Ayah 4:15والتی یاتین الفاحشۃ من نسائکم اور تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں کھلی بےحیائی کریں۔ الفاحشۃ سے مراد زناء اسی حکم میں عورت سے عورت کی زناء بھی داخل ہے کیونکہ لفظ عام ہے کسی غیر عورت سے لواطت کرنے کو بھی یہ لفظ شامل ہے۔
فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم پس (اے حکام الزام زناء لگانے والوں سے) تم اپنے لوگوں میں سے چار گواہ طلب 1 کرو یعنی چار مرد جو مؤمن ہوں اور فاسق نہ ہوں عورتوں کی شہادت زناء کے مقدمہ میں بالاجماع جائز نہیں۔ مرد شہادت دیں کہ ہم نے اس طرح دیکھا۔ جیسے سرمہ دانی میں سلائی۔
فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت اب اگر وہ (چاروں) شہادت دیدیں تو عورتوں کو گھروں کے اندر (قیدی کے طور پر) بندکردو۔
حتی یتوفٰھن الموت یہاں تک کہ ان کو یعنی ان کی جانوں کو موت یعنی موت کے فرشتے لے لیں۔
او یجعل اللہ لھن سبیلا یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے یعنی کوئی شرعی حکم جاری کردے بعض علماء نے کہا ہے کہ اس جگہ لفظ اَو بمعنی الیٰ اَنْ کے ہے 2 ۔ مسلم نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : لو مجھ سے لو مجھ سے۔ عورتوں کے لیے اللہ نے راہ نکال دی ناکت خدا ناکت خدا سے کرے تو اس کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ شادی شدہ سے کرے تو سو کوڑے اور سنگساری۔
فائدہ گھر میں بند کرنا کیا ایک طرح کی سزا تھی جو منسوخ ہوگئی یا حوالات تھی کہ حکم سزا ظاہر ہونے تک کے لیے تھی یہ مسئلہ اختلافی ہے میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ حکم سزا کے نزول تک اللہ نے بندرکھنے کا حکم دیا لیکن حکم سزا کے نزول کے بعد بھی یہ حکم منسوخ نہیں ہوگیا بلکہ باقی ہے تاکہ حوالات کے بعد (جب تحقیقات سے جرم ثابت ہوجائے تو) سزا دی جاسکے۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ اصل میں مذکور ہے حاکم اس کو بند کردے تاکہ گواہوں کے عادل یا فاسق ہونے کی انکوائری کرلے۔ زناء کی سزا کے مسائل ہم انشاء اللہ سورة نور میں ذکر کریں گے۔
Ayah 4:16والذان یاتینھا منکم فاذوھما تم میں سے جو دونوں فاحشہ۔ یعنی زنا یا لواطت کا ارتکاب کریں تو دونوں کو دکھ پہنچاؤ۔ اکثر علماء کے نزدیک دونوں سے مراد دونوں زناء کرنے والے مرد اور عورت ہیں اور اٰذوھُما کی تشریح میں عطاء اور قتادہ نے کہا ان کو زبانی دکھ پہنچاؤ سخت سست کہو کہ تجھے اللہ سے شرم نہیں آتی تو اللہ سے نہیں ڈرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زبان سے عار دلاؤ اور ہاتھ سے بھی دکھ پہنچاؤ جو تے مارو۔ اگر آیت میں زانی اور زانیہ مراد ہوں تو اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقہ آیت میں تو جس کی سزا تجویز کی تھی اور اس آیت میں ایذاء کا حکم دیا (کونسا حکم قابل عمل ہے اور دونوں میں تطبیق کی کیا شکل ہے) اس اشکال کو دور کرنے کے لیے بعض علماء نے کہا کہ پہلی آیت میں کت خدا کی سزا کا بیان ہے اور اس آیت میں نا کت خدا کی سزا کا۔ بعض نے کہا مؤخر الذکر آیت نزول میں مقدم الذکر آیت سے پہلے ہے پہلے زانی کی سزا ایذاء مقرر کی پھر حبس پھر تازیانہ۔
میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ اللذان سے مراد (زانی اور زانیہ نہیں ہیں بلکہ) وہ دونوں مرد ہیں جو لواطت کے مجرم ہوتے ہیں یہی قول مجاہد کا ہے اس وقت اشکال دفع ہوجائے گا (کیونکہ پہلی آیت میں زانی اور زانیہ کی سزا کا ذکر ہے اور اس آیت میں اہل لواطت کی سزا کا) ایذاء کی شرع میں کوئی حد مقرر نہیں ہے مقدار اور کیفیت ایذاء امام (حاکم) کی تجویز پر موقوف ہے۔
امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے امام جیسا مناسب سمجھے دونوں کو تعزیر کرے بار بار سزا دینے کے بعد بھی اگر مجرم باز نہ آئیں تو امام دونوں کو قتل کراسکتا ہے۔ اس میں شادی شدہ اور کنوارے کی کوئی تفریق نہیں ہے سیاست کا جیسا تقاضا ہو ویسا کیا جائے ابن ہمام نے لکھا ہے کہ امام اعظم (رح) کے نزدیک حد مقرر نہیں بلکہ تعزیر کی جائے اور مرتے دم تک قید رکھا جاسکتا ہے اور اگر کوئی لواطت کا عادی ہو تو امام اسکو قتل کرادے۔
امام مالک، امام مشافعی، امام احمد، امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک لواطت موجب حد شرعی ہے امام احمد کے قوی قول میں اور امام شافعی سے ایک قول میں اور امام مالک کی رائے میں لواطت کی سزا سنگسار کردینا ہے شادی شدہ ہو یا کنوارا۔ شافعی کے دوسرے قول میں آیا ہے کہ تلوار سے اس کو قتل کردیا جائے۔ صاحبین کا اور امام احمد کا ایک قول اور شافعی کا قوی ترین قول یہ ہے کہ لواطت کی سزا زناء کی طرح ہے نا کتخذا کو کوڑے مارے جائیں اور شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے حقیقت کے اعتبار سے لواطت بھی ایک قسم کا زنا ہے یہ بھی کامل شہوت رانی ہے بلکہ زناء سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ فعل زناء کی حرمت تو نکاح سے ختم ہوجاتی ہے (اور لواطت کی حرمت کبھی ختم نہیں ہوتی) پس دلالت النص سے لواطت حکم زناء میں داخل ہے اس کے علاوہ بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ کی مرفوع حدیث بھی بیان کی ہے کہ جب مرد مرد سے اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو دونوں زانی ہوتے ہیں لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن قیشری ہے جس کو ابو حاتم نے جھوٹا کہا ہے اور ابو الفتح ازدی نے اس کا شمار ضعفاء میں کیا ہے طبرانی نے اس حدیث کو ایک اور سند سے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ مگر اس سلسلہ میں ایک شخص بشر بن فضل بجلی مجہول ہے۔ یہ حدیث ابو داؤد نے اپنی مسند میں بھی نقل کی ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کا کہنا ہے کہ لغۃً لواطت زناء کا ہم معنی نہیں ہے اس لیے صحابہ کا اس کے موجب میں اختلاف ہے اور زناء کی نسبت سے اس جرم کا وقوع بھی کم ہوتا ہے کیونکہ دونوں طرف سے اس فعل کے ارتکاب کا جذبہ تو کار فرما ہوتا نہیں (صرف فاعل کا اقتضاء ہوتا ہے) لہٰذا لواطت زناء کے معنی میں نہیں ہے جو علماء لواطت کو موجب حد شرعی کہتے ہیں ان کی دلیل حضرت ابن عباس کی یہ روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس کو تم قوم لوط کا ایساعمل کرتے پاؤ تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کردو۔ (رواہ احمد و ابو داؤد والترمذی وابن ماجہ والحاکم والبیہقی عن عکرمہ عن ابن عباس) ترمذی نے کہا حضرت ابن عباس کی یہ روایت عکرمہ ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوئی ہے حاکم نے اس روایت کو صحیح الاسناد کہا ہے بخاری نے کہا کہ عکرمہ کا شاگرد عمرو بن ابی عمرو ہے تو سچا مگر عکرمہ کی طرف نسبت کرکے اس نے بہت سی منکرات نقل کی ہیں نسائی نے بھی اس کو منکر قرار دیا اور کہا یہ قوی نہیں ہے ابن معین نے اس کو ثقہ ہے مگر جو حدیث اس نے بوساطت عکرمہ از ابن عباس بیان کی ہے اس کو منکر کہا ہے ایک جماعت نے اس سے روایت کی ہے۔ حاکم نے دوسرے طریقوں سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور جرح و تعدیل کی طرف سے خاموشی اختیار کی ہے البتہ ذہبی نے گرفت کی ہے کہ عبد الرحمن عمری ساقط الاعتبار ہے۔ ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس حدیث کو نقل کیا ہے مگر اس کی سند اوّل اسناد سے بھی زیادہ کمزور ہے حافظ نے کہا کہ ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث جو نقل کی گئی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔
بزار نے عاصم بن عمرعمری کی روایت سے اس کو بیان کیا ہے مگر عاصم متروک ہے ابن ماجہ نے اپنے طریق سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے کہ اوپر اور نیچے والے کو سنگسار کردو۔ ابن صلاح نے احکام میں کہا ہے کہ لواطت کے جرم میں کسی کو سنگسار کرا دینے یا سنگسار کرنے کا حکم دینے کا ثبوت رسول اللہ سے نہیں ملتا ہاں اتناحضور ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : فاعل اور مفعول (دونوں) کو قتل کردو۔
امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : ہمارے نزدیک صحیح خبر آحاد سے بھی کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں اور اس حدیث کی صحت تو محل تردد میں ہے اس لیے اس حدیث کی وجہ سے قتل کردینے کا اس بنیاد پر فیصلہ کرنا کہ لواطت کی حد شرعی قتل ہے درست نہیں ہے کتاب اللہ سے صرف ایذاء ثابت ہے اور ہر تعزیر ایذا ہے۔
ایک شبہ آیت مذکورہ کا لواطت کے متعلق ہونا قطعاً ثابت نہیں بلکہ اکثر اہل تفسیر نے اس آیت کو زانی اور زانیہ کے متعلق قرار دیا ہے۔
ازالہ آیت کا ورود اگرچہ زانی کے سلسلہ ہی میں ہوا مگر لفظ عام ہے کیونکہ فاحشہ کا لفظ جس طرح زناء کو شامل ہے اسی طرح لواطت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اللہ نے قوم کے سلسلہ میں فرمایا ہے : اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃً مَا سبقکم بھا من اَحَدٍ مِنَ العَالَمِیْنَ ۔
بحث لواطت کے متعلق صحابہ کے مختلف اقوال روایات میں آئے ہیں بیہقی نے شعب الایمان میں ابن ابی الدنیا کے طریق سے محمد بن المنکدر کا بیان نقل کیا ہے۔ حضرت خالد بن ولید نے حضرت ابوبکر صدیق کو لکھا کہ اطراف عرب میں ایک مرد ہے جس سے عورت کی طرح جماع (یا نکاح) کیا جاتا ہے حضرت ابوبکر نے صحابہ کو جمع کرکے مشورہ لیا تمام مشوروں میں حضرت علی کا قول شدید ترین تھا آپ نے فرمایا : یہ ایسا گناہ ہے کہ صرف ایک امت نے اس کا ارتکاب کیا تھا اور اللہ نے جو کچھ اس کے ساتھ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہی ہے اس لیے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس کو آگ سے جلا دیا جائے چناچہ اس سزا پر سب صحابہ کا اتفاق رائے ہوگیا۔
ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایسے مجرم کو بستی کی سب سے اونچی عمارت کی چوٹی سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا جائے اور اوپر سے سنگ باری کی جائے اس قول کا مآخذیہ ہے کہ قوم لوط کو اسی طرح ہلاک کیا گیا تھا ان کی بستیوں کو اٹھا کر الٹا کرکے گرا دیا گیا تھا اور یقیناً جب ان کو نیچے گرا یا گیا تھا تو اوپر سے منہدم عمارتیں ان پر گری تھیں۔
حضرت ابن زبیر کا قول منقول ہے کہ انتہائی بد بو دار مکان میں دونوں کو بند کیا جائے یہاں تک کہ دونوں مرجائیں۔ بیہقی نے چند طریقوں سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ٗ نے ایک لوطی کو سنگسار کرایا تھا۔ حضرت ابن عباس کی مرفوع حدیث اور ان تمام اقوال کی وجہ جامع یہ صورت ہے کہ اگر کوئی شخص اس فعل کا عادی ہو بار بار اس سے یہ حرکت سر زد ہوئی ہو اور تعزیر سے بھی باز نہ آیا ہو تو اس کو قتل کردیا جائے خواہ کسی طریقہ سے ہو۔ بار بار کرنے اور عادی ہوجانے پر حدیث کا لفظ یَعْمَلُ دلالت کر رہا ہے فرمایا ہے : مَنْ وَجَدْتُمْ یَعْمَلُ عَمَلْ قَوْمِ لُوْطٍ جس کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کا عمل کیا کرتا ہیمَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ نہیں فرمایا۔ یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے۔
فان تابوا و اصلحا پھرا گر وہ فاحشہ سے توبہ کرلیں اور اپنے عمل درست کرلیں یعنی توبہ کے بعد ان کے اعمال درست ہوجائیں۔
فاعرضوا عنھما . تو پھر تم بھی ان سے کوئی تعرض مت کرو ان کو ایذا دینی چھوڑ دو ۔
ان اللہ کان توابا . بیشک اللہ بڑاتوبہ قبول کرنے والا ہے۔ توبہ کا لغوی معنی ہے لوٹنا بندہ کی توبہ کا معنی ہے گناہ سے لوٹنا اور اللہ کے تواب ہونے کا معنی ہے ارادۂ عذاب سے باز رہنا یا توبہ قبول کرنا یا توبہ کی توفیق عطا کرنا۔
رحیما . مہربان ہے یعنی توبہ کرنے والوں پر رحم کرتا ہے۔
Ayah 4:17انما التوبۃ . توبہ قبول کرنا یا گناہ معاف کرکے ارادۂ عذاب سے باز رہنا۔
علی اللہ . اللہ کے ذمہ یعنی اس ذمہ داری کے تحت جس کا اللہ نے خود وعدہ کرلیا ہے۔
للذین یعملون السوء بجھالۃ . صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کے ساتھ گناہ کرتے ہیں بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ نے فرمایا : رسول اللہ کے صحابیوں کا اتفاق رائے ہے اس امر پر کہ ہر گناہ خواہ قصداً ہو یا بلا قصد جہالت ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہے۔ ابن جریر نے ابو العالیہ کا قول بھی یہی نقل کیا ہے۔ کلبی نے (بجھالۃ کی تفسیر کرتے ہوئے) کہا کہ گناہ ہونے سے وہ ناواقف نہیں ہے مگر اسکے عذاب سے ناواقف ہے بعض علماء نے جہالت کی تشریح میں کہا دوامی عیش کو چھوڑ کر عارضی فنا پذیرلذت کو اختیار کرنا جہالت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نفس حیوانی کے جوش کے وقت اللہ کے عذاب سے غافل ہوجانا ہی جہالت ہے۔
ثم یتوبون من قریب . پھر قریب وقت میں ہی توبہ کرلیتے ہیں : من قریب میں من تبعیضیہ ہے قریب سے مراد یا یہ ہے کہ نیکیوں کو گناہ گھیر کر تباہ نہ کرچکے ہوں یا یہ مراد ہے کہ گناہ کی محبت دل کو چر نہ گئی ہو دل پر گناہ کا ٹھپہ نہ لگ گیا ہو زنگ نہ چڑھ گیا ہو۔ سدی اور کلبی نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ مرض موت میں مبتلا ہونے سے پہلے صحت کی حالت میں توبہ کی ہو۔ صحیح بات یہ ہے کہ قریب وقت میں توبہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ موت کے سامنے آنے سے پہلے زندگی میں توبہ کرلی ہو یعنی عذاب کے فرشتوں کو دیکھنے سے پہلے توبہ کی ہو۔ عکرمہ اور ضحاک نے یہی تفسیر کی ہے (اسی مفہوم پر دلالت کر رہی ہے آیت : اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوت۔۔ (جس میں حضور موت کے وقت توبہ کو قبول کرنے کی نفی کی گئی ہے) اور رسول اللہ کا فرمان کہ غرغرہ ہونے سے پہلے بندہ کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ وابن حبان والحاکم والبیہقی عن ابن عمر) یہ حدیث صحیح ہے۔ دوسری حدیث حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : شیطان نے عرض کیا۔ تیری عزت و جلال کی قسم میں آدمیوں کو برابر گمراہ کرتا رہوں گا۔ جب تک ان کے اندر جان ہوگی اللہ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں بھی ان کو ہمیشہ بخشتا رہوں گا۔ جب بھی وہ مجھ سے معافی کے طلب گار ہوں گے۔ (رواہ احمد و ابو یعلی)
حضرت ابو موسیٰ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ رات میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہگار توبہ کرلے (اور اس کی توبہ کو اللہ اپنے ہاتھ سے لے کر قبول فرمائے) اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہگار توبہ کرلے (اور یہ سلسلہ بند نہ ہوگا) یہاں تک کہ سورج مغرب کی طرف سے برآمد ہوجائے۔ (رواہ مسلم) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سورج کے مغرب کی جانب سے برآمد ہونے سے پہلے جو شخص توبہ کرلے گا اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (رواہ مسلم)
ا اللہ نے مدت عمر کو قریب اس لیے فرمایا : کہ زندگی کے بعد آنے والی مدت بہت زیادہ (اور بعید) ہے اللہ نے خود فرمایا ہے : قُلْ مَتَاع الدُّنْیَا قَلِیْلٌ (یعنی آئندہ زندگی کے مقابلہ میں اس دنیا کا سروسامان قلیل ہے۔ )
فاولءِک یتوب اللہ علیھم . پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا 1 کیونکہ اللہ سے وعدہ کی خلاف ورزی ناممکن ہے اور اس نے (اپنے وعدہ کے ساتھ) توبہ قبول کرنے کو اپنے لیے فرض قطعی کی طرح کرلیا ہے۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کے نتیجہ کی طرح ہے۔
و کان اللہ علیم حکیما . اور اللہ علیم و حکیم ہے یعنی اخلاص کے ساتھ توبہ کرنے والے کو جانتا ہے توبہ کے بعد عذاب نہیں دے گا۔
Ayah 4:18ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن اور توبہ قبول ان لوگوں کی نہیں ہے جو بدیاں کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت سامنے آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ اے رب میں نے توبہ کی یعنی جان کنی کی حالت ہوگئی اور عذاب کے فرشتے دکھنے لگے اور روح کی روانگی ہونے لگی تو اس وقت کافر کا ایمان اور (مومن) گنہگار کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔
و لا الذین یموتون و ھم کفار . اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہے جو حالت کفر میں مرجائیں۔ یعنی اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور نہ ان کے عذاب سے رجوع کرے گا یا یہ مطلب کہ آخرت میں جب وہ توبہ کریں گے اور کہیں گے : رَبَّنَا اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَانَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْن (اے ہمارے مالک ہم نے عذاب کو دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو دنیا میں دوبارہ لوٹا دے اگر تو دوبارہ دنیا میں لوٹا دے گا تو ہم اچھے عمل کریں گے یقیناً ہم ایماندار ہوگئے) تو اس وقت ان کی توبہ قبول نہ ہوگی یا یہ مطلب ہے کہ اگر بعض گناہوں سے توبہ کرلی ہو مگر خاتمہ کفر پر ہوا ہو تو انکی توبہ کا کوئی اثر نہ ہوگا بلکہ کفر اور معاصی دونوں کا عذاب انکو ہوگا۔
اولءِک اعتدنا لھم عذابا الیما . یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔
اَعْتَدْنَا عتید سے ماخوذ ہے اور عتید کا معنی ہے حاضر۔ یہ جملہ توبہ قبول نہ ہونے کی مزید تاکید کر رہا ہے۔
بخاری، ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ جب کوئی شخص مرجاتا تھا تو اس کے قریب ترین عزیز اس کی بیوی کے زیادہ حقدار 2 ہوتے تھے اگر چاہتے تو خود نکاح کرلیتے اور چاہتے تو کسی دوسرے سے نکاح کردیتے۔ عورت کے قرب ترین عزیزوں کو بھی اس کا اختیار نہیں ہوتا اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 4:19یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوالنساء کرھا . اے اہل ایمان تمہارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے مالک بن جاؤ۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ عورتوں کو مال میراث کی طرح اپنے قبضہ میں لے لو اور ان سے نکاح کرلو مجبور کرکے یا کرھا کا یہ معنی ہے کہ وہ نہ چاہتی ہوں اور تم ان سے نکاح کرلو (اوّل معنی پر کرھا مصدر مجہول ہوگا اور دوسرے معنی پر مصدر مبنی للفاعل) حمزہ اور کسائی نے اس جگہ اور سورة توبہ میں کرھا بضم کاف پڑھا ہے دوسرے قراء نے ہر جگہ بفتح کاف روایت کیا ہے فراء نے کہا بضم کاف کا معنی یہ ہے کہ دوسرے کو مجبور کیا جائے اور بفتح کاف کا معنی یہ ہے کہ کوئی خود بادل نا خواستہ کوئی فعل کرے۔ کسائی نے کہا دونوں لفظوں کا ایک ہی معنی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ دور جاہلیت میں جب کوئی شخض بیوی کو چھوڑ کر مرجاتا تھا تو ایسی حالت میں اس شخص کا جو (بڑا) بیٹا ہوتا تھا وہ یا (اس کے نہ ہونے کی صورت میں کوئی اور) مردہ کا قریبی عزیز آکر اپنا کپڑا اس عورت پر یا اس کے خیمہ پر ڈال دیتا تھا اور اس کا حقدار بن جاتا تھا اس عورت کو اپنی ذات پر خود کوئی حق نہ رہتا تھا اب اگر چاہتاتو بغیر کسی جدید مہر کے صرف مردہ باپ کے مہر پر اس سے نکاح کرلیتا تھا۔ (یعنی خود کچھ مہر نہ دیتا تھا بلکہ باپ نے جو مہر دیا ہوتا وہی کافی سمجھا جاتا) اور خود نکاح کرنا نہ چاہتا تو کسی دوسرے سے نکاح کردیتا اور مہر خود لے لیتا اور اگر چاہتا تو بالکل ہی نکاح سے روک دیتا تاکہ عورت مجبور ہو کر وہ مال واپس کردے جو مردہ کے ترکہ سے اس کو ملا ہو اور اس طرح اپنی جان چھڑا لے۔
اس آیت میں اس فعل کی ممانعت کردی گئی ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا یہ ہی بیان نقل کیا ہے۔ بغوی نے اتنا مزید بیان کیا ہے کہ اگر عورت مرجاتی تھی تو جس نے اس پر اپنا کپڑا ڈالا ہوتا تھا وہی اس کا وارث ہوتا تھا اور اگر مردہ شوہر کے کسی قریب ترین عزیز کے کپڑا ڈالنے سے پہلے وہ اپنے میکے میں چلی جاتی تھی تو پھر اس کو اپنا خود اختیار ہوتا تھا۔ یہی اہل جاہلیت کا دستور تھا اور یہی دستور رائج تھا کہ (دور اسلامی میں) ابو قیس بن اسلت انصاری کا انتقال ہوگیا اور اس کی بیوہ کبیشہ بنت معن انصاریہ رہ گئی ابوقیس کے بیٹے نے جس کا نام حصن بتایا گیا ہے اور مقاتل بن حبان نے قیس بن ابی قیس کہا ہے اپنا کپڑاکبیشہ پر ڈال دیا اور اس کے نکاح کا وارث ہوگیا لیکن اس کو یونہی چھوڑے رکھا نہ قربت کی نہ خرچ دیامقصد یہ ہے کہ تنگ کرکے اس سے (وہ مال وصول کرلے جو ترکہ میں اس کو ملا ہے اور) فدیہ لے کر چھوڑ دے کبیشہ نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابو قیس مرگیا اور اس کا بیٹا میرے نکاح کا وارث ہوگیا اب نہ وہ مجھے خرچ دیتا ہے، نہ میرے پاس آتا ہے، نہ میرا راستہ چھوڑ تا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تو اس وقت تک اپنے گھر میں بیٹھ جا کہ اللہ کا حکم تیرے متعلق نازل ہوجائے اس پر یہ آیت : لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھًا نازل ہوئی۔
و لا تعضلوھن . اور نہ یہ حلال ہے کہ تم ان کو روکے رکھو۔ لفظ لا تاکید نفی کے لیے ہے یعنی نہ مال میراث کی طرح ان کا مال بن جانا حلال ہے نہ ان کو روکے رکھنا۔ عضل کا لغوی معنی ہے تنگ کرنا مراد ہے نکاح سے روک دینا۔
لتذھبوا ببعض ما اتیتموھن . تاکہ جو مہر تمہارے مردہ باپ یا عزیز نے ان عورتوں کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ ان سے (واپس) لے لو۔ آیت میں خطاب تمام مسلمانوں کو ہے مگر مخاطب کی ضمیر سے بعض افراد مراد ہیں۔ لتذھبوا سے مردہ کے عزیز مراد ہیں اوراٰتیتم سے مراد شوہر۔ مطلب یہ ہے کہ مردہ شوہروں نے جو مہر عورتوں کو اپنی زندگی میں دیا ہو اس کے کچھ حصہ کو بطور فدیہ رہائی وصول کرنے کے لیے عورتوں کو نکاح سے باز نہ رکھو بعض علماء کا قول ہے کہ توارث نساء اور عضل دونوں کی ممانعت کا رخ شوہروں کی طرف ہے جو عورتوں کو روک رکھتے تھے نہ تو ان کو ان عورتوں کی کوئی ضرورت ہوتی تھی نہ رغبت خاطر صرف مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کے مال کے وارث ہوجائیں (اگر وہ مرجائیں) یا وہ عورتیں مال دے کر اپنے کو رہا کرالیں میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ : لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا میں تو خطاب کا رخ مردہ کے عزیزوں کی طرف ہے اور اس کے بعد از سر نو کلام شروع ہوتا ہے جس میں خطاب کا رخ شوہروں کی طرف ہے اور لا تعضلوا نہی کا صیغہ ہے جو حالت جز میں ہے (یعنی اس کا عطف ترثوا پر نہیں ہے ورنہ حالت نصب میں ہوگا اور نہ لا تاکید نفی کے لیے ہے بلکہ نہی کے لیے ہے ) ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو خود بیوی کی طرف راغب نہ ہوا ‘ اس کی صحبت سے نفرت کرتا ہو لیکن عورت کا مہر اس پر واجب ہو اور اس طرح تنگ کرکے چاہتا ہو کہ جو کچھ مہر دیا ہو (یا دینے والا ہو) اسکو تاوان رہائی کے طور پر واپس لے لے۔ اللہ نے لا تعضلوھن فرما کر اس حرکت سے ممانعت کردی۔ اس صورت میں جملہ کا عطف جملہ پر ہوگا مفرد کا مفرد پر نہ ہوگا۔
پہلا جملہ منفی خبری ہے اور یہ جملہ منہی انشائی لیکن چونکہ دونوں کا کوئی محل اعرابی نہیں اس لیے خبر پر انشاء کا عطف جائز ہے اس کے علاوہ جملہ : لا یحل لکماگرچہ لفظاً نفی ہے خبر ہے مگر معنی کے اعتبار سے نہی اور انشاء ہے اس لیے : لا تعضلوھن کا عطف اس پر درست ہے۔
الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ . مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی بےحیائی کا ارتکاب کریں یعنی کسی وقت فدیہ لینے کے لیے نہ روکو مگر اس وقت روک سکتے ہو جب وہ ارتکاب فاحشہ کریں (استثناء محل ظرفیت میں ہے) یا یہ مطلب کہ فدیہ وصول کرنے کی غرض سے یا کسی اور وجہ سے ان کو نہ روکو صرف ارتکاب فاحشہ کی وجہ سے روک سکتے ہو (استثناء مفعول لہٗ ہے) یا یہ مطلب کہ وصول فدیہ کی غرض ہو یا کوئی دوسری غرض۔ کسی غرض سے نہ روکو مگر روکنے کی علت اگر ارتکاب فاحشہ ہو تو روک سکتے ہو (اس صورت میں بھی استناء مفعول لہٗ ہوگا) یا یہ مطلب کہ کسی حالت میں سوائے ارتکاب فاحشہ کی حالت کے نہ روکو۔ حضرت ابن مسعود اور قتادہ کے نزدیک فاحشہ سے شوہر کی نافرمانی مراد ہے اور حسن بصری کے نزدیک زناء یعنی اگر عورت ناشرہ ہوجائے یا ارتکاب زناء کرے تو شوہر کے لیے اس سے عوض خلع طلب کرنا جائز ہے۔ خلع کے مسائل ہم سورة بقرہ میں ذکر کرچکے ہیں۔ قتادہ نے کہا جب کسی شخص کی بیوی فاحشہ کی مرتکب ہوجاتی تھی تو وہ اس کو دیا ہو امال واپس لے لیتا اور پھر نکال دیتا تھا اس حکم کو حد زناء سے منسوخ کردیا گیا۔
وعاشروھن بالمعروف . اور گذران کرو خوبی کے ساتھ۔ یعنی حسن معاملہ، ادائے حقوق اور اچھے کلام کے ساتھ۔ اس جملہ کا عطف لا تعظلوا یا لا یحل پر ہے۔ حسن بصری نے کہا اس کلام کا ربط آیت : اٰتوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نحلۃً سے ہے 1 ۔
فان کرھتموھن . اور اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو یعنی بد صورتی یا بد اخلاقی کی وجہ سے تو پھر بھی صبر کرو نہ ان کو دکھ دو نہ ترک تعلق کرو۔
فعسٰی ان تکرھوا شیاء و یجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو اور اللہ اس میں تمہارے لیے بڑا فائدہ کردے یعنی (آخرت میں) بڑا ثواب یا (دنیا میں) نیک اولاد عطا کردے۔ عسٰی کا فاعل (صرف ان تکرھوا نہیں ہے بلکہ) معطوف اور معطوف علیہ سے مل کر جو پورا جملہ بنتا ہے وہ فاعل ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو کوئی چیز ناپسند بھی ہو تب بھی (اس کا برا ہونا ضروری نہیں) ہوسکتا ہے کہ اللہ اس میں بھلائی کردے پس نا پسندیدگی کے وقت بھی اس چیز کی بھلائی کی امید رکھنی چاہئے۔
Ayah 4:20و ان اردتم استبدال زوج مکان زوج اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو یعنی بغیر نافرمانی کرنے اور مرتکب زناء ہونے کے اگر کسی بیوی کو طلاق دے کر تم دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہو۔
و اتیتم احدھن قنطارا اور بیویوں میں سے کسی بیوی کے مہر میں تم نے ڈھیروں مال دے دیا ہو ھُنَّ کی ضمیر زوج کی طرف راجع ہے کیونکہ زوج کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی اور چونکہ یہاں مردوں کی جماعت سے خطاب ہے اس لیے زوج سے عورتوں کو جماعت مراد ہے تاکہ افراد کا مقابلہ افراد سے صحیح ہوجائے۔ قنطار کا معنی ہے مال کثیر، مراد ہے مہر میں دیا ہو امال کثیر۔ ابن جریر نے حضرت انس کی راویت سے قنطار کی تشریح میں رسول اللہ کا فرمان نقل کیا ہے کہ ایک ہزار دو سو (قنطار) ہے اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ (شارع کے نزدیک) کثرت مہر کی کوئی حد بندی نہیں۔ اسی پر اجماع ہے۔
جب حضرت عمر ؓ نے زیادہ مہر مقرر کرنے کی ممانعت کی تو ایک عورت نے اسی آیت سے کثرت مہر کے جواز پر استدلال کیا۔ حضرت عمر ؓ نے اس دلیل کو سن فرمایا عمر ؓ سے ہر شخص دینی سمجھ زیادہ رکھتا ہے یہاں تک کہ پردہ نشین عورتیں بھی۔ (1) [(حاشیہ ازمؤلف) عبد الرحمن سلمی کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حکم دیا تھا کہ عورتوں کے ہر بیش از بیش نہ کیا کرو ایک عورت نے عرض کیا عمر آپ کو یہ حکم دینے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ اللہ فرماتا ہے : وَ اٰتَیْتُمْ احَدَھُنَّ قِنْطَارًا من ذھبراوی کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود کی قراءت اسی طرح ہے (یعنی ” من ذھب “ کا لفظ بھی آیا ہے) حضرت عمر نے فرمایا : ایک عورت مناظرہ میں عمر ؓ پر غالب آگئی بکر بن عبد اللہ مزنی کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں تم کو مہر کی کثرت سے منع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن قرآن مجید کی آیت اٰتَیْتُمْ احَدَھُنَّ قِنْطَارًا میرے سامنے آگئی۔ یہ دونوں حدیثیں کہ کثرت مہر کی ممانعت سے حضرت عمر نے رجوع کرلیا تھا میرے نزدیک صحیح ہیں اور حضرت عمر ؓ نے کثرت مہر کی ممانعت تحریمی نہیں کی استحبابی ممانعت فرمائی تھی اور تحریمی نہی سے رجوع کیا تھا۔]
اجماعاً مستحب یہ ہے کہ مہر میں زیادتی نہ کی جائے حضرت عمر ؓ نے فرمایا تھا خبر دار عورتوں کے مہر میں کثرت نہ کرنا اگر مہر کی کثرت دنیا میں عزت اور اللہ کے نزدیک تقویٰ کی چیز ہوتی تو رسول اللہ سب سے زیادہ اس کے مستحق تھے میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ نے اپنی کسی بی بی سے یا کسی بیٹی کا بارہ اور قیہ سے زائد مہر پر نکاح کیا ہو۔ (رواہ احمد و اصحاب السنن الاربعۃ والدارمی)
خطابی نے اور ابن حبان نے صحیح میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہترین عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے زیادہ سہل (الاداء) ہو۔ ابن حبان نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : بی بی کے امور (نفقات وغیرہ) کا آسان ہونا اور مہر کا کم ہونا اس کی برکت ہے۔ احمد اور بیہقی کی روایت میں ہے سب سے بڑی برکت والی وہ عورت ہے جس کا مہر سب سے آسان (یعنی کم) ہو اس روایت کی سند عمدہ ہے۔
ابو سلمہ ؓ : کا بیان ہے میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ کا (یعنی حضور ؓ کی بیبیوں کا) مہر کتنا تھا ؟ فرمایا : رسول اللہ کی بیبیوں کا مہر 12 اوقیہ اور نش تھا تم جانتے ہو کہ نش کتنا ہوتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا : نسْ آدھا اوقیہ ہوتا ہے۔ بارہ اوقیہ اور ایک نش کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں حضرت ام حبیبہ ؓ کے علاوہ حضور ﷺ کی تمام بیبیوں کا مہریہی تھا۔ حضرت ام حبیبہ کا مہر چار ہزار درہم تھا کیونکہ حضور کی طرف سے نجاشی نے یہ مہر ادا کیا تھا۔ ابن اسحاق نے ابو جعفر کی روایت سے چار سو دینار لکھا ہے۔ خلاصہ السیر میں حضرت خدیجہ کے نکاح کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے آپ کا مہر بارہ اوقیہ طلائی مقرر کیا تھا ایک طلائی اوقیہ کے سات مثقال ہوتے ہیں۔ احمد وا بو داؤد نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ جو یریہ ثابت بن قیس بن شماس اور ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں مشترکاً آئی تھیں مدینہ میں ثابت کے کچھ کھجور کے درخت تھے ثابت نے چچازاد بھائی کو وہ درخت دے کر جویریہ کو منفرداً خود لے لیا اور مکاتب بنا دیا۔ رسول اللہ نے ان کا بدل کتابت اپنے پاس سے ادا کردیا اور خود ان سے نکاح کرلیا اور بدل کتابت ہی ان کا مہر قرار پایا۔ سبیل الرشاد میں ہے کہ ثابت اور ان کے چچا زاد بھائی نے مشترکاً جویریہ کو مکاتب کیا تھا اور نو اوقیہ طلائی بدل کتابت مقرر کیا تھا۔
فلا تاخذوا منہ شیئا تو نہ لو دیئے ہوئے مال میں سے کچھ۔
اتاخذونہ بھتانا اثما مبینا کیا تم اس مال کو باطل طور پر اور کھلے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرکے لو گے۔ بھتانا اور اثماً حال ہیں بمعنی اسم فاعل یا مفعول لہٗ ہیں۔ بھتان کا معنی ہے باطل قول (تہمت) باطل فعل میں بھی اسکا استعمال آیا ہے یہاں باطل فعل ہی مراد ہے اسی لیے بھتانا کا تفسیری معنی ظلماً کیا گیا ہے بعض روایت میں آیا ہے کہ جب کوئی شخص سابق عورت کی جگہ جدید عورت سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو پہلی عورت پر زناء کی تہمت لگاتا تھا تاکہ وہ مجبور ہو کر کچھ مال دے کر اپنی گلو خلاصی کرالے (اس صورت میں بھتانًاسے مراد ہوگا باطل قول) اتاخذونہ میں استفہام انکاری زجر آگیں ہے۔ (یعنی ایسا نہ کرنا چاہئے یا ایسا کرنے کی کوئی وجہ نہیں)
Ayah 4:21و کیف تاخذونہ اور کونسی وجہ ہے کہ اس کو لے لو۔ یہ بھی انکاری سوال ہے یعنی جب مہر مقرر ہوچکا اور ادا کرنا واجب ہوگیا تو پھر واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں۔
و قد افضیٰ بعضکم الی بعض امام شافعی کے نزدیک افضاء سے کنایۃً جماع مراد ہے اسی لیے انہوں نے آیت کا ترجمہ کیا ہے تم جماع کرچکے ان سے۔ امام شافعی کے دو قول ہیں ظاہر ترین قول یہ ہے کہ صرف خلوت سے مہر پختہ نہیں ہوتا ہے اگر جماع نہ کیا ہو اسی بنا پر انہوں نے فرمایا : کہ اگر خلوت صحیحہ ہوگئی اور جماع نہ کیا مگر جماع دے کوئی طبعی اور شرعی مانع نہ تھا پھر طلاق دیدی تو نصف مہر کی ادائیگی واجب ہے امام اعظم (رح) اور امام احمد (رح) نے فرمایا : خلوت صحیحہ سے (پورا) مہر پختہ ہوجاتا ہے خواہ جماع نہ کیا ہو۔ افضاء کا معنی ہے فضاء یعنی صحراء میں داخل ہوجانا یہاں فضاء میں داخل ہونے سے مراد ہے خالی مکان میں (جہاں کوئی روک ٹوک نہ ہو) داخل ہوجانا۔ امام مالک کے نزدیک بھی خلوت صحیحہ بغیر جماع کے موجب مہر ہوجاتی ہے بشرطیکہ خلوت کی مدت طویل ہو۔ ابن قاسم نے طول مدت کی حد ایک سال بیان کی ہے۔
امام شافعی کے قول کی دلیل یہ آیت ہے : وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ یعنی اگر تم نے عورتوں کا مہر مقرر کردیا تھا اور جماع سے پہلے طلاق دیدی تو مقرر کردہ مہر کا آدھا لازم ہے 3 ۔
ہم کہتے ہیں یہ امر قطعی ہے کہ مس سے مجازی معنی مراد ہے مس کا حقیقی معنی تو جماع نہیں ہے (بلکہ مس کا لفظ عام ہے اور جماع کا معنی خاص) عام لفظ بول کر شافعی نے خاص معنی مراد لیا ہے اور یہ مجاز ہے لیکن لفظ مس سے خلوت بھی بطور مجاز مراد لی جاسکتی ہے کیونکہ خلوت مس کا سبب ہے اور مس خلوت کا نتیجہ ہے مسبب بول کر سبب مراد لینا مجاز کا عام ضابطہ ہے۔ عام بول کر خاص مراد لینے سے تو تسمیۃ السبب باسم المسبب اولیٰ ہے لہٰذا آیت میں خلوت مراد ہے (رہا نصف یا کل مہر کا وجوب تو ہم کل مہر کے وجوب کے قائل ہیں کیونکہ) قرن اوّل کا اجماع ہے کہ اگر خلوت صحیحہ ہوگئی خواہ جماع نہ ہوا ہو پھر بھی کل مہر واجب ہے۔ شیخ ابوبکر رازی نے الاحکام میں اس کو نقل کیا ہے اور طحاوی نے اس پر صحابہ کا اجماع ہونا بیان کیا ہے ابن منذر نے کہا کہ یہی قول حضرات عمر و علی و زید بن ثابت و عبد اللہ بن عمر و جابر و معاذ بن جبل و ابوہریرہ ؓ کا ہے۔ بیہقی نے بروایت احنف بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ نے فرمایا : کہ اگر دروازہ بند کرلیا اور پردہ چھوڑ دیا تو عورت کے لیے پورا مہر لازم ہوگیا اور عدت بھی ضروری ہوگئی۔ یہ روایت منقطع ہے۔
موطا میں یحییٰ بن سعد کی وساطت سے سعید بن مسیب کی روایت آئی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : جب پردے چھوڑ دیئے گئے (یعنی کامل خلوت ہوگئی) تو مہر واجب ہوگیا۔ عبد الرزاق نے مصنف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی حضرت عمر ؓ کا قول اسی طرح نقل کیا ہے۔
دارقطنی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ٗ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جب دروازہ بند کردیا اور پردہ چھوڑ دیا اور ستر کو دیکھ لیا تو شوہر پر مہر واجب ہوگیا۔ ابو عبیدہ نے کتاب النکاح میں زرارہ بن اوفیٰ کا قول نقل کیا ہے کہ خلفاء راشدین کا یہ فیصلہ ہے کہ جب دروازہ بند کردیا اور پردہ چھوڑ دیا تو مہر واجب ہوگیا اور عدت لازم ہوگئی۔ دار قطنی نے اس مبحث کی ایک مرفوع حدیث محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان کی روایت سے مرسلاً نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے عورت کا دوپٹہ کھول دیا اور اسکی طرف دیکھ لیا تو مہر واجب ہوگیا جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابن لہییہ ضعیف ہے لیکن ابن جوزی کا بیان ہے کہ علماء نے ابن لہیعہ کی روایت کو لیا ہے ابو داؤد نے مراسیل میں ابن ثوبان کی اس روایت کو نقل کیا ہے اس مسند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور مرسل ہمارے نزدیک قابل استدلال ہے۔
مذہب شافعی کی تائید میں حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ کے بعض اقوال بھی روایات میں آئے ہیں لیکن یہ روایات صحیح نہیں ہیں۔ بیہقی نے بروایت شعبی حضرت ابن مسعود کی طرف سے اس قول کی نسبت کی ہے کہ اگر کسی نے کسی عورت سے خلوت کرلی ہو اور جماع نہ کیا ہو تو عورت کا نصف مہر لازم ہوجاتا ہے یہ روایت منقطع ہے۔ شافعی نے حضرت ابن عباس کا بھی یہ قول نقل کیا ہے لیکن اس کی سند میں ضعف ہے۔ ابن ابی شیبہ اور بیہقیء نے دوسری سند سے بھی یہ قول نقل کیا ہے مگر وہ سند بھی صحیح نہیں ہے۔
و اخذن منکم میثاقا غلیظا اور تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں اس جملہ کا عطف افضیٰ پر ہے۔
حسن، ابن سیرین، ضحاک اور قتادہ کے نزدیک پختہ عہد سے مرادعورت کے ولی کا یہ قول ہے کہ میں نے اس عورت کو تیرے نکاح میں ان شرائط و حقوق کے بموجب دیا جو اللہ نے عورتوں کے لیے مردوں پر رکھے ہیں یعنی ضابطہ اور دستور کے مطابق نکاح میں رکھنا یا خوبی کے ساتھ آزاد کردینا۔
شعبی اور عکرمہ نے کہا پختہ عہد سے وہ مضمون مراد ہے جو حدیث مسلم میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے ان کو بامان خدا لیا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو بحکم خدا اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ (رواہ جابر) ابن جریر نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ نے عورتوں کے لیے تم پر کچھ بندشیں لگائی ہیں گویا عورتوں نے تم سے عہد لیا ہے (کہ ان بندشوں کی پابندی کریں گے) ۔
ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی کا بیان نقل کیا ہے کہ (دور جاہلیت میں دستور تھا کہ) جب کوئی شخص مرجاتا تھا تو اس کی بیوی کا حقدار اس کا (بڑا) بیٹا ہوتا تھا چاہے وہ خود اس سے نکاح کرلے بشرطیکہ وہ عورت اس لڑکے کی ماں نہ ہو اور چاہے کسی دوسرے سے اس عورت کا نکاح کرادے ابو قیس بن سلمہ کا انتقال ہوا تو (دستور جاہلیت کے مطابق) ابو قیس کا بیٹا محصن باپ کی بیوی سے نکاح کا حقدار ہوگیا اور ابو قیس کی بیوی کو ترکہ میں کوئی حصہ اس نے نہیں دیا۔ عورت نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اب تو و اپس چلی جا امید ہے کہ تیرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوگا۔
ابن ابی حاتم، فریانی اور طبرانی نے حضرت عدی بن ثابت کی وساطت سے یہ قصہ ایک انصاری کی روایت سے نقل کیا ہے اس روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ابو قیس بن سلمہ کا انتقال ہوگیا ابو قیس بڑا نیک انصاری تھا اس کے بیٹے نے ابو قیس کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا عورت نے قیس سے کہا میں تو تجھے اپنا بیٹا جانتی ہوں اور تو قوم کے نیک لوگوں میں سے بھی ہے (پھر نکاح کیسا) اس کے بعد عورت نے حاضر ہو کر رسول اللہ کو واقعہ کی اطلاع دیدی حضور ﷺ نے فرمایا : اب تو اپنے گھر چلی جا (اور حکم کا انتظار کر) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:22و لا تنکحوا ما نکح اباء کم من النساء اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو۔ ما صولہ ہے اور چونکہ وصفی معنی مراد ہے اس لیے (بجائے مَن کے) ما کا لفظ ذکر کیا ہے بعض نے کہا کہ ما مصدری ہے اور مصدر بمعنی مفعول ہے (باپ کی نکاح کی ہوئی عورت سے نکاح نہ کرو) یہ تو ظاہر تھا کہ باپ دادا نے جن سے نکاح کیا ہوگا وہ عورتیں ہی ہوں گی پھر بھی ما کے ابہام کی توضیح من النساء سے صرف تعمیم کے لیے کردی۔
الا ما قد سلف بظاہر یہ استثناء منقطع ہے یعنی جو پہلے ہوچکا اس کا مواخذہ نہ ہوگا بعض علماء نے کہا استثناء متصل ہے نہی کے لیے جو معنی لازم تھا اس سے استثناء ہے گویا یوں کہا گیا کہ جس سے باپ دادا نے نکاح کیا ہوگا اس سے اگر نکاح کرو گے تو عذاب ہوگا مگر جو پہلے ہوچکا اس پر عذاب نہ ہوگا۔
انہ کان فاحشۃ یہ کام یقیناً بڑی بےحیائی کا ہے یعنی اللہ کے نزدیک بد ترین گناہ ہے کسی گذشتہ امت کو اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی۔
و مقتا اور نفرت کا۔ اللہ کے نزدیک بھی اور شرفاء کے نزدیک بھی۔ مقت کا معنی ہے سخت ترین بغض (بدترین نفرت) اگر باپ کی بیوی سے کسی کا کوئی بیٹا ہوجاتا تھا تو عرب اس کو مقیت (بمعنی ممقوت انتہائی قابل نفرت) کہتے تھے۔ اشعث بن قیس اور ابو معیط عمرو بن امیہ مقیت ہی تھے۔
و سا سبیلا اور برا طریقہ ہے حصرت براء بن عازب کا بیان ہے کہ میرا ماموں جھنڈا لیے میری طرف سے گذرا میں نے پوچھا کہاں جار ہے ہو ؟ اس نے جواب دیا ایک شخص نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ اس کا سر لانے کے لیے رسول اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد) ابو داؤد اور نسائی اور ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ اس نے کہا مجھے رسول اللہ نے اس لیے بھیجا ہے کہ میں اس کی گردن ماردوں اور اس کا مال لے لوں اس روایت میں ماموں کی بجائے چچا کا لفظ آیا ہے۔
فائدہ باجماع علماء آباء سے مراد عموم مجاز کے طور پر تمام اصول ہیں خواہ و دھیالی ہو یا ننھیالی۔
بعض علماء کے نزدیک نکاح کا حقیقی معنی ہے جماع اور یہی معنی اس جگہ مراد ہے ابن جوزی نے تحقیق میں یہی لکھا ہے اور اسی آیت سے مزنیہ کی بیٹی اور ماں سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے اس صورت میں آیا کا معنی یہ ہوگا کہ جس عورت سے تمہارے باپ، دادا، نانا وغیرہ نے جماع کیا اس سے نکاح نہ کرو خواہ نکاح صحیح کے بعد جماع کیا ہو یا نکاح فاسد کے بعد یا حق تملیک کی وجہ سے یا (بیوی ہونے کے) شبہ میں یا بصورت زناء۔
قاموس میں ہے نکاح کا معنی ہے جماع اور عقد اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کا لفظ مشترک ہے۔ صحاح میں جوہری نے لکھا ہے کہ نکاح کا اصل (یعنی حقیقی) معنی ہے عقد مجازاً جماع پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اس کے برعکس ممکن نہیں کیونکہ جماع کے عمل کو عرب جس طرح قبیح جانتے تھے اسی طرح اسکے ذکر کو بھی صراحۃً برا سمجھتے تھے اسی لیے معنی جماع پر دلالت کرنے والے تمام الفاظ بطور کنایہ بولتے تھے اس صورت میں ناممکن ہے کہ فحش لفظ بول کر وہ معنی مراد لیے جائیں جو فحش نہیں ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وانکحوا الایامٰی منکم وغیرہ میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس آیت میں نکاح سے مراد ہے عقد جماع مراد نہیں ہے کیونکہ بالاجماع باپ کی منکوحہ بیٹے کے لیے حرام ہے خواہ باپ نے اس سے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو اور مزنیہ کی ماں اور بیٹی سے نکاح کی حرمت اجماعی نہیں اختلافی ہے (شافعی کے نزدیک حرمت نہیں ہے) اس لیے اجماعی معنی پر آیت کو محمول کرنا ہی اولیٰ ہے)
ایک اعتراض اگر آیت میں نکاح سے مراد عقد ہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ جس عورت سے باپ نے ملکیت کی وجہ سے جماع کرلیا ہو اس سے بیٹے کے لیے بالاجماع نکاح حرام ہوجاتا ہے وہ تو باپ کی منکوحہ نہیں ہے۔
جواب یہ حرمت دلالت النص کی وجہ سے ہے کیونکہ نکاح سے اصل مقصد ہوتا ہے جماع اور جماع ہی جزئیت کا سبب ہے پس جب وہ نکاح جو حلال جماع کا سبب ہے حرمت مصاہرت کا موجب ہے تو جائز جماع بدرجہ اولیٰ موجب حرمت مصاہرت ہوگا۔
مسئلہ امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک زنا سے حرمت مصاہرت نہیں ہوتی (یعنی مزنیہ کی ماں یا بیٹی سے نکاح حرام نہیں ہوجاتا) امام اعظم (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک زناء حرمت مصاہرت کی موجب ہے امام مالک کا بھی ایک قول اسی طرح مروی ہے امام احمد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کوئی مرد کسی عورت یا مرد سے لواطت کرے تو اس مفعول مرد و عورت کی ماں اور بیٹی سے اس فاعل کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس آیت سے حرمت مصاہرت پر استدلال ضعیف ہے قوی استدلال یہ ہے کہ حلال جماع پر زناء کو قیاس کیا جائے علت حرمت صرف یہ ہے کہ جماعت سبب اولاد ہے حلال اور حرام جماع کی قید قابل التفات نہیں دیکھو مشترک باندی سے یا بیٹے کی باندی سے یا مکاتب باندی سے یا ظہار والی عورت سے یا مجوسی باندی سے یا حائضہ عورت سے یا نفاس والی عورت سے یا حالت احرام یا روزہ میں جماع کرنا حرام ہے ان میں سے ہر صورت ممنوع ہے لیکن باجماع علماء اس سے حرمت مصاہرت ہوجاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اصل موجب حرمت جماع ہے حرام ہو یا حلال اس کی کوئی تعیین نہیں۔ ابن ہمام نے بیان کیا ہے کہ ہمارے علماء نے اس کی تائید میں چند احادیث ذکر کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ جاہلیت کے زمانہ میں میں نے ایک عورت سے زنا کیا تھا کیا اس کی لڑکی سے اب نکاح کرسکتا ہوں فرمایا : میں اس کو جائز نہیں سمجھتا یہ مناسب نہیں کہ جن مخفی حصوں پر کسی عورت کے تم مطلع ہوگئے ہو اس کی بیٹی کے بھی ان ہی مخفی حصوں پر مطلع ہو۔ یہ روایت مرسل منقطع ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبد الرحمن بن بنت حکیم ہے۔
ابن وہب نے بوساطت ایوب ابن جریح کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا : جس نے ہاتھ سے کسی عورت کو دبایا ہو اس سے زیادہ کچھ نہ کیا ہو کہ اس کی لڑکی سے نکاح نہ کرے یہ روایت بھی مرسل منقطع ہے مگر ہمارے نزدیک مرسل منقطع کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں اگر تمام راوی ثقہ ہوں (انتہی کلام ابن ہمام) امام شافعی نے اپنی دلیل میں دو حدیثیں بیان کی ہیں ایک حضرت عائشہ کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حرام حلال کو فاسد نہیں کرتا۔ (رواہ الدارقطنی)
اس سند میں ایک راوی عثمان بن عبد الرحمن وقاصی ہے جس کو یحییٰ بن معین نے کہا ہے یہ ہیچ ہے جھوٹ کہتا تھا ابن مدینہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے بخاری، نسائی، رازی اور ابو داؤد نے بھی کہا ہے کہ یہ کچھ نہ تھا۔ دارقطنی نے متروک کہا ہے۔ ابن حبان نے کہا یہ ثقات کی طرف نسبت کرکے موضوع احادیث نقل کرتا تھا اس کی روایت سے استدلال صحیح نہیں ہے دوسری حدیث حضرت عائشہ کی طرح حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بھی آئی ہے یہ حدیث دارقطنی اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے اس کی سند میں عبید اللہ کا بھائی عبد اللہ بن عمر ہے جس کے متعلق ابن حبان نے کہا اس کی خطا فاحش ہے اس لیے مستحق ترک ہے۔ ایک راوی اسحاق بن محمد عروی بھی ہے جس کو یحییٰ نے کہا ہے کہ یہ کچھ نہیں ہے بڑا جھوٹا ہے۔ بخاری نے کہا ہے علماء روایت سے اس کو ترک کردیا ہے۔
مسئلہ مزنیہ کے بیٹے کے لیے زانی باپ کی منکوحہ حرام ہے اسی طرح مزنیہ کی بیٹی اپنے زانی باپ کے لیے حرام ہے کیونکہ اوّل صورت میں وہ زانی کا بیٹا اور دوسری صورت میں زانی کی بیٹی ہے عربی زبان میں وہ بیٹا بیٹی ہی ہے (خواہ نکاحی نہیں ہے) اور جب تک لغت کے خلاف نقل شرعی نہ ہو اس وقت تک لغوی معنی ہی کلام میں معتبر رہیں گے ہاں اگر نقل شرعی ہو تو شرعی معنی کا اعتبار ہوگا جیسے لفظ صلوٰۃ (کہ مخصوص ہیئت کی عبادت کو شرعاً کہا جاتا ہے اور یہی معنی شرعاً مراد ہوتا ہے) اگر زید نے اپنی بیوی ہندہ سے لعان کیا کہ تیر ابیٹا عمر میرا بیٹا نہیں ہے اور قاضی نے بھی اس دعوے کو تسلیم کرلیا اور زید سے عمر کے نسب کی نفی کردی اس صورت میں عمر کے لیے جائز نہیں کہ زید کی منکوحہ سے نکاح کرسکے اور زید کے لیے اس عورت کی بیٹی سے نکاح درست ہے کیونکہ ممکن ہے زید اپنے دعوے کی خود تکذیب کردے اور اس وقت گذشتہ دعویٰ اور حاکم کی ڈگری لغو قرار پا جائے۔
مسئلہ اگر کسی مرد نے کسی عورت کو اور کسی عورت نے کسی مرد کو شہوت کے ساتھ چھو لیا تو اس چھونے کا حکم جماع کی طرح ہے امام اعظم (رح) کے نزدیک اس سے حرمت مصاہرت ہوجاتی ہے اس طرح اگر مرد نے عورت کی اندرونی شرمگاہ کو یا عورت نے مرد کی شرمگاہ کو شہوت سے دیکھا لیا تو اس سے بھی حرمت مصاہرت ہوجاتی ہے۔
اگر مرد نے عورت کو چھو لیا اور انزال ہوگیا یا اندرونی شرمگاہ کو دیکھنے سے انزال ہوگیا یا کسی عورت سے لواطت کی اور انزال ہوگیا تو ایک روایت میں آیا ہے کہ امام اعظم کے نزدیک اس سے حرمت مصاہرت ہوجاتی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ حرمت مصاہرت نہیں ہوتی باقی تینوں اماموں کے نزدیک چھونے اور دیکھنے سے حرمت مصاہرت نہیں ہوتی امام اعظم کے قول کی وجہ یہ ہے کہ چھونا اور دیکھنا جماع کے داعی ہیں لہٰذا احتیاط کے مقام میں ان کو جماع کے قائم مقام قرار دیا جائے گا لیکن انزال کے بعد جماع کا مقتضی ہی ختم ہوجاتا ہے اس لیے انزال کے بعد حرمت مصاہرت کا حکم نہ ہوگا۔ شہوت کے ساتھ چھونے سے مراد یہ ہے کہ آلہ میں انتشار پیدا ہوجائے یا زیادہ ہوجائے۔