4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayahs 4:60–61

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کی حالت پر نظر نہیں کی جن کا دعویٰ یہ ہے کہ جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ تم سے پہلے نازل ہوچکا ہے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اپنے جھگڑے ، قضیے ایک سرکش اور شریر کے آگے لے جاتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس سے انکار کریں ، شیطان چاہتا ہے کہ انہیں اس طرح گمراہ کر دے کہ سیدھی راہ سے بہت دور جا پڑیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

جب ان لوگوں کو اللہ کے حکم کی طرف جو اس نے نازل کیا ہے اور رسول اللہ : ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے روگردانی کرتے ہیں اور ان کے قدم ٹھٹک کر رہ جاتے ہیں

دعوائے اسلام کے بعد رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ قبول نہ کرنے والوں کا فیصلہ : 112: روایات میں اس طرح کے بہت سے فیصلوں کا ذکرد کیا گیا ہے جن میں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کو چھوڑ کر سرادر ان یہود کے پاس اپنے مقدمہ کو لے جانے کی کوشش کی ان میں سے ایک کا ذکر اس جگہ کردینا مناسب خیال کیا جاتا ہے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکے۔ ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی سے ایک نام کے مسلمان کا جھگڑا ہوگیا۔ یہودی نے اپنا فیصلہ کرانے کے لئے اس نام کے مسلمان سے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ لے جانے میں پہل کی اور کہا کہ چلو رسول اللہ ﷺ سے اپنے اس قضیہ کا فیصلہ کرا لیں لیکن مسلمان مصر تھا کہ فیصلہ رسول اللہ ﷺ کی بجائے کعب بن اشرف ایک یہودی سرادر سے کرایا جائے۔ لیکن یہودی نے اپنے سرادر کعب بن اشرف کے پاس جانے سے صاف صاف انکار کردیا اور رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرنا ے پر اصرار کیا۔ مجبوراً منافق کو بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کی طرف آنا پڑا۔ مختضر یہ کہ اس طرح وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے دونوں کی بات سنی اور یہودی کے حق میں فیصلہ کے لئے عمر ؓ کے پاس چلئے اس طرح دونوں عمر فاروق ؓ کے پاس آئے تو یہودی نے عرض کیا کہ ہم دونوں مل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدہ لے کر گئے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا تب یہ آپ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور مجھے آپ کے پاس لے کر آیا ہے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے منافق سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کرلیا کہ جی ہاں ! حضرت عمر ؓ نے فرمایا ذرا ٹھہرو میں ابھی فیصلہ کردیتا ہوں۔ آپ ؓ اٹھ کر گھر میں داخل ہوئے اپنی تلوار اٹھائی اور باہر آکر اس منافق کو قتل کردیا اور فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو اس کا فیصلہ میں اس طرح کرسکتا ہوں۔ یہ روایت ثبلی نے ابن عباس ﷺ سے اور ابن ابی حاتم نے او الاسود سے بھی نقل کی ہے اور اس نام کے مسلمان اور عمل کے منافق کا نام بھی ” بشر “ لیا گیا ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ عمر ؓ نے حق کو باطل سے الگ الگ کردیا ہے اس لئے آپ کا لقب ” فاروق “ سے معروف ہوگیا۔ آیت کے الفاظ نے اس نام کے مسلم اور عمل کے منافق کے متعلق یہ اشارہ بھی کردیا کہ اس کا تعلق اہل کتاب سے تھا اور یہ بات بھی ان الفاظ ہی سے نکلتی ہے کہ اس طرح کے بہت سے لوگ اس وقت موجود تھے جو منہ سے اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن وہ مصلحت وقت کے تحت مسلمان ہوئے تھے ان کے دل اسلام کی تعلیمات پر جمتے نہیں تھے۔ وہ دعویٰ توبہ کرتے تھے کہ وہ قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم سے پہلے کی نازل شدہ کتابوں کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اپنے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرنے کی بجائے یہود کے سرداروں اور ان کی عدالتوں کی طرف جانے کے شوقین تھے حلان کہ سج اللہ اور اس کے رسول ا پر وہ ایمان کے مدعی تھے ان کی طرف سے یہ واضح ہدایت آچکی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے مدعتی تھے فان کی طرف سے یہ واضح ہدایت آچکی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے لئے لازم ہے کہ طاغوت کا انکار کیا جائے بغیر اس انکار کے ایمان معتبر نہیں ہے لیکن یہ دونوں کو جمع کرنا چاہتے تھے اور اس طرح شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ اس طرح ان کو بھٹکا کر صراط مستقیم سے اتنی دور کردے کہ پھر ان کے لئے اس کو پانے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہے تو یہ ان منافقین کی بات تھی لیکن آج اہل اسلام کی حالت کیا ہے ؟ وہ کتنے جھگڑے ہیں جو ہم نے اپنے رسول اللہ ﷺ سے دور کرا لئے ہیں ؟ اور آپ ﷺ کے فیصلے کو مان لیا ہے ؟ اس وقت ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتا۔ طاغوت کون ہیں ؟ وہ لوگ مراد ہیں جو حاکم ہیں لیکن قانون خداوندی کو چھوڑ کر دوسرے قوانین کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور وہ نظام عدالت ہے جو نہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ ہی کتاب اللہ کو آخری سند مانتا ہو خواہ اعتقاداً ایسا ہو یا عملاً ، ہاں ! اگر اعتقاداً ایسا ہوگا تو وہ طاغوت کافر ہوں گے اور اگر صرف عمالا ایسا ہوگا تو وہ منافق ہوں گے۔ اس جگہ منافقین سے مراد تو وہی لوگ ہیں جو اسلام کو اقرار تسلیم کرچکے لیکن عملا اس کا خلاف کرتے تھے اور وہ اہل کتاب سے اسلام کی طرف آئے تھے اور طاغوت سے سرادر ان یہود مراد ہیں جو لوگوں کے درمایان فیصلے کیا کرتے تھی اور لوگ بھی ان کو اپنا سردار مانتے اور تسلیم کرتے تھے۔ چونکہ ان لوگوں نے مصلحتا اسلام قبول کیا تھا سلے لئے بانی اسلام ﷺ کو بحثیت رسول انہوں نے دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ ایسے ہی لوگ تھے جن کو اسلام کی زبان میں منافق کہا گیا اور آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں بلکہ اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے عملاً منکر ہیں اور آپ ﷺ کے فیصلوں پر ان کا دل نہیں جمتا۔
Ayah 4:62

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پھر اگر ایسا ہو کہ ان کے اپنے ہی کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑے تو اس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ اس وقت یہ تمہارے پاس آ کر اللہ کے نام کی قسمیں کھائیں گے اور کہیں گے ہم نے جو کچھ کیا تھا اس سے مقصد صرف بھلائی تھی اور یہ کہ میل ملاپ رہے

اپنے ہی کرتوتوں کی وجہ سے آئی ہوئی مصیبت کو کوئی حل ؟ 114: جوں جوں اسلام طاقت پکڑتا گیا اور یہود کی سیادت ختم ہوتی گئی تو مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اب منافقین کے معاملے میں چشم پوشی اور اغماض سے کام نہ لیا جائے بلکہ اب وہ بھی اپنی روش بدلیں اس حکم سے مسلمانوں نے اپنی روش بدل لی اور اس طرح اب منافقین کا احتساب شروع ہوگیا۔ منافقین اس صورت حال سے بہتر پریشان ہوئے نہ یہود میں اتنا زور باقی رہا کہ وہ ان کو پہلے کی طرح سہارا دے سکیں اور نہ ہی مسلمان اب ان پر اعتماد کرنے کیلئے تیار تھے اس وقت ان کا حال کیا تھا ؟ ” نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن “ نتیجہ یہ ہوا کہ اب منافقین بھاگ بھاگ کر نبی اعظم وآخر ﷺ ہی کے پاس جائے اور قسمیں کھا کھا کر آپ ﷺ کو یقین دلاتے کہ وہ یہود سے جو ربط ضبط آج تک رکھے تھے اور کبھی کبھی اپنے معلامات مین ان کے فیصلے تسلیم کرتے تھے اس میں ہماری نیت کا کوئی فساد نہیں تھا بلکہ ہماری خواہش تو صرف اور صرف یہ تھی کہ اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا اور جو خلیج اختلاف عناد یہود اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہوگئی تھی وہ زیادہ وسیع نہ ہونے پاے اس طرح اب وہ اپنی منافقت کو مصالحت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے اور اس طرح منہ بسور بسور کر رسول ﷺ کے سامنے اپنی عرضیاں گزارتے لیکن ان کی سمجھ مین یہ بات نہ آتی کہ جب ہم ایک جھوٹ بول کر اس مصیبت میں مبتلا ہیں تو اس طرح جتنے جھوٹ بڑھتے جائیں ہماری مصیبت میں اضافہ ہوتا جائے گا اور پھر یہی کچھ ہوا۔ کیا اس طرح وہ رواداری کا اظہار کر کے بری الذمہ ہوگئے ؟ ہرگز نہیں بلکہ اس نے یہ بات واضح کردی کہ حریف طاقتوں کے ساتھ اختلاف یا رواداری کی پالیسی بنانا حکومت وقت اور ارباب حل وہ عقد اور سردار ان ملت کا کام ہینہ کہ عوام کی انفرادی صورت کا یا گروہی سیاست کا۔ ہاں ! ضرورت پیش آئے تو عوام بجائے خو دیا اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے حکومت کی توجہ مبذ ول کرسکتے ہیں اور حکومت کو افرادی اور مادی وقوت دے سکتے ہیں لیکن جو ان کے کرنے کا کام نہیں وہ خود نہیں کرسکتے جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں ہو رہا ہے اور ہر جماعت اور ہر پارٹی اپنے اپنے خیال کے مطابق مصروف جہاد ہے اس طرح کا کوئی شرعی جواز موجود نہیں بلکہ یہ صرف اور صرف پیٹ کا دھندا ہے اور اس کا نیا روپ ہونے کی وجہ سے ابھی قبول عام ہے اور پیٹ کے باقی دھندوں سے مجموعی طور پر بڑا بھی ہے۔ آیت کے ترجمہ میں ارشاد فرمایا کہ یہ قسمیں کھا کھا کر باور کرانے والے عادی مجر ہیں اس لئے ان کے اس طرز عمل کو اچھی طرح نگاہ میں رکھو اور ان کے طرز عمل کی تین وجہیں ہو سکتی ہیں ان میں سے تجزیہ کر کے دیکھ لو ان کو کیا بات لاحق ہے۔ ایک یہ کہ آدمی سرے سے ایمان ہی نہ لایا ہو اور منافقانہ طرز طریقہ پر محض دھوکہ دینے اور مسلم معاشرے میں شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے مسلمان ہوگیا۔ دوسرے یہ کہ ایمان لے آنے کے باوجودا اسے اس امر میں شک ہو کہ کیا رسول اللہ اللہ کا رسول ہے یا نہیں ؟ قرآن اللہ کی کتاب ہے یا نہیں ؟ آخر واقعی ہی آنے والی ہے یا نہیں ہے ؟ ہاں ! اس طرح یہ کہ کیا اللہ بھی کوئی حقیقت میں ہے یا نہیں ؟ کیا اللہ کا تصور تصوراتی ہی تو نہیں ہے ؟ تیسرے یہ کہ وہ اللہ کو اللہ مان کر اور رسول کو رسول مان کر بھی ان سے ظلم کا اندیشہ رکھتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ اللہ کی کتاب نے فلاں حکم دے کر ہمیں تو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا فلاں طریقہ تو ہمارے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ ان تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھجی ہو ایسے لوگوں کے ظالم و منافق ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں۔ اس طرح کے خیالات رکھ رک جو شخص مسلمانوں میں آتا ہے ، ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور مسلم معاشرے کا ایک رکن بن کر مختلف قسم کے ناجائز فائدے اس معاشرے سے حاصل کرتا ہے۔ وہ بہت بڑا دغاباز ، خائن اور جعل ساز ہے۔ اس طرح وہ اپنے نفس پر بھی ظلم کرتا ہے کہ اسے شب وروز کے جھوٹ سے ذلیل ترین خصائل کا پیکر بنا تا چلا جاتا ہے اور مسلمانوں پر بھی ظلم کرتا ہے جو اس کے ظاہر کلمہ شہادت پر اعتماد کر کے اس اپنی ملت کا ایک جزمان لیتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ساھت طرح طرح کے معاشرتی ، تمدنی ، سیاسی اور خلاقی تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔ قرآن کریم دوسری جگہ ان کی اس طرح نشاندہی کرتا ہے۔ ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی مگر اس کے بعد ان میں سے ایک اگر وہ اطاعت سے منہ موڑ لیتا ہے ، ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ جب ان کا بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول اللہ ﷺ ان کیٍٍٍ آپس کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک 115: اس میں شک نہیں کہ منافقین ایک الگ گروہ ہے جو اہل ایمان کی امت سے بالکل الگ تھلگ ہے اگرچہ اسلام کی پیروری کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے لیکن دونوں کے مزاج ، اخلاق ، اطوار ، عادات اور طرز فکر و عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جہاں زبان پر ایمان کا دعویٰ ہے مگر دل سچے ایمان سے خالی ہیں وہاں زندگی کا سارا رنگ ڈھنگ ایسا ہے جو اپنی ایک ایک ادا سے دعوئے ایمان کی تکذیب کر رہا ہے۔ اوپر کے لیبل پر لکھا ہے کہ یہ کستوری ہے مگر لیبل کے نیچے کل ہی پیدا ہونے والے بچے کے پیٹ کا ایک سٹرا ہوا گند ہے جو اپنے پورے وجود سے ثابت کر رہا ہے کہ کہ ایک پلید و ناپاک شے کے سوا کچھ بھی نہیں بخلاف اس کے جہاں ایمان اپنی اصل حقیقت کے ساتھ موجود ہے وہاں کستوری اپنی صورت سے ، اپنی خوشبو سے ، اپنی خاصیتوں سے ہر آزمائش اور ہر معاملہ میں اپنا مشک ہونا کھولے دے رہی ہے۔ اسلام و ایمان کے عرفی نام نے بظاہر دونوں گروہوں کو ایک امت بنا رکھا ہے مگر فی الواقع منافق مسلمانوں کا اخلاقی مزاج اور رنگ طبیعت کچھ اور ہے اور صادق ال ایمان مسلمانوں کا کچھ اور۔ اس وجہ سے منافقانہ خصائل رکھنے والے مرد و زن ایک الگ گروہ بن گئے ہیں جن کو اللہ سے غفلت ، برائی سے دلیسپ ، نیکی سے بعد اور خیر سے عدم تعاون کی مشترک خصوصیات نے ایک دوسرے سے وابستہ اور اہل ایمان سے عملاً بےتعلق کردیا ہے اور دوسری جانب سچے مومن مرد و زن ایک دوسرا وہ بن گئے ہیں جس کے سارے افراد میں یہ خصوصیت مشترک ہے کہ نیکی سے وہ دلچسپی رکھتے ہیں ، بدی سے نفرت کرتے ہیں۔ اللہ کی یاد ان کے لئے غذا کی طرح زندگی کی ناگزیر ضروریات میں شامل ہے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے لے لئے ان کے دل اور ہاتھ کھلے ہوئے ہیں اور اللہ اور ردسول کی اطاعت ان کی زندگی کا وتیرہ ہے۔ اس مشترک اخلاقی مزاج اور طرز اور زندگی نے انہیں آپس میں ایک دوسرے سے جوڑا اور منافقین کے گروہ سے مکمل طور پر توڑ دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اب تم ہی بتائو کہ کستوری وہ کام کیسے کرے گی جو بچے کے پیٹ کی گندگی کر رہی ہے اس لئے تم اپنی کستوری کی مشک و خوشبو کو اتنا عام کر دو کہ ان کو اپنا گند خود بخود معلوم ہونے لگے۔ تم کسی بحث میں الجھے بغیر وہی کام کرو جو خوشبو کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ بولے “ تمہارے بول اتنے میٹھے ہوں کہ ان کو اپنی کڑواہٹ خود محسوس ہونے لگے دیکھو نیکی کے عوض میں نیکی کوئی نیکی نہیں ہاں ! برائی کے عوض نیکی نیکی ہے۔ فرمایا تمہارے برتن میں رکھا کیا ہے ؟ کستوری ، پھر کستوری کا کام ؟ خوشبو دینا ، بس خوشبو کو چھوڑو اور اتنا چھوڑو کہ ان کو اپنی بدبو خود معلوم ہونے لگے۔ بات کرو اتنی میٹھی اور اتنی اچھی ، اتنی ستھری کہ ان کے دلوں کے اندر اتر جائے۔ آپ کا کام منانا نہیں بلکہ صرف پہنچانا ہے بس تم اپنا کام کرو اور ایسے انداز سے کرو جو انداز تم کو اسلام نے سکھایا ہے۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا چھپا ہوا ہے ؟ پس چاہیے کہ ان کے پیچھے نہ پڑو اور انہیں پند و نصیحت کرتے رہو ، تم انہیں ایسی باتیں کہو کہ ان کے دلوں میں اتر جائیں

فرمایا ” پیغمبر اسلام ! یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا کچھ چھپا ہوا ہے۔ پس چاہئے کہ ان کے پیچھے نہ پڑو اور انہیں پندو ونصیحت کرتے رہو ، تم انہیں ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ “ وہ اثر پذیر ہو یا نہ ہو اس کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” یہ لوگ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالانکہ انہوں نے یقینا وہ کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے ہو کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔ یہ ان سارا غصہ اس بات پر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ اب اگر یہ لوگ اپنی اس روش سے باز آجائیں تو انہی کے لئے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کی یقینا بہت درد ناک سزا دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مدد گار ہو۔ “
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جس کسی کو بھی منصب رسالت دے کر دنیا میں کھڑا کیا اس لیے کیا کہ ہمارے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور جب ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرلیا تھا تو اگر اس وقت تمہارے پاس حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے پھر اللہ کا رسول بھی ان کیلئے بخشش طلب کرتا تو یہ لوگ دیکھ لیتے کہ اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحمت رکھنے والا ہے

اطاعت کا جو حکم ان کو دیا گیا وہ کوئی نئی بات نہ تھی ہر ایک فرستادہ کی اطاعت لازم تھی : 116 : منصب رسالت کیوں تھا ؟ فرمایا رسول صرف مان لینے کے لئے نہیں ہوتا تھا بلکہ ہر رسول اس لئے آیا تھا کہ اس کی اطاعت کی جائے وہ صرف عقیدت کا مرکز ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ اطاعت کا مرکز بھی تھا۔ اس کی حیثیت ایک واعظ وناصح ہی کی نہ تھی بلکہ ایک وجب الاطاعت ہادی راہنما کی بھی تھی اس کو اس لئے مبعوث کیا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ جو لوگ رسول کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے یا اس سے اپنے آپ کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں ان کا دعویٰ ایمان بالکل جھوٹا ہے۔ چونکہ اصل مضمون اس رکوع میں یہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے اور پھر اطاعت نہ کرنے والوں کو ہی جب وہ منہ سے اطاعت کرنے کا اقرار بھی کریں منافق کہا گیا ہے اس لئے اب بات واضح ہوگئی تو قرآن کریم نے مذید بات کو واضح کردیا اور فرمایا کہ رسول تو بھیجاہی اس غرض کے لئے جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے لیکن چونکہ اصل حق اطاعت کا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اس لئے ساتھ ہی ” بِاِذُنِاللِہِ “ فرما دیا یعنی اس کی اطاعت وفرمانبرداری اللہ تعالیٰ کی طرف سے لازم و ضروری ہے پھر اس کی اطاعت کا جواز اتار کر وکئی شخص مسلمان نہیں کہلا سکتا خواہ وہ کوئی ہو اس طرح یہ آیت رسولوں کے ایک امتیازی نشان پر فیصلہ کن ہے۔ امام رازی رقم طراز ہیں کہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ کوئی رسول نہیں ہو سکتا مگر ضروری ہے کہ اس کے پاس پیغام رسالت ہو اور وہ اس پیغام میں مطاع ہو اور اس کے متعلق اس کی پیروی کی جائے اور یہ لازم ہے کہ ہر رسول نبی ہو مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ اس لئے جب منصب نبوت ختم کردیا گیا تو اب منصب رسالت پر تو کوئی فائز نہیں ہو سکتا کیونکہ رسالت کے لئے نبوت شرط ہے اور جب نبی ہی نہ ہو سکتا تو کوئی رسول کیونکر ہوگا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہر ایک رسول کے لئے لازمی تھا کہ وہ مطاع بھی وہ اور اب قیامت تک کے لئے مطاع صرف اور صرف ایک ہی رہیں گے یعنی خود محمد رسول اللہ ﷺ ۔ اب جو کئی ہوگا وہ اس کی اطاعت کرے گا۔ قرآن کریم کا یہ حکم اسلامی آئین کی اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق نظام زندگی پر ہوتا ہے۔ اس کی رو سے کسی مسلمان فرد ، قوم ، عدالت یا پارلیمینٹ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو اس میں وہ خود اپنی آزادئی رائے استعمال کرے۔ مسلمان ہونے کے معنی ہی اللہ اور اس کے رسول کے آگے اپنا آزادانہ اختیار سے دستبردار ہوجانے کے ہیں۔ کسی شخص یا قوم کا مسلمان بھی ہونا اور اپنے لئے اس اختیار کا محفوظ بھی رکھنا دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں کوئی زی عقل انسان ان دونوں رویوں کو جمع کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ جسے مسلمان رہتا ہو اس کو لازماً اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول کے آگے جھک جانا ہوگا اور جسے نہ جھکنا ہو اسے سیدھی طرح ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان نہیں ہے یا مانے گا تو چاہے اپنے مسلمانن ہونے کا وہ کتنا ہی ڈھول پیٹے اور اللہ کی مخلوق دونوں کی نگاہ میں وہ منافق ہی قرار پائے گا۔ 117: غلطی کوئی بھی اور کسی قسم کی بھی ہو اس کا ازالہ کیا ہے ؟ توبہ و استغفار ہے۔ غلطی سے رجوع کرنا توبہ ہے اور جو کچھ ہو اس پر پچھتا وے اور معافی کرنے کا نام استغفار ہے۔ غلطی کو مان لینا اور پھر غلطی پر غلطی کرتے جانا اس طرح منہ سے توبہ توبہ اور استغفر اللہ کا ورد جاری رکھنا اور کام اس طریقہ کے مطابق کرتے جانا توبہ اور نہ ہی اس استغفار کا کوئی فائدہ ہے یہ دھوکا ہے ، فریب ہے ، مکاری ہے ، عیاری ہے ، اور سب سے بڑھ کر دغا بازی ہے۔ مدعی ایمان دوہی طرح کے ہو سکتے ہیں یا ہو سچے ہوں گے یا جھوٹے۔ ان کی پہچان کی ہوگی ؟ جھوٹے مدعی ایمان اور گنہگار مومن کا فرق صاف صاف لفظوں میں تم کو بتا دیا جاتا ہے کہ جو شخص ایمان کو دعویٰ کرتا ہے مگر فی الواقع اللہ اور اس کے دین اور جماعت المسلمین کے ساتھ کوئی خلوص نہیں رکھتا اس کے عدم اخلاص کا ثبوت اس کی طرز عمل سے مل جائے گا۔ اگر فی الواقع وہ مومن ہے اور اس سے کوئی غیر مخلصانہ حرکت ہوگئی اور وہ اپنے قصور اعتراف کرلے تو یقینا اس کو معاف کیا جائے گا اور اس بات کا معلوم کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے اس کے لئے صرف ان معیاروں سے پر کھ ہوجائے گی اور ” دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ “ ۔ 1 وہ اپنے تصور کے لئے عذارت لنگ اور تاویلات وتو جہیات پیش نہیں کرے گا بلکہ جو قصور ہوا ہے اسے سیدھی طرح صاف صاف مان لے گا اور کسی قسم کی لیت ولعل نہیں کرے گا۔ ۔ 2 اس کے سابق طرز عمل پر نگاہ ڈال کر دیکھا جائے گا کہ یہ عدم اخلاق کا عادی مجرم تو نہیں ہے۔ اگر پہلے وہ جماعت کا ایک صالح فرد رہا ہے اور اس کے کارنامہ زندگی میں مخلصانہ خدمات ایثار و قربانی اور سبقت الی الخیرات کا ریکارڈ موجود ہے تو باور کرلیا جائے گا کہ اس وقت جو قصور اس سے سرزد ہوا ہے وہ ایمان واخلاص کے عدم کا نتیجہ ہے بلکہ مخض ایک کمزوری ہے جو قتی طور پر رونما ہوگئی ہے۔ ۔ 3 اس کے آئندہ طرز عمل پر نگاہ رکھی جائے گی کہ آیا کا اس اعتراف قصور محض زبانی ہے یا فی الواقع اس کے اندر کوئی گہرا احساس ندامت موجود ہے۔ اگر وہ اپنے قصور کی تلافی کے لئے بےتاب نظر آئے اور اس کی بات سے ظاہر ہو کہ جس نقص ایمانی کا نقش اس کی زندگانی میں ابھر آیا اسے مٹانے اور اس کا تدارک کرنے کی وہ سخت کوشش کر رہا ہے تو سمجھا جائے گا کہ وہ حقیقت میں نادم ہے اور یہ ندامت ہی اس کے ایمان اخلاص کی دلیل ہوگئی۔ زیر نظر آیت میں اس بات کا ذکر کیا گیا فرمایا ” اور جب ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کرلیا تھا تو اس وقت اگر وہ تمہارے پاس حاضر ہوتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور اللہ کا رسول بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتا تو یہ لوگ دیکھ لیتے کہ اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحمت رکھنے والا ہے۔ “ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ زندگی میں اگر کچھ اوپر نیچے سہوا وخطاًء اور عمدا جو کچھ غلط کام ہوجائیں خود بھی ان سے توبہ کرنا شرمندہ ہونا اور اللہ سے معافی طلب کرنا اور اللہ کے بندوں سے بھی اللہ سے معافی طلب کرنے کے لئے سفارش کرنا جائز و درست ہے اور اس طرح اگر کسی کے ذہن میں کوئی بیماری تھی تو اس کی معافی کی امید کی جاسکتی ہے لیکن یہ مرنے کے بعد ہی خصوصاً مرنے والوں کے لئے ان کے گناہوں کی بخشش طلب کرنا اور دوسروں سے بھی اپیل پر اپیل کرنا اور ان کو پڑھ کر بخشاً ان کے نام پر فاتحہ و درود کرنا اور یہی سمجھنا کہ اس طرح مغفرت طلب کرنا ہی مردوں کا زندوں پر حق ہے تو یہ بات کہاں سے نکال لی گئی ہمارا رواج تو یہ ہے کہ اگر کوئی مر بھی گیا اور معلوم بھی ہوگیا سب اکھٹے بھی ہوگئے لیکن مغفرت کی دعاء روک دی گئی کہ جب تک وہ قبر میں داخل نہ کردیا جائے اس کے لئے مغفرت طلب ہی نہیں کی جاسکتی۔ مغفرت طلب کرنے کا وقت کی اتھا اور ہمارے رواج نے اس کو کیا بنا دیا ؟ نماز جناز ایک نظام اسلامی کا مسئلہ ہے رواج کا نہیں اور اس میں اکرام مسلم ہے کہ کھڑے ہو کر باقاعدہ ، باوضو اور سمت قبلہ اختیار کر کے الوداعی تحفہ ہے جس میں اپنے لئے اور مرنے والوں کے الوداع کہنے کے اجر کو حاصل کرنے کیلئے اور پس ماند گان کے لئے صبر و تحمل کی تلقین کے لئے اور سارے مسلمانوں کو اس وقت کی یاد تازہ کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر اس کا ایک خاص طریقہ مقرر فرما دیا کہ شریعت کی تشریح اور شرعی حیثیت متعین کرنا رسول کے منصب کا ایک حصہ تھا پھر جو اختیار رسول کا دیا گیا تھا اس نے اس ختیار کے مطابق اس کا استعمال فرما کر ایک طریقہ مقرر فرما دیا گیا اس میں یہ خامی باقی رہ گئی تھی جس کو پورا کیا گیا ؟ اللہ کی پناہ ایسے خیال سے جو من ال شیطان ہے۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

پس یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک ایسا نہ کریں کہ اپنے تمام جھگڑوں ، قضیوں میں تمہیں حاکم بنائیں اور پھر ان کے دلوں کی حالت ایسی ہوجائے کہ جو کچھ تم فیصلہ کر دو اس کے خلاف اپنے اندر کسی طرح کی کھٹک محسوس نہ کریں اور وہ جو کسی بات کو پوری پوری طرح مان لینا ہوتا ہے وہ ٹھیک اسی طرح مان لیں

جھگڑوں کے فیصلوں کی عدالت اور عدلیہ کا سب سے بڑا جج ایک ہی ہے : 118: آیت زیر نظر نے سارے شکوک و شبہات کو یک قلم ختم کردیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی حیثیت صاف صاف لفظوں میں بیان کردی اور گنجائش کسی صاحب ایمان کیلئے باقی نہ رہی فرمایا ” دیکھو تمارا پروردگار اس بات پر گواہ ہے کہ یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک ایسا نہ کریں کہ اپنے تمام جھگڑوں اور قضیوں میں تمہیں حاکم بنائیں۔ “ ایک ایک لفظ پر غور کرتے جائو اور اس عبادت کو جو تمہاری اپنی زبان میں تحریر کی گئی ہے بار بار پڑھو حقیقت تم پر خود بخود واضح ہوجاتی گئی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی حیثیت مسلمان معاشرے میں کیا ہے ؟ ایمان بنیادی شرط رسول ﷺ کی ظاہراً و باطناً اطاعت ہے۔ اس کا پتہ کیسے چلے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے درمیان پیدا ہونے والے تمام نزاعات میں تمہیں حاکم نہ مانیں۔ ایک بات میں کہوں ، کوئی مولانا یا علامہ صاحب کہیں ، کوئی پیرو امام کہے درجات میں کمی بیشی کے اعتبار سے بات کی اصلیت کے لحاظ سے فرق ہو سکتا ہے کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے ان میں سے کسی کو غلطی لگی ہو کیونکہ غلطی کا احتمال ہے لیکن جو بات اللہ تعالیٰ ارشاد فرما دے اس میں بھی کوئی شک باقی رہا ؟ ہاں ! تو کسی طرح کا شک وشبہ کرنے والا ؟ یہ کہ وہ مسلمان نہ رہا۔ بس اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے کہ فَلَاَ وَرَ بِّکَ لَا یُوْمِنُوْنَ ” تیرے رب کی قسم وہ لوگ مومن نہں۔ ہو سکتے “ حَیّٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ” جب تک اپنے تمام جھگڑوں قضیوں میں آپ ﷺ کو حاکم نہ بنائیں۔ “ اس جگہ اس قسم کا موقع ومحل بھی ملحوظ رہے اس سے صرف رسول کی ظاہری وباطنی اطاعت کی تاکید ہی مقصود نہیں بلکہ یہ منافقین کی جھوٹی قسم جس کا ذکر آیت 23 میں کیا گیا جہاں ارشاد ہوا کہ ثُمَّ جَآئُ وْکَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہ ” پھر وہ تیرے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں۔ “ سچی قسم کے ساتھ تردید کرنا بھی مقصود ہے پھر ” وَرَبِّکَ “ کے خطاب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کے لئے التفات خاص کی جو دل نوازی ہے اس کی بلاغتوں کا اندازہ تو صرف اہل ذوق ہی کرسکتے ہیں میرے جیسے عقل کے پھسڈی نہیں کرسکتے اور قلم بھی ان کی تعبیر سے قاصر ہے۔ آگے چلنے سے پہلے ایک بار پھر غور کرلو ، کیا آج ہم مسلمانوں میں کوئی جھگڑا نہیں رہا ہم اپنے فیصلے کس سے کراتے ہیں ؟ ہمارے مذہبی مشاجرات کا حال کہاں ہے ؟ ہمارے مختلف مکاتب ہائے فکر میں کوئی جھگڑا نہیں ؟ ہمارے سیاسی مناقشات کا حل ؟ کیا ہم سب مسلمان ہیں ؟ قرآن کریم کیا کہتا ہے ؟ ” تیرے رب کی قسم وہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے تمام جھگڑوں قضیوں میں آپ صلی اللہ کو حکم نہ مالن لیں۔ “ کیا قرآن کریم صرف پڑھنے کے لئے ہے ؟ اظہار عقیدہ کے لئے ہے ؟ پھر سوچ لو کہ منافقت کیا ہے ؟ کیا اسلام تقریروں سے آے گا۔ اسلام اسلام کے شور سے نعرے بازی اور ہلڑ بازی سے ؟ ہاں ! جو رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ نہ کرائے وہ کون ؟ یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے فرمایا ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجَّا مِّمَّاقَضَیْتَ ” ان کے دلوں کی حالت بھی ایسی ہوجائے کہ جو کچھ تم فیصلہ کرو اس کے خلاف اپنے اندر کسی طرح کی کھٹک محسوس نہ کریں۔ “ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کا احترام ایسا ہے کہ اس کو صرف ظاہری طور پر مان لینے سے بھی ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ فیصلہ تہ دل سے تسلیم نہ کرلیں۔ جس چیز کو دل یقین کرلے اس میں کوئی شک کی گنجائش ؟ یہ فقرہ بار بار دہرائیں کہ ” ہمارے دلوں میں یقین آگیا ہے ؟ یقین آنے کا مطلب کیا ؟ کہ فیصلہ رسول ﷺ سے کرائیں اور کسی دوسرے سے ہرگز نہ کرائیں۔ کبھی اس طرف دھیان بھی دیا ؟ پھر سوچ لو اور سوچ کر جواب دو ؟ کبھی دل میں خیال پیدا بھی ہوا کہ فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے کرائیں۔ کیسے کرائیں رسول تو موجود نہیں ؟ رسول موجود نہیں۔ اس تمہاری عدالت میں جس نے قانون بنایا تھا وہ موجود ہے ؟ سول میں ؟ انتظامیہ میں ؟ ہائی کورٹ میں ؟ سپریم کورٹ میں ؟ غور کرو کیا کہہ رہے ہو ؟ رسول موجود نہیں ، کیا رسالت بھی موجود نہیں ؟ قانون لانے والا نہیں ، کیا قانون بھی موجود نہیں ؟ سوچ کر جواب دو کہ قرآن کیا ہے ؟ فرمان رسول کیا ہے ؟ کال قرآن بھی موجود نہیں ؟ پھر رسول کا فرمان بھی موجود نہیں ؟ ان حجتوں سے جان نہیں چھوٹے گی۔ ان بہانوں سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ بنی اعظم وآخر ﷺ بحیثیت رسول خود امت کے حاکم اور ہر پیش آنے والے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ آپ ﷺ کا فیصلہ کسی کے حکم بنانے پر موقوف نہیں پھر مسلمانوں کو اس آیت میں حکم بنانے کی تلقین ؟ اس لئے فرمائی گئی کہ حکومت کے مقرر کردہ حاکم اور اس کے فیصلہ پر تو بہت سے لوگوں کو اطمینان نہیں ہوا کرتا جیسا کہ اپنے مقرر کردہ ثالث یا حاکم پر ہوتا ہے مگر رسول مکرم صرف حاکم نہیں ایک معصوم شخصیت بھی ہیں ، رحمتہ للعلمین بھی ہیں ، امت کے شفیق و مہربان باپ بھی ہیں اس لئے تعلیم یہ دی گئی کہ جب بھی کسی معاملہ میں یا کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نویت آئے تو فریقین کا فرض ہے کہ رسول کریم ﷺ کو حکم بنا کر اس کا فیصلہ کرائیں اور پھر آپ ﷺ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم کر کے عمل کریں۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی مزید و ضاحت خود فرما دی۔ فرمایا وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ مَخُذُوْہُ وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَا نْتَھُوْا (الحشر :7:89) ” جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے رک جائو۔ “ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ؟ “ کہ تمام معاملات میں مسلمان رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں جو وہ دے لے لیں اور جس سے وہ روکیں رک جائیں۔ “ کیا شرک اور کفر کی کوئی تشریح رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمائی ؟ نماز ، روزہ ، حج ، زوکوٰۃ کے متعلق کچھ نہیں فرمایا ؟ والدین ، رشتہ داروں ، قرض و ادھار کے متعلق کوئی راہنمائی نہیں چھوڑی ؟ مذہبی ، سیاسی اور معاملات کی وضاحت نہیں فرمائی ؟ آخر زندگی کا وہ کونسا پہلو ہے جس کو آپ ﷺ نے تشنہ چھوڑ دیا ؟ اچھا ، حکومتی فیصلوں کی ذمہ داری تو حکومت پر ہے وہی اس کی جواب دہ ہوگی۔ آپ کے انفرادی فیصلے ، گھریلو ، مناقشات ، مذہبی اختلافات ، بھائیوں بھائیوں میں شکر رنجیاں ؟ مالی معاملات ؟ تقسیم وراثت کے مسائل ؟ ہر وہ معاملہ جو حکومت ہی کی ذمہ داری کا نہیں اس کا حال کیا ہے ؟ کیا اس معاملہ میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کچھ نہیں دیا ؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ان معاملات میں سے کسی بات سے منع نہیں فرمایا ؟ آپ کے اس ملک پاکستان میں کتنے فیصلے خالصتہ مذہب کے نام پر کئے گئے۔ ایک ایک فیصلہ کو باری باری قرآن و سنت کی سان پر چڑھائو۔ کیا جو چکھ مذہب کے نام پر ہوا پھر اس کے نفاذ میں جو کچھ کیا گیا وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی کے مطابق ہے ؟ اللہ کی حاکمیت ؟ قران وسنت کیخلاف کسی قانون کی نفی ؟ عائلی قوانین ؟ تعزیرات سرقہ وزنیٰ ؟ قانون ورثت ؟ عشر وذکوٰہ ؟ خمرو شراب کی حرمت ؟ جمعہ کی تعطیل ؟ جہیز کی پابندی ؟ شائم رسول کی سزا ؟ احمدی غیر مسلم یا کافر ، ناموس صحابہ ؟ شرعی عدالتوں کا قیام وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت کے آخر میں جو الفاظ ہیں وہ بھی اچھی طور پر غور کے لائق ہیں چناچہ ارشاد فرمایا کہ ” اور وہ جو کسی بات کو پوری پوری طرح مان لینا ہوتا ہے تو ٹھیک اسی طرح مان لیں۔ “
Ayahs 4:66–67

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو ملامت کرو یا حکم دیتے کہ اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہو تو چند آدمیوں کے سوا کوئی بھی اس کی تعمیل نہ کرتا ، حالانکہ اگر یہ اس پر عمل کرتے اور پوری طرح جمے بھی رہتے تو ان کے حق میں اچھا ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

تو اس وقت ضروری تھا کہ ہم اپنی جانب سے انہیں اجر عظیم عطا فرماتے

ان لوگوں کو اپنے آپ کو قتل کرنے ، گھروں سے نکلنے کا حکم دیا جاتا تو کیا یہ بجا لاتے ؟ 119 : اطاعت و فرمانبرداری کا ان کا حکم دیا گیا تھا اس پر انہوں نے جیسا کیسا عمل کیا وہ سب پر عیاں ہے کہ ان میں سے کتنے تھے جو منہ سے اقرار کرنے کے باوجود علمی کوتاہی کے مترتکب ہوئے۔ وہ دائو ہے جو انہیں نے نہیں لگایا ؟ کو وہ حکم ہے جس کا انہوں نے بلا چون وچرا مان لیا ؟ کو نسا وہ وقت ہے کہ وہ چیں بجبیں نہیں ہوئے ؟ یہ کن لوگوں کا بیان ہے انہیں منافقین کا جو نام کے مسلم اور کام وعمل کے کافر تھے۔ اب ان کی حلات کو مزیرد ظاہر کرنے کے لئے تاکہ ان کا نفاق کھل کر سامنے آجائے ور اس طرح گویا جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا دیا جانے کا اصول بتایا گیا کہ کہنے کو تو وہ اسلام کے مدعی بنے بیٹھے ہیں لیکن ابھی تک وہ جاہلیت کے مطابق روابط وتعلقات اور رسم و رواج کے پھندوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ ابھی تک خاندان ، برادری ، قبیلہ اور قوم کی زنجیریں اور بیڑیاں بھی ان کے پائوں میں ہیں اور وطن و سرزمین کی وابستگیاں بھی دامن گیر ہیں اس وجہ سے یہ آگے بڑھنے کی جائے بار بار پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہے ہیں حالانکہ اسلام کا اول مطالبہ یہی ہے کہ آدمی ہر زنجیر کو توڑ کر صرف اللہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوا جس طرح مہاجرین اولین اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ یہ منافقین زیادہ تر یہود اور اطراف مدینہ کے قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ یہ اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر اسلام کے اظہار ہر تو مجبور ہوگئے تھے لیکن یہ اپنے روابط سرداران یہود اور اپنے قبائلی سرداروں کے ساتھ بھی مسلسل رکھنا چاہتے تھے اور اس غرض اپنے اکثر معلامات ومقدمات میں بھی ان سے رجوع کرتے تھے اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ دونوں طرف روابط رکھ کر دنیوی فوائد حاصل کرتے رہیں۔ قرآن کریم نے ان کی اس کمزوری سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھانا شروع کیا اور ان کو صاف ننگا کر دکھایا۔ اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ان کو اپنوں سے لڑنے اور اپنے گھر بار چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ آملنے کا حکم دیا جائے تو اس جہاد و ہجرت کے لئے یہ لوگ کبھی آمادہ نہ ہوں گے یا بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو اس امتحان سے پاس مارکس حاصل کرسکیں۔ ” اُقْتُلُواْ اَنْفُسَکُمْ “ کا حکم قرآن بار بار ارشاد فرمایا ہے اور ہمارے مفسرین نے اس مراد اپنے آپ کو قتل کردینے ہی سے زیادہ ترلی ہے جو کسی صورت بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ خودشی ہے جس کی کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی اور حکم و اجازت نہیں دی گئی اور حکم و اجازت میں جو فرق ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ ہاں ! خود کشی کی سزا اسلام میں بڑی سخت ہے۔ یہ ایک طرح کا محاورہ ہے جو اپنے اندر بہت سا مضمون پوشیدہ رکھتا ہے۔ ہاں ! بلاشبہ میدان جنگ میں مسلمان نے اپنے خویش و اقارب پر تلوار چلائی ہے اگر اس سے یہی حکم مرادلیا جائے و بھی اس کی گنجائش موجود ہے لیکن وہ بات جو مفسرین نے لیھ ہے اس کی تو کوئی بھی اصل اسلام میں موجود نہیں کہ ایک طرح کا توبہ کا طریقہ تھا کہ جب انہوں نے اپنے آپ کو قتل کردیا تو اللہ نے ان کو دوبارہ زندہ کردیا اور اس طرح ان کی توبہ قبول ہوگئی ساری بےپر کی اڑائی گئی ہیں۔ جہاد جو اپنی فطرت ہی سے ایک آزمائش ہے لیکن یہ تلوار ان لوگوں کے خلاف اٹھانی پڑے جن سے خون کے رشتے موجود ہوں اور جن کی حمیتوحمایت کا جذبہ رگ ویشہ میں سرایت کئے ہوئے ہو جن کا اٹھانا بھٹانا اور پرورش کرنا ابھی تک یاد ہو ، جن کے پیار و محبت کی داستانیں ابھی تک کانوں میں گونج رہی ہوں تو یہ آزمائش اور بھی سخت تر ہوجاتی ہے اس لئے کہ اس صورت میں تلوار گویا اپنی ہی جانوں پر چلانا پڑتی ہے لیکن اسلام کے حق مقابلہ میں خون اور نسب کا کوئی رشتہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا اس لئے رب کریم کی وفاداری کا امتحان پاس کرنے کے لئے اہل ایمان کو اس مرحلہ سے بھی گزرانا پڑتا ہے چناچہ تاریخ اسلام شاہد کہ میدان بدر میں ماموں کی تلوار بھانجے ، بھتیجے کی تلوار چچا اور بیٹے کی تلوار نے باپ کو میدان جنگ میں ڈھیر کردیا اور اس طرح عصبیت ، جاہلیت کے تمام روابط دین الٰہی کے آگے بالکل بےحقیقت اور ہیچ ہو کر رہ گئے۔ جو چیز مشکل سے حاصل کی جائے اس کی قدر و منزلت دل میں بڑھ جاتی ہے : 120: اسلام کی اس حقیقت کی طرف یہاں ان منافقین کی بھی توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اگر یہ بھی اپنے خاندوان وقبیلہ اور گھردر کی وابستگیوں سے آزاد اور یکسو ہو کر کلیتاً مسلمانوں کے معاشرے میں شامل ہوجائیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح ہی اسلام قدر و قیمت کا صحیح احساس ہوتا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جو چیز مشکل سے حاصل ہوئی ہے اتنی ہی اس کی قدر و قیمت انسان کے دل میں زیادہ ہوتی ہے اور جتنی ہی کوئی چیز آسانی اور آرام سے حاصل ہوجائے اس کی قیمت اتنی ہی انسان کے دل میں بہت کم ہوتی ہے۔ ایک چیز آسانی اور آرام سے حاصل ہوجائے اس کی قیمت انسان کے دل میں بہت کم ہوتی ہے ایک چیز اپنی کمائی سے اور پھر کمائی بھی بڑی محنت کی ہو تو اس کو عوض دے کر خریدی گئی چیز کے ساتھ جو محبت وا نس ہوگی وہ اس سے سوگنا قیمتی چیز جو مفت میں حاصل ہوگئی ہو اس سے نہیں ہوتی۔ یہی حال اسلام کا ہے اس کے لئے قربانیاں دی گئی ہوں تو جس اس وقت اس کی قدر و قیمت دل میں ہوگی اس کو اس کے متعلق کیا علم ہو سکتا ہے جو نسلاً بعد نسلٍ مسلمان ہوتا آیا ہے فرمایا اس طرح جب یہ لوگ قربانیاں دے کر اسلام میں داخل ہوں گے اور فاسد ماحول سے نکل کر جب یہ پاکیزہ ماحول میں پہنچ جائیں گے تو اس وقت ان کی کمزوریاں دور ہوں گی اور پھر یہ بھی اسلام کے جاں نثاروں کے ساتھ مل کر اللہ کے وفادار اور حق کے خدمت گزار ہوجائیں گے۔ فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اطاعت رسول پورے طور پر کریں تو یہ ان کی دونوں طرح پر بھلائی کا موجب ہوگا۔ دنیا میں بھی ان کی بہتری کا موجب ہوگا اور ایمان میں بھی وہ مضبوط ہوں گے اور ثابت قدمی میں بھی ترقی کریں گے۔ یا آخرت میں یہ ان کی بھلائی کا موجب اور دنیا میں ان کی ثابت قدمی کا موجب ہوگا۔ اس سے یہ منشاء نہیں کہ حفاظت دین کے لئے اپنے آپ کو قتل تک کے لئے پیش کرنا یا اپنے گھر کو چھوڑ دینا کسی حال میں جائز نہیں ، کیوں نہیں بلکہ یہ بعض اوقات فرض عین ہے کیونکہ دین کے مقابلہ میں جان عزیز ہونا اسلام کا حکم نہیں بلکہ دین کی خاطر کان کی قربانی دینا اسلام کا ایک اہم ترین حکم ہے۔ ہاں ! اپنی جان کو خود قتل کردینا اور پھر یہ کہنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ایک بالکل طفلانہ بات ہے جو نقل و عقل دونوں کے خلاف ہے اور اس طرح کے قتل کو قربانی نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ یہ ” کنوئیں میں گرے کو خصی کرلینے کے مرادف ہے “ یا اس کو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے “ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور اسلام ایک عقل وفکر کا مذہب ہے ” سِکھ شاہی “ کا نام نہیں۔ بعض چیزوں کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ خرچ کرنے ہی سے بڑھتی ہیں : 121: اب یہ ارشاد ہو رہا ہے کہ احکام پر عمل کرنے سے خود قوت ایمانی ضعیف سے قوی اور قوی سے قوی تر ہوجاتی ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ دین کا کام کرتے رہنے سے اعتقاد یقین کی باطنی کیفیت کو بھی ترقی ہوتی رہتی ہے۔ بشرطیکہ وہ تجارت کے اصول دین کے اصولوں سے بالکل مختلف ہیں۔ اِذَّا یعنی اس وقت جب انہوں نے احکام خداوندی سر انجام دیئے ہوتے اور رسول اللہ ﷺ کا اتباع کیا ہوتا اور نتیجہ انہیں خیر وصلاح بھی حاصل ہو چکتی اور دین میں ثبات و استقامت بھی نصیب ہو چکتی اس لئے کہ یہ ایک اصلی بات ہے کہ کاٹتا وہی ہے جو بیجتا ہے جو بیجے گا نہیں آخر کاٹے گا کیا ؟
Ayah 4:68

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور ایسی راہ لگا دیتے جو سیدھی راہ ہوتی

اس طرح دین کی شاہراہ پر وہ بھی گامزن ہوجاتے : 122 : ” اور ہم ان کو ایسی راہ پر لگا دیتے جو سیدھی راہ ہوتی۔ “ اور اس طرح وہ بےدھڑک سیدھے رضائے الہٰی کے مقام جنت میں داخل ہوجاتے اور عجب نہیں کہ اس کی برکت سے دنیا میں بھی سعی وعمل کی راہ مستقیم ان پر خوب روشن ہوجاتی۔