4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

ان تجتنبوا کبئر ما تنہون عنہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچے رہو گے جن کی تم کو ممانعت کی جا رہی ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر اللہ نے دوزخی ہونے کی یا (اپنے) ناراض ہونے کی یا لعنت کرنے کی یا عذاب کی مہر کردی ہو۔ ضحاک نے بھی اسی طرح فرمایا کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر اللہ نے دنیا میں کسی سزا یا آخرت کے عذاب کی وعید دی ہو۔ میں کہتا ہوں کبائر کے تین درجات ہیں : (1) سب سے بڑا کبیرہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنا۔ رسول اللہ ﷺ جو چیز لے کر آئے تھے اگر اس کا ثبوت قطعی دلیل سے ہوجائے تو اس کی تکذیب بھی شرک کے حکم میں داخل ہے (یعنی سب سے بڑا گناہ ہے) خواہ صراحت کے ساتھ تکذیب ہو اور کوئی تاویل (اسلام میں کھینچ کر لانے کی) نہ کی گئی ہو تو اس کو کفر کہا جاتا ہے اور اگر (اسلام میں کھینچ کر لانے) کی کوئی توجیہ کی گئی ہو۔ (مگر حقیقت میں وہ تکذیب رسول ہو) تو اس کو ہوا پرستی اور بدعت (قبیحہ) کہتے ہیں (یہ بھی کفر ہے دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت کفر التزامی یعنی قصداً کفر کی ہے اور دوسری صورت کفر لزومی کی۔ یعنی قائل نے التزام کفر نہیں کیا نہ کفر کا وہ قائل ہے بلکہ اس کے قول پر تکذیب رسول اور کفر لازم آتا ہے) رافضی ‘ خارجی ‘ قدریہ (انسان کو اپنے افعال و اعمال کا خالق قرار دینے والے جیسے جہمیہ اور معتزلہ) اور مجسمہ (اللہ کا جسم اور اعضاء ماننے والے) ان سب کے اقوال مؤخر الذکر شق میں داخل ہیں (یعنی عقائد و افکار کے اعتبار سے بدعتی اور ہوا پرست ہیں) اسی بنیاد پر حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے اللہ کا ساجھی قرار دینا اور اللہ کے پوشیدہ عذاب سے بےخوف ہوجانا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجانا اور اللہ کے کرام سے نراس بن جانا۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ نے فرمایا ہے اللہ کے پوشیدہ مواخذہ سے صرف گھاٹا اٹھانے والے ہی بےخوف ہوتے ہیں اور سوائے گمراہوں کے اپنے رب کی رحمت سے اور کوئی ناامید نہیں ہوتا۔ اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی نراس ہوتے ہیں۔ (1) [ بزار اور طبرانی نے اوسط میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کبائر کیا ہیں ؟ فرمایا : اللہ کا (ذات وصفات میں) ساجھی قرار دینا اور اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجانا اور اللہ کی پوشیدہ گرفت سے بےباک بن جانا۔] کبیرہ کا دوسرا درجہ دوسری قسم کا کبیرہ وہ گناہ ہے جس سے اللہ کے بندوں کی جان یا مال یا آبرو کا نقصان ہو۔ سفیان ؓ ثوری نے فرمایا کبائر وہ ہیں جن کی وجہ سے تمہارے اور اللہ کے بندوں کے درمیان حق تلفیاں ہوں یہ اللہ کے حقوق تلف کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے کیونکہ اللہ تو بڑا ہے اس (کی رحمت) سے ہر چیز چھوٹی ہے سب گناہ معاف کر دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا تھا ‘ اے اللہ ! تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ سمائی والی ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلََّ شْیءً (میری رحمت میں ہر چیز کی سمائی ہے) حضرت عائشہ ؓ صدیقہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے پاس تین رجسٹر ہیں ایک رجسٹر (کے اندر درج شدہ لغزشوں) کی تو اللہ کو پرواہ نہیں اور دوسرے رجسٹر (کے اندر درج شدہ گناہوں) میں سے اللہ کچھ نہیں چھوڑے گا اور تیسرے دیوان (کے مندرجات) کو اللہ نہیں بخشے گا۔ ناقابل معافی رجسٹر تو شرک کا (رجسٹر ہے اور جس رجسٹر کی اللہ کو پرواہ نہیں وہ اللہ کی حق تلفیوں کا رجسٹر ہے جیسے روزہ نہ رکھنا ‘ نماز ترک کرنا۔ اللہ جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور درگزر فرمائے گا اور جس رجسٹر میں سے اللہ کچھ بھی ترک نہیں کرے گا وہ بندوں کی باہمی حق تلفیوں کا رجسٹر ہے لامحالہ بدلہ دینا ہوگا (اگر بندہ خود اپنا حق معاف کر دے تو خیر) رواہ احمد والحاکم۔ طبرانی نے ایسی ہی حدیث حضرت سلمان ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اور بزار نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قیامت کے دن ایک منادی عرش کے اندر سے ندا دے گا اے امت محمد ﷺ بلاشبہ اللہ نے سب مؤمن مردوں اور عورتوں کے سب گناہ معاف کردیئے ہیں تم آپس میں اپنے حقوق بخش دو اور جنت میں میری رحمت سے داخل ہوجاؤ۔ رواہ البغوی۔ حضرت ابوبکرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں قربانی کے دوران خطبہ میں فرمایا تمہارے خون تمہارے مال ‘ تمہاری آبرؤیں باہم حرمت والی ہیں جیسے آج کا دن ‘ تمہارے اس شہر میں اس ماہ میں حرمت والا ہے (یعنی کسی کی جانی ‘ مالی اور عزت کی حق تلفی جائز نہیں جس طرح حرم کے اندر کسی قسم کا گناہ درست نہیں) رواہ البخاری والمسلم۔ ترمذی نے بھی یہ حدیث عمرو بن عاص کی روایت سے نقل کی ہے اور اس کو صحیح کہا ہے۔ اسامہ ؓ بن شریک کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہم رکاب حج کرنے نکلا لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کر رہے تھے کوئی کہتا تھا یا رسول اللہ میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی کوئی کہتا تھا میں نے بعض چیزوں کو مقدم کرلیا کوئی کہتا تھا میں نے بعض چیزوں کو پیچھے کیا حضور ﷺ : فرماتے جا رہے تھے کوئی ہرج نہیں کوئی گناہ سوائے اس شخص کے جس نے ناحق کسی مسلمان کا مال کاٹا ہو۔ یہی شخص گناہ میں پڑا اور تباہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًا وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَااکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُبِّیْنًاجو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ : کو اذیت دیتے (یعنی ناراض کرتے) ہیں دنیا اور آخرت میں ان پر اللہ کی پھٹکار ہوگی اور اللہ نے ان کے لئے ذلت آفریں عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ مسلمان مردوں اور عورتوں کو بلا جرم کئے دکھ دیتے ہیں وہ لوگ اپنے اوپر بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اس آیت میں دونوں قسم کے کبائر کا بیان ہے (اوّل آیت میں) کفر کا اور (دوسری آیت میں) بندوں پر ظلم کا۔ آیت زیر تفسیر کو آیت یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاکُلُوْا اَمْوَالُکُمْ بَیْنَکُمُ بالْبَاطِلِ ۔ وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْکے بعد ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ بندوں پر ظلم خواہ جانی ہو یا مالی بہرطور بزرگ ترین گناہوں میں سے ہے۔ جن صحیح احادیث میں کبیرہ گناہوں کی گنتی آئی ہے ان میں بیشتر مظالم اور شرک کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت انس ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کبیرہ گناہ ہے اللہ کا ساجھی بنانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور کسی کو (ناحق) قتل کرنا اور دانستہ جھوٹی قسم کھانا۔ جھوٹی قسم کا لفظ حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو کی روایت سے بخاری نے ذکر کیا ہے اور حضرت انس ؓ کی روایت میں جھوٹی قسم کی جگہ جھوٹی شہادت کا لفظ آیا ہے اس روایت کو شیخین نے بیان کیا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ کبائر سات ہیں (تین مذکورۂ بالا اور ان میں) چار زیادہ بیان کئے ہیں کسی پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ سود کھانا اور جہاد سے بروز مقابلہ فرار۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سات ہلاکت آفریں باتوں سے بچو ‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا وہ کون سی ہیں فرمایا اللہ کا ساجھی بنانا ‘ جادو ‘ ناحق ایسے شخص کو قتل کرنا جس کو قتل کرنے سے اللہ نے منع کردیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ جہاد کے دن بوقت مقابلہ پیٹھ دکھانا اور پاکدامن بھولی بھالی مؤمن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ رواہ البخاری والمسلم۔ ابن راہویہ کی روایت میں والدین کی نافرمانی اور کعبہ میں الحاد کا مزید ذکر ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا کون سا گناہ ہے فرمایا کسی کو اللہ کا مثل قرار دینا حالانکہ اللہ نے ہی تجھے پیدا کیا ہے اس شخص نے عرض کیا اس کے بعد کون سا فرمایا اپنے بچہ کو اس اندیشہ سے قتل کردینا کہ وہ تیری روزی میں شریک ہوجائے گا اس شخص نے عرض کیا پھر کون سا فرمایا ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا۔ حضور ﷺ کے اس بیان کی تصدیق میں اللہ نے نازل فرمایا : وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اٰلَہًا اٰخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ الاَّ بالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَرواہ البخاری والمسلم۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں زنا کو ہمسایہ کی بیوی سے اس لئے مشروط کیا کہ اس میں ہمسایہ کی حق تلفی ہے۔ دوسری حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے کے مقابلہ میں دس عورتوں سے زنا کرنا آسان (یعنی کم درجہ) ہے۔ رواہ احمد عن المقداد بن الاسود۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ طبرانی نے بھی اس کو کبیر اور اوسط میں بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بزرگ ترین کبیرہ گناہوں میں سے اپنے ماں باپ کو گالی دینا ہے کسی نے کہا اپنے والدین کو کس طرح گالی دی جاسکتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے پھر وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے آدمی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ رواہ البغوی وغیرہ۔ حضرت ابوبکرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو تین اکبر الکبائر نہ بتاؤں صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور بتائیے۔ فرمایا اللہ کا ساجھی بنانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ حضور ﷺ یہ فرمانے کے وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ گئے اور فرمایا سن لو اور جھوٹ بولنا سن لو اور جھوٹ کہنا سن لو اور جھوٹی بات کہنا۔ حضور ﷺ : مسلسل یہ الفاظ اتنی بار مکرر سہ مکرر فرما رہے کہ ہمارا خیال ہوا کہ اب حضور ﷺ خاموش ہوجائیں (کیونکہ ہم پورے طور پر سمجھ چکے تھے) رواہ البخاری۔ فائدہ : حضور اقدس ﷺ نے قوت کے ساتھ جھوٹ بولنے پر جو تہدید کی اس کی وجہ یہ تھی کہ جھوٹ بہت سے کبائر کو شامل ہے شرک باللہ جھوٹی شہادت ‘ جھوٹی قسم ‘ تہمت زنا ‘ جھوٹا دعویٰ ‘ رسول اللہ ﷺ پر دروغ بندی (یہ سب جھوٹ کے اقسام ہیں) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص قصداً مجھ پر دروغ بندی کرے اس کو اپنا ٹھکانہ دوزخ میں کرلینا چاہئے۔ رواہ البخاری والمسلم۔ غیبت ‘ زنا سے بھی زیادہ سخت ہے۔ رواہ البیہقی عن ابی سعید و جابر مرفوعاً ۔ چغلی (بھی جھوٹ کی قسم ہے) حضرت عبدالرحمن بن غنم اور حضرت اسماء کی مرفوع روایت ہے کہ بدترین بندگان خدا وہ لوگ ہیں جو چغلیاں کھاتے پھرتے ہیں۔ رواہ احمد۔ فاسق کی مدح بھی (جھوٹ کی ایک قسم ہے) حضرت انس ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ غضب ناک ہوجاتا ہے اور عرش میں لرزہ آجاتا ہے۔ رواہ البیہقی۔ جو مستحق لعنت نہ ہو اس پر لعنت کرنا (بھی ایک طرح کا جھوٹ ہے) کیونکہ غیر مستحق پر لعنت کرنے سے لعنت لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔ رواہ الترمذی عن ابن عباس و ابوداؤد عن ابن عباس وابی الدرداء مرفوعاً ۔ کسی پر طعن کرنا اور فحش بکنا بھی (جھوٹ ہی کی قسم ہے) حضرت ابن مسعود ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ مؤمن نہ طعنے باز ہوتا ہے نہ زیادہ لعن کرنے والا نہ فحش بکنے والا نہ بےحیا۔ رواہ الترمذی۔ ان کے علاوہ اور معاصی بھی (کبیرہ) ہیں اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا جو شخص مجھے اس (زبان) کی جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے اور اس (شرمگاہ) کی جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ضمانت دے دے گا (یعنی زبان اور شرمگاہ کو ناجائز استعمال سے روکنے کا ذمہ دار بن جائے گا) میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوجاؤں گا۔ رواہ البخاری عن سہل بن سعد۔ امام مالک (رح) اور بیہقی (رح) نے صفوان ؓ بن سلیم کی مرسل روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کیا مؤمن بزدل ہوتا ہے۔ فرمایا ہاں ! عرض کیا گیا کیا مؤمن بخیل ہوتا ہے فرمایا ہاں ! عرض کیا گیا کیا پکا جھوٹا ہوتا ہے فرمایا نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز پڑھتا روزہ رکھتا اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو بات کہے تو جھوٹی کہے ‘ وعدے کرے تو اس کے خلاف کرے۔ اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ رواہ مسلم والبخاری۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی مرفوعً روایت مذکور ہے کہ چار باتیں ہیں جس میں یہ ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور جس میں کوئی ایک بات ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی تاوقتیلہ اس کو چھوڑ نہ دے (اس کو کامل یا ناقص منافق قرار دیا جائے گا) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ‘ بات کرے تو جھوٹ کرے۔ معاہدہ کرے تو توڑ دے جھگڑے کے وقت فحش بکنے لگے۔ کبیرہ کا تیسرا درجہ وہ ہے جس کا تعلق (خالص) اللہ کے حق سے ہے جیسے زنا اور شراب خواری۔ ابن ابی حاتم نے لکھا کہ حضرت ابن عمر ؓ سے شراب کے متعلق پوچھا گیا فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا یہ بزرگ ترین گناہ کبیرہ اور فواحش کا سرچشمہ ہے جو شراب پی لیتا ہے وہ نماز بھی چھوڑ دیتا ہے اور (کبھی) اپنی ماں ‘ پھوپھی اور خالہ پر بھی جا پڑتا ہے۔ عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب زانی زنا کرتا ہے تو مؤمن ہونے کی حالت میں نہیں کرتا اور چور مؤمن ہونے کی حالت میں چوری کرتا ہے اور نہ مؤمن ہونے کی حالت میں شرابی شراب پیتا ہے اور نہ لٹیرا بحالت ایمان لوگوں کا مال لوٹتا ہے کہ لوگ اس کو لوٹتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں (اور انتہائی یاس کی حالت میں اپنے مال کو بچا نہ سکیں) اور تم میں سے کوئی بحالت ایمان مال غنیمت میں خیانت نہیں کرتا۔ پس ان باتوں سے بچو۔ پرہیز رکھو۔ متفق علیہ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ بحالت ایمان قاتل قتل نہیں کرتا۔ رواہ البخاری۔ میں کہتا ہوں کہ لواطت کا حکم زنا کی طرح ہے اللہ نے (اس کی مذمت میں) فرمایا ہے اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَاسَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِیْنَکیا تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے جہاں بھر میں کسی نے نہیں کیا۔ چوری سے زیادہ سخت رہزنی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے اِنَّمَا جَزَآءُ الَّذِیْنَ یُخَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ الخ یہ آیت راہ زنی ہی کے متعلق ہے۔ کہ ناپنا تولنا بھی چوری کے حکم میں ہے اللہ نے فرمایا ہے وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَکم تولنے کم ناپنے والوں کے لئے وَیْلہے۔ خیانت بھی بڑی خباثت ہے اور نفاق کی نشانی ہے۔ (2) [(حاشیہ از مولف) نمبر 1 خیانت ‘ چوری اور کم تولنا ‘ کم ناپنا کبیرہ کے نمبر دوئم کے ذیل میں داخل ہے، 12۔ نمبر 2 ترمذی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ بلا عذر دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا کبائر میں سے ہے۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت عمر اور حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو قتادہ کی روایت سے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ از مؤلف ] کسی گناہ کو حقیر سمجھنا اور پرواہ نہ کرنا بھی بڑا گناہ ہے کیونکہ صغیرہ گناہ کو بھی حقیر سمجھنا مغفرت سے دور کردیتا ہے اور (حکم خداوندی سے) سرکشی پر دلالت کرتا ہے اور کبھی کبھی کفر تک پہنچا دیتا ہے لیکن اگر اپنے گناہ کو بڑا سمجھتا اور (عذاب) سے ڈرتا رہے تو اس کو مغفرت کا استحقاق ہوجاتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن اپنے گناہ کو ایسے جانتا ہے جیسے اس کے سر پر پہاڑ رکھا ہو اور منافق اپنے گناہ کو ناک پر بیٹھی ہوئی مکھی کی طرح سمجھتا ہے کہ ذرا سا اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا تھا تم لوگ کچھ اعمال ایسے کرتے ہو جو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک (حقیر) ہوتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم ان کو تباہ کن جرائم میں سے شمار کرتے تھے۔ رواہ البخاری عن ابی سعید بسند صحیح و احمد مثلہ۔ اس تنقیح سے ثابت ہوتا ہے کہ جس نے کبیرہ گناہوں کا حصر سات میں کیا (صرف سات گناہوں کو کبیرہ کہا) اس نے غلطی کی۔ اگر صغیرہ گناہ پر جما رہے یا اس کو حقیر سمجھے تو وہ بھی کبیرہ بن جاتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے فرمایا کسی نے حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا ‘ کیا کبیرہ گناہ سات ہیں فرمایا سات سو کے قریب ہیں۔ مگر استغفار کے ساتھ کوئی کبیرہ (کبیرہ) نہیں رہتا اور جم جانے کے ساتھ کوئی صغیرہ (صغیرہ) نہیں ہوتا (بلکہ کبیرہ ہوتا ہے 2 ؂) یہ بھی فرمایا کہ جس عمل سے اللہ کی نافرمانی کی جائے وہ کبیرہ ہے لہٰذا جو شخص اگر اس طرح کا کوئی عمل کر گزرے تو اس کو اللہ سے استغفار کرنا چاہئے کیونکہ اللہ دوزخ کے اندر اس امت میں سے کسی کو ہمیشہ نہیں رکھے گا سوائے اس کے جو اسلام سے پھر گیا ہو یا کسی فرض (کی فرضیت) کا اس نے انکار کردیا ہو یا تقدیر کو نہ مانا ہو۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے جو یہ فرمایا کہ استغفار کے ساتھ کوئی کبیرہ نہیں رہتا۔ اس سے آپ کی مراد وہ کبیرہ ہے جس کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہو وہ کبائر جن کا تعلق انسانوں کے حق سے ہو (تو ان کی معافی کے لئے صرف استغفار کافی نہیں بلکہ) ان میں حقوق کی واپسی اور مظلوم کو راضی کرنا بھی ضروری ہے۔ فائدہ : بعض (عارفوں) کا قول ہے کہ کبھی بندہ اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر کسی گناہ سے اس کو ضرر نہیں پہنچتا۔ اس قول سے یہ مراد نہیں ہے کہ بعض لوگ شرعاً مکلف نہیں رہتے اور ان کے لئے حرام حلال ہوجاتا ہے یہ عقیدہ تو کفر و الحاد ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ قلب کی صفائی اور نفس کے تزکیہ کے بعد بعض آدمی ہر وقت مرتبۂ حضور پر فائز رہتے ہیں ان سے کوئی گناہ سرزد ہی نہیں ہوتا اور اگر کبھی ہوجاتا ہے خواہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا تو وہ ان کی نظر میں بہت بڑا ہوتا ہے اور وہ اتنے نادم اور غمگین ہوتے ہیں گویا ان کی جان مال گھر بار اولاد سب تباہ ہوگئی یہی ندامت ‘ توبہ اور اندوہ اندرونی مزیدہ نزول رحمت اور ترقی مرتبہ کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔ ان ہی لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے۔ عارف رومی نے جو حضرت معاویہ ؓ اور شیطان کا باہمی قصہ فجر کی نماز کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے اس کی صحت کی سند تو مجھے معلوم نہیں لیکن تمثیل کے لئے صرف مان لینا ہی کافی ہے (ایک روز شیطان نے معاویہ ؓ کو فجر کی نماز کے لئے بیدار کردیا آپ نے شیطان سے پوچھا تیرا کام تو ادائے فرائض سے غافل بنانا ہے تو نے اپنے کام سے ہٹ کر یہ کیا حرکت کی کہ نماز کے لئے مجھے جگا دیا شیطان نے جواب دیا مجھے اندیشہ تھا کہ اگر آپ کی نماز قضا ہوجائے گی تو آپ کو اتنا رنج اور غم ہوگا اور اتنی ندامت ہوگی کہ اداء فراض سے آگے آپ کے مرتبہ کو بڑھا دے گی) ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم نے گناہ نہ کئے تو اللہ ایسے لوگوں کو پیدا کر دے گا جو گناہ کریں گے اور پھر معافی کے طلب گار ہوں گے اور اللہ ان کو بخش دے گا۔ گویا اس حدیث میں بھی اسی حالت کی جانب اشارہ ہے۔ فائدہ : تمام گناہوں کی بنیاد دل کی سختی ہے دل کی سختی ہی سے اللہ کی جانب سے غفلت اور نفسانی رذائل کی پیدائش ہوتی ہے اور اس سے درندگی اور ہوس پرستی کی تخلیق ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمیوں کے بدن کے اندر ایک بوٹی ایسی ہے کہ جب وہ ٹھیک ہوتی ہے تو سارا بدن ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتی ہے تو سارے جسم کا انتظام بگڑ جاتا ہے وہ بوٹی دل ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَقَال الشَّیْطَانُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَمَاکَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطَانٍ الاَّ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلاَ تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْا اَنْفُسَکُمْ (جب آخری فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے بلاشبہ تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا مگر تم پر میری کوئی زبردستی نہ تھی میں نے تو تم کو صرف دعوت دی تھی تم نے میری دعوت قبول کرلی اب تم مجھے برا نہ کہو خود اپنے آپ کو ملامت کرو) گناہوں سے بچاؤ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دلوں اور نفسوں میں پاکیزگی اور ہمہ وقت حضور نہ پیدا ہوجائے مگر ایسا اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک مشائخ طریقت کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشش نہ ہو لہٰذا تم کو مشائخ کا دامن پکڑ لینا چاہئے ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدنصیب نہیں ہوسکتا اور نہ ان کا ندیم نامراد رہ سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ نکفر عنکم سیاتکم . ہم تم سے تمہارے گناہ دور کردیں گے یعنی چھوٹے گناہ جیسے نامحرم کی طرف نظر کرنا ‘ اس کو چھونا اس کا بوسہ لینا وغیرہ وغیرہ معاف کردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دونوں آنکھیں زنا کرتی ہیں اور دونوں ہاتھ زنا کرتے ہیں اور دونوں پاؤں زنا کرتے ہیں (مگر آخر میں) شرمگاہ ان کی تصدیق کردیتی ہے ‘ یا تکذیب کردیتی ہے ‘ انشاء اللہ ان سب کا اتار نماز روزہ سے ہوجائے گا۔ بلاشبہ نیکیاں برائیوں (کے عذاب) کو دور کردیتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچوں نمازیں (اپنے درمیانی اوقات کے لئے) اور جمعہ کی نماز (پچھلے) جمعہ کی نماز تک کے تمام گناہوں کا اتار کردیتی ہے بشرطیکہ آدمی کبائر سے بچا رہے۔ رواہ مسلم۔ وندخلکم مدخلا کریما . یعنی ہم تم کو عمدہ جنت میں داخل کریں گے یا یہ ترجمہ ہے کہ ہم تم کو جنت میں خوبی کے ساتھ داخل کریں گے (اوّل صورت میں مُدْخَلاً ظرف مکان ہوگا اور دوسری صورت میں مفعول مطلق) مجاہد نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مرد تو جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتیں اور مردوں کا میراث میں ہم سے دو گناہ حصہ ہے۔ اگر ہم بھی مرد ہوتیں تو ان کی طرح ہم بھی جہاد کرتیں اور ان کی برابر ہمارا بھی میراث میں حصہ ہوتا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ رواہ الترمذی والحاکم وصححہ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب میراث کے متعلق آیت : للذکر مثل حظ الانثیین نازل ہوئی تو عورتوں نے کہا مرد قوی ہیں ہم کمزور ہیں ہم زیادہ ضرورت مند ہیں ان کو کمائی کی قوت ہم سے زیادہ ہے اس لئے میراث کا حق ہم کو زیادہ ہونا چاہئے اس وقت آیت ذیل ولا تتمنوانازل ہوئی۔ قتادہ اور سدی نے بیان کیا ہے کہ جب آیت : للذکر مثل حظ الانثیین نازل ہوئی تو مردوں نے کہا ہم کو امید ہے کہ آخرت میں بھی ہماری نیکیوں کا ثواب عورتوں کی نیکیوں سے دو گناہ ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ نے میراث کے اندر ہمارا حصہ عورتوں سے زیادہ رکھا ہے (اسی طرح آخرت میں بھی ہمارا حصہ زائد ہوگا) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض جو بیشی تم میں سے بعض کو بعض پر اللہ نے عطا فرمائی ہے ‘ تم اس کی آرزو مت کرو (یعنی خداداد فضیلت والوں کے برابر پہنچنے کی تمنا نہ کرو) کیونکہ یہ برتری اور بیشی تو خداداد ہے تدبیر اور حکمت الٰہیہ کے تحت ایسا ہوا ہے۔ آرزو کرنے سے سوائے جلنے کے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بلکہ ہر شخص پر لازم ہے کہ نیکیاں کرنے کی امکانی کوشش کرے اس سے ہی اللہ کا قرب اور آخرت میں ثواب کی بیشی حاصل ہوگی۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا واللنسآء نصیب مما اکتسبن . مردوں کے لئے ان کے اعمال کا حصہ مقرر ہے اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال کا یعنی مرد جو جہاد کرتے ہیں مخصوص عبادات بجا لاتے نیز عام عبادات ادا کرتے ہیں اور مال غنیمت و میراث و منافع تجارت ان کو حاصل ہوتے ہیں یہ سب اللہ کے پاس سے مقرر کردہ ہیں اسی طرح عورتوں کو مال اور ثواب کا جو حصہ ملتا ہے وہ ان کے خصوصی و عمومی اعمال کے عوض مقرر کردہ ہے شوہروں کی اطاعت ‘ اولاد کی پرورش ‘ حفاظت آبرو وغیرہ نیز عام عبادات کے عوض ان کے لئے مہر ‘ نان نفقہ ‘ میراث اور ثواب آخرت اللہ کی طرف سے مقرر کردیا گیا ہے۔ وسئلوا اللہ من فضلہ . اور اللہ سے اس کے فضل کی درخواست کرو یعنی اللہ کے بےانتہا خزانوں میں سے دنیا اور آخرت میں بیش از بیش ثواب و اجر ملنے کی درخواست کرو اللہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ بےحساب جس کو چاہے گا دے گا دنیا میں بھی وہی کمائی میں برکت عطا فرماتا ہے اور ایک کو دوسرے سے رزق کی بیشی دیتا ہے اس لئے خواہ نخواہ تمنا اور حسد جائز نہیں۔ (1) [ ترمذی نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے اس کے فضل کی درخواست کرو کیونکہ اللہ کو یہ امر پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے۔ ابن جریر نے ایک صحابی کی روایت سے جن کا نام نہیں بتایا بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے اس کے فضل کی درخواست کرو اللہ اس امر کو پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے اور کشائش کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ امام احمد نے حضرت انس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بھی مسلمان بندہ اللہ سے تین مرتبہ جنت کی دعا کرتا ہے جنت کہتی ہے کہ اے اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے اور جب بھی مسلمان بندہ اللہ سے تین بار دوزخ سے محفوظ رہنے کی درخواست کرتا ہے دوزخ کہتی ہے اے اللہ اس کو دوزخ سے بچا لے۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ فسئلوا اللہ من فضلہ کی تفسیر میں آپ نے فرمایا دعا دنیوی امور میں سے نہیں ہے (یعنی دعا بجائے خود عبادت ہے) از مؤلف رحمۃ اللہ۔] ان اللہ کان بکل شی علیما . بلاشبہ اللہ سب کچھ جانتا ہے پس وہ ان فضائل سے بھی واقف ہے جس کا ہر انسان کو استحقاق ہے اور استحقاق کی بنا اس فطری استعداد پر ہے جو اللہ نے ہر شخص کو اپنی مہربانی سے عطا فرمائی ہے لیکن استعداد کا فرق نتیجہ ہے اس امر کا کہ تمام اشیاء چربہ اور عکس ہیں اعیان ثابتہ (حقائق امکانیہ یا اللہ کے علم اجمالی) کا (اعیان ثابتہ کی تنقیح ہم نے سورة عم کے تفسیری نوٹس میں کردی ہے)
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

ولکل جعلنا موالی . اور ہر مال یا ہر میت کے ہم نے وارث مقرر کردیئے ہیں جو مال لیتے اور میت کے وارث ہوتے ہیں۔ مما ترک . اس مال میں سے جو چھوڑا ہو یا وارث ہوں گے اس مال کے جو چھوڑا ہوا۔ اوّل ترجمہ پر یہ فقرہ مال کی صفت ہوگی اور دوسرے ترجمہ پر یرثونمحذوف سے اس کا تعلق ہوگا۔ الوالدان والاقربون . ماں باپ اوراقارب نے (برتقدیر ترجمہ اوّل) یا وہ وارث ماں باپ اوراقارب ہیں (برتقدیر ترجمہ دوئم) مفسر قدس سرہ نے اس آیت کی ترکیب نحوی ایک اور طرح سے بھی کی ہے جو تطویل غیر مفید کی حد سے خارج نہیں اس لئے ہم ترک کرتے ہیں۔ (1) [ ابو داؤد نے ناسخ میں داؤد بن حصین کا قول لکھا ہے کہ ام سعد بنت ربیع کو قرآن سناتا تھا آپ (ایام طفولیت میں) یتیم ہونے کی وجہ سے حضرت ابوبکر ؓ کے زیر تربیت رہی تھیں۔ میں نے آپ کے سامنے یہ آیت والَّذِیْنَ عَاقَدَتْ اَیْمَانُکُمْاسی طرح تلاوت کی ام سعد ؓ نے کہا یوں نہیں ہے بلکہ والَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانَکُمْہے اس کا نزول حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور آپ کے بیٹے عبدالرحمن کے حق میں ہوا تھا جب عبدالرحمن نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھا کر اپنی میراث سے ان کو عاق کردیا لیکن جب عبدالرحمن مسلمان ہوگئے تو اللہ نے ابوبکر کو حکم دیا کہ ان کو اپنا وارث قرار دیں۔ میں کہتا ہوں اس روایت کی صحت کی صورت میں اس آیت سے مولیٰ موالات کا وارث ہونا ثابت نہ ہو سکے گا۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بعض آدمی کسی دوسری برادری سے جا کر مل جاتے تھے اس برادری والے اس شخص سے معاہدہ کرلیتے تھے کہ تو ہم میں سے ہے ضرر ہو یا فائدہ یا خون (دیت وغیرہ) بہرطور تو ہماری برادری کا ایک فرد ہوگیا اس شخص سے یہ لوگ اسی طرح کا قول کرا لیتے تھے لیکن ضرورت کے وقت اگر وہ شخص امداد کا طالب ہوتا تھا تو وہ لوگ اپنوں کی طرح اس کی مدد نہیں کرتے تھے اور اگر اس پر کوئی وقت پڑتا تھا۔ تو قوم میں سے کوئی تو اس کو دیتا تھا اور کوئی نہیں دیتا تھا غرض اس کی ویسی امداد نہیں کرتے تھے جیسی اس سے لیتے تھے ‘ دور اسلام میں ان کو اس میں کچھ خرابی محسوس ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا اور یہ بھی عرض کیا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جو ہم نے معاہدے کر لئے ہیں ان کا کیا حکم ہے اس پر آیت والَّذِیْنَ عَاقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاتُوْہُمْ نَصِیْبَہُمْنازل ہوئی یعنی مخالفین سے لین دین برابر کا رکھو (جتنا حق ان پر اپنا سمجھتے ہو اتنا ہی حق ان کا اپنے اوپر سمجھو) عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے دوسری سند سے ابو مالک کا قول نقل کیا ہے کہ وہ قوم کا حلیف ہوتا ہے جو قوم کے تمام معاملات اور مشوروں میں اپنی موجودگی کی درخواست کرتا تھا۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا جاہلیت کے حلف کو پورا کرو ‘ اسلام اس حلف کی مزید قوت پیدا کرتا ہے مگر حالت اسلام میں جدید معاہدہ تحالف نہ کرو۔ احمد اور مسلم نے حضرت جبیر بن مطعم ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام میں تحالف (کا جواز) نہیں لیکن جو تحالف جاہلیت کے زمانہ میں ہوگیا ہو اسلام اس میں مزید قوت پیدا کرتا ہے۔ عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ عہد جاہلیت میں جو تحالف ہوا ‘ اسلام نے اس میں مزید قوت اور شدت پیدا کردی عبدالرزاق اور عبد بن حمید نے زہری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام میں تحالف (جائز نہیں) ۔] والذین عقدت ایمانکم . اور جن لوگوں سے تمہارے عہد بندھے ہوں۔ اس فقرہ کا عطف الوالدان والاقربون ہے۔ فاتوہم نصیبہم . تو ان کو ان کا حصہ دے دو ۔ جملۂ سابقہ یعنی لکل جعلنا موالی مما ترک کی یہ تشریح ہے بعض لوگوں نے الذینکو مبتدا اور فاتوہمخبر قرار دیا ہے مگر اس صورت میں خبر کا جملہ طلبیہ ہونا لازم آئے گا (کیونکہ خبر امر کا صیغہ ہے اور یہ ناجائز ہے) بعض نے الذینکو فعل محذوف کا مفعول اور فاتوہمکو فعل محذوف کی تفسیر قرار دیا ہے لیکن اس صورت میں مفعول کے اختصاص کی ضرورت ہے اور اختصاص کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے اس لئے ہمارے نزدیک فاتوہمکو سابقہ جملہ کی تشریح قرار دینا ہی مناسب ہے اور الذینکا الولدان والاقربون پر عطف ہونا ہی صحیح ہے۔ یہ تفسیر امام اعظم (رح) کے مسلک کے بھی مناسب ہے کیونکہ امام اعظم (رح) کے نزدیک نسبی ذوی الفروض اور عصبات اور ذوی الارحام اگر موجود نہ ہوں تو سب سے وانچے درجہ کے مولیٰ موالات کو کل ترکہ یا احدالزوجین کا حق دینے کے بعد جو ترکہ باقی رہ جائے وہ سارا کا سارا دے دیا جائے گا ‘ لیکن اگر ذوی الفروض یا ذوی الارحام یا عصبات میں سے کوئی ہوگا تو مولیٰ موالات باجماع علما محروم ہوگا۔ جمہور کا قول ہے کہ مولی موالات کو وارث قرار دینے کا دستور جاہلیت میں تھا اور ابتداء اسلام میں بھی میت کے ترکہ کا چھٹا حصہ حلیف کو دینے کا حکم تھا لیکن جب آیت واولوا الارحام بعضہم اولٰی ببعض فی کتاب اللّٰہنازل ہوگئی مولی موالات کو وارث بنانے کا حکم منسوخ ہوگیا اگر دوسرے وارث نہ ہوں گے تب بھی مولی موالات کو کچھ نہیں دیا جائے گا بلکہ کل مال بیت المال میں داخل کردیا جائے گا۔ جمہور کے قول پر اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اگر دو آیتوں میں تعارض اور تضاد ہو (کہ دونوں پر ایک زمانہ میں عمل نہ ہوسکتا ہو) تو اس وقت ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن زیر بحث دونوں آیتوں میں تو تضاد موجود ہی نہیں ہے (کیونکہ اگر دوسرے وارث موجود ہوں تو بالاجماع مولی موالات محروم ہوگا۔ آیت واولوا الارحامکا یہی مصداق ہے اور اگر کوئی وارث موجود نہ ہو یا وارث کو دینے سے مال بچ جائے تو مولی موالات کو ملے گا آیت والذین عقدت ایمانکمکا یہی تقاضا ہے اب تضاد کہاں رہا) میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ آیت واولوا الارحام بعضہمصراحت کے ساتھ مولیٰ موالات کے وارث نہ ہونے کو بتارہی ہے (یعنی اس آیت نے مولی موالات کا وارث ہونا قطعاً منسوخ کردیا خواہ کوئی دوسرا نسبی یا عصبی وارث موجود ہو یا نہ کوئی نہ ہو) کیونکہ آیت کا آخری حصّہ ہے الاَّ اَنْ تَفْعَلُوْا اِلٰی اَوْلِیَآءِ کُمْ مَّعْرُوْفًا (مگر یہ کہ تم اپنے حلیفوں کے ساتھ کچھ نیک سلوک کر دو ۔ تو تمہارے مرنے کے بعد ان کو حسب وصیت شرعیہ کچھ مل جائے گا) یہ جملہ صراحت کے ساتھ دلالت کر رہا ہے کہ حلیف کے لئے اگر کچھ وصیت کی ہوگی تو اس کو مل جائے گا اور بغیر وصیت کے اس کو کچھ نہیں مل سکتا۔ ہاں امام اعظم (رح) قائل ہیں کہ اولو الارحام میں سے اگر کوئی موجود ہو تو مولیٰ موالات کا وارث ہونا منسوخ کردیا گیا اور ہم بھی اسی کے قائل ہیں لیکن اگر اولو الارحام نہ ہوں تو مولیٰ موالات کا حکم وارثت باقی رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مال میّت کی زندگی میں میّت کا تھا اس کو ہر قسم کا تصرف کرنے کا حق تھا (وہ دوستوں کو بھی دے سکتا تھا اور دینے کا معاہدہ بھی کرسکتا تھا) بیت المال میں تو مال مجبوراً داخل کیا جاتا ہے جب کہ کوئی مستحق باقی ہی نہیں ہوتا ‘ بجائے خود بیت المال وارث نہیں کیونکہ بیت المال سے مال پانے والے لوگ غیر معین اور مجہول ہیں (یعنی ضرورت شرعیہ رکھنے والی جماعت مسلمین کو بیت المال سے دیا جاتا ہے) اور مجہول مستحق نہیں ہوسکتا (پس اگر نسبی عصبی وارث اور دوسرے اولو الارحام نہ ہوں اور مولیٰ موالات ہو تو بیت المال کے مقابلہ میں وہی قابل ترجیح ہے کیونکہ میّت نے اپنا مال دینے کا اس سے معاہدہ کر رکھا تھا اور اس کو اس معاہدہ کا بشرطیکہ دوسرے اہل استحقاق کا حق فوت نہ ہوتا ہو استحقاق تھا لہٰذا اس کا معاہدہ واجب العمل ہے بیت المال کا کوئی حق نہیں ہے) ان اللہ کان علی کل شئی شہیدا بیشک اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔ اولوالارحام کو ان کا حصہ نہ دینے والوں کو اس جملہ میں تہدید ہے۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے

الرجال قوامون علی النسآء . مرد عورتوں کے سرپرست ہیں۔ ابن ابی حاتم نے حسن کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں دعویٰ کیا کہ میرے شوہر نے میرے طمانچہ مارا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بدلہ (لیا جائے) اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی اور عورت بغیر بدلہ لئے واپس چلی گئی۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ نے (مصنف میں) اور ابو داؤد نے مراسیل میں نقل کی ہے اور ابن جریر نے بھی حسن ؓ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ لیکن ثعلبی ‘ واحدی اور بغوی کا بیان ہے کہ آیت کا نزول سعد بن ربیع اور ان کی بیوی کے حق میں ہوا تھا ‘ سعد کا شمار نقباء میں تھا اور ان کی بیوی حبیبہ بنت زید بن ابی زہیر تھی۔ یہ نام مقاتل نے بیان کیا ہے لیکن کلبی نے کہا سعد کی بیوی محمد ﷺ بن مسلمہ کی بیٹی تھی۔ واقعہ یہ ہوا کہ سعد کی بیوی نے سعد کے حکم کے خلاف کوئی بات کی سعد نے اس کو طمانچہ مار دیا ‘ اس کا باپ بیٹی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ ﷺ نے میری بیٹی سعد ؓ : کو دی اور اس نے اس کو طمانچے مارے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس کو اس سے بدلہ لینے کا حق ہے ‘ پھر فوراً ہی فرمایا ‘ واپس چلے جاؤ یہ جبرئیل ( علیہ السلام) آگئے اور اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہم نے کچھ چاہا تھا اور اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور منظور خدا ہی بہتر ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے بدلہ لینے کا حکم روک دیا۔ ابن مردویہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک انصاری اپنی بیوی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس نے مجھے ایسا مارا کہ میرے چہرے پر نشان پڑگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس کو یہ حق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت الرجال قوامون علی النسآئنازل فرمائی۔ یعنی جیسے حکام رعایا پر مسلط ہوتے ہیں اسی طرح مرد عورتوں کے حاکم ہیں (یہ ترجمہ مترجم کے کئے ہوئے ترجمہ کے خلاف ہے) عورتوں کو ادب سکھانے کا ان کو اختیار ہے قوام مبالغہ کا صیغہ ہے اور قیم کا ہم معنی ہے یعنی منتظم ادب آموز۔ مرد کے قوام ہونے کی اللہ تعالیٰ نے دو وجہیں بیان فرمائیں ایک تخلیقی وہبی دوسری کسبی اختیاری۔ بما فضل اللہ بعضہم علی بعض . اس لئے کہ اللہ نے بعض کو یعنی مردوں کو ‘ بعض پر یعنی عورتوں پر (تخلیقی) برتری عطا فرمائی ہے پہلے بعض سے مرد اور دوسرے بعض سے عورتیں مراد ہیں یہ مرد کے قوام ہونے کی پہلی وجہ کا بیان ہے کہ اللہ نے مرد کو کمال عقل ‘ حسن تدبیر ‘ وسعت علم ‘ عظمت جسم ‘ زیادتی قوت ‘ اور صلاحیت و استعداد کی بیشی تخلیقی طور پر عطا کی ہے اتنی کہ عورت کو یہ چیزیں نہیں دی گئیں اسی لئے مندرجہ ذیل خصوصیات و احکام مرد کے لئے ہیں عورتیں ان احکام و خصوصیات سے محروم ہیں ‘ نبوت ‘ امامت ‘ حکومت ‘ قضاء ‘ تعزیری جرائم کی شہادت ‘ وجوب جہاد ‘ وجوب جمعہ ‘ وجوب عیدین ‘ اذان ‘ خطبہ ‘ نماز کی جماعت ‘ میراث میں حصہ کی زیادتی ‘ نکاح کی مالکیت ‘ تعدد ازدواج ‘ اختیار طلاق ‘ پورے رمضان کے روزوں کی اور ہر زمانہ میں پوری نمازوں کی فرضیت وغیرہ۔ اسی برتری کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ رواہ احمد عن معاذ عن عائشہ والترمذی عن ابی ہریرۃ و ابوداؤد عن قیس بن سعد۔ وبما انفقوا من اموالہم . اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال عورتوں پر صرف کرتے ہیں ‘ نان نفقہ اور مہر وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ یہ مرد کی برتری کی اختیاری اور کسبی وجہ کا بیان ہے۔ اس سے آگے عورتوں کی دو قسمیں بیان فرمائیں۔ پہلی قسم مندرجہ ذیل ہے۔ فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ . پس نیک عورتیں (اللہ کی) اطاعت کرتی ہیں اور مردوں کی غیر موجودگی میں بحفاظت خداوندی (مال آبرو وغیرہ) کی نگہداشت کرتی ہیں۔ قٰنتٰتٌسے مراد یہ ہے کہ اللہ نے شوہروں کے حقوق کو ادا کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کو مانتی اور اس پر چلتی ہیں اور حفاظت رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی عزت آبرو اور شوہر کے مال و اسرار کی نگہداشت کرتی ہیں۔ غیب سے مراد یا شوہروں کے سامنے نہ ہونا یا شوہروں کے وہ اسرار و اموال ہیں جو دوسرے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوں۔ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُمیں مامصدری ہے اس وقت حفظ خداوندی کا یہ مطلب ہوگا کہ اللہ نے عورتوں کو حفاظت غیب کا حکم دیا اور توفیق عنایت کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورتوں کی طرف حفاظت کرنے کی نسبت اس لئے کی کہ عورتوں کے کسب و عمل پر یہ حفاظت مبنی ہے اور اللہ کی طرف حفاظت کی نسبت اس لئے کی کہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے عورتوں کو قوت یا حفاظت بھی اسی نے دی ہے۔ تخلیق خداوندی ہی کسب و عمل کا سبب ہے۔ یا ما موصولہ ہے یعنی اللہ نے عورتوں کے حقوق کی جو محافظت کی ہے مہر ‘ نفقہ ‘ عورتوں کی نگہداشت و حفاظت اور ان کی ضروریات کی فراہمی مردوں کے ذمہ کردی ہیں اس کے عوض وہ مردوں کی غیر موجودگی میں اپنی عصمت اور مردوں کے مال و اولاد کی حفاظت کرتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے اچھی بیوی وہ ہے کہ اگر تو اس کی طرف دیکھے تو خوش ہو اگر تو کسی کام کا اس کو حکم دے تو وہ تیرا حکم مانے اگر تو غیر حاضر ہو تو تیری غیر موجودگی میں وہ اپنے مال و آبرو کی حفاظت رکھے پھر حضور ﷺ نے آیت الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِآخر تک تلاوت فرمائی۔ رواہ البخاری۔ ابن جریر ؓ کی روایت میں اپنے مال و آبرو کی بجائے تیرے مال اور اپنی آبرو کا لفظ آیا ہے۔ نسائی نے (سنن میں) حاکم نے (مستدرک میں) اور بیہقی شعب الایمان میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے اچھی عورت کون سی ہے فرمایا جس کو دیکھنے سے (اس کا شوہر) خوش ہو۔ شوہر کے حکم کی اطاعت کرے اور اپنے مال و جان میں شوہر کی ایسی مخالفت نہ کرے جو شوہر کو ناگوار ہو۔ دوسری روایت میں ہے اپنی آبرو اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔ سیوطی (رح) نے لکھا ہے روایت کے اکثر سلسلوں میں یہی مؤخر الذکر الفاظ آئے ہیں۔ حضرت ابو امامہ کی روایت سے ابن ماجہ نے بھی یہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے۔ طیبی نے لکھا ہے کہ اپنے مال سے مراد بھی شوہر ہی کا مال ہے چونکہ عورت مرد کے مال میں تصرف کرتی ہے اس مناسبت سے مرد کے مال کو عورت کا مال کہا ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو عورت پانچوں نمازیں پڑھے مہینہ کے مقررہ روزے رکھے اپنی عصمت کی حفاظت رکھے اور شوہر کا حکم مانے تو جنت کے اندر جس دروازے سے چاہے چلی جائے۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ۔ حضرت ام سلمہ ؓ کی مرفوع حدیث ہے کہ اگر عورت ایسی حالت میں مری کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو جنت میں گئی۔ رواہ الترمذی۔ (1) [ ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حضرت عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایمان کے بعد آدمی کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ خوش خلق شوہر سے محبت کرنے والی اور بچے دینے والی عورت اس کو مل جائے اور کفر کے بعد آدمی کے لئے اس سے بری کوئی چیز نہیں کہ اس کو تیز زبان اور بدخلق عورت ملے۔ یہ بھی حضرت عمر نے ہی فرمایا کہ عورتیں تین طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جو پاکدامن نرم خو خوش اخلاق شوہر کی پرستار اور بکثرت بچے دینے والی ہوتی ہے مصیبت کے وقت شوہر کی مدد کرتی ہے مصیبت میں مزید اضافہ کا سبب نہیں بنتی ایسی عورتیں کم ہیں۔ دوسری وہ عورت ہے جو صرف بچے جنتی ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔ تیسری وہ عورت ہے جو کینہ توز توندیلی ہوتی ہے جس کے گلے میں اللہ چاہتا ہے باندھ دیتا ہے اور جب خدا ہی کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ اس کو گلے سے اتار دیتا ہے (ورنہ وہ کم بخت گلے کا ہار بنی رہتی ہے نہ چھوڑے بنتی ہے نہ رکھتے)] عورتوں کی دوسری قسم مندرجہ ذیل ہے والتی تخافون نشوزہن . اور جن عورتوں کی بددماغی کا تم کو اندیشہ ہو یعنی نافرمانی اور نک چڑھے پن کا خوف ہو نشوز کا اصل لغوی معنی ہے اوپر کو اٹھنا ‘ اونچی جگہ کو نشز اسی مناسبت سے کہتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ تخافونکا معنی اس جگہ تعلمون ہے قاموس میں خوف کا ایک معنی علم بھی آیا ہے۔ آیت وَاِنْ اِمْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِہَا نُشُوْزٌا میں خوف کرنے کا معنی جاننا ہی ہے۔ بعض علماء نے کہا آیت میں خوف کا معنی اندیشہ کرنا ہی ہے لیکن خوف نشوز سے مراد ہے دوام نشور کا خوف اور نافرمانی پر پیہم جمے رہنے کا اندیشہ لیکن جب تک نشوز ظاہر نہ ہوجائے سزا دینا جائز نہیں۔ میں کہتا ہوں اندیشۂ نشوز نصیحت کرنے کے لئے کافی ہے (اگرچہ سزا دینا بغیر عملی نافرمانی کے درست نہیں) فعظوہن . تو ان کو (زبانی) نصیحت کرو۔ یعنی اللہ کے عذاب سے اور ان کو بستروں پر تنہا چھوڑ دینے سے اور مارنے کی دھمکی سے ڈراؤ اور جب زبانی نصیحت مفید نہ ہو تو۔ واہجروہن فی المضاجع . ان کو ان کی خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو یعنی جب تم خواب گاہوں میں اور بستروں پر ہو تو عورتوں کو اپنے لحافوں اور چادروں کے اندر نہ آنے دو ۔ بعض علماء کے نزدیک بستر پر تنہا چھوڑ دینے سے بطور کنایہ ترک جماع مراد ہے یا منہ پھیر کر لیٹ رہنا مقصود ہے۔ یہی زیادہ ظاہر ہے کیونکہ فی المضاجع (خواب گاہوں میں) فرمایا عن المضاجع (خواب گاہوں سے) نہیں فرمایا۔ واضربوہن .(اور ترک تعلق سے بھی نتیجہ نہ نکلے) تو ان کو مارو ‘ اکثر مفسرین نے حکم ضرب کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسا مارو کہ مار کا نشان یعنی بدہی نہ پڑجائے مطلب یہ کہ خفیف مار دو سخت مار نہ دو اس قید کی وجہ یہ ہے کہ مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے حج وداع کے خطبہ کے ذیل میں لکھا ہے عورتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہے اور اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال بنایا ہے ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو کسی دوسرے سے پامال نہ کرائیں کہ تم کو ناگوار ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ بدہی نہ اچھلے اور ان کا بھی تم پر حق ہے نان نفقہ کا اور لباس کا دستور کے مطابق۔ میں کہتا ہوں یہ خبر آحاد ہے اور قرآن کی آیت مطلق ہے اور آیت مطلقہ کو خبر واحد سے مقید کرنا درست نہیں۔ پھر قرآنی آیت کی رفتار اور اطلاق بھی مقتضی ہے کہ سزا بقدر جرم ہو اگر صرف علامات نشوز موجود ہوں عورت بدخلقی اور بددماغی کا اظہار کرنے لگے تو اس کو صرف زبانی نصیحت کردی جائے لیکن اگر نافرمانی کرنے لگے تو ترک تعلق کرلے اس پر بھی اگر نہ مانے اور نافرمانی کرتی ہی رہے تو بقدر نافرمانی مارے یہاں تک کہ اگر اس سے زنا کا ظہور ہوجائے یا فرض نماز روزہ کی تارک ہو یا غسل جنابت اور غسل حیض نہ کرے تو مارے اور بند کر دے کہ وہ اپنی حرکت سے باز آجائے لیکن اگر نافرمانی اس سے کم درجہ کی ہو اور زبانی نصیحت سے کوئی نتیجہ نہ نکلا ہو اور ترک تعلق سے بھی عورت نے اپنی سرتابی نہ چھوڑی ہو تو ہلکی مار مارے کہ نشان نہ ابھرے۔ فان اطعنکم . پس اگر عورتیں شروع ہی سے تمہاری فرمانبردار ہوں یا نافرمانی کے بعد توبہ کرچکی ہوں۔ فلا تبغوا علیہم سبیلا . تو خواہ مخواہ ان کو دکھ دینے کا کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو یعنی توبہ کے بعد ان کی پچھلی نافرمانی کو کالعدم قرار دے دو گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔ ان اللہ کان علیا کبیرا . بیشک اللہ بڑی عظمت اور کبریائی والا ہے لہٰذا تم اپنے زیردستوں پر ظلم نہ کرو کیونکہ اللہ تم پر اتنا قابو رکھتا ہے کہ تم اپنے زیردستوں پر اتنا قابو نہیں رکھتے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ باوجود بزرگ ترین عظمت وکبریائی رکھنے کے تمہارے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اس لئے تم بھی اپنے ان حقوق کو معاف کر دو جو عورتوں پر لازم ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زمعہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے سے نہ مارے (یعنی یہ حرکت بڑی نازیبا ہے کہ صبح کو تو بیوی کو غلام کی طرح کوڑے سے مارا) پھر پچھلے دن میں اس سے صحبت کرنے (پر تیار ہونے) لگے متفق علیہ۔ حضرت معاویہ ؓ : قشیری کا بیان ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم پر بیوی کے کیا حقوق ہیں فرمایا جب اس کو کھانے کی ضرورت ہو تو کھانے کو دینا پہننے کی ضرورت ہو تو پہننے کو دینا۔ چہرہ پر نہ مارنا۔ اس کو گالیاں نہ دینا اور سوائے گھر (یعنی کسی محفوظ جگہ) کے کہیں اس کو تنہا نہ چھوڑ بیٹھنا۔ رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ حضرت ایاس ؓ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو نہ مارو یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا (حضور) عورتیں شوہروں کی نافرمان ہوگئیں۔ اس پر حضور اقدس ﷺ نے مارنے کی اجازت دے دی۔ ادھر بکثرت عورتوں نے امہات المؤمنین کے گھروں کے چکر لگانے شروع کئے اور اپنے شوہروں کے شکوے کئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس بہت عورتوں نے چکر لگائے جو اپنے شوہروں کی شکایتیں کر رہی ہیں ایسے لوگ تم میں اچھے آدمی نہیں ہیں (جو عورتوں کو دکھ پہنچاتے اور شکایت کا موقع دیتے ہیں) رواہ ابوداؤد وابن ماجہ والدارمی۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے اچھا ہوں۔ رواہ الترمذی والدارمی۔ ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔
Ayah 4:35

وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا Open ayah 4:35 in the Quran reader

اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے

وان خفتم شقاق بینہما . اور اگر تم (اوپر والوں) کو میاں بیوی کے درمیان کشاکش کا اندیشہ ہو۔ (1) [ حضرت مولانااشرف علی تھانوی (رح) نے خفتمکا مخاطب اوپر والوں کو قرار دیا ہے اس لئے ہم نے مخاطب کو قوسین کے درمیان لکھ دیا لیکن مفسر (رح) نے حکام کو مخاطب قرار دیا ہے بعض احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ اسی آیت کی تشریح میں حضرت مفسر نے نقل کیا ہے ] خِفْتُم میں خطاب حکام کو ہے شقاق سے مراد ہے اختلاف اور دشمنی چونکہ ہر دشمن ایسا کام کرتا ہے جو اس کے مخالف کو شاق ہو اس لئے عداوت کو شقاق کہتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ ہر فریق ‘ دوسرے فریق کے مخالف شق کی طرف مائل ہوتا ہے اس لئے اختلاف کو شقاق کہتے ہیں۔ بینہما کی ضمیر میاں بیوی کی طرف راجع ہی مرجع ضمیر لفظ نشوز کے ذیل میں معنوی طور پر مذکور ہے کیونکہ نشوز کا معنی ہی ہے عورت کی طرف سے شوہر کی نافرمانی یا یوں کہا جائے کہ عورت نیز شوہر کی ضمیر کا ذکر آیت والتی تخافون نشوزہن میں موجود ہے۔ بینہما کی طرف شقاق کی اضافت مجازی ہے جیسے مَکْرُ اللَّیْلمیں (یعنی فی محذوف ہے) خوف کا معنی ہے غالب خیال یعنی میاں بیوی کے حالات اگر ایسے ہوجائیں کہ تم کو ان کے باہمی جھگڑے اور نفرت کا غالب گمان علامات دیکھ کر ہوجائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ فابعثوا حکما من اہلہ وحکما من اہلہا . تو بھیجو ایک سمجھدار پنچ کو مرد کے قرابت داروں میں سے اور ایک سمجھدار کو عورت کے قرابت داروں میں سے۔ حکماً سے مراد ہے سمجھدار۔ منصف شخص جس میں فیصلہ کرنے کی قابلیت ہو یعنی مرد کے قرابت داروں میں سے کسی منصف سمجھدار آدمی کو مرد کے پاس بھیجو اور عورت کے قرابت داروں میں سے کسی منصف سمجھدار شخص کو عورت کے پاس بھیجو کیونکہ اقارب ہی اندرونی حالات سے بخوبی واقف ہوتے اور معاملہ کو سلجھانے کے درپے ہوتے ہیں۔ قرابت دار ہونے کی شرط استحبابی ہے اگر غیر لوگوں کو بھی مقرر کردیا جائے تو کوئی ہرج نہیں ہے۔ تحقیق حال کے بعد اگر مرد کی زیادتی معلوم ہو تو اس کو حکم دیں کہ یا دستور کے مطابق اور حسن سلوک کے ساتھ بیوی کو رکھے یا خوش اسلوبی کے ساتھ آزاد کر دے اور اگر عورت کی نافرمانی اور سرکشی ثابت ہو تو اس کو حکم دیں کہ یا شوہر کی اطاعت کرے ورنہ خلع کر کے آزاد ہوجائے۔ بغوی نے اپنی سند سے بحوالۂ شافعی عبیدہ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں ایک مرد اور ایک عورت حاضر ہوئے دونوں کے سرپرست بھی ساتھ تھے۔ حضرت علی ؓ نے حکم دیا کہ ہر فریق کے قرابت داروں میں سے ایک ایک پنچ مقرر کرو حکم کی تعمیل کی گئی آپ نے دونوں پنچوں سے فرمایا کیا تم اپنے فرائض کو جانتے ہو تمہارا کام یہ ہے کہ اگر دونوں کا نبھاؤ ہوتا دیکھو تو اختلاف دور کر کے دونوں کو یکجا کردینا اور نبھاؤ نہ ہوتا دیکھو تو تفریق کرا دینا عورت نے کہا میرا نفع ہو یا نقصان میں اللہ کی کتاب کے فیصلہ کو تسلیم کرتی ہوں۔ مرد نے کہا علیحدگی تو نہیں ہوگی (باقی معاملات کا اختیار پنچوں کو ہے) حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا خدا کی قسم تو نے غلط کہا (پنچایت اس وقت تک نہ ہوگی) جب تک تو اسی طرح اقرار نہ کرے جس طرح عورت نے کیا ہے۔ (2) [ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا مجھے اور معاویہ ؓ کو پنچ بنا کر بھیجا گیا اور ہم سے کہہ دیا گیا کہ تمہاری رائے میں نبھاؤ ممکن ہو تو ملاپ کرا دینا اور جدائی بہتر ہو تو علیحدگی کرا دینا۔ حضرت عثمان ؓ نے (اپنے دور خلافت) میں یہ حکم دیا تھا۔] اسی بناء پر امام مالک (رح) کے نزدیک مرد کے پنچ کو طلاق دینے کا حق ہے خواہ مرد راضی نہ ہو اور عورت کے پنچ کو خلع کرنے کا اختیار ہے خواہ عورت راضی نہ ہو اور بدل خلع عورت کے مال سے ادا کیا جائے گا کیونکہ حضرت علی ؓ نے علیحدگی اور ملاپ دونوں کا اختیار پنچوں کو دیا تھا اور علیحدگی کا اختیار نہ دینے کی تردید کردی تھی۔ جمہور کا مسلک ہے کہ جب تک مرد طلاق کا اور عورت خلع کا اختیار نہ دیں ‘ پنچ از خود نہ تفریق کرا سکتے ہیں نہ خلع۔ بغیر اختیار دیئے تو ان کا فرض سلجھاؤ کرانا اور بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے اگر دونوں میں سے کوئی اپنی ضد پر قائم رہے تو پنچوں کا کام یہ ہے کہ حاکم کو اپنی تحقیقات کی رپورٹ کردیں اور حاکم شوہر کو حسن سلوک کے ساتھ اور دستور کے مطابق عورت کو رکھنے یا طلاق دینے کا حکم دے اور عورت کو مجبور کرے کہ وہ یا مرد کی نافرمانی چھوڑ دے یا خلع کرا لے اور بدل خلع ادا کرے۔ رہا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فیصلہ تو اس میں صاف موجود ہے کہ آپ نے شوہر سے فرمایا جب تک تو ایسا اقرار نہ کرے جیسا عورت نے کیا ہے۔ تیسرا قول غلط ہے اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ طلاق کے لئے مرد کی رضامندی شرط ہے پنچوں کو از خود طلاق و تفریق کا اختیار نہیں ہے۔ اگر پنچ از خود ایسا کرے گا تو اس کا فیصلۂ تفریق نافذ نہ ہوگا۔ ان یرید اصلاحا یوفق اللہ بینہما . اگر دونوں پنچ (صحیح نیت کے ساتھ) میاں بیوی کے درمیان سلجھاؤ کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اصلاح سے مراد ہو تصفیہ اور معاملہ کو طے کرانا خواہ اتفاق کی شکل ہو یا جدائی کی صورت میں۔ یعنی اگر دونوں پنچ کوشش کریں گے کہ معاملہ کسی بہتر صورت سے طے ہوجائے خواہ نکاح کو باقی رکھنے کی شکل میں ہو یا طلاق کی صورت میں تو اللہ اس مناسب صورت کو ان کے درمیان پیدا کر دے گا یہ مطلب اس وقت ہوگا جب یُرِیْدَاکی ضمیر پنچوں کی طرف اور بَیْنَہُمَاکی ضمیر میاں بیوی کی طرف راجع کی جائے لیکن اگر دونوں ضمیریں پنچوں کی طرف لوٹائی جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ اگر پنچوں کے پیش نظر مظلوم کی حمایت ہو اور کسی فریق کی جنبہ داری مقصود نہ ہو تو اللہ دونوں کو متفق الرائے بنا دے گا اور مقصد پورا ہوجائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ضمیریں زوجین کی طرف راجع ہوں یعنی زوجین اگر آپس میں معاملہ کو سلجھانا چاہیں گے یا اس چیز کے طلب گار ہوں گے جو دونوں کے لئے مناسب ہو تو اللہ ان کے درمیان الفت پیدا کر دے گا یا ایسے فیصلہ کی توفیق عنایت کر دے گا جو دونوں کے لئے مناسب ہو۔ آیت مذکورہ میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اگر خلوص نیت کے ساتھ کوئی شخص کام کرتا ہے تو اللہ اس کا نتیجہ اچھا ہی کرتا ہے۔ ان اللہ کان علیما . یعنی اللہ دلوں کی نیتوں اور نتائج عمل سے بخوبی واقف ہے۔ خبیرا . اور باخبر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کون ناحق ہے جو ناحق پر ہوگا اللہ اس کو سزا دے گا۔