Ayah 4:57والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلہم جنت تجری من تحتہا الانہر خلدین فیہا ابدا لہم فیہا ازواج مطہرۃ . اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو ہم ضرور جنتوں میں داخل کریں گے جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان جنتوں کے اندر وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک ستھری بیبیاں ہوں گی۔
حاکم نے حضرت ابوسعید خدری کی روایت سے بیان کیا اور روایت کو صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ حیض ‘ پاخانہ ‘ ناک کی ریزش اور تھوک سے پاک ہوں گی۔ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے وہ حیض ‘ پاخانہ ‘ پیشاب ‘ ناک کی ریزش ‘ تھوک ‘ بلغم اولاد اور منی سے پاک ہوں گی۔ عطاء کی روایت بھی اسی طرح ہے۔
وندخلہم ظلا ظلیلا . اور ہم ان کو وسیع سایہ میں داخل کریں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا پھر بھی اس کو قطع نہ کرسکے اگر تم (اس کا ثبوت) چاہتے ہو تو پڑھو وَظِلِّ مَّمْدُوْدٍبخاری و مسلم۔
ابن ابی حاتم نے اس آیت کے ذیل میں ربیع بن انس ؓ کا قول لکھا ہے کہ یہ عرش کا سایہ ہوگا جس کو کبھی زوال نہ ہوگا۔ ظلیلصیغہ صفت (بروزن فعیل) ظل سے مشتق ہے اور مفید تاکید ہے جیسے شَمْسٌ شَامِسٌ (بہت روشن سورج) لَیْلٌ لَءِیْلٌ (بہت تاریک رات) یَوْمٌ اَیْوَمٌ (بہت لمبا دن) صفت کو ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جنت کی نعمت لازوال ہوگی (ہمیشہ رہے گی)
ابن مردویہ نے کلبی کی سند سے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرنے کے بعد عثمان ؓ بن طلحہ کو طلب فرمایا عثمان ؓ حاضر ہوگئے تو حکم دیا مجھے کنجی لا کر دے دو ۔ عثمان کنجی لے کر حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے کنجی لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو حضرت عباس ؓ نے فوراً کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ نثار ہوں ‘ حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے ساتھ یہ (دربانی) بھی مجھے عنایت کر دیجئے عثمان ؓ نے ہاتھ کھینچ لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا عثمان ؓ کنجی لاؤ۔ عثمان نے عرض کیا لیجئے مگر اللہ کی امانت میں۔ حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر کعبہ کا دروازہ کھولا پھر (اندر داخل ہوئے کچھ دیر کے بعد) باہر نکل کر طواف کیا پھر عثمان ؓ بن طلحہ کو طلب فرما کر کنجی ان کو دے دی اور آیت ذیل تلاوت فرمائی۔
Ayah 4:58ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اہلہا . اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو ادا کر دو ۔ سنید نے اپنی تفسیر میں حجاج بن جریح کی وساطت سے مجاہد (رح) کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول عثمان بن طلحہ ؓ کے حق میں ہوا۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبہ کی کنجی عثمان ؓ سے لے کر اندر داخل ہوئے پھر یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ قربان اس سے پہلے میں نے حضور : ﷺ کو یہ آیت پڑھے نہیں سنا۔ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آیت کا نزول کعبہ کے اندر ہوا۔ سعید بن مسیب کی روایت بھی اسی کی مثل آئی ہے اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ (حضور ﷺ نے فرمایا) اے اولاد طلحہ ؓ اس کو ہمیشہ کے لئے لے لو سوائے کافر کے تم سے اور کوئی ظلم کر کے اس کو نہیں لے گا۔
ابن سعد نے ابراہیم بن محمد عبدری کے بزرگوں کی روایت سے لکھا ہے کہ عثمان ؓ بن طلحہ نے بیان کیا ہجرت سے پہلے مکہ میں میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوئی آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں نے کہا محمد ﷺ ! مجھے تعجب ہے تم اپنی قوم کے دین کو چھوڑ کر نیا مذہب لائے اب تم کو یہ لالچ ہوگیا کہ میں بھی تمہارے نقش قدم پر چلو۔ عثمان ؓ نے کہا ہم پیر اور جمعرات کو دور جاہلیت میں کعبہ کھولا کرتے تھے ایک روز رسول اللہ ﷺ دوسرے لوگوں کے ساتھ کعبہ میں داخل ہونے کے ارادہ سے آئے میں نے ان سے سخت کلامی کی اور برا بھلا کہا آپ ﷺ نے تحمل سے کام لیا پھر فرمایا عثمان ؓ امید ہے کہ ایک روز تم اس کنجی کو میرے ہاتھ میں دیکھو گے میں جہاں چاہوں گا اس کا استعمال کروں گا میں نے کہا تو اس وقت قریش تباہ اور ذلیل ہوجائیں گے فرمایا نہیں۔ وہ آباد اور باعزت ہوں گے۔ یہ فرما کر کعبہ میں داخل ہوگئے مگر آپ کی بات میرے دل میں بیٹھ گئی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ جیسا آپ نے فرمایا ہے ضرور ایسا ہوجائے گا۔ اس لئے مسلمان ہونے کا ارادہ کیا۔ لیکن قوم والوں نے مجھے سخت سست خوب کہا اور روک دیا۔ فتح مکہ کا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا عثمان ؓ کنجی لا۔ میں کنجی لے کر حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے لے لی اور پھر مجھے واپس دے کر فرمایا یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لے لو تم سے اس کو سوائے ظالم کے اور کوئی نہیں چھین سکتا عثمان ؓ اللہ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے لہٰذا اس گھر کے ذریعہ سے تم کو جو کچھ ملے اس کو دستور کے مطابق کھاؤ جب میں منہ پھیر کر جانے لگا تو حضور ﷺ نے آواز دی میں لوٹ کر گیا تو فرمایا کیا وہی نہیں ہوا جو تم سے میں نے پہلے کہا تھا اس فرمانے سے مجھے وہ بات یاد آگئی جو ہجرت سے پہلے آپ ﷺ نے فرمائی تھی میں نے عرض کیا بیشک میں شہادت دیتا ہوں کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں۔
فاکہانی نے حضرت جبیر ؓ بن مطعم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب عثمان ؓ کو کنجی دے دی تو فرمایا اس کو چھپا کر رکھنا۔ زہری نے کہا اس حکم کی وجہ سے عثمان کنجی کو چھپا کر رکھتے تھے۔ میں کہتا ہوں کنجی کو چھپا کر رکھنے کا حکم شاید اس وجہ سے بھی دیا گیا تھا کہ لوگ کنجی اپنے پاس رکھنے کے خواستگار تھے جیسا کہ ابن مردویہ کی روایت سے ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ حضرت عباس ؓ کی اپنے پاس کنجی رکھنے کی خواہش تھی۔ ابن عابد اور ازرقی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا تھا کعبہ کی دربانی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت دونوں کو ہمارے لئے یکجا کر دے یجئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے عثمان کو بلوا کر فرمایا اے بنی طلحہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کو لے لو جو کوئی تم سے اس کو چھینے لگا وہ ظالم ہی ہوگا۔
عبدالرزاق اور طبرانی نے زہری کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کعبہ سے برآمد ہوئے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا ہم کو ہی نبوت ‘ حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت اور کعبہ کی دربانی دی گئی ہم سے بڑے نصیب والی کوئی قوم نہیں رسول اللہ ﷺ کو حضرت علی ؓ کا یہ قول ناگوار گزرا اور عثمان ؓ بن طلحہ کو بلوا کر کنجی دے کر فرمایا اس کو چھپائے رکھو۔
بغوی نے ذکر کیا ہے کہ فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ ﷺ : مکہ میں داخل ہوئے تو عثمان ؓ کعبہ کا دروازہ بند کر کے چھت پر چڑھ گئے حضور ﷺ نے کنجی طلب فرمائی۔ عرض کیا گیا کنجی عثمان کے پاس ہے اور اس نے دینے سے انکار کردیا اور کہا اگر مجھے یقین ہوتا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں تو میں کنجی دینے سے انکار نہ کرتا حضرت علی ؓ نے یہ سن کر عثمان ؓ کی گردن مروڑ دی اور کنجی لے لی اور دروازہ کھول دیا۔ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوگئے اور اندر دو رکعت نماز پڑھی جب باہر نکلے تو حضرت عباس ؓ نے کنجی مانگی اور درخواست کی کہ حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے ساتھ دربانی بھی مجھے عطا کردی جائے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ کنجی عثمان ؓ کو واپس کر دو اور اس سے معذورت بھی کرو۔ حضرت علی ؓ نے حکم کی تعمیل کی عثمان ؓ نے کہا تم نے مجھ پر جبر کیا ‘ دکھ دیا اور اب پچکارنے آئے ہو۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا تمہارے معاملہ میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے پھر آپ ﷺ نے آیت پڑھی عثمان ؓ نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں کعبہ کی کنجی عثمان کے پاس رہی مرتے وقت انہوں نے اپنے بھائی شیبہ ؓ : کو دے دی قیامت تک کعبہ کی کنجی اور دربانی انہی کی اولاد کے پاس رہے گی۔
فائدہ : آیت مذکورہ کا نزول اگرچہ بنی طلحہ کو کنجی دے دینے کے سلسلہ میں ہوا تھا مگر الفاظ کا حکم عام ہے ہر امانت کو اس کی امانت واپس کردینا واجب ہے۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایسا بہت ہی کم ہوا کہ حضور ﷺ نے خطبہ دیا ہو اور یہ نہ فرمایا ہو کہ جس میں امانتداری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پاسداری نہیں اس میں دین نہیں۔ شعب الایمان بیہقی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ ؓ بن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نفاق کی علامات میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ صحیحین۔ (1) [ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ سب سے پہلے لوگوں سے امانت اٹھا لی جائے گی اور سب سے آخر نماز باقی رہے گی اور بہت نمازی ایسے ہوں گے کہ ان کے اندر کوئی خیر نہ ہوگی (یعنی نماز دکھاوٹ کی ہوگی اسلامی محاسن مفقود ہوں گے)
ابن جریر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ (مندرجۂ ذیل امور کی) اجازت نہیں دی گئی نہ مال دار کو نہ نادار کو۔ بیہقی نے میمون بن مہران کا قول نقل کیا ہے کہ تین چیزیں ہیں جو نیک بد (ہر ایک) کو ادا کی جائیں (1) رشتہ داری کو جڑا رکھا جائے خواہ رشتہ داری نیک ہو یا بد (2) امانت ادا کی جائے خواہ نیک کی ہو یا بد کی (3) وعدہ پورا کیا جائے خواہ نیک سے کیا ہو یا بد سے۔ عبدالرزاق۔ ابن ابی شیبۃ۔ عبد بن حمید۔ ابن منذر۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں شہادت سوائے امانت کے باقی تمام گناہوں کو ساقط کردیتی ہے۔ قیامت کے دن بعض لوگوں کو (پیشی میں) لایا جائے گا خواہ وہ راہ خدا میں شہید ہوئے ہوں پھر بھی ان کو حکم دیا جائے گا اپنی امانت واپس کر۔ وہ شخص عرض کرے گا دنیا جاتی رہی اب کہاں سے ادا کروں حکم ہوگا اس کو ہاویہ میں لے جاؤ حکم کی تعمیل کی جائے گی قعر جہنم کے اندر امانت اپنی اصلی شکل میں (اس کے سامنے) آئے گی وہ امانت کو اپنے اوپر اٹھا کر اوپر کو چڑھنے لگے گا چڑھتے چڑھتے جب اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب میں امانت کا بوجھ اٹھائے باہر نکل جاؤں گا دفعتہ امانت پھسل کر نیچے گرپڑے گی اور اس کے ساتھ وہ شخص بھی ہمیشہ کے لئے اندر کو گرپڑے گا۔ راذان راوی کا بیان ہے حضرت ابن مسعود ؓ سے یہ بیان سن کر میں حضرت براء بن عازب ؓ کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ آپ کے بھائی ابن مسعود ؓ نے کیا فرمایا ؟ حضرت براء ؓ نے فرمایا ابن مسعود ؓ نے سچ کہا کیونکہ اللہ فرماتا ہے : ( اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤْدَوُّا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَہْلِہَا) اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں واپس کرو۔ امانت نماز میں بھی ہوتی ہے اور غسل جنابت میں بھی اور بات میں بھی اور ناپ تول میں بھی اور دین میں بھی اور ان سب سے زیادہ سخت وہ امانت ہے جس کا تعلق ودیعت (کے مال) سے ہو۔ (منہ)]
فائدہ : ادائے امانت کا حکم صرف مال ودیعت سے ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ جو حق بھی کسی کا کسی پر ہو وہ امانت ہے جس کا ادا کرنا واجب ہے جیسا کہ آیت کے شان نزول سے ظاہر ہو رہا ہے۔
صوفیہ صافیہ کا بیان ہے کہ ممکنات کا وجود اور لوازم وجود اور تمام کمالات ممکن کے ذاتی (از خود) نہیں بلکہ مرتبۂ وجوب سے مستفاد اور باری تعالیٰ کی طرف سے ایک مستعار ودیعت ہے ورنہ بذات خود ہر ممکن ان کمالات سے خالی ہے اور اس آیت کا اقتضاء ہے کہ امانت کو امانت والے کے سپرد کردینا اور اپنی ذات کو اس کا مالک نہ قرار دینا واجب ہے اگر بادشاہ کسی بھنگی کو خلعت فاخرہ اور لباس امیرانہ پہنا دے تو بھنگی کی یہی دانشمندی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ویسا ہی تصور کرے جیسے پہلے تھا اور خلعت کو بادشاہ کی عاریت سمجھے۔ صوفی پر بھی جب اس تصوری حالت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ اپنے کو اپنی ذات کے اعتبار سے معدوم اور فاقد الوجود سمجھتا ہے اور تمام کمالات سے خالی جانتا ہے بلکہ اپنے کو تمام مفاسد اور شرور کا مبداء خیال کرتا ہے یہی مرتبۂ فنا ہے اس سے آگے ایسی کھوئی کھوئی حالت بھی ہوجاتی ہے کہ اپنی ذاتی فنا اور کمالات سے خالی ہونے کا بھی اس کو خیال نہیں رہتا ‘ یہ مرتبہ فناء الفناء کا ہوتا ہے لیکن فنا ذاتی کے تصور کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی شہودی مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے کہ میرا وجود ہے میں موجود ہوں مگر میری یہ ہستی اور ہستی کے صفات میرے نہیں اللہ تعالیٰ نے بطور عاریت مجھے عطا فرمائے ہیں۔ ذات خداوندی اور صفات الٰہیہ کی وجہ سے میری ہستی اور ہستی کی صفات کی بقاء ہے (گویا واجب اصل ہے اور ممکن اس کا عکس) یہ مرتبہ بقاء (باللہ) کا ہے یہی مطلب ہے اس فرمان خداوندی کا جس کو حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے کہ میں مؤمن کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے ‘ الخ۔
اسی مرتبۂ فنا وبقاء کا نام صوفی کی نظر میں ادائے امانت ہے اس مرتبہ پر پہنچنے کے بعد کوئی صوفی تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ خود وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے کیونکہ اس کو اپنا نفس معدوم الوجود اور تمام کمالات سے خالی نظر آتا ہے ہاں اللہ نے جو فضائل و کمالات عطا فرمائے ہیں ان کو تذکرۂ انعام کے طور پر بیان کرنا اس کے لئے جائز ہوتا ہے کیونکہ کوئی فضیلت اس کی ذاتی نہیں ہوتی ہر کمال اور فضیلت کا رجوع اللہ کی طرف ہوتا ہے پس کسی فضیلت کے ذکر سے مراد ہوتا ہے اللہ کی عنایت کا اظہار اور کمال خداوندی کا بیان۔ فالحمد للہ۔
گویا اس آیت کا ربط گزشتہ آیت اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ بَلِ اللّٰہُ یُزَّکِیْ مَنْ یَّشَآءُسے ہے اور دونوں کے درمیان جتنا کلام ہے وہ معترضہ ہے (یعنی ماقبل اور مابعد کسی سے مربوط نہیں) دونوں آیات کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنے نفسوں کو پاک نہ قرار دو تمہارا کوئی کمال تمہارا نہیں ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اپنے نور کا ایک چمکارا اور اپنے سمندر کا ایک چھینٹا ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پاک ہوجاتا ہے۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ جو کمالات و فضائل اللہ نے تم کو بطور امانت عطا فرمائے ہیں ان کا رجوع اللہ ہی کی طرف کرو طہارت نفس کو اپنی کارگزاری نہ سمجھو بلکہ اللہ کا شکر اور حمد کرو کہ اس نے تم کو پاک کیا۔
بعض مشائخ کی زبان سے بعض اوقات اپنے فضائل کا اظہار بظاہر فخر کے لہجہ میں ہوا ہے جس سے جاہلوں کو اعتراض کا موقع ملا ہے مگر ان نادانوں کو معلوم نہیں کہ مشائخ جب اپنے تمام کمالات و فضائل کو بطور اداء امانت اللہ کی طرف لوٹا دیتے ہیں تو پھر ان کا ذکر کرنا انعام الٰہی کا اظہار ہوتا ہے فخر نہیں ہوتا بلکہ حکمت و مصلحت کے زیر اثر وہ اپنے مقامات و احوال کا اظہار کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل اور اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ جب لوگوں کے باہمی معاملات کا فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔
انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا بھی ادائے امانت کی ایک شاخ ہے اور انصاف نہ کرنا خیانت ہے۔ اسی طرح اللہ ‘ رسول اور اولی الامر کی اطاعت جس کا حکم آئندہ آیت میں دیا گیا ہے ادا امانت دہ۔
حضرت ابوذر ؓ کا بیان ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے عامل (حاکم) بنا دیجئے (یعنی کوئی انتظامی کام مجھ سے لیجئے) فرمایا : تم کمزور ہو اور یہ (حکومت) ایک امانت ہے قیامت کے دن یہ رسوائی اور پشیمانی (کا ذریعہ) ہوگی۔ ہاں جس شخص نے اس کو حق کے ساتھ لیا اور پھر اس کے حق کو ادا کیا (وہ رسوا نہ ہوگا) ۔
دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے حضور ﷺ نے فرمایا : ابوذر ؓ میں تم کو کمزور پاتا ہوں ‘ تمہارے لئے وہی بات پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں پر بھی حکومت نہ کرنا اور یتیم کے مال کا متولی نہ بننا۔ رواہ مسلم۔
ان اللہ نعما یعظکم بہ یعنی ادائے امانت اور انصاف حکم بہت اچھی چیز ہے جس کی اللہ تم کو نصیحت کر رہا ہے۔
ان اللہ کان سمیعا بیشک اللہ (تمہارے اقوال و احکام کو) سننے والا اور
بصیر (امانتوں کے سلسلہ میں تم جو کچھ کرتے ہو اس کو) دیکھنے والا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصاف کرنے والے (قیامت کے دن) رحمن کے دائیں ہاتھ کی طرف نور کے ممبروں پر ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہی لوگ ہوں گے جو فیصلوں میں اور فیصلہ کے فریقوں میں اور اپنے زیر حکومت امور میں انصاف کرتے ہیں۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوسعید ؓ خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کا سب سے زیادہ محبوب و مقرب منصف حاکم ہوگا اور قیامت کے دن اللہ کا سب سے زیادہ مبغوض اور سخت ترین عذاب کا مستحق ظالم حاکم ہوگا۔ دوسری روایت میں سخت ترین عذاب والا کی جگہ قرب الٰہی سے بعید ترین کا لفظ آیا ہے ‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے سایہ (رحمت) کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانے۔ فرمایا وہ لوگ (رحمت کے سایہ کی طرف سے سب سے آگے ہوں گے) جن کو اگر ان کا حق دیا جائے تو قبول کرلیتے ہیں اور اگر ان سے حق مانگا جائے تو دے دیتے ہیں اور لوگوں کا فیصلہ اس طرح کرتے ہیں جیسا اپنی ذات کے لئے کرتے ہیں۔ رواہ احمد بیہقی نے شعب الایمان میں بھی حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت سے اسی طرح مرفوع حدیث نقل کی ہے۔
Ayah 4:59یایہا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم اے اہل ایمان اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور تم میں سے جو حاکم ہوں (ان کا حکم مانو)
بخاری ‘ مسلم اور اصحاب سنن (ابن ماجہ ‘ نسائی ‘ ابوداؤد وغیرہ) نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبداللہ بن حذافہ کے حق میں ہوا تھا جن کو ایک دستہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا۔
ابن جریر ؓ اور ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد ؓ بن ولید کو ایک فوجی دستہ کے ساتھ بھیجا۔ اس دستہ میں حضرت عمار بن یاسر بھی تھے۔ فوجی دستہ ان لوگوں کی طرف روانہ ہوگیا جن پر چڑھائی کرنی مقصود تھی۔ صبح کو جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو سارے آدمی بھاگ چکے تھے صرف ایک شخص باقی تھا۔ اس نے حضرت عمار ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر اظہار اسلام کردیا اور کلمۂ شہادت پڑھ دیا۔ حضرت عمار ؓ نے فرمایا ٹھہرو تم کو مسلمان ہونے سے فائدہ ہوگا۔ صبح کو جب حضرت خالد ؓ نے (اس بستی پر) حملہ کیا تو حضرت عمار نے فرمایا اس شخص کو رہنے دو یہ مسلمان ہوچکا ہے اور میری پناہ میں آگیا ہے۔ دونوں میں سخت کلامی ہوئی اور (واپسی کے بعد) دونوں نے معاملہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں پیش کیا۔ حضور ﷺ نے حضرت عمار ؓ کی پناہ دہی کو قائم رکھا مگر آئندہ سردار کے خلاف ایسا کرنے کی ممانعت فرما دی۔ حضور ﷺ کے سامنے بھی دونوں میں درشت کلامی ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا خالد ؓ عمار کو گالی نہ دو جو عمار ؓ : کو گالی دے گا اللہ تعالیٰ اس کو برے کہے گا اور جو عمار ؓ سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے نفرت کرے گا اور جو عمار ؓ پر لعنت کرے گا اللہ اس پر لعنت کرے گا۔ یہ فرمان سن کر حضرت خالد فوراً حضرت عمار ؓ سے معذرت خواہ ہوئے اور حضرت عمار ؓ ان سے راضی ہوگئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
ابو شیبہ وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ اولی الامر سے مراد ہیں حکام۔ دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں ‘ فوجی دستوں کے سردار (مراد) ہیں۔ اولی الامر کا لفظ عام ہے اس میں بادشاہ بھی داخل ہیں اور شہروں کے حکام بھی اور جج مجسٹریٹ بھی اور فوجی دستوں اور لشکروں کے کمانڈر بھی۔
حضرت علی ؓ : کا ارشاد ہے۔ امام (حاکم) پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ کرے اور امانت کو ادا کرے جب وہ ایسا کرے تو رعیت پر لازم ہے کہ اس کی بات سنیں اور حکم مانیں۔ حضرت حذیفہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کا اتباع کرنے جو میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر ؓ ۔ رواہ الترمذی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ جو حاکم کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے جو حاکم کی نافرمانی کرتا ہے وہ میری نافرمانی کرتا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم۔
حضرت عبادہ ؓ بن صامت کا بیان ہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی اس امر پر کہ حضور ﷺ : کا حکم سنیں گے اور مانیں گے۔ دشواری میں بھی اور آسانی میں بھی ‘ خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی اور حکام سے ان کے حکم میں کوئی کشاکشی نہیں کریں گے اور جہاں ہوں گے حق کو قائم کریں گے اور حق بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (حاکم کا حکم) سننا اور ماننا خواہ کسی ایسے (حقیر) حبشی غلام کا حکم ہو جس کا سر کشمش کی طرح ہو۔ رواہ البخاری۔
حضرت ابوامامہ ؓ : کا بیان ہے میں نے خود سنا رسول اللہ ﷺ نے حج وداع کے خطبہ میں فرمایا تھا ‘ اللہ سے ڈرو پانچویں نمازیں پڑھو۔ اپنے مہینے کے روزے رکھو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اور جب بھی کوئی تم کو حکم دے اس کو مانو تو اپنے رب کی طرف سے عطا کی ہوئی جنت میں داخل ہو گے۔ رواہ الترمذی۔
شوہر بیوی کو حکم دیتا ہے آقا غلام کو حکم دیتا ہے باپ اولاد کو حکم دیتا ہے۔ یہ سب اولی الامر کی فہرست میں داخل ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ خوب سن لو تم میں سے ہر ایک (ذمہ دار) نگران ہے اور جس کی نگرانی اس کے سپرد ہے۔ اس کے متعلق وہ جواب دہ بھی ہوگا۔ حاکم رعایا کا نگراں ہے رعایا کے متعلق باز پرس اس سے ہوگی۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے گھر والوں کے متعلق سوال اس سے ہوگا۔ غلام اپنے آقا کے مال (مویشی وغیرہ) کا نگراں ہے اس کی باز پرس اس سے ہوگی (بہرحال) تم میں سے ہر ایک (کسی نہ کسی کا ذمہ دار) نگراں ہے اور اس سے اسی کی باز پرس ہوگی۔ صحیح بخاری و مسلم۔ (1) [ عکرمہ نے اولی الامر کی تفسیر میں کہا ابوبکر و عمر (اولی الامر) تھے۔ کلبی نے کہا ابوبکر و عمر و عثمان و علی اور ابن مسعود ؓ مراد ہیں۔ عکرمہ سے دریافت کیا گیا کہ جن باندیوں کے اولاد ہوجائے ان کا کیا حکم ہے عکرمہ نے کہا وہ آزاد ہوجاتی ہیں سائل نے سوال کیا۔ آپ کے قول کی دلیل کیا ہے۔ عکرمہ نے کہا قرآن۔ لوگوں نے پوچھا قرآن کی کون سی آیت فرمایا اَطِیُعْوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسْوُلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِمِنْکُمْحضرت عمر ؓ نے جو اولی الامر میں سے تھے فرمایا ہے کہ باندی خواہ ناتمام بچہ ہی جنے مگر (جننے کے بعد) آزاد ہوجاتی ہے۔ حضرت عمران ؓ بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ جب کسی کو کہیں کا حاکم بناتے تو فرمان میں یہ لکھ دیتے تھے کہ اس کا حکم سنو اور جب تک یہ انصاف کرے اس کا حکم مانو۔
حضرت عمر ؓ نے یہ بھی فرمایا تھا سننا اور (حاکم کا) حکم ماننا خواہ کسی حبشی نکٹے غلام کو تمہارا غلام بنا دیا جائے اگر وہ تم کو مارے تو صبر کرنا۔ اگر وہ تم کو مارے تو صبر کرنا اور اگر وہ کوئی ایسا حکم دے جس سے تمہارے دین کی شکست ہوتی ہو تو کہہ دینا اپنا خون دے دیں گے دین نہیں دیں گے۔]
اولی الامر کا لفظ فقہاء علماء اور مشائخ کو بدرجۂ اولی شامل ہے کیونکہ یہی گروہ انبیاء کا وارث ہے اور خدا و رسول کے احکام کا امین ہے۔ ابن جریر اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اولی الامر ہیں فقہ اور دین والے۔ دوسری روایت میں ہے اولی الامر ہیں اہل علم۔ ابن ابی شیبہ اور حاکم وغیرہ نے بھی اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے۔ ابوالعالیہ اور مجاہد کی روایت بھی اسی طرح ہے اور اللہ نے خود ہی فرمایا ہے : وَلَوْا رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُوْلِی الْاَمْرِ وَمِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ ۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ رواہ احمد والترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا (تمام) لوگ تمہارے پیرو ہیں اور بہت سے لوگ دنیا کے کناروں سے تمہارے پاس دین کے مسائل سمجھنے کے لئے آئیں گے۔ رواہ الترمذی عن ابی سعید الخدری۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ : حاکم کی اطاعت صرف اس وقت واجب ہے جب اس کا حکم شرع کے خلاف نہ ہو آیت کی رفتار سے یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلے اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیا اس کے بعد حاکموں کی اطاعت کا امر کیا اس سے معلوم ہوا کہ جب تک حکام عدل پر قائم ہوں ان کی اطاعت واجب ہے اس سے آگے خود صراحت فرما دی : فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْ ءٍ فَرْدُّوْہُ ۔۔ اگر کسی مسئلہ میں تمہارے آپس میں اختلاف ہوجائے تو (صحیح فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول ﷺ کے (احکام کی) طرف رجوع کرو۔
بعض علماء کا بیان ہے کہ اولی الامر کا لفظ بتارہا ہے کہ جن امور کا حکام کو اختیار دیا گیا ہے اور جن چیزوں کا ان کو حاکم بنایا گیا ہے یعنی حکم میں اگر وہ عدل کریں تو ان امور میں اطاعت واجب ہے اور جن امور کو واجب کرنے کا اللہ نے ان کو اختیار نہیں دیا ہے ان امور میں اطاعت واجب نہیں (بلکہ بعض صورتوں میں اطاعت حرام ہے) اس لئے اگر کوئی حاکم کسی کو حکم دے کہ اپنے مال میں سے ہزار روپیہ فلاں شخص کو دے دو تو حکم کی تعمیل ضروری نہیں۔
مسئلہ : اگر قاضی کسی سے کہے میں نے فلاں شخص کو سنگسار کرنے یا مارنے یا اس کا ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دے دیا ہے تم یہ خدمت انجام دو تو جس شخص کو حکم دیا جا رہا ہے وہ (بلا تحقیق) حکم کی تعمیل کرسکتا ہے۔ لیکن ایک روایت میں آیا ہے کہ امام محمد نے اس فتویٰ سے رجوع کرلیا تھا اور فرمایا تھا جب تک قاضی کے فیصلہ کی اطمینان بخش دلیل نہ معلوم ہوجائے صرف حکم کی تعمیل جائز نہیں۔ مشائخ نے اسی قول کو پسند کیا ہے کیونکہ اس زمانہ میں قاضیوں کے حالات بگڑ چکے ہیں۔
امام ابو منصور (ماتریدی) نے فرمایا ‘ اگر قاضی متقی اور عالم ہو اس کا حکم واجب القبول ہے کیونکہ غلطی اور بددیانتی کا احتمال نہیں ہے اور اگر جاہل متقی ہو تو فیصلہ کی (مدلل) تشریح اس سے پوچھی جائے گی اگر وہ صحیح تشریح کر دے گا تو حکم قبول کیا جائے گا ورنہ تعمیل نہیں کی جائے گی اگر فاسق ہو (خواہ عالم ہی ہو) تو چونکہ بددیانتی اور غلطی کا احتمال ہے اس لئے بغیر تحقیقی دلیل سمجھے اس کا حکم قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہدایہ۔
بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول عبداللہ بن حذافہ بن قیس کے متعلق ہوا تھا۔ عبداللہ کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دستہ کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔
داؤدی نے (اس کی تشریح میں اس طرح) بیان کیا کہ عبداللہ ؓ بن حذافہ ایک لشکر کے قائد بنا کر بھیجے گئے۔ کسی جگہ پہنچ کر اپنے لشکر پر عبداللہ ؓ کو غصہ آگیا اور آگ بھڑکا کر آپ نے حکم دیا اس میں (سب) گھس جاؤ۔ اس حکم کی تعمیل سے بعض لوگوں نے انکار کردیا اور بعض نے تعمیل کا ارادہ کرلیا۔ حافظ ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ اس قصہ میں اس آیت کے نزول کا مقصد ہے یہ حکم جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
فان تنازعتم فی شی . کہ اگر کسی بات میں تمہارا اختلاف ہوجائے (تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو) یہ قول مجاہد کا ہے کہ اگر علماء کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو اللہ اور رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو۔
شی : (بات یا مسئلہ) سے مراد ہے امیر کا حکم یعنی امیر کے حکم کے متعلق اختلاف ہوجائے ‘ کوئی اس مسئلہ میں اطاعت امیر کو ناجائز کہتا ہو اور کوئی واجب قرار دیتا ہو۔
فردوہ الی اللہ تو اس مسئلہ کو اللہ کی طرف یعنی اللہ کی کتاب کی طرف موڑ دو ۔
والرسول اور رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیر دو ۔ جب تک رسول ﷺ زندہ ہیں اور وفات کے بعد ان کی سنت کی جانب رجوع کرو۔
رہے وہ مسائل جن کی صراحت نہ قرآن میں ہے نہ فرمان رسول ﷺ میں تو ان میں اجماع اور قیاس کی طرف رجوع کرنا چاہئے کیونکہ اجماع اور قیاس (خود مستقل حیثیت نہیں رکھتے بلکہ) کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی طرف لوٹتے ہیں۔ رجوع کے بعد اگر شرعاً اس کی اطاعت واجب ہوتی ہو تو اطاعت کرو ورنہ مت کرو۔
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (امیر کا حکم) سننا اور اس کو ماننا مسلمان شخص پر واجب ہے خواہ پسند ہو یا ناپسند بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیا گیا ہو۔ اگر معصیت کا حکم دیا گیا ہو تو نہ سننا جائز ہے نہ ماننا (صحیحین) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ گناہ کے کام میں کسی کی اطاعت درست نہیں ‘ اطاعت صرف نیکی میں ہونی چاہئے۔ صحیحین۔
حضرت عمران ؓ بن حصین اور حضرت حکیم بن عمرو غفاری کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ خالق کی نافرمانی ہو تو مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ رواہ احمد والحاکم۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔
مسلمہ بن عبدالملک بن مروان نے ابوحازم سے کہا۔ کیا تم کو آیت وَاُولِی الْاَمِرْ مِنْکُمْمیں ہماری اطاعت کا حکم نہیں دیا گیا۔ ابوحازم نے فرمایا آیت فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیَْ شْئٍ فَرُدُّوہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ : میں تمہاری اطاعت کے حکم کی نفی نہیں کردی گئی جب کہ تم حق کی مخالفت کرو (یعنی تم حق کے خلاف کرتے ہو تو اس آیت میں تمہاری اطاعت نہ کرنے کا حکم ہے) (مدارک)
مسئلہ : اگر کسی حاکم کا حکم قاضی کے پاس اجراء کی غرض سے آئے تو اس کو جاری کردینا چاہئے بشرطیکہ قرآن کے مخالف نہ ہو۔ مثلاً مدعی کی قسم اور ثبوت کی ایک شہادت پر اگر حاکم نے کسی کو ڈگری دے دی ہو تو ایسے حکم کو جاری نہ کرنا چاہئے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : فَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالَکُمْ الخ۔
اگر حدیث مشہور کے خلاف ہو تب بھی جاری نہ کرنا چاہئے جیسے اگر کسی نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ہوں اور (حلالہ کے طور پر) کسی دوسرے مرد نے نکاح کرلیا اور بغیر قربت صنفی کے اس نے طلاق دے دی ہو اور حاکم حکم دے کہ اب اس عورت سے پہلے شوہر کے لئے نکاح حلال ہوگیا تو ایسا حکم جاری نہ کرنا چاہئے کیونکہ حضرت رفاعہ ؓ کی بیوی کے متعلق حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرا نکاح اس سے درست نہیں ہوسکتا۔ جب تک دوسرا شوہر تیری چاشنی نہ چکھ لے اور تو اس کی چاشنی نہ چکھ لے۔ ہم نے یہ حدیث سورة بقرہ میں ذکر کردی ہے۔
اگر حاکم کا حکم اجماع کے خلاف ہو تب بھی قاضی اس کا اجراء نہ کرے جیسے حاکم نے اگر حکم دیا ہو کہ جس جانور کو ذبح کرتے وقت قصداً اگر بسم اللہ پڑھنی ترک کردی تو ایسا ذبیحہ حلال ہے یہ حکم صحابہ ؓ کے اجماع کے خلاف ہے اس لئے ناقابل اجراء ہے۔ ہدایہ
مسئلہ : اگر مجتہد کا فتویٰ قرآن اور حدیث کے خلاف ہو اور یہ معلوم بھی ہوجائے تو قرآن و حدیث پر چلنا (اور اجتہادی فتویٰ کو ترک کرنا) ہم پر لازم ہے۔ بیہقی نے مدخل میں صحیح اسناد کے ساتھ لکھا ہے کہ عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا۔ میں نے خود سنا امام ابوحنیفہ فرما رہے تھے اگر رسول اللہ ﷺ : کی کوئی حدیث آجائے (یعنی مل جائے) تو بسروچشم (میں اس کو قبول کروں گا) روضۃ العلماء میں ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ‘ میرے قول کو رسول اللہ ﷺ کے فرمان اور صحابہ ؓ کے قول کے مقابلہ میں ترک کر دو ۔ امام صاحب (رح) کا یہ قول بھی روایت میں آیا ہے کہ اگر حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔
فان تنازعتم : میں خطاب حکام کو بھی ہوسکتا ہے پہلے بصیغۂ غائب ذکر تھا اس جگہ بصورت خطاب ہوگا۔
ان کنتم تو منون باللہ والیوم الاخر . اگر اللہ اور روز آخرت پر تم ایمان رکھتے ہو۔ کلام سابق جزاء پر دلالت کر رہا ہے اس لئے جزا (کو ذکر کرنے یا محذوف قرار دینے) کی ضرورت نہیں۔
ذلک . یہ یعنی اللہ اور رسول کی طرف رجوع۔
خیر . تمہارے لئے بہتر ہے یعنی اپنے ذہنی خیال پر جمے رہنے سے بہتر ہے۔
واحسن تاویلا . اور تاویل کے اعتبار سے بہتر ہے۔
ابن جریر نے بحوالۂ شعبی لکھا ہے کہ ایک یہودی اور ایک منافق میں کچھ جھگڑا تھا۔ یہودی معاملہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ حضور ﷺ فیصلہ رشوت کھا کر نہیں کرسکتے اور منافق یہودیوں سے فیصلہ کرانا چاہتا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ وہ رشوت لے لیں گے اور رشوت لے کر فیصلہ میں جنبہ داری کرسکیں گے۔ بالآخر دونوں باتفاق رائے قبیلۂ جہینہ کے ایک کاہن کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا مقدمہ فیصلہ کے لئے اس کے سامنے رکھا۔
ثعلبی نے ابن عباس ؓ سے اور ابن ابی حاتم نے ابوالاسود سے مرسلاً نیز بغوی نے کلبی کا قول بواسطۂ ابو صالح از حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ ایک یہودی سے ایک منافق کا جس کا نام بقول کلبی بشر تھا۔ کچھ جھگڑا تھا یہودی نے فیصلہ کرانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی منافق کو دعوت دی اور منافق نے کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے کے لئے یہودی سے خواہش کی۔ یہودی نے کعب بن اشرف کے پاس جانے سے انکار کردیا اور رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرانے پر اصرار کیا مجبوراً منافق کو بھی حضور اقدس ﷺ کی طرف آنا پڑا۔ غرض دونوں خدمت گرامی میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ کردیا جب دونوں خدمت اقدس سے اٹھ کر باہر آئے تو منافق یہودی کو چمٹ گیا اور بولا (فیصلہ کے لئے) عمر ؓ کے پاس چل۔ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچے یہودی نے عرض کیا میں اور یہ شخص اپنا باہمی مقدمہ لے کر محمد ﷺ کے پاس گئے تھے انہوں نے اس کے خلاف مجھے ڈگری دے دی لیکن یہ ان کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور مجھے آپ کے پاس لے کر آیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے منافق سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے۔ منافق نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر ؓ نے فرمایا ذرا ٹھہرو وہیں (اندر جا کر ابھی) باہر آتا ہوں چناچہ آپ گھر میں گئے۔ وہاں سے تلوار لی ‘ پھر باہر نکل کر منافق کو قتل کردیا اور فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو میں اس کا فیصلہ اسی طرح کرتا ہوں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:60الم تر الی الی الذین یزعمون انہم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کتاب آپ ﷺ پر نازل ہوئی اور جو کچھ آپ سے پہلے نازل ہوا سب پر ایمان رکھتے ہیں ان سے مراد منافق ہیں۔
یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت .(پھر بھی) طاغوت کے پاس اپنا فیصلہ کرانے لئے جانا چاہتے ہیں۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا تھا کہ عمر ؓ نے حق کو باطل سے جدا کردیا اسی لئے آپ کا نام فاروق ہوگیا۔
طاغوت سے مراد ہے کعب بن اشرف یا قبیلۂ جہینہ کا کاہن (طغیان کا معنی ہے حد سے تجاوز کرنا) چونکہ یہ دونوں حق کی حدود سے متجاوز تھے اس لئے ان کو طاغوت کہا گیا یا یوں کہا جائے کہ (طاغوت شیطان کو کہا جاتا ہے) یہ دونوں شیطان ‘ شیطان سے مشابہ تھے۔ یا یہ کہا جائے کہ ان دونوں کے پاس فیصلہ کے لئے جانا حقیقت میں شیطان کے پاس فیصلہ کے لئے جانا تھا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ابو برزہ اسلمی ایک کاہن تھا جو یہودیوں کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ کرتا تھا (یہودیوں کی تقلید میں) کچھ مسلمان بھی اس کے پاس فیصلہ کرانے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ابن ابی حاتم نے عکرمہ یا سعید کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ حلاص بن صامت اور معتب بن قشیر اور رافع بن زید اور بشرع اسلام کے مدعی تھے۔ ان کی قوم والوں کا کچھ ان سے جھگڑا تھا۔ قبیلہ کے مسلمانوں نے ان کو دعوت دی کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چل کر جھگڑے کا تصفیہ کرا لیں لیکن ان لوگوں نے کہا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جو حکام تھے یعنی کاہن انہی سے چل کر فیصلہ کراؤ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے سدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ کچھ یہودی (دل سے سچے) مسلمان ہوگئے تھے اور کچھ منافق تھے جاہلیت کے زمانہ میں بنی قریظہ اور بنی نضیر کا یہ باہمی دستور تھا کہ کوئی قریظی اگر کسی نضیری کو قتل کردیتا تو اس سے قصاص لیا جاتا ‘ یا دیت میں سو وسق چھوارے لئے جاتے اور نضیری اگر کسی قریظی کو قتل کردیتا تو قصاص نہیں لیا جاتا بلکہ صرف ساٹھ وسق چھوارے خون بہا میں دیئے جاتے۔ نضیر قبیلۂ اوس کے ہم عہد تھے اور بنی قریظہ خزرج کے حلیف۔ نضیر قریظہ سے مرتبہ میں بھی اونچے تھے اور تعداد میں بھی زیادہ تھے۔
جب اسلام آیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ میں رونق افروز ہوئے تو ایک بار کسی نضیری نے کسی قریظی کو قتل کردیا تھا مقدمہ چلا تو بنی نضیر نے کہا ہمارا تمہارا یہ مسلمہ دستور تھا کہ ہم تم کو قتل کردیں تو تم قصاص نہیں لے سکتے بلکہ خون بہا میں ساٹھ وسق چھوارے لو گے اور تم قتل کرو گے تو دیت میں سو وسق چھوارے دینے ہوں گے لہٰذا تم ہم سے ساٹھ وسق چھوارے لے لو۔ قبیلۂ خزرج والوں نے (اپنے ہم عہد قریظہ کی طرف سے) کہا یہ تو جاہلیت کا عمل تھا ہم کم تھے تمہاری تعداد زیادہ تھی تم ہم پر غالب تھے اب تو ہم تم بھائی بھائی ہیں۔ ہمارا تمہارا مذہب ایک ہے تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ دونوں طرف کے کچھ منافق بولے ابو برزہ اسلمیٰ کاہن کے پاس فیصلہ کرانے چلو لیکن دونوں فریقوں کے مسلمانوں نے کہا وہاں نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چلو۔ منافق اپنی بات پر جم گئے اس پر اللہ نے آیت قصاص اور یہ آیت نازل فرمائی۔
وقد امروا ان یکفروا بہ باوجودیکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ طاغوت کو نہ مانیں یعنی اس کی مخالفت اور اظہار بیزاری کریں۔ آیت : یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرْ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍمیں بھی کفر کا معنی مخالفت اور اظہار بیزاری ہے۔ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ یہودیوں ‘ کاہنوں کی اور شیطانوں کی مخالفت کریں اور ان سے علیحدگی اختیار کریں اللہ نے فرمایا ہے : لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَاریٰ اَوْلِیَآءَ : یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کاہن کے پاس جا کر اس کے بیان کی تصدیق کی یا حیض کی حالت میں عورت سے صنفی قربت کی یا عورت سے لواطت کی وہ اس (حکم) سے الگ ہوگیا جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ رواہ احمد واصحاب السنن بسند صحیح عن ابی ہریرہ ؓ ۔
طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت واثلہ کی روایت سے لکھا ہے کہ جو شخص کاہن کے پاس جا کر اس سے کچھ پوچھتا ہے چالیس دن تک اس کی توبہ روک دی جاتی ہے (یعنی توبہ کا دروازہ بند کردیا جاتا ہے توبہ قبول نہیں ہوتی) اس کے بعد اگر اس نے کاہن کے قول کی تصدیق کی تو کافر ہوگیا۔
ویرید الشیطن اور شیطان چاہتا ہے یعنی شیطان جن اور شیطان آدمی چاہتے ہیں۔
ان یضلہم ضللا بعیدا کہ (حق سے) دوران کو بہکا کرلے جائیں۔
Ayah 4:61واذا قیل لہم اور جب ان سے کہا جاتا ہے یعنی جب ان منافقوں سے جو اسلام کے مدعی ہیں کہا جاتا ہے کہ تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول اس قرآن کی طرف آؤ جو اللہ نے اتارا ہے اور رسول (کے فیصلہ) کی طرف آؤ۔ الی الرسولکا عطف ما انزل اللہ پر ہے اس عطف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی رسول اللہ ﷺ قرآن کے علاوہ وحی خفی اور اجتہاد کے ذریعہ سے بھی فیصلہ کرتے تھے۔
رایت المنفقین یصدون عنک صدودا تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف سے بالکل منہ موڑ لیتے ہیں۔ بجائے ضمیر کے صراحت کے ساتھ المنافقین : کہنے سے ان لوگوں کی برائی اور رسوائی کا اظہار مقصود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف راغب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو دوسرے لوگوں سے امید تھی کہ رشوت دے کر غلط فیصلہ کرا لیں گے۔
صدود : مصدر ہے یا اسم مصدر (روگردانی کرنا یا روگردانی) صحاح میں جوہری نے لکھا ہے کہ صدود کا معنی ہے پھرجانا باز رہنا (یعنی لازم ہے) لیکن کبھی متعدی بھی آتا ہے (روکنا باز رکھنا) جیسے فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ : ان کو راستہ سے پھیر دیا۔ روک دیا۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے جب منافق کو قتل کردیا تو اس کے ورثاء حضور ﷺ کی خدمت میں خون کا عوض طلب کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور قسمیں کھا کر عرض کیا کہ عمر ؓ کی طرف مقدمہ لے جانے کی غرض یہ تھی کہ وہ ہمارے آدمی سے کچھ اچھا معاملہ کریں گے اور دونوں فریقوں میں صلح کرا دیں گے (حضور ﷺ کے فیصلہ کی خلاف ورزی مقصود نہ تھی) اس پر یہ آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:62فکیف اذ اصابتہم مصیبۃ . یہ عجیب بات ہے کہ جب ان پر مصیبت پڑی یعنی حضرت عمر ؓ نے ان کے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ کیف استفہام : تعجب کے لئے ہے یعنی تعجب ہے کہ واضح طور پر روگردانی کرنے کے بعد بھی قسمیں کھاتے ہیں ان کو قسمیں کھانے میں کوئی جھجک نہیں ہوتی۔ اذا اصابتہم میں لفظ اذاصرف استقبالی مفہوم کے لئے ہے (یعنی شرط کا مفہوم مراد نہیں ہے) ۔
بما قدمت ایدیہم . اس حرکت کے عوض جو پہلے انہوں نے خود کی یعنی رسول اللہ ﷺ سے روگرداں ہو کر دوسروں سے فیصلہ کرانے گئے۔
ثم جآءوک یحلون باللہ . پھر (عذر پیش کرنے اور خون کا بدلہ مانگنے کے لئے) آپ ﷺ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئے باوجودیکہ ان کی دروغ گوئی کھلی ہوئی تھی۔
ان اردنا الا احسانا وتوفیقا .(فیصلہ کے لئے دوسروں کے پاس جانے سے) ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ اچھے طور پر فیصلہ ہوجائے اور فریقین میں موافقت پیدا ہوجائے آپ کی مخالفت مقصود نہ تھی نہ آپ کے فیصلہ سے ناراض ہونا مقصود تھا بلکہ ہم کو یہ اندیشہ تھا کہ سخت فیصلہ سے آپس کی عداوت پیدا ہوگی (اور ہم چاہتے تھے کہ باہمی عداوت نہ پیدا ہو) بیشک رسول اللہ ﷺ ہمارے آپس کے تعلقات کے لئے مصلح ہیں لیکن عمر ؓ کے پاس بھی تو ہم طلب مصالحت کے لئے گئے تھے تاکہ آپس کی صلح صلاح اور الفت قائم رہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اذا اصابتہم : میں اذا : (محض استقبال کے لئے نہ ہو بلکہ) شرط استقبالی کے لئے ہو اور مصیبت سے مراد ہو اللہ کا (دنیوی و اخروی) عذاب اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انتقام۔
اس صورت میں اس حلف پر تعجب کا اظہار مقصود ہوگا جو آئندہ زمانہ میں وہ لوگ کھائیں گے (یعنی تعجب ہے کہ جب ان پر عذاب آئے گا تو کیسی قسمیں کھائیں گے) یا یہ مطلب ہے کہ جب ان پر اللہ کی طرف سے کوئی عذاب آئے گا یا آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ہاتھوں ان سے انتقام لیا جائے گا تو ان کا حال کیسا عجیب ہوگا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اذا : صرف شرط کے لئے ہو اور یَحْلِفُوْنَ جزا ہو۔
Ayah 4:63اولئک الذین یعلم اللہ ما فی قلوبہم . یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کے اندرونی خیال (نفاق) کو اللہ جانتا ہے۔ ان کو پختہ قسمیں سوائے دوزخی بنانے کے اور کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔
فاعرض عنہم . سو آپ سے ان تغافل کر جایا کریں۔
یعنی ان کا عذر نہ قبول کیجئے نہ مقتول کے خون کے مطالبہ کی طرف کوئی توجہ کیجئے۔ مقتول کا خون قابل قصاص نہیں۔
وعظہم . اور ان کو نصیحت کیجئے کہ نفاق سے باز آجائیں اور سچے دل سے مسلمان ہوجائیں۔
وقل لہم فی انفسہم قولا بلیغا . اور ان سے خاص ان کی ذات کے متعلق مؤثر بات کہہ دیں یعنی ایسی بات کہہ دیجئے جو ان کے دلوں کے اندر اتر جائے۔ حسن (رح) بصری نے کہا قول بلیغ یہ ہے کہ منافقوں سے کہا جائے تم اسی نفاق پر مارے جاؤ گے۔ اس بات کا ان کے دلوں پر پورا اثر ہوگا۔
بعض علماء نے کہا کہ قول بلیغ سے مراد ہے اللہ کے عذاب سے ڈرانا۔ زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ فی انفسہم کو بلیغا سے متعلق کیا جاسکتا ہے یعنی ایسا قول کہو جو ان کے دلوں میں پہنچ جائے۔ بیضاوی (رح) نے صاحب کشاف کے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ بلیغا قولا : کی صفت ہے اور صفت کا معمول (جار مجرور وغیرہ) موصوف پر مقدم نہیں ہوسکتا۔ بیضاوی کے اس اعتراض کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ فی انفسہم : سے پہلے قولا بلیغامحذوف ہے اور اسی سے فی انفسہمکا تعلق ہے جو قولا بلیغامذکور ہے وہ تو محذوف کی تفسیر ہے۔
آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ منافقوں کو باقی رکھنے میں مصلحت ہے (کم از کم مدعیان اسلام کی ظاہری تعداد میں ہی اضافہ ہوتا ہے جس کا اثر کافروں پر پڑتا ہے) اس لئے ان کو سزا دینے کی طرف توجہ نہ کرو ‘ زبان سے ان کو نصیحت کر دو اور اثر آفریں ہدایت تنہائی میں کرو۔ تنہائی کی نصیحت زیادہ کارگر ہوتی ہے۔
Ayah 4:64وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ اور ہم نے ہر رسول اسی لئے بھیجا کہ حکم خدا کے مطابق اس کی بات مانی جائے یعنی رسالت کا مقصود ہی یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کی اطاعت لوگوں پر لازم کردی جائے۔ اذن سے مراد ہے حکم یعنی اللہ کا حکم ہے کہ جس پیغمبر کو بھیجا جائے لوگ اس کے حکم کو مانیں اور جو اس کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اور اس کے حکم کو نہ مانے اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ فیصلۂ رسول کو نہ ماننے کا مطلب ہی یہ ہوگا کہ رسول ﷺ کی رسالت کو قبول نہیں کیا۔
ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جآءوک اور جب (نفاق کی وجہ سے اور طاغوت کے پاس فیصلہ کرانے کے لئے جانے کے سبب) انہوں نے خود اپنا نقصان کرلیا تھا۔ آپ کے پاس آجاتے یعنی یہ بات ثابت ہوجاتی کہ وہ سچے دل سے توبہ کر کے آپ ﷺ کے پاس آئے ہیں۔
فاستغفروا اللہ اور (نفاق سے توبہ کر کے سچے دل سے رسول اللہ ﷺ کے سامنے معذرت کرنے کے بعد) اللہ سے معافی کے طالب ہوتے۔
واستغفر لہم الرسول اور رسول بھی ان کے لئے معافی کے طلب گار ہوتے۔ بجائے خطاب کے الرسول کا لفظ استعمال کرنے میں عظمت رسول کا اظہار اور اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ شان رسول کا تقاضا ہی یہ ہے کہ کتنا ہی بڑا جرم ہو سچی معذرت کو قبول کرلیا جائے۔
لوجدوا اللہ توابا رحیما تو جان لیتے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ وجدوا کا معنی صاد فوا بھی ہوسکتا ہے یعنی وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔
Ayah 4:65فلا وربک لا یومنون . پس قسم ہے آپ کے رب کی وہ ایماندار نہیں ہوں گے۔
صحاح ستہ (صحیح بخاری و مسلم و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و نسائی و سنن ابن ماجہ) میں مذکور ہے کہ حرہ کے کسی پہاڑی نالے سے کھیتوں کو پانی دینے کے متعلق حضرت زبیر بن عوام کا کسی انصاری سے جھگڑا تھا دونوں خدمت گرامی میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا زبیر تم (پہلے) سینچ لو پھر اپنے ہمسایہ کی طرف پانی چھوڑ دو ۔ انصاری اس فیصلہ سے ناراض ہوگیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس فیصلہ کی وجہ یہ ہے کہ زبیر آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے یہ سن کر حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا اور فرمایا زبیر ! سینچنے کے بعد پانی کو اتنا روکے رکھو کہ پانی مینڈھوں تک پہنچ جائے۔ شروع میں حضور ﷺ نے ایسا مشورہ دیا تھا کہ حضرت زبیر اور انصاری دونوں کا کام ہوجائے اور بعد کو حضرت زبیر ؓ : کو اپنا پورا حق وصول کرنے کا حکم دے دیا (اگرچہ انصاری کا اس سے نقصان ہوگیا یعنی پہلا حکم استحبابی تھا اور دوسرا حکم استحقاقی) حضرت زبیر ؓ : کا بیان ہے کہ انصاری نے جب رسول اللہ ﷺ : کو ناراض کردیا اور آپ ﷺ نے صراحت کے ساتھ میرا پورا حق ملنے کا حکم صادر فرما دیا تو خدا کی قسم میرا خیال ہے کہ اسی معاملہ کے کسی سلسلہ میں آیت بالا کا نزول ہوا۔ طبرانی نے کبیر میں اور حمیدی نے مسند میں حضرت ام سلمہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت زبیر کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا۔ دونوں معاملہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے آپ ﷺ نے زبیر ؓ کے حق میں فیصلہ کردیا۔ وہ شخص بولا زبیر ؓ : کو اس لئے ڈگری دی گئی کہ وہ ان کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ایک انصاری کا حضرت زبیر سے جھگڑا ہوگیا۔ انصاری کا نام حاطب بن ابی بلتعہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت زبیر بن عوام اور حاطب بن ابی بلتعہ کے متعلق ہوا ایک پانی کے معاملہ میں دونوں کا باہم جھگڑا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا تھا کہ پہلے بالائی زمین کو پانی دیا جائے پھر نشیبی حصّہ کو۔
میں کہتا ہوں اس قصہ میں حاطب بن ابی بلتعہ کا نام لینا سراسر وہم ہے کیونکہ حاطب مہاجر تھے انصاری نہ تھے۔ بدر کے جہاد میں شریک تھے بلکہ یہ کوئی منافق تھا اوس یا خزرج سے نسبی اشتراک رکھنے کی وجہ سے اس کو انصاری کہہ دیا گیا۔
بغوی نے لکھا ہے فیصلہ کے بعد جب دونوں باہر آئے اور مقداد ؓ کی طرف سے گزرے اور حضرت مقداد ؓ نے پوچھا کس کے حق میں فیصلہ ہوا تو انصاری نے منہ بگاڑ کر کہا ان کی پھوپھی کے بیٹے کے حق میں۔ حضرت مقداد ؓ کے پاس ایک یہودی موجود تھا اس نے انصاری کی حرکت محسوس کرلی اور بولا ان کو خدا کی مار شہادت بھی دیتے ہیں کہ (محمد) اللہ کے رسول ﷺ ہیں پھر جو فیصلہ وہ کردیتے ہیں اس پر (جانب داری کی) تہمت بھی لگاتے ہیں خدا کی قسم حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زندگی میں ہم سے ایک گناہ ہوگیا تھا اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے ہم کو توبہ کی طرف بلایا اور حکم دیا کہ خود آپس میں ایک دوسرے کو قتل کر دو ۔ ہم نے حکم کی تعمیل کی کہ مقتولوں کی تعداد ستر ہزار تک پہنچ گئی آخر ہمارا رب ہم سے راضی ہوگیا۔ حضرت ثابت ؓ بن شماس بن قیس نے فرمایا سنو اللہ میری سچائی کا گواہ ہے۔ خدا کی قسم اگر محمد ﷺ مجھے خودکشی کا حکم دے دیں تو میں ضرور حکم کی تعمیل کروں گا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد (رح) اور شعبی (رح) کے قول پر اس آیت کا نزول بشر منافق اور ایک یہودی کے حق میں ہوا تھا جو ( رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرانے اور یہودی کو ڈگری ملنے کے بعد) حضرت عمر ؓ کے پاس گئے تھے۔ پورا قصہ اوپر لکھا جا چکا ہے۔ کلام کی رفتار کا تقاضا بھی یہی ہے (کہ ان ہی دونوں کے متعلق آیت کا نزول مانا جائے)
آیت میں اگر لا کو نافیہ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ واقعہ ایسا نہیں جیسا یہ جھوٹے مدعیان ایمان دعویٰ کرتے ہیں کہ اقرار ایمان کے بعد بھی آپ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوتے۔ قسم ہے آپ کے رب کی یہ ایماندار نہیں ہوسکتے تاوقتیکہ۔۔ الخ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلا وربک میں لازائد (تاکید قسم کے لئے) ہو (یعنی آپ کے رب کی قسم یہ امر یقینی ہے کہ یہ لوگ ایماندار نہیں ہوسکتے تاوقتیکہ۔۔ )
حتی یحکموک فیما شجر بینہم تاوقتیکہ اپنے اندرونی اختلافات اور گڑبڑ کا (فیصلہ کن) حاکم آپ کو نہ قرار دیں۔ شجر سے مراد ہے اختلاف اور آپس کی گڑبڑ۔ درخت کو شجر اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی شاخیں باہم گتھی ہوئی اور گڑبڑ ہوتی ہیں۔
ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت پھر اپنے دلوں میں آپ کے کئے ہوئے فیصلہ سے تنگی بھی محسوس نہ کریں۔ مجاہد نے کہا حرجا سے مراد ہے شک کیونکہ شک کرنے و الا ہمیشہ اپنے معاملہ میں تنگی محسوس کرتا ہے۔
ویسلموا تسلیما اور آپ کے حکم کو بلاکراہت بخوشی نہ مان لیں۔