Ayah 4:158اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کی مکاریوں کا نشانہ بنانے سے بچالیا :
249: سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں پھیلے ہوئے تما م نظریات کا اعلان کر کے اب قرآن کریم خود بتاتا ہے کہ وہ کہاں گئے۔ فرمایا انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا۔ اب قدرۃً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہاں اٹھالیا ‘ کہیں وہ خود بیٹھا تو ہے نہیں کہ وہاں بلالیا ہو تو اس کا صاف جواب تو یہی ہے کہ یہودیوں کی مکاریوں سے صاف صاف بچا لینے کو ان الفاظ میں بیا فرمادیا۔ اس لئے اصل مقصود اس بیان کا ان کی مکاریوں اور سازشوں سے بچانا ہی تھا خواہ وہاں سے ہجرت کرا کے بچایاہو ‘ خواہ فلسطینی حکومت نے مداخلت کرکے ان کی مذہبی عدالت کے فیصلہ کے نفاذ پر پابندی عائد کردی ہو۔ خواہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو یہود کے مقابلہ میں کھڑا کرکے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہوں۔ خواہ اس طرح کی کوئی اور تدبیر کردی ہو جس کا ذکر صدیوں بعد کرنے سے کوئی ابہام پیدا ہوتا ہو اس لئے اس کا ذکر نہ کیا ہو۔ لکنل یہی وہ الفاظ ہیں جن سے ہم مسلمانوں کی اکثریت کا عقیدہ یہ قائم ہوا کہ عیسیٰ علیہ اسلام مصلوب ہوئے اور پھر ان میں یہ اختلاف رونما ہوا کہ آیا صلیب پر مرے یامرنے سے پہلے ہی صلیب سے اتاردیئے گئے اس طرح کچھ عیسایئوں نے مان لیا کہ وہ ایک بار مر گئے تھے لیکن ترسکے روز وہ زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے اور کچھ کا خیال ہے کہ وہ صحیح طور پر مرے ہی نہ تھے اور نیم مردہ حالت میں صلیب سے اتار لئے گئے اور پھر کچھ دنوں کے بعد وہ بالکل تندرست ہوئے تو یہود کی مخالفت کے دوبارہ خطرہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا لیکن ہم مسلمانوں کی اکثریت یہی مانتی ہے کہ ان کی شکل ایک انسان سے مشابہ کردی گئی ۔ یہود نے انکی شکل والے ان ہی کے مصاحب کی سولی چڑھایا اور آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔
لیکن خدا لگتی بات تو یہی ہے کہ اس عقیدہ کی بنیاد اتنی ہی کمزور ہے جتنی دوسری قوموں کے عقائد کی بنیاد کمزور تھی یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے ہاں حیات مسیح کا عقیدہ متفق علیہ عقیدہ نہیں بلکہ بہت سے مسلمان حیات مسیح کے قائل نہیں تھے۔ اس سے فائدہ قادیانی نے اٹھایا اور انہوں نے وفات مسیح کی بنیاد پر کبھی مسیح موعود اور کبھی ظلی اور بروزی نبی اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ بننے کی ناکام کوشش کی تاہم انہوں نے اپنی نبوت کے ثبوت کے لئے وفات مسیح کو بطور اساس بنایا حالانکہ ختم نبوت کے مسئلہ کو حیات مسیح کے ساتھ دورکا بھی واسطہ نہیں اس طرح دراصل انہوں نے مسلمانوں کو ایک طرح کا دھوکا دیا۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی نبوت و مسیحیت کو ثابت کرتے جو ان کو بھی معلوم تھا کہ ثابت نہیں کی جاسکتی انہوں نے سارا زور وفات مسیح پر لگا دیا اور ان کے مقابلہ میں اہل السلام کی اکثریت نے بھی ان کی نبوت و مسیحیت کے تار عنکبوت کو ایک ہی ہاتھ سے صاف کردینے کی بجائے اپنا زور حیات مسیح پر خرچ کرنا شروع کردیا۔ اس طرح اس کھینچا تانی میں مرزا جی کے جھوٹ کو کچھ دیر چلنے کا موقع مل گیا حالانکہ اس سانپ کو دم کی بجائے سر سے پکڑ لیا جاتا تو اس وقت بھی اس کا سر کچلا جاسکتا تھا۔ اور ” متوفیک “ کے معنی ” ممیتک “ صدر اول ہی ہوتے چلے آرہے تھے۔ اور حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی کا کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنا آیات قرآنی اور احادیث نبوی ﷺ کا صریح انکار اور کفر ہے اور اس پر ملت اسلامیہ میں اس وقت سے لے کر آج تک کوئی اختلاف نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ آج عوام تو علماء کرام بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ” وفات مسیح “ مرزائیوں کا مسئلہ ہے اس لئے جو ” وفات مسیح “ کا قائل ہو وہ گویا مرازئی ہوتا ہے حالانکہ یہ اتنا ہی بڑا جھوٹ ہے جتنا گدھے کے سر پر سینگ ۔ ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ مرزا جن کا نام ان کے والدین نے ” غلام احمد “ رکھا تھا جس طرح اور بھی بہت سے لوگ یہ نام رکھتے تھے اور آج بھی رکھتے ہیں مرزا جی کے صاحبزادے نے بڑی چالاکی کے ساتھ سورة الصف کی آیت ” اذقال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقالمابین یدی من التورتہ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ اور یاد کرو عیسیٰ بن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں تصدیق کرنے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ “ (الصف 61:5) مرزا کو بزوری نبی ثابت کرنے کی کوشش کی پھر اس ناطے سے ” احمدی “ کا نام مخصوص کرلیا اور ” قادیانی “ اور ” مرزائی “ کے نام سے گلو خلاصی کرائی اور ” احمدی “ نام کو پکا کرلیا پھر اس نام کو دونوں گروہوں نے استعمال کرنا شروع کردیا دوسرے مسلمانوں نے کوئی تنقید نہ کی اور ان کو لاہوری اور قادیانی کہہ کر تخصیص دے لی اور آہستہ آہستہ وہ وقت آیا کہ یہ فتنہ اپنے انجام کو پہنچا تو قانون کے اندر ” احمدی غیرمسلم “ کے نام استعمال ہونے لگے اور اب مسلمانوں نے ” وفات مسیح کی طرح “ ” احمدی “ کے الفاظ بھی مرازئیوں کے سپرد کردیئے اور یہ خیال نہ کیا ہمارا حق تو یہ ہے کہ ہم ثابت کردیں کہ تم ” احمدی “ نہیں بلکہ ” مرزائی “ قادیانی “ یا چاہو جو نام اپنے لئے پسند کرو۔
مزید تعجب یہ ہوا کہ مرازئیوں نے قرآن کریم کی دو آیات کریمات کو استعمال کرنا شروع کردیا ” الیس اللہ بکافٍ عبدہ “ اللہ نور السموات والارض پھر ایک وقت آیا کہ جس کے گھر میں یہ آیت لکھی گئی ہو جس کے ہاتھ پر انگوٹھی ہو جس کے نگینہ میں ” الیس اللہ بکافٍ عبدہ “ کے الفاظ کندہ ہوں جس مکان پر ” اللہ نور السموات والارض “ تحریر کیا گیا ہو اس کو مرازئی اور مرازئیوں کا مکان تصور کرلیا اور یہ تاثر اتنا پھیلا کہ یہ دونوں آیتیں تو اس طرح سمجھی جانے لگیں جیسے قرآن کی آیات نہ رہی ہوں۔ مرزائیوں کا نشان سمجھی جانے لگیں۔ یعیے ایسی ضد بنا دی گئی کہ مرزائی اگر دو اور دو کو چار کہیں گے تو ہم مسلمان تب ہی مسلمان رہ سکتے ہیں کہ ان کو پانچ کہیں یا کم از کم تین کہہ لیں گے جب حکومت اس پر بین لگائے کہ وہ چار کہنا چھوڑ دیں اور ظاہر ہے کہ یہ رومیوں کی حکومت تو ہے نہیں جو ڈٹ جائے یہ تو مسلمانوں کی اپنی حکومت اور جو مسلمان کہیں گے حکومت کو بہر حال کہنا ہی پڑے گا ورنہ بس پھر ورنہ ہی ہوجائے گا۔
ہاں ! یاد رہے کہ نزول مسیح کا مسئلہ احادیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے لیکن اس مسئلہ کا تعلق بھی ” حیات مسیح “ سے مطلق نہیں ہے ہاں ! جن احادیث میں مسیح کی آمد کا ذکر ہے ” ان میں تو مسیح کا نام ولدیت ‘ محل نزول اور جو جو کارہائے نمایاں آپ انجام دیں گے ان سب کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ “ (ضیاء القرآن ج اول ص 417: ) بہر حال اگر کوئی شخص ” حدیث کو مانتا ہے تو اسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم ہوں گے اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کا قائل ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔ (تفہیم ج 2 ص 132) اگر وہ وفات پا چکے ہیں تو اللہ انہیں زندہ اٹھا لانے پر قادر ہے اور دوبارہ اٹھانے کا اس کا قانون بھی ہے اعلان بھی اور سب کا دوبارہ اٹھنا بھی لازم و ضروری ہے اور اس زندگی میں ایک دوسرے کی پہچان ایک دوسرے سے گفتگو سب محقق ہے۔ اس مسئلہ کی وضاحت انشاء اللہ سورة الاحزاب میں ہوگی جہاں خاتم النبیین کا موضوع بھی زیر بحث آئے گا اس وقت تو عرض یہ کرنا ہے کہ ” بل رفع اللہ الیہ “ کے الفاظ سے یہ بات حتمی ثابت نہیں ہوتی کہ سدہنا عیسیٰ علیہ اسلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور یہ کہ ” وفات مسیح “ کا مسئلہ عالم اسلام کا اختلافی مسئلہ ضرور ہے لیکن مرزائیوں کا مسئلہ نہیں جیسا کہ اس کو سمجھ لیا گیا ہے۔
Ayah 4:159اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے اس پر یقین نہ لے آئے :
250: اس آیت کے معنی ایک سے زیادہ سے کئے گئے ہیں اور جس طریقہ پر سمجھ لئے جائیں صحیح اور درست ہیں اگرچہ بعض میں ابہام زیادہ ہے۔
1 ۔ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔
2 ۔ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔
3 ۔ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے نبی اعظم و آخر ﷺ کی صداقت پر ایمان لے آئے گا اور نبی کریم ﷺ قیامت کے دن شہادت دیں گے کہ اے اللہ ! میں نے انہیں پیغام حق پہنچا دیا تھا لیکن انہوں نے نہیں مانا۔
” قبل موتہ ــ“ کی ضمیر کا مرجع کون ؟ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مرجع کتابی ہے۔ یعنی ہر اہل کتاب پر مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقام نبوت و عبدیت منکشف ہوجاتا ہے اور اس پر ایمان لے آتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔ پھر اس کی تفسیر اس طرح کی گئی ہے کہ یہ ایمان ان کے لئے مفید ثابت نہیں ہوتا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ مرتے وقت کا ایمان ہوتا ہے جو مقبول نہیں ہوتا البتہ ان کو افسوس دلانے کے لئے اس بات سے جب پردہ ہٹایا جاتا ہے تو وہ افسوس و حسرت میں مبتلا ہوتے ہیں جو ایک طرح کا عذاب ہی ہوتا ہے ‘ پھر یہ کہ کتابی سے کیا مراد ہے ؟ یہودی یا عیسائی یا دونوں ۔ پھر تفاسیر میں صرف یہودی مراد بھی لئے گئے ہیں ‘ اور دونوں کو مراد لے کر تفسیر کی گئی ہے کیونکہ غلو دونوں ہی نے کیا ہاں ! ایک تفریط کے مرتکب ہوئے ہیں جیسے یہودی تو دوسرے افراط کے جیسے عیسائی اس لئے کہا گیا ہے چونکہ صحیح ایمان دونوں ہی کا نہیں ہے اس لئے دونوں گروہ پر موت کے وقت وہ حالت جو حقیقی ہے منکشف کی جاتی ہے اور تیسرے مفہوم کے مطابق بھی تفسیر بیان کی گئی ہے اور اس پر دلائل بھی قائم کئے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” قبل موتہ “ میں پہلی ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے اور دوسری محمد رسول اللہ ﷺ ہیں مطلب یہ ہے کہ آج یہ اہل کتاب قرآن کریم اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی صداقت تسلیم کرنے کے لئے یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ وہ آسمان سے کتاب اترتی ہوئی دکھائیں تب وہ یقین کریں گے کہ قرآن کریم فی الواقع اللہ کی کتاب ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور اس حیلے سے وہ تمام عقلی ‘ نقلی ‘ فطری اور تاریخی دلائل کو نظر انداز کر رہے ہیں جو قرآن کریم اور پیغمبراسلام ﷺ کی صداقت کے ثبوت میں موجود ہیں لیکن وہ وقت بھی دور نہیں ہے جب یہ یہود اور نصاریٰ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام کی کہی ہوئی ایک ایک بات کو واقعات کی شکل میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور قرآن کریم ان کے لئے جس رسوائی و نامرادی اور جس ذلت و شکست کی خبر دے رہا ہے وہ پیغمبر کے دنیا سے اٹھنے سے پہلے پہلے اس طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی کہ اس کو جھٹلانا ان کے لئے ممکن نہیں رہے گا اگرچہ ایمان کی سعادت یہ سب کچھ دیکھ لینے کے بعد حاصل نہ ہوگی۔ اس طرح ” لیومنن بہ “ میں جو ایمان لانے کے متعلق خبر ہے وہ مجرد خبر ہی نہین بلکہ بطور دلیل ہے اور اس کا مطلب ایمان بالیقین نہیں بلکہ ایمان بالمشاہدہ یعنی وہ آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کا انکار ممکن نہیں رہے گا۔ دل سے اس پر یقین اگرچہ وہ نہ رکھتے ہوں۔
یاد رہے کہ سلف میں حضرت عکرمہ پہلی ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو مانتے ہیں لیکن مفسرین نے اس بعد کے سبب جو ایک طویل جملہ معترضہ نے پیدا کردیا ہے اس قول کو کوئی اہمیت نہیں دی حالانکہ جملہ معترضہ سے جو بعد پیدا ہوتا ہے وہ قابل لحاظ نہیں ہوتا ایسی صورت میں اس سے صرف نظر کر کے سلسلہ کلام کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ ” قیامت کے دن وہ ان پر شہادت دینے والا ہوگا۔ “ یہ اس شہادت کا ذکر ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ قیامت کے روز ان تمام لوگوں پر دیں گے جن پر آپ ﷺ نے اس دنیا میں دین حق کی شہادت دی ہے۔ اس شہادت کا ذکر اس سورة النساء کی آیت 41 میں گزر چکا ہے اور اس آیت کے تحت اس کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ یہ شہادت بلاشبہ سارے انبیاء کرام اپنی اپنی امتوں پر دیں گے اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) جو شہادت اپنی امت پر دیں گے اس کا مخصوص ذکر بھی سورة مائدہ کی آیت 112 ‘ 117 میں کیا گیا ہے لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ ﷺ نے یہود و نصاریٰ اور دوسری ساری امتوں پر وہ عربی ہوں یا عجمی سب پر واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اصل دین کیا ہے او وجہ سے آپ ﷺ ہی کا یہ منصب ہے کہ آپ ﷺ قیامت کے دن یہ بتائیں کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا بتایا اور آپ ﷺ کی اس شہادت سے لوگوں پر حجت قائم ہوگی جیسا کہ اس کا ذکر پیچھے گزر چکا اور اس طرح گویا آپ ﷺ کی شہادت دنیا و آخرت دونوں جگہ اہل کتاب کے دونوں فریق پر قائم ہوجائے گی اور ان کے لئے مجال انکار باقی نہ رہے گا۔ اللھم صلی علی محمد وال محمد۔
Ayah 4:160یہود کی اس گمراہی کا ذکر جس کے نتیجہ میں ان پر حلال چیزوں کو حرام کردیا گیا :
251: یہ مضمون قرآن کریم میں تین مقامات پر بیان ہوا ہے سورة ال عمران میں جہاں فرمایا ” کھانے کی یہ ساری چیزیں جو شریعت محمدی و احمدی میں حلال ہیں نبی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں۔ البتہ بعض چیزیں تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ ” ان سے کہو کہ لائو توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت اگر تم اپنے اعتراض میں سچے ہو۔ “ (ال عمران 3:93) اس زیر نظر آیت میں فرمایا ” یہود کے اس ظلم کی وجہ سے ہم نیکتنی اچھی چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے حلال تھیں اور اس وجہ سے بھی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہت روکنے لگے تھے۔ “ اور سورة الانعام میں فرمایا کہ ” ان کی سر کشیوں کی پاداش میں ہم نے ان پر تمام ناخن والے جانور حرام کئے اور بکری اور گائے کی چربی بھی ان کے لئے حرام ٹھہرا دی۔ “ (الانعام 6:146) ان تینوں آیتوں کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی اور یہودی فقہ کے درمیان حیوانی غذائوں کی حلت و حرمت کے معاملہ میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ دو وجوہ پر مبنی ہے۔ ایک یہ کہ نزول تورات سے صدیوں پہلے یعقوب (علیہ السلام) نے بعض چیزوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی ان چیزوں کی تارک رہی حتیٰ کہ یہودی فقہاء نے ان کو باقاعدہ حرام سمجھ لیا اور ان کی حرمت تورات میں لکھ دی اور جن اشیاء کو تورات میں لکھ لیا گیا ان میں اونٹ اور خرگوش اور سافان شامل ہیں۔ آج بائبل میں توراۃ کے جو اجزاء ہم کو ملتے ہیں ان میں ان تینوں چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ ” جانوروں میں جن کے پائوں الگ اور چرے ہوئے ہیں اور وہ جگالی کرتے ہیں تم ان کو کھائو۔ مگر جو جگالی کرتے ہیں یا جن کے پائوں الگ ہیں ان میں سے تم ان جانوروں کو نہ کھائو یعنی اونٹ کو کیونکر وہ جگالی کرتا ہے پر اس کے پائوں الگ نہیں۔ سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے اور سافان کو کیونکہ وہ جگالی کرتا ہے پر اس کے پائوں الگ نہیں وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے اور خرگوش کو کیونکر وہ جگالی تو کرتا ہے پر اس کے پائوں الگ نہیں وہ تمہائے لئے ناپاک ہے اور سور کو کیونکر اس کے پائوں الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لیے ناپاک ہے تم ان کا گوشت نہ کھانا اور ان کی لاشوں کو نہ چھونا وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں۔ “ (الاحبار 11:4 تا 8) اور ایک جگہ ہے کہ ” اور چوپایوں میں سے جس جس کے پائوں الگ اور چرے ہوئے ہیں۔ اور وہ جگالی کرتا ہو تم اسے کھا سکتے ہو لیکن ان میں سے جو جگالی کرتے ہیں یا ان کے پائوں چرے ہوئے ہیں تم ان کو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا کیونکہ یہ جگالی کرتے ہیں لیکن ان کے پائوں چرے ہوئے نہیں ہیں سو یہ تمہارے لئے ناپاک ہیں اور سور تمہارے لئے اس سبب سے ناپاک ہے کہ اس کے پائوں تو چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا۔ تم نہ تو ان کا گوشت کھانا اور نہ ان کی لاش کو ہاتھ لگانا۔ “ (الاستثناء 14:7 تا 8) اس سے مولوم ہوا کہ توراۃ میں ان احکام کا اضافہ اس کے بعد کیا گیا ہے کیونکہ اگر اس وقت توراۃ میں یہ احکام موجود ہوتے تو بنی اسرائیل فوراً لاکر پیش کردیتے۔
اور دوسرا فرق اسی وجہ پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی شریعت سے جب یہودیوں نے بغاوت کی اور آپ اپنے شارع بن بیٹھے تو انہوں نے بہت سی پاک چیزوں کو اپنی موشگافیوں سے حرام کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر انہیں اس غلط فہمی میں مبتلا رہنے دیا۔ ان اشیاء میں ایک تو ناخن والے جانور شامل ہیں یعنی شتر مرغ قاز اور ربط وغیر دوسرے گائے اور بکری کی چربی بائبل میں ان دونوں قسم کی حرمتوں کو احکام توراۃ میں داخل کردیا گیا ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ ” ساری چربی خداوند کی ہے۔ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل درنسل ایک دائمی قانون رہے گا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھائو۔ “ (احبار 3:17) سورة النساء کی یہ آیت جس کی تفسیر یہ رہی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود پر پہلے یہ چیزیں حلال تھیں حرام نہ تھیں بلکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حرام ہوئیں اور تاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ موجودہ یہودی شریعت کی تدوین دوسری صدی عیسوی کے آخر میں ربی یہود کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ رہی یہ بات کہ پھر ان چیزوں کی متعلق اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ” حرمنا “ ہم نے حرام کیا کا لفظ کیوں استعمال کیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ الٰہی تحریم کی صرف یہی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے باغی بندوں پر بناوٹی شارعوں اور جعلی قانون سازوں کو مسلط کر دے اور وہ ان طیبات کو حرام کردیں پہلی قسم کی تحریم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طور پر ہوتی ہے اور یہ دوسری قسم کی تحریم اس کی پھٹکار اور سزا کی حیثیت سے ہوا کری ہے اور یہی کچھ یہاں ہوا۔
Ayah 4:161یہودیوں کو سود منع کیا گیا تھا لیکن وہی دنیا کی پہلی قوم ہے جس نے سود کے طریقے ایجاد کئے :
252: توراۃ ہونے کے باوجود آج تک سود کی حرمت اس میں موجود ہے چناچہ تحریر ہے کہ ” اور اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہوجائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو اسے سنبھالنا۔۔ تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے تو اپناروپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔ (احبار 25:35 ‘ 37) ” تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود یا کسی ایسی چیز کا سود ہو جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے۔ “ ( استثناء 23:19 ‘ 20) میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ ہم سب سود لینا چھوڑدیں۔ “ (نحمیاہ 5:13) تو نے بیاج اور سود لیا اور ظلم کر کے اپنے پڑوسی کو لوٹا اور مجھے فراموش کیا۔ “ (حزقی 22:13) اس جگہ ان کی زیادتیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ یہ اسلام کے دشمن کیوں ہیں ؟ محض اس لئے کہ قرآن کریم ان کی ان زیادتیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ان کی انگلی پکڑ کر اس مقام پر رکھ دیتا ہے جس مقام دیتا ہے جس مقام میں انہوں نے ترمیم کر کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا تھا اور ان کو اس بات کی دلیل مہیا کردی کہ جو شخص یا قوم اپنے رب کے ساتھ دھوکا سے باز نہیں آئی اس کو لوگوں کے ساتھ زیادتی کرتے کیا دیر لگے گی ؟ اور اس طرح مسلمانوں کے لئے ابھی اس میں بیشمار اسباق موجود ہیں کہ یہود و نصاریٰ کو جو سزا ملی وہ ان کی زیادتیوں کا نتیجہ تھی اور اگر تم نے زیادتی کی اس کا نتیجہ تم بھی دیکھ لو گے کیونکہ اللہ کے ہاں اندھیر نگری نہیں کہ کسی کے جرم میں اس کو سزا دے اور کسی کو ان کے جرم پر انعام و اکرام دیتا چلاجائے۔ کل انہوں نے اپنے اعمال کا بدلہ پالیا تو آج یقینا تم بھی اپنے اعمال سے دوچار ہوگے اور اگر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہماری کوتاہیوں اور بد عملیوں ہی کا نتیجہ ہے جو ہم بھگت رہے ہیں۔
یہود کی ان گمراہیوں کا ذکر قرآن کریم کے مختلف مقامات پر کیا گیا اور ہر جگہ یہ بات بھی سمجھائی گئی کہ ان کی انہی کوتاہیوں کے نتیجہ میں ان پر ضلالت آئی اور تم خیال رکھنا کہ ان امراض کو قریب نہ آنے دینا جو اس قوم کو لاحق ہوگئے تھے۔ پھر ان امراض کا بھی ذکر فرمایا جن میں سب سے بڑا مرض یہ قرار دیا گیا کہ ان کے علماء نے ان کو ان کوتاہیوں سے باز رہنے کا حکم دینا بھی چھوڑ دیا جیسا کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور ظلم اور مال حرام کھانے میں تیز گام ہیں ‘ کیا ہی برے کام ہیں جو وہ شب وروز کر رہے ہیں۔ ان کے عالموں اور پیروں کو کیا ہوگیا ہے کہ انہیں جھوٹ بولنے اور مال حرام کھانے سے روکتے نہیں ؟ کیا ہی بری کار گزاری ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ “ (المائدہ 5:62 ‘ 63) ان علماء اور پیروں پر تو افسوس کیا جا رہا ہے جو قوم کو جھوٹ بولتے اور حرام کھانے کے عادی ہوچکے ہیں۔ کیا پہلوں کو عذاب اور پچھلوں کو انعام دیا جائے گا ؟ افسوس کہ ہم کو کیا ہونا چاہئے تھا اور کیا ہوگئے ؟
ایک جگہ ارشاد ہوا :
” اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے اور برے طریقوں سے مال میں بےباک ہیں۔ “ (المائدہ 5:42) مثلا سرکاری ملازم اور سیاسی لیڈر ہیں کہ رشوت لیتے ہیں اور رشوت کو رشوت نہیں کہتے بلکہ حق سمجھتے ہیں اور اس طرح علماء ‘ پیر ‘ مفتیان ہیں کہ نذرانے وصول کرتے اور فتوے بیچتے ہیں اور ذراجھجک بھی محسوس نہیں کرتے۔ ” یہی لوگ ہیں کہ اللہ کے دلوں کو کبھی پاک نہیں کرے گا ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بہت بڑا عذاب ہوگا۔ “ (المائدہ 5:41) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
ناجائز طریقہ پر لوگوں کا مال کھانے لگے اور یاد رکھو ان میں جو لوگ ‘ منکر ہوگئے ہم نے ان کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 4:162لیکن اے پیغمبر اسلام ! ان میں سے جو لوگ ‘ علم میں پکے ہیں :
253: اے ایمان لانے والو ! ” ان اہل کتاب کے “ اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب کی بشارت ہے۔ “ ( التوبہ 9:34) یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں ا۔ رشوتیں کھاتے ہیں وہ بھی دین و مذہ بےنام پر ‘ نذرانے لوٹتے ہیں ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جس لوگ اپنی نجات ان سے خریدیں اور ان کا مرنا اور جینا اور شادی و غم کچھ بھی ان کے کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار ان کو سمجھ لیں بلکہ مزیدبرآں اپنی اپنی اغراض کی خاطر یہ حضرات خلق خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوت حق اصلاح کے لئے اٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا رستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ تو علمائے یہود کی حالت تھی ہم مسلمانوں کے اکثر مذہبی پیشوا ‘ علامہ صاحب ‘ مولانا صاحب ‘ پیر جی ‘ مفتی جی ‘ اور قاضی جی اور صاحبزادہ صاحب ان سے بہت آگے نکل چکے ہیں تاہم ان کا ذکر خیر صحیح ہے اور ہمارا نام لینا حرام ہے اس لئے کہ قرآن کریم میں تحریف ہوتی ہے۔ لیکن کوئی پوچھے مخاطب تو ایمان والوں کو کیا گیا ہے اور ترجمہ میں جو ” ان اہل کتاب کے “ الفاظ استعمال ہوئے ہیں یہ کن الفاظ کا ترجمہ ہے ؟ کیا یہ تحریف نہیں ہے ہمارا نام آئے تو تحریف ہوتی ہے کیونکہ یہ معاملہ ” آر “ کا نہیں ” پار “ کا ہے۔
” راسخ فی العلم لوگ “ ایمان لاتے ہیں اور ہر ہد ایت کو ” من اللہ “ سمجھتے ہیں :
254: یہود کی کثرت غا لبہ اگرچہ ہدایت آسمانی کو عملی طور پر چھوڑ چکی تھی لیکن اس کے با و جود ابھی خال خال ایسے علماء حق مو جود تھے جن کی معلو مات اپنے دین کے متعلق سطیچ قسم کی نہ تھیں وہ صرف رو اجی اورر سمی علماء کہلانے والے اور پیشہ ور لوگ ہی نہ تھے بلکہ ٹھو س قا بلیت کے ما لک تھے جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام ‘ حضرت ثعلبہ بن سعید حضرت زید بن سعید ‘ حضرت اسید بن عبید وغیرہ ۔ تفصیل اس آیت کی پیچھے سورة آل عمران کی آیت میں گزر چکی ہے۔ یہ سب لوگ وہی ہیں جو علم شریعت میں راسخ تھے اس لئے ان کو اپنی قوم کی متفقہ مخالفت کے طوفان کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہونے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ملی تھی اس جگہ انہی نفوس قدسیہ کو عام علمائے یہود سے ممتاز کرنے کے لئے بجائے علماء ” راسخون فی العلم “ کے لقب سے مشرف فرمایا گیا۔ یعنی یہ وہ لوگ تھے جو آندھی کے خس و خاشاک کی طرح ہوا کے رخ پر اڑنے والے نہیں تھے بلکہ چٹانوں کی طرح اپنے موقف حق پر جمنے والے تھے ۔ ان کے دلوں میں سچا ایمان موجود تھا وہ سچائی کو تسلیم کرنے والے تھے وہ اخلاق و کردار کے ستھرے لوگ تھے اور سوسائٹی میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے یہود کے قومی بگاڑ کی ہوا ان کو نہیں لگی تھی یہی وجہ ہے کہ جب اسلام کی دعوت ان کے کانوں میں پڑی تو وہ اس کو قبول کرنے کے لئے والہانہ طور پر آگے بڑھے۔ وہ ان ساری گمراہیوں سے اپنی راہ الگ رکھتے تھے وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے تھے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی اور ان تمام کتابوں پر بھی جو ان سے پہلے نازل ہوچکی تھیں وہ نمازوں کو قائم کرنے والے ‘ زکوٰۃ کے ادا کرنے والے اور اللہ اور آخرت کے دن پر سچے دل سے ایمان لانے والے تھے۔ یقینا ایسے لوگ ہیں جنہیں عنقریب ان کا اجر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ہے ایسا اجر جو بہت ہی بڑا اجر ہوگا۔
Ayah 4:163محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت بھی وہی تھی جو دوسرے انبیاء کرام لائے تھے :
255: قرآن کریم کا شروع سے آخر تک مطالعہ کر کے دیکھ لو کوئی بات بھی قرآن کریم کے صفحوں میں اس درجہ نمایاں نہیں ہے جس قدر یہ بات ہے کہ اسنے باربار صاف اور قطعی لفظوں میں اس حقیقت کا اعلان کر یا ہے کہ وہ کسی نئی مذہبی گروہ بندی کی دعوت لے کر نہیں آیا بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ تمام مذہبیگروہ مچنیوں کی جنگ و نزاع سے دنیا کو نجات دلادے اور سب کو اسی ایک راہ پر جمع کردے جو سب کی مشترک اور متفقہ راہ ہے۔ وہ باربار کہتا ہے کہ جس راہ کی میں دعوت ہوں وہ کوئی نئی راہ نہیں ہے اور نہ سچائی کی راہ نئی ہو سکتی ہے۔ یہ وہی راہ ہے جو اول روز سے موجود ہے اور تمام مذاہب کے داعیوں نے اس کی طرف بلایا ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد :
” اور دیکھو اس نے تمہارے لئے دین کی وہی راہ ٹھہرائی ہے جس کی وصیت نوح (علیہ السلام) کی کی گئی تھی اور جس پر چلنے کا ابراہیم اور موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم تھا اور ان سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ کا ایک ہی دین ہے اس کو قائم رکھو اور اس راہ میں الگ الگ نہ ہو جائو۔ “ ( الشوریٰ 42:13) سورة الانعام میں سارے انبیاء کرام کے نام گنوا کر جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں بعد ازیں نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کیا گیا اور فرمایا :
” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے راہ حق دکھلائی پس اے بیغمبراسلام تم بھی انہی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ “ (الانعام 6:90)
مزید تفصیل کے لئے دیکھو سورة آل عمران کی آیت 78
ہاں یاد رہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر مسلسل کیا گیا ہے اس میں ترتیب کے لحاظ سے نہیں کیا گیا اس لئے کسی کو یہ خیال نہ آئے کہ ان کی ذکر ترتیب زمانی کے لحاظ سے ہے ہرگز نہیں صرف بطور تذکرہ ذکر کیا گیا ہے اور مکمل فہرست بھی ایک جگہ نہیں دی گئی جس کا قرآن کریم نے تذکرہ کیا ہے ان میں سے بیشتر کا ذکر کردیا گیا ہے۔ ترتیب زمانی علماء نے قائم کی ہے وہ تقریباً اس طرح ہے۔
1
ابوالبشر آدم (علیہ السلام)
2
حضرت نوح (علیہ السلام)
3
حضرت ادریسعلیہ السلام
4
حضرت ہود (علیہ السلام)
5
حضرت صالح (علیہ السلام)
6
حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
7
حضرت اسماعیل (علیہ السلام)
8
حضرت اسحاق (علیہ السلام)
9
حضرت لوط (علیہ السلام)
10
حضرت یعقوب (علیہ السلام)
11
حضرت یوسف (علیہ السلام)
12
حضرت شعیب (علیہ السلام)
13
حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
14
حضرت ہارون (علیہ السلام)
15
حضرت الیاس (علیہ السلام)
16
حضرت الیسع (علیہ السلام)
17
حضرت دائود (علیہ السلام)
18
حضرت سلیمان (علیہ السلام)
19
حضرت ایوب (علیہ السلام)
20
حضرت یونس علیہ اسلام
21
حضرت ذوالکفل (علیہ السلام)
22
حضرت عزیز (علیہ السلام)
23
حضرت زکریا (علیہ السلام)
24
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)
25
حضرت یحییٰ (علیہ السلام)
26
حضرت نبی اعظم e
Ayah 4:164قرآن کریم میں بعض انبیاء کرام کا ذکر نام بنام آیا ہے اور بعض کا نہیں آیا :
255: وحدت دین کی اصل عظیم کا اعلان کرکے یہ بات واضح کی تھی کہ نوع انسانی کے لئے خدا کی سچائی ایک ہی ہے اور تمام راہنمایان اسلام نے اس کی تعلیم دی تھی ۔ یہ پیروان مذاہب کی گمراہی ہے کہ انہوں نے گروہ بندیاں تشکیل دی ہیں اور اس طرح الگ الگ دین بنا لئے ہیں اور ایک دوسرے کی جھٹلانے لگے ہیں اب بتایا کہ قرآن کریم نے بعض کا ذکر کیا ہے اور بعض ک ذکر نہیں کیا لیکن وہ سب کی تصدیق کرتا ہے اور سب پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے جن کے نام احادیث و روایات میں آتے ہیں جیسے یوشع بن نون (علیہ السلام) اور حزیل (علیہ السلام) اور شموئیل عیہم السلام وغیرو اور جن کے نام قرآن و حدیث میں نہیں قرآن کریم کہتا ہے کہ جب تک ختم نبوت کا اعلام کر کے نبوت کا دروازہ بند نہیں کردیا گیا اس سے پہلے کوئی عہد اور کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اللہ نے نبی و رسول نہ بھیجے ہوں لیکن ان گنت رسولوں اور نبیوں کی تعلیم ایک ہی طرح کی تھی اور ان سب کے ہاں اصول کبھی مختلف نہیں تھے اور مزید وضاحت فرما کر صاف صاف کہہ دیا کہ ان سب کی تعلیم وہی تھی ایک امت میں کوئی نہ کوئی نبی و رسول ضرور بھیجا ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! آپ تو بس ایک خبردار کرنے والے ہیں ہم نے آپ ﷺ کو حق دے کر بھیجا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔ “ (وان من امۃٍ الا خلا فیھا نذیر (فاطر 35:24) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ایک خبردار کرنے والے راہنما ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوا ہے۔ “ (الرعد 13:7) ولکل قوم ھاد اور ایک جگہ فرمایا :
” اور اے پیغمبر السلام ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی پچھلے گروہوں میں پیغمبر بھیجے ہیں۔ “ ولقد ارسلنا من قلبلک فی شیع الا ولین (الحجر 15:10) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
صرف یہ کہ پیغام پہنچا دینا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا سفیر ہوتا ہے اگر کوئی اس کی بات کو نہیں مانتا تو گویا اس نے احکم الحاکمین کی بات کو نہیں مانا اور جو وحی الٰہی کے باغی ہیں اللہ کے پاس ایسے باغیوں کا علاج موجود ہے۔ پیغام پہنچاے والے کا کام صرف یہ ہے وہ صاف صاف اور روشن طریقہ پر پیغام پہنچا دے اب اسے ماننا یا نہ ماننایہ سننے والوں کا کام ہے پیام پہنچانے والے اس کے لئے زمہ دار نہیں اور یہی مضمون سورة الشعراء کی آیت 208 میں بیان ہوا۔
زیر نظر آیت کے آخر میں فرمایا ” اور اس طرح اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جیسا کہ واقعی طوپر کلام کرنا ہوتا ہے۔ “ کلام تو سارے انبیاء کرام سے ہوا اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت باتیں کرنے کا ذکر مخصوص اس لئے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو ” مثیل موسیٰ “ بتایا گیا جیسا کہ سورة المزمل میں ارشاد فرمایا اور صحیح بخاری میں ہے کہ ھذا الناس موسیٰ الذی نزل اللہ موسیٰ اس لئے چونکہ رسول اللہ ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) سے خا ص مماثلث ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر سب سے زیادہ پیش گوئیاں نبی اعظم و آخر ﷺ کے بارے میں کی گئیں اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مخصوص طور پر کردیا گیا۔
Ayah 4:165انبیاء کرام کا ہر امت میں آنا اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کا کوئی عذر باقی نہ رہے
256: جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے کہ دنیا کی ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی نبی و رسول بھیجا ‘ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ کسی کو یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس لئے ضرروی تھا کہ ان کے پاس کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آتا رہے۔ ان گنت قومیں اور ان گنت نبی و رسول اور یہ سلسلہ ابوالبشر آدم (علیہ السلام) سے چلا جو اس وقت پوری انسانیت کے لئے ہادی و راہنما بنائے گئے تھے اور پھر انسانوں کا سلسلسہ جوں جوں پھیلتا چلا گیا وہ مختلف علاقوں اور قوموں میں تقسیم ہوتے گئے اور ہر قوم کے لئے ایک رسول ونبی کا ہونا لازم قرار پایا لیکن پوری انسانیت کے لئے کوئی ایک نبی و رسول نہ بنایا گیا بلکہ ہر قوم و جماعت کے لئے الگ الگ نبی و رسول مبعوث کئے گئے اور ایک ہی قوم کے پاس کئی کئی نبی و رسول بھی تشریف لائے۔ قرآن کریم نے اس کا اتنی بار ذکر کیا کہ اگر شمار کیا جائے تو مشکل ہی سے شمار ہوگا۔ اس لئے کہ ہر ہادی و راہنما نے اللہ کا پیغام پہنچا یا تو یہ بات لازماً کہی کہ میں وہی پیغام لے کر آیا ہوں جو میرے سے پہلے والے لائی تھے لیکن چونکہ تم نے اس کو بھلا دیا اس لئے مجھے بھیجا گیا کہ میں تم کو یاد دلائوں ۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ :
” اے اولاد آدم ! جب کبھی ایسا ہو کہ میرے پیغمبرتم میں پیدا ہوں اور میری آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں تو جو کوئی برائیوں سے بچے گا اور اپنے آپ کو سنوارلے گا اس کے لئے کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا نہ کسی طرح کی غمگینی۔ “ (الاعراف 7:34 ‘ 35) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” پھر میرے طرف سے تمہارے پاس کوئی پیام ہدایت آیا تو جو کوئی میری ہدایت پر چلے گا وہ نہ تو راہ سے بےراہ ہوگا اور نہ ہی دکھ میں پڑے گا جو کوئی میری یاد سے روگرداں ہوگا اس کی زندگی ضیق میں گزرے گی اور قیامت کے روز بھی میں اسے اندھا ہی اٹھائوں گا۔ “ (طہ 20:22 ‘ 124) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور اللہ کے یہ شان نہیں کہ وہ ایک گرو کو ہدایت دے کر پھر گمراہ کر دے تاوقتیکہ ان پر وہ ساری باتیں واضح نہ کر دے جن سے انہیں بچنا چاہئے۔ بلاشبہ اللہ کے علم سے کوئی بات باہر نہیں ہے۔ “ (التوبہ 9:115) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جب اس شہر کے باشندوں میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کردے گا یا نہایت سخت عذاب میں مبتلا کردے گا ؟ انہوں نے جواب دیا اس لئے نصیحت کرنے ہیں کہ تمہارے پروردگار کے حضور معذرت کرسکیں کہ ہم نے تو اپنا فرض ادا کردیا اور اس لئے بھی کہ شاید یہ لوگ باز ہی آجائیں۔ “ ( الاعراف 7:164) ایک جگہ ارشاد ہوا :
” اے اہل کتاب ! ایسی حالت میں کہ رسولوں کا ظہور ایک مدت سے بند تھا ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آیا وہ تم پر واضح کر رہا تھا تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا گیا نہ بشارت دینے والا نہ ڈرانے والا اور اب بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا تمہارے پاس آگیا اور اللہ ہر بات پر قادر ہے۔ “ (المائدہ 5:19) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” یہ لوگ بڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راہ راست پر ہوتے مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا یہ زمین پر اور زیادہ تکبر کرنے لگے اور بڑی بری چالیں چلنے لگے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ “ (فاطر 35:41 ‘ 43) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے عرب کے بسنے والو ! ہم نے یہ کتاب اس لئے نازل کی کہ تم یہ نہ کہو کہ خدا نے صرف دو جماعتوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں پر کتاب پر نازل کی جو ہم سے پہلے تھے اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر نہ تھی یا کہو اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان جماعتوں سے زیادہ ہدایت والے ہوتے سو دیکھو تمہارے پاس بھی تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل ہدایت اور رحمت آگئی پھر بتلائو اس سے بڑھ کر ظالم انسان کون ہے جو اللہ کی نشانیاں جھٹلائے اور ان سے گردن موڑے ؟ یاد رکھو جو شخص بھی ہماری آیتوں سے گردن موڑے ہم اس کی پاداش میں عنقریب سخت عذاب دینے والے ہیں۔ “ (الانعام 6:157) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے سو دیکھ لو وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے آخر کا رہم وارث ہو کر رہے اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے۔ “ (القصص 28:55 ‘ 56) ایک جگہ ارشاد فریاما : ” اور اے پیغمبر اسلام ! لوگوں کو اس دن کی آمد سے خبردار کردے جبکہ ان پر عذاب نمودار ہوجائے گا ‘ اس دن ظلم کرنے والے کہیں گے ‘ اے پروردگار ! تھوڑی سی مدت کے لئے ہمیں مہلت دے دے تیری پکار کا جواب دیں گے اور پیغمبروں کی پیروی کریں گے لیکن انہیں جواب ملے گا کیا تم وہی نہیں ہو کہ اب سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا ؟ “ (ابراہیم 14:44) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے پانے کئے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر اترآئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے۔ “ ( القصص 28:47)
Ayah 4:166اگر یہ لوگ سچائی کے منکر ہیں تو اس سچائی کے گواہ اللہ اور اس کے فرشتے ہوں گے۔
257: اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی سچائی سے منکر ہیں تو ہوا کریں۔ عنقریب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اس قرآن کی دعوت تمام گردو پیش کے ممالک پر چھا گئی ہے اور یہ خود اس کے آگے سرنگوں ہوں گے اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ آج ان سے کہا جا رہا ہے اور یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ سر اسر حق تھا بعض لوگوں نے اس مفہوم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ محض کسی دعوت کسی دعوت کا غالب آجانا اور بڑے بڑے علاقے فتح کرلینا تو اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے باطل دعوتیں بھی چھا جاتی ہے اور ان کے پیرو بھی ملک پر ملک فتح کرتے چلے ہیں یہ ایک بالکل سطحی اعتراض ہے جو پورے معاملہ پر غور کئے بغیر کردیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں جو حیرت انگیز فتوحات اسلام کو نصیب ہوئیں وہ محض اس معنی میں اللہ کی نشانیاں نہ تھیں کہ اہل ایمان ملک پر ملک فتح کرتے چلے گئے بلکہ اس معنی میں تھیں کہ یہ فتح مملک دنیا کی دوسری فتوحات کی طرح نہیں تھیں جو ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک قوم کو دوسروں کی جان و مال کی مالک بنادیتی ہے اور خدا کی زمین ظلم سے بھر جاتی ہے۔ اس کے برعکس یہ فتح اپنے جلو میں ایک عظیم الشان مذہبی ‘ اخلاقی ‘ ذہنی ‘ فکری ‘ تہذیبی ‘ سیاسی اور تمدنی و معاشی انقلاب لے کر آئی تھی جس کے اثرات جہاں جہاں بھی پہنچے انسان کے بہترین جوہر کھلتے چلے گئے اور بد ترین اوصاف دبتے چلے گئے۔ دنیا جب فضائل کو صرف تارک الدنیا درویشوں اور گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والوں کے اندر ہی دیکھنے کی امید رکھتی تھی اور کبھی یہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ کاروبار دنیا چلانے والوں میں وہ پائے جاسکتے ہیں اس انقلاب نے وہ فضائل اخلاق فرامانروائوں کی سیاست میں ‘ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کی عدالت میں ‘ فوجوں کی قیادت کرنے والے سپہ سالاروں کی جنگ اور فتوحات میں ‘ ٹیکس وصول کرنے والوں کی تحصیل داری میں اور بڑے بڑے کاروبار چلانے والوں کی تجارت میں جلوہ گر کر کے دکھا دیئے۔ اس نے اپنے پیدا کردو معاشرے میں عام انسانوں کو اخلاق و کردار اور طہارت ونظافت کے اعتبار سے اتنا اونچا اٹھایا کہ دوسرے معاشروں کے چیدہ لوگ بھی ان کی سطح سے فرد ترنظرآنے لگے۔ اس نے اوہام و خرافات کے چکر سے نکال کر انسان کو علمی تحققید اور معقول طرز فکرو عمل کی صاف شاہراہ پر ڈال دیا۔ اس نے اجتماعی زندگی کے ان سارے امراض کا علاج کیا جن کے علاج کی فکر تک سے دوسرے نظام خالی تھے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ اس شہادت کا ذکر اس طرح کیا گیا فرمایا :
” عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہرچیز کا شاہد ہے ؟ “ (حم السجدہ 41:53) دوسری جگہ فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! کہہ کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لئے کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے۔ جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں ہیں۔ “ (العنکبوت 29:52) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے ان لوگوں سے جن جن باتوں کا وعدہ کیا ہے ان میں سے بعض باتیں تجھے دکھادیں گے یا تیرا وقت پورا کردیں گے لیکن بہر حال انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اس پر شاہد ہے اور یاد رکھو کہ ہر امت کے لئے ایک رسول ہے پھر جب کسی امت میں اس کا رسول ظاہر ہوگیا تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ ناانصافی ہو۔ “ (یونس 10:47) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کی پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ “ (الفتح 48:28) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” یہ لوگ چاہتے ہیں اللہ کی روشنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ اللہ یہ روشنی پوری کئے بغیر رہنے والا نہیں ‘ اگرچہ کافروں کو پسند نہ آئے۔ “ (التوبہ 9:32) اللہ کے فرشتوں کی گواہی اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں ہیں جو مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے ہمیشہ مددگار ہوتی ہیں : اور اللہ کے بندوں کی ہمتیں بڑھا کر نہتوں کو ہتھوں والوں کے مقابلہ میں لے آتی ہیں اور کامیاب کراکر دم لیتی ہیں۔
Ayah 4:167دین حق کے انکاری لوگ اللہ کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہیں
258: فرمایا منکرین کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ وہ جو تدبیریں بھی اللہ اور اس کے رسول کے دین کے راستہ روکنے کے لئے کر رہے ہیں وہ سب کی سب ناکام و نامراد ہوجائیں گی اور جن کو موں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ رکھا ہے اللہ ان سب کو ضائع کردے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی وہ نہ پا سکیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ نیکی ان کی خوشیوں کا نام نہیں ہے وہ اللہ کی متعین کردہ راہ کا نام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اوصاف و کمالات جو تورات میں موجود تھے ان کا انکار کر کے انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی اسلام قبول کرنے سے روک دیا تو بلاشبہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے اور ایسے بھٹکے کہ دور دراز راہوں میں گم ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے نام اور کام پھیلادیا اور اس طرح ان کی کوشش کو مٹی میں ملا دیا جس کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔
Ayah 4:168جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور ظلم کیا ان کے لئے سیدھی راہ گم ہوگئی۔
359: بعض کفر ‘ کفر کرنے والوں تک محدود ہوتا ہے لیکن بعض کفر ایسے بھی ہوتے ہیں جو وبائے عام کی طرح ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں جو گناہگار سوسائٹی میں رہنا گوارا کرتے رہے ہوں۔ کفر کے ساتھ ظلم کا لفظ جب بھی اور جہاں بھی قرآن کریم میں آیا ہے یہ ایسے کفر کا ذکر ہے جو صرف کفر کرنے والے تک محدود نہیں ہوتا یہ وہی کفر ہوتا ہے جو پوری سوسائٹی کو تباہ و برباد کردیتا ہے یہ کفر وہی کفر جس کے کرنے والے ہی اس کی زد میں نہیں آتے بلکہ یہ ان کے لئے بھی اتنا ہی نقصان دہ ہوتا ہے جتنا کرنے والوں کے لئے۔ اس کی مثال اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ جب تک کسی شہر میں گندگیاں کہیں کہیں انفرادی طور پر چند مقامات پر رہتی ہیں ان کا اثرمحدود رہتا ہے اور ان سے وہ مخصوص افراد ہی متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے جسم اور اپنے گھر کو گندگی سے آلودہ کر رکھا ہو لیکن جب وہاں گندگی عام ہوجاتی ہے اور کوئی گروہ بھی سارے شہر میں ایسا نہیں ہوتا جو اس خرابی کو روکنے اور صفائی کا انتظام کرنے کی سعی کرے تو پھر ہوا ‘ زمین اور پانی ہرچیز میں پھیل جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں جو وباء آتی ہے اس کی لپیٹ میں گندگی پھیلانے والے اور گندہ رہنے والے اور اسی گندے ماحول میں زندگی بسر کرنے والے سب ہی آجاتے ہیں۔ اسی طرح اخلاقی نجاستوں کا حال بھی ہے کہ اگر وہ انفرادی طور پر بعض افراد میں موجود ہیں اور صالح سوسائٹی کے رعب سے دبی رہیں تو ان کے نقصانات محدود رہتے ہیں لن کہ جب سوسائٹی کا اجتماعی ضمیر کمزور ہوجاتا ہے ‘ جب اخلاقی برائیوں کو دبا کر رکھنے کی طاقت اس میں نہیں رہتی جب اس کے درمیان برے اور بےحیاء اور بد اخلاق لوگ اپنے نفس کی گندگیوں کو اعلانیہ اچھالنے اور پھیلانے لگتے ہیں اور اچھے لوگ بد عملی اختیار کر کے اپنی انفرادی اچھائی پر قانع اور اجتماعی برائیوں پر خاموش ہوجاتے ہیں تو مجموعی طور پر پوری سوسائٹی کی شامت آجاتی ہے اور وہ فتنہ عام برپا ہوتا ہے جس میں گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ چناچہ ارشادہوتا ہے کہ :
” بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہیں لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہے ” ظلموا منکم خاصہ “ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزاد ینے والا ہے۔ “ ’ الانفال 8:25) اور اس ظلم سے مراد شرک بھی ہو سکتا ہے کیونکہ یہ بھی دراصل وبائی مرض ہے اور جس معاشرہ میں پھیلتا ہے پھیلتا ہی چلا جاتا ہے اور کوئی علاج بھی اس پر اتنا جلد اثر نہیں کرتا اس وبائی پھوڑے کا نشتر کے سوا کوئی علاج نہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اس پر شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “ (الانعام 6:21) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹ بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط راہنمائی کرے یقینا اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ “ (الانعام 6:144) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیت کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ؟ جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزادے کر رہیں گے۔ “ (الانعام 6:107) ظاہر ہے کہ اللہ کی آیت سے مراد اس کے وہ ارشادات بھی ہیں جو قرآن کریم کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کئے جا رہے تھے اور وہ نشانیاں بھی جو نبی کریم ﷺ کی شخصیت اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی پاکیزہ زندگی میں نمایاں نظر آرہی تھیں اور وہ آثار کائنات بھی جنہیں قرآن کریم اپنی دعوت کی تائید میں شہادت کے طور پر پیش کر رہا تھا۔
فرمایا کہ ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم میں بھی بےباک ہوگئے اور مرتے دم تک اسی حالت میں سرشار رہے تو خدا نہیں کبھی بخشنے والا نہیں نہ انہیں کامیابی کی کوئی راہ دکھائے گا۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ایسی راہ پر چلنے کے لئے تیار نہیں اور مجبور کر کے سیدھی راہ پر لگانا قانون الٰہی کے خلاف ہے اور اللہ اپنے قانون کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔
Ayah 4:169ہاں ! جہنم کی راہ ان کے لئے کھلی ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رکھے جائیں گے۔
260: جہنم کیا ہے ؟ آپ یوں سمجھیں کہ جیسے ” چوہوں کا پنجرا “ کہ اس کی باہر کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے گویا دروازہ لگایا ہی نہیں گیا۔ لیکن اندر اتنی گہری کھائی ہے کہ جو داخل ہوگیا بس ہوگیا اب نکلنا اس کے اختیار کی بات نہ رہی ۔ لیکن داخل ہونا ؟ ہاں ! داخل ہونا اس کے اختیار کی بات تھی۔ کسی نے اسے مجبور کر کے داخل نہیں کیا اس لئے کہ اس کا داخلہ تو ہر وقت کھلا ہے۔ جب چاہے اور جو چاہے داخل ہوجائے یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ اجازت لینے کے عادی تو ہوتے ہی نہیں بلکہ اجازت لینا ان کی بڑائی کے بالکل خلاف ہے اس لئے وہ بےدھڑک داخل ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں تازہ حقہ بھی وہاں موجود ہے اور دوزخیوں کے بچھو نے اور اوڑھنے بھی جیسا کہ اشاد الٰہی :
” ان کے لئے جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ۔ یہ ہے وہ جزاء جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ (الاعراف 7:41) اور پیا سے اونٹ کی طرح پی جانے والی چیز کو میں نے حقہ کہہ دیا ہے اور قرآن کریم میں ہے ” فشربون شرب الھیم دوزخی پیاسے اونٹ کی طرح پییں گے۔ (الواقعہ 52:50)
غور کرلو کہ ان کا کام ہی کیا تھا ؟ ” ظلم اور انکار “ اس کا نتیجہ کیا ہوتا چاہئے تھا ؟ وہی جو پیچھے ذکر کیا گیا۔ قانون الٰہی یہ ہے کہ گندم سے گندم پیدا ہوتی ہے اور جو سے جو اسی لئے کسی نے کہہ دیا ہے
گندم ازگندم بروید جو زجو وازمکافات عمل غافل مشو
فرمایا ” اللہ کے لئے ایسا کرنا بالکل آسان ہے۔ “ قانون کے مطابق جو ہوتا ہے ہمیشہ آسان ہی ہوتا ہے۔ مشکلات ساری قانون کی خلاف ورزی ہی میں ہیں۔ کاش کہ یہ بات مسلمانوں اور خاص کر آج کل کے راہنمایاں اسلام کی سمجھ میں بھی آجائے۔