Ayah 4:131تم کو اور تم سے پہلوں کو تقویٰ کی وصیت کی اور کہا کہ اگر کفر کرو گے تو نقصان تمہارا ہی ہوگا :
215: باربار اس بات کا اعلان کہ ” اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے “ جیسا کہ آیت 126 میں پھر اس آیت 131 میں دوبارہ اور پھر یہی بات آیت 132 میں آکر کیوں ؟ قبل ازیں کئی بار یہ بات بیان کی گئی کہ قرآن کریم کا نزول عین اس زبان اور اس کے تقاضوں کے مطابق ہے جو انسان روزہ مرہ بولتے ہیں۔ یہ فطرۃ انسانی کا مسئلہ ہے کہ جب ساری نصیحتیں کر چکتا ہے اور ایک بات کو بار بار بیان کر کے گویا تھک جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا اس کا اثر اتنا نہیں ہوا جتنا کہ ہونا چاہئے تھا تو وہ اپنے تنبیہ کے فقرہ کو بار بار دھراتا ہے کہ اچھا اگر نہیں مانو گے تو میرا کیا نقصان ہے جو کچھ نقصان ہے وہ سراسر تمہارا ہی ہے۔ کوئی پوچھے کہ اگر تم کو آخر الکلام یہی کہنا ہے کہ جو نقصان ہے وہ سراسر تمہارا ہی ہے تو پھر ان کو نصیحت کیوں کرتے ہو ؟ جب نقصان ان ہی کا ہے آپ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تو آخر ان کو بار بار یہ کہنے کا فائدہ ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے نہ ماننے سے دراصل نقصان اس کا بھی ہے اگرچہ وہ نظر نہ آتا ہو وہ کیونکہ اس کی محبت اور پیار کا یہ تقاضا ہے اور ان کا نقصان یقینا اس کو شاق گزرتا اور دکھ دیتا ہے لیکن جب اس کی بات قبول نہیں کی جاتی تو آخر الکلام افسوس کے ساتھ اس کے منہ سے یہ بار بار نکلتا ہے کہ ہدایت کو قبول نہ کر کے میرا کیا بگاڑو گے جو کچھ بگاڑوگے وہ تمہارا ہی ہوگا۔ بالکل یہی صورت حال یہاں ہے۔ مومنین اور مخالفین اہل کتاب کو ہدایات دی گئیں اور اس سورة میں بھر پور ہدایات دی گئیں لیکن لوگوں نے ان سے خاطر خواہ استفادہ نہ کیا جتنا کرنا چاہئے تھا تو بات بات کے بعد فقرہ دہرایا گیا کہ ” جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ “ اگر تم نہیں مانتے تو وہ کتنی مخلوق ہے جو اللہ کی فرمانبرداری میں مصروف ہے حتیٰ کہ زمین و آسمان کی ساری مخلوق اس کی فرمانبردار ہے اگر تم اللہ کے نہیں بنتے تو نہ بنو اللہ ہی کا تو ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اگر تم نہیں مانو گے تو آخر اللہ کا کیا بگڑے گا ؟ وہ تو بلا شرکت غیرے پوری کائنات کا خود مالک ہے اور ان فقرات میں گویا وہ تاسف اور درد مخفی ہے پوری کائنات میں سے اس نے اس کو منتخب کیا تھا اور اس کا بگاڑ اللہ کی رضا مطلق نہیں ہے بلکہ اللہ کو انسان کا دکھ اور مصیبت میں مبتلا ہونا ذرا بھی اچھا نہیں لگتا لیکن جو قانون اس نے عذاب ونجات کا مقرر فرمایا ہے وہ بھی اس نے اپنے اختیار و ارادہ ہی سے مقرر فرمایا ہے جو اس کے قانون کی زد میں آئے وہ اس کو اس سے بچانے کے لئے بھی تیار نہیں کیونکہ وہ ہر ایک کا رب ہے اور ہر ایک کا خالق ہے اور ایک رعایت سے دوسرے کا حق ضائع ہوتا ہے اور وہ یہ کام کسی حال میں بھی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ چونکہ اس کا اعلان عام ہے کہ ” اگر تم شکر کرو گے تو یقینا تم کو اور زیادہ دوں گا “ لیکن اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ “ اچھا شکر گزاروں کو زیادہ مل گیا اور اگر نا شکروں کو اور ناقدروں کو بھی اتنا ہی مل گیا تو اس کے اعلان الٰہی کا کیا ہوا ؟ اعلان کیا تھا کہ اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ اعلان الٰہی تو اس وقت ہی سچ ہوا جب شکر گزاروں کو ملنے کے ساتھ ساتھ ناشکر گزاروں کو عذاب بھی دیا جائے کیونکہ شکر گزاروں کا حق بھی اسی وقت ادا ہوتا ہے جب ایسا ہو پھر یہ ممکن کیوں کر ہوا کہ اب ایسا نہ ہو۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ کا قانون نہ ہوا موم کا ناک ہوگئی کہ جدھر چاہو موڑلیا۔
Ayah 4:132کار ساز حقیقی وہی اور آسمانوں اور زمین کی حکومت اس کی ہے یہ بات ایک مثال سے سمجھو لو :
216: ابھی بات سمجھ میں نہیں آئی ایک اور طریقیسیغور کریں۔ آپ کا مال چور لے بھاگے اور آپ کو زدو کو ب بھی کیا اور بےعزت بھی اور مال بھی لوٹ لیا۔ حکومت کا فرض کیا ہے ؟ چوروں کو تلاش کرے۔ آپ کا مال جو وہ لے گئے تھے وہ واپس کرائے اور آپ کو سامنے کھڑا کر کے ان کو اذیت اور تکلیف بھی پہنچائے جیسا کہ وہ آپ کو پہنچاچکے تھے۔ حکومت نے زور لگایا چور معلوم کر لئے آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا حق ادا ہوگیا ؟ آپ کا دل ٹھنڈا کیسے ہوتا ہے ؟ ان کو کچھ نہ کہنے سے۔ ان کو چھوڑ دینے سے ظاہر ہے کہ آپ بھی کہیں گے کہ نہیں اور ہر صاحب عقل یہی کہے گا کے نہیں بلکہ ان کو قرار واقعی سزا ملنا بھی ضروری ہے کم از کم وہ جو قانون کے اندر موجود ہے اگر وہ ان کو نہ ملے تو آپ کا حق صحیح معنوں میں ادا نہیں ہوتا۔ بس یہی مطلب یہاں سمجھ لو کہ اللہ قادر مطلق ہے لیکن وہ نہیں جاہتا کہ جو دوسروں نے تم کو اذیت پہنچائی اس کے عوض میں کم ازکم میں اتنی اذیت ان کو پہنچائے جتنی وہ تم کو پہنچا چکے۔ وہ آسمانوں اور زمین کا اکیلا مالک و مختار ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کی حکومت میں زیادتی کرنے والوں کو قرار واقعی سزا نہ ملے۔ ہاں ! اس کے ہاں ! دیر ضرور ہے کیونکہ یہ اس کے قانون کا تقاضا ہے لیکن اندھیر نہیں۔ اس لئے یقینا وہ وقت آنے والا ہے کہ جھوٹی پیشانیوں کو پکڑلیا جائے اور وہ مار ان کو دی جائے جس کے وہ صحیح معنوں میں مستحق ہیں۔
Ayah 4:133لوگو ! غافل نہ ہو تم کو لے جا کر دوسروں کو لا بسانے کا قانون بھی اس کے ہاں موجود ہے :
217: غور کرو گے تو اپنے گھر ہی سے تم کو اس کی شہادت میسر آجائے گی دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس گھر میں جس میں آج تم بس رہے ہو اگر تم کو یہ ورثہ میں ملا ہے تو آخر کیو نکر ملا ہے۔ یہ وہی گھر ہے جو تمہارے باپ دادا نے بنایا تھا لیکن آج ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا اور آج تم اس کے مالک ہو۔ تم کو یقین نہیں آتا کہ کل تم نہیں ہو گے تو یہ گھر یہیں رہے گا لیکن اس کے مکین بدل چکے ہوں گے۔ یہی حال قوم زندگی کا ہے۔ انسان اپنی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کا سارا کارخانہ اندھا دھند چل رہا ہو بلکہ اس پر ایک سمیع وبصیر خدا فرمانروائی کر رہا ہے جو شکر کی راہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ایک معاملہ کرتا ہے اور ناشکری و کافر نعمتی کی راہ چلنے والوں کے ساتھ بالکل ہی ایک دوسرا معاملہ فرماتا ہے۔ کوئی سبق لینا چاہے تو اس تاریخ سے یہ سبق لے سکتا ہے کہ جس رب کریم کی سلطنت کا یہ مزاج ہے اس کی خدائی میں نیکی کا پورا پورا اور بدی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو بار بار دہرایا ہے اور گزشتہ قوموں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ وہ غور فکر سے کام لیں اور اپنے انجام سے غافل نہ رہیں چناچہ ایک جگہ ارشادالٰہی اس طرح ہے کہ ” قوم سبا کے لئے ان کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں۔ فرمایا اپنے رب کا رزق کھائو اور اس کا شکر بجا لائو۔ دیکھو یہ کتنا عمدہ اور پاکیزہ ملک ہے اور رب کریم ہے بخشش عنایتفرمانے والا۔ مگر وہ منہ موڑگئے۔ آخر کار ہم نے ان پر بند توڑسیلاب بھیج دیا اور ان کے دائیں بائیں والے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دئے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھائو کے درختوں کے سوا کچھ نہ تھا سوائے ان بیریوں کے۔ یہ گویا ان کے کر ہی کا بدلہ تھا جو ہم نے ان کو چکھایا اور ناشکرے انسانوں کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے۔ “ (سباء 34:17) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سر کشی دکھائو گے۔ آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا تو اے بنی اسرائیل ہم نے تمہارے مقابلے پر ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسیپورا ہو کر رہنا تھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ دیکھو ! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہاے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد بیت المقدس میں اس طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسی تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کر کے رکھ دیں۔ “ (بنی اسرائیل 17:3 تا 7) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” مسلمانو ! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کے پھرجانے سے دین حق کو کچھ نقصان پہنچے گا قریب ہے کہ اللہ ایک ایسا گروہ سچے مومنوں کا پیدا کردے جنہیں اللہ دوست رکھتا ہو اور وہ بھی اللہ کو دوست رکھنے والے ہوں۔ مومنوں کے مقابلہ میں نہایت نرم اور جھکے ہوئے لیکن دشمنوں کے مقابلہ میں نہایت سخت۔ اللہ کی راہ میں جان لڑا دیں گے اور وہ کسی کی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس گروہ کو چاہے عطا فرما دے اور وہ اپنے فضل میں بڑی ہی وسعت رکھنے والا اور سب کا حال جاننے والا ہے۔ “ (المائدہ 5 :54) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں ملک میں اس کا جانشین بنائے پھر دیکھے اس جانشین کے بعد تمہارے کام کیسے ہوتے ہیں ؟ “ (الاعراف 7:129) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : ” اگر تم قدم نہ اٹھائو گے تو یاد رکھو کہ وہ تمہیں ایک ایسے عذاب میں ڈالے گا جو درد ناک ہوگا اور تمہاری جگہ کسی دوسرے گروہ کو لا کھڑا کرے گا اور تم دفاع سے غافل ہو کر اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑسکو گے اپنا ہی نقصان کرو گا اور اللہ تو ہر بات پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (التوبہ 9 :29) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” پھر اگر تم نے روگردانی کی تو جس بات کے لئے میں بھیجا گیا تھا وہ میں نے پہنچا دی اس سے زیادہ میرے اختیار میں کچھ نہیں اور مجھے تو نظر آرہا ہے کہ میرا پروردگار کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ دے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ یقینا میرا پروردگار ہرچیز کا نگران حال ہے۔ “ (ھود 11 :57) ایک جگہ فرمایا :
” انسان کے آگے اور پیچھے ایک کے بعد ایک آنے والی قوتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتی ہیں۔ اللہ کبھی اس حالت کو نہیں بدلتا جو کسی گروہ کو حاصل ہوتی ہے جب تک کہ وہ خود ہی اپنی صلاحیت نہ بدل ڈالے اور پھر جب اللہ چاہتا ہے کسی گروہ کو اس کی تغیر صلاحیت کی پاداش میں مصیبت پہنچے تو مصیبت پہنچ کر ہی رہتی ہے وہ کسی کیٹالے ٹل نہیں سکتی اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جو اس کا کارساز ہو۔ “ (الرعد 13:111) اگر مزید دیکنے کا شوق ہو تو مندرجہ ذیل مقامات کا قرآن کریم میں سے مطالعہ کریں ( سورة الکہف 18:32 ، 44) (68:17 تا 33) (78:28) (70:40 ، 41) (52:20 ، 21) (35:15 تا 17) (ابراہیم 14:19 ، 20) (24:55 ، 56) (الحج 22:39 ، 41) (محمد 47:38)
Ayah 4:134اللہ کے پاس دنیا و آخرت کا ثواب موجود ہے ہو وہ دیکھتا ہے کہ تمہاری چاہت کیا ہے ؟
218: دینے واے کا کام تو دینا ہی ہے لینے والے کے اپنے ظرف پر بھی اس کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر کوئی کچیگھڑے میں پانی ڈال لے تو آخر اس کا نتیجہ کیا ہوگا کہ نہ گھڑا رہے گا اور نہ پانی ؟ آخر دینے والے کا اس میں کوئی قصور ؟ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو صرف دنیا ہی کے طلبگار ہوں اس لئے کہ جب دنیا ہی نہ رہی تو دنیا کا سرو سامان کب رہا ؟ قرآن کریم کا انداز حزف بھی بڑا عجیب ہے کہ جو جملے مزکور ہوتے ہیں وہ پکار پکار کر کہتے ہیں کہ یہاں ایک جملہ محذوف بھی ہے پھر جب اس حزف کو کھول دیا جاتا ہے تو یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے۔ یی کچھ اس آیت زیر نظر میں بھی ہے فرمایا من کان یرید ثواب الدنیا اس جگہ فعنداللہ ثواب الدنیاکو حذف کردیا گیا اور دوسرے میں ومن کان یرید ثواب الاخرۃ کو حذف فرمادیادونوں جگہ مذکور جملے اپنے محذوف جملوں کی خود نشاندہی کر رہے ہیں اور اس کی مثالیں قرآن کریم میں کثرت سے ملتی ہیں۔ ترجمہ میں ان باتوں کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے مضمون کچھ سے کچھ وہ جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا ہی کے صلے کا طالب ہوتا ہے تو دنیا کا مالک بھی اللہ ہی ہے وہ اس میں سے اس کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے اور آخرت کا صلہ بھی بھر پور عطا فرمائے گا۔ یہ ان لوگوں کو تنبیہہ اور موغطت ہے جو اپنے دنیوی مفاد کی خاطر اللہ کی شریعت سے فرار حا صل کرتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی سمجھ کی کمزوری ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو آخرت کا طلبگار ہو اس کو دنیا میں بھی ملا اور آخرت میں بھی بوجہ اس کی طلب کے یقینا اس کو ملے گا مزید تفصیل کے لئے دیکھو آل عمران آیت 147 ، 148 یہی مضمون وہاں بھی بیان ہوا۔
انسان کی اپنی کوتاہ نظری اور کم ہمتی ہے کہ وہ بارگاہ رب العالمین سے صرف دولت ، شہرت ، عزت ، اور وجاہت ہی کا سوال کرے اور اس کے سوا اس کی کچھ طلب ہی نہ ہو۔ ورنہ اس رب کریم ورحیم اور وہاب کی جناب سے تو جو مانگا جائے وہ ملتا ہے انسان صرففنا ہونے والی نعمتوں کے سوال پر کیوں اکتفا کرے ؟ کیوں نہ اس کی محبت کا جام رنگیں مانگے اور اس کی رضا کے لئے دامن طلب پھیلائے۔ جب دینے والا بخیل نہیں تو مانگنے والا بخل کیوں کرے۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا
Ayah 4:135مسلمانوں کو ہدایت کہ انصاف اور سچی گواہی کے لئے تیار رہو ، آزمائش کسی وقت بھی ہو سکتی ہے :
219: اس آیت میں تمام مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور سچی گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ پوری دنیا کے مقبلے میں دراصل سچی گواہی مسلمانوں ہی کے پاس ہے کہ وہی اس کتاب ہدیٰ کے وارث اور اللہ تعالیٰ کی آخری وحی کے مخاطب ہیں اور یہی وہ سچی گواہی ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جو چیزیں قیام عدل یا سچی گواہی میں رکاوٹ ہو سکتی ہیں ان کو نہایت بلیغ انداز میں دور کردیا گیا ہے۔ ” اور انصاف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے “ فرما کر یہ ہدایت دی کہ انصاف کے علمبردار بنو ، تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہ ہو بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے تمہیں اس بات پر کم بستہ ہونا چاہئے کہ ظلممٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو۔ عدل کہ اپنے قیام کے لئے جس سہارے کی ضرورت ہے ، اپنے مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔
دنیا میں یہ شہادت قائم کرنے کے لئے اللہ کے دین کے مدد گار ہونا ضروری ہے اور دین کی مدد اس سے ممکن نہیں جو خود کمزور ہو ۔ اس لئے قوم مسلم اور کمزوری دو متضاد چیزیں ہیں۔ کاش کہ آج مسلمان بھی اس بات کو سمجھتے ہوتے۔ کہنے کو تو لوگ اس کو جو بیچارا اٹھنے بیٹھنے سے عاری ہے ” پہلوان “ کہہ دیتے ہیں۔ جس کہ گھر میں بھوک کا ڈیرہ لاگ جائے لوگ اس کو ” سیٹھ “ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ پرلے درجے کے جاہل اور عقل و دانش نام کی کوئی چیز جن میں موجود نہ ہو وہ لوگوں میں ” میاں جی “ اور ” مولانا “ کے خطابات سے مشہور ہوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بات حقیقت بھی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر سب جانتے ہیں کہ یہ ایک طرح کا مذاق اور استہزاء ہے کہ اس طرح سے ان کے نام رکھ دیئے گئے ہیں اور اب وہ انہی ناموں سے معروف ہیں۔
قرآن کریم کہتا ہے کہ آدم علیہ السلا کو خلیفۃ اللہ بناکر بھیجنے کا اور پھر ان کے بعد دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کو یکے بعد دیگرے بحیثیت خلیفۃ اللہ بھیجتے رہنے کا اور ان کرنے کا اہم مقصد یہی تھا کہ دنیا میں انصاف اور اس کے ذریعہ امن قائم ہو اور ہر فرد انسانی اپنے اپنے دارئرئہ اختیار میں انصاف کو اپنا شعار بنالیا اور جو لوگ تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ عدل و انصاف کی طرف نہ آئیں بلکہ اپنی سرکشی پر اڑے رہیں ان کو قانونی سیاست اور تعزیر و سزا کے ذریعہ انصاف پر قائم رہنے کے لئے مجبور کیا جائے۔
قرآن کریم نے بتایا ہے کہ دنیا میں اللہ کے جتنے رسول بھی مبعوث کئے گئے وہ سب تین چیزیں لے کر آئے تھے۔
ا۔ ” بینات “ 2۔ ” کتاب “ اور 3۔ ” میزان “ یہ اتحاد ثلاثہ کیوں کیا ؟ فرمایا اس لئے کہ لیقوم الناس بالقسط ” تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ “ پھر فرمایا جو لوگ ان تین اصولی چیزوں سے درست نہ ہوں ان کو سیدھا کرنے کے لئے ہم نے ” لوہا نازل کیا ہے جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ “
قرآن کریم کا انداز بیان سمجھو ، لوہا کیا ہے ؟ یہ سیاسی اور جنگی طاقت ہے اور اس طرح سے کلام کا مدعایہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں کو قیام عدل کی محض ایک اسکیم پیش کردینے کے لئے مبعوث نہیں فرمایا تھا بلکہ یہ بات بھی ان کے مشن میں شامل تھی کہ اس کو عملا نافذ کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ قوت فراہم کی جائے جس سے فی الواقع عدل قائم ہو سکے ۔ اسے درہم برہم کرنے والوں کو سزا دی جاسکے اور اس کی مزاحمت کرنے والوں کا زور توڑا جاسکے۔ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :
” ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صافنشانیاں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب ، میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اللہ اس بات کو ظاہر کر دے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے مدد کرتا ہے یقینا اللہ بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے۔ “ (الحدید 57:25)
گواہی کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے زیر نظر آیت کا پڑھناہی نہیں سمجھنا بھی ضروری ہے :
220: مشہور ہے کہ پیسہ کمانا اتنا مشکل نہیں جتنا اس کا خرچ کرنا مشکل ہے اور یہ حقیقت بھی ہے بالکل اسی طرح ایک بات کا جاننا یعنی علم رکھنا اور پھر اس بات کو بیان کرنا ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے جاننا تو مشاہدہ سے تعلق رکھتا ہے اور بیان کرنا گواہی طلب کرنے والے کے سوال کے جواب سے متعلق ہے اور اس کا تجربہ اس وقت ہی ہو سکتا ہے اور جب ایک ہی واقعہ کے دیکھنے والوں سے پوچھا جائے تو ان کے جواب سے معلوم ہوگا کہ اس میں کتنا فرق پڑ سکتا ہے اور کیسے ؟ پھر کسی مقدمہ کا سارا انحصار شہادت پر رکھا گیا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس کے سوا حق و ناحق معلوم کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ تم حق و انصاف پر اس مضبوطی سے قائم رہنے والے ہو جائو کہ دنیا کی کوئی چیز بھی تم کو اس سے نہ ملا سکے۔ پھر ان ساری چیزوں سے بھی آگاہ کردیا جو حق کی شہادت کے بیان کرنے میں رکاوٹ ہو سکتی ہیں پہلے تو انسان کی اپنی جان ہے کہ وہ سب سے زیادہ حق بیان کرنے کے راستے میں رکاوٹ ہو سکتی ہے اور اسی کے باعث انسان گواہی دینے سے کترا جاتا ہے کہ اس شہادت کے پیش کرنے سے اس کا اپنا یہ یہ نقصان ہو سکتا ہے اس لئے اس کو گواہی نہیں دینی چاہئے۔ کبھی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سچائی خود ان کی اپنی ذات ہی کے خلاف ہو یا ان کے ماں باپ اور عزیز و اقارب کے خلاف ہو۔ ہدایت الٰہی تو یہی ہے کہ ایسے نازک حالات میں بھی بات وہی کی جائے جو حق ہے اور اس کے خلاف زبان کچھ نہ کہے۔ پھر سچی گواہی دینے کے لئے کسی مالدار کے مال اور صاحب اقتدار کے اقتدار اور کسی غریب و فقیر کی غربت اور فقر کا لحاظ نہ کیا جائے اور یہ بھی کہ جب گواہی طلب کی جائے تو اس سے باز نہ رہو بلکہ حق اگر تم جانتیہو تو اس کو بیان کرو اور صاف صاف بیان کرو گھما پھر اکر کچھ نہ کہو جس سے حقیقت مشتبہ ہوجائے۔
یہ تو قرآن کریم کا حکم ہے اور پھر خصوصا مسلمانوں کو مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ حکم دیا گیا ہے اور آج بھی سب مسلمان ہیں اور ہم سب کا دعویٰ ہے کہ قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی سچی کتاب اور اس کے احکامات سے بڑھ کر کوئی سچا حکم نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ کیا ہمارا عمل بھی اس عقیدہ کے مطابق ہے ؟ کسی دہ میں ، قصبہ میں ، شہر میں ، عوام میں ، خواص میں ، مذہبی راہنمائوں میں ، سیاسی لیڑروں اور پورے ملک کی اہم ترین شخصیتوں میں۔ کیا گواہ ہونے اور گواہ بنائے جانے میں کوئی فرق ہے ؟ آج گواہ ہوتے ہیں یا گواہ بنائے جاتے ہیں شہادت دی جاتی ہے یا شہادت سکھائی اور پڑھائی جاتی ہے ؟ ایف ، آئی ، آر درج کراتے وقت کیا ہوتا ہے ؟ ایف ، آئی ، آر درج کرنے والے ، درج کرانے والے ، شہادت دینے والے اور شہادت دلوانے والے سب کون ہیں قرا ان کریم کا حکم ایک بار پھر سن لو ارشاد فرمایا ” مسلمانو ! ایسے ہو جائو کہ انصاف پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے سچی گواہی دینے والے ہو اگر تمہیں خود اپنے خلاف ، یا اپنے ماں ، باپ اور قرابت داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے جب بھی نہ جھجھکو ، اگر کوئی مالدار ہے یا محتاج تو اللہ تم سے زیادہ ان پر مہر بانی رکھنے والا ہے ، پس دیکھو ایسا نہ ہو کہ ہوائے نفس کی پیروی تمہیں انصاف سے باز رکھے اور اگر تم گواہی دیتے ہوئے بات کو گھرا پھرا کر کہو گے یا گواہی دینے سے پہلو تہی کرو گے تو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ “ اور دوسری جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے۔
مسلمانو ! ایسے ہو جائو کہ اللہ کی سچائی کے لئے مضبوطی سے قائم رہنے والے اور انصاف کے لئے گواہی دینے والے ہو اور دیکھو ایسا کبھی نہ ہو کہ کسی گروہ کی دشمنی اس بات کے لئے ابھار دے کہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرو۔ ہر حال میں انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے لگتی ہوئی بات ہے اور اللہ کی نافرمانی کے نتائج سے ڈرو تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ “ (المائدہ 5:8) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اگر ان کے درمیان فیصلہ کرو تو چاہئے کہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور ان کی شرارتوں کی کچھ پروانہ کرو بلاشبہ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ “ (المائدہ 5:42) اور سورة النساء ہی کی آیت 58 پر یہ مضمون گزر چکا ہے وہاں سے بھی ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 4:136مسلمانو ! اللہ پر ایمان لائو۔ اللہ کے رسول پر ایمان لائو۔ اور اس کتاب پر ایمان لائو جو اس :
ان ساری آیات کو بیان کرتے وقت چونکہ شان نزول کے طور پر ہم کو یہ بتایا گیا ہے یہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک مخزومیہ نے چوری کی تھی اس لئے ان لوگوں کو بڑی فکر ہوئی انہوں نے سوچنا شروع کردیا کہ کون شخص ایسا ہو سکتا ہے جو رسول ﷺ سے اس کی سفارش کرے ، پھر فلاں کو مقرر کیا گیا ، اس نے سفارش کی تو آپ ﷺ نے سفارشی کی سفارش قبول نہ کی اور ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ تم نے حدود اللہ میں مداخلت کی کوشش کی وغیرہ وغیرہ تو ان واقعات کو پڑھ کر قرآن کریم کی ان آیات کو انہی گزشتہ واقعات کے ساتھ ہی وابستہ کر کے بیٹھ گئے۔ ہمیں یہ کبھی خیال بھی نہ آیا کہ یہ حکم تو عام ہے آج جو ہم حرکات کر رہے ہیں یہ آیات ہم کو ان سے باز رکھنے کے لئے ہیں۔ یہ تو ہماری علمی صورت ہوئی اور عملیصورت یہ ہوئی کہ ان آیات کا درس دیا جاتا ہے ان پر وعظ کئے جاتے ہیں ، تفاسیر لکھیجاتی ہیں ، پڑھی جاتی ہیں لیکن ہم ان وعظ کہنے والوں ، ان درس دینے والوں ، ان تفاسیر لکھنے والوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جب وقت آتا ہے تو یہ سب بھی وہی کرتے ہیں جو زمانے میں سارے لوگ کر رہے ہیں اس طرح نہ ہم کو علمی راہنمائی ملتی ہے اور نہ ہی عملی تو ہم سب ان آیات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کی آیات ہیں۔ ہم سب قرآن کریم کو ثواب کی خاطرپڑھتے ہیں اور اس طرح ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں کماتے ہیں اور ہمیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ نیکی چیز کیا ہے ؟ اور وہ کس کو کہتے ؟ اور ایسے ایمان اور ایسے عقیدہ پر ہمیں کبھی تعجب نہی ہوا۔
مسلمانوں سے ایمان لانے کا مطالبہ کرنے کی حقیقت کیا ہے ؟
221: اس دنیا میں جتنے انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے آئے وہ سب کے سب داعیان اسلام ہی تھے اور سب کا اصل دین ایک ہی تھا۔ پیروان مذاہب نے اپنے اپنے پہچان کے لئے الگ الگ نام رکھ لئے جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ دین کی سچائی سب کے پاس تھی لیکن تمام مذاہب کے پیرو سچائی سے منحرف ہوگئے۔ مسلمانوں کو ہدایت دی جارہی ہے کہ جس طرح پہلے لوگوں نے اپنے نام ” یہودیت “ ” عیسائیت “ اور ” صابیت “ وغیرہ رکھ لئے ہیں تم بھی صرف اپنے دین کا نام ” السلام “ رکھ کر مطمئن نہ ہو جائو کہ اب ہم دوسرے گروہ سے نکل کر ایک نئے گروہ ” السلام “ میں داخل ہوگئے تو بس مسلمان ہوگئے اس لئے کہ ” السلام “ کسی گروہ بندی کا نام نہیں بلکہ ان ساری گرو بندیوں سے نکل کر ” اللہ کے رسول پر ایمان لانا اور اس کی کتاب پر ایمان لانا جو اس نے محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے اور بالکل اس طرح ان کتابوں پر جو اس نے پہلے دوسرے پیغمبروں پر نازل کی تھیں اور یاد رکھو جس کسی نے اللہ سے انکار کیا اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھا تو وہ بھٹک کر سید ہے راستے سے بہت دور جا پڑا۔ “
مطلب بالکل صاف ہے کہ اس کے مخاطب وہ مسلمان ہیں جو کلمہ اسلام کا اقرار کر کے ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہوچکے تھے مگر ایمان کے تقاضے پورا کرنے اور مومن کا سا طرز عمل اختیار کرنے سے پہلو تہی کر رہے تھے کہ تم اسلام لانے کے بعد اسلام کو ایک گروہ یا پارٹی نہ بنا لو کہ پہلے تین تھے تو اب چار ہوگئے بلکہ اسلام نام ہے صحیح معنوں میں اسلام کی ہدایت کو قبول کر کے ان کے مطابق عمل کرنے کا۔ اگر تم نے وہ نہ کیا تو گویا اس طرح تم نے اس گروہ بندی میں جو اسلام سے پہلے موجود تھی ایک مزید گروہ کا اضافہ کردیا۔ حالانکہ اسلام کی ہدایت تو یہ تھی کہ :
” جن لوگوں نے اپنے ایک ہی دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور الگ الگ گروہ بندیوں میں بٹ گئے تمہیں ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے جیسے کچھ ان کے عمل رہے ہیں اس کا نتیجہ اللہ انہیں بتلا دے گا۔ “ (الانعام 2:120)
آپ کو معلوم ہے کہ آپ سے یعنی ” اسلام “ سے پہلے ” یہود نے کہا کہ عیسائیوں کا دین کچھ نہیں ہے اور اس طرح عیسائیوں نے کہا کہ یہود کے پاس کیا دھرا ہے حالانکہ دونوں ہی اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور پھر ٹھیک ایسی ہی بات ان لوگوں نے بھی کہی جو ان مقدس کتابوں کا علم رکھتے ، اچھا جس جس معاملہ میں وہ باہم دگر جھگڑ رہے ہیں قیامت کے دن اللہ اس کا فیصلہ کردے گا اور اس وقت حقیقت حال سب پر کھل جائے گی۔ “ (البقرہ 2:113)
پھر تعجب ہے کہ ایک دوسرے کو اس طرح نیچا دکھانے والوں نے جب دیکھا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا دین اس کی اصل حقیقت کے ساتھپیش کر رہے ہیں اور ہر ایک بھلائی کو تسلیم کرنے کے باوجود ہر ایک کی برائی کو سمجھتے ہیں اور کسی ایک گروہ بندی کا ساتھ نہیں دیتے تو فورا اکٹھے ہر کر اسلام کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور اس طرح اعلان کرتے ہیں کہ :
” اور یہود و نصاریٰ نے مل کر کہا کہ جنت میں کوئی انسان داخل نہیں ہو سکتا جب تک یہودیت اور نصرانیت کی گروہ بندی داخل نہ ہو ، یہ ان لوگوں کی جاہلانہ امنگیں ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں سے کہہ دو ، اگر تم سچے ہو تو بتلائو تمہاری دلیل کیا ہے ؟ ہاں ! حقیقت تو یہ کہ جس کسی نے بھی اللہ کے آگے سر جھکا دیا اور وہ نیک عمل بھی ہوا تو وہ اپنے پروردگار سے اپنا اجر پائے گا اس کے لئے نہ تو کسی قسم کا کھتکا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی غمگینی ، “ (البقرہ 2:106) اور اس طرح قرآن کریم نے مسلمانوں کو خصوصا ہدایت دی کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لو ، صرف دعویٰ ایمان عمل صالح بھی لازم ہے۔ جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے ایک خاص طرح کی نسلی اور جماعتی گروہ بندی بنا لی تھی تم بھی اسی طرح کی ایک گروہبندی نہ بنا لینا اس لئے کہ اس کے ساتھ نجات کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے آج ہم نے وہی کچھ کیا جس سے ہم کو منع کیا گیا تھا بلکہ اس سے بھی کہیں آگے نکل گئے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ آیت 62 جہاں اس کی تفصیل کردی گئی ہے۔
اقرار بالسان کا اعتبار اس صورت میں ہوگا جب تصدیق بالقلب بھی ہوگی :
222: زبان سے اقرار کرنے کے بعد اس بات کو بھول جانا کہ میں نے کیا اقرار کیا تھا ؟ ایسے بھول جانے کے اقرار کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی بلکہ اس طرح خدا فراموشیکا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے جب آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کس کا بندہ ہے تو لازما وہ دنیا میں اپنی ایک غلط حیثیت متعین کر بیٹھتا ہے اور اس کی ساری زندگی اس بنیادی غلط فہمی کے باعث غلط ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح جب وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہے تو وہ اس ایک کی بندگی تو نہیں کرتا جس کا وہ درحقیقت بندہ ہے اور ان بہت سوں کی بندگی کرتا ہتا ہے جن کا وہ فی الوقع بندہ نہیں ہے۔ یہ پھر ایک عظیم اور ہمہ گیر غلط فہمی ہے جو اس کی ساری زندگی کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے۔ انسان کا اصل مقام دنیا میں یہ ہے کہ وہ بندہ ہے آزاد و خود مختار نہیں ہے اور پھر یہ بھی کہ وہ بندہ ہے صرف ایک اللہ کا اس کے سوا کسی اور کا بندہ نہیں ہے جو شخص اس بات کو نہیں جانتا وہ حقیقت میں خود اپنے آپ کو نہیں جانتا جس کا نتیجہ لازما یہ ہوتا ہے کہ وہ اقراربالسان کے باوجود وہ کچھ کرتا رہتا ہے جو کچھ وہ اس اقرار سے پہلے تھا اور بظاہر جو تبدیلی ہوتی ہے وہ اتنی ہی ہوتی ہے کہ پہلے وہ کافر تھا اور اب اس کو منافق کہہ سکتے ہیں لیکن اس تبدیلی کا اس کو کچھ فائدہ ؟
Ayah 4:137بندوں میں جو اپنا اعتبار کھو دیتا ہے اس پر قیاس کرلو جس کا اعتبار اللہ کے ہاں نہ رہا :
223: کیا لوگوں میں جس انسان کا کوئی اعتبار نہ رہے وہ عزت والا کہلاتا ہے ؟ نہیں نہیں وہ تو بےعزت بھی ہوتا ہے اور بےغیرت بھی پھر جس کا اعتبار عنداللہ ہی کچھ نہ رہا اس کا کیا ہوگا ؟ اور منافق کی یہی حالت ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ اعتبار نہیں ہوتا اور وہ اپنے نفاق کی حالت کو جتنا چھپاتا ہے وہ ظاہر ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے بظاہر ایمان کی راہ اختیار کی لی تھی مگر فی الحقیقت ایمان سے محروم تھے چناچہ بار بار آئے اور بار بار الٹے پائوں گئے۔ سو ایسا ایمان ایمان نہیں ہے فرمایا ایسے لوگوں کی نہ تو عنداللہ مغفرت ہوگی اور نہ ایسے لوگوں پر سعادت و کامیابی کر راہ کھلے گی۔ اس کی تفصیل چونکہ پیچھے اس جلد کی سورة آل عمران کی آیات تا 90 گزر چکی ہے اس لئے اس کو وہاں ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 4:138منافقین کے لئے درد ناک عذاب کی بشارت ہے وہ اچھی طرح سن لیں :
224: منافق منافقت کیوں کرتا ہے ؟ دراصل وہ چاہتا ہے کہ اس فریقین عزت کی نگاہ سے دیکھیں یعنی کفر پر ڈٹے ہوئے لوگ بھی ان کی عزت کریں اور ایمان کی راہ اختیار کرنے والے بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور یہ بات وہ بالکل فراموش کر جاتے ہیں کہ دو کشتیوں پر سوار ہونے والا ایک پر کبھی سوار نہیں ہو سکتا اور پھر اس کا نتیجہ بھی وہی نکلتا ہے جیسا اس کا عمل ہوتا ہے۔ جس بات کے وہ متلاشی ہیں ان کو وہ فرموش کر بیٹھے ہیں اور اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ” پیاز بھی کھاتے ہیں اور جوتے بھی “ فرمایا جس عزت کی ان کو تلاش ہے وہ ان کو کبھی نصیب نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسوں کو عزت نصیب ہو سکتی ہے۔ وہ یقینا دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہیں اور آخرت میں بھی۔
Ayah 4:139حقیقی عزت تو اللہ ، اس کے رسول اور ایمان والوں ہی کے لئے ہے :
225: معاشرہ اسلامی نہ ہونے کے باعث اگر ان کو اس دنیوی زندگی میں کوئی مقام حاصل ہو بھی گیا تو آخرت جو ان کی برباد ہوگئی تو اس چار دن کی چاندنی میں ان کے حصے کیا آیا ؟ اور کیا ہے جس پر وہ پھولے نہیں سماتے ؟ عبداللہ بن ابی سردار المنافقین نے بھی یہی بات کہی تھی ” مدینہ پہنچ کر جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال دے گا۔ فرمایا اس نے کیا سمجھا ؟ یعنی کچھ بھی نہیں سمجھا۔ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اوتر مومنین کے لئے ہے مگر ان منافقوں کو اس بات کا علم نہیں۔ “
اتفاق دیکھئے کہ جب وہ بات کہہ رہا تھا تو اس وقت زید بن ارقم اس مجلس میں موجود تھے اگرچہ وہ بچے تھے تاہم انہوں نے ابن ابی کی یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دی۔ آپ ﷺ نے اس وقت عبداللہ بن ابی کو طلب کیا اور اس سے یہ بات پوچھی وہ آیا اور اس بات کا صاف صاف انکا کردیا اور اس پر قسم کھا گیا تو انصار کے بڑے بوڑھوں نے اور خود میرے اپنے چچا نے مجھیبہت ملامت کی زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ اس بات سے مجھے بہت دکھ ہوا اور میں دل گرفتہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ پھر سورة منافقون کی یہ آیت نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا کر ہنستے ہوئے میرا کان پکڑا اور فرمایا لڑکے کا کان سچا تھا اللہ نے اس کی خود تصدیق فرما دی (ابن جریر طبری) نتیجہ کیا نکلا ؟ کہ مدینہ میں داخل ہونے لگے تو عبداللہ کے اپنیہی بیٹے نے جس کا اسم گرامی بھی عبداللہ ہی تھا ننگی تلوار لے کر باپ کے سامنے کھڑا ہو گیا اور باپ کو خبردار کیا کہ مدینہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو تیرا سر قلم کردیا جائے گا کیونکہ عزت اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے لئے ہے تیرے لیے نہیں۔ حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ نے مداخلت فرمائی اور اس کے راستے سے اس کے بیٹے کو ہٹ جانے کا حکم دیا۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” منافق کیا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ کفار سے عزت کی تلاش کرتے ہیں ؟ اگر ایسا ہی ہے تو ان کو اچھی طرح سمجھ لیناچاہئے کہ عزت جتنی بھی ہے سب کی سب اللہ ہی کے لئے ہے۔ “ اگر یہ فی الواقع عزت ہی کے متلاشی تھے تب ان کو اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہئے تھا۔
Ayah 4:140جب دیکھو کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو اس مجلس میں مت بیٹھو :
226: مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث ومناظرہ کرکے ہیچھوڑنا ہے۔ ان کے لئے ہو لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور دیں گے اور اگر وہ نہی مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتیدیکھ رہے ہیں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کردیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی کشتیاں لڑنے میں اپنا وقت ضائع کرتے پھریں۔ ضلالت پسند لوگوں کی بجائے انہیں اپنے وقت اور اپنی قوتوں کو ان لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح وتلقین پر صرف کرنا چاہئے جو خود طالب حق ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ ہر سوال کرنے والے کو اس طرح ٹال دیں اور یہ خیال ہیں نہ کریں کہ ہم نے ان کے سامنے بات ہی کیا پیش کی ہے مطلب یہ ہے کہ جس مجلس میں فضول اور لغو باتیں بیان ہو رہی ہوں جن کا مقصد سرف دل لگی ہو جس طرح قصہ گو لوگ کرتے ہیں کہ ایک بات شروع کی جس کا نہ کوئی سر اور نہ پیر پھر اپنے ہی پاس سے باتیں بنانے لگے تو بناتے ہی چلے گئے اگر کہیں ایسی مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہو تو پتہ چلنے پر فورا اٹھ کھڑے ہو اور اس ذہنی عیاشی میں حصہ مت ڈالو۔ ایسی دل لگی میں تم بھی لگ گئے تو گویا تم بھی وہی کچھ ہوگئے جو کچھ وہ ہیں :
227: بری صحبت کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہو سکتے مثل ہے کہ ” خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ “ اللہ کی آیت کے ساتھ ٹھٹھہ اور مذاق کرنے والوں کے ٹھٹھہ میں تم بھی شریک ہوئے تو آخران میں اور تم میں فرق کیا رہا ؟ ہم نوالہ و ہم پیالہ تو تم بھی ہوگئے۔ تمہارے ان یاروں کی صحبت کا اثر جو تم پر ہوا۔ آج نہیں تو کل تم بھی وہ کچھ ہو گے جو کچھ وہ ہیں۔ غزوئہ تبوک کے زمانہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب اتنے لمبے سفر کے لئے نکل کھڑے ہونے کا ارادہ کیا منافقین کو معلوم ہوا تو وہ راتوں کو مجلسیں جماتے اور سادہ لوح مسلمانوں کو بھی مجلس میں بلا لاتے اور بیٹھ کر خوب گپیں ہانکتے اور اس طرح ان سادہ لوح مسلمانوں پر بھی اپنا اثرڈالنے کی کوشش کرتے اور عجیب عجیب طرح کے فقرے کستے چنانچہروایات میں آیا ہے کہ مثلا ایک محفل میں چند منافق بیٹھے گپ شب لڑاتے رہے تھی ایک نے کہا ” اجی رومیوں کو بھی تم نے کچھ عربوں کی طرح سمجھ رکھا ہے ؟ دیکھ لینا کہ کل یہ سب سورما جو لڑنے کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں رسیوں سے بندھے ہوئے ہوں گے ، اس پر دوسرا بولا تو کہنے لگا ” مزا آجائے جو اوپر سے سو سو کوڑے بھی لگانے کا حکم ہوجائے ۔ “ تیسرا بولا کہ ہاں ! جی آپ کو ” دیکھئے کہ اب روم وشام کے قلع فتح کرنے کے لئے جا رہے ہیں۔ “ چناچہ ان کے اس رویہ اور اس طرح کی گفتگو کو محفوظ کرلیا گیا اور تاہم مسلمانوں کو حکم ہوا کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو اور مذاق اڑائو اللہ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو۔ اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ یہ تم کیا باتیں کر رہے تھے ؟ تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کی باتیں کر رہے تھے۔ ان سے کہو کہ کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی ؟ اب عذر مت تراشو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ “ (التوبہ 9:64 ، 65) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جائوجہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تم کو بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت آپ کو اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھو ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیز گا لوگوں پر نہیں ہے ہاں ! ان کو نصیحت کرسکتے ہوتا کہ وہ غلط روی سے بچ جائی۔ “ (الانعام 6:68 ، 69) فرمایا تم میں یہ ہمت ہو کہ تم ان کو ان کی ایسی باتوں کی ڈٹ کر جواب دے سکتے ہو ان کی باتیں سن کر خاموش نہیں رہوتے تو اس مجلس میں ان کو داندان شکن جواب دو تاکہ وہ ایسی حرکت سے باز آجائیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقی جلداول تفسیر سورة بقرہ آیت 14 ، 15)
Ayah 4:141منافق ، اللہ کو دھوکادے رہے ہیں اور اللہ نے ان کے دھوکا کو ضائع کردیا ہے یعنی منافقین ہر وقت اس انتظار میں رہتے ہیں کہ تمہارے متعلق کیا خبر گرم ہوتی ہے ؟
228: دو لڑنے والوں کے لئے ہار جیت تو لازم ہے کہ ایک ہارے گا تو دوسرابہر حال جیتے گا۔ منافقین خود دور دور رہ کر اس بات کا انتظار کرنے کے عادی ہوتے ہیں کہ جہاں تک خالی بھڑکانے کا تعلق ہو دونوں طرف یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ بھڑک جائیں اور جب وہ وقت آجائیتو پھر وہ اس طرح غائب ہوتے ہیں کہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ ہاں ! الگ تھلگ بیٹھکر انتظار میں ہوتے ہیں اور بڑی شدت سے منتظر ہوتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایک کی ہار ہوگی اور دوسرا جیت جائے گا۔ پھر جو طرف بھاری ہوگی یعنی جس کے حصہ میں جیت ہوگی یہ باتوں ہی باتوں میں اس کے ساتھی ہوں گے۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ ان کو دوٹوک سنایا کہ سن لو جس انتظار میں تم ہو ہمیں معلوم ہے لیکن یاد رکھو کہ مشیت میں جو کچھبھی لکھا ہے وہ تو ظاہر ہو کر ہی رہے گا لیکن ہمارا معاملہ صرف اس ظاہر ہار جیت پر ختم نہیں ہوتا ہماری کامیابی تو یقینی ہے اور ناکامی کا نام ہماری لغت میں موجود ہی نہیں تم صرف ظاہرداری کو دیکھتے ہو لیکن ہماری نظر صرف ظاہر داری پر نہیں ہمارے مقدر میں کبھی ایک نیکی ہوگی اور کبھی دو اور تم اس حقیقت سے نا آشنا ہو۔ ہم اگر میدان کارزار میں کام آئیں گے تو شہید ہو کر ابدی زندگی کی کامیابی پائیں گے اور اگر کامیاب ہوں گے تو غازی بھی ہوں گے اور مال غنیمت بھی ملے گا اور دونوں باتیں ہمارے لئے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ :
” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہہ دو تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے ، اچھا تو اب تم بھی انتظا کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔ “ (التوبہ 9:52)
فرمایا یہ لوگ ہیں کہ ” اگر تم کو اللہ کی طرف سے فتح ملتی ہے تو اپنے کو تمہارا ساتھی ظاہر کرتے ہیں ۔ “ اجی حضرت ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ماشاء اللہ جیت ہماری ہے۔ اگر ہم کو یہ عذر پیش نہ آیا ہوتا تو ہم تو سب سے کے سب آگے ہوتے وہ تو ہماری بد قسمتی کہ ہم اس وقت اس کام کے لئے باہر چلے گئے تھے وقت پر حاضر نہ تھے ہمارا فلاں بیمار ہوگیا۔ ہمیں تو بڑا قلق تھا کہ ہم شریک نہ ہو سکے۔ اب کوئی ایسا موقع آئے گا تو ہم کو آپ پیش پیش پائیں گے ہم ڈرانے والے کب ہیں ؟ ہم نے تو اتنا چندہ جمع کرایا تھا۔ عذر پر عذر پیش کریں گے اور قسموں پر قسمیں کھائیں گے یہ سارا کچھ کیوں کر رہے ہیں ؟ محض اس لئے کہ اس طرح ہمدردی ظاہر کر کے اس مال میں شریک ہوجائیں جو غنیمت میں اہل اسلام کے ہاتھ لگ گیا۔
فرمایا ” اگر منکرین حق کے لئے کچھ حصہ نکل آتا ہے تو ان کے طرف دوڑے جاتے ہیں اور اپنا احسان جتانے کے لئے ان سے کہیں گے کیا ہم نے ایسا نہیں کیا کہ مسلمان تو تم پر بس غالب آئے کہ آئے تھے لیکن ہم نے اس طرح مداخلت کی اور تم کو مسلمانوں سے بچالیا۔ “ آپ کو معلوم ہے ہمارے فلاں ساتھی ساتھ تھے ہم نے ان کو یہ بات سمجھا دی تھی انہوں نے وقت پر یہ یہ کام تو مسلمان کو چھپنے کی جگہ بھی نہ ملتی تھی۔ ان کی خوب گت بنی ہے۔ اس طرح کی سینکڑوں باتیں بنائیں گے اور اس طرح ان کو یقین دہانی کرائیں گے کہ ہم نے پیچھے رہ کر دراصل تمہاری ساتھ دیا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی یہ اس طرح کے کام کب تک کرتے رہیں گے۔ وہ دن تو کوئی دور نہیں اس لئے بس وہ آیا کہ آیاجب ان کا سارا کیا دھرا ظاہر ہو کر رہ جائے گا اور ان کو منہ چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی ہم ان کو اس طرح رسوا کرنے والے ہیں کہ یہ اپنوں اور پر اؤوں کو منہ دکھانے کے نہیں رہیں گے۔ ہمارے قانون میں دیر ضرور ہے لیکن اندھیر بالکل نہیں اور جب ہمارا پکڑنے کا وقت آئے گا تو ان کو کوئی مائی کا لال ہماری پکڑ سے نہیں بچا سکے گا۔
زیر نظر آیت میں ایک نکتہ یاد رکھنے کا ہے کہ میدان جنگ میں اگر کامیابی مسلمانوں کو ہوئی تو اس کو قرآن کریم نے ” فتح “ کے نام سے موسوم کیا لیکن اگر کفار کے لئے کوئی ایسی بات ظاہر ہوگئی تو اس کو ” نصیب “ سے موسوم فرمایا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جو کچھ منکرین کے حصہ میں آیا وہ ایک وقتی چیز تھی جو دنیا کے لحاظ سے تو حقیر اس لئے تھی کہ اس کا تعلق آخرت کے ساتھ مطلق نہ تھا لیکن جو کچھ دنیا میں ان کے حصے میں آیا وہ بھی ایک معمولی بات تھی کہ اس سال یا اس وقت مسلمانوں کو کچھ تکلیف پہنچی تو صرف اس لئے کہ دوسرے مقام پر یہی غلطی ان کو سبق سکھادے تاکہ آئندہ وہ ایسی غلطی کے مرتکب نہ ہوں چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Ayah 4:142اس طرح کی چالیں چل کر کیا منافقین اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ؟
229: ان کی اس دوغلی پالیسی سے نقصان کس کا ہوگا ؟ خود انہی کا تو ہوگا کیونکہ یہ اس راز سے واقف نہیں کہ دھوکہ دینے ولا تو ہمیشہ خود ہی دھوکہ میں ہوتا ہے کیوں ؟ اس لئے وہ دھوکہ میں جو کچھ کرتا ہے خود اپنی جان اور ذات پر کر رہا ہوتا ہے اور یہ بات ان کو سمجھ میں نہیں آتی اس لئے کہ وہ اس قانون الٰہی سے انجان ہیں۔ پھر جو کسی دوسرے انسان کو دھوکہ دے جب وہ دھوکہ میں ہوتا ہے ، اس کے برعکس جو اللہ کو دھوکہ دے رہا ہو اس سے بڑھ کر بھی کوئی بیوقوف ہوگا کہ بھلا اللہ بھی کبھی دھوکاکھاسکتا ہے ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس طرح کی حرکت کرکے دھوکہ خود کھا رہا ہوتا ہے اور اپنی ناسمجھی سے وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ لیکن جب اس کا نتیجہ ظاہر ہوگا تو یہ ہاتھ ملتاہی رہ جائے گا کہ اس نے آسمان پر تھوک کر دراصل اپنے ہی منہ پر تھوکا ہے۔ اور جو منہ اس نے دیکھا ہے وہ دراصل اس کا اپنا ہی تھا کیونکہ اس کی نظر میں منہ تو تھا لیکن شیشہ اس کو نظر نہیں آیا۔
یہ لوگ اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ غور کرو کہ دھوکہ دینے کا عمل کون کر رہا ہے ؟ ان کو یہ معلوم نہیں کہ ہر عمل کا نتیجہ لازم ہے کیا دھوکہ دینے کا عمل یہ کریں اور اس کا نتیجہ کوئی دوسرا بھگتے گا نہیں نہیں ہرگز نہیں ” وہو خادعھم “ وہ ان کو دھوکہ دینے کے عمل کا نتیجہ انہی کی طرف لوٹائے چلاجا رہا ہے کیونکہ اس مہلت پر مہلت دیئے جارہا ہے اور یہ ایسے بیوقوف ہیں کہ اپنے جہل و غرور سے اس کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ وہ مہلت پر مہلت کیوں دیتا ہے ؟ اس لئے کہ اس کو پکڑتے کوئی دیر نہیں لگتی۔
یہ لوگ نمازوں میں شریک ہوتے ہیں تو ایسے جیسے کوئی مار ، باندھ کر ان کو لے آیا ہے :
230: جس کام کو جی نہچا ہے لیکن انکار بھی ممکن ہو تو کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ آدمی شریک ہوتا ہے لیکن بےدلی کے باعث اس کا دل اچاٹ اچاٹ سا رہنے لگتا ہے۔ ان کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے کہ نماز پڑھی تو پڑھی اور نہ پڑھی تو خیر ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں درحقیقت نماز کوئی چیز نہیں بلکہ ایک قومی نشان ہے اگر وہ اس میں کبھی کبھار بھی شریک نہ ہوں تو قوم کیا کہے گی ؟ پھر شریک ہوتے ہیں تو اس طرح کہ وقت ٹالتے رہتے ہیں اور باربار اظہار کرتے ہیں کہ یار ابھی تو نماز بھی پڑھنا اور اس طرح کا تذکرہ کرتے کرتے نہیں تھکتے اگر وہ وقت پر نماز ادا کرلیں تو اس طرح تذکرہ کیسے کریں گے ؟ وقت ٹالتے ٹالتے جب بالکل قریب چلا گیا تو اٹھیں گے اور بھاگیں گے اور دوچار الٹی سیدھی ٹکریں ماریں گے۔ پوری نماز میں نہ ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور نہ یہ خیال رہتا ہے کہ انہوں نے کیا پڑھا ہے ؟ نماز میں جی بالکل نہیں لگتا ہاں ! کسی مجلس میں پھنس گئے جہاں لوگ نماز پڑھنے والے ہیں تو بہت جلدی کریں گے باربار وقت دیکھیں گے اور باربار وہی تذکرہ نماز کریں گے۔ کبھی اتنے سست کہ موذن اذان پکارتا ہے تو ان کے کان پر کبھی جوں بھی نہیں رینگتی اور کبھی اتنے پابند کہ وقت سے پہلے ہی گویا ان کا وقت نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو دکھاوے کی ضرورت ہے وہ لوگوں کو یہ محسوس کرانا چاہتے ہیں کہ وہ نمازی ہیں اور پھر ان سے داد بھیلیناچاہتے ہیں اور وہ اس طرح ان کو نہیں ملتی جب تک وہ اس طرح کا دکھاوانہ کریں۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس کو اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ ” ولا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالیٰ ولا ینفقون الا وھم کرٰھون “ وہ نمازوں کے لئے نہیں آتے مگر کسمساتے ہوئے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے مگر بادل نخواستہ “ (التوبہ 9:94) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” یہ منافق کی نماز ہے ، یہ منافق کی نماز ہے ، یہ منافق کی نماز ہے۔ عصر کے وقت بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے یعنی اس کے غروب کا وقت قریب ہوجاتا ہے تو اٹھ کر دو چار ٹھونگیں مار لیتا ہے جس میں اللہ کریم کو کم ہی یاد کرتا ہے۔ “ (بخاری ، مسلم و مسند احمد)
حضرت مصعب بن سعد ؓ اپنے والد ماجد یعنی سعد بن ابی وقاص سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے والد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے لوگوں کے متعلق پوچھا تھا جو نماز سے غفلتبرتتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو اس کے وقت سے ٹال کر پڑھتے ہیں اور یہ حدیث ابن جریر ، ابو یعلیٰ ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم ، طبرانی فی الاوسط ، ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں بیان کی ہے اور اس بات کا ذکر زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ” جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ ہوتے ہیں محض لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر برائے نام۔ “
Ayah 4:143یہ مطلب کے یار ہیں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے :
231: یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کو اسلام سے پیار ہے نہ کفر سے کوئی نفرت وبیر۔ ان کو اپنے مطلب سے غرض ہے۔ وہ جس طرف سے ان کا مطلب حل ہوتا ہے اس طرف کے ہوں گے۔ گویا وہ سیاسی لیڈر ہیں اور ان کو ووٹ درکار ہیں وہ خود بےرنگ ہیں اس لئے جس برتن میں داخل ہوں گے وہی ان کا رنگ خود بخود ہوجائے گا۔ وہ دو ریوڑوں کے درمیان کے ” بھیڈو “ ہیں کبھی اس ریوڑ میں کبھی اس ریوڑ میں۔ بیوقوف ہیں لیکن دوسروں کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ غرض کے بندے ہیں اور وہ جہاں سے اور جیسے کیسے ان کی پوری ہونی چاہئے۔ ضرورت ہو تو وہ تمہارے اپنے ہیں اور ضرورت نہ ہو تو ان کی پہچان بہت کمزور ہے آج کل فی زمانہ لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے کہ ان کی پہچان مشکل ہو اس لئے اس گروہ کی زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔
Ayah 4:144مسلمانوں کو ہدایت کہ کافروں کو دوست مت بناؤ :
232: زیر نظر آیت کا یہ مضمون باربار دہرائو۔ حرف حرف کر کے پڑھو اس کے ترجمہ کو نگاہ میں رکھو ، کیوں ؟ اس لئے کہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ ” اے یمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائو۔ “ قوم کے مذہبی راہنما کیا کرتے ہیں کہ مومنوں کو کافر بناتے ہیں اور پھر اس آیت کو ان کافروں پر فٹ کردیتے ہیں کی دیکھو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کافروں کو دوست مت بنائو ۔ یہ دیو بندی کیا ہیں ؟
اہل حدیث کیا ہیں ؟ غور کرو جو جواب تمہارا وہی ہمارا۔ ظاہر ہے کی ان میں سے دوستی کے قابل کون ہے ؟ ایک بھی نہیں ، کیوں ؟ ارشاد خداوندی ہے کہ ” اے یمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافوں کو دوست مت بنائو۔ “ دوستی کے لئے سچے مسلمانوں کی ضرورت ہے۔ وہ کہاں سے ملیں گے ؟ ایران سے ؟ عراق سے ؟ سعودی عرب سے ؟ یمن سے ؟ شام سے ؟ لیبی اسے ؟ بنگلہ دیش سے ؟ کابل سے ؟ پاکستان سے ؟ نہیں نہیں اور ہرگز نہیں ، پھر آخرملیں گے کہاں سے ؟ وہ تم کو ملیں گے امریکہ سے ، برطانیہ سے ، فرانس و جرمنی سے ، روس سے و چین سے ، یہی وہ امن گاہیں ہیں جہاں سے امن ملتا ہے اور یہی وہ اسلام کے مراکز ہیں جہاں سے اسلام نافذ ہوتا ہے۔ یہی ہمارا قبلہ ہیں اس لئے یہی دوستی کے قابل ہیں مسلمان ممالک کو دوستی کرنا ہے تو ان ممالک سے اور مسلمان ملکوں کے باشندوں کو دوستی کرنا ہے تو ان ملکوں کے باشندوں سے دیکھو اور قرآن کریم میں صاف حکم موجود ہے کہ ” اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائو ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی حجت صریح قائم کرلو ؟ “ (مزید تفصیل کے لئے دیکھنادرکار ہو تو اس جلد میں سورة ال عمران کی آیت ملاحظہ کریں) اس لئے وہاں بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ ” جو لوگ ایمان والے ہیں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مومن کو چھوڑ کر منکرین حق کو اپنا رفیق و مدد گار بنائیں اور جس کسی نے ایسا کیا تو وہ یاد رکھے کہ اس کا اللہ کے ساتھ کوئی سروکار نہ رہا۔ “
Ayah 4:145منافقین کا گروہ ہی وہ گروہ ہے جو دوزخ کے سب سے نچلے حصہ کا مستحق ہے :
233: ہر منافق فی الحقیقت کافر ہی ہوتا ہے بلکہ ایک لحاظ سے وہ کافر سے زیادہ مجرم ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اپنے جرم کفر پر ایک مزید جرم مکرو فریب کا اضافہ کیے ہوئے ہوتا ہے اس لئے حق یہی ہے کہ اس کو ایک کھلے کافر سے بھی زیادہ سخت سزا ملنی چاہئے اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سزا جرم کے مطابق ہو۔ ظاہر ہے کہ جرم اس کا ایک کھلے کافر سے بڑا ہے اس لئے اس کی سزا بھی قرآن کریم نے سخت بیان فرمادی کہ ” منافق دوزخ کے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور یہ بات یاد رہے کہ اوپر کو بڑھنے کو ” درج “ اور نیچے کی طرف جانے کو ” درک “ کہتے ہیں اس لئے یہ بیان کیا گیا ؟ جنت میں تو درجات ہیں اور دوزخ درکات ہیں کہ جنت میں جنتیوں کے مقامات کو درجات میں بلند کیا جائے گا اور دوزخ کے عذاب میں دوزخیوں کے مقامات کو نیچے سے نیچے گہرائی میں ڈالا جائے گا۔ اور درک سمندر کی گہرائی کو بھی کہا جاتا ہے اور اس سے لفظ ادراک بھی ہے یعنی بات کی تہ تک پہنچ جانا۔