Ayah 4:172مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے سے کبھی انکار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی فرشتوں کو
272: دنیا میں جن کی کثرت سے پرستش کی گئی ان ہی میں سے مسیح (علیہ السلام) بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں بھی جن کو فرشتہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ حالانکہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ تعلیم تھی اور نہ ہی کسی فرشتہ نے اپنی عبادت کا آکر لوگوں کو کہا ہے لوگوں کی اپنی ہی وہم پرستی کے سبب یہ ہوا اور اب بھی جو کچھ ہو رہا ہے لوگوں ہی کی وہم پرستی سے ہورہا ہے۔ فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعتراف اور اپنے بندہ ہونے کا اعتراف باعث ہزار فخرو نازش ہے وہ بھلا کیوں اس کو عارسمجھیں اور حقیقۃً یہی انسان کی سب سے بڑی سعادت ہے کہ اپنے معبود حقیق کو پہچان لے اور اپنے گلے میں اس کی بندگی کا طوق ڈال کر اس کی جناب میں حاضر ہو۔ اناجیل میں جہاں سے شمار تحریف ہوچکی ہے۔ وہاں اب بھی مسیح (علیہ السلام) کی ہ تعلم موجود ہے ” یسوع نے اس سے کہا اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خدا وند اپنے کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ “ (متی 4:10) اور قرآن کریم میں ہے کہ ” ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا۔ جس پر ہم نے انعام کیا۔ “ (الز خرف 43:57) مسیح (علیہ السلام) کو نصاریٰ نے اللہ کا بیٹا کہا اس سے مراد ان کی کیا تھی اس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ نصاریٰ کا جو جی میں آتا ہو کہہ لیتے اس کو اپنا عقیدہ قرار دے لیتے جیسے انہوں نے ملک صدقے متعلق اس سے بھی عجیب کہا لیکن اس کے باوجود اس کو نہ اللہ کہا نہ اللہ کا بیٹا اور بیان اس طرح دیا کہ وہ گویا اس کو ازلی ابدی خدا قرار دے رہے ہیں ۔ چناچہ عبرانیوں میں ہے کہ
” اور یہ ملک صدق سالم کا بادشاہ خدا تعالیٰ کا کاہن ہمیشہ کاہن رہتا تھا۔ “ اس کو ابراہیم نے وہ ی کی دی ۔ یہ اول تو اپنے نام کے معنی موافق کے راست بازی کا بادشاہ ہے اور پھر سالم یعنی صلح کا بادشاہ۔ یہ بےباپ ، بےماں ، بےنسب نامہ ہے نہ اس کی عمر شروع نہ زندگی کا آخر بلکہ خدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا۔ “ (عبرانیوں 7:1 ، 3) یہ جس کو چاہیں جس صفت سے نوازیں ، کیوں ؟ اس لئے انہوں نے قوم سے یہ منوالیا ہے کہ اللہ کا کلام عقل سے نہیں سمجھا جاسکتا اور جو عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اللہ سے کفر کا مرتکب ہوتا ہے ۔ پھر قوم سے اسی نظریہ کو قبول کرلیا اور جب قوم کو بھی وہ نظریہ قبول ہے اور عقل سے کام لینا بھی حرام ہے تو اب جو چاہیں وہ بیان کریں ان کو اختیار ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم نے بھی انہی کا دیا ہوا یہ اصول کس طرح قبول کرلیا اور قرآن و حدیث میں یہ کہاں تحریر ہے جو ہماری زبانوں پر عام ہے کہ ” دین عقل سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ “
چونکہ مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ نصاریٰ نے بھی اور دوسری قوموں نے بھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے ذمہ بہت کام لگائے ہوئے تھے قریش مکہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی بعثت سے پہلے ایسا خیال رکھتے تھے اور فرشتوں کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیتے تھے اس لئے ساتھ فرشتوں کا ذکر کردیا اور فرمایا کہ ” مسیح کو ہرگز اس سے عار نہیں کہ وہ خدا کا بندہ سمجھا جائے اور نہ ہی خدا کے مقرب فرشتوں کو اس سے ننگ و عار ہے اور جو کوئی خدا کی بندگی میں ننگ وعار سمجھے اور گھمنڈ کرے تو وہ وقت دور نہیں کہ خدا سب کو اپنے حضور جمع کرے گا۔ “ بات کا فیصلہ تو اس وقت یقینا ہوجائے گا لیکن ایسا ہونا ان کے حق میں مفید تو نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ان کو نہ دوبارہ اس جگہ آنا ہے اور اس وقت معافی مانگنا ان کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اور جو علم فائدہ مند ثابت نہ ہو اس میں اور جہالت میں کیا فرق رہا ؟
” استنکف “ اور ” استکبر “ دونوں کا مادہ ن کاور ک ب ر لیکن معنی کے لحاظ سے ایک ہی ہیں یعنی ازراہ نخوت و غرور کسی چیز سے رک جانا اور چونکہ یہاں ذکر مسیح (علیہ السلام) کا تھا ورنہ کسی نبی کو بھی اللہ کا بندہ ہونے سے ہرگز ہرگز انکار نہیں بلکہ فخر ہے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ سے پوچھا ” بما اشرفک “ اے سراپا ستائش و خوبی ! مین آج آپ ﷺ کو کس اعزاز سے مشرف کر دوں تو نبی رحمت ﷺ فرمایا ” بنسبتی الیک بالعبودیہ “ مجھے اپنا بندہ ہونے کا شرف اور کوئی نہیں۔ افسوس ہے کہ لوگوں نے اس انسان کی شرف کیا سمجھا جس سے بڑا شرف کوئی اور موجود ہی نہ تھا اور انبیاء کرام کے انسان یا بشر ہونے سے انکار کر کے کس قدر توہین کے وہ مرتکب ہوئے اور کس طرح انہوں نے انبیاء کرام کو ان کے اصلی مرتبہ سے گرادیا اور اس غلطی کے مرتکب ہوئے جس کے اس پہلے نصاریٰ مرتکب ہوچکے تھے۔
Ayah 4:173جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ وہ انعام بھی پائیں گے
273: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی نیکی بھی ضائع نہیں کی جائے گی۔ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی آدمی اللہ کی رضا کے لئی ایک کام کرے اور پھر اس کے اجر سے محروم رہے ؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں ! اپنی نیکیوں کو خود کوئی برباد کر جائے تو وہ دوسری بات ہے ۔ نیکیاں برباد کسی طرح ہوتی ہیں ؟ اس کی تشریح پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے۔ مثلاً روپیہ پیسہ خرچ کیا لیکن دکھاوے کے لئے پیسہ خرچ ہو گای اور دکھاوا بھی ہوگا اس لئے کہ جن کو دیکھنے کے لئے بلایا گیا تھا وہ خوب داد دے گئے۔ اس طرح بالا شبہ اس کا صلہ اس نے حاصل کرلیا تاہم اس کی وہ نیکی اگر اس کو دکھا دی جائے او اس کا اجر بھی اور پھر اس اجر کی اضاعت بھی تو اس کے لئے کیا ہوگا ؟ آخر افسوس ہی تو ہوگا لیکن اس افسوس کا باعث کون ہوا ؟ وہ خود ہی تو ہوا گویا نیکی کی اور اس کو برباد کردیا۔
جن لوگوں نے انکار وتکبر کی راہ اختیار کی ان کے لئے عذاب الٰہی بھی تیار کھڑا ہے
274: فرمایا جو لوگ گھمنڈ میں آکر مری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ضرور وہ ذلیل و خوار وہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر ان کے اس داخلہ کا بھی ذکر فرمایا گیا کہ ان کے جانے سے پہلے جہنم دروازے کھلے نہ ہوں گے بلکہ بند ہوں گے جس طرح جیل کے دروازے بند ہی رہتے ہیں اور پھر جیل میں داخل کرنے والے کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے اور اندر داخل کر کے دروازہ پھر بند کردیا جاتا ہے ان کے پہنچنے پر بھی دوزخ کے دروازے کھولے جائیں گے
تکبر کرنے والے جن سہاروں پر تکبر کرتے رہے وہ سب توڑکر رکھ دئیے جائیں گے
275: دوسروں کے آسرے اور سہارے پر برائیاں اور تکبر کرنے والوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ جن جن آسروں اور سہاروں کے ذریعہ تکبر کرتے رہے ہیں اور ان کو یقین تھا کہ ہمیں کوئی پوچھ نہیں سکتا فرمایا جب پوچھنے والے ان کے پاس حاضر ہوجائیں گے تو اس وقت یہ سہارے ٹوٹ چکے ہوں گے اور ایک بھی ماں کا لال ایسا نہیں ہوگا جو کھرا ہو کر ییہ کہہ دے کہ یہ میرے سہارے پر ایسا کرتے رہے تھے اور ان کو چھوڑناہو گا ہرگز نہیں وہاں کس کی مجال کہ ایسی حرکت کرسکے۔ ہر ایک کو اپنی اپنی تو پڑی ہوگی۔
Ayah 4:174اے لوگو ! تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ” برہان “ آچکی
276: برھان کیا ہے ؟ برہان دلیل کو کہتے ہیں جس سے ہر طرح کا شک و شبہ زائکل ہوجائے اور کسی طرح کا کوئی شک باقی نہ رہے اور نہ ہی کوئی شک ڈالنے والا شک ڈال سکے۔ ہاں وہ مانے یا نہ مانے تسلیم کرے یا نہ کرے یہ اس کی مرضی رہی لیکن اس کے پاس نہ ماننے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ یہاں اس برہان سے کیا مراد ہے ؟ نبی اعظم و آخر ﷺ کی ذات اقد س مراد ہے۔ جن کی آمد کی گواہی اور شہادت تورات و انجیل میں موجود ہے اور باوجود اس کے کہ ان دونوں ہی کتابوں میں بیشمار تحریف ہوچکی لیکن اس ” برہان “ کی پیش گوئیاں اسی طرح قائم ودائم رہیں او اب تک ہیں اور تا قیامت رہیں گی۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے ” بھائیوں “ میں سے آنے کی دلیل جو ابھی پیچھے گزری کتنی صاف اور واضح ہے اور پھر یہ بات کہ وہ ” ابد تک “ رہے گا آپ کی ختم نبوت کی کھلی نشانی کے طور پر ہے ” سارے انسانوں “ کے لئے آنے کی پیش گوئی جو کسی دوسرے نبی کے لیے ممکن ہی نہیں ” بھائیوں “ میں سے ہونے سے کتنی بڑی وضاحت کی کہ وہ بھی بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ ” بنی اسمعٰیل “ میں سے ہوگا۔ آپ ﷺ کا حسب ونسب اس کی کھلی نشانی موجود ہے پھر لطف یہ ہے کہ یہ سارے دعوے اہل کتاب کی الٰہی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کے سارے شارحین اپنے درمیان سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں اختلافات رکھنے کے باوجود اس پیشگوئی پر متفق ہیں اور اس طرح گویا مخالفین کی دعویٰ پر آپ ﷺ بذاتہ دلیل وبرہان ہیں اور پھر دلیل وبرہان بھی ایسی کہ اس کا انکار مخالفین بھی نہیں کرسکے۔ جنہوں نے تسلیم نہی کیا وہ بھی اس بات کا رد نہ کرسکے۔ یہ تو مخالفین کی شہادت تھی جو آج بھی حرف بحرف موجود ہے۔
آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور مکہ والوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کی مدت تک آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہ کیا آپ ﷺ کے دعویٰ کی تردید نہ کرسکے۔ آپ ﷺ نے وہ کلام پیش کیا جو آپ کے سینہ اقدس پر نازل کیا گیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ اس جیسی صرف ایک سورة بنا کرلے آئو اور پھر سورة کی نشاندہی کی تو صرف تین آیتوں کی سورة جو چند جملوں پر مشتمل ہے اور قرآن کریم کی ساری سورتوں میں سے چھوٹی ہے۔ کوئی مقابلہ پر آیا ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت کہلانے والے میدان میں اترے کتنے طمطمراق سے آئے اور باعث نزاع بھی صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کی ” الوہیت “ تھی لیکن اس طرح ذلیل و خوار ہو کر بھاگے کہ واپس آنے کی ہمت نہ ہوئی اور جو دعویٰ لے کر آئے تھے اپنی زبانوں میں اس کی تردید کر گئے۔
پھر ان سے زیادہ ڈھیٹ مقابلہ پر اترے جنہوں نے ماننے کی قسم کی کھائی تھی اور قوم سے وعدہ کر کے آئے تھے کہ ہم ” ہاں “ نہیں کریں گے وہ ڈٹ گئے لیکن انہوں نے ہاں بھی فی الواقع نہ کی پیغمبر اسلام ﷺ نے دعوت دی کہ دلیل نہ ماننے والوں کے لئے بھی ہم ایک دلیل رکھتے ہیں آئو خودبھی اور اپنے بال بچوں کو بھی لے آئو ہم بھی آتے ہیں اور ایک جگہ اکھٹے ہو کر اللہ سے جس کو ایک لحاظ سے تم بھی مانتے ہو دعا کرتے ہیں کہ ” اے اللہ ! ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس کے جھوٹ کو واضح فرما “ ہاں یہ قسم کھانے والے اس پر ” نہیں “ کہہ کر بھاگ گئے اور یہ آخری دلیل ان پر بھی کامیاب ہو کر رہی ۔ اب بھی رسول اللہ ﷺ کے ” برہان “ ہونے میں کوئی شک رہا۔ مدت سے سنتے آرہے تھے کہ لاتوں کے بھوت باتوں ستے نہیں مانتے۔ قربان جائیں پیغمبر اسلام ﷺ کی شخصیت پر کہ لات بھی نہیں اٹھائی اور سچ کو منوا کر دکھادیا تو ہاں سچ سچ ہے اس کا مقابلہ کوئی جھوٹ بھی نہیں کرسکتا۔ اس لئے کی یہ اتنا کھرا سچ ہے کہ جھوٹ کو قریب ہی نہیں جانے دیتا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھی سچ لے کر میدان میں اترے تھے لیکن کم از کم ان کے مقابلہ کے لئے فرعون اور اس کے ساتھی میدان میں تو اترے لیکن یہاں تو میدان میں کوئی اترنے کے لئے تیار ہی نہ ہوا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہاں سچ اور جھوٹ کا نکھار تھا اور یہاں جھوٹ کو جان ہی سے ہاتھ دھونا تھے۔ اس لئے سچ کو دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ بھاگ جانے میں پھر بھی امان ہے یہاں سے تو بھاگ کر جا ہی نہیں سکیں گے۔ وہاں تو اژدھا ان کے بنائے ہوئے جادو کو کھا گیا لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ کا اژدھا صرف جادو اور جھوٹ ہی کو نہیں نگلے گا بلکہ وہ سارے جادو گروں اور سارے جھوٹوں کو بھی ساتھ ہی نگل جائے گا۔ موسیٰ و ہاروں دو نبی تھے اور قرآن نے فرمایا ہے کہ ان کو ” برہانان “ یعنی دو دلیلیں دی تھیں لیکن یہاں ایک ہی ” دلیل “ اور ایک ہی ” برہان “ ایسی ہے جو ساری دنیا پر چھا گئی اور کسی کو مقابلہ میں اترنے کی جرات نہ ہوئی۔
کمال معجزہ ہے نبی اعظم و آخر ﷺ کا جو اللہ نے عطا فرما یا اور رہتی دنیا تک وہ اپنا کام کرتا رہے گا کہ آپ ﷺ کی نبوت کے بعد جو بھی آیا اور جس نے بھی دعویٰ کیا خواہ وہ کتنے ہی بکھیڑے کرتا رہا کہ میں بروزی ہوں ۔ ظلی ہوں۔ نبی نہیں ہوں مہدی موعود ہوں لیکن ” برہان “ الٰہی نے اس طرح نکال پھینکا جس طرحمکھن سے بال نکالا جاتا ہے کہ اس کا اس جگہ کیا کام۔ یہاں تو وہ ذات اقدس جس کی تعلیم نے ہر مشکل کو آسان اور ہر پتھر کو پانی کردیا اس کے بعد کسی نئے یا پرانے کی قطعاً ضرورت نہیں اور ” نور مبین “ سے مراد قرآن کریم ہے اور یہ کہہ کر اس کے عملی پہلوکو واضح کردیا ہے کہ وہ زندگی کے تما م نشیب و فراز میں حق و باطل کو واضح کر کے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے او تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور اس نور اور روشنی کی بدولت انسان کو غلط بینی ، غلط اندیشی اور غلط کاری سے بچاتا ہے اس لئے کہ ان کے نتائج سے محفوظ رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی زندگی سے روشنی حاصل کرتا ہے اسے فکروعمل کے چورا ہے پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کس طرح ان غلطیوں سے محفوظ رہے۔ چناچہ ارشد الٰہی ہوا کہ :
” اے اہل کتاب ! ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے۔ “ ا (المائدہ 5:15 ، 5) ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائو ، ان کے رب کی توفیق سے اس خدا کے راستے پر جو زبردست ہے اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ “ (ابراہیم 14:1)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” ہم اس سے پہلے موسیٰ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لائو۔ “ (ابراہیم 14:5) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھو کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوا کرتا ہے ؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟ “ (الرعد 13:16)
Ayah 4:175مخصوص رحمت انہی لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور اس پر قائم رہے
277: اللہ تعالیٰ کی مخصوص رحمت کیا ہے ؟ وہ ہدایت ہے ، جس کو ہدایت حاصل ہوگئی وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا مستحق ہوگیا اور پھر جس چیز کا نام ہدایت رکھ دیں وہ ہدایت ہوگی ؟ ہرگز نہیں ” ہدایت وہی ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ “ (الانعام 6:71) اور وہ ہے ” سب سے منہ موڑکر تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے سر عبودیت جھکا دینا۔ “ خیال رہے کہ قرآن کریم ہدایت کی ان تما م صورتوں سے یک قلم انکار کرتا ہے جو اس اصل سے منحرف ہو کر طرح طرح کی مذہبی گروہ بندیوں اور متخالف ٹولیوں میں بٹ گئے ہیں اور سعادت و نجات کی عالمگیر حقیقت خا ص خاص گروہوں اور حلقوں کی میراث بنالی گئی ہے وہ برملا کہتا ہے کہ انسانی بناوٹ کی یہ الگ الگ راہیں ہدایت کی راہ نہیں ہو سکتیں ہدایت کی راہ تو عالمگیر ہدایت کی راہ ہے جس کو ” الدین “ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اس کا نام اس نے ” الاسلام “ رکاھ ہے اور اس کو ” دین خالص “ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ قرآن کریم بار بار اس بات پر زور دیتا ہے خدا کے جتنے پیغمبر پیدا ہوئے خواہ وہ کسی زمانے اور کسی کو نے میں ہوئے ہوں سب کی راہ ایک ہی راہ تھی اور یہی راہ ہدایت کہلائی۔ اس نے بار بار اعلان کیا کہ :
بلاشبہ ہم نے دنیا کی ہر قوم میں ایک پیغمبر مبعوث کیا جس نے یہ کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ “ (النحل 16:38) فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول دنیا میں نہیں بھیجا مگر اس وحی کے ساتھ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہیعبادت کرو۔ “ (الانبیاء 21:24)
فرمایا کہ ” پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے او اس کا سہارا مضبوط پکڑلیا تو وہ انہیں عنقریب اپنی رحمت کے سائے میں داخل کر دے گا اور ان پر اپنافضل کرے گا اور انہیں اپنے تک پہنچنے کی راہ دکھادے گا ایسی راہ جو بالکل سیدھی راہ ہے ۔ “ اور وہ وہی روا ہے جو کسی گروہ بندی کی راہ نہیں۔ یاد رہے کہ ہر جماعت و گروہ نے کھرے کے ساتھ کھوٹا ملایا ہے تب ہی وہ گروہ درگروہ ہوئے ہیں۔ بس کھوٹے اور کھرے کی پہچان کرلو اور کھرا جہاں سے بھی ملے لے لو اور کھوٹاجہاں سے بھی دیکھو بالکل چھوڑ دو اور یہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہی دراصل وہ مخصوص ہدایت خداوندی ہے جو صرف اور صرف اس کو مل سکتی ہے جو کسی گروہ بندی کا ہو کر نہ رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے رسول اعظم وآخر ﷺ کو بھی یہ ہدایت فرمائی کہ ” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا او گروہ گروہ بن گئے یقینا ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں ، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرو۔ “ (الانعام 6:159) بس یہی ہدایت ہے اور یہی وہ راہ ہے جس راہ پر گامزن کرنے کے لئے رسول عربی ﷺ تشریف لائے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” فرمایا میری رحمت کا حال یہ ہے کہ وہ ہرچیز پر چھائی ہوئی ہے پس ان لوگوں کے لئے رحمت لکھ دوں گا جو برائیوں سے بچیں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور ان کے لئے جو میری نشانیوں پر ایمان لائیں گے۔ “ (الاعراف 7:156) ” جو الرسول یعنی نبی اعظم و آخر کی پیری کرتے ہیں کہ وہ نبی امی ہے اور اس کے ظہور کی خبر اپنے یہاں تورات اور انجیل میں لکھی پاتے ہیں وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ پسندیدہ چیزیں حلال کرتا ہے۔ گندی چیزیں حرام ٹھہراتا ہے اور اس بوجھ سے نجات دلاتا ہے جس کے نیچے دبے ہوئے ہیں ان پھندوں سے نکالتا ہے جن میں گرفتا رہیں۔ جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کے مخالفوں کے لئے روک ہوئے راہ حق میں اس کی مدد کی اور اس روشنی کے پیچھے ہو لئے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے سو وہی ہیں جو کامیابی پانے والے ہیں۔ “
” اے پیغمبر اسلام 1 تم لوگوں سے کہو کہ اے افراد نسل انسانی میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں وہ خدا کہ آسمانوں کی اور زمین کی ساری بادشاہت اس کے لئے ہے کوئی معبود نہیں مگر اس کی ایک ذات وہی جلاتا ہے وہی مارتا ہے۔ پس اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول نبی امی پر کہ وہ اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اس کی پیروی کرو تاکہ راہ ہدایت تم پر کھل جائے ۔ “ (الاعراف 7:156 ، 157)
Ayah 4:176کلالہ کیا ہے اور اس کا حکم کیا ؟
278ـ: کلالہ کا ذکر اس سورت النساء کی آیت 12 میں گزر چکا ہے اور اس کی تعریف بھی وہاں بیان کردی گئی ہے۔ اس آیت میں اور اس آیت میں جو فرق ہوا ہے وہ صرف احیافی بہن بھائی ہونے کی وجہ سے ہے آیت 12 میں جس بہن بھائی کا ذکر ہے وہ اخیافی تسلیم کیے گئے ہیں اور زیر نظر آیت میں بہن بھائی سے مراد علاتی اور حقیقی بہن بھائی ہیں۔ اخیافی وہ جو صرف ماں کی طرف سے بہن بھائی ہوں اور علاتی وہ جو ماں کی طرف سے الگ لیکن باپ کی طرف سے بہن بھائی ہوں اور حقیقی وہ جو ماں اور باپ دونوں کی طرف سے ہوں۔ دونوں جگہ پر کلالہ سے مراد وہ میت ہے جس کے والدین میں کوئی بھی زندہ نہ ہو اور اولاد بھی موجود نہ ہو نہ لڑکی اور لڑکا ۔ لیکن کلالہ کی تعریف میں اور بھی بہت کچھ بیان ہوا ہے اور اس میں بہت اختلاف بھی پایا جاتا ہے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں۔
کلالہ کی اگر صرف ایک بہن ہو تو اس کا حکم حصہ میراث میں
279: جس مرنے والے کے والدین اور اولاد نہ ہو لیکن اس کی ایک بہن موجود ہو تو مرنے والے کے ذوی الفروض میں اگر کوئی ہے توا س کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی سوے اس کو آدھا ملے گا اور بقیہ نصف اگر اس کا کوئی عڈبہ ہوا جیسے چچا یا چچا زاد بھائی وغیرہ تو وہ اس کو مل جائے گا اگر عصبہ نہ ہو تو یہ نصف بھی اس بہن کی طرف لوٹ جائے گا۔ اس جگہ جن ذوی الفروض کا احتمال ہے وہ مرنے والی اگر عورت ہے تو اس کا خاوند ہے اور مرنے والا اگر مرد ہے تو اس کی بیوی ہو سکتی اور ان کے حصہ کا تعین میراث میں کیا جا چکا ہے۔ اس پر عمل ہوگا۔
کلالہ اگر عورت اور اس کا صرف ایک بھائی موجود ہو تو اس کا حکم
280: مرنے والی ایسی عورت ہے جو کلالہ اس کی اولاد نہ ہو اور نہ ہی والدین تو اگر اس کا ذوالفرض یعنی خاوند ہے تو اس کا حصہادا کرنے کے بعد باقی سارے مال کا وہ یعنی مرنے والی کا بھائی وارث قرار پائے گا اس لئے کہ ایسی صورت میں مرنے والی کا چچا یا چچا بیٹا عصبہ نہیں ہو سکتا اور اگر مرنے والا مرد ہو جو کلالہ بھی ہے یعنی اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی والدین ہیں تو اس کے ذوالفروض میں اس کی بیوی ہو سکتی ہے اگر ہے تو اس کا حسہ ادا کرنے کے بعد باقی جو کچھ ہوگا وہ بھی اس کا بھائی لے جائے گا اس لئے کہ اس صورت میں بھی اس کا عصبہ چچا یا چچا کا بیٹا نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ موجود ہوں۔
کلالہ کی اگر دو بہنیں ہوں تو ان کا حکم حصہ میراث میں
281: جس مرنے والے کے والدین اور اولاد نہ ہوں لیکن اس کی دو بہنیں موجود ہوں تو مرنے والے کے ذوی الفروض میں اگر کوئی ہے تو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی ان کو دو تہائی اور بقیہ ایک تہائی اگر ان کا کوئی عصبہ موجود ہوا جیسے چچازاد بھائی وغیرہ تو وہ اس کو مل جائے گا اور اگر عصبہ نہ ہوا تو یہ 1/3 حصہ بھی انہیں کی طرف لوٹا آئے گا ۔ اس جگہ جن ذوی الفروض کا احتمال ہے وہ مرنے والی اگر عورت ہے تو اس کا خاوند ہے اور مرنے والا اگر مرد ہے تو اس کی بیوی ہو سکتی ہے اور ان کے حصے کا تعینمیراث میں کیا جا چکا ہے اس پر عمل ہوگا۔ کلالہ اگر عورت ہے اور اس کے دو بھائی ہوں وہ کلالہ کا اگر خاوند ہے تو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی سارے مال کے برابر حصہ دار ہیں اور کلالہ اگر مرد ہے اور اس کے دو بھائی ہیں تو اس کی ذوی الفروض اس کی بیوی ہو سکتی ہے اگر ہے تو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی سارے مال کے وہ مالک ہیں اور برابر کے شریک ہیں۔
کلالہ کے اگر بہنیں اور بھائی دونوں ہوں تو اس کی میراث کا حکم
282: مرنے والا کلالہ ہو خواہ وہ مرد ہے یا عورت اور اس کی بہنیں اور بھائی دونوں اصناف موجود ہوں تو یعنی بھائی کا حصہ دو عورتیں یعنی بہنوں کے برابر ہوگا اس طرح بھی مرنے والے کے اگر ذوی الفروض میں سے کوئی ہے تو اس کا حصہ ادا کرنے کے بعد باقی سارا مال اس اصول کے مطابق ان میں تقسیم ہوجائے گا اور ذوی الفروض کا احتمال جو ذکر اوپر کیا جا چکا ہے وہی اس جگہ بھی موجود ہے۔ اس طرح اس سورة مبارکہ کا مضمون جس مسئلہ سے شروع ہوا تھا اس پر اس کا اختتام ہوگیا اور اس آخری آیت میں میراث کے بہت سے مسائل کا حل پوشیدہ کردیا گا ۔ مسئلہ میراث کے معاملہ میں یہ آیت ایک بہت بڑا دفینہ ہے جس پر اس قدرمسائل بند ہیں کہ ہر مشکل مسئلہ اور دوسری کتب احادیث میں اس آیت کے متعلق بیان ہوئی ہیں ان کے ساتھ ملایا جائے تو کوئی مشکل نہیں رہتی اس سے صحابہ کرام ؓ تابعین عظام (رح) اور تبع تابعین رحمہم اللہ نے بہت کچھ اخذ کیا ہے اور بہت کچھ ہی اخذ کیا جاسکتا ہے۔
” فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اپنے احکام واضح کردیئے ہیں تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔ “ یعنی احکام میراث کو اتنی وضاحت اور تفصیل سے یبان کرنے کی غرض بتادی کہ تم اپنی خود ساختہ مصلحتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہیں گمراہ نہ ہو جائو۔ لیکن اگر کوئی گمراہی سے بچنا ہی نہ چاہے تو اس کا کوئی حل ہے تو وہ اللہ ہی کے پاس ہے یقینا وہ اس کے مقررہ وقت پر اس کے سامنے آجائے گا لیکن اس وقت سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی اس صفت ” علم “ سے میں اقرار کرتا ہوں کہ اصل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو میں نے پڑھا اور سمجھا ہے اس کو پوری دیانت و امانت کے ساتھ بغیر خوف و خطر آپ کے سامنے پیش کردیا ہے او اس پر عروۃ الوثقیٰ کی دوسری جلد کا اختتام ہو رہا ہے۔
عبدالکریم اثری