Ayah 4:45واللہ اعلم باعدآئکم . اور تم سے زیادہ تمہارے دشمنوں کو اللہ جانتا ہے ‘ یہ جملہ تحذیر کی تاکید کے لئے ہے۔
وکفی باللہ ولیا . اور اللہ (تمہارا) پورا کارساز ہے تمہاری کارسازی کرے گا اور نفع پہنچائے گا۔ باللّٰہمیں باء الصاق زائد ہے۔ جاء مجرور فاعل ہے۔ اتصال اسنادی (یعنی نسبت فاعلی) کو اتصال اضافی (یعنی نسبت اضافیہ کی وجہ سے محکم کرنے کے لئے لائی گئی ہے۔
وکفی باللہ نصیرا . اور اللہ پورا پورا مددگار ہے۔ ضرر کو دفع کرے گا ان کی مکاریوں کو روکے گا ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور نصرت عطا کرے گا لہٰذا تم بھی اللہ کی کارسازی نصرت پر بھروسہ رکھو ‘ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف نہ جاؤ دوسروں کو اپنا کارساز مت بناؤ اور کسی اور سے نصرت مت طلب کرو۔ وَلِیًّا اور نصیراً ترکیب کلام میں حال ہیں یا تمیز۔
Ayah 4:46من الذین ہادوا یحرفون الکلم . ان یہودیوں میں سے کچھ لوگ (تورات کے) بعض الفاظ کو (ان کے مقام سے) پھیر دیتے ہیں۔
مِنَ الَّذِیْنَ یا الَّذِیْنَ اُوْتُوا کا بیان ہے۔ یعنی یہ تحریف کرنے والے یہودی انہی میں سے ہیں جن کو کتاب دی گئی ہے یا اعدائکمکا بیان ہے یعنی تمہارے دشمن ان تحریف کرنے والوں میں سے ہیں۔ یا اس کا تعلق نصیراً سے ہے یعنی اللہ تمہاری نصرت ان یہودیوں سے کرنے والا ہے جو تحریف کرتے ہیں۔ الکلمجمع ہے کلمہ کی یا اسم جنس ہے جمع نہیں ہے کیونکہ آئندہ لفظ میں واحد مذکر کی ضمیر آئی ہے جو الکلم کی طرف راجع ہے۔
عن مواضعہ . اس کے مقامات سے۔ جو لوگ الکلم کو جمع کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ الکلم سے پہلے لفظ بعض محذوف ہے اسی لئے مواضعہٖ میں واحد غائب کی ضمیر ذکر کی یعنی بعض بعض الفاظ کو اس کی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں۔ تفتازانی نے الکلم کو اسم جنس قرار دیا اور صراحت کی ہے کہ جو لوگ اس لفظ کو جمع نہیں کہتے ان کی مراد یہ ہے کہ یہ اصطلاحی جمع کا صیغہ نہیں ہے اور جو جمع کہتے ہیں ان کی مراد یہ ہے کہ اس کے اندر جمعیت کا معنی ہے (گویا یہ لفظ لفظاً مفرد اور معنی جمع ہے)
مطلب یہ ہے کہ توریت میں اللہ نے جو لفظ رکھے ہیں یہودی ان الفاظ کو ان کی جگہ سے ہٹا دیتے ہیں اور بدل ڈالتے ہیں۔ الکلم سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ توریت میں محمد ﷺ کا حلیہ اس طرح تھا وہ سرمگیں کشادہ چشم میانہ قامت گھونگریالے بالوں والے خوبصورت ہوں گے۔ جب مدینہ میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو علماء یہود جل گئے اور انہوں نے کتاب کے اندر مندرجہ حلیہ بدل ڈالا اور کہنے لگے ہم اپنے پاس نبی کا حلیہ یہ نہیں پاتے بلکہ ان کا حلیہ اس طرح ہوگا۔ دراز قامت ‘ نیلگوں چشم اور لٹکتے ہوئے بالوں والے اور اپنے زیردست لوگوں سے کہا کہ یہ ویسا نہیں ہے۔ زیردستوں کو دھوکہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ عوام سے ان کی روزی وابستہ تھی ان کو اندیشہ ہوا کہ ان کے زیر اثر یہودی اگر مسلمان ہوجائیں گے تو ان کی روزی بند ہوجائے گی۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہودی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ دریافت کرتے تھے آپ بتا دیتے تھے آپ کا جواب سن کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مطمئن ہوگئے اور انہوں نے مان لیا لیکن جب حضور ﷺ کے پاس سے اٹھ کر باہر جاتے تو حضور ﷺ کے کلام کو بدل ڈالتے تھے اس روایت پر تحریف کلمات سے مراد (صرف کلمات توریت کی تحریف نہ ہوگی بلکہ) عام الفاظ کی تحریف مراد ہوگی (خواہ توریت کے الفاظ ہوں یا رسول اللہ ﷺ کے الفاظ۔
بعض علماء نے کہا کہ تحریف کلمات سے مراد یہ ہے کہ وہ کلام الٰہی کے معنی اپنی خواہش اور منشاء کے مطابق بیان کرتے تھے اللہ کی مراد نہیں بیان کرتے تھے جیسے اس امت کے بدعتی فرقے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تحریف حکم سے مراد ہو دو رخی بات کہنا جس میں مدح بھی نکلتی ہو اور مذمت بھی ‘ تعظیم بھی اور توہین بھی تعریف ظاہر کرتے تھے اور مذمت کو پردہ کے اندر رکھتے تھے۔
ویقولون سمعنا وعصینا . اور وہ کہتے تھے ہم نے سن لیا مگر ہم (اس کو) مانتے نہیں۔ اگر تحریف سے مراد توریت کی تحریف ہو تو یہ قول تحریف کا جزء (اور بیان) نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے وہ یہ بات کہتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کہنے سے مراد ہو اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے محمد ﷺ کا قول سن تو لیا مگر ہم ایسا کریں گے نہیں۔ یا یہ مراد ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے تو کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کی بات سن لی اور اپنی قوم سے جا کر کہتے ہیں کہ ہم ان کی بات نہیں مانتے اس صورت میں آیت مذکورہ میں یہودیوں کی بعض تحریفات کا اظہار کرنا مقصود ہو کہ وہ دو رخی بات کہتے ہیں سَمِعْنَا کا لفظ ذو معنی ہے۔ سن لیا یعنی قبول کرلیا اور سن لیا یعنی تسلیم نہیں کیا۔ ظاہر میں اول معنی اور دل میں دوسرا معنی چھپانا مقصود ہو۔
واسمع غیر مسمع . اور ہماری سنو نہ سنائے جاؤ۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے سنو پھر اپنے دل میں کہتے تھے خدا کرے تم نہ سنو گویا اپنے دلوں میں رسول اللہ ﷺ : کو بہرے ہوجانے یا مرجانے کی بددعا دیتے تھے۔ ظاہر مطلب یہ ہے کہ غیر مسمع کا لفظ بھی وہ رودرو علی الاعلان کہتے تھے اور یہ لفظ ذو معنی ہے تعظیم اور بددعا دونوں کا احتمال رکھتا ہے اول صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ سنو خدا کرے تم کو کوئی بری بات سننی نہ پڑے۔ اس وقت اسماع (سنانا) سے مراد ہوگا بری بات سنانا جیسے محاورہ میں بولا جاتا ہے فلاں شخص نے فلاں شخص کو (خوب) سنائیں یعنی بری بھلی باتیں اور گالیاں (اور بددعا کا مفہوم تو ظاہر ہی ہے کہ تم کو سنایا جانا نصیب نہ ہو تم بہرے ہوجاؤ مرجاؤ وغیرہ)
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری سنو ‘ ہم تمہارے لئے کہہ رہے ہیں غیر مسمع یعنی بہرے ہونے کی بددعا کر رہے ہیں ( اس صورت میں غیر مسمع اسمع کا مفعول ہوگا) یا یہ مطلب ہے کہ سنو تم کو ایسا جواب نہیں سنایا جائے گا جس سے تم کو خوشی ہو یا سنو تمہاری بات نہیں سنی جائے گی اور تمہارا قول قبول نہیں کیا جائے گا۔ یا یہ مطلب کہ ہماری بات سنو جو تم کو سنائی نہیں دے گی کیونکہ تمہارے کان اس کو سننا پسند نہیں کریں گے ان سب صورتوں میں غیر مسمع اسمع کا مفعول بہ ہوگا۔
وراعنا . اور وہ راعناکہتے ہیں یہ لفظ ذومعنی ہے عربی زبان میں اس کا معنی ہے ہماری رعایت کیجئے ہمارا انتظار کیجئے اور عبرانی یا سریانی زبان میں یہ لفظ گالی ہے یہودی باہم گالیاں دیتے تو اسی سے ملتا جلتا لفظ راء ینا کہا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ لفظ کہنے کا مقصد تھا آپ کی توہین کرنا اور دین کا مذاق بنانا۔
لیابا لسنتہم . اپنی زبانیں گھما گھما کر یعنی یہودی اپنی زبانوں سے حق کو باطل کے ساتھ اور ظاہر تعظیم کو باطنی توہین کے ساتھ لپیٹنے کے لئے یہ لفظ کہتے ہیں۔
وطعنا فی الدین . اور دین (اسلام) میں طعن کرنے کے لئے یعنی یہودی اسلام پر طعن کرنے کے لئے لفظ راعنا کہتے ہیں ان کا مقولہ ہے کہ اگر یہ سچے نبی ہوتے تو اس لفظ کو کہنے سے جو ہمارا پوشیدہ مقصد ہے اس کو ظاہر کردیتے۔
ولو انہم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لکان خیرا لہم واقوم . اور اگر یہ بات ثابت ہوجاتی کہ انہوں نے سمعنا واطعنا وانظرنا (ہم نے سنا اور مانا اور ہماری بات سن لیجئے اور ہماری رعایت کیجئے) کہا ہے یعنی ظاہر اور باطن میں انہوں نے یہی بات کہی ہے اور (ان کی نیتیں خبیث نہیں ہیں تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور بات ٹھیک ہوتی مراد یہ کہ عصینا کی جگہ اطعنا کہتے غیر مسمع نہ کہتے اور انظرنا کہتے راعنانہ کہتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور یہ بات درست ہوتی (الفاظ کے دو متضاد معنی نہ ہوتے)
ولکن لعنہم اللہ بکفرہم . مگر ان کے کفر کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر ہوگئی ہے۔ اللہ نے ان کو بےمدد چھوڑ دیا اور ہدایت سے دور کردیا ہے۔
فلا یومنون الا قلیلا . اسی لئے یہ ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑا سا۔ یعنی ان کا ایمان شرعاً ناقابل اعتبار ہے بعض پیغمبروں اور بعض کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں یا ظاہر میں ایمان رکھتے ہیں اور باطن میں کفر چھپائے رکھتے ہیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قلت کا معنی عدم ہو یعنی بالکل ایمان نہیں لاتے بعض علماء نے بیان کیا کہ قلیلا سے مراد ہیں عبداللہ بن سلام ؓ جیسے مخلص مؤمن بعض مخلص مؤمنوں کے علاوہ عام طور پر یہ ایمان نہیں لاتے۔
مگر اس مطلب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ منفی کلام میں مستثنیٰ (فاعل) کا منصوب ہونا جمہور کے نزدیک درست نہیں اگرچہ ابن حاجب نے اس کو جائز قرار دیا ہے مگر عام اہل نحو اس کو جائز نہیں کہتے۔ پھر اس صورت میں گزشتہ آیت لعنہم اللّٰہسے اکثر پر لعنت کرنا مراد ہوگا اور کل یہودیوں کی طرف ضمیر راجع نہ ہوگی (جو تفسیر جمہور کے خلاف ہے)
علامہ تفتازانی نے بیان کیا ہے کہ الا قلیلا کا استثناء لا یومنون سے نہیں ہے بلکہ لعنہم کی ضمیر مفعول سے ہے یعنی اللہ نے سوائے تھوڑے آدمیوں کے باقی سب پر لعنت کردی ہے۔
ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ عبداللہ بن صور یا کعب بن اسید اور انہی جیسے بعض دوسرے علماء یہود سے رسول اللہ ﷺ نے گفتگو کی اور فرمایا تم لوگ خوب جانتے ہو کہ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اور سراسر حق ہے انہوں نے جواب دیا محمد ﷺ ! ہم اس کو نہیں جانتے (ہماری کتاب میں اس کے خلاف ہے اور تم وہ نبی نہیں ہو جس کا ذکر توریت میں ہے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:47یایہا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا مصدقا لما معکم . اے اہل کتاب اس قرآن کو مانو جو ہم نے محمد ﷺ پر نازل کیا ہے اور وہ تمہاری کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرتا ہے (کہ توریت واقعی خدا کی کتاب ہے)
من قبل ان نطمس وجوہا فنردہا علی ادبارہا . اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بالکل مٹا ڈالیں اور پشت پر ان کو الٹا دیں۔ وجوہا میں تنوین۔ مضاف الیہ کے عوض آئی ہے یعنی تمہارے چہروں کو طمس کا حقیقی معنی ہے نشان کو مٹا دینا یہاں مراد ہے ناک آنکھیں ‘ ابرو اور منہ کے نشانات کو مٹا دینا۔
بعض علماء نے نردہا علی ادبارہاکا یہ معنی بیان کیا ہے کہ ہم چہروں پر گدی کی طرح بال پیدا کردیں جیسے بندروں کے چہرے ہوتے ہیں کیونکہ آدمیوں کے بال چہروں کے بالمقابل گدی کی طرف پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قبل اس کے کہ ہم تمہارے چہروں کو اونٹ کے موزے کی طرح بنا دیں۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا اس سے نابینا کردینا مراد ہے اور چہروں سے مراد ہیں آنکھیں۔
ایک شبہ : اس آیت میں ان یہودیوں کے لئے طمس کردینے کی وعید ہے جو ایمان نہ لائیں۔ مندرجۂ ذیل روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے جب یہ آیت سنی تو گھر جانے سے پہلے ہی خدمت گرامی میں حاضر ہوگئے اور اس اندیشہ سے کہ کہیں چہرہ بگڑ نہ گیا ہو۔ چہرہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے امید نہ تھی کہ (صحیح سالم) گدی کی طرف منہ پلٹ جانے سے پہلے میں یہاں تک پہنچ سکوں گا یہ کہہ کر مسلمان ہوگئے۔
اسی طرح حضرت کعب احبار کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت عمر کے زمانہ میں انہوں نے یہ آیت سنی تو فوراً مسلمان ہوگئے اور اس خوف سے کہیں اس آیت کی وعید ان پر نہ پڑجائے عرض کیا اے رب میں مسلمان ہوگیا اے رب میں ایمان لے آیا۔ لیکن اللہ کی یہ وعید پوری نہ ہوئی یہودی ایمان نہیں لائے تب بھی مندرجۂ آیت عذاب ان پر نہیں آیا۔
ازالۂ شبہ : یہ وعید ضرور پوری ہوگی اور قیامت سے پہلے یہودیوں کی صورتیں مسخ کردی جائیں گی یہ بھی جواب دیا گیا کہ مندرجۂ آیت عذاب کی وعید کی شرط یہ تھی کہ کوئی یہودی ایمان نہ لائے جب بعض ایمان لے آئے تو شرط وعید جاتی رہی اور پوری قوم سے عذاب اٹھالیا گیا۔ یا یوں کہا جائے کہ آیت میں دو عذابوں میں سے کسی ایک کے واقع ہونے کی وعید ہے طمس یا لعنت طمس نہیں ہوا لعنت محقق ہوگئی۔ اس لئے وعید پوری ہوگئی۔
میرے نزدیک کافر یہودیوں کی شکلوں کا بگاڑ قیامت کے دن ہوگا (یعنی صورتوں کے بگاڑ دینے سے مراد ہے قیامت کے دن شکلیں مسخ کردینا چناچہ کافر یہودیوں کی شکلیں قیامت کے دن مسخ کی جائیں گی)
ابن عساکر اور خطیب نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاتلاوت کی اور فرمایا میری امت (دعوت) کے بوقت حشر دس گروہ ہوں گے ایک قسم کے گروہ کا حشر بندروں کی صورت پر ایک کا خنزیروں کی صورت پر ایک کا کتوں کی صورت پر اور ایک کا گدھوں کی صورت پر ہوگا۔ الحدیث
مجاہد نے کہا چہروں کے مسخ سے مراد ہے گمراہی میں چھوڑ دینا ‘ دلوں کو الٹ دینا اور بصیرت کے رخ کو پلٹ دینا لیکن اس مطلب پر یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید ایمان سے پہلے یہودی پاک تھے۔
ابن زید نے کہا آیت میں طمس سے مراد یہ ہے کہ مدینہ سے ہم ان کا نشان مٹا دیں گے اور پشت کے بل اسی طرف کو لوٹا دیں گے جس طرف سے آئے تھے یعنی ملک شام۔ گویا بنی نضیر کو ملک شام کے علاقہ اذرعات اور اریکا میں جلاوطن کردینا اس آیت کی تفسیری وضاحت ہے۔
اونلعنہم کما لعنا اصحب السبت . یا ان پر ہم ایسی لعنت کریں جیسی ان ہفتہ والوں پر کی تھی۔ (1) [ سنیچر والے۔ ملک شام میں کچھ بنی اسرائیل کسی بستی میں سمندر کے ساحل پر آباد تھے اور ان کا گزارا مچھلی کے شکار پر تھا سنیچر کا دن بنی اسرائیل کی عبادت کا دن تھا اس روز دنیوی کاروبار کرنے کی ممانعت تھی لیکن اللہ کو ان کا امتحان کرنا مقصود تھا کچھ اتفاق ایسا ہوتا تھا کہ سنیچر کے دن ہی سمندر کی موجوں پر مچھلیاں زیادہ تیرتی نظر آتی تھیں باقی چھ روز میں اتنی کثرت نہیں ہوتی تھی لیکن یہ لوگ مذہب کی ممانعت کی وجہ سے مجبور تھے آخر طمع غالب آئی اور انہوں نے مچھلیوں کے شکار کا ایک شرعی حیلہ نکال لیا سمندر سے فاصلہ پر بڑے بڑے گہرے حوض اور تالاب بنائے اور حوضوں سے سمندروں تک نالیاں اس طرح بنائیں کہ جب سمندر میں چڑھاؤ ہو تو نالیوں کے ذریعہ سے پانی آکر حوضوں میں بھر جائے اور اتار کے وقت بالائی پانی اتر جائے اور حوضوں کے گہراؤ کے پانی میں مچھلیاں جمع رہیں ان کو واپس کی ضرورت نہ پڑے چناچہ حوض تیار ہوگئے اور سمندر کا چڑھاؤ مچھلیاں ساتھ لا کر حوضوں میں گرانے لگا اس طرح سنیچر کے دن مچھلیاں حوضوں میں بہت زیادہ جمع ہوجاتیں اور اتوار کا دن ہوتا تو سب شکاری ان کو پکڑ لیتے۔ پیغمبر وقت اور دیندار علماء نے ان حیلہ بازوں کو حکم خدا کی مخالفت سے روکا لیکن وہ لوگ باز نہ آئے بلکہ اور اڑ گئے دنیاوی عالموں نے اس کو موافق شرع فعل قرار دیا بعض لوگ بالکل غیر متعلق رہے نہ ممانعت نہ کی ان کے شریک کار ہوئے غرض سوائے حق گو صالحین کے باقی لوگ عذاب میں مبتلا ہوئے ان کی صورتیں مسخ کردی گئیں۔]
اصحاب السبت یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی لعنت کرائی تھی۔
وکان اللہ امر اللہ مفعولا . اور اللہ تعالیٰ کا حکم ضرور پورا ہوتا ہے کوئی اس کو دفع نہیں کرسکتا۔
طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرا ایک بھتیجا ہے جو ارتکاب ممنوعات سے باز نہیں آتا فرمایا اس کا دین کیا ہے اس نے عرض کیا نماز پڑھتا ہے اور توحید کا قائل ہے فرمایا (اس کے دین کا اس سے سودا کرو اول) اس سے کہو کہ وہ اپنا دین تم کو بطور ہبہ دے دے اگر انکار کرے تو اس سے اس کا دین خریدو (یعنی اس سے کہو کہ وہ اپنی دینداری نماز توحید وغیرہ تمہارے ہاتھ فروخت کر دے اگر وہ بیچنے سے بھی انکار کر دے گا تو معلوم ہوجائے گا کہ اس کو اپنا دین دنیا سے زیادہ پیارا ہے) اس شخص نے حکم کی تعمیل کی مگر اس نے اپنی دینداری کا سودا کرنے سے انکار کردیا وہ شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا حضور دینی معاملہ میں تو میں نے اس کو بڑا حریص پایا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:48ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ . اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا خواہ شرک اس طرح ہو کہ کسی دوسرے کو واجب الوجود (ازلی ابدی لافانی) مانا جائے یا معبود قرار دیا جائے لیکن شرک کی عدم مغفرت اس شرط پر ہے کہ مرتے دم تک مشرک شرک پر قائم رہا ہو لیکن اگر شرک سے توبہ کرلی ہو اور ایمان لے آیا ہو تو گزشتہ شرک و معصیت کو بخش دیا جائے گا۔ اجماع علماء یہی ہے۔
گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے گویا اس سے کبھی گناہ ہوا ہی نہ تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَنْتَہُوْا یُغْفَرْ لَہُمْ مَا قَدْ سَلَفَکافروں سے کہہ دو کہ اگر وہ کفر سے باز آجائیں گے تو گزشتہ کفر و گناہ معاف کردیا جائے گا۔
ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء . اور شرک کے علاوہ (دوسرے گناہ اللہ) جس کے چاہے گا بخش دے گا۔
دوسرے گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے قصداً کئے گئے ہوں یا غلطی سے۔ گناہ کرنے والا خواہ بغیر توبہ کے ہی مرجائے مگر یہ مغفرت اللہ کی مشیت پر موقوف ہے اس سے فرقۂ مرجۂ کے قول کی غلطی ثابت ہوتی ہے کہ مؤمن کا ہر گناہ واجب المغفرت ہے اور ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچائے گا جیسے شرک کی موجودگی میں ہر نیک عمل ناکارہ ہے۔
فرقۂ معتزلہ قائل ہے کہ گناہ کی مغفرت کے لئے توبہ شرط ہے آیت سے اس قول کی بھی تغلیط ہوتی ہے کیونکہ آیت میں مغفرت کو توبہ کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا۔ کلام کی رفتار کی غرض مشرک اور دوسرے موحد گناہگار میں فرق بیان کرنا ہے۔ چونکہ مغفرت کو مشیت کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے اس لئے توبہ کرنے والے کی مغفرت واجب نہیں نہ غیر تائب کو عذاب دینا ضروری ہے ورنہ اس مشیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
خارجیوں کا قول ہے کہ ہر قسم کا گناہ شرک ہو یا کوئی اور دوامی دوزخی بنا دیتا ہے (جس کی مغفرت نہیں ہوسکتی)
آیت میں ان کے قول کے خلاف بھی صراحت ہے۔ ابویعلی ‘ ابن منذر اور ابن عدی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ہم (پہلے) کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے استغفار سے رکتے تھے جب رسول اللہ ﷺ سے ہم نے آیت اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَآءُسنی اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دعاء شفاعت اپنی امت کے اہل کبائر کے لئے مخصوص کر رکھی ہے تو پھر ہم اپنے بہت سے باطنی خیالات سے رک گئے اور دعا کرنے لگے اور قبول کی امید بھی رکھتے تھے۔
بغوی نے کلبی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ آیت وحشی بن حرب اور اس کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی تھی وحشی نے حضرت حمزہ ؓ کو شہید کردیا حضرت حمزہ ؓ کو شہید کرنے پر اس سے آزادی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا جب وہ لوٹ کر مکہ پہنچا تو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو حضرت حمزہ ؓ کو شہید کرنے پر بڑی پشیمانی ہوئی اور ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ : کو لکھا کہ ہم کو اپنی کی ہوئی حرکت پر پشیمانی ہے اور مسلمان ہونے سے ہم کو صرف یہ امر مانع ہے کہ جب آپ مکہ میں تھے تو (یہ آیت) کہتے تھے والذین لا یدعون مع اللّٰہ الہا اخرالخہم نے دوسروں کو معبود بھی بنایا ہے اور ناحق قتل بھی کیا ہے اور زنا بھی کیا ہے اگر یہ آیات نہ ہوتیں تو ہم آپ کے پیچھے ہوجاتے اس پر آیت : اِلَّا مَنْ تَابَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًادو آیت نازل ہوئیں رسول اللہ ﷺ نے یہ دونوں آیات وحشی اور اس کے ساتھیوں کو لکھ بھیجیں ان لوگوں نے پھر حضور ﷺ : کو لکھا کہ یہ شرط بہت سخت ہے ہم کو خوف ہے کہ ہم نے کوئی نیک عمل کیا ہی نہ ہوگا اس پر آیت اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرْ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ الخنازل ہوئی اور حضور ﷺ نے یہ آیت ان کو بھیج دی اس پر انہوں نے کہا (اس آیت میں مغفرت کو مشیت کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے) ہم کو اندیشہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے جن کی مغفرت کی مشیت ہوگی اس پر آیت یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اٰنْفُسِہِمْنازل ہوئی اور حضور ﷺ نے یہ آیت ان کو بھیج دی یہ سن کر وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے آپ نے ان کا اسلام قبول کرلیا۔ پھر وحشی سے فرمایا بتا تو نے حمزہ کو کس طرح قتل کیا وحشی نے کیفیت بیان کی سن کر حضور ﷺ نے فرمایا تیرا برا ہو مجھے اپنا منہ نہ دکھانا چناچہ وحشی شام کو چلا گیا اور مرتے دم تک وہیں رہا۔
اگر شبہ کیا جائے کہ اس قصہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مغفرت کے لئے مشیت کی شرط منسوخ ہوگئی اس سے فرقۂ مرجۂ کا قول ثابت ہوگیا کہ مؤمن کی مغفرت واجب ہے اور ایمان کے بعد کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ مشیت کے ساتھ مغفرت کی وابستگی تو منسوخ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ مغفرت ہو یا کوئی اور چیز ہر ایک مشیت سے وابستہ ہے۔ مشیت کے بغیر تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا البتہ آیت یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ الخکا وحشی کے حق میں نزول اس بات پر ضرور دلالت کر رہا ہے کہ وحشی منجملہ ان لوگوں کے ہے جن کی مغفرت کی مشیت ہوچکی ہے۔
بغوی نے بحوالۂ ابو مجزحضرت ابن عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلَی اَنْفُسِہِمْ الخنازل ہوئی تو ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اور شرک یا رسول اللہ حضور ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا اس نے پھر دو یا تین بار کھڑے ہو کر وہی سوال کیا تو آیت اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ الخنازل ہوئی۔ بغوی نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر کی روایت سے حضرت ابن عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کوئی شخص گناہ کبیرہ کی حالت میں (بغیر توبہ کئے) مرجاتا تھا تو ہم کہتے تھے یہ دوزخی ہوا ‘ یہاں تک کہ آیت مذکورہ نازل ہوئی اس کے بعد ہم (صاحب کبیرہ کے دوزخی ہونے کی) شہادت دینے سے رک گئے۔ بغوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول روایت میں آیا ہے کہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ پُر امید یہ آیت ہے۔ (1) [ ابویعلی اور ابن ابی حاتم نے حضرت جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ شرک نہ کرنے کی حالت میں مرگیا اس کے لئے مغفرت جائز ہوگئی اگر اللہ چاہے اس کی مغفرت (بغیر عذاب کے) کر دے اور چاہے تو عذاب دے دے (پھر سزا کے بعد اس کو جنت میں بھیج دے) اللہ نے (غیر مشرک کا) استثناء کردیا ہے اور فرمایا ہے ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشائ ابویعلی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص سے اللہ نے کسی عمل کے ثواب کا وعدہ کیا ہے تو وہ ضرور اس کو پورا کرے گا اور جس شخص کو کسی عمل کی سزا سے ڈرایا ہے تو اس کو اختیار ہے ( سزادے یا نہ دے) طبرانی نے حضرت سلمان ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک گناہ نہیں بخشا جائے گا ایک گناہ (بغیر بدل کے) چھوڑا نہیں جائے گا اور ایک گناہ بخش دیا جائے گا۔ نہ بخشا جانے والا گناہ شرک ہے اور بخشا جانے والا گناہ وہ ہے جو بندے اور خدا کے درمیان کا ہو۔ اور نہ چھوڑا جانے والا گناہ وہ ہے جس میں بندوں کی آپس میں حق تلفیاں کی گئی ہوں۔]
ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما . جس نے اللہ کے ساتھ (صفات و ذات میں) کسی کو شریک قرار دیا اس نے اپنی طرف سے بنایا بڑا جھوٹ۔
افراء (باب افعال) بگاڑنا ‘ فساد کرنا ‘ افتراء (باب افتعال) کا استعمال جھوٹ شرک اور ظلم میں ہوتا ہے۔ صحاح جوہری۔ مراد یہ ہے کہ اس نے فاسد حرکت کی اور جھوٹ کہا۔ اثمًامفعول مطلق ہے یا مفعول بہ اول صورت میں معنی ہوگا اس نے جھوٹ اور فساد کا ارتکاب کیا ‘ بڑے جھوٹ و فساد کا۔ دوسری صورت میں اس طرح ترجمہ ہوگا اس نے اپنی طرف سے بنایا بڑا گناہ عظیما سے مراد ہے اتنا بڑا کہ اس کے مقابلہ میں تمام گناہ حقیر ہیں۔ شرک اور دوسرے گناہوں میں یہی فرق ہے۔
حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو باتیں لازم کردینے والی ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ لازم کرنے والی کیا۔ فرمایا جو شخص شرک نہ کرنے کی حالت میں مرا وہ جنت میں گیا اور جو شخص شرک ہی کی حالت میں مرا وہ دوزخ میں گیا۔ رواہ مسلم۔
حضرت ابوذر ؓ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ اس وقت سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے (میں واپس آگیا دوبارہ) پھر گیا تو آپ ﷺ بیدار ہوچکے تھے۔ ارشاد فرمایا جو بندہ لا الہ الا اللہ کا قائل ہو پھر اسی پر مرجائے وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو فرمایا خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ‘ میں نے عرض کیا خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو فرمایا خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔ میں نے کہا خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو فرمایا خواہ اس نے زنا اور چوری کی ہو (پھر بھی جنت میں جائے گا) ابوذر ؓ کی ناک خاک آلود ہونے پر بھی (یعنی ابوذر ؓ کی مرضی کے کتنا ہی خلاف ہو وہ جنت میں ضرور جائے گا) حضرت ابوذر ؓ جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے تو (آخری جملہ) اگرچہ ابوذر ؓ کی ناک خاک آلود ہو ضرور کہتے تھے۔ بخاری و مسلم۔ اس موضوع کی احادیث بہت آئی ہیں۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول اور ابن جریر نے عکرمہ ‘ ابومالک اور مجاہد وغیرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ یہودی اپنے بچوں کو افضل سمجھتے تھے ان کو ساتھ لے کر نمازیں پڑھتے اور ان کی قربانیاں پیش کرتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ (ہمارا کوئی گناہ قصور باقی نہیں رہتا) ہم سے کوئی گناہ قصور نہیں ہوتا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی (یعنی جس طرح وہ بچوں کو معصوم اور بےگناہ سمجھتے تھے اسی طرح اپنے آپ کو بھی گناہوں سے پاک قرار دیتے تھے اس کی تفصیل آئندہ سطور میں آرہی ہے)
Ayah 4:49الم تر الی الذین یزکون انفسہم . کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی عجیب حالت ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے پاک قرار دیتے ہیں۔ استفہام تعجب کے لئے ہے جو شخص اپنے نفس کو گناہوں سے پاک قرار دیتا ہو اس پر بڑا تعجب ہے معصومیت کا دعویٰ کرنے سے اس کا مقصد ہے دوسروں پر اپنی فوقیت اور برتری قائم کرنا لیکن برتری خود ساختہ دعوے سے حاصل نہیں ہوتی اس دعوے سے تو ایسے شخص کی دنائت اور کمینگی کا اظہار ہوتا ہے فوقیت اور گناہوں سے پاکیزگی تو اس پر موقوف ہے کہ اللہ کسی کو بزرگ و برتر اور گناہ ہونے سے پاک کر دے۔
بغوی اور ثعلبی نے کلبی کا قول لکھا ہے کہ کچھ یہودی جن میں بحری بن عمرو ‘ نعمان بن اوفی اور مرحب بن زید بھی تھے اپنے چھوٹے بچوں کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا محمد ﷺ ! کیا ان پر کوئی گناہ ہوسکتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا نہیں کہنے لگے تو ہم بھی انہی کی طرح ہیں دن میں ہم جو کچھ کرتے ہیں ان کو رات میں معاف کردیا جاتا ہے اور رات کو جو کام کرتے ہیں دن میں ان کا کفارہ ہوجاتا ہے اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
حسن ‘ ضحاک اور قتادہ (رح) کا بیان ہے کہ جب یہودیوں اور عیسائیوں نے نَحْنُ اَبْنَآء اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہُ (ہم خدا کے بیٹے اور چہیتے ہیں) کہا اور یہ بھی کہ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصَارٰی (یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ جنت میں کوئی نہیں جائے گا۔ اوّل یہودیوں کا دعویٰ تھا اور دوسرا عیسائیوں کا) تو آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
میں کہتا ہوں کہ آیت کا سبب نزول اگرچہ خاص ہو مگر حکم عام حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا اہل کتاب آپس میں تزکیہ کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کو گناہوں سے پاک کہتا تھا چناچہ طارق بن شہاب کی روایت میں حضرت ابن مسعود ؓ کا قول آیا ہے کہ بعض دیندار آدمی صبح کو اپنے گھر سے نکلتے تھے اور کسی ایسے شخص سے جا کر ملتے جس سے ان کا نہ جانی نفع نقصان وابستہ ہوتا تھا نہ ملی لیکن (اس کے منہ پر) اس کو خوش کرنے اور اس کی تعریف کرنے کے لئے کہتے تھے خدا کی قسم آپ تو ایسے ہیں ویسے ہیں نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ گھر لوٹ کر آتے تھے تو دین کا کوئی حصہ ان کے پاس باقی نہ ہوتا تھا یہ فرمانے کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے آیت اَلَمْ تَرَ اِلٰی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْتلاوت فرمائی۔
مسئلہ : کسی کے لئے جائز نہیں کہ (سوائے پیغمبروں کے) کسی اور کا تزکیہ کرے اور گناہوں سے اس کو پاک قرار دے کیونکہ بغیر علم کے کوئی فیصلہ درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌہاں مؤمن کے متعلق حسن ظن رکھنے کا چونکہ حکم ہے اس لئے حسن ظن کے طور پر کسی کے پاک ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ کسی کو گناہوں سے پاک کہنے سے تو اس کے اندر غرور اور پندار پیدا ہوجاتا ہے جس کی شریعت میں ممانعت کردی گئی ہے۔ پھر یہ بات واقعی بھی ہے کہ کسی کو اللہ کا قرب اور اس کی طرف سے ثواب حاصل ہوا یا نہیں اور کتنا حاصل ہوا اس کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو بھی نہیں۔ اسی لئے فرمایا
بل اللہ یزکی . بلکہ اللہ پاک کرتا ہے یا پاک قرار دیتا ہے یعنی گناہ بخش کر پاک کردیتا ہے اور اصلاح حال کردیتا ہے۔
من یشآء . جس کو چاہتا ہے وہی پاک کردینے پر قادر ہے اور انسان کے اندرونی حالات سے وہی باخبر اور واقف ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی اور الہام کے ذریعہ سے اگر اللہ کسی کو کسی کے تزکیہ و تطہیر کی واقفیت عطا فرما دے تو اپنی یا دوسرے کی تطہیر کا فیصلہ وہ آدمی کرسکتا ہے بشرطیکہ غرور وتکبر کے طور پر نہ ہو کیونکہ پندار و غرور بڑا نفسانی عیب ہے۔ یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں حضور ﷺ نے اپنے بعض خصوصی اوصاف بغیر غرور وتکبر کے فرمائے ہیں مثلاً فرمایا ہے کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور (میرا یہ قول) بطور فخر نہیں ہے۔ یہ حدیث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
جب منافقوں نے تعریض کے طور پر حضور ﷺ : کو تقسیم میں غیر منصف قرار دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم میرے بعد تم کو اپنے لئے مجھ سے زیادہ کوئی عادل نہیں ملے گا۔ یہ حدیث طبرانی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور امام احمد نے حضرت ابو سعید ؓ کی روایت سے بیان کی ہے۔ ایک اور حدیث میں حضور ﷺ والا نے فرمایا ابوبکر ؓ اور عمر ؓ متوسط عمر والے جنتیوں کے سردار ہیں اور حسن ؓ و حسین ؓ جوان جنتیوں کے سردار ہیں اور فاطمہ ؓ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ اولیاء کرام نے بھی بحکم الٰہامی اسی طرح کے بعض کلام کہے مثلاً حضرت غوث اعظم (رح) کا قول ہے کہ میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔
ولا یظلمون . اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی اللہ جن کا تزکیہ کرنا چاہتا ہے ان کو ان کی پاکی کے مطابق ثواب ملے گا ان کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ گناہوں سے تطہیر کے سلسلہ میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا جو تطہیر کا اہل ہوتا ہے اللہ اس کی تطہیر کرتا ہے اور جو تطہیر کے لائق نہیں ہوتا صرف اسی کی تطہیر نہیں کرتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ اپنے نفوس کو پاک کہتے ہیں ان کے جرم کے موافق سزا دی جائے گی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
فتیلا . ادنیٰ ظلم۔ لغت میں فتیل (بٹا ہوا) وہ دھاگہ یا میل کی بتی ہے جو آدمی دو انگلیوں کے درمیان بٹتا ہے کسی حقیر چیز کی تمثیل بیان کرنے کے لئے اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے۔ کذا فی الصحاح۔
بعض اہل لغت نے لکھا ہے کہ کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو ریشہ یا سونتا ہوتا ہے اس کو فتیل کہتے ہیں گویا مطلب یہ ہوگا کہ فتیل برابر ادنیٰ ظلم بھی ان پر نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 4:50انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب .(اے محمد ﷺ دیکھو (یہودی) اللہ پر کیسی دروغ بندی کرتے ہیں کہ اپنے کو اللہ کا بیٹا اور چہیتا قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے دن کے گناہ رات کو اور رات کے گناہ دن کو معاف کردیئے جاتے ہیں۔
وکفی بہ اثما مبینا . اور یہ افتراء بس گناہ کی انتہا ہے جس کا غلط ہونا ظاہر ہے اس کو غلط قرار دینے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہے اس کا گناہ ہونا بالکل بدیہی ہے کفی سے پہلے قدمحذوف ہے اور پورا جملہ یفترونکے فاعل سے حال ہے۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ واقعۂ احد کے بعد کعب بن اشرف ستر یہودیوں کو لے کر قریش کے پاس مکہ کو گیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش سے امداد و حمایت کا عہد و پیمان کرے اور جو معاہدہ رسول اللہ ﷺ سے یہودیوں نے کر رکھا تھا اس کو توڑ دے مکہ پہنچ کر کعب ابوسفیان کے پاس جا کر ٹھہرا اور دوسرے یہودی قریش کے مختلف اشخاص کے پاس اترے ‘ اہل مکہ نے کہا محمد ﷺ بھی اہل کتاب ہیں اور تم بھی اہل کتاب ہو ہم کو اعتبار نہیں اندیشہ یہ ہے کہ کہیں یہ تمہاری چال نہ ہو۔ اگر تم ہم کو اپنے ساتھ ملا کر جنگ کرنا چاہتے ہو تو ان دونوں بتوں کو سجدہ کرو ان کو مانو۔ کعب نے سجدہ کرلیا۔ پھر بولا تدبیر یہ ہے کہ تیس آدمی ہمارے اور تیس آدمی تمہارے کعبہ سے چمٹ کر معاہدہ کرلیں کہ محمد ﷺ کے خلاف جنگ کرنے کی ہم مل کر کوشش کریں گے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 4:51الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یومنون بالجبت الطاغوت . کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جن لوگوں کو اللہ کی کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ بتوں پر اور شیطان پر ایمان رکھتے ہیں۔ بیہقی نے دلائل میں اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کے حوالہ سے لکھا ہے اور جبت وطاغوت کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ جبت وطاغوتدو بت تھے مشرک ان کی پوجا کرتے تھے اس کی تائید مذکورۂ بالا قصہ سے ہوتی ہے۔ عکرمہ کا ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ حبشی زبان میں جبت کا معنی ہے شیطان۔ میں کہتا ہوں شاید بت کا نام اسی کے نام پر رکھ دیا گیا ہو۔
ابو عبیدہ ؓ : کا بیان ہے کہ جبت وطاغوت اللہ کے علاوہ ہر باطل معبود کو کہتے ہیں۔ مگر طاغوتکا جبت پر عطف چاہتا ہے کہ دونوں الگ الگ ہوں (کیونکہ عطف میں اصل یہ ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ مغایر ہوں)
تحقیق (مؤلف کے نزدیک) یہ ہے کہ جبت اصل میں جبس تھا جبس اس شخص کو کہتے ہیں جس میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہو سین کو تاء سے بدل دیا گیا۔ اور طاغوت بروزن فعلوت طغیان سے مشتق ہے طغیان کا معنی ہے کفر اور عصیان میں حد سے آگے بڑھ جانا۔ طاغوت کی اصل طغو وت تھی (قاموس و صحاح) اسی لئے حی بن اخطب کو جبت اور کعب بن اشرف کو طاغوت کہا گیا ہے کذا قال الضحاک۔ عمر ‘ شعبی اور مجاہد کا قول ہے کہ جبت کا معنی ہے جادو اور طاغوت کا معنی شیطان۔ محمد بن سیرین نے کہا جبت کاہن اور طاغوت جادوگر۔ سعید بن جبیر اور ابوالعالیہ نے اس کے برعکس کہا ہے۔
بغوی نے اپنی سند سے حضرت قبیصہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عیافت (پرندوں کے نام ‘ آواز اور گزرنے سے شگون حاصل کرنا) اور طرق (پتھریاں مارنا اور اس کو شگون جاننا) اور پرندوں کے دائیں بائیں سے اڑ کر جانے کو اپنے مقصد کے لئے اچھا برا اور مضر مفید سمجھنا (یا عام بدشگونی) جبت میں سے ہے جس کے اندر کوئی خیر نہیں۔ (1) [ عیافۃ پرندوں کے ناموں آوازوں اور اڑنے کے راستوں سے اچھا برا شگون لینا عافَ یَعِیْفُ عَیْفًا (باب ضرب) بدشگونی لی۔ گمان کیا ظن کیا (نہایہ) طَرْفٌپتھریاں اور کنکریاں پھینکنا (اور اس کو شگون قرار دینا) جیسے عورتیں کرتی ہیں (نہایہ) طیرۃ بدشگونی لینا اصل میں اسی لفظ کا معنی ہے دائیں بائیں سے پرندوں یا ہر نوں کے گزرنے سے اچھا یا برا شگون لینا (عرف عام میں عام بدشگونی پر اطلاق ہونے لگا) نہایۃ خبلجنون تباہی۔ اصل میں اس کا معنی ہے نقصان خرابی ‘ پھر ہر تباہی کو خبال کہنے لگے۔ (نہایہ)]
میں کہتا ہوں بظاہر اس جگہ جبت سے مراد ہیں بت جن کے اندر کوئی خیر نہیں ہوتی اور طاغوت سے مراد ہیں بتوں کے شیطان۔ ہر بت کا ایک شیطان ہوتا تھا جو بت کے اندر سے بولتا تھا اور اس سے لوگوں کو دھوکہ ہوجاتا تھا (ممکن ہے کوئی پجاری پس پردہ بیٹھا ہو اور بت تک اس نے کوئی تار پوشیدہ لگا رکھا ہو اور تار کے ذریعہ سے وہ بولتا ہو جس سے لوگ سمجھتے ہوں کہ بت بول رہا ہے۔
بیہقی نے حضرت ابوالطفیل کی روایت سے لکھا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید ؓ : کو عزیٰ کو ڈھا دینے کے لئے بھیجا۔ خالد ؓ نے جا کر ببول کے درخت کاٹ دیئے اور واپس آکر رسول اللہ ﷺ : کو اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا تجھے کوئی چیز بھی دکھائی دی ‘ خالد ؓ نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا تو تو نے عزیٰ کو ڈھایا ہی نہیں خالد دوبارہ لوٹ کر گئے۔ پجاریوں نے جب خالد ؓ : کو دیکھا تو پہاڑ پر چلے گئے اور بھاگتے میں یہ کہتے جا رہے تھے۔ عزیٰ اس کو پٹ کر دے ورنہ ذلت کے ساتھ مرجا ! اتنے میں ایک کالی ننگی عورت برآمد ہوئی جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ اپنے سر اور چہرہ پر خاک اڑا رہی تھی۔ خالد ؓ نے یہ کہتے ہوئے تلوار سونتی۔ عزیٰ اب میں تیرا منکر ہوں۔ تیری پاکی کا اقرار نہیں کرسکتا۔ میں دیکھ چکا ہوں کہ اللہ نے تجھے ذلیل کردیا۔ پھر تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کردیئے اور واپس آکر رسول اللہ : ﷺ کو اطلاع دے دی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں وہ عزیٰ تھی اب ہمیشہ کے لئے تمہارے ملک میں اپنی پوجا کی جانے سے ناامید ہوگئی۔ کذا فی سبیل الرشاد۔
امام احمد اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب کعب بن اشرف (یہودی) مکہ میں پہنچا تو قریش نے اس سے کہا دیکھو یہ ناٹھانگوڑا اپنی قوم سے کٹا ہوا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر ہے حالانکہ ہم حج کے متولی ہیں کعبہ کے دربان ہیں اور حاجیوں کو پانی پلانے والے ہیں کعب نے کہا تم اس سے بہتر ہو اس پر آیت : اِنَّ شَاءِنَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُنازل ہوئی اور مندرجۂ ذیل آیت بھی اتری۔
ویقولون للذین کفروا . اور وہ (کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی) مکہ کے کافروں سے (جیسے ابوسفیان وغیرہ) کہتے ہیں۔
ہولآء اہدی من الذین امنوا سبیلا . وہ (یعنی مکہ کے کافر) محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں یعنی دین کے لحاظ سے۔ محمد بن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ قریش بنی غطفان اور بنی قریظہ کی جماعتوں کو مسلمانوں پر جو لوگ چڑھا کر لائے تھے۔ وہ حی بن اخطب سلام بن ابی الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع بن ابی الحقیق ‘ ابو عمارہ اور ہودہ بن قیس تھے اور یہ سب بنی نضیر کے قبیلے سے تھے جب یہ لوگ قریش کے پاس پہنچے تو قریش نے کہا یہ علماء یہود ہیں پہلی کتابوں کا علم رکھتے ہیں ان سے دریافت کرو کہ ہمارا مذہب بہتر ہے یا محمد ﷺ کا (جب یہودیوں سے قریش نے یہ سوال کیا تو) یہودیوں نے کہا تمہارا مذہب اس کے مذہب سے بہتر ہے اور تم اس سے اور اس کے ساتھیوں سے زیادہ صحیح راستہ پر ہو اس پر اللہ نے یہ آیت ملکاً عظیماً تک نازل فرمائی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ابوسفیان نے جب کعب سے مذکورۂ بالا سوال کیا تو کعب نے کہا میرے سامنے اپنا مذہب پیش کرو۔ ابوسفیان نے کہا۔ ہم حاجیوں کے لئے کوہان والی اونٹنیاں ذبح کرتے ہیں۔ ان کو پانی پلاتے ہیں مہمانوں کو ٹھہراتے ہیں ‘ قیدیوں کو رہا کراتے ہیں۔ رشتہ داری کو جوڑ رکھتے ہیں۔ اپنے رب کے گھر کو آباد رکھتے ہیں اور اس کا طواف کرتے ہیں اور ہم اہل حرم ہیں اور محمد ﷺ نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ رشتہ داریاں کاٹ دیں۔ حرم کو چھوڑ گیا۔ ہمارا مذہب قدیم ہے۔ محمد ﷺ کا مذہب نیا ہے یہ سن کر کعب بولا خدا کی قسم تم محمد ﷺ کے راستے سے زیادہ صحیح راستہ پر ہو۔
Ayah 4:52اولئک الذین لعنہم اللہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔
ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا . اور جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کر دے (اے مخاطب) تم کو اس کا کوئی مددگار نہ دنیا میں ملے گا نہ آخرت میں دنیا میں جنگ میں اس کی کوئی مدد نہیں کرے گا اور آخرت میں شفاعت وغیرہ کے ذریعہ سے کوئی عذاب کو دفع نہ کرسکے گا۔
یہودیوں کے مدد مانگنے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش کے ساتھ جنگی معاہدہ کرنے کا رد اس آیت میں ہے۔
کنجوسی اور حسد انسان کے بدترین خصائل ہیں یہودیوں کے انہی اوصاف کا آئندہ آیات میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے۔
Ayah 4:53ام لہم نصیب من الملک . ہاں ! ان کے پاس کوئی حصّہ سلطنت کا نہیں ہے اممنقطعہ ہے اور ہمزہ انکاری ہے یہودیوں کا خیال تھا کہ عنقریب ان کی سلطنت ہوجائے گی اس خیال کی نفی کردی گئی۔ یا نصیب ملکی سے مراد ہے قومی سیادت و سرداری جس کے فوت ہونے کے اندیشہ سے یہودیوں نے نبوت کا انکار کیا تھا۔ سرداری کے لوازم میں سے سخاوت ہے اور یہودی بڑے کنجوس تھے۔ سخاوت نام کو بھی ان میں نہ تھی اس لئے پُر زور طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کی سرداری کا انکار کردیا۔ ممکن ہے بطور تعریض یہ بیان کرنا مقصود ہو کہ جن کو اقرار نبوت سے اپنی سرداری فوت ہونے کا اندیشہ تھا تو خیر ان کے انکار کی ایک وجہ بھی ہے (اگرچہ یہ وجہ بھی قابل پذیرائی عذر نہیں ہے) لیکن جن لوگوں کو قومی سیادت حاصل ہی نہیں ہے ان کا انکار تو انتہائی حماقت ہے۔
فاذا لا یوتون الناس نقیرا . ایسی حالت میں تو یہ لوگوں کو ذرا سی چیز بھی نہ دیتے۔ نقیر کھجور کی گٹھلی کے شگاف کا گڑھا۔ مراد حقیر چیز جیسے فتیل (دو انگلیوں کے درمیان بٹی ہوئی میل کی بتی یا ذرا سا بٹا ہوا دھاگا مگر مراد حقیر چیز ہوتی ہے) یعنی اگر ان کو حکومت و سلطنت کا کوئی حصہ مل جاتا تو انتہائی کنجوسی کی وجہ سے یہ لوگوں کو حقیر ترین ذرا سی چیز بھی نہ دیتے ایسی حالت میں اللہ ان کو سلطنت کیسے عنایت کرسکتا ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ بادشاہ بھی ہوتے تب بھی لوگوں کو ذرا سی چیز نہ دیتے اور اب تو ذلیل محتاج ہیں ایسی حالت میں ان کے بخل کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں ہے۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اہل کتاب کہتے تھے محمد ﷺ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ان کو جو کچھ ملا ہے وہ عاجزی اور فروتنی کی وجہ سے ملا ہے ‘ حالانکہ ان کی نو بیبیاں ہیں کوئی بادشاہ بھی ان سے زیادہ عیش میں کیا ہوگا اس پر مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 4:54ام یحسدون الناس علی ما اتہم اللہ من فضلہ . لیکن اللہ نے دوسرے لوگوں کو جو چیزیں اپنے فضل سے عنایت کی ہیں ان سے ان کو جلن ہوتی ہے اَمْ بَلکے معنی میں ہے۔ یحسدون کی ضمیر یہودیوں کی طرف راجع ہے لیکن ابن سعد نے عفرہ کے غلام عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ علم اہل کتاب مراد ہیں۔ الناس سے مراد صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے حضرت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد (رح) حسن اور ایک جماعت کا یہی قول ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لئے جو عورتیں حلال کردی تھیں یہودیوں کو اس سے جلن ہوئی تھی۔ بعض علماء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب مراد ہیں قتادہ نے کہا کہ عام عرب مراد ہیں یہودیوں کو عربوں سے جلن تھی کہ اللہ نے ان کے اندر نبی کیوں پیدا کیا اور کیوں عزت عطا فرمائی۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ الناس سے مراد سب لوگ ہیں کیونکہ جو شخص نبوت سے حسد کرتا ہے وہ گویا سب لوگوں کے کمالات اور ہدایت یاب ہونے سے جلتا ہے مَا اٰتَہُمُ اللّٰہُسے مراد ہے نبوت ‘ کتاب اللہ کی خوشنودی ‘ دشمنوں پر فتح ‘ دنیا میں عزت ‘ عورتیں اور وہ تمام حلال مرغوبات جن کے لوگ طلب گار ہوتے ہیں ایسے ہی لوگوں میں اللہ نے نبی موعود کو پیدا کیا۔ (اس پر یہودیوں کو جلن ہوئی)
فقد اتینا ال ابراہیم الکتب والحکمۃ واتینہم ملکا عظیما . سو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کو کتاب بھی دی اور علم بھی اور بڑی سلطنت بھی دی۔ آل ابراہیم ( علیہ السلام) سے مراد ہیں محمد ﷺ کے اسلاف اور آپ کے جد اعلیٰ کی اولاد یعنی حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) ‘ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب اور تمام انبیاء بنی اسرائیل۔ الکتاب میں لام جنسی ہے اس سے مراد ہے توریت ‘ انجیل ‘ زبور ‘ الحکمۃ سے مراد ہے علم وہبی (لدنی) یا وہ علوم جو کتاب کے علاوہ ان کو دیئے گئے تھے۔ بڑی سلطنت دینے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے حضرت یوسف کو طالوت کو ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو سلطنتیں عطا فرمائی تھیں تو اگر محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو اللہ ان کے اسلاف جیسی یا اس سے بڑھ کر سلطنت عطا فرما دے تو کیا بعید ہے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی ایک ہزار عورتیں تھیں ‘ تین سو مہر والی بیبیاں اور سات سو باندیاں اور حضرت داؤد کی سو عورتیں تھیں ان کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کی تو صرف نو عورتیں ہی تھیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کے بعد یہودی خاموش ہوگئے یعنی پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں کی کثرت اور دوسری نعمتوں کا تذکرہ چھوڑ دیا (اور طعنہ دینے کا ان کو موقع نہ ملا)
آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نسل ابراہیم کو ہم نے نبوت ‘ حکمت اور سلطنت عطا کی ان کے دشمن طاقتور بھی تھے اور جلتے بھی تھے ‘ نمرود فرعون (ہامان وغیرہ) ان سے حسد کرتے تھے مگر حاسدوں کا حسد اولاد ابراہیم کا کچھ نہ بگاڑ سکا (پس اسی طرح تمہارا حسد محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا)
Ayah 4:55فمنہم من امن بہ . پس کچھ یہودی تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی۔ یا یہ مراد ہے کہ نسل ابراہیمی کو نبوت حکمت اور سلطنت عطا کرنے کا جو ذکر کیا گیا کچھ یہودیوں نے تو اس کی تصدیق کی۔
ومنہم من صد عنہ . اور کچھ یہودیوں نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا نہ مانا۔ سدی نے لکھا ہے کہ بہ اور عنہ کی ضمیریں ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں (یعنی کچھ لوگ ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لائے اور کچھ نہ لائے) بات یہ ہوئی کہ ایک بار حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے کھیتی بوئی اور دوسرے لوگوں نے بھی بوئی (اوروں کی کھیتیاں تو تباہ ہوگئیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کھیتی خوب پیدا ہوئی لوگ محتاج ہو کر آپ کے پاس آئے آپ نے فرمایا جو میری نبوت کو مانے گا میں اس کو دوں گا۔ یہ سن کر کچھ لوگ ایمان لے آئے ان کو آپ نے غلہ دیا کچھ ایمان نہ لائے آپ نے ان کو نہیں دیا۔ اس وقت آیت کی مراد یہ ہوگی کہ جس طرح بعض لوگوں کا ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان نہ لانا ابراہیم کے معاملہ کو کمزور نہ کرسکا اسی طرح ان بدبختوں کا کفر آپ کے کام کو کمزور نہ کرسکے گا۔
ومنہم بجہنم سعیرا . اور جہنم کی بھڑکتی دہکتی آگ ہی (ان کے عذاب کے لئے) کافی ہے آخرت سے پہلے دنیا میں بالفعل عذاب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 4:56ان الذین کفروا باتینا سوف نصلیہم نارا . جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا بلاشبہ ہم ان کو آگ میں جھونک دیں گے اس آیت کا مفہوم سابق آیت کے مفہوم کی توصیح اور تاکید کی طرح ہے۔
کلما نضبحت جلودہم بدلنہم جلودا غیرہا . ہر دفعہ جب ان کی کھال جل چکے گی تو ہم فوراً پہلی کھال کی جگہ دوسری کھال بنا دیں گے یعنی کھال تو وہی ہوگی دوبارہ اس کی نئی صورت بنا دی جائے گی جیسے عرب کہتے ہیں بَدَّلْتُ الْخَاتَمَ قُرْطًا میں نے انگوٹھی کو بالی کی شکل سے بدل دیا یعنی انگوٹھی کی شکل نہ رہی بالی کی ہوگئی۔ یا یہ مراد ہے کہ جلنے کا اثر کھال سے دور کردیا جائے گا تاکہ دوبارہ عذاب کا احساس (کھال میں) پیدا ہوجائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تشریح میں فرمایا تھا کاغذ کی طرح ان کی کھالیں سفید کردی جائیں گی۔ رواہ البغوی اس قول کا مطلب بھی یہی ہے۔ ابن ابی حاتم نے آیت کی یہی تفسیر حضرت ابن عمر ؓ کی طرف بھی منسوب کی ہے ‘ طبرانی ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی گئی حضرت معاذ ؓ نے فرمایا مجھے اس کی تفسیر معلوم ہے وہ یہ ہے کہ ایک ساعت میں سو بار کھال تبدیل کی جائے گی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی سنا ہے۔ دوسری روایت میں معاذ ؓ کی جگہ اس تفسیر کی نسبت حضرت ابی ؓ کی طرف کی گئی ہے۔
ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن مردویہ نے دوسری سند سے روایت کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ ایک ساعت میں ایک سو بیس بار کھالیں تبدیل کی جائیں گی بیہقی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ کھالیں جلا دیں جائیں گی اور ان کی تجدید بھی کی جائے گی اور ایسا ایک ساعت میں چھ ہزار مرتبہ کیا جائے گا۔ آیت کی تفسیر کے ذیل میں بیہقی نے حسن (رح) بصری کا قول نقل کیا ہے کہ ایک ساعت میں ستر ہزار بار ان کو آگ کھائے گی۔ ہر مرتبہ حکم ہوگا۔ دوبارہ ویسے ہی ہوجاؤ حسب الحکم وہ جیسے تھے دوبارہ ویسے ہی ہوجائیں گے۔
ابن ابی الدنیا نے حضرت حذیفہ ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جہنم کے اندر آگ کے درندے آگ کے کتے۔ آگ کے آنکڑے اور آگ کی تلواریں ہوں گی۔ اللہ فرشتوں کو حکم دے گا وہ دوزخیوں کے پچھلے حصّہ میں آنکڑے ڈال کر لٹکا دیں گے اور ان تلواروں سے بند بند کاٹ کر ان درندوں اور کتوں کے سامنے ڈال دیں گے جونہی ایک عضو کو کاٹیں گے ایک نیا عضو اس کی جگہ دوبارہ پیدا ہوجائے گا۔
میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ عضو سابق کے اجزاء سے ایک نیا عضو بن کر اور سابق کھال کے اجزاء سے ایک نئی کھال تیار ہو کر نمودار ہوجائے گی۔ بعض علماء نے کہا از سر نو نئی کھال دی جائے گی (یعنی سابق کھال کی صورت ہی نہیں بلکہ اجزاء ساخت ہی دوسرے دیئے جائیں گے) حقیقت میں احساس کرنا نفس کا کام ہے ظاہری اعضاء تو احساس کے آلات ہیں اس لئے (اجزاء جلد کی تبدیل ہو یا ہیئت جلد کی بہرحال) کوئی دشواری نہیں۔
عبدالعزیز بن یحییٰ کا قول ہے کہ اللہ دوزخیوں کو ایسی کھالوں کا لباس پہنائے گا جو خود اَلَمسے متاثر نہ ہوں گی (بلکہ بدن کو دکھ پہنچائیں گی) اور اس طرح دکھ میں زیادتی ہوتی رہے گی۔ ایک کھال جل جائے گی تو دوسری کھال اس کی جگہ دے دی جائے گی جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : سَرَابِیْلُہُمْ مِّنْ قَطِرَانٍپس کرتوں کو کوئی دکھ نہ ہوگا بلکہ وہ بدن کو دکھ پہنچائیں گے۔
لیذوقوا العذاب . تاکہ کافر عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔
لیذوقواکی ضمیر چونکہ کفار کی طرف راجع ہے اس لئے عبدالعزیز کے قول مذکور کی اس فقرہ سے تائید ہوتی ہے اور ان لوگوں کی تفسیری رائے بھی درست ثابت ہوتی ہے جن کا قول ہے کہ عذاب نفس کو ہوگا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کافر کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کا فاصلہ تیز رفتار سوار کی تین روز کی مسافت سیر کے برابر ہوگا صحیحین۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کافر کی ڈاڑھ کوہ احد کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی موٹائی تین روز کی راہ کے برابر ہوگی۔ رواہ مسلم۔ ابن مبارک کی روایت کے یہ الفاظ ہیں قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ (کوہ) احد سے بڑی ہوگی تاکہ جہنم کافروں سے بھر جائے اور وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ ترمذی اور بیہقی کی روایت میں ہے کافر کی ران (کوہ) بیضاء کی طرح ہوگی جہنم کے اندر اس کی نشستگاہ اتنی ہوگی جیسے مکہ اور مدینہ کی درمیانی مسافت اور اس کی کھال کی موٹائی بیالیس بانہہ ہوگی۔ امام احمد۔ ترمذی حاکم اور بیہقی کی روایت میں ہے کافر کی کھال کی چوڑائی (یعنی موٹائی) ستر ذراع) بانہہ) ہوگی اس کا بازو (کوہ) بیضاء کے برابر اور ران (کوہ) ورقان کی طرح ہوگی۔
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ کے اندر دوزخیوں کی جسامت بڑی ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ بعض آدمیوں کے کان کی لو سے گردن کی جڑ تک کا فاصلہ سات سو برس کی راہ کے برابر ہوگا ‘ کھال کی موٹائی ستر ذراع اور ڈاڑھ (کوہ) احد کے برابر ہوگی۔
ترمذی ‘ بیہقی اور ہناد نے حضرت ابن عمر ؓ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ کافر اپنی زبان دو فرسخ تک کھینچتا جائے گا (یعنی دو فرسخ لمبی زبان ہوگی) ترمذی کی روایت میں۔ ایک دو فرسخ کا لفظ آیا ہے۔ احمد اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ بعض دوزخیوں کے کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ چالیس سال کی راہ کے برابر ہوگا جس کے اندر لہو اور خون کے وادی بہتے ہوں گے۔ راوی سے پوچھا گیا کیا لہو اور خون کے دریا بہتے ہوں گے جواب دیا نہیں۔ بلکہ وادی۔
ان اللہ کان عزیزا . یقیناً اللہ تعالیٰ غالب ہے جو کچھ وہ چاہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔
حکیما . حکمت والا ہے اپنی حکمت کے موافق سزا دے گا۔