4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 4:4

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور دیکھو عورتوں کا مہر (پورا کا پورا) خوش دلی کے ساتھ ادا کردیا کرو ہاں ! اگر ایسا ہو کہ وہ اپنی خوش دلی سے کچھ چھوڑ دیں تو تم اسے بےکھٹکے اپنے کام میں لاسکتے ہو

عورتوں کا حق مہر ادا کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ نکاح کی شرائط میں سے یہ ایک شرط ہے : 13: صدق یا صداق وہ ضروری چیز ہے جو خاوند کی طرف سے بوقت نکاح عورت کو پیش کی جاتی ہے اور یہ شرائط نکاح میں سے ایک شرط ہے۔ اسلام جو دراصل صحیح اور سچے اصولوں کا مذہب ہے اس میں ہرچیز کو کسی نہ کسی حکمت کے تحت رکھا گیا ہے۔ وہ کسی کو معلوم ہو یا نہ ہو بہرحال حکمت اس میں پنہاں ضروری ہوگی۔ کہاں کا لڑکا اور کہاں کی لڑکی ؟ لیکن اب ان دونوں کو ایک جسم و جان کی طرح ہوجانے کا حکم ہے اور اس جوڑ کے جڑتے ہی دونوں فریق پر حقوق لازم ہوجاتے ہیں اور فریقین کے لیے ان حقعوق کا ادا کرنا ضروری ہے۔ ہاں ! یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ حقوق حقوق کا بدل نہیں ہوتے کہ ایک حق ادا کرے گا تو دوسرا بھی کرے گا اور اگر ایک کوتاہی کرے گا تو دوسرا بھی کوتاہی کرے گا۔ یہ بات مطلق درست نہیں ہے بلکہ درست یہ ہے کہ جو حق ادا کرتا ہے وہ صحیح کرتا ہے اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ غلط کرتا ہے اور صحیح کرنا اور غلط کرنا دونوں عمل ہیں صحیح کا نتیجہ یقینا صحیح اور غلط کا نتیجہ یقینا غلط ہوتا ہے اور حق ادا کرنے والا عنداللہ بھی ماجور ہے اور کوتاہی کرنے والا بھی مستحق عذاب ہے۔ یہ بات اس لیے کہنا پڑی کہ عوام تو عوام علماء بھی اس مہر کو کسی چیز کا بدل مانتے ہیں جو کسی لحاظ سے بھی درست نہیں۔ بلکہ اسلام نے اس میں یہ حکمت رکھی ہے کہ ایک فریق کو جب گھر لایا جا رہا ہے تو اس گھر میں اس کا حق ملکیت بھی ہونا ضروریات میں سے ہے تاکہ شریک زندگی شریک ملکیت بھی ہوجائے تو اس گھر میں اس کا حق ملکیت بھی ہونا ضروریات میں سے ہے تاکہ شریک زندگی شریک ملکیت بھی ہوجائے اور جو چیز پہلے ایک کی تھی اب دو کی تصور ہو اگر برابر نہیں تو بھی کسی حصہ میں شریک متصور تو ہو۔ اس لیے اس کی مقدار متعین نہیں کی گئی بلکہ نکاح کرنے والے کی حیثیت پر اس کو چھوڑ دیا گیا اور اخلاقاً اس سے کہا گیا ہے کہ وہ بخوشی جتنے حصہ میں شریک کرنا چاہتا ہے اس کا اعلان کر دے۔ وہ آدھے میں شریک کرے خواہ چوتھائی میں اور خواہ اس سے بھی کم۔ ہاں ! ضروری یہ ہے کہ جو کچھ حصہ اس کو دیا گیا ہے اس کا اسے مالک سمجھے یہ نہیں کہ صرف نام کی ملکیت اور نام کی ادائیگی اس لیے کہ عورت کو اس میں پورا تصرف کرنے کا حق حاصل ہوجائے اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام کی نظر میں عورت کو اس مال میں شریک کرنا ہے جو مرد کے پاس ہے اس لیے اس پر یہ لازم قرار دے دیا کہ وہ اپنے مال میں سے ایک متعین حصہ اس کو ہبہ کر دے۔ نحلۃ وہ عطیہ جو تبرع کے طور پر ہو یعنی اس کا معاوضہ کوئی نہ ہو اور یہ بھی کہ وہ اس کو بطیب خاطر دے۔ امام راغب کہتے ہیں کہ نحلۃ سے مراد ہے ھبۃ اور اس لیے بھی کہ نحل یعنی شہد کی مکھی جس چیز پر بیٹھتی ہے تو اس کا نقصان کیے بغیر ایک طریقہ سے اپنا حصہ اٹھا لیتی ہے اور اس کا فائدہ بھی اس میں آگیا کہ یہ چیز دونوں میاں بیوی کو شیر و شکر کردینے کے لیے ہے نہ کہ ناراضگی کا باعث بنانے کے لیے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس معاملہ کی لے دے میں ” جوتیوں دال بٹنا “ شروع ہوجاتی ہے اور ایک دوسرے کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو چیز شیر و شکر کرنے کے لیے ضروری قرار دی گئی تھی وہ طعن وتشنیع کا باعث بن کر رہ جاتی ہے۔ فریقین کو اس معاملہ میں ہوش و گوش سے کام لینا چاہیے۔ عورت اگر خوش دلی سے کچھ چھوڑ دے تو اس کو اختیار ہے اس کے لینے میں کوئی گناہ نہیں : 14: فرمایا مرد نے جو کچھ عورت کو مہر کے طور پر دیا جب وہ اس کی مالک قرار پا گئی تو اب اس کی مرضی ہے کہ وہ چاہے سارا خاوند کو دے دے چاہے اس میں کوئی حصہ۔ ہاں ! اس سلسلہ میں جو کچھ وہ کرے بطیب خاطر کرے کسی دباؤ کے تحت دینا دینا نہیں ہوتا بلکہ مجبوری ہوتی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس مجبوری کو مجبوری کہا بھی نہ جاسکتا ہو کیونکہ بعض لوگوں کے نزدیک حرف شکایت زبان پر لانا بھی جرم قرار پاتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم مار دیں تو کوئی ” سی بھی “ نہ کرے اور اگر کوئی کرے تو وہ مجرم قرار پائے اس لیے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ ” اگر ایسا ہو کہ وہ اپنی خوش دلی سے کچھ چھوڑ دے تو تم اس کو بےکھٹکے اپنے استعمال میں لاسکتے ہو۔ “ گویا اس آیت میں جو قید لگائی ہے کہ وہ طیب نفس سے اگر مہر کا کچھ حصہ تم کو دے دیں یا تم سے وصول ہی نہ کریں تو تم اس کو کھا سکتے ہو اس میں ایک بہت بڑا راز ہے اور وہ یہ ہے کہ شریعت اسلامی میں یہ بات واضح ہے کہ کسی کا ذرا سا مال بھی کسی دوسرے کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کہ طیب نفس سے اجازت نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : الا لا تظلموا الا لا یحل مال امرء الا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ : 255) ” خبردار ! ظلم نہ کرو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ کسی شخص کا مال دوسرے شخص کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ نفس کی خوشی سے حاصل نہ ہو۔ “ پھر اس آیت میں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ صدقات کا استعمال ہوا ہے اس لیے مہر کو صداق یا صدقۃ کہا جاتا ہے اور یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ ” صدق “ کے اس مادہ میں سچ کے معنی ہیں اور مہر سے بھی چونکہ شوہر کا سچا میلان ظاہر ہوتا ہے اس لیے اس مناسبت سے مہر کو صداق کہا جائے گا۔ ” ھنیا مرئیا “ اس چیز پر بولتے ہیں جو کسی مشقت و تکلیف کے بغیر حاصل ہوجائے۔ اس لیے جب یہ طعام کی صفت کے طور واقع ہو تو اس کے معنی خوشگوار طعام کے ہوتے ہیں یعنی ایسا طعام جو کسی مشقت کے بغیر حلق سے اتر جائے اور آسانی سے ہضم ہو کر جزو بدن بنے اور ایسے کھانے کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ اس کو بےکھٹکے کھاؤ اور اس میں کسی طرح کی مضرت نہیں ہے۔
Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور دیکھو مال و متاع کو اللہ نے تمہارے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے ، پس ایسا نہ کرو کہ کم عقل آدمیوں کے حوالے کر دو ، ایسا کرنا چاہیے کہ ان کے مال سے ان کے کھانے اور کپڑے کا انتظام کردیا جائے اور نیکی اور بھلائی کی بات انہیں سمجھا دی جائے

یتامیٰ جب تک مال سنبھالنے کے قابل نہ ہوں ان کے مال واپس نہ کرو : 15: انہی یتامیٰ کے باعث نکاح کی طرف مضمون منتقل ہوا تھا اور پھر واپس اپنے مقام پر لایا گیا ہے فرمایا وہ یتامیٰ جن کے تم کفیل بنے تھے یا بنائے گئے تھے ان کی کفالت کو راستے ہی میں مت چھوڑو بلک ان کو سن رشد تک پہنچ لینے دو تب ان کے مال ان کی طرف لوٹاؤ ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مال جو قیام زندگی کا ذریعہ ہے اگر یہ مال ان بچوں کو دے دیا گیا جو ابھی خرچ کرنے اور مال پر عمل کرنے کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے اگر ان کو مال دیا گیا تو وہ بہت جلد اس کو ضائع کردیں گے اور پھر زندگی کے بحال رکھنے کا ذریعہ ختم ہوجائے گا۔ اس لیے جب تک یہ یتیم بچے عاقل بالغ نہ ہوجائیں اور اپنے مفاد کی خود حفاظت نہ کرسکیں ان کا مال بھی ان کے قصبہ میں نہ دو ۔ اس میں بلاغت کا ایک عجیب نکتہ ہے۔ غور کرو کہ آیت کے شروع میں جہاں متولیوں کو ناسمجھ یتیموں کے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھنے کا حکم ہے۔ وہاں مال کی نسبت متولیوں کی طرف ہے کہ ” تم اپنا مال ان کو نہ دو “ اور آیت کے آخر میں جہاں بلوغ اور سن رشد کے بعد متولیوں کو یتیموں کا مال واپس کردینے کا حکم ہے وہاں اس مال کی نسبت یتیموں کی طرف کی گئی کہ ” تم ان کا مال ان کو واپس کر دو “ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں اس مال کی نسبت یتیموں کی طرف کی گئی کہ ” تم ان کا مال ان کو واپس کر دو “ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک یہ امانت متولیوں کے پاس ہے تو اس کی ایسی ہی حفاظت اور نگہداشت کرنی چاہئے جیسی اپنے مال کی اور جب واپسی کی نوبت آئے تو اس طرح ایک ایک تنکا تک چن کر واپس کردیا جائے جیسا کہ کسی غیر کا مال دیانت کے ساتھ واپس کیا جاتا ہے جس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ صاحب جائیدار یتیموں کے متولی اگر خود کھاتے پیتے ہوں تو ان کے لیے یتیموں کے مال کی دیکھ بھال اور نگرانی کا معاوضہ قبول کرنا بھی خلافِ اخلاق قرار دیا گیا ہے اور تنگ دست ہوں تو منصفانہ معاوضہ لینے کی اجازت دی گئی اور فرمایا گیا کہ ” ایسا کرنا چاہئے کہ ان کے مال سے ان کے کھانے اور کپڑے کا انتظام کردیا جائے اور نیکی اور بھلائی کی بات ان کو سمجھا دی جائے۔ “ ” وَلَا تُؤْتُوْا السُّفَھَآئُ “ اور مت دو کم عقلوں کو۔ یہ کم عقل کون ہیں ؟ وہی جو ابھی اپنے مال پر کسی طرح کا عمل نہیں کرسکتے صرف خرچ کرسکتے ہیں ! ان کو مال کمانے کی سمجھ نہیں ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ یتیموں کے مال پر متولیوں کو عمل کرنے کا حق ہے تاکہ مال آہستہ آہستہ ختم نہ ہوجائے بلکہ جو خرچ ہو اس میں کچھ اضافہ بھی ہو اور اضافہ کے لیے ضروری ہے کہ مال کو کسی کام پر لگایا جائے۔ گویا متولی حضرات اپنا مال سمجھ کر اس حفاظت کریں اور اس کو بڑھانے کی فکر بھی کریں جس طرح انسان اپنے مال کو بذریعہ عمل بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ان کے یتیم کا زمان بآسانی گزر جائے اور مال کی حفاظت بھی ہوتی رہے اور اس طرح جو کچھ کیا جائے وہ پوری دیانت داری اور حساب کتاب کے ساتھ کیا جائے۔ علی الحساب اندھا کھاتہ نہ رکھا جائے۔ گویا اس آیت کے مطابق مضاء وہی ہیں جو مال پر عمل کرنے کی سمجھ نہ رکھتے ہوں۔ رہی یہ بات کہ یہ مال پر عمل کیا چیز ہے ؟ تو یہ کسی سے بھی مخفی نہیں مال کو تجارت کے ذرائع میں سے کسی ذریعہ پر لگانا جو ذریعہ شرعاً جائز اور درست ہو۔ مطلب واضح ہے کہ جو لوگ شغل معاش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور اپنے راس المال کو تباہ کرتے چلے جاتے ہیں وہ سب کم عقلوں میں داخل ہیں۔ مال ان کے سپرد کرنے کی بجائے یہ حکم دیا ہے کہ ان اموال پر تم ہی کسی تجارت وغیرہ میں لگا کر اس سے ان کی پرورش کا بندوبست بھی کرو اور مال کو سنبھالنے کی فکر بھی۔ پھر ان کے کھانے اور پہننے کے بندوبست کے علاوہ ایک مزید ارشاد بھی فرمایا کہ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ” نیکی اور بھلائی کی بات انہیں سمجھاؤ ۔ “ اس سے ہمارے مفسرین نے نصیحت کے چند فقرے ہی مراد لیے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے ان کی صحیح تربیت کرنا مراد ہے۔ “ یعنی ان کی تربیت پر روپیہ خرچ کرو اور مال کو تجارت پر لگا کر اس کی حفاظت اور اس کے بڑھانے کے طریقے ان کو سمجھاؤ تا آنکہ ان کو یہ عقل و شعور آجائے کہ مال کو اسراف کے طور پر خرچ کرنے کی بجائے سنبھال کر خرچ کرنے کی اہلیت بھی ان میں پیدا ہوجائے یہ بھی ” قولاً معروفا “ میں داخل ہے۔ چناچہ آنے والی آیت میں قرآن کریم نے اس بات کو وضاحت کے ساتھ خود بیان کردیا ہے۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور بےباپ بچوں کی حالت پر نظر رکھ کر انہیں آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں ، پھر اگر ان میں صلاحیت پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو اور فضول خرچی کر کے جلد جلد ان کا مال کھا پی نہ جاؤ ، ان کے سرپرستوں میں سے جو مقدور والا ہو اسے چاہیے کہ پرہیز کرے ، جو حاجت مند ہو اس میں سے لے سکتا ہے مگر ٹھیک طریقہ پر پھر جب ایسا ہو کہ ان کا مال ان کے حوالے کرو تو چاہیے کہ اس پر لوگوں کو گواہ کرلو ، یاد رکھو محاسبہ کرنے کے لیے اللہ کا محاسبہ بس کرتا ہے

ان بےباپ یا بن ماں باپ بچوں کو آزماتے رہنے کا حکم تاکہ ان کو تجربہ بھی حاصل ہو : 16: جب ایسے بچوں کے تم نگران بن گئے جن کے آباؤ اجداد یا بعض اوقات ماں باپ دونوں ہی رخصت ہوگئے تو ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کا امتحان بھی لیتے رہو کہ وہ اس جائیداد کو سنبھالنے کے اہل ہوئے ہیں یا نہیں ؟ اس لیے کہ تعلیم کے ساتھ تجربہ بھی ضروریات میں سے ہے یعنی وہی بات کہ قول معروف صرف زبانی کلام بات ہی نہیں بلکہ عملی آزمائش بھی ہے اس لیے کہ اس یتیم کو ما شاء اللہ جوان ہو کر اسلامی سوسائٹی کا ایک فرد بننا ہے اس کے کندھوں پر وہ سارے بوجھ پڑنے ہیں جو اس دنیا میں آنے والوں کے کندھوں پر پڑتے آ رہے ہیں۔ اس کے والدین اگر دار فانی سے رخصت ہوگئے تو جو ترکہ وہ چھوڑ گئے ہیں وہ صحیح معنوں میں ان کے کام تب ہی آسکتا ہے جب ان میں اس کو سنبھالنے کی اہلیت پیدا ہوگی۔ ویسے بھی غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ پیغام حیات ہے جس میں انسان کی ہر طرح کی تربیت کے احکام موجود ہیں۔ مالی ، اخلاقی اور بدنی ساری حفاظتوں کا ذکر اور اس کے اصولوں کی طرف رہنائی پائی جاتی ہے۔ اس میں اموال کا حکم بھی بار بار دیا گیا ہے اور اس کے متعلق قوانین بھی بتائے گئے ہیں۔ تجارتی خطوط کا ذکر بھی ہے اور لین دین کے اصول بھی۔ رہن کا بیان بھی ہے اور وصیتوں کی ضرورت بھی۔ مال متروکہ حصص کی تفصیل بھی بتائی گئی ہے تو عورتوں کو حق مہر میں سونے چاندی کے ڈھیر دینے کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ اموال کی حفاظت اور مالی تنازعات سے بچنے کے لیے تحریر اور گواہی کی ضرورت بھی واضح کردی ہے۔ اموال کی ٹھیک طریقہ سے حفاظت نہ کرنے والوں کے لیے ان کے متولی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گا ہے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ان سارے کاموں کو صرف دنیا کے کام ہی نہیں رہنے دیا بلکہ دین کے ساتھ ان کو وابستہ کیا ہے۔ مال و دولت کو غلط طریقوں سے جمع کرنے والوں کو آخرت کی وعیدیں بھی سنائی ہیں تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ مال کا کمانا صرف دنیا ہی سے متعلق نہیں بلکہ آخرت میں کام آنے والی بات بھی ہے۔ نکاح کی عمر کیا ہے ؟ وہی جب انسان بالغ ہوجائے۔ مطلب یہ ہے کہ بلوغ تک ان کے ساتھ یہی معاملہ رکھنا چاہئے۔ جب بالغ ہوجائیں تو اس وقت اگر یہ محسوس ہو کہ ان کے اندر اب اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی ہے تو ان کا مال ان کے سپرد کر دو ۔ گویا اس طرح اشارہ فرما دیا کہ ہر فرد کے لیے ضروری نہیں کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچتے ہی اس صلاحیت کو پہنچ جاتا ہے۔ نہیں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بہت سی صلاحیتوں کے مالک ہوجاتے ہیں اور زیادہ تعداد ان ہی لوگوں کی ہے جو بلوغت کو پہنچنے کے باوجود دوسری صلاحیتوں میں کورے ہوتے ہیں اس لیے صرف نکاح کی عمر پر اکتفا نہ کیا بلکہ ساتھ ہی ارشاد فرما دیا کہ خیال رکھنا ایسا نہ ہو کہ بالغ ہونے کو تو ہوجائے لیکن ناک لگی ہی رہ گئی ہو۔ ایسے الھڑ اور بالغ نادانوں کے متعلق جلدی سے کام نہ لو بلکہ شعور آ لینے دو ۔ صرف بلوغت شرط نہیں بلکہ صلاحیت کار بھی ضروری ہے تاکہ مال کی واپسی ان کے لیے مفید ہو : 17: ہاں ! بلوغت کے ساتھ رشد بھی ہو تو بیشک ان کا مال واپس کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ بلوغت کے ساتھ رشد و ہدایت بھی ضروری ہے اور اس رشد و ہدایت سے مراد مالی حفاظت اور نگرانی ہے کہ وہ اب اس قابل ہیں کہ اپنے مال کی خود حفاظت کرسکتے ہیں اور ان کو کسی نگران کی ضرورت نہیں رہی۔ ہاں ! یہ ضروری ہے کہ اس کو آڑ بنا کر ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کا مالک ہے۔ نیت صحیح اور درست ہے۔ تو بحمداللہ جو فیصلہ ہوگا اس میں برکت اور خیر ہی ہوگی۔ اس سلسلہ میں جتنی ہدایات دی گئی ہیں سب کا ماحصل یہ ہے کہ جو کچھ کاد جائے وہ یتیموں کی بھلائی اور فائدہ کے لیے کیا جائے ان کے ساتھ اپنی کسی طرح کی کوئی غرض سوائے ان کی بھلائی کے نہ ہو۔ ان کے مال کی نگرانی اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری لی ہے تو ان کی بھلائی کے لیے اور اب مال ان کو واپس کرنا ہے اور اس ساری ذمہ داری اور نگرانی سے سبکدوش ہونا ہے تو ان کی بھلائی کے لیے۔ نگرانوں کے لیے مزید یہ ہدایت کہ جب تم نگران بن گئے ہو تو بندر بانٹ سے کام نہ لینا : 18: جن یتیموں کی ذمہ داری تم نے قبول کی ہے اور ان کے مال کے تم نگران بنائے گئے ہو اس ذمہ داری اور نگرانی کے کام کو اس خیال کے ساتھ پورا کرو کہ اگر یہ بچے یتیم ہوچکے ہیں تو کل میرے بچے بھی یتیم ہو سکتے ہیں۔ یہ خیال میں رکھو کہ اگر تمہارے بچے یتیم ہوجائیں تو تمہاری خواہش کیا ہے کہ ان کے ساتھ ان کا نگران کیا سلوک کرے ؟ بس یہی سلوک تم ان یتیم ہونے والوں کے ساتھ کرو اور دور نہ جاؤ اپنے دل سے پوچھتے رہو۔ ہاں ! ہاں ! دل کو ٹٹول کر دیکھو اور اس سلسلہ میں جو ہدایت فرمائی گئی وہ اس طرح ہے کہ ” اور اس خیال سے کہ بڑے ہو کر وہ مطالبہ کریں گے فضول خرچی کر کے جلد جلد ان کا مال کھا پی نہ جاؤ ۔ “ نبی رحمت ﷺ کی ان تعلیمات نے عرب کی فطرت درست کر کے رکھ دی اور ان کی بری عادات کو خواب بنا دیا۔ وہی دل جو بےکس و ناتواں یتیموں کے لیے پتھر سے زیادہ سخت تھے وہ موم سے زیادہ نرم ہوگئے۔ ہر صحابی کا گھر ایک یتیم خانہ بن گیا۔ ایک ایک یتیم کے لیے لطف و شفقت کے کئی کئی ہاتھ اس کے ساتھ بڑھنے لگے اور ہر ایک اس کی پرورش و کفالت کے لیے اپنے آغوش محبت کو پیش کرنے لگا۔ بدر کے یتیموں کے مقابلہ میں جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہ بتول ؓ اپنے دعویٰ کو اٹھا لیتی ہیں کہ اس یتیم کی پرورش میرا فرض ہے۔ عائشہ صدیقہ ؓ اپنے خاندان اور انصار وغیرہ کی یتیم لڑکیوں کو اپنے گھر لے جا کر دل و جان سے پالتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اپنا معمول زندگی یہ بناتے ہیں کہ جب تک کوئی یتیم آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھائے آپ ﷺ کے ہاتھ کھانے کی طرف نہی بڑھتے۔ (آداب المفرد بخاری) نگران اگر صاحب استطاعت ہیں تو بقدر طاقت ان بےباپوں پر صرف کریں : 19: صاحب جائیداد بےباپوں کے متولی و نگران اگر خود ہی کھاتے پیتے ہوں تو ان کے لیے ان کی جائیداد کی دیکھ بھال اور نگرانی کا معاوضہ بھی قبول نہ کرنا چاہئے اس لیے کہ یہ بات بھی خلاف اخلاق ہے اور خلافِ اخلاق بات کبھی پسندیدہ نل ہیں ہو سکتی۔ بلند اخلاق اور کردار اس چیز کا نام ہے کہ اگر وہ طاقت رکھتے ہوں ان کو بھی اپنے مال میں کھلائیں پلائیں اور اس طرح خرچ کیا ہوا مال ان کا یقینا محفوظ ہے اور محفوظ بھی اس بنک میں ہے جس کے منافع کی کوئی حد نہیں ؟ اس لیے کہ وہ کسی انسان کا بنک نہیں بلکہ رب العالمین کا بنک ہے جو کبھی بھی بیٹھ نہیں سکتا اور یہ وہ قرض ہے جو قیامت تک بڑھتا ہی رہے گا۔ اس طرح ہدایات جو یتامیٰ کے لیے قرآن کریم نے دی ہیں یہ ایک لحاظ سے عام طور پر تربیت اطفال بھی ہے اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ ان یتامیٰ کے ساتھ جو سلوک کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ فی الحقیقت وہی لوگ ہیں جو یتیم ہوچکے ہیں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا سکھایا ہے جو انسان اپنے بچوں کے ساتھ سلوک کرتا ہے اور اس طرح یہ بات سمجھا دی ہے کہ ایک ولی کا یتیم کے ساتھ سلوک کرتا ہے اور اس طرح یہ بات سمجھا دی ہے کہ ایک ولی کا یتیم کے ساتھ جو فرض ہے وہ باپ کا اپنے بیٹے کے ساتھ بطریق اولیٰ فرض ہے۔ اس طرح ہر والد کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کی تربیت قول معروف کے ساتھ کرے یعنی اس کو نیکی کی راہیں بھی بتائے اور اس کو معاش پیدا کرنے کے قابل بھی بنائے اور دیکھتا رہے کہ کس قدر ترقی وہ کر رہے ہیں جس طرح ہر انسان اپنے بچوں کے متعلق دیکھتا ہے اور ان کی ترقی اور فلاح و بہبود سے خوش ہوتا ہے۔ اس استطاعت کے لیے جو الفاظ بیان کیے گئے ہیں یعنی ” فلیستعفف “ وہ بھی قابل غور ہیں کیونکہ اس کے اصل معنی ہیں کہ بچتا رہے اور اپنے آپ کو روک لے۔ یعنی ان بےماں باپ بچوں کے حال سے جو کچھ ان کی اپنی تربیت کے لیے خرچ کرتا ہے اس خرچ کا لینا اگرچہ درست اور جائز ہے لیکن اس کے باوجود اس کے لینے سے بچتا رہے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر روک لے اور ان پر خرچ کیا ہوا بھی ان کے مال سے لینے سے درگزر کرے اور یہ سمجھے یہ کہ میرے ہی بچے ہیں اس لیے میں ان پر خرچ کر رہا ہوں اور اپنا خرچ کیا ہوا مال جب اپنے بچوں سے واپس لینے کی خواہش نہیں رکھتا تو ان پر خرچ کر رہا ہوں اور اپنا خرچ کیا ہوا مال جب اپنے بچوں سے واپس لینے کی خواہش نہیں رکھتا تو ان پر خرچ ہوا مال ان سے واپس کیوں لوں ؟ پھر اس قربانی کے جو نتائج نکلیں گے وہ دنیا کی ہرچیز سے یقینا بہتر نکلیں گے اس کو کہتے ہیں کہ نیکی کر اور کنوئیں میں ڈال یعنی اس نیکی کا صلہ جس کے ساتھ وہ نیکی کی ہے اس سے طلب نہ کرے۔ نگران اگر محتاج ہے تو بقدر اس کی حاجت کے لے سکتا ہے : 20: فرمایا کہ نگران اگر خود بھی محتاج ہے اور اس کے پاس اتنا مال نہیں کہ اس یتیم کی پرورش کرسکے تو اس کے مال سے اس قدر لے جو اس پر خرچ کرنے کی غرض سے ہو۔ اس لئے کہ اس کی ایک سے زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں کہ وہ اس کے مال میں سے لینے کے لئے مجبور ہو۔ ظاہر ہے کہ بسبب اپنی محتاجی کے اپنا مال تو اس پر خرچ نہیں کرسکے گا کیونکہ مال اس کے پاس ہے نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یتیم صاحب مال ہونے کی وجہ سے زیادہ خرچ کرنے کا متحمل ہے لیکن کفیل کے پاس کچھ بھی نہیں تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بھی وہ یتیم ہی کے مال سے اس پر خرچ کرے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفیل اتنا محتاج ہو کہ اس یتیم کی نگرانی اور دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت اس یتیم کے مال سے بھی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک اس کو اس کام کا کچھ معاوضہ نہ ملے تو ایسی صورت میں وہ بقدر حق اس مال میں سے لے سکتا ہے لیکن باقاعدہ حساب کتاب کے ساتھ کہ اتنا مال اس کی خوراک ، لباس اور دوسری ضروریات زندگی اور رتعلیم و تربیت پر خرچ کیا گیا اور اتنی رقم یا فلاں چیز اس سارے کاموں کے سرانجام دینے پر صرف ہوا کیونکہ صرف کرنے والا یعنی نگران خود محتاج ہے اور وہ بلا معاوضہ وقت صرف نہیں کرسکتا تھا اندریں مجبوری یہ رقم اس کے انتظام کرنے کے عوض نگران نے وصول کی کیونکہ یہ بھی حقیقت میں اس یتیم ہی کی ضرورت تھی۔ بلوغت اور رشد آنے کے بعد جب مال کو لوٹانا ہو تو اس پر گواہ مقرر کرنا بھی ضروری ہے : 21: اس حکم سے یہ بات خود بخود نکل آتی ہے کہ کوئی شخص جب کہ یتیم کے مال کا نگران مقرر ہو تو اس وقت جب اس نے نگرانی قبول کی اس یتیم کے اسارے مال کا باقاعدہ اندراج کر کے ساری چیزوں کو تحریر کرلینا چاہئے اور پھر جب وہ یتیم اپنی بلوغت اور رشد کو پہنچ جائے اور نگران اس کے مال کو اس کے ہاتھ یعنی قبضہ میں دینے لگے تو باقاعدہ حساب کر کے واپس کرے اور پورے وضاحت کے ساتھ اس کے مال میں جو کچھ ہوا یا اس کے مال کی تجارت کرنے سے جو وصول ہوا اور جتنا اضافہ یا بچت ہوئی باقاعدہ تحریر کر کے اس پر گواہ بھی بنائے اور ان گواہوں کی موجودگی میں اس بالغ ہونے والے اور سن شعور کو پہنچنے والے کو رقم یا جو بھی مال ہے اس کے قبضہ میں دے اور گواہوں سے اس تحریر پر دستخط لے لے اور اس طرح سے بھی اس کی تحویل سے فارغ ہوا۔ تاکہ بات صاف ہوجائے اس طرح وہ دنیا والوں کے روبرو بھی سر خرو ہو اور آخرت میں بھی یہ بات اس کے کام آئے۔ اس بات کو سورة الانعام میں بھی اس طرح بیان فرمایا کہ : وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَاالْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ (الانعام : 152:6) ” اور دیکھو یتیموں کے مال کی طرف نہ برھو الا یہ کہ اچھے طریقے پر ہو یعنی ان کے فائدہ اور نگہداشت کے لئے اور یہ بھی اس وقت تک کہ یتیم اپنی عمر کو پہنچ جائیں۔ “ یعنی اس عمر کو کہ وہ اپنے مال کو خود سنبھال کر خرچ کرسکیں اور اس مال پر عمل بھی کرسکیں تاکہ سارا مال ہی ضائع نہ ہوجائے۔ ان بےسہاروں کا سہارا بننے والوں کے لئے بنی اعظم و آخر ﷺ نے کیا فرمایا اس کے متعلق بھی کچھ سن لیں۔ فرمایا ” میں اور کسی یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ” پھر دونوں انگلیوں کو کھڑا کر کے سامعین کو دکھایا (ترغیب و ترہبخ ج 2 ص 132) آپ ﷺ نے فرمایا ” جو کسی یتیم بچہ کو اپنے گھر بلا کر لائے اور اس کو کھلائے پلائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی نعمت عطا فرمائے گا بشر طی کہ اس نے کوئی ایسا گناہ نہ کیا ہو اس کی بخشش کے منافی ہو۔ “ یعنی شرک (ترمذی شریف) رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ” مسلمانوں کا سب سے زیادہ اچھا گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بھلائی کی جا رہی ہو اور سب سے بد تر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہو۔ “ (ترغیب و ترہیب منذری جلد 2 ص 133 ، ابن ماجہ و آداب المفرد) ان یتیموں اور بےسہارا بچوں کی نسبت سے پورے عالم اسلام کی خیراہی فرما دی اور وراثت کے متعلق عام اعلان فرما دیا گیا۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

ماں ، باپ اور (قریبی) رشتے داروں کے ترکے میں لڑکوں کا حصہ ہے (اور اسی طرح) ماں ، باپ اور (قریبی) رشتہ داروں کے ترکے میں لڑکیوں کا بھی حصہ ہے (وہ ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ اور یہ حصہ (تمہاری مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مقرر کیا گیا ہے

بات یتیموں اور بےسہارا بچوں کی ہو رہی تھی کہ وراثت کی تقسیم کا حکم عام آگیا : 22: عرب میں عورتوں اور بچوں کی تو میراث سے ویسے ہی محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں کا نظریہ اس بات میں یہ تھا کہ میراث کا حق صرف اس مردوں کو پہنچنا ہے جو لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے وارثوں میں جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا تھا وہ بلا تامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور ان سب لوگوں کا حصہ مار کھاتا تھا جو اپنا حصہ حاصل کرنے کا بل بوتا نہ رکھتے ہوں۔ حق اور فرض کی کوئی اہمیت ان کی نگاہ میں نہ تھی کہ دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر حق دار کو اس کا حق دیں خواہ وہ اسے حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ اس لئے اس آیت کے شان نزول یعنی نازل ہونے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک انصاری صحابی کا نتقال ہوا اور اس نے پسماندگان میں ایک بیوی اور تین لڑکیاں چھوڑیں۔ کچھ جو میت کے چچا کے بیٹے تھے وہ اٹھے اور اپنے چچا زاد بھائی کے سارے ترکہ پر قبضہ کرلیا متوفی کی بیوی اور اس کی تینوں بچیوں کو کچھ بھی نہ دیا۔ ایسا کیوں کیا ؟ اس وجہ سے کہ عربوں کے ہاں اس کا رواج ہی نہ تھا بلکہ وہ کیا کرتے تھے کہ مال صرف اس کو مل سکتا ہے جو دشمنوں سے لڑے اور یہ تینوں تو ویسے ہی بچیاں تھیں اور ان کی والدہ بھی آخر ایک عورت تھی اس لئے ان سب کی پروا نہ کی گئی۔ متوفی کی بیوی جو محروم کردی گئی تھی آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے خاوند کا انتقال ہوگیا اس نے تین بیٹیاں چھوڑیں اور میرے پاس اتنا بھی مال نہیں کہ میں ان کو کھانا ہی کھلا سکوں اس لئے کہ میرے پاس بھی اس کے چچا زاد بھائیوں نے کچھ چھوڑا بلکہ سارا ہی وہ لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے متوفی کے بھائیوں کی طلب کیا جو حقیقی بھائی نہیں تھے بلکہ چچا زاد تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے یہ بات پوچھی جو اس عورت نے عرض کی تھی انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس عورت کی اولاد اس قابل نہیں کہ گھوڑے پر سوار ہو سکے اور نہ ہی وہ کسی طرح کا کوئی بار اٹھا سکتی ہے نہ دشمن سے لڑ سکتی ہے۔ اس لئے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔ چناچہ اس میں اس بات کی پوری وضاحت کردی گئی اور حکم ہوا ” ماں باپ اور رشتے داروں کے ترکہ میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ لڑکوں کا حصہ ہے اور بالکل اس طرح ماں باپ اور رشتہ داروں کے ترکے میں لڑکیوں کا حصہ بھی ہے اور یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مقرر فرما کا اعلان کردیا ہے۔ اب رشتہ داروں کے حقوق مورث کے ورثہ میں مقرر ہوچکے ہیں جن کی وضاحت آگے آرہی ہے۔ ان حصص میں نہ کمی پیشی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی کو بالکل محروم کی جاسکتا ہے الا یہ کہ قانون خود کسی کو محروم کر دے۔ زیر نظر آیت میں واضح طور پر پانچ احکام بیان کر دئے گئے ایک یہ کہ میراث صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اس کی حق دار ہیں۔ ہاں ! ان کے حصص کی صورت کیا ہوگی اس کا حکم آگے آرہا ہے کہ اگرچہ مرد اور عورت برابر ہونے کے حصہ دار نہیں تاہم شریک میراث ضرور ہیں۔ دوم یہ کہ میراث بہر حال تقسیم ہوگی خواہ کتنی ہی کم اور کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور باقاعدہ حساب کتاب سے ہوگی ایسا نہیں کہ جو جس کے پاس ہے وہ اس کی سنبھال رکھے۔ ہاں ! حساب کتاب ہوجانے کے بعد اگر کوئی وارث اپنا حصہ کسی ایک وارث کو دے یا سب کو پنے حصہ میں شریک کر دے وہ دوسری بات ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک وارث دوسرے وارث کا حصہ خرید لے۔ سوم یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ وارثت کا حکم ہر ایک قسم کے مال پر ہے خوہ وہ نقد ہو سونا چاندی ہو یا املاک ہوں خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ۔ زرعی ہوں یا صنعتی مختصر یہ کہ وہ کسی صنف مال میں شمار ہوں وہ سب قابل تقسیم ہیں۔ چہارم یہ کہ میراث کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث کوئی مال چھوڑ کر انتقال کر جائے۔ جب تک وہ زندہ ہے اور اپنی زندگی میں جو کچھ وہ دے گا وہ میراث نہیں کہلائے گا۔ عطیہ ، ہبہ یا چاہو جو بھی اس کا نام رکھو۔ پنچم یہ کہ قریب تر رشتہ دار کی موجودگی میں بعید تو رشتہ دار میراث نہیں پائے گا۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور یاد رکھو جب ایسا ہو کہ ترکہ تقسیم کرنے کے وقت رشتے دار ، بےباپ اور مساکین افراد بھی حاضر ہوجائیں تو چاہیے کہ میت کے مال سے انہیں بھی تھوڑا بہت دے دو اور انہیں اچھے طریقے پر بات کہہ کر سمجھا دو

متوفی کا ترکہ تقسیم ہونے لگے تو ورثا کو کیا کرنا چاہئے ؟ 23: قانون میں جب حصے مقرر ہوگئے تو اب متوفی کے ورثا وہی قرار پائیں گے جو قرآن کریم نے بیان کردیئے اور وہی حصہ ان کو ملے گا جو قرآن کریم نے ان کے لئے مقرر کیا بلاشبہ اب قانونی حق دار تو وہی ہوں گے جو ازروئے قرآن کریم وارث قرار پاتے ہیں لیکن متولی کے ذوی الارحام اور خاندانی و انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے۔ اس لئے متوفی تو دار فانی سے رخصت ہوگیا اب اس کے صحیح وارثوں کو خطاب کر کے ہدایت دی جا رہی ہے کہ اگر وراثت تقسیم کرتے وقت قرابت مند یتیم اور مسکین یعنی فقیر قسم کے لوگ آموجود ہوں تو ہر چند وراثت میں ان کا کوئی شرعی حق نہ ہے تاہم وہ ڈانٹے ڈپٹے نہ جائیں بلکہ ان کو بھی اس میں کچھ تھوڑا بہت دے دیا جائے تو یہ بھلائی کی بات ہے اور بھلائی ہر حال میں بھلائی ہے۔ آج جس کے ترکہ پر تم بیٹھ گئے ہو کہ اس کو تقسیم کر لاق جائے۔ کل تمہارے ترکہ پر کوئی بیٹھ سکتا ہے دنیا کا نظام اس طرح چلتا آیا ہے اور چلتا جائے گا جب کہ اللہ نے اس کو باقی رکھنا ٹھہرایا ہے۔ اس ترکہ کے جب تم وارث نہیں قرار پائے تھے تمہارا وقت ہی اس وقت بھی گزرتا تھا اور اب اس ترکہ سے حصہ پانے کے بعد بھی وقت ہی پاس ہوگا۔ اس لئے یہ خیر کا کام ہے اس میں دل کھول کر حصہ لو اور اتفاق رائے سے کچھ اشیاء یا کچھ رقم اور سامان جو مناسب خیال کرو پہلے ان خاندان کے غرباء میں تقسیم کر دو تاکہ یہ بھی تم کو اور مرنے والے کو نیک دعا دے کر رخصت ہوں۔ یہ تو وہ مال ہے جس کے تم مالک نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اہل قرابت سے تو ویسے بھی کچھ دیتے رہنے کا حکم تم کو دیا گیا ہے اگر مالی کشائش اللہ نے تم کو دی ہے تو اہل قرابت کا خیال خصوصاً جو ان میں سے کمزور ہیں بہت ضروری ہے چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا : وَاٰتَی الْمَالَ عَلیٰ حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی (البقرہ : 2) ” اور مال اللہ کی محبت کے لئے قرابت داروں کو دیا کرو۔ “ یعنی مال و دولت کی محبت اور ذاتی ضرورت اور خواہش کے باوجود صرف اور صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے خود تکلیف اٹھا کر اپنے قرابت مندوں کی امداد کرو اس لئے کہ ان سے تعاون اور پھر وہ بھی خالص اللہ کی رضا کے لئے ایک بہت بڑی نیکی ہے اور پھر جتنی نیکی بڑی ہوگی اتنا ہی اس کا اجر بھی بڑا ہوگا۔ اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ماں باپ سے بھی نیک سلوک کرو اور ان کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آئو اور یاد رکھو کہ یہ ان عہد و پیماں میں سے ایک ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر لئے ہوئے ہے جن کو دنیا کے لوگ اور آج خصوصاً مسلمان بھول ہی چکے ہیں۔ فرمایا وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّذِی الْقُرْبٰی اور ماں باپ اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنے کا تم سے عہد لیا گیا ہے۔ پھر سورة نحل میں اہل قرابت کی امداد کو عدل و احسان کے بعد اپنا تیسرا خاص حکم بتایا۔ چناچہ ارشاد ہوا : اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَائِی ذِی الْقُربٰی (نحل : 16) ” بلاشبہ اللہ تم کو انصاف کرنے اور حسن سلوک سے پیش آنے اور قرابت داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے۔ “ اس طرح اگر کسی قرابت مند سے کوئی قصور ہوجائے تو اہل دولت کو زیبا نہیں کہ وہ اس کی سزا میں اپنی امداد کا ہاتھ اس سے روک لیں۔ چناچہ ارشاد ہوا : وَلَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُم وَاسَّعَۃِ اَنْ یَّئوْتُوْا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ (النور : 22:24) ” اور جو لوگ تم میں بڑائی اور کشائش والے ہوں وہ قرابت مندوں اور محتاجوں کے دینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں۔ “ حق قرابت کو اسلام میں وہ اہمیت حاصل ہے کہ داعی اسلام ﷺ اپنی ان تمام محنتوں ، زحمتوں ، تکلیفوں اور مصیبتوں کا جو تبلیغ اور دعوت حق میں ان کو پیش آئیں اور اپنے اس احسان و کرم کا و ہدایت ، تعلیم اور اصلاح کے ذریہ ہم پر فرمایا۔ معاوضہ اور مزدوری اپنی امت سے یہ طلب کرتے ہیں کہ رشتہ داروں اور قرابت مندوں کا حق ادا کرو اور ان سے لطف و محبت سے پیش آئو۔ یہ تو ایک دوسرے انسان پر فطری حق ہے خواہ کوئی کسی دین و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔ آخر میرا بھی یہ فطری حق تو تم پر موجود ہے تم اس کو بھی آخر کیوں بھول گئے ہو۔ فرمایا اور وہ بھی اللہ کے حکم سے اپنی طرف سے نہیں۔ ارشاد ہوا۔ قُلْ لَّا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرَاً اِلَّا الْمُوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی (الشوری : 42) ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کہ میں تم سے اس پر کچھ مزدوری طلب نہیں کرتا بجز اس کے کہ میری قرابت کا حق تو ادا کرو۔ “ و گویا فطری حق ہے۔ عربی زبان میں قرابت کا حق ادا کرنے کو ” وصل رحم “ کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں اس لفظ کی دوسری معروف شکل صلہ رحمی یعنی رحم ملانا ہے۔ اور قرابت کے حقوق کو ادا نہ کرنے کو قطع رحم سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ رحم مادری ہی دراصل تعلقات قرابت کی جڑ ہے۔ کسی امر میں دو انسان کا اشتراک ان کے باہمی کہیں ہم مذاقی ، کہیں ہم پیشگی ، کہیں ہم وطنی اور کہیں ہم قومی کی مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتا ہے۔ اس اشتراک کے عقد محبت کو استوار اور مضبوط رکھنے کے لئے جانبین پر حقوق کی نگہداشت اور فرائض محبت کی ادائیگی واجب ہے لیکن ان تمام بندھ کر ٹوٹ جانے والے اشتراک ہے جس کا موطن رحم مادر ہے۔ یہ ہم رحمی خالق فطرت کی باندھی ہوئی گرہ ہے اور اس کا توڑنا انسانی قوت سے باہر ہے اس لئے اس کے حقوق کی نگہداشت بھی انسانوں پر سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ایک حدیث میں بنی رحمت ﷺ نے انسانوں کے اس فطری گرہ کی تشریح استعارہ کے ان الفاظ میں بیان فرمائی کی رحم یعنی جو شکم مادر کے اندر ایک عضو ہے رحمن اللہ تعالیٰ کے نام سے مشتق ہے۔ اس لئے محبت والے خدا نے رحم کو خطاب کر کے فرمایا ” جس نے تجھ کو کاٹا اس کو میں نے کاٹا۔ “ اس مضمون کو ایک اور استعارہ کے مزید گہرے رنگ میں نبی کریم ﷺ نے اس طرح ادا فرمایا ” کہ رحم مادر انسانی عرش الٰہی کو پکڑ کر کہتا ہے جو مجھے ملائے اس کو اللہ ملائے اور جو مجھے کاٹے اس کو اللہ کاٹے۔ “ ایک اور موقع پر نبی اعظم و آخر ﷺ نے حسن تعبیر کا اس سے بھی زیادہ نازک طریقہ اختیار فرمایا ارشاد ہوا کہ اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو رحم انسانی نے اس رحمت والے خدا کا دامن (حدیث کا اصل لفظ حقوہ ہے) کو تھام لیا۔ اللہ نے فرمایا ٹھہر جا ! یہ اس کا مسکن ہوگا جو تیری گرہ کاٹنے سے بچے گا۔ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ جو تجھ کو ملائے اس کو میں اپنے ساتھ ملائوں جو تجھ کو کاٹے اس کو میں اپنے سے کاٹ دوں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کو یا رحم مادر اور اس رحمن کے رحم و کرم کے درمیان حرفوں کا یہ اشتراک محبت کے معنوی اشتراک کے بھید کو فاش کرتا ہے اور اس سے وہ اہمیت ظاہر ہوتی ہے جو اسلام کی نظر میں اہل قرابت کی ہے۔ رحم اور رحمن کے اس جوڑ کی طرف ہی اس سورة النساء کی پہلی آیت میں اشارہ کیا ہے جو پیچھے گزر چکا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی رحمت ﷺ سے آ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ فرمایا اللہ کی بندگی کرو۔ کسی کو اس کا ساتھی نہ بنائو۔ نماز مکمل طور پر ادا کرو۔ زکوٰۃ دو اور قرابت کا حق (صلہ رحم) ادا کرو۔ (صحیح بخاری کتاب الادب باب فضل صلۃ الرحم) جیر بن مطعم صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صلہ رحمی نہیں کرے گا اللہ اس کو جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ یعنی جنت میں اس کا داخلہ اس وقت تک رکا رہے گا جب تک اس کا یہ گناہ معاف نہ ہوجائے گا یا وہ اس گناہ سے پاک نہ ہو لے گا۔ (صحیح بخاری کتاب الاداب) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کرے۔ اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ ان نیک اعمال کا اثر اللہ نے یہ رکھا ہے کہ اس سے مال و دولت میں فراخی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے کیونکہ صلہ رحمی کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ضرورت مند رشتہ داروں کی مالی مدد کی جائے دوسری یہ کہ اللہ کی دی ہوئی عمر میں سے کچھ حصہ ان کی خدمت میں صرف کیا جائے پہلے کا نتیجہ اللہ کی طرف سے مالی و سعت اور کشادگی ہے اور دوسرے کا نتیجہ عمر میں برکت اور زیادتی کی صورت میں ملتا ہے۔ اس حدیث کی تشریح اس طرح بھی کی جاسکتی ہے کہ انسان کے خانگی افکار اور خاندانی جھگڑے بہت کچھ اس لے لئے اضمحلال ، تکدر اور قلبی پریشانی کا سبب ہوتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے خاندان والوں کے ساتھ نیکی کے برتائو ، صلہ رحمی اور خوش خلقی سے پیش آتے ہیں ان کی زندگی میں خاندانی مسرت ، انشراح اور طمانیت خاطر رہتی ہے جس کی وجہ سے ان کی دولت اور عمر دونوں میں برکت اور زیادتی ہوتی ہے۔ ترمذی میں یہ حدیث اس طرح کہ ” صلہ رحم سے قرابت والوں میں محبت ، مال میں کثرت اور عمر میں برکت ہوتی ہے۔ “ (ترمذی) حدیث میں اس کی بھی تصریح ہے کہ صلہ رحم کا کمال یہ نہیں ہے کہ جو بدلہ کے طور پر صلہ رحم کا جواب صلہ رحم سے دے بلکہ صلہ رحم یہ ہے کہ جو قطع رحم کرتا ہے اس کے ساتھ صلہ رحم کیا جائے۔ یعنی جو قرابت کا حق ادا نہیں کرتے ہیں ان کا حق ادا کیا جائے۔ (بخاری کتاب الاداب من بسط لہ فی الرزق) وہ قرابت دار جو متوفی کے مال میں وارث نہیں ہیں ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئو 24: وہ قرابتدار جو مال کی تقسیم کے وقت جو کسی متوفی کے ترکہ کا مال ہو موقع پر پہنچ جائیں اور وہ مستحق بھی ہوں تو ان سے جو سلوک کرو خوش دلی اور پیار و محبت کے ساتھ کرو ایسا نہ کرو کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ دیں وہ تمہاری زبانیں ضائع کردیں۔ اس دینے سے نہ دینا بہتر ہے۔ مثل ہے کہ تلوار کے زخم بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔ آیت کے اس حصہ میں یہ نصیحت کی گئی ہے کہ دیکھو انہیں اچھے طریقے سے بات سمجھا دو اور اپنا مدعا اس طریقہ سے بیان کرو کہ ان کا دل بھی نہ دکھے اور تم بھی جو بات ان تک پہنچانا چاہتے ہو پہنچا لو۔ آپ کی قوت قدسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں کے بگڑے ہوئے انسان پلک جھپکنے میں کچھ سے کچھ ہوگئے۔ اللہ جانے کب سے یہ رواج جاری تھا کہ وہ ورثہ صرف ان لوگوں کو ملے جو ملک یا قوم کی حفاظت کرسکتے ہیں اور جو اس قابل نہ ہوں ان کا ورثہ میں کوئی حق ہی تسلیم نہ ہو۔ عورتوں اور بچوں کی حمایت میں کب کسی نے آواز اٹھائی تھی اور ایسی جرات کی بھی کون سکتا تھا ؟ لیکن یتیم اور عاجز عورتیں کیا اپنے ہی حامیوں اور اپنے ہی محافظوں کے خلاف آواز اٹھا سکتی تھی ؟ مگر آسمان سے ایک آواز آئی اور اس کے سامنے تمام گردنیں جھک جاتی ہیں۔ ایک بادشاہ جس کی زندگی کا انحصار اس کے سپاہیوں کی بہادری پر۔ ان کے تلوار چلانے پر ہو کیا وہ ان ہی سپا ہوں کے حقوق جو انہوں نے خود ہی تجویز کئے ہوں دوسروں کے دینے کا کبھی خیال بھی کرسکتا ہے ؟ لیکن یہ کمال ہے اس نبی اعظم و آخر ﷺ کا کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعلان فرما دیا کہ یہ ان سپاہیوں کا حق نہیں بلکہ ان یتیموں اور بیوائوں کا حق ہے جو متوفی چھوڑ کر گیا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ اعلان کانا تھا کہ آپ ﷺ کے جاں نثاروں نے اس کو قبول کرتے ہوئے عمل کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ فرمانبرداری اس چیز کا نام ہے۔ یہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی قوت قدسی تھی جس نے دنیا میں ایسا انقلاب پیدا کر کے دکھا دیا جس کی نظیر دنیا کا کوئی دوسرا انسان نہیں دکھا سکا۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے دل پر نازل ہونے والا یہ پیغام آج بھی اسی طرح زندہ و تابندہ ہے اور قابل عمل ہے جیسا کہ نزول کے وقت تھا منسوخ نہیں جاسہ کہ بعض مفسرین نے کہہ دیا ہے اور یہ بات ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں سے کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جو قابل عمل نہ ہو بلکہ ایسا کہنا ہی قرآن کریم اور قرآن کریم کے نازل کرنے والے رب کریم پر بہتان عظیم ہے۔
Ayah 4:9

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کی طرف سے کیا کچھ اندیشہ ہو ؟ پس چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور ایسی بات کہیں جو درست اور مضبوط ہو

متوفی کے ورثاء کے لئے ایک مزید تنبیہہ کہ جو آج بیجو گے کل وہی کاٹو گے : 25: فرمایا کسی حق دار کے حق میں ناانصافی کرنے والے لوگوں کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ جس طرح ہم ہی میں سے ایک آدمی کے ترکہ کا معاملہ درپیش ہے اس طرح کل ہمارا معاملہ بھی ہو سکتا ہے۔ کیا اس قانون کے تحت بھی کبھی انہوں نے سوچنے کی کوشش کی۔ اگر وہ یہ بات ذہن نشین رکھیں تو کبھی کسی کے حق میں زیادتی کا سوچ بھی نہ سکیں۔ ہاں ! ہاں ! لوگوں کو اس بات سے ڈرنا ہی چاہئے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائے تو انہیں ان کی طرف سے کیا کچھ اندیشہ لاحق ہوتا ؟ ایسا ہی دوسروں کے لئے سمجھیں اور چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور ایسی بات کہیں جو صاف اور سیدھی ہو۔ اصل میں یہاں الفاظ ہیں ” قولَا سدیدا “ ۔ سدیدسد سے ہے جس کے معنی ہیں کسی اختلال کو بند کردینا یا روک دینا۔ قول سدید اس بات کو کہتے ہیں جو صحیح موقعہ پر پہنچنے والی ہو وہ ایک طرف اختلال کو روکتی ہے اور دوسری طرف قصد کو حاصل کرلیتی ہے۔ یعنی ایسی بات کرو جس کو کہی جا رہی ہے وہ محسوس بھی نہ کرے اور جو تمہارا مقصد ہے اس بات کو کہنے کا وہ بھی پورا ہوجائے۔ اس کو کہتے ہیں کہ ” سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی بچے۔ “ اس لئے یہاں ارشاد فرمایا کہ ” لوگوں کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کی طرف سے کیسا کچھ اندیشہ ہو ؟ پس چاہئے کہ اللہ سے ڈریں اور ایسی بات کہیں جو درست ہونے کے ساتھ مضبوط بھی ہو۔ “ دین اسلام کی یہ وہ ہدایات ہیں جن کے مطابق زندگی گزار کر انسان صحیح معنوں میں دنیا ہی میں جنت کا پر تو حاصل کرسکتا ہے کہ معمولی معمولی باتوں میں ایسے اصول بتا دیئے ہیں کہ ان کے مطابق عمل کرنے سے انسان صحیح انسان کہلا سکتا ہے لیکن افسوس کہ آج ہم نے ان باتوں کو بالکل بھلا دیا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقٰی جلد اول سورة البقرہ : 266:2)
Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ بےباپ بچوں کا مال ناانصافی سے خورد برد کرلیتے ہیں تو یہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اپنے پیٹ میں آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور قریب ہے کہ دوزخ میں جھونکے جائیں

بےسہاروں اور بےباپوں کا مال کھانے والے اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں : 26: محتاج محتاج ہی ہے خواہ کوئی ہو۔ لیکن جن کا دنیا میں کوئی سہارا ہی نہ ہو جیسے بچے کے لئے والدین قانون فطرت میں ایک بہت بڑا سہارا ہیں اور جو بےباپ ہوں آخر ان کا سہارا کون ہوگا ؟ اور ایسے بےسہاروں کا مال کھا جانے والے انسانوں کو فہرست میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں ؟ انسان کے تو معنی ہی انس و محبت ہیں پھر جس میں انس و محبت نہ رہا وہ انسان کا ہے کا ہوا ؟ ہاں ! ایسے بھی بہت ہیں جن کے ڈھانچے تو انسانوں کے سے ہیں لیکن انسانیت نام کی شے فی الواقع ان میں نہیں ہے اور وہ وہی ہیں جو مال جمع کرنے کی ہوس میں نہ محتاج دیکھتے ہیں نہ مسکین کی پروا کرتے ہیں اور نہ یتیم اور بےسہاروں کا کوئی درد ان کے سینے میں ہے۔ ان کا کام کھانا ہے اور حلال و حرام کی تمیزان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ لوگ صرف ایک ہی کام کے لئے دنیا میں آئے ہیں کہ مال جمع کریں اور پھر اس کو بار بار گنتے رہیں چناچہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ اَلَّذِیْ جَمَعَ مَالاً وَّعَدَّدَہٗ (الھمزہ : 2:104) ” وہ وہی ہے جس نے مال جمع کیا اور پھر اس کو گن گن کر رکھا۔ “ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کی مرنے پر اس کو یقین ہی نہیں۔ اس کے ذہن میں شاید یہی ہے کہ وہ خود اور اس کا یہ مال کبھی ختم نہیں ہوں گے یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗ اَخْلَدَہٗ (الھمزہ : 3:104) ” وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا۔ “ گویا مال نے اس کو ایسا اکھڑ بنا دیا ہے کہ اس کا کام لوگوں کی تحقیر و تذلیل اور غرباء و مساکین کے ساتھ زیادتی ہے اور مال کو گن گن کر رکھنے سے اس کی ہوس مزید بڑھتی ہی چلی جاتی ہے حتی کہ وہ کسی ضابطہ حیات کا پابند نہیں رہنا چاہتا وہ اپنی خواہش کا بندہ ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کو حیات جاوداں بخش دے گا اور دولت کے نشہ میں وہ اس قدر چور ہوچکا ہے کہ اس کو اپنی موت تک یاد نہیں رہی اس کے خیال میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ ایک وقت ایسا بھی آنا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوجانا ہے۔ ایسا مادہ پر ستانہ نظریہ حیات جو نزول قرآن کے وقت تھا اب بھی ہے۔ اب بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو اس دنیا کے مال و دولت اور جاہ اقتدار کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہ چیز ملے تو وہ پھول جاتے ہیں اور ڈینگیں مارتے ہیں کہ اس مال و دولت اور اقتدار نے ہمیں عزت دار بنا دیا اور اگر یہ سب کچھ نہ ملے تو اس وقت کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں ذلیل کردیا۔ اس عزت و ذلت کا معیار اس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا ملنا یہ نہ ملنا ہے پھر اس پر طرہ یہ کہ ان اقتدار و عزت مل جائے تو یہ ان کا کمال ہے اور اگر کہیں شکست کھا جائیں تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت و مال اور اقتدار آئے تو اس کو اللہ کی طرف نسبت کرنی چاہئے تھی اور اگر کوئی کمزوری ہو تو اس کو اپنی طرف نسبت کرنا چاہئے تھا۔ پھر یہ بھی کہ دنیا میں جو کچھ بھی ملتا ہے وہ ایک طرح کی آزمائش ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے اگر دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لئے دی کہ وہ اسے حاصل کر کے شکر گزار بنتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔ اگر مفلس یا تنگ حال بنایا ہے تو بھی دراصل امتحان ہی ہے کہ صبر اور قناعت کے ساتھ راضی بہ رضا رہتے ہیں اور جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے ان مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں یا اخلاق و دیانت کی حدود کو پھاندے جاتے ہیں اور اپنے مالک حقیقی کو کو سنے دینے لگتے ہیں۔ فرمایا کہ مال نے ان کو ایسا اندھا کردیا ہے کہ غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کو کھلانے کی بجائے ان کا مال بھی ہڑپ کر جانے کے لئے ہر وقت بےتاب رہتے ہیں اور ان کا ہاتھ جب پڑجاتا ہے وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو نگلنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ یہ وہ مال ہے جس کا نتجہب دوزخ کے دھکتے انگارے ہیں۔ اس طرح وہ جو کچھ بھی اپنے پیٹوں میں بھر رہے ہیں اور اپنے مصرف میں لا رہے ہیں اور اپنی تجوریوں میں جمع کر رہے ہیں دراصل وہ دوزخ کی آگ ہے اور وہ وقت عن قریب آنے والا ہے کی یہی آگ ان کو اور ان کے سارے مال کو جلا کر راکھ کا ڈھیر کر دے گی۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی لیکن پھر کھلی کی کھلی ہی رہ جائیں گی اس لئے کہ اب ان کے اس زیاں کا کوئی مداوا ان سے نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی کوئی دوسرا ان کے اس نقصان کو پورا کرنے والا ہوگا۔ 27: تقسیم میراث کے معاملہ میں پہلا حکم یا اصول یہ ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔ یعنی لڑکی سے لڑکے کا حصہ دو گنا ہوگا۔ گویا یہ ایک کلیہ ارشاد فرما دیا گیا جس نے لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کو میراث کا مستحق بنا دیا اور پھر ہر ایک کا حصہ بھی مقرر کردیا اور یہ اصول بھی معلوم ہوگیا کہ جب مرنے والے کی اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں تو ان کے حصہ میں جو مال آئے گا اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلہ میں دوگنا مل جائے گا یعنی اگر کسی مورث نے ایک لڑکا اور دو لڑکیاں چھوڑیں تو مال کے چار حصے کر کے 2/4 لڑکے کو اور 1/4 لڑکی کو دے دیا جائے گا لیکن اگر یک لڑکا اور تین لڑکیاں ہوں تو پھر ؟ ظاہر ہے کہ اس صورت میں کل مال کے پانچ حصے ہوں گے جن میں سے 2/5 لڑکے کو اور 1/5 لڑکی کو مل جائے گا۔ وقس علی ہذا۔ اندازہ کیجئے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کو حصہ دلانے کا کس قدر انتظام کیا اور کتنا پہارا انداز اختیار فرمایا کہ حکم کے اند یہ احتیاط رکھ دی کہ اگر لڑکیوں کو حصہ نہ دیا تو گویا ترکہ تقسیم ہی نہ کیا۔ کیونکہ تقسیم میں لڑکیوں کے حصہ کو اصل و بنیاد ٹھہرایا گیا۔ جیسے اکائی ایک بنیادی چیز ہے اگر اکائی نہ رہے تو حساب چل ہی نہیں سکتا۔ یہ نہیں ارشاد فرمایا کہ ” دو لڑکیوں کو ایک لڑکے کے حصہ کے برابر “ بلکہ ارشاد یہ فرمایا کہ ” لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دو “ جو لوگ بہنوں کو حصہ نہیں دیتے یا دیتے ہیں تو جھوٹ موٹ کا۔ وہ کیسے ؟ کہ ہم نے تو دیا تھا لیکن انہوں نے معاف کردیا۔ معاف کیسے کردیا ؟ بادل نخواستہ کہ ملنے کا تو ہے نہیں پھر کیوں بھائیوں سے نہیں بلکہ پورے معاشرے سے برائی مول لیں اور لوگ کہیں گے ؟ ایسے ہی شرما شرمی عدالت میں بیان ہوگئے اور قانون کا پیٹ بھر گیا ہاں ! اس لیے کہ قانون نافذ کرنے والوں کے پیٹ جو بھر دیے گئے وزیر مال سے لے کر پٹواری سب نے اپنا اپنا حصہ وصول کرلیا۔ اس طرح وراثت کی تقسیم عنداللہ کوئی تقسیم نہیں اور یہ ظلم عظیم ایسا ظلم ہے کہ اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں بڑے بڑے پڑھے لکھے حاجی ، نمازی ، اللہ والے ، دیندار نہیں بلکہ دین کے ٹھیکیدار سب اس معاملہ میں برار چلے آ رہے ہیں اس لیے کوئی شخص کسی کو کچھ کہہ نہیں سکتا اس لیے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے خود سوچیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس آیت سے علم فرائض کی ابتداء ہو رہی ہے اس لیے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ علم فرائض کیا ہے ؟ علم فرائض ان احکام شرعیہ کا نام ہے ان کا تعلق میت کے چھوڑے ہوئے مال سے ہے اور میت کے چھوڑے ہوئے مال پر دوسرے لوگوں کا استحقاق اور ملک ثابت ہوجانے کا نام میراث ہے اور موجودہ رشتہ داروں کے جو حقوق اور حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں یہی فرائض ہیں۔ علم فرائض نہایت شریف اور قابل قدر علم ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کے حاصل کرنے اور تعلمض کرنے کی نہایت تاکید اور اس پر ترغیب بھی فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت فصیح وبلیغ پردرد و رقت آمیز موثر وعظ میں فرمایا ہے کہ اے لوگو ! میں تم میں ہمیشہ نہیں ہوں گا۔ فرائض کو سیکھ لو اور یکے بعد دیگرے لوگوں کو سکھاؤ پھر فرمایا کہ یاد رکھو وہ وقت قریب ہے کہ وحی کا دروازہ بند ہوجائے گا اور علم کے معدوم ہونے کا وہ زمانہ آئے گا کہ دو آدمی ایک ضروری مسئلہ میں جھگڑتے ہوں گے اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہ ملے گا اور ایک دوسرے موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! فرائض کو سیکھو اس لیے کہ وہ نصف علم ہے اور سب سے پہلے جو علم میری امت سے اٹھایا جائے گا وہ علم فرائض ہے۔ غور کیجئے کہ اس ” اٹھائے جانے “ کے دو ہی مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس علم کا جاننے والا اور پوری سمجھ رکھنے والا کوئی نہ رہے اور دوسرا یہ کہ لوگ اس کے مطابق ورثہ تقسیم کرنا عملا چھوڑ دیں اور آج یہ دونوں باتیں ہی مسلمانوں میں موجود ہیں۔ ایک بار پھر سوچ لیجئے کہ آج کتنے ہیں جن کے ناموں کے ساتھ حضرت العلام ، علامہ صاحب ، مولانا صاحب اور پروفیسر و پر نسپل کے سابقے اور ایم اے اسلامیات ایم ایڈ اور پی ایچ ڈی کے لاحقے لگتے ہیں لیکن علم سے ایسے کورے ہوتے ہیں جیسے تازہ بھٹی سے نکلا ہوا برتن۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ وان مثل العالم الذی لا یعلم الفرائض کمثل البرنس لا راس لہ (جمع الفوائد) ” اور وہ عالم جو فرائض نہ جانتا ہو ایسا ہے ی سے بےسر کے ٹوپی “ یہ تو بےسر کے ٹوپی کا حال ہے اور جو سر ہی بغیر ٹوپی ہو اس کے لیے کوئی کیا کہے گا ؟ اس لیے تو آج علمائے کرام نے ما شاء اللہ سر سے ٹوپی اتار ہی دی ہے کہ نہ رہے بانس اور نہ بےبانسری۔ فی زماننا مسلمانوں میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے و دنیائے فانی کی محبت میں پھنس کر تقسیم وراثت کے شرعی اصولوں پر عمل کرنے سے کلی طور پر گریز کرتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری لاحق نہ ہو پھر اگر اپنے آپ کو گناہگار سمجھتے ہوں انحراف و گریز کیا تو یہ فسق اور گناہ عظیم کیا لیکن اگر خدانخواستہ قرآنی قانون سے انکار کیا یا اس سے نفرت اور اس کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے یہ نوبت آئی تو یہ صریح کفر ہوا۔ دنیا کے چند روزہ عیش و عشرت کی خاطر آخرت کی دائمی نعمت سے محروم ہوجانا اور عذاب دوزخ کو اختیار کرنا دنیا کے اس حامل کے پیش نظر مستقبل کو برباد کرلینا کتنی بڑی حماقت ، کوتاہ نظری اور ناعاقبت اندیشی ہے کسی نے کیا خوب کہا : ؎ ارے یہ کیا ظلم کر رہا ہے کہ مرنے والوں پہ مر رہا ہے جو دم حسینوں کا بھر رہا ہے بلند ذوق نظر نہیں ہے