4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم پھر جب تم اس نماز کو ادا کر چکو تو اللہ کی یاد میں لگ جاؤ کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور پہلو کے بل لیٹے بھی۔ یعنی ہر وقت تسبیح ‘ تحمید ‘ تہلیل اور تکبیر میں مشغول رہ کر اللہ کی یاد کرو۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمام اوقات میں اللہ کی یاد کرتے تھے۔ رواہ ابو داؤد۔ ظاہر یہ ہے کہ آیت اور حدیث میں دوام ذکر سے ذکر قلبی مراد ہے زبان سے ہر وقت ذکر تو ممکن ہی نہیں ہے۔ بعض علماء نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب تم صلوٰۃ خوف سے فارغ ہوجاؤ تو پھر اللہ کا ذکر کرو یعنی نماز پڑھو ‘ صحت کی حالت میں کھڑے ہو کر اور بیماری کی حالت میں یا اپاہج ہونے کی وجہ سے یا زخمی ہونے کے سبب یا کمزوری کے باعث حسب تفاوت عذر بیٹھ کر یا لیٹ کر۔ یا یہ مراد ہے کہ جب حالت خوف میں تم نماز کا ارادہ کرو تو اگر قدرت ہو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑھو یہ بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر پڑھو۔ فاذا اطماننتم فاقیموا الصلوۃ پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو نماز کو قاعدہ کے مطابق پڑھنے لگو۔ یعنی جب خوف دور ہوجائے اور تمہارے دلوں کو سکون ہوجائے تو ٹھیک ٹھیک تمام ارکان اور شرائط کی پابندی کے ساتھ نماز پڑھو امن کی حالت میں وہ بات جائز نہیں جو خوف کی حالت میں جائز ہے۔ ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا بیشک نماز مسلمانوں پر وقتی تعیین کے ساتھ فرض ہے۔ یعنی جہاں تک ممکن ہو نماز کو اس کے وقت سے نہ ٹالا جائے یہ آیت گویا گذشتہ بیان کی علت ہے کہ خوف کی نماز اور کھڑے بیٹھے عذر کے وقت نماز اس لئے ضروری ہے کہ نماز مسلمانوں پر فرض لازم ہے اور اس کا وقت معین ہے۔ امام شافعی عین جنگ کی حالت میں اور مسابقت کی صورت میں نماز کو جائز قرار دیتے ہیں اور بیضاوی نے اس قول پر اسی آیت سے استدلال کیا ہے لیکن یہ استدلال غلط ہے کیونکہ اگر حالت مسابقت میں نماز کا جواز ہوتا تو جس طرح لیٹنے اور بیٹھنے کی حالت میں نماز کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے اسی طرح حالت مسابقت میں نماز کا ذکر بھی ہوتا اور اصل عدم جواز ہے۔ آیت میں اوقات صلوٰۃ کی تفصیل نہیں دی گئی ہے۔ احادیث میں اس کا بیان آیا ہے۔ مسئلہ : بالاتفاق ظہر کا وقت زوال کے بعد سے شروع ہو کر عصر تک رہتا ہے اور عصر کا وقت غروب آفتاب تک مگر سورج میں زردی آنے پر بالاجماع مکروہ تحریمی ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک جب ہر شے کا سایہ (اصلی سایہ کو چھوڑ کر) دو چند ہوجائے تو عصر کے لئے یہ وقت سب سے اعلیٰ ہے مغرب کا وقت غروب آفتاب کے بعد اور عشاء کا وقت غروب شفق کے بعد سے شروع ہو کر فجر چمکنے تک رہتا ہے لیکن بالاجماع آدھی رات سے زیادہ تاخیر نہ کرنا مستحب ہے۔ فجر کا وقت صبح کی پَو پھیلنے سے طلوع آفتاب تک ہے۔ ظہر اور مغرب کا آخر وقت کہاں تک ہے اس میں ائمہ کا اختلاف ہے جمہور کے نزدیک ظہر کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جب ہر چیز کا سایۂ زوال کو چھوڑ کر ایک مثل ہوجائے اور مغرب کا وقت غروب شفق تک رہتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے تک ظہر کا وقت رہتا ہے۔ امام مالک (رح) اور شافعی (رح) کے ایک قول میں مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد فوراً پڑھ لی جائے تاخیر نہ کی جائے۔ اوقات کی تعیین میں اصل ضابطہ وہ ہے جو حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعبہ کے پاس دو بار جبرئیل ( علیہ السلام) نے میری امامت کی۔ پہلی بار ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سایہ تسمہ کی طرح تھا پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز اپنے سایہ کی مثل ہوگئی تھی (یعنی سایۂ اصلی کو چھوڑ کر ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا) پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب چکتا ہے اور روزہ دار روزہ کھولتا ہے پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوچکی تھی۔ پھر فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روشنی کی پو پھٹتی ہے اور روزہ رکھنے والے کے لئے کھانا ممنوع ہوجاتا ہے۔ پھر دوبارہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جس وقت گزشتہ دن کے عصر کے وقت کی طرح ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا تھا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا تھا پھر مغرب اوّل وقت کی طرح پڑھائی اور عشا ایک تہائی رات گئے پڑھائی پھر فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زمین زرد ہوگئی تھی۔ پھر میری طرف رخ کر کے جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا محمد ﷺ آپ سے پہلے انبیاء کا یہی وقت ہے اور ان دونوں (وقتوں) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔ رواہ ابو داؤد و ابن حبان فی صحیحہ۔ ترمذی نے اس کو حسن صحیح اور حاکم نے صحیح الاسناد کہا ہے لیکن اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن حارث ہے جس کو امام احمد اور نسائی اور ابن معین اور ابو حاتم نے ضعیف کہا ہے۔ مگر ابن سعد اور ابن حبان نے اس کو ثقہ کہا ہے۔ اسی راویت کا متابع (مؤید) عبدالرزاق نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان بھی نقل کیا ہے۔ ابن دقیق العید نے اس کو اچھی متابعت قرار دیا ہے اور ابوبکر ابن العربی اور ابن عبدالبر نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی امامت والی حدیث چند صحابہ ؓ کی روایت سے آئی ہے حضرت جابر ؓ کی روایت میں حدیث کے یہ الفاظ ہیں۔ پھر دوسرے دن عشاء کی نماز اس وقت پڑھی جب آدھی رات یا (فرمایا) ایک تہائی رات جا چکی تھی۔ بخاری نے لکھا ہے اوقاتِ (نماز) کے متعلق سب سے زیادہ صحیح حدیث وہ ہے جو حضرت جابر ؓ کی روایت سے آئی ہے۔ حضرت بریدہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کا وقت دریافت کیا۔ ان دونوں یعنی دونوں دنوں میں ہمارے ساتھ نماز پڑھنا۔ چناچہ زوال آفتاب کے بعد حضور ﷺ نے بلال کو حکم دیا۔ بلال نے اذان دی پھر ان کو اقامت کہنے کا حکم دیا۔ حسب الحکم انہوں نے ظہر کی اقامت کہی پھر جس وقت سورج اونچا سفید اور صاف تھا اس وقت آپ نے بلال ؓ کو حکم دیا اور بلال ؓ نے عصر کی اقامت کہی پھر حسب الحکم مغرب کی اقامت اس وقت کہی جب سورج چھپ گیا تھا پھر حکم کے مطابق عشاء کی اقامت شفق چھپنے کے بعد کہی پھر بتعمیل حکم فجر کی اقامت پو چمکنے پر کہی پھر دوسرا دن ہوا تو حضور ﷺ کے حکم کے موافق ٹھنڈک پڑے۔ ظہر کی تکبیر کہی اور حضور نے خوب ٹھنڈک پڑے ظہر کی نماز پڑھی اور عصر اس وقت پڑھی جب سورج اونچا تھا مگر پہلے دن سے تاخیر کی تھی اور مغرب کی نماز شفق چھپنے سے (کچھ) پہلے پڑھی اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گئے پڑھی اور فجر کی نماز اجالا کر کے پڑھی پھر فرمایا وہ سائل کہاں گیا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا جو (میری نمازیں) تم نے دیکھیں ان کے درمیان تمہارے نماز کے اوقات ہیں۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ کی روایت بھی حضرت بریدہ ؓ کی روایت کی طرح ہے اس روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ حضور ﷺ نے مغرب کو اس وقت تک مؤخر کیا کہ شفق غائب ہونے کے قریب ہوگئی یعنی دوسرے روز۔ رواہ مسلم۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظہر کا وقت (شروع ہوتا ہے) زوال آفتاب سے (اور) اس وقت تک رہتا ہے کہ ہر چیز کا سایہ اس کی لمبائی تک ہوجائے جب تک عصرنہ آجائے اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے کہ دھوپ زرد نہ ہوجائے اور مغرب کا وقت اس وقت تک ہے کہ شفق نہ چھپ جائے اور عشاء کا وقت آدھی رات یعنی وسط رات تک ہے اور فجر کا وقت پو چمکنے سے اس وقت تک ہے کہ سورج برآمد نہ ہوجائے۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ مغرب کا شروع وقت سورج غروب ہونے پر ہے اور آخری وقت شفق چھپنے پر اور عشاء کا شروع وقت شفق چھپنے پر ہے اور آخری وقت آدھی رات ہوجانے پر اور فجر کا شروع وقت طلوع فجر سے ہے اور آخری وقت سورج نکلنے تک ہے۔ ترمذی نے یہ حدیث محمد ﷺ بن فضیل کی روایت سے بوساطت اعمش از ابو صالح حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرف منسوب کی ہے بخاری نے اس کو غلطی سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ ان تمام احادیث سے جمہور کے قول کی تائید امام مالک (رح) و امام شافعی (رح) کے قول کے خلاف ہو رہی ہے کہ مغرب کا آخری وقت شفق چھپنے تک ہے۔ سورج ڈوبنے تک عصر کا آخری وقت رہنا آیت : اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بالْعَشِیِّ الصّٰفِءَاتُ الْجِیَادُ فَقَالَ اِنِّیْ اَجْبَتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ حَتّٰی تَوَرَاَتْ بالْحِجَابٍسے مستفاد ہے اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا بھی ارشاد ہے کہ جس نے طلوع آفتاب سے پہلے صبح کی (نماز کی) ایک رکعت پا لی اس نے فجر (کی نماز) پا لی اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی (نماز کی) ایک رکعت پا لی اس نے عصر کی (نماز) پا لی۔ بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ عشاء کا آخری وقت طلوع فجر تک رہنا کسی حدیث میں نہیں آیا۔ نہ صحیح میں نہ ضعیف میں۔ عشاء کے آخری وقت کی تعیین کے متعلق احادیث میں (لفظی) اختلاف ہے حضرت ابن عباس ؓ حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری اور حضرت ابو سعید خدری کی روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک تہائی رات تک عشاء کو مؤخر کیا اور حضرت ابوہریرہ ؓ و حضرت انس ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ آدھی رات ہونے تک عشاء میں تاخیر کی۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ عشاء میں اتنی تاخیر کی کہ دو تہائی رات چلی گئی۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ عشاء کی نماز حضور ﷺ نے اس وقت پڑھی کہ بیشتر رات گزر چکی تھی۔ یہ تمام احادیث صحاح میں موجود ہیں۔ طحاوی نے لکھا ہے ان احادیث کے مجموعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پوری رات عشاء کی نماز کا وقت ہے لیکن مراتب کا فرق ہے۔ ایک تہائی رات تک افضل ہے اس کے بعد نصف رات تک فضیلت کم ہے اور نصف کے بعد سب سے کم درجہ ہے۔ طحاوی نے اپنی سند سے نافع بن جبیر کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کو لکھا تھا ‘ عشاء کی نماز رات کے جس حصہ میں چاہو پڑھو مگر اس سے غفلت نہ کرنا۔ مسلم نے لیلۃ التعریس کے قصہ میں حضرت ابو قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیند میں کوئی قصور نہیں (یعنی نیند کی وجہ سے اگر نماز قضا ہوجائے تو یہ قصور نہیں) بلکہ قصور اس میں ہے کہ کسی (وقت کی) نماز میں اتنی تاخیر کی جائے کہ دوسری نماز کا وقت آجائے۔ اس حدیث کے آخری جملہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ عشاء کا وقت طلوع فجر تک ہے۔ اس کے علاوہ علماء کا اجماع ہے کہ اگر رات کا کچھ حصہ باقی ہو اور اس وقت کوئی کافر مسلمان ہوجائے یا حیض والی عورت پاک ہوجائے یا لڑکا بالغ ہوجائے تو عشاء کی نماز اس پر واجب ہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی امامت والی حدیث اور رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ بالا سائل کو اوقات کی تعلیم میں جو عشاء کا وقت ثلث شب یا نصف شب تک بیان کیا گیا ہے تو اس سے مراد غیر مکروہ مستحب وقت ہے۔ اسی لئے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا اوّل وقت سے مغرب کی نماز میں تاخیر مکروہ ہے۔ مگر تنزیہی مکروہ تحریمی نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سقوط شفق تک مغرب میں تاخیر کی تھی۔ مگر عشاء کی نماز میں اس وقت سے تاخیر کرنا جس وقت حضور ﷺ نے (دوسرے دن) نماز پڑھی تھی اور آفتاب میں زردی آنے تک عصر کی نماز میں تاخیر کرنا مکروہ تحریمی ہے ( رسول اللہ ﷺ سے اس کا ثبوت نہیں ہے) اور آفتاب کے زرد ہونے تک عصر میں تاخیر کرنا تو سخت ترین مکروہ ہے کیونکہ اس وقت نماز پڑھنے کی ممانعت آئی ہے اور اس کو شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ رہی امامت جبرئیل ( علیہ السلام) کی وہ حدیث جس میں عصر کا وقت (صرف) اس وقت تک بیان کیا گیا ہے کہ ہر شے کا سایہ دو مثل ہوجائے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے منسوخ ہے کہ وقت عصر اس وقت تک ہے جبکہ سورج زرد نہ ہوجائے۔ ظہر کا آخری وقت دو مثل سایہ تک رہنا کسی حدیث میں نہیں آیا۔ نہ صحیح میں نہ ضعیف میں اسی لئے اس مسئلہ میں امام صاحب کے دونوں شاگردوں ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد (رح) : کا قول بھی امام کے خلاف اور جمہور کے موافق ہے لیکن امام اعظم (رح) نے اپنے مسلک کی تائید میں حضرت بریدہ والی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ دوسرے روز رسول اللہ ﷺ کے موافق حضرت بلال ؓ نے ظہر کی اقامت ٹھنڈک پڑے کہی اور حضور ﷺ نے ظہر کی نماز خوب ٹھنڈک ہوئے پڑھی۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب سخت گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے۔ رواہ السنۃ۔ امام اعظم (رح) نے فرمایا ان کے ملک (یعنی مدینہ) میں ایسے وقت جب کہ ہر چیز کا سایہ (صرف) ایک مثل ہوتا تھا سخت گرمی ہوتی تھی اس لئے ظہر کو ٹھنڈے وقت پڑھنے والی حدیث۔ امامت جبرئیل ( علیہ السلام) والی حدیث کی ناسخ ہے کیونکہ امامت جبرئیل ( علیہ السلام) والی حدیث تو اوقات صلوٰۃ کی تعیین میں سب سے پہلی حدیث ہے لہٰذا ابراد ظہر والی حدیث سے حدیث امامت جبرئیل منسوخ ہے اور جب حدیث امامت جبرئیل کا منسوخ ہونا ثابت ہوگیا تو اوّل وقت عصر جس میں جبرئیل نے امامت کی تھی وہ بھی منسوخ ہوگیا کیونکہ آیت اِنَّ الصَّلٰوَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا کا تقاضا ہے کہ ہر نماز کا جدا وقت ہو اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ نماز کو اتنا موخر کرنا کہ دوسری نماز کا وقت آجائے تفریط ہے لیکن دوسرے دن جو دو مثل سایہ ہونے پر حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے عصر کی امامت کی تھی تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عصر کا وقت تھا اور یہ منسوخ نہیں ہوا لہٰذا یہ حکم باقی رہے گا اور عصر کے اس مقررہ وقت کے شروع ہونے تک ظہر کا وقت ہوگا۔ امام صاحب (رح) : کا یہ استدلال ضعیف ہے۔ حدیث ابراد اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ ایک مثل سایہ ہونے کے بعد بھی ظہر کا وقت باقی رہتا ہے بلکہ وقت کی خنکی ایک اضافی امر ہے اصل شدت حرارت تو زوال کے وقت ہوتی ہے ‘ وقت زوال کی گرمی کے مقابلہ میں ایک مثل سایہ ہونے سے کچھ پہلے قدرے خنکی تو ہو ہی جاتی ہے اور اگر یہ مان لیا جائے کہ ان کے ملک میں ایک مثل سایہ ہونے کے وقت گزشتہ وقت سے زیادہ گرمی ہوتی تھی تو پھر ابراد کے امر کا تقاضا ہے کہ شروع وقت میں نماز پڑھی لی جائے (تاکہ ایک مثل سایہ ہونے کے وقت جو گرمی کی تیزی ہوتی ہے اس سے پہلے ہی نماز ہوجائے) واللہ اعلم۔ مسئلہ : جمہور کے نزدیک شفق (سے مراد) افق کی سرخی ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول بھی (ایک ضعیف) روایت میں یہ ہی آیا ہے لیکن آپ کا مشہور مسلک یہ ہے کہ شفق وہ سفیدی ہے جو سرخی کے بعد آتی ہے۔ لفظ شفق دونوں معنی میں مشترک ہے اور (شفق سے کون سا معنی مراد ہے بہرحال یہ امر غیر یقینی ہے اور) شک کی صورت میں نہ مغرب کا وقت ختم ہوگا نہ عشاء کا وقت شروع ہوگا ‘ پھر احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ (شفق سے سفیدی مراد لی جائے) کیونکہ وقت کے بعد نماز جائز ہے (زیادہ سے زیادہ یہ کہ قضاء ہوگی) اور وقت سے پہلے جائز ہی نہیں ہے۔ جمہور کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ شفق سرخی ہے جب شفق چھپ گئی (عشاء کی) نماز واجب ہوگئی۔ ابن عساکر نے یہ حدیث غرائب مالک میں دو طرح سے روایت کی ہے۔ (1) عتیق بن یعقوب از مالک از نافع از ابن عمر ؓ مرفوعاً ۔ (2) ابو حذافہ از مالک۔ اوّل روایت کو سنداً ابن عساکر نے ترجیح دی ہے۔ بیہقی نے اس حدیث کے موقوف ہونے کو صحیح کہا ہے۔ حاکم نے المدخل میں ابو حذافہ (رح) کی روایت نقل کی ہے اور ان موقوف احادیث کی مثال میں پیش کیا جن کو اصحاب تخریج نے مرفوع کہا ہے۔ ابن خزیمہ نے بروایت محمد بن یزید واسطی از شعبہ از قتادہ از ابو ایوب از ابن عمر ؓ ۔ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے کہ مغرب کا وقت شفق کی سرخی جانے تک ہے۔ ابن خزیمہ نے لکھا ہے اگر ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث پایۂ صحت کو پہنچ جائے تو پھر باقی روایات کی ضرورت نہیں رہتی مگر یہ الفاظ صرف محمد بن یزید نے بیان کئے ہیں اور اصحاب شعبہ نے حمرۃ الشفق کی جگہ ثور الشفق کا لفظ نقل کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ محمد بن یزید صدوق (بہت ہی سچا) ہے۔ بیہقی نے یہ حدیث حضرت عمر ؓ ‘ حضرت علی ؓ ‘ حضرت ابن عباس ؓ ‘ حضرت عبادہ ؓ بن صامت ‘ حضرت شداد بن اوس اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایات سے نقل کی ہے مگر ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھی جب احد کے دن واپس لوٹ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا مگر انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر اللہ نے آیات مندرجۂ ذیل نازل فرمائیں۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے

ولا تہنوا فی ابتغآء القوم . اور (اے مسلمانو) اس قوم یعنی کافروں سے لڑنے کی طلب میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ (ہمت نہ ہارو) ان تکونوا تالمون . اگر تم (زخموں کا) دکھ محسوس کرتے ہو۔ فانہم یالمون کما تالمون . تو وہ بھی تمہاری طرح زخموں کا دکھ محسوس کرتے ہیں یعنی لڑائی کا ضرر دونوں کو برابر پہنچتا ہے ‘ دُکھ تمہارے لئے ہی مخصوص نہیں ہے۔ وترجون من اللہ ما لا ترجون . اور تم کو اللہ سے اجر وثواب کی امید ہے وہ کافروں کو نہیں ہے۔ لہٰذاتم کو جہاد کی رغبت اور تکالیف پر صبر کافروں سے زیادہ ہونا چاہئے۔ وکان اللہ علیما . اور اللہ (تمہارے اعمال اور نیتوں کو) خوب جانتا ہے۔ حخیما . اور (جو کچھ حکم دیتا یا ممانعت کرتا ہے اس کی) مصلحت سے واقف ہے۔ بغوی کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیات کا نزول ‘ غزوۂ حمراء الاسد میں ہوا آیت ان تکونوا تالمون بھی اس پر دلالت کر رہی ہے لیکن بیضاوی (رح) نے بدر صغریٰ کے متعلق اس کا نزول لکھا ہے۔ اہل سیر نے دونوں غزوات میں سے کسی ایک کے متعلق اس آیت کا نزول نہیں لکھا نہ کلام کی رفتار اس پر دلالت کر رہی ہے بلکہ سورة آل عمران کی آیت اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِکا نزول اس کے متعلق قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 4:105

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا

انا انزلنا الیک۔۔ بیشک ہم نے تمہارے پاس یہ کتاب بھیجی ہے واقع کے مطابق تاکہ لوگوں کا فیصلہ تم اس کے موافق کرو جو اللہ نے تم کو بتادیا ہے۔ ترمذی اور حاکم وغیرہ نے حضرت قتادہ بن نعمان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک کنبہ والے تھے جن کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا (یہ تین بھائی تھے) بشر ‘ بشیر ‘ مبشر ‘ بشیر منافق شخص تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کی ہجاء میں شعر خود کہتا تھا اور شعروں کی نسبت کسی عرب کی طرف کردیتا تھا اور کہتا تھا یہ قول فلاں شخص کا ہے۔ یہ لوگ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں محتاج فاقہ زدہ تھے (اس زمانہ میں) اہل مدینہ کی (عمومی) غذا چھوارے اور جَو تھی۔ میرے چچا رفاعہ ؓ بن زید نے بھی ایک بوری آٹا خرید کر ایک کٹیا میں رکھ دیا۔ کٹیا میں ان کے ہتھیار تلوار اور زرہ بھی رکھی تھی۔ کٹیا میں نیچے سے نقب لگا کر کسی نے آٹا اور ہتھیار چرا لئے۔ صبح کو چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا بھتیجے آج رات ہم پر بڑی زیادتی ہوئی کٹیا میں نقب لگ گیا اور آٹا اور ہتھیار چوری ہوگئے جب ہم نے احاطہ کے اندر تلاش اور پوچھ تاچھ کی تو ہم کو اطلاع ملی کہ آج رات بنی ابیرق کے ہاں چولہا جلا تھا۔ خیال یہ ہے کہ تمہارا آٹا ہی پکایا گیا ہے۔ ہم احاطہ کے اندر پوچھ تاچھ کر ہی رہے تھے کہ بنی ابیرق نے کہا خدا کی قسم ہمارے خیال میں تو یہ حرکت لبید ؓ بن سہیل کی ہے اور لبید ؓ بن سہیل بڑا نیک مسلمان ہے۔ جب لبید ؓ : کو انہوں نے متہم کیا تو اس نے تلوار سونت لی اور کہا میں چوری کروں گا۔ خدا کی قسم یا تو چوری کا مال سامنے لے آؤ ‘ ورنہ یہ تلوار تمہارے اندر داخل کر دوں گا۔ بنی ابیرق نے کہا ‘ ارے تو چوری کرنے والا نہیں ہے۔ ہم سے الگ رہ (یعنی ہم نے تجھے چور نہیں کہا ‘ پھر ہم سے کیوں الجھتا ہے) ۔ غرض ہم نے احاطہ میں تفتیش کی تو ہم کو یقین ہوگیا کہ بنی ابیرق ہی چور ہیں۔ بھتیجے تم رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کرو۔ چچا کے کہنے کے موافق میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے حاطہ والوں میں سے کچھ لوگوں نے میرے چچا پر ظلم کیا ہے اس کی کٹیا میں نقب لگا کر ہتھیار اور آٹا لے لیا۔ ہمارے ہتھیار تو واپس ملنے چاہئیں آٹے کی ضرورت نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دیکھوں گا ادھر بنی ابیرق نے جب یہ بات سنی تو اپنے ایک آدمی کے پاس جس کا نام اسیر بن عروہ تھا گئے اور اس سے اس سلسلہ میں بات کی اور (وہاں) بہت سے احاطہ والے جمع ہوگئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ قتادہ ؓ بن نعمان اور اس کے چچا نے ہمارے کنبہ کے کچھ نیک مسلمانوں پر بغیر گواہ اور ثبوت کے چوری کی تہمت لگائی ہے۔ حضرت قتادہ ؓ کا بیان ہے جب میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا تم ایسے لوگوں پر چوری کی تہمت لگا رہے ہو جن کی نیکی اور اسلام کا ذکرے میرے سامنے کیا گیا ہے اس پر زیادہ وقفہ نہیں گزرا تھا کہ آیت انا انزلنا الیک الکتاب۔۔ عظیماتک نازل ہوئی۔ ان آیات کے نزول کے بعد اسلحہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کردیئے گئے اور حضور ﷺ نے رفاعہ کو واپس دے دیئے اور بشیر بھاگ کر مشرکوں سے جا ملا اور سلافہ بنت سعد کے پاس جا کر فروکش ہوا اس پر اللہ نے آیت وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہٗ الْہُدٰی۔۔ ضَلاَلاً بَعِیْدًاتک نازل فرمائی حاکم نے کہا یہ روایت برشرط مسلم صحیح ہے۔ ابن سعد ؓ نے طبقات میں اپنی سند سے محمود ؓ بن لبید کی روایت سے لکھا ہے کہ بشیر بن حارث نے قتادہ ؓ بن نعمان کے چچا رفاعہ بن زید کی کٹیا میں پیچھے کی طرف سے سیندھ لگا کر کچھ آٹا اور دو زرہیں مع ان کے ساز و سامان کے لے لیں۔ قتادہ ؓ نے جا کر رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے بشیر کو طلب کر کے سوال کیا۔ بشیر نے انکار کردیا اور ایک شخص لبید بن سہیل کو جو احاطہ میں بڑا شریف اور اصیل آدمی تھا متہم کیا ‘ اس پر بشیر کی تکذیب اور لبید ؓ کی براءت کے سلسلے میں آیات اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ الخنازل ہوئیں۔ بشیر کو جب نزول آیات کی اطلاع ملی تو وہ مرتد ہو کر بھاگ کر مکہ کو چلا گیا اور سلافہ بنت سعد کے پاس جا کر ٹھہرا اور رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کی ہجا کرنے لگا۔ اس کے باریہ میں آیات کا نزول ہوا اور حضرت حسان ؓ بن ثابت نے اس کی ہجاء کی وہ آخر وہ لوٹ آیا۔ یہ واقعہ ماہ ربیع الثانی 4 ہجری کا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کلبی (رح) نے ابو صالح کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا اور ابن جریر نے یہ روایت لکھی ہے کہ اس آیت کا نزول ایک انصاری کے متعلق ہوا اس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا اور خاندان بنی ظفر بن حارث میں سے تھا۔ اس نے اپنے ہمسائے قتادہ ؓ بن نعمان کی زرہ چرائی تھی۔ زرہ ایک تھیلے میں تھی جس کے اندر آٹا بھرا ہوا تھا۔ تھیلے میں شگاف تھا۔ شگاف سے آٹا بکھرتا ہوا چلا گیا اور چور کے مکان تک یونہی چلا گیا۔ طعمہ نے زرہ لے جا کر ایک یہودی کے پاس جس کا نام زید السمین تھا۔ چھپا دی۔ زرہ کی تلاش طعمہ کے پاس ہوئی۔ طعمہ نے قسم کھالی کہ میں نے نہ زرہ لی ہے نہ مجھے اس کا علم ہے۔ زرہ والوں نے کہا ہم نے آٹے کا نشان اس کے گھر تک دیکھا ہے لیکن طعمہ نے قسم کھالی تو زرہ والوں نے اس کو چھوڑ دیا اور یہودی کے گھر تک آٹے کے نشان کا پیچھا کیا اور یہودی کو جا پکڑا۔ یہودی نے کہا مجھے طعمہ بن ابیرق نے یہ زرہ دی تھی۔ طعمہ کی قوم والے یعنی بنی ظفر رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے آدمی کی وکالت کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں گے تو ہمارا آدمی رسوا ہوجائے گا اس پر رسول اللہ ﷺ نے یہودی کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ حضرت ابن عباس کا ایک اور بیان بھی دوسری روایت میں آیا ہے وہ یہ کہ طعمہ نے زرہ اس تھیلے سمیت چرائی جس کے اندر بھوسی رکھی ہوئی تھی اور سارے راستے بھوسی بکھرتی چلی گئی۔ طعمہ نے زید السمین کے گھر تک لے جا کر اس کے دروازہ پر تھیلہ رکھ دیا اور زرہ اپنے گھر لے گیا۔ زرہ کا مالک بھوسی کے نشان پر زید السمین کے گھر پر پہنچا اور اس کو رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودی کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا۔ بغوی نے مقاتل کا قول نقل کیا کہ زید السمین نے طعمہ کے پاس زرہ بطور امانت رکھی تھی جس کا طعمہ نے انکار کردیا تھا ‘ اس پر آیت : انا انزلنا الیک الکتبنازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حکم۔ ممانعت اور دوسرے سچے علوم کی حامل کتاب ہم نے تم پر اتاری تاکہ تم اللہ کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق لوگوں کے باہمی فیصلے کرو۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ آیت میں رویت کا معنی علم نہیں ہے کیونکہ (رویت بمعنی علم کے لئے دو مفعول ضروری ہیں اور اس جگہ باب افعال کے اراءت مصدر سے اراء کا ستعمال کیا گیا ہے اس لئے) اس وقت تین مفعولوں کی ضرورت ہوگی (جن میں سے صرف ایک مذکور ہے دو موجود نہیں ہیں) اور رویت کا معنی آنکھوں سے دیکھنا تو بہرحال اس جگہ مراد نہیں ہے۔ لامحالہ رویت سے مراد معرفت ہے یعنی اللہ نے جو تم کو بتایا اور وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرو۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آیت میں رویت بمعنی علم ہی مراد ہوسکتی ہے۔ (پہلا مفعول موجود ہے اور) دوسرا تیسرا مفعول محذوف ہے یعنی جو چیز اللہ نے تم کو سکھائی ہے اس کے مطابق فیصلہ کرو اس صورت میں اگرچہ حذف کی زیادتی ضرور ہوگی مگر مجازی معنی (یعنی رویت بمعنی معرفت) مراد لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میں کہتا ہوں ظاہر یہی ہے کہ رویت سے مراد علم ہو اور ماموصولہ سے مراد ہو وہ پورا مضمون جس سے علم کا تعلق ہورہا ہے اور موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہو لیکن محذوف مذکور کے حکم میں ہو اس وقت چونکہ جملہ کا مضمون (جس پر موصول کی طرف راجع ہونے والی محذوف ضمیر دلالت کر رہی ہے) دو مفعولوں کے قائم مقام ہے اس لئے مزید مفعولوں کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ حاصل مطلب یوں ہوگا کہ طعمہ کے چور ہونے یا لبید یا یزید کے بری ہونے کا تم فیصلہ کرو۔ اس غرض سے ہم نے کتاب (کی یہ آیت) نازل کی۔ آیت سے یہ امر تو ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ محض ظن پر عمل نہیں کرتے تھے لیکن یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ آپ اجتہاد نہیں کرتے تھے کیونکہ جب اجتہاد کے ذریعہ سے حضور ﷺ کو کسی امر کا ظن پیدا ہوگیا اور اللہ نے اس کی تائید کردی اور ظن رسول کے غلط ہونے کی اطلاع نہیں دی تو اس وقت آپ کو یقین ہوگیا کہ میرا ظن اجتہادی حق ہے البتہ دوسرے مجتہدوں کی حالت اس سے الگ ہے (ان کے اجتہاد کی تائید قرآن سے نہیں ہوتی اس لئے ان کا اجتہاد مفید ظن ہی رہتا ہے کبھی یقین تک نہیں پہنچ سکتا) اس کی تائید عمرو بن دینار کی روایت سے ہوتی ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا ‘ آپ اسی کے مطابق فیصلہ کیجئے جو اللہ نے آپ کو سکھا دیا ہو حضرت عمر ؓ نے فرمایا چپ۔ یہ شان تو صرف رسول اللہ ﷺ کی تھی۔ یہ بھی درست ہے کہ آیت کا حکم عام ہو ( رسول اللہ ﷺ کی تخصیص نہ ہو) اور یوں کہا جائے کہ جب خبر آحاد یا قیاس غرض کسی ظنی دلیل سے مجتہد کو کوئی حکم معلوم ہوگیا تو پھر از روئے قرآن و حدیث و اجماع اس حکم پر عمل واجب ہے (واقع میں وہ ظنی حکم صحیح ہو یا غلط مگر اجتہاد پر عمل کرنا بہرحال قرآن اور حدیث اور اجماع کی رو سے واجب ہے) پس اگر اجتہادی ظن کے خلاف کوئی راحج دلیل مجتہد کے سامنے نہ آئے اور انتہائی کوشش اور فکری کاوش کرنے کے بعد ایک حکم معلوم ہوجائے تو اگرچہ مجتہد کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ واقع میں بھی اللہ کے نزدیک حکم میرے ظن کے مطابق ہے مگر اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اس اجتہاد پر عمل کرنا میرے لئے واجب ہے۔ (1) [ ابن وہب کا بیان ہے مجھ سے مالک نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان جس فیصلہ کا حکم دیا گیا ہے وہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو وہ جو قرآن اور حدیث میں موجود ہو یہ حکم تو یقیناً واجب اور صحیح ہوتا ہے دوسرا وہ جس کا کوئی ذکر قرآن و حدیث میں نہیں آیا (نہ مثبت نہ منفی) اور عالم اپنے اجتہاد سے اس کو معلوم کرتا ہے اس حکم کے صحیح اور واقع کے مطابق ہونے کی امید کی جاسکتی ہے لیکن ایک تیسرا حکم اور ہے (جس کے مطابق فیصلہ نہیں کیا جاسکتا) وہ یہ ہے کہ نامعلوم حکم میں بناوٹ اور تکلف سے کام لے ایسے حکم کو غیر صحیح کہنا زیادہ مناسب ہے۔] شیخ ابو منصور (رح) نے فرمایا آیت کا معنی یہ ہے کہ نازل شدہ اصول کے زیر نظر جو حکم اللہ تمہارے دل میں ڈال دے اس کے مطابق فیصلہ کرو۔ اس صورت میں بقول شیخ رسول اللہ ﷺ کے لئے اجتہاد کرنے کے جواز کی دلیل اس آیت میں موجود ہے۔ ولا تکن للخآئنین خصیما . اور نہ ہو خیانت کرنے والوں کے طرافدار (اور حمایتی) لاتکنکا عطف انزلنا پر اگر مانا جائے تو لفظ قلنامحذوف قرار دیا جائے گا (تاکہ خبر پر انشاء کا عطف ہونا لازم نہ آئے) یعنی ہم نے کہہ دیا کہ خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو اور اگر الکتب پر معطوف قرار دیا جائے تو انزلنا محذوف ہوگا یعنی ہم نے کتاب نازل کی اور یہ بھی نازل کیا کہ خائنون کے حمایتی نہ بنو۔ الخائنین سے مراد ہیں بنی ابیرق اور خصیم سے مراد ہے بےگناہوں کے حریف یعنی لبید بن سہیل یا زید السمین یہودی کے مخالف۔
Ayah 4:106

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

واستغفروا اللہ . اور (جو کچھ تم نے قتادہ بن نعمان سے کہا اس کی) اللہ سے معافی طلب کرو۔ ترمذی اور حکم نے قتادہ کا یہی تفیسری قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے یہ مطلب لکھا ہے کہ یہودی کو سزا دینے کا جو تم نے ارادہ کیا تھا اس کی معافی اللہ سے مانگو۔ مقاتل نے کہا کہ طعمہ کی طرفداری میں جو کچھ تم نے کہا اس کی معافی اللہ سے مانگو۔ ان اللہ کان غفورا رحیما بلاشبہ (جو اللہ سے استغفار کرتا ہے اس کو) اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔
Ayah 4:107

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

ولا تجادل عن الذین یختانون انفسہم . اور تم کوئی جواب دہی نہ کرو ان لوگوں کی طرف سے جو کہ اپنا خود ہی نقصان کر رہے ہیں چونکہ ان کو اپنی خیانت کاری کا نتیجہ ‘ بدخود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے اس لئے دوسروں کے ساتھ خیانت کرنے کو خود اپنے ساتھ خیانت کرنا قرار دیا۔ یختانون کی ضمیر ابن ابیرق اور اوس جیسے لوگوں کی طرف راجع ہے یا یوں کہا جائے کہ ابن ابیرق اور اس کی قوم والے مراد ہیں کیونکہ ابن ابیرق کی قوم والے بھی مددگار جرم تھے انہوں نے ہی رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ حضور ﷺ ابن ابیرق کی طرف سے وکالت کریں۔ ان اللہ لا یحب بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا یعنی مبغوض جانتا ہے۔ من کان خوانا اس کو جو بڑا خائن ہو یعنی خیانت پر جم جانے والا ہو۔ اثیما گناہگار ہو یعنی جھوٹ بول کر حق کا انکار کر کے اور بےقصور پر تہمت لگا کر جو گناہگار ہوتا ہے اللہ اس سے نفرت کرتا ہے۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ آیت میں خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ : کو ہے۔ مگر مراد خطاب دوسرے لوگ ہیں (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں تو یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپ ﷺ خیانت کاروں کے طرفدار ہوں گے) جیسے آیت فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِمَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ (میں اگرچہ مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں مگر مراد دوسرے لوگ ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ : کو تو قرآن کی صداقت میں شک ہونا ممکن ہی نہ تھا) استغفار سے مراد ہے حکم شرع کو ماننا اور اطاعت کرنا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ انبیاء کی استغفار کی تین صورتیں ہیں (1) نبوت سے پہلے کے گناہ کے لئے استغفار۔ (2) اپنی امت اور اہل قرابت کے گناہوں کے لئے استغفار (3) اس مباح فعل کے لئے استغفار جس کی شرعی ممانعت آنے پر اس کو چھوڑ دیا۔
Ayah 4:108

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

یستخفون من الناس (یعنی ابن ابیرق کی قوم والے لوگوں کی شرم اور رسوائی کے خوف کی وجہ سے) لوگوں سے تو چھپاتے ہیں۔ ولا یستخفون من اللہ اور اللہ سے نہیں چھپا سکتے یا یہ مطلب کہ اللہ سے نہیں شرماتے سب سے زیادہ مستحق تو اللہ ہی ہے کہ اس سے شرم کی جائے اور اس کے سامنے رسوا ہونے کا خوف کیا جائے۔ (1) [ ابن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ کا قول موقوفاً نقل کیا ہے کہ جو شخص لوگوں کے سامنے تو نماز پڑھتا ہے اور خلوت میں وہ نماز نہیں پڑھتا تو یہ استہانت ہے۔ وہ اس فعل سے اللہ کی توہین کرتا ہے۔ یہ فرمانے کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے یہ آیت یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَہُوَ مَعَہُمْ تلاوت فرمائی۔] وہو معہم حالانکہ وہ اس وقت ان کے پاس ہوتا ہے یعنی اللہ سے ان کا کوئی راز پوشیدہ نہیں اور سوائے اس کے کوئی چارۂ کار نہیں کہ جو فعل اللہ کو ناپسند اور قابل مواخذہ ہے اس کو ترک کردیا جائے۔ اذ یبیتون ما لا یرضی من القول جب کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف گفتگو کے متعلق تدبیریں کرتے ہیں۔ یعنی رات کو آپس میں ملاقاتیں کرتے ہیں اور جو باتیں اللہ کو ناپسند ہیں ان کو بناتے اور گھڑتے اور مشورہ میں طے کرتے ہیں۔ تبییت کے معنی کی تشریح آیت بَیَّتَ طائفۃ الخ میں گزر چکی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ صورت یہ ہوئی تھی کہ طعمہ کی قوم والوں نے آپس میں یہ طے کیا تھا کہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا جائے چونکہ طعمہ مسلمان ہے اس لئے حضور ﷺ اس کے قول قسم کا اعتبار کرلیں گے اور یہودی چونکہ کافر ہے اس لئے اس کی بات نہیں سنی جائے گی۔ اللہ نے قوم طعمہ کے اس مشورہ کو پسند نہیں فرمایا۔ وکان اللہ بما یعملون محیطا اور اللہ ان کے سب اعمال کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے یعنی اللہ (ان کے علم وقدرت) سے کوئی چیز نہیں چھوٹ سکتی۔
Ayah 4:109

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا؟

ہانتم ہولآء جادلتہم عنہم فی الحیوۃ الدنیا ہاں تم ایسے ہو کہ تم نے دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں۔ ہُمْکی ضمیر ابن ابیرق اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی طرف راجع ہیں اور ابن ابیرق کی قوم والے بھی اس میں داخل ہیں۔ جدالکا معنی ہے شدت مخاصمت۔ یہ لفظ جَدْلٌسے بنا ہے جدلٌکا معنی ہے سختی کے ساتھ بٹنا۔ صاحب جدال بھی اپنے دلائل کی قوت سے مقابل کو اس کے مسلک سے موڑ دینا چاہتا ہے یا لفظ جدال جدالَّہٌسے بنا ہے جدالۃ زمین کو کہتے ہیں پس جدال کا معنی ہوا ہر حریف کا دوسرے حریف کو کشتی لڑ کر زمین پر گرا دینے کی کوشش کرنا۔ فمن یجادل اللہ عنہم یوم القیمۃ لیکن قیامت کے دن ابن ابیرق اور اس جیسے لوگوں کی طرف سے اللہ سے کون جھگڑے گا جب کہ اللہ ان کو عذاب دینا چاہے گا۔ ام من یکون علیہم وکیلا یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا کام بنانے والا ہوگا۔ وکیل وہ شخص جس کے سپرد کوئی کام کردیا جائے مراد بچانے والا حمایت کرنے والا امر ناگوار کو اپنے مؤکل کی طرف سے دفع کرنے والا۔ وکیل کا کام بھی یہی ہوتا ہے اس لئے محافظ اور حامی کو وکیل کہا جاتا ہے۔ ام اس جگہ نہ متصلہ ہے نہ منقطعہ بلکہ بل (اضرابیہ) کے معنی میں ہے۔ ام کے بعد اگر حرف استفہام آجائے جیسے ام ماذایا ام کیفتو بلکا معنی ہی ہوتا ہے۔ تاویل کرنے کے بعد امکا اصلی معنی بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا

ومن یعمل سوءا جو شخص کوئی بدی کرے یعنی ایسا برا کام کرے جس سے دوسرے کو تکلیف ہو۔ (1) [ ابن راہویہ نے مسند میں لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب آیت مَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا یُّجَزْبِہٖ وَلاَ یَجِدْلَہٗ مِنْ دُْون اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلاَ نَصِیْرًا نازل ہوئی تو (غم کے مارے) ہمارے کھانے پینے کا فائدہ جاتا رہا ‘ آخر آیت وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہِ غَفُوْرًا رَحِیْمًانازل ہوئی۔ متعدد طریقوں سے حضرت علی ؓ کی روایت سے حضرت ابوبکر ؓ کا بیان آیا ہے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے جس شخص نے کوئی گناہ کرلیا ہو پھر اٹھ کر اچھی طرح وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور گناہ کی بخشش کا خواستگار ہو تو اللہ ضرور ہی معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہِ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًارواہ ابن ابی حاتم و ابن السنی وابن مردویہ۔] او یظلم نفسہ یا اپنے اوپر ظلم کرے۔ یعنی ایسی برائی جس سے دوسرے کو ضرر نہ پہنچتا ہو صرف اپنے کو نقصان پہنچتا ہو۔ بعض علماء نے کہا سوء سے مراد ہے وہ گناہ جو شرک سے کم درجہ کا ہو اور ظلم سے مراد ہے شرک یا اوّل سے مراد ہے صغیرہ گناہ اور ظلم سے مراد ہے کبیرہ۔ ثم یستغفر اللہ پھر اللہ سے معافی کا طلب گار ہو یعنی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے اور لوگوں کے حقوق لوٹا دے۔ یجد اللہ غفورا وہ اللہ کو گناہ بخشنے والا۔ رحیما . اور مہربان پائے گا۔ اس آیت میں ابن ابیرق اور اس کی قوم والوں کو توبہ و استغفار کی ترغیب ہے۔
Ayah 4:111

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

ومن یکسب اثما اور جو شخص کچھ گناہ کا کام کرتا ہے۔ فانما یکسبہ علی نفسہ تو وہ فقط اپنی ذات پر اس کا اثر پہنچاتا ہے کیونکہ خود اس کی بداعمالی کا ضرراسی کو پہنچے گا ‘ دوسرے پر اس کا وبال نہیں پڑے گا۔ وکان اللہ علیما حکیما اور (بندہ جو عمل کرتا ہے) اللہ تعالیٰ (اس سے) بخوبی واقف ہے اور (بدلہ دینے میں) حکمت سے کام لیتا ہے۔
Ayah 4:112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

ومن یکسب خطیءۃ اور جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یعنی ضغیرہ گناہ یا بلا ارادہ گناہ۔ او اثما . یا بڑا گناہ یعنی کبیرہ گناہ یا وہ گنا جو عمداً کیا ہو۔ ثم یرم بہ بریئا پھر کسی بےقصور پر اس کو ڈال دے جیسے ابن ابیرق نے لبید ؓ یا زید السمین پر اپنا جرم ڈالا تھا۔ فقد احتمل بہتانا سو اس نے بڑا بھاری بہتان اپنے اوپر لادا یعنی ایسا جھوٹ اٹھا یا جس سے عقل حیران رہ جائے۔ واثما مبینا اور کھلا ہوا گناہ کہ بےقصور پر تو جرم ڈال دیا اور مجرم کو جرم سے بری قرار دیا۔ 1 (1) [ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے حضرت ابوبکر ؓ کو جھانک کر دیکھا حضرت ابوبکر ؓ اپنی زبان کھینچ رہے تھے حضرت عمر ؓ نے کہا اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا اسی نے مجھے ہلاکت گاہوں میں ڈالا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جسم کا ہر حصّہ زبان کی تیزی کا شکوہ کرتا ہے (یعنی زبان کی تیزی کا دکھ ہر عضو کو پہنچتا ہے)]
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے

ولو لا فضل اللہ علیک ورحمتہ . اور اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی یہ رسول اللہ ﷺ : کو خطاب ہے۔ فضل سے مراد ہے اللہ کی طرف سے حفاظت اور رحمت سے مراد مہربانی حفاظت و مہربانی کی صورت یہ ہوئی کہ ابن ابیرق کی قوم کے اندرونی رازوں سے رسول اللہ ﷺ : کو واقف بنادیا۔ لہمت طآئفۃ منہم ان یضلوک . تو ان کا ایک گروہ (یعنی بنی ظفر) تو آپ کو بھٹکا دینے کا قصد کر ہی چکا تھا ( یقیناً آپ بھٹک جاتے) یعنی دروغ بافی کر کے انہوں نے غلط فیصلہ کرانے کا ارادہ کرلیا تھا اور معاملہ میں اشتباہ پیدا کردیا تھا یہاں تک کہ آپ ابن ابیرق کی پیروکاری کرنے لگے تھے۔ جملہ لَہَمَّتْ ۔ لَوْلاَکا جواب ہے۔ اس سے مقصود یہ نہیں کہ چونکہ اللہ نے مہربانی کی اس لئے وہ بہکانے کا ارادہ نہ کرسکے بلکہ ارادۂ اغواء کی تاثیر کی نفی مراد ہے یعنی اللہ کی مہربانی سے ان کا اغوا کا ارادہ بیکار ہوگیا گویا ارادہ ہی نہیں کیا گیا۔ وما یضلون الا انفسہم . اور انہوں نے غلطی میں نہیں ڈالا مگر اپنے کو کیونکہ بہکانے کا وبال آخرکار انہیں پر پڑے گا۔ وما یضرونک من شی . اور (چونکہ اللہ آپ کا حامی ہے اس لئے) وہ آپ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ من شیمفعول مطلق کے قائم مقام ہے یعنی کچھ ضرر (نہیں پہنچا سکتے۔ کلام کا تقاضا تو یہ تھا کہ بجائے مضارع کے ماضی کے صیغے یعنی اَضَلُّوْا اور اَضَرُّوْاذکر کئے جاتے (کیونکہ اس سے پہلے ہمتماضی کا صیغہ ہے لیکن حال ماضی کی حکایت کرنے کے لئے مضارع کے صیغے ذکر کئے۔ وانزل اللہ علیک الکتب اور اللہ نے آپ پر قرآن اتارا ہے۔ والحکمۃ . اور حکمت یعنی غیر وحی غیر متلو کے ذریعہ سچے علوم (مراد احادیث صحیحہ) وعلمک ما لم تکن تعلم . اور وہ علوم آپ کو سکھائے جن سے آپ (پہلے) واقف نہ تھے یعنی اسرار اور غیب کا علم۔ قتادہ نے کہا ‘ دنیا اور آخرت کے متعلق حلال و حرام احکام کی تعلیم دی۔ وکان فضل اللہ علیک عظیما اور اللہ کی مہربانی آپ پر بڑی ہے کیونکہ نبوت سے بڑھ کر اور کوئی فضل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

لا خیر فی کثیر من نجوہم . اور ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ نجوی سر (راز) کذا فی القاموس ناجَیْتَہٗمیں نے اس سے پوشیدہ بات کی۔ صاحب صحاح نے لکھا ہے بخوۃ الارضٹیلہ نجویٰاصلاً اسی سے بنا ہے یعنی کسی ٹیلہ پر سب سے الگ تھلگ ہو کر بات کرنا۔ بعض علماء نے کہا یہ لفظ نجات سے بنا ہے ‘ اس وقت نجویٰ کا معنی ہوگا ایسی بات کہنا جس میں اس شخص کی خلاصی اور بچاؤ ہو۔ بغوی نے لکھا ہے نجوی کا معنی ہے پوشیدہ تدبیر کرنا بعض علماء نے کہا ‘ نجویٰ اس تدبیر کو کہتے ہیں جو تنہا کوئی قوم کرتی ہے خواہ علی الاعلان کرے یا چھپ کر۔ آیت وَاَسُّرْوا لنَّجْویٰ الَّذِیْنَ ظلموا سے اسی توضیح کی تائید ہو رہی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو خود ساختہ تدبیریں کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر میں کوئی خیر نہیں ہوتی (بلکہ اکثر شر انگیز ہوتی ہیں) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مصدر (النجوی) بمعنی فاعل ہو یعنی نجوی سے مراد ہوں خفیہ مشورہ کرنے والے جیسے آیت : وَاِذَا ہُمْ نجویٰمیں ہے اور فاعلی ضمیر ابن ابیرق کی قوم کی طرف راجع ہے جو لوگوں سے چھپ کر راتوں کو ایسے مشورے کرتے تھے جو اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہوتے تھے۔ مجاہد نے کہا آیت کا عموم سب لوگوں کے لئے ہے (یعنی عام لوگوں کے اکثر مشوروں میں کوئی خیر نہیں ہوتی) الا من امر بصدقۃ . سوائے ان کے جو خیرات کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اگر نَجْوَاہُمْکی ضمیر ابن ابیرق کی قوم والوں کی طرف راجع ہو تو الا سے استثناء منقطع ہوگا کیونکہ صدقہ کا حکم دینے والے ابن ابیرق کی قوم والوں میں داخل ہی نہ تھے (لہٰذا مستثنیٰ منہ ابن ابیرق کی قوم کو نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ہاں مجاہد کے قول پر استثناء متصل ہوگا (سب لوگوں میں چونکہ صدقہ کا حکم دینے والے بھی داخل تھے اس لئے ان کا استثناء کرلیا گیا) بعض علماء کا قول ہے کہ یہ استثناء کَثِیْرُ مِّنْ نجْواہُمْسے ہے۔ اس قول پر اگر نجویٰ کو فاعلی معنی میں لیا جائے (یعنی مشورہ کرنے والے) تو معنی میں کوئی دشواری نہیں اور اگر مصدری معنی مراد ہوں تو مضاف محذوف ماننا پڑے گا یعنی ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں۔ ہاں صدقہ کا مشورہ دینے والوں کی سرگوشیاں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ (ان میں خیر ہوتی ہے) ایک اعتراض اس صورت میں تو استثناء ہی نہ ہوگا نہ متصل نہ منقطع کیونکہ جاءنی کثیر من الرجال الازید (میرے پاس بہت لوگ آئے مگر زید نہیں آیا) صحیح نہیں۔ کیونکہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ کثیر لوگوں میں زید داخل تھا کہ (استثناء کو متصل کہہ دیا جائے) نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کثیر لوگوں میں زید داخل نہ تھا (کہ استثناء کو منقطع قرار دے دیا جائے۔ جواب : آیت کا مطلب اس طرح ہے کہ ان میں سے کسی کے بھی کثیر مشوروں میں کوئی خیر نہیں ہاں صدقہ کا حکم دینے والوں کا مشورہ اس سے مستثنیٰ ہے (لفظ کسی میں چونکہ سب لوگ داخل ہیں اس لئے استثناء متصل ہوجائے گا) لیکن یہ جواب اسی وقت صحیح ہوگا جب نجویٰ کو فاعلی معنی میں نہ لیا جائے ورنہ کلام اس طرح ہوگا لا خیر فی کثیر من متناجی کل واحد منہم الامن امر اور یہ کلام لغو ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ الا استثنائی نہیں وصفی ہے یعنی غیرکا مرادف ہے۔ جیسے آیت لَوْکَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ الاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا میں الاَّ غَیْرُکے معنی میں ہے۔ او معروف . یا کسی نیک کام کا۔ معروف وہ اچھا کام جس کی اچھائی شریعت کی رو سے معلوم ہوگئی ہو۔ بعض علماء کا کا قول ہے کہ صدقہ سے مراد ہے فرض زکوٰۃ اور معروف سے مراد ہے قرض۔ صدقۂ نفل اور امداد مصیبت زدگان۔ او اصلاح بین الناس یا لوگوں میں صلح کرانے کا۔ اصلاحکا عطف معروف پر ہے۔ معروف (عام نیکی) کے اندر اصلاح (لوگوں میں صلح کرا دینا) بھی داخل ہے مگر اس کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر الگ کردیا گیا۔ یا یوں کہا جائے کہ اصلاح بین الناس کی بعض صورتیں معروف نہیں ہوتیں مگر شرعاً جائز ہوتی ہیں جیسے جھوٹ بولنا (مسلمانوں میں صلح کرانے کے لئے جائز ہے اگرچہ اس کو معروف نہیں کہا جاسکتا) حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط (جو مہاجرین سابقین میں سے تھیں) کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرائے اور کوئی اچھی بات (اپنی طرف سے) کہہ دے یا کوئی اچھی بات (اپنی طرف سے بنا کر دوسرے کو) پہنچا دے متفق علیہ۔ حضرت ابو درداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات بتاؤں جس کا مرتبہ روزے ‘ خیرات اور نماز سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے عرض کیا ضرور فرمائیے۔ فرمایا لوگوں کے باہمی تعلقات کو درست کردینا اور تعلقات کو باہمی خراب کرنا (نیکیوں کو) مونڈنے والا (ملیامیٹ کردینے والا) ہے۔ رواہ ابو داؤد والترمذی۔ ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ حضرت اسماء ؓ بنت یزید راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا ناجائز ہے سوائے تین مواقع کے۔ بیوی کو راضی کرنے کے (یا خوش رکھنے کے) لئے مرد کا جھوٹ بولنا۔ لڑائی میں جھوٹ بولنا اور لوگوں میں صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولنا۔ رواہ احمد والترمذی۔ ومن یفعل ذلک . اور جو شخص یہ بات کرے گا۔ یعنی مذکورہ امور میں سے کسی ایک امر کے کرنے کا مشورہ دے گا یا مذکورہ امور میں سے کوئی ایک کام کرے گا۔ یعنی صدقہ دے گا یا کوئی بھلائی کرے گا یا لوگوں میں صلح کرائے گا۔ اوّل مطلب زیادہ واضح ہے۔ مگر بیضاوی نے دوسرے مطلب کو ترجیح دی ہے اور صراحت کی ہے کہ کلام کا آغاز تو (تینوں امور کے متعلق) مشورہ دینے سے کیا گیا اور آخر میں انہی تینوں امور کے کرنے کی جزاء پر کلام کو ختم کردیا گیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جب مذکورہ امور کا مشورہ دینے والا نیکوکاروں میں داخل ہے تو ان امور کو کرنے والا بدرجۂ اوّلیٰ داخل ہوگا۔ اصل غرض تو عمل سے ہے ‘ مشورہ تو عمل کا ذریعہ ہے (اور اچھے کام کا ذریعہ بھی اچھا ہی ہوتا ہے اس لئے مشورہ کا ذکر ذیلی طور پر آگیا ہے) ابتغآء مرضات اللہ . اللہ کی رضامندی کی طلب میں۔ نیکی کرنے کے لئے طلب رضا کی شرط اس لئے لگائی کہ دکھاوٹ اور شہرت کے لئے بھلائی کرنے والا ثواب کا مستحق نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓ کی مرفوع حدیث اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِمتفق علیہ ہے۔ فسوف نوتیہ اجرا عظیما . توہم اس کو ضرور بڑا ثواب عطا کریں گے جس کے مقابلہ میں دنیا کا سارا مال و متاع حقیر ہے۔ شیخین نے صحیحین میں نیز امام احمد نے حضرت ابو شریح خزاعی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ اور روز آخرت کو مانتا ہو اس کو چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ بیہقی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ رحمت کرے اس شخص پر جو (اگر) کچھ بات کرے تو فائدہ کی کرے یا خاموش رہے تو (مضرت سے) بچا رہے۔ نیک لوگوں کی جزاء کے ذکر کے بعد آئندہ آیت میں بدوں کی سزا کا ذکر فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے۔
Ayah 4:115

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الہدی . اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہوچکا تھا۔ یعنی دلیل یقینی سے ثابت ہونے اور قطعی طور پر معلوم ہونے کے بعد کہ یہ رسول اللہ ﷺ : کا حکم ہے جو شخص فرمان رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا۔ یہ شرط لگانے کی وجہ یہ ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی کسی کو اطلاع نہ پہنچے یا اطلاع پہنچ جائے مگر ذریعۂ اطلاع اور سلسلۂ روایت یقینی نہ ہو اور اس صورت میں یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے خلاف کرے یا انتہائی ذہنی کوشش کے بعد بھی مراد حدیث سمجھنے میں مجتہد سے غلطی ہوجائے تو ایسا شخص آیت کے حکم میں داخل نہیں ہے۔ بعض علماء نے مخالفت رسول سے مراد ہے مرتد ہوجانا یعنی جو شخص ظہور توحید و رسالت کے بعد دین سے لوٹ جائے گا جیسا طعمہ کے متعلق روایت میں آیا ہے۔ وتیبع غیر سبیل المؤمنین . اور مؤمنوں کے رستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چلے گا۔ یعنی اس اعتقاد اور عمل کے خلاف چلے گا جس پر تمام اہل ایمان کا اجماع ہے اگر بعض مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کے خلاف ہوجائے تو کوئی ہرج نہیں بشرطیکہ کسی دوسرے مؤمن کے طریقہ کی موافقت ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے میرے صحابہ ؓ ستاروں کی طرح ہے جس کی پیروی کرو گے منزل مقصود پر پہنچ جاؤ گے۔ نولہ ما تولی . تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے۔ یعنی جس گمراہی کو اس نے اختیار کر رکھا ہے ہم وہی اس کو دیں گے اور اس کی پسندیدہ غرض میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں جس چیز پر اعتماد رکھتا ہے آخرت میں ہم اس کو اسی کے سپرد کردیں گے۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید ؓ خدری اور حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک اعلانچی اعلان کرے گا جو لوگ جس کی پوجا کرتے تھے اس کے پیچھے چلے جائیں۔ اس نداء کے بعد جو کوئی بھی اللہ کے سوا کسی بت یا استھان کی پوجا کرتا تھا بغیر آگ میں گرے نہیں رہے گا۔ ونصلہ جہنم . اور ہم اس کو جہنم میں داخل کریں گے۔ وسآءت مصیرا . اور جہنم (حق سے روگردانی) کا برا انجام ہے۔ (1) [ مالک ؓ کی روایت ہے کہ عمر ؓ بن عبدالعزیز نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے کچھ طریقے مقرر کر دئیے ہیں جن پر عمل کرنے سے اللہ کی کتاب کی تصدیق اللہ کی اطاعت کی تکمیل اور اللہ کے دین کی قوت ہوتی ہے۔ کسی کو ان کے بگاڑنے اور بدلنے کی اجازت نہیں اور نہ ان چیزوں پر غور کرنے کی اجازت ہے جو آپ کے طریقوں کے مخالف ہیں۔ جو ان راستوں پر چلے گا ہدایت یاب ہوگا اور جون ان پر چل کر طلبگار نصرت ہوگا اس کو نصرت عطا کی جائے گی اور جو ان کے خلاف کرے گا وہ مؤمنوں کے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چلے گا اور جس چیز کو وہ اختیار کرے گا اللہ وہی اس کو دے دے گا اور جہنم میں داخل کر دے گا اور جہنم برا ٹھکانا ہے۔] بغوی نے لکھا ہے اس آیت کا نزول طعمہ بن ابیرق کے متعلق ہوا تھا۔ صورت یہ ہوئی کہ طعمہ کی چوری جب کھل گئی تو اس کو اپنی رسوائی اور ہاتھ کاٹے جانے کا اندیشہ ہوا اس لے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور دین سے لوٹ گیا اس پر آیت وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَنازل ہوئی اس آیت میں وعید عذاب کو دو شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ مخالفت رسول اور اتباع غیر سبیل المؤمنین۔ مخالفت رسول تو تنہا بھی حسب نصوص قطعیہ موجب عذاب ہے۔ دوسری شرط موجود ہو یا نہ ہو لہٰذا مؤمنوں کے اجماعی راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چلنا بھی بجائے خود موجب وعید ہوگا گویا دونوں شرطوں کا مجموعہ اگر موجود نہ بھی ہو صرف ایک شرط موجود ہو تب بھی وعید عذاب اس پر مرتب ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ (جس طرح مخالفت رسول ﷺ حرام ہے اسی طرح) اجماع کی مخالفت بھی حرام ہے لہٰذا اتباع اجماع واجب ہے۔ بیہقی اور ترمذی نے حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی گمراہ پر مجتمع نہیں کرے گا۔ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے جو جماعت سے بچھڑا وہ وہ بچھڑ کر دوزخ میں گیا۔ واللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے کہ طعمہ بن ابیرق (مدینہ سے بھاگ کر) مکہ میں قبیلۂ بنی سلیم کے ایک شخص کے پاس جس کا نام حجاج بن علاظ تھا جا کر ٹھہرا اور اسی کے گھر میں نقب لگایا۔ نقب لگاتے میں ایک پتھر اس کے اوپر گرپڑا جس کی وجہ سے ایسا پھنس کر رہ گیا کہ نہ اندرگھس سکتا تھا نہ باہر نکل سکتا تھا۔ صبح کو پکڑا گیا۔ لوگوں نے قتل کردینا چاہا لیکن بعض لوگوں نے یہ کہا ‘ یہ تمہارے پاس پناہ گزین ہو کر آیا ہے اس کو چھوڑ دو لوگوں نے چھوڑ دیا اور مکہ سے نکال دیا۔ مکہ سے نکل کر وہ قبیلہ بنی قضاعہ کے تاجروں کے ساتھ شام کو چلا گیا۔ جب ایک جگہ پڑاؤ ہوا تو اس نے قافلہ والوں کا کچھ سامان چرا لیا اور بھاگ گیا۔ لوگوں نے تلاش کی اور پکڑ کر سنگسار کردیا اور اتنے پتھر مارے کہ وہ پتھر ہی اس کی قبر بن گئے۔ یہ بھی ایک روایت میں آیا ہے کہ جدہ کو جانے کیلئے وہ ایک کشتی میں سوار ہوا اور کشتی کے اندر اشرفیوں کی تھیلی چرا لی اور پکڑا گیا۔ آخر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حرہ بنی سلیم میں جا کر ٹھہرا اور بنی سلیم کے بت کی پوجا کرنے لگا اور اسی حالت میں مرگیا۔