4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 4:51

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! کیا تم ان لوگوں کا حال نہیں دیکھتے جنہیں کتاب اللہ سے ایک حصہ دیا گیا تھا پھر وہ بتوں کے اور شریر قوتوں کے معتقد ہوگئے اور کافروں کی نسبت کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے تو کہیں زیادہ یہی لوگ سیدھے راستے پر ہیں

وہ جن کو کتاب اللہ دی گئی لیکن اس کے باوجود شرک کے مرتکب ہوئے : 103: اس آیت میں ایک دوسرے گروہ کے شرک کا بیان ہے جو کتاب اللہ کے حامل ہونے کے باوجود جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور اعمال سفایہ کے عامل بھی ہیں اور ان پر عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ اعمال سفایہ کیا ہیں ؟ وہی دھوکا اور فریب کاریاں جو پچھلے لوگ کرتے آئے ہیں وہ یہ بھی کرتے ہیں کیونکہ ان کا اصل تعلق بیشتر شیطانی قوتوں اور ارواح خبیثہ سے ہوتا ہے اور انہی کو اس جگہ طاغوت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جو لوگ ان اعمال کے درپے ہیں اول تو وہ ارواح خبیثہ کو بالذات موثر مانتے ہیں پھر ان سے تعلق پیدا کرنے اور ان کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کے لئے ان کو نہ صرف خلاف شروع بلکہ صریح مشرکانہ اعمال کا ارتکاب کرنا پڑتا ہے جس سے عقیدہ اور عمل دونوں یک قلم تباہ و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان سے طاغوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کھان ینزل علیھم ال شیطان (بخاری) یہ کاہن ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک قبیلہ میں ایک کاہن تھا جس سے وہ فیصلہ کراتے تھے۔ یہود کے متعلق مزید وضاحت کہ کسی طرح حق سے انحراف کرتے کرتے ان کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ صریح کفر پر مائل ہوگئے چنانشہ اس آیت میں یُوْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ کہ کر اس کی طرف اشارہ کردیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہتا ہے کہ ایک مدت تک عربوں میں رہ کر عربوں کی بت پرستی اور کہانت پر یہودیوں کا بھی اعتقاد ہوگیا تھا۔ اور یہی حال ہر قوم کا ہوتا ہے جو حق کے پھیلانے پر زور نہیں لگاتی کہ آہستہ آہستہ دوسروں کے اثر کے نیچے آنا شروع ہوجاتی ہے اور یہودی جو عرب میں توحید کا پیغام لے کر آئے تھے بجائے اس کے کہ بت پرستوں کو توحید کی طرف لاتے خود بت پرستی اور کہانت پر لگ گئے۔ آج اس کی مثال مسلمانوں میں بھی اکثر و بیشتر ملتی ہے۔ جب تک وہ دوسروں کو توحید سکھانے پر زور لگاتے تھے ان کے خیالات ہندوؤں میں اثر کرتے چلے گئے مگر جب انہوں نے اس کو ترک کردیا ہندوؤں کے بہت سے خیالات ان میں رواج پا گئے حتیٰ کہ بعض صوفیوں کے گروہ ایسے ہیں کہ انہوں نے ہندوؤں کی دعاؤں اور وظیفوں کو لے لیا ہتے اور ہندوؤں کے رسم و رواج اکثر مسلمانوں میں آگئے۔ یہ پیر پرستی اور قبر پرستی جو مسلمانوں کے اندر پائی جاتی ہے وہ بھی در اصل بتے پرستی کا ہی ایک رنگ ہے۔ پھر اس بیماری کا ذکر فرمایا کہ لوگ اکثر اوقات جس طرف کو بھاری دیکھتے ہیں اس کے ساتھ ہو کر ان کو دبانے لگتے ہیں جو کمزور ہوں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ کمزور ان کے خیال میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور بھاری بھر کم لوگوں کے ہاں میں ہاں نہ ملانے اس اکثر نقصان ہوتا ہے اور یہ لوگ اس نقصان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے ان کے نزدیک سچ وہی ہے جو بڑے لوگوں کی زبان سے نکلے اور سچ وہی ہے جو بڑے لوگوں کے عمل میں آئے۔ قرآن کریم کہتا ہے دیکھوں یہ اہل کتاب ہیں جو نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اللہ کی کتابوں کو اللہ ہی کی کتاب تسلیم کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کے متعلق کہتے ہیں کہ ان مسلمانوں سے تو یہی لوگ زیادہ ہدایت پر ہ ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ مکہ میں اکثریت ان کی ہے اور پھر یہ لوگ اکثریت میں بھی ہیں اور دنیا والوں کی نگاہوں می مال دار اور عزت والے بھی۔ بس ان کو یہ بات کہنے میں ان کی یہ ظاہری حالت آڑے آگئی اس لئے وہ ان وڈیروں اور مال دار لوگوں کو جو دنیا میں بھی بڑی عزت و تکریم کے مالک ہیں مسلمانوں سے بہتر جانتے ہیں اور پھر وہ بھی دین کے معاملہ میں حالانکیہ کفار مکہ وہ لوگ ہیں جو نہ انبیاء کرام کو مانتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا روز قیامت پر ان کا ایمان ہے۔ حدیث میں ہے کہ مدینہ کے روسا حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ میں اہل مکہ کے پاس آے تو مکہ والوں نے ان سے کہا کہ تم بتاؤ اس لے کہ تم اہل کتاب بھی ہو اور اہل علم بھی کہ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا انہوں نے سوال کیا کہ تم کیا ہو اور محمد کیا ہیں ؟ قریش مکہ نے جواب دیا کہ ہم وہ ہیں جو صلہ رحمی کرتے ہیں۔ حاجیوں کو دودھ اور پانی ملا کر پیش کرتے ہیں اور ان کو ستو گھول کر پلاتے ہیں اور قیدیوں کو بھی چھوڑاتے ہی ۔ محمد ﷺ وہ ہیں کہ ان کی کوئی اولاد نہیں انہوں نے ہمارے ارحام کو قطع کیا ہے اور حاجیوں میں جو چور اچکے ہیں ھ وہ ان کے تابع ہوگئے ہیں اب تم فل ہیں کرو کہ ہم دونوں فریقوں میں بہتر کون ہے ؟ سرادر ان مدینہ یعنی حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف نے کہا کہ ” تم ہی اس کی نسبت زیادہ ہدایت پر ہو۔ “ چناچہ یہی مضمون زیادہ تفصیل کے ساتھ سورة المائدہ میں بیان ہوا جہاں فرمایا : ” اے پیغمبر اسلام ! آج تم ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو اہل ایمان کے مقابلہ میں کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کے لئے کی ہے۔ اللہ ان پر غضب ناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔ اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پبرمب ﷺ اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے ہو جو پیغمبر اسلام پر نازل ہوئی تھی تو کبھی اہل ایمان کے مقابل میں کافروں کو اپنا رفیق نہ بتاتے مگر ان میں تو بیشتر لوگ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری سے نکل چکے ہیں۔ “ (المائداہ : 81:80:5)
Ayah 4:52

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی مار پڑی اور جس کسی پر اللہ کی مار پڑگئی تو ممکن نہیں کہ تم کسی کو اس کا مددگار پاؤ

یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی مار کے مستحق ٹھہرے اب ان کا مددگار کون ہو سکتا ہے ؟ 104: اس طرح وہ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور جس پر اللہ کی لعنت کی پھٹکار پڑے پھر وہ کون ہے جو اس کی پھٹکار سے اس کو بچا لے۔ یعنی مشرک قوموں اور قبیلوں نے اللہ کے ساتھ ساتھ جو اپنے حمایتی اور بھی بنا رکھے ہیں وہ بھی ان کو اللہ کی اس لعنت سے بچا نہیں سکیں گے۔ اس بات کی تشریح پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ اللہ کی لعنت کیا ہے ؟ یہی کہ وہ رحمت الٰہی سے دور کر دئے گئے اور اللہ کی رحمت سے دور کردیئے جانے والوں کے لئے کوئی بھی حمایتی اور مددگار نہیں ہوگا۔ یہی بات اس جگہ زیر نظر آیت میں بیان کی گئی کہ فرمایا ” یقین کرو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی مار پڑی اور جس کسی پر اللہ کی مار پڑی تو ممکن نہیں کہ تم کسی کو اس کا مددگار پاؤ ۔ “
Ayah 4:53

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

تو پھر ، کیا یہ بات ہے کہ ان کے قبضے میں بادشاہت کا کوئی حصہ آگیا ہے اور اس لیے نہیں چاہتے کہ لوگوں کو رائی برابر بھی کچھ مل جائے ؟

یہود کو اگر دنیا کی سیادت مل جاتی تو اس میں وہ کسی کو شریک نہ کرتے : 105: نقیر ن ق ر سے ہے جس کے اصل معنی کرید نے کے ہیں اور اس سے منقار ہے اور منقار جانور کی چونچ کو کہتے ہیں جس سے وہ زمین وغیرہ کو کریدتا ہے اور اس آلہ کو بھی جس سے چکی وغیر راہی جاتی ہے اور اس جگہ نقیر سے مراد وہ کریدی ہوئی جگہ ہے جو کھجور کی گھٹلی میں ایک چھوٹی سی لکیر کی مانند گہرائی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اس کی طرف نسبت دے کر کہیں فتیل اور کہیں نقیر کا لفظ استعمال کیا ہے مراد اس سے حقیر سے حقیر اور تھوری سے بھی تھوڑی چیز ہے جیسے ہماری زبان اردو میں ایک رائی برابر یا رتی بھر کے الفاظ سے بیان کرتے ہیں اس وجہ سے شاہ عبد القادر (رح) نے اپنے ترجمہ میں ” تل بھر “ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ یعنی یہود کی اپنی حالت یہ ہے کہ روحانی عظمت تو الگ رہی اگر ان کی دنیوی امارت و سیادت نصیب ہوئتی تو یہ انتے بخیل اور تنگ دل لوگ ہیں کہ اس میں بھی کسی کو شریک نہ ہونے دیتے بلکہ لوگوں کے حقوق تک ادا نہ کرتے اور ادی تنگ دلی اور بخیلی کے باعث وہ دنیا کے اقتدار سے بھی محروم کر دئے گئے ہیں اور محروم ہی رہیں گے اور کہیں کچھ ٹھکانا پائیں گے بھی تو وہ دوسروں کے سہارے اور دوسروں کے سہارے زندہ رہنے والے درحقیقت مردہ ہی ہوتے ہیں اور قوموں کی زندگی اور موت کا مطلب یہی ہے کہ جو قوم برسر اقتدار ہے اور ان کا اقتدار دوسروں کے سہارے نہی بلکہ اپنی قومی طاقت کے بل بوتے پر ہے وہ قوم زندہ ہے اور جو دوسروں کے سہارے برسر اقتدار ہے وہ اسلام کی زبان میں مردہ ہے۔ آج قوم مسلم کو بھی اپنا تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے کہ کیا آج وہ زندہ قوم ہیں یا یہود کی طرح وہ بھی قومی حیات کو ضائع کر بیٹھے ہیں ؟ اس آیت میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہود کو یہ حسد کھا گیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ نبی اسماعیل سے کیوں ؟ وہ بنی اسرائیل سے کیوں نہیں ؟ اور یہ لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ نبوت من اللہ چیز ہے جس کا تعلق کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ نبوت عطا کرنے والا ہی جانتا ہے کہ وہ اپنی نبوت و رسالت کا منصب کس کو عطا کرے اور پھر جس کو وہ عطا کردیتا ہے اس کی عطا کو کوئی روک نہیں سکتا اور یہ بھی کہ بنی اسماعیل بھی ذریت ابراہیم (علیہ السلام) ہی ہیں کہیں باہر سے تو نہیں آئے۔ پھر اس آیت نے یہ سبق و درس بھی دیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ بادشاہت و اقتدار عطا فرما دے اس کو بہت وسیع النظر اور عریض القلب ہونا چاہیے اگر وہ ایسا ہوگا تو اس کی بادشاہت اور اقتدار دیر پا ہوگا۔ دیکھو دنیا کے آنسانوں میں سے جو وسعت قلب اللہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیا وہ کسی دوسرے انسان کے ح سے میں نہ آیا اس لئے آپ ﷺ کا اقتدار نبوت ابد الاباد رہے گا جب تک نظام دنیا قائم ہے وہ بھی قائم رہے گا بلکہ ہر وہ شخص جو اس اقتدار نبوت میں قدم رکھے گا تباہ و برباد کردیا جائے گا۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا پھر اللہ نے اپنے فضل سے لوگوں کو جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کا انہیں حسد ہے ؟ اگر یہی بات ہے تو ہم نے خاندان ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی تھی اور ساتھ ہی بڑی بھاری سلطنت بھی عطا فرمائی تھی

الٰہی فیصلے ایسے فیصلے نہیں ہیں جن کو دنیا کے حاسد روک لیں : حسد کرنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنی چائے کہ حاسد ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے جس پر حسد کیا جاتا ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا اور یہ اتنا بڑا پکا اصول ہے کہ تم ایک ایک حاسد کا تجزیہ کر دیکھو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ نقصان میں ہمیشہ وہی رہے جنہوں نے حسد کیا ۔ ہاں ! اگر حسد دونوں طرف سے شروع ہوجائے تو یہ دوسری بات ہے اس لئے جس کا حسد کیا جائے اس کو یہ یقین کرنا چاہئے کہ حاسدین کا اپنا نقصان ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں مشرکین مکہ کی ہلاکت کا باعث بھی ان کا حسد ہی تھا اور یہود و نصاریٰ کی ہلاکت کا باعث بھی وہی ۔ کیونکہ مشرکین مکہ جن نفسیاتی وجوہ سے نبی کریم ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے ان میں بھی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس طرح انہیں آپ کا فضل و شرف ماننا پڑتا تھا اور اپنے کسی معاصر اور ہم چشم کا فضل ماننے کیلئے انسان مشکال ہی سے آمادہ ہوا کرتا ہے۔ اس پر پیچھے فرمایا گیا کہ جن لوگوں کی بخیلی کا یہ حال ہے کہ کسی کے واقعی مرتبے کا اقرار اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کا دل دکھتا ہے انہیں اگر کہیں اللہ نے اپنے خزانہائے رحمت کی کنجیاں حوالے کردہ ہوتیں تو وہ کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے۔ اس مضمون کو سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ : ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کہ کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔ “ (بنی اسرائیل : 100:17) نبی اعظم و آخر ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ” رَحْمَتًہ لِلْعٰلَمِیْن “ کا خطاب عطا فرمایا کیوں ؟ اس لئے کہ آپ ﷺ فی الواقع تمام جہانوں کے لئے رحمت تھے کہ آپ ﷺ میں ہر وہ خوبی موجود تھی جو سابقین انیائے کرام میں سے کسی میں کوئی اور کسی میں کوئی تھی کوئی نبی کسی فضتلئ میں زیادہ تھا اور کوئی سی میں لیکن رسول اللہ ﷺ کی ذلت ہی وہ ذات تھی جس میں ہر طرح کی خوبیاں بیک وقت موجود تھیں۔ اس کو کسی نے اس طرح ادا کیا ہے کہ : آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری آل ابراہیم میں یہود و نصاریٰ بھی داخل ہیں لیکن اس جگہ آل ابراہیم مراد صرف مسلمان ہی لہئے جاسکتے ہیں سلئے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے آپ کو بنی اسرائیل سے خاص کرلیا ہے ان کا سارا فخر بنی اسرائیل ہی کے ناطے سے تھا اگر وہ آل ابراہیم کا نام لیتے تو اس طرح بنی اسماعیل بھی اس میں شمار ہوجاتے کیونکہ وہ بھی آل ابراہیم ہی ہیں اور مسلمان باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل بھی آل ابراہیم میں اپنا امتیازی نشان آل ابراہیم کی وجہ سے رکھتے ہیں گویا اس طرح یہ بات خوبخود واضح ہوگئی کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے مقابلہ میں مسلمان ایک وسعع المظرف قوم تھے لیکن افسوس کہ آج ان لوگوں نے اپنا یہ قومی امتیاز بھی ختم کردیا اور وسیع الظرف ہونتے کی بجائے تنگ ظرف ہو کر رہ گئے۔ کیونکہ گرو بندی اور خصوصاً مذہبی گروہ بندی اس تنگ نظری کا نتیجہ ہے۔ کوئی قوم جتنے گروہوں میں تقسیم ہوتی جائے گی اتنی ہی وہ تنگ نظر ہوگی اور گروہی تقسیم سے جتنا کوئی قوم دور رہے گی اتنی وسیع الظرف کہلائے گی۔ بہر حال اس جگہ اللہ کا فضل جس چیز کو قرار دیا گیا وہ کیا ہے ابراہیم (علیہ السلام) کے لوگوں کو کتاب و حکمت عطا کرنا اور ساتھ ایک ملک عظیم کی پیش گوئی بھی کی جو گویا کتاب و حکمت ہی کا ثمرہ ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ درخت جتنا اچھا اور اس کی نگرانی و حفاظت جتنی بہتر ہوگی اتنا ہی اس کا پھل بہتر ہوگا۔ اس طرح جتنی کتاب و حکمت کی حفاظت ہوگی اتنا ہی اس کا ثمرہ بھی بڑا ہوگا۔ جب کتاب و حکمت کا ثمرہ ” ملک عظیم “ ہے تو اس ملک عظیم کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کردینا کتاب و حکمت سے دوری ہی کا دوسرا نام ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو ” ملک عظیم “ عطا فرمایا تھا آج اس کی بیسیوں حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا گیا اور پھر ان ہی کا ہر ایک حصہ دوسرے حصہ سے جس طرح پیکار جنگ ہے آج کسی سے پوشیدہ نہیں اور پھر اس کا جو نتیجہ ہے وہ بھی سب ا کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ کاش کہ آج بھی مسلمان مسلمان ہوجائیں ؟ اور یہ تب ہی وہ سکتا ہے جب مسلمانوں کی سوچ ایک ہوگی۔ ان کا دفاع ایک ہوگا۔ وہ سب ایک جسم کے کے مختلف اعضاء ہونے کے باوجود ایک جسم و جان ہوں گے۔ ان کی آنکھیں آنکھوں کا کام کریں گی اور ان کا دماغ اپنا کام سنبھال لے گا اور ان کے ہاتھ وہی کام کریں گے جو ہاتھوں کتے کرنے کا ہے اور یہی فطرۃ اللہ ہے جس کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانو ! اللہ تعالیٰ کی اس فطرۃ کو تبدیل نہ کرو اگر تم نے ایسا کیا تو دنیا میں ذلیل و خوار ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اسے اللہ ! مسلمانوں کے بر سر اقتدار لوگوں کو اپنے اس قانون کے مطابق سوچنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما۔
Ayah 4:55

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر ان میں سے کوئی تو ایسا ہوا جس نے اس پر یقین کیا ، کوئی ایسا ہوا جس نے روگردانی کی اور اس کو دہکتی ہوئی دوزخ کی آگ بس کرتی ہے

آل ابراہیم میں سے کچھ لوگوں نے مان لیا اور کچھ نے انکار کیا : 107: ” پھر ان میں سے کوئی تو ایسا تھا جس نے اس پر یقین کیا۔ “ اس جگہ کس کو مان لینا مراد ہے ؟ یعنی اٰمَنَ بِہِ میں ” ھ “ کی ضمیر کس کی طرف اشارہ کر رہی ہے ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ اس سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کا تعلق اور آپ ﷺ کی نسبت بھی آل ابراہیم سے ایسی ہی ہے جیسے دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کی ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو تسلیم کیا اور کچھ آپ ﷺ کے منکر تھے۔ اور پھر جو منکر تھے وہ صرف یہی نہیں کہ منکر تھے بلکہ دوسروں کو روکنے کا سبب بھی تھے اور برملا کہتے تھے کہ ہمارے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل سے کیوں نہیں ؟ حالانکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کا تعلق ابراہیم (علیہ السلام) سے بالکل ایک طرح کا تھا جن کی نسل سے نبوت خاص کردی گئی تھی۔ اب فرمایا کہ مان لینے والوں کا اپنا فائدہ ہے بشرطیکہ وہ اس کی تعلیمات سے استفادہ کریں اور رو گردانی کرنے والوں کا اپنا نقصان ہے جب وہ اس کی لائی ہوئی ہدایت سے استفادہ نہیں کرتے۔ پھر اسن پر ایمان نہ لانے والوں کو انجام کار اللہ کی سلگائی ہوئی ابدی آگ میں داخل کردیا جائے گا اس وقت ان کی آنکھیں گھلیں گی لیکن ” اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ “
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

یاد رکھو جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا ، تو قریب ہے کہ ہم انہیں آتش دوزخ میں جھونک دیں جب کبھی ایسا ہوگا کہ ان کی کھال پک جائے گی تو ہم پہلی کھال کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ عذاب کا مزہ چکھ لیں بلاشبہ اللہ سب پر غالب ہے اور جو کچھ کرتا ہے حکمت کیساتھ کرتا ہے

منکرین کے عذاب کی کیفیت کا ایک منظر : 108: عذاب الٰہی کی مختلف کیفیتیں قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں اور ہر ایک کیفیت اپنے اندر ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔ اس جگہ جس کیفیت کو بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان کی جلدیں یعنی کھالیں جھلس جائیں گی اور پھر ان کو بدل دیا جائے گا اور اس طرح وہ پھر جھلس جائیں گی اور عذاب کی یہ کیفیت ہمیشہ اس طرح قائم رہے گی تاکہ ان کا عذاب تازہ ہوتا رہے اور وہ برابر اس تکلیف میں مبتلا رہیں کیونکہ وہ دنیوی زندگی میں جو مخالفت کرتے تھے تو مسلسل کئے ہی جاتے تھے گویا مخالفت کی انہوں نے قسم کھائی تھی کہ کوئی وجہ بظاہر اگرچہ مخالفت کی نہ تھی لیکن ان کا کام صرف مخالفت تھا اور یہ وہی صورت ہے کہ کسی کام کی کوئی وجہ و علت ہو یا نہ ہو جس کو مخالفت کرنا ہے وہ وجہ خود پیدا کرلیتا ہے اور اس حالت کو ہمارے ہاں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ” آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے ؟ “ جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ جیسے رسول کی رسالت کا انکار کیا آخر ان کی رسالت کے انکار کا کوئی باعث بھی تھا ؟ ہرگز نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کچھ بیان بھی نہ کرسکے اور جو بیان کیا وہ صرف یہ تھا کہ ” وہ بنی اسرائیل سے کیوں نہیں ؟ “ اور کچھ لوگوں کو اعتراض یہ تھا کہ ” اگر نبوت کو آنا ہی تھا تو وہ مکہ یا طائف کے کسی سردار کے پاس آتی “ تاکہ لوگ آسانی سے اس کو مان لیتے یا اگر کوئی نہ مانتا تو اس سے منوا لیا جاتا کیونکہ قوم کے وڈیروں کی بات کو مان لینا نہ ماننے سے زیادہ آسان ہے اور قوم کے کسی غریب کی بات کو مان لینا اس کے انکار کردینے سے زیادہ مشکل ہے اور ہر انسان آسانی کا طالب ہے ” لوہے کے چنے چبانا کون پسند کرتا ہے ؟ “ اس لئے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو۔ “ اللہ تعالیٰ کی اس آگ کا بیان جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا مختلف کیفیتوں سے کیا گیا ہے ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” کہ یہ لوگ تو چکنا چور کردینے والی جگہ پھینگ دیئے جائیں گے اور تم کیا جانو کہ وہ چکنا چور کردینے والی جگہ کیا ہے ؟ وہ تو اللہ کی خوب بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں تک پہنچ جائے گی اور وہ ان پر ڈھانک کر بند کردی جائے گی۔ “ (الھمزہ : 8:4:104) یعنی ہیں تو وہ بڑے بڑے لوگ جو دنیا میں بڑے بڑے بنے بیٹھے تھے اور ان کی یہی بڑائی ان کو حقیقت مان لینے میں آڑے آئی۔ لیکن قیامت کے روز ان کو ایک بےوقعت اور حقیر سمجھتے ہوئے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ فرمایا ایسا کیوں ہوگا اس لئے کہ ان کی نخوست وتکبر نے ان کی نگا میں محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو حقیر اور بےوقعت چیز جانا جس کے نتیجہ میں آج وہ بےوقعت اور حقیر بنا کر رکھ دئیے گئے جس طرح نخوت وتکبر کا اصل مرکز دل ہے اس لئے لازم تھا کہ آگ بھی ان کے دل ہی پر اپنا اثر دکھاتی۔ دل کا لفظ عربی زبان میں اس مقام کے لئے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک اور جزبات و خواہشات اور عقائد و افکار اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے۔ دلوں تک اس کے آگے پہنچنے کا مطلب اس سے واضح ہوجاتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا۔ ” ان کے لئے جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزاء جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ (الاعراف : 41:7) ” ان پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی بچھونے آگ ہی کے ہوں گے۔ “ (الزمر : 12:39) ایک جگہ اور ارشاد ہوا کہ : ” آگ ان کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور ان کے جبڑے بالکل باہر نکل آئیں گے۔ “ (لمومنون : 104:23)
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کے کام بھی اچھے ہوئے تو ہم انہیں ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے ، ان کی رفاقت کیلئے نیک و پارسا بیویاں ہوں گی ، نیز ہم انہیں بڑے اچھے سائے میں جگہ دیں گے

ایمان لانے والوں کے انعام الٰہی پانے کا منظر : 109: دوسرا گروہ وہ تھا جو ایمان لایا ان کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو ہم جنت میں داخل کریں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اس مین ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ پھل کھائیں گے اور سایوں میں آرام کریں گے اور پھر اس کی کیفیات بھی مختلف انداز سے بیان کی گئیں ہیں۔ اور ہر ایک کیفیت اپنے اندر ایک مقام رکھتی ہے جو ایک سے ایک بڑھ کر ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا کہ : ” پرہیز گاروں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نیہ آیا ہوگا۔ نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے نہایت لزیر ہوگی۔ نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی ، اس میں ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے خاص بخشش ہوگی۔ “ (محمد : 15:47) ” بلاشبہ متیخ انسان اس دن باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ انہیں کہا جائے گا سلامتی کے ساتھ بہ اطمینان ان باغوں میں داخل ہوجاؤ ۔ ان کے دلوں میں باہمی جو کچھ رنجشیں تھیں سب ہم نے نکال دیں وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ وہاں کسی طرح کا صدمہ ان کو چھو بھی نہیں سکے گا۔ نہ وہاں سے کسی کو نکالا جائے گا۔ “ (الحجر : 48:45:15) مذہبی مکیاتب فکر کی لڑائی لڑنے والوں کے لئے درس عبرت ہے کہ رنجشیں اور کدورتیں جو ایک دوسرے کے ساھت بنا رکھی ہیں ان کا فائدہ ؟ یہ بدمزگیاں اور آپس کی غلط فہمیاں بلا آخر دور کردی جائیں گی اور دل ایک دو سے سے صاف ہوجائیں گے اس لئے بہتر ہے کہ آج ہی ان کو دور کر دو اور وسیع النظری سے اور وسعت قلب سے کام لو اس لئے کہ یہ ساری چیزیں آخرت میں کام آنے والی نہیں بلکہ انجام کار ان کا دور اہونا لازمی وہ ضروری ہے۔ اپنی اس دنیوی زندگی کو بھی جنتی زندگی کے مماثل کرنے کی کوشش کرو اس میں تمہارا اپنا بھی فائدہ ہے اور ان لوگوں کا بھی فائدہ ہے جن کو ایک دوسرے سے تم نے بیزار کردیا ہے۔ یاد رکھو کہ ہم سب کو ایک ضیافت میں ماشاء اللہ شریک ہونا ہے اور ایک ہی کی مہمانی کو قبول کرنا ہے اس لئے ان آیت کو تلاوت کرتے وقت صرف تلاوت کر کے آگے مت بڑھ جاؤ بلکہ ذرا رک جاؤ اور ایک بار اپنے اندر جھانک کر دیکھ لو کہ تم ماشاء اللہ زمرہ علماء میں داخل ہو جو لوگوں کی راہنمائی کے لئے مختص کر لئے گئے ہو۔ اللہ مثبت سوچ کی توفیق عطا فرما دے۔ جنتیوں کو جنت میں کیا کچھ ملے گا ؟ اس کا بیان بڑا وسیع ہے اور جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب کا سب بطور تفہیم ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ان انعامت کو جو وہاں نیک لوگوں کو ملیں گے اپنے الفاظ میں سمجھ لیا جائے حالانکہ ان کی حقیقت ان چیزوں سے جو دنیا کے اندر موجود ہیں کسی لحاظ سے بھی ملتی نہیں ہوگی اگر کوئی مشابہت ہوگی بھی تو وہ شکل و صورت میں ہو سکتی ہے علاوہ ازیں کوئی مشابہت ان چیزوں کی ان چیزوں سے نہیں ہوگی اور یہ بات خود رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہے جہاں ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے اس کو سنا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کا کسی انسان کے دل میں تصور پیدا کرنا بھی مشکل ہے نہیں کیا جاسکتا۔ “ حالانکہ ان ساری چیزوں کا تصور انسان کے دل میں موجود ہے اور ان میں سے ہر ایک چیز کو اکثر انسان جانتا ہے جن کا نام لے کر انعامات جنت کا ذکر کیا گیا ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کسی ان دیکھی ان سمجھی بات بیان کرنے کے لئے وہی الفاظ بیان کئے جاسکتے ہیں جو معلوم چیزوں کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور یہ گویا انسان کی مجبوری ہے کہ بات اس کی زبان میں ادا ہوگی تو اس کو کچھ معلوم ہوگا ورنہ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا اور قرآن کریم جو اللہ کی کتاب ہے وہ دعین اس زبان کے مطابق ہے جو انسان کے ہاں بولی جاتی ہے تاکہ ان کی تفہیم ہو سکے۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جو جس کی امانت ہو وہ اس کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو چاہیے کہ انصاف کے ساتھ کرو ، کیا ہی اچھی بات ہے جس کی اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے ، بلاشبہ وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے

مسلمانوں کے لئے ہدایت کہ جس کی امانت ہو اس کو واپس لوٹا دو : 110: اوپر کی آیات میں یہودیوں کی بد اعتدالیوں کا ذکر تھا۔ یہودیوں کی بداعتدالیاں کیا تھیں اور کس بات کا نتیجہ تھیں ؟ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے مرتکب تھے۔ اس کی عبادت سے منحرف ہوچکے تھے۔ اس کی عطا کردہ قوتوں کو غیر محل پر استعمال کرتے تھے اور یہ درحقیقت امانت میں خیانت تھی کیونکہ امانت میں یہ ساری باتیں آجاتی ہیں۔ امنات کا لفظ یہاں اپنے محدود مفہوم میں نہیں ہے بلکہ جس طرح اِنِاّاعَرْضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی اسِّمٰوٰتِ وِالْاَرْضِ ” ہم نے امانت کو زمین ، آسمانوں اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ “ والی آیت میں آیا ہے اس طرح اس جگہ بھی نہایت وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ تمام حقوق و فرائض خواہ وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ، انفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے قریبوں کے متعلق ہوں یا عام انسانوں کے متعلق مالی معاملات کی قسم سے ہوں یا سیاسی معاہدات کی قسم کے صلح دامن کے دور کے ہوں یا جنگ کے۔ غرض جس نوعیت اور جس درجے کے حقوق و فرائض ہوں وہ سب امانت کے مفہوم میں داخل ہیں اور مسلمانوں کو شریعت اور اقتدار کی امانت سپرد کرنے کے بعد اجتماعی حیثیت سے سب سے پہلے جو ہدایت ہوئی وہ یہ ہے کہ تم جن حقوق و فرائض کے ذمہ دار بناتے جا رہے ہو ان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا اور ان میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا۔ حضرات انس ؓ فرماتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا ہوگا کہ رسول للہ ﷺ نے کوئی خطبہ دیا ہو اور اس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو کہ لا ایمان لا امانۃ ولا دین المن لاعھدلہ ” جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں۔ “ (بیہقی فی شعب الایمان) بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز نفاق کی علامتیں بتلاتے ہوئے ایک علامت یہ بتائی کہ جب امانت اس کے پاس رکھی جائے تو خیانت کرے۔ امانت کو اس جگہ ” امانات “ کے لفظ سے بیان فرما کر اس بات کا اشارہ دے دیا کہ امانت صرف یہی نہیں کہ کسی کا کوئی مال کسی کے پاس رکھا ہو جس کو عرف عام میں امانت ہی کے لفظ سے تعبری کیا جاتا ہے۔ صرف یہی امانت نہیں بلکہ اس کی بہت سی قسمیں ہیں جس میں قومی امانتون سے لے کر عام معمولی چیز کی امانت تک سب شامل ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے عہدے اور مناصب بھی سب امانتیں ہیں جس کے امین وہ حکام اور افسر ہیں جن کے ہاتھ سیاہی و سفیدی کے اختیارات ہیں۔ ان کے لئے جائز نہیں کہ کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل نہیں ہے بلکہ ان پر لازم ہے کہ ہر کام اور ہر عہدہ کے لئیے اپنے دارہ حکومت میں اس کے مستحقین کو تلاش کریں۔ اگر پوری اہلیت والا سب شرائط کا جامع کوئی شخص نہ ملے تو موجود لوگوں میں قابلیت اور امانت داری کے اعتبار سے جو سب سے زیادہ فائق ہو اس کو ترجیح دی جائے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کی مد میں بگیر اہلیت معلوم کے دے دیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے نہ اس کا فرض قبول ہے نہ نقل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے۔ (جمع الفوائد : ص : 325) ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص نے کوئی عہدہ کسی شخص کے سپرد کیا حالانکہ اس کے علم میں تھا کہ دوسرا آدمی اس عہد کے لئے اس سے زیادہ قابل اور اہل ہے تو اس نے اللہ کی خیانت کی اور رسول اللہ ﷺ کی اور سب مسلمانوں کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کی سپرد کردی گئی ہے جو اس کام کے اہل اور قابل نہیں تو اب قیامت کا انتار کرو۔ “ (صحیح بخاری کتاب العلم) ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ المجالس بالا مانۃ یعنی مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہونی چاہئیں مطلب یہ ہے کہ مجلس میں جو بات کہی جائے وہ اہل مجلس کے درمیان امانت ہے۔ ان کی اجازت کے بغیر اس کو دوسروں تک پہنچانا اور پھیلانا جائز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا المستشار مؤتمن ” جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ امین ہے۔ “ اس پر لازم ہے کہ مشورہ وہی دے جو اس کے نزیدیک مشورہ لینے والے کے حق میں مفید اور بہتر ہو اگر جانتے ہوئے خلاف مشورہ دے دیا تو امانت میں خیانت کا مرتکب ہوگیا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” امانت کو ادا کرو اس کی طرف جس نے تم کو امانت دی اور خیانت نہ کرو اس کی بھی جس نے تمہاری خیانت کی۔ “ اس روایت کو حضرت سمرہ نے بیان کیا اور یہ روایت احمد اور سنن میں موجود ہے۔ اس جگہ جس امانت کا ذکر ہے وہ کوئی مخصوص امانت ہے اس کے متعلق مفسرین نے بہت کچھ بیان کیا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کی چابی عثمان بن طلحہ کو بلا کر اس سے حاصل کی تھی اور پھر رسول اللہ ﷺ نے چابی اس کو واپس کردی اس جگہ اس امانت کا ذکر ہے حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ اس کو کسی خاص واقعہ کے ساتھ وابستہ کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کا مفہوم عام ہے اور اس کے مفہوم میں ا ” امانت خالفت “ مراد ہو سکتی ہے جو قرآن کریم کے بیان کے مطابق انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے اسنا کو طاعت و معصیت کی جو آزادی بخشی ہے اور اس آزادی کو استعمال کرنے کے لئے اسے اپنی بیشمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات عطا کئے ہیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے اختیاری اعمال کا ذمہ دار قرار پائے اور اپنے صحیح طرز عمل پر اجر کا غلط طرز عمل پر سزا کا مستحق بنے۔ یہ اختیارات چونکہ انسان نے خود حاصل نہیں کئے ہیں بلکہ اللہ نے اسے دیے ہیں اور ان کے صحیح و غلط استعمال پر وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہے اس لئے اس کو ” امانت “ ا کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہ بات ایک ہی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : ” اے ایمان والو ! جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو ، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ بنو۔ “ (الانفال : 27:8) اس جگہ بھی اپنی امانتوں سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو کسی پر اعتبار کر کے اس کے سپرد کی جائیں خواہ وہ عہد ووفا کی ذمہ داریاں ہوں یا اجتماعی معاہدات کی یا جماعت کے رازوں کی یا شخصی و جماعتی اموال کی یا کسی ایسے عہدہ و منصب کی جو کسی شفخص پر بھروسہ کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کرے۔ اس کی مزید وضاحت کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة بقرہ کی آیت 503:283 ملاحظہ کریں۔ دوسرا حکم اس آیت میں یہ دیا گیا کہ ” جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو چاہیے کہ انصاف کے ساتھ کرو۔ “ ظاہر ہے کہ اس کا خطاب حکام و امراء کو ہے جو خصومات و مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں اور اس قرینہ سے مفسرین نے پہلے جملہ کا مخاطب بھی حکام و امراء ہی کو دیا ہے اگرچہ پہلے جملہ کی طرح اس جملہ میں بھی گنجائش اس کی موجود ہے کہ حکام و عوام دونوں اس میں شامل ہیں کیونکہ عوام میں سے بھی اکثر فریقین کسی کو ثالث بنا کر فیصلہ کرلیا کرتے ہیں اور اس طرھ جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ق گویا عوام میں بھی پایا جاتا ہے تاہم ان دونوں حکموں کے مخاطب اول حکام قرار دیئے جاسکتے ہیں اور ثانیا یہ خطاب ہر اس شخص کے لئے ہے جس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں اور جس کو کسی مقدمہ کا ثالث بنا دیا جائے۔ غور کرو گے تو اس آیت میں مزید بہت کچھ ملے گا دیکھو اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ” بین الناس “ یہ نہیں فرمایا کہ بین المسلمین “ اور اس طرح اس حکم میں یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ مقدمات کے فیصلوں میں سب انسان مساوی ہیں مسلم ہوں یا غیر مسلم ، دوست ہوں یا دشمن ، اپنے ہوں یا پرائے ، ہم وطن ہوں یا گیر وطن سے تعلق رکھنے والے ، ہم رنگ و ہم زبان ہوں یا نہ ہوں ہر حال میں فیصلہ کرنے والون کا فرض ہے کہ ان سب تعلقات سے بےنیاز ہو کر جو بھی حق و انصاف کا تقاضا ہو اس کے مطابق فیصلہ کریں۔ مختصر یہ کہ آیت کے پہلے حصہ میں ادائے امانات کا ذکر ہے اور دوسرے میں عدل و انصاف کا۔ اس میں ادائے امانات کو مقدم کیا گیا شاید اس لئے کہ پورے ملک میں عدل و انصاف کا قیام اس کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ جن کے ہاتھ میں ملک کی زمام حکومت ہے وہ پہلے ادائے امانات کا فریضہ صحیح طور پر ادا کریں یعنی حکومت کے عہدوں پر صرف انہی لوگوں کو مقرر کریں جو صلاحیت کار اور امانت و دیانت کی رو سے اس عہدہ کے لئے سب سے زیادہ بہتر نظر آئیں۔ دوستی اور تعلقات یا محض سفارش یا رشوت کو اس میں راہ نہ دیں ورنہ نتیجہ یہ ہوگا کہ نا ہل ، ناقابل یا خائن اور ظالم لوگ عہدوں پر قابض ہو کر عدل و انصاف سے کبھی کام نہیں لیں گے۔ اس طرح ارباب اقتدار اگر دل سے چاہیں گے کہ ملک میں عدل و انصاف قائم ہونے کی اور کوئی راہ نہیں ہوگی۔ آخر میں ارشاد فرمایا کہ ” کیا اچھی باتیں ہیں جن کی تمہیں اللہ تعالیٰ نصیحت کرتا ہے بلاشبہ وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ “ جو کچھ تم کرتے ہو اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں۔ امانات کسی کو ادا کرنی چاہیے اور تم کسی کو ادا کر رہے ہو امانت تو صرف اس کو واپس کی جاسکتی ہے جو اس کا مالک ہے کسی مسکین فقیر پر رحم کھا کر کسی کی امانت ان کو نہیں دی جاسکتی اور اگر کوئی اس طرح ادا کر دے تو اس طرح گویا امانت کئی ادائیگی نہیں ہوگی بلکہ یہ بھی ایک طرح کا ظلم ہی ہوگا اس لئے کہ امانت اس کے اہل کو ادا نہیں کی گئی۔ بالکل اس طرح حکومت کے عہدوں کا بھی حال ہے کہ وہ رحم کھاکر بھی ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں دیئے جاسکتے جو ان عہدوں کے اہل نہ ہوں اگر ایسا ہوا تو وہ بھی ظلم ہوگا اور اس ظلم کے مرتکب جس طرح اس ملک میں لوگ ہو رہے ہیں وہ سب پر روشن ہے کہ حکومت کے عہدوں کی تقسیم کسی طرح پر ہے اور امانتوں کی ادائیگی کی کیا صورت ہے ؟ اور ان ساری بد اعتدالیوں کا نتیجہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ قرآن کریم نے یہ حکم بار بار تصریف آیات کے ذریعہ ذہن نشین کرنا ے کی کوشش کی ہے ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اور جب کبھی کوئی بات کرو یا کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ معاملہ اپنے قرابتدار ہی کا کیوں نہ ہو اور اللہ کے ساتھ جو عہد و پیمان کیا ہے اس کو بھی پورا کرو۔ “ (الانعام : 152:6) ایک جگہ ارشاد ہوا : ” ایسا کبھی نہ ہو کہ کسی گروہ کی دشمنی تمہیں اس بات کے لئے ابھار دے کہ اس کے ساتھ انصاف نہ کرو ہر حال میں انصاف کرو یہی بات تقویٰ سے میل کھاتی ہے۔ (المائدہ : 8:5) ایک جگہ ارشاد فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے اور برے طریقوں سے مال کھانے میں بےباک ہیں پس اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے درمیان فیصلہ کر دو یا اس سے کنارہ کش ہوجاؤ اگر تم کنارہ کش ہوگئے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے لیکن اگر فیصلہ کرو تو چاہیے کہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بلاشبہ اللہ انصاف سے فیصلہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ “ (المائدہ :42:5)
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ کی اطاعت کرو ، اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تم میں حکم اور اختیار رکھتے ہوں ، پھر اگر ایسا ہو کہ کسی معاملہ میں باہم جھگڑ پڑو تو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو ، اس میں تمہارے لیے بہتری ہے اور اسی میں انجام کار کی خوبی ہے

مسلمانو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکماء اسلام کی بھی : اس چھوٹے سے جملے میں اسلام کی ساری تعلیم بند کردی گئی اور کوئی پہلو اس کا ایسا نہ رہ گیا جو تشنہ ہو۔ اس میں اللہ کی فرمانبرداری کا حکم دیا گیا اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کا اور ان حکماء وقت کی فرمانبرداری کا جو برسر اقتدار ہوں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف کوئی حکم نہ دیں۔ اللہ کی فرمانبرداری کیسے ؟ فرمایا رسول کی فرمانبرداری در اصل اللہ کی فرمانبرداری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی فرمانبرداری ممکن ہی نہیں جب تک کہ رسول کی فرمانبرداری نہ کی جائے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو براہ راست حکم نہیں دیتا بلکہ جو حکم اس نے انسان کی فطرت میں رکھ دیئے ہیں ان کی تشریح کے لئے بھی وہ رسول کو منتخب کرتا ہے کہ وہ انسانوں کو باور کرائے ان فطرت میں رکھی گئی باتوں کی خلاف ورزی نہ کرو اور پھر صرف یہی نہیں کہ وہ اس کی تعلیم دے دے نہین بلکہ پریکٹیکل لوگوں کو کر کے دکھائے گا اس لئے کہ وہ بھی انسانوں ہی میں سے منتخب کیا ہوا ایک انسان ہے جو حوائج ضروریات دوسرے انسانوں میں رکھی گئی ہیں وہ ساری کی ساری اس کے اندر بھی موجود ہیں اور جو عقل و فکر اس کو دی گئی ہے وہ دوسرے انسانوں کو بھی فرق کیا ہے ؟ فرق یہ ہے کہ اس کی انسانیت کی تکمیل براہ رست اللہ نے کردی ہے اس کا انحصار دوسرے انسانوں پر نہیں رکھا پھر جب اس کی تکمیل ہوگئی تو پھر دوسرے انسانوں کی انسانیت کو بحال کرنے کے لئے اس کو منتخب کرلیا گیا اور اس کے ذمہ وہ کام لگائے گئے ایک اس انسانیت کے سنوارنے کی تعلمن اور دوسرے اس کے مطابق خود عمل بغیر نتیجہ اور کوئی نتیجہ بغیر عمل ممکن نہیں۔ پھر یہ بھی کہ جیسا عمل ہوگا ویسا ہی اس کا نتیجہ ظاہر ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہر وہ عمل و فعل جس پر محمد رسول اللہ ﷺ کی مہر کی پہچان ؟ قرآن کریم کو ہم نے جب ہی قرآن مانا جب آپ ﷺ نے اس کے قرآن ہونے کا اعلان کیا اب قرآن کریم کے اعلان کے خلاف آپ ﷺ کا کوئی عمل ممکن نہیں ازیں بعد آپ ﷺ کی سنت کو محفوظ کرلیا گیا اور اس کی حفاظت کی گواہی قرآن کریم میں قائم کردی گئی اس طرح قرآن و سنت کے پیوند کو اتنا مضبوط کردیا گیا اور اس کی حفاظت کی گواہی قرآن کریم میں قائم کردی گئی اس طرح قرآن وسنت کے پیوند کو اتنا مظبوط کرلیا گیا اور اس کی حفاظت کی گواہی قرآن کریم میں قائم کردی گئ اس طرح قرآن و سنت کے پیوند کو اتنا مضبوط کردیا گیا جیسے پیٹ کو پشت سے اور پست کو پیٹ سے مضبوط کردیا گیا پیٹ بغیر پشت کے یا پشت بغیر پیٹ کے کوئی پوزیشن نہیں رکھتے یہ دونوں ایک دوسرے کے محافظ و نگہبان ہیں ایک کا انکار دوسرے کا انکار دوسرے کا انکار ہے لیکن ایک کا اقرار دوسرے کا اقرار نہیں ہاں ! ایک کا اقرار تب ہی اقرار ہوگا جب دوسرے کا بھی اقرار ہو۔ جس طرح ایک نوشتہ بہر حال طوشتہ ہے اس کے نوشتہ سے انکار نہیں لیکن جب تک اس پر مہر سرکار نہ ہوگی اس نوشتہ کی کوئی حققتی نہی لیکن مہر ثبت ہونے کے بعد نوشتہ وہی ہے اس میں ردو بدل بھی نہی ہوا لیکن اس پر جس مہر کی ضرورت تھی وہ موجود نہ تھی۔ جب اس پر وہ مہر ثبت ہوگئی تو اب اس نوشتہ کی ایک حیثیت قائم ہوگئی۔ اطاعت رسول کے بعد تیسرا نمبر حکام وقت کی اطاعت و فرمانبرداری کا ہے۔ پہلی دونوں فرمانبرداریاں لازم و ملزوم ہیں کہ ان میں سے کسی ایک فرمانبرداری سے سر پھیرا جائے تو اطاعت متصور ہی نہین ہوگی لیکن تیسری اطاعت مشروط ہے کہ حکام وقت کی اطاعت متصور ہی نہیں ہوگی لیکن تیسری اطاعت مشروط ہے کہ حکام وقت کی اطاعت اس وقت لازم ہے جب ان کا کوئی حکم پہلی قسم کی اطاعت یا دوسری قسم کی اطاعت کے خلاف نہ ہو اگر ان کا کوئی حکم پہلی اطاعت یا دوسری کے خلاف ہوا تو اس میں ان کی اطاعت و فرمانبردارای نہی ہوگی۔ فرمایا اگر صورت حال ایسی ہو تو ظاہر ہے کہ جھگڑا پیدا ہوگا کس کے درمیان ؟ حکام وقت اور ان کی اطاعت نہ کرنے والواں کے درمیان فرمایا اگر کہیں اسی صورت پیدا ہو جاے تو چونکہ حکام کی اطاعت ملق اطاعت نہین بلکہ مشرہط ہے اور مشروط کس سے ہے کہ ان کا حکم اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف نہ ہو۔ جب خلاف ہوگیا تو بظاہر جھگڑا ہوگیا پھر اس جھگڑے کا حل بھی یہی ہے کہ دونوں فریق مل کر اس جھگڑے کو دوبارہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پیش کریں یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول پر منطبق کر کے دیکھیں اگر خلاف نکلے تو ہر حال میں مردود ہوا موافق نکلے تو اطاعت و فرمانبراداری لازم ہوگی اور اس جھگڑے کو اللہ اور اس کے رسول یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر پیش کرنے سے پہلے فریقین کو اس بات کا پابدن کرنا ہوگا کہ معاملہ جس کے حق میں ہوگا دوسرے کو اسے تسلیم کرنا ہوگا ورنہ اسے سزار کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ اس بات کو خود رسول اللہ ﷺ نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ افضل الجھاد کلمۃ الحق عند سلطان جائر۔ یہی وہ اصول تھا کہ جب سیدنا ابوبکر صدیق ؓ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے اپنی اطاعت کو اس بات سے مشروط کردیا اور فرمایا کہ اطیعونی ما اطعت اللہ ورسولہ فان زعت فقومونی ” جب تک میں اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے احکام کی پابندی کروں تو تم میری اطاعت کرو اور اگر میں ان کی اطاعت سے انحراف کروں تو تمہارا فرض ہے کہ تم مجھے سیدھا کرو۔ “ چناچہ ابوبکر صدیق ؓ کا یہ اعلان گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس سے یہ بات روز روشن کی طرح صاف ہوجاتی ہے کہ خلیفہ یا بادشاہ وقت کی اطاعت مشروط ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مشروط نہیں۔ بلا شبہ یہ آیت دستور مملکت اسلامی کی اصل و اساس ہے لیکن اسلام کے مختلف گروہوں نے جو اس کی تسریح کی ہے اس نے اس کو بہت کچھ نقصان پہنچایا ہے۔ اطاعت و فرمانبرادری کی تین عملی صورتیں ہیں جن کا سمجھنا ضروری ہے : ایک صورت یہ ہے کہ جس چیز کا حکم صراحتہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرما دیا ہے اور اس میں کسی تفصیل و تسریح کی مزید ضرورت نہیں جیسے کفرو شرک کا انتہائی جرم ہونا۔ اللہ وحدہ کی عبادت کرنا ، آخرت اور قیامت پر یقین رکھنا محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا آخری رسول ماننا۔ نماز قائم کرنا ، روز ، حج اور زکوٰۃ کو فرض سمجھنا اور ان ارکان اسلام کو بجا لانا یہ سب کام وہ ہیں جو براہ راست احکام ربانی ہیں اور ان کی تعمیل بلاشبہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے لیکن یہ ساری چیزیں رسالت کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں اس لئے قرآن کریم نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ رسول کی اطاعت ہی اصل میں اللہ کی اطاعت ہے۔ دوسرا حصہ ان احکام کا ہے جن میں تفصیل و تسریح کی ضرورت تھی اور اس میں وہ سارے احکام آجاتے ہیں جن کا قرآن کریم مجمل حکم دیتا ہے اور اسکی تشریح و تفصیل نبی و رسول کے حولاے سے کی جاتی ہتے پھر وہ تفصیل و تشریح جو رسول اپنے اسوہ حسنہ کے ذریعہ فرماتا ہے وہ بھی دین اسلام میں ثانوی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ عام لوگوں کے اجتہاد کی طرح نہیں ہوتی بلکہ وہ ملکہ نبوت کے تحت ہوتی ہے اور بلکہ نبوت نبوت سے خاص ہے جو عام لوگوں میں جو نبی نہیں وہ ملکہ نہیں ہوتا اس لئے عام لوگوں کے اجتہاد کی حیثیت سے اس کا مقام بہت بلند ہے بلکہ وہ دین کی اصل و اساس میں شامل ہے اور اس کو اسلام کی زبان سنت یا حدیث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی دوسرے انسان کو حق نہیں کہ کسی طرح کی ترمیم یا کمی بیشی کرے۔ پھر اس کے باوجود اگر کوئی اسی کوشش کرے تو وہ مستو جب سزا ہوگا اور پروگرام نبوت سے انکاری سمجھا جائے گا۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص رسالت کو تسلیم نہیں کرتا اگرچہ بظاہر وہ اقرار بھی کرتا ہے کیونکہ زبان سے اقرار کرنا اور عمل سے انکار کرنا منافقت ہے اور منافق کبھی مسلمان نہیں ہوتا اگرچہ اس کو کافر بھی نہ کہا جاسکتا ہو یا نہ کہنا چاہیے کیونکہ ایسی حالت ہر انسان پر واضھ نہیں ہوتی۔ تیسرے درجہ کے احکام ہو ہیں جو قرآن کریم صراحتہً مذکور نہیں اور نہ ہی احادیث میں پوری طرح وضح ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ جدید حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں اور پھر ان حالات کے پیش نظر استنباط قرآن و سنت سے لازم آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں علامائے اسلام اور حکمائے اسلام کا ملا جلا کام ہے کہ وہ ضرورت وقت کے مطابق اس میں نرمی و سختی کرنے کے مجاز ہیں اور یہی وہ کام ہیں جو فروعات کہلاتے ہیں جو اصولوں کے تابع ہوتے ہیں تاہم ان میں اگر اختلاف ہوگا تو اس سے کچھ نقصان نہیں ہوگا بلکہ ان کی برکات سے لوگ مستفید ہوں گے اور حالات کے پیش نظر ان میں لچک بھی ڈالی جاسکے گی۔ ان احکام میں بہت زیادہ وسعت رکھی گئی اور اس وسعت سے فائدہ حاصل کرنے میں کسی گروہ کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسرے کو مطعون کرے بلکہ ہر انسان کو حق ہے کہ ان میں کلام کرسکے اور اپنے نظریات کو کھل کر بیان کرے۔ ہاں ! ان فروعات کو اصول بنانا اور اصولوں کو فروعات کے درجہ سے بھی گراد ینا بہت بڑا ظلم ہے بلکہ یہ ایک قسم کا حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے یا اسلام کی عاطا کردہ وسعت سے غلط فائدہ حاصل کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اس لئے حکومت اسلامی کو اجازت ہے کہ ان میں زمانہ کے حالات کے مطابق ترمیم یا نرمی سختی کرے اور باقاعدہ قانون کا درجہ دے کر دکسی کو حدود سے تجاوز نہ کرنے دے۔ اس لئے ہر زمانہ میں ایک مشاورتی کونسل ہونا اصول اسلامی میں داخل ہے اور اس میں بہت بڑی وسعت موجود ہے لیکن اس میں جتنی وسعت تھی آج ہم نے اس کو اتنا ہی تنگ کر کے رکھ دیا اور اس پر اسلام کی بنیاد کھڑی کردی ذرا کسی کو اپنے نظریات کے خلاف پایا تو کفر کا فتویٰ صادر کردیا اور اس سلسلہ میں حکومت اسلامی نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی جس وجہ سے نئی نئی فرقہ بندیاں پیدا ہوگئیں اور اس وقت ھالت اتنی ناگفتہ بہ ہوگئی کہ جس کے سدھرنے کی کوئی شک بظاہر نظر ہی نہیں آتی کیوں ؟ اس لئے کہ جن لوگوں کا یہ کام تھا انہوں نے اس سے کلی طور پر منہ پھیرلیا بلکہ اس کو اپنجی ذمہ داری ہی تصور نہ کیا اور لوگوں کو لڑنے مرنے کا موقع فرایم کردیا۔ اوپر کے پہلے دو قسم کے احکام جن کے نفاذ کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر لازم و ضروری تھی حکومت نے اسلام حکومت کہلانے کے باوجود ان کے نفاذ سے نکار کردیا اور صاف صاف یہ کہہ دیا کہ یہ کسی اسلامی حکومت کا کام ہی نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی فرضیت ظاہر ہے اس لئے براہ راست مسلم کا اپنا فرض ہے کہ وہ اس کو جس طرح چاہے پورا کرے یہی وہ سب سے بڑا ظلم ہے جو حکومت نے اسلامی حکومت کہلانے کے باوجود آج تک روا رکھا ہے اور اسلام کے اندر کی گروہ بندی نے اپنا پانا وجود قائم رکھنے کے لئے دوسرے لفظوں میں مسلمان کہلانے کے باوجود کفر پر قائم رہنے کے لئے آج تک کسی حکومت کو یہ ذمہ داری قبول کرنے کے لئے نہیں کہا وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر حکومت نے یہ ذمہ داری سنبھال لی تو ہماری سیادت و قیادت کی وہ عمارت یک قلم ڈھیر ہو کر رہ جائے گی۔ اور حکومتی ارکان نے یہ سمجھا کہ ان لوگوں کو اس طرح لڑنے دو تاکہ حکومت کی باگ ڈور گنے چنے آڈمیوں کے ہاتھوں میں رہ سکے اگر اس کام کو ہاتھ لگایا تو حکومت ہی کب ہماری حکومت رہے گی وہ تو فطرۃ ان لوگوں کی طرف منتقل ہوجایے گی جو اس کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اس لئے نجات اس میں ہے کہ دین اسلام باقائدہ ، ” اودھوں کا ڈھیر رہے “ اور یہ لوگ لڑتے جھگڑتے رہیں اور ہم ان سب کے فیصلے مٹانے کے لئے حکومت کی کرسیوں پر براجمان رہ سکیں۔ اس سوچی سمجھی سکیم کے تحت حکومت کے ارکان اور طبقہ عماء کے گرد گھنٹال سب اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے خوب زور زور سے نعرہ بازی کر رہے ہیں کہ اسلام زندہ باد۔ ہم آئیں گے تو اسلام لائیں گے۔ ہم رہیں گے تو اسلام رہے گا۔ اس طرح اسلام اسلام کے اس شور نے کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آنے دیا کہ اسلام کیا ہے ؟ اور کہاں ہے ؟ اگر کسی معاملہ میں اختلاف ہوجائے تو اس کا حل کیا ہے ؟ 111: اس تیسری قسم کی اطاعت میں جس کو اولو الامر کی اطاعت کہا گیا ہے چونکہ اختلاف کا احتمال تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی ارشاد فرما دیا کہ اسی حالت پیدا ہوجائے تو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ “ اس طرح تمہارا اندر کا اختلاف ختم کرنے کیے لئے تمہیں پھر اس اطاعت کی طرف آنا ہوگا جو اطاعت مشروط نہیں بلکہ اصل و اساس ہے اور اس میں حکومت اور عوام دونوں اس کے پابند ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جس طرح عوام نے اسلام قبول کیا ہے ارکان حکومت نے بھی اسے قبول کیا ہے اس میں عوام اور ارکان حکومت میں کوئی فرق نہیں کہ سب امت مسلمہ میں داخل ہیں۔ ان کے لئے رسول کی حیثیت محض پیغام پہنچا دینے والے کی نہیں ہے بلکہ رسول ان سب کا معلم و مربی ہے اور اسلامی زندگی کا ایک نمونہ ہے اور وہ ایسا امیر ہے جس کی اطاعت ہر زمانہ میں بےچون و چرا کی جانی چاہیے اور اس کی ہدایت خود قرآن کریمے دی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب : 21:33) ” تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اسوہ حسنہ ہے۔ “ وما ینطق عن الوھوی ان ھو الا وحی یوحی (النجم : 4:3:53) ” رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ وہی کچھ حکم دیتا ہے جو اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ “ گویا رسول کی حیثیت مسلمانوں کے امیر کی ہے وہ مسلمان عوام ہوں یا امراء و حکماء یعنی وہ سارے امیروں کا بھی ہے اور وہ ایسا سمیر بھی نہیں جس سے نزاع کی جائے بلکہ وہ ایسا امیر ہے جس کے حکم کو بےچون و چرا ماننا ویسا ہی فرض ہے جیسا اللہ کی ذات کو اور قرآن کریم کے اللہ کا کلام ہونے کو۔ وہ ایسا امیر ہے جو قیامت تک کے لئے پوری امت مسلمہ کا امیر ہے۔ وہ ایسا امیر ہے جس کی امارت اس وقت تک قائم ہے جب تک یہ نظام عالم قائم ہے۔ پہلی دونوں قسم کی اطاعتوں میں کوئی سوال جھگڑنے کا نہیں اور تیسری اطاعت میں احتمال موجود ہے پھر اگر ایس احتمال پیدا ہوجائے تو اس کا حل واضح کردیا اس بات کو ایک مثال سے سمجھ لینا مفید ہوگا تا کلہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔ بخاری اور دوسری کتب حدیچ میں یہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کو روانہ کیا جس کا امیر ایک انصاری کو مقرر فرمایا۔ راستہ میں امیر کو اپنے ساتھیوں پر کسی معاملہ میں غصہ آگیا۔ بیشک حکم دیا ہے پھر اس نے آگ جلوائی اور اس ساتھیوں سے کہا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ اس کے اندر کود جاؤ ۔ ایک نوجوان نے کہا کہ ہم تو آگ سے بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے ہیں پس جلدی مت کرو یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے مل لیں اس طرح اس حکم کی تعمیل نہ ہوئی اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب واپس آے تو یہ واقعہ بھی آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرما کیا کہ اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی نہ نکل پاتے یاد رکھو کہ ” اطاعت صرف معروف باتوں میں ہے۔ “ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” مسلمان پر وجب ہے کہ وہ قبول کرلے اور فرمانبرداری کرے خواہ ایک بات کو پسند کرے یا اسے ناپسند کرے جب تک کہ اسے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا حکم نہیں دیا جاتا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر قبول کرنا نہیں ہے اور نہ اس کی اطاعت ہے۔ “ ہاں ! اس میں یہ احتمال ہے کہ جس کو حکم دیا گیا وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ حکم اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کے خلاف ہے اور اس نے اس پر عمل کردیا تو ظاہر ہے کہ ایسے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے مستو جب سزا نہیں ہوگا بلکہ اصل مستو جب سزا تو حکم دینے والا ہے اس پر عمل کرنے والا نہں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اولو الامر کی اطاعت اصل میں اتحاد جماعت کا نام ہے جب تک سب حکم دے جس کو وہ پسند نہ کرے جس کو حکم دیا گیا تو پھر بھی اس کا و بجا لانا ضروری ہے کیونکہ اس میں معیار پسند یا ناپسند نہیں بلکہ اطاعت رسول کے خلاف ہونا ہے جب ت کی ایسی بات نہ ہو تو کسی شخص کے پسند نہ پسند سے کچھ اثر نہیں ہوگا اور اگر وہ فعل صر عمل کرنے والے کی پسند کے خلاف ہو اس لئے وہ اس پر عمل نہ کرے تو وہ مستو جب سزا ہوگا کیونکہ اس نے جماعت کے پورے نظم کو توڑنے کی کوشش کی جس کا اس کو حق نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ اور امراء اسلام کی اطاعت میں جو بنیادی فرق ہے اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ ہر ایک امیر کو اس کی امار سے جبکہ وہ امارت کا غلط استعمال شروع کر دے الگ کیا جاسکتا ہے لیکن کوئی رسول نہ تو اپنی رسالت سے تجاوز کرسکتا تھا اور نہ ہی اس کو رسالت کے منصب سے کوئی الگ کرسکتا تھا۔ اور امراء کی حقیقت یہ ہے کہ ہر امیر کا انتخاب انسان خود کرتے ہیں لیکن کسی رسول کی رسالت میں کسی انسان کا کوئی مشورہ یا اشارہ تک نہیں پایا جاتا تھا۔ اور امارات کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب کہ سلسلہ رسالت و نبوت کو محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کردیا گیا۔