Ayah 4:15جو عورتیں بد چلنی کی مرتکب ہوں ان کی سزا کا حکم اور بد چلنی سے مراد کیا ہے ؟
42: مفسرین کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ان آیت میں جس برائی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مقصود زنا ہے اور جس سزا کا حکم دیا گیا ہے وہ اوائل اسلام میں دی جاتی تھی بعد میں جب سورة نور نازل ہوئی تو زنا کی حد مقرر ہوگئی اور یہ سزا باقی نہ رہی۔ لیکن دوسری جماعت اس طرف گئی ہے کہ ان آیات میں اور سورة نور کی آیت میں ایک طرح کے جرم کی سزائیں نہیں بیان کی گئی ہیں بلکہ دو مختلف قسم کے جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس جگہ بد چلنی کا ذکر ہے اس سے مقصود وہ بد چلنی ہے جو دعورتیں آپس میں اور دو مرد آپس میں کریں اور سورة نور میں زنا کا ذکر ہے پس دونوں کے احکام اپنی اپنی جگہ باقی اور قائم ہیں اور علاوہ ازیں بھی ان آیات کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔
جیسا کہ پیچھے آپ پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ پہلے دو رکوعوں میں عورتوں کے حقوق کا بیان ہے اور اس رکوع می کچھ ان کی ذمہ داریوں کا ذکر ہے جس طرح اسلام نے سارے مذاہب سے بڑھ کر عورت کو اس کا مقام دلوایا ہے اور عورتوں کے ساتھ حقوق معاشرت کو تعلیم الٰہی کا حصہ قرار دیا ہے اس طرح ان کی کچھ ذمہ داریاں بھی بتائی ہیں اور اس طرح ان کو یہ تعلیم دی ہے کہ جس طرح وہ حقوق کو حاصل کرنے میں تمام دنیا کی عورتوں سے فائق ہیں سی طرح اپنے چال چلن میں اعلیٰ درجہ کی پاکبازی اور راستبازی اختیار کرنے میں فوقیت لے جائیں۔ چونکہ اسلام کی اصل غرض یہ ہے کہ عورت کی ذلت کے جس قدر اسباب ہیں ان سب کا قلع قمع ہوجائے اس لئے جس طرح اس کے حقوق کو ایک طرف محفوظ کیا تاکہ اس کی عزت اور مرتبہ معاشرہ میں بڑھ جائے تو دوسری طرف اس کی عصمت کو محفوظ کرنے کے سارے طریقوں کو بھی ساتھ ذکر کردیا تاکہ عصمت کی ذلت و رسوائی سے بھی اس کو بالکل محفوظ کردیا جائے جو ساری زلتوں اور رسوائیوں سے بڑھ کر ہے۔
پھر مفسرین نے جو اس کی مختلف طریقوں سے تفسیر کی ہے تو اس کا بھی صحیح جواب یہی ہے کہ وہ اس لئے کہ ان کو جو جو راستہ ان کی رسوائی کا نظر آیا اس کو انہوں نے ذکر کر دیا جس کی نظر میں ججو راستہ زیادہ ذلت و رسوائی کا تھا اس نے اس کو ترجیح دے دے اور اس طرح ان مختلف تفاسیر ہونے کی وجہ سے ان سارے راستوں کو بند کرنے کی صورتیں سامنے آگئیں بلکہ ان کے ہر جز پر بحث کر کے ان کے کانوں تک پہنچا دیا کہ دیکھو جس طرح اسلام نے تمہیں عزت کا مقام دیا ہے تم خود بھی اس کی اسی طرح ہر برے طریقے سے بچ کر دنیا والوں پر ثابت کر دو کہ جو عزت کا مقام اسلام نے ہم کو دلایا ہے اس کو ہر لحاظ سے محفوظ رکھ کر ہم ذلت کا کوئی مقام اختیار نہیں کریں گی تاکہ ہماری عزت و احترام معاشرہ میں مزید بڑھ جائے۔ اس طرح جن لوگوں نے جو تفسیریں اختیار کی ہیں ہم ان سب کی ممنون احسان ہیں کہ انہوں نے ہم کو ہر راہ کی نشاندہی کردی جس جس راستے سے ہو کر شیطان ہم کو بہکا سکتا تھا۔ اس لئے اگر ابو مسلم اصفہانی نے پہلی آیت سے دو عورتیں مراد لی ہیں جو آپس میں بدکاری کی مرتکب ہوں تو ہم ان کی ممنون ہیں کہ انہوں نے ہم کو اس کمزور راستے کی بھی نشاندی کردی جو ایک گھٹیا سے کھٹیا ذہن کرسکتا ہے۔ ہم ان کی ممنون ہیں جنہوں نے اس سے مراد مبادی زنا لئے ہیں اس لئے کہ ہماری نظر میں رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر بھی پڑتی ہے کہ زنا کی ایک قسم ہی نہیں بلکہ زنا کی بہت سی قسمیں ہیں جیسے انسان کی آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور کان بھی اس برے فعل کا مرتکب ہوتا ہے اور ہاتھ اور پاؤں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے پھر ایک صورت وہ بھی ہے جس کے واقعہ ہونے سے زنا کی وہ سزا دے دی جاتی ہے جو مشہور و معروف ہے یعنی گن گن کر سو درے لگانا اور پھر ان میں سے ہر ایک راستہ ذلت و رسوائی کا راستہ ہے اس لئے ہم اسلام کی بیٹیاں کسی ایک پگڈنڈی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی جس کا دوسرا سرا برائی کے ساتھ جڑا ہوا ہوگا۔
فرمایا کہ اس طرح کی اگر کسی سے کوئی بھول چوک ہو بھی گئی جس کا صدور انسان سے ناممکن الوقوع نہیں ہو سکتا تو مردوں کو بھی عقل کے ناخن لے کر بات کرنا ہوگی کیونکہ کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ ایسے ہی زبان کھول دے اور جس پر چاہے الزام رکھ دے کہ فلاں ایسی ہے اور فلاں ویسی ہے۔ بلکہ اس طرف نظر کرنے کے لئے اتنی احتیاط کی ضضرورت ہے کہ جب تک چار گواہ یہ بات آنکھوں سے دیکھ کر نہ کہیں گے ہم ان کو سزا دلوائیں گے کہ انہوں نے ایسی نازک بات پر زبان کیوں کھولی جس کے کھولنے کی اجازت ان کو نہ تھی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ برائی بلاشبہ برائی ہے لیکن برائی کی تشہیر اس برائی سے بھی بڑھ کر برائی ہے اب انہوں نے کیا دیکھا ؟ عورت عورت کو برائی میں دیکھا۔ مبادی زنا دیکھا یا زنا کی مرتکب پایا پھر تفصیل اس کی سورة نور میں آئے گی۔
ہاں ! اگر گواہی مکمل ہوجائے یعنی چار گواہ ان کی بدکاری کی گواہی دے دیں تو ” پھر ایسی عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمر پوری کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی دوسرا راستہ پیدا کر دے۔ “ اگر معاملہ عورت عورت کا ہے تو زنا کی حد تو جاری نہیں ہوگی لیکن اس بدکاری کے لئے ان کو آئندہ آزاد بھی نہیں تھوڑا جاسکتا۔ اس لئے فرمایا کہ سب سے پہلے ان کو قید میں ڈال دو یعنی پابند کر دو ۔ اگر معاملہ حکومت کی سطح پر ہے تو قید خانہ میں اور اگر گھریلو صورت کوئی ایس واقع ہوئی ہے تو گھر میں پابند کر دو اور دیکھو کہ ایسی صورت کیوں واقع ہوئی اگر یہ ناکتحذا ہیں تو اللہ اس کی سبیل پیدا کر دے گا کہ ان کا نکاح ہوجائے گا جس سے ان کی خواہش اور ہوس کا ازالہ ہوجائے گا اور پھر پابندی کے ناطے ان کی اصلاح ممکن ہوجائے گی۔ اگر بات کتحذا کے درمیان ہے تو پابندی سے معاملہ درست ہوجائے گا اور متاہل زندگی کی پابندیاں ان کو خودبخود درست کردیں گی اور اللہ ان کو توبہ کی توفیق عطا فرما دے گا۔ اگر وہ بات ہے جس کو زنا سے موسوم کیا جاتا ہے تو اس کا حکم سزا تم پر واضح کردیا جائے گا چناچہ وہ بھی بعد ازیں واضح فرما دیا گیا کہ ان کو سو درے لگاؤ اور ایک سا قید میں بھی ان کو رکھو۔
Ayah 4:16دو شخص بےحیائی اور بدکاری کے مرتکب ہوں تو ان کی سزا کیا ہے ؟
43: جس طرح قبل ازیں آیت کے تین مطالب بیان کئے گئے تھے بالکل اسی طرح یہاں بھی تین ہی مطالب بیان ہوئے ہیں۔ ” دو شخصوں “ سے کیا مراد ہے ؟ دو مرد یا مرد اور عورت پھر اگر مرد اور عورت مراد ہیں تو ارتکاب فعل دبر میں ہوا ہے یا قبل میں۔ اگر مراد در اور عورت ہیں اور مقام فعل بھی قبل ہی ہے تو پھر آیت کا مطلب کیا ہوگا ؟ کیونہ اس فعل کی سزا تو پہلے ہی سنائی جا چکی اور پھر اس آیت میں پہلی سزا کو بھی ڈھیلا کردیا گیا۔ کیوں ؟ دو شخصوں سے مراد دو مرد بھی کی گئی ہے۔ اس طرح سے یہ ایک دوسرا حکم ہے جس کا پہلے حکم سے کوئی تعلق نہیں پھر ظاہر ہے کہ جب حکم الگ ہے تو اس کی سزا بھی الگ ہی ہونا چاہیے تھی۔ اس لئے سزا بھی الگ ہی بیان کردی۔ ان ساری باتوں میں سے صحیح کون سی بات ہے۔
جن لوگوں نے پچھلا حکم دو عورتوں کے درمیان سحافت مراد لیا ہے۔ انہوں نے ” وَا لَّذَانِ “ سے مراد سدومیت لیا ہے یعنی مرد مرد بےحیائی کا مرتکب ہو اور بعض نے کہا کہ چونکہ یہ ابتدای حکم ہے جب کہ ابھی زنا کی سزا کا اعلان الٰہی نہیں ہوا تھا اس لئے جیسا کہ اور بہت سے احکام تدریجاً نازل ہوئے یہ حکم بھی تدریجاً نازل ہوا اور اس کا پہلا قدم یہ تھا کہ اگر مرد اور عورت کے درمیان کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے تو ان دونوں کو طعن لعن کرو اور مناسب سزا بھی دو تا آنکہ ان کے لئے کوئی واضح حکم نازل ہوجائے۔ پھر یہ بھی بیان کیا گیا کہ بعض اوقات حالات اس طرح بھی ہوتے ہیں کہ انسان انسانیت ہی سے گری ہوئی حرکت جب کرنے پر اترتا ہے تو گرتا ہی چلا جاتا ہے اس لئے اگر کسی نے غیر فطری راستہ عورت کا استعمال کرلیا تو چناچہ کچھ لوگ اس طرف بھی نکل گئے بہر حال اس سے اس طرح کی ساری صورتیں ہی مراد لی جاسکتی ہیں اس لئے کسی ایک کو قبول کر کے باقی کا رد ایک مزید گھٹیا بات ہے جس چیز سے برائی کا ہر ممکن راستہ بند ہوتا ہو اس سے کوئی ایک راستہ بند کر کے باقی راستوں کو کھول دینا بھی کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ ہم کو ان سب مفسرین کا ممنون احسان ہونا چاہے جنہوں نے ہر راستہ کی نشاندہی کردی اور اس طرح اس راستہ کو بند کردینا آسان ہوگیا۔
قرآن کریم کی یہ آیت بھی برائی کے راستہ کو بند کرنے کے لئے بیان کی جاسکتی ہے اگر یہ ابتدائی حکم ہے تو پھر ہم کو اس کی ضرروت ہے کہ جہاں ذرا کمزوری دیکھی ان کی گوشمالی کی جاسکے فرمایا اگر کوئی ایسی بات ہے تو ان کو اذیت دو ، دکھ پہنچاؤ تاکہ ان کو انرجی کے ضائع ہونے اور غیر فطری راستہ کے استعمال کی فطری سزا جو نتیجہ کے طور پر لازم ہوجاتی ہے اس سے ان کو آگاہی حاصل ہو اور پھر آئندہ ایسی حرکت کرنے سے باز آنے کی ذمہ داری وہ قبول کرلیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس کی سزا اہل حل و عقد پر چھوڑ دو تاکہ وقت ، حالات اور اتفاق و عادت ساری باتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ خود اس کا فیصلہ کرلیں گے تو زیادہ بہتر نتیجہ برآمد ہوگا کیونکہ اتفاق بھی ممکن ہے اور عادت کا پختہ ہوجانا بھی اور ان ساری باتوں کی وضاحت بھی اس وقت ممکن ہے جب ایک چیز مشاہدہ میں آئے گی اور چونکہ یہ عمل برا ہے لیکن ایسا نہیں جس میں نسل کے خراب ہونے کا امکان ہو اگر یہ واقعہ دو مردوں کے درمیان ہے تو اس طرح نسل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مفسرین نے اس کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ ” الَّذَانِ یَا تِیَا نِھَا “ کا مصداق وہ لوگ ہیں جو غیر فطری طریقہ پر قضاء شہوت کرتے ہیں یعنی دو مرد استلداذ بالمثل کے مرتکب ہونے ہیں اور الفاظ قرآن کریم میں چونکہ لفظ ” الَّذَانِ یَا تِیَا نِھَا “ موصول اور صلہ دنوں مذکر کے الفاظ ہیں اس لئے ان حضرات کا یہ قول بعید نہیں ہے گو جن حضرات نے زانی اور زانیہ مراد لیا ہے انہوں نے بطور تغلیب مذکر کا یہ صیغہ زانیہ کے لئے بھی شامل رکھا ہے تاہم موقع کی مناسبت سے استلذاذ بالمثل کی حرمت و شدت اور اس کی جزاء و تعزیز کا ذکر اس جگہ بےجا نہ ہوگا۔ احادیث و آثار سے اس سلسلہ میں جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں سے بطور نمونہ کچھ نقل کیا جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر سات آسمانوں کے اوپر سے لعنت بھیجی ہے اور ان سات میں سے ایک پر تین دفعہ لعنت بھیجی ہے اور باقی پر ایک دفعہ فرمایا ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے وہ ملعون ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار آدمی صبح کے وقت اللہ جل شانہ کے غضب میں ہوتے ہیں اور شام کو بھی اللہ جل شانہ ان سے ناراض ہوتے ہیں میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ مرد ججو عورتوں کی طرح بنتے ہیں اور وہ عورتیں جو مردوں کی طرح بنتی ہیں اور وہ شخص جو چوپایہ کے ساتھ غیر فطعی حرکت کرتا ہے اور وہ مرد جو مرد سے قضا شہوت کرتا ہے۔ (الترغیب والترہیب)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو تم قوم لوط کی طرح غیر فطری حرکت کرتا ہوا دیکھ لو تو غافل اور مفعول دونوں کو مار ڈالو۔ (الترغیب و الترہیب)
حافظ زکی الدین نے ترغیب و ترہیب میں لکھا ہے کہ چار خلفاء حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ ، اور ہشام بن عبد الملک ؓ ، نے اپنے زمانوں میں غیر فطری حرکت والوں کو آگ میں جلا ڈالا تھا۔
اس سلسلہ میں انہوں نے محمد بن المنکدر کی روایت سے ایک واقعہ بھی لکھا ہے کہ خالد بن ولید ؓ ، نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، کو خط لکھا کہ یہاں عرب کے ایک علاقہ میں ایک مرد ہے جس کے ساتھ عورت والا کام کیا جاتا ہے۔
حضرت ابوبکر ؓ ، نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام ؓ ، کو جمع کیا اور ان میں حضرت علی ؓ ، بھی تشریف لائے چناچہ حضرت علی ؓ ، نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا ارتکاب سوائے ایک قوم کے کسی نے نہیں کیا اور اللہ جل شانہ نے اس قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ سب کو معلوم ہے میری رائے ہے کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔ دوسرے صحابہ کرام نے بھی اس پر اتفاق کرلیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، نے اسے آگ میں جال دینے کا حکم دیا۔
مندرجہ بالا روایات استلذاد بالجنس سے متعلق تھیں۔ روایات میں عورتوں کے ساتھ غیر فطری فعل کرنے پر بھی شدید ترین وعیدیں آئی ہیں۔
عن ابن عباس ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال لا ینظر اللہ عزوجل الیٰ رجل اتی رجلا اوامرء ۃ فی دبرھا۔ (الترغیب و ترہیب)
” حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس مرد کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جو مرد یا عورت کے ساتھ غیر فطری فعل کرے۔ “ (الترغیب والترہیب)
” حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے میں شرم نہیں کرتے یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین دفعہ ارشاد فرمائے عورتوں کے پاس غیر فطری طریقہ سے مت آیا کرو۔ “ (الترغیب و الترہیب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ وہ شخص ملعون ہے جو غیر فطری طریقہ سے بیوی کے ساتھ تعلق خاص قائم کرتا ہے۔ “ (الترغیب والترہیب)
” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مرد اذیت کے دنوں میں بیوی کے ساتھ تعلق خاص پیدا کرتا ہے یا کاہن کے پاس جاتا ہے اور غیب سے متعلق اس کی خبر کی تصدیق کرتا ہے تو ایسے لوگ اس دین کے منکر ہوگئے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا۔ “
اس فعل قبیح میں خواہ مرد کے ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ یا مرد عورت سے غیر فطری طریقہ سے فعل اختیار کرے تو اس کی تقریباً ایک جیسی سزا سنائی گئی ہے کبھی آگ میں جلایا جانا ، دیوار گرا کر کچل دینا اور اونچی جگہ سے پھینک دینا اور تلوار سے قتل کردینا اور اس طرح بالکل جان سے مار دینے کے علاوہ بھی سزائیں سنائی گئیں تو نوعیت فعل ، یا بار بار ایسی حرکت کی سزا اور اتفاقی امر کی کچھ ہلکی سزائیں دے کر حالات و وقت پر چھوڑ دیا گیا تاکہ وقت کے ساتھ اسلامی حکومت اس کی سزا میں کمی بیشی کرنے کی مجاز رہے۔
یعنی پہلے زنا جیسی بلا سے بچنے کے لیے راستہ کی رکاوٹیں تجویز کیں کہ سب سے پہلے مردوں اور عورتوں کے کھلے میل جول اور عورتوں کو غیرمحرم لوگوں سے خلوت اختیار کرنے سے روکا۔ پھر عورتوں کو اس بات سے روکا کہ وہ بن سنور کر اور سنگھار کے باہر نہ نکلیں بلکہ پردہ میں رہ کر باہر جائیں ان کی چال ڈھال پر پابندی لگائی کہ وہ زینت کو ظاہر کرنے کے لیے زمین پر پاؤں زور سے نہ ماریں تاکہ چھن چھن کی آواز دوسروں کو راغب کرے لباس کی ہیئت پر پابندی لگائی اور سب سے بڑھ کر مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ جب راستہ پر چلو تو اپنی اپنی نظروں کو نیچا رکھو اور فضول تاک جھانک سے کام مت لو۔ پھر اتفاقی نظر کو معاف کرتے ہوئے دوبارہ خوب کو خوب تر دیکھنے سے منع فرمایا اور پھر اگر کوئی اتنا ہی آگے بڑھ گیا کہ ان ساری پابندیوں کی پرواہ کیے بغیر بےحیائی کے فعل کا کھلے بندوں مرتکب ہوگیا کہ چار لوگوں نے ان کو مصروف کار دیکھ لیا تو ایسے بےحیاؤں کے لیے سخت سزا سنا دی۔ ایسے اس جگہ غیر فطری فعل کے مرتکبین کو بھی علی الترتیب مار پیٹ تک لے آیا اور اس قدر سزا دلوا دی کہ وہ توبہ پر مجبور ہوجائیں اور آئندہ ایسی حرکت سے کلی طور پر باز آجائیں۔ فرمایا اگر وہ باز آجائیں اور اصلاح کرلیں تو اب تم بھی ان کو بار بار بےحیائی کا طعنہ مت دو کہ اس سے وہ حیاء اتار پھینکنے پر مجبور ہی نہ ہوجائیں۔ ” بلاشبہ اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحمت رکھنے والا ہے۔ “ توبہ کے متعلق دوسری جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ، تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو تو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “ (الانعام : 54:6)
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔ فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ (الاعراف : 201:7)
” ہاں ! جن لوگوں نے جہالت کی بناء پر برا عمل کیا اور پھر توبہ کر کے اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو یقینا توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب ان کے لیے غفور و رحیم ہے۔ “ (النحل : 119:16)
مذکورہ روایات میں قوم لوط کے عمل کا حوالہ بار بار آیا ہے حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث کیے گئے تھے وہ قوم کفر و شرک کے علاوہ اس بدترین اور غیر فطری حرکت کی بھی عادی تھی اور جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کا ان پر اثر نہ ہوا تو اللہ جل شانہ کے حکم سے فرشتوں نے اس قوم کی بستیوں کو اوندھا کر کے زمین پر پھینک دیا جس کا ذکر سورة اعراف میں آئے گا۔ ان شاء اللہ ! !
Ayah 4:17توبہ کا جو گُر اس ” جگت گرو “ نے سکھایا وہ کوئی اور نہ سکھا سکا :
44: توبہ کیا ہے ؟ کفارہ ہے انسان کے اس برے عمل کا جس کی برائی اس نے محسوس کرلی اور جو کام اس سے سرزد ہوا تھا اس سے اس نے رجوع کرلیا اور نادم ہوا کہ میرے اللہ ! مجھ سے گناہ ہوگیا۔ میں اپنے گناہ کا تیری ذات کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے آئندہ ایسی حرکت سے باز آنے کا اقرار کرتا ہوں۔ اس لیے کہ انسان کے تمام کاروبار میں اصل شے اس کا دل ہے۔ اس سے وہ پاک ہوتا ہے اور اس سے ناپاک بنتا ہے۔ انسان کا دل خلوص کے ساتھ کسی وقت اللہ کی طرف رجوع کرے اور اپنی تقصیروں اور فروگزاشتوں پر اس کی بارگاہ میں نادم و شرمسار ہو کر اپنی پچھلی زندگی سے بیزار ہو کر آئندہ کے لیے نیکواری کا اللہ سے مستحکم وعدہ کرلے تو اس کا نام توبہ ہے۔ یہ توبہ گنہگار سے گنہگار انسان کو بھی اللہ کی آغوش محبت میں لا ڈال دیتی ہے۔ آدم (علیہ السلام) کا قصہ اس کی ایک مثالی صورت کے لیے بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت کس طرح ایک نادم ہونے والے انسان کو واپس لینے کے لیے ہمیشہ وا رہتی ہے۔ رحمت الٰہی کے اس پرجوش نظارہ کی جو کیفیت محمد رسول اللہ ﷺ کے صحیفہ وحی اور پیام نبوت میں نظر آتی ہے حاش اللہ اس سے دنیا کا ہر مت اور دھرم قطعاً محروم ہے۔ جو گر اس ” جگت گرو “ ﷺ نے بتائے اور سمجھائے ان سے تورات خاموش ہے۔ زبور کی سریلی آواز مدھم ہے اور انجیل کی خوشخبری مبہم ہے۔ لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنے پیغام ربانی میں اس کی کیفیات اور اصول و شرائط کو جس شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا وہ گویا رب العالمین کی طرف سے رحمۃ اللعالین کا خاص حصہ تھا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہوا :
اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا (مریم : 60:19) ” ہاں ! جو کوئی باز آگیا ، ایمان لایا اور نیک عمل میں لگ گیا تو بلاشبہ ایسے لوگوں کے لیے کوئی کھٹکا نہیں۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے حقوق میں ذرا بھی ناانصافی نہ ہوگی۔ “ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہ توبہ کی بھلائی اس کے گناہوں کے سارے دفتر دھو کر ان کی جگہ آپ لے لے گی۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہوا :
اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (الفرقان : 70:25)
” ہاں ! جو شخص ان گناہوں کے بعد توبہ کرچکا اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ “
مسلمانو ! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ عورتوں کو ، میراث سمجھ کر ان پر زبردستی قبضہ کرو ، اللہ جانتا
ہے کہ تائب کون ہوا اور دفع الوقتی کون کر رہا ہے :
45: دو بعض اوقات انسان گناہ کرتا ہے اور کرتا ہی جاتا ہے اس لیے کہ اس پر فوراً گرفت نہیں ہوئی اور وہ پکڑا نہیں گیا لیکن اگر کوئی معمولی کو فت پہنچی تو توبہ توبہ کرنے لگا۔ نمازیں پڑھے گا ، وظیفے پوچھے گا ، ہر وقت ورد میں رہے گا اور نفل پر نفل پڑھے گا۔ لیکن نظام الٰہی بھی عجیب واقعہ ہوا ہے کہ پھر اس کے دن بدل گئے گویا وہ ایک طرح سے جس پکڑ میں مبتلا تھا اس سے چھوٹ گیا اس طرح دفع الوقتی گویا ہوگی۔ بس اس سے چھوٹنا تھا کہ وہ پہلے والی سرگرمی دوبارہ آگئی اور بےلگام ہوا تو ایسا کہ اب اس کو کوئی لگام دینے والا شاید نہ رہا معلوم ہوا کہ دراصل وہ اس کی توبہ توبہ نہ تھی بلکہ دفع الوقتی تھی وقت ٹل گیا اور پھر جو کچھ کرتا ہے وہ صرف عادتاً کر رہا ہے اس کی حالت اس طرح ہے کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔
بول اس کے بڑے میٹھے ، شکل اس کی بہت خوبصورت گویا انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔ ظاہرداری اتنی خوبصورت کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی مفتون ہوجائے لیکن حقیقت میں وہ بگلا بھگت ہے۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں سے واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ صحیح معنوں میں توبہ کس نے کی اور دفع الوقتی سے کون کام لے رہا ہے۔ ” وہ یقینا سب کچھ جاننے والا اور حکمت رکھنے والا ہے۔ “ کہ دفع الوقتی کرنے والوں کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ ایک وقت تک مؤخر کردیتا ہے۔
Ayah 4:18موت کو سامنے کھڑا دیکھ کر توبہ توبہ کرنے والوں کی کوئی توبہ نہیں ہے :
46: یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ مجرمین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی بار بار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیا جائے۔ اب ہماری توبہ ہے۔ اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اب ہم سیدھی راہ چلیں گے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
” کاش ! تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ درحقیقت یہ بات وہ محض اس لیے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بےنقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہوگی۔ ورنہ ان کو سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا بھی جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے وہ تو ہیں ہی جھوٹے اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لے رہے ہیں۔ “ (الانعام : 28 ۔ 27:6)
ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔ اس کو جواب دیا گیا کہ اب تو ایمان لاتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد بپا کرنے والوں میں سے تھا۔ “ (یونس : 91 ۔ 90:10)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” جو رزق ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے رضائے الٰہی کے لیے بھی خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اس وقت وہ کہے گا کہ اے میرے رب ! کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا۔ حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ اس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ “ (المنافقون : 11:63)
پھر ارشاد الٰہی ہوا کہ ” اس طرح ان لوگوں کی توبہ بھی قبول نہیں ہے جو دنیا سے کفر کی حالت میں جاتے ہیں ، ان تمام لوگوں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ آیت کے اس حصہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ توبہ اور ایمان اس وقت تک نافع اور فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں جب تک آدمی اللہ کے عذاب یا موت کی گرفت میں نہ آجائے۔ عذاب الٰہی کی پکڑ شروع ہوجائے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا یا توبہ کرنا اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان لانا ان کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا کیونکہ یہی اللہ کا مقرر کردہ ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے۔ “ (ال مومن : 85:40) ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” کاش ! تم انہیں اس وقت دیکھو جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جاسکیں گے بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب دور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے۔ اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور بلاتحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے۔ “ (سباء : 53:34)
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ہر مجرم اس طرح پکڑا جائے گا کہ گویا پکڑنے والا قریب ہی کہیں چھپا کھڑا تھا ، ذرا اس نے بھاگنے کی کوشش کی تو بس فوراً ہی دھر لیا گیا۔ ایسا کیوں ہوگا ؟
فرمایا : اس لیے کہ ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی اور وہاں سے اب یہ بہت دور نکل آئے ہیں۔ عالم آخرت میں پہنچ جانے کے بعد اب توبہ کا یا ایمان لانے کا مقام کہاں مل سکتا ہے۔ حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جو رسول اور تعلیمات رسول ﷺ کی طرف بلائے جاتے تھے تو ان کے چہرے بل کھا جاتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول اور قرآن کریم کی تعلیمات پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے ، آوازے کستے تھے اور فقرے چست کرتے تھے۔ کبھی کہتے یہ شخص ساحر ہے ، کبھی کہتے مجنون ہے ، کبھی توحید کا مذاق اڑاتے اور کبھی آخرت کے تخیل پر باتیں چھانٹتے۔ کبھی یہ افسانہ تراشتے کہ رسول کو کوئی اور سکھاتا پڑھاتا ہے اور کبھی ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے کہ یہ محض اپنی نادانی کی وجہ سے رسول کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔ اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہہ دو کہ اچھا تم انتظار کرو ، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “ (الانعام : 158:6)
یعنی آثار قیامت صغریٰ جس کو موت کہتے ہیں یا عذاب کی کوئی اور ایسی نشانی جو حقیقت کی بالکل پردہ کشائی کردینے والی ہو اور جس کے ظاہر ہوجانے کے بعد امتحان اور آزمائش کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہے اس وقت اگر کوئی کافر اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئے تو اس کا ایمان لانا بےمعنی ہے اور اگر کوئی نافرمان مومن اپنی نافرمانی کی روش چھوڑ کر اطاعت کیش بن جائے تو اس کی اطاعت بھی ویسے ہی بےمعنی ہے اور اگر کوئی نافرمان مومن اپنی نافرمانی کی روش چھوڑ کر اطاعت کیش بن جائے تو اس کی اطاعت بھی ویسے ہی بےمعنی ہے اس لے کہ ایمان اور اطاعت کی قدر تو اس وقت تک ہے جب تک حقیقت پردے میں ہے مہلت کی رسی دراز نظر آرہی ہے اور دنیا اپنی ساری متاع غرور کے ساتھ یہ دھوکا دینے کے لیے موجود ہے کہ کیسا خدا اور کہاں کی آخرت ، بس کھاؤ پیو اور مزے لوٹو۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ آیت 162 ، 217 ۔
جلد دوم تفسیر سورة آل عمران آیت 191 ۔
Ayah 4:19عورتوں کو جو کچھ تم نے دیا ہے ان سے بزور لینے کی کوشش نہ کرو اور اپنا مقام مت بھول جاؤ :
47: اوپر چونکہ وراثت کی تقسیم کا مسئلہ بیان کیا گیا تھا اور مرنے والے کے ترکہ میں جن جن لوگوں کا حصہ بنتا تھا تو اس کی وضاحت کی تھی اب عربوں کی اس بری رسم کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ان میں اس وقت موجود تھا جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں گویا قرآن کریم پڑھنے والوں میں وہ جراثیم موجود ہیں جو اس وقت جاہل اور اکھڑ عربوں میں پائے جاتے ہیں۔ رسم یہ تھی کہ جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس کا بڑا لڑکا اگر ہوتا تو یہ مرنے والے کا کوئی عزیز آ کر اپنا کپڑا اس عورت پر یا اس کے خیمہ پر ڈال دیتا تھا اور بس کپڑا ڈالنے کے ساتھ گویا وہ اس کا وارث قرار پا جاتا۔ اس عورت کو اپنی ذات پر اب کوئی حق باقی نہ رہتا وہ عورت گویا اپنے خاوند کے بڑے بیٹے کی جس کو اس نے جنم نہیں دیا تھا بلکہ اس کے خاوند کا وہ بیٹا تھا اس کی میراث بن گئی اور اس کے رحم و کرم پر جو چاہے تو اپنی میراث بنا کر چھوڑ دے اور سارے کام اس سے لے چاہے تو کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے اور اس طرح اس کا حق مہر اس سے لے کر خود کا جائے کیونکہ یہ حق مہر کا بدل ہے جو اس کے باپ نے ادا کیا تھا۔
قرآن کریم نے اس بری رسم کی تردید کی اور فرمایا کہ دیکھو تم اس طرح ان عورتوں کے وارث نہیں قرار پاتے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اگر عورت مر جاتی تھی تو جس نے اس پر اپنا کپڑا ڈالا ہوتا تھا وہی اس کا وارث ہوتا تھا۔ ہاں ! اگر کوئی عورت خاوند کی وفات کے بعد فوراً میکے چلی جاتی اور اس پر کوئی کپڑا نہ ڈال سکتا تھا پھر اس کو اختیار ہوتا جہاں چاہے نکاح کرے کیونکہ اس طرح وہ اپنے خاوند کے گھر سے نکل جاتی تھی اور وہاں کی چیز کی وہ مالک نہ قرار پاتی۔ اسلام آیا تو اس وقت ابھی اس طرح رسومات جاری تھیں اس لیے ایک واقعہ اس طرح کا رونما ہوا جو مسلمان ہونے والوں میں تھا کہ ابوقیس بن اسلت انصاری کا انتقال ہوگیا اور اس کی بیوہ کبیشہ بنت معن انصاری رہ گئی ابوقیس کے بیٹے نے جس کا نام حصن تھا اپنا کپڑا کبیشہ پر ڈال دیا اور اس طرح گویا وہ اس کے نکاح کا وارث ہوگیا۔ لیکن اس کو اس طرح چھوڑے رکھا نہ خرچ دیا اور نہ ازدواجی زندگی بحال کی مقصد یہ تھا کہ اس طرح یہ تنگ ہو کر اس سے گلو خلاصی کی کوئی صورت اختیار کرے گی تو اس سے مال وصول ہوگا۔ کبیشہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ابوقیس مر گیا اور اس کا بیٹا میرے نکاح کا وارث ہوگیا۔ اب نہ وہ مجھے خرچ دیتا ہے ، نہ میرے ساتھ رہتا ہے اور نہ ہی میرا راستہ چھوڑتا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تیرا کوئی فیصلہ فرما دے گا اور جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو تو اس گھر میں بیٹھی رہ۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ “ (ابن جریر اور ابن ابی حاتم)
حکم یہ آیا کہ ” اے مسلمانو ! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم عورتوں کو میراث سمجھ کر ان پر زبردستی قبضہ کرلو اور نہ ایسا کرنا چاہئے کہ جو کچھ انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ لے نکلنے کے لیے ان پر سختی کرو اور انہیں روک رکھو الا یہ کہ وہ اعلانیہ بدچلنی کی مرتکب ہوں۔ “ اس طرح اس رسم بد کا قلع قمع ہوگیا اور ساتھ یہ بات بھی واضح فرما دی کہ ہاں ! اگر کوئی عورت خاوند کی نافرمانی کرے اور بدخلقی سے پیش آئے اس کا حق ادا نہ کرے تو ایسے حالات میں مردوں کو اتنی اجازت دے دی کہ وہ جو کچھ انہیں نے حق مہر میں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس مانگ سکتے ہیں کہ وہ مال جو ہم نے تم کو دیا ہے وہ واپس کر دو اور تم اپنی راہ اختیار کرو یعنی طلاق کی اگر وجہ کوئی ایسی برائی ہو جس کی عورت مرتکب بھی ہو اور پھر اس سے باز بھی نہ آئے تو ایسی عورت سے مہر کا کچھ حصہ واپس لیا جاسکتا ہے۔ وہ بھی مشروط طور پر کہ وہ طلاقو حاصل کرلے اور اس کا مہر سارا یا کچھ حصہ واپس کر دے۔
مردوں کو مزید ہدایت کہ عورتوں سے حسن سلوک کرو اور انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دو :
48: ماں ، باپ اور اولاد کے بعد قریب ترین تعلقات کی فہرست میں زن و شوہر کا رشتہ ہے اور اس بات کو اگر اس طرح کہہ دیا جائے کہ تعلقات کی فہرست میں پہلا درجہ زن و شوہر کا ہے اور دوسرا ماں باپ کا اور تیسرا درجہ اولاد کا تو بھی جائز و درست ہے کیونکہ زن و شوہر ہی کا وہ رشتہ ہے جو بدل کر ماں باپ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور پھر اس جوڑ کے بعد ماں باپ کا روپ دھارنے کے نتجہ میں اللہ نے اولاد جیسی عزیز ترین متاع دنیا کو رکھا ہے اور پھر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح والدین کے حقوق کی توضیح بوڑھوں کی تسکین روحانی کا ذریعہ اور اولاد کے حقوق کی تفصیل پر ننھے بچوں کی ہستی اور زندگی کا مدار تھا اس طرح حقوق زوجین کی تشریح پر جوانوں کے بلکہ ہر گھر کے عیش و مسرت کا انحصار ہے۔
اس سلسلے میں پہلے بات یہ ہے کہ اسلام سے پہلے جو اخلاقی مذاہب موجود تھے ان سب میں عورت کو اور عورت و مرد کے ازدواجی تعلقات کو بہت حد تک اخلاقی و روح کی ترقی مدارج کے لیے رکاوٹ اور مانع بیان کیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں بودھ ، جین ، ویدانت ، جوگ اور سادھوین کے سارے پیرو اس نظریہ کے پابند تھے۔ عیسائی مذہب میں تجرد اور عورت سے بےتعلقی ہی کمال روحانی کا ذریعہ تھا۔ (انجیل قری نتون باب 8:7) اسلام ہی وہ دین ہے جس نے آ کر اس نظریہ کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ اخلاق اور روح کی تکمیل جس قدر تجرد میں ہو سکتی ہے اس سے بدرجہا زیادہ تعلق ازواج میں ممکن ہے۔ کیونکہ اخلاق نام حسن معاملہ اور حسن سلوک کا ہے جو کسی کا شوہر نہ ہو ، جو کسی کی بیوی نہ ہو ، جو کسی کا باپ نہ ہو ، جو کسی کی ماں نہ ہو ، جو کسی کا بھائی نہ ہو اور نہ کسی کی بہن ہو ، نہ کسی سے رشتہ ناطہ رکھے اس پر دنیا کے کیا فرائض عائد ہو سکتے ہیں ؟ اور اخلاق کی تکمیل کے لیے اس کو کون سے فطری مواقع مل سکتے ہیں ؟ پھر دنیا میں اس عفت و عصمت کی موت جو اخلاقی قالب کی روح ہے ، اس تجرد کی زندگی میں کتنی یقینی ہے۔ مذہبی تجرد کی وہ پوری اخلاقی تاریخ جو دنیا کے کتب خانہ میں محفوظ ہے اس دعویٰ کی پوری پوری شہادت ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے بعثت سے لے کر اس دنیا سے رخصت ہونے تک عورت سے حسن معاشرت کا درس دیا اور قوم کے مردوں کا باور کرایا کہ تم میں بہتر ہو سکتا ہے جو اپنے اہل کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ خواہ ازدواجی زندگی اختیار کر کے امت کے لیے عملی سبق کے نمونہ قائم کر دے کہ حسن معاشرت اس چیز کا نام ہے۔
” عشر “ کے ایک معنی مخالطت کے بھی ہیں یعنی مل جل کر رہنا اس سے معاشرہ کے معنی گھل مل کر رہنا کے ہوئے اور عشیر کے معنی قریب اور دوست کیے۔ اس طرح یہ لفظ بول کر زمانہ کو بتا دیا کہ عورت کا عشیر اس کا خاوند ہے اس لیے کہ وہ مرد اپنی عورت اور عورت اپنے مرد سے دوست کی طرح میل جول رکھتے ہیں۔ اس طرح اسلام نے پہلے دو حکم دے کر جن کا اوپر ذکر ہوا ایک بد رسم کو دور کیا اور اس حکم سے عورت کو جو صرف خواہشات کا ازالہ سمجھا جاتا تھا اس کی طرف توجہ دلائی کہ عورت صرف نفسانی خواہش کے ازالہ ہی کے لیے نہیں پیدا کی گئی بلکہ یہ خواہشات تو دونوں طرف برابر برابر رکھی گئی ہیں عورت اور مرد کا ایک خاص تعلق ہے اور پھر ایک لفظ ” عَاشِرُوْھُنَّ “ میں مرد اور عورت کے سارے تعلق کو بند کر رکے رکھ دیا یعنی میاں بیوی کا تعلق ایک دوسرے سے صدیق اور سچے دوست کا تعلق ہے جو ایک دوسرے کے اپنی جان سے بھی زیادہ خیرخواہ ہوتے ہیں اور پھر صرف لفظ معاشرت پر ہی انحصار نہیں رکھا جو بجائے خود سچے تعلقات کا مقتضی ہے بلکہ اس کے ساتھ تاکید اور بڑھا دی کہ یہ دو طبائع کا ملنا ہے ممکن ہے کہ آپ کی طبع کے خلاف بھی کوئی چیز موجود ہو کیونکہ وہ بھی کوئی بےجان چیز نہیں جس طرح تمہاری طبع ہے اللہ نے اس کو بھی ایک طبع دی ہے اگر کہیں طبائع کا فرق نکل آئے جس کا امکان بہرحال موجود ہے تو ناپسندیدگی کا یہ نتیجہ نہ ہونا چاہئے کہ تم ان سے اچھا میل جول نہ رکھو بلکہ ایسی صورت میں اپنی طبیعت پر کنٹرول کر کے ان سے حسن اخلاق سے پیش آؤ اور اس کنٹرول کا نتیجہ یقینا یہ ہوگا کہ جس چیز کو تم پسند نہیں کرتے آہستہ آہستہ وہی تمہارے لیے مرغوب ثابت ہونے لگی گی۔ اس درخت کی آبیاری کرو اور اس طرح اس پر پھل آنے دو پھر دیکھو یہ کتنا میٹھا ہے۔ اگر آتے ہی طبیعت کا جوڑ جڑ گیا تو پھر تمہارا کمال کیا ہوا کمال تو یہی کمال ہے کہ طبع کے فرق کے باوجود گھل مل جاؤ اور محبت کے اثر سے وہ چیز پیدا کر کے دکھاؤ جس کی کمی تم کو محسوس ہو رہی تھی پھر زندگی کا مطلاعہ کرو کہ کتنی چیزیں ایسی ہیں جن سے طبیعت میل نہیں کھاتی لیکن اس کے باوجود انسان ان کے کرنے پر مجبور ہے اور وہ کتنی ہی چیزیں ہیں جو دل کو لبھاتی ہیں لیکن انسان کو وہ چھوڑنا پڑتی ہیں اور جب ان کے نتائج سامنے آتے ہیں تو طبیعت خودبخود اعتراف کرنا شروع کردیتی ہے کہ اس کرنے نے کتنا فائدہ دیا جو بادل نخواستہ کیا جاتا تھا اور اس طرح اس نے نہ کرنے سے کتنا فائدہ ہوا جس کے کرنے کو طبیعت پسند کرتی تھی۔
اپنا بچپن یاد کرو اور اس طرح ایک ایک چیز کا تجزیہ کرتے جاؤ تم خودبخود اس نتیجہ پر پہنچ جاؤ گے کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی اور نہ ہر میٹھا گھونٹ زندگی کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ بارہا ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک کڑوا گھونٹ زندگی کی ساری رعنائیوں کا سبب بن گیا۔ اس لیے برداشت سے کام لینا سیکھو کچھ دیر صبر کرو دو گھونٹ گلے سے اترنے دو ممکن ہے اس سے طلب بڑھ جائے اور ناگواری آہستہ آہستہ گوارا ہونا شروع ہوجائے پھر یہی تعلق بہت سی بھلائیوں کا موجب بن جائے۔
Ayah 4:20اگر ازدواجی زندگی کی بحالی کی کوئی صورت نہیں رہی تو نقصان کو بخوشی قبول کرلو :
49: اوپر کی آیت میں بتایا تھا کہ ناپسندیدگی کے باوجود اعلیٰ طریقہ یہی ہے کہ آدمی بیوی کے ساتھ شائستہ طریقہ پر نباہنے کی کوشش کرے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کوئی شخص اپنے حالات کے تقاضوں سے اگر اس فیصلہ پر پہنچ ہی گیا ہے کہ اس تعلق کو استوار نہیں رکھا جاسکتا اور اس طرح کوئی نیا جوڑ بند لگانا چاہتا ہے تو یہ تو بہرحال نہ کرے کہ جو کچھ پہلی بیوی کو لکھ دیا ہے اس کو واپس لینے کی کوشش کرے۔ یہاں تک کہ اگر اس کو ڈھیروں مال بھی اس نے دیا ہے جب بھی اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے واپس لینے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دے۔ استبدال کے لفظ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ عورت کو ادل بدل کرنے میں کوئی برائی نہیں کیونکہ قرآن کریم نے اس کی اجازت دی ہے کہ جب چاہو اور جو چاہو یہ بگڑے ہوئے ذہنوں کی تفہیم ہو سکتی ہے ایک صالح انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس سے تو فطرتِ انسانی کا تقاضا ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تم نے نکاح کیا تھا کیوں ؟ اس لیے کہ فطری انسان کا تقاضا تھا اور اس طرح طلا قدے دینے سے فطری تقاضا تو ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ وہ تو بدستور قائم ہے لہٰذا جو چیز برداشت نہیں ہوسکی اگر اس کو چھوڑنا چاہتے ہو تو اس کی جگہ کوئی دوسری لانا بھی تو اتنا ہی ضروری ہے اس لیے جو پہلے تم نے کیا تھا اس پر تم نے جو کچھ خرچ کیا اب اس کو بھول جاؤ اور اگر ابھی اس حق کا ادا کرنا تمہارے ذمہ واجب ہے تو فوراً ادا کر دو اور دل کی صفائی کے ساتھ اس نقصان کو بخوشی قبول کرو اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ اس نقصان کو نقصان ہی نہ سمجھو اور یہ کڑوا بول زبان تک بھی نہ لاؤ احسن طریقہ سے فارغ کر کے جو صورت تم کو پسند ہے وہ اختیار کرلو۔
پھر اس آیت کے آخری الفاظ میں مزید وضاحت فرما دی کہ کیا تم اپنا دیا ہوا مال لینے کی خاطر عورت پر کوئی بہتان لگاؤ گے یا کسی دوسرے گناہ کا ارتکاب کرو گے یعنی جاہلیت کی طرح عورت کو دکھ دینا شروع کر دو گے تاکہ وہ مال کا کچھ حصہ یا سارا واپس کر کے خلع کرلے۔ مطلب بالکل واضح کر کے رکھ دیا کہ حالات ایسے پیدا کردینا کہ طلاق دینے کا ارادہ ہونے کے باوجود اظہار نہ کرنا اور اوپر اوپر صلح اختیار کرنے کا اظہار کرنا اور اندر سے عورت کا حلقہ اس قدر تنگ کردینا کہ وہ بیچاری بولنے پر مجبور ہوجائے اور اس طرح خلع کا بہانہ بنا کر اس سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے لینا دوہرا ظلم ہے جس کی سزا یقینا مل کر رہے گی اس لیے کہ اس طرح انسانوں کو دھوکہ دیا جاسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں سے واقف ہے اور وہ تمہاری ساری اسکیموں سے اچھی طرح واقفع ہے۔ یہ آیت اس پر بھی صریح دلیل ہے کہ صداق یعنی حق مہر پر ایسی کوئی پابندی نہیں کہ اتنا ہونا چاہئے کو ان کہ مہر کا تعلق خاوند کی حالت پر ہے اگر وہ آسودہ حال ہے تو اس حالت کے پیش نظر مقرر کرنا چاہے اور اگر وہ تنگدست ہے تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق ہی کام کرے۔ لیکن ضروری بات تو یہ ہے کہ جو کچھ اس نے مقرر کیا ہے وہ خلوص نیت پر مبنی ہو بہتر ہے کہ بغیر مطالبہ اس کو ادا کر دے ورنہ مطالبہ پر تو بہرحال دل کی خوشی کے ساتھ ادا کرنا نہایت ضروری ہے ایسا نہ کرے کہ مجلس میں واہ واہ حاصل کرنے کے لیے ہزاروں کا نام لے اور زیور کے ایک ڈھیر کو مہر سے منسوب کر دے لیکن جب ادائیگی کا وقت آئے تو بہانے تراشنے لگے یہ تعلماکت اسلامی کے سراسر منافی ہے اور نہایت ہی گناہ کی بات ہے۔
بلاشبہ اس جگہ ” قِنْطَارٌ “ کا لفظ آیا جو ایک غیر محدود مقدار ہے لیکن اس پر اٰتَیْتُمْ کا لفظ بڑھا کر صاف بتا دیا ہے کہ مہر ادا کرنے کی چیز ہے صرف اعلان کردینے یا تحریر کردینے کی نہیں اور جس کو ادا کرنا ہے ظاہر ہے کہ اس کی مقدار مقرر ہونا لازمی اور ضروری چیز ہے اگر وہ ایک ڈھیر بھی ہو تو ڈھیر کا وزن اور حساب رکھنا ضروری ہے اور جس چیز کو عام زبان میں ڈھیر ساری چیز کا لفظ بولتے ہیں یقینا اس کا وزن بھی ہوتا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کا کوئی وزن ہی نہیں ہوتا۔ مثلاً ایک مرد نے جو زیور بنوایا وہ اپنی حیثیت کے مطابق بنوایا وہ کتنا وزن یا کتنی مالیت رکھتا ہے سب کو معلوم ہے اور اگر معلوم نہیں تو بہرحال معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اس ڈھیر کی گنتی ، وزن یا مالیت کا حساب لگانا ضروری ہے۔ پھر جہاں اس میں یہ وسعت موجود ہے کہ اس کو محدود نہیں کیا اس کے ساتھ یہ درس بھی دیا ہے جو احادیث میں موجود ہے کہ اعظم النساء برکۃ اسیرھن صداقا یعنی بہترین عورت وہ ہے جس کے مہر میں سہولت ہو اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مہر باندھتے وقت عورت یا عورت کے وکیل مہر زیادہ باندھنے پر زور نہ دیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کی مقدار بالکل نہ ٹھہرائیں بلکہ لڑکے پر یا اس کے وکیل پر بات چھوڑ دیں اس میں بڑی برکت ہوگی اس لیے لڑکے والوں کے لیے یہ تاکید کافی ہے کہ لڑکا جو بخوشی ادا کرسکتا ہے اپنی حیثیت کے مطابق وہ بیان کر دے۔ ہاں ! یہ خیال رکھنا چاہئے کہ شریعت اسلامنی نے جب اس کی مقدار مقرر ہی نہیں فرمائی تو پھر شریعت کے ذمہ یہ لگانا کہ حق مہر بتیس روپے 6 آنے یا اس طرح کا کوئی اور نام رکھنا اور اس کو شرعی حق مہر کے نام سے یاد کرنا کسی حال میں درست نہیں ہو سکتا۔
مردوں کے لیے تاکیدی حکم کہ اس طرح دیا ہوا مال واپس لینا صریح ظلم ہے :
50: مردوں کا حق مہر دیا ہوا مال یا بیوری کو کوئی تحفہ و تحائف میں دی گئی کسی چیز کی واپسی خواہ چیز کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو اس کو گناہ ظاہر اور ظلم عظیم سے تعبیر فرما کر اس کی برائی کو واضح الفاظ میں بیان کردیا اور قرآن کریم میں جہاں بھی ازدواجی زندگی کا ذکر کیا وہاں اس بات کی طرف ضرور توجہ دلائی اور ہر بار ایک نئے پیرائے سے بات سمجھانے کی کوشش کی کہ اس طرح کا دیا ہوا مال واپس مانگنا یا اس کے واپس لینے کی اسکیم بنانا کہ عورت خودبخو مجبور ہو کر واپس دینے پر راضی ہوجائے کہ نہایت بری اور ذلیل حرکت قرار دیا۔ اس جگہ بھی دوبارہ تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم چاہتے ہو کہ بیوی پر زنا وغیرہ کے بہتان لگانے کا کھلا گناہ کر کے اپنے مال واپس لینے کا راستہ نکالو۔ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ دیا ہوا مال واپس لینا صرف اس وقت جائز ہے جب بیوی کسی ناجائز حرکت کی مرتکب ہو اور انسان ظاہر ہے کہ اس کو برداشت نہیں کرسکے گا تو اب تم جو صورت بھی مال کو واپس لینے کی اختیار کرو گے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ گویا اس نے کوئی ناجائز حرکت کی ہے جس کی وجہ سے تم طلاق دینا چاہتے ہو کیونکہ تم نے حق مہر اس سے طلب کرلیا ہے یا اس کی ادائیگی پر راضی نہیں ہو۔ اپنی زبان سے تم اس پر تہمت لگاؤ یا نہ لگاؤ بزبان عمل تم نے یہ ثابت کردیا کیوں ؟ اس لیے کہ تم نے دیا ہوا مال واپس لینے کی لاحاصل کوشش کی جس کا تم کو حق نہیں تھا۔
حق مہر کی واپسی کی صرف ایک صورت جائز ہے جس کو خلع کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور اس میں یہ شرط ہے کہ طلاق حاصل کرنے کا مطالبہ عورت کی طرف سے ہو اور خاوند کسی صورت بھی طلاق دینا نہ چاہتا ہو اور وہ اس میں بالکل سچا اور حق بجانب ہو۔ اگر کوئی صورت ایسی واقعہ ہوجائے تو وہ صرف اس قدر جو اس نے حق مہر میں دیا ہے واپس لینے کا مجاز ہے لیکن اس میں بھی اگر وہ اس اجازت سے استفادہ حاصل نہ کرے اور مہر واپس نہ لے تو زیادہ بہتر سمجھا گیا ہے اور یہ بات واضح کردی ہے کہ جس طرح مرد کو طلاق دینے کا حق ہے کہ وہ کسی ناگواری کے باعث اس حق کو استعمال کرسکتا ہے اسی طرح عورت کو یہ شرعی حق دیا گیا ہے کہ اگر وہ کسی ناگواری کا شکار ہوجائے تو اس حق کو استعمال کرلے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں یہ بھی اجازت دے دی گئی کہ چونکہ ابتداء عورت کی طرف سے ہوئی ہے اس لیے وہ حق مہر کی رقم یا جو چیز بھی اس نے لی تھی واپس کر دے پھر اس کو مرد کے مطالبہ پر چھوڑ دیا کہ وہ چاہے جو دیا ہے سب واپس لے لے یا اس کا کوئی مخصوص حصہ یا کوئی چیز جو اس نے ادا کی تھی اور اگر ابھی کچھ ادا نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں وہ پابند نہ رہا کہ ادا کرے۔ اور اس کا نام خلع رکھا۔
تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 229 حاشیہ 390 ملاحظہ کریں۔
Ayah 4:21حق مہر کی واپسی کے ظلم و گناہ ہونے کے مزید دو مراحل کی طرف اشارہ :
51: حق مہر کی واپسی کے ایک مرحلہ کا ذکر اوپر کی آیت کے آخری حصہ میں کردیا تھا اور باقی دو مرحلوں کا ذکر اس آیت میں کردیا گیا ہے۔ فرمایا : ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم اسے واپس لو جب کہ تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ شوہر و بیوی کا ملنا مل چکے ہو۔ “ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ ۔
” افضیٰ “ فضا فراح کا مکان کو کہتے ہیں اور مفردات میں ہے کہ عورت کی طرف افضیٰ کنایہ میں زیادہ بلیغ اور تصریح میں زیادہ ہے ” خلابھا “ سے یعنی اس سے خلوت کی اور مراد اس سے عورت سے خلوت کرنا ہی ہے۔ گویا اس طرح اس آیت میں اس حق مہر کی واپسی کی ممانعت کی وجہ بھی ذکر کردی کہ جب تم دونوں کا صرف عقد ہی نہیں بلکہ خلوت صحیحہ بھی میسر آگئی اور ایک دوسرے سے بےحجابانہ ملنا بھی ہوچکا ہے کیونکہ اس صورت میں دیا ہوا مال اگر مہر کا ہے تو عورت اس کی پوری مستحق اور مالک ہوچکی ہے کیونکہ اس نے اپنے نفس کو شوہر کے سپرد کردیا ہے اس لے تو اب اس کی واپسی کے کوئی معنی نہیں اور اگر یہ دیا ہوا مال ہدیہ یا تحفہ ہے تو بھی اس کی واپسی کے لحاظ سے درست نہیں کیونکہ ہدیہ یا تحفہ دیا ہوا واپس مانگنے کا کوئی جواز شرعی اور قانونی نہیں ہے بلکہ وہ کتے کی قے کے مترادف ہے جو انسانیت کے اصول ہی کے منافی ہے۔
پھر اس مضمون کا تیسرا مرحلہ جو اس آیت میں دوسرے نمبر پر ہے یہ بیان فرمایا کہ ” تمہاری بیویاں تم سے نکاح کے وقت پکا قول وقرار کرا چکی ہیں ؟ “ اور تم نے یہ قول وقرار قبول کیا ہے اور اس سے مراد بھی وہی عقد نکاح کا عہد ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر خطبہ کے ساتھ مجمع کیے سامنے کیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ اس ازدواجی عہد و میثاق اور باہم بےحجابانہ ملنے کے بعد دیا ہوا مال واپس کرنے کے لیے عورت کو مجبور کرنا کھلا ہوا ظلم اور جور ہے جس سے مسلمانوں کو بڑی وعیدیں سنا سنا کر روکا گیا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ اس آیت کو بھی بعض مفسرین نے منسوخ بتایا ہے اور سورة بقرہ کی آیت 229 کو اس کا ناسخ قرار دیا ہے جس میں خلع کی صورت میں عورت سے مہر جزوی طور پر یا کلی طور پر وصول کرلینے کی اجازت دی گئی ہے۔ حالانکہ اس حکم کے منسوخ ہونے کا کوئی جواز یہاں نہیں بلکہ وہاں بھی اور یہاں بھی تسلیم کی گئی ہے۔ ہاں ! طلاق کی صورت میں اس کے جوا زکی کوئی وجہ نہیں اس کی سختی سے ممانعت وہاں بھی موجود ہے اور یہاں بھی۔ اس طرح دونوں حکم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں بلکہ اس سے نظم قرآنی کا کمال معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح حصے حصے کر کے مضمون کو مکمل اور مدلل کرتا ہے تاکہ کسی طرح کا ابہام باقی نہ رہے۔
Ayah 4:22باپ کی منکوحہ سے نکاح حرام ہے اس لیے کہ وہ ماں کے حکم میں داخل ہے :
52: جاہلیت کے دور میں اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی تھی جیسا کہ اوپر آیت 19 میں مذکور ہو ابل کہ ان کے ہاں عام رواج تھا کہ جب کسی کا باپ وفات پا جائے تو اس کا بڑا لڑکا یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اٹھتا اور اس کی بیوی پر جو کپڑا ڈالنے والے کی حقیقی والدہ نہ ہوتی کپڑا ڈالنے سے اس کی ملکیت تصور ہوتی اب وہ چاہے اس کو زوجہ بنا کر ازدواجی تعلقات پیدا کرے اور چاہے کسی دوسرے کو نکاح میں دے کر اس کا حق مہر خود وصول کرلے اور چاہے کپڑا ڈال کر بس چھوڑ دے تاکہ وہ اس طرح کسی دوسری جگہ جا کر نکاح نہ کرسکے۔ اس رسم بد کو قرآن کریم نے بےشرمی اور بےحیائی کے کام سے منسوب کیا اور منع فرمایا کہ مسلمانوں تم اس حرام فعل کے کبھی مرتکب نہ ہو۔
اس آیت سے مزید یہ بھی معلوم ہوگیا کہ باپ کی منکوحہ سے نکاح حرام ہے خواہ اس سے خلوت صحیحہ ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو اس تحقیق کی ضرورت نہیں۔ صرف نکاح کا ثبوت کافی ہے اور بالکل اسی طرح بیٹے کی منکوحہ سے اس کے باپ کا نکاح حرام قطعی ہے خواہ اس کے بیٹے کے ساتھ اس کی منکوحہ کی خلوت صحیح میسر آئی ہو یا نہ آئی ہو اس لیے کہ ان دونوں صورتوں میں صرف نکاح کی شہادت موجود ہونا کافی ہے باوجود اس کے کہ عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ اپنے باپوں کی بیویوں سے نکاح کرلیتے تھے تاہم اس رسم کو وہ بھی اچھا نہ سمجھتے تھے اس لیے اس نکاح کو نکاح مقت کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ اسلام نے اس کو جڑ سے کاٹ دیا۔ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ کے لفظی معنی تو یہی ہیں کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو نکاح اس طرح سے ہوچکے سو ہوچکے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو اب تک ہوا سو ہوا اور اب اس طرح کے جتنے نکاح ہیں وہ سب خودبخود ہی اس حکم سے فسخ ہوگئے اس لیے اب کوئی جواز نہیں ہے کہ ایسے نکاح اپنی اسی حالت میں قائم رہیں۔
غور کریں کہ حرمت سود کے متعلق بھی یہی لفظ استعمال ہوئے ہیں چناچہ ارشاد ہوا : فَمَنْ جَآئَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ (البقرہ : 275:2) اور فَلَہٗ مَا سَلَفَ کے معنی بتائے گئے کہ جو گناہ اس سے ہوا ہوچکا اس سے درگزر کی جائے گی مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ جس نے سودی معاملہ کیا ہوا ہے وہ سود لیتا رہے بلکہ وہاں صاف صاف یہ ہدایت موجود ہے کہ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا (البقرہ : 278:2) جو سود اس وقت تک لینا باقی ہے وہ بھی ترک کرنا پڑے گا۔ اس طرح اس جگہ بھی اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ میں استثناء گناہ سے ہے جواز فعل سے نہیں۔ اس کلمہ کو بیان کرتے وقت سارے الفاظ ایسے استعمال کیے گئے جو اس فعل کی نفرت پر بذاتہ دلالت کرتے چلے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ” یہ بڑی ہی بےحیائی کی بات تھی۔ “ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً مکروہ و مردود شیوہ تھا۔ مَقْتًا اور نہایت ہی برا دستور وَسَآئَ سَبِیْلًا اس ایک ہی فعل کے لیے تینوں جملے استعمال کیے گئے اور تینوں ہی ایک دوسرے سے بڑھ کر سخت ہیں جس سے اس فعل قبیح اور رسم ثنیع پر دلالت کر رہے ہیں۔