4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور تم میں کوئی اس کا مقدور نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان بیبیوں سے نکاح کرے تو ان عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے جو تمہارے قبضے میں آئی ہوں اور وہ مومن ہوں اور اللہ تمہارے ایمانوں کا حال بہتر جاننے والا ہے اور تم سب ایک دوسرے کی ہم جنس ہو ، پس ایسی عورتوں کو ان کے سرپرستوں کی اجازت سے اپنے نکاح میں لاؤ اور دستور کے مطابق ان کا مہر ان کے حوالے کر دو ، البتہ یاد رہے کہ وہ قید وبند میں رہنے والی ہوں ، بدکار عورتیں نہ ہوں اور نہ ایسی ہوں کہ چوری چھپے بدچلنی کرتی رہتی ہوں ، پھر اگر ایسا ہو کہ قید نکاح میں آنے کے بعد ، بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان کیلئے اس سزا سے آدھی سزا ہوگی جو کہ آزاد بیبیوں کیلئے ہے ، یہ حکم ان لوگوں کیلئے ہے جنہیں اندیشہ ہو کہ نقصان اور برائی میں پڑجائیں گے اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے کہیں بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا اور رحمت رکھنے والا ہے

آزاد مومن عورت نہ مل سکتی ہو تو باندی سے مومنہ نکاح کرلو کہ وہ بھی تمہاری جنس ہی ہے : 58: مطلب یہ ہے کہ آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کی طاقت و وسعت مال نہ ہو کہ ان کے نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کو تم آسانی سے نہ ادا کرسکتے ہو کیونکہ معاشرہ میں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کمزور بھی اور طاقتور بھی اور ظاہر ہے ایک کمزور اور مزدور قسم کا آدمی وسعت مال نہیں رکھتا اگر وہ کسی عورت سے نکاح رچا لے جس کے ایک دن کے اخراجات اس کی ایک ماہ کی مزدوری بھی پورے نہ کرسکتی ہو تو وہ ایسی بیوی سے سکون و محبت اور شفقت ورافت کی امید کیونکہ کرسکتا ہے تو پھر پہلے ہی وہ قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے۔ ایک غریب آدمی اگر کسی متمول عورت سے نکاح کرے گا اور آنحا لی کہ وہ یہ بات نہ جانتی ہو کہ میرے ہونے والے شوہر کی کیا حالت ہے اور یہ سبز باغ دکھا کر اس کو یا اس کے گھر والوں کو آمادہ کر بھی لے گا اور طرح نکاح قرار پا جائے گا تو اس کا نبھانا اتنا آسان نہیں ہوگا اس لئے ایک تو نکاح سے پہلے فریقین کو اچھی طرح اس حالت پر غور و فکر کرلینا چاہیے اور دوسری یہ بات ہے کہ زندگی کے ایسے معاملات میں پردہ و اخفاء سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اس سے بہتر ہے کہ آدمی جوڑ ہی ایسی جگہ جوڑے جس میں اس طرح کی خلل اندازی کا خطرہ نہ ہو۔ اس لئے چونکہ نکاح کے مسائل جاری تھے ان میں اس طرح ہدایت فرما دی گئی کہ ایک آدمی اگر صاحب وسعت نہیں ہے کہ ایک آزاد عورت کی ذمہ داریاں با حسن و خوابی ادا کرسکے تو چاہیے کہ ان باندیوں میں سے جو اس کی اپنی ملکیت میں آچکی ہوں یا کسی دوسرے کی باندی سے اس کی اجازت کے ساتھ نکاح کرلے۔ ایسا کرے گا تو اس میں ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں بھلائیوں کی امید کی جاسکتی ہے اگر وہ باندی اپنی ہے تو بہتر ہے کہ آزاد کر کے اپنے نکاح میں لے آئے وہ اس کی شکر گزار رہے گی اور خدمت گزار بھی اور اگر کسی دوسرے کی باندی ہے تو اس کی اجازت سے جب وہ نکاح کرے گا اور اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے گا تو عین ممکن ہے کہ اس طرح مل بیٹھنے سے اس مملوکہ کے آزاد ہونے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے ممکن ہے کہ نکاح میں دینے والا مزید احساس کرتے ہوئے اس کو آزاد کر دے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مکاتب کر دے اور اس طرح اس کی مکاتبت کو ادا کر کے وہ آزاد ہوجائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس جوڑ سے وہ دونوں مل کر مزدوری کرلیں اور اس مزدوری روی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان کے حالات میں آسانی پیدا فرما دے۔ اس لئے فرمایا کہ اگر آزاد عورت میسر نہ آئے تو یہ کنیزو مملوکہ بھی تو آخر انسان ہے اور اس میں وہ ساری خواہشیں موجود ہیں جو ایک آزاد عورت میں ہیں پھر ایک پنتھ دو کاج والی بات سے کیوں گریز کیا جائے بلکہ اس کو ایک نیک کام سمجھتے ہوئے سر انجام دے اور نیت میں یہ بات رکھے کہ میں نے اس سے نیکیاں کمانی ہیں۔ یقینا اس کو اس میں سے سب کچھ میسر آجائے گا۔ یہ مشورہ گویا اس لئے دیا گیا کہ ایک کنیز کا مہر اور نان و نفقہ اتنا بڑا نہیں ہوگا جتنا کہ ایک آزاد عورت کا اور پھر یہ بھی کہ ان کے مالک ان کو غریب شوہروں کے نکاح میں دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے۔ ” فَتَیٰتِکُمْ “ سے اس جگہ مراد نوجوان ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی کنیزیں مراد ہیں کو اہ وہ جوان ہوں یا سن رسیدہ ہوں۔ ہاں ! شرط یہ ہے کہ مملوکہ مومنہ ہو اس لئے کہ اگر وہ غیر مومنہ ہوئی تو اولاد کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہر حال میں رہے گا۔ اس طرح یہ بات بھی مسلمانوں کو سمجھا دی کہ اسیران جنگ میں سے جو عورتیں تمہارے قبضہ میں آجائیں انہیں اس لئے حقیر و ذلیل نہ سمجھو کہ وہ دوسری قوم کی عورتیں ہیں یا لڑائی میں قید ہو کر آئی ہیں۔ انسان ہونے کے لحاظ سے ہر آدمی دوسرے آدمی کا ہم جنس ہے اور اندانی برادری کا رشتہ سارے رشتوں سے زیادہ قابل لحاظ ہے ان میں سے جو عورتیں مسلمان ہوگئی ہوں تم ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ اس سے جو مسائل ہمارے علماء مفسرین نے اخذ کئے ہیں وہ کسی طرح بھی صحیح نہیں ہو سکتے کہ کوئی اور چارہ کار نہ ہونے کی صورت میں یہ حکم ہے ورنہ حتیٰ الامکان مملوکہ سے نکاح کرنا اچھا نہیں اور اس طرح کی اور بہت سی باتیں کہ باندیوں کی اولاد غلام ہی ہوتی ہے اس لئے یہ بھی اچھا نہیں ہے۔ یہ سب رسم و رواج کی باتیں ہیں اسلام ان ساری چیزوں سے بری الذمہ ہے بلکہ اسلام نے اس باندی و غلام والی رسم کو آہستہ آہستہ نیست و نابود کردیا ہے اور آج اس طرح کی باتیں کرنا ویسے بھی زیب نہیں دیتا۔ نزول قرآن کریم سے پہلے غلامی کی رسم پوری دنیا میں موجود تھی۔ ہر طاقتور قوم کمزور 4 قوم کے افراد کو غلام بنا لیتی اور ان کے ساتھ نہایت وحشیانہ سلوک کرتی۔ قرآن کریم نے اس بارے میں اصلاحات کیں انہیں دو قسموں مین بیان کیا جاسکتا ہے۔ لولا یئہ کہ غلامی صرف اسیران جنگ میں محدود کردی وہ بھی اس طرح کہ کم سے کم اس کا امکان باقی رہ گیا۔ سورة محمد کی آیت نمبر 4 کے ذریعہ اعلان کردیا کہ اگر مصالحہ جنگ کے خلاف نہ ہو تو چاہیے کہ اسیران جنگ کو فدیہ لے کر یا احسان رکھ کر چھوڑ دیا جائے۔ ثانیاً غلاموں کے حقوق کی رعایت پر اس قدر زور دیا اور ان کے لئے ایسے احکام و قوانین نافز کئے کہ غلامی غلامی نہیں رہی بلکہ سوسائٹی کا ایک مساویانہ عنصر بن گیا اور جو کمزور پہلو تھا وہ بھی معمولی کمزور رہ گیا جو آہستہ آہستہ طاقتور ہوگیا۔ چناچہ اس جگہ بھی گویا یہ ترغیب دی گئی ہے کہ کنیزوں اور باندیوں سے نکاح کرنے میں کوئی عیب کی بات نہیں۔ انسان ہونے کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں اور فضیلت کا معیار ایمان و عمل صالح ہے بلکہ یہ عورتیں دنیا کے تھپڑ کھانے کے بعد کافی حد تک سلجھ چکی ہوں گی اگر ان کو سہارا دو تے تو وہ تمہارے کی ممنون احسان بھی ہوں گی اور بیوی کے کام بھی باحسن خوابی انجام دیں گی۔ کنیزوں سے شادی کی جو اجازت دی جا رہی ہے اس میں ان باتوں کا لحاظ ضروری ہے : 59: فرمایا تم کو باندیوں سے نکاح کی جو اجازت دی جا رہی ہے وہ معاشرہ کو سنوارنے کے لئے گئی ہے بگاڑنے کے لئے نہیں اس لئے یہ بات یاد رکھو کہ سب سے پہلے تو کسی باندی سے نکاح کرنا چاہو تو اس صورت میں کہ جب وہ تمہاری اپنی مملوکہ نہیں ہے تو جس کی وہ کنیزو مملوکہ ہے اس سے رابطہ قائم کرو اور اس کی اجازت کے بعد نکاح کرو ان کی اجازت کے بغیر نکاح نکاح نہیں ہوگا اور دوسری بات یہ ہے کہ باندی و کنیز سمجھ کر اس کو مہر سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ اگر وہ بغیر مہر نکاح کرنے پر اراضی بھی ہوجائے تو بغیر نکاح منعقد نہیں ہوگا بلکہ مہر لازماً ادا کرنا پڑے گا ہاں اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا رہی تاکہ تم اپنی وسعت کے مطابق ادا کرسکو اور جو کچھ دو اللہ کا حکم اور دل کی رضا مندی سے ادا رکرو۔ ہوس نفس کی خاطر نہیں۔ تیسری بات یہ یاد رکھو کہ وہ قید و بند میں رہنے کے لئے تیار ہوں یعنی ان کی عادات واطوار سے ان کے اخلاق کر ادر سے کوئی ایسی جھلک ظاہر نہ ہوتی ہو کہ وہ ہر مقام پر آنکھ لڑانے والی ہوں اور اخلاق کر ادر کی گھٹیا نہ ہوں کہ معاشرے کو سنوارنے کی بجائے اس کے بگاڑ کا سبب بن جائیَ وہ پاکد امن ہوں ، گندی اور ناپاک عادات کی مالک نہ ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بغایا بھی نہ ہوں کہ ٹیگسی کی طرح چلنا ان کی عادت میں داخل ہوچکا ہو۔ اگر کوئی ایسی بات ان میں دیکھو تو بالکل قریب نہ جاؤ اس لئے کہ براہم نشین برا ہی رہتا ہے۔ ہاں ، طبعاً نیک ہوں اور عادتاً درست ہوں تو صرف باندی اور کنیز ہونا کوئی عیب کی بات نہیں اس لئے کہ یہ کسی عادت یا طبعی کمزوری کا نام نہیں بلکہ حالات زمانہ اور قومی کمزوری کی نشانی ہے جو ہر انسان کی انفرادی حالت سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اجتماعی کمزوری کا نتیجہ ہے اور یہ ہر انسان کی اختیاری بات نہیں ہے۔ مختصر یہ کہ بد چلن عورت کو نکاح کے لئے کبھی بھی پسند نہ کرو اور اس طرح بد چلن مرد کو بھی وہ آزاد ہو غلام و باندی۔ کیونکہ یہ حالت کفر سے بھی بد تر ہے۔ اس کی اگر کوئی رگ ملتی ہے تو مشرک ایک اللہ کا ہو کر نہیں کرسکتا اور زانی ایک ہی نکاح پر انحصار و اکتفا نہیں کرسکتا وہ مرد ہو یا عورت ہو۔ اس لئے مشترکہ اور زانیہ عورت کے قریب ہی نہ جاؤ جب تک کہ وہ اس سے تائب نہ ہوجائیں۔ کنیز اگر برائی کی مرتکب ہوگی تو اس کے لئے آزاد عورت کے مقابلہ میں آدھی سزا دی جائے گی : 60: تم نے نکاح کرلیا اپنی طرف سے ہر طرح کی دیکھ بھال کی۔ پوری تسلی کرنے کے بعد نکاح کیا لیکن اس وقت حالات واضح نہ ہو کسے نکاح تم نے کر لیان کنیز ساری احتیاطوں کے باوجود پھر بھی بد اخلاق نکل یا تم نے شادی تو نہیں کی کسی عام کنیز کو برائی میں مبتلا پایا اور اسلامی نظر کے مطابق اس کو برائی میں کوئی شک و شک کی بات نہ رہی تو اب کیا جائے گا ؟ فرمایا ایسی صورت میں اس باندی و کنیز کے لئے آزاد و محصنہ کے مقابلہ میں آدھا عذاب دیا جائے گا۔ یعنی اس کو پچاس کوڑے مارے جائیں گی۔ اس آیت سے رجم کو اسلامی سزا نہ ماننے والوں نے استدلال کیا ہے کہ الفاظ واضح طور پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کنیز و باندی جس سے برائی کی صدور ہوا وہ شادی شدہ ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ آزاد نہیں اور اگر آزاد کی سزا رجم ہوتی تو اس کے لئے کسی دوسری سزا کا حکم نافذ ہوتا اس لئے کہ رجم میں آدھا عذاب ہے اور یہ آدھا عذاب غیر شادی شدہ آزاد کے مقابلہ میں تو آدھا ہو کر پچاس کوڑے ہوگئے لیکن شادی شدہ ہونے کی صورت میں اگر آزاد کے لیے رجم ہوتا تو اس کنیز کے لئے کوئی دوسری سزاد تجویز کی ججارتی ججب ایسا نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ شادی شدہ آزاد کے لئے بھی ایک سو درے ہی تسلیم کرنا ہوں گے تاکہ اس کی آدھی سزا پچاس کوڑے قرار پا سکے۔ کنیز سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے ضروری نہیں ٹھہرایا گیا : 61: کسی کام کی اججازت ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کو کرنا لازم و ضروری ہے۔ یہ اجازت جو دی گئی ہے یہ محض تمہاری کمزوری کی بناء پر ہے کہ جب ایک آزاد عورت سے نکاح ممکن نہیں ہو رہا اور نفسانی کمزوری میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے تو اس خطرہ کا ازالہ بہر حال نکاح ہی ہے اور وہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ آزاد عورت نہیں تو کنیز سے نکاح کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بھی انسان ہے اور تمہاری جنس سے ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ باندی و غلام کی رسم قبل اسلام موجو تھی اسلام نے اس کو آہستہ آہستہ کئی ایک طریقوں سے ختم ضرور کیا ہے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور بیک وقت اس کو ختم کرنے کا اعلان جو نہیں کیا تو یہ مصلحت سے خالی نہ تھا بلکہ ایک دفعہ ان کی آزادی کا اعلان کردیا جاتا تو اس سے کئی طرح کی نئی خرابیاں جنم لیتیں اور جب ایک برائی کو ختم کرنے سے کئی برائیاں مزید پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو اس برائی کو اس طرح ختم کرنا دانشمندی کی بات ہے کہ اس سے مزید برائیاں جنم نہ لیں۔ پاکستانیوں کی طرھ اندھا دھند قانون بنا کر نافذ کردینے کے بعد جو نتائج نکلتے ہیں ان سے آج کچھ بھی عقل و فکر رکھنے والا انسان ناواقف نہیں ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ نے کسی ایسے حکم کے نفاذ کی فوراً اور اچانک کوشش ہی نہیں فرمائی جس سے مزید برائیوں کے پیدا ہونے کا خطرہ موجود تھا۔ ایسے احکام کا نزول بھی تدریحاً ہوتا رہا۔ انہیں مسائل و احکام میں رسم ملک یمین بھی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے یہ ثابت کر دکھایا کہ یہ رسم غیر اسلامی ہے اور اس کا قلع و قمع ضروری ہے۔ آپ ﷺ نے نبوت ملنے سے بھی بہت پہلے زید کو آزاد کیا جو سیدہ خدیجہ کبریٰ ام المومنین کی طرف سے آپ ﷺ کو ہبہ کئے گئے تھے۔ آزاد کرنے کے بعد اس سے وہ محبت اور پیار کیا کہ ایک وقت آیا کہ جب اس کے والدین کو اطلاع ملی تو وہ زید کو حاصل کرنے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ثبوت فراہم کردیا کہ یہ ہمارا بیٹا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو زید کو ویسے ہی آزاد کردیا ہوا ہے اور اب میری طرف سے اجازت ہے کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہیے تو چلا جائے۔ والدین نے زید کو لے جانے کی سعی و کوشش کی زید کو بہت سمجھایا لیکن اس نے رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت کو والدین کے مقابلہ میں ترجیح دی اور والدین کے ساتھ جانے سے صاف انکار کردیا۔ ام ایمن رسول اللہ ﷺ کی پرورش کرنے والی آپ ﷺ کے خاندان کی طرف سے بطور ورثہ میں ملی ہوئی کنیز تھی۔ آپ ﷺ نے اس کو آزاد کر کے اس کو وہ احترام دیا جیسے ایک بیٹا اپنی والدہ کو احترام دیتا ہے اور یہ دونوں واقعات نبوت سے پہلے آپ ﷺ نے سر انجام دیئے تھے نبوت عطا ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ایک باندی فتح خیبر کے موقع پر پیش کی گئی آپ ﷺ نے اسے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی آزاد کردیا اور پھر صرف آزاد ہی نہیں کیا بلکہ اپنے حرم میں بھی داخل کرلیا اور اس طرح ان کو ام المومنین ہونے کا شرف حاصل ہوگیا۔ یہی وہ ام المومنین ہیں جن کا اسم گرامی صفیہ ؓ تھا۔ احادیث و تاریخ کی روایات گواہ ہیں کہ ام المومنین سیدہ صفیہ کو وہی مقام حاصل تھا۔ جو قریشی بیبیوں کو حاصل تھا۔ اور بالکل یہی صورت ماریہ قبطیہ کی بھی تھی جس کو شاہ مصر نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ آپ ﷺ نے ماریہ کے یہاں پہنچتے ہی اس کو آزاد کردیا اور پھر نکاح کر کے حرم میں داخل کر کے ام المومنین کے خطاب عظیم سے نواز اور یہی رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی وہ دیر تک زندہ رہیں اور ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ ان کی وفات تک ان کو دوسری ام المومنین کے ساتھ اور ان کے برابر نفقہ دیتے رہے۔ بخاری شریف میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ججس شخص کے پاس کنیز ہو پھر وہ اس کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کو آداب سکھائے اور اچھے آداب سکھائے اور پھر اسے آزاد کر کے نکاح کرلے تو اس کے لئے دو چند اجر وثواب ہے۔ پس باندی کے ساتھ نکاح کی صرف اجازت کا مطلب یہ ہے کہ باندی ہی رکھ کر نکاح کرنے کی بجائے کوئی اسی صورت اختیار کرنا کہ باندی باندی نہ رہے بلکہ آزاد ہوجائے اور پھر آزاد کرا کر اس سے نکاح کرنا کمالات انسانی اور آداب اسلامی میں داخل ہے۔ جن رشتوں سے نکاح حرام ہے یہ پچھلی امتوں میں بھی حرام تھے بد اعتدالی رسم و رواج نے پید کئے : 62: پچھلے رکوع میں جن قریب کے رشتوں میں نکاح کی حرمت کا اعلان فرمایا گیا یہ حرمت کوئی ایسی حرمت نہیں جس کو کبھی اللہ نے اس سے پہلے حلال بھی بتایا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے احکام جو تدریجاً نازل ہوتے رہے ہیں اس میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی چیز کے حلال ہونے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہو اور پھر زمانہ یا مدت گزرنے کے بعد اس حکم کو حرام کردیا ہو۔ حاشا کلا کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔ ہرگز ہرگز نہیں۔ ہاں ! ایک کام ہوتا رہا اور اللہ جانتا تھا کہ ایسا ہو رہا ہے لیکن اس کی ممانعت نہیں فرمائی تو اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ اس وقت کے حالات میں اس حکم کا آنا مناسب نہیں تھا اور یہ علم الٰہی میں موجود تھا۔ لہٰذا اس کے حلال ہونے یا حرام ہونے کا حکم نافذ نہیں فرمایا اور پھر جب مناسب جانا اس کی حلت و حرمت کا حکم نازل فرما دیا۔ کتب سابقہ میں اگر کوئی ایسی بات بیان کی گئی ہے تو وہ ان لوگوں نے جن کی کتاب دی گئی تھی ان انبیاء کرام کے بعد جب وہ دنیا سے رخصت ہوگئے تو پچھلے لوگوں نے اپنی طرف سے اضافہ کر کے بطور تفسیر ان کتابوں میں ایسے احکام داخل کردیئے اور مرور زمانہ سے جب ان کتابوں کی اصل زبان بھی عنقا ہوگئی تو متر جمین نے ترجمہ کرتے وقت ان تفسیری بیان کا بھی ساتھ ترجمہ کردیا اور پھر کسی کو یہ بات معلوم ہی نہ رہی کہ اصل کتاب کا حکم کونسا ہے اور بعد میں لوگوں نے تفسیر کرتے وقت ان میں داخل کیا تھا۔ ایک مثال بھی اس طرح کی بیان نہیں کی جاسکتی کہ ایک چیز کو اللہ نے خود ہی حلال تھہرایا ہو اور پھر کسی زمانہ میں حرام کردیا ہو۔ ہاں یہود و نصاریٰ نے اپنی طرف سے حلت و حرمت میں بہت دخل اندازی کی اور بہت سی چیزوں کا حلال و حرام ٹھہراتے رہے اور اس طرح گویا ان کو ان کے اپنے ہی کئے کی سزا ملتی رہی کہ ایک چیز حلال تھی لیکن انہوں نے حرام کر کے اس سے فائدہ حاصل کرنا ترک کردیا اور ایسی چیزیں بھی ہیں کہ وہ ابدی طور پر حرام تھیں لیکن انہوں نے ان کو قومی طور پر حلال تصور کر کے ان سے فائدہ پانا شروع کردیا اور اس کی مثالیں کثرت سے قرآن کریم اور دوسری کتب احادیث میں مل جاتی ہیں۔ زیز نظر آیت میں اس بات کو بیان فرمایا ججا رہا ہے کہ یہ رشتے جو تم پر حرام ٹھہرائے گئے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان لوگوں کی راہ کھول دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور انہیں کے طریقہ پر تم کو بھی چلائے اور تم پر لوٹ آئے اور اللہ جاننے والا ، حکمت رکھنے والا ہے۔ “ اس آیت نے کیا سبق دیا ؟ سبق یہ دیا کہ اگر تم سنو کہ کسی زمانہ میں اللہ نے بہن بھائی کی شادیاں رچانے کا حکم دیا تھا جیسے آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں اور بیٹیوں کے بارے میں مشہور ہے تو سمجھ لو کہ یہ بالکل جھوٹ ہے اللہ نے ایسا حکم کبھی نہیں دیا۔ اگر تم کو یہ سنایا جائے کہ دیکھو یعقوب (علیہ السلام) کے نکاح میں دو سگی ہمشیرہ تھیں پھر حوالے بھی نکال کر دکھائے جائیں تو تم یاد رکھو کہ یہ بات بالکل غلط ہے اللہ نے کبھی ایسا حکم نہیں دیا اور نہ ہی یعقوب (علیہ السلام) کے گھر میں دو حققی بہنیں کبھی بیک وقت نکاح میں رہی ہیں۔ اگر تم یہ سنو کہ لوط (علیہ السلام) نے خود اپنی لڑکیوں سے نکاح کا فعل کیا یا یہ کہ کفار اور مشرکین کو آپ نے اپنی حقیقی بیٹیاں پیش کی تھیں تو صاف صاف انکار کر دو یہ باتیں بالکل غلط ہیں اور لوط (علیہ السلام) کے ذمہ افتراء کھلا افترا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی دو متضاد حکم نازل نہیں فرمائے۔ اور کبھی کوئی ایسا حکم نازل نہیں فرمایا کہ کسی زمانہ میں اللہ نے خود ہی اس کو حرام ٹھہرایا ہو اور پھر خود ہی اس کو کسی دوسرے زمانہ میں حلال ٹھہریا ہے تو بےدھڑک کہہ دو کہ بالکل غلط ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایس اندھیر کھاتہ مطلق نہیں۔ ہاں ! ایک چیز کے متعلق حکم نازل ہی نہ فرمایا ہو تو یہ دوسری بات ہے۔ اگر تم نے یہ اصول یاد رکھنا تو تمہاری بہت سی الجھنیں خود بخود ختم ہوجائیں گی اور تم سمجھ جاؤ گے کہ وہ کیا کیا جھوٹ ہیں جو آج تک تم سنتے آئے اور وہ اللہ کے لگا لگا کر بیان کئے گئے کہ پہلے اللہ نے حکم اس طرح دیا تھا لیکن بعد میں اس کو ایسا کردیا۔ کیوں ؟ اللہ کو پہلے علم نہیں تھا اور بعد میں علم آیا ہے۔ فوراً کہیں گے نہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ فَعَالُ لِمَا یُریْد ہے جو چاہے کرتا ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ بلاشبہ وہ فَعَالُ لِّمایُرِیْد ہے لیکن وہ بَذِاتِ الصُّدُوْر بھی ہے اور عَلَّامُ الْغُیُوْب بھی۔ اس نے خود ہیں یہ اعلان بھی فرمایا کہ وہ لَا تُخْلِفُ الْ مِیْعاد بھی ہے کہ جو وعدہ وہ کرلے اس کا خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔ اس لئے آپ ہرگز ایک بھی ایسا حکم نہیں دکھا سکتے کہ پہلے اللہ نے فرمایا ہو کہ ” ایسا کرو “ اور پھر کبھی کہہ دیا ہو کہ ” ایسا مت کرو “ کیوں ؟ اس لئے کہ میں فَعَّالُ لِّمَا یُرِیْدُ ہوں تم کون ہوتے ہو مجھے پوچھنے والے۔ ایسی بات کوئی ملاح جی اور مولانا صاحب تو فرما سکتے ہیں کوئی سیاسی لیڈر کوئی حکمران یا کوئی مذہبی راہنما کہلانے والا تو کہہ سکتا ہے لیکن اللہ وحد و لاشریک اللہ کی ذاکت ایسی بات کبھی نہیں فرماتا۔ اس لئے کہ اس کے کلام میں مطلق تضاد نہیں ہے۔ جس چیز کو اس نے پہلے روز سے حرام کہا اس چیز کو اس نے وحی کے آخری روز بھی حرام ہی کہا اور جس چیز کو اس نے پہلے روز سے حلال ٹھہرایا وہ وحی کے آخری روز تک حلال ہی ٹھہری اور رہتی دنیا تک وہ حلال ہی ٹھہرے گی۔ اللہ کا حکم اور اللہ کا قانون موم کی ناک نہیں کہ جدھر چاہا موڑ لیا۔ وہ حاشا اللہ کہ کبھی ایسا کمزور ہو جیسا لوگوں نے اس کو سمجھ لیا۔ وللل ثم تاللہ ، للہ سے کوئی زور آور ہو وہ تو سارے زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے اور اس طرح قانون کو ہمیشہ وہی بدلتا ہے اور وہی ترمیم کرتا ہے جو کمزور ہو اور ذرا حالات بگڑتے دیکھے تو وہ قانون میں ترمیم کر دے۔
Ayahs 4:26–27

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان لوگوں کی راہ کھول دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور انہیں کے طریقہ پر تمہیں بھی چلائے نیز تم پر لوٹ آئے اور اللہ جاننے والا اور حکمت رکھنے والا ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر لوٹ آئے ، لیکن جو لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ اعتدال سے ہٹ کر (حقیقت سے) بہت دور جا پڑو

اللہ کا چاہنا وہی ہے جو اس نے قانون بنا کر اس کا اعلان کردیا ہے : 63: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا اور اپنی پوری مخلوق سے ان کو اشرف و اعلیٰ بنایا۔ چونکہ تخلیق انسانی میں شر اور خیر دونوں چیزوں کو اکٹھا کردیا اور اس شاہکار کا یہی کمال ہے کہ یہ مجموعہ اضداد ہے اور اس وجہ سے یہ کمالف بھی ہے کہ جب متضاد قوتوں کا مجموعہ ہے تو ان قوتوں پر اس نے اس کو اختیار بھی مرحمت فرمایا ہے اس اختیار کی وجہ سے وہ ثواب و عذاب کا مستحق ہے۔ پھر اللہ نے اس کو دونوں طاقتوں اور قوتوں سے کام لینے کی مجھے بھی عطا فرمائی۔ اس کی راہنمائی کے لئے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا فرمایا یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ یہ ہوا کہ انسان راہ راست پر چل کر دین و دنیا میں کامیابی حاصل کرے اور انہی کامیابیوں کی وجہ سے اس کو نیابت الٰہی نصیب ہو۔ لیکن قانون الٰہی یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے ویسے ہی اس کا نتیجہ بھی اس کو ملے۔ اللہ کا ارادہ تو یہی ہے کہ انسان سیدھی راہ اختیار کرے اور اس نے سیدھی رالہ چلنے والوں کے لئے اپنا قانون بھی نافذ کر رکھا ہے لیکن اگر انسان اپنے اس ارادہ سے جو اللہ نے اس کو اختیار کی صورت میں دے دیا ہے اللہ کے ارادہ یعنی چاہت کے خلاف چل نکلے تو پھر وہ اس کے قانون کی خلافت کے باعث اس نتیجہ سے یقینا دو چار ہوگا۔ گویا اس طرح اللہ کے چاہنے کے خلاف جو اس نے کیا تو اس لئے نہیں کہ وہ اس کے قانون کی گرفت سے بچ گیا ہرگز نہیں بلکہ اس طرح وہ اس کے قانون کی گرفت میں آگیا کہ اس نے رضائے الٰہی کے خلاف عمل کیا اور رضائے الٰہی کے خلاف عمل کرنے والوں کے لئے جو قانون الٰہی میں سزا ہے وہ اس کا مستحق قرار پایا اور اس طرح وہ اس شکنجے میں خود پھنس گیا اور یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آئی کہ رضائے الٰہی کے خلاف کر کے میں نے نقصان کس کا کیا ؟ فرمایا حقیقت حال اس طرح ہے کہ کچھ لوگ نرے اپنی خواہشات کے بندے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح ہوجاؤ ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ وہی اتنے جھوٹے کہ ہر بد اعتدالی کی راہ کے متلاشی ہیں اور حدود اللہ کی مطلق پرواہ نہیں کرتے۔ اس لئے نہیں کہ وہ اللہ سے زیادہ زور آور ہوگئے ہیں بلکہ اس لئے کہ اللہ نے ان کو اختیار دے کر اس کے استعمال کرنے کا ایک وقت بھی متعین فرما دیا ہے وہ ان سے چھیننا نہیں چاہتا کیونکہ ان کو یہ اختیار دے کر اس کے استعمال کرنے کا ایک وقت بھی متعین فرما دیا ہے لہٰذا اس وقت معین تک ان کا پہنچنا قانون الٰہی میں طے ہے اور جب وہ وقت آجائے گا اس سے آگے وہ ایک پل بھی نکل نہیں سکیں گے اور اس طرح وہ اپنے کئے کی جو ابد ہی کے لئے حاضر کر لئے جائیں گے۔ اس طرح تم کو سمجھایا جا رہا ہے۔ کہ تم خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرلو کہ راہ اعتدال سے ہٹ جانا مفید مقصد ہے یا راہ اعتدال پر قائم رہنا۔ ہاں ! یہ بات مزید سمجھ لینی چاہیے کہ ” ارادہ “ کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ایک قطعی فیصلہ کے معنی میں اور ایک ” چاہنے “ کے معنی میں۔ اللہ تعالیٰ کے جو قطعی فیصلے ہیں ان پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور مججرد چاہنے کے معنوں پر اس کا اطلاق موجود ہے۔ قطعی فیصلے تو ان ٹل اور ان مٹ ہوتے ہیں جیسے ہماری زبان میں کہتے ہیں پتھر پر لکیر اور مجرد چاہنے کی تشریح میں فرمایا گیا کہ اللہ نے اپنے علم و حکمت سے تمہیں اس مقصد کے لئے منتخب کیا ہے کہ تمہارے لئے اپنی آیتیں اورا پنے احکام و ہدایات واضح فرمائے اور انباکء و صلحا امت کے ذریعے سے ایمان و عمل صالح کو جو راہیں دنیا کے لئے کھولی گئی تھی۔ اور جو اب تم کردی گئی ہیں ان کی تمہیں از سر نو ہدایت بخشے تاکہ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اللہ تم پر رحمت کی نظر فرمائے۔ اس بات کو بھی ایک فیصلہ الٰہی کی حیثیت سے ظاہر فرمایا۔ اس طرح اس کو بیان کرنے کا مقصد ایک تو مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے اور دوسرے اسلام کے معاندین و مخالفین کی ہمت شکنی جو ان معاشرتی اصلاحات کی وجہ سے جو اس سورة مبارکہ میں مذکورہ ہوئی ہیں جھاڑ کے کانٹوں کی طرح مسلمانوں کے پیچھے پڑگئے تے۔ اور ان معاشرتی اصلاحات کو عام طور پر مفاد پرست طبقہ ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ اس وجہ سے سارے یہود و عیسائی اور مشرکین سب مل کر ان اصلاحات سے آگ بگولا ہوگئے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ اس طرح ان کی زد ان کی بےلگام آزادیوں اور بےقید شہوت پرستیوں پر پڑ رہی تھی۔ وہ اس ارادے کے ساتھ کھڑے ہوئے کہ ان تمام اصلاحات کا ناکام کر کے خلق خدا کو پھر اس تاریکی کے گڑھے میں دھکیل دیں جس سے نجات دینے کے لئے اسلام نے یہ روشنی دکھائی تھی۔ اس طرح جن لوگوں نے اپنے اوپر اپنی خود ساختہ شریعتوں اور خانہ ساز رسموں اور رواجوں کے بوجھ لاد رکھے تھے انہوں نے جب دیکھا کہ یہ بوجھ لوگوں کے سر سے اتر رہا ہے اور اصرار و اغلال کی غیر فطری بیڑیاں کٹ رہی ہیں تو چیخنے لگے کہ دیکھو اسلاف کا سارا سرمایہ معرض خطر میں ہے اور چاروں طرف سے ماو مارو کی صدائیں بلند ہونی شروع ہوگئیں اور قرآن کریم نے ان سب کا جواب دو ٹوک الفاظ میں دے دیا اور مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے تمہارے لیے نرمی اور آسانی ہو اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اس کی کمزوری کیا ہے ؟ یہی کہ وہ مجموعہ اضداد ہے : 64: انسان چونکہ کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اس کمزوری کے باعث وہ اس گورکھ دھندہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ میں بڑا طاقتور ہوں کہ میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا اور اس یہ وہ میں ان مخفی راہوں کو وہ تلاش نہیں کر پاتا جو اس کی اصل کامیابی کی راہیں ہیں اس لئے اس بتانے اور سمجھانے کے لئے سلسلہ ہدایت قائم کیا گیا اور ان تین آیتوں میں دراصل وہ سلسلہ ہدایت ہی اس کو سمجھایا گیا ہے اور اس طرح اس کو تین باتیں تفہیم کرانے کی کوشش کی گئی ہے اول یہ کہ نزول شریعت کوئی نئی بات نہیں پہلے لوگوں پر بھی شرائع نازل ہوتی رہیں اور وہ سب ایک ہی تھیں وہ کبھی مختلف نہ ہوئیں کہ ان کے اصول ایک ہی منبع سے نکلے تھے۔ اور اس طرح ایک سچے کا حال مختلف نہیں ہو سکتا۔ دوسری بات یہ کہا اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہدایت و شریعت نہ ہوگی تو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے اور اس طرح اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماریں گے۔ تیسری یہ کہ نزول شریعت اس لئے ضروری تھا کہ انسان ہدایت کی راہوں کی صرف اپنی کوشش سے حاصل کرنے سے عاجز ہے جتنی دیر میں اس اس کو ایک غلط راہ چلنے کا تجربہ ہوگا اتنی دیر میں خود بوجہ اپنی غلطی کے غلط راہ پر چل کر ہلاک ہوچکا ہوگا اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود شرائع نازل کر کے انسان کے اس بوجھ کو کافی حد تک ہلکا کردیا ہے۔ اے کاش کہ انسان بھی اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قانون الٰہی ہے کہ اللہ نے انسانی کو پیدا کر کے اس کے ذمہ کچھ ذمہ داریاں ڈال دی ہیں اور جب تک وہ ان اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا اس وقت تک قانون الٰہی حرکت میں نہیں آتا۔ دیکھو انسان کو پیدا کیا اور اس کی نسل کو آگے بڑھانے کے لئے ایک قانون بنا دیا اور یہ قانون اس نے صرف اور صرف اپنی مرضی و اختیار سے بنایا کسی کے دباؤ میں آکر نہیں اور پھر اس قانون کا اعلان بھی خود ہی فرما دیا۔ وہ قانون کیا ہے ؟ فرمایا افرائتم ما تھنون تم نے دیکھا کہ امنا تمہارے ذمہ ہے لیکن تخلیق تمہارے ذمہ کی بات نہیں وہ ہمارے یعنی اللہ کے ذمہ ہے۔ فرمایا جب تک تم اپنے ذمہ کی بات پوری نہیں کرو گے ہمارا قانون اپنی ذمہ داری کے لئے کبھی کھڑا نہیں ہوگا۔ کیوں ؟ اس لے کہ ہم قانون کے خلاف نہیں کرتے۔ سورۃ الواقعہ میں اس طرح کی چند چیزیں اللہ نے اور بھی سمجھائی ہیں اور مطلب سب کا ایک ہی ہے کہ قانون الٰہی یہ ہے کہ تم اپنے ذمجہ کا کام کرو اور یہی شریعت کا وہ بوجھ ہے جو انسان پر رکھا گیا ہے اور اس پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اس کو برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل پر رواں دواں رہے گا تو تیرے لئے کامیابی کی راہیں کھلتی جائیں گی جو تیری دنیا کو بھی سنواریں گی اور تیری آخرت کو بھی بنائیں گی۔ لیکن بد قسمتی سے اس کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور ان کو پورا کرنے میں ہمیشہ کوتاہی کرتا ہے اور موہوم طریقہ سے اللہ کی ذمہ داریاں پوری ہونے کی امید پر طرح طرح کے عقائد گھڑتا اور پھر ان پر سختی سے کار بند ہوجاتا ہتے اس طرح گویا وہ خود ہی اپنا خدا گھڑتا ہے اور خود ہی اس کی پرستش شروع کردیتا ہے اور پھر اس ادھیڑ بن کا نام اس نے مذہب رکھ دیا ہے اور 4 جتنا اس پر پختہ ہوتا ہے اتنا ہی وہ اصل راہ سے دور ہٹتا جاتا ہے۔ یہود کی تاریخ تمہارے سامنے ہے۔ عیسائیوں کی تاریخ تمہارے پاس موجود اور آج عالم اسلام کے مسلمانوں کے عقائد و نظریات جو ان کے ہاں رواج پا گئے ہیں وہ تمہارے سامنے ہیں ایک ایک پر گور کرتے جاؤ بات تم پر روشن ہوتی جائے گی۔ پچھلی امتوں نے ہدایت الٰہی سے منہ موڑ کر اپنی ہی تخلیق کردہ باتوں کو مذہب کے نام سے پیش کیا اور وہی کچھ آج کرتے چلے جا رہے ہیں۔ آج جتنی مذہبی جماعیتیں ہم میں موجود ہیں ان میں کون ہے جو اسلام کا نام نہیں لیتا ؟ لیکن وہ اسلام تو ایک عرصہ سے دفتین میں بند ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس میں نازل ہوا تھا۔ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم سب مسلمانوں کو دین اسلام کی سمجھ کی توفیق عطا فرما اور دین اسلام کے احکام پر مضبوطی سے چلنے اور قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

اے مسلمانو ! ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق و ناروا نہ کھاؤ ہاں ! اس صورت میں کھا سکتے ہو کہ آپس کی رضامندی سے ملا جلا کاروبار ہو اور (برابر کی محنت و مشقت) دیکھو اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو اللہ تمہارے لیے رحمت رکھنے والا ہے

مسلمانوں کو ہدایت کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ : 65: گزشتہ آیات میں ہدایات دی تھیں کہ یہ احکام جو تم کو دیئے گئے ہیں ان کا اصل مقصود یہ چار چیزیں تھیں۔ 1: اول یہ کہ فلاح وسعادت کی جس راہ پر تم سے پہلے نیک انسان چل چکے ہیں وہ تم پر بھی کھل جائے۔ 2: دوم یہ کہ احکام معاشر میں سختیاں جکڑ بندیاں نہ ہوں بلکہ سہولتیں اور آسانیاں ہوں۔ 3: سوم یہ کہ جن معاشرتی برائیوں میں تم مبتلا تھے ان سے آئندہ تائب ہوجاؤ اور جان لو کہ جس اندھے کنوئیں میں پہلے گرے ہم اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ 4: چہارم یہ کہ افراط وتفریط سے بچو اور نفس پرستی میں بےلگام نہ ہوجاؤ ورنہ وہی کچھ ہوگا جو پہلوں کے ساتھ ہوچکا۔ ان باتوں کے سمجھانے کے بعد اب زیر نظر آیت میں یہ حکم سنایا جا رہا ہے کہ معاشرتی زندگی کی سعادت حاصل نہیں ہو سکتی اگر خاندان کے تمام افراد دیانت دار اور راست باز نہ ہوں اس لئے کہ زیادہ نہیں تو ہم سب مسلمان تو ایک ہی خاندان کے افراد ہیں حالانکہ حق تو یہ ہے کہ ساترے انسان ہی مل کر ایک خانوادہ ہیں۔ فرمایا : اچھا ! آپس میں ایک دو سے کا مل ناجائز طریقوں سے ایک دوسرے کا مال کھانے اور قتل نفس کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اور ان دونوں حرمتوں کو ایک ساتھ جمع کردیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ دراصل یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ مال کی حرص اس کے جائز و ناجائز طریقوں کی تمیز اٹھا دیتی ہے اور پھر یہ بیماری لوگوں کو اس طرح اندھا کردیتی ہے کہ اس کے لے قتل و خون تک نوبت آجاتی ہے۔ سماجی فسادات اور خون ریزوں کے اسباب کا سراغ لگایا جائے تو معلوم ہوگیا کہ حرض مال کو ان میں سب سے زیادہ دخل ہے۔ باطل طریقہ سے مراد لین دین ، کاروبار اور تجارت کے وہ طریقے ہیں جن میں معاملت کے دونوں فریقوں کی حقیقی رضا مندی نہ پائی جاتی ہو بلکہ اس میں ایک کا مفاد محفوظ ہو ، دوسرے کے مفاد کو اس طرح اجاگر کیا جائے کہ دو سے کا مفاد نہ وہنے کے باوجود اس کو نظر آئے کہ اس میں میرا مفاد موجود ہے۔ تجارت کے رنگ میں جو دراصل تجارت بھی نہیں ہے کتنے طریقے ہیں جو اس وقت مسلمان میں رواج پا گئے ہیں۔ جن طریقوں سے دن رات ایک دوسرے کا مال ہڑپ کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی سے لے کر یونین کونسلوں تک جو جو صورتیں مال کھانے کی نکالی گئی ہیں کام یہ تجارت ہے آئے دن مال بٹورنے کے جو نئے نئے طرئقے نکالے گئے ہیں کیا یہ تجارت ہے ؟ تعلیمی اداروں سے لے کر مذہبی مدارس تک جو جو طریقے مال کھانے کے اختیار کئے جا رہے ہیں کیا یہ تجارت ہے ؟ عذاب آخرت سے بچانے اور ثواب دلوانے کے مذہبی ٹھیکیدار جن جن طریقوں سے مال کھانے میں مصروف ہیں کیا یہ تجارت ہے ؟ فرض عبادات کی ادائیگی کے لئے جو تنخواہیں ، ہدئے ، تحفے اور فیسیں وصول کی جاتی ہیں کیا یہ تجارت ہے ؟ دم ، درود ، گٹ ، تعویذ ، جھاڑ پھونک ، جنات اور سائے وغیرہ کے مصنوعی طریقوں سے جو مال بٹورا جا رہا ہے کیا تجارت ہے فیصلہ خود فرما لیں لیکن ان ساری چیزوں کا جواز ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں بنا کر تیار رکھا ہوا ہے جو آئے ملاحظ فرما سکتا ہے اور پھر آخر جو کچھ ہوتا ہے فریقین کی رضامندی ہی سے تو ہوتا ہے جو جواز کی سب سے بڑی نشانی ہے یہ ساری فریب کاریاں اور مکاریاں آپس میں ایک دوسرے پر تو چل سکتی ہیں اور چل رہی ہیں لیکن کیا اللہ کے سامنے بھی چل جائیں گی قتل نفس سے ایک مراد تو اس طرح ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا کہ مال کے حصول میں اکثر نوبت یہاں تک پہنچ ہی جاتی ہے کہ قتل جیسے نہایت ہی برے فعل سے بھی بعض اوقات دریغ نہیں کیا جاتا لنک ایک معنی اس کے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لینے کے بھی ہیں کہ ان طریقوں کو اختار کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو اور اس طرح ” نفس “ سے مراد اپنی ذات بھی ہو سکتی ہے اور اس وجہ سے بعض مفسرین نے اس سے مراد خود کشی بھی لی ہے کہ مالی پریشانیوں اور ناجائز طریقوں سے مال اکٹھے کرنے کے نتائج میں بعض اوقات خود کشی کو صورت بھی لوگ اختیار کر جاتے ہیں۔ شریعت کے احکام میں سب سے زیادہ وقعت اسی بات کو دی گئی ہے کہ ایک دو سے کا مل باطل طور پر نہ کھاؤ اس لئے کہ دنیا میں جتنی بدکاریاں موجود ہیں سب کی اصل جڑ یہی ہے۔ مال کی محبت اور حرص ہی انسان سے اور قوموں سے اکثر ظلم کراتی ہے۔ آج کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ قومی زندگی میں یہ سب سے زیادہ ظلم کسی قوم نے مچا رکھا ہے اور کون ہے جو کسی ظالم کو ظالم کہنے کی ہی جرات رکھاتا ہے ؟ اپنے آ ؛ کو مظلوم کہنے والوں کی زبانوں پر بھی تالے پڑگئے کہ وہ اپنے آپ کو مظلوم کہتے ہیں لیکن ظالموں کی طرف اشارہ بھی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔ کیوں اس لئے کہ اکثر و بیشتر مظلوم اپنے اوپر خود ہی ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر سوچ لو کہ کیوں ؟ اس لئے کہ جب غافل اور مفعول دونوں مل جائیں تو دراصل وہ دونوں ہی ظالم ہوتے ہیں اگرچہ بظاہر ایک ظالم نظر آتا ہے اور دوسرا مظلوم۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو کوئی ظلم اور شرارت سے ایسا کرے گا (یعنی ایک دوسرے کا ناحق مال کھائے گا) تو قریب ہے کہ ہم اسے آتش دوزخ میں ڈال دیں اور اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل بات نہیں

ایسے پاپیوں کے لئے اللہ کی آگ تیار ہے جو چور بھی ہیں اور چتر بھی : 66: اس آیت میں ان موہوم خواہشیں رکھنے والوں کے کان کھول دیئے گئے ہیں جو دن رات ظلم کر کر نہیں تھکتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ غفور و رحیم ہے اگر ہم ظلم ہی نہ کریں تو وہ آخر کسی کو معاف کرے گا اور کیا معاف کرے گا ؟ وہ بڑے بڑے جرائم کرتے ہیں اور پھر کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ان کی ٹینکیاں جب بھرنے کو آتی ہیں تو وہ کوئی نہ کوئی ٹوٹی کھول دیتے ہیں۔ اور اس فیاضی سے وہ سخی کہلاتے ہیں حاجی جی کا خطاب حاصل کرتے ہیں اور اس طرح پچھلے مظالم معاف کرا کر نئے سرے سے پوری آب و تاب کے ساتھ ظلم ڈھانا شروع کردیتے ہیں پھر ان کی کھلی ٹو 3 ٹی سے جو لوٹا بھر رہا ہے جو دو گھونٹ پی رہا ہے کیا وہ ان کو ظالم کہے گا ؟ کبھی نہیں۔ اچھا تو اس طرح یہ ظالم ظالم نہیں رہیں گے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر وہ پہلے اکہرے ظالم تھے تو اب وہ دوہرے ظالم ہیں اس لئے کہ وہ اس طرح عدوان کے بھی مرتکب ہوئے ہیں اور ظلم کے بھی۔ عدوان کیا ہے ؟ زور و زبردستی سے دوسرے کے مال وجان پر دست درازی کرنے والا کیا کرتا ہے ؟ عدوان کا مرتکب ہتا ہے اور اس کو ہماری زبان میں دھونس کہتے ہیں اور ہر دھونس کرنے والا دھاندلی بھی ضرور کرتا ہے۔ بس یہ دھونس عدوان ہے اور دھاندلی ظلم۔ فرمایا جب یہ دھاندلی مچانے والا دھونس پر اتر آیا ہے کہ اب اس کی دھاندلی کا کائی نام بھی نہیں لے سکتا گویا اتنی ترقی کر گیا ہے تو آؤ اس کا نام ہم رکھ دیتے ہیں کہ وہ عاد ہو کر ظلم کی حدود سے بھی تجاویز کر گیا ہ۔ فرمایا اچھا ! عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ ہم اس کو آتش دوزخ میں ڈال دیں گے اور ہمارے لئے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ ہم کچھ کر ہی نہیں رہے ہم نے تو صرف اس کے اپنے کئے ہئے کاموں کے نتائج اس کے سامنے رکھے ہیں اور ان نتائج میں ہم نے کوئی زرہ برابر بھی زبردستی نہیں کی پھر کیا اس کے اعمال اس کے سامنے پیش کرنا ہمارے لئے کوئی مشکل بات ہے ؟
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

جن بڑی بڑی برائیوں سے تمہیں روک دیا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہو گے تو ہم تمہاری لغزشوں اور غلطیوں کے اثرات تم سے محو کردیں گے اور تمہیں ایک ایسے مقام پر پہنچا دیں گے جو عزت اور خوبی کا مقام ہو گا

کبائر سے بچنے والوں کے صغائر کی معافی کا اعلان عام : 67: کبائر کبیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بڑا۔ اس جگہ کبائر سے مراد وہ گناہ ہیں جن کی عقوبت بڑی ہو۔ جس طرح نیکیاں بڑی اور چھوٹی ہوتی ہیں بالکل اسی طرح برائیاں بھی چھوٹی اور بڑی ہوتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کی بڑائی اور چھٹائی کے ناپنے کے لئے کوئی پیمانہ ہے تو وہ صرف اور صرف ان نتائج و اثرات ہیں اس لئے ان کے سمجھنے کے لئے عقل کی راہنمائی کافی ہے۔ وہ خود فیصلہ کرتی جاتی ہے کہ یہ گناہ کتنا بڑا گناہ اور یہ نیکی کتنی بڑی نیکی ہے۔ پھر حالات اور واقعات کے مطابق نیکی اور برائی کا معیار کم اور زیادہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اکثر اس یا بی ہتا ہے کہ اپنی ذرا سی نیکی بھی بہت بڑی لگیتی ہے اور دوسرے کی بڑی نیکی بھی معمولی نظر آتی ہے اور اس طرح اپنی بڑی سے بڑی برائی کو بھی ہلکا سمجھا جاتا ہے اور دوسرے کی معمولی برائی کو بھی بڑا خیال کیا جاتا ہے کبھی خواہشات کا ایسا غلبہ ہوتا ہے کہ پر بت رائی بن جاتا ہے اور رائی کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے متعلق التباس پیش آسکتا ہے۔ ایسی چیزوں کے متعلق تقویٰ کی راہ تو یہی ہے کہ آدمی احتیاط کے پہلو کو اختیار کرے تا ہم بشری کمزوری سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو دل کی ملامت یقینا اس کو صاف کردیتی ہے۔ تاہم احادیث میں کبائر کی نشاندہی بھی فرمائی گئی ہے تاکہ عام لوگوں پر یہ بات واضح ہوجائے مثلا صحیح بخاری اور مسلم میں حدیث سہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سات ہلاک کرنے والی باتوں سے بچو اور پھر ان کی تفصیل بھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی اور ان کے اس طرح نام لئے کہ فرمایا شرک ہے ، سحر ہے ، قتل ناحق ہے ، یتیم کا مال کھانا ہے۔ سود کھانا ہے جنگ کے دن پیٹھ دے کر بھاگنا ہے اور پاکدامن مومنہ عورتوں پر الزام لگانا ہے اور ایک حدیث میں ہجرت کے بعد یہ بادیہ نشینی کی طرف لوٹ جانا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کسی جگہ والدین کی نافرمانی کو شمار کیا ہے اور کبھی ان کی ترتیب کو کسی طرح بیان کیا ہے کہیں کسی طرح اور اس طرح ان کی اہمیت کے پیش نظر کسی جگہ کسی بات کو اولیت دی گئی ہے اور کسی جگہ کسی بات کو۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ شراب کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اکبر الکبائر ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بھی کبائر میں سے ہے کہ کوئی انسان اپنی ماں کو گالی دے اور پھر اس کی کیفیت اس طرح بیان فرمائی کہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ اس کے ماں باپ کو گالی دے گا تو اس طرح گویا جس نے پہلے گالی دی اس نے اپنی ہی ماں کو گالی دی (صحیح بخاری) ایک حدیث میں ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور قتل کرنا کفر ہے اور یہ بھی کبائر میں داخل ہیں۔ (صحیح بخاری) ترک صلوٰۃ کو بھی کفر فرمایا گیا جو کبائر میں داخل ہے اور ایک حدیث میں رحمت سے مایوس ہونے کو اکبر الکبائر میں بیان فرمایا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ چھوٹے گناہ اور بڑے گناہ میں کوئی اصولی فرق ظاہر کیا جائے کہ وہ کیا ہے ؟ قرآن و سنت پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تین چیزیں ہیں جو کسی گناہ کو بھی بڑا گناہ بنا دیتی ہیں اگرچہ عام دیکھنے میں وہ بڑا گناہ نظر نہ آتا ہ۔ 1: اللہ تعالیٰ سے بےخوفی اور اس کے مقابلہ میں استکبار جس کی بناء پر آدمی اللہ کے امرو نہی کی پروا نہ کرے اور نافرمانی کے ارادے سے قصداً وہ کام کرے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور جان بوجھ کر ان کاموں کو نہ کرے جن کے کرنے کا اس نے حکم دیا ہے۔ یہ نافرمانی جس قدر زیادہ ڈھٹائی اور جسارت اور نا خدا ترسی کی کیفیت اپنے اندر لئے ہوئے ہوگی اس قدر گناہ بھی شدید ہوگا۔ معنی کے لحاظ سے گناہ کے لئے ” فسق “ اور معصیت “ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ 2: کسی کی حق تلفی خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہو کہ اس کا حق تلف کیا جائے یا والدین ہوں یا دوسرے انسان حتیٰ کہ اپنا نفس بھی ۔ پھر جس کا حق جتنا زیادہ ہے اس قر اس کے حق کو تلف کرنا زیادہ بڑا گناہ ہوگا۔ اس بناء پر گناہ کو ” ظلم “ بھی کہا جاتا ہے۔ اور اس بناء پر شرک کو قرآن کریم نے ظلم عظیم قرار دیا ہے۔ 3: ان روابط کا توڑنا اور ان تعلقات کو بگاڑنا جن کے ملانے کا اور جن کی درستی و استحکام کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے خواہ وہ روابط بندے اور اللہ کے درمیان ہوٓں یا بندے اور بندے کے درمیان پھر جو رابطہ جتنا زیادہ اہم ہے اور جس کے کٹنے سے امن کو جتنا زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور جس کے معاملہ میں مامونیت کی جتنی زیادہ توقع کی جاتی ہے اس قدر اس کو توڑنے اور کاٹنے اور خراب کرنا ے کا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ مثلاً زنا اور اس کے مختلف مدارج پر غور کیجئے یہ فعل فی نفسہ نظام تمدن کو خراب کرنے والا ہے اس لیے بجائے خود ایک بڑا گناہ ہے لیکن اس کی مختلف صورتیں ایک دوسرے سے گناہ میں شدید تر ہیں۔ شادی شدہ کا زنا بن بیا ہے کی نسبت زیادہ سخت گناہ ہے۔ منکوحہ عورت سے زنا کرنا غیر منکوحہ سے کرنے کی بہ نسبت قبیح تر ہے۔ ہمسایہ کے گھر میں اس فعل کا ارتکاف غیر ہمسایہ سے زیادہ برا ہے۔ محرمات میں سے اس کا صدور غیر محرمات سے بہت ہی زیادہ قبیح و شفیع ہے۔ کسی پاکیزہ جگہ میں ایسا فعل ناپاک جگہ کی نسبت زیادہ سخت گناہ ہے۔ گویا ایک ہی گناہ اپنی نوعیت کی وجہ سے کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے رذائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے کبائر میں داخل ہوجاتے ہیں اور اگر ان کا شمار کیا جائے تو بہت ہی زیادہ ہیں شاید ان کا شمار کرنا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے تاہم ان میں سے بعض کا ذکر کردیتا مناسب معلوم ہوتا ہے چناچہ ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ جھوٹ ، جھوٹی قسمیں کھانا ، غیر اللہ کی قسمیں کھانا ، وعدہ خالفی کرنا ، فطری وعدوں کا خیال نہ رکھان ، خیانت اور بددیانتی ، غداری اور دغا بازی ، بہتان ، چغل خوری ، غیبت اور بدگوئی ، دورکاپن ، بدگمانی ، مداحی اور خوشامد ، بغل ، حرص و طمع ، بےایمانی ، چوری ، ڈاکہ زنی ، ناپ تول میں کمی بیشی یعنی دینے وقت کم دینا اور لینے وقت زیادہ لینا ، رشوت ، سود ، خورم شراب خوری ، جوا باشی ، اغلام بازی ، ناحق غیظ و غضب ، بغض و کینہ اور ہر طرح کا ظلم ، فخر و غرور اور تکبر ، ریا ، خود بینی اور خود نمائی ، بعض حالات میں فضول خرچی اور فحش گوئی ، یہ سب گناہ ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور بعفض شرائط کے تحت یہ سارے ہی کبائر کی فہرست میں داخل ہیں۔ قرآن کریم میں بہت سی چیزوں کو کبائر میں شمار کیا گا ہے اور پھر ان سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اور ان کے قائل کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے۔ ” اور زمین کی ہرچیز کا مالک اللہ ہی ہے۔ تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے ، جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں۔ الا یہ کہ کوئی قصور ان سے سرزد ہوجائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔ “ (النجم : 32:53) اور ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آجائے تو در گزر کرتے ہیں۔ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں۔ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ، ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ “ (الشوری :38:42)
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے مقابلہ میں جو کچھ دے رکھا ہے اس کی تمنا نہ کرو ، مردوں نے اپنے عمل میں سے جو کچھ حاصل کیا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور عورتوں نے اپنے عمل سے جو کچھ حاصل کیا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور اللہ سے اس کی بخشش کے طلبگار رہو یقینا وہ ہر بات کا علم رکھنے والا ہے

اللہ تعالیٰ نے تم کو جو فضیلت ایک دوسرے پر دی ہے اس کا خیال رکھو اور تجاویز نہ کرو : 68: قرآن کریم کے نزول سے پہلے دنیا کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ وجود اندانی کا کامل ظہور صرف مردوں ہی کی جنس میں ہوا ہے۔ عورتوں کی ہستی کوئی مستقل ہستی نہیں رکھتی بلکہ مردوں کا ایک کھلونا ہے۔ وہ صرف اس لئے بنائی گئی ہیں۔ کہ مردوں کی خرمستیوں کا ازالہ کریں اور ان کی کام جو ئیوں کا ذریعہ ہوں بلکہ ان کی چاکری اور پرستای میں فنا ہوجائیں۔ قرآن کریم تاریخ عالم کی سب سے پرانی آواز ہے جو اس اعتقاد کے خلاف بلند ہوئی۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے نوع انسانی کو مرد اور عورت کی ایک جنس کو دو صنفوں میں تقسیم کردیا ہے اور ان دونوں صنفوں کا مل کر ایک جنس ہوجانا شیرو شکر کی طرح اپنے اندر ایک تکیمل حیات رکھتا ہے۔ تاہم دونوں صنفیں یکساں طور پر اپنی اپنی ہستی اپنے اپنے فرائض اور اپنے اپنے اعمال رکھتی ہیں۔ کارخانہ معیشت کے لئے جس طرح ایک صنف کی ضرورت تھی ٹھیک اسی طرح دوسری صنف کی بھی ضرورت تھی۔ انسان کی معاشرتی زندگی کے لئے یہ دو مساوی عنصر ہیں جو اس لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مکمل زندگی پیدا کردیں۔ دیکھو تم دونوں صنفیں ذرا غور کرو کہ تم دونوں مل کر ایک جنس ہو اس لئے جنس کے لحاظ سے تم کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ ہاں ! اصناف کے لحاظ سے تم دو اصناف میں منقسم ہو۔ ایک مرد ہے تو دوسری عورت تمہاری ڈیل ڈول اور جسمانی ساخت اور اعضاء و بند میں ایک خاص طرح کا فرق رکھ دیا گیا ہ۔ اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔ کسی فضیلت میں مرد زیادہ ہے اور کسی میں عورت زیادہ ہے۔ کوئی کمی مرد کے اندر ہے اور اس طرح کوئی کمی عورت کے اندر۔ لہٰذا تم فریقین کو یہ احتیاط لازم ہے کہ جو فضیلت عورت میں ہے اس کو حاصل کرنے کی مرد کوشش نہ کرے اور اس طرح جو کمزوری مرد میں ہے اس کمزوری کو مرد تسلیم کرے اور جو کمزوری عورت میں ہے اس کو عورت تسلیم کرے یہی راہ اعتدال کی راہ ہے اور پھر تم دونوں مل کر ایک ہوجاؤ اور اس طرح ایک ہو کر مرد کی کمزوری کا ازالہ عورت کرے اور عورت کی کمزوری کا ازالہ مرد کرے۔ مرد کی فضیلت کو عورت تسلیم کرے اور عورت کی فضیلت کو مرد تسلیم کرے اور اس طرح تم دونوں مثلثیں منطبق ہوجاؤ کہ تمہارا ہر زاویہ ایک دوسرے کے برابر ہو اور کوئی دیکھ نہ سکے کہ تمدو ہو اس طرح تم دونوں ایک ہوجاؤ ۔ اجسام دونوں کے دو ہوں لیکن انطباق دونوں کا ایک اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مرد مرد رہے گا اور عورت عورت ، پھر مرد کبھی عورت ہونے کی خواہش نہ کرے گا اور عورت کبھی مرد ہونے کی خواہش نہ کرے گی۔ مرد جتنی ترقی کرے گا صرف مرد ہونے ہی میں کرے گا عورت جس بلندی پر بھی پہنچے گی عورت رہتے ہوئے پہنچے گی۔ اس طرح ترقی میں کوئی چیز مانع نہ ہو گای بلکہ فریقین آزادی کے ساتھ ترقی کرسکیں گے لیکن اپنے اپنے دائرہ فطری میں رہتے ہوئے۔ آج فی زماننا جس ترقی کو لوگ ترقی کے نام سے پکارتے ہیں حاشا للہ وہ ترقی نہیں بلکہ فطرت سے انکار ہے اور پھر چونکہ فطرت سے انکار ممکن نہیں اس لئے اس بات سے انکار کرنا جس انکار کرنے کی کوئی صورت بھی موجود نہ ہو ایک طرح کی ضد ہے عناد ہے اور پھر ضد وعناد کا جو نتیجہ نکلنا لازمی و ضروری ہے آج ہم اس سے دو چاقر ہیں اور صرف آزادی آزادی کے بل بوتے جئے جا رہے ہیں اور آزادی کا جتنا شور کرتے ہیں اتنے ہی گلامی میں پھنستے جا رہے ہیں۔ عورت کیا ہے ؟ مزروعہ ، زمین اس کا کام کیا ہے ؟ بیج اگانا۔ مرد کیا ہے ؟ ایک دہقان۔ اس کا کام کیا ہے ؟ ہل چلانا اور بیج ڈالنا۔ واہ رے عورت ! اور واہ رے مرد ! تم دونوں تو نئی ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے تھے۔ تم نے تو کہا تھا کہ یہ ملا دقیانوسی پرانے خیالات کے ہیں جو مرد و عورت کو مساوی مساوی چلنے سے روکتے ہیں۔ یہ عورتوں کے حقوق نہیں دیتے۔ تم نے تو بڑے الزام لگائے تھے لیکن نتیجہ کیا رہا کہ تم نے سفر بھی بہت کیا ؟ جو چلنے لگے بس چلتے ہی گئے تم دونوں نے ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ، بانہوں میں بانہیں ڈالیں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دھکے کھائے ملازمیتیں کیں۔ اب ہی سوچ لو کہ تم نے کیا کھویا اور کیا پایا ؟ آج تک تم دونوں نے ایک دوسرے کا کیا ہاتھ بٹایا کہ مرد کا کام چار گنا بڑھا تو عورت کا دس گناہ بڑھ گیا اور دونوں اصناف کو اپنے اپنے فطری کام بھی ویسے ہی کرنے پڑے۔ کتنی خواری ہوئی اور کتنا بوجھ بڑھا ؟ اللہ کا ارشاد ایک بار پھر نظروں میں رکھو فرمایا ” اور دیکھو اللہ نے تم میں سے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے مقابلہ میں جو کچھ دے رکھا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ “ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کرو ، خیر اس میں ہے۔ مینڈکی کو کھریاں لگوانے کا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ “ مردوں کی کمائی مردوں کیلئے اور عورتوں کی عورتوں کیلئے یہ ایک اصولی بات ہے : 69: مردوں کی کمائی کا ایک دائرہ کار ہے اور اس طرح عورتوں کی کمائی کا بھی ایک دائرہ کار ہے۔ اپنے اپنے دائرہ فطری کے اندر رہ کر کسب عمل نہ برا ہے اور نہ ہی اس کی ممانعت ہے۔ ممانعت جو ہے وہ صرف اس کی ہے کہ عورتیں مردوں کے دائرہ کار میں رہ کر عمل کرنا چاہیں اور مرد عورتوں کے دائرہ کار کے اندر دخل اندازی سے باز نہ آئیں اور ظاہر ہے کہ اس طرح حدود سے تجاوز ہوگا اور حدود سے جب بھی تجاوز ہوگا سر کشی و طغیانی آئے گی جس کے نتائج بڑے ہی خطرناک ہوتے ہیں اور پھر اس طرح کا جب سیلاب آتا ہے تو اس میں سب کے سب برابر کے شریک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ سیلاب کے سامنے جو بھی آیا وہ تباہ و برباد ہوا۔ اگر جان بچ بھی گئی تو نقصان کی کوئی کمی نہ رہی۔ عورتیں اس خیال سے دل گیر نہ ہوں کہ وہ مرد کیوں نہ ہوئیں ؟ اور مردوں کے کام ان کے حصے میں کیوں نہ آئے ؟ اور مرد بھی یہ خیال نہ کریں وہ مرد ہو کر عورتوں کے مالک ہوگئے اور عورتوں کو ان کی ملکیت سے اب کون نکال سکتا ہے۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے بالکل دونوں فریقین کے لئیے اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے دائرہ فطری میں رہتے ہوئے عمل و فضیلت کی ساری راہیں کھلی ہیں۔ کسب و کمائی کا اطلاق دینا کے دھندوں پر بھی ہوتا ہے اور اخروری بھلائیوں اور نیکیوں پر بھی اور اس جگہ دونوں ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ جس طرح مردوں کو کمانے کا حق ہے عورتوں کو بھی ہے خواہ وہ کمائی دنیوی ہو یا اخروی لیکن دونوں کے دائرے اور حدود الگ الگ ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ کچھ عورتوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مرد تو ہم پر بہت سبق لے گئے کہ ان کو جہاد کا موقعہ ہے اور وہ بہت ثواب حاصل کرسکتے ہیں اور راہ الٰہی میں بڑے بڑے کام سر انجام سے سکتے ہیں تو نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر حاملہ عورت کو اتنا اجر ملتا ہے جتنا اس شخص کا اجر ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو ذکر الٰہی میں کھڑا رہتا ہے۔ پھر جب وہ بچہ جتنی ہے یعنی حمل وضع کرتی ہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ اس کے لئے کس قدر اجر وثواب ہے۔ پھر اگر وہ اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے تو ہر ایک مرتبہ جو بچہ اس کا دودھ چوستا ہے اس کو ایک نفس کے احیاء کا اجر ملتا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ مرد عورت کی جو تقسیم فطری ہے اس سے فریقین کو تجاوز نہ کرنا چاہیے۔ مرد الگ حالات میں رکھا گیا ہے اور عورت الگ حالات میں رکھی گئی ہے۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کمالات کو حاصل کریں اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کمالات حاصل کریں۔ اس بات کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الْاُنْثیٰ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشِتَّی (اللیل : 4 , 3:92) ” وہ ذات جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ، درحقیقت تم لوگوں کی کوشش مختلف قسم کی ہیں۔ “ غور کرو اور سوچ سمجھ کر جواب دو کہ کیا رات اور دن ایک جیسے ہیں ؟ رات چھپا لینے والی ہے اور دن سب کچھ روشن کردینے والا۔ پھر کیا رات بغیر دن کے کوئی شے ہے ؟ کیا دن کی حقیقت بغیر رات کے کچھ رہ جاگتی ہے ؟ حاشا اللہ رات دن کے بغیر عذاب الٰہی ہے اور اسی طرے دن رات کے بغیر عزاب الٰہی ہے۔ لیکن دونوں کے جوڑنے کیا سہانا نظام قائم کردیا ہے۔ پھر اس طرح رات کے اثار و نتائج کو حاص کرلیں۔ پھر یہ فطری تقسیم تر و مادہ میں بھی قائم ہے اور انہی نر و مادہ میں سے ایک جنس انسان بھی ہے اور پھر انسان کا نر و مادہ کو شس کیوں کرے کہ وہ ایک دو سے کے دائرہ کار میں داخل ہو ؟ بس یہی وہ تجاوز ہے جس سے روکا گیا ہے باقی معاملات میں اپنے اپنے دائرہ میں رہ کر ترقی سے جو رکوکتا ہے وہ خود انسانیت سے عاری اور پر لے درجے کا جاہل ہے۔ ہا ! یاد رکھو کہ تم لوگ جن راہوں اور مقاصد میں اپنی کوشش صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاط سے مختلف اور نتائج کے لحاط سے اپنی پنی حدود کے اندر ہیں اور انہی حدود کے اندر رہنا چاہیے باقہ سب خیر ہے۔