4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 4:146

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

ہاں ! جن لوگوں نے توبہ کرلی اپنی عملی حالت سنوار لی ، اللہ پر مضبوطی کے ساتھ جم گئے اور اپنے دین میں صرف اسی کیلئے ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کی صف میں ہوں گے اور قریب ہے کہ اللہ مومنوں کو اجر عطا فرمائے ایسا اجر جو بہت بڑا اجر ہو گا

جو نفاق کے مرض سے شفا پا گیا اور سچا مومن ہوگیا اس ک اجر یقینا محفوظ ہے : 234: قریب المرگ ہو کر اگر پھر کوئی کچھ وقت کے لئے موت کے منہ سے نکل آیا تو وہ یقینا اللہ کے احسان کا مستحق ہوگیا۔ اب تو اس کو زیادہ احتاوط کی ضرورت ہے۔ نفاق کا مرض بھی بڑا مہلک مرض ہے اگر اس مرض سے کسی کو اللہ نے شفا بخش دی تو وہ بہت بڑے انعام کا مستحق قرار پایا اور اللہ نے اس پر بڑا فضل کیا کہ دوزخ کی آگ سے اس کو ایک طرح کا نکال لیا گیا۔ اس آیت نے یہ بات بھی واضح کردی کہ خالی ایمان کا عویٰ بھی شاید دعویٰ کرنے والے کے لئے کچھ مفید ہو سکتا ہے فرمایا مفید نہیں بلکہ نقصان دہ ثابت ہوگا لیکن ہاں ! جو شخص توبہ کر کے سچا ایمان قبول کرلے اور تذبذب سے باہر نکل کر ایمان کی زندگی قبول کرلے تو وہ یقیناخوش بخت ہوگیا پھر فرمایا کہ ایسے لوگوں کی توبہ کیا ہے ؟ توبہ یہ ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو دل و جان سے قبول کرلیں۔ بغیر کسی تذبذب اور ریا کے اگر یہ بات میسر آگئی تو سمجھ لو کہ ان کا انجام بخیر ہوگیا اور وہ یقینا مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے اور اس سچی توبہ کا اجر بھی عنداللہ پائیں گے۔ روٹھ کر جانے والا اگر ایک مدت گزرنے کے بعد بھی واپس آجائے تو گھر والوں کو خوشی ہوتی ہے اور اس خوشی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس طرح یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ کوئی گناہ ایسا نہیں جو پدں ائشی اور موروثی ہو کہ وہ ناقابل اصلاح ہوجائے بلکہ ہر گناہ خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو بہرحال اختیاری ہے اور اختیار چیز کسی وقت بھی چھوڑی جاسکتی ہے۔ یہ عذر کسی حال بھی درست نہیں کہ اس کا چھوڑنا ممکن نہ ہو۔ بات صرف ایمان و یقین کی ہے اور دل کے پختہ ارادہ کی۔ انسان جب بھی سوچ لے وہ اس دلدل سے نکل سکتا ہے۔
Ayah 4:147

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

لوگو ! اگر تم شکر کرو اور اللہ پر ایمان رکھو تو اللہ کو تمہیں عذاب دے کر کیا کرنا ہے ؟ اللہ تو قدرشناس اور علم رکھنے والا ہے ………

اگر تم شکر گزاری اختیار کرلو اللہ آخر تم کو عذاب کیوں دے گا ؟ 235: عذاب کی وعیدیں تم کو سنائیگئی ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ تم اپنی اصلاح کرلو اور اس طرح ان وعیدوں کی زد سے بچ جائو اگر تم خود بچنے کا ارادہ کرو تو آخر تم پہلے جس حالت میں خواہ وہ نفاق کی ہے یا کفر کی تو کسی نے مجبور کر کے تم کو اس پر لگایا ہے وہ بھی تو تمہاری اختیاری بات ہے اگر اب بھیتم اصلاح کرلو تو آخر اللہ تم کو عذاب کیوں دے گا ؟ تم اپنینفس کی اصلاح کر کے دیکھو کیا عذاب ٹلتا ہے یا نہیں بلکہ یقین جان لو کہ اللہ تعالیٰ تو کسی کو عذاب دے کر بالکل خوش نہیں اس کی تو رضاہی یہ ہے کہ سب لوگ گناہوں سے بچ جائیں وہ ایک بالشت اللہ کی طرف بڑھیں تو اللہ ایک باع آگے بڑھتا ہے۔ لیکن جب تم اس کے متعلق کچھ سوچوہی نہیں تو زور سے تو ہدایت نہیں دی جاتی کیونکہ یہ اللہ کا قانون نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ بندہ جو کوشش کرتا ہے وہ پا لیتا ہے اور اللہ سے زیادہ بڑھ کر کون ہے جو انسان کا قدر شناس ہو سکتا ہے اس لئے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا یعنی وہ تمہیں عذاب کیوں دے گا ؟ اللہ تو انسانی اعمال کا قدر شناس اور ان کی حا لتکا علم رکھنے ولا ہے۔ “ زیر نظر آیت کا بظاہر خطاب تو منافقوں کو ہے انہیں بتایا ہے کہ تمہیں سزا دینے پر اللہ تعالیٰ کا کوئی کام تو معلق ہے نہیں یہ تو محض تمہارا کفر اور وہ بھی خاص کر کفران نعمت ہے جو تمہیں جنت کی نعمتوں سے استفادہ کے ناقابل کر رہا ہے اگر تم اپنے ان عقائد کو چھوڑ دو تو رحمت حق تو خود بخود تمہیں آلے گی۔ اس میں یہ تعلیم بھی خود بخود آگئی کہ اسلام کا خدا مشرک اور جاہل قوموں کے خونخوار و سفاک دیوی دیوتائوں کی طرح نہیں جسے بندوں کی آزاد دہی ہی میں لطف آتا ہو اور اس سے یہ استنباط بھی ہوتا ہے کہ مومن شکر گزار عذاب الٰہی سے بالکل دور رہے گا اور اس آیت سے مفسرین و فقہاء نے یہ استدلال کیا ہے کہ صاحب کبیرہ کو بھی اللہ تعالیٰ عذاب سے بچالے گا۔ (کبیر) اس آیت پر قرآن کریم کا پانچواں پارہ ختم ہور رہا ہے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے تو آخر اللہ اس کو کیوں عذاب دے گا ؟ اس لئے ہماری التجا ہے کہ اللہ کے ان بندوں کی سوانح کا بندوں میں سے ایک بندہ سیدناابراہیم بھی ہیں جس طریقہ کی پر وی کا حکم دیا گیا ہے وہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا طریقہ ہے چناچہ ابراہیم کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ” ابراہیم اپنی ذات میں پوری امت تھا۔ اللہ کا مطیع فرمان یکسو۔ وہ کبھی مشرک نہ تھا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر یہ ادا کرنے والا۔ اللہ نے اسی کو منتخب کرلیا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ “ (النحل 16:120 ، 121) اور یہی وہ نبی ہیں جو ہمارے مواحدین کے جد امجد ہیں۔
Ayah 4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ کو پسند نہیں کہ تم برائی پکارتے پھرو ، ہاں یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

اللہ کے نزدیک منہ کھول کر کسی کی برائی پسندیدہ نہیں ہے ہاں ! مظلوم کا حق محفوظ ہے : 236: جماعتی زندگی کے اہم مسائل میں سے ایک یہ مسئلہ بھی ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی برائی جنم لے چکی ہوتی ہے اور جڑ پکڑچ کی ہوتی ہے تو اس کا تدارک بلاشبہ ضروری ہوتا ہے اور اس تدارک کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس تدارک کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس برائی کی قباحت و شناعت ، اس کے نتائج بد اور اس کے مرتکین کا انجام قوم کے سامنے اس طرح کھول کر اور واضح طور پر رکھا جائے کہ جماعت کے افراد اس شر سے محفوظ رہیں لیکن اس کا انداز بیان ایسا ہو کہ جماعت کے عام افراد بعض افراد کو اپنے اندازہ اور اندیشہ سے نشانہ و ہدف نہ بنالیں کیونکہ اس سے بجائے فائدہ کے بعض اوقات نقصان کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ کلام الٰہی کا کمال یہ ہے کہ جب وہ قوم کی کسی ایسی بیماری کی وضاحت کرتا ہے تو ساتھ خاص ہدایات بھی دے دیتا ہے تاکہ اس کے مضرات سے بچا جاسکے۔ زیر نظر آیت میں بھی مسلمانوں کو تنبیہہ کی جارہی ہے اور پیچھے بہت سی آیات میں منافقین کا مسلسل ذکر چلا آرہا ہے اور منافقت قومی بیماریوں میں سب سے زیادہ مہلک اور بڑی بیماری ہے اس لئے اس کی وضاحت فرما دی کہ جوش میں آکر مسلمان منافقین سے الجھائو ہی نہ شروع کردیں۔ ان کو جو سزا ملے گی وہ عنداللہ ہے لیکن جب وہ اسلام کا نام لے کر اس کے ساتھ وابیتگہ کا اعلان کرچکے ہیں اگرچہ ان میں عملی کمزوریاں موجود ہیں لہذا ان کی کمزوریوں کا مجمل یا مفصل بیان تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان افراد کو نام بنا م کوئی ایسی بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہو سکتے۔ اس سے ضد بڑھتی ہے اور اسلام کا کام ضد بڑھانا نہیں بلکہ تفہیم کرانا ہے اور تفہیم کا طریقہ ہی یہ ہے کہ کسی انسان کو نشانہ بنایاجائے بلکہ اس کو سمجھنے کا موقع دیا جائے۔ چونکہ پیچھے بہت سی آیات میں منافقوں کا حال کھول کر بیان کیا گیا ، کچھ ان کی چھپی ہوئی بدیاں اور کمزوریاں تھیں ان کو ظاہر کیا اب ان کا ذکرختم کرتے ہوئے یہ بھی سمجھا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خفیہ بدیوں کا یوں اعلان کیا تو یہ محض اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شرارتوں کا نشانہ بنایا چونکہ وہ مسلمانوں پر کھلا ظلم کر رہے تھے اور ان کو تباہ کرنے کی سازش کے مرتکب ہوئے تھے چونکہ مسلمان اس لحاظ سے مظلوم تھے پھر ان کی زبان سے یہ باتیں بیان کی گئیں تو یہ محض اس لئے کہ وہ مظلوم تھے اور مظلوم کو حق ہے کہ وہ ظالموں کا نام لے کر اور ان کی پوری پوری نشاندہی کرا کر بات کو واضح کرائے ۔ ابھی تک انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ ان کی عام حرکات کا ذکر کیا کہ وہ اس اس طرح کرتے ہیں اس طرح دوسری طرف ان کو یہ بات بھی بتا دی کہ اگر تم نے اس کا غصہ ناجائز طریقہ سے نکالا تو تمہاری حالت کو مزید بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے بہتر ہے کہ آپ اپنی اصلاح کرلیں اور مسلمانوں کی برائی سوچنے کی بجائے اپنی بھلائی کا خیال رکھیں۔ اصلاح کا پہلو اس میں ہے نہ کہ مظلومین کے ناطقہ بند کرنے میں۔ اس کو کہتے ہیں کہ ” ایک پنتھ دو کاج “ کہ بات ایک ہی ہے لیکن ایسی کہ دونوں طرف کے لوگوں کی اصلاح ہوجائے اور انتشار نہ ہو بلکہ امن قائم ہو اور یہ اعتدال ہی کی راہ سے ممکن ہے۔ زیر نظر آیت میں ” الجھر بالسوء “ کے الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئے اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ ” جھر “ کسی چیز کے ظہور کو کہا جاتا ہے وہ حاسہ بینائی کی افراط سے ہو یا شنوائی سے اور قرآن کریم میں ان دونوں ہی صورتوں میں اس کا استعمال ہوا ہے پہلی کی مثال اس طرح ہے کہ قرآن کریم میں ہے ” حتی نری اللہ جھرۃ “ (2:55) اور ایک جگہ ارشای ہوا ” ارنا اللہ جھرۃ “ (4:153) اور دوسرے معنوں میں فرمایا ” من استر َا لقو لَ وَمَن جَھرَبِہ “ (10:13) اور ” یَعُلَمُ الجَھرَمِنَالقَولِ “ (5:3) اور ” وَلَا تَجھَر بِصَوتِکَ وَلَا تُخَافِت بِھَا “ (110:17) اور وَلَا تَجھَرُ واَلہ بِا لقَولِ کَجَھرِ بَعضِکُم لِبَعضِِ “ (الحجر ات 2:49) اور اس جگہ ” اَلجَھرَبِالسُّو ئِ “ دوسرے معنوں ہی میں استعمال ہوا ہے اور انہی آیات میں غور کرنے والوں کو ” وَلَا تَجھَر بِصَلو تِکَ وَلَا تُخَا فِت بِھَا “ کا مفہوم وا ضح ہوجائے گا کہ نماز میں کس ” جر “ اور کو کس ” خفی “ سے منع کیا گیا ہے پھر ” وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا “ کے جملہ نے سا ری کسر نکال دی ہے اور اس طرح شنوائی کے ” جھر “ میں جو اسباق پو شیدہ ہیں ان پر بھی نظر فر ما لیں ۔
Ayah 4:149

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

تم بھلائی کی کوئی بات ظاہر طور پر کرو یا چھپا کر کرو یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو اللہ بھی قدرت رکھتا ہے اور درگزر کرنے والا ہے

مسلما نوں کیلئے مزید ہد ایت کہ بھلائی کی بات کو چھپا ئو یا ظا ہر کرو لیکن بدی پر پردہ ہی بہتر ہے : 237: اصول یہ یاد رہنا چا ہئے کہ انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے علاوہ انبیاء کرام کسی کو معصوم مت سمجھوہاں ! کسی بھلائی کی بات سنو تو اس کو فوراََ بیان کرو یا خاموش رہو تمہاری مر ضی کی بات ہے لیکن کسی کی بری بات سنو تو اس کو ہر حال میں چھپا ئو اس لئے کہ برائی کی اشا عت فی نفسہ بری چیز ہے لیکن حد اعتدال سے تجا وز کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے تم کو برائی کی اشاعت سے روکا گیا ہے یہ نہیں کہ کسی کی برائی کا نام لینا ہی حرام ہے بلکہ بعض اوقات اس کا بیان ضروریات اسلام میں سے ہے اشا عت اور ضروریات لو ذہن میں رکھنا چا ہئے ۔ انسان اپنے نفس کو ٹٹولے تو اس کو نظر آئے گا کہ کسی کے سا تھ حسن سلوک کرنے یا اس پر مال خرچ کرنے سے کہیں زیادہ شا ق نفس پر یہ گزرتا ہے کہ کوئی ہمیں دکھ پہنچائے اور ہم اس سے در گزر کر جائیں اور انتقام نہ لیں اس لئے فعل خیر سے الگ اور ممتاز کر کے اس وصف چشم پو شی اور عدم انتقام کو بیان کیا ہے۔
Ayah 4:150

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے برگشتہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ میں اور اس کے رسولوں میں تفرقہ کریں اور کہتے ہیں ہم ان میں سے بعض کو مانتے ہیں بعض کو نہیں مانتے اور اس طرح چاہتے ہیں ایمان و کفر کے درمیان کوئی راہ اختیار کر لیں

مسلمانوں کی اخلاقی حالت کو درست کرنے کا نسخہ الہی ! کوئی استعمال کرکے تو دیکھے : 238 : اخلاقی حیثیت سے یہ تینوں مر تبے الگ الگ ہیں یہاں کیسی صحیح تر تیب کے ساتھ بیان کیا ہے پہلادرجہ یہ ہے کہ انسان نے نیکی کی اور سا تھ ہی وہ اس کا اظہارا علان بھی کردیتا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ خلق سے داد لینے کی خواہش ایک حد تک طبعی ہے۔ وہ ظا ہر نہیں کرے گا تو داد ملے گی ؟ فرما یا نیکی تو یہ بھی ہے لیکن ـ” ان تُبدُواخَیراََ “ اس لئے اس سے اونچا درجہ یہ ہے کہ نیکی کرے اور خلق سے داد و صلہ کی پر وا ہی نہ رکھے بلکہ اس کو خلق کے علم میں آنے ہے نہ دے بشرطیکہ اس لئے اس کو اس کے بعد بیان فرمایا کی ” اَوتُخفُوہُ “ تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان کو نا گوار یاں پیش آئیں اور وہ انہیں نظر انداز کر جائے اور برائی کرنے والے سے بدلہ نہ لے اور ظا ہر ہے کہ یہ نفس کیلئے بہت ہی شا ق ہے اس لئے اس کا مر تبہ پہلی دو نوں نیکیوں سے بڑھ کر ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو ” تَعفُوا عَن سُوئِِ “ کے الفاظ سے بیان فرمایا ۔ فرمایا اگر تم اس آخری مر تبہ پر فا ئز ہوگئے تو تم بہت ہی خوش قسمت ہوئے کیونکہ عَفُوََّا کی صفت تو اس مالک الملک کی ہے پھر کیا خوب ہے جو بندہ بھی اپنے آب کو اس کے رنگ میں رنگ لے ! تم بتا ئو کہ وہ خوش قسمت نہیں ہوگا اور کیا ہوگا ؟ پھر ساتھ ہی اللہ تعا لی کی صفت کا بھی اظہار فر مادیا کہ اللہ ہی کی تو ذات ہے جو قدیرّا ہے انسان نے اگر در گزر کی تو وہ بھی سو چے کہ وہ بدلہ لے ہی کہاں تک سکتا ہے ؟ انتقام پر قدرت کامل تو اللہ ہی کو حاصل ہے اور وہ عفو ودر گزر سے کام لیتا ہے اور لیتا ہی رہتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ بندوں کو عفو و در گزر کی راہ پر لانے کا کتنا ہی مو ثر و حکیمانہ طر یقہ ہے ! اما م رازی (رح) جن کی نکتہ رسی قرآن فہمی میں قابل صدر شک ہے اس جگہ خوب فرما گئے کہ ” آیت کے ان دو مختصر فقروں میں سا را خلا صہ اخلاق بند کر کے رکھ دیا گیا اور اب کوئی جتنا کھو لنا چاہے ان دو نوں جملوں کی خوبی ختم ہونے والی نہیں اور شاہ اشرف علی تھانوی (رح) کی بیان القرآن کا یہ حصہ قابل دید ہے۔ اس مضمو ن کو قرآن کریم میں تصر یف آیات کے ذریعہ بھی سمجھا یا گیا ہے اور چو ن کہ انسان کا نفس ‘ بیو ی اور اولاد بعض اوقات ان اوصاکے راستے کی رکاوٹیں ہیں اس لئے جی چا ہتا ہے کہ ایک دو جگہو ن کا اشارہ دے دیا جائے چنا نچہ ارشاد الہی ہے کہ : ” اے لو گو جو ایمان لائے ہو ‘ تمہا ری بیو یوں ‘ تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزما ئش ہیں اور اللہ ہی وہ ذات ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔ “ (التغا بن 15 , 14:64) اور ایک جگہ ارشاد فر مایا : تم میں سے جو لوگ صا حب فضل اور صاحب مقدر ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا لیں کہ اپنے رشتے داروں ، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لو گوں کی مدد نہ کریں ۔ انہیں معاکردینا چا ہے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاکرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے۔ “ (النور 24:22) ” برائی کا بدلہ ویسی ہی براہی ہے ، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ اللہ ظا لموں کو پسند نہیں کرتا اور جو لوگ ظلم ہونے کہ بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی ، ملا مت کے مستحق تو وہ ہیں جو دو سروں پر ظلم کرتے ہیں اورز مین میں ناحق زیا دتیاں کرتے ہیں ایسے لو گوں کیلئے درد ناک عذ اب ہے ہاں ! جو شخص صبر سے کام لے اور در گزر کرے تو یہ بڑی اولو العزمی کے کا موں میں سے ہے۔ “ الشو ری (43 , 40 , 42) (مز ید و ضا حت کیلئے عر وہ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 171 , 172 کا مطالعہ کریں ۔ ) اللہ اور اس کے رسو لوں سے انکار کرنے والوں کا کر دار کیا ہے ؟ 239: اس مضمو ن کو بار بار قرآن کر یم میں دہر ایا گیا ہے کہ اللہ کی سچائی اس کی سا ری با توں کی طرح اس کی عالمگیر بخشش ہے وہ نہ تو کسے خا ص زما نہ سے وابستہ کی جاسکتی ہے ، نہ کسی خا ص نسل و قوم سے اور نہ کسی خاص مذہبی گروہ بندی سے۔ تم نے اپنے لئے طرح طرح کی قو میتیں اور جغرافیائی اور حد بندیاں بنا لی ہیں لیکن تم اللہ کی سچائی کیئے کوئی ایسا امتیاز نہ گھڑو ۔ اس کی نہ تو کوئی قو میت ہے ، نہ نسل ہے ، نہ جغرافیائی حد بندی ہے اور نہ ہی جما عتی حلقہ بندی ہے وہ اللہ تعا لیٰ کے سور ج کی طرح ہر جگہ چمکتی اور نوع انسانی کے ہر فرد بشر کو روشنی بخشتی ہے اگر تم اللہ کی سچائی کے طا لب ہو تو وہ کسی نسل و قوم میں ہرگز تلاش نہ کرو اس لئے اس نے ” تَفُرِْتُق بَینَ ا لرُّسُلُ “ ‘ یا اللہ اور اس کے رسو لوں کے درمیان تفر قہ “ وے سختی سے منع کیا ہے وہ دکہتا ہے کہ راہیں صرف دو ہیں صرف دو ہیں ایمان کی اور کفر کی پھر ایمان کی راہ یہ ہے کہ بلا تفر یق سب کی تصدیق کی جائے یعنی سب کو ما نو اور انکار کی راہ یہ ہے کہ سب کا یا کسی ایک کا انکار کرو ۔ یہاں کیس ایک کا انکار بھی وہی حکم رکھتا ہے جو سب کے انکار کا ہے۔ اس آیت سے یہ بات پھی واضح ہوجاتی ہے کہ اہل کتاب بلا شبہ اہل کتاب ہیں لیکن ان میں سے جو پکے کافر ہیں جن کے کفر میں جن کے کفر میں کسی طر حکا شبہ نہیں ان کو صا حب ایمان اہل کتاب کی طرح سمجھنا بھی نادانی کی بات ہے۔ جن اہل کتاب سے منا کحت اور اس طرح کی دو سری با توں اور میل جول کی اجا زت ہے وہ وہ اہل کتاب نہیں ہو سکتے جو اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں جن کو ” اِنَّالَّّذِینَتکفُرُونَ بِا للہ وَرُسلِہِ “ سے مخا طب کیا گیا ہے۔ بلا شبہ یہ وہ لوگ ہیں جو نام کے لحاظ سے اہل کتاب ہیں لیکن ان کے عقا ئد و اعمال اس بات پر گواہ ہیں کہ وہ کھلے کفر کے پر مرتکب ہوئے ہیں اور یہ وہی ہیں جو انبیاء کرام کو قتل کرنے والے بعض کو نبی ما ننے اور بعض کا انکار کرنے والے ہیں ۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن لو گوں نے مسلما نوں کے گر و ہوں کو کفر کی نگا ہ سے دیکھا ہے ان کی نظر بھی اہل کتاب کے اس کھلے کفر کی طرف کیوں نہیں گئی اور انہوں نے سارے اہل کتاب کے سا تھ منا کحت اور میل جول کی اجا زت کس نا طے سے دی ہے اور یہ چو ک جہاں سے بھی ہوئی ہے رسالت اور عہد صحا بہ ؓ کا دا من ان با توں سے با لکل پاک ہے۔ جہاں بہت سے با تیں دین اسلام میں با ہر سے لا کر اسلام میں دا خل کرلی گئی ہیں حقیقت میں اس کا تعلق بھی انہیں میں سے ہے اسلام ایسے تسا مح سے با لکل منز ہ ہے۔ لیکن قو می نظر یات جو گھڑلے جا تے ہیں ان میں فہم و بصیرت سے کام لیا جانا ممنوع قرار دیا جاتا ہے چو ن کہ یہ بیما ری ہر قوم میں موجود ہے اس لئے اس معاملہ میں ساری قو موں کا اجتماع ہوجاتا ہے اور جب اجماع امت کے جا م سے بد اعتدلیوں کا تدارک ممکن نہ ہو تو اس اجماع امم کے نام سے ادیان میں دا خل ہونے والی چیزوں کا کوئی علاج کب ممکن ہو سکتا ہے ؟ اس لئے صا حب عقل و دا نش بھی انہیں کو کہا جاتا ہے جو امت کے یا امم کے یا امم کے ان نریوں کی حمایت میں لب کشائی کرتے ہیں ‘ دوسروں کے منہ میں ہمیشہ مٹی ہی ڈالی جاتی ہے اور ایسے رند کم ہی ہوتے ہیں جو کسی کے مٹی ڈالنے کی پر وا نہ کریں کیونکہ ان مگر مچھوں سے بیر لگا کر در یا میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ کو ن ہے جو مر نے کیلئے ہر وقت تیار رہے ؟ اگرچہ مر نا سب کیلئے لاز م ہی ہے۔
Ayah 4:151

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

تو ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور کافروں کیلئے ہم نے ذلت دینے ولا عذاب تیار کر رکھا ہے

یہ لوگ ابنا نام کچھ رکھیں لیکن عند اللہ پکے کافر ہیں : 240 کہیں یہ سمجھ لیا جا ہے کہ ان اہل کتاب کہلانے والوں کا درجہ و مرتبہ کافروں سے تو بہرحال بہتر ہی ہوگا۔ فرمایا ایسا نہ سمجھ لینا اس لئے کہ یہ لوگ تو پکے کافر ہیں ۔ جملہ کی تر کبس خود ہی زور پیدا کرنے کے لئے کا جی ہے ۔ ” حقا “ کا اضا فہ تا کید مز ید کیلئے ہے (تفسیر کبیر ) یہ ” تفر یق بین الر سل “ اور ” اللہ اور اس کے رسو لوں کے در میان تفر قہ “ کے مر تکب کیوں ہے ؟ اس لئے کہ ان کے خیا لات و نظر یات کی تہ میں اصل روگ اپنی بڑائی کا ہوتا ہے شعو ری یا لا شعو ری طور پر ‘ بر حال یہ لوگ سمجھتے یہی ہیں کی ان کی عقل و دانش و حی الہی کے مقا بلہ میں زیا دو وزن دار ہے اور پیغمبروں سے نعو ذبا للہ کچھ ایسی کو تا ہیاں سر زد ہوتی ہیں کہ وہ نبی کہلا نے کے حق دار نہیں یا یہ کہ وہ نبی نہیں یا یہ کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ بنا لئے گئے ۔ یا ئہ کہ اللہ کچھ کہتا ہے اور اس کے رسول کچھ اور ہی فر ما تے ہیں (نعو ذبا للہ ) انہوں نے اپنے روگ کو انبیاء کر ام کے ذمہ کیسے لگا دیا ؟ اس کی بہت تفصیل پیچھے گزر چکی ہے اگر خو اہش ہو تو تفسیر عر و تہ الو ثقی جلد اول تفسیر سو رہ بقرہ کی درج شد ہ آیات کی تفسیر ملا حظہ بقرہ 85 ‘ 136 ‘ 177 ‘ 285۔ ان کے کفر کا فیصلہ کسی اسمبلی یا عدالت ملکی میں نہیں ہوا دوزخ ان پر لا زم کردی گئی ہے : 241: ان کے کافر ہو نیکا فیسلہ قا نو ن الہی کا بر اہ را ست فیصلہ ہے جس قا نو ن میں نہ تر میم و تنسیخ ہے اور نہ ہی کوئی اپیل کا مقام ہے اس لئے کہ قا نو ن الہی میں غلطی کا کوئی امکان مو جود ہی نہیں ۔ انہوں نے دین الہی اور اللہ کے رسو لوں کو رسوا کرنے کی نا کام کوششیں کی ہے اس لئے ان کیلئے رسوا کرنے والا عذاب ہی لازم کردیا گیا ہے جو ان پر اس طرح چپکا دا گیا ہے کہ کسی کے اتا رنے سے وہ کبھی نہیں اتر نے سے وہ کبھی نہیں اتر نے کا اس لئے کہ ان کے کفر کا فیصلہ کسی مذہبی جر گہ یا کسی ملک کی قو می یا صو بائی اسمبلی یا عد لت میں پا س نہیں ہوا بلکہ یہ بر اہ راست اس اس احکم الحا کمین کا فیصلہ ہے جو پذات الصور ہے اور وہ سلوں کے رازوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیا لوں سے و اقف ہے۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسروں سے جدا نہیں کیا ، تو بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں کہ عنقریب وہ ان کا اجر عطا فرمائے گا اور اللہ بخشنے والا رحمت رکھنے والا ہے

242: قرآن کر یم کہتا ہے کہ جب سر چشمہ ہد ایت ایک ہے تو یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چشمہ سے سیر اب ہونے والے اپنی اپنی قوم کو الگ الگ ہد ایت دیں اس طرح تسلیم کرنا تو گو یا سر چشمہ ہد ایت کا انکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسو لوں پر ایمان لانے والے اس گمر ہی کے مر تکب ہو سکتے۔ وہ اس سچائی کو ما نتے ہیں جو پیغمبر اسلام محمد رسول ﷺ پر بھی ان کا ایمان ہے جو ان سے پہلے نا زل ہوچکی ہیں اور آخرت کی زندگی پر بھی ان کا پختہ یقین ہے کہ یہی تعلیم سا رے انبیاء کر ام کی تھی سو یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی ٹھہرائی ہوئی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں کامیاب ہیں ۔ ان کا ایمان ہے کہ اس تما م کار خا نہ ہستی کا خا لق ایک اور صرف ایک ہی ہے وہی خا لق ہے اور اس کے قا نو ن کے سہا رے یہ نظا م چل رہا ہے جب اس کی اس کا ئنات ہستی کا نظا م ایک ہی ہے تو ظا ہر ہے کہ اس کی رو حانی سچائی کا قا نو ن بھی ایک ہی ہو ۔ فرمایا ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسو لوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسروں سے جدا نہیں کیا یعنی کسی ایک سے بھی انکار نہیں کیا تو بلا شبہ ایسے ہی لوگ ہیں کہ سچے مو من ہیں اور عنقر یب ہم انہیں ان کے اجر عطا فر مائیں گے اور اللہ بخشنے وا لا رحمت رکھنے والا ہے۔ “
Ayah 4:153

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ آسمان سے کوئی کتاب ان پر نازل کرا دو تو یہ اس سے بھی بڑی بات کا سوال موسیٰ سے کرچکے ہیں ، انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ آشکارا طور پر دکھلا دو ، تو ان کی شرارت کی وجہ سے بجلی نے انہیں پکڑ لیا تھا پھر باوجودیکہ دین حق کی روشن دلیلیں ان پر واضح ہوچکی تھیں وہ بچھڑے کو لے بیٹھے ، ہم نے اس سے بھی درگزر کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ظاہر و واضح اقتدار دے دیا

اہل کتاب کا سوال پبرمو اسلام سے اور ان کے سوال کا جواب خداوندی : 243: شرارتی ذہنیت کیا ہے ؟ یہی کہ کوئی نہ کوئی نئی شرارت سوچ لی اور پھر اس کا خوب چرچا کیا ۔ زیر نظر آیت میں یہود کی اسی ذہنیت کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کی تاریخی شقاوتوں کی طرف اشارات کئے ہیں جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ حق کے مقابلہ میں انکار و شرات کرنے والے برابر شرارت کرتے ہی رہے۔ اگر ان کو فرمائشی معجزات دکھلا بھی دئیے جائیں جب بھی وہ ماننے والے نہیں اس لئے وہ کبھی نہیں اس لئے وہ کبھی نہیں مانیں گے ۔ فرمایا یہ جو کچھ انہوں نے کہا کوئی نئی بات نہیں کہی انہیں لوگوں کی شرارت سے قبل ازیں اہل مکہ بھی یہ سوال اٹھا چکے ہیں ۔ فرمایا ” انہوں نے کہا ‘ ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تُو اس میں نہرین رواں کردے یا تُو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے۔ یا خدا اور فر شتوں کو رُو در رُو ہمارے سا منے لے آئے یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔ اے پغمبر اسلام ! ان سے کہہ دو پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی ہوں ؟ جو تم مجھ سے ایسی سفارشیں کر رہے ہو ۔ مخالفین کا مطالبہ کیا تھا ؟ یہ کہ تم پیغمبر ہو تو 3 ابھی زمین کی طرف ایک اشارہ کرو اور یکایک چشمہ پھوٹ پڑے فوراً ایک لہلہاتا باغ پیدا ہوجائے اور اس میں نہریں جاری ہوجائیں ۔ آسمان کی طرف اشارہ کرو اور تمہارے جھٹلانے والوں پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرجائے ۔ ایک پھو نک مارو اور چشم زدن میں سونے کا ایک محل بن کر تیار ہوجائے ۔ ایک آواز دے اور ہمارے سا منے خدا اور اس کے فرشتے فو راً آکھڑے ہوں اور وہ شہا دت دیں کہ ہم نے محمد ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے یا ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ کر جائو اور اللہ میاں سے ایک خط ہمارے نام لکھوا لائو جسے ہم ہاتھ سے چھوئین اور آنکھوں سے پڑھیں یہ تھے وہ مطالبات جو انہوں نے کئے تھے اور ان کو جواب دیا گیا تھا کہ ” ان سے کہو پا ک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغا م لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ یعنی بےو قوفو ! کیا میں نے کہیں خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا کہ تم یہ مطالبہ مجھ سے کرنے لگے ہو ؟ میرا دعویٰ تو اول روز سے یہی تھا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام لانے وا لا ایک انسان ہوں ۔ تمہیں جانچنا ہے تو میرے پیغام کو جانچو ایمان لانا ہے تو اس پیغام کی صداقت و معقولیت دیکھ کر ایمان لائو ۔ انکار کرنا ہے تو اس پیغام میں کوئی نقص نکال کر دکھائو ۔ میری صداقت کا اطمینان کرنا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کو ‘ میرے اخلاق کو ‘ میرے کام کو دیکھو ۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر تم مجھ سے یہ مطالبہ کرنے لگے کہ زمین کو پھاڑو اور آسمان کو گرائو ؟ آخر ایک پیغمبر کا ان کاموں سے کوئی تعلق ہے ؟ اور یہی اس جگہ ان یہود کو جواب دیا جا رہا ہے ” اے پیغمبر اسلام ! اہل کتاب یعنی یہودی تم سے درخواست کرتے ہیں کہ آسمان سے کوئی کتاب نازل کرا دو تاکہ انہیں تصدیق ہوجائے کہ تم اللہ کے رسول ہو تو یہ فرمائش انہوں نے تم ہی سے نہیں کی ہے اس سے بھی بڑی بات کا سوال یہ مو سیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے ہیں انہوں نے یعنی ان کے بزرگوں اور ہم مشربوں نے سین کے میدان میں کہا تھا کہ ہمیں خدا آشکارا طور پر دکھلا دو یعنی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ خدا تم سے کلام کررہا ہے تو اس طرح ان کی شرارتوں کی وجہ سے بجلی کی ہولناکی نے انہیں پکڑ لیا تھا ۔ “ آج اگر یہ لوگ آپ ﷺ سے مطا لبہ کرتے ہیں کہ ہمارے سا منے آسمان پر جا ئو اور وہاں سے ایک لکھی لکھائی کتاب لا ئو جس کو ہم پڑھیں تو تم کو نبی مان لیں گے تو یہی لوگ کل مو سیٰ (علیہ السلام) سے مطا لبہ کرچکے ہیں کہ ہم کو اللہ دکھائو ہم اس کو رو در رو دیکھیں وہ ہمارے سا تھ بھی ہمکلام ہو یا کم از کم ہما ری آنکھوں کے سا منے وہ تم بات چیت کرے پھر تم کو نبی مانیں گے ۔ پھر اس ظلم کے با عث ان کو ایک سخت چیخ نے آن لیا اور یہ دیکھتے رہ گئے پھر کیا وہ شرارتوں سے باز آگئے تھے جو یہ آئیں گے ۔ ان کی اَن ہونی با توں کا آپ ﷺ کچھ خیال نہ کریں یہ بھی اپنے انجا م کو پہنچ جائیں گے جیسے ان کے پہلے پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے بچھڑے کی پو جا شر وع کردی اور نشا نات الٰہی کی پر وا نہ کی :
Ayah 4:154

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

پھر عہد لینے کے لیے ہم نے ان کے سروں پر طور بلند کردیا اس کے بعد ہم نے انہیں حکم دیا کہ شہر کے دروازے میں جھکے ہوئے داخل ہو اور ہم نے حکم دیا کہ سبت کے دن سے تجاوز نہ کر جاؤ ، ہم نے ان سے ان باتوں پر پکا عہد و میثاق لے لیا تھا

244: یہ وہی لوگ ہیں کہ بچڑے کی محبت ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہے ان سے ہم نے طور پہا ڑ کے نیچے کھڑا کر کے عہدلیا تھا لیکن ان کو تو ڑتے ذرا دیر نہ لگی ۔ ان کو ایک شہر کے دروازے سے گز رنے کا حکم دیا تھا کہ تم فر ما پبر داری کا اظہار کرتے ہوئے اس میں داخل ہوجا ئو لیکن انہوں نے ایک نئی شرارت نکال لی کہ ہمارے کلام ہی کو با لکل بدل کرر کھ دیا اور فر ما نبر دا ری کے سا تھ انہوں نے ’ نا “ کا سا بقہ لگا یا ان کو ہفتہ کے روز شکار سے منع کیا گیا تھا انہوں نے اس میں بھی ایک نئی حجت نکال ڈالی ۔ انہوں نے بر ملا کہا کہ ” ہمارے دل بند ہیں “ آپ کی تعلیم ہم پر اثر نہیں کرسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے ما ننے والے نہیں ان کی سا ری شر ارتوں کا تفصیلی ذکر پیچھے سو رہ البقرہ میں گزر چکا ہے اس لئے تفصیل دیکھنا ہو تو تفسیر عر وہ الو ثقیٰ جلد اول آیت 48 تا 53 ‘ آیت 57 ‘ آیت 65 اور آیت 72 کے حا شیے مطا لعہ کریں ۔
Ayah 4:155

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

پس ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے اور اللہ کی آیتیں جھٹلانے کے باعث اور اس وجہ سے کہ اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے اور انہوں نے کہا ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے یہی وجہ ہے کہ معدودے چند آدمیوں کے سوا سب کے سب ایمان سے محروم ہیں

اس جگہ چو ن کہ ان کے مسیح (علیہ السلام) کے انکار اور سید ہ مر یم پر تہمت رکھنے کا بیان کر مقصود تھا اس لئے ان کی پچھلی شرارتوں کا حوالہ بھی دے دیا گیا جو ان کے باپ دادا کرچکے تھے اور اس طرح گویا قرآن کریم نے یہ تعلیم بھی دے دی کہ قومی نظریات ہمیشہ پیچھے سے چلے آرہے ہوتے ہیں اس لئے یہ سب سے بڑی دلیل ان کے پاس ہوتی ہے کہ یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں یہ صرف آج ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ ہم نے تو اپنے باپ دادوں سے ایسا ہی سنا ہے اور اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے ؟ کیا پچھلے سارے غلط تھے اور آج تم اکیلے صحیح ہوگئے ہو ؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟ یہ گویا ساری دلیلوں اور سارے نشانات سے بڑی دلیل اور بڑی نشانی ہے جو اس وقت ان کے پاس تھیء اور آج ہمارے پاس بھی ہے کہ جب دلائل کا کوئی جواب نہ بن سکا تو یہ بات کہہ دی کہ کیا وہ سارے لوگ غلط تھے۔ آج تک تو کسی نے یہ بات نہ کہی آج تمہاری سمجھ میں یہ بات آگئی اور قرآن کریم نے ان کی اس گمراہی کا بھی بار بار ذکر کیا ہے کہ وہ جب بولتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں صرف ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کہتے سنا تھا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا اس لئے ہم تیرے کہنے پر باپ دادوں کی باتوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں۔ لیکن آج ہم بھی بالکل وہی کہتے ہیں جو اس وقت یہود کہا کرتے تھے فرق صرف یہ ہے کہ کسی کی بات کرنا آسان ہوتی ہے اور اپنی طرف دھیان کم ہی جاتا ہے۔
Ayah 4:156

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور انہوں نے کفر کیا اور مریم (علیہا السلام) کے خلاف بڑے ہی بہتان کی بات کہی

یہود کی شقاوت کا بیان کہ انہوں نے سیدہ مریم پر بہتان باندھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی : 245: سیدہ مریم ؓ کا تذکرہ سورة آل عمران کی آیت 53 تا 46 میں کیا گیا ہے جس میں آپ کی طہارت و پاکیزگی و بزرگی کا بیان ہے لیکن یہود کی کتابوں میں ایسی گندی روایتیں اس پاک سرشت خاتون کی بابت لکھی ہوئی ہیں کہ ان صفحات کو بہ غرض رد بھی نقل کرنا پسند نہیں کیا جا رہا اور خصوصاً اس لئے کہ جب قرآن کریم نے بھی صرف ان کی طہارت و پاگیزگی کا بیان کرنا ہی پسند کیا ہے ان لغو بیانات کا کا ذکر صحیح نہیں سمجھا تو اس بات کو قابل ذکر نہ سمجھنا کوئی غلط نہیں بلکہ ان سے صرف نظر ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس سارتے طومار خرافات کی طرف بکمال بلاغت ، بہتان اور بہتان عظیم کے الفاظ لا کر اشارہ کردیا۔ جیسا کہ اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ عمران کی صاحبزادی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھیں نکاح حسب روایات تاریخی یوسف سے ہوا تھا جو نجاری کا کارخانہ قائم کئے ہوئے تھے اور دونوں ہی بڑے عابد اور خدا رسیدہ تھے۔ بہتان کیا ہے ؟ بہتان وہی ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے خود دوسری جگہ اشارہ کردیا کر ” جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بےقصور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لئے لیا ہے۔ “ (الاحزاب 58:57:33: ) بس یہ ؟ آیت بہتان کی تعریف متعین کردیتی ہے یعنی جو عیب آدمی میں نہ ہو یا جو قصور انسان نے نہ کیا ہو وہ اس کی طرف منسوب کرنا نبی کریم نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ابو دائود اور ترمذی کی روایت ہے کہ نبی کریم سے پوچھا گیا کہ غیبت کیا ہے ؟ فرمایا ذکرک اخاک بما یکرہ ” تیرا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار ہو۔ ” عرض کیا گیا اور اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو تو آپ ﷺ نے فرمایا “ ان کان فیہ ماتقول فقد اغبتتہ وان لم یکن فیہ ما تقول فقد بہتہ “ اگر اس میں وہ عیب موجود ہو جو تو نے بیان کیا تو تو نے اس کی غیبت کی اور وہ عیب اس میں نہیں ہے تو تو نے اس پر بہتان لگایا۔ “ یہ فعل صرف ایک اخلاقی گناہ ہی نہیں ہے جس کی سزا آخرت میں ملنے والی ہو بلکہ اس آیت کا تقا ضا یہ ہے کہ اسلامی ریاست کے قانون میں جھوٹے الزامات لگانے کا جرم مستلزم سزا قرار دیا جائے اور یہ بات واضح ہوگئی کہ بہتان کیا ہے ؟ یعنی وہ عیب جو اس میں موجود نہیں تھے ان کی نسبت سیدہ مریم ؓ کی طرف کی گئی اس لئے قرآن کریم نے ان کو ” بہتان “ بتایا۔ یعنی جو کچھ بھی یہود نامسعود نے کہا وہ جھوٹ کا پلندہ تھا۔ اس لئے قرآن کریم نے اس کو یہود کا کفر قرار دیا۔
Ayah 4:157

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو جو اللہ کے رسول تھے ، قتل کر ڈالا ، حالانکہ نہ تو انہوں نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ حقیقت حال ان پر مشتبہ ہوگئی اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا تو بلاشبہ وہ بھی شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ، ظن و گمان کے سوا کوئی علم ان کے پاس نہیں اور یقینا یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا

یہودنامسعود کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے سراسر جھوٹ ہے : 246: یہود کا دوسرا جرم جو اس جگہ پہلی دفعہ مذکور ہوا یہ ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے اور قتل بھی سولی پر لٹکا کر کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول مانتے تھے یا نہیں ؟ اگر مانتے تھے تو پھر انہوں نے قتل کیوں کیا ؟ اور یہ بھی کہ اگر وہ اللہ کا رسول نہیں مانتے تھے تو پھر انہوں نے آپ کے رسول ہونے کا ذکر کیوں کیا ؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول مانتے تھے یا نہیں ؟ قرآن کریم کا اسلوب بیان اور یہود کی تاریخ دونوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا سچا رسول نہیں مانتے تھے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا اقرار کیا تھا ؟ نہیں رسالت کا انکار اس بات کی دلیل نہیں اس لئے کہ جن لوگوں کو انہوں نے رسول مانا تھا اور ان کی نبوت و رسالت کے اقراری تھے ان کے قتل کے وہ مرتکب ہوچکے تھے جیسے سیدنا زکریا (علیہ السلام) اور سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کو صحیح سیدنایرمیاہ علیہ اسلام اور یہی دوسرے سوال کا جواب بھی ہے بلکہ اس کی اصل دلیل یہ ہے کہ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو صحیح النسب تسلیم نہیں کرتے تھے یہی بہتان انہوں نے سیدہ مریم ؓ پر باندھا تھا اور اسی بہتان کا رد کیا قرآن کریم نے کیا اور فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) ” صحیح النسب “ تھے اور مریم کے متعلق یہود نے یہ جھوٹ گھڑا تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں تھی جیسے کچھ منصوبہ بنایا تھا وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھا اور قرآن کریم نے سیدنا مسیح علیہ اسلام کو ” وجیھا فی الدنیا والاخرۃ “ کہ کر یہود کے الزام کی تردید فرمائی اور ثابت کیا کہ عیسیٰ علیہ اسلام ” صحیح النسب “ اور ایک ” مبارک ولد “ تھے۔ رہاتیسرا سوال کہ اگر وہ رسول مانتے تھے تو انہوں نے ” رسول اللہ “ کے الفاظ کیوں استعمال کئے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کا رسول ہونے کا دعویٰ جو تھا اس لئے انہوں نے ان کے دعویٰ کے مطابق استہزاء ” رسول “ کہہ دیا اور دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ جملہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عزت و توقیر بیان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا اور اس طرح یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ جملہ یہود کا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ وہ جن انبیاء کرام کو نبی و رسول مانتے تھے وہ بھی جب ان کو ان کی بد اعتدالیوں کی نشاندہی کرتے تھے تو وہ ان کے درپے آزاد ہوجاتے تھے نہ ان کو تکالفر پہنچانے سے چوکتے تھے اور نہ ہی قتل کرنے میں کوئی جھجھک محسوس کرتے تھے۔ یہود تو قتل کے دعویدار تھے ہی تعجب تو یہ ہے کہ نصاریٰ نے بھی اس کی تصدیق کردی : 247: عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام کے دشمن یہود بھی دعوی کرتے ہیں کہ نے ان کو قتل کردیا اور سولی چڑھا دیا اور آپ کے ماننے والے اور پرستار یعنی نصاریٰ بھی یہی یقین رکھتے ہیں کہ یہود نے حضرت مسیح علیہ اسلام کو سولی دے دیا۔ گویا بیٹا سولی پر لٹکتے ہوئے ” ایلی ایلی لما شقتنی “ تم نے مجھے کیوں چھو ڑدیا فریاد کرتا رہا اور باپ نے اس کی کچھ مدد نہ کی۔ جب دوست و دشمن اس بات پر مقفق ہوچکے تھے تو قرآن کریم نے آکر حضرت مسیح (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت کے اظہارکا بیڑا اٹھایا اور صاف صاف الفاظ میں اعلان کیا کہ یہودی اپنی سازش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جس اللہ کے رسول کو اپنے اللہ کا پیغام سنانے کے باعث انہوں نے قتل کرنے کی سر توڑ کوشش کی اپنی مذہبی عدالت سے اس کو واجب القتل قرار دلوایا اور ملکی عدالت کو جو رومیوں کی حکومت کے تحت تھی اس حکم پر عمل درآمد کرنا ے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اللہ رب العزت نے ان کی اس ناپاک سازش کو ناکام بنا دیا اور اپنے رسول کا بال بھی بیکا نہ ہونے دیا ۔ دونوں چیزوں کو نفی کردی کہ یہودی نہ آپ کو قتل کرسکے اور نہ سولی چڑھا کر تذلیل کرسکے۔ ہاں ! ہم مانتے ہیں کہ ناجیل کی عبارتیں اس پر شہادت دیتی ہیں اور جو بات یہود کا مسلک تھا اس کو ایک لحاظ سے وہ تسلیم کرتی ہیں اور ہمارے بعض مفسرین نے بھی انہی اناجیل کی عبارات پر انحصار کر کے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ سولی پر لٹکائے گئے تھے کچھ لوگوں نے ان کو مردہ سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ مردہ نہیں تھے اور کچھ نے تسلیم کرلیا کہ عیسائیوں کے کہنے کے مطابق وہ تیسرے روز یا چند روز کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے اور بعض مفسرین اسلام نے یہ بھی بیان کیا ہے بلکہ اس طرح بیان کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے کہ یہود نے ایک دوسرے آدمی کو جو عیسیٰ علیہ اسلام تو نہیں تھا لیکن عیسیٰ علیہ اسلام کی شکل میں تبدیل ہوچکا تھا اس کو قتل کردیا تھا لیکن اصل عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ قرآن کریم نے بغیر تفصیل میں گئے اور جزوی طور پر ان کی ایک ایک بات کو بیان کر کے اس کی تردید کی بجائے دو لفظوں میں بات کو بالکل واضح اور صاف کردیا اور قرآن کریم کا یہ سب سے بڑا اعجاز ہے کہ کسی کو دکھ دئیے بغیر اپنا صاف صاف بیان دے جاتا ہے اور باتیں بنانے والوں کو قطعاً وہ نہیں چھیڑتا اور نہ ہی بات سے بات نکالتا ہے اور نہ اس طرح کے بیان کو وہ پسند کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ سوسنار کی پر ایک لوہار کی لگا کر آگے چلتا بنتا ہے لیکن سنا کو کچھ نہیں کہتا۔ اس جگہ بھی اس نے بالکل وہی کچھ کیا اور صاف صاف لفظوں میں اعلان فرما دیا کہ ” وماقتلوہ وما صلبوہ “ نہ وہ قتل کرسکے اور نہ ہی سولی چڑھا سکے۔ پھر ہوا کیا ؟ فرمایا ” ولٰکن شبہ لھم “ لیکن یہ بت ان پر مشتبہ ہوگئی۔ یہ شبہ کس نے ڈالا۔ کیوں ڈالا ؟ اور کیسے ڈالا ؟ اس نے اس کے متعلق کچھ نہ کہا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کے متعلق جو کچھ بھی کہا جاتا اللہ کے ہاں بیشک وہ سچ ہوتا لیکن نہ ماننے والوں کے لئے وہ کسی حال میں بھی بس نہیں ہو سکتا تھا اور اس طرح ضمنی سوالات و جوابات میں الجھ کر وہ اپنے اصل موقف سے بہت دور نکل جاتا اور قرآن کا کمال ہی یہ ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بالکل خاموش رہتا ہے کیونکہ یہ کٹ حجتیوں کی لڑائی کبھی ختم ہونے میں نہیں آتی اور وہ اپنے مقصد میں اس طرح کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ ایسی باتوں میں الجھا کر اصل مقصد سے دور لے جاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بت واضح ہوجاتی ہے کہ جب ایک نہ ہونے والی بات تسلیم کرلی جاتی ہے تو اسکا نتیجہ کیا نکلتا ہے عیسائیوں نے یہودیوں کی باتوں میں آکر اس بات کو تسلیم کرلیا کہ ہاں وہ ” صلیب پر لٹکائے گئے “ اس کے بعد انہوں نے کیا کچھ کہا اور وہ کہاں کے کہاں نکل گئے۔ پھر ان کو تیسرے روز زندہ کرنے ‘ زندہ آسمان پر اٹھائے جانے ‘ حواریوں کے ساتھ ملاقات کرنے ‘ ایک دعوت میں شریک ہونے اور پوری قوم کے گناہوں کا کفارہ بننے ۔ انسان کو لعنتی زندگی سے نکالنے ۔ صلیب کو ایک مبارک نشان تسلیم کرنے کے کتنے عقائد گھڑنے پڑے یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ صرف اس لئے کہ انہوں نے صلیب پر چڑھائے جاناتسلیم کرلیا حالانکہ ان کو اس کی کوئی دلیل بھی نہیں دی گئی تھی بلکہ انہوں نے اس نظریہ کو تسلیم کر کے خود دلیلیں گھڑناشروع کیں اور اس طرح ایک ایسی بحث انہوں نے شروع کرلی جو استروں کی مالا سے کچھ کم نہ تھی۔ وہ جس طرف منہ پھیرتے زخمی ہوتے اور پھر ان زخموں کی مرہم پٹی میں وہ لگ جاتے اور یہود نے ان کا ناطقہ اس طرح بند کیا کہ وہ دم بخود ہو کر رہ گئے اور آئے دنوں کی مجلسیں جما کر نئے نئے عقیدے بنانے اور پھر ان کی تشہیر کرنے سے کبھی فرصت نہ ہوئی اور انجام کار انہوں نے دین و دنیا کو بالکل الگ الگ کر کے ایک دوسرے سے اس طرح جدا کیا کہ اب دین میں وہ جس نظریات کے پابند ہیں ان کا دنیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کی دنیوی زندگی کے لئے کوئی ضابطہ الٰہی نہیں ہے بلکہ وہ بالکل آزاد ہیں جو ایک ناطق حیوان سے زیادہ کوئی پابندی کو قبول نہیں کرتے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ وہ سمجھدار بندر کہلا سکتے ہیں۔ پھر اس پر مزید تعجب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو جو صحیح معنوں میں انسان کہلا نے کے حقدار ہیں انگلیوں نچا رہے ہیں ‘ ایسا کیوں ؟ اس لئے کہ جن راستوں سے وہ گزر گئے ہیں مسلمان اب ان پر رواں دواں ہیں۔ ان کی دو سو سال کی مذہبی تاریخ کو اٹھا لو وہ آج تمہاری مذہبی تاریخ پر اس طرح منطبق ہوگی جیسے دو زاویوں کی مثلث برابر کے دو زاویوں کی مثلث پر منطبق ہوتی ہے کیونکہ تیسرا زاویہ اس کا خود بخود ہی ہوگا جو پہلی کا ہے۔ حقیقت تو یہ ہی کہ ان پر حقیقت ہی مشتبہ ہوگئی ۔ کیا دال میں کچھ کالا تھا ؟ 248: تفاسیر میں اگرچہ ایسی روایات کثرت سے مندرج ہیں جن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے اور آپ کے بچ جانے اور کسی دوسرے انسان کو سولی چڑھائے جانے کی تفصیلات موجود ہیں لیکن محقق علمائے تفاسیر نے بھی صراحت کردی ہے کہ کوئی روایت ان میں یقینی نہیں ہے اور نبی اعظم و آخر ﷺ سے اس کے متعلق کوئی صحیح حدیث مروی نہیں۔ ” اختلف الرواۃ فی کیفیۃ القتل والصلب ولم یثبت عن رسول اللہ ﷺ فی ذلک شی “ (بحرا محیط) بہر حال اتنامعلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے فلسطین کے رومی گورنر پیلاطس کی عدالت میں آپ کیخلاف مقدمہ دائر کیا اس لئے کہ وہ اپنی مذہبی عدالت میں مسیح (علیہ السلام) کو پھانسی دلوانے کی سزا پاس کرچکی لیکن اس پر عمل درآمد ان کے بس کی بات نہ تھی یہ حکومت وقت کے اختیار میں تھا یہودیوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ جب اسے پس وپیش کرتے دیکھا تو اس کو فتنہ بغاوت فیہ ہیں۔ اس بارے میں نصاریٰ کے مختلف اقوال کی تو حد ہی نہیں ۔ امام رازی (رح) نے تین فرقوں کی آراء نقل کی ہیں 1 ۔ نسطوریہ 2 ۔ ملکانیہ 3 ۔ یعقوبیہ ۔ نسطوریہ کا یہ قول ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کا ناسوت تو مصلوب ہوا لیکن ان کا لاہوت مصلوب نہیں ہوا۔ ملکانیہ کا خیال ہے کہ لاہوت بھی مصلوب ہوا لیکن بالذات نہیں بلکہ بواسطہ ناسوت اور یعقوبیہ کا نظریہ ہے کہ ناسوت ولاہوت دونوں کو سولی دی گئی لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ ان کی آراء کسی دلیل پر منطبق نہیں بلکہ سب کچھ ظن و گمان کی نقش آرائیاں ہیں۔ یہ اس وقت کے قصے ہیں جب عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے معاصرین میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا چونکہ یہود کی مخالفت کے دھندل کے موجود تھے پچھلوں نے اپنے بزرگوں کیحمایت میں کہ جب انہوں نے مخالفت کی تھی تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مخالفت کر کے مخالفت میں ناکام ہوئے ہوں ‘ انہوں نے طرح طرح کی باتیں گھڑنا شروع کردیں اور ایسے وقت میں صرف مخالف فریق کو باتوں ہی باتوں میں چپ کرادینا مقصود ہوتا ہے اس لئے دونوں فریقوں نے دل کھول کر باتیں بنائیں اور وہی باتیں جس طرح لوگوں میں مشہور تھیں مورخین نے ان کو تاریخوں میں درج کردیا۔ چونکہ ہر قوم میں یہ بیماری موجود ہی ہے اور اب تک چلی آرہی ہے کہ اس طرح کی روایات میں ایک طرح کی دلچسپی موجود ہوتی ہے اور وہ اس ناطے سے پروان چڑھتی رہتی ہیں اور آہستہ آہستہ وہ اس قدر پکی اور پختہ ہوجاتی ہیں کہ ان سے انکار ممکن ہی نہیں رہتا۔ آج بھی لوگوں کے ہاں اپنے اپنے پیروں اور بزرگوں کے نام سے ایسی ایسی باتیں مشہور ہیں کہ ان کو سن کر ہنسی آتی ہے لیکن وہی دین و مذہب کے معیار مقرر ہو کر رو گئی ہیں۔ قرآن کریم نے واشگاف الفاظ میں یہ ارشاد فرمادیا کہ ” اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا تو بلاشبہ وہ بھی شک و شبہ میں پڑے ہوئے ظن و گمان کے سوا کوئی علم ان کے پاس نہیں اور یقینا یہودیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا۔ “ وماقتلوہ یقینا جس کا صاف صاف مطلب یہ ہوا کہ سنت اللہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے نبی و رسول کے مقابلہ میں پوری قوم کو شکست دی اور ناکام کر کے رکھ دیا یہی کچھ یہاں بھی ہوا کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے چناچہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت کو پڑھو مخالفین نے کیا کچھ کیا اور اس کے لئے کیا کیا اسکیمیں بنائیں ابراہیم علیہ اسلام نے پوری قوم کو دو ٹوک لفظوں میں یہ جواب دیا کہ ” تاللہ لا ایکدن اصنا مکم بعد ان تولوا مدبرین “ (الانبیاء 21:57) ” اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا بخدا میں ضرور تمہارے ان بتوں کے ساتھ ایک چال چلوں گا جب تم سب پیٹھ پھیر کر چل دو گے۔ “ قرآن کریم کہتا ہے کہ قوم کے لوگوں نے بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے اس اعلان کے بعداپنا سارا زور لگایا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ناکام کرنے کی ساری تدبیریں کیں اور ساری سرگزشت نچوڑ اس طرح بیان فرمایا کہ ” وارادوبہ کیدا فجعلنہم الاخسرین “ (الانبیاء 21:70) اور دیکھو انہوں نے چاہا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف ایک چال چلیں لیکن ہم نے انہیں نامراد کردیا۔ “ اس طرح انجام کار پوری قوم کے مقابلہ میں کامیابی کس کو ہوئی ؟ ابراہیم علیہ اسلام کو۔ صالح (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی کہ قوم نے صالح علیہ اسلام کی تبلیغ کا مذاق اڑایا اور مخالفت میں اس قدر جھوٹے ہوگئے کہ کسی ضابطہ کی پابندی کو وہ قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے انجام کار صالح علیہ اسلام نے ان کو چیلنج دے دیا اور وہ بھی اس قدر بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے اس چیلنج کی بھی کوئی پروا نہ کی اور جس بات سے ان کو منع کیا گیا تھا انہوں نے وہی کر دکھایا قرآن کریم کہتا ہے کہ پھر ان کا انجام کیا ہوا ؟ یہ ہوا کہ ” جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کا یہ حال ہوا کہ ایک زور کی کڑک نے ان کو آلیا اور جب صبح ہوئی تو وہ سب اپنے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے تھے گویا ان گھروں میں وہ کبھی بسے ہی نہ تھے۔ “ الا ان ثمود کفرو ربھم الا بعد لثمود (ھود 11:86) ” تو سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار کی ناشکری کی اور ہاں ! سن رکھو کہ ثمود کے لئے محرومی ہوئی۔ “ اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام ! اس طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بد کردار آدمیوں کے سردار بنا دئیے تاکہ وہاں مکرو فریب کے جال پھیلائیں اور فی الحقیقت وہ مکرو فریب نہیں کرتے مگر اپنے ہی ساتھ لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے۔ “ (الانعام 6:123) فرمایا جب کسی آبادی میں کوئی داعی حق کھڑا ہوتا ہے تو وہاں کے سردار محسوس کرتے ہیں کہ اگر دعوت حق کامیاب ہوگئی تو ان کے ظالمانہ اختیارت کا خاتمہ ہوجائے گا اس لئے انہیں ایک طرح کی ذاتی دشمنی اور کد ہوجاتی ہے وہ طرح طرح کی مکاریاں کرتے ہیں تاکہ لوگ دعوت حق قبول نہ کریں اور یہی کچھ یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے کیا اور ان کے ساتھ سنت اللہ کے مطابق ہوا جو ہوا۔