطلقاً نکاح حرام ہے کیونکہ فلینکحامر کا صیغہ اباحت کے لئے ہے اور باندی سے نکاح کی اباحت کو دو شرطوں سے مشروط کیا ہے ایک تو حرہ سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو دوسرے باندی مؤمن ہو کیونکہ ایمان کو اگرچہ بصورت شرط ذکر نہیں کیا گیا ہے ‘ بلکہ پیرایۂ وصف میں ذکر کیا ہے مگر) وصف شرط کے حکم میں ہے اور شرط کے انتفاء سے حکم معدوم ہوجاتا ہے اور اباحت معدوم ہوگئی تو حرمت ثابت ہوگئی۔
حضرت جابر اور حضرت ابن مسعود ؓ کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے۔ بیہقی نے ابوالزبیر کا قول نقل کیا ہے کہ میں نے خود سنا حضرت جابر ؓ فرما رہے تھے حرہ پر باندی سے نکاح نہ کیا جائے۔ باندی کے اوپر حرہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور جس کے پاس حرہ کو دینے کے لئے مہر ہو وہ باندی سے کبھی نکاح نہ کرے۔ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے باندیوں سے نکاح اس شخص کے لئے حلال کیا ہے جس کے پاس حرہ کا مہر نہ ہو اور اس کو اپنے متعلق گناہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہو۔
حنفیہ نے اس کا جواب چند طرح سے دیا ہے (1) ہمارے نزدیک مفہوم مخالف کو دلیل میں پیش کرنا صحیح نہیں اور انتفاء شرط سے عدم حکم بھی لازم نہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ شرط کو علت کا درجہ دے دیا جائے لیکن علت کے انتفاء سے معلول کا انتفاء ضروری نہیں ممکن ہے معلول کے وجود کی کوئی دوسری علت بھی ہو۔ لہٰذا وجود شرط و وصف موجب حکم ضرور ہیں (بشرطیکہ کوئی مانع موجود نہ ہو) اور شرط وصف نہ ہونے کی صورت میں عدم حکم لازم نہیں بلکہ عدم حکم کی طرف سے سکوت اختیار کیا جائے گا اب اگر شرط و وصف نہ ہونے کی صورت میں کسی دوسری علت کی وجہ سے حکم موجود ہوگا تو بہتر ورنہ عدم حکم کا فیصلہ کیا جائے گا مگر یہ عدم اصلی عدم ہوگا کیونکہ وجود حکم تو وجود شرط کی وجہ سے عارضی تھا اصل عدم حکم ہی تھا اس عدم کو حکم شرعی نہیں کہا جائے گا۔ اب صورت مسئلہ پر غور کیجئے باندی مومنہ ہو یا کتابیہ کافرہ اور مرد حرہ سے نکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو ‘ بہرحال مطلقاً باندی سے نکاح کا ولایت فانکحوا ما طالب لکم من النسآئ سے ثابت ہے نیز آیت احل لکم ماوراء ذلکمکو بھی اس جواز پر دلالت کر رہی ہے لہٰذا آیت فمن ما ملکت ایمانکمکا مفہوم مخالف نکال کر کتابیہ سے نکاح کو حرام قرار دینا یا باندی سے نکاح کے جواز کی شرط حرہ سے نکاح کے عدم استطاعت کو قرار دینا درست نہیں۔
(2) جو لوگ مفہوم مخالف سے استدلال کرتے ہیں ان کے نزدیک بھی یہ ضروری ہے کہ وہ شرط یا وصف احترازی ہو ‘ اتفاقی نہ ہو ‘ لیکن اس جگہ ہوسکتا ہے کہ قید کا ذکر صرف عادت اور رواج پر مبنی ہو (احترازی نہ ہو) کیونکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ آدمی باندی سے نکاح اسی وقت کرتا ہے جب حرہ سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو (ورنہ کون اپنی نسل کو باندی کی اولاد کہلوانا پسند کرتا ہے) اور یہ بھی رواج اہل اسلام کا تقاضا ہے کہ کوئی مسلمان کافرہ باندی سے معاشرت کو پسند نہیں کرتا۔ اسی عرف اور عادت کی وجہ سے المحصنٰتکی صفت المومنٰتبیان کی ورنہ باجماع علماء یہ قید احترازی نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) نے بھی اسی لئے فرمایا کہ حرہ کتابیہ سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو تو باندی سے نکاح درست نہیں۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ المؤمنٰت کی قید نہ احترازی ہے نہ اتفاقی بلکہ افضل صورت بیان کرنے کے لئے ہے۔
(3) اگر تسلیم بھی کرلیا جائے کہ مفہوم مخالف عدم اباحت پر دلالت کر رہا ہے تب بھی ضروری نہیں کہ ہر غیر مباح حرام ہوجائے ممکن ہے کہ غیر مباح مکروہ ہو اور ہم کراہت کے قائل ہی ہیں۔ بدائع میں اس کی صراحت کردی گئی ہے کہ کتابیت خواہ باندیاں ہوں یا حرہ سب سے نکاح مکروہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل سے کافروں سے موالات لازم آتی ہے جس کی ہم کو ممانعت کردی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دو دوستوں میں رشتۂ محبت کو مضبوط کرنے والا سوائے نکاح کے اور کوئی (رشتہ) تم کو نہیں ملے گا۔ (رواہ ابن ماجہ عن ابن عباس ؓ
اللہ تعالیٰ نے (موالات کفار کی ممانعت میں) فرمایا ہے : لاََ تَّتِخِذْوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَآءَدوسری آیت میں کہا لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِب اللّٰہُ عَلَیْہِمْ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورتوں سے نکاح کی رغبت چار امور کی وجہ سے ہوتی ہے مال ‘ شرافت نسب ‘ جمال ‘ دین داری۔ تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بنو۔ رواہ مسلم والبخاری من حدیث ابی ہریرہ ؓ مسلم نے حضرت جابر ؓ کے حوالہ سے حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ عورت سے نکاح اس کے دین اور مال اور حسن کی وجہ سے کیا جاتا ہے تو دیندار کو اختیار کر۔ حاکم اور ابن حبان نے حضرت ابو سعید ؓ کی روایت سے اور ابن ماجہ ‘ بزار اور بیہقی نے حضرت عبداللہ ؓ بن عمر ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ باندیوں سے نکاح کی کراہت اس وجہ سے ہے کہ اولاد غلام ہوگی اور غلامی موت کے حکم میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے نطفوں کے لئے انتخاب کرو ‘ کفو سے نکاح کرو اور کفوا سے نکاح کراؤ۔ رواہ ابو داؤد والحاکم۔ بیہقی نے اس حدیث کی تصحیح کی۔ یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے آئی ہے۔
واللہ اعلم بایماناکم . اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے ‘ ایمان اور اعمال کی وجہ سے ہی ایک دوسرے پر برتری ہوتی ہے۔
بعضکم من بعض . یعنی تم باہم ایک دوسرے کی نسل سے ہو یعنی آزاد ہوں یا باندی غلام سب ایک ہی آدم ( علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اب کوئی شبہ نہیں کہ اللہ نے تم سے (دور) جاہلیت کی خرابی اور باپ دادا پر شیخی کرنے کو دور کردیا ہے اب تو آدمی یا مؤمن متقی ہے یا کافر بدبخت۔ سب آدم ( علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم ( علیہ السلام) مٹی سے (بنے) تھے۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ترمذی اور ابوداؤد نے بیان کی ہے۔ امام احمد اور بیہقی نے حضرت عقبہ ؓ بن عامر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے یہ نسب کسی کے لئے باعث عیب نہیں۔ تم سب آدم ( علیہ السلام) کی اولاد ہو۔
کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر دین اور تقویٰ کی وجہ سے۔ آدمی کے لئے بدزبان فحاش اور بخیل ہونا پورا پورا عیب ہے۔ یہ دونوں جملے اس لئے فرمائے کہ لوگ باندیوں سے نکاح کرنے کو عار نہ سمجھیں بلکہ ان کو اس طرف رغبت خاطر پیدا ہو۔
فانکحوہن باذن اہلہن تو مؤمن باندیوں سے تم ان کے آقاؤں کی اجازت سے نکاح کرو۔ ہُنَّکی ضمیر فتیات کی طرف راجع ہے اور فتیات سے مراد ہیں باندیاں۔ خواہ خالص مملوکہ ہو یا مکاتبہ یا مدبرہ یا ام ولد (مکاتبہ وہ باندی جس سے آقا نے عقد کتابت کرلیا ہو یعنی اس سے کہہ دیا ہو کہ اتنا روپیہ اگر تو اپنی قیمت کا دے دے گی تو آزاد ہوجائے گی اور مدبرہ وہ باندی ہے جس سے آقا نے کہہ دیا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے اور ام ولد وہ باندی ہے جس سے آقا کی کوئی اولاد ہوگئی ہو)
فانکحوا امر کا صیغہ وجوب کے لئے ہے اور وجوبی کا حکم قید (باذن) کی طرف راجع ہے یعنی باندیوں سے نکاح ان کے آقاؤں کی اجازت کے بغیر جائز نہیں چونکہ اجازت کی قید کا وجوبی طور پر ذکر مقصود تھا اسی لئے دوبارہ فانکحوا کا صیغۂ امر ذکر کیا کیونکہ باندیوں سے نکاح کی اجازت تو مماملکت ایمانکم سے معلوم ہوگئی تھی مگر آقاؤں کی اجازت کا وجوب معلوم نہ ہوا تھا کیونکہ ایک ہی صیغہ سے جواز اور وجوب دونوں یکدم مستفاد نہیں ہوسکتے اسی لئے دوبارہ فانکحوا فرمایا تاکہ پہلے سے اباحت اور دوسرے سے وجوب سمجھ میں آجائے۔ غلام کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی مملوک کا نکاح آقا کی اجازت کے بغیر نہیں ہوگا یہ مسئلہ اجماعی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس غلام نے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا وہ زانی ہے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت سے یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی نے بیان کی ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے۔ سنن میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے آیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جو غلام آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے اس کا نکاح باطل ہے۔
مسئلہ : کیا غلام نے اگر آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو نکاح منعقد نہیں ہوتا یا منعقد تو ہوجاتا ہے مگر اس کا نفاذ آقا کی منظوری پر موقوف رہتا ہے۔ یہ مسئلہ اتفاقی ہے امام ابوحنیفہ (رح) امام مالک (رح) اور ایک روایت کے بموجب امام احمد (رح) کا قول یہ ہے کہ انعقاد نکاح تو ہوجاتا ہے مگر نفاذ آقا کی اجازت پر موقوف رہتا ہے کیونکہ غلام میں نکاح کی اہلیت ہے اور وہ اپنی اہلیت سے تصرف کر رہا ہے اجازت مولیٰ کی ضرورت صرف اس وجہ سے ہے کہ اگر باندی نے مولیٰ کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا تو مولیٰ کی رضامندی کے بغیر اس کا حق قربت ساقط ہوجائے گا اور غلام نے اذن آقا کے بغیر نکاح کیا تو آقا کو اپنی مرضی کے بغیر ادائے مہر کا ذمہ دار بننا پڑے گا۔ آیت میں بھی صرف اذن مولیٰ کی شرط مذکور ہے عقد کی شرط نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) : کا قول ہے کہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا (یعنی اگر آقا بعد کو راضی بھی ہوجائے تب بھی نکاح سابق کا لعدم ہوگا اور جدید نکاح کرنا پڑے گا) کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے نکاح کو باطل فرمایا ہے۔ اور آیت میں بھی باذن کی باء اتصال کو چاہتی ہے لہٰذا اذن کو نکاح سے متصل ہونا چاہئے نکاح کے بعد اذن ہونے پر نکاح موقوف نہ رہنا چاہئے۔
واتوہن اجورہن اور ان باندیوں کو ان کے مہر دے دو ۔ امام مالک (رح) نے فرمایا بظاہر یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ مہر باندی کا حق ہے (آقا کو نہیں پہنچے گا) جمہور کا قول ہے کہ باندی کا مہر اس کے آقا کی ملک ہوگا باندی تو غیر مختار ہے اس کے مالکہ ہونے کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا۔ رہی آیت تو اس میں قید باذن اہلہن کی محذوف ہے یعنی باندیوں کو ان کا مہر ان کے آقاؤں کی اجازت دے دو چونکہ سابق میں باندیوں سے نکاح کرنے کی یہ شرط ذکر کردی تھی اس لئے یہاں دوبارہ ذکر کرنا ضروری نہ تھا۔ یا یوں کہا جائے کہ باندیوں کے دینے سے مراد ہے ان کے آقاؤں کو دینا یعنی اَتُوْہُنَّمیں مضاف محذوف ہے اصل میں تو اتوا مَوَالیُہُنَّتھا آیت کی یہ دونوں تاویلیں ضعیف ہیں۔
(1) اس لئے کہ عطف کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ معطوف میں بھی وہی قید معتبر ہے جس کا ذکر معطوف علیہ کے ساتھ کردیا گیا ہو قید موخر میں اشتراک کو عطف نہیں چاہتا مقدم کے اشتراک کو چاہتا ہے۔ (2) دوسری تاویل اس لئے کمزور ہے کہ مضاف کو حذف کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ اہل کا ذکر پہلے ہوچکا ہے پھر بجائے اٰتُوْہُمْکے اتوہُنَّکہنے کی کوئی وجہ نہیں۔ محقق تفتازانی نے ہنکہنے کا یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ اس سے مملوکات سے نکاح کے مہر کو واجب کرنا اور ان کے صنفی اعضاء سے تمتع اندوزی کے معاوضہ کو لازم قرار دینا مقصود ہے اس بیان کا تقاضا یہ ہے کہ مہر اون ہی کو دیا جائے۔ رہا مولیٰ کا مالک ہوجانا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مولیٰ اپنی مملوکہ کی ذات کا مالک ہے (لہٰذا مملوکہ کا ہر مال اسی کی ملک ہے) زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ منکوحہ باندی مہر پر قبضہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے جیسے وہ غلام جس کو مولیٰ نے تجارت کی اجازت دے دی ہو بیع اور ثمن پر قبضہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے لہٰذا باندیوں کے قبضہ میں ہی ان کا مہر شوہروں کی طرف سے دیا جانا چاہئے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اجور سے (مہر مراد نہ ہوں بلکہ) نان نفقہ مراد ہو اس صورت میں آقا کے اذن کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔
بالمعروف دستور کے مطابق یعنی مہر کی ادائیگی میں کمی نہ کی جائے نہ ٹالا جائے۔ اس لفظ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ شرعی حکم کے مطابق مہر دیا جائے یعنی آقا کی اجازت کے ساتھ کیونکہ آقا کی اجازت کے بغیر ان کو مہر دے دینا (یعنی مہر کا مالک بنا دینا) شرعاً ممنوع ہے۔
محصنت پاک دامن۔
غیر مسفحت علی الاعلان بدکاری کرنے والیاں نہ ہوں۔
والامتحذت اخدان نہ چھپ کر یار بنانے والیاں ہوں۔ حسن (رح) نے فرمایا مسفحتکا معنی ہے ہر جائی ہوجانا اور یار بنانے والی سے مراد ہے کسی کی مخصوص داشتہ بن جانے والی۔ عرب کے نزدیک اوّل فعل حرام تھا اور دوسرا جائز۔
غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلاَ مُتَّحِذَاتِ اَخْدَانٍ ۔ مُحْصنَاتٌکا بیان ہے یعنی پاکدامن عورتیں وہی ہیں جن میں یہ دونوں عیب نہ ہوں۔ نکاح کو محصنت کے ساتھ مقید کرنے سے مراد ہے بہتر صورت کا اظہار (یعنی افضل یہ ہے کہ محصنات سے نکاح کرو اگرچہ زانیہ سے بھی نکاح درست ہے) یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کا ہے۔ امام احمد (رح) کے نزدیک زانیہ سے جب تک وہ توبہ نہ کرلے نکاح درست نہیں خواہ وہ حرہ ہو یا باندی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اَلزَّانِیْ لاَ یَنْکِحُ الاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَآ اِلاَّ زَانٍٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الُمُؤْمِنِیْنَ (یعنی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح مؤمنوں کے لئے حرام کردیا گیا ہے) اس آیت کی تفسیر سورة نور میں انشاء اللہ آئے گی۔ امام مالک (رح) نے فرمایا زانیہ سے نکاح مطلقاً مکروہ ہے (خواہ اس نے توبہ کرلی ہو) چونکہ نکاح کے لئے عورت کے محصن ہونے کی شرط تھی اس لئے ادائے مہر کے لئے بھی یہ شرط لگا دی جب نکاح حالت احصان میں ہوگا تو مہر کی ادائیگی بھی اسی حالت میں ہوگی ‘ اب یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ ادائے مہر کے لئے بالاجماع عورت کا پاک دامن ہونا ضروری نہیں۔
فاذا احصن پھر جب مسلمان باندیاں شوہر والیاں ہوں۔ احصانکا لغوی معنی ہے روک بازداشت قرآن مجید میں اس لفظ کا استعمال کئی معانی میں آیا ہے۔ حرہ ہونا ‘ پاکدامن ہونا ‘ شوہر والی ہونا ‘ مسلمان ہونا۔ کلام چونکہ مسلمان باندیوں کے متعلق ہے اس لئے اس جگہ حرہ یا مسلمہ مراد نہیں ہے اور عفت بھی مراد نہیں ہے کیونکہ آئندہ آیت میں مرتکب زنا ہونے کا حکم بیان کیا گیا ہے اس لئے شوہر والی باندیاں ہی مراد ہیں۔
فان اتین بفاحشۃ اگر وہ زنا کی مرتکب ہوجائیں۔
فعلیہن نصف ما علی المحصنت تو ناکت خدا عورتوں سے آدھی سزا ان کو دی جائے اس جگہ المحصنت سے مراد ہیں۔ آزاد ناکت خدا عورتیں۔ کیونکہ شوہر والی آزاد عورتوں کے فعل زنا کی سزا سنگسار کردینا ہے اور سنگساری کی سزا کی تنصیف ممکن نہیں۔ من العذاب یعنی حد شرعی (کا نصف) ۔
مسئلہ : آزاد مرد اور عورت اگر مرتکب زنا ہوجائیں اور نکاح شدہ نہ ہوں تو امام اعظم (رح) کے نزدیک اس کی سزا سو ” تازیانے “ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا اَکُلَّ وَاِحِد مِّنْہُمَا ماءَۃَ جَلْدَۃٍزانی اور زانیہ میں سے ہر ایک کے سو تازیانے مارو۔ امام احمد اور امام شافعی (رح) کے نزدیک سو کوڑوں کے ساتھ ایک سال کے لئے جلاوطن کردینا بھی ضروری ہے۔ امام مالک (رح) نے فرمایا جلاوطن کرنے کی سزا مرد کے لئے ہے عورت کے لئے نہیں ہے۔ جلاوطنی کی سزا کی دلیل حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت کردہ یہ حدیث ہے کہ بےشوہر والی بےبیوی والے سے زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی (ان کی سزا ہے) رواہ مسلم۔
حضرت زید بن خالد کا بیان ہے کہ میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ غیر محصن زانی کو سو کوڑے مارنے اور ایک سال کے لئے دیس بدر کرنے کا حکم دے رہے تھے۔ رواہ البخاری۔
امام مالک (رح) نے فرمایا حدیث میں لفظ البکرآیا ہے اور بکر کا لفظ عورتوں کو شامل نہیں ہے لہٰذا عورتوں کے لئے جلا وطنی کی سزا نہیں ہے۔ مگر یہ دلیل ہیچ ہے (بکر کا لفظ مرد عورت دونوں کو شامل ہے اور حدیث میں دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے) کیونکہ حدیث کی رفتار بتارہی ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں کی زنا کی سزا ہی بیان فرمائی ہے کیونکہ ارشاد فرمایا تھا مجھ سے لے لو ‘ مجھ سے لے لو ‘ اللہ نے ان (زانیہ) عورتوں کے لئے راہ نکال دی بغیر شوہر والی بغیر بیوی والے سے زنا کرے الخ لفظ بکر عورت کو شامل نہیں ہے یہ بات غلط ہے (اول تو یہ کہ اسی حدیث میں البکر بالبکر فرمایا ہے اوّل بکر سے مرد اور دوسرے بکر سے عورت مراد ہے یا برعکس دوسرے یہ کہ) حضور ﷺ نے فرمایا بکر سے نکاح کی اجازت لی جائے (اس حدیث میں بھی بکر سے مراد دوشیزہ عورت ہی ہے) اس کے علاوہ حضرت زید بن خالد ؓ کی روایت میں جو مَنْ زنیکا لفظ آیا ہے وہ مرد اور عورت دونوں کو شامل ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا یہ حدیث آحاد ہے اور حدیث آحاد سے کتاب اللہ کے حکم پر زیادتی جائز نہیں (کتاب اللہ میں صرف سو کوڑے مارنے کا حکم ہے اور حدیث میں جلا وطن کردینے کا بھی ذکر ہے لہٰذاحدیث آحاد سے قرآنی حکم پر زیادتی نہیں ہوسکتی) سورة نور میں انشاء اللہ اس کی مزید تنقیح آئے گی۔
مسئلہ : شادی شدہ ہو یا ناکت خدا ‘ غلام ہو یا باندی اس کی سزا چاروں اماموں کے نزدیک بالاتفاق پچاس کوڑے ہے۔ باندی کی یہ سزا تو عبارت النص سے معلوم ہی ہو رہی ہے (کہ نصف ما علی المحصنٰت فرمایا ہے یعنی آزاد عورتوں کی سزا کا نصف) اور غلام کی یہ سزا دلالت نص سے بطریق مساوات ثابت ہوگی۔ مملوک (باندی ہو یا غلام) کو جلاوطنی کی سزا کسی امام کے نزدیک نہیں دی جائے گی صرف امام شافعی کا ایک قول آیا ہے کہ چھ ماہ کے لئے مملوک کو دیس بدر کردیا جائے۔
ابو ثور (رح) : کا قول ہے کہ شادی شدہ مملوک کو سنگسار کردیا جائے۔ مگر آیت مذکور ابو ثور کے قول کی تردید کر رہی ہے سنگساری کی سزا کو آدھا کرنا ناممکن ہے اور آیت میں مملوک کی سزا آدھی قرار دی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد ؓ اور سعید ؓ بن جبیر کے نزدیک ناکت خدا باندی اور غلام کے زنا کی کوئی شرعی حد نہیں ہے کیونکہ آیت میں سزا کے لئے احصان کی شرط لگائی ہے جس سے سمجھا جاتا ہے کہ غیر محصن کی کوئی سزا نہیں۔
امام اعظم کے نزدیک تو مفہوم شرط (ترتب حکم کے لئے) معتبر ہی نہیں باقی تینوں امام اگرچہ مفہوم شرط کا اعتبار کرتے ہیں مگر ان کے نزدیک اس آیت میں شرط کا کوئی مفہوم (مخالف) ہی نہیں ہے بلکہ اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ باندی غلام خواہ محصن ہی ہو اس کو سنگسار نہیں کیا جائے گا اس کی سزا صرف تازیانہ ہے (اور وہ بھی نصف) حر کا حکم اس کے خلاف ہے (محصن حر کی سزا رجم اور غیر محصن کی تازیانہ) اس کا حکم رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی کی باندی ارتکاب زنا (پہلی مرتبہ) کرے اور زنا کھل جائے تو اس کو تازیانہ کی سزا دے اور لعنت ملامت نہ کرے پھر (دوبارہ) زنا کرے اور اس کا زنا کھل جائے تب بھی کوڑے مارے اور تثریب نہ کرے اس کے بعد (تیسری بار) زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہوجائے تو اس کو بیچ ڈالے خواہ بالوں کی رسی کے عوض ہی ہو۔ رواہ البخاری و مسلم من حدیث ابی ہریرہ ؓ ۔ اس حدیث میں لفظ اَمَۃُدائرہ شرط میں آیا ہے جو مفید عموم ہے اجماع کا یہی فیصلہ ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا لوگو ! اپنی باندی غلاموں پر حد شرعی قائم کرو۔ کت خدا ہوں یا ناکت خدا ‘ کیونکہ رسول اللہ ﷺ : کی ایک باندی نے زنا کیا تھا تو حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اس کے کوڑے ماروں ‘ مگر مجھے معلوم ہوا کہ اس کے حال ہی میں بچہ پیدا ہوا ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر اس وقت میں اس کے کوڑے ماروں گا تو یہ مرجائے گی۔ اس لئے کوڑے نہیں مارے اور رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں اس کا تذکرہ کیا آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ رواہ مسلم۔
حضرت عبداللہ ؓ بن عیاش بن ابی ربیعہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ نے مجھے اور کچھ قریشی جوانوں کو حکم دیا کہ حکومت کی چند باندیوں کو زنا کی سزا میں پچاس پچاس کوڑے مارے جائیں۔
ذلک لمن خشی العنت منکم قانون سزا کا یہ اجرا تم میں سے ان لوگوں کی وجہ سے ہے جو چوٹ کے دکھ سے ڈرتے ہوں تاکہ تم زنا کے قریب بھی نہ جاؤ (اور مار کھانے سے ڈرتے رہو)
وان تصبروا خیر لکم اور شہوت رانی اور زنا سے رکا رہنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے آخرت میں بھی اور دنیا میں بھی۔
اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ذلک سے اشارہ باندیوں سے نکاح کرنے کی طرف ہے یعنی جن لوگوں کو زنا میں پڑجانے کا اندیشہ ہو ان کے لئے باندیوں سے نکاح جائز ہے کیونکہ زنا موجب مصیبت ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی (اس صورت میں عنتبول کر زنا مراد ہوگا کیونکہ زنا عنت کا سبب ہے) اور باندیوں سے نکاح سے بچا رہنا بشرطیکہ پاکدامنی ہاتھ سے جانے کا اندیشہ نہ ہو زیادہ بہتر ہے تاکہ اولاد غلام نہ پیدا ہو اور فعل مکروہ کا ارتکاب نہ کرنا پڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آزاد عورتیں گھر کی درستی اور باندیاں گھر کی تباہی (کا سبب) ہیں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دیلمی نے مسند الفردوس میں اور ثعلبی نے بیان کی ہے لیکن تحریر میں اس کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں گھر کی تباہی اس طرح ہوگی کہ باندیوں کی اولاد باندیوں کے آقاؤں کی غلام ہوگی اور باپ کا گھر ان سے خالی رہے گا یہ تفسیر آئندہ آیت کے مناسب ہے۔
واللہ غفور رحیم یعنی جو شخص باندیوں سے نکاح کے بغیر نہ رہ سکے تو اللہ اس کو معاف کرنے والا ہے اور رحمت والا ہے کہ اس کو باندیوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ تفسیر امام شافعی (رح) اور امام مالک کے قول کو ثابت کر رہی ہے کہ باندیوں سے نکاح صرف ان ہی لوگوں کے لئے جائز ہے جن کو زنا میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو کیونکہ لمن میں لام اختصاص کے لئے ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ یہی قول حضرت جابر ؓ : کا ہے اور طاؤس اور عمر بن دینار بھی اسی کے قائل تھے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک باندی سے نکاح کے جواز کی یہ شرط نہیں ہے کہ عدم نکاح کی صورت میں زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو ہاں بتقاضائے آیت امام صاحب کے نزدیک بےضرورت باندیوں سے نکاح مکروہ ضرور ہے۔
فائدہ : امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) نے فرمایا کہ باندی سے نکاح مشروط ہے اوّل شرط یہ کہ حرہ سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو دوئم یہ کہ باندی مسلمان ہو پھر اس کے نتیجہ میں اولاد غلام پیدا ہوتی ہے۔ بدرجۂ مجبوری صرف ضرورت کے تحت شریعت نے اس کی اجازت دی ہے اور چونکہ ایک سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے اس لئے ایک سے زائد سے نکاح کرنا حر کے لئے جائز نہیں۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا باندی سے نکاح کا جواز عمومی ہے باندی مسلمان ہو اہل کتاب میں سے ہو ‘ حرہ سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو یا نہ ہو بہرحال جائز ہے صرف ضرورت پوری کرنے کے لئے ہی نہیں ہے اگرچہ بےضرورت مکروہ ہے (مگر جائز ہے) کیونکہ آیت وَاُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَآءَ ذٰلِکُمْاور فانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْکا حکم مطلق ہے (اس میں کوئی قید یا شرط نہیں) اگر حر کے لئے باندی سے نکاح کے عدم جواز کی علت اس بات کو قرار دیا جائے کہ اولاد غلام پیدا ہوگی (اور حر کی اولاد کا غلام ہونا لازم آئے گا) تو پھر غلام کے لئے بھی باندی سے نکاح کرنا ناجائز ہونا چاہئے جب کہ اس کو حرہ سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو حالانکہ اس کا قائل کوئی نہیں۔ اس کے علاوہ غلام کے لئے تو دو باندیوں سے نکاح آپ کے نزدیک بھی جائز ہے پھر حر کے لئے تو بدرجۂ اولیٰ یہ جواز ہونا چاہئے کیونکہ حر کے لئے چار عورتوں سے نکاح جائز ہے اور غلام کے لئے صرف دو سے۔ اوّل حکم قرآن میں آیا ہے اور دوسرا حدیث سے ثابت ہے۔ مزید یہ کہ چار عورتوں سے حر کے نکاح کا جواز مطلق ہے حرہ عورتوں سے ہو یا باندیوں سے صرف حرہ عورتوں کے ساتھ اس نکاح کو مقتید رکھنا جائز نہیں۔ امام مالک (رح) کے نزدیک بھی حر کے لئے چار عورتوں سے نکاح جائز ہے خواہ وہ آزاد ہوں یا باندیاں (یا مخلوط)
مسئلہ : تین اماموں کے نزدیک حرہ پر باندی سے نکاح درست نہیں (خواہ حرہ رضامند ہی ہو) صرف امام مالک (رح) قائل ہیں کہ اگر حرہ رضامند ہو تو اس کے اوپر باندی سے نکاح کیا جاسکتا ہے ورنہ آپ کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ حرہ سے باندی پر نکاح کرنا بالاتفاق جائز ہے۔ ائمۃ ثلثہ کہتے ہیں کہ آیت فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً کا مفہوم بتارہا ہے کہ حرہ پر باندی سے نکاح ناجائز ہے کیونکہ جس کے نکاح میں حرہ ہوگی اس کو یقیناً حرہ کی استطاعت ہوگی لہٰذا حر ہو یا غلام اور حرہ رضامند ہو یا ناراض کسی صورت میں حرہ پر باندی سے نکاح جائز نہیں ہوسکتا۔
امام اعظم نے حرہ پر باندی سے نکاح کے عدم جواز کی دلیل میں یہ حدیث بھی بیان کی ہے کہ اصحاب سنن نے سعید بن منصور کی اسناد سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حرہ پر باندی سے نکاح کی ممانعت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ باندی پر حرہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے۔ بیہقی اور طبری نے حسن بصری تک سند کا اتصال کر کے اس حدیث کو لکھا ہے البتہ عامر احوال کی روایت کو غریب قرار دیا ہے بلکہ عمرو بن عبید عن الحسن معروف سند ہے۔
حافظ نے سعید بن منصور کی روایت کو مبہم کہا ہے (کیونکہ سعید (رح) نے ابن علیہ کا قول نقل کیا ہے اور ابن علیہ نے اپنے اور حسن (رح) بصری کے درمیان کے راوی کا نام نہیں بتایا صرف اتنا کہا کہ مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے خود حسن (رح) بصری سے سنا تھا) عبدالرزاق نے یہ حدیث حسن (رح) کی روایت سے مرسلاً بیان کی ہے ابن ابی شیبہ (رح) نے اس کو مرسلاً بیان کیا ہے۔ ہمارے نزدیک حدیث مرسل حجت ہے اور شافعی (رح) کے نزدیک بھی حدیث مرسل قابل استدلال ہے بشرطیکہ اس کی تائید صحابہ ؓ کے اقوال سے ہو رہی ہو اور اس حدیث کو صحابہ ؓ کی تائید حاصل ہے۔
ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حضرت علی ؓ کا قول موقوفاً بیان کیا ہے کہ حرہ کے اوپر باندی سے نکاح کرنا مناسب نہیں دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حرہ کے اوپر باندی سے نکاح نہ کیا جائے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول بھی اسی طرح منقول ہے۔ عبدالرزاق نے ابوالزبیر کے طریق سے بیان کیا ہے کہ حضرت جابر : ؓ فرما رہے تھے کہ حرہ کے اوپر باندی سے نکاح نہ کیا جائے اور باندی پر حرہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے بیہقی نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے بیہقی کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ جس میں حرہ کے مہر کی استطاعت ہو وہ باندی سے کبھی نکاح نہ کرے اس کی اسناد صحیح ہے۔
ابن ابی شیبہ نے سعید بن مسیب کا قول نقل کیا ہے کہ باندی کے اوپر حرہ سے نکاح کر اور حرہ پر باندی سے نکاح نہ کر۔ اس موضوع پر حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بھی حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ غلام کی طلاق دو بار ہے۔ اس کے آخر میں حضور ﷺ نے فرمایا باندی کے اوپر حرہ سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور حرہ کے اوپر باندی سے نہیں کیا جاسکتا۔ رواہ الدارقطنی۔ اس کی سند میں ایک راوی مظاہر بن اسلم ضعیف ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) : کتاب کی تخصیص اخبار آحاد سے جائز نہیں قرار دیتے مگر اس جگہ یہ تخصیص لازم آرہی ہے کیونکہ آیت واحل لکم ماوراء ذلکمکا حکم عام ہے (اور احادیث میں حرہ پر باندی سے نکاح کی ممانعت کردی گئی ہے تو آیت کا حکم عام نہیں رہا) اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے یہ تاویل کی جاسکتی ہے کہ حدیث اگرچہ خبر آحاد ہے مگر اس کی تائید اجماع سے ہوگئی ہے (اور اجماع سے کتاب کی تخصیص جائز ہے)
امام شافعی (رح) کے نزدیک غلام کے لئے حرہ پر باندی سے نکاح جائز ہے لیکن امام اعظم اور دوسرے ائمہ کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ احادیث مرسلہ ممانعت کی عام ہیں۔ پھر مفہوم مخالف سے استدلال کو درست قرار دینے والے ائمہ کے نزدیک مفہوم مخالف سے عدم جواز کا استنباط عام ہے غلام کے لئے بھی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:26یرید اللہ لیبین لکم اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے کھول کر بیان کر دے یعنی تمہارے دین کے احکام اور مصالح۔ لام تاکید استقبال یا تعلیل کے لئے ہے۔
ویہدیکم سنن الذین من قبلکم اور تم سے اگلے (ایماندار) لوگوں کے طریقے تم کو بھی بتادے۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ گزشتہ شریعتوں کے احکام اگر وہ ہماری شریعت میں منسوخ نہ ہوگئے ہوں ہمارے لئے بھی باقی ہیں اور کتاب اللہ یا سنت سے اگر ان کا ثبوت ہو رہا ہے تو ان کی تعمیل ہم پر بھی واجب ہے۔ ہاں یہودی روایات کا اعتبار نہیں کیونکہ یہودی کافر ہیں اور ناقابل اعتماد۔ البتہ اگر حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت کعب احبار جیسے صحابہ ؓ مسلمان ہونے کی حالت میں اسرائیلی روایات نقل کریں تو قابل اعتماد ہیں۔
ویتوب علیکم اور تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرے یعنی بیان احکام سے پہلے جو گناہ تم کرچکے ہو ان کو معاف کر دے۔
یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو توبہ کرنے کی توفیق دینا چاہتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم ایسے کام کرلو جن سے تمہارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے۔
واللہ علیکم حکیم اور اللہ مصالح احکام سے خوب واقف ہے اور اس کے احکام پُر حکمت ہیں۔
Ayah 4:27واللہ یرید ان یتوب علیکم اور اللہ تم کو نیک اعمال کی توفیق دینا چاہتا ہے۔ تاکید اور مضمون کو پختہ کرنے کے لئے دوبارہ آیت کو ذکر کیا۔
ویرید الذین یتبعون الشہوات اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو خواہشات پر چلتے ہیں یعنی شریعت کے نافرمان ہوتے ہیں لیکن اگر شریعت کے موافق خواہشات پوری کی جائیں تو یہ اتباع شریعت ہے اتباع شہوات نہیں ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ان خواہش پرستوں سے زناکار لوگ مراد ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک مجوسی مراد ہیں کیونکہ وہی تمام محرم عورتوں کو حلال جانتے ہیں۔ بعض نے یہودی مراد لئے ہیں کیونکہ یہودیوں کے نزدیک علاقی بہنیں اور بھتیجیاں بھانجیاں حلال ہیں۔
ان تمیلوا میلا عظیما کہ تم حق سے کامل طور پر پھر جاؤ یعنی حرام کو حلال سمجھنے لگو کیونکہ حرمت کا عقیدہ رکھتے ہوئے گناہ کرنے سے حرام کو حلال سمجھ کر اختیار کرنا بڑا جرم اور باطل کی طرف زیادہ میلان ہے۔
Ayah 4:28یرید اللہ ان یخفف عنکم اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اسی لئے اس نے آسان نرم لیکن برحق شریعت تمہارے لئے مقرر کی ہے اور گزشتہ قوموں کے لئے جو چیزیں حرام تھیں ان میں سے کچھ تمہارے لئے حلال کردی ہیں۔
ابن ابی شیبہ نے المصنف میں اور ابن المنذر نے تفسیر میں مجاہد ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جو سہولتیں اللہ نے اس امت کو عنایت فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ نے باندیوں سے اور عیسائی و یہودی عورتوں سے مسلمان کا نکاح جائز قرار دیا ہے۔ تفسیر مدارک میں مذکور ہے کہ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ : کا ہے۔
وخلق الانسان ضعیفا اور انسان پیدائشی کمزور ہے نہ خواہشات سے رک سکتا ہے نہ طاعات کی تکلیف اٹھا سکتا ہے اور جتنا قرب قیامت ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا ضعف بڑھتا جاتا ہے اسی لئے اللہ نے اس امت پر زیادہ بار نہیں ڈالا۔
Ayah 4:29یایہا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم اے ایمان والو ‘ آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔ یعنی کوئی کسی کا مال نہ کھائے نہ مسلمان مسلمان کا نہ ذمی کافر کا۔ حربی کافر جس سے کوئی معاہدہ نہ ہو اس کا مال بلاعذر رکھنا ممنوع نہیں ہے۔
بالباطل باطل طور سے۔ یعنی اس طریقہ سے جو شرعاً ممنوع ہے۔ جیسے غصب ‘ چوری ‘ خیانت ‘ جواء ‘ سود اور تمام ناجائز عقود۔
الا ان تکون تجارۃ مگر یہ کہ کھانے کا ذریعہ تجارت ہو (یعنی اگر جائز تجارت ہو تو ایک کا مال دوسرے کے ممنوع نہیں ہے) تجارۃً کو فیوں کی قراءت میں آیا ہے (اور یہی قراءت مشہور ہے) باقی اہل قراءت نے تجارۃٌ پڑھا ہے اس صورت میں تکون تامہ ہوگا اور تجارۃٌ اس کا فاعل ہوگا یعنی کھاؤ جبکہ تجارت ہو۔
عن تراض منکم آپس کی رضامندی سے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیع صرف آپس کی رضامندی سے ہوتی ہے۔ یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے ابن ماجہ اور ابن المنذر نے بیان کی ہے یعنی لوال اور بکوال دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ بیع کا معنی ہے مال کا مال سے تبادلہ خواہ زبانی الفاظ سے ہو یا (بغیر الفاظ استعمال کئے صرف) لین دین سے۔ اور اجارہ کا معنی ہے مال کے عوض مقررہ منافع کو لینا (ایک کا مال دوسرے کے لئے حلال ہونے کے تو اور طریقے بھی ہیں جیسے ہبہ میراث اجارہ وغیرہ) پھر خصوصیت کے ساتھ صرف تجارت کا ذکر اس وجہ سے ہے کہ عموماً (روزمرہ) تجارت ہی سے ایک کا مال دوسرے کے پاس پہنچتا ہے اور تجارت ہی حصول مال کا سبب سے پاکیزہ ذریعہ ہے۔ (1) [ اصبہانی نے حضرت ابو امامہ کی مرفوع روایت بیان کی ہے کہ تاجر میں اگر چار باتیں ہوں تو اس کی کمائی پاک ہوتی ہے۔ خریدتے وقت (بیع کی) برائی نہ کرے۔ بیچتے وقت (بیع کی) تعریف نہ کرے بیع میں فریب سے کام نہ لے۔ دوران خریدو فروخت میں قسمیں نہ کھائے۔ امام احمد اور حاکم (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن شبل نے بیان کیا میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے تاجر ہی فاجر ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : کیا اللہ نے بیع کو حلال نہیں کیا ہے۔ فرمایا حلال کیوں نہیں کیا ہے مگر تاجر (بیچتے وقت) قسمیں کھاتے ہیں اور گناہگار ہوجاتے ہیں باتیں کرتے ہیں تو جھوٹی کرتے ہیں۔ حاکم نے حضرت رفاعہ بن رافع کی روایت سے بیان کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تاجروں کو قیامت کے دن بدکاروں (کے گروہ) میں اٹھایا جائے گا سوائے ان لوگوں کے جو اللہ سے ڈرتے ہوں اور نیکی کرتے ہوں اور (بیع کے وقت) سچ بولتے ہوں۔ ترمذی اور حاکم نے بیان کیا اور ترمذی نے اس کو حسن کہا کہ حضرت ابوسعید خدری نے بیان کیا ‘ رسول اللہ ﷺ : کا ارشاد ہے سچا امانتدار تاجر انبیاء اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع روایت بیان کی کہ سچا امانتدار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ طبرانی نے حضرت صفوان بن امیہ کی مرفوع روایت بیان کی ہے کہ اللہ کی مدد خوش اعمال تاجروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اصبہانی نے حضرت انس ؓ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ سچا تاجر قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا۔ اصبہانی نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پاکیزہ ترین کمائی ان تاجروں کی ہے کہ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹی نہیں کرتے کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس کے خلاف نہیں کرتے جب ان کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت نہیں کرتے خریدتے وقت (بیع کی) برائی نہیں کرتے اور بیچتے وقت تعریف نہیں کرتے اگر ان پر قرض ہو تو ادائیگی کو ٹالتے نہیں اور ان کا کسی پر قرض ہو تو عار نہیں دلاتے۔]
حضرت رافع بن خدیج (رح) نے فرمایا عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی کون سی ہے فرمایا اپنے ہاتھ کی کمائی اور پاک بیع۔ رواہ احمد۔ حضرت مقدام بن معدی کرب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنی ہاتھ کی کمائی سے بہتر کبھی کسی نے کوئی کھانا نہیں کھایا ‘ اللہ کے نبی داؤد بھی اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے۔ رواہ البخاری۔ حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ ( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو کچھ کھاتے ہو اس میں پاکیزہ ترین وہ ہے جو تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہو اور تمہاری اولاد کی (کمائی) بھی تمہاری کمائی ہے۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ۔
اس آیت سے تجارت کے علاوہ دوسرے مالی ذرائع جیسے مہر خیرات اور عاریت وغیرہ کی حرمت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حصول مال کے یہ ذرائع باطل نہیں ہیں بلکہ شرعی صراحتوں سے ثابت ہیں۔
حنفیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ مجلس عقد میں ایجاب و قبول کے بعد لوال و بکوال کسی کو اختیار فسخ نہیں رہتا ‘ خواہ کوئی بھی اپنی جگہ سے ہٹا نہ ہو۔ امام مالک (رح) کا بھی یہی قول ہے ‘ وجہ استدلال یہ ہے کہ باہمی رضامندی سے خریدو فروخت کے بعد خواہ اس جگہ سے دونوں میں سے کوئی بھی نہ ہٹے لیکن مبیع اور ثمن میں تصرف کامل کا حق ہوجاتا ہے اور تصرف کامل کا اختیار بیع کے ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ختم بیع بتارہا ہے کہ دونوں میں سے کسی کو فسخ کا اختیار نہیں رہا۔ امام شافعی (رح) اور امام احمد ایجاب و قبول کے بعد بھی تفریق مجلس سے پہلے ہی دونوں کو اختیار فسخ دیتے ہیں کیونکہ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیع و شراء کرنے والوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کے خلاف اختیار (فسخ) ہے جب تک دونوں میں تفرق (جدائی) نہ ہوجائے۔ متفق علیہ۔
حضرت حکیم بن حزم راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ خریدو فروخت کرنے والے مختار ہیں جب تک دونوں متفرق نہ ہوجائیں اگر دونوں سچ بولیں گے اور (اپنی اپنی چیزوں کے عیوب) کھول کر بیان کردیں گے تو دونوں کو اس تجارت میں برکت حاصل ہوگی ‘ اگر جھوٹ بولیں گے اور چھپائیں گے تو تجارت کی برکت برباد ہوجائے گی متفق علیہ۔ حنفیہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ تقاضائے کتاب اللہ کے خلاف احادیث پر عمل جائز نہیں اور کتاب کا اقتضاء ہے کہ ایجاب و قبول کے بعد دونوں میں سے کسی کو اختیار نہیں رہتا۔ رہا احادیث مذکورہ کا مضمون بتارہا ہے کہ اقتضاء ہے کہ اختیار سے مراد اختیار قبول ہے کیونکہ لفظ مُتَبَایِعان (اور بَیِّعَان) خود اسی طرف اشارہ کر رہا ہے بیع اور شراء میں مشغول ہونے کی حالت میں ہی (حقیقتہً ) ہم ان پر متبایعان (خریدو فروخت کرنے والے) کا اطلاق کرسکتے ہیں عقد کے ختم ہونے کے بعد تو نہ کوئی بیع میں مشغول رہتا ہے نہ شراء میں (ہاں مجازاً ان کو متبایعان کہہ سکتے ہیں لیکن مجازی معنی کی طرف رجوع کرنے کے لئے کوئی قرینہ یا ضرورت ہونی چاہئے جو یہاں مفقود ہے) یا کم سے کم یوں کہہ سکتے ہیں کہ متبایعان سے مراد دونوں معنی لے سکتے ہیں حالت عقد اور بعد از عقد دونوں صورتوں میں لوال اور بکوال پر اس لفظ کا اطلاق ہوسکتا ہے لہٰذا آیت سے احادیث کو موافق بنانے کے لئے اول معنی مراد لیا جائے گا۔ باقی احادیث میں جو تفرق کا لفظ آیا ہے اس سے مراد قولی ردوبدل ہے (جسمانی طور پر جدا جدا ہوجانا مراد نہیں ہے) کذا فی الہدایۃ۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ قولی پر اطلاق شرع اور عرف میں بکثرت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَاب الاَّ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَْ تہُمُ الْبَیِّنَۃٌاہل کتاب نے اسی وقت اختلاف کیا جب ان کے پاس کھلی ہوئی آیات آگئیں۔
میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ مجلس سے جدا ہونے سے پہلے ہی بیع کی تکمیل اور مبیع و ثمن میں تصرف کرنے کے جواز پر آیت ضرور دلالت کر رہی ہے مگر حق فسخ کی نفی پر دلالت نہیں کر رہی ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ جس طرح امام اعظم (رح) کے نزدیک تکمیل بیع کے بعد بھی خیار رویت اور خیار غیب ثابت رہتا ہے اسی طرح تکمیل بیع کے بعد مجلس سے جدا ہونے سے پہلے خیار مجلس ہونے کا اقرار کیا جائے تاکہ صحیح حدیث پر عمل ترک نہ ہونے پائے۔ باقی احناف کا یہ قول کہ متبایعان اسی وقت تک رہتے ہیں جب تک خریدو فروخت میں مشغول رہیں تکمیل عقد کے بعد ان کو متبایعان حقیقتاً نہیں کہا جاسکتا یہ بات غلط ہے کیونکہ فریق ثانی کے قبول کرنے سے پہلے تو فریق اوّل کو بائع کہا جاتا ہے ایجاب کے بعد قبول سے پہلے متبایعان نہیں کہا جاتا ہاں ایجاب و قبول کے بعد جب عقد تمام ہوجاتا ہے اور مجلس عقد باقی رہتی ہے اس وقت تک عرفاً اور شرعاً مشغولیت عقد کی حالت ہی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مجلس عقد کے پورے اوقات ایک ہی ساعت کے حکم میں ہوتے ہیں لہٰذا جب تک مجلس عقد باقی ہے لوال اور بکوال کو حقیقتاً متبایعان کہا جاتا ہے (خواہ تکمیل عقد پہلے ہوچکی ہو) پھر تفرق سے مراد قولی ردوبدل ہونا ایک مجازی معنی ہے اور جب حقیقت متعذر نہیں ہے تو مجاز کی طرف رجوع کرنا کیا معنی رکھتا ہے علاوہ ازیں بعض احادیث کے الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تفرق سے تفرق جسمانی اور تفرقۂ مجلس ہی مراد ہے۔ مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ کے روایت کردہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ جب دو باہم خریدو فروخت کرنے والوں نے خریدو فروخت کی ہو تو جب تک دونوں جدا نہ ہوں بیع کے متعلق دونوں میں سے ہر ایک بااختیار ہے (چاہے فسخ کر دے یا قائم رکھے) اس حدیث میں لفظ تو بتارہا ہے کہ خریدو فروخت کے بعد بھی ہر ایک کو اختیار رہتا ہے (یعنی فاتعقیب کے لئے ہے) ۔
دوسری روایت عمرو بن شعیب ؓ کے دادا کی بایں الفاظ ہے خریدو فروخت کرنے والے جب تک جدا نہ ہوں بااختیار ہیں سوائے اس کے کہ عقد خیار (خیار رویت خیار عیب وغیرہ) ہو (تو جدا ہوجانے کے بعد بھی صاحب اختیار کو مدت معینہ کے اندر اختیار فسخ رہتا ہے) اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے ساتھی (بائع یا مشتری) سے اس اندیشہ کی وجہ سے الگ ہوجائے کہ کہیں وہ بیع کو فسخ کر دے (یعنی عقد ہوتے ہی اس جگہ سے اندیشۂ فسخ کے پیش نظر ہٹ جانا جائز نہیں) رواہ الترمذی و ابوداؤد والنسائی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بغیر باہمی رضامندی کے دونوں (عقد کر کے) جدا نہ ہوں۔ رواہ ابوداؤد۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی کو (مجلس کے اندر) بیع کے بعد (بھی فسخ کرنے کا) اختیار دیا تھا۔ رواہ الترمذی وقال صحیح غریب۔ یہ احادیث صراحتاً بتارہی ہیں کہ تکمیل بیع کے بعد بھی اس جگہ سے جدا ہونے کے پہلے فسخ بیع جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
ولا تقتلوا انفسکم اور تم خودکشی نہ کرو۔ یعنی تم میں سے کوئی اپنے کو خود قتل نہ کرے۔ حضرت ثابت بن ضحاک ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کرے گا قیامت کے دن اسی چیز کے ذریعہ سے اس کو عذاب دیا جائے گا۔ رواہ البغوی من طریق الشافعی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص پہاڑ سے گر کر خودکشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں جائے گا ہمیشہ ہمیشہ دوامی طور پر دوزخ میں لڑھکتا ہی چلا جائے گا اور جو شخص کسی لوہے سے خودکشی کرے گا وہ وہی لوہا ہاتھ میں لئے دوزخ کے اندر ہمیشہ ہمیشہ دوامی طور پر اپنے کو مارتا رہے گا۔ الفاظ کی کچھ تقدیم و تاخیر کے ساتھ بخاری اور مسلم (رح) اور ترمذی نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ اور نسائی نے بھی اس کو بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کی روایت میں آیا ہے جس نے زہر ڈکارا ‘ وہ جہنم کی آگ میں زہر ہاتھ میں لئے زہر ڈکارتا رہے گا۔ حضرت جندب ؓ بن عبداللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گزشتہ اقوام میں سے ایک آدمی کے اعضاء پر زخم ہوگیا اس سے برداشت نہ ہوسکا اور چھری نکال کر اس نے خود اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا آخر مرتے دم تک خون نہ رکا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے جان دینے میں جلدی کی میں نے اس پر جنت حرام کردی۔ رواہ البغوی۔
ابو داؤد ‘ ابن حبان اور حاکم نے صحیح میں لکھا ہے کہ عمرو بن عاص ؓ نے خوف سردی کی وجہ سے تیمم کے جواز میں اسی آیت سے استدلال کیا اور رسول اللہ ﷺ نے تردید نہیں فرمائی۔ عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ ایک سرد رات میں مجھے احتلام ہوگیا اس وقت میں ذات السلاسل کے جہاد پر تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مرجاؤں گا اس لئے میں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اس کا تذکرہ جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا عمرو ؓ تو نے جنابت کی حالت میں ساتھیوں کو نماز پڑھا دی میں نے عرض کیا (یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے فرمایا ہے ولاَتَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْحضور ﷺ میرا جواب سن کر ہنس دیئے اور کچھ نہیں فرمایا حسن ‘ عکرمہ ‘ عطاء بن ابی رباح اور سدی کے نزدیک آیت مذکورہ کا معنی یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو جیسے دوسری آیت میں آیا ہے ثُمَّ اَنْتُمْ ہٰؤُلآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَکُمْ (پھر تم وہی لوگ کہ باہم ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو) یعنی اپنے دینی بھائیوں کو قتل نہ کرو مسلمان کو (بلاقصور) قتل کرنا شرک کے علاوہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ حضرت جریر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا میں لوگوں کو سنا دینا چاہتا ہوں (لوگ کان لگا کر سن لیں) میرے بعد تم لوگ لوٹ کر (عملاً ) کافر نہ ہوجانا کہ باہم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ رواہ البخاری۔ (2) [ عاصم بن بہدلہ کی روایت ہے کہ مسروق صفین میں گئے اور دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر کہا لوگو متوجہ ہو کر سن لو بتاؤ اگر کوئی منادی آسمان سے تم کو پکارے اور تم اس کو دیکھ بھی رہے ہو اور اس کا کلام بھی سن رہے ہو اور وہ یہ کہے کہ جن حرکات میں تم مشغول ہو اللہ تم کو اس کی ممانعت فرماتا ہے تو کیا اپنی حرکات سے باز آجاؤ گے لوگوں نے جواب دیا۔ سبحان اللہ (ضرور باز آجائیں گے) اس پر مسروق نے کہا تو خدا کی قسم جبرئیل ( علیہ السلام) محمد ﷺ پر یہ ہی لے کر نازل ہوئے کہ اللہ نے فرمایا ولا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا اور میری نظر میں آسمان سے نازل ہو کر رو در رو ہو کر کسی کا کچھ سنانا اور تمہارا اس سے سننا اس آیت کے نزول سے زیادہ کھلا ہو (اور واجب الیقین) نہیں ہے۔]
بعض علماء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے ناجائز طور سے مال کھا کے اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو اس تفسیر کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ ناجائز طریقے سے مال کھانا کھانے والے کو ہلاک کردینے والا ہے آخرت میں دوزخ میں لے جائے گا دوئم یہ کہ کسی کا ناجائز طور پر مال کھانا اس کی ہلاکت کا سبب ہے (وہ غریب تباہ ہوجائے گا)
ان اللہ کان بکم رحیما کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تم پر ہی مہربان ہے یعنی انتہائی رحمت کی وجہ سے ہی اس نے تم کو نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا ہے۔
بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہونے کی یہ شکل بتائی تھی کہ خود ایک دوسرے کو قتل کرے لیکن تم پر اللہ کی یہ رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے قبول توبہ کی صورت نہیں قائم کی بلکہ ندامت اور استغفار ہی کو تمہاری توبہ قرار دے دیا۔
Ayah 4:30ومن یفعل ذلک اور جو ایسا کرے گا (یعنی ناحق کسی کا مال کھائے گا یا ناحق کسی کو قتل کرے گا)
عدوانا . قصداً دوسرے پر زیادتی کرنے کی وجہ سے وظلماً . اور اپنی جان پر ظلم کرنے کی وجہ سے۔ چونکہ کسی کا مال بغیر استحقاق کے کھانا اور کسی کو ناحق قتل کرنا موجب عذاب ہے اس لئے یہ فعل فی الحقیقت اپنے اوپر خود ظلم ہوگا۔ عدوان اور ظلم مصدر ہیں یا حال ہیں یا مفعول لہ۔ (ہم نے دونوں جگہ مفعول لہ کا ترجمہ کیا ہے)
فسوف نصلیہ نارا تو ہم (آخرت میں) اس کو جہنم کی آگ میں داخل کریں گے۔
وکان ذلک علی اللہ یسیرا اور آگ میں داخل کرنا اللہ کے لئے سہل ہے۔ جو شخص غیر کے مال کو ناجائز طور پر کھانا اور کسی کو ناحق قتل کرنا حلال سمجھتا ہے اس کے لئے یہ وعید دوامی عذاب کی ہے جس سے کبھی رہائی نہ ہوگی اور جو لوگ حلال نہیں سمجھتے مگر ارتکاب کرتے ہیں ان کے لئے (عذاب دائمی کی یہ وعید نہیں بلکہ) دوزخ کا مستحق بنانے کو ظاہر کر رہی ہے ہوسکتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو معاف فرما دے۔