Ayahs 4:69–70اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اصل ثمرہ :
123: جو لوگ سب سے کٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان کو اللہ کے انعام یافتہ بندوں انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کی معیت ورفاقت حاصل ہوتی ہے اور کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو اس پاک گروہ کی معیت ورفاقت حاصل ہو۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس فضل خاص ہے اور اللہ اس فضل خاص کے مستحق بندوں سے بیخبر نہیں ہے جو لوگ اس فضل کے حاصل کرنے کے لئے ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیلیں گے وہ مطمئن رہیں کہ اللہ ان کی جاں بازیوں سے اچھی طرح باخبر ہے اور کے لئے خاص انعامات رکھے گئے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ان تمام چیزوں پر عمل کریں جن کے کرنے کا حکم اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے دیا ہے اور ان تمام چیزوں سے پرہیز کریں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع فرمایا ہے تو عمل کے اعتبار سے ان کے مختلف درجات ہوں گے اور درجہ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ جنت کے مقامات عالیہ میں جگہ عطافرمائیں گے اور دوسرے درجہ کے لوگوں کو ان کے ساتھ جگہ عطافرمائیں گے جو انبیاء کرام کے بعد ہیں جن کو صدیقین کہا جاتا ہے یعنی وہ اجلہ صحابہ کرام جنہوں نے بغیر کسی جھجھک اور مخالفت کے اول ہی روز کو ایمان کی دعوت سنی تو اس کو قبول کرلیا جیسے ابوبکر صدیق ؓ پھر تیسرے درجہ کے حضراتشہداء کے ساتھ ہوں گے۔ شہداء وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان اور مال قربان کردیا پھر چوتھے درجہ کے حضرات صلحاء کے ساتھ ہوں گے اور صلحاء وہ لوگ ہیں جو اپنے ظاہر و باطن میں اعمال صالحہ کے پابند ہیں اور اس کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔
انبیاء کرام سے مقصود اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سچائی کے وہ تمام پیغامبر ہیں جو مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں پیدا ہوتے رہے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت سے حکم الٰہی کے مطابق نوع انسانی کو خدا پرستی اور نیک عملی کی دعوت دی تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو مبعوث فرما کر نبوت کا دروازہ بند کردیا اور اب تا قیامت آپ ﷺ ہی کی دعوت جاری وساری رہے گی۔
صدیق اسے کہتے ہی جس میں سچائی کی روح غالب ہو یعنی ایسا انسان جو سچائی سے فطری مناسبت رکھتا ہو اور اسے دیکھتے ہی پہچان لیتا اور قبول کرلیتا ہو۔ شہید کے معنی ہیں گواہی دینے والا یعنی ایسا انسان جو اپنے قول و عمل سے سچائی کا اعلان کرنے والا ہو اور دنیا میں اس کے لئے شہادت وحجت قائم کر دے۔ صالحین سے مقصود وہ تمام انسان ہیں جو اپنے اعتقاد و عمل میں نیک اور راست باز ہوں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کرنے والے ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز اور مقبول ہیں جن کے چار درجے بتلائے گئے ہیں۔ انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین۔
اس آیت کریمہ کو کچھ لوگوں نے نبوت کے جاری ہونے کے لئے دلیل بنایا ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح آج بھی ایک انسان نیک اعمال کر کے صالحین میں شمار ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو کر اشہداء میں اور ہر معاملہ میں سچ بول کر سچائی کو مان کر اور سچائی کا ساتھ دے کر صالحین میں شمار ہو سکتا ہے اسی طرح ترقی کرتے وہ نبی بن کر انبیاء میں بھی داخل ہو سکتا ہے حالانکہ یہ لوگ اس بات کو اچھای طرح جاتنے ہیں کہ نبوت و رسالت کسبی چیز نہیں کہ ایک انسان محنت کر کے اس عہدہ کو حاصل کرلے بلکہ یہ خالصتہ وہبی یا عطائی چزا تھی جس کے قیامت تک ختم کردینے کا اعلان الٰہی موجود ہے پھر اللہ تعالیٰ کے بند کئے ہوئے دروازہ کو کھول سکے ایسی بات وہ شخص تو نہیں کہہ سکتا جس کے دل میں ایمان نام کی کوئی شے موجود ہو اور جس کے دل میں ایمان ہی نہ ہو اس کی زبان کچھ کہے اس کا اعتبار کیا ؟
وقدا کطا میں استدل بھذہ الا یہ علٰی بقاء النبوۃ مطلقۃ کانت اور مقیدۃ لان اللہ قد سہد بھا بھا وخوخ تھا وختما قولا منہ وفلا الٰی یوم لاقیماہ (ایا للسائلین ص 227 الحافط عنایت اللہ ﷺ
پھر قرآن کریم میں اس آیت کے اندر یہ بات بیان فرما دی گئی اور اس کی ترتیب اس طرح رکھی کہ اس بات کا کسی کو شبہ ہی پیدا نہ وہو سکے کیونکہ عطائی اور روہبی چیز کو سب سے پہلے فرمایا تاکہ حاصل کرنے اور کمانے کا مفہوم اس سے پیدا ہی نہ ہو سکے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی نبوت ، کتاب اور حکمت کا ذکر فرمایا وہاں ” اٰتَیْنَا “ ” اٰتَیْنٰھُمْ “ ” اٰتَاِنُی “ ُٰئوتِیْہِ “ ” جَعَلْنَا “ جَعَلْنِیْ “ ” اَرْ سَلْنَا “ ” اَرْسَلَنِیْ “ ” اَرْسَلْنٰھُمْ “ اور ” اَنْزَلْنا “ وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے۔ کیا حاصل کرنے اور عطا کئے جانے یا دیئے جا نے میں کوئی فرق نہیں ؟ کیوں نہیں اس فرق کو تو بچے بھی جانتے ہیں لیکن جس کو غرض نے اندھا کردیا ہو ، وہ کیا سمجھے ؟ ڈوبنے والا ہاتھ پائوں مارتا ہے کہ شاید کوئی تنکا ہی سہارا بن جائے ؟ لیکن کبھی کوئی تنکے کے سہارے بچ بھی نکلا ؟ پھر جس کو اللہ غرق کرنا چاہے اس کون بچا سکتا ہے۔ یہ اللہ کا غرق کرنا کیا ہے ؟ اس کے قانون کا مطالعہ کرو بات خود بخود واضح ہوجائے گی۔
اس طرح ” ہونے “ اور ” ساتھ ہونے “ میں بھی بہت بڑا فرق ہے اور ہر آدمی اس کو سمجھتا ہے جس کو اللہ نے عقل و فکر دی ہے وہ ان باتوں میں غور کرتا ہے۔ قرآن کریم ” مَعَ الَّذِیْنَ “ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے “ کے الفاظ نے اس بحث کو بالکل بند کردیا ہے جو خواہ مخواہ چھیڑ دی گئی اور یہ بات بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے شرارتی ذہن کے لوگ کبھی شرارت سے باز نہیں آتے۔ باب نبوت کے بند ہونے کے بعد اس کو کھٹکھٹا نے والے شرارتی نہیں تو اور کیا ہیں ؟
زیر نظر آیت ایک خاص واقعہ کی بناء پر نازل ہوئی جس کو امام تفسیر حافظ ابن کثیر (رح) نے متعدد اسانید سے نقل کیا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضر عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز ایک صحابی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے دل میں آپ ﷺ کی محبت جان سے بھی زیادہ ہے ، اپنی بیوی سے بھی ، اپنی اولاد سے بھی ، بعض اوقات میں اپنے گھر میں بےچین رہتا ہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کی زیارت کرلوں تب سکون ہوتا ہے ، اب مجھے فکر ہے کہ جب اس دنیا سے آپ ﷺ کی وفا ہوجائے اور مجھے بھی موت آجائے گی تو میں جانتا ہون کہ آپ ﷺ جنت میں انبیاء کے ساتھ درجات عالیہ میں ہوں گے اور مجھے اول تو یہ معلوم نہیں کہ جنت میں پہنچوں گا بھی یا نہیں ؟ اگر پہنچ بھی گیا تو میرا درجہ آپ ﷺ سے بہت نیچے ہوگا ، میں وہاں آپ ﷺ کی زیارت نہ کرسکوں گا تو مجھے کیسے صبر آئے گا ؟
آنحضرت ﷺ نے ان کا کلام سن کر کچھ جواب نہ دیا ، یہاں تک کہ یہ آیت مذکورہ نازل ہوگئی ” مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ “ اس وقت آنحضرت ﷺ نے ان کو بشارت سنادی کہ اطاعت گزاروں کو جنت میں انبیاء اور صدیقین اور شہدا اور صالحین کے ساتھ ملاقات کا موقع ملتا رہے گا ، یعنی درجات جنت میں تفاضل اور اعلیٰ ادنی۔۔ ہونے کے باوجود ملاقات و مجالست کے موقع ملیں گے۔
جنت میں ملاقات کی چند صورتیں :
جس کی ایک صورت یہ بھی ہوگی کہ اپنی جگہ سے ایک دوسرے کو دیکھیں گے جیسا کہ موطاء امام ملک (رح) میں بروایت اور سعید خدری ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت اپنی کھڑکیوں میں اپنے سے اوپر کے طباقات والوں کو دیکھیں گے جیسے دنیا تم ستاروں کو دیکھتے ہو۔
اور یہ بھی صورت ہوگی کہ درجارت میں ملاقات کے لئے آیا کریں گے ، جیسا ابن جریر نے بروایت ربیع نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اونچے درجات والے نیچے درجات کی طرف اترکر آیا کریں گے اور ان کے تھ ملاقات اور مجالست ہوا کرے گی۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ نیچے کے درجات والوں کو ملاقات کے لئے اعلیٰ درجات میں جانے کی اجازت ہو ، اس آیت کی بناء پر رسول کریم ﷺ نے بہت سے لوگوں کو جنت میں اپنے ساتھ رہنے کی بشارت دی۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت کعب بھی اسلمی ؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ گزارتے تھے ، ایک رات تہجد کے وقت کعب اسلمی ؓ نے آنحضرت ﷺ کے لئے وضو کا پانی اور مسواک وغیرہ ضروریات لا کر رکھیں تو آپ ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا : مانگو کیا مانگتے ہو ؟ کعب اسلمی ؓ نے عرض کیا ، میں جنت میں آپ ﷺ کی صحبت چاہتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا اور کچھ ؟ تو انہوں نے عرض کیا اور کچھ نہیں ، اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو ” اعنی علیٰ نفسک بکثرۃ السجود “ یعنی تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا لیکن اس میں تم بھی میری مدد اس طرح کرو کہ کثرت سے سجدے کیا کرو ، یعنی نوافل کی کثرت کرو۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس بات کی شہادت دے چکا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں پانچ وقت کی نماز کا بھی پابند ہون اور زکوۃ بھی ادا کرتا ہوں اور رمضان کے روزے بھی رکھتا ہوں یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے وہ انبیاء صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ، بشر طی کہ اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرے۔
اسی طرح ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
التاجر الصدوق الا مین مع النبیین والصدیقین والشھداء
” یعنی وہ بیوپاری جو سچا اور امانت دار ہو ، انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ “
قرب کی شرط محبت ہے :
رسول کریم ﷺ کی صحبت اور رفاقت آپ ﷺ کے ساتھ محبت کرنے سے حاصل ہوگی ، چناچہ صحیح بخاری میں طرق متواترر کے ساتھ صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑھی جماعت سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جو کسی جماعت سے محبت اور تعلق رکھتا ہے مگر عمل میں ان کے درجہ کو نہیں پہنچا ، آپ ﷺ نے فرمایا العرأ مع من احب ” یعنی محشر می ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس اس کو محبت ہوے۔ “
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ کو دنیا میں کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس حدیث سے ، کیونکہ اس حدیث نے ان کو یہ بشارت دے دی کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ محبت کرنے والے محشر اور جنت میں حضور ﷺ کے ساتھ ہوں گے۔
صدیقین کی تعریف قرآن کریم میں :
یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ نہیں سمجھتے بلکہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن انہیں اپنے مالک حقیقی کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” جو لوگ روز جزاء کو برح مانتے ہیں اور اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ (المعارج : 70:26 , 27)
ایک جگہ ارشا فرمایا :
” ایمان والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے اپنے روئیے میں کوئی تبدیلی نہیں کی یہ سب کچھ اس لئے ہوا اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزا دے۔ “ (الاحزاب : 33:24 , 23)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہی سچے لوگ ہیں۔ “ (الحجرات : 49:15)
ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا :
” یہ مال ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کئے گئے ہیں یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ ہیں ، یہی راست باز لوگ ہیں ۔ “ (الحشر : 59:8)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اللہ فرمائے گا آج وہ دن ہے کہ سچے انسانوں کو ان کی سچائی کام آئے گی ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ “ (المائدہ : 5:119)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” نیکی کی راہ تو ان لوگوں کی راہ ہے جو اللہ پر ، آخرت کے دن پر ، فرشتوں پر ، آسمانی کتابوں پر اللہ کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ کی محبت کی راہ میں اپنا مال ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور سائلوں کو دیت ہیں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، اپنی بات کے پکے ہوتے ہیں ، جب قول وقرار کرلیتے ہیں تو اسے پورا کر کے رہتے ہیں ، تنگی ومصیبت کی گھڑی ہو یا خوف وہراس کا وقت ہر حال میں صبر کرنے والے ہوتے ہیں بلاشبہ ایسے ہی لوگ ہیں جو نیکی کی راہ میں سچے ہوئے اور یہی ہیں جو برائیوں سے بچنے والے ہیں۔ “ (البقرۃ : 2:177)
شاہدین کی تعریف قرآن کریم میں :
فرمایا جو لوگ اللہ کی طرف سے دلیل وحجت پر ہیں اور انہوں نے راہ حقیقت پالی ہے اور ان کے پاس اس بات کی دلیل وگواہی بھی موجود ہے جس کو وہ ایمان وایقان سے مان چکے ہیں وہ ان مغرورین دنیا کی طرح نہیں ہوسکتے۔ ان کی راہ ہدایت الٰہی کی رہ ہے اور ہدایت الٰہی کی کا مایبی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” پھر دیکھو جو لوگ اپنے پروردگار کی جانب سے ایک روشن دلیل ہیں یعنی وجدان وعقل کا فیصلہ اور اس کے ساتھ ہی ایک گواہ بھی اللہ کی طرف سے اغای ہو یعنی اللہ کی وحی اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی پیشوائی کرتی ہوئی اور سرتاپا رحمت آچکی ہو اور اس کی تصدیق کر رہ ہو تو کیا ایسے لوگ انکار کرسکتے ہیں ؟ “ (ھود : 11:17)
ایک جگہ فرمایا :
” مسلمانو ! ہم نے تمہیں نیک ترین امت ہونے کا درجہ عطا فرمایا تاکہ تمام انسانوں کے لئے سچائی کی گواہی دینے والے ہو اور تمہارے لئے اللہ کا رسول گواہی دینے والا ہو۔ “ (البقرۃ : 2:143)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جو لوگ اللہ اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپن رب کے نزدیک صدیق شہید ہیں ، ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ “ (الحدید :57:19)
ایک جگہ ارشا فرمایا :
“ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرا ان کریم میں بھی تمہارے یہی نام ہے تاکہ رسول تم پر گواہ اور تم لوگوں پر گواہ۔ “ (الحجرات : 49:15)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تہمین بھیجا ہے گواہ بنا کر بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ “ (الاحزاب : 33:45)
نبی کو گواہ بنانے کا مفہوم اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے جس میں تین قسم کی شہادتیں شامل ہیں۔ ایک قومی شہادت دوسرے عملی شہادت اور تیسرے اخروی شہادت۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جس روز ہم امت میں نہی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کر کھڑا کریں گے جو ان کے اوپر گواہی دے گا اے پیغمبر اسلام تمہیں ان لوگوں کی حیثیت سے لائیں گے۔ “ (النحل : 12:89)
صالحین کی تعریف قرآن کریم میں :
فرمایا جو لوگ ایمان و عمل کی سچائی رکھتے ہیں ضروری ہے کہ وہ اپنی عملی نیک اجر پائیں۔ رب کریم کا قانون مکافات کسی خاص گروہ اور نسل ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام نوع انسانی کے لئے ہے جو انسان بھی راست باز اور نیک کردار ہوگا اللہ کہ ہاں اجر محفوظ پائے گا۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر سچا ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں ، بھلائی کے تمام کاموں میں تیز گام ہیں اور بلاشبہ ان لوگوں میں سے ہیں جو نیک کردار ہیں۔ “ (ال عمران : 3:114)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔ “ (العنکبوت : 29:9)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور زبور میں ہم تذکیرو ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ “ (الانبیاء : 21:105) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں : کیا ہوگیا ہے کہ ہم اللہ پر اور اس کلام پر جو سچائی کے ساتھ ہمارے پاس آیا ہے ایمان نہ لائیں اور اللہ سے اس کی توقع نہ رکھیں کہ وہ ہمیں نیک کردار انسانوں کے کردہ میں داخل کر دے ؟ “ (المائدہ : 5:84)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” میرا کار ساز تو بس اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہی ہے جو نیک انسانوں کی سازی کرتا ہے ؟ “ (الاعراف : 7:192)
ایک جگہ ارشادفامایا :
” اے میرے رب ! مجھے حکم عطا فرما اور مجھ کو صالحن کے ساتھ ملا دے۔ “ (الشعراء : 26:83)
یہی دعا ہر ایک مسلم انسان کی ہونا چاہئے کہ اے اللہ ! دنیا میں مجھے صالح سوسائٹی دے اور آخرت میں میرا حشر نیک لوگوں کے ساتھ کر دے۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے صالح لوگوں کے ساتھ کسی کا حشر ہونا اور ان کا نجات پانا گویا ہم معنی ہیں اس لیے یہ تو ہر انسان کی دعا ہونی چاہیے جو حیات بعد الموت اور جزا وسزا پر یقین رکھتا ہے لیکن دنیا میں بھی ایک پاکیزہ روح کی دل میں تمنا یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک بد اخلاق ، فاسق و فاجر معاشرے میں زندگی بسر کرنے کی مصیبت سے نجات دے اور اس کو نیک لوگوں کے ساتھ مائے۔
معاشرے کا بگاڑ تو جہاں چاروں طرف محیط ہو وہاں ایک آدمی کے لئے صرف یہی چیز ہمہ وقت اذیت کا موجب نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گردو پیش گندگی ہی گندگی پھیلی دیکھتا ہے بلکہ اس کے لیے خود پاکیزہ رہنا اور اپنے آپ کو گندگی کے چھینٹوں سے بچا کر رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے ایک صالح آدمی اس وقت تک بےچین ہی رہتا ہے جب تک یا تو اس کا اپنا معاشرہ پاکیزہ ہوجائے یا پھر وہ اس سے نکل کر کوئی دوسری سوسائٹی نہ پالے جو حق وصداقت کے اصولوں پر چلنے والی ہو۔
اوپر سورة الانبیاء کی آیت 105 کا ترجمہ درج کیا گیا ہے خیال پڑتا ہے کہ شاید یہ کسی دوست عزیر کے دل میں کھٹ کھٹ پیدا کر دے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس وضاحت کردی جائے۔ آیت قرآن کریم میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔
وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ (الانبیاء : 21: (105
” دیکھو ہم نے زبور میں تذکیرو نصیحت کے بعد یہ بات لکھ دی تھی کہ زمین کی وراثت انہی بندوں کے حصے میں آئے گی جو نیک ہوں گے۔ “
ایک غلطی کا ازالہ :
اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کریم کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کردیتا ہے۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجود زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت وفرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے انہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے۔ پھر اس قائدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے ، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح۔ اس کے بعدوہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا میں پہلے وارث زمین رہی ہیں اور آج اس وارثت کی مالک بنی ہوئی ہیں۔ یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کافر ، مشرک ، دہرئیے ، فاسق ، فاجر ، سب یہ وراثت پہلے بھی پاتے رہے ہیں اور آج بھی پا رہے ہیں۔ جن قوموں میں وہ تمام اوصاف پائے گئے ہیں اور آج پائے جاتے ہیں جنہیں قرآن صاف صاف الفاظ میں کفر ، فسق ، فجور ، معصیت اور بدی سے تعبیر کرتا ہے وہ اس وراثت سے محروم نہیں ہوئیں بلکہ نوازی گئی اور آج بھی نوازی جار رہی ہیں۔ فرعون ونمرود سے لے کر اس زمانے کے کمیونسٹ فرمانروائوں تک کتنے ہی ہیں جو کھلم کھلا خدا کے منکر ، مخالف ، بلکہ مد مقابل بنے ہیں اور پھر بھی وارث زمین ہوئے ہیں اس منظر کو دیکھ کر وہ یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان کردہ قاعدۃ کلیہ تو غلط نہیں ہو سکتا ، اب لا محالہ غلطی جو کچھ ہے وہ ” صالح “ کے اس مفہوم میں ہے جو اب تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں۔ چناچہ وہ صلاح کا ایک نیا تصور تلاش کرتے ہیں جس کے مطابق زمین کے وارث ہونے والے سب لوگ یکساں ” صالح “ قرار پاسکیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فارق ؓ ہوں یا چنگیز اور ہلاکو۔ اس نئے تصور کی تلاش میں ڈارونکا نظریہ ارتقاء ان کی راہنمائی کرتا ہے اور وہ قرآن کے تصور ” صلاح “ کو ڈراوینی تصور ” صلاحیت “ (Fitness) سے لے جا کر ملا دیتے ہیں۔
اس نئی تفسیر کی رو سے آیت زیر بحث کے معنی یہ قرار پاتے ہیں کہ جو شخص اور گروہ بھی ممالک کو فتح کرنے اور ان پر زور و قوت کے ساتھ اپنی حکومت چلانے اور زمین کے وسائل کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرنے کی قابلیت رکھتا ہو وہی ” خدا کا صالح بندہ “ ہے اور اس کا یہ فعل تمام ” عابد “ انسانوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ ” عبادت “ اس چیز کا نام ہے جو یہ شخص اور گروہ کر رہا ہے ، اگر یہ عبادت تم نہیں کرتے اور نتیجہ میں وراثت زمین سے محروم رہ جاتے ہو تو نہ تمہارے شمار صالحین میں ہو سکتا ہے اور نہ تم کو خدا کا عبادت گزار بند کہا جاسکتا ہے۔
یہ معنی اختیار کرنے کے بعد ان حضرات کے سامنے یہ سوال آیا کہ اگر ” صلاح “ اور ” عبادت “ کا تصور یہ ہے تو پھر ایمان (ایمان بااللہ ، ایمان بالیوم الاخر ، ایمان بالرسل اور ایمان بالکتب) کیا ہے جس کے بغیر خود اسی قرآن کی رو سے ، خدا کے ہاں کوئی عمل صالح مقبول نہیں ؟ اور پھر قرآن کی اس دعوت کے کیا معنی ہیں کہ اس نظام اخلاق اور قانون زندگی کی پیروی کرو جو خدا نے اپنے رسول کے ذریعہ بھیجا ہے ؟ اور پھر قرآن کا بار بار یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ جو رسول کو نہ مانے اور خدا کے نازل کردہ احکام کا اتباع نہ کرے وہ کافر ، فاسق ، عذاب کا مستحق اور مغضوب بارگاہ خداوندی ہے ؟ یہ سوالات ایسے تھے کہ اگر یہ لوگ ان پر ایماندری کے ساتھ غور کرتے تو محسوس کرلیتے کہ ان سے اس آیت کا مطلب سمجھنے اور صلاح کا ایک نیا تصور قائم کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ لیکن انہوننے اپنی غلطی محسوس کرنے کے بجائے پوری جسارت کے ساتھ ایمان ، اسلام ، توحید ، آخرت ، رسالت ، ہرچیز کے معنی بدل ڈالے تاکہ وہ سب ان کی اس ایک آیت کی تفسیر کے مطابق ہوجائیں اور اس ایک چیز کو ٹھیک بٹھانے کی خاطر انہوں نے قرآن کی ساری تعلیمات کو الٹ پلٹ کر ڈالا۔ اس پر لطیفہ یہ ہے کہ جو لوگ ان کی اس مرمت دین سے اختلاف کرتے ہیں ان کو الٹا الزام دیتے ہیں کہ ” خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں “ یہ دراصل مادی ترقی کی خواہش کا ہیضہ ہے جو بعض لوگوں کو اس طح لاحق ہوگیا ہے کہ وہ قرآن کی معنوی تحریف کرنے میں بھی تامل نہیں کرتے۔
ان کی اس تفسیر میں پہلی بنیادی غلطی یہ ہے کہ یہ لوگ ایک آیت کی ایسی تفسیر کرتے ہیں جو قرآن کی مجموعی تعلیمات کے خلاف پڑتی ہے ، حالانکہ اصولاً قرآن کی ہر آیت کی وہی تفسیر صحیح ہو سکتی ہے جو اس کے دوسرے بیانات اور اس کے مجموعی نظام فکر سے مطابقت رکھتی ہو۔ کوئی شخص جس نے کبھی قرآن کو ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کی ہے ، اس بات سے ناواقف نہیں رہ سکتا کہ قرآن جس چیز کو نیکی اور تقویٰ اور بھلائی کہتا ہے وہ ” مادی ترقی اور حکمرانی کی صلاحیت “ کی ہم معنی نہیں ہے ، اور ” صالح “ کو اگر ” صاحب صلاحیت “ کے معنی میں لے لیا جائے تو یہ ایک آیت پورے قرآن سے ٹکرا جاتی ہے۔ دوسرا سبب جو اس غلطی کا موجب ہوا ہے کہ یہ لوگ ایک آیت کو اس سیاق وسباق سے الگ کر کے بےتکلف جو معنی چاہتے ہیں اس کے الفاظ سے نکلالتے ہیں ، حالانکہ ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق وسباق سے مناسبت رک تھے ہو اگر یہ غلطی نہ کی جاتی تو آسانی کے ساتھ دیکھا جاسکتا تھا کہ اوپر سے جو مضمون مسلسل چالا آرہا ہے وہ عالم آخرت میں مومنین ، صالحین اور کفار ومشرکین کے انجام سے بحث کرتا ہے۔ اس مضمون میں یکایک اس مضمون کو بیان کرنے کا آخر کونسا موقع تھا کہ دنیا میں وارثت زمین کا انتظام کس قاعدے پر ہو رہا ہے ؟
تفسیر کے صحیح اصولوں کو ملحوظ رکھ کر دیکھا جائے تو ایت کا یہ مطلب ہے کہ دوسری تخلیق میں ، جس کا ذکر ایا سے پہلے کی آیت می ہوا ہے ، زمین کے وارث صرف صالح لوگوں گے اور اس ابدی زندگی کے نظام میں موجود عارضی نظام زندگی کی سی کیفیت برقرار نہ رہے گی کہ زمین پر فاسقوں اور ظالموں کو بھی تسلط حاصل ہوجاتا ہے۔ یہ مضمون سورة مومنون آیات 10 ۔ 11 میں بھی ارشاد ہوا ہے اور اس زیادہ صریح الفاظ سورة زمر کے خاتمہ پر بیان کیا گیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ قیامت اور نفخ صور اول و ثانی کا ذرک کرنے کے بعد اپنی عدالت کا ذکر فرمایا ہے ، پھر کفر کا انجام بیان کر کے نیک لوگوں کا انجام یہ بتایا ہے کہ
وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا حَتّٰی۔ ٓ اِِذَا جَآئُوْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِیْنَ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہُ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَائُ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ
” اور جن لوگوں نے اپنے رب کے خوف سے تقویٰ اختیار کیا تھا وہ جنت کی طرف گروہ در گروہ لیجاے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے لئے جنت کے دروازے کھو لدیتے جائیں گے اور ان کے منتظم ان سے کہیں گے سلام ہو تم کو ، تم بہت اچھے رہے ، آئو اب اس میں ج ہمیشہ رہنے کے لئے داخل ہو جائو اور کہیں گے کہ حمد ہے اس خدا کی جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہم کو زمین کا وارث کردیا ، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لئے۔ “ دیکھتے یہ دونوں نے آیت ایک ہی مضمون بیان کر رہی ہیں اور دونوں جگہ وراثت زمین کا تعلق عالم آخرت سے ہے نہ کہ اس دنیا سے۔
اب زبور کو لیجئے جس کا حوالہ آیت زیر بحث میں دیا گیا ہے۔ اگرچہ ہمارے لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ بائبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں زبور کے نام سے جو کتاب اس وقت پائی جاتی ہے اپنی اصل غیر محرف صورت میں ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس میں مزامری دائود کے علاوہ دوسرے لوگوں کے مزامیر بھی خلط ملط ہوگئے ہیں اور اصلی زبور کا نسخہ کہیں موجود نہیں ہے۔ تاہم جو زبور اس وقت موجود ہے اس میں بھی نیکی اور راست بازی اور توکل کی نصیحت کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔
” کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے۔ کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائے گا ، تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا پر ہو نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراونی سے شادماں رہیں گے ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی صادقین زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ “ (37 دائود کا مزامیر۔ 9 ۔ 10 ۔ 11 ۔ 19 ۔ 29)
دیکھے ، یہاں راست باز لوگوں کے لئے زمین کی دائمی وارثت کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں کی رو سے خلود اور ابدی زندگی کا تعلق آخرت سے ہے نہ کرہ اس دنیا کی زندگی سے۔
دنیا میں زمین کی عارضی وارثت جس قاعدے پر تقسیم ہوتی ہے اس سورة اعراف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ
زمین اللہ کی ہے ، اپنے بدنوں میں سے جس کو چہاتا ہے اس کا وارث بناتا ہے۔ “ مشیت الٰہی کے تحت یہ وارثت مومن اور کافر ، صالحی اور فاسق ، فرمان بردار اور نافرمان سب کو ملتی ہے مگر جزائے عمل کے طور پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر ، جیسا کہ اسی آیت کے بعد دوسری آیت میں فرمایا ہے و یستخلفکم فی الارض فینظر۔
نیک لوگوں کی رفاقت کا میسر آنا اللہ کا فضل و کرم ہے :
124: ان لوگوں کی رفاقت کا میسر آنا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم کافی و وانی ہے کیونکہ وہ ہرچیز پر حاوی و محیط ہے لوگوں کی نیتوں کو بھی لوگوں کے عمل کو بھی اور ان کے مقتضائے عمل کو بھی۔ مطلب بالکل واضح ہے کہ عام مومنین کو جو ان کا ملین کی معیت ورفاقت نصیب ہوگی یہ محض فضل الٰہی کا ظہور ہوگا ان کے اعمال کا ثمرہ نہیں۔
Ayah 4:71مسلمانوں کو نور بصیرت سے کام لینے کی ایک خاص ہدایت :
125: نور بصیرت کیا ہے ؟ مسلمانوں قوم کو من حیث القوم دوسری قوموں سے ہر وقت چوکنا رہنا ، کسی کو دھوکا نہ دینا اور سکی سے دھوکا نہ کھانا ، حالات جیسے بھی پیش آئیں ان کے لئے ہر وقت تیار رہنا۔ دشمنوں کے ساتھ دشمنی ہونے کے باوجود اصول کی پابندی کرنا اور کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ کل اگر دشمنی دوسرتی میں بدل جائے تو خفت محسوس ہو اور دوستوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے باوجود اس بات کا خیال رکھنا کہ کسی وقت یہ دوستی دشمنی میں بھی بدل سکتی ہے اس لئے ان کو اپنے خاص رازوں سے واقف نہ کرنا کیہ حالات بدلیں تو گھر کا بھیدی لنگا ڈھائے کا محاور ہم پر صادق آجائے۔ ہر معاملہ میں رواداری اور میانہ روی کو اہاتھ سے نہ جانے دینا۔ دوستی اور دشمنی کے جو اصول اللہ نے مقرر دیئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا۔ کوئی جنگ کے لئے آمادہ ہو تو اس کو سوچ سمجھ لینے کی تلقین کرنا اور اپنی تیاری مکمل رکھنا۔ اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرنا۔ کسی دوسری حکومت سے ایسا معاہدہ نہ کرنا جس پر کل پچھتاوا ہو۔ گیدڑ بھبھیکوں کی پروانہ کرنا اور ان سے گھبراتا۔ سنار کی سوچوٹ پر لوہار کی ایک ہی چوٹ لگا دینا۔ پھر اس پر خوش نہ ہونا بلکہ اس کی سو چوٹ پر اس کو آگاہ کرنا۔ اپنے گھر کو دوسروں کے رحم وکرم پر نہ چھوڑنا بلکہ خود اس کی حفاظت کرنا۔ اپنی نظر اپنے کام پر رکھنا۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا۔ قوم غلطیوں کی تشہیر نہ کرنا۔ دوسروں کی اطاعات پر بےسوچے سمجھے عمل نہ کرنا۔ قدم اٹھانے سے پہلے پوری احتیاط کرنا لیکن جب قدم اٹھ جائے تو ] پھر کبھی پچھتاوا نہ کرانا بلکہ ہر حال میں ثابت قدم رہنا۔ اپنی ساری تیاروں اور ساری تدبیروں کو امانت ودیانت سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انحصار اللہ پر رکھنا۔ اپنوں کی غلطی کو برداشت کرنا۔ ہو چکنے والے واقعات پر افسوس نہ کرنا بلکہ معرض وجود میں آنے والے حالات میں احتیاط کرنا۔ ہر ایک کام اگر قبل از وقت نہ ہو تو وقت پر اس کو کر دکھانا۔ اسلحہ کی قوت کے ساتھ ساتھ اسلحہ کے استعمال کی قوت کو نگاہ میں رکھنا۔ اس طرح کی ساری باتوں اور چیزوں کا تعلق نور بصیرت سے ہے اور اس نور بصیرت کو بروقت استعمال کرنا اور اس قوت سے پورا پورا کام لینا۔
میدان کار زار کی طرف نکلنا اور اس تیاری کے ساتھ نکلنا کہ گروہ در گروہ نکلنا مفید ہے یا یکبارگی نکلنا مفید ہے جس میں فائدہ ہے جس میں فائدہ نطر آئے حالات جیسے پیش آئیں اس کے مطابق عمل کرنا۔ زیر نظر آیت میں تھوڑے الفاظ میں زیادہ مضمون کو بند کردیا گیا ہے۔ پچھلے حالات کو نگاہ میں رکھو کہ احد میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ اور کیسے ہوا ؟ اس پر بحث نہ کرو بلکہ اچھی طرح سمجھ لو کہ جو ہوا سو ہوا لیکن آئندہ ایس انہیں ہوگا اس کو یاد رکھو کہ احد کے جو نتائج بر آمد ہوئے ہیں اور فطرتاً جو ہونے چاہیے تھے ان پر نظر رکھو مشرکین کی ہمتیں بہت بڑھ چکی تھیں ان کے حریف قبیلے ان کی قوت کو آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ تمہاری مصیبت سے بچہ بچہ واقف ہے ، تمہاری کمزوریاں مخالفین کی نگاہ میں ہیں بس اس حکم کو اپنی لوح دل پر نقش کر ولو کہ اس طرح دشمن کے مقابلہ میں ہر طرح کہ کانٹے سے درست اور آمادہ رہو اور قرآن کریم کی اس ہدایت پر عمل پیرار ہو کہ
” اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے اور تمہارے اختیار میں ہو زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ مہیا رکھوتا کہ ان کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو ان دوسرے اعدائے اسلام کو خوف زدہ کر دو ج ہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ “ (الانفال : 8: 60)
حالات زمانہ کے ساتھ ساتھ ان تبدیلیوں کو مت بھولو جو ہر زمانہ کے ساتھ لازما ہوتی رہتی ہیں خیال رکھو کہ دشمنی ٹینک ، جنگی جہاز ، ایٹم بم اور میزائل تیار کریں تو تم گھوڑے ہی پالتے رہو نہیں ایسا نہیں بلکہ زمانہ کی ترقیوں کا ساتھ دو ، جدید آلات تیار کرو جو اس وقت کے گھوڑوں ہی کے حکم میں ہیں۔ لفظوں کی بحث میں مت الجھو۔ دشمنوں کو حیران کر دو کہ وہ اپنے ہی گھروں میں مبہوت ہو کر رہ جائیں۔ انگشت بدنادن تم کیوں ہو ؟ تم تو مسلمان ہو ان کا انگشت بدندان کرو۔ ساریۃ الی الجبل کی آواز پیدا کرو۔ لوگ بحث کرتے رہیں کہ یہ کیا ہے ؟ تم کام کرو۔ نور بصیرت تماہرے پاس ہے یہ وہ ایٹم ہے جس کو اللہ نے خود مخلوق کیا ہے۔ ماشا اللہ ہر ایٹم بم سے اس میں طاقت زیادہ ہے بس اس کا استعمال کرنا سیکھ لو یہ کیسے ؟ غور رکو کہ ایٹم بم کیا ہے ؟ اس نور بصیر کی کمرشمہ سازیوں میں اسے ایک کرشمہ ہے۔ ” الحاقہ “ تمہارے پاس ہے ” الراجفہ “ تمہارے پاس ہے ” القارعہ “ تمارے پاس ہے ” الرادفۃ “ تمہارے پاس ہے۔ ” الحطمہ “ تمہارے پاس ہے۔ کیا اللہ تمہارا نہیں ؟ یہ کائنات کس کی ہے ؟ کیا تم کو اس نے ان ساری چیزوں کی اطاع نہیں دی ؟ پھر اس سے پوچھتے کیوں نہیں کہ یہ کیا ہے ؟ یہ کائنات کس کی ہے ؟ اس کے اندر جو چکھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اس کے اندر جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ ان ساری چیزوں کا اصل موجد کون ہے ؟ قرآن اللہ کا کلام ہے تو کائنات اللہ کا فعل نہیں ؟ عقل کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ وہی جس نے قرآن جیسا کلام دیا۔ وہی جس نے اس ساری کائنات کا ایک نظام تربیت دیا۔ وہی جس نے اس کے اندر پختگی و دیعت کردی۔ وہی جس نے تم کو عقل دی اور پھر اس عقل کے ادنر ان ساری چیزوں کو حاصل کرلینے کی طاقت رکھی۔ تم نے کیا کیا ؟ عقل سے کام لینا حرام کرلیا۔ نتیجہ کیا رہا ؟ کہ جو چیز عقل سے سمجھنے کی تھی وہ تم پر حرام کردی گئی قصور وار کون ٹھہرا ؟
ہاں ! ہاں ! اٹھو ، تم فتویٰ لگائو کہ یہ قرآن کریم کی تفسیر ہے یا بکواس بازی۔ یہ قرآن کریم کی تفسیر ہے یا کسی پاگل کی زیاں کاری۔ یہ قرآن کی تفسیر ہے یہ کیس غیر مسلم کی غداری۔ یہ قرآن کی تفسیر ہے یا کسی مداری کی پٹاری۔ کیوں ؟ یہ آج تک کسی نے نہیں لکھا ، کسی نے نہیں بتایا ، کسی نے نہیں سمجھایا۔
Ayah 4:72فائدے کے ساجھی نقصان کا نام سنتے ہی دم بخود ہوجائیں گے کہ ہم ساتھ نہیں تھے :
126: چھلنی اور چھاج کیوں ؟ کہ صاف اور ستھرا غلہ الگ ہوجائے۔ میدان جگن کی مصیبت کیا ہے ؟ چھاج بھی اور چھلنی بھی۔ بلاشبہ میدان احد میں تم پر مصیبت آتی لیکن وہ تمہارے اپنے ہی عمل کا نتیجہ تھی اور پھر بھی وہ تمہارے لیے مفید رہی کہ اس نے کھرا اور کھوٹا ، اچھا اور خراب ، گندا اور ستھرا لگ الگ کردیا۔ کھرے اچھے اور ستھرے کو کھوٹا ، خراب اور گندا صاف صاف نظر آنے لگا۔ مسلمان اور منافق کی پہچان ہوگئی۔ جو تم نے کھویا وہ کھویا نہیں گیا وہ کام آگیا۔ جانے والے جنت اور باغوں کی نعمتوں میں خوش اور خراماں ہیں تمہارے زخم بھی مندمل ہوچکے۔ اب تم صاف ستھرے اور کھرے باقی ہو اٹھو اور اپنا مقصد زندگی حاصل کرو۔
ہاں ! کوئی کوئی دانہ ابھی تمہارے اندر موجود ہے۔ اس کی پہچان کیا ہے ؟ وہی کہ وہ فائدے کے ساجھی ہیں اور نقصان کے شریک نہیں۔ جس طرح احد میں تم کو نقصان پہنچا تو وہ بغلیں بجاتے تھے اور ان کی کثیر تعداد پہلے ہی روز تم سے الگ ہوگئی تھی یہی عمل ان کا ہوگا۔ اگر کچھ دینا پڑے گا تو ان کے ہاتھ رُک جائیں گے۔ میدان جنگ کو جانا پڑے گا تو ان کے قدم چلنے سے ڈھیلے پڑیں گے اور ان کی ہمت جواب دے جائے گی اگر میدان جنگ کو جانا پڑے گا تو ان کے قدم چلنے سے ڈھیلے پڑیں گے اور ان کی ہمت جواب دے جائے گی۔ اگر لینے کا وقت آیا تو یہ سب سے آگے ہوں گے۔ گھر بیٹھ کر باتیں کرسکتے ہیں چاہو جتنی کروا لو۔ بس ان کا خیال رکھو اور اپنے کام سے غرض رکھو کیونکہ تم غازی ہو اور زندہ قومیں اپنے دفاع سے کبھی نہیں گھبراتیں اس لیے تم بھی قومی زندگی کا ثبوت دو ۔
ہر جماعت میں کچھ لوگ ایمان و یقین سے محروم اور عزت و ہمت سے تہی دست ہوتے ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ عزم و ہمت کا کوئی قدم اٹھایا جا رہا ہے تو اپنی کمزوری سے خود بھی باز رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی باز رکھیں۔ پھر جب جماعت قدم اٹھا دیتی ہے تو وہ الگ تھلگ رہ کر غیروں کی طرح تماشا دیکھتے ہیں۔ اگر کامیابی ہوتی ہے تو حسد سے جل مرتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ کاش ! ہم نے بھی ساتھ دیا ہوتا گویا ان کی شخصیت جماعت کی ہستی سے بالکل الگ تھلگ ہے نہ تو اس کا نقصان ان کا نقصان ہے نہ اس کی کامیابی ان کی کامیابی۔
Ayah 4:73اللہ کا فضل تمہارے شامل حال ہوگا تو وہ بھی محبت کا رشتہ تم سے جوڑیں گے :
127: کچھ باتیں زبان زدعام و خاص ہوتی ہیں اور ان کا انحصار زبان کے استعمال پر ہے۔ اس لیے صرف زبان سے کسی بات کے نکل جانے کا کچھ اعتبار نہیں کیا گیا جب تک کہ عمل اس کا ساتھ نہ دے۔ اسلام میں یہ اصول اتنا واضح ہے کہ اس کی مزید تشریح کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس لیے انہوں نے جب تمہاری کامیابی کی خبر سنی تو ان کی زبان پر یہ جملہ وارد ہوگیا ” اے کاش ! میں ان لوگوں کے ساتھ ہوتا “ اور ان کے اس ایک جملے نے ان کی ساری حقیقت واضح کردی کیونکہ اس سے یہ بات خودبخود کھل کر سامنے آگئی کہ ” اس میں اور تم میں کوئی خاص تعلق محبت نہ تھا “ بلکہ اس کو اپنا وقتی فائدہ یاد آگیا کہ وہ کس طرح اس سے محروم ہوگیا ” اگر وہ بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بہت کامیابی حاصل کرلیتا۔ “ آخر یہ کہہ کر اس نے کامیابی کس کو قرار دیا ؟ دنیا کے مال کو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کے مال کی کوئی حقیقت نہیں اور یہ کامیابی کوئی اتنی بڑی کامیابی نہیں اصل کامیابی تو جہاد میں شریک ہو کر جنگ کرنا تھی۔ کیونکہ ایک سچا مسلمان میدان جنگ میں شریک ہو کر کبھی ناکام نہیں ہوتا وہ تو ہر حال میں کامیاب ہی رہتا ہے اگر شہید ہوگیا تو اس دنیا و آخرت کی دونوں کی کامیابی حاصل کرلی اور اگر غازی بن کر میدان جنگ سے واپس لوٹا تو دنیا کا مال بھی حاصل ہوا اور آخرت کا ثواب لازوال بھی۔ اس طرح دونوں حالتوں میں اس کو ایک سے ایک بڑھ کر کامیابی حاصل ہوئی۔ ان لوگوں کے اس تاسف اور افسوس کا ذکر قرآن کریم نے بار بار کیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے :
” اور اعرابیوں ہی میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو کچھ راہ حق میں خرچ کرتے ہیں اسے اپنے اوپر جرمانہ سمجھتے ہیں اور منتظر ہیں کہ تم پر کوئی گردش آجائے تو الٹ پڑیں حقیقت یہ ہے کہ گردش کے دن خود انہی پر آنے والے ہیں۔ “ (التوبہ : 98:9) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور دیکھو کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کی بندگی تو کرتے ہیں مگر دل کے جماؤ سے نہیں اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچ گیا تو مطمئن ہوگئے اگر کوئی آزمائش آگئی تو الٹے پاؤں اپنی کفر کی حالت پر لوٹ پڑے وہ دنیا میں بھی نامراد ہوئے اور آخرت میں بھی۔ “ (الحج : 11:22) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! اگر تمہیں کوئی اچھی بات پیش آجائے تو وہ انہیں بری لگے اور اگر کوئی مصیبت پیش آجائے تو کہنے لگیں اس خیال سے ہم نے اپنے لیے مصلحت بینی کرلی تھی اور پھر گردن موڑ کر خوش خوش چل دیں۔ “ (التوبہ : 50:9) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! تم دیکھو گے کہ جن کے دلوں میں نفاق ہے وہ ان لوگوں کی دوڑے جا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں کہ ان لوگوں سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں۔ تو یقین کرو وہ وقت دور نہیں جب اللہ تمہیں فتح دے گا یا اس کی طرف سے کامیابی کی کوئی اور بات ظاہر ہوجائے گی اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی ہے۔ “ (المائدہ : 53:5)
Ayah 4:74دنیوی زندگی کے بدلے آخرت کی زندگی کو پسند کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ سے نہیں گھبراتے :
128: آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی بیچنے والے کا سواد کبھی خسارے کا سودا نہیں ہو سکتا یہ تو اتنا نفع ہے جس کا شمار ممکن ہی نہیں۔ گزشتہ دونوں آیتوں میں کم ہمتوں اور دو دلے لوگوں کا بیان تھا اور اب ان لوگوں کا تذکرہ شروع ہوا جو اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں بیچ چکے اور اپنا کچھ بھی باقی نہ رکھا اور بتانا یہ مقصود ہے کہ ان کی دنیوی غرض کوئی بھی ان کے عمل جہاد سے وابستہ نہ تھی یعنی یہ شریک جہاد ہوتے ہیں تو خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے۔ نہ وہ اپنی فتح کی شہرت چاہتے ہیں اور نہ ہی مال غنیمت کے طالب ہیں اس لیے تو وہ سب سے پہلے دنیا کے سارے ساز و سامان کو دے چکے ہیں۔ جانوں کے سوا ان کے پاس تھا ہی کیا ؟ وہی جانیں لے کر وہ شریک جہاد ہوگئے اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لڑے۔ ان کی پاکیزہ نگاہ میں اللہ کے دین کا غلبہ تھا وہ ان کو جان دے کر حاصل ہوجائے یا زخم کھا کر۔ اس بات کو سورة بقرہ میں بڑی تفصل سے ذکر کیا گیا تفصیل کے لیے دیکھئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ 625 ۔ 207:2 ۔
Ayah 4:75جو لوگ دین کے لیے ستائے جا رہے ہوں ان کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض اول ہے :
129: نبی اعظم و آخر ﷺ کی ہجرت کے بعد مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے جو جسمانی ضعف اور کم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور یہ بھی کہ روسائے مکہ ان کو ہجرت کرنے سے باز رکھے ہوئے تھے اور اس طرح طرح کی اذتییں ان کو دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی موجودگی میں ان کے لیے مکہ والوں کے مظالم برداشت کرنا آسان تھا کیوں ؟ اس لیے کہ اپنی تکلیف کے بعد جب ان کی آنکھیں اپنے محبوب کو دیکھ لیتی تھیں تو ان کے سارے غم اور دکھ دور ہوجاتے تھے لیکن آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد ان بےچاروں پر دوسرا عذاب شروع ہوگیا کفار کی مار اور دل آزاری اور اپنے پیارے رسول ﷺ کی آنکھوں سے نہ دیکھنے کا قلق اور ان کے لیے یہ دوسرا عذاب پہلے سے بھی سوا تھا۔ محبوب پر نگاہ ڈالنے کی لذت کیا ہے ؟ وہی سمجھ سکتے ہیں جن کے دل میں محبت کا کوئی پہلو موجود ہے۔ اس کو کہتے ہیں کہ ” ہے ظلم تو نے پی ہی نہیں ؟ “ حاش اللہ جس کے سامنے دنیا کی ہر نعمت ہیچ ہے۔ ایک جان کیا ہزار جانیں ہوں تو اس پر ایک ایک کر کے قربان کرنے کے لیے انسان تیار ہوجاتا ہے۔
کہیں کا نہ چھوڑا ہوئی جب سے الفت
تمہاری ہماری ، ہماری تمہاری
محبت یہ کیا ہے ، بڑھی آہ وزاری
بڑی بےقراری ، بڑی بےقراری
دل و چشم دونوں میں طوفان بپا ہے
ادھر شعلہ باری ، ادھر لالہ زاری
نہ جانے کیا کردیا تو نے جاناں ؟
ترے ہی کرم پر ہے اب جاں ہماری
لگا تیر دل میں ہوئے نیم بسمل
زہے دل سپاری زہے جاں نثاری
تری زلف پیچاں میں ہوں یوں پریشاں
ابھی خندہ زن ہوں ، ابھی گریہ طاری
تصور میں تیرے میں سب کھو چکا ہوں
یونہی دن بھی گزرا ، یونہی شب گزاری
تصور میں تیرے میں سب کھو چکا ہوں
یونہی دن بھی گزرا ، یونہی شب گزاری
تری یاد نے مجھ کو ایسا ستایا
اس میں تڑپتے کٹی عمر ساری
جن لوگوں کے دلوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت کے دریا موجزن تھے وہ چاہتے تھے کہ سب کچھ قربان کر کے اس بستی سے نکل جائیں اور ان راہبوں پر جانیں دیں جن راہوں سے گزرتا ہوا ہمارا محبوب مدینہ پہنچ گیا لیکن ان کے پاؤں کی زنجیروں نے ان کو جکڑ رکھا تھا اس حالت زار کے پیش نظر جہاد فرض ہوچکا تھا قرآن کریم کے اس حکم نے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ تم ان مردوں ، عورتوں اور بچوں کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے کیوں نہیں اٹھتے جو مکہ اور اس کے اردگرد کی بستیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور کفار کی قید سے چھوٹ کر مسلمانوں سے آ ملنے کی کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں ؟ جن کا حال یہ ہے کہ رات دن نہایت بےقراری سے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے پروردگار ! ہمیں ان ظالم باشندوں کی بستی سے نکال اور غیب سے ہمارے ہمدرد پیدا کر اور غیب سے ہمارے ہمدرد پیدا کر اور غیب سے ہمارے لیے مددگار کھڑے کر دے اس طرح اس آیت نے کتنی ہی باتوں کو ظاہر کردیا۔ مثلاً :
1۔ یہ کہ اگر کہیں مسلمان اس طرح کی مظلومیت کی حالت میں گھر جائیں تو ان تمام مسلمانوں پر جو ان کی مدد کرنے کی پوزیشن ہوں جہاد فرض ہوجاتا ہے اگر وہ ان کی مدد کے لیے نہ اٹھیں تو سب کے سب گناہ گار ہوں گے بلکہ منافقت کی زد میں آئیں گے۔
2۔ یہ کہ اس زمانے میں حالات اس قدر مایوس کن تھے کہ مظلوم مسلمانوں کو ظاہر میں نجات کی کوئی راہ بھی سجھائی نہ دے رہی تھی ، سارا بھروسہ بس اللہ ہی کی مدد پر تھا کہ وہی غیب سے ان کے لیے کوئی راہ کھولے تو کھولے لیکن اس کے باوجود یہ مسلمان اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ کیا شان تھی ان کی استقامت کی ! سچ ہے کہ پہاڑ بھی اس استقامت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
3۔ یہ کہ ظالم کفار نے کمزور مسلمانوں پر خود ان کے وطن اس طرح تنگ کردی تھی کہ وہ اس وطن کو کاٹے کھا رہا تھا اور باوجودیکہ وطن کی محبت ایک فطری چیز ہے لیکن وہ اس سے اس قدر بیزار تھے کہ اس کو ظالم باشندوں کی بستی کہتے ہیں اور اس کی طرف کسی قسم کا انتساب اپنے لیے گوارا کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
4۔ یہ کہ کوئی وطن اسی وقت تک اہل ایمان کے لیے وطن کی حیثیت رکھتا ہے جب تک اس کے اندر ان کے دین و ایمان کے لیے امن ہو اگر دین وا یمان کو اس میں امن حاصل نہ ہو تو وہ وطن نہیں بلکہ خونخوار درندوں کا بھٹ ، سانپوں ، اژدہوں کا مسکن اور شیطان کا مرکز ہے۔
5۔ یہ کہ حالات کتنے ہی مایوس کن کیوں نہ ہوں مسلمانوں کو اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے اور جب تک جسم میں جان ہے مایوس ہو کر بیٹھ رہنا نہیں چاہئے حالات کے مطابق اپنی حالت کو بدلتے نہیں رہنا چاہئے بلکہ بقدر ہمت اپنے اصولوں کے مطابق انفرادی زندگی گزارنے میں ہمت کو چھوڑ دینا چاہئے اور اپنے مالک حقیقی سے اپنی حالت کے بدلنے کی دعا جاری رکھنی چاہئے تا آنکہ انسان موت سے دو چار ہوجائے یا اللہ تعالیٰ حالات کو درست کرنے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ کا اصول اسلامی اصول نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ کا اسوہ حسنہ قرآن کریم نے اس طرح تعین فرمایا ہے کہ ” تیری دعا یہ ہونی چاہئے کہ اے پروردگار ! مجھے جہاں کہیں پہنچا اور جہاں کہیں سے نکال تو سچائی کے ساتھ نکال اور مجھے اپنے حضور سے قوت عطا فرما ، ایسی قوت کہ ہر حال میں مددگاری کرنے والی ہو۔ “ (بنی اسرائیل : 80:17)
Ayah 4:76اللہ والوں کو شیطان کے حمایتیوں کے خلاف برسرپیکار رہنا ضروری ہے :
130: آیت زیرنظر نے مسلمانوں اور کافروں کی اغراض جنگ کا قطعی فیصلہ کردیا اور یہ حقیقت واضح کردی کہ اسلام نے جنگ کا جو حکم دیا ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں پر چڑھ دوڑیں بلکہ اس لیے دیا ہے کہ مظلوموں اور بےکسوں کی حمایت کریں اور انہیں ظالموں کے پنجے سے نجات دلائیں۔ بلاشبہ جنگ دونوں طرف سے لڑی گئی لیکن ایک نے ظلم کیا اور دوسرے نے ظلم کو روکنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ کسی پر کبھی ظلم نہیں کرتے لیکن جب مظلوم ہو کر دوسروں کے ظلم کو روکتے ہیں تو پھر سر دھڑ کی بازی لگا کر پوری قوت سے روکتے ہیں تاکہ ظالم آئندہ ظلم کا نام نہ لے۔ لیکن شیطانی قوتیں جب بھی ابھریں گی تو آخر کیا کریں گے ؟ اگر وہ امن پسند بن جائیں اور ظلم کرنا چھوڑ دیں تو پھر قوتیں شیطانی کیوں ہوں گی ؟ اس لیے شیطان اپنے حمایتیوں کی تھپکی کبھی نہیں روکتا اور ان کو سبز باغ دکھاتا ہی رہتا ہے اس لیے مسلمانوں کو بھی ہر وقت اس کی چالوں کو حرف غلط کی طرف مٹانے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ فرمایا : شیطان ہے تو مکار اس لیے وہ اپنی مکاری سے کبھی باز نہیں آئے گا لیکن تم یہ بات یاد رکھو کہ اس کا مکر کبھی مضبوط نہیں ہوتا بلکہ ضعیف و کمزور ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ دکھاوے کی چیز ہے ایسے سمجھ لو کہ غبارے میں ہوا بھری ہے ابھی ہوا خارج ہوئی تو باقی کیا رہا ؟ بس سامنے آتا دیکھ کر نہ گھبراؤ ۔ ایک زور دار ضرب لگاؤ اور ٹھاہ کی آواز سن لو۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی اور جہاں بھی نقصان اٹھایا تو اپنے ہاتھوں ہی اٹھایا اور کسی اپنی ہی کمزوری سے اٹھایا اس آیت میں ” طاغوت “ کا لفظ بھی آیا ہے اور ” شیطان “ کا لفظ بھی دو بار استعمال ہوا ہے اور اس طرح ” کید “ اور ” ضعیف “ کا لفظ بھی۔ ان سب کا مفہوم آپ کو پیچھے سمجھا دیا گیا ہے اس لیے ان الفاظ پر خوب غور کرو اور ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر بھی نظر رکھو کہ ” ایمان والو ! اللہ کی راہ میں لڑو۔ “ پھر اپنے معاشرے کے ایک فقرہ پر بھی نظر کرو جو ہر کس و ناکس کی زبان پر جاری ہے کہ ” خدا واسطے لڑائی کون لڑے ؟ “ ” اللہ واسطے کا بیر کون کرے ؟ “