Ayah 4:108راتوں کو چھپ چھپ کر مشورے کرنے والے اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں
181: راتوں کرنے کا رواج بہت پرانا ہے اور خصوصا ایسی مجلسیں جن میں مخالفت کا عنصر غالب ہو اور رات کو جمائی جاتی ہیں تاکہ سرغنے سر جوڑ کر بیٹھ سکیں اور اپنی اپنی سکیمیں اور دائو پیچ ‘ ان کے طریقے اور پھر نتائج پر سیر حاصل بحث کرسکیں اور اس طرح جو قدم اٹھائیں وہ پیچھے نہ ہٹا سکیں ۔ اگر خاندان کا مسئلہ ہے تو پورے خاندان کے سربراہان جمع ہوں گے اگر پارٹی کا مسئلہ ہے تو پوری پارٹی کے سرغنے جمع ہوں گے اس طرح اگر کسی مکتب جکر کا معاملہ ہے تو مکتب فکر کے راہنمامل بیٹھیں گے روایات میں آتا ہے کہ اس معاملہ کا پورا حل کھل جانے کے بعد بنی ابیرق نے مشورہ کر کے نام کے مسلمان بشر کی حمایت کرنے کا عزم کیا اور یہودی کی مخالفت محض اس کے یہودی ہونے کی وجہ سے کی گئی۔ فرمایا یہ لوگ بھی عجیب ہیں کہ اپنے ہی جیسے آدمیوں سے تو شرماتے ہیں اس لئے چوری چھپاتے ہیں کہ ہمارے آدمی کی بدنامی ہوگی تو اس طرح پورے خاندان کی بدنامی ہے حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ سے شرمانے کا زیادہ حق تھا کیونکہ وہ تو دلوں کے راز جانتا ہے تو کیا ان کا آدمی جب چوری کا کرتوت کر رہا تھا وہ اس کہ جان سکا ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ جب حق واضح ہوگیا تھا اس کہ بسر وچشم قبول کرتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کر کے اس کے ازالہ کی کوشش کرتے لیکن ان کو خا ندان کی عزت یاد آگئی اور پھر اللہ کے ہاں ان کی عزت وناموس کا کون محافظ ہوگا جہاں کوئی راز بھی پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ اس طرح کی سر گوشیوں کا ذکر قرآن کریم نے کئی ایک مقامات پر کیا ہے تاکہ مسلمانوں کو تنبیہ رہے اور وہ حق و باطل میں امتیاز کریں لیکن افسوس کہ آج ان ساری ہدایت سے مسلمانوں نے منہ پھیرلیا ہے چناچہ ارشادالٰہی ہے کہ :
” کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین و آسمان کی ہرچیز کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے ؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو ۔ یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ پھر خفیہ بات کرنے والے خواہ اس سے کم ہوں یا زیادہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ پھر قیامت کے روز وہ ان کہ بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ‘ اللہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔ “ (المجادلہ 58 : 7)
خیال رہے کہ یہ معیت درحقیقت اللہ جل شانہ کے علیم وخبیر اور سمیع وبصیر اور قادر مطلق ہونے کی طور پر ہے کہ ان کی سرگوشیوں کو وہ جانتا بھی ہے اور دیکھتا بھی۔ اس طرح بیان فرما کہ لوگوں کو یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ خواہ وہ کیسے ہی محفوظ مقامات پر خفیہ مشورہ کر رہے ہوں ان کی بات دنیا بھر سے چھپ سکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپ سکتی اور وہ دنیا کی طاقت کی گرفت سے بچ سکتے ہیں کیونکہ اس سے بچنے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں لیکن اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ اس مضمون پر ان لوگوں کو بھی غور کرنا لازم ہے جو جھوم جھوم کر اور گا گا کر پڑھتے ہیں۔
جو پکڑے خدا چھڑائے محمد
محمد کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکدا
حالانکہ مسلمانوں کو اس بات کی خاص ہدایت دی گئی ہے کہ محمد رسول ﷺ کو اس طریقہ سے مت بلائو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو یقینا تمہارے اعمال ضبط کر لئے جانے کا خطرہ اس میں موجود ہے لیکن نا سمجھوں نے ضد میں اپنے اعمال کی بربادی کا حکم بھی یاد نہ کھا ۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ ان سرگوشیوں سے باز آجائو اس میں تمہارا بہت بڑا نقصان ہے چناچہ ارشاد ہوا کہ :
” کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا ۔ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں ۔ “ (المجادلہ 58 : 8) اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے بھی آپ ﷺ نے لوگوں کو اس حرکت سے باز رہنے کی ہدایت کی تھی لیکن
آپ ﷺ کے دعویٰ رسالت کو مان لینے کا مطلب کیا نکلا ؟ اور اس طرح مان لینے اور نہ ماننے میں کیا فرق رہا ؟ نہ مان کر کافر تھے اور مان کر منافق ٹھہرے اور اس طرح جو نام کا فرق ہوا وہ بھی ان کے حق میں کوئی اچھا نہ ٹھہر اکیو ن کہ منافق کا انجام کافر سے بدتر ہے۔ اللہ معاف فرمائے اور سمجھ کی توفیق دے۔
Ayah 4:109پارٹی کا ساتھ دینے والوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ آخرت میں یہ جھگڑا کون کرے گا ؟
182: حمایتیوں کے حمایتی ساتھ ملتے جاتے ہیں اور اس طرح پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاتی ہے لیکن آخر کب تک ؟ پارٹی کب تک رہے گی اور پارٹی باز تک ؟ اس لئے یہ تنبیہہ کی گئی ہے کہ دنیا میں تو تم نے ان کی حمایت کرلی جگر معاملہ یہیں تو ختم نہیں ہوجائے گا۔ قیامت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں معاملہ پیش ہوگا تو وہاں کون حمایت کرے گا۔ اس آیت میں ان لوگوں کو ملامت بھی کی گئی ہے جو حق و باطل کی تمیز کئے بغیر اپنی پارٹی ‘ خاندان اور مکتبہ فکر کی حمایت کرتے ہیں اور آخرت کا خوف دلا کر ان کے فعل سے توبہ اور رجوع کی ترغیب بھی دی۔ اس جگہ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بار پھر غور کرلو کہ جب مضمون شروع کیا تھا تو ارشاد فرمایا تھا ولاتجادل جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس حساس مضمون کو بیان کرنے کا یہ الٰہی پیر ایہ ہے کہ وہ اپنے رسول کو مخاطب کر کے امت کے لوگوں کو بات پہنچانا چاہتا ہے اور اس میں حساس پہلو یہ ہے کی انسان جتنا کم علم ہوگا اتنا ہی تھوڑدلا ہوگا اور جھگڑنے کیلئے کوئی نہ کوئی خواہ مخواہ راستہ بنا لے گا اور جتنا آدمی سلجھا ہوا علم رکھنے والا ہوگا اتنا ہی وہ حوصلہ مند اور جھگڑے سے دور رہے گا۔ ان علم کے کو روں اور تھوڑدلوں کو مخاطب کرنے کی بجائے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا گیا اور جب بات آگے چل نکلی اور دلائل شروع ہوگئے بات سننے سنانے لگے تو براہ راست ان کو مخاطب کرلیا چناچہ ارشاد فرمایا کہ ھانتم ھٰولآجادلتم عنھم ” تم نے ان کی طرف سے جھگڑا کرلیا “ جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ وہاں بھی دراصل خطاب نہیں فرمایا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ بات سننے کو تیار ہی نہ ہوں اور پہلے ہی منہ پھیر کر بیٹھ رہیں ۔ تبلیغ کا یہ انداز بہت میٹھا اور بہت پیارا ہے لیکن کاش کہ ہمارے علمائے کرام بھی اس بات کو سمجھتے کہ چلو مخالفت ہی سہی نظریات میں فرق ہی سہی لیکن بات کا انداز تو درست رکھو کہ کوئی آدمی بات سننے کیلئے تیارہو جائے گفتگو کرنے کے بھی آخر کچھ آداب ہوتے ہیں اور وہ آداب محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار فرمائے ہیں ۔ بات کو نرم انداز میں پیش کرنا اور تفہیم کا طریقہ عام فہم رکھنا مخاطبین کی ذہنی و دماغی حیثیتوں کو ملحوظ خاطر رکھ رکر بات کرنا تاکہ سامع کے دل و دماغ تک بات پہنچ جائے نہایت ضروری ہے۔ آستینیں چڑھانے ‘ تو تو میں میں کرنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں سے بات سمجھ میں اْانے کی بجائے مزید الجھ جائے گی اور تبلیغ کا مقصد فوت ہوجائے گا جس کا زندہ رہنا نہایت ضروری ہے کہ اگر بات کسی وجہ سے قبول نہ بھی کی تو کم از کم نفرت تو نہ بڑھے۔ لیکن ہمارے پاس کافر ‘ مشرک ‘ گستاخ رسول ‘ نجدی ‘ وہابی جیسے خطابات کے سوا کچھ رکھا ہی نہیں ۔ ہر ایک کے ہاتھ میں کفر کی ایک نہ ایک مہر موجود ہے قریب ہوتے ہی اس طرح لگا دیں گے کہ گویا پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ کاش کہ آج ہم بھی قرآن کریم کو پڑھتے اور اس کی ہدایات پر غورو فکر کرتے ۔ افسوس کہ ہمیں تو صرف الفاظ قرآن پڑھنے تک محدود کردیا گیا ہمارا ہر وہ آدمی قرآن خواں ہے جو قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی اپنے اپنے فکری لہجے کے مطابق کرسکتا ہے۔ ترجمہ ‘ مفہوم اور مطلب تو اس سے ہمیں کوئی غرض ہی نہیں رہی بلکہ اس کیلئے ہمیں سمجھا دیا گیا ہے کہ قرآن کا ترجمہ کرنا تو اللہ کے ” لنگ “ کو ہاتھ ڈالنا ہے اور ” لنگ “ ہماری زبان میں عزت کو کہنے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والاکون ہوتا ہے سب کو معلوم ہے۔
Ayah 4:110اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر بیٹھنے والوں کیلئے ہدایت الٰہی :
183: فرمایا دن کا روٹھا اگر شام کو واپس آجائے تو اس کے روٹھنے کی سزا جو اس کو مل گئی وہی کافی ہے اب اس کو شرمسار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوگا ۔ ضد بڑھے گی جس میں باربار ٹھنے اور پھر بالکل روٹھ ہی جانے کا خطرہ موجود ہے۔ لہذاتم خاموش ہو جائو تو خود ہی گیا تھا خود ہی آگیا اس طرح اس نے نقصان کس کا کیا ؟ اپنا نقصان کرنے والے کو اگر یہ احساس ہوگیا کہ میں نے نقصان کیا تو ہی احساس ہی اس کیلئے کا فی ہے۔ فرمایا ” جو شخص کوئی برائی کی بات کر بیٹھتا ہے یا اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرلیتا ہے اور پھر اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے تو وہ اللہ کو بخشنے والا رحمت رکھنے والا پائے گا۔
Ayah 4:111برائی کرنے والا ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے کیونکہ یقینا وہ اس کے نتیجے سے دوچار ہوگا :
184: برے کو برا کہہ کہہ کر برا بنا دینا کوئی عقلمندی نہیں ۔ ہاں ! برائی کے انجام سے آگاہ کرنا اس کیلئے مفید ہو سکتا ہے اور آگاہی گالی ، گلوچ برابھلاکہنے سے نہیں ہوتی بلکہ اس طرح جو پشیمانی اس کو ہوتی ہے وہ بھی جاتی رہتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جو کوئی برائی کماتا ہے تو وہ اپنی جان ہی کیلئے کماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت رکھنے والا ہے ۔ “ گنہگار ایک لحاظ سے مریض ہے اور مریض کا علاج مناسب ہے نہ کہ اس سے یہ بحث کہ تم مریض کیوں ہوئے ؟ نہیں بلکہ اس کو مرض کا سبب بتائو اس کا ازالہ کرو ، اس کو احساس دلائو ، مرض کے بڑھتے بڑھتے کیا سے کیا ہوجانے کا خوف اس کو دلائو ایسا علاج کرو کہ اس کا مرض دور ہوجائے یکدم نہیں تو آہستہ آہستہ ہی سہی۔ ہو سکتا ہے تو مرض کے بڑھنے کو روکو تاکہ مرض مزید آگے نہ بڑھے۔ اس طرح قابو پائو اور علاج وہ تجویز کرو جو سستا اور عام ہو اگر تم حاذق ہو تو یہ بات کبھی نہ بھو لو۔
Ayah 4:112بہتان کیا ہے ؟ خود گناہ کرنا اور دوسرے کے ذمہ لگا دینا :
185: اس آیت میں انسانی زندگی کیلئے بہت بڑی راہنمائی رکھی گئی ہے اگر اس سے کوئی فائدہ حاصل کرلے فرمایا یہ ضابطہ الٰہی ہے کہ جو شخص خود کوئی جرم کرے اور پھر یہ اپنا یہ جرم کسی بےقصور انسان کے ذمے لگا دے جیسے اس گزشتہ واقعہ میں ہوا کہ چوری بنو ابیرق کے ایک آدمی نے کی اور الزام لبید یا اس یہودی پر لگا دیا ‘ فرمایا جس کسی نے بھی ایسا کیا تو وسمجھ لو کہ اس نے بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ اپنے اوپر لادلیا ۔ بہتان کیا ہے ؟ یہ آیت بہتان کی تعریف متعین کر رہی ہے یعنی جو عیب آدمی میں نہ ہو یا جو قصور کسی آدمی نے نہ کیا ہو وہ اس کی طرف منسوب کرنا ایک بار الفاظ پر پھر دوبارہ نظرڈال لو تاکہ اچھی طرح مفہوم ذہن نشین ہوجائے پھر نبی اعظم و آخر ﷺ نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ غیبت کیا ہے ؟ فرمایا ذکرک اخاک بمایکرہ ” تیرا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار ہو “ عرض کیا گیا کہ اگر میرے بھائی وہ عیب موجود ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا :
ان کان فیہ ماتقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ماتقول فقد بھتہ “
اگر اس میں وہی عیب موجود ہے جو تو نے بیان کیا تو تو نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ اس میں نہیں ہے تو تو نے اس پر بہتان لگایا ۔ “ اس لئے یہ فعل ایک اخلاقی گناہ ہی نہیں ہے جس کی سزا ملنے والی ہو بلکہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک اسلامی ریا ست کے قانون میں بھی جھوٹے الزامات لگانے کو جرم مستلزم سز اقرار دیا جائے ۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ بھی ہمارے اس خیال سے یقینا متفق ہوں گے کیونکہ بہتان غیبت سے بھی ایک بڑا اور نہا یت ہی خطرناک جرم ہے لیکن ہمیں اگسوس ہے کہ اس بہتان جیسا بڑا جرم سید نا یو سف (علیہ السلام) پر کس طرح لگا دیا گیا اور اس کی نفی کیوں نہ کی گئی کہ یو سف (علیہ السلام) جو اللہ کا ایک برگزیدہ نبی ہے اس جرم کا مرتکب نہیں ہو سکتا پھر اس افسوس پر مزید افسوس ہے کہ اس بہتان کی نسبت براہ راست اللہ کی طرف کردی گئی کہ یہ بہتان یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے سکھا یا تھا ۔ اس طرح گویا جو اللہ کے رسول پر ” بہتان “ کی تہمت رکھی گئی تھی اس میں اللہ کو بھی بڑی خوبصورتی سے شریک کردیا گیا ۔ چناچہ سورة یوسف میں یو سف (علیہ السلام) کے قصہ میں بیان کیا گیا ہے۔
یوسف (علیہ السلام) پر بہتان کا الزام عظیم غور کرو کیا کہہ رہے ہو ؟
جب یوسف ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا ۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکارکر کہا ” اے قافلے والو تم لوگ چور ہو ۔ “ بھائی کے سامان میں پیالہ کس نے رکھا ؟ یوسف (علیہ السلام) نے چوری کا الزام کیس پر آیا ؟ کنعانی قافلہ کے لوگوں پر جو دراصل یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تھے ۔ انجام کار پیالہ کہاں سے نکلا ؟ جہاں رکھا گیا تھا کہاں رکھا گیا تھا ؟ بنیامین کے سامان میں۔ کس نے رکھا تھا ؟ پھر یوسف (علیہ السلام) نے ۔ جب چوری کا الزام ان پر آیا تو یوسف (علیہ السلام) کو اس الزام کی خبر ملی یا نہیں ؟ ملی ۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ پیمانہ میں نے رکھا تھا ؟ نہیں ‘ بہتان کس کو کہتے ہیں ۔
بھائیوں نے اپیل کی کہ ” اے سردار ذی اقتدار اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم آپ (علیہ السلام) کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ۔ یو سف (علیہ السلام) نے کہا اللہ کی پناہ ! ہم دوسرے کسی شخص کو کیسے رکھ سکتے ہیں جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑکر اگر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے۔ “ بنیامین کے سامان میں پیمانہ رکھ کر اس پر چرری کا الزام لگا کر ، کنعانیوں کے قاتون کے مطابق اس کو مصر روک کر تو وہ اللہ کے نبی رہے لیکن اگر ان کنعانیوں کی اپیل پر ان میں سے کسی کر روک کر اگر بنیامین کو چھو ڑدیں تو ظالم ہوجائیں ۔ سبحان اللہ ہذا بہتان عظیم۔
کذلککدنا لیو سف اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی یعنی اللہ ہی نے سکھائی تھی ۔ یعنی پہلے تو اللہ کے رسول یوسف (علیہ السلام) کا اپنا فعل تھا اب وہ اللہ کی ” تدبیر “ کیوجہ سے اللہ کا ہوگیا۔ یعنی وہی کام جو آپ ، ع میں کریں تو ” بہتان “ ہے لیکن رسول کرے اور اللہ کرائے تو وہ چونکہ قادر مطلق ہے اس لئے وہ ایک خوبصورت ” تدبیر “ ہوجاتی ہے ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
کس خوبصو رتی کے ساتھ ایک گناہ گھڑا گیا اور گناہ بھی ” بہتان “ کا پھر اللہ اور رسول اللہ یوسف (علیہ السلام) کو اس کا مرتکب ٹھہرایا گیا پھر قادر مطلق کی آڑ میں اس کو پوشیدہ کر کے نہ معلوم اس سے کیا کیا ضرورتیں پو ری کی گئیں ۔ ایک ایک کر کے اگر پردہ اٹھایا گیا رو اس کے نیچے سے معلوم نہیں کون کون نکل آئے گا لیکن ہو پورے عزم سے یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ نے کبھی کسی رسول کو اس طرح کی خفیہ تدبیریں نہیں بتائیں جو عوام کا لانعام کیلئے تو ” گناہ “ ہوں لیکن رسول ان کو کرے تو وہ عین اسلام ہوجائیں ۔
اس ٹھوکر کا موجب کیا ہوا جعل السقایۃ فی رحل اخیہ جس کے معنی یہ کیے گئے کہ ” اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا “ کسی نے یہ خیال نہ کیا کہ جو یوسف (علیہ السلام) نے رکھا تھا وہ تو ” السقایۃ “ تھا اور جو گم ہوا وہ ” صواع الملک “ تھا تو پھر ” السقایۃ “ اور ” صواع الملک “ ایک کیسے ہوگیا ؟ اس کے لئے ایک کہانی گھڑی ْپڑی کہ جس کے ساتھ غلہ ماپا جاتا تھا وہ وہی تھا جس کے ساتھ بادشاہ سلامت پانی پیا کرتے تھا ۔ کہاں ماپنے کا آلہ اور کہاں بادشاہ کے پانی پینے کا پیالہ غور کرو کہ کہاں کی اینٹ اور کہاں کا گارا جس سے تم نے یہ محل کھڑا کردیا ۔
دنیا میں اس کی کوئی ایک مثال ؟ وہ تو بادشاہ تھا کیا آپ یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ جس کے ساتھ پانی پیئیں اس کے ساتھ غلہ ماپیں۔ کیا پانی پینے کا پیالہ اور غلہ ماپنے کا آلہ برابر ہو سکتے ہیں ؟ ایک انسان کے پینے کا پیالہ کتنا بڑا ہو سکتا ہے ؟ اور وہ آلہ جس سے دنیا جہان کے انسانوں کو غلہ ماپ کر ینا ہے جس سے سینکڑوں ٹن روزانہ ماپا جاتا ہے آخر ان کی آپس میں کوئی نسبت ؟ تم اس کو مرصع کرنے لگے تو اس پر ہیرے اور جواہر جٖڑتے ہی چلے گئے ۔ تم نے قیمت کا اندازہ شروع کیا تو دنیا ومافیہا کی قیمت سے اس کو بڑھا دیا اور ما پنے پر آئے تو اس سے ماپنا شروع کر اور بادشاہ کو پانی دینے لگے تو تم کو وہی بادشاہ کا پیالہ نظر آنے لگا۔ چونکہ یہ ساری باتیں تمہارے خیال ہی خیال متعلق تھیں اس لئے تم جیسا خیال آیا تم اس کو بتاتے چلے گئے اور پھر اتنے آگے بڑھے کہ کسی قاعدہ و کلیہ کے پا بند نہ رہے۔
ایساکیوں نہ ہوتا قاعدہ و کلیہ تو عقل و فکر چاہتا ہے اور تم نے تو پہلے ہی یہ بات کہہ دی ہے کہ دین کی باتوں اور دین کے کاموں عقل نہیں چلتی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جو تمہارے جی میں آئے تم کہہ سکو اور عقل وفکر سے بالکل کو رے ہو کر کہو اس لئے دوسروں کو تلقین پہلے کرلو کہ جو کچھ ہم کہیں گے وہ عقل کے احاطہ سے باہر ہے اس لئے تم عقل سے سمجھ کر مت مانو ۔ بس جو ہم کہیں تم ہاں جی ہاں جی کہتے رہو ۔ یاد رکھو کہا گر تم نے زبان کھولی تو کافر ہو جائو گے کیونکہ مہر ہمارے پاس ہے تم آخر جا ئو گے کہاں ؟ پھر اگر مہر لگ گئی تو دور ہی سے پہچان لئے جائو گے وہ ” کافر “ اور جب تمہاری پہچان ہوگئی تو پھر ” دھر “ لئے جائو گے اور کوئی تمہارا پرسان حال نہیں ہوگا۔
قرآن کریم کو اٹھائو اس سے پوچھو کہ ” السقایہ “ کیا ہے ؟ قرآن کہتا ہے ” اجعلتم سقایۃ الحاج “ کیا تم نے ٹھہرالیا کہ حاجیوں کو پانی پلا نا اور ان کے لئے سبیل لگا دینا کافی ہے۔ پانی پلانا یعنی خوردو نوش کا انتظام کرنا۔ قرآن کریم ہم کو کہتا ہے کہ جب کنعانیوں کا قافلہ دوسری بار آیا تھا جس میں بنیا مین شامل تھا تو یو سف (علیہ السلام) نے ان کو ٹھہرانے کا جو انتظام کیا تھا وہ کچھ اس طرح تھا کہ اس میں سب بھائی ایک جگہ اکٹھے نہ ٹھہرائے گئے اور اگر ٹھہر ائے گئے تو بہر حال بنیا مین ان کے ساتھ ٹھہرایا گیا چناچہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں : ” ولمادخلوا علی یو سف اوی الیہ اخاہ قال انی انا اخوک فلا تبتس بما کانوا یعملون “ (یوسف 12 : 29) یہ لوگ یوسف کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کے میں تیرا بھائی ہوں جو کھو گیا تھا اب تو ان باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔ “
اس بقرے میں وہ ساری داستان سمیٹ دی گئی جس میں بائیس تیئس سال گزر گئی تھے ۔ دونوں بھائیوں نے مل کر جب سارے غم غلط کر لئے لیکن ابھی سب پر اظہار کردینا خلاف مصلحت تھا اس میں بڑی حکمتیں ابھی پوشیدہ تھیں بہر حال جب ان کا سامان تیار کرایا تو آخری دعوت ان سب بھائیوں کی وہاں رکھ دی جہاں بنیامین کو ٹھہرایا گیا تھا جعل السقایۃ فی رحل اخیہ ” یعنی ان کے خوردو توش کا سارا انتظام اس جگہ کردیا جہاں اپنے بھائی بنیامین کو ٹھہرا رکھا تھا ” رحل “ بمعنی ” شلیتہ “ یا بوری یا خور جی نہیں بلکہ وہ مقام ، ڈیرا اور جگہ ہے جہاں بنیامین کو رکھا گیا تھا اور اب اس کی نسبت اپنے بھائی کے ساتھ کر کے ساری داستان کا ماحصل بیان کردیا۔ ” السقایۃ “ خوردو نوش کے خاص اہتمام کے لئے بولا گیا اور ” رحل “ اس مقام کو کہا گیا جہاں بنیامین کو ٹھہرایا گیا تھا اس لئے اس داستان کا اس میں کوئی زکر موجود ہی نہیں ہے جو دوستوں نے بنالی ۔ ” رحل “ کے معنی ٹھہر نے کی جگہ عام ہے جیسے ازان میں پکار پکار کر کہا گیا الا صلوہ فی الرحال۔ الصلٰوۃ فی الرحال کیا بوریوں میں ، شلیتوں میں اور خرجیوں میں نماز پڑھنا مراد ہے یا اپنے پنے مقام پڑنا مراد ہے جہاں ٹھہرے ہوئے ہیں کہ رات اندھیری بھی ہے اور بارش و بادل کا عزر بھی ہے اس لئے ایک جگہ اکٹھے ہو کر نماز ادا کرنا مشکل ہے اس لئے اجازت دی گئی اور قانون صلٰوہ میں اتنی نرمی کردی کہ اپنے اپنے مقام پر ہی نماز ادا کرلو اور اس طرح ان کو اطلاع کردی گئی جو آج بھی عند الضرورۃ دی جاسکتی ہے۔ اس طرح یہ بات تو واضح ہوگئی کہ یوسف (علیہ السلام) اس پیمانہ کو نہیں رکھا تھا اور نہ ہی قرآن کریم میں اس کا کہیں ذکر ہے رہی یہ بات کہ وہ کیسے رکھا گیا ؟ کس نے رکھا ؟ ان کی اپیل کیوں نامنظور ہوئی ؟ اور وہ کیا تدبیر تھا جو اللہ نے یوسف (علیہ السلام) کو سکھائی ؟ تو ان ساری باتوں کا مع شے زائد اپنے وقت پر جو اب آئے گا یا ان شاء اللہ یہاں تو صرف یہ عرض کرنا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ جو بہتان لگایا گیا جس میں اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کرنے کی سعی کی گئی وہ سارا معاملہ ہی کچھ اور تھا ۔ قرآن کریم میں وہ بات نہیں جو بنا کر گھڑ کر اس میں رکھ دی گئی اور اس طرح کی بیسیوں باتیں اور بھی ہیں جو اپنے اپنے مقامات پر بیان ہوتی آرہی ہیں اور ان شاء اللہ ہوتی رہیں گی۔
186: نبی اعظم و آخر کو اطلاع اور آپ ﷺ کے توسط سے مسلمانوں کو تنبیہہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر خا ص فضل و احسان ہے کہ تم ان منافقین کی شر سے محفوظ چلے آرہے ہو ورنہ ان کی ایک جماعت نے تو قسم کھارکھی ہے کہ وہ آپ ﷺ راہ راست سے ہٹاکر ہی دم لیں گے لیکن وہ ذات علیم وخبیر ہے جس نے آپ ﷺ کو ان کی ساری سازشوں سے محفوظ رکھا اور تمہیں کتاب و حکمت کی جو روشنی عطا فرمائی ہے اس نے تم کو اس لغزش سے محفوظ رکھا ہے اس طرح مسلماتوں کو یہ تنبیہہ کردی کہ جو لوگ رسول ﷺ کو فاہ سے بےراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں کیا وہ تم کو معاف کریں گے ؟ پھر آپ ﷺ کا بچنا تو اس لئے بھی ہوا کہ آپ ﷺ کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں لیکن تم لو گوں کو تو یہ ایک ترلقمہ بنا سکتے ہیں اس لئے تم کو ان کی طرف سے ضرور چوکنا رہنا ہوگا اور پھر اس کی تدبیر بھی بتا دی کہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کتاب و حکمت کی جو نعمت تم کو ملی ہے اس کی سچے دل سے قدر کرو اور ان لوگوں کے چکموں کو قرآن کریم میں پڑھ کر یاد رکھو اور یہ جب بھی کوئی ایسا چکمہ دیں تو اس کو قبول نہ کرو بلکہ ان پر ثابت کردو کہ ایک مسلم اللہ کی دی ہوئی روشنی سے دیکھتا ہے اور اس کی بصیرت و بصارت بہت تیز ہوتی ہے۔
Ayah 4:113یہ صیاد اپنے دام میں خود ہی پھنس کر رہ جائیں گے آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے :
187: فرمایا ” یہ لوگ غلط راستہ پر نہیں ڈال رہے ہیں مگر اپنے آپ کو ‘ یہ تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ “ یہ گو یا اس حقیقت کا بیان ہے کہ راہ حق سے منحرف ہو کر چلنے والے اگر راہ حق پر چلنے والوں کو حق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو تو پھر وہ اپنی ساری دانش فروشیوں کے باوجود صرف اور صرف اپنے ہی کو گمراہ کرتے ہیں جادئہ حق پر سوار رہنے والوں کو وہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو اور دیکھتے جائو کہ یہ خود تباہی کے کس کھڈ میں جا کر گرتے ہیں ۔ اس لئے جو کنواں کھو دتا ہے اس میں گرتا ہے ۔ اب ذرا آیت 105 سے 113 تک کا مضمون بطور خلا صہ اپنی نظر میں رکھو اور اس سے راہنمائی حاصل کرتے رہو۔
1۔ مسلمان قاضی کو چاہئے کہ ہر حال میں حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے ، اس خیال سے کہ ایک فریق مسلمان اور دوسرا غیر مسلم ہے تو مسلمان فریق کی بھی طرفرداری نہیں کرنی چاہئے ۔
ب۔ ہمیشہ اللہ سے مددطلب کرتا رہے کیونکہ قضاء کا معاملہ نہایت نازک ہے ایسا نہ ہو کہ طبیعت کے میلان سے کوئی لغزش سرزد ہوجائے ۔
ج۔ قاضی کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے کسی فریق کی وکا لت کی بو آئے۔
د۔ مسلمانوں کو نہیں چاہئے کہ ہم مذہب ہونے کی وجہ سے یا اپنے خاندان وقبیلہ میں سے ہونے کی وجہ سے کسی مجرم کی حمایت کریں اور سازش کر کے جتھا جندی کرلیں ۔ دنیا کی نگاہیں نہ دیکھتی ہوں لیکن اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ کون مجرم ہے ، کون نہیں ہے ؟
ہ۔ جو برائی کرتا ہے اس کی برائی اس پر ہے ۔ پس یہ خیال مت کر و کہ یہ شخص ہمارا ہم مذہب ، ہماری فکر کا ، ہماری گروہ بندی کا ہے یا ہمارا رشتہ دار ہے ۔ اس کا جرم ثابت ہوگیا تو ہم بھی اس کی زد میں آئیں گے اور لوگوں کی طعن وتشنیع کا نشانہ بنیں گے۔
و۔ خود قصد کرنا اور اسے دوسرے کے سر تھوپ دینا ایک معصیت کے بعد دوسری معصیت کا ارتکاب کرنا ہے ۔ تم دنیا کی عدالت کو دھوکا دے دو لیکن عدالت الہٰی کو دھوکا دے دو لیکن عدالت الہٰی کو کیونکر دھوکا دے سکتے ہو ؟
ز۔ اگر اللہ کی عدالت کا فضل و رحمت آپ ﷺ کے شامل نہ ہوتی تو یہ لوگ آپ ﷺ کو غلطی میں مبتلا کرنے کے لئے کوشش کرچکے تھے لیکن اللہ تعالیٰکی وحی نے آپ ﷺ کو جادئہ حق پر قائم رکھا جو کچھ اللہ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا اس کو اس سے پہلے آپ ﷺ نہیں جانتے تھے۔ وعلمک مالم تکن تعلم۔
ح۔ آپ ﷺ کو جو کچھ عطا ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کسی انسان کی طرف سے کچھ نہ تھا اس لئے آپ ﷺ کا علم دنیا کے دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں کامل اور حقیقی تھا ظنی نہیں تھا اور آپ ﷺ کے مقابلہ میں دنیا کے دوسرے انسانوں کے پاس جتنا علم تھا یا ہے سب ظنی ہے۔ لنک افسوس کہ لوگوں نے آپ ﷺ کے علم حقیقی کی کیا قدر کی کہ آج علوم ظنی کے پیچھے اندھے ہوئے پھرتے ہیں لیکن علم حقیقی جو کائنات کے نظام کے عین مطابق ہے اس کو چھو کر بھی نہ دیکھا۔
Ayah 4:114پوشیدہ مشورے کرنے والوں کے مشوروں میں بھلائی کم ہی ہوا کرتی ہے
188: نجویٰ دراصل نجاۃ ہی سے ہے اور یہ خفیہ طور پر مشورہ کرنے کے معنوں میں بولا جاتا ہے ۔ نجویٰ فی نفسہ بری چیز نہیں ۔ وہ مزموم کیوں ہیَ ؟ ہر نجویٰ مذموم بھی نہیں ہاں ! منافقین جب کوئی خفیہ مشورہ کریں گے تو خود وہ ان کے مزاج کے باعث برا ہوگا کیونکہ ان کی باتوں میں اکثر خیر نہیں ہوتی جب وہ کوئی سوچ سوچیں گے کوئی مشورہ کریں گے تو اس میں بھلائی کیونکر ہوگی ؟ اور ایسامشورہ مسلمانوں اور خصوصا آپ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ ہی سے چھپ کر آخر کیسے ہوگا ؟ کیا وہ لوگ آپ ﷺ سے زیادہ زیرک ہیں کہ آپ ﷺ سے پوشیدہ کوئی بات کریں گے ۔ اس لئے فرمایا ان کے مشوروں میں خیر کم ہی ہوتی ہے مگر ہاں ! جو وہ بات صدقہ و خیرات کی کریں کیونکہ کبھی جھوٹ کو چھپانے کے لئے سچ بھی بولنا پڑتا ہے لیکن یہ اسلام کا کمال ہے کہ وہ ہر اس بات کو سچ ماننے کے لئے تیار ہے جو فی الحقیقت سچ ہو ہاں وہ کہے گا تو یہ کہے گا کہ ان لوگوں نے بات تو سچی کہی ہے لیکن سچ بولنے میں بھی کسی دائو پر ہیں اور وہ دائو ان کا کبھی ظاہر بھی کردیتا ہے اور کبھی یہ کہتا ہے کہ بات تو انہوں نے سچ کہی ہے لیکن ہیں وہ جھوٹے کیونکہ انہوں نے یہ سچ محض جھوٹکو چھپانے کے لئے بولا ہے۔ بات ہر رہی تھی کہ نجوی تھی کہ نجوی بذاتہ بری چیز نہیں ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اگر وہ بری چیز ہوتی تو اسلام مسلمانوں کو اس سے منع فرما دیتا حالانکہ اس نے فی نفسہ نجویٰ سے منع نہیں فرمایا۔ چناچہ ارشاد الہٰی ہے :
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی باتیں نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تم کو حشر میں پیش ہونا ہے ۔ “ (المجادلہ 58 : 9)
فرمایا کہ یاد رکھو کہ برا نجویٰ وہ ہے جو شیطان سے ہو کیونکہ شیطان کے ہاں خیر نام کی شے ہی نہیں تو اس میں خیر کیو نکر ہوگی ؟ چناچہ ارشاد فرمایا :
1۔ مسلمانوں سیچھپ کر سر گوشیاں تو شیطان کا کام ہے کیونکہ وہ کانا پھوسی کا عادی ہے اور وہ اس سے باز کیوں کر آسکتا ہے اور وہ کانا پھوسی جو کرتا ہے تو سوائے اس کے اور کوئی بات نہیں کہ وہ ان کور نجیدہ خاطر کرنا چاہتا ہے حالانکہ بےاذن الٰہی وہ کسی کا بھی کچھ نہیں کرسکتا اور مومن تو ہوتے ہی وہ ہیں جو ہر حال میں اللہ پر بھر وسہ کرنے والے ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا غلط بات کو دل میں جگہ دے ہی نہیں سکتا۔ “ (المجادلہ 58 : 10) فرمایا شیطان کے ساتھیوں کی بات تو اس طرح ہے کہ
” ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے نصیحت کی باتیں پے ہم آتی رہیں مگر کبھی ایسا نہ ہوا کہ انہوں نے ان کو جی لگا کر سنا ہو ۔ وہ سنتے ہیں مگر اس طرح کہ گویا کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں اور دل ہیں کہ یک غافل ہیں اور دیکھو ان ظلم کرنے والوں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں ” یہ آدمی اس کے سوا کیا ہے کہ ہمارے ہی طرح کا ایک آدمی ہے ؟ پھر کیا جان بوجھ کر ایسی جگہ آتے ہو جہاں جادو کے سوا اور کچھ ہے ہی نہیں ؟ پیغمبرنے فرمایا کہ آسمان و زمین میں جو بات بھی کہی جاتی ہے خواہ پوشیدہ کہی یا اعلانیہ میرے پروردگار کو سب معلوم ہے وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الانبیاء 21 : 2 ‘ 3)
فرمایا ” جو کوئی اللہ کی خوشنودی کی طلب میں اس طرح کے کام کرتا ہے تو ہم اسے بڑا اجر عطا فرمائیں گے ۔ “ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو جب تم فسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پائو تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ‘ اگر تم ایسا نہ کرو یعنی نہ کرسکو تو اللہ نے تم کو معاف کردیا ‘ ہاں ! تم نماز قائم کرتے رہو ‘ زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “ (المجادلہ 58 : 12 ‘ 13)
اس سے وقتی پابندی کا جواز بھی مل گیا اور یہ بھیمعلوم ہوگیا کہ مالدار اور غریب لوگوں کے درمیان یہ فرق ملحوظ رکھا جاسکتا ہے کہ مال والا اپنی وسعت مال کے مطابق جو خرچ کرے گا غریب لوگوں پر ضروری نہیں اس لئے کم آمدنی والوں کے لئے چھوٹ دی جائے اور مال والوں کو کوئی چھوٹ نہ دی جائے تو جائز ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اس کے برعکس سمجھ لیا گیا ہے اور ایسے قانون ملک میں نافذ ہیں کی غریب آدمی پستا رہے اور مالدار عیش و آرام لیں اس لئے کہ آخر امالدار ہیں ؟
Ayah 4:115راہ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد جو گمراہی کی طرف بڑھیں تو ہمارا قانون ان کو نہیں روکتا :
189: ایک واقعہ تو وہی ہے جو پیچھے گزر چکا کہ جب ” بشیر “ یا ” اطعمہ “ جو نام بھی اس کا تھا جو نام کا مسلمان تھا اور جس نے چوری کی تھی اور الزام ایک یہودی پر لگا دیا تھا جب نبی اعظم و اخر ﷺ نے فیصلہ اس کے خلاف صادر فرمایا تو وہ مدینہ سے بھاگ کر مشرکین مکہ سے جا ملا (ترمذی ، حاکم اور ابن سعد) اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” جس شخص پر دین حق کی راہ واضح ہوجائے اور پھر وہ دیدہ و دانستہ اس سے پھرجائے تو اس نے خود اپنی پسند سے سعادت کی راہ چھوڑکر شقاوت کی راہ پسند کرلی اور جیسی کچھ راہ اس نے پسند کی ضروری ہے کہ ویسا ہی نتیجہ بھی اسے پیش آئے۔ “ اس لئے فرمایا کہ ہم اسے اس طرف لے جائیں گے جس طرف اس نے جانا پسند کیا یعنی ہم نے انسان کی سعادت وشقاوت کے لئے ایسا ہی قانون ٹھہرا دیا ہے کہ جو جیسی راہ پسند کرتا ویسا ہی نتیجہ اسے پیش آتا ہے اور اس نتیجہ پر وہ پہنچا دیاجاتا ہے۔ “ جس نے جنت کی راہ اختیار کی اسے جنت میں داخل کیا جائے گا جس نے اپنے لئے دوزخ پسند کی یعنی دوزخیوں کے سے کام کیے اس کے لئے یقینا دوزخ ہوگی۔ یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کر کے کوئی اس خوش فہمی میں ہو کہ وہ جنت میں چلا جائے گا تو یقینا سوائے خوش فہمی کے اس کو کچھ حاصل نہ ہوگا اور اسے وہ مار پڑے گی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے با غیوں کے لئے مقرر کردی گئی ہے اور کوئی نہیں جو اس کو اس سے بچا لے۔
” اے پیغمبر اسلام ! اس گروہ میں سے جس نے زبان سے کہا کہ ہم ایمان لائے مگر اس کے دل مومن نہیں ہوئے ، اسیی گروہ میں سے جو یہودی ہوئے جو لوگ کفر کے شیوے میں تیز گام ہوئے تو ان کی حالت تمہیں غمگین نہ کرے ، یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے ہیں اور اس کے لئے کان لگانے والے ہیں کہ ایک دوسرے گروہ کو جو تمہارے پاس نہیں آیا خبریں پہنچائیں یہ تو رات کے کلموں کو باوجودیکہ ان کا صحیح محل ثا بت ہوچکا ہے صحیح محل سے پھیر دیتے ہیں اور ان کا مطلب کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں یہ لوگوں سے کہتے ہیں جو کچھ ہم نے تورات کا حکم بتلایا اگر یہی حکم دیا جائے تو قبول کرلو نہ دیا جائے تو اس سے اجتناب کرو اے پیغمبر اسلام ! جن لوگوں کی شقاوت اس حد تک پہنچ چکی ہے وہ کبھی ہدایت پانے والے نہیں تم ان کے لئے بیکار کو غم نہ کھائو جس کسی کے لئے اللہ نے چاہا کہ آزمائش میں پڑے تو تم اس کے لئے اللہ سے کچھ نہیں پاسکتے یقین کرو یہی لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کو پاک کرنا نہیں چاہتا ‘ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بہت بڑا عذاب موجود ہے۔ “ (المائدہ 5 : 14) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر السلام ! ان لوگوں نے تو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی کہ تجھے فریب دے کر اس کلام کی تبلیغ سے باز رکھیں جو ہم نے بذریعہ وحی نازل کیا ہے اور مقصود انکا یہ تھا کہ اس کلام کی جگہ دوسری باتیں کہہ کر تو ہم پر افتراء پردازی کرے اور پھر اس سے خوش ہو کر یہ تجھے اپنا دوست بنا لیں اور اگر راہ حق میں ہم نے تجھے جما دیا ہوتا تو تو ضرور ان کی طرف کچھ نہ کچھ میلان کر ہی بیٹھتا اور اس صورت میں ضرور ایسا ہوتا کہ ہم تجھے زندگی کا بھی دوہرا عذاب چکھاتے اور موت کا بھی اور پھر تجھے ہمارے مقابلہ میں کوئی مدد گار نہ ملتا۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 73 ، 75)
یہ ” سبیل المومنین “ کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس سے سمجھ لیا گیا ہے کہ عرف عام میں مومن کہلانے والے جو شروع کردیں وہی ” سبیل المومنین “ ہے حالانکہ ہے یہ بات بالکل غلط اور مہمل ہے اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی اور عطا کردہ راہ ہے وہی مومنوں کی راہ ہے یعنی ” سبیل المومنین “ ہے اور اس راہ سے جو بھٹک گیا وہ یقینا بد نصیب ہوگیا کیونکہ اللہ کی رحمت و توفیق نے اس کی دستگیری چھوڑ دی اور اس طرح وہ شیطان کے ہاتھ میں محض ایک کھلونا بن کر رہ گای اور وہ جسے چاہتا ہے اسے تگنی کا ناچ نچاتا ہے۔
Ayah 4:116شرک پر مرنے والے کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوتا اس لئے وہ راہ ہدایت سے بہت دور نکل جاتا ہے
190: یہی آیت اس سورة النساء کی آیت 48 بھی ہے اس لئے اس کی تشریح کے لئے آیت 48 ملاحظہ کریں وہاں فرمایا تھا کہ ” جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ گناہ عظیم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ “ اور اس جگہ فرمایا جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا تو وہ بھٹک کر سیدھے راستے سے بہت دور جا پڑا۔ “ بات ایک ہی ہے لیکن وہاں ارشاد فرمایا تھا شرک بہت بڑا گنا ہ ہے جو قابل معافی نہیں ہے اور یہاں فرمایا کہ وہ قابل معافی اس لئے نہیں ہے کہ وہ یعنی مشرک گمراہی میں اس قدر دور نکل جاتا کہ وہاں سے واپس آنا مشکل ہوتا ہے۔ گویا سرطان کا پھوڑا ہے جس کی جڑیں سارے جسم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا انجام ہلاکت ہے آج ہوئی یا کل۔ اس کے باوجود السلام نے اسکو قابل علاج سمجھا اور ان کا علاج کیا ہے اور اللہ نے ان کو شفا بھی عطا کی ہے ۔ جان لینا چاہئے کہ شرک قابل معافی نہیں لیکن کب ؟ جب مشرک شرک پر مر گیا جب تک وہ زندہ ہے قابل علاج ہے یعنی اگر وہ شرک سے تائب سے ہوجائے اور توحید کو دل و جان سے تسلیم کرلے تو اس کی توبہ یقینا قبول ہوگی۔ ہاں اس سے جو بات معلوم ہوتی ہے ہو یہ ہے کہ مومن گنہگار جو اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر مر گیا اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو معاف فرمادے یہ اسکی رحمت و بخشش ہے اس لئے اس کی معافی کی امید کی جاسکتی ہے لیکن مشرک جب بغیر توبہ مر گیا تو اس کی بخشش کی کوئی امکانی صورت باقی نہ رہی کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کا اعلان عام ہے اور یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا اور ہونے دیتا ہے۔
Ayah 4:117مشرکین مکہ سوا جن کو اپنا حاجت روا جانتے تھے ان کو ” اناث “ کہتے تھے :
191: اناث کیا ہے ؟ اناث انثی کی جمع ہے۔ یہ ارشاد اس لئے فرمایا کہ مشرکن مکہ جن ہستیوں کو اللہ کا شریک اور ساجھی ٹھہراتے تھے ان کے نام انہوں نے عورتوں ہی کے سے رکھے تھے جیسے لات ، مناۃ اور عزٰی اور روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ہر ایک قبیلہ کا ایک بت تھا جسے وہ انثی بن فلاں کہتے تھے کیونکہ اناث میں قوت منفعلہ یعنی دوسرے کا اثر قبول کرنے کی قوت تو ہوتی ہے لیکن کسی میں اثر کرنے کی قوت نہیں ہوتی اگرچہ علامہ بیضاوی کا یہ ارشاد اس وقت تو صحیح ہوگا جب وہ اس دنیا میں موجود تھے لیکن اگر وہ آج ہوتے تو شاید ایسا نہ کہتے کیونکہ اس وقت حالات بدل چکے ہیں اور ” اناث “ یعنی عورتوں میں اثر پیدا کرنے کی قوت موجود ہے جس کا زمانہ شاہد ہے ۔ اس لئے ہم پہلی وجہ کو درست قرار دیتے ہیں لیکن دوسری کو نہیں۔ اور ہم اپنے خیال میں دوسری وجہ اس کی یہ قرار دیتے ہیں کہ مشرکین مکہ فرشتوں یعنی نیکی کی ان قوتوں کی پرستش بھی کرتے تھے جن کو وہ بزعم خویش ” اناث “ ماتنے اور تسلیم کرتے تھے کیونکہ قرآن کریم نے جگہ جگہ ان کے اس شرک کو بیان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ مشرکین مکہ ” ملائکہ “ کو اللہ کی ” بیٹیاں “ قرارد یتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے اس لئے کہ ان کے ہاں لڑکیوں کی عزت بنسبت لڑکوں کے زیادہ سمجھی جاتی تھی وہ اس طرح کہ اگر کسی آدمی کی لڑکی کسی دوسرے کے گھر کسی مقصد کے لئے چلی جاتی تو ہ اس مقصد کو پورا کرنا لازم و ضروری وسمجھتے اور یہ کہتے کہ فلاں کی لڑکی ہمارے گھر آگئی اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہہ اس کی بات نہ مانی جائے اور یہ بھی کہ اگر کسی شخص کے ہاں اس کی لڑکی کو لایا جائے وہ وہ اپنی لڑکی کی بات لینے پر مجبور ہوتا کہ میری لڑکی کو وہ میرے گھر لے آئے اب ان کی بات رد نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس لڑکی بات رد نہیں ہوگی۔ پھر وہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں اس لئے قرار دیتے کہ اگر اللہ کے ہاں اللہ ہی کی لڑکیاں ہماری سفارش کریں گی تو اللہ ان کی سفارش رد نہیں کرے گا ۔ جب ایک انسا اپنی لڑکی کی سفارش کو رد نہیں کرتا تو اللہ اپنی لڑکیوں کی سفارش کیسے رد کرے گا ؟ یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ قرآن کریم میں ان کا یہ نظریہ بیان کیا گیا ہے چناچہ ارشاد الٰہی ہے :
” ان الذین لایومنون بالاخرۃ لیسمون الملئکۃ تسمیۃ الانثیو وماعلم ان یتبعون الالظن وان الظن لایغنی من الحق شئا (النجم 53 : 47 ‘ 48)
” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالانکہ اس معاملہ میں ان کو کوئی علم حاصل نہیں ہے ، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور یہ اللہ کی بیٹیاں ٹھہراتے ہیں ، اس کے لیے پاکیزگی ہو ، بھلا اللہ کیلئے بیٹیاں کیوں ؟ پھر خودان کے لئے کیا ہے ؟ وہ جس کے لئے یہ بڑے خواہش مند ہیں یعنی بیٹے۔ ان کا اپناحال یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے جب کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے مارے رنج کے اس کا چہرہ کا لاپڑ جاتا ہے اور وہ غم میں ڈوب جاتا ہے گویا جس بات کی اسے خوشخبری دی گئی ہے وہ ایسی برائی کی بات ہوئی کہ وہ شرم کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ ذلت قبول کر کے بیٹی کو لے رہے یا مٹی کے نیچے اس کو زندہ ہی گاڑدے۔ افسوس ان پر کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ “ (النحل 16 : 57 تا 59) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” پھر ذرا ان لوگوں سے پوچھو کیا یہ بات تم کو بھلی لگتی ہے کہ تمہارے رب کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لئے ہوں بیٹے۔ کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنایا ہے ؟ اور یہ لوگ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟ خوب جان لو کہ یہ لوگ اپنی من گھڑت بات کہہ رہے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور فی الوقع یہ جھو ٹے ہیں۔ کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لئے پسند کرلی ؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تم کیسے حکم لگا رہے ہو ؟۔ “ (الصفت 37 : 149 تا 152) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ؟ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کہ یہ لوگ اس خدائے رحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث وحجت میں اپنا مدعاپوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی ؟ انہوں نے فرشتوں کو اللہ رحمن ورحیم کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے لیا ہے۔ کیا ان کے جسم کے ساخت انہوں نے دیکھی ہے ؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی گئی ہے اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہوگی۔ “ (الزخر 43 : 16 تا 19) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اب ذرابتائو تم نے اس لات اور اس عزیٰ اور تیسری ایک منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا ہے ؟ کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ؟ یہ بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے ! دراصل کچھ یہ نہیں ہیں مگر چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔ کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لئے وہی حق ہے ؟ “ (النجم 53 : 19 تا 24)
غیر اللہ کو پکار کر وہ شیطان مردود کے تا بع ہوگئے کیونکہ یہ فرمان اسی کا ہے :
192: یعنی مشرکین مکہ ہوں یا کوئی مشرک خوہ اس زمانہ کا وہ یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ جس کو وہ پکارتا ہے اس کے پکارنے کا حکم اس پکارے جانے والے نے اس کو دیا ۔ پھر غیر اللہ کو کیوں پکارتا ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ شیطان ہی نے اس کے دل میں یہ بات بٹھا دی ۔ شیطان اور دل میں بات بٹھانے والا ؟ ہاں ہاں بالکل اس لئے کہ اس طرح کے وساوس شیطان ہی ڈالا کرتا ہے چناچہ ارشا الٰہی ہے کہ الذی یوسوس فی صدور الناس ” وہ لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ “ دل میں بات ڈالی جانے والی اگر اچھی اور نیکی کی ہے تو ہم اس کی نسبت اللہ کی طرف کریں گے اور بری ہے تو اس کی نسبت شیطان کی طرف۔ دل میں ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جو خیال ورادہ بھی انسان کے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ اچھا ہوگا یا برا۔ اگر اچھا ہے تو ” من اللہ “ ہے اور برا ہے تو ” من ال شیطان “ ہے غیر اللہ کی عبادت جب بھی ہوگی اور جس کی بھی ہوگی وہ دراصل شیطان ہی کی ہوگی ؟ اس لئے اس طرف راہنمائی کرنے والا شیطان ہی ہوگا۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے کہ :
الم عھد الیکم یٰبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن انہ لکم عدومبین۔ واناعبدونی ھذا صراط مستقیم۔ (یاسین 36 : 60 ‘ 61)
” اے آدم زاد ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی شیطان کی بندگی نہ کرو ‘ وہ تمہارا کھلادشمن ہے ‘ صرف اور صرف میری ہی بندگی کرو یہ سیدھا راستہ ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اس وقت کا ذکر کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ ! تو کیوں ایک چیز کی پوجا کرتا ہے جو نہ سنتی ہے ، نہ دیکھتی ہے ، نہ تیرے کسی کام آسکتی ہے ؟ اے میرے ابو ! میں سچ کہا ہوں کہ علم کی ایک روشنی مجھے مل گئی ہے جو تجھے نہیں ملی ، پس میرے پھے م چل ، میں تجھے سیدھی راہ دکھائوں گا ، اے میرے باپ ! شیطان کی بندگی نہ کر شیطان تو خدائے رحمن کا نافرمان ہوچکا۔ اے میرے ابو ! میں ڈرتا ہوں کہیں ایسانہ ہو کہ خدائے رحمن کی طرف سے تجھ کو عذاب آلگے اور تو شیطان کا ساتھی ہوجائے۔ “ (مریم 19 : 43 تا 45)
یہ جو کہا جاتا ہے کہ مشرکین مکہ اور دوسرے مشرک بھی بتوں کی پوجا کرتے تھے اس کا رد قرآن کریم نے فرمایا ہے۔ ہم اس سے پہلے کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ آج تک جب سے دنیا میں شفک پیدا ہوا کسی نے بھی بتوں کی پرستش نہیں کی۔ قبروں کی پرستش نہیں کی۔ پرستش ہمیشہ صاحب بت ، صاحب قبر اور صاحب درخت ہی کی گئی ہے۔ یہ لات ، منات اور عزیٰ کیا تھے ؟ انسان تھے ، بدھ اور رام چندر کیا تھے ؟ انسان تھے۔ علی ہجویری اور صابر کلیری کیا تھے ؟ انسان تھے۔ مکہ والوں نے ان نیک انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے بت تراشے تو یہ بت کیا ہوئے ؟ ان نیک لوگوں کی یادگارکا ایک نشان تھے۔ بدھ اور رام چندر کے بھی ان کی یادگاری کا ایک نشان تھا اور بالکل اسی طرح یہ قبریں اور روضے بھی ان نیک لوگوں کی یادگاریں ہیں۔ پھر پرستش ان یادگاروں کی ہوئی ؟ ہرگز نہیں پرستش ہمیشہ ان یادگار والوں کی ہوئی اور ان کی پرستش کچھ انسانوں کے وہم اور ظن و گمان کی پیداوار ہے ان لوگوں نے کبھی اپنی پرستش کا نہیں کہا بلکہ بعد میں آنے والوں نے ان کی عقیدت کی بناء پر ان کے بت ، قبریں اور شبیہیں بنالیں اور جوں جوں زمانہ نے ترقی کی اب مقبرے اور تصویروں نے ان کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس شرک کی جڑیں اتنی گہری چلی گئیں اور کچھ لوگوں نے اس قدر ان کی آبیاری کی کہ اب ان کا اکھاڑنا پچھلے زمانہ سے بھی زیادہ مشکل ہوگیا۔
مختصر یہ کہ اس طرح کی ساری پرستش خواہ کسی کی ہو نبی ، ولی ، پیر ، مرشد اور فقیر یا کسی اور تارو گرو کی بہر حال اس کو شیطان ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا ۔ یہ صرف ہمارے رائے ہی نہیں ملکہ شروع سے اس کی تشریح اس طرح ہوتی آئی ہے آئیے امام رازی (رح) سے دریافت کریں کہ وہ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں لاتعبدوالشیطن کے معنی ہیں لاتطیعوہ کہ اس کی اطاعت نہ کرو ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو صرف سجدہ کرنا ہی ممنوع نہیں ہے کہ اس کی اطاعت کرنا اور اس کے حکم کی تابعداری کرنا بھی منع ہے اس لئے اس جگہ اطاعت عبادت ہے۔ “ اس کے بعد امام صاحب (رح) نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر عبادت بمعنی اطاعت ہے تو کیا اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامرمنکم میں ہم کو رسول اور امراء کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ؟ پھر اس کا جواب دیتے ہیں کہ ان کی اطاعت جب کہ اللہ کے حکم سے ہو تو وہ اللہ ہی کی عبادت اور اس کی اطاعت ہوگی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ ملائکہ نے اللہ کے حکم سے آدم کو بطور قبلہ تسلیم کرتے ہوئے سجدہ کیا اور یہ سجدہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ تھی۔ امراء کی اطاعت ان کی عبادت صرف اس صورت میں ہوگی جب کہ ایسے معاملات میں ان کی اطاعت کی جائے جس میں اللہ نے ان کی اطاعت کا اذن نہیں دیا ہے۔ پھر فرماتے ہیں اگر کوئی شخص تمہارے سامنے آئے اور تم کو کسی چیز کا حکم دے تو دیکھو کہ اس کا یہ حکم اللہ کے حکم کے موافق ہے یا نہیں ؟ موافق نہ ہو تو شیطان اس شخص کے ساتھ ہے اگر اس حالت میں تم نے اس کی اطاعت کی تو تم نے اس کی اور اس شیطان کی عبادت کی۔ اس طرح اگر تمہارا نفس تمہیں کسی کام کے کرنے پر اکسائے تو دیکھو کہ شرع کی رو سے وہ کام کرنے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ اجازت نہ وہ تو تمہارا نفس خود شیطان ہے یا شیطان اس کے ساتھ ہے۔ اگر تم نے اس کی پیروی کی تو تم اس کی عبادت کے مرتکب ہوئے۔ پھر وہ فرماتے ہیں مگر شیطان کی عبادت کے مراتب مختلف ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک کام کرتا ہے اور اس کے اعضاء کے ساتھ اس کی زبان بھی اس کی موافقت کرتی ہے اور دل بھی اس میں شریک ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اعضاء وجوارح سے تو آدمی ایک کام کرتا ہے مگر دل اور زبان اس کام میں شریک نہیں ہوتے ۔ بعض لوگ ایک گناہ کا ارتکات اس حال میں کرتے ہیں کہ دل ان کا اس پر راضی نہیں ہوتا اور زبان ان کی اللہ سیمغفرت کر رہی ہوتی ہے اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ برا کام کر رہے ہیں۔ یہ محض ظاہری اعضاء سے شیطان کی عبادت ہے۔ کچھ اور لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دل سے جرم کرتے ہیں اور زبان سے بھی اپنے اس فعل پر خوشی و اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔۔ یہ ظاہر و باطن دونوں میں شیطان کے عابد ہیں۔ “ (تفسیر کبیرج 7 ص 103 ، 104) ۔ “ بلاشبہ اس وقت بھی دونوں قسم کے شیطان کے عابد موجود ہیں اگرچہ پہلی قسم سے دوسری قسم کے لوگ زیادہ ہیں۔ “