Ayah 4:92کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا جائز نہیں اور اتفاقا قتل ہوجائے تو اس کی سزا ؟
158: کسی مومن کے لیے یہ درست اور جائز نہیں یعنی مومن کے شایان شان نہیں کہ وہ اس فعل شنیع کا بسلامتی ہوش و حواس ارتکاب کرے کیونکہ کسی مومن کا عمدا قتل کرنا سارے گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ ہاں ! یہ الگ بات ہے کہ بےارادہ اور نادانستہ اس سے یہ جرم سرزد ہوجائے اس اسلوب بیان سے واضح ہوگیا کہ یہ جرم معمولی قسم کا نہیں بلکہ نہایت سنگین قسم کا جرم ہے۔ کسی مومن سے اس کا صدور حد درجہ قبیح ہے اور قتل عمد کا ذکر آگے آرہا ہے۔
خطا کیا ہے ؟ اگر قصور و ارادہ کے بغیر کوئی کام ہوجائے تو اسے خطا کہتے ہیں اور اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ جنگ جاری تھی گولیاں برس رہی تھیں اتفاقا اس کی گولی سے کوئی مسلمان مارا گیا یا نشانہ لگایا تھا شکار کو اور جا لگا کسی انسان کو یہ سب قتل خطا کی صورتیں ہیں۔
پہلی صورت جس کا اس جگہ زکر ہے ہے وہ یہ ہے کہ مقتول مسلمان ہو تو قاتل ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور اس مقتول کے ورثا کو دیت ادا کرے۔ اس دیت کی مقدار رسول اللہ نے ایک سو اونٹ مقرر فرمائی تھی اور ہر زمانہ میں یہی رہے گی۔ ہاں اگر کوئی شخص سو اونٹ نہ ادا کرسکتا ہوں تو سو اونٹوں کی قیمت کے برابر نقد روپیہ دے سکتا ہے۔ اسلامی حکومت مجاز ہے کہ وہ ایک اونٹ کی قیمت متعین کرے اور پھر اس می وقت کے ساتھ ساتھ ایک خاص وقفہ کے ساتھ اس میں کمی بیشی کرتی رہے اور اس کا باقاعدہ اعلان کی اجائے اور اس معاملہ میں قانون سازشی کی بڑی وسعت موجود ہے اور زمانہ کے ساتھ ساتھ قیمتوں کی کمی بیشی سے روپیہ کی کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے ۔ اس لیے یہ سو اونٹ کا مقرر کردینا اپنے اندر ان ساری بیماریوں کا علاج رکھتا ہے جن بیماریوں بد اعتدالیوں کا ایسے وقت میں خدشہ ہوسکتا ہے اور اس کے اندر اتنی حکمت پنہاں ہے کہ اس کے بیان کے لیے کئی صفحات درکار ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انسانی شرف پر کسی صورت آنچ نہیں آسکتی زمانہ کہاں سے کہاں ترقی کرتے کرتے پہنچ جائے۔
مقتول کے وارثوں کو حق ہے کہ وہ چاہیں تو خون بہا معاف کردیں :
159: انسانی جان کی قدر و منزلت کو بحال رکھنے کی دوسری صورت یہ بیان فرمائی کہ اگر مقتول کے ورثا چاہیں تو خون بہا معاف کرسکتے ہیں۔ اس اعلان سے طبقاتی تقسیم کو ختم کر کے رکھ دیا اور سارے اونچان نچان قاعدوں کے سر پانی ڈال دیا۔ لیکن ان باتوں کے لیے اہم شرط ایک ہے کہ حکومت اسلامی اور قانونی اسلامی ہو۔ جب حکومت بھی غیر اسلامی ہو اور قانون بھی غیر اسلامی ہو تو اس میں اسلام کی ایک چول لگا دی جائے یا ایک میخ ٹھونک دی جائے تو اس کا حشر وہی ہوگا جو آج اس ملک پاکستان میں ہورہا ہے اور اگر یہ قانون اس حالت میں رہا کہ قانون غیر اسلامی اور اس میں ایک میخ اسلام کی تو آنے والی نسلیں کبھی اسلام کا نام بھی نہیں لیں گی اور ان اسلامی ججوں کی کرسیاں توڑ دی جائیں گی اور ان سب کا وہی حشر ہوگا جو ترکی میں ہوا۔ خدا نہ کرے کہ وہ وقت آئے چشم بددور لیکن غور کرلیا جائے کہ کیا ترکی میں اس طرح دعا کرنے والا بھی کوئی نہیں رہا تھا ؟ اگر تھے تو قانون الہی کیسی علاقے کے ساتھ خاص نہیں ہوتا اس لیے کہ اس ملک کا بھی وہی رب ہے جو ترکی کا ہے۔ یاد رہے کہ مسلمانوں کو اب یہ دوسری بار عنقریب مار پڑنے والی ہے اور اس عنقریب کی مدت اسلام کی عمر متعین کر کے خود ہی لگا لیں۔ قوانین الہی کا مذاق اڑانے والوں کو کتنی مہلت دی جاتی رہی ہے قرآن اس پر شاہد موجود ہے۔
مقتول دشمن کی حکومت کا فرد ہو تو اس کا حکم کیا ہے ؟
160: قتل خطا کی دوسری صورت یہ ہے کہ مقتول ہو تو مسلمان لیکن اس کی بود و باش غیر اسلامی مملکت میں ہو۔ اس صورت میں صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے اس پر دیت لازم نہ ہوگی ہاں دو حکومتوں کے درمیان اس سلسلہ میں کوئی معاہدہ طے ہو تو وہ دوسری بات ہے اور اس کی گنجائش یہاں موجود ہے اور یہ معاملہ قانون نافذ کرنے والے ادارہ کے ذمہ ہے اس معاملہ میں بڑی وسعت موجود ہے اور اسلامی حکومت اس میں قانون بنانے کی مجاز ہے۔ جہاں جہاں غلام آزاد کرنے کا ذکر ہے وہ بھی اپنے اندر بہت وسیع مطلب رکھتا ہے۔ اور اسلامی حکومت اس کی وسعت سے بھی ان ضمنی دروازوں کو بند کرسکتی ہے جو حالات کے تحت کھلتے اور بنتے رہتے ہیں۔
مقتول اگر معاہد قوم سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا حکم :
161: قتل خطا کی تیسری صورت یہ ہے کہ اگر مقتول اس قوم کا فرد ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہوچکا ہو خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ اس صورت میں قاتل مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے ورثا کو دیت بھی ادا کرے اور اس طرح ذمی یعنی اسلامی حکومت کو غیر اسلام رعایا کا بھی یہی حکم ہے مسلم ، کافر ، مجوس ، اہل کتاب سب کی دیت یکساں ہے۔ ہاں ! اگر غیر مسلم قوموں نے اس مسلم حکومت سے کوئی اپنا خاص قانون اس سلسلہ میں پاس کرا لیا ہو تو اس کی صورت اپنی جگہ موجود ہے۔ کسی معاہد حکومت کے ساتھ اس معاملہ میں گفتگو کی حکومت اسلامی کو اجازت ہے ؟
اگر مسلمان غیر میسر نہ آئے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
162: دراصل لونڈی غلاموں کو اس بےرحمانہ قانون سے نجات دلانے کے لیے اسلام نے جو جدوجہد کی ہے اس جدوجہد کا یہ حصہ ہے کہ اسلام نے قبل از وقت یہ بات واضح کردی کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ غلام ، لونڈی ڈھونڈے سے بھی نہ ملے گا تو ایسی حالت میں اس کا بدل یہ بتا دیا کہ اس کے ازالہ کے لیے دو ماہ کے روزے رکھے اور وہ بھی شرعی عذر کے علاوہ پے در پے رکھے جائیں درمیان میں وقفہ نہ ہو اور اس حکم میں بھی توسیع موجود ہے۔
ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی مقننہ دیانت و امانت کے ساتھ ان الہی قانونی ہدایات کو پیش نظر رکھ کر جہاں جہاں توسیع کی صورتیں ہیں وہ صرف اس لیے رکھی گئی ہیں کہ اس جگہ ایمان کی ساکٹ لگا کر دیانت کے رینچ سے کس لو تو تمہارے معاشرے میں اس گھناؤنے جرم کا کوئی مجرم تم کو نہیں ملے گا اور اس طرح معاشرہ میں امن وامان قائم ہوگا جس کی مثال اس قانون کے علاوہ تم کو کہیں نہیں ملے گی اور جب یہ سب مجرموں کا سردار نہ رہا تو ضمنی جرائم میں بھی یقینا کمی ہوگی۔ ان معاملات میں رسول اللہ کی دی ہوئی ہدایات کو جب ساتھ رکھ لیا جائے تو وہ ساری صورتیں جو مشکل سے مشکل سامنے آسکتی ہیں ان کا حل بڑا آسان ہوجاتا ہے ۔ مثلا یہ کہ کوئی قتل ہوگیا لیکن قاتل کا کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے ؟ اس کا سارا حل اس کے اندر موجود ہے کہ قتل کی دیت مقتول کے وارثوں کو حکومت وقت ادا کرے گی۔ اس طرح اس کی ذمہ داری جب مقتول کے وارثوں سے اٹھ گئی کہ وہ نشاندہی کریں کسی کا نام لیں ؟ جس جس پر شک ہے اس کی طرف اشارہ کریں تب ہی حکومت کا ادارہ کوئی حرکت کرسکتا ہے اور یہ سارے بکھیڑے حرام زدگیوں کے لیے ہیں جو حکومت نے غلط قانون کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارہ کے لیے خود قائم کیے ہیں۔ ایک تھا نہ دار کو جس کے تھا نہ میں ایسی واردات ہوئی ہو جب براہ راست حکومت پوچھے گی کہ قاتل دو رنہ۔۔۔۔ تو بس قتل واضح ہوجائے گا اور آئندہ انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا۔
یہاں کیا ہوتا ہے کہ ایسا قتل ہوگا بلکہ ایسا قتل بنا دیا گیا تو آئی جی صاحب سے شروع ہو کر ایک تھا نہ کے چپڑاسی تک سب کی عید لگ گئی یا گویا فصل پک گئی اور اس سے لاکھوں والوں نے لاکھوں کمائے اور ہزاروں والوں نے ہزاروں اور سینکڑوں کا اب نام مناسب نہیں کہ یہ چپڑاسی کی شان کے بھی خلاف ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہوں ؟ اس لیے کہ قانون اسلام کا نہیں ہے اور حکومت کا مقصد امن قائم کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو مصروف رھکنا مقصود ہے کہ انہی کاموں پر حکومت قائم ہے۔ آج فی زماننا ایسے قتل جو دن دھاڑے سارے لوگوں کے سامنے ہوجاتے ہیں ان کو ثابت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے چہ جائیکہ کہ وہ قتل جو رات کے اندھیرے میں چھپ چھپا کر ہوں ان کو ثابت کرنے کی کوئی صورت بھی ہو ؟ یہاں تو پھانسی اس کے گلے میں پڑتی ہے جس کے گلے میں فٹ آجائے حق و ناحق کا کوئی مسئلہ نہیں۔ قتل جیسے گھناؤنے کیسوں کے فیصلے بیس بیس سال تک پیچھا نہیں چھوڑتے مقتول کے ورثا رقمیں خرچ خرچ کر آخر پھر قاتل بنتے ہیں اور علاوہ ازیں اس کا کوئی حل نہیں اور اگر وہ کسی وجہ سے قاتل نہ بن سکیں تو معاشرہ میں ان کو کوئی مقام حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ انسانیت سے خارج قرار دیے جاتے ہیں۔ اس ملک کی عدالتیں جرائم کے فیصلے کرنے کی بجائے جرائم کو جنم دیتی ہیں وہ ملک کی ابتدائی عدالتیں ہوں جو تھانوں اور تحصیلوں سے متعلق ہیں یا ملک کی آخری عدالتیں جن کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ ہاں ! چھوٹی عدالتوں کے جرائم بھی ظاہر ہے کہ چھوٹے ہوں گے اور بڑی عدالتوں کے جرائم بھی اتنے ہی بڑے۔ پھر خصوصا جب سے غیر اسلامی قانون میں اسلام کی میخ ٹھونک دی گئی تو حالات بد سے بدتر ہوتے چلے ہیں اور ایسا ہونا بالکل فطری امر ہے کیونکہ پیوند کاری کے لیے دو جنسوں کا قریب قریب ہونا جروری ہے۔ متضاد جنسوں کی پیوند کاری ناممکنات میں سے بلکہ ممتنعات میں سے ہے ۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ دونوں جنسوں کے مثلہ کردینے کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا۔ کفر و اسلام دونوں متضاد جنسیں ہیں یہ قریب الجنس نہیں اس لیے یہ پیوند کاری کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہاں ! طبقاتی زندگی کو پروان چڑھانے کے لیے ایک ایک فیڈر ان کے منہ میں دے دیا گیا جس سے یقینا وہ چپ ہوگئے اور نتائج سے ہم ویسے ہی بےپرواہ ہوچکے ہیں اس لیے کہ نام کی جنت اور دوزخ ہمارے ایمان میں داخل ہے۔ کان کھول کر سن لو اگر ہماری حالات یہی رہی تو آسمان و زمین ہماری حالت پر کبھی گریہ کناں نہیں ہوں گے۔
Ayah 4:93پہلے قتل خطا اور اس کی صورتوں کا ذکر تھا پھر اس کی سزا کا اور اب قتل عمد کا ذکر ہے :
163: قتل عمد میں اسل تو قصاص ہے اگرچہ ورچا کو قصاص معاف کرنے کا بھی حق ہے لیکن قتل عمد اتنا بڑا جرم ہے کہ سزا اخروی اس دنیوی سزا سے الگ کر کے بیان کردی گئی ۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ اس جرم کے عظیم ترین ہونے پر شاہد ہیں۔ قرآن کریم کی یہی آیت انسان غور سے پڑھے اور اس میں قاتل کی جو سزا بیان کی گئی ہے اگرچہ وہ خالصۃ اخروی سزا ہے اس پر نگاہ ڈالے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں بشرطیکہ اس میں ایمان نام کی شے بھی کوئی موجود ہو۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ قتل ال مومن اعطم عنداللہ من زوال الدنیا۔ کہ دنیا کے فنا ہونے سے بھی بےگناہ مومن کا قتل اللہ کے نزدیک شدید ترین ہے۔ یہ بحث کہ توبہ سے یہ سزا معاف ہوتی ہے یا نہیں ؟ اس بحث کا یہ مقام نہیں۔ ہاں ! یہ بات واضح کردینا مناسب معلوم وہتا ہے کہ اس کی وہ تیروت جس سے یہ الجھن اور بحث پیدا ہی نہیں ہوتی وہ زیادہ صحیح ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے بیان کیا کہ متعمدا مستحلا مقتلہ یعنی جو شخص دانستہ طور پر اور مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کرتا ہے اس کی یہ سزا ہے۔ رہی خالصۃ دنیوی سزا جس کے احکام سورة البقرہ 178 میں گزر چکے ہیں اس کی تفصیل کے لیے تفسیر عروۃ الوثقی جلد اول ص 647 تا 652 ملاحظہ فرمائیں۔ حاشیہ نمبر 306 سے 308 تک۔
اور قتل عمد کی اس اخروی سزا کو احادیث میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کسی کو اللہ کی مثل قرار دینا حالانکہ اللہ ہی نے اس کو پیدا کیا۔ سائل نے پوچھا اس کے بعد ، آپ نے فرمایا کہ اولاد کو اس اندیشہ سے مار ڈالنا کہ وہ تیرے کھانے میں شریک ہوجائیں گے۔ الخ۔ (صحیح بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ سات ہلاکت آفریں باتوں سے بچو اور پھر آپ نے ان سات چیزوں کی تفصیل بیان فرمائی تو اس میں ناحق کسی کو مار ڈالنے کو بھی شمار کیا۔ (بخاری و مسلم)
حضرت ابن عباس کی مرفوع روایت ہے کہ ایک مومن جب کسی دوسرے مومن کو قتل کرتا ہے تو وہ بحالت ایمان قتل نہیں کرتا۔ (رواہ البخاری) اور اس سلسلہ میں بہت سی احادیث اس باب میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی اس کو دوسرے مقامات پر واضح کیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ مسلمانوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :
وہ لوگ ہیں جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔ اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنا بدلہ پائے گا۔ قیامت کے روز اس کو مکرر عذاب دیا جائے گا اور اس میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔ (الفرقان : 68۔ 69)
یعنی وہ لوگ ان تین بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں جو اکبر الکبائر میں سے ہیں جن میں اس وقت اہل عرب کثرت سے مبتلا تھے اور آج عالم اسلام کے پورے مسلمان بدقسمتی سے اسی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ ایک شرک باللہ ، دوسرے قتل ناحق اور تیسرے زنا۔ پھر اس پر مزید بدقسمی کی باتیہ ہے کہ ان تینوں کے جواز کی صورتیں بھی مختلف مکاتب فکر نے مختلف صورتوں میں روا رکھی ہیں۔ چناچہ شرک فی الصفات کی صورتیں عام ہیں اور متعہ اور عزل کے دلائل بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔ اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ ہے۔
Ayah 4:94سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ہدایت کہ جتنا معاملہ اہم ہوگا اتنی ہی سوچ بھی گہری ہوگی
164: آیت کا حکم عام ہے اور قرآن کریم سب مسلمانوں کو مخاطب کرکے ہدایات دیتا ہے۔ تاہم اس باب میں کسی خاص واقعہ کی طرف نسبت اس لیے بیان کی جاتی ہے کہ اس سے بات مزید واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے انسانوں سے بھی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں اور ان سے معصود صرف انبیاء کرام ہی کی ذات ہوسکتی ہے جن کا تعلق براہ راست اللہ سے ہوتا ہے۔ اس کا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت اسامہ بن زید ؓ کی قیادت میں نبی کریم ﷺ نے ایک سریہ روانہ فرمایا۔ کفار کو جب لشکر اسلام کی آمد کی خبر ملی تو وہ بھاگ گئے لیکن مرداس نامی ایک شخص جو در اصل مسلمان ہوچکا تھا وہ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ ٹھہرا رہا۔ جب مسلمان وہاں پہنچے اور نعرہ تکبیر بلند کیا تو اس نے بھی جواب میں اللہ اکبر کہا اور کل شہادت پڑھتا ہوا نیچے اتر آیا اور انہیں السلام علیکم کہا لیکن حضرت اسامہ نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے قتل کردیا اور اس کا ریوڑ ہانک کر مدینہ طیبہ لے آئے اور خود ہی بارگاہ نبوت میں سارا قصہ بیان فرمادیا۔ نبی ﷺ نے جب یہ ماجرا سنا تو آپ ﷺ بہت رنجیدہ ہوئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت سابقہ میں مسلمانوں کو حالت امن میں مسلمان اور غیر مسلمان کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور اس آیت میں حالت جنگ میں بھی بلا وجہ قتل و غارت سے روک دیا کہ جب تک تمہیں یقین نہ ہوجائے کہ یہ لڑنا چاہتے ہیں اس وقت تک ہاتھ نہ اٹھاؤ یا یہ کہ محاربہ جاری تھا کہ کسی آدمی نے جو اس محاربہ میں شریک تھا کلمہ شہادت پڑھ لیا تو تم اپنا ہاتھ اس سے روک لو اور مال غنیمت کے حصول کے لیے اس کی شہادت کو رد نہ کرو۔ اس فنا پذیر دولت کی خاطر تم ایک مومن کی شہادت رد نہ کرو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ رزق کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں اگر تم اس کے حکم کی تعمیل کروگے تو وہ کئی ایک ذریعوں سے تمہارے رزق کے دروازے کھول دے گا۔
ناجائز ذریعہ سے سامان زندگی حاصل کرنا ایمان باللہ کے سراسر خلاف ہے
165 ۔ دنیا کے سروسامان کی بلاشبہ ہر آدمی کو ضرورت ہے کوئی بھی اس سے مستثنی نہیں لیکن اس سرور سامان کو ناجائز طریقوں سے حاصل کرنا ایمان باللہ کے سراسر خلاف ہے کیونکہ اس طرح سروسامان حاصل کرنے والے نے عملاً ثابت کردیا کہ اس کا رازق اللہ نہیں یا یہ کہ وہ اللہ کے کسی قانون کا پابند ہو کر رہنا نہیں چاہتا اور یہی نظریہ اسلام سے خارج کرنے کیلئے کافی ہے۔ اس سے اس آیت میں کھلے لفظوں میں ارشاد فرمایا کہ ، کیا تم سروسامان زندگی کے طلب گار ہو کہ چاہتے ہو کہ جو کوئی بھی ملے اس سے لڑ کر مال غنیمت لوٹ لیں ؟ اگر یہی بات ہے تو بھی اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سی غنیمتیں موجود ہیں تم ظلم و معصیت کی راہ کیوں اختیار کرو ؟ تمہاری اپنی حالت بھی تو پہلے ایسی ہی رہ چکی ہے اور بجز کلمہ اسلام کے اسلام کا اور کوئی ثبوت نہیں رکھتے تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا کہ تم کو تمام باتیں اسلام کی حاصل ہوگئیں پس ضروری ہے کہ لڑنے سے پہلے لوگوں کا حال تحقیق کرلیا کرو۔ اس لیے کہ یہ جنگ جاری نہیں بلکہ جنگ کا جاری ہونا ہے اگر جنگ کی نوبت ہی نہ آئے اور فریق ثانی اس سے پہلے ہی کہ جنگ کرے جنگ سے باز آجائے تو کیا تم کو ضرور ہی جنگ کرنا ہے غور کرو کہ تم کو جنگ لڑنے کا نہیں بلکہ اپنے دفاع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تم کو دعوت اسلام پیش کرنا ہے اگر کوئی قبول نہیں کرتا بلکہ دعوت اسلام کی رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے اور تمہارے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے یا اٹھانے کی کوشش رتا ہے تو تمہیں اجازت ہے کہ اس کے وہ ہاتھ توڑ دو جن سے اس نے تمہاری مزاحمت کی لیکن اگر وہ اٹھانے ہی نہ چاہے تو تم تو پہلے ہی امن کے داعی ہو اس پر ہاتھ کیوں کھولوگے اور آخر آیت میں ارشاد فرمایا ، تم جو کچھ بھی کرتے ہو اس کی خبر اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے۔
Ayah 4:95جہاد میں شریک ہونے والے اور شریف نہ ہونے والے لوگ برابر نہیں ہوسکتے
166 ۔ یعنی کسی زیارت گاہ کی سجادہ نشینی ، مجاوری اور چند نمائشی مذہبی اعمال کی بجا آوری جس پر دنیا کے سطحی لوگ بالعموم شرف اور تقدیس کا مدار رکھتے ہیں اللہ کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتی۔ اصل قدروقیمت ایمان اور راہ الہی میں قربانی کی ہے۔ ان صفات کا جو شخص بھی حامل ہو وہ بلا شبہ قیمتی آدمی ہے خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق نہ رکھتا ہو اور نہ ہی کسی قسم کے امتیازی طرے اس کو لگے ہوئے ہوں۔ لیکن جو لوگ ان صفات سے خالی ہیں وہ محض اسلیے کہ بزرگ زادے ہیں۔ سجادہ نشینی ان کے خاندان میں مدتوں سے چلی آرہی ہے اور خاص خاص موقعوں پر کچھ مذہبی مراسم کی نمائش وہ بڑی شان کے ساتھ کردیا کرتے ہیں نہ کسی مرتبے کے مستحق ہوسکتے ہیں اور نہ یہ جائز ہوسکتا ہے کہ ایسے بےحقیقت ، موروثی ، حقوق کو تسلیم کرکے مقدس مقامات اور مذہبی ادارے ان نالائق لوگوں کے ہاتھوں میں رہنے دئیے جائیں ب۔ قرآن کریم نے اس کی وضاحت خود ہی دوسرے مقامات پر کردی ہوئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ :
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر سمجھ لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخرت پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی راہنمائی نہیں کرتا۔ اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں۔ ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کیلئے پائیدار عیش کے سامان ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے۔ (التوبہ ، 20 , 19)
آیت زیر نظر میں فرمایا کہ اجر کے مستحق تو دونوں ہیں لیکن ایک گروہ کا رتبہ دوسرے گروہ سے لازماً بلندتر ہے کیونکہ اس نے زیادہ سخت حالات میں اللہ تعالیٰ کی خاطر وہ خطرات مول لئے جو دوسرے گروہ کو پیش نہ تھے۔ اس نے ایسی حالت میں مال خرچ کیا جب دور دور کہیں یہ امکان نظر نہ آتا تھا کہ کبھی فتوحات سے اس خرچ سے تلافی ہوجائے گی اور اس نے ایسے نازک دور میں کفار سے جنگ کی جب ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ دشمن غالب آکر اسلام کا نام لینے والوں کو پیس ڈالیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے خالدبن ولید ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں آپ کا یہ کہنا درست نہیں ہے اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم لوگ احد کے برابر سونا بھی خرچ کروتو ان لوگوں کے اعمال کو نہ پہنچ سکوگے۔ درجہ میں یہ تفاوت خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دی کیوں ؟ اس لیے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ سابق الاسلام ہیں لیکن خالد بن ولید صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے ہیں۔ جس سے اصولا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب کبھی اسلام پر ایسا وقت آجائے جس میں کفر اور کفار کا پلڑا بھاری ہو اور بظاہر اسلام کے غلبہ کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے ہوں اس وقت جو اسلام کی حمایت میں جانیں لڑائیں اور مال خرچ کریں ان کے مرتبے کو وہ لوگ نہیں پہنچ سکتے جو کفر واسلام کی کشمکش کا فیصلہ اسلام کے حق میں ہوجانے کے بعد قربانیاں دیں۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا :
تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ (الحدید)
مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کو جو اجر اور مرتبہ بھی دیتا ہے یہ دیکھ کردیتا ہے کہ کس نے کن حالات میں کس جذبے کے ساتھ کیا عمل کیا ہے۔ اس کی بانٹ اندھی بانٹ نہیں ہے وہ ہر ایک کا درجہ اور اس کے عمل کا اجر پوری باخبری کے ساتھ متعین کرتا ہے۔ قرآن کریم نے جگہ جگہ اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
اس لیے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو مصیبت بھی پیش آتی ہے وہ ان کیلئے ایک نیک عمل شمار کی جاتی ہے۔ ہر پیاس جو وہ جھیلتے ہیں ، ہر محنت جو وہ اٹھاتے ہیں ، ہر مخمصہ جس میں وہ پڑتے ہیں ، ہر وہ قدم جو وہاں چلتا ہے جہاں چلنا کافروں کیلئے غیظ و غضب کا باعث ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جو وہ دشمنوں سے پاتے ہیں یہ سب کچھ ان کیلئے عمل نیک ثابت ہوتا ہے کیونکہ اللہ نیک کرداروں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
اور اس طرح وہ اللہ کی راہ میں کوئی رقم نہیں نکالتے چھوٹی ہو یا بڑی اور کوئی میدان طے نہیں کرتے مگر یہ کہ اس کی نیکی ان کے نام لکھی جاتی ہے تاکہ اللہ ان کے کاموں کا بہتر سے بہتر اجر عطا فرمائے۔
Ayah 4:96انعام الٰہی اس کے علاوہ بھی ان کیلئے موجود ہے
167: یعنی اللہ کی رحمت بےپایاں ہے اس لیے اس کی رحمت و بخشش کی بارش جب شروع ہوجاتی ہے تو وہ جتنی چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق برسا دیتا ہے۔ وہ اپنی شان غفوریت کے تقاضا سے ان کا ہر عذر قبول کرلے گا اور شان رحیمیت کے تقاضا سے انہیں مزید اجر عنایت فرمائے گا کو ان کہ اس کے قانون میں بےحساب عنایت کرنا موجود ہے۔ یعنی جہاں سے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا وہ عطافرمادیتا ہے۔
Ayahs 4:97–98زیاں کاروں کی موت کا منظر
168 ۔ دشمنان حق کے ظلم و ستم سے عاجز ہو کر پیغمبر اسلام نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قدرتی طور پر ملک عرب دو حصوں میں تقسیم ہوگیا دار ال ہجرت اور دار الحرب۔ دار ال ہجرت مدینہ تھا جہاں مسلمان ہجرت کرکے جمع ہوگئے تھے دار الحرب ملک کا وہ حصہ تھا جو دشمنوں کے قبضہ میں تھا اور اس کا صدر مقام مکہ تھا۔ دار الحرب میں جو مسلمان باقی رہ گئے تھے وہ اعتقاد و عمل کی آزادی سے محروم تھے انہیں ہمیشہ دشمنوں کا ظلم و ستم سہنا پڑتا تھا اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ مکہ سے ہجرت کرجائیں اگر باوجود استطاعت کے ہجرت نہیں کرے گے تو اپنی کوتاہی عمل کے جواب دہ ہوں گے۔ اس جگہ اسی معاملہ کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا جو لوگ استطاعت نہ رکھتے ہوں وہ تو مجبور ہیں لیکن جو کوئی ہجرت کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی دشمنوں کی آبادی نہ چھوڑے اور اپنی محرومی وذلت کی حالت پر قانع ہوجائے تو وہ سخت معصیت کا مرتکب ہوگا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔
بے مقصد عذر کرنے والوں کا عذر قابل قبول نہیں ہوگا لیکن معذوروں کا خیال رکھا جائے گا
169 ۔ جو لوگ اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کریں گے انہیں نئی نئی اقامت گاہیں اور معیشت کے نئے نئے سامان ملیں گے۔ اس طرح ان تمام غیر معذور مسلمانوں کو جو اب تک دار الحرب میں پڑے ہوئے تھے ، ہجرت پر ابھارا ہے اور یہ گویا ان کیلئے آخری تنبیہ ہے اس کی تمہید اس طرح اٹھائی ہے کہ جو لوگ اسلام کا دعوی کرنے کے باوجود بلا کسی شدید مجبوری و عذر شرعی کے اب تک دار الکفر میں پڑے ہوئے ہیں ، اس حالت میں ان کو موت آئی تو فرشتے ان سے سوال کریں گے کہ یہ تم کس حال میں پڑے رہے ؟ یہ جواب دیں گے کہ ہم تو بےبس اور مجبور تھے ، فرشتے جواب دیں گے کیا اللہ کی زمین میں تمہارے لیے کہیں سچائی نہیں تھی کہ ہم وہاں ہجرت کرجاتے ، پھر فرمایا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور ظاہر ہے کہ جہنم تو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 4:99یہ وہ لوگ ہیں جو معذور متصور ہوسکتے ہیں :
170: ازیں بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو حقیقۃ بےبس اور معذور ہیں فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں معذور صرف وہ مرد ، عورتیں اور بچے قرار پائیں گے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکنے کی قدرت رکھتے ہوں اور نہ ان کے لیے کوئی اور راہ کھل رہی ہو یہ لوگ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرما دے اور بےمقصد عذر پیش کرنے والوں کا عذر قابل قبول نہیں ہوگا بلکہ ان کی آہ و پکار کے باوجود ان کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا اور ان کی ایک نہیں سنی جائے گی۔
Ayah 4:100جو ہجرت کے پیش نظر گھر سے نکل کھڑا ہوا اللہ اس کا حامی و ناصر ہوگا
171 ۔ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کیلئے اپنے گھر بار اور عزیز و اقارب چھوڑنے پر تیار ہوگئے فرمایا ان کی حمایت کیلئے اللہ کی ذات خود موجود ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ اگر ساری دنیا مخالف ہوجائے لیکن اللہ کی ذات جس انسان کی حمایت میں ہو اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا اور مخالف کو ناکوں چنے چبانے پڑتے ہیں اس لیے ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح فرمایا کہ :
جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کرگئے ہیں ان کو ہم دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بڑا ہے ، کاش جان لیں وہ مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں کیسا بہترین انجام ان کا منتظر ہے۔ ۔
172 ۔ آخر میں یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ ہجرت کے اجر عظیم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی دار ال ہجرت میں پہنچ ہی جائے بلکہ صرف یہ کافی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے ارادے سے گھر سے نکل کھڑا ہو اور جو گھر سے نکل کھڑا ہوا اگر فوراً ہی اس کی موت آگئی یا وہ قتل کردیا گیا تو اس سے اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اللہ کے اوپر اس کا اجر لاز ہوگیا۔ ان آیات کریمات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایک ایسے مقام کو جہاں اس کیلئے اپنے دین و ایمان پر قائم رہنا جان جو کھوں کا کام بن گیا ہو چھوڑ کر ایک ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں اسے توقع ہو کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرسکے گا اور یہ بھی کہ اگر دار السلام موجود ہو اور اس کی طرف ہجرت کی راہ کھلی ہو کوئی سخت مجبوری بھی نہ ہو تو بھی ایسے مقام سے ہجرت کرکے دار السلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں اور ہجرت کے معاملے میں ہر عذر عذر نہیں ہے۔ معتبر عذر صرف اور صرف یہ ہے کہ آدمی اتنا بےبس ہو کہ نہ اس سے خود کوئی تدبیر بن آرہی ہو نہ اس کیلئے کوئی راہ کھل رہی ہو۔ ایسی مجبوری میں بھی اس پر اپنے ایمان کی حفاظت بہرحال لازم ہے اگرچہ اس کو اصحاب کہف کی طرح کسی غار ہی میں پناہ لینی پڑے۔
یاد رہے کہ ہجرت کا اجر جو آخرت میں ہے وہ تو ہے ہی ، دنیا میں بھی مہاجر کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص عزت فراہم ہوتی ہے۔ اللہ کی زمین اس کیلئے راہیں کھولتی ہے اور غیب سے اس کیلئے اسباب و سامان فراہم ہوتے ہیں اور اس آخری آیت میں یہ بات بھی ذہن نشین کرا دی گئی کہ اس راہ میں پہلا قدم بھی منزل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیت خالص اور ارادہ راسخ ہو تو گھر سے نکلتے ہی مہاجر کو موت آجائے تو ہجرت کا اجر اس کیلئے لازم ہوگیا اور اب جہاد کی طرف سے رخ نماز کی طرف پھرنے والا ہے اس لئے کہ نماز ہی در اصل جہاد کی روح ہے۔
Ayah 4:101نماز قصر کرنے کے حکم سے دو باتوں کی اہمیت معلوم ہوگئی نماز کی بھی اور جہاد کی بھی
173 ۔ نماز قصر کرنے کے حکم سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نماز وہ چیز ہے کہ جنگ کے خطرات کے اندر بھی یہ نظر انداز نہیں کی جاسکتی وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام میں جنگ خونریزی اور لوٹ مار کیلئے نہیں بلکہ جیسا کہ دوسرے مقامات سے واضح ہوچکا ہے صرف اور صرف اس لیے ہے کہ اللہ کی زمین سے اس ظلم وجبر کا خاتمہ کیا جائے جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی بندگی سے روکنے کیلئے اللہ کے دشمنوں کی طرف سے برپا کیا جاتا ہے اس پہلو سے غور کیجئے تو جہاد کی اصل روح نماز ہی ہے اس سے جہاد اللہ کی عبادت بنتا ہے اگر اس کے اندر یہ روح نہ ہو تو یہ بھی اس طرح فساد فی الارض ہے جس طرح اللہ کے باغیوں کی ہر جنگ فساد فی الارض ہے اور اس بات کو واضح کرنے کیلئے کہ ایک ہی طرح کا فعل اللہ کے حکم کے مطابق ہونے سے عبادت اور اللہ کے حکم کے خلاف ہونے کے باعث مستوجب سزا ہوسکتا ہے نہیں بلکہ مستوجب سزا ہوتا ہے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ جماع اور زنا میں فرق کیا ہے ؟ اور خصوصا جبکہ وہ بالجبر بھی نہ ہو لیکن ہر انسان جو انسانیت سے نکل نہ گا ہو ایک کو قابل ستائش اور دوسرے کو قابل سزا جانتا ہے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ایک اللہ کے حکم کے مطابق ہے اور دوسرا اللہ کے حکم کے خلاف۔
اس روح کے تحفظ کا یہ فطرتی تقاضا ہے کہ عین میدان جنگ میں بھی تاحد امکان نماز سے غفلت نہ ہو تاکہ ہر مجاہد کو اس حقیقت کی یاد دہانی ہوتی رہے کہ اس کے میدان جنگ کی صفیں بھی اپنے اصل مقصد کے لحاظ سے اس کی نماز کی صفوں سے مختلف نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ اس سے نماز باجماعت کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور میدان جنگ کی نماز کی شکل ایک ایسی بیان فرمائی ہے جس سے نماز باجماعت کا مقصد بھی حاصل ہوتا ہے اور دفاع کا بھی۔ نماز قصر کا حکم تو بلاشبہ جہاد ہی کی غرض اور جہاد ہی کے سفر کیلئے تھا لیکن اس کا حکم عام دے دیا گیا جو اللہ کے حکم سے رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا۔
Ayah 4:102نماز کا بیان جو صرف جنگ ہی سے مخصوص ہے
174 ۔ اس آیت میں نماز کی وہ خاص شکل و صورت بیان ہوئی ہے جو نماز باجماعت کے لیے میدان جنگ میں اختیار کی جاسکتی ہے اور علاوہ ازیں نہیں۔ ہاں ! جنگی مشقوں میں نماز کا وقت آجائے تو جنگی مشقیں کرانے والوں کو اس کی مشق کرانا بھی لازم ہے اس لیے یہ بےدھڑک کہا جاسکتا ہے کہ جنگی مشقوں میں اس ہیئت کے ساتھ میدان میں نماز ادا کرنا جائز اور درست ہے۔ بہرحال اس جگہ جو صورت حال بیان فرمائی گئی وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر گروہ اسلحہ سے لیس ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہو اور دوسرا گروہ حفاظت کا فرض انجام دے۔ جب پہلا گروہ سجدہ کرچکے تو وہ پیچھے ہٹ کر حفاظت و نگرانی کا کام سنبھالے اور دوسرا گروہ جس نے نماز نہیں پڑھی ہے امام کے پیچھے اس مسلح حالت میں نماز کیلئے کھڑا ہوجائے ۔ اس صورت میں نماز باجماعت کے قیام ، امام کی اقتدایٔ اور دفاع تینوں کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں لیکن مقتدیوں اور امام کی نماز کی رکعتوں کی تعداد کیا ہوگی ؟ اس سوال کا جواب اس آیت میں پوری طرح واضح نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اس باب میں علماء و فقہاء کی آراء میں اختلاف ہے۔ اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے تو جس تفہیم کیے ہوئے حکم کے مطابق صلوۃ ادا کی گئی نماز بہرحال درست ہوگی اور نماز و جہاد جب دین میں ایک جیسی اہمیت رکھتے ہیں تو جہاد کی صورتوں میں تبدیلی واقع ہونے سے جہاد میں فی نفسہ کچھ فرق نہیں آتا اس طرح نماز میں بھی اس اختلاف سے جو ناگزیر ہے کسی طرح نماز ادا کرلینے سے فی نفسہ نماز ادا ہوجائے گی اس لیے کسی فریق کو دوسرے فریق پر فتوی صادر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور امام وقت جو کچھ حکم دے گا اس کی اطاعت لازم ہوگی حکم سے ہماری مراد نماز کی ادائیگی کا حکم ہے۔ جس طرح جہاد میں باقی احکام لازم و ضروری ہیں ہاں ! آیت کے ظاہری الفاظ سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ بلاشبہ اس طرح ہے کہ امام قصر نماز دو رکعت ادا کرے اور مقتدیوں کے دونوں گروہ ایک ایک رکعت امام کے پیچھے اور ایک ایک رکعت بطور خود ادا کرکے اپنی نماز پوری کریں اور امام دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہونے سے پہلے اتنا توقف کرے کہ پہلی جماعت اپنی دوسری رکعت اختصار سے پڑھ کر پیچھے ہٹ جائے اور دوسری جماعت اس کی جگہ لے سکے اور اس طرح جب مقتدی اور امام دونوں کی دو دو رکعتیں ہوں گی لیکن اگر مقتدی ایک ایک ہی رکعت پڑھ کر امام کی دونوں رکعت کے ساتھ سلام پھیر دیں تو بھی قرآن کریم کی آیت کے خلاف نہیں ہوگا اور حالت جنگ میں اگر نماز اس صورت سے ادا کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا تو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد قضا کرنی ہوگی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق میں کیا تھا (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
اس طرح نماز کی ادائیگی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تم دشمن سے چوکنے رہو
175 ۔ آیت زیر نظر میں جو حالت نماز بیان کی گئی ہے اس کا مطالبہ در اصل یہ ہے کہ جب میدان جنگ میں فریقین کا آمنا سامنا ہو لیکن جنگ جاری نہ ہو۔ جنگ جاری ہونے اور حالت جنگ میں ہونے میں بڑا فرق ہے اس لیے فرمایا کہ نماز ضرور ادا کرنا ہے لیکن اس طرح نہیں کہ تم دشمنوں سے غافل ہوجا ، نہیں ، بلکہ اس طرح کہ تمہارا رعب دشمن کے دلوں میں بیٹھ جائے وہ تمہاری اس طرح کی نقل و حرکت سے جب کہ تم اپنے اپنے اسلحہ سے بھی لیس ہوگے تو یقیناً ایک طرح کے رعب کا باعث ہوگا۔ اس لیے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کی دلی تمنا تو یہ ہے کہ تم اپنے ہتھیار اور سامان جنگ سے ذرا بھی غفلت کرو تو یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑیں۔ فرمایا اگر تمہیں برسات کی وجہ سے یا کسی تکلیف کے باعث ہتھیار اتارنا ہی پڑیں تو بھی حالات کے جائز کے ساتھ کہ حالات اس کی اجازت دیتے ہیں تو اتار دو لیکجن اپنے بچاؤ کے لیے ہر وقت تیار رہو اس سلسلہ کی غفلت تمہاری قابل برداشت نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کیلئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:103حالت جنگ میں نماز ادا کرنے کے بعد ذکر الٰہی کی مشغولیت
176 ۔ ہمارے ہاں معروف یہ ہے کہ ذکر اللہ کیلئے ضروری ہے کہ تسبیح ہاتھ میں ہو اور ایک کونہ میں الگ تھلگ بیٹھ کر اللہ اللہ کرتا رہے کوئی مرے یا جئے اس کی بلا سے۔ آپ اس جگہ ذکر اللہ سے یہ مفہوم نہ نکالیں جب عین حالت نماز میں بھی جو ذکر اللہ کی ایک خاص الخاص حالت ہے اس میں بھی اپنے دفاع کی طرف غافل ہونے کو جرم قرار دیا ہے تو وہ نماز کے بعد اس طرح کا ذکر کیوں ارشاد فرمائے گا اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حالت جنگ میں ضروریات زندگی کے جس طرح سارے کام تم پورے کرتے ہو گویا کبھی تم لیٹنے کا موقع ملے گا کبھی کھڑے رہنے کا حکم ہوگا اور کبھی بیٹھ جانے کا کیونکہ یہ ساری صورتیں میدان جنگ میں پیش آسکتی ہیں اور آتی ہیں ان حالتوں میں سے آپ کسی حالت میں ہوں تو اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہونا کیونکہ ہر معاملہ میں جب ہدایت کی راہنمائی کی ضرورت ہے تو ہدایت کہاں سے آئے گی اس کیلئے تو صرف اور صرف اللہ کی ذات کا تصور ہی ایک ایسی چیز ہے جو ہر حال میں راہنمائی کرسکتا ہے کیونکہ اسلام کی جنگ اندھا دھند جنگ نہیں جس کیلئے کوئی اصول ہی مقرر نہ ہو۔ اس میں تو قدم قدم پر راہنمائی کی ضرورت ہے کہ ذرا قدم پھسلا تو تباہی و بربادی لازم آگئی اور کا ئ کرایا سب برباد ہوگیا۔ اس لیے اس بات کی ہدایت فرمائی کہ نماز ادا ہوگی تو باقی اوقات میں بھی ذکر اللہ کی اتنی ہی ضرورت ہے تاکہ اس میں مشکل وقت میں پڑھی گئی نماز کو کہیں ضائع نہ کردیں۔ گویا اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ نماز کا ادا کرنا اور بات ہے اور نماز کی حفاظت اور شے ہے اس لیے قرآن کریم نے کبھی بار بار یہ ہدایت دی ہے کہ نمازوں کی حفاظت کرو۔
اس طرح زیر نظر آیت میں حکم ہوا کہ اگر تم دشمن کے خوف سے امن میں ہوجاؤ یعنی جنگ جب لڑی جا چکے یا جنگ لڑنے کی اگر نوبت ہی نہ آئے اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں بہرحال جس طریقہ سے بھی وہ خطرہ باقی نہ رہے بلکہ امن کا زمانہ میسر آئے تو معاً نماز کا حکم بھی اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ کر چلا آئے گا گویا اب نماز خوف ادا نہیں ہوگی بلکہ اگر سفر بھی درپیش ہے تو قصر ہوگی لیکن اگر اقامت گاہ پر پہنچ گئے اور اب سفر درپیش نہیں رہا تو نماز پوری ادا کرنا ہوگی اور اس طرح نماز قصر ادا کرنے کا حکم باقی نہ رہے گا بلکہ اب پوری نماز ادا کرنا ہوگی۔
بلاشبہ نماز ہر مسلمان پر وقت مقرر کے ساتھ فرض کی گئی ہے
177 ۔ مطلب یہ ہے کہ نماز اپنی فرضیت کے لحاظ سے ادا کرنا ضروری ہے اور موقت ہونے کی وجہ سے وقت پر ادا کرنا ضروری ہے اس لیے مخصوص حالات میں اس کی ہیئت نہیں ہے اور موقت ہونے کی وجہ سے وقت پر ادا کرنا ضروری ہے اس لیے مخصوص حالات میں اس کی ہیئت میں جو فرق کیا گای ہے اس سے فی نفسہ نماز میں کوئی فرق نہیں آتا اور ضرورت کے مطابق جو اس کو موخر یا وقت کے آنے کے ساتھ ہی ادا کرنا یا اس طرح دو نمازوں کو اکٹھا کرنا یعنی جمع کرلینے کی اجازت ہے وہ کتاب موقوت میں کوئی فرق نہیں پڑتا صرف اول و موخر سے وقت نکل جانا مراد نہیں لیا جاسکتا اور پھر سنت میں اس کی ہر لحاظ سے وضاحت بیان کردی گئی ہے گویا آیت زیر نظر سے ایک تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اوقات کی پابندی اوقات صلوۃ کی شرائط میں سے ہے دوسری یہ کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اہل ایمان پر جو کچھ فرض کیا ہے وہ عین اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فریضہ ہے کیونکہ نمازوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ اوقات کے اہتمام کے ساتھ فرض ہیں در آنحالیکہ اوقات نماز تمام تر نبی کریم ﷺ کے مقرر کردہ ہیں قرآن کریم میں ان کی کوئی صراحت نہیں ہے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ ارشادات مختلف مقامات پر کیے گئے ہیں۔
Ayahs 4:104–105منکرین سے تم کو جو دکھ پہنچا ہے اس سے زیادہ تم ان کو دکھ پہنچا چکے ہو
178: اشارہ اس طرف ہے کہ میدان احد میں اگر تم کو کفار سے تکلیف پہنچی ہے جو در اصل تمہاری ہی کوتاہی کا نتیجہ تھی تو تم کو یہ تو نہ بھول جانا چاہئے کہ تم اس سے پہلے میدان بدر میں ان کو اس سے دوگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ پھر جب وہ اتنی تکلیف و مصیبت برداشت کرکے دوسرے ہی سال احد میں آدھمکے ہیں تو تم اتنے بد دل کیوں ہو رہے ہو حالانکہ تم اللہ سے وہ امید بھی رکھتے ہو جو ان کو نہیں ہے۔ کیونکہ تم کو جو کچھ پیش آیا ہے وہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے پیش آیا ہے اور یقیناً اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ اگر کچھ لوگ تمہارے جنگ احد میں کام آئے ہیں تو ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ وہ خود تو کامیاب وکامران ہو کر مالک حقیقی سے جا ملے اور اسی طرح وہ جنات کے وارث قرار پائے جن میں خوش و خرم ہیں۔ ان کی جتنی غلطیاں تھیں جتنے گناہ تھے سب معاف کردئیے گئے اور پھر جو جی رہیں آخر وہ کیوں جیتے ہیں ؟ یقین جانو کہ صرف مرنے کے لیے پھر ان کو مرنے کے بعد کیا ملے گا رضائے الہی کے خلاف لڑنے کی وجہ سے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے اس طرح خود ہی غور کرو کہ نقصان میں کون رہا اور فائدہ میں کون ؟ اس کی پوری تفصیل پیچھے سورة آل عمران آیت نمبر 140 ، 172 میں گزر چکی ہے ، وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 4:106قرآن کریم حق و باطل میں فرق کرکے الگ الگ کردینے والا ہے
179 قرآن کریم کی نصیحتوں میں سے ایک نصیحت یہ بھی ہے کہ وہ کسی کو چڑ نہیں چڑھاتا بلکہ ہر اس معاملہ میں جس میں کسی کو چڑ کھانے کا امکان ہوتا ہے اس کا رخ اپنے رسول ﷺ کی طرف پھیر دیتا ہے کیونکہ وہ صاحب وحی ہے اس کو مخاطب کرکے بات کرتا ہے تاکہ رسول جب ان لوگوں کے سامنے بیان کرے گا جو اس کے مخاطبین ہیں تو اللہ کا حکم بیان کرے گا جس کا بظاہر مخاطب تو وہی ہوگا اگرچہ اس سے سمجھانا مقصود امت کے لوگوں ہی کو ہے۔ اس کی مثال اس طرح سمجھ لو کہ جب حاکم اعلی حکم کرتا ہے تو وہ اپنے نائبین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ فلاں کام اس طرح ہونا چاہئے اگر اس میں تم نے کوتاہی کی تو اس کا نتیجہ تم کو بھگتنا ہوگا حالانکہ وہ ان کے ماتحتوں نے کرنا ہے اس نے بذاتہ نہیں کرنا ہے تاہم مخاطب وہی کیا جاتا ہے جو اس کام کو سرانجام دینے والوں کا افسر و نگران ہے اور اگر کوئی کوتاہی ہو تو وہ جواب دہ بھی ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں جو خطاب ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہے۔ فرمایا گیا اے پیغمبر اسلام یہ جو کتاب آپ ﷺ کو دی گئی ہے یہ کیا ہے ؟ یہ حق و باطل کیلئے ایک کسوٹی ہے۔ تم اس پر پرکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرو جو اس پر پورے اتریں وہ مومن و مخلص ہیں ، جو اس پر کھوٹے ثابت ہوں وہ عہد شکن اور غدار ہیں تم اللہ کے حضور ان کے وکیل اور سفارشی نہ بنو اللہ ایسے بد عہدوں اور غداروں کو پسند نہیں کرتا۔ ؛ ہاں ! آپ ان لوگوں کو ہدایت کی تلقین کرسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ان کی ہدایت کی دعا بھی جب تک کہ وہ زندہ ہیں کیونکہ ہدایت کا تعلق زندگی ہی کے ساتھ خاص ہے اور ہدایت یافتہ وہی ہوسکتا ہے جس نے خود توبہ کی اور برائیوں سے تائب ہوگیا۔
فرمایا آپ ﷺ پر ال کتاب یعنی قرآن کریم نازل کیا ہے جو سراسر سچائی ہے۔ آپ ﷺ اس کے مطابق فیصلہ کریں اور کسی کی ناراضگی کی پروا نہ کریں کہ کون راضی رہتا ہے اور کون ناراض ہوتا ہے۔ الفاظ کا اشارہ اس طرف ہے کہ کسی کے دعوی اسلام کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جھوٹا ہو تو بھی اس کو سچا قرار دیا جائے اس لیے کہ اس نے اسلام کو قبول کرلینے کا دعوی کیا ہے اور کسی شخص کے جھوٹے ہونے کی یہ دلیل نہیں کہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اسلام و کفر کا مقام اپنا ہے کسی واقع اور کسی بات کا حق و ناحق ہونا اور بات ہے۔ اسلام سچ بولنے کی ہدایت تو دیتا ہے لیکن یہ نہیں کہتا کہ جو شخص دعوی اسلام رکھتا ہو وہ چاہے جو کرتا رہے وہ سچ ہی ہوگا۔ ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور قرآن کریم کی ہدایت ہر سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کہتی ہے۔ کوئی شخص اللہ ، اس کے رسول ﷺ اور قرآن پر ایمان کا دعوی کرنے کے باوجود اگر جھوٹ کا مرتکب ہوگا تو جھوٹا ٹھہرے گا اور اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قرآن کریم میں سے کسی پر ایمان نہ لائے لیکن جس معاملہ میں وہ سچا ہے اس کو جھوٹا نہیں کہا جاسکتا۔ قرآن کریم کی یہی وہ تعلیم ہے جو دوسرے ادیان و مذاہب سے اس کو بالکل الگ کردیتی ہے لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس کو بالکل بھلا دیا ہے اور اس میں سے کچھ بھی یاد نہیں رکھا۔
بڑے بڑے علامہ و فہامہ ، پیر و مفتی ، قاری و قاضی دین کے ستون کہلانے والے جب اپیا پارٹی ، اپنی فکر اور گروہ بندی کا نام آتا ہے تو ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ زیر نظر آیت اس بات کی ہدایت فرما رہی ہے کہ ایسا کرنا کھلی خیانت کا مرتکب ہونا ہے۔ سچ سچ ہے اور جھوٹ جھوٹ ہے خواہ کوئی بولے اور کوئی کہے۔ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ فکر و پارٹی کو دیکھ کر نہیں کیا جاسکتا بلکہ سچ اور جھوٹ کے پرکھنے کے جو اصول ہیں ان ہی پر رکھ کر پرکھا جاسکتا ہے۔ آیت زیر نظر کے شان نزول میں ایک نام کے مسلمان اور یہودی کے ایک فیصلہ کا ذکر بیان کیا جاسکتا ہے۔ آیت زیر نظر کے شان نزول میں ایک نام کے مسلمان اور یہودی کے ایک فیصلہ کا ذکر ہے جس میں یہودی سچا اور مسلمان نام رکھنے والا جھوٹا تھا اور اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق تحقیق کرکے یہ بات واضح فرما دی کہ یہودی سچا ہے اور مسلمان نام رکھنے والا جھوٹا ہے۔ حالانکہ اس وقت نام کے مسلمان کو جس کا نام بشیر تھا مسلمانوں کی حمایت بھی حاصل تھی جو یہودی کو نہیں تھی لیکن آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے جو سچ تھا اور اس کو سچ کہا اور مسلمانوں کی حمایت کی بھی کوئی پروا نہ کی اور یہی ہدایت قرآن کریم مسلمانوں کو دے رہا ہے کہ تم بھی وہی کرو جو پیغمبر اسلام نے کیا ہے ، حق کی حمایت کرو اور حق ہی کو حق جانو اس کے کہنے والا خواہ کوئی ہو۔ (اس واقعہ کی تفصیل ترمذی ، حاکم ، ابن مسعود اور ابن جریر میں موجود ہے)
Ayah 4:107خیانت کرنے والا خائن ہے خواہ وہ کوئی ہو اور خائن کی حمایت ہر حال میں گناہ ہے
180 ۔ یہ گویا تاکیدی حکم ہے کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جو دباؤ بھی پڑے اس کی پروا مت کرو اور ان کے معاملہ میں ذرا برابر بھی لچک اپنے قول و عمل میں مت رکھو کیونکہ وہ اللہ کو پسند نہیں اور قرآن کریم نے اس کی بار بار نشاندہی فرمائی کہ کہیں یہ ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے بلکہ ہر حال میں اس کی حفاظت کرنا ہے خواہ اس معاملہ میں کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے کوئی رہے یا جائے اس کی پروا مت کرو جو کھرا ہے وہ آخر جائے ہی گا کیوں ؟ اور جو کھوٹا ہے اس کو رکھ کر کیا کرو گے ؟ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا کہ :
اے پیغمبر اسلام ! اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کا کہا مت مانو ، حقیقت میں حکیم وعلیم تو اللہ ہی ہے اس بات کی پیروی کرو جس بات کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تم کو کیا جا رہا ہے۔ اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اللہ پر بھروسہ کرو ، اللہ ہی اصل وکیل ہے اور اس کی وکالت کفایت کرنے والی ہے۔ (الاحزاب)
نبی اعظم و آخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو۔ جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے تو پھر اسے بالکل مطمئن ہوجانا چاہئے کہ ساری خیر اور مصلحت اس حکم کی تعمیل میں ہے اس کے بعد حکمت اور مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیل ارشاد کرنی چاہئے اللہ اس کیلئے بالکل کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کردے وہ راہنمائی کیلئے بھی کافی ہے اور مدد کیلئے بھی اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی راہنمائی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائج بد سے دوچار نہ ہو۔ یعنی جو نتائج اس کے نکلیں وہ کبھی ان کو اپنے حق میں برا خیال کرے۔ اگرچہ سارا زمانہ ان کو برا کہے اس لیے کہ علیم کل وہ ہے نہ کہ کوئی اور بندہ۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
اے پیغمبر اسلام ! ان کفار و منافقین سے کبھی نہ دبو اور ان کی کوئی پروا کرو اور نہ ان کی اذیت کا خیال رکھو ، اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ ہی اس کیلئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے۔ وکفی باللہ وکیلا۔ (الاحزاب)