4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 4:141

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

الذین یتربصون بکم . وہ ایسے ہیں کہ تم پر افتاد اور مصیبت پڑنے کے منتظر رہتے ہیں۔ فان کان لکم فتح من اللہ پھر اگر من جانب اللہ تمہاری فتح ہوگئی۔ یعنی لڑائی میں جیت ہوگئی اور مال غنیمت حاصل ہوگیا۔ قالوا الم نکن معکم تو باتیں بناتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے یعنی کیا دین اور جہاد میں تمہارے ساتھی نہ تھے لہٰذا ہم کو بھی مال غنیمت کا حصّہ دو ۔ وان کان للکفرین نصیب . اور اگر کافروں کو کچھ نصیب ہوگیا یعنی مسلمانوں پر کچھ غلبہ مل گیا۔ قالوا الم نستحوذ علیکم . تو کہتے ہیں کیا ہم مسلمانوں کے ساتھ مل کر تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے مگر ہم نے تم کو چھوڑ دیا استحواذکا معنی ہے غلبہ پانا۔ ونمنعکم من المؤمنین . اور کیا ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچا نہیں لیا۔ یعنی کیا ہم نے مسلمانوں کو بےمدد نہیں چھوڑ دیا اور کیا تم کو ان کی خبریں نہیں بتائیں اور ان کے واقعات کی اطلاع نہیں دی (جس سے تم ہوشیار ہوگئے اور تم نے تیاری کرلی) مبرد نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ کیا ہم نے تم کو تمہاری رائے سے نہیں روک دیا اور مسلمانوں میں شامل ہوجانے سے باز نہیں رکھا تھا۔ فاللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ . پس (اے مسلمانو ! ) تمہارے (اور منافقوں کے) درمیان قیامت کے دن اللہ ہی فیصلہ کرے گا ‘ مؤمنوں کو جنت میں داخل کرے گا اور منافقوں کو دوزخ میں۔ شیخین نے صحیحین میں اور حاکم نے ایک طویل حدیث کے ذیل میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے لکھا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا دے گا جو لوگ جس معبود کی پوجا کرتے رہے ہوں اسی کے پیچھے چلے جائیں۔۔ پھر اللہ فرمائے گا لوگو ! ہر قوم اپنے معبود سے جا لگی اور تم ابھی یہی ہو (تم کو کسی کا انتظار ہے) وہ جواب دیں گے ہم اپنے رب کے انتظار میں ہیں۔ اللہ فوراً کسی قدر اپنی پنڈلی کھول دے گا دیکھتے ہی ہر (خالص) مؤمن سجدہ میں گرپڑے گا صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو دکھاوٹ اور شہرت کے لئے سجدے کرتے تھے وہ سجدہ کریں گے تو ان کی پشت یک دم سپاٹ (تختہ) ہوجائے گی (جس کی وجہ سے سجدہ نہ کرسکیں گے) حاکم کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو پشت کے بل گرپڑے گا۔ (الحدیث) ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا . اور اللہ (اس فیصلہ میں) ہرگز مؤمنوں کے مقابلہ میں کافروں کو غالب نہیں کرے گا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا یعنی آخرت میں (غالب نہیں کرے گا) رواہ ابن جریر۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی ایک روایت میں یہی ہے اور یہی ظاہر بھی ہے۔ لیکن عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ دلیل میں (کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ نہیں عطا کرے گا) ابن جریر اور عبد بن حمید نے سدی کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بعض علماء نے کہا کافروں کے غالب نہ کرنے سے مراد ہے صحابہ ؓ پر غالب نہ کرنا۔ رہا اس زمانہ میں مؤمنوں پر کافروں کا غلبہ تو یہ مسلمانوں کے عقیدہ کی کمزوری اور اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے ہے (یعنی اللہ نے کافروں کو غالب نہ کرنے کی جو صراحت کی ہے اس سے مراد ہے پکے صالح الاعمال فرمانبردار مسلمانوں پر غلبہ نہ عطا کرنا کمزور ایمان والے نافرمان مسلمانوں پر غلبہ عطا نہ کرنے کا وعدہ نہیں ہے) بعض نے کہا سبیلاً سے مراد ہے بیخ کنی کی راہ یعنی اللہ کافروں کو ایسی راہ نہ دے گا جو مسلمانوں کی بیخ کنی کرسکیں۔ امام شافعی (رح) نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی کافر مسلمان غلام خریدے تو بیع فاسد ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا بیع صحیح ہے کیونکہ کافر اہل عقد ہے اور مسلمان غلام محل بیع ہے البتہ اس آیت کے زیر اثر (کافر اپنی ملک میں مسلمان غلام نہ رکھ سکے گا بلکہ) کافر کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ مسلمان غلام کا مالک ہونے کے بعد فروخت کر دے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اگر شوہر مرتد ہوجائے اور بیوی مسلمان رہے تو مرتد ہوتے ہی بیوی کی تفریق ہوجاتی ہے (یعنی نکاح سے خارج ہوجاتی ہے)
Ayah 4:142

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

ان المنفقین یخادعون اللہ وہو خادعہم . بلاشبہ منافق اللہ سے چالبازی کرتے ہیں اور اللہ چال بازی کی سزا ان کو دینے والا ہے۔ اللہ کو دھوکہ دینا اور اللہ کا منافقوں کو دھوکہ دینا اس کی تحقیق سورة بقرہ کی ابتدائی آیات میں کردی گئی ہے۔ واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی . اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں یعنی مسلمانوں کے ساتھ۔ تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جیسے کوئی جبریہ کھڑا ہو اس طرح یہ ناگواری کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں نہ نماز کو ترک کرنے پر عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یرآء ون الناس . لوگوں کو (اپنی نماز) دکھاتے ہیں تاکہ لوگ ان کو مؤمن خیال کریں۔ ولا یذکرون اللہ الا قلیلا اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت مختصر۔ یا بہت تھوڑے وقت۔ ذکر سے مراد نماز ہے۔ اس تقلیل کی علت یہ ہے کہ دکھاوٹ کرنے والا دکھاوٹ کے لئے جو کام کرتا ہے وہ دیکھنے والوں کے سامنے کرتا ہے اور ایساوقت بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ (1) [ ابو یعلی نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کے سامنے تو نماز اچھی طرح پڑھے اور جب لوگ نہ دیکھتے ہوں تو نماز کو خراب پڑھے تو یہ نماز کو حقیر سمجھنا ہے ایسی نماز سے یہ شخص اپنے رب کی استہانت کرتا ہے۔] یراء ون اور کسالی دونوں قاموا کی ضمیر سے حال ہیں اور لا یذکرونکا عطف یراؤن پر ہے یا یراؤن کے فاعل سے لا یذکرونحال ہے۔
Ayah 4:143

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے

مذبذبین بین ذلک یعنی ایمان و کفر دونوں میں متردد ہیں۔ ذبذبۃ کسی چیز کو مضطرب بنا دینا۔ اصل مادہ مجرد ذب ہے جس کا معنی ہے نکال دینا ‘ دھکے دینا۔ مذبذب وہ شخص جس کو دونوں جانب سے دھکے دئیے جائیں کسی ایک طرف وہ ٹھہر نہ سکے۔ لا الی ہولآء نہ ان کو اقرار و اطمینان ہے ان کی طرف یعنی مؤمنوں کی طرف کہ ظاہر باطن میں انہی کی طرف ہوجائیں اور مؤمنوں کے ساتھ آخرت میں پورا اجر پانے کے مستحق بن جائیں۔ ولا الی ہولاء اور نہ کافروں کی طرف ان کو پورا اقرار ہے کہ دوسرے کافروں کی طرح ان سے بھی دنیا میں سلوک کیا جائے۔ ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا اور جس کو (راہِ حق سے) اللہ بھٹکا دے۔ (اے مخاطب) تجھے اس کے لئے (حق و صواب کی) راہ ہرگز نہیں ملے گی۔ ایسی ہی اس مفہوم کی ایک اور آیت آئی ہے : وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَالَہٗ مِنْ نُّوْرٍ ۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا منافق کی حالت ایسی ہے جیسے ریوڑ سے بچھڑی ہوئی بکری جو دو گلوں کے درمیان کبھی ایک کی طرف اور کبھی دوسرے کی طرف گھومتی ہے۔ رواہ مسلم۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟

یا ایہا الذین امنوا لا تتخذوا الکفرین اولیآء من دون المؤمنین اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو ولی اور دوست نہ بناؤ۔ کافروں کی دوستی نے منافقوں کو تباہ کردیا اور ان کو نفاق تک پہنچا دیا اس لئے تم ان سے احتیاط رکھو۔ اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے عذاب کی اللہ کے پاس واضح وجہ پیدا ہوجائے۔ (1) [ ابن ابی حاتم نے اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن کی ہر دلیل (اللہ کی) محکم حجت ہے۔]
Ayah 4:145

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار بلاشبہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ درکات (درکۃ کی جمع) کا معنی ہے طبقات اور منزلیں۔ اس لفظ کا استعمال نچلی منزلوں کے لئے مخصوص ہے بالائی منزلوں کو درجات کہتے ہیں۔ ابن مبارک نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا ‘ دوزخ کے نچلے حصہ میں لوہے کے صندوق ہوں گے جن کے اندر منافق بند ہوں گے۔ بغوی کی روایت میں ایک لفظ کا تغیر ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول لکھا ہے صندوقوں کے اندر منافق بند ہوں گے جن کے اندر منافقوں کے اوپر نیچے (انگارے دہک رہے) ہوں گے۔ ابن وہب (رح) نے کعب بن احبار کا قول نقل کیا ہے کہ دوزخ میں ایک بند کنواں ہے بند کرنے کے بعد اس کو کھولا ہی نہیں گیا ہے آغاز آفرینش سے روزانہ دوزخ اس کی گرمی سے اللہ کی پناہ مانگتی ہے۔ دوزخ کا درک اسفل یہی ہے۔ منافق دوزخ کے نچلے طبقہ کے مستحق اس لئے قرار پائے کہ یہ تمام کافروں سے زیادہ خبیث ہیں۔ ان کے اندر کفر کے ساتھ اللہ ‘ رسول اور اسلام سے استہزاء کرنے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی بھی خباثت ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ (باوجود کافر ہونے کے) یہ قتل اور جزیہ سے بچ گئے اس کے عوض درک اسفل کے مستحق قرار پائے۔ ولن تجدلہم نصیرا . اور (اے مخاطب) تجھے ان کا کوئی مددگار نہیں ملے گا۔ جو ان کو دوزخ سے نکال دے اور اللہ کے عذاب سے بچائے۔
Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا

الا الذین تابوا واصلحوا واعتصموا باللہ واخلصوا دینہم اللہ لیکن جو لوگ (نفاق سے) توبہ کرلیں (اور ایمان لے آئیں) اور (اپنے اعمال کی) اصلاح کرلیں اور اللہ پر وثوق رکھیں اور اپنے دین کو خالص اللہ ہی کے لئے کیا کریں یعنی دکھاوٹ اور ریاکاری سے دین کو الگ رکھیں ایمان اور اعمال محض اللہ کے لئے کریں۔ ابن عساکر نے ابوادریس کا قول نقل کیا ہے کہ حقیقت اخلاص تک رسائی صرف اس وقت ہوگی جب اللہ کے واسطے کئے ہوئے عمل پر لوگوں کی تعریف کو پسند نہ کرے۔ امام احمد (رح) اور ابن ابی شیبہ (رح) نے ابو ثمامہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے دریافت کیا یا روح اللہ ! اللہ کا مخلص کون ہے فرمایا وہ شخص مخلص ہے جو اللہ کے لئے عمل کرے اور اس عمل پر لوگوں کی تعریف کو پسند نہ کرے۔ حکیم ترمذی ؓ نے نوادر الاصول میں حضرت زید بن ارقم کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا جنت میں داخل ہوگیا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ کلمہ پڑھنے میں اخلاص کیا ہے فرمایا پڑھنے والے کو یہ کلمہ ممنوعات سے باز رکھے (یہ اخلاص کلمہ ہے) بیہقی نے شعب الایمان میں اور حاکم نے حضرت معاذ ؓ بن جبل کی روایت سے لکھا ہے کہ جب حضور ﷺ نے مجھے (حاکم بنا کر) یمن کو بھیجا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ ہدایت فرمائیے۔ فرمایا اپنے دین کو خالص رکھنا ‘ تیرے لئے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔ ابن ابی الدنیا نے الاخلاص میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ثوبان ؓ کی روایت سے لکھا ہے حضرت ثوبان ؓ نے کہا میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا آپ فرما رہے تھے خوشی ہو مخلصوں کے لئے یہی لوگ ہدایت کے چراغ ہیں ‘ ہر تاریک فتنہ کی ظلمت ان سے چھٹ جاتی ہے۔ فاولئک مع المؤمنین تو یہ لوگ مؤمنوں کے ساتھ ہوں گے یعنی جنت کے اندر ان مخلص مؤمنوں کے ساتھ ہوں گے جو ایمان و اخلاص کی وجہ سے ان سے پہلے جنت میں داخل ہوچکے ہوں گے۔ فراء نے مع المؤمنین کی تفسیر کی ہے مع المؤمنین (یعنی مع کا ترجمہ من کیا ہے) وسوف یوت اللہ المؤمنین اجرا عظیما اور مؤمنوں کو اللہ اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ یعنی آخرت میں مخلص مؤمنوں کو اجر عظیم عنایت کرے گا۔ اجر عظیم سے مراد ہے جنت اور اللہ کی خوشنودی اور مراتب قرب خداوندی۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے

ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم اور اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لے آؤ۔ استفہام انکاری اور تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ شکر گزار مؤمن کو عذاب نہیں دے گا کیونکہ بندوں کو عذاب دینے سے نہ اس کے اقتدار میں اضافہ ہوجاتا ہے نہ عذاب دینے سے حکومت میں کوئی کمی آجاتی ہے۔ کسی فائدہ کا حاصل کرنا یا ضرر کو دفع کرنا تو عذاب دینے کا مقصد ہی نہیں ہے اللہ ہر نفع و نقصان سے پاک ہے البتہ اس کا دستور ہے کہ اس نے نتیجہ کو سبب سے وابستہ کردیا ہے بندوں کو عذاب دینے کے معاملہ میں بھی اس کا یہی دستور ہے جیسے مزاج کے بگڑنے سے مرض پیدا ہوتا ہے اگر ایمان اور شکر کی وجہ سے آدمی کی قلبی بیماری یعنی نفاق و کفر کا ازالہ ہوجائے اور دل کو پاک کرلیا جائے تو آدمی ہر برے نتیجہ سے بھی محفوظ ہوجاتا ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے آیت میں کچھ لفظی تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل میں اِنْ اٰمَنْتُمْ وشکرتم تھا۔ میں کہتا ہوں اس قول کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ واؤ مطلق عطف کے لئے آتا ہے عطف ترتیبی کے لئے نہیں آتا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ شکر کو ایمان سے پہلے اس لئے ذکر کیا کہ شروع میں آدمی نعمت کو دیکھ کر مبہم طور پر شکر گزار ہوتا ہے پھر گہری نظر کرتا ہے تو منعم کو پہچانتا ہے اور اس پر ایمان لاتا ہے۔ میں کہتا ہوں شاید شکر سے مراد ہے ایمان مجازی عامی جو کفر کی ضد ہے اور ایمان سے مراد ہے ایمان حقیقی (اور ایمان مجازی ایمان حقیقی کا زینہ ہے ظاہری مجازی ایمان سے ہی ترقی کر کے آدمی ایمان حقیقی تک پہنچتا ہے اسی لئے شکر کو ایمان سے پہلے ذکر کیا) ۔ وکان اللہ شاکرا علیما . اور اللہ بڑی قدر کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے یعنی شکر کا ثواب عطا کرتا ہے۔ تھوڑا قبول فرماتا ہے اور زیادہ عطا کرتا ہے اور تمہارے ایمان کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

لا یحب اللہ الجہر بالسوء من القول الا من ظلم . اللہ تعالیٰ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتا بجز مظلوم کے۔ جہر بالسوء (چلّا کر بری بات زبان سے کہنا) سے اس جگہ مراد عام ہے۔ چلا کر یا نہ ہو اللہ کو دونوں ناپسند ہیں مگر چلا کر بری بات کہنی زیادہ بری ہے چونکہ واقعہ سے تعلق چلا کر بری بات زبان پر لانے کا تھا اس لئے جہر بالسوئکا لفظ اختیار کیا۔ مظلوم کے لئے جہر بالسوئ کی اجازت کا یہ معنی ہے کہ مظلوم ظالم کے ظلم کی فریاد اور اس کے لئے بددعا کرسکتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک بدزبانی کرنے سے مراد ہے گالی دینا اگر کوئی گالی دے (تو ناجائز ہے لیکن) ویسی ہی گالی مظلوم دے سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰءِکَ مَا عَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍالآیہ۔ حضرت انس و حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو گالیاں دینے والوں میں سے جو پہل کرے الزام اس پر ہے جب تک کہ مظلوم حد مساوات سے آگے نہ بڑھ جائے۔ رواہ مسلم۔ بغوی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول مہمان کے حق میں ہوا تھا۔ اگر کوئی شخص کسی قوم کے پاس جا کر اترے اور وہ میزبانی نہ کریں اور ان کی طرف سے اچھی مہمانی نہ ہو تو مہمان کیلئے شکوہ کرنا اور جیسا اس کے ساتھ سلوک کیا گیا ہے ویسا بیان کرنا جائز ہے۔ ہناد نے کتاب الزہد میں مجاہد کا بیان نقل کیا ہے کہ مدینہ میں کسی شخص کے پاس کوئی مہمان آیا میزبان نے اس کی مہمانی اچھی طرح نہ کی مہمان اس کے پاس سے چلا گیا اور میزبان نے جیسا سلوک کیا تھا ویسا ہی اس نے (لوگوں سے) بیان کیا اس کی اجازت میں یہ آیت نازل ہوئی۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد کا بیان اس طرح نقل کیا کہ ایک شخص ایک قوم کے پاس بطور مہمان آیا۔ میزبانوں نے اس کو کھانا نہیں دیا۔ مہمان نے اس کا شکوہ کیا۔ میزبانوں نے اس شکایت پر اس کی گرفت کی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ : کا بیان ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : آپ ہم کو (تبلیغ یا جہاد وغیرہ کے لئے) بھیجتے ہیں اور ہم جا کر (کبھی) ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو ہماری مہمانی نہیں کرتے۔ ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اگر تم لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ تمہاری مناسب مہمانی کریں تو قبول کرلو اور اگر مناسب مہمانی کا اہتمام نہ دیں تو ان کے مناسب حال مہمانی کا حق ان سے (زبردستی) وصول کرلو۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہا۔ وکان اللہ سمیعا علیما اور اللہ ہے سننے والا جاننے والا۔ یعنی مظلوم کے شکوے اور بددعا کو سنتا اور ظالم کے فعل کو جانتا ہے۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے

ان تبدوا خیرا اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو۔ خیر سے مراد ہے طاعت اور فرماں برداری۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بجائے بری بات کہنے کے اگر تم ظالم کے ساتھ بھلائی کرنے کا اظہار کرو اور برائی کو بھلائی سے مٹا دو ۔ اوتخفوہ یا پوشیدہ طور پر کرو۔ بعض علماء کے نزدیک خیر سے مراد ہے مال یعنی ظاہر خیرات کرو یا چھپا کر۔ او تعفوا عن سوء یا برائی سے درگزر کرو یعنی ظالم کے ساتھ بھلائی اگرچہ نہ کرو مگر اس کے ظلم کو اپنے دلوں سے مٹا دو ۔ بیضاوی وغیرہ نے لکھا ہے کہ مظلوم کی طرف سے درگزر کرنا مقصود ہے اور بیان کی اصل غرض یہی ہے بھلائی کرنے کا ذکر تو بطور تمہید کیا گیا ہے کیونکہ آگے فرمایا ہے۔ فان اللہ کان عفوا قدیرا تو بلاشبہ اللہ بڑا معاف کرنے والا کامل قدرت والا ہے یعنی باوجود انتقام کی طاقت رکھنے کے گناہگاروں کو بہت زیادہ معاف کردیتا ہے اس لئے تم کو بدرجۂ اولی معاف کرنا چاہئے کیونکہ تمہارے حق میں تو یہ تجارت ہے (اللہ کے ہاں اس کا بڑا ثواب ملے گا) مظلوم کو پہلے انتقام لینے کی اجازت دی اس آیت میں مکارم اخلاق پر آمادہ کرنے کے لئے معاف کرنے کی ترغیب دی ‘ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا۔ خادم کو کتنی مرتبہ معاف کیا جائے فرمایا ہر روز ستر مرتبہ (یعنی بہت مرتبہ) رواہ ابو داؤد والترمذی و ابو یعلی۔
Ayah 4:150

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیت یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ یہودیوں نے جب محمد ﷺ کا اور قرآن کا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کیا تو گویا سب پیغمبروں کا انکار کیا کیونکہ ہر پیغمبر دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور چونکہ اللہ کے احکام کا انہوں نے انکار کیا تھا تو گویا اللہ کا انکار کردیا۔ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ اور چاہتے ہیں اللہ کے اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھنا کہ اللہ کو تو مانتے ہیں اور پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں جیسے مشرک (کہ صرف خدا کو مانتے ہیں) اور یہودی کہ اللہ اور موسیٰ ( علیہ السلام) کو تو اپنے خیال کے مطابق مانتے ہیں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور محمد ﷺ اور دوسرے پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں اور قرآن و انجیل کو بھی نہیں مانتے۔ ویقولون نومن ببعض ونکفر ببعض اور کہتے ہیں ہم بعض (پیغمبروں) کو مانتے ہیں اور بعض کو (سچا) نہیں جانتے۔ ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا اور چاہتے ہیں (کفر و اسلام) کے درمیان راہ اختیار کرنا۔
Ayah 4:151

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

اولئک ہم الکفرون حقا ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں۔ یعنی پورے کافر ہیں کیونکہ ایمان و کفر کے درمیان کوئی وسطی چیز نہیں اور اللہ پر ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک سب پیغمبروں کو نہ مانا جائے اور جو کچھ انہوں نے (اللہ کی طرف سے) مجمل و مفصل پہنچایا ہے اس کی تصدیق نہ کی جائے۔ تمام انبیاء کے دین میں حقانیت مشترک ہے سب حق ہیں اور حق کے علاوہ سوائے گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ واعندنا للکفرین عذابا مہینا اور کافروں کے لئے ہم نے ذلیل کن سزا تیار کر رکھی ہے۔ انہی کافروں میں سے یہودی بھی ہیں۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

والذین امنوا باللہ ورسلہ اور جو لوگ اللہ اور اس کے (تمام) پیغمبروں پر ایمان لائے۔ ولم یفرقو بین احد منہم اور ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کیا۔ ایک شبہ : لفظ بَیْنَکی اضافت متعدد کی جانب ہوتی ہے اور آیت میں لفظ احد کی طرف اضافت ہے جو ضابطہ کے خلاف ہے۔ ازالہ : لفظ احد میں اس جگہ عموم ہے کیونکہ احد اس جگہ نکرہ ہے اور نفی کے بعد آیا ہے (لفظ احد کی وحدت مراد نہیں عمومی تنکیر مراد ہے) اس لئے اس جگہ اضافت صحیح ہے۔ اولئک سوف یوتیہم اجورہم ان لوگوں کو ضرور اللہ ان کا ثواب عطا فرمائے گا یعنی جس ثواب کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ ضرور عنایت کرے گا۔ لفظ سوفوعدہ کو پختہ کرنے اور اس امر کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ ثواب لامحالہ ملے گا خواہ ملنے میں تاخیر ہو۔ وکان اللہ غفورا اور (جو کچھ ان سے قصور ہوگیا ہو) اللہ بخشنے والا ہے۔ رحیما ان پر مہربانی کرنے والا ہے یعنی ان کی نیکیوں کے ثواب کو چند گناہ کر دے گا۔ ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کی طرف سے (تورات کی لکھی ہوئی) تختیاں لائے تھے آپ بھی (اللہ کی کتاب کی لکھی ہوئی) تختیاں اللہ کی طرف سے لا کر ہم کو دیجئے ہم آپ کو سچا جانیں۔ بغوی نے تعیین کے ساتھ ان یہودیوں کے نام کعب بن اشرف اور فخاص بن عازوراء بتائے ہیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا

یسئلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السماء آپ سے اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے لئے کوئی خاص نوشتہ آسمان سے منگوا دیں۔ یہ سوال اکڑپن اور حاکمانہ شان کے ساتھ تھا۔ اطاعت آمیز نہ تھا اور اللہ حاکمانہ شان کے سوال پر آیات نازل نہیں فرمایا کرتا۔ ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی کی روایت سے لکھا ہے کہ جب آیت یَسْءَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ ۔۔ بُہْتَانًا عَظِیْمًاتک نازل ہوئی تو ایک یہودی نے دو زانو بیٹھ کر کہا اللہ نے نہ آپ پر کچھ اتارا نہ موسیٰ ( علیہ السلام) پر نہ عیسیٰ ( علیہ السلام) پر نہ اور کسی پر۔ اس پر آیت وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ اِذْ قَالُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَئٍنازل ہوئی۔ فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک (آپ ان کے اس سوال کو بڑا نہ سمجھیں اس لئے کہ) یہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے ہیں۔ سالوا کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے ہی ان ستر آدمیوں نے جن کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پہاڑ پر لے کر آئے تھے یہ درخواست کی تھی۔ فقد میں فاء سببیت کے لئے ہے (ہم نے ترجمہ اسی کے مطابق کیا ہے۔ مترجم) بعض علماء کے نزدیک یہ فاء جزائیہ ہے اور شرط محذوف ہے یعنی اگر آپ ان کے اس سوال کو بڑا سمجھتے ہیں تو (تعجب نہیں) ان کے اسلاف موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑھ کر سوال کرچکے ہیں۔ مطلب یہ کہ ایسی درخواست ان کی پہلی جہالت نہیں ہے (اس سے بڑی جہالت ان کے اسلاف کرچکے ہیں) فقالوا ارنا اللہ جہرۃ اور انہوں نے کہا تھا کہ ہم کو اللہ کا دیدار کھلم کھلا کرا دو ۔ ابو عبیدہ ؓ نے اس جملہ کا مطلب اس طرح بیان کیا کہ بنی اسرائیل نے علانیہ کہا کہ ہم کو خدا دکھا دو ۔ فاخذتہم الصعقۃ لہٰذا کڑک نے ان کو پکڑ لیا یعنی آسمان سے ایک آگ آئی اور ان کو ہلاک کرگئی۔ بظلمہم ان کے ظلم کی وجہ سے یعنی چونکہ انہوں نے اپنے اوپر خود ظلم کیا تھا اس لئے آگ نے ان کو جلا ڈالا۔ ظلم کرنے سے مراد ہے ہٹ کرنا اور ایسی چیز کی درخواست کرنا جس کا ہونا اللہ کے دستور اور حکمت کے خلاف تھا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیدارِ الٰہی محال ہے (جیسا کہ معتزلہ کا خیال ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کا دیدار ناممکن ہے) اور یہودیوں نے ایک محال بات کی درخواست کی تھی اس لئے مستحق عذاب قرار پائے۔ ثم اتخذوا العجل من بعد ما جاء تہم البینت پھر کھلے کھلے معجزات آنے کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ فعفونا عن ذلک پھر (اللہ کی ہدایت کے مطابق انہوں نے توبہ کی اور باہم لڑ کر ایک دوسرے کو قتل کردیا تو) ہم نے اس (گناہ) سے درگزر کی۔ یعنی ان کی قوم کی مکمل بیخ کنی نہیں کی۔ (قتل موقوف کردینے کا حکم نازل کردیا) اس جملہ میں درپردہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو توبہ کرنے کی ترغیب ہے مراد یہ ہے کہ تمہارے اسلاف نے جب توبہ کرلی تو ہم نے ان کو معاف کردیا تم بھی توبہ کرو تاکہ ہم تم کو بھی معاف کردیں۔ واتینا موسیٰ سلطنا مبینا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا ہوا تسلط عطا کیا تھا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو آپس میں قتل کرنے کا حکم دیا (اور انہوں نے حکم کی تعمیل کی) یا سلطان مبینا سے مراد ہے واضح دلیل یعنی مخالفوں کے خلاف نو معجزات۔
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا

ورفعنا فوقہم الطور بمیثاقہم یعنی چونکہ انہوں نے قبول کرنے کا پختہ وعدہ کیا تھا اس لئے طور کو ہم نے ان کے اوپر اٹھا لیا۔ وقلنا لہم اور ہم نے ان سے کہا یعنی جب طور ان کے سروں پر سایہ افگن تھا اس وقت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے ہم نے کہلوایا۔ ادخلوا الباب سجدا کہ (ایلیا کے) دروازہ میں سر جھکائے داخل ہو۔ وقلنا لہم اور ہم نے ان سے کہا یعنی حضرت داؤد کی زبانی کہلوایا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آئندہ کلام بھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی اس وقت کہلوایا جب پہاڑ بنی اسرائیل کے سروں پر جھکا ہوا تھا کیونکہ سنیچر (کے روز کی عبادت) کی مشروعیت اسی دور میں ہوچکی تھی البتہ اس حکم کی خلاف ورزی اور عذاب مسخ حضرت داؤد کے زمانہ میں ہوا۔ لا تعدوا فی السبت سنیچر کے معاملہ میں زیادتی نہ کرو یعنی سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑ کر اپنے نفوس پر ظلم نہ کرو۔ واخذنا منہم میثاق غلیظا اور ہم نے ان سے پکا وعدہ لے لیا کہ وہ تورات کے حکم کو قبول کریں گے اور سنیچرکے معاملہ میں زیادتی نہیں کریں گے یہاں تک کہ انہوں نے بسر و چشم اس حکم کی تعمیل کا وعدہ کیا۔
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

فیما نقضہم میثاقہم وکفرہم بایت اللہ (یعنی انہوں نے توریت کے حکم کے خلاف کیا اور اپنے وعدہ کو توڑدیا اس کی سزا میں ہم نے بھی ان سے جو سلوک کرنا تھا کیا اور ان پر لعنت کی) ان کی عہد شکنی اور آیات خدا کے انکار کرنے کی وجہ سے۔ اس صورت میں لفظ مازائد ہوگا جو مضمون کلام کو پختہ کرنے کے لئے لایا گیا ہے اور بما کا تعلق فعل محذوف سے ہوگا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ ۔۔۔ٍسے ہو۔ اَیٰتِ اللّٰہِسے مراد ہیں توریت کی وہ آیات جن میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کا بیان ہے اور قرآن و انجیل بھی مراد ہیں۔ (یہ بھی آیات اللہ ہیں) وقتلہم الانبیآء بغیر حق اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے۔ وقولہم قلوبنا غلف اور ( رسول اللہ ﷺ سے) ان کے اس کہنے کی وجہ سے ہمارے دل غلاف ہیں یعنی علوم کے ظرف ہیں (ہمارے دل علوم سے بھرے ہوئے ہیں مزید علم کی ضرورت نہیں ) یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری دعوت اور ہمارے دلوں کے درمیان پردے حائل ہیں (تمہاری دعوت ہمارے دلوں تک پہنچ نہیں سکتی) حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بل طبع اللہ علیہا بکفرہم بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے یعنی دلوں کو علم سے محجوب کردیا ہے یا ان کو بےمدد چھوڑ دیا ہے اور آیات خداوندی میں غور کرنے کی توفیق عطا نہیں فرمائی۔ فلا یومنون الا قلیلا پس وہ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑا سا یعنی ایسا ناقص ایمان جو قابل اعتبار نہیں۔ مرادیہ کہ بعض کتابوں اور بعض پیغمبروں پر تو ان کا ایمان ہے اور بعض کتب و انبیاء پر ایمان نہیں رکھتے یا یہ مطلب ہے کہ ان میں سے تھوڑے آدمی ایماندار ہیں جیسے حضرت عبداللہ ؓ بن سلام اور ان کے دوسرے ساتھی۔ بعض علماء نے کہا آیت میں مطلق نفی ایمان مقصود ہے یعنی ان کا ایمان نہ ناقص ہے نہ کامل (کیونکہ عربی میں قلت بمعنی عدم مستعمل ہے)
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب

وبکفرہم اور (عیسیٰ ( علیہ السلام) کا) انکار کرنے کی وجہ سے۔ اس فقرہ کا عطف سابق کفرہم پر ہے سابق کفر عام تھا اور یہ کفر خاص ہے خاص کا عطف عام پر ہوجاتا ہے دونوں کفر متحد نہیں ہیں کہ ایک کا عطف دوسرے پر ناجائز ہو۔ یا یوں کہا جائے کہ وکفرہم پر تنہا بکفرہمکا عطف نہیں ہے بلکہ : بکفرہم وقولہم علی مریم بہتاناً عظیمًا وقولہم انا قتلنا۔۔ کے مجموعہ کا ہے (تو گویا معطوف علیہ معطوف کا جزء ہوگا اور یہ درست ہے جیسے کہتے ہیں امام نے اور سب لوگوں نے یہ بات کہی (امام بھی لوگوں کے لفظ میں داخل ہے وہ بھی ایک آدمی ہے) یا یوں کہا جائے کہ بکفرہمکا عطف فبما نقضہم پر ہے بار بار کفر کے صادر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے کفرہم دوبارہ فرمایا کیونکہ پہلے انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کی پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) اور داؤد و سلیمان ( علیہ السلام) کی پھر محمد ﷺ کی۔ یا یہ کہا جائے کہ مجموعۂ کلام کا مجموعۂ کلام سابق پر عطف ہے لہٰذا تکرار موجود ہی نہیں ہے۔ وقولہم علی مریم بہتانا عظیما اور مریم ( علیہ السلام) پر بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے یعنی مریم ( علیہ السلام) کو زانیہ قرار دینے کی وجہ سے۔
Ayah 4:157

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا

وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کو (جو بزعم خود) رسول اللہ تھا قتل کردیا یا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو رسول اللہ بطور استہزاء کہا ہو (کیونکہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی رسالت کا اعتقاد ان کا نہ تھا) یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کی جگہ برا لفظ کہا ہو ‘ لیکن اللہ نے ان کے لفظ کی جگہ اپنی طرف سے لفظ رسول اللہ بطور مدح فرما دیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ رسول اللہ کو برے الفاظ سے ذکر کرنے والے مستحق ملامت ہیں۔ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم اور انہوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نہ قتل کیا نہ صلیب دی بلکہ ان کو اشتباہ ہوگیا۔ روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کو گالیاں دیں آپ نے ان کے لئے بددعا کی حضرت کی بددعا سے اللہ نے ان کی صورتیں بندروں اور سوروں کی طرح کردیں اس پر سب یہودی آپ کے قتل پر متفق الرائے ہوگئے مگر اللہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ تم کو آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا۔ یہ قصہ سورت آل عمران میں گزر چکا ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم میں سے کون اس بات پر راضی ہے کہ اس کو میری شکل دے دی جائے اور اس کو قتل کر کے صلیب پر لٹکا دیا جائے اور جنت میں داخل ہوجائے ایک شخص نے اٹھ کر اظہار رضامندی کیا اللہ نے اس کی شکل حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) جیسی کردی۔ اس کو قتل کر کے صلیب دے دی گئی۔ کذا اخرج النسائی عن ابن عباس ؓ ۔ بغوی نے ذکر کیا ہے کہ اللہ نے اس شخص کی شکل عیسیٰ ( علیہ السلام) جیسی بنا دی تھی جس نے یہودیوں کو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نشان دہی کی تھی۔ ہم نے سورت آل عمران میں کلبی کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ یہودیوں کے سردار یہودا نے ایک شخص کو جس کا نام طیطانوس تھا مقرر کیا تھا کہ گھر میں گھس کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کر دے مگر اللہ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اٹھا لیا اور طیطانوس کی صورت عیسیٰ ( علیہ السلام) جیسی بنا دی جب وہ باہر نکل کر آیا تو لوگوں نے اس کو عیسیٰ سمجھ کر پکڑ کر مار ڈالا اور صلیب دے دی۔ بعض کا قول ہے کہ لوگوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو ایک مکان میں بند کردیا تھا اور ایک چوکیدار نگرانی کے لئے مقرر کردیا تھا۔ اللہ نے اس چوکیدار کی صورت عیسیٰ جیسی کردی اور لوگوں نے اسی کو قتل کردیا۔ واللہ اعلم۔ وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ کوئی شبہ نہیں کہ جن لوگوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قتل کے معاملہ میں اختلاف کیا وہ اس کے قتل کے متعلق تردد میں ہیں۔ کلبی نے کہا ان کا اختلاف یہ تھا کہ یہودی مدعی تھے ہم نے عیسیٰ ( علیہ السلام) قتل نہیں کیا اور نصاریٰ کا ایک گروہ قائل تھا کہ ہم نے قتل کیا اور نصاریٰ ہی کا ایک گروہ کہتا تھا نہ یہودیوں نے قتل کیا نہ عیسائیوں نے بلکہ اللہ نے ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ہماری نظروں کے سامنے ایسا ہوا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ نے طیطانوس کی صرف شکل عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح کردی تھی باقی جسمانی حالت اس کی اصلی تھی اس لئے کچھ لوگ کہنے لگے ہم نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کردیا صورت اسی کی تھی دوسرے لوگوں نے کہا نہیں قتل نہیں کیا جسم عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نہ تھا۔ سدی کا قول ہے اختلاف کی صورت یہ تھی کہ ان لوگوں نے کہا اگر یہ عیسیٰ ( علیہ السلام) ہے توہمہارا آدمی کہاں گیا اور یہ ہمارا آدمی ہے تو عیسیٰ ( علیہ السلام) کہاں گیا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ فیہ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملہ میں لوگوں نے اختلاف کیا کسی نے کہا عیسیٰ جھوٹا تھا ہم نے اس کو قتل کردیا اور ٹھیک کیا کچھ لوگوں کو تردد ہوا (کہ معلوم نہیں عیسیٰ جھوٹا تھا یا سچا اور ہم نے قتل صحیح کیا یا غلط) بعض لوگوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے سن لیا تھا کہ اللہ مجھے آسمان پر اٹھا لے گا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن سوائے تخمین پر چلنے کے ان کے پاس (عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قتل وعدم قتل کا) کوئی یقینی علم نہیں (یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے قتل کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں) وما قتلوہ یقینا اور یقینی امر ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کو انہوں نے قتل نہیں کیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کا خود بھی خیال ہے کہ عیسیٰ کو قتل کردینا یقینی امر نہیں فراء نے یہ مطلب بیان کیا کہ جس کو انہوں نے قتل کیا اس کے عیسیٰ ( علیہ السلام) ہونے کا ان کو یقین نہیں۔
Ayah 4:158

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے

بل رفعہ اللہ الیہ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اس جملہ میں عیسیٰ کے قتل کی تردید اور آپ کے اٹھائے جانے کا اثبات ہے۔ وکان اللہ عزیزا اور اللہ ہے زبردست۔ یہودیوں کو سزا دینے پر قادر۔ اس کو اس کے ارادہ سے کوئی نہیں روک سکتا۔ حکیما حکمت والا کہ یہودیوں پر لعنت و غضب نازل فرمایا اور صطیونس بن استسیانوس کو ان پر مسلط کیا جس نے ان کی قوم کا عظیم الشان قتل کیا یا حکیم ہونے سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملہ میں جو تدبیر کی وہ پُر حکمت تھی۔
Ayah 4:159

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے

وان من اہل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا شخص نہیں کہ اپنے مرنے سے پہلے (عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر) عیسیٰ پر ایمان نہ لے آئے یا محمد ﷺ پر ایمان نہ لے آئے یا اللہ کو نہ مان لے۔ نتیجہ مطلب ایک ہی ہے کیونکہ تمام پیغمبروں پر ایمان لائے بغیر اللہ کو ماننا قابل اعتبار نہیں اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لئے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو ماننا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان رکھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو ماننا لازم ہے۔ اوّل تفسیری قول اکثر اہل تفسیر اور جمہور علماء کا ہے دوسرا قول عکرمہ کا مروی ہے۔ قبل موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ علی ؓ بن ابی طلحہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول آیا ہے یعنی ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے ایمان لے آتا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا بتائیے اگر کوئی کتابی چھت کے اوپر سے گرجائے (تو کیا اس وقت بھی رسالت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اقرار کرے گا) فرمایا ہاں ہوا میں (یعنی زمین پر گرنے سے پہلے) عیسیٰ ( علیہ السلام) کا کلمہ پڑھ لے گا۔ دریافت کیا گیا اگر اس کی گردن ماری جا رہی ہو تو کیا کرے گا ‘ فرمایا لڑکھڑاتی زبان سے بولے گا۔ خلاصہ یہ کہ ہر کتابی مرتے وقت اللہ کی توحید اور محمد ﷺ اور عیسیٰ کی عبدیت و رسالت پر ایمان ضرور لائے گا۔ بعض علماء نے کہا کہ ہر کتابی کسی نے کسی وقت ضرور ایمان لاتا ہے اور زندگی میں نہ لائے تو مرتے وقت عذاب کو دیکھ کر اقرار ایمان کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں شاید اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ ہر کتابی (یہودی) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات کو تو مانتا ہی ہے اور یہ دونوں حضرت عیسیٰ اور انجیل اور داؤد و زبور اور محمد ﷺ اور قرآن کی صداقت کے شاہد ہیں کفر کا مظاہرہ محض عناد اور تعصب سے کرتا ہے ورنہ دل میں تو انصاف کرتا اور اعتقاد رکھتا ہی ہے کہ محمد ﷺ برحق ہیں آپ کی صداقت کی شہادت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات نے پہلے ہی دے دی ہے۔ اگر زندگی میں اس کو اس بات کا تصور نہیں ہوتا تو آخرکار مرنے کے وقت عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر تو اس کو یقین ہو ہی جاتا ہے کہ محمد ﷺ جو کچھ فرماتے تھے وہ سچ تھا۔ بہرحال آیت میں گویا وعید عذاب اور جلد از جلد ایمان لانے کی ترغیب ہے تاکہ مرنے کے وقت غیر اختیاری ایمان نہ لانا پڑے کیونکہ اس وقت اضطراری ایمان قبول نہ ہوگا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ بہٖاور موتہ دونوں ضمیریں عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں (یعنی ہر کتابی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا) مطلب یہ کہ جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) آسمان سے اتریں گے تو تمام اہل مذاہب آپ پر ایمان لے آئیں گے کسی مذہب والا بغیر ایمان لائے نہیں رہے گا۔ سب کی ملت ایک ہی ہوجائے گی یعنی سب ملت اسلامیہ پر ہوجائیں گے آیت کی یہ تفسیر حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آئی ہے صحیحین میں بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب ابن مریم ( علیہ السلام) حاکم منصف ہو کر تم میں اتریں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ ساقط کردیں گے مال بہائیں گے کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا یہاں تک کہ اس وقت ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا اگر تم (اس کا ثبوت) چاہتے ہو تو پڑھو : وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَبِ الاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖیعنی عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کے مرنے سے پہلے (ہر کتابی ایمان لے آئے گا) ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ان الفاظ کا اعادہ تین مرتبہ کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے سلسلہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک مرفوع روایت میں آیا ہے کہ عیسیٰ کے زمانہ میں سوائے اسلام کے تمام مذاہب ہلاک ہوجائیں گے (نابود ہوجائیں گے) ابن جریر اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول موقوفاً نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی بغیر ایمان لائے نہیں رہے گا۔ میں کہتا ہوں کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اترنا اور آپ کے زمانہ میں سوائے اسلام کے ہر مذہب کا نابود ہوجانا بالکل صحیح اور حق ہے اور صحیح مرفوع احادیث سے ثابت ہے لیکن کیا اس آیت سے بھی اس مضمون کا استنباط ہو رہا ہے اور دوسری ضمیر کو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف راجع کر کے آیت کی وہ تفسیر کی جاسکتی ہے جس سے مضمون مذکور کا استفادہ ہو سکے یہ بات قابل تسلیم نہیں۔ صرف حضرت ابوہریرہ ؓ : کا خیال اور رائے ہے کسی صحیح مرفوع حدیث میں مذکور نہیں اور نہ یہ تشریح درست ہے کیونکہ اس تفسیر پر تو صرف ان اہل کتاب کے مؤمن ہوجانے کی پیشین گوئی ہوگی جو نزول کے بعد حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں ہوں گے حالانکہ اِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِکا لفظ عام ہے ہر زمانہ کے اہل کتاب کو شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو اہل کتاب تھے اگر خصوصی طور پر ان کو مراد نہ بھی مانا جائے تب بھی عموم کے تحت تو وہ بھی آئیں گے کلام کا حقیقی اطلاق انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو وقت کلام میں موجود ہوں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ صرف وہی کتابی گروہ مراد ہو جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے نزول کے بعد ان کے زمانہ میں موجود ہو اس سے معلوم ہوا کہ مَوْتِہٖکی ضمیر حضرت عیسیٰ کی طرف راجع کرنا غلط ہے ہمارے اس قول کی تائید حضرت ابی بن کعب کی قرأت سے بھی ہوتی ہے جس میں قبل موتہ کی جگہ قبل موتہمآیا ہے (اس وقت تو ہم کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہی ہوگا۔ عیسیٰ کی طرف ضمیر راجع نہیں ہو سکے گی۔ ) ویوم القیمۃ یکون علیہم شہیدا اور قیامت کے دن وہ (یعنی عیسیٰ یا محمد ﷺ ان (مؤمنوں) کے گواہ ہوں گے کیونکہ اللہ اپنے بندوں کا شاہد ہے وَکَفٰی باللّٰہِ شَہِیْدًا اور انبیاء اپنی اپنی امتوں کے متعلق شہادت دیں گے اور رسول اللہ ﷺ ان سب کے گواہ ہوں گے۔
Ayah 4:160

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے

فبظلم من الذین ہادوا پھر یہودیوں کی بےجا حرکتوں کی وجہ سے ہی ظلم سے مراد وہی بےجا حرکات ہیں جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے یعنی وعدہ شکنی آیات خداوندی کا انکار۔ قتل انبیاء۔ مریم ( علیہ السلام) پر تہمت تراشی اور فخر کے ساتھ قتل مسیح کا دعویٰ کرنا۔ حرمنا علیہم طیبت احلت لہم وہ پاکیزہ چیزیں ہم نے ان کے لئے حرام کردیں۔ جو پہلے حلال کردیں گئی تھیں۔ ان طیبت محرمہکا ذکر سورة الانعام کی ان آیات میں کیا گیا ہے وَعَلَیَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍسے وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَتک۔ یہ بھی احتمال ہے کہ طیّبَات سے مراد جنت کی پاکیزہ نعمتیں ہوں یہ مطلب آیت : وَاَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَکے مناسب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طیّبات سے مراد ہو دنیوی حلال رزق اور حرام کردینے سے مراد ہو انکو بامر تقدیری ان حلال چیزوں سے محروم و بےبہرہ رکھنا یعنی باوجودیکہ دنیا میں حلال پاکیزہ رزق بہت ہے مگر اللہ نے یہودیوں کو حلال پاکیزہ رزق سے محروم کردیا پس سوائے حرام ناپاک روزی کے وہ اور کچھ نہیں کھاتے اور حرام روزی دوزخ کا مستحق بنا دیتی ہے۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو گوشت حرام سے پیدا ہو دوزخ اسکے لئے زیادہ موزوں ہے۔ وبصدہم عن سبیل اللہ کثیرا اور بہتوں کو راہ خدا یعنی ایمان اور رسول اللہ ﷺ کے اعتبار سے روکنے کی وجہ سے۔
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

واخذہم الربوا اور سود لینے کی وجہ سے۔ وقد نہوا عنہ حالانکہ (تورات میں) ان کو سود لینے سے منع کردیا گیا تھا ( نہی سے مراد ہے حرام کردینا) اس آیت میں دلیل ہے کہ نہی (ممانعت) موجب تحریم ہے (خواہ لفظ حرام نہ استعمال کیا گیا ہو) واکلہم اموال الناس بالباطل اور لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھانے کی وجہ سے۔ ہم نے پاکیزہ حلال چیزیں ان کے لئے حرام کردیں۔ ناجائز طریقوں سے مراد ہے رشوت ‘ دھوکہ دہی ‘ چوری ڈاکہ وغیرہ۔ بِصَدِّہِمْاور اَخْذِہِمْاور اکلہمسب کا عطف بِظُلْمٍپر ہے یعنی تحریم طیبات کے یہ سب اسباب ہیں۔ واعتدنا للکفرین منہم عذابا الیما اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لئے (دوزخ کے اندر) دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ چونکہ کلام سابق سے یہ توہم پیدا ہوسکتا تھا کہ حکم مذکور تمام اہل کتاب کو شامل ہے (حالانکہ بعض نیک ایماندار اہل کتاب اس سے مستثنیٰ تھے) اس وہم کو دور کرنے کے لئے آئندہ فرمایا۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے

لکن الراسخون فی العلم منہم لیکن ان میں سے جو لوگ علم (دین) میں پختہ ہیں جیسے عبداللہ ؓ بن سلام اور ان کے وہ کتابی ساتھی جو ایمان لے آئے تھے اور تقاضائے علم و دین پر ثابت قدم تھے۔ (1) [ بیہقی نے دلائل میں اور ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت کا نزول حضرت عبداللہ بن سلام اور اسید ؓ بن شعبہ اور ثعلبہ بن شعبہ کے بارے میں ہوا تھا یہ لوگ یہودیت کو چھوڑ کر مسلمان ہوگئے تھے۔] والمؤمنون اور ایمان رکھنے والے یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابی مہاجر اور انصار یا المؤمنون سے مراد بھی الراسخون فی العلمہی ہیں۔ یومنون بما انزل الیک جو اس (کتاب) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی۔ وما انزل من قبلک اور ان (کتابوں) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے (پیغمبروں پر) اتاری گئیں۔ والمقمین الصلوۃ اور (خصوصیت کے ساتھ) نماز قائم کرنے والے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت عائشہ ؓ : اور ابان بن عثمان ؓ : کا قول منقول ہے کہ اس جگہ اَلْمُقْیِمُوْنَ الصَّلٰوۃَ لکھنا چاہئے تھا ‘ اسی طرح سورة مائدہ میں اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصَّاءِبُوْنَمیں الصَّاءِبُوْنَاور آیت اِنَّ ہٰذَانِ لِسِاحِرَاِنمیں ہٰذَانِکاتب کی غلطی ہے (الصائبین اور ہٰذین ہونا چاہئے) حضرت عثمان ؓ نے بھی فرمایا تھا کہ مصحف میں کچھ (کتابت کی) غلطی ہے عرب پڑھتے وقت اپنی زبانوں پر خود اس کو ٹھیک کریں گے عرض کیا گیا آپ اس کو بدلوا کیوں نہیں دیتے فرمایا یونہی رہنے دو اس سے کسی حلال کی حرمت اور حرام کی حلت نہیں ہوجاتی۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ان قائلوں کا سہو ہے اجماعاً یہی صحیح ہے جو مصحف میں ہے۔ البتہ اس کی تاویل مختلف طور پر کی گئی ہے۔ کسی نے کہا کہ المقمین کا نصب مدح کی بناء پر ہے۔ یعنی امدح فعل محذوف ہے بعض نے کہا اعنی محذوف ہے۔ بعض نے کہا المقمین کا عطف ما انزل الیک پر ہے یعنی وہ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی ہے اور نماز قائم کرنے والوں پر بھی یعنی انبیاء پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ والموتون الزکوۃ اور جو زکوٰۃ دینے والے ہیں۔ والمؤمنون باللہ والیوم الاخر اور جو اللہ اور آخرت پر (صحیح) ایمان رکھنے والے ہیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان سے پہلے انبیاء و کتب پر ایمان لانے اور ایمان کی تصدیق کرنے والے اعمال یعنی اقامت صلوٰۃ و اداء زکوٰۃ کا ذکر کیا کیونکہ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ انبیاء و کتب پر ایمان اور اقامت صلوٰۃ و ادا زکوٰۃ ہی اصل مقصود ہے اللہ اور روز آخرت پر تو اہل کتاب بھی اپنے دعویٰ کے مطابق ایمان رکھتے ہی تھے۔ یہاں اس ایمان پر آمادہ کرنا مقصود ہے جو ان کو حاصل نہ تھا یعنی تمام انبیاء و کتب پر ایمان۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اوّل ایمان سے مراد ایمان مجازی اور دوسرے ایمان سے مراد ایمان حقیقی اور ایمان حقیقی ایمان مجازی (عرفی) اور پابندی شرائع پر مبنی ہوتا ہے (اس لئے ایمان مجازی کا پہلے ذکر کردیا) اولئک سنوتیہم اجرا عظیما یہ ہی لوگ ہیں جن کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے۔ ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ عدی بن زید (یہودی) نے کہا تھا ہم نہیں جانتے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد اللہ نے کسی شخص پر کوئی کتاب نازل کی ہو اس پر مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی

انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح ہم نے آپ کے پاس اسی طرح وحی بھیجی جیسی نوح ( علیہ السلام) کے پاس بھیجی تھی پیغمبروں میں سب سے پہلے حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ذکر اس لئے کیا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کی طرح آپ بھی آئندہ تمام انسانوں کے باپ تھے (کیونکہ طوفان کی وجہ سے سب لوگ ہلاک ہوگئے تھے اور جو کشتی میں بچ رہے تھے ان میں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی نسل کے علاوہ کسی شخص کی نسل باقی نہیں رہی) اللہ نے فرمایا ہے۔ وجعلنا ذریتہ ہم الباقین انہی کی نسل ہم نے باقی رکھی۔ اس کے علاوہ حضرت نوح کی یہ خصوصیات بھی تھیں کہ سب سے پہلے آپ نبی شریعت تھے۔ سب سے اوّل آپ ہی نے شرک پر عذاب آنے سے ڈرایا سب سے پہلے دعوت کو رد کردینے کی وجہ سے آپ ہی کی امت پر عذاب آیا۔ آپ ہی کی بددعا سے روئے زمین کے تمام باشندے ہلاک کر دئیے گئے۔ تمام پیغمبروں سے آپ کی عمر زیادہ تھی اور اس کو بجائے خود آپ کا معجزہ قرار دیا گیا فرمایا : لَبِثَرفِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ الاَّ خَمْسِیْنَ عَامًاآپ کا کوئی دانت نہیں گرا۔ کوئی بال سفید نہیں ہوا جسمانی طاقت میں کمی نہیں آئی۔ اتنی لمبی عمر تک آپ نے قوم کی ایذا رسانی پر صبر کیا۔ والنبین من بعدہ اور جیسے نوح ( علیہ السلام) کے بعد پیغمبروں کے پاس وحی بھیجی مثلاً ادریس ( علیہ السلام) ‘ ہود ( علیہ السلام) ‘ صالح ‘ شعیب ( علیہ السلام) وغیرہ۔ واوحینا الی ابراہیم واسمعیل واسحق و یعقوب اور جیسے ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی۔ والاسباط اور اسباط یعقوب ( علیہ السلام) یعنی اوّل اد یعقوب کے پاس۔ الاسباط سے مراد یا تو حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے بارہ بیٹے ہیں (اگر سب کو پیغمبر قرار دیا جائے) یا ان کی نسل سے ہونے والے پیغمبر۔ وعیسی وایوب ویونس وہرون وسلیمن اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ایوب ( علیہ السلام) اور یونس ( علیہ السلام) اور ہارون اور سلیمان کے پاس۔ الاسباط میں سے اِ ن پیغمبروں کے ناموں کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ یہ بڑے صاحب فضیلت تھے۔ واتینا داود زبورا اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو حضرت داؤد پر اتاری گئی تھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ زبور میں اللہ کی حمد و ثنا اور مجد کا بیان تھا۔ حضرت داؤد شہر سے باہر جنگل میں جا کر کھڑے ہو کر زبور کی تلاوت کرتے تھے اس وقت علماء بنی اسرائیل آپ کے پیچھے صف بستہ ہوتے تھے اور علماء کے پیچھے دوسرے لوگ اور سب آدمیوں کے پیچھے جنات حسب تفاوت درجہ کھڑے ہوتے تھے۔ پہاڑی چوپائے بھی آپ کے سامنے آکر سن کھڑے ہوجاتے اور تعجب سے تلاوت کو سنتے تھے اور پرندے بازو پھیلائے لوگوں کے سروں پر منڈلاتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا بیان ہے کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات تم مجھے دیکھتے میں تمہاری قرأت سن رہا تھا تم کو داؤد کے سروں میں سے ایک سر دیا گیا ہے۔ ابو موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو خدا کی قسم میں خوب خوش ادائیگی سے کام لیتا۔ حضرت عمر ؓ کی جب حضرت ابو موسیٰ ( علیہ السلام) سے ملاقات ہوتی تو آپ فرماتے ابوموسیٰ ( علیہ السلام) ہم کو کچھ نصیحت کرو (یعنی قرآن پڑھ کر سناؤ تاکہ ہم کچھ نصیحت حاصل کریں) حضرت ابوموسیٰ کچھ پڑھ کر سناتے۔