Ayah 4:77تم حافظے کے کتنے کمزور ہو کہ ابھی تم کیا کہہ رہے تھے اور اب کیا ؟
131: باتونی لوگ کبھی بات کے پکے نہیں ہوتے کیوں ؟ اس لیے کہ ان کے منہ میں جو آتا ہے کہتے جاتے ہیں فرمایا ابھی تم اپنے ایمان و اخلاص کی دھونس جمانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جہاد جہاد کے نعرے لگا رہے تھے۔ تمہارا مطالبہ ہی یہ تھا کہ ان ساری بیماریوں کا حل جہاد ہے۔ ہم تو کمزوری کا اظہار کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمہارا ایک ایک شخص جہاد کے عشق سے سرشار ہے لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف سے صبر و تحمل اور انتظار انتظار کی ہدایت کی جاتی تھی اور تم کو کہا جاتا تھا کہ نماز ، نماز اور بس نماز اگر مزید کچھ کرسکتے ہو تو زکوٰۃ۔ یعنی یہ کہ صبر و استقلال سے کام لو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرو۔ اس لیے کہ ہمیں جو پروگرام دیا گیا ہے اس میں سرفہرست امن قائم کرنا ہے۔ چناچہ تم کو کہا جاتا رہا ہے کہ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ (البقرہ : 109:2) ” عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہوجائے۔ “ اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ (البقرہ : 120:2) ” نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ “ لیکن تمہاری صدائے بازگشت تھی تو یہی کہ لَوْ لَا نَزَلَتْ سُوْرَۃٌ ” ہم پر کوئی کیوں نازل نہیں ہوتی جس میں جنگ کا حکم دیا جائے۔ “ (محمد : 20:47) لیکن جب جہاد فرض ہوگیا تو تم نے کیا کہا۔ کیا تمہارا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ کل کی بات آج ہی بھول گئے ؟
جب جہاد فرض ہوا تو تم نے پادنا شروع کردیا اور تمہارے پیٹ میں بل پڑنے لگے :
132: لیکن اب جب کہ جہاد کا حکم دے دیا گیا ہے تو چھپتے پھرتے ہو اور ایسا لگتا ہے کہ گویا خدا سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہو اور اب تم کو شکایت ہے تو یہ کہ اتنا جلدی جہاد کا حکم کیوں دے دیا گیا ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کل جو کچھ تم کہہ رہے تھے تو وہ تم نہیں تھے۔ صورت حال جو کچھ بھی ہے اب یہ یاد رکھو کہ فرائض سے فرار موت سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ موت اپنے وقت پر ہی آئے گی اور جب اس کا وقت آجائے گا تو وہ ہر اس شخص کو ڈھونڈ لے گی جس کے لیے وہ مقدر کردی گئی اور مضبوط سے مضبوط قلعے بھی اس کو موت سے بچا نہیں سکیں گے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہیں ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا۔ ان سے کہو کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے ؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے ؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مددگار نہیں پا سکتے۔ “ (الاحزاب : 17 ۔ 16:33)
اچھی طرح سوچ لو کہ اس فرار سے کچھ تمہاری عمر بڑھ نہیں جائے گی اس کا نتیجہ بہرحال یہ نہیں ہوگا کہ تم قیامت تک جیو اور روئے زمین کی دولت پا لو۔ یاد رکھو کہ تم اتنا ہی کچھ دنیا کی زندگی کا لطف اٹھا سکو گے جتنا تمہارے لیے مفید ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے مسلمان ہی اس کمزوری کا شکار ہوچکے تھے۔ ہرگز نہیں بلکہ اس سے مراد وہ دو دلے لوگ ہیں جو شور و غوغا تو کرسکتے ہیں لیکن جب وقت آتا ہے تو پھر نظر ہی نہیں آتے۔ اسلام کی زبان میں یہ منافق کہلاتے ہیں یہ اس وقت بھی کچھ نہ کچھ ضرور موجود تھے اور ہر زمانے میں رہے ہیں اور آج بھی ان کی کوئی کمی نہیں۔ بلاشبہ جہاد فرض ہونے کا مطالبہ پکے مسلمانوں کا بھی تھا لیکن ان پکے مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے کچھ ایسے مشورے دینے والے بھی موجود تھے جو اس مطالبے میں پیش پیش تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مطالبہ پورا ہونے کا وقت آیا تو پکے مسلمان جہاد میں شریک ہوئے اور دل کھول کر لڑے ان کے اس جہاد کی داستانیں آج تک مخالفین کے کانوں میں گونج رہی ہیں تاہم ان ہی لوگوں میں کچھ تھوڑ دلے بھی موجود تھے اس لیے ان کو مخاطب کر کے بات کی جا رہی ہے کہ کل تو تم جہاد جہاد کر رہے تھے اور آج جہاد کا حکم آگیا تو تم نے پادنا شروع کردیا اور تمہارے پیٹ میں بل پڑنے لگے اور ہنسی ہنسی ہی میں تمہارا کام تمام ہوگیا۔
کیا یہ آواز تمہاری ہی ہے کہ اے اللہ ! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی ؟
133: جب تک جہاد کا مطالبہ تھا اس وقت تک مسلمانوں اور منافقوں میں کچھ خاص فرق نہیں تھا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ نماز وہ بھی پڑھتے تھے اور یہ بھی۔ روزے وہ بھی رکھتے تھے اور یہ بھی ، زکوٰۃ وہ بھی ادا کرتے تھے اور انہیں بھی تامل نہیں تھا اس لیے کہ یہ ٹھنڈا ٹھنڈا اسلام ان کو قبول تھا۔ جہاد کا مطالبہ وہ بھی کرتے تھے اور شور و غوغا ان کا بھی یہی تھا لیکن جب جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو یہ ٹھنڈے پڑگئے ، ان کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور اس طرح ان کے نافق کا حال کھل گیا اور نمائشی اسلام کا وہ لبادہ اتر گیا جو انہوں نے اوپر سے اوڑھ رکھا تھا اور اب وہ کہنے لگے ” اے اللہ ! تو نے ہم پر جنگ کرنا کیوں فرض کردیا ؟ کیوں نہ ہمیں تھوڑے دنوں کی اور مہلت دی۔ “ اس طرح کل تک وہ اپنی جس حالت کو چھپائے ہوئے تھے اور لہو لگا کر شہیدوں میں داخل تھے آج ان کی حالت کھل کر سامنے آگئی اور سب کو معلوم ہوگیا کہ یہ مومن نہیں بلکہ منافق تھے۔ بھیڑیا شیر کی کھال پہن کر آخر کب تک شیر رہ سکتا ہے ؟ کیونکہ شیر شیر ہے اور بھیڑیا بھیڑیا۔ ان لوگوں کی اس حالت کا ذکر دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا۔
” جو لوگ ایمان لائے وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی جس میں جنگ کا حکم دیا جائے مگر جب ایک محکم سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے لوگوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو ، افسوس ان کے حال پر کہ ان کی زبان پر تو اطاعت کا اقرار تھا لیکن دلوں میں کیا چھپا تھا ؟ “ (محمد : 20:47)
ان کو سمجھاؤ کہ دنیا کیا ہے ؟ ” چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے “ :
134: حق کی حمایت اور حفاظت کے لیے لڑتے ہوئے مر جانا اس ذلیل زندگی سے بدرجہا بہتر ہے جس میں صرف یہی پیش نظر ہو کہ دنیا کا کچھ مال اکٹھا کرلیا جائے۔ حفاظت حقوق کے سامنے مال دنیا کوئی چیز نہیں اور دنیا کی نعمتوں کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں افضل و بہتر ہیں اور گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بھی بہتر ہے۔ دنیا کی زندگی بامقصد ہونی چاہئے۔ وہ مقصد کیا ہے ؟ آخرت کا حصول۔ کہ دنیا نہ ہوتی تو آخرت کا سوال پیدا ہی نہ ہوتا یاد صرف یہ رکھنا ہے کہ دنیا کی نعتیں قلیل ہیں اور آخرت کی نعمتیں کثیر ہیں۔ دنیا کی نعمتیں ختم ہونے والی ہیں اور آخرت کی نعمتیں غیر فانی ہیں۔ دنیا کی نعمتوں کے ساتھ طرح طرح کی پریشانیاں بھی ہیں اور آخرت کی نعمتیں ان پریشانیوں سے پاک ہیں۔ دنیا کی نعمتوں کا حصول یقینی نہیں اور آخرت کی نعمتیں متقین کی میراث قرار پا چکی ہیں۔ کسی نے کیا عجیب کہا ہے :
ولا خیر فی الدنیا لمن لم یکن لہ
من اللہ فی دارا المقام نصیب
فان تعجب الدنیا رجالا فانھا
متاع قلیل والزوال قریب
” اس ناپائیدار دنیا میں ایسے انسان کے لیے کچھ بھلائی نہیں ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پائیدار گھر یعنی آخرت میں کوئی جگہ نہ ہو۔ پھر اگر دنیا کچھ لوگوں کو فریفتہ کرے تو وہ خبردار رہیں کہ یہ دنیا تو متاع قلیل ہے اور اس کا زوال بہت قریب ہے۔ “ ادھر آنکھ بند ہوئی اور ادھر آخرت سامنے آئی۔ اس لیے حباب آب پر انحصار آخر کب تک ؟
Ayah 4:78موت سے فرار ؟ سوچ لو ! اس کی کوئی صورت ممکن بھی ہے :
135: انسان پیدا ہوا ہے ؟ کیوں ؟ مرنے کے لیے اور آج تک تو یہی ہوتا آیا ہے کہ جو پیدا ہوا ہے وہ یقینا مرا۔ قتال فرض کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ وہ مسلمانوں کی زندگی کے قیام کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔ پس جب سوائے اس کے چارہ نہیں تو خواہ اس کے کرنے میں جان رہے یا جائے وہ کام کرنا ہوگا۔ یہ کوئی اصول زندگی نہیں کہ اگر ایک کام کے کرنے کی ضرورت انسانی زندگی کے بقاء کے لیے ہے موت کا خطرہ ہو تو انسان وہ کام نہ کرے اس طرح پر موت سے بچنا گویا انسانی زندگی کی اصل غرض ہوگئی حالانکہ یہ بات بذاتہ بالکل غلط ہے تاہم اگر تم موت سے بچنے ہی کو انسان کی زندگی کی اصلی غرض قرار دیتے ہو تو ضرور اس کے حصول کا سامان بھی تمہارے پاس ہوگا۔ پس اپنی جانوں سے موت کو دور رکھ کر بتاؤ کہ تم نے اس مقصد کو حاصل کرلیا ہے۔ ورنہ انسانی زندگی کے مقصد کو یوں کھویا اور شرف انسانی کو بٹا لگایا اور موت تو پھر بھی آخرکار آ کر ہی رہی اس کے بچاؤ کا کوئی نسخہ نہ پہلوں کے پاس تھا اور نہ تمہارے پاس ہے۔
کتنے تھے جو موت سے ڈر کر جہاد میں شریک نہ ہوئے لیکن پھر بھی مر گئے اور کتنے تھے جو ہر جنگ میں شریک ہوئے بلکہ پیش پیش رہے اور جہاد فی سبیل اللہ میں مارے جانے کی ان کی خواہش بھی تھی لیکن وہ ہر میدان سے بخیریت لوٹے۔ موت سے زیادہ ڈرنے والا منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی ہی تھا کیا وہ موت سے بچ کیا ؟ کیا جو احد میں شریک ہوئے وہ سارے مر گئے ؟ ان میں تو وہ بھی تھے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی وفات کے بعد بھی ساٹھ سال تک زندہ رہے۔
خالد بن ولید جو اسلام کے سپاہی اور مشہور و معروف جرنیل تھے اور سیف اللہ ان کا لقب تھا اسلام کی پوری عمر شہادت کی تمنا میں جہاد میں مصروف رہے اور ہزاروں کافروں کو تہہ تیغ کیا۔ ہر خطرے کی وادی کو بےخوف و خطر عبور کیا اور ہمیشہ یہی دعا کرتے تھے کہ میری موت چارپائی پر نہ ہو بلکہ ایک نڈر سپاہی کی طرح میدان جہاد میں کام آؤں لیکن موت کا پروانہ آیا تو بستر پر ہی آیا۔ یہ بات معلوم ہوگئی کہ زندگی اور موت کا نظام قادر مطلق نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا ہے ، جب وہ چاہے تو آرام کے بستر پر موت دے دے اور چاہے تو تلواروں کی چھاؤں میں بھی بچا لے فرمایا : موت سے بچنا تو ممکن نہیں ہے چاہے وَلَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ” اگرچہ تم اونچے اور مضبوط قلعوں کے اندر چھپے ہو۔ “ کیونکہ موت کسی انسان کی طرف سے نہیں آتی بلکہ اس قادر مطلق کی طرف سے آتی ہے جس نے ہر انسان کی موت کا وقت متعین کردیا ہے۔
بھلائی کی نسبت تو یہ لوگ اللہ کی طرف کرتے ہیں لیکن مصیبت کی نسبت تیری طرف ، کیوں ؟
136: منافقین میں سے کسی ایک کی زندگی کو پڑھنے کے لیے منتخب کرلو اور پھر اس کی زندگی کا ایک ایک واقعہ پڑھتے جاؤ تم کو معلوم ہوگا کہ منافق کا کوئی کام اور منافق کی کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس میں اس نے اپنے نکلنے کے لیے کوئی نہ کوئی رخنہ نہ رکھا ہو۔ یعنی وہ بیک وقت چالاک ، مکار اور عیار بھی ہوتا ہے اور عقل مند ، سمجھدار اور فرمانبردار بھی۔ آپ پیچھے پڑھتے آ رہے ہیں تو آپ کو یقینا معلوم ہوگا کہ ہم نے ان کو ” دوہری پوزیشن کے لوگوں “ کے نام سے اکثر یاد کیا ہے۔ ان کی دوہری پوزیشن یہی ہے کہ بیک وقت سب کچھ ہیں زیر نظر آیت میں ایک جملہ ارشاد فرمایا گیا ہے : ” جب ان کو کوئی بھلائی کی بات پیش آئی ؟ تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ “ یہ بالکل وہی بات ہے جس کو ان کے دل تسلیم نہیں کرتے لیکن اس کے باوجود وہ اس قدر محتاط ہیں کہ بھلائی کی نسبت وہ اللہ کی طرف کر رہے ہیں۔ معلوم ہے کہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ برائی کی نسبت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنا چاہتے ہیں اور اپنا راز چھپانا چاہتے ہیں اور وہ اس طرح چھپایا جاسکتا ہے۔ ان کا راز کیا ہے ؟ راز یہ ہے کہ وہ مسلمان نہ ہونے کے باوجود اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں ہماری یہ بات کسی پر ظاہر نہ ہو اس لیے وہ بولیں گے تو بڑی احتیاط سے کام کریں گے تو بڑی احتیاط سے اور یہی ہاتھ انہوں نے اس جگہ دکھایا ہے۔ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کی بھلائی کی طرف نسبت دے کر اپنی فرمانبرداری اور اسلام دوستی کا اظہار کیا اور جب وقت آیا تو اللہ کے رسول ﷺ پر سارا کیچڑ پھینک دیا اور پھر مسلمان کے مسلمان بھی رہے۔ اس طرح گویا انہوں نے بزعم خویش سانپ بھی مارا اور لاٹھی بھی بچا لی کہ کافر کے کافر بھی رہے اور اسلام بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کی اس ” دوہری پوزیشن “ کو اس طرح بیان فرمایا ہے : ” اے پیغمبر اسلام ! جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ یقینا اللہ کے رسول ہیں۔ ہاں ! اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔ “ (المنافقون : 1:63)
ان کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام اس چیز کا نام نہیں کہ ” آدھا تیتر آدھا بٹیر “ ماننا ہے تو سارا مانو اور انکار کرنا ہے تو سارے کا انکار کرو۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ” میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ “ جتنا چاہا مان لیا اور جس سے چاہا انکار کردیا۔ “ اے پر غمب اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ “ کیونکہ اس نے ہرچیز اور ہر عمل کے نتائج مقرر کردیے ہیں جیسا عمل ہوگا ویسا ہی اس کا نتیجہ ظاہر ہوجائے گا۔ یہ فلسفہ تم نے کہاں سے نکالا کہ بھلائی کی نسبت اللہ کی طرف تاکہ تم مسلمان سمجھے جاؤ اور جب کوئی مصیبت آجائے جو حقیقت میں ہو تو تمہارے عمل کا نتیجہ ، لیکن تم اس کو اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ڈال دو تاکہ اس کفر کی حمایت تم کو حاصل ہوجائے اور پھر تمہارا یہ کفر اسلام کے اندر چھپ بھی جائے۔ قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدَ اللّٰہِ کا جملہ بول کر اللہ نے ان کے سارے راز کو فاش کردیا کہ نہ وہ اس کو مانیں گے اور نہ سچے مسلمان کہلائیں گے اور اس طرح اپنی ” دوہری پوزیشن “ کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر کردیے جائیں گے اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اس ” دوہری پوزیشن “ سے نقصان کس کا ہوا ؟ لیکن ” اب پچھتائے ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ “ فرمایا : ” ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ہو سمجھ سوچ کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ “ یہی ہیں جو ” چلتی کا نام گاڑی رکھیں اور بنے دودھ کو کھویا۔ “
Ayah 4:79اصلاح کا پہلو اس میں تھا کہ بھلائی کی نسبت اللہ کی طرف اور برائی کی نسبت اپنی طرف کرتے :
137: یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کی رضا ہے اور ایک اللہ کی قضا و قدر کے فیصلے۔ جو شخص ان دونوں میں فرق کرنا نہیں جانتا وہ ہمیشہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ مِنَ اللّٰہِ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عین رضا کے مطابق ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ ” مِنْ عِنْدَ اللّٰہِ “ ہے۔ ادب و احترام کی سیدھی اور صاف راہ یہ ہے کہ انسان کو جب بھی کوئی بھلائی اور اچھائی نصیب ہو یا بھلائی اور اچھائی کا نتیہجہ اس کے سامنے آئے تو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے کرے کہ وہ خیر کل ہے لیکن جب کوئی معاملہ اس کے برعکس ہوجائے تو اس کی نسبت اپنی ذات کی طرف کرتے ہوئے اس کی اصلاح کرے۔ کوئی نقصان ہوا یا کوئی مصیبت آئی تو سمجھے کہ یہ میری کسی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ اس اصول کے اندر بڑے راز مضمر ہیں اس لیے جس انسان کو اس کی سمجھ آجائے اور اس کے مطابق وہ عمل کرنا شروع کر دے سمجھو کہ اس پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہوگیا۔
زیرنظر آیت میں اس بات کا درس ہے فرمایا جو کچھ برائی پیش آتی ہے وہ خود تمہاری ہی بدعملی کا نتیجہ ہے اس کا الزام کسی دوسرے کے سر نہ ڈالو۔ پیغمبر اسلام تو اللہ کے رسول ہیں اور رسول کا کام یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے پیغام پہنچا دے۔ ماننا یا نہ ماننا تمہارا کام ہے اگر تم ان کے احکام کی اطاعت نہ کرو اور اس کا برا نتیجہ پیش آئے تو اس کی ذمہ داری تم پر ہے نہ کہ پیغمبر اسلام پر۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی جماعت یا کسی ریاست کی پیشوائی کا منصب رکھتا ہے اسے کیسی کیسی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے ؟ وہ جب عزم و عمل کی دعوت لوگوں کو دیتا ہے تو ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی پیدا ہوجاتا ہے جو یقین کا کچا اور ہمت کا کمزور ہوتا ہے وہ اطاعت کی جگہ مخالفت کی روش اختیار کرلیتا ہے۔ پھر جب اس صورت حال کی وجہ سے کوئی ناکامی پیش آجاتی ہے تو بجائے اس کے کہ وہ لوگ اپنی بدعملیوں پر نادم ہوں۔ سارا الزام رئیس جماعت کے سر ڈال دیتے ہیں اور اس طرح مخالفت کا ایک نیا بہانہ ان کے ہاتھ آجاتا ہے اور یہ وقت رئیس جماعت کے لیے بھی سخت ہوتا ہے پھر رسالت کا منصب تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے اس کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پھر رسول ہی وہ انسان ہے کہ ایسے نازک وقت میں بھی کوئی بات منہ سے ایسی نہیں نکالتا جو کسی برے سے برے انسان کے لیے بھی باعث تکلیف ہو۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک خاص دائرہ کے اندر آزادی بخشی ہے۔ یہ آزادی بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس پر انسان کے سارے شرف کی بنیاد ہے۔ اس کی وجہ سے انسان آخرت میں جزاء و سزاء کا مستحق ٹھہرے گا۔ اگر یہ آزادی انسان کو حاصل نہ ہوتی تو ایک گھوڑے اور انسان کے درمیان سوائے شکل و صورت کے کوئی فرق نہ ہوتا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نیک ارادے بھی اللہ کی توفیق سے پورے ہوتے ہیں اور برے ارادے بھی اس کی مہلت دینے سے بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کے برے ارادے کو بروئے کار آنے دیتا ہے تو اس پہلو سے وہ اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے کہ اس کا بروئے کار آنا اللہ ہی کے قانون سے مشیت سے ہوا لیکن دوسرے پہلو سے وہ انسان کا فعل ہے کیونکہ اس کا ارادہ انسان نے خود کیا۔ لیکن اگر اس ارادے کی آزادی انسان سے واپس لے لی جائے تو وہ مکنلف کیوں کر ہوا ؟
Ayah 4:80رسول کی رسالت کے مان لینے سے رسول کا فائدہ ؟ اور نہ ماننے سے اس کا کوئی نقصان :
138: فرمایا : اے پیغمبر اسلام (e) ! اگر یہ منافقین تمہاری رسالت کے باب میں متردد ہیں اور تمہارے ہر قول و فعل کو اللہ کی طرف سے نہیں سمجھتے تو اس بات کی پرواہ نہ کرو کیوں ؟ اس لیے کہ اس طرح کا اقدام کر کے یہ آپ ﷺ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے جو نقصان ہوگا وہ سراسر ان کا اپنا ہوگا اور جو شخص اپنا نقصان خود کرنے پر تل جائے اس کو روکنے کا کوئی فائدہ ؟ ہاں ! اس طرح وہ روکے والے کو مطعون کرے گا اس لیے اس کو اپنے کیے کا مزہ چکھ لینے دو اور تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں ہے اس لیے کہ اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ پھر ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کی حوصلہ افزائی بھی فرما دی۔
صاحب عزم کو چاہئے کہ وہ ان باتوں سے دل گرفتہ نہ ہو ، اللہ پر بھروسہ رکھے اور اپنے کام میں سرگرم رہے۔ اس کا عزم و ثبات بالآخر تمام دشواریوں پر غالب آجائے گا۔
Ayah 4:81اللہ کی اطاعت کا دعویدار رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کر کے خود اپنے دعویٰ کی تردید کرتا ہے :
139: جن لوگوں نے بھلائی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تھی اس نسبت سے انہوں نے اللہ کی اطاعت کا دعویٰ کیا لیکن وقت آنے پر برائی کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر کے گویا انہوں نے اپنے دعویٰ کی خود تردید کردی۔ اس لیے کہ رسول جب اللہ ہی کا رسول ہے اور اس کی اطاعت ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لیے وہ اس سے انکاری ہیں۔ حالانکہ رسول کی اطاعت ہی اللہ کی اطاعت ہے۔ جس نے رسول کی اطاعت سے سر پھیرا اس نے یقینا اللہ کی اطاعت کو قبول نہیں کیا۔ اس لیے ایسا دعویٰ جس کی تردید دعویٰ کرنے والا خود ہی کر دے اس پر کسی خارجی شہادت کی ضرورت پیش ہی نہیں آتی وہ خودبخود خارج ہوجاتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسا دعویدار توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرتا ہے جس کی سزا بذاتہ بڑی سخت ہے اور وہ دھوکہ دہی کا مجرم بھی ٹھہرتا ہے اس لیے اس کی ” دوہری پوزیشن “ کے پیش نظر اس پر دوہری سزا لازم آتی ہے۔
اس لیے فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو داروغہ یا پاسبان بنا کر نہیں مبعوث کیا بلکہ پیغام بر بنا کر بھیجا ہے۔ آپ ﷺ کا کام پیغام پہنانا تھا وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اب اگر کوئی بدبخت آپ ﷺ کا انکار کرتا ہے تو اس نے آپ ﷺ کا انکار ہی نہیں کیا بلکہ اس نے بھیجنے والے یعنی اللہ کا انکار کیا پھر جب اس نے اللہ کا انکار کردیا تو وہ اس کی سزا سے بچ کر کہاں جائے گا ؟ اور کیسے جائے گا ؟ آپ ﷺ فکر نہ کریں بلکہ سمجھیں کہ ” بس وہ دھر لیا گیا۔ “
اللہ کے رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور اللہ کا رسول اس لیے آتا ہے کہ پیغام برحق پہنچا دے اس لیے نہیں کہ لوگوں کے اعمال کا پاسبان ہو اور انہیں جبراً اپنے طریقے پر چلائے۔
اسلامی نظام میں اصلک مطاع بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہے لیکن یہ تصور کس نے دیا ؟ رسول نے ؟ اس لیے اسلام کہتا ہے کہ رسول کی اطاعت مستقل بالذات اطاعت نہیں ہے بلکہ اطاعت الٰہی کی واحد عملی صورت ہے۔ اس بات کو آپ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ اطاعت اللہ کی ہے لیکن عمل و طریقہ رسول کا۔ اس لیے وہی اطاعت ” اللہ کی اطاعت “ کہلائے گی جو اللہ کے رسول ﷺ کے ” عمل و طریقہ “ کے مطابق ہوگی۔ وہ شخص جو اللہ کی اطاعت کا دعویدار ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت یعنی عمل و طریقہ سے سر پھیرتا ہے وہ ہرگز ہرگز اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ کی اطاعت صرف اسی طریقہ سے کی جاسکتی ہے کہ رسول اللہ اطاعت کی جائے اس لیے رسول کی پیروی سے منہ موڑنا اللہ کے خلاف بغاوت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا اپنا ارشاد بھی اسی طرح ہے چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : من اطاعنی فقد اطاع اللہ ومن عصانی فقد عصی اللہ ” جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ “ اور یہی بات قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے جس کی یہاں تفسیر بیان کی جا رہی ہے۔
اس اطاعت کو دو حصوں میں کیوں بیان کیا گیا ؟ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کو ابد الا باد زندہ نہیں رہنا تھا بلکہ آپ ﷺ کا اٹھا لیا جانا بھی لازم و ضروری تھا اس لیے الٰہی پیغام یعنی کلام اللہ اور ” عمل و طریقہ “ رسول دونوں میں خط امتیاز بھی ضروری تھا اور یہ اس صورت مںٰ ممکن تھا کہ ان دونوں کی حیثیت الگ الگ قائم کی جاتی اور یہی کچھ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کلام اللہ یعنی قرآن کریم کو باقاعدہ تحریر کروا کر اول تا آخر مکمل کروا دیا جو اطیعوا اللہ کا مرکز قرار پایا اور رسول اللہ ﷺ کی تشریحات و تفسیر کو آپ ﷺ کا ” عمل و طریقہ “ مشاہدہ کرنے والوں نے منضبط کرا دیا جو اَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ کی جیتی جاگتی تصویر ہے اور دونوں کے امتزاج کا نام اسلام ہے۔
اس جگہ ایک شبہ کا ازالہ کردینا بھی ضروری ہے کہ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ شبہ پیدا کیا گیا ہے کہ تمام مسائل زندگی کے فیصلے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ممکن ہی نہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ جو چیزیں بعد میں پیدا ہوئیں اور اس وقعت ان کا وجود ہی نہیں تھا جیسے میونسپل کمیٹیاں ، ڈاک خانہ ، ریلوے ، پی ڈبلیو ڈی ، ٹیلیفون ، تار برقی ، بجلی ، وائرلیس ، ریڈیو ، ٹی وی اور وی سی آر وغیرہ اور ان کے قواعد و ضوابط اور اس طرح ان گنت معاملات کے احکام سرے سے جب وہاں موجود ہی نہیں تھے اس کے ازالہ کے لیے سب سے پہلے یہ یاد رکھنا ہے کہ یہ شبہ اصول دین کو نہ سمجھنے کی بناء پر پیدا ہوا۔ مسلمان کو جو چیز کافی کافر سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کافر مطلق آزادی کا مدعی ہے اور مسلمان فی الاصل بندہ ہونے کے بعد صرف اس دائرہ کی آزادی سے متمتع ہوتا ہے جو اس کے رب نے اسے دی ہے۔ کافر اپنے سارے معاملات کا فیصلہ خود اپنے بنائے ہوئے اصول اور قوانین اور ضوابط کے مطابق کرتا ہے اور سرے سے کسی خدائی سند کا اپنے آپ کو حاجت مند نہیں سمجھتا اس کے برعکس مسلمان ہر معاملہ میں سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر اگر وہاں سے کوئی حکم ملے تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے اور وہ چیزیں جو نئی نئی ایجاد ہوتی ہیں ان کے متعلق کتاب و سنت سے استنباط کر کے جائز و ناجائز کی تمیز کرتا ہے اور اس کی یہ آزادی اس حجت پر مبنی ہوتی ہے کہ اس معاملہ میں شارع نے جو احکام دیے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل تیار کرتا ہے۔ پھر جو لائحہ عمل تیار کرتا ہے اس پر مزید تجربہ کرتا رہتا ہے اگر اس کے نقصانات زیادہ اور نفع کم ہو تو ترک کردیتا ہے اور نفع زیادہ اور نقصانات کم ہوں تو ان کو کرتا رہتا ہے اور اس میں اگر وہ نور بصیرت سے کام لے تو ان شاء اللہ کم ہی خطا ہوتی ہے اور اگر کہیں غلطی ہو بھی جائے تو معلوم ہونے پر اس سے تائب ہو کر اپنے مالک حقیقی سے معافی طلب کرتا ہے اور اسلام کا رب اس کے سارے اعمال سے چونکہ خبردار ہوتا ہے اور اس طرح وہ اس کی نیت سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے اگر اس کی نیت میں کوئی فتور نہ ہو تو وہ معاف کردیتا ہے۔
اس طرح کی جتنی ایجادات ہوئی ہیں اور جو جو ابھی مزید ہوں گے ان سے جائز فائدہ وہ اپنا حق سمجھتا ہے کیونکہ وہ اس کے رب ہی کے پیدا کیے گئے عناصر سے ترتیب پائی ہیں اور ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی وہ کبھی کوشش ہی نہیں کرتا اور وہ جانتا ہے کوئی ایجاد بذاتہ خود غلط نہیں غلط ہمیشہ اس کا استعمال ہوتا ہے اس لیے وہ ہر ایجاد سے جائز فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ نئی نئی ایجادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ جس طرح قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اسی طرح اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا فعل ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام اور اللہ کا فعل ایک دوسرے کے خلاف نہیں ہو سکتے بلکہ وہ دونوں ایک ہیں اس لیے وہ سائنس سے کبھی دور نہیں بھاگتا بلکہ قرآن کریم کے مطابق اس کو ترتیب دینے کی سعی کرتا ہے جس میں وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کامیاب ہی ہوتا ہے اس طرح نئے نئے اسلحے تیار کرتا اور ان کے استعمال کا علم حاصل کرتا ہے لیکن ان کے استعمال میں وہ قرآن کریم کی راہنمائی کے مطابق پوری احتیاط برتتا ہے تاکہ چھری اس چیز کو کاٹے جس کے کاٹنے کا اس کو حق ہے اور اس سے تجاوز بھی نہیں کرتا تاکہ اس سے مواخذہ نہ ہو۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ اب اس شبہہ کا ازالہ ہوگیا ہوگا اور مزید کوئی شبہ پیدا بھی نہیں ہوگا۔
اسلام اس کو جھوٹا کہتا ہے جو جھوٹا ہو اور پھر اس کو اس کے گھر تک پہنچا دیتا ہے :
140: انہی دوہری پوزیشن کے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ جب تمہاری نافرمانیوں کا یہ حال ہے کہ منہ سے تو یہ اطاعت کا اقرار کرلیتے ہو لیکن راتوں کو مجلس جما کر مخالفانہ مشورے کرتے ہو تو پھر تمہیں کیا حق ہے کہ نتائج کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کو ذمہ دار ٹھہراؤ ؟
بَیَّتَ کے متعلق یاد ہے کہ ہر وہ فعل جس کے متعلق رات کو تدبر کیا جائے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ رات کو سارے ہم خیال اپنے اپنے دھندوں سے فارغ ہو کر ایک جگہ جمع ہوتے اور سب مل کر ایک دوسرے سے مشورہ کر کے ایک پروگرام مرتب کرتے ہیں تاکہ مخالف کو زک پہنچا سکیں اور یہی کچھ یہ لوگ نبی اعظم و آخر ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر اپنے سرغنوں کی مجالس میں شریک ہو کر آنے والے روز کا پروگرام حاصل کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ” اے پیغمبر ﷺ ! یہ لوگ اپنی زبانوں سے کیا کہتے ہیں آپ ﷺ کا حکم ہمارے سر آنکھوں پر۔ “ لیکن جب تمہارے پاس اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو راتوں کو اپنی مجلسیں جماتے ہیں اور جو کچھ تم کہتے ہو اس کے خلاف مشورے کرتے ہیں۔ گویا بڑے ڈھیٹ اور بےحیاء لوگ ہیں کیا وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح اللہ اور اس کے رسول کو وہ دھوکہ دے لیں گے ؟ جو شخص ایسا سوچ سکتا ہے ایک تو اس کا اسلام ظاہر ہوگیا کہ وہ کتنا متقی ہے ؟ اور دوسرا اس کے فریب کا وبال بھی یقینا اس پر پڑے گا کیونکہ اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس مجلس سے اٹھ کر آیا ہے اور اس مجلس میں کوئی ایسا پروگرام مرتب نہیں ہوتا جس میں کسی کو دھوکہ و فریب میں مبتلا کرنے کا کوئی پروگرام ہو اس طرح قانون الٰہی یہ ہے کہ جو فریق دھوکہ دینے کی سوچتا ہے دراصل وہ خود فریب خوردہ ہوتا ہے وہ پانی پر لاٹھی مارتا ہے اس کی چھینٹیں خود اس پر پڑتی ہیں اور پانی کا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔
یہ بھول نہ جائیں ہم ان کے کیے ہوئے مشورہ کو لکھ رہے ہیں :
141: یہ فریب خوردہ لوگ جو کچھ اپنے مشوروں میں طے کرتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ان کی یاد دہانی کے لیے محفوظ بھی کر رہے ہیں کہ تحریر شدہ چیز محفوظ ہوجاتی ہے ممکن ہے کہ یہ بھول جائیں لیکن ہم ان کو اس مجلس کی پوری جھلکی دکھائیں گے جس میں ان کے سرغنے اور یہ سارے شامل ہوں گے اور جو کچھ انہوں نے طے کیا ہے اس کی تحریر بھی ان کے سامنے پیش کردیں گے اور ان کو بولتا بھی دکھا دیں گے۔ ہاں ! آج ہی یہ لوگ اس نقشہ کو اپنے ذہن میں رکھ لیں تو شاید ان کو اپنی اس حرکت پر شرمندگی ہو اور یہ اس جرم سے باز آجائیں جو ان کے اپنے لیے ہی مفید ہو۔ پھر آپ ﷺ بھی زیادہ فکر نہ کریں آپ ﷺ کو تو ان کے کرتوتوں سے ہم بتا ہی رہے ہیں اس لیے ان کا کوئی راز بھی آپ ﷺ سے پوشیدہ نہیں رہا اس لیے انہیں جو کچھ کل کرنا ہے ہم آج ہی تم کو بتا دیتے ہیں۔ اگر کسی بات کی اطلاع قبل از وقت نہیں دیتے تو اس میں بھی یقینا آپ ﷺ کا یا آپ ﷺ کے ساتھیوں کا امتحان مطلوب ہوتا ہے اور امتحان کے لیے ضروری ہے کہ پرچہ آؤٹ نہ ہو اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ امتحان کیوں لیا جاتا ہے ؟
ان کی اَن ہونیوں کو آپ ﷺ اپنے دل میں جگہ نہ دیں کہ نیش زن کا کام نیش مارنا ہے :
142: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ خود اور آپ ﷺ کے ساتھی ان عقرب صفت لوگوں کے متعلق زیادہ خیال ہی نہ کریں اس لیے کہ یہ اپنی عادت سے باز آنے والے نہیں اور یہ لباس انہوں نے اتارنے کے لیے نہیں پہنا بلکہ اس کے اندر کچھ چھپانے کے لیے پہنا ہے۔ آپ ﷺ اپنے اللہ پر بھروسہ کریں اور ان کو نیش مارنے کا موقعہ ہی فراہم نہ کریں بلکہ ان کو دور سے آتا دیکھ کر ان کے چہروں سے ان کے اندر کی حالت دیکھ لیں اس طرح سب کچھ آپ ﷺ پر روشن ہوجائے گا اور یہی سبق اپنے ساتھیوں کو بھی یاد کرائیں۔ یاد رکھو کہ جو ” دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ “ وہ عقل مند نہیں ہوتا۔ عقل و فکر اس چیز کا نام ہے کہ دودھ اور چھاچھ کو دیکھتے ہی پہچان جائے کہ یہ دودھ ہے اور یہ چاچھ۔ ہاں ! پکڑتے ہی منہ نہ لگا لو ، توقف کرو تمہیں ہاتھ ہی نہ بتا دے گا کہ پینے کے قابل ہے یا ابھی نہیں۔ فرمایا : جس کا اللہ کارساز ہو اس کو کسی دوسرے کی کارسازی کی آخر ضرورت ہی کیوں ؟
Ayah 4:82اللہ کی باتوں میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا :
143: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ پھر کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ معلوم ہے کہ ” دبر “ کسے کہتے ہیں ؟ پیٹھ کو۔ پیٹھ کہاں ہوتی ہے ؟ پیچھے۔ اف ! توبہ قرآن اور پیچھے۔ ہاں ہاں ! قرآن اور پیچھے۔ تم نے کبھی یہ فقرہ نہیں سنا ؟ ” کہ یار تم اس بات کے پیچھے ہی لگ گئے ہو۔ “ اب غور کرو کہ پیچھے کا کیا مطلب ہے ؟ بس اس دبر سے تدبر ہے اور اسی سے تدبر اور تدبر کے معنی ہیں ” التکفیر فی دبر الامور “ (راغب) یعنی امور کے نتائج میں غور و فکر کرنا۔ قرآن کریم کی آیت کے اس حصہ کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ قرآن کے پیچھے لگ جاؤ اس طرح کہ اس میں غور و فکر کرتے ہی رہو۔ بس غور و فکر کرتے ہی رہو اور پھر غور و فکر کرتے ہی رہو۔ ہاں ! یاد رکھو کہ پیچھے لگ جاؤ نہ یہ کہ اس کو پیچھے لگا لو۔ سمجھ لو کہ پیچھے لگ جانے اور پیچھے لگا لینے میں بڑا فرق ہے۔
اگر قرآن کریم کے پیچھے لگ جاؤ گے یعنی اس میں غور و فکر کرو گے ؟ یہ تمہارا وعدہ ہے تو پھر یاد رکھو کہ قرآن کریم میں کبھی اختلاف نہیں ہوتا اور یہی اس کے اللہ کی طرف سے ہونے کی دلیل ہے۔ اگر غور و فکر کرنے سے کہیں اختلاف نظر آیا تو سمجھ جاؤ کہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ کیوں ؟ اس لیے کہ قرآن میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ پھر غور و فکر کرو۔ بس اس طریقہ سے قرآن کریم کے پیچھے لگے رہو۔ یقینا اختلاف ختم ہوجائے گا یا تم پر روشن ہوجائے گا کہ یہ اختلاف کسی دوسرے نے ڈالا تھا۔ جان بوجھ کر یا غلطی سے بس تم اس کے پیچھے مت پڑو کہ اختلاف کس نے ڈالا اور کیوں ڈالا ؟ غلطی سے یہ جان بوجھ کر۔ یہ زائد چیز ہے اگر تم اس کے پیچھے پڑگئے تو بہت دور نکل جاؤ گے اور اس طرح تم پر شیطان کا داؤ لگ جائے گا۔ اس کے پیچھے بالکل نہ پڑو بلکہ قرآن کریم کے پیچھے لگ جاؤ ۔ ہاں ! آگے پڑھو اور اس طرح اپنے اختلافات کا حل ڈھونڈتے رہو۔ یہی قرآن کریم میں تدبر ہے اور اس کا اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے ؟ اگر تم نے اس طرح قرآن کریم پر غور کیا تو ان شاء اللہ نہ مذہبی ” بلڈ پریشر “ ہوگا اور نہ ” ذیابیطس “ نہ ” ہارٹ اٹیک “ ہوگا اور نہ ” خفقان قلب “ حاش اللہ نہ مذہبی ” ہیضہ “ ہوگا اور نہ ” قبض “۔ کیا تم کو آرام و سکون مطلوب نہیں ہے ؟ کیا تم ان بیماریوں سے نجات نہیں چاہتے ؟ اگر آرام و سکون مطولب ہے اور ان بیماریوں سے نجات چاہتے ہو تو قرآن کریم کا مطالعہ کرو اور نہایت غور و فکر کے ساتھ کرو۔ خاموشی کے ساتھ کرو اور الگ تھلگ ہو کر کرو۔ ایک آیت پڑھو اور اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرو پھر الفاظ کو جملوں میں استعمال کر کے غور کرو۔ پھر پوری آیت پر غور کرو اور اس کے بعد ایک آیت کو دوسرے کے ساتھ ملا کر غور کرو۔ حاشاء للہ تم کو اس سے جسمانی غذا بھی ملے گی اور روحانی غذا بھی۔
آج جس قدر پوری قوم میں مذہبی افراتفری ہے یا سیاسی کشمکش ہے شاید آج سے پہلے کبھی نہیں ہوئی ہوگی اس کا اصل سبب قرآن کریم سے دوری ہے۔ ہمارے مذہبی راہنما بھی اتنے ہی قرآن کریم سے دوری ہیں جتنے سیاسی لیڈر ان سے بھی زیادہ دور۔ کیوں ؟ اس لیے کہ آپ کو اور مجھے حکم ملا کہ ” لاہور آؤ تاریخ اور وقت بھی بتایا اور آنے کا مقصد بھی۔ آپ نے میرے ساتھ کان لگایا لیکن میں جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ آپ نے ما شاء اللہ ٹکٹ خرید لی اور ایئرکنڈیشن میں سیٹ بھی ریزرو کرا لی اور میرے پاس تشریف لے آئے اور مصروف کار ہوگئے کہ تاریخ آئی ، وہ وقت بھی نکل گیا اور وقت پر گاڑی بھی چھوٹ گئی لیکن تم میرے ساتھ ہی رہے۔ نتیجہ کیا نکلا ؟
اپنی مجلس میں آپ مجھے برا بھلا کہتے ہیں کہ میں نے ٹکٹ نہیں خریدی۔ میں آپ کو برا بھلا کہتا کہ وہ شامل نہیں ہوئے۔ دلائل آپ کے پاس بھی موجود ہیں بکنگ سیٹ بھی ہے اور ٹکٹ اور دلائل میرے پاس بھی موجود ہیں۔ آپ اپنا زور لگاتے رہیں میں اپنی طاقت صرف کرتا رہوں گا اور آپ کی میری لڑائی کا کوئی فائدہ ؟ قوم کے راہنما ہیں ” میں “ بھی اور ” آپ “ بھی۔ ایک ہم میں سے مذہبی راہنما ہے اور دوسرا سیاسی فیصلہ خود فرما لیں کہ مذہبی راہنما دین سے زیادہ دور ہے یا سیاسی لیڈر ؟ دونوں کی دوری میں کوئی شک نہیں یہ ” زیادہ “ اور ” کم “ پر لڑائی ہے جتنی دیر چاہتے ہو لڑتے رہو۔
قرآن کریم کی اس آیت پر ایک بار پھر غور کرلو ” پھر کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ کسی دوسرے کی طرف سے ہوتا اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ یہ اس کی بہت سی باتوں میں اختلاف پاتے۔ “ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ، اختلاف جتنے ہیں وہ سب لوگوں کے ڈالے ہوئے ہیں۔ پس ان کو مٹا دو ورنہ خود مٹ جاؤ گے۔ ماحصل اس آیت کا کیا ہوا ؟
1۔ قرآن کریم کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب میں غور کرے ، پس یہ سمجھنا کہ وہ صرف اماموں اور مجتہدوں ہی کے سمجھنے کی چیز ہے صحیح نہیں ، ہاں ! جو سمجھ میں آئے کسی سمجھے ہوئے سے سمجھ لینے میں کوئی قباحت نہیں۔
2۔ غور و فکر ہی کرسکتا ہے جو مطالب سمجھنے کی دلچسپی رکھتا ہو۔
3۔ جو اپنی سمجھ بوجھ سے کام لیتا ہو اور دلائل و وجوہ سے نتائج نکال سکے۔ پس مقلد اعمیٰ یعنی اندھی تقلید کرنے والا قرآن کریم میں غور و فکر کرنے والا نہیں ہو سکتا۔
4۔ جو شخص قرآن کریم میں تدبر کرتا ہے اس پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور جس پر حقیقت کھل جائے وہ قرآن کریم کے سوا زندہ نہیں رہ سکتا۔
Ayah 4:83رسالت کا درجہ تو بہت بڑا ہے لیکن بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے لوگ بھی یقینا ہوتے ہیں :
144: یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ ” جو لوگ اس بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں “ اِسْتَنْبَاط ن ب ط سے ہے اور ” نبط البئر “ کے معنی ہیں کنوئیں کو کھودا یہاں تک کہ پانی آگیا اور کنواں کھودنے کا یہی مقصود تھا۔ اس طرح استنباط کرنے والے وہ لوگ ہوئے جو اپنے فہم و فراست سے بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے ہیں وہی استنباط کرنے والے کہلاتے ہیں یعنی بات کہ گہرائی میں پہنچ کر اس کے اصل مطلب کو حاصل کرلینے والے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ” اولوالامر “ بننے یا بنا دیے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ کسی ایرے غیرے کو ” اولو الامر “ بنا دینے کے جو نقصان ہوتے ہیں ان کے نتائج بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت تیار ہوتے ہیں کہ کوئی بات سنی تو اس وقت آگے سنانے کی کوشش کرتے اور پھر آگے سناتے وقت کچھ چاشنی اپنے پاس سے بھی ساتھ ملا دیتے ہیں اور ہوتے ہوتے وہ بات کا ایک بتنگڑ بن جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پر سے کوا اور کوے سے ڈار۔ ایسے لوگوں کو رب کی مار ! کبھی کبھی ان ہی باتوں کے نتائج اتنے زبردست ہوتے ہیں کہ وہ لاعلاج ہو کر رہ جاتے ہیں اور پوری قوم کی قوم نگل جاتے ہیں گویا وہ آگ ہوتی ہے جو ہرچیز کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔
تقریباً یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کی حالت نفاق کے قریب ہوتی ہے یا وہ صحیح معنوں میں منافق ہوتے ہیں اور اس جگہ ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ جاری ہے۔ منافقین چونکہ ملت کے خیرخواہ نہیں ہوتے اس وجہ سے افواہیں پھیلانے کے معاملے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ بات کو ایسا رنگ چڑھاتے ہیں کہ وہ دور ہی سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ امن یا خطرے کی جو بات بھی ان کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔ وہ آن کی آن میں جنگل کی آگ کی طرح ان کے ذریعے سے لوگوں میں پھیلا دیتے ہیں۔ جماعتی زندگی میں خصوصاً ایسی افواہیں بڑے خطرناک نتائج پیدا کردیتی ہیں اور پھر جب حالات جنگ ہوں جیسے کہ اس وقت تھے اس وقت تو ان کی خطرناکی مزید وہ چند ہوجاتی ہے۔ منافقین ان افواہوں سے مختلف قسم کے فوائد حاصل کرتے رہتے تھے لیکن خاص طور پر کمزور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے یہ ان کا ایک خاص ہتھیار تھا۔ بعض اوقات وہ اس طرح کی افواہوں سے مسلمانوں کے اندر غلط قسم کا اطمینان بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور ظاہر ہے کہ بےجا تشویش کی طرح غلط اطمینان بھی ایک نہایت خطرناک چیز ہے۔ ویسے اس وقت کا نام لینا ذرا آسان ہے ورنہ ایسے لوگوں کی کمی ہمارے زمانے میں بھی نہیں بلکہ یہ جماعت ترقی پذیر ہے۔ ہاں ! اب تو ان کے باقاعدہ طور پر محکمے بن چکے ہیں اور ہر جماعت میں ایک پروپیگنڈا سیکرٹری کی سیٹ مختص ہے۔ اخبارات ، ریڈیو اور ٹیوی اس کے انحصار پر زندہ و تابندہ ہیں اور دنیا میں بڑی بڑی حکومتوں کا یہی سب سے بڑا ہتھیار ہے اور امریکہ سردار کی اسی پر سرداری قائم ہے۔ لیکن چونکہ ان ساری چیزوں میں ما شاء اللہ ہم خود بھی بقدر ہمت شریک ہیں اس لیے ذرا ان کا نام لیتے جھجک محسوس ہوتی ہے اور وہ جو چودہ سو سال پہلے کے مر چکے ہیں ان کا نام لینا آسان ہے اور یہ بھی کہ ان کا نام تو لیا جاتا رہا ہے اور جو کام پہلے ہوتا چلا آیا ہے اس کے کہنے کی ہمارے پاس دلیل موجود ہے کہ ہم کسی تفسیر کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں زمانہ کے حالات پر کوئی شہادت موجود نہیں اور اس طرح اب جو کوئی بیان کرے گا اس کو کافر بننے کے لیے یہ فتویٰ کافی ہے کہ تفسیر بالرائے ہے۔ کیوں اس لیے یہ پہلے کسی نے نہیں کی۔ جانے ان کی بلا کہ تفسیر بالرائے کیا ہوتی ہے ؟ بس مہر کفران کے پاس ہے اور لگا جانا وہ جانتے تھے۔
اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا تو شیطان تو اپنی شہد بھری انگلی لگا ہی گیا تھا :
145: فرمایا کہ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ اس کے رسول ﷺ اور ملت اسلامیہ کے خیرخواہ ہوتے تو ان کے لیے صحیح طریقہ تو یہ تھا کہ اس طرح کی باتیں ان کے علم میں جو آئی تھیں تو وہ عوام میں سنسنی پیدا کرنے کی بجائے رسول اللہ ﷺ اور امت کے دوسرے حل و عقد اور ارباب علم و دانش کے سامنے پیش کرتے تاکہ وہ لوگ جو معاملات کی گہری سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کے موقع و محل کا تعین کرتے اور اس باب میں وہ صحیح پالیسی اختیار کرتے۔ فرمایا : یہ تو اللہ کا خاص فضل و کرم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اس نے ان کی بہت سی باتوں اور بہت سی اسکیموں کی اطلاع تم کو دے دی اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیثیت رسالت کے تحت مسلمانوں کو سنبھالا دے لیا اور کمزوری کی ڈھارس کا وہ سبب بن گیا اور اس طرح شیطان کی چال میں وہ آتے آتے بچ گئے اور آنے والوں کے لیے اس میں راہنمائی رکھ دی گئی تاکہ وہ بھی ایسے حالات کا مقابلہ کرسکیں اور یہ بات بھی سمجھ جائیں کہ حکومت کی باگ ڈور کن ہاتھوں میں مفید اور کن ہاتھوں میں مضر ثابت ہوگی پھر آنے والوں نے اس سے کہاں تک فائدہ اٹھایا ہے ؟ یہ بات کسی سے مخفی نہیں۔
فرمایا : ” دیکھو ! اگر اللہ کا خاص فضل تم پر نہ ہوتا تو اس کی رحمت نے تم کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیا ہوتا تو چند معدودے آدمیوں کے سوا تم سارے کے سارے شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے۔ “ اللہ کا خاص فضل و رحمت کیا ہے ؟ یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات ہے جو بنفس نفیس اس وقت موجود تھے اور آج بھی آپ ﷺ کی سنت کی راہنمائی ہم میں موجود ہے۔
Ayah 4:84تم جہاد کے لیے ہر وقت تیار رہو اور اللہ کے زور کو اپنی کمزوری کا سہارا بنا لو :
146: کمزور اس وقت کیوں کمزور ہوگا جب وہ اپنے اللہ کو زور آور تسلیم کرتا ہو اور یہ بھی یقین جان لے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے ؟ فرمایا : اے پیغمبر (e) ! آپ ﷺ پر ذمہ داری صرف اپنے نفس کی ہے۔ بس آپ ﷺ خود جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوجائیے اور مسلمانوں کو ترغیب دیجئے اور اس بات سے بےنیاز ہوجائیے کہ کون اٹھتا ہے اور کون نہیں ؟ اس لیے کہ یہ ذمہ داری ہم نے آپ ﷺ پر ڈالی ہے اور آپ ﷺ اپنی ہی ذمہ داری کے جواب دہ ہیں دوسروں کی ذمہ داری کے نہیں۔ اس کے کام دوسروں پر منحصر نہیں ہوتے۔ وہ خود بڑی قوت رکھنے والا ہے اور اس کی قوت کی مظہر دنیا کی ہر شے ہے اور جس سے وہ جو کام لینا چاہے گالے لے گا۔ وہ ایک شپرہ سے نمرود جیسے رب کہلوانے والے کو مروا سکتا ہے تو یہ آپ ﷺ کے مخالف آخر شے ہی کیا ہیں ؟ وہ چاہے گا تو آپ کے مخلص ساتھیوں کے اندر اتنی قوت پیدا کر دے گا کہ وہ دیکھنے کے انسان قوت کے پہاڑ بن جائیں گے۔
غور کرو کہ ابابیل اور ہاتھی کا کوئی جوڑ بھی ہے پھر وہ وہی ہے جس نے ابابیلوں سے ہاتھیوں کو مروا دیا۔ آپ ﷺ فکر نہ کریں یہ چڑیاں ان بازوں کو ماریں گی اور یہ نہتے ان دوہتوں کو تہہ تیغ کریں گے۔ یہ زمانہ دیکھئے گا کہ اللہ کے زور کے سامنے یہ سارے زور آور کمزور ہوجائیں گے اور ان کو بھاگ کر چھپنے کی جگہ بھی نصیب نہیں ہوگی۔
Ayah 4:85نیکی میں تعاون نیکی ہے اور برائی میں تعاون برائی ، ہر تعاون کرنے والا خوب سمجھ لے :
147: آیت زیرنظر میں شفاعت یعنی کو اچھی اور بری دو قسموں میں تقسیم فرما کر اس کی حقیقت کو بھی واضح کردیا ہے اور یہ بھی بتلا دیا ہے کہ نہ ہر سفارش بری ہے اور نہ ہر سفارش اچھی اور یہ بھی بتا دیا کہ اچھی سفارش کرنے والے کو ثواب کا حصہ ملے گا اور بری سفارش کرنے والے کو عذاب کا۔ اس آیت میں اچھی سفارش کے ساتھ ” نَصِیْبٌ “ کا لفظ آیا ہے اور بری سفارش کے ساتھ ” کِفْلٌ “ کا اور لغت میں دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی کسی چیز کا ایک حصہ لیکن عرف عام میں لفظ ” نَصِیْبٌ “ اچھے حصے کے لیے بولا جاتا ہے اور لفظ کِفْلٌ برے حصہ کے لیے استعمال کرتے ہیں اگرچہ کہیں اچھے حصے کے لیے بھی لفظ ” کِفْلٌ “ استعمال ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ جب ایک دوسرے کے مقابلہ میں دونوں لفظ آئیں تو ” نَصِیْبٌ “ اچھے حصہ کو کہتے ہیں اور ” کِفْلٌ “ برے حصہ کو اور جب ایک ہی لفظ کا استعمال ہو تو جس چز کا ذکر ہو رہا ہے اس میں حصہ مراد ہوگا لفظ خواہ ” نَصِیْبٌ “ ہو یا ” کِفْلٌ “ شفاعت کے لفظی معنی ملنے یا ملانے کے ہیں ، اسی وجہ سے شفعہ عربی زبان میں جوڑے کے معنی میں آتا ہے اور اس کے بالمقابل لفظ وتر بمعنے طاق استعمال کیا جاتا ہے ، اس لیے شفاعت کے لفظی معنی یہ ہوئے کہ کسی کمزور طالب حق کے ساتھ اپنی قوت ملا کر اس کو قویٰ کردیا جائے ، یا بےکس اکیلے شخص کے ساتھ خود مل کر اس کو جوڑا بنا دیا جائے یعنی طاقتور کردیا جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جائز شفاعت و سفارش کے لیے ایک تو یہ شرط ہے کہ جس کی سفارش کی جائے اس کا مطالبہ حق اور جائز ہو ، دوسرے یہ کہ وہ اپنے مطالبہ کو بوجہ کمزوری خود بڑے لوگوں تک نہیں پہنچا سکتا ، آپ پہنچا دیں ، اس سے معلوم ہوا کہ خلافِ حق سفارش کرنا یا دوسروں کو اس کے قبول پر مجبور کرنا شفاعت سیہ یعنی بری سفارش ہے ، اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سفارش میں اپنے تعلق یا وجاہت سے طریقہ دباؤ اور اجبار کا استعمال کیا جائے تو وہ بھی ظلم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، اسی لیے وہ بھی شفاعت سیئہ میں داخل ہے۔
اب خلاصہ مضمون آیت مذکورہ کا یہ ہوگیا کہ جو شخص کسی شخص کے جائز حق اور جائز کام کے لیے جائز طریقہ پر سفارش کرے تو اس کو اس ثواب کا حصہ ملے گا اور اسی طرح جو کسی ناجائز کام کے لیے یا ناجائز طریقہ پر سفارش کرے گا اس کو عذاب کا حصہ ملے گا۔
حصہ ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص سے سفارش کی گئی ہے وہ جب اس مظلوم یا محروم کا کام کر دے تو جس طرح اس کام کرنے والے افسر کو ثواب ملے گا اسی طرح سفارش کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا۔
اسی طرح کسی ناجائز کام کی سفارش کرنے والا بھی گناہ گار ہوگا اور یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ سفارش کرنے والے کا ثواب یا عذاب اس پر موقوف نہیں کہ اس کی سفارش مؤثر اور کامیاب بھی ہو بلکہ اس کو بہرحال اپنا حصہ ملے گا۔ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے : الدال علی الخیر کفا علہ (رواہ البزار عن ابن مسعود والطبرانی عنہ وعن سہل بن سعد ، بحوالہ مظہری) ” یعنی جو شخص کسی نیکی پر کسی کو آمادہ کر دے اس کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے جیسا اس نیک عمل کرنے والے کو۔ “
اسی طرح ابن ماجہ کی ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
من اعان علی قتل مؤمن بشطر کلمۃ لقی اللہ مکتوب بین عینیہ ائس من رحمۃ اللہ۔ (مظہری)
” یعنی جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں ایک کلمہ سے بھی مدد کی تو وہ قیامت میں حق تعالیٰ کی پیشی میں اس طرح لایا جائے گا کہ اس کی پیشانی پر یہ لکھا ہوگا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم و مایوس ہے۔ “
اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح نیکی پر کسی کو آمادہ کرنا نیک عمل اور برابر کا ثواب رکھتا ہے اسی طرح بدی اور گناہ پر کسی کو آمادہ کرنا یا سہارا دینا بھی برابر کا گناہ ہے۔
آخر آیت میں ارشاد فرمایا : وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مُّقِیْتًا لفظ ” مُقِیْت “ کے معنی لغت کے اعتبار سے قادر و مقتدر کے بھی ہیں اور حاضر و نگراں کے بھی اور روزی تقسیم کرنے والے کے بھی اور اس جملہ میں تینوں معنی مراد ہو سکتے ہیں پہلے معنی کے اعتبار سے تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے ، عمل کرنے والے اور سفارش کرنے والے کی جزاء یا سزاء اس کے لیے دشوار نہیں۔
اور دوسرے معنی کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر نگراں و حاضر ہے اس کو سب معلوم ہے کہ کون کس نیت سے سفارش کر رہا ہے ، محض لوجہ اللہ کسی بھلائی کی امداد کرنا مقصود ہے یا کوئی اپنی غرض بطور رشوت کے اس سے حاصل کرتا ہے۔
اور تیسرے معنی کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ رزق و روزی کی تقسیم کا اللہ تعالیٰ خود متکفل ہے ، جتنا کسی کے لیے لکھ دیا ہے وہ اس کو مل کر رہے گا ، کسی کی سفارش کرنے سے وہ مجبور نہیں ہوجائے گا ، بلکہ جس کو جتنی چاہے روزی عطا فرمائے گا ، البتہ سفارش کرنے والے کو مفت میں ثواب مل جائے گا کہ وہ ایک کمزور کی اعانت کر رہا ہے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
کان اللہ فی عون عبدہ ما دام فی عون اخیہ۔
” یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندہ کی امداد میں لگا رہتا ہے جب تک کہ وہ اپنی کسی مسلمان بھائی کی امداد میں لگا رہے۔ “ اسی بناء پر صحیح بخاری کی ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے :
اشفعوا فلتوجروا و یقضی اللہ علی لسان نبیہ ما شاء۔
” یعنی تم سفارش کیا کرو تمہیں ثواب ملے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعہ جو فیصلہ فرمائیں اس پر راضی رہو۔ “
اس حدیث میں جہاں سفارش کا موجب ثواب ہونا بیان فرمایا ہے وہیں یہ بھی بتلایا کہ سفارش کی حد یہی ہے کہ کمزور آدمی جو خود اپنی بات کسی بڑے تک پہنچانے اور اپنی حاجت صحیح طور پر بیان کرنے پر قادر نہ ہو تم اس کی بات وہاں تک پہنچا دو ، آگے وہ سفارش مانی جائے یا نہ مانی جائے اور اس شخص کا مطلوبہ کام پورا ہو یا نہ ہو اس میں آپ کا کوئی دخل نہ ہونا چاہئے اور اس کے خلاف ہونے کی صورت میں آپ پر کوئی ناگواری نہ ہونی چاہئے۔ حدیث کے آخری جملہ میں ویقضیٰ اللہ علی لسان نبہت ما شاء کا یہی مطلب ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ میں اس طرف اشارہ موجود ہے کہ سفارش کامیاب ہو بلکہ اس ثواب و عذاب کا تعلق مطلق سفارش کردینے سے ہے ، آپ نے شفاعت حسنہ کردی تو ثواب کے مستحق ہوگئے اور شفاعت سیئہ کردی تو عذاب کے مستوجب بن گئے ، خواہ آپ کی سفارش پر عمل ہو یا نہ ہو۔
تفسیر بحر محیط اور بیان القرآن وغیرہ میں مَنْ یَّشْفَعُ میں لفظ مِنْھَا کو سیسہ قرار دے کر اس کی طرف اشارہ بتلایا ہے اور تفسیر مظہری میں امام تفسیر مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ سفارش کرنے والے کو سفارش کا ثواب ملے گا اگرچہ اس کی سفارش قبول نہ کی گئی ہو اور یہ بات صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں ، کسی دوسرے انسان کے پاس جو سفارش کی جائے اس کا بھی یہی اصول ہونا چاہئے کہ سفارش کر کے آدمی فارغ ہوجائے اس کے قبول کرنے پر مجبور نہ کرے ، جیسا کہ خود رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی آزادہ کردہ کنیز سے سفارش فرمائی کہ طلاق تو نے اپنے شوہر مغیث سے حاصل کرلی ہے اور وہ اس کی محبت میں پریشان پھرتے ہیں دوبارہ انہی سے نکاح کرلے۔
بریرہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر یہ آپ ﷺ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر اور اگر سفارش ہے تو میری طبیعت اس پر بالکل آمادہ نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ حکم نہیں سفارش ہی ہے۔ بریرہ ؓ جانتی تھیں کہ رسالت مآب ﷺ کو خلافِ اصول کوئی ناگواری نہ ہوگی ، اس لیے صاف عرض کردیا کہ تو پھر میں یہ سفارش قبول نہیں کرتی ، آپ ﷺ نے خوش دلی کے ساتھ ان کو ان کے حال پر رہنے دیا۔
یہ تھی حقیقت سفارش کی جو شرعاً باعث اجر وثواب تھی ، آج کل لوگوں نے جو اس کا حلیہ بگاڑا ہے وہ درحقیقت سفارش نہیں ہوتی ، بلکہ تعلقات یا وجاہت کا اثر اور دباؤ ڈالنا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی سفارش نہ مانی جائے تو ناراض ہوتے ہیں بلکہ دشمنی پر آمادہ ہوجاتے ہیں حالانکہ کسی ایسے شخص پر ایسا دباؤ ڈالنا کہ وہ ضمیر اور مرضی کے خلاف کرنے پر مجبور ہوجائے ، اکراہ و اجبار میں داخل اور سخت گناہ ہے اور ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کے مال یا کسی کے حق پر زبردستی قبضہ کرلے ، وہ شخص شرعاً اور قانوناً آزد و خود مختار تھا ، آپ نے اس کو مجبور کر کے اس کی آزادی سلب کرلی اس کی مثال تو ایسی ہوگی کہ کسی محتاج کی حاجت پوری کرنے کے لیے کسی دوسرے کے مال چرا کر اس کو دے دیا جائے۔
سفارش پر کچھ معاوضہ لینا رشوت ہی ہے جو حرام ہے :
جس سفارش پر کوئی معاوضہ لیا جائے وہ رشوت ہے ، حدیث میں اس کو سحت و حرام رمایا ہے ، اس میں ہر طرح کی رشوت داخل ہے ، خواہ وہ مالی ہو یا یہ کہ اس کا کام کرنے کے عوض اپنا کوئی کام اس سے لیا جائے۔
تفسیر کشاف وغیرہ میں ہے کہ شفاعت حسنہ وہ ہے جس کا منشاء کسی مسلمان کے حق کو پورا کرنا ہو یا اس کو کوئی جائز نفع پہنچانا یا مضرت اور نقصان سے بچانا ہو اور یہ سفارش کا کام بھی دنیوی جو ڑتوڑ کے لیے نہ ہو بلکہ محض اللہ کے لیے کمزور کی رعایت مقصود ہو اور اس فارش پر کوئی رشوت مالی یا جانی نہ لی جائے اور یہ سفارش کسی ناجائز کام میں بھی نہ ہو ، نیز یہ سفارش کسی ایسے ثابت شدہ جرم کی معافی کے لیے نہ ہو جس کی سزا قرآن میں معین و مقرر ہے۔
تفسیر بحر محیط اور مظہری وغیرہ میں ہے کہ کسی مسلمان کی حاجت روائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا بھی شفاعت حسنہ میں داخل ہے اور دعا کرنے والے کو بھی اجر ملتا ہے۔